- Moderator
- #1
آمنہ لرزتی ہوئی آواز میں بولی کہ عبدالغفار بھائی، میرا حصہ دے دیں، میں نے بیٹیوں کی شادی کرنی ہے۔ عبدالغفار نے اسے دیکھا اور پوچھا، کون سا حصہ، آمنہ؟ آمنہ نے دھیرے سے کہا، زمین والا حصہ۔ عبدالغفار کا لہجہ سخت تھا، اس نے کہا کہ دوبارہ حصے کی بات نہ کرنا، اگر حصہ لیا تو ہم سمجھیں گے کہ تم ہمارے لیے مر گئی ہو۔ دنیا کی بہنیں خوشی سے اپنا حصہ بھائیوں کے نام کر دیتی ہیں، اور ایک تم ہو۔یہ الفاظ آمنہ کے دل میں چھرا سا گھونپ گئے۔ وہ جانتی تھی کہ اکثر معاشرے میں یہی کہا جاتا ہے کہ بہن نے خوشی سے اپنا حصہ بھائی کو دے دیا، مگر کم ہی کسی نے سنا تھا کہ بھائی نے خوشی سے اپنا حصہ بہن کو دے دیا ہو۔ اور وہ بھی جانتی تھی کہ اکثر بہنوں کو اپنے ہی حق کے لیے کتنی بار منتیں کرنی پڑتی ہیں۔ عبدالغفار پھر بولا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، رہنا ہے تو رہو، ہماری دو روٹیاں تم پر بھاری نہیں ہیں، مگر حصہ نہیں ملے گا۔ حصہ مانگنا ہے تو جہاں سے آئی تھیں، وہیں چلی جاؤ۔آمنہ کے قدموں تلے زمین کھسک رہی تھی، دل دھڑک رہا تھا، مگر اس نے حوصلہ جمع کیا اور کہا کہ بھائی، دنیا لالچیوں سے بھری ہے، مگر میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ آپ بھی ان میں شامل ہوں گے۔ مجھے میرا حق دے دیں۔ امی ابو نے مجھے بھی اتنا ہی دیا تھا جتنا آپ سب کو۔ اس نے گہرا سانس لیا جیسے برسوں کی گھٹن ایک لمحے میں نکل رہی ہو۔ امی کے جانے کے بعد میں نے ماں بن کر پالا آپ سب کو۔ میں پڑھنا چاہتی تھی، لیکن آپ لوگوں کے لیے اپنے خواب قربان کر دیے۔ بھائیا، آج آپ میرے ساتھ ایک ٹکڑے زمین کی خاطر دشمنوں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔آنسو اس کے گالوں پر بہہ نکلے، مگر اس نے خود کو سنبھالا۔ عبدالغفار نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر حصے کی بات کرو گی تو دروازہ کھلا ہے، کل ہی گھر چھوڑ دینا۔ آمنہ جڑ سی گئی، دل ٹوٹتا محسوس ہوا، اور بولی کہ سفید خون کے بارے میں بہت سنا تھا، آج دیکھ بھی لیا کہ زمین کا ایک ٹکڑا کیسے خون سفید کر دیتا ہے۔ وہ اپنے آنسو پونچھتی ہوئی باہر نکل آئی، ساتھ وہ گھر بھی چھوڑ آئی جہاں وہ برسوں ماں بن کر رہی تھی، مگر بہن ہو کر اپنا حق نہ لے سکی۔☆☆☆
کیا جواب دیا تمہارے لاڈلے بھائی نے،ادریس نے آمنہ سے پوچھا آمنہ نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ نہیں دے سکتا۔ ادریس نے حیرت کے ساتھ پوچھا، کیوں نہیں دے سکتا؟ ہم نے تو اپنا حصہ مانگا ہے، خیرات تو نہیں مانگی۔ادریس صاحب، وہ زمین ہماری نہیں، میری ہے۔ ویسے تو آپ مجھے پانی کی ٹینکی اوور فلو ہونے پر بتا دیتے ہیں، اس کا بل تیرا باپ نہیں دیتا، مجھے خود ہی بھرنا پڑتا ہے۔اور اب زمین کے معاملے پر میں تمہارے ہم میں شامل ہو گئی ہوں۔تمہاری نیت ہی نہیں ہے اپنے بھائی سے حصہ لینے کی۔ ایک بات کان کھول کر سن لو، اگر حصہ نہ لائیں تو میرے گھر سے نکل جانا۔ ٹھیک ہے، نکل جاؤں گی۔ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے، کہیں بھی رہ لوں گی۔ ویسے بھی عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا؛ کبھی باپ کا گھر، کبھی شوہر کا، اور کبھی بھائی یا بیٹے کا گھر۔ ایک گھر کو میں نے پینتیس برس دیے، اور آج اسی گھر کے دروازے میرے بھائی نے مجھ پر بند کر دیے۔ اس گھر کو گھر بنانے میں میں نے اپنی پوری زندگی لگا دی تھی۔ اور اب ایک زمین کے ٹکڑے کی خاطر تم بھی مجھے اس گھر سے نکال رہے ہو۔آمنہ کے منہ سے جو کچھ بھی آیا، وہ بولتی چلی گئی۔ آنکھوں میں آنسو تھے، دل میں درد، مگر حوصلے کی روشنی بھی ساتھ تھی۔ ہر لفظ میں اس کی جرات اور صبر جھلک رہا تھا، اور ہر لفظ ایک چوٹ کی طرح دل پر لگ رہا تھا۔
☆☆☆
عبدالغفار بھائی! جلدی سے ہاتھ دھولو، تمہارے لیے چوری بنائی ہے۔باجی! میں نے چوری نہیں کھانی۔ اہلے ہوئے چاول شکر ڈال کر کھانے ہیں۔غفار! کھالو، میں ابھی کھانا بنا کر فارغ ہوئی ہوں۔باجی نے نہیں کھایا۔ عبدالغفار اپنی بات پر بضد تھا۔ آمنہ کو جون کی تپتی دوپہر میں تیرہ سال کی عمر میں لکڑیوں کا چولہا جلانا بہت مشکل لگ رہا تھا۔ عبدالغفار آمنہ سے چار سال چھوٹا تھا۔ عبدالغفار کی پیدائش پر آمنہ کی ماں داغ مفارقت سے دوچار ہو گئی تھی اور عبدالغفار کی ساری ذمہ داری آمنہ کے ناتواں کندھوں پر آ گئی۔آہ! سوچوں کا بہتا دریا کہاں سے کہاں لے گیا۔ وہ پچاس سال پرانے ماضی کا سفر لمحوں میں طے کر کے حال میں واپس آ گئی۔ دل میں یادوں کا بوجھ اور ہر لمحے کی شدت ایک ساتھ محسوس ہو رہی تھی۔ ابلے ہوئے چاول جلدی سے کھالو، ورنہ ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ ماضی نے حال میں دوبارہ جھانکا اور آمنہ کے دل پر بوجھ بڑھ گیا۔ وہ روتے ہوئے اللہ سے کہہ رہی تھی، یا اللہ! یہ دو مرد مجھے بہت عزیز ہیں، ایک میرا بھائی جان ہے، دوسرا سر کا سائبان۔ میرے بھائی کے دل کو بدل دے، یا وہ اپنے موقف سے باز آجائے۔ آنسو اس کے چہرے سے بہہ رہے تھے، ہر لفظ میں درد اور امید جھلک رہی تھی۔ دل کی گہرائی سے نکلی یہ دعا اس کی پوری ہستی میں ایک آواز کی طرح گونج رہی تھی۔
☆☆☆
زمین انتقال کے بعد بندے کی ہو جاتی ہے اور بندہ انتقال کے بعد زمین کا ہو جاتا ہے۔ جمعے کے خطبے میں مولوی بیان کر رہا تھا۔ آج کا موضوع وراثت تھا۔ دیکھو بھائیوں تھوڑے سے منافع کے لیے گناہ نہ کرنا منافع چلا جائے گا گناہ باقی رہ جائے گا۔ ۔ گناہ تمہارے ساتھ جائے گا قبر تک کسی کا حق نہ کھانا ۔ دھیرے دھیرے عبد الغفار کی آنکھیں کھل رہی تھیں وہ نماز پڑھ کر سیدھا اپنی بہن کی طرف آ گیا۔ آمنہ مجھے ! معاف کر دو۔ میں نے تمہارا دل دکھایا ۔ عبد الغفار ہاتھ جوڑے آمنہ کے سامنے کھڑا تھا۔ یہ کیا کر رہے ہو ؟ آمنہ نے عبد الغفار کے جوڑے ہوئے ہاتھوں کو کھولا ۔ آمنہ تیار رہنا، کل پٹواری کے پاس چلے گئے اور زمین بھی دیکھ لینا۔ تم نے کس سائیڈ سے لیٹی ہے۔ جہاں مرضی سے دے دو۔ نہیں ایک مرتبہ تم دیکھ لینا اس کے بعد سودا کروں گا۔اچھا ٹھیک ہے۔ آمنہ اللہ کا شکر ادا کرنے چلی گئی جس نے آمنہ کو بھائی اور شوہر دونوں لوٹا دیے تھے۔
☆☆☆
کیا جواب دیا تمہارے لاڈلے بھائی نے،ادریس نے آمنہ سے پوچھا آمنہ نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ نہیں دے سکتا۔ ادریس نے حیرت کے ساتھ پوچھا، کیوں نہیں دے سکتا؟ ہم نے تو اپنا حصہ مانگا ہے، خیرات تو نہیں مانگی۔ادریس صاحب، وہ زمین ہماری نہیں، میری ہے۔ ویسے تو آپ مجھے پانی کی ٹینکی اوور فلو ہونے پر بتا دیتے ہیں، اس کا بل تیرا باپ نہیں دیتا، مجھے خود ہی بھرنا پڑتا ہے۔اور اب زمین کے معاملے پر میں تمہارے ہم میں شامل ہو گئی ہوں۔تمہاری نیت ہی نہیں ہے اپنے بھائی سے حصہ لینے کی۔ ایک بات کان کھول کر سن لو، اگر حصہ نہ لائیں تو میرے گھر سے نکل جانا۔ ٹھیک ہے، نکل جاؤں گی۔ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے، کہیں بھی رہ لوں گی۔ ویسے بھی عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا؛ کبھی باپ کا گھر، کبھی شوہر کا، اور کبھی بھائی یا بیٹے کا گھر۔ ایک گھر کو میں نے پینتیس برس دیے، اور آج اسی گھر کے دروازے میرے بھائی نے مجھ پر بند کر دیے۔ اس گھر کو گھر بنانے میں میں نے اپنی پوری زندگی لگا دی تھی۔ اور اب ایک زمین کے ٹکڑے کی خاطر تم بھی مجھے اس گھر سے نکال رہے ہو۔آمنہ کے منہ سے جو کچھ بھی آیا، وہ بولتی چلی گئی۔ آنکھوں میں آنسو تھے، دل میں درد، مگر حوصلے کی روشنی بھی ساتھ تھی۔ ہر لفظ میں اس کی جرات اور صبر جھلک رہا تھا، اور ہر لفظ ایک چوٹ کی طرح دل پر لگ رہا تھا۔
☆☆☆
عبدالغفار بھائی! جلدی سے ہاتھ دھولو، تمہارے لیے چوری بنائی ہے۔باجی! میں نے چوری نہیں کھانی۔ اہلے ہوئے چاول شکر ڈال کر کھانے ہیں۔غفار! کھالو، میں ابھی کھانا بنا کر فارغ ہوئی ہوں۔باجی نے نہیں کھایا۔ عبدالغفار اپنی بات پر بضد تھا۔ آمنہ کو جون کی تپتی دوپہر میں تیرہ سال کی عمر میں لکڑیوں کا چولہا جلانا بہت مشکل لگ رہا تھا۔ عبدالغفار آمنہ سے چار سال چھوٹا تھا۔ عبدالغفار کی پیدائش پر آمنہ کی ماں داغ مفارقت سے دوچار ہو گئی تھی اور عبدالغفار کی ساری ذمہ داری آمنہ کے ناتواں کندھوں پر آ گئی۔آہ! سوچوں کا بہتا دریا کہاں سے کہاں لے گیا۔ وہ پچاس سال پرانے ماضی کا سفر لمحوں میں طے کر کے حال میں واپس آ گئی۔ دل میں یادوں کا بوجھ اور ہر لمحے کی شدت ایک ساتھ محسوس ہو رہی تھی۔ ابلے ہوئے چاول جلدی سے کھالو، ورنہ ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ ماضی نے حال میں دوبارہ جھانکا اور آمنہ کے دل پر بوجھ بڑھ گیا۔ وہ روتے ہوئے اللہ سے کہہ رہی تھی، یا اللہ! یہ دو مرد مجھے بہت عزیز ہیں، ایک میرا بھائی جان ہے، دوسرا سر کا سائبان۔ میرے بھائی کے دل کو بدل دے، یا وہ اپنے موقف سے باز آجائے۔ آنسو اس کے چہرے سے بہہ رہے تھے، ہر لفظ میں درد اور امید جھلک رہی تھی۔ دل کی گہرائی سے نکلی یہ دعا اس کی پوری ہستی میں ایک آواز کی طرح گونج رہی تھی۔
☆☆☆
زمین انتقال کے بعد بندے کی ہو جاتی ہے اور بندہ انتقال کے بعد زمین کا ہو جاتا ہے۔ جمعے کے خطبے میں مولوی بیان کر رہا تھا۔ آج کا موضوع وراثت تھا۔ دیکھو بھائیوں تھوڑے سے منافع کے لیے گناہ نہ کرنا منافع چلا جائے گا گناہ باقی رہ جائے گا۔ ۔ گناہ تمہارے ساتھ جائے گا قبر تک کسی کا حق نہ کھانا ۔ دھیرے دھیرے عبد الغفار کی آنکھیں کھل رہی تھیں وہ نماز پڑھ کر سیدھا اپنی بہن کی طرف آ گیا۔ آمنہ مجھے ! معاف کر دو۔ میں نے تمہارا دل دکھایا ۔ عبد الغفار ہاتھ جوڑے آمنہ کے سامنے کھڑا تھا۔ یہ کیا کر رہے ہو ؟ آمنہ نے عبد الغفار کے جوڑے ہوئے ہاتھوں کو کھولا ۔ آمنہ تیار رہنا، کل پٹواری کے پاس چلے گئے اور زمین بھی دیکھ لینا۔ تم نے کس سائیڈ سے لیٹی ہے۔ جہاں مرضی سے دے دو۔ نہیں ایک مرتبہ تم دیکھ لینا اس کے بعد سودا کروں گا۔اچھا ٹھیک ہے۔ آمنہ اللہ کا شکر ادا کرنے چلی گئی جس نے آمنہ کو بھائی اور شوہر دونوں لوٹا دیے تھے۔
☆☆☆