• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story اندھے یقین کا انجام۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,717
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
امتیاز کا گھر مین روڈ کے بالکل قریب تھا۔ صرف ایک سروس روڈ عبور کرنا پڑتی، اور سامنے ہی بس اسٹاپ آجاتا۔ وہ لوگ اس علاقے میں تقریباً دس سال سے مقیم تھے۔ شروع میں یہاں آبادی کم تھی، لیکن صرف چند ہی برسوں میں یہ علاقہ بھی شہر کے دیگر علاقوں کی طرح گنجان آباد ہوتا چلا گیا۔ یہاں ایک طرف تنخواہ دار طبقہ آباد تھا، جنہوں نے اپنی محنت کی کمائی سے کمیٹیاں ڈال کر اس ہاؤسنگ سوسائٹی میں گھر بُک کروائے تھے، اور دوسری طرف قبضہ مافیا تھا، جو قرب و جوار میں بڑی ڈھٹائی سے کچی آبادیاں قائم کر کے ناجائز تجاوزات کا سیلاب لے آیا تھا۔ روزانہ کی طرح آج بھی جب امتیاز گھر سے نکلا، تو اُس نے اپنے بارہ سالہ بیٹے فراز کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔ سروس روڈ پار کرتے ہی دونوں مرکزی شاہراہ پر پہنچ گئے۔ اس کشادہ مگر ہجوم زدہ سڑک کے دونوں اطراف پتھارے داروں نے فٹ پاتھ کے بڑے حصے پر قبضہ جما رکھا تھا، جس کے باعث پیدل چلنے والوں کے لیے برائے نام جگہ باقی بچی تھی۔ ناجائز تجاوزات کے نتیجے میں یہاں روز ٹریفک جام اور حادثات معمول بن چکے تھے۔ بدقسمتی سے شہر بھر کی سڑکوں پر فٹ پاتھ غائب ہوتے جا رہے ہیں، اور اوپر سے گنجان آبادیوں کے بیچوں بیچ سگنل فری کوریڈور بن جانے کے باعث، تیز رفتار گاڑیوں کے درمیان سڑک عبور کرنا بھی جان جوکھم کا کام بن چکا ہے۔ یہاں سے تقریباً آدھا کلومیٹر دور واقع پیدل پل (پیڈسٹرین برج) عبور کر کے سڑک پار کرنا امتیاز اور اُس کے بیٹے کا روزمرّہ معمول تھا۔ وہ دونوں بڑی احتیاط سے فٹ پاتھ پر جگہ بناتے ہوئے اپنا سفر طے کر لیتے تھے۔ فراز ایک خصوصی بچہ تھا، جسے ہفتے میں پانچ دن باقاعدگی سے خصوصی بچوں کے بحالی صحت مرکز لے جانا پڑتا تھا۔ خوش آئند بات یہ تھی کہ علاج کے نتیجے میں فراز کی صحت میں نمایاں بہتری کے آثار نظر آنے لگے تھے۔
☆☆☆

امتیاز ایک فیکٹری میں سپروائزر تھا، جب کہ اُس کی شریکِ حیات، ہما، ایک اسکول میں کمپیوٹر سائنس کی معلمہ تھی۔ دونوں میاں بیوی کی کل کائنات اُن کا اکلوتا بیٹا، فراز، تھا- پیدائش سے قبل کچھ طبّی پیچیدگیوں کے باعث فراز کی ذہنی صلاحیت اور جسمانی نشوونما عام بچوں کی طرح متوازن نہیں تھی۔ وہ ایک خصوصی بچہ تھا، مگر ڈاکٹروں کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ، توجہ اور باقاعدہ علاج سے اُس کی ذہنی و جسمانی حالت میں بہتری کے امکانات موجود تھے۔ البتہ یہ ایک محنت طلب اور صبر آزما عمل تھا۔ پانچ سال کی عمر میں فراز نے دو سال کے بچے کی طرح اٹک اٹک کر بولنا شروع کیا، تو اُسے ایک خصوصی بچوں کے اسکول میں داخل کروا دیا گیا، جہاں مختلف تھراپیز اور مخصوص طریقہ تعلیم کی بدولت وہ لکھنا پڑھنا اور حروف کی پہچان سیکھ رہا تھا۔ امتیاز صبح دفتر جاتے ہوئے بیٹے کو اسکول چھوڑ دیتا، اور ہما اسکول سے واپسی پر اُسے ساتھ لے آتی۔ گھر کے کاموں سے فارغ ہوکر ہما کا سارا وقت بیٹے کی دیکھ بھال میں صرف ہو جاتا۔ جب اُس نے بیٹے کا رجحان محسوس کیا، تو گھر میں کمپیوٹر پر مختلف سافٹ ویئرز کے ذریعے اُسے ڈرائنگ سکھانے لگی۔ آٹھ سال کی عمر میں جب فراز خود کمپیوٹر آن کرکے بڑی خوبصورتی سے ڈرائنگ کرنے لگا، تو ماں باپ خوشی سے جھوم اُٹھے۔ اگلی مرتبہ جب فراز کا طبی معائنہ ہوا، تو ڈاکٹروں کو اُس کی ذہنی حالت میں نمایاں بہتری کے آثار نظر آئے۔ اس بار انہوں نے دماغی بہتری کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت کے لیے بھی فراز کو کھیلوں میں حصہ لینے کی تجویز دی۔ امتیاز کے گھر کے قریب ہی ایک بڑا میدان تھا۔ سرکاری نقشے میں یہ جگہ ایک تفریحی پارک کے لیے مختص تھی، مگر انتظامیہ کی غفلت کے باعث یہ جگہ ہیروئنچیوں اور علاقے بھر کے پیشہ ور گداگروں کی جنت بن چکی تھی۔ کچھ خانہ بدوشوں نے بھی وہاں ڈیرے ڈال لیے تھے، اور رہی سہی کسر علاقہ مکینوں نے پوری کر دی۔ پارک کے ایک کونے کو کچرا پھینکنے کی جگہ بنا دیا گیا، جو آہستہ آہستہ ایک وسیع کچرا کنڈی میں تبدیل ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد وہاں ہفتے کے بیشتر دن بچت بازار لگنے لگے۔ کھیل کے میدان بھی کمرشلائز ہو کر قبضہ مافیا کے زیرِ اثر آ چکے تھے۔ جب عام بچوں کے لیے بھی کھیلنے کی جگہ باقی نہ رہی، تو فراز جیسے خصوصی بچے کے لیے تو کوئی گنجائش باقی نہ تھی۔ امتیاز نے معلومات حاصل کیں، تو کچھ فاصلے پر ایک خصوصی بحالی مرکز کا پتا چلا، جہاں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے ذہنی اور جسمانی مشقوں کے ساتھ کھیل کود کی سہولیات بھی میسر تھیں۔ وہ روزانہ فراز کو باقاعدگی سے اس مرکز لے جانے لگا۔ کچھ ہی عرصے میں فراز نے تمام مشقیں کامیابی سے سیکھ لیں۔ امتیاز کا دل خوشی سے جھوم اٹھتا جب مرکز میں کوئی دوسرا بچہ ورزش کے دوران غلطی کرتا، اور فراز کسی انسٹرکٹر کی طرح اُسے درست طریقہ سمجھاتا۔ فراز، دونوں میاں بیوی کی آنکھوں کا تارا تھا۔ ان کی محنت رنگ لا رہی تھی۔ جب پندرہ سال کی عمر میں فراز کی ذہنی حالت ایک دس سالہ بچے کے برابر ہوئی، تو بہتری کے نمایاں آثار نظر آنے لگے۔ ہر والدین کی سب سے بڑی امید اپنے بچے کا بہتر مستقبل ہوتا ہے۔ ان میاں بیوی نے بھی اُمید کا دِیا روشن کر کے نئے خواب دیکھنا شروع کر دیے تھے۔ اب اکثر ان کی گفتگو کا مرکزی موضوع یہی ہوتا۔ تمہیں کیا لگتا ہے؟ ہمارا بیٹا آگے چل کر کس شعبے کا انتخاب کرے گا؟ امتیاز بیوی سے پوچھتا۔ میرا بیٹا جس شعبے میں بھی جائے گا، کامیابی اُس کے قدم چومے گی، ہما تصور میں بیٹے کو جوان ہوتا دیکھ کر خوشی سے نہال ہو کر جواب دیتی۔ ویسے بھی وہ اپنے بیٹے کو مستقبل میں ایک آرٹ ڈیزائنر کے روپ میں دیکھتی تھی، جب کہ امتیاز کو اُس کے اندر ایک بہترین فزیو تھراپسٹ دکھائی دیتا تھا۔
☆☆☆

سب کچھ درست سمت میں آگے بڑھ رہا تھا کہ ایک مشکل آن پڑی۔ امتیاز جس ٹیکسٹائل مل میں سپروائزر تھا، شہر سے دور انڈسٹریل فری زون میں اس کی ایک نئی شاخ کا افتتاح ہوا، تو تجربہ کار اسٹاف کی ٹیم تشکیل دے کر کچھ عرصے کے لیے وہاں منتقل کر دیا گیا، جس میں امتیاز بھی شامل تھا۔ نئی ذمہ داریوں کے ساتھ ترقی، بونس اور تنخواہ میں اضافہ بظاہر خوش آئند خبر تھی، مگر اس کے ساتھ ہی امتیاز کی مشکلات بڑھ گئیں۔ نیا سیٹ اپ جمانا تھا، روز دیر سے چھٹی ہوتی، صبح سویرے گھر سے نکلنا اور رات گئے لوٹنا معمول بن گیا، جبکہ شہر میں بے ہنگم ٹریفک الگ مصیبت تھی۔ کمپنی نے اسٹاف کے لیے فری زون کے قریب رہائش کا بندوبست کیا، تو کئی لوگ وہیں منتقل ہو گئے، مگر امتیاز کے لیے یہ ممکن نہ تھا کیونکہ اس کی زندگی کا محور اس کا بیٹا فراز تھا، جسے روز بحالی مرکز لے جانا ضروری تھا۔ یہ ذمہ داری اب ہما نے سنبھال لی، جو ہمت اور مستقل مزاجی سے کام لے رہی تھی، مگر شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے تھکن بڑھتی جا رہی تھی۔ شہر کی فٹ پاتھوں پر پتھارے داروں کے غیر قانونی کنڈوں نے صورتحال اور بگاڑ دی تھی۔ ایک دن جب ہما فراز کو واپس لا رہی تھی تو اسے چکر آیا اور وہ سڑک پر گر گئی، مگر فراز نے فوراً حاضر دماغی سے ماں کو پانی پلایا اور سہارا دے کر گھر تک لے آیا۔ یہ منظر ہما کے لیے جذباتی لمحہ تھا—ایک عرصے سے بیٹا ان کا سہارا لیتا تھا، مگر آج وہ اس کا سہارا بنا تھا۔ شام کو جب امتیاز گھر آیا اور ہما نے واقعہ سنایا، تو وہ بھی خوشی سے نہال ہو گیا اور کہا کہ اللہ نے ان کی محنت کا صلہ دے دیا ہے، فراز ضرور بڑے کارنامے انجام دے گا۔ دونوں میاں بیوی پُرامید تھے کہ فراز بڑھاپے میں ان کا سہارا بنے گا۔ اگلے دن چھٹی تھی، امتیاز ضد کر کے ہما کو طبی معائنے کے لیے لے گیا، جہاں چیک اپ کے بعد لیڈی ڈاکٹر نے انہیں یہ خوشخبری سنائی کہ ہما پندرہ سال بعد دوبارہ ماں بننے والی تھی۔ڈاکٹر کے بقول اس کو شروع میں بہت احتیاط سے کام لینا تھا، یوں طویل عرصے میں پہلی بار فراز کی بحالی صحت کی مشقوں اور خصوصی تعلیم میں تعطل آ گیا تھا۔ ڈاکٹر نے ہما کو مکمل آرام کی ہدایت کی تھی۔ امتیاز کو بھی لمبی چھٹی ملنی مشکل تھی۔ ایسے میں اس نے محلے کے رات کے چوکیدار کے ذریعے مسئلے کا حل نکال لیا، جو مناسب معاوضے کے عوض، روزانہ شام کے وقت فراز کو بحالی صحت کے مرکز لانے لے جانے پر راضی ہو گیا تھا۔
☆☆☆

اس جگہ پر کئی کار گیراج اور موٹر سائیکل ورکشاپس بھی وجود میں آ گئے تھے۔ ساتھ ساتھ ایل پی جی گیس سلنڈر اور آئل چینج کرنے والوں نے بھی یہاں ٹھکانہ بنا لیا تھا۔ ٹائر پنکچر والا تو چوبیس گھنٹے دن رات بستر ڈال کر بیٹھا رہتا تھا۔ روڈ ویسے ہی تنگ تھا، اوپر سے ہر وقت مرمت کے لیے کھڑی آڑی ترچھی کاروں، موٹر سائیکلوں، کمپریسر یونٹس اور ایل پی جی سلنڈرز نے جگہ گھیر رکھی تھی، جس کی وجہ سے سڑک پر گزرنے والی سواریوں اور پیدل چلنے والوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ شام کے وقت اس روڈ پر بھاگ دوڑ مچی رہتی تھی۔اس دن بھی مستری کے پاس کام سیکھنے والے چند نو عمر شاگرد سڑک کے بیچوں بیچ مرمت کے لیے لائی گئی کسی کار کو دھکا دے کر سڑک کنارے ورکشاپ میں ایک طرف لگانے لگے، تو اس شاہراہ پر ذرا دیر کے لیے راستہ جام ہو گیا۔ اس مختصر توقف کے دوران چند کھلنڈرے نوجوان اپنی قیمتی ہیوی بائیکس تیز رفتار سے چلاتے ہوئے ان شاگردوں کے قریب پہنچ گئے۔ بائیک سوار عجلت میں تھے۔ ذرا سی دیر انتظار کی زحمت اٹھانے کی بجائے، انہوں نے ضائع کیے بغیر دندناتے ہوئے اپنی بائیکس اس تجاوزات سے گھری اس شاہراہ کی فٹ پاتھ پر چڑھا دیں، مگر عین اسی وقت، نا معلوم کہاں سے، ایک نو عمر نوجوان ان کے سامنے آ گیا۔
☆☆☆

فراز نے والدین کے بغیر گھر سے باہر قدم نکالا تو اس میں خود اعتمادی جھلکنے لگی۔ چوکیدار بھی کچھ مطمئن سا ہو گیا تھا۔ بحالی سینٹر آتے جاتے اب وہ اکثر راستے میں فراز کا ہاتھ چھوڑ دیتا تھا۔ آج شام جب وہ دونوں نکلے تو چوکیدار کو اپنے موبائل میں بیلنس ڈالنا یاد آ گیا۔ اس شاہراہ پر راستے میں ہی ایک موبائل فرنچائز نے فٹ پاتھ کنارے اپنا موبائل کاؤنٹر کھول رکھا تھا۔ چوکیدار بیلنس ڈلوانے کے لیے ذرا سی دیر کے لیے وہاں رکا اور فراز کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ عین اسی وقت فٹ پاتھ پر ہیوی موٹر بائیک تیز ہارن دیتی ہوئی اچانک اس کے سر پر آ گئی۔ ایک کے پیچھے ایک تیز رفتار بائیک سے فراز کا تصادم ناگزیر تھا۔ وہ بوکھلا کر بائیک سے بچنے کے لیے تیزی سے پیچھے ہٹا تو بدقسمتی سے راستہ روک کر کھڑی تھی۔ بائیک کی ٹکر سے بچنے والا فراز فٹ پاتھ پر بھرے بجلی کے تاروں سے الجھ کر اپنا توازن برقرار نہ رکھ پایا اور لڑکھڑاتے قدموں سے راستے میں پڑے درجن بھر ایل پی جی سلینڈروں سے جا ٹکرایا۔ پچاس کے جی والے قد آدم بھاری بھر کم سلینڈرز کے اوپر مزید چھوٹے سلینڈرز اونی ٹار کی مدد سے بے ترتیب مینار کی شکل میں کھڑا کر دیا گیا تھا۔ وہ بے ترتیب سلینڈرز فراز کو لے کر دھڑام سے نیچے گرے تو سروس روڈ پر شور مچ گیا۔ فراز بیچارہ ان کے نیچے دب کر بری طرح تڑپ رہا تھا۔ اس کی گردن اور سر پر گہری چوٹ لگی تھی اور اس کا جسم تڑپتے ہوئے بری طرح تھرتھر رہا تھا۔ آس پاس کے مکینک اور پتھاریداروں نے مل کر سلینڈرز ہٹانے کی کوشش کی تو انہیں زور دار جھٹکا لگا۔ دراصل کمپریسر یونٹ کو بجلی فراہم کرنے والی برقی تار میں ایک جوائنٹ تھا۔ فراز تار سے الجھ کر گرا تو جوائنٹ پر لگا ٹیپ ادھر دھڑ کر نکل گیا۔ فراز اس تار کے اوپر گرا ہوا تھا۔ یوں ایک طرف سلینڈرز سے لگنے والی شدید چوٹ اور دوسری طرف دو سو بیس والٹ بجلی کے جھٹکے فراز کا بدن بری طرح تھرتھرا رہا تھا۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں کیونکہ بجلی کا یہ غیر قانونی کنکشن ڈائریکٹ پول سے لیا گیا تھا۔کہتے ہیں حادثے ایک دم رونما نہیں ہوتے، ہم سب مل کر اس غفلت کی برسوں سے پرورش کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک معصوم نوجوان، جس نے ابھی ٹھیک سے دنیا بھی نہیں دیکھی تھی، وہ اس غفلت کی بھینٹ چڑھ گیا اور لاچارگی کے عالم میں تڑپ رہا تھا۔ اتنے میں کسی عقل مند نے لکڑی ڈھونڈ کر تار ہٹانے کی کوشش کی۔ زبردستی کے کام کا انجام اچھا نہیں ہوتا، اس کھینچ تان میں تار اپنے جوائنٹ سے ٹوٹ کر دو حصوں میں منقسم ہو گیا۔ ایک اصول ہے کہ اگر حرارت، آکسیجن اور ایندھن ایک جگہ اکٹھا ہو جائیں تو یہ مثلث دھماکے کا باعث بنتی ہے۔ جو سلنڈر نیچے گرے تھے ان میں سے ایک ریگولیٹر لیک تھا، جس سے مزید پریشر کے ساتھ گیس لیک ہونے لگی۔ کھینچ تان میں بجلی کا تار ٹوٹ کر آپس میں ملا، تو شارٹ سرکٹ سے پیدا ہونے والی چنگاری اور گیس کے اشتعال سے ایک خوفناک دھماکہ ہوا اور ہوا میں اڑنے والے دھاتی سلینڈرز کے ٹکڑوں کے ساتھ ایک ماں کے خواب اور باپ کے ارمان بھی چکنا چور ہو گئے۔دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور ایک ماں کا دل دہل گیا۔ مین روڈ پر آگ اور دھوئیں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ حادثے کی جگہ زخمیوں کی چیخ و پکار اور دل دہلا دینے والی بے چینی کی صورت حال تھی۔ ہما کا دل وسوسوں کی آماجگاہ بن کر دھڑکنے لگا، تو وہ گھبرا کر گھر سے نکل آئی۔ اتنی دیر میں سڑک پر رفاہی اداروں کی ایمبولینس جمع ہو گئی تھیں اور مختلف شہری اداروں کے ذمہ دار، پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔ ایسا پہلے بھی کئی بار ہو چکا تھا کہ ایک دھماکے کے بعد دوسرا دھماکہ مزید لوگوں کی جان لے جاتا تھا، لہٰذا حادثے کی جگہ کو کارڈن آف کر دیا گیا۔ لاؤڈ اسپیکر پر لوگوں کو جائے حادثہ سے دور ہٹ جانے کا حکم دیا جا رہا تھا۔ ہما بھی گھر لوٹ آئی۔کچھ دیر بعد ٹی وی چینل پر مختلف بریکنگ نیوز چل رہی تھیں۔ ابھی تک حادثے کی وجوہات کا تعین نہیں ہو پایا تھا، مگر سوشل میڈیا پر افواہوں کا سیلاب امڈ آیا تھا۔ کچھ ٹی وی چینل ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں سب سے پہلے یہ اہم خبر بریک کرنے کا دعویٰ کر رہے تھے، تو کہیں دہشت گردی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ کسی دہشت گرد کی لاش ہے۔ دھماکے کے شدید زخمیوں کے ساتھ ایک نوجوان کی بے شناخت لاش کی باقیات رفاہی ادارے کی ایمبولینس میں پوسٹ مارٹم کے لیے لے جائی گئیں۔
☆☆☆

ان کی دنیا اندھیروں میں ڈوب چکی تھی۔ کئی مہینے اس الزام سے بری ہونے میں لگ گئے کہ فراز کوئی دہشت گرد نہیں، بلکہ ایک خاص ضرورت رکھنے والا بچہ تھا، جو ماں باپ کی پندرہ سالہ جدوجہد کے نتیجے میں ملک کا کارآمد شہری بننے والا تھا، مگر اس سے پہلے ہی اس اندوہناک سانحے نے اس کی جان لے لی۔ وہ ماں باپ اپنے بے گناہ بچے پر لگے اس الزام کی چھاپ مٹانے کی تگ و دو میں مسلسل دھکے کھا رہے تھے۔ اس ملک کے بوسیدہ قانون میں اکثر بے گناہوں کو انصاف ملنے میں اتنی تاخیر ہو جاتی ہے کہ مظلومین کے گلے میں پڑا الزامات کا پھندا تنگ ہو کر ان کی جان تک لے چکا ہوتا ہے، اور کئی مقدمات میں بریت کا فیصلہ سائلین کی قبروں پر سنایا جاتا ہے۔ ایسے قانون کو اگر “فٹ پاتھ کا قانون” کہا جائے تو بلا شبہ غلط نہ ہوگا۔ ہما کے دل و دماغ پر اس سانحے کا ایسا شدید اثر ہوا کہ وہ ٹوٹ پھوٹ کر رہ گئی۔ اس حادثے کا المناک پہلو یہ بھی تھا کہ برسوں بعد آنے والی خوشخبری اس وقت دکھ میں بدل گئی، جب قبل از وقت پیدائش میں امتیاز کا بچہ بچ نہیں پایا۔ گذشتہ کئی مہینوں کی رُلانے والی طویل جدوجہد کے بعد بالآخر وہ دن آگیا، جب عدالت نے اس مشہور کیس میں دہشت گردی کی دفعات ختم کر کے فراز کو بے گناہ قرار دے دیا۔ “آپ کا بیٹا بے گناہ ثابت ہو گیا، اب آپ کیا چاہتے ہیں؟” ایک رپورٹر نے سوال کیا۔ “ہمارا بیٹا تو بے گناہ ثابت ہو گیا، مگر کیا اسے انصاف مل گیا؟ کیا وہ واپس اس دنیا میں آ سکتا ہے؟” دونوں میاں بیوی کی زبان پر دکھ بھرے سوال تھے، مگر کسی کے پاس ان سوالات کا جواب نہیں تھا۔مگر ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے ایک نئے عزم کے ساتھ سڑک پر حادثے کا باعث بننے والی تمام ناجائز تجاوزات کے ذمہ داران کے خلاف کیس دائر کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ ان کے بقول، فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لیے ہوتا ہے اور سڑک صرف سواریوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔ وہ تمام لوگ، جنہوں نے سڑک اور فٹ پاتھ پر کاروبار کی آڑ میں قبضہ جمایا تھا، فراز کی موت کے ذمہ دار تھے۔
☆☆☆

دہشت گردی کی عدالت سے نکل کر امتیاز اور ہما کی مدعیت میں فراز کا کیس عام عدالت میں پیش ہوئے مہینے گزر گئے ۔ حج تاریخ پر تاریخ دیئے چلا جارہا تھا۔ نجانے یہ کیسی ستم ظریفی تھی کہ پہلے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے وہ طویل عرصے تک انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہے اور اب حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف عدالتوں کے چکر لگاتے ان کے جوتے گھس چکے تھے۔ دہشت گردی کی عدالت سے نکل کر امتیاز اور ہما کی مدعیت میں فراز کا کیس عام عدالت میں پیش ہوا۔ مہینے گزر کیا ہم بار مان لیں؟ وہ روزانہ خود سے ایک سوال کرتے، مگر اگلے دن پھر سے ایک نئی امنگ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے۔ ایسے میں ایک دن ایک تحقیقاتی چینل نے شہر کی سڑکوں پر آئے دن حادثات میں شہریوں کی ہلاکت اور معذور افراد کے اعدادوشمار میں ہوشربا اضافہ پر ایک ڈاکیومنٹری تیار کی، جس میں فراز کی اندوہناک موت کی مفصل رپورٹ بھی شامل تھی۔شہر میں ناجائز تجاوزات نے بے شمار بے گناہ شہریوں کی جانیں لے لی تھیں۔ یہ اژدہا کئی جانیں نگل چکا تھا۔ رپورٹ کے آخر میں ہما اور امتیاز روتے ہوئے اپنے معصوم بیٹے کی تصویر ہاتھ میں لیے اربابِ اقتدار سے اپیل کر رہے تھے کہ شہر کے فٹ پاتھ اور سڑکوں کو تجاوزات مافیا کے تسلط سے آزاد کروایا جائے تاکہ پھر کسی کے جگر کے ٹکڑے کو حادثے کا شکار نہ بننا پڑے۔ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ تھا، ان کا درد بھرا انٹرویو دیکھتے ہی وائرل ہو گیا اور دونوں میاں بیوی کو انصاف دلوانے کے لیے ہر طرف سے آوازیں سنائی دینے لگیں۔ روزانہ نت نئے یوٹیوبرز موبائل کیمرہ لے کر ان کے پاس انٹرویو کے لیے آدھمکتے۔ ہماری عوام کا آپس میں اتفاق رائے یکساں نہیں رہتا۔ اس مدعے پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ ایک جماعت کا کہنا تھا کہ سڑکوں سے لوگوں کا روزگار چھین لیا گیا تو بیروزگاری، چوری اور لوٹ مار میں اضافہ ہوگا۔ دوسری جماعت کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی حق حاصل نہیں کہ وہ سڑکیں گھیر کر کاروبار کرے، جس سے ٹریفک کی روانی میں خلل یا حادثات میں قیمتی جانوں کے نقصان کا خطرہ ہو۔ سرکار کو چاہیے کہ ان افراد کو متبادل جگہ فراہم کرے۔یہ کیس عدالت میں ایک بار پھر چلا مگر لمبے عرصے گزرنے کے باوجود انجام تک نہ پہنچا۔ جب یہ اونٹ کسی کروٹ نہ بیٹھ سکا تو تنگ آکر امتیاز نے احتساب عدالت میں اپنا کیس دائر کر دیا۔ کہتے ہیں خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ایک در بند ہوتا ہے تو اللہ دوسرا کھول دیتا ہے۔ بے شک انصاف کے راستے میں روڑے اٹکانے والے جگہ جگہ کھڑے ہوں، مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ بالکل اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ فراز کیس میں احتساب عدالت نے فریقین کو طلب کر لیا تو دونوں میاں بیوی کو یوں لگا کہ شاید احتساب عدالت ہی وہ دروازہ کھولے، جہاں سے گزر کر انہیں انصاف ملے گا۔ “تم دیکھنا، ایک دن انصاف کا بول بالا ہوگا۔ ہمارے بچے کو انصاف ضرور ملے گا۔” امتیاز عزم سے اپنی بات دہراتا۔ ان شاء اللہ ممتا کی ماری، دکھیاری ماں دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیتی۔جرح شروع ہوئی تو امتیاز نے اپنا پرانا موقف دہرا دیا۔ اس کے وکیل نے حج کے سامنے روڈ سیفٹی ایکٹ کے آرڈیننس کی نقول پیش کیں۔ اس قانون کے مطابق سڑکوں پر غیر قانونی تجاوزات قائم کرنا اور فٹ پاتھ گھیر کر کاروبار کرنا قابلِ تعزیر جرم تھا۔ عدالت نے اس مقدمے کے مرکزی ملزمان میں ایل پی جی گیس فروش کو بھی نامزد کیا تھا جو بعد ازاں اس حادثے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ دوسرا مرکزی ملزم ٹائر پنکچر والا تھا، جس نے ایئر کمپریسر مشین کے لیے براہِ راست کنڈے سے بجلی کا غیر قانونی کنکشن لیا تھا۔ وہ شخص آج عدالت میں پیشی کے وقت غیر حاضر تھا اور وکیل صفائی نے اس کی غیر حاضری کی وجہ شدید علالت بتائی۔ حادثے کے عینی شاہدین میں ایک اہم گواہ امتیاز کے محلے کا چوکیدار تھا، جو اس حادثے میں معذور ہونے کے بعد ابتدائی طور پر ویڈیو بیان ریکارڈ کروا کر اپنے آبائی علاقے واپس جا چکا تھا۔امتیاز کے وکیل نے عدالت میں حاضر ملزمان سے جرح کی، تو معزز جج نے ان تمام افراد سے باری باری سوالات کیے: تم نے سڑک پر ورکشاپ کس کی اجازت سے قائم کی؟ محنت مزدوری کرتا ہوں مائی باپ، اور کوئی جرم نہیں کیا، مکینک گڑگڑایا۔ ہر ایک پتھاریدار سے ایک ہی سوال دہرایا گیا، جس کا مشترکہ جواب تھا کہ ہم بچوں کے لیے روزی کماتے ہیں، صادق اور عریب آدمی ہیں۔ سب نے غربت کی آڑ میں ہاتھ جوڑ کر ایک ہی جواب دہرایا۔ عدالت میں حاضر گواہان اور ملزمان کی جرح مکمل ہوئی تو جج نے غفلت کے مرتکب شہری اداروں کے ذمہ داران، افران کے ساتھ ٹائر پنکچر والے اور فٹ پاتھ پر بائیک چڑھانے والے موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا اور اگلی تاریخ پر عدالت برخاست کر دی۔
☆☆☆

حج کے جاری کردہ حکم نامے کا سمن متعلقہ اداروں تک پہنچا، تو ان کے کان کھڑے ہوئے۔ واضح طور پر اگلی دفعہ معزز عدالت ان افسران اور عملے کی گوشمالی ضرور کرتی ، لہذا ا علاقے کے ایس ایچ او اور شہری اداروں کے افسران نے مل بیٹھ کر اپنی جان چھڑانے کے لئے فوری کاروائی کا فیصلہ کر لیا۔ ٹائر دوسرے ہی دن سرکاری اہلکار مشینری لائے اور سڑک سمیت فٹ پاتھ پر جہاں کہیں جو سامان ہاتھ لگا، ضبط کر کے ٹرکوں میں لاد کر لے گئے۔ بجلی کے محکمے والوں نے تمام غیرقانونی کنکشن کاٹ دیئے۔ بظاہر اس کاروائی کا الٹا نتیجہ نکلا اور سڑک پر کاروبار کرنے والے تمام افراد نے شہری اداروں کے آپریشن کے خلاف تین روزہ بھوک ہڑتال کے نتیجے میں سڑک بلاک کر دی۔ کچھ مہینوں بعد الیکشن آنے والے تھے۔ موقع سے فائدہ اٹھا کر مختلف رنگ برنگی پارٹیاں بھی اس احتجاج میں کود پڑیں۔ہمیں ووٹ دیا ہوتا تو ، کبھی ایسی صور تحال پیش نہ آتی ایک سیاسی جماعت کار ہنما لاؤڈ اسپیکر پر چلا رہا تھا۔ایک اور جماعت کے کارکن اپنی جماعت کے جھنڈے لئے احتجاج میں شامل، گلے پھاڑ کر ہڑتالی مظاہرین کے حق میں شدید نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس مسئلے کو سبب بنا کر سب کو اپنے ووٹ بینک کی فکر پڑ گئی تھی۔ ایسے میں تجاوازت مافیا نے تاجر اتحاد بنا کر دونوں میاں بیوی پر کیس واپس لینے کے لئے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا۔ امتیاز اور ہما کو فون پر دھمکیاں ملنا شروع ہو گئی تھیں۔
☆☆☆

پچھلی سماعت میں حج نے جن موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو حاضر کرنے کا حکم نامہ جاری کیا بھتا، وہ کھاتے پیتے ، با اثر خاندانوں کے آزاد خیال نوجوان تھے۔ اس شہر میں یہ رواج عام تھا کہ جب کبھی ٹریفک جام ہوتا، تو موٹر سائیکل سوار فٹ ہاتھ پر بائکس چڑھا کر راہگیروں کے بیچ دندناتے ہوئے نکل جا جاتے۔ بظاہر یہ ایک عام کی بات تھی، لیکن ان نوجوانوں کو اس کیس میں بطور ملزمان نامزد کیا گیا تو انصاف کو اپنے پیر کی جوتی سمجھنے والوں نے تجاوزات مافیا سے مل جل کر امتیاز اور ہما کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا اور انہیں نوکری پر آتے جاتے، بازار سے گزرتے وقت ہراساں کیا جانے لگا۔ آدھی رات کو پتھراؤ کر کے گھر کے شیشے توڑ دیئے گئے۔ انہیں پہلے بھی دھمکیاں مل رہی تھیں، مگر اس بار کھلم کھلا دشمنی نکالی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ کچھ دن بعد امتیاز کے گھر پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی درج کر لی، مگر حالات اس حد تک خراب ہوئے کہ دونوں میاں بیوی اگلی پیشی تک خاموشی سے یہ علاقہ چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہو گئے تھے
☆☆☆

امتیاز اور ہما اپنے کسی خیرخواہ کے گھر روپوش تھے۔ دونوں کی ہمت جواب دیتی جارہی تھی، کیونکہ وہ دن بدن دھکے کھا رہے تھے۔ انہیں کیس واپس لینے کے لیے ہرجانہ کی پیشکش سمیت ڈرایا دھمکایا جا رہا تھا۔ امتیاز اپنی شریک حیات کی روز بروز گرتی ہوئی صحت دیکھ کر فکر مند تھا۔ فائرنگ والے واقعے کے بعد اس نے بیوی سے مشورہ کرنا مناسب سمجھا اور پوچھا کہ کیا ہمیں کیس واپس لے لینا چاہئے۔ ہما، جو نقاہت کے باعث بستر پر لیٹی آرام کر رہی تھی، امتیاز کی بات پر بے اختیار تڑپ کر اٹھ بیٹھی اور کہا کہ ہرگز نہیں، کسی صورت بھی نہیں۔ کسی ماں کے جگر کے ٹکڑے کو غفلت کی بھینٹ چڑھانے والے ذمہ داروں کو ہرگز معافی نہیں ملنی چاہئے۔ میں انہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔ حالات انہیں امید اور ناامیدی کے بیچ منجدھار میں بہا رہے تھے۔ ہما اپنے لخت جگر کی دردناک موت کو یاد کرکے سک گئی تھی۔ اب پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ اس کی بات درست تھی، مگر امتیاز سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا کیا جائے۔ شروع میں جو لوگ زور و شور سے ساتھ دینے کا وعدہ کر رہے تھے، اب اسی صورتحال میں صلح و صفائی کے دانشمندانہ مشورے دے رہے تھے۔ امتیاز باتوں باتوں میں شکوہ کرتا کہ بس اب تو اللہ ہی ہمارا مددگار ہے، جس نے ہمیں صبر و حوصلہ دیا، ورنہ اس سفر میں ہمارے ہمدرد کم اور دشمن زیادہ بنتے جا رہے ہیں۔ ہما بے بسی سے جواب دیتی۔ حالات ان کے خلاف جا رہے تھے۔ سچ کہا جائے تو معاشرے کا ایک بڑا طبقہ بدبودار منافقت کا چلتا پھرتا اشتہار بن چکا تھا۔ کوئی سچ کہتا تو لوگ تماش بین بن کر ہر مسئلے کا تماشا لگا دیتے۔ انصاف کے نعرے لگانا آسان تھا، مگر تقاضے پورے کرنا بہت مشکل۔ اس معاشرے میں انصاف بھی ایسے اونٹ کی مانند تھا جو اپنی مرضی سے جس طرف چاہے کروٹ لے سکتا تھا۔ ایسے میں ہما اور امتیاز کی جدوجہد جہاد سے کم نہ تھی۔ کئی بار تھک ہار کر پیچھے ہٹنے کا خیال آیا مگر اپنے لخت جگر کی اذیت ناک موت نے انہیں سچ کے راستے پر موڑ دیا۔ انہیں اب اپنی جان کی پرواہ بھی نہ رہی تھی۔ اسی دوران اگلی پیشی کی تاریخ آ گئی۔
☆☆☆

احتساب عدالت کے جج نے کارروائی کے آغاز میں سب سے پہلے شہری ادارے کے متعلقہ افسران کو طلب کیا۔ وکیل صفائی نے جرح شروع کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا سڑکوں پر ناجائز تجاوزات کا خاتمہ آپ کی ذمہ داری نہیں؟ علاقہ انچارج نے جواب دیا کہ میں نے کئی بار اعلیٰ حکام کو باور کرایا، کارروائی بھی کی، مگر ہر بار سفارش، سیاسی جماعتوں کے دباؤ اور تعلقات راستے کی دیوار بن جاتے ہیں۔ امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر تجاوزات کے خلاف آپریشن کئی بار منسوخ کرنا پڑا۔ اس بار پولیس کو بھی طلب کیا گیا تھا، جس پر سوال اٹھایا گیا کہ کیا امن و امان کی ذمہ داری آپ کی نہیں؟ یا آپ اس کام کے اہل نہیں، کیوں نہ آپ کی وردی اتار کر گھر بھیج دیا جائے؟ ایس ایچ او نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آزادی سے کام کرنے کی اجازت نہیں، ہمارے پاس تو بظاہر اختیارات ہیں، مگر سارے آرڈرز اوپر سے آتے ہیں۔ ہم علاقے سے ایک پان، سگریٹ کا کھوکا تک نہیں اٹھا سکتے، کیونکہ ہر کام میں کسی نہ کسی بااثر شخصیت کا حوالہ آجاتا ہے، ایم پی اے، ایم این اے تک کی کالیں آتی ہیں۔ بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کرنے سے پہلے عدالت سے اسٹے آرڈرز آ جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہم کیا کریں؟ ہم بھی غریب اہلکار ہیں، بچوں کا پیٹ بھی پالنا ہے۔ بعد ازاں بجلی کے محکمے کے متعلق پوچھنے پر افسر نے صاف انکار کر دیا کیونکہ ہر ہفتے جن خوانچہ فروش، پتھاریدار، پان سگریٹ کی دکانوں وغیرہ سے نذرانہ وصول کیا جاتا ہے، جو لائن مین اور نچلے اہلکاروں کی جیب میں جاتا ہے، جس کا نہ کوئی ریکارڈ ہوتا ہے اور نہ کوئی ثبوت۔ ویسے بھی کچھ دن پہلے علاقے کی تمام سڑکوں سے ناجائز کنکشن ختم کروا دیئے گئے تھے۔ حج نے افسر کو سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ سڑکوں پر ناجائز کنکشن کے خلاف انکوائری کریں، ذمہ داروں کے خلاف اگلی پیشی تک کارروائی کرکے رپورٹ جمع کروائیں، ورنہ سزا بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔ اس پیشی پر نامزد موٹر سائیکل سوار نوجوان حاضر نہیں ہوئے تھے، پولیس کی اطلاع کے مطابق وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک سے باہر جا چکے تھے، جبکہ کمپریسر کے مالک اور ٹائر پنکچر والے اپنے آبائی علاقے سے فرار ہو گئے تھے۔ عدالت نے ماتحت انچارج کو معطل کرنے کا حکم دیا، جس نے اگلی پیشی پر ملزمان کو حاضر کرنے کا وعدہ کر کے اپنی جان چھڑائی۔ علاوہ ازیں فائرنگ کے معاملے میں ملوث افراد کے گرفتار ہونے تک ہما اور امتیاز کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی۔ جرح اور گواہوں کے بیانات سننے کے بعد احتساب عدالت نے اگلی پیشی پر فیصلہ سنانے کا اعلان کر کے عدالت برخاست کردی۔ اس طویل جد و جہد کا نتیجہ آنے والا تھا۔ ہما اور امتیاز نے ہر قسم کے سیاسی اور سماجی دباؤ کے باوجود انصاف کے حصول کے لیے آخر وقت تک بار نہیں مانی۔ مستقل مزاجی سے بس ایک ہی بات پر ڈٹے رہے کہ سڑکوں اور فٹ پاتھ کے لیے بنائے گئے قانون پر سختی سے عمل کیا جائے تاکہ کئی قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔ مصالحت کی کوششوں میں امتیاز اور ہما کا ہر فورم میں یہی جواب تھا۔ اگلی پیشی پر پولیس نے حسب وعدہ نامزد موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو احتساب عدالت میں حاضر کر دیا، جبکہ ٹائر پنکچر والے کو مفرور قرار دے کر اس کی گرفتاری کے لیے دوسرے صوبے کی پولیس سے رابطہ کر لیا گیا تھا۔ وکیل صفائی نے نوجوانوں کے ڈرائیونگ لائسنس عدالت میں پیش کیے، جن کی عمر اٹھارہ سے بیس سال کے درمیان تھی۔ معزز جج نے نوجوانوں سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرتے وقت ٹریفک کے قانون کا احترام نہیں سکھایا گیا؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں؟ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں، کیا آپ سے یہی توقع رکھی جائے کہ ذرا سی جلد بازی اور غفلت سے اپنی اور دوسروں کی جان کو خطرے میں ڈال دیں؟ نوجوان شاید شرمندہ تھے یا اداکاری کر رہے تھے کیونکہ انہوں نے جواب دینے کے بجائے سر جھکانا مناسب سمجھا۔ ان کے وکیل نے پہلے ہی انہیں سب سکھا دیا تھا۔ نوجوان ابھی کم عمر تھے اور کئی مہینوں سے ان کے بااثر والدین پولیس کو اچھا خاصا رشوت دے چکے تھے۔ اس دفعہ اہلکاروں کی وردی اتارنے کی نوبت آ گئی تھی، اس لیے کوئی رشوت کام نہیں آئی اور انہیں حاضری دینی پڑی۔ کسی نے کہا ہے کہ پولیس کی دوستی اچھی نہ دشمنی۔ پچھلی دفعہ حج کے حکم کے مطابق بجلی کے محکمے نے بدعنوان اہلکاروں کے خلاف انکوائری کی، تو بجلی کے پول سے کنڈے ڈال کر پتھاریداروں کو براہ راست کنکشن فراہم کرنے والوں کا جرم ثابت ہونے پر محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے جرمانے اور قانونی چارہ جوئی کی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی۔ ہما اور امتیاز کے گھر پر ہوائی فائرنگ کرنے والے کچھ مشتبہ افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ عدالت نے غیر قانونی اسلحہ استعمال کرنے کی دفعات لگا کر ملزمان کے خلاف کیس بنا کر جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے۔ کیس کی سماعت مکمل ہوئی تو وقفے کے بعد عدالت نے فیصلہ سنانے کا اعلان کیا۔ اس دوران حج نے ہما اور امتیاز سے علیحدگی میں ملاقات کی اور دونوں کی مشاورت سے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ بالاخر وہ گھڑی آئی جب معزز عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے پولیس اور متعلقہ اداروں کو سات دن کے اندر علاقے میں تمام غیر قانونی تجاوزات کا فوری خاتمہ کرنے کا حکم دے دیا۔ سڑک پر پتھاروں، کیبن، ورکشاپ اور خوانچہ فروشوں کو بے دخل کر کے مستقبل میں ان کی سرپرستی کرنے والوں کو سخت جرمانے اور قید کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ مقدمے کا ایک مرکزی ملزم اللہ کی عدالت سے سزا پا چکا تھا۔ دوسرے مرکزی ملزم کمپریسر کے مالک کو غیر حاضری میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی اور اسے گرفتار کر کے مقامی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔
☆☆☆

موٹر سائیکل سوار نوجوان ابھی کم عمر تھے۔ تاجر اتحاد سے مل کر ہوائی فائرنگ کرکے دھمکانے کے شبہے میں، حج نے ہما اور امتیاز کی رضامندی سے علاقے کے تھانیدار کو دو سال تک ہر چھ ماہ بعد ان نوجوانوں کے اچھے حال چلن کا سرٹیفکیٹ جمع کروانے کا حکم دیا اور اگلی بار کسی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزا کی سرزنش کر کے چھوڑ دیا گیا۔ سات دن بعد عدالت کے حکم کے مطابق کارروائی مکمل ہوئی تو علاقے کے روڈ اور فٹ پاتھ تجاوزات سے پاک ہو چکے تھے۔ ہما اور امتیاز بھی یہی چاہتے تھے، لیکن اب ان کا اس علاقے میں دل نہیں لگتا تھا۔ وہ یہاں رہ کر کیا کرتے؟ ہر پل اپنے مظلوم بیٹے کی تصویر نگاہوں میں گھومنے لگتی تھی۔ انہوں نے گھر کا سودا کیا اور وہاں سے کہیں دور چلے آئے۔ دونوں نے وہ شہر ہی چھوڑ دیا تھا۔ دس سال بعد امتیاز اور ہما پھر اسی سڑک کنارے فٹ پاتھ پر اپنے چھ سالہ بیٹے عماد کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے کھڑے تھے۔ اللہ نے انہیں پھر اولاد کی نعمت سے نواز دیا تھا۔ آج فراز کی دسویں برسی تھی۔ سالوں میں انہوں نے بہت صبر کیا، مگر بیٹے کی یاد نے انہیں بہت بےتاب کیا تو بالآخر آج ایک بار پھر وہ گود اجڑ دینے والی اس خونی سڑک کو دیکھنے چلے آئے تھے۔ فٹ پاتھ پر کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔ گزرے دس برسوں میں آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا، تو آس پاس کے علاقوں کا نقشہ ہی بدل گیا۔ سڑک کنارے باقاعدہ کئی دکانیں بن چکی تھیں۔ پہلے سے کہیں زیادہ خوانچہ فروشوں اور پتھاریداروں کا اژدھام تھا۔ وہ اپنی آنکھوں سے یہاں قانونی فیصلہ کے مطابق تجاوزات کا مکمل خاتمہ دیکھ کر گئے تھے، مگر شاید کچھ عرصے بعد ہی عدالت کا حکم ہوا میں اڑا دیا گیا تھا۔ وہ حیرانی اور افسوس کے ساتھ وہاں کھڑے قانون کا مذاق اڑتا ہوا دیکھ رہے تھے کہ ایک ننگ دھڑنگ پاگل شخص قہقہے لگاتا ہوا وہاں سے گزرا۔ وہ بدحال، الف برہنہ تھا۔ پاگل کو دیکھ کر عماد گھبرا کر باپ سے چمٹ گیا۔ ہما اور امتیاز نے بھی بے اختیار منہ پھیر لیا۔ مقامی لوگوں نے کئی بار اس دیوانے کو کپڑے پہنانے کی کوشش کی تھی، مگر وہ ہر بار اپنا لباس پھاڑ کر کپڑوں کی دھجیاں ہوا میں اڑا دیتا، پھر لوگوں نے بھی پروا کرنا چھوڑ دی۔ وہ سب اس کی بےلباسی کے عادی ہو چکے تھے یا شاید بے حس تھے۔ جب کسی بے حس معاشرے میں انصاف کی دھجیاں بکھیر کر اسے بے لباس کر دیا جائے، تو اس برہنگی سے شریفوں کو منہ چھپانا پڑتا ہے۔ وہ دونوں میاں بیوی بھی شرم سے منہ چھپائے وہاں سے لوٹ آئے۔
 
Ya story hamry muasry ki akhsi karti ha k hum log kis had tak gir gia hain har Kasi ko bas apni apni ha or Kasi ka kio dukh ni
 
امتیاز کا گھر مین روڈ کے بالکل قریب تھا۔ صرف ایک سروس روڈ عبور کرنا پڑتی، اور سامنے ہی بس اسٹاپ آجاتا۔ وہ لوگ اس علاقے میں تقریباً دس سال سے مقیم تھے۔ شروع میں یہاں آبادی کم تھی، لیکن صرف چند ہی برسوں میں یہ علاقہ بھی شہر کے دیگر علاقوں کی طرح گنجان آباد ہوتا چلا گیا۔ یہاں ایک طرف تنخواہ دار طبقہ آباد تھا، جنہوں نے اپنی محنت کی کمائی سے کمیٹیاں ڈال کر اس ہاؤسنگ سوسائٹی میں گھر بُک کروائے تھے، اور دوسری طرف قبضہ مافیا تھا، جو قرب و جوار میں بڑی ڈھٹائی سے کچی آبادیاں قائم کر کے ناجائز تجاوزات کا سیلاب لے آیا تھا۔ روزانہ کی طرح آج بھی جب امتیاز گھر سے نکلا، تو اُس نے اپنے بارہ سالہ بیٹے فراز کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔ سروس روڈ پار کرتے ہی دونوں مرکزی شاہراہ پر پہنچ گئے۔ اس کشادہ مگر ہجوم زدہ سڑک کے دونوں اطراف پتھارے داروں نے فٹ پاتھ کے بڑے حصے پر قبضہ جما رکھا تھا، جس کے باعث پیدل چلنے والوں کے لیے برائے نام جگہ باقی بچی تھی۔ ناجائز تجاوزات کے نتیجے میں یہاں روز ٹریفک جام اور حادثات معمول بن چکے تھے۔ بدقسمتی سے شہر بھر کی سڑکوں پر فٹ پاتھ غائب ہوتے جا رہے ہیں، اور اوپر سے گنجان آبادیوں کے بیچوں بیچ سگنل فری کوریڈور بن جانے کے باعث، تیز رفتار گاڑیوں کے درمیان سڑک عبور کرنا بھی جان جوکھم کا کام بن چکا ہے۔ یہاں سے تقریباً آدھا کلومیٹر دور واقع پیدل پل (پیڈسٹرین برج) عبور کر کے سڑک پار کرنا امتیاز اور اُس کے بیٹے کا روزمرّہ معمول تھا۔ وہ دونوں بڑی احتیاط سے فٹ پاتھ پر جگہ بناتے ہوئے اپنا سفر طے کر لیتے تھے۔ فراز ایک خصوصی بچہ تھا، جسے ہفتے میں پانچ دن باقاعدگی سے خصوصی بچوں کے بحالی صحت مرکز لے جانا پڑتا تھا۔ خوش آئند بات یہ تھی کہ علاج کے نتیجے میں فراز کی صحت میں نمایاں بہتری کے آثار نظر آنے لگے تھے۔
☆☆☆

امتیاز ایک فیکٹری میں سپروائزر تھا، جب کہ اُس کی شریکِ حیات، ہما، ایک اسکول میں کمپیوٹر سائنس کی معلمہ تھی۔ دونوں میاں بیوی کی کل کائنات اُن کا اکلوتا بیٹا، فراز، تھا- پیدائش سے قبل کچھ طبّی پیچیدگیوں کے باعث فراز کی ذہنی صلاحیت اور جسمانی نشوونما عام بچوں کی طرح متوازن نہیں تھی۔ وہ ایک خصوصی بچہ تھا، مگر ڈاکٹروں کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ، توجہ اور باقاعدہ علاج سے اُس کی ذہنی و جسمانی حالت میں بہتری کے امکانات موجود تھے۔ البتہ یہ ایک محنت طلب اور صبر آزما عمل تھا۔ پانچ سال کی عمر میں فراز نے دو سال کے بچے کی طرح اٹک اٹک کر بولنا شروع کیا، تو اُسے ایک خصوصی بچوں کے اسکول میں داخل کروا دیا گیا، جہاں مختلف تھراپیز اور مخصوص طریقہ تعلیم کی بدولت وہ لکھنا پڑھنا اور حروف کی پہچان سیکھ رہا تھا۔ امتیاز صبح دفتر جاتے ہوئے بیٹے کو اسکول چھوڑ دیتا، اور ہما اسکول سے واپسی پر اُسے ساتھ لے آتی۔ گھر کے کاموں سے فارغ ہوکر ہما کا سارا وقت بیٹے کی دیکھ بھال میں صرف ہو جاتا۔ جب اُس نے بیٹے کا رجحان محسوس کیا، تو گھر میں کمپیوٹر پر مختلف سافٹ ویئرز کے ذریعے اُسے ڈرائنگ سکھانے لگی۔ آٹھ سال کی عمر میں جب فراز خود کمپیوٹر آن کرکے بڑی خوبصورتی سے ڈرائنگ کرنے لگا، تو ماں باپ خوشی سے جھوم اُٹھے۔ اگلی مرتبہ جب فراز کا طبی معائنہ ہوا، تو ڈاکٹروں کو اُس کی ذہنی حالت میں نمایاں بہتری کے آثار نظر آئے۔ اس بار انہوں نے دماغی بہتری کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت کے لیے بھی فراز کو کھیلوں میں حصہ لینے کی تجویز دی۔ امتیاز کے گھر کے قریب ہی ایک بڑا میدان تھا۔ سرکاری نقشے میں یہ جگہ ایک تفریحی پارک کے لیے مختص تھی، مگر انتظامیہ کی غفلت کے باعث یہ جگہ ہیروئنچیوں اور علاقے بھر کے پیشہ ور گداگروں کی جنت بن چکی تھی۔ کچھ خانہ بدوشوں نے بھی وہاں ڈیرے ڈال لیے تھے، اور رہی سہی کسر علاقہ مکینوں نے پوری کر دی۔ پارک کے ایک کونے کو کچرا پھینکنے کی جگہ بنا دیا گیا، جو آہستہ آہستہ ایک وسیع کچرا کنڈی میں تبدیل ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد وہاں ہفتے کے بیشتر دن بچت بازار لگنے لگے۔ کھیل کے میدان بھی کمرشلائز ہو کر قبضہ مافیا کے زیرِ اثر آ چکے تھے۔ جب عام بچوں کے لیے بھی کھیلنے کی جگہ باقی نہ رہی، تو فراز جیسے خصوصی بچے کے لیے تو کوئی گنجائش باقی نہ تھی۔ امتیاز نے معلومات حاصل کیں، تو کچھ فاصلے پر ایک خصوصی بحالی مرکز کا پتا چلا، جہاں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے ذہنی اور جسمانی مشقوں کے ساتھ کھیل کود کی سہولیات بھی میسر تھیں۔ وہ روزانہ فراز کو باقاعدگی سے اس مرکز لے جانے لگا۔ کچھ ہی عرصے میں فراز نے تمام مشقیں کامیابی سے سیکھ لیں۔ امتیاز کا دل خوشی سے جھوم اٹھتا جب مرکز میں کوئی دوسرا بچہ ورزش کے دوران غلطی کرتا، اور فراز کسی انسٹرکٹر کی طرح اُسے درست طریقہ سمجھاتا۔ فراز، دونوں میاں بیوی کی آنکھوں کا تارا تھا۔ ان کی محنت رنگ لا رہی تھی۔ جب پندرہ سال کی عمر میں فراز کی ذہنی حالت ایک دس سالہ بچے کے برابر ہوئی، تو بہتری کے نمایاں آثار نظر آنے لگے۔ ہر والدین کی سب سے بڑی امید اپنے بچے کا بہتر مستقبل ہوتا ہے۔ ان میاں بیوی نے بھی اُمید کا دِیا روشن کر کے نئے خواب دیکھنا شروع کر دیے تھے۔ اب اکثر ان کی گفتگو کا مرکزی موضوع یہی ہوتا۔ تمہیں کیا لگتا ہے؟ ہمارا بیٹا آگے چل کر کس شعبے کا انتخاب کرے گا؟ امتیاز بیوی سے پوچھتا۔ میرا بیٹا جس شعبے میں بھی جائے گا، کامیابی اُس کے قدم چومے گی، ہما تصور میں بیٹے کو جوان ہوتا دیکھ کر خوشی سے نہال ہو کر جواب دیتی۔ ویسے بھی وہ اپنے بیٹے کو مستقبل میں ایک آرٹ ڈیزائنر کے روپ میں دیکھتی تھی، جب کہ امتیاز کو اُس کے اندر ایک بہترین فزیو تھراپسٹ دکھائی دیتا تھا۔
☆☆☆

سب کچھ درست سمت میں آگے بڑھ رہا تھا کہ ایک مشکل آن پڑی۔ امتیاز جس ٹیکسٹائل مل میں سپروائزر تھا، شہر سے دور انڈسٹریل فری زون میں اس کی ایک نئی شاخ کا افتتاح ہوا، تو تجربہ کار اسٹاف کی ٹیم تشکیل دے کر کچھ عرصے کے لیے وہاں منتقل کر دیا گیا، جس میں امتیاز بھی شامل تھا۔ نئی ذمہ داریوں کے ساتھ ترقی، بونس اور تنخواہ میں اضافہ بظاہر خوش آئند خبر تھی، مگر اس کے ساتھ ہی امتیاز کی مشکلات بڑھ گئیں۔ نیا سیٹ اپ جمانا تھا، روز دیر سے چھٹی ہوتی، صبح سویرے گھر سے نکلنا اور رات گئے لوٹنا معمول بن گیا، جبکہ شہر میں بے ہنگم ٹریفک الگ مصیبت تھی۔ کمپنی نے اسٹاف کے لیے فری زون کے قریب رہائش کا بندوبست کیا، تو کئی لوگ وہیں منتقل ہو گئے، مگر امتیاز کے لیے یہ ممکن نہ تھا کیونکہ اس کی زندگی کا محور اس کا بیٹا فراز تھا، جسے روز بحالی مرکز لے جانا ضروری تھا۔ یہ ذمہ داری اب ہما نے سنبھال لی، جو ہمت اور مستقل مزاجی سے کام لے رہی تھی، مگر شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے تھکن بڑھتی جا رہی تھی۔ شہر کی فٹ پاتھوں پر پتھارے داروں کے غیر قانونی کنڈوں نے صورتحال اور بگاڑ دی تھی۔ ایک دن جب ہما فراز کو واپس لا رہی تھی تو اسے چکر آیا اور وہ سڑک پر گر گئی، مگر فراز نے فوراً حاضر دماغی سے ماں کو پانی پلایا اور سہارا دے کر گھر تک لے آیا۔ یہ منظر ہما کے لیے جذباتی لمحہ تھا—ایک عرصے سے بیٹا ان کا سہارا لیتا تھا، مگر آج وہ اس کا سہارا بنا تھا۔ شام کو جب امتیاز گھر آیا اور ہما نے واقعہ سنایا، تو وہ بھی خوشی سے نہال ہو گیا اور کہا کہ اللہ نے ان کی محنت کا صلہ دے دیا ہے، فراز ضرور بڑے کارنامے انجام دے گا۔ دونوں میاں بیوی پُرامید تھے کہ فراز بڑھاپے میں ان کا سہارا بنے گا۔ اگلے دن چھٹی تھی، امتیاز ضد کر کے ہما کو طبی معائنے کے لیے لے گیا، جہاں چیک اپ کے بعد لیڈی ڈاکٹر نے انہیں یہ خوشخبری سنائی کہ ہما پندرہ سال بعد دوبارہ ماں بننے والی تھی۔ڈاکٹر کے بقول اس کو شروع میں بہت احتیاط سے کام لینا تھا، یوں طویل عرصے میں پہلی بار فراز کی بحالی صحت کی مشقوں اور خصوصی تعلیم میں تعطل آ گیا تھا۔ ڈاکٹر نے ہما کو مکمل آرام کی ہدایت کی تھی۔ امتیاز کو بھی لمبی چھٹی ملنی مشکل تھی۔ ایسے میں اس نے محلے کے رات کے چوکیدار کے ذریعے مسئلے کا حل نکال لیا، جو مناسب معاوضے کے عوض، روزانہ شام کے وقت فراز کو بحالی صحت کے مرکز لانے لے جانے پر راضی ہو گیا تھا۔
☆☆☆

اس جگہ پر کئی کار گیراج اور موٹر سائیکل ورکشاپس بھی وجود میں آ گئے تھے۔ ساتھ ساتھ ایل پی جی گیس سلنڈر اور آئل چینج کرنے والوں نے بھی یہاں ٹھکانہ بنا لیا تھا۔ ٹائر پنکچر والا تو چوبیس گھنٹے دن رات بستر ڈال کر بیٹھا رہتا تھا۔ روڈ ویسے ہی تنگ تھا، اوپر سے ہر وقت مرمت کے لیے کھڑی آڑی ترچھی کاروں، موٹر سائیکلوں، کمپریسر یونٹس اور ایل پی جی سلنڈرز نے جگہ گھیر رکھی تھی، جس کی وجہ سے سڑک پر گزرنے والی سواریوں اور پیدل چلنے والوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ شام کے وقت اس روڈ پر بھاگ دوڑ مچی رہتی تھی۔اس دن بھی مستری کے پاس کام سیکھنے والے چند نو عمر شاگرد سڑک کے بیچوں بیچ مرمت کے لیے لائی گئی کسی کار کو دھکا دے کر سڑک کنارے ورکشاپ میں ایک طرف لگانے لگے، تو اس شاہراہ پر ذرا دیر کے لیے راستہ جام ہو گیا۔ اس مختصر توقف کے دوران چند کھلنڈرے نوجوان اپنی قیمتی ہیوی بائیکس تیز رفتار سے چلاتے ہوئے ان شاگردوں کے قریب پہنچ گئے۔ بائیک سوار عجلت میں تھے۔ ذرا سی دیر انتظار کی زحمت اٹھانے کی بجائے، انہوں نے ضائع کیے بغیر دندناتے ہوئے اپنی بائیکس اس تجاوزات سے گھری اس شاہراہ کی فٹ پاتھ پر چڑھا دیں، مگر عین اسی وقت، نا معلوم کہاں سے، ایک نو عمر نوجوان ان کے سامنے آ گیا۔
☆☆☆

فراز نے والدین کے بغیر گھر سے باہر قدم نکالا تو اس میں خود اعتمادی جھلکنے لگی۔ چوکیدار بھی کچھ مطمئن سا ہو گیا تھا۔ بحالی سینٹر آتے جاتے اب وہ اکثر راستے میں فراز کا ہاتھ چھوڑ دیتا تھا۔ آج شام جب وہ دونوں نکلے تو چوکیدار کو اپنے موبائل میں بیلنس ڈالنا یاد آ گیا۔ اس شاہراہ پر راستے میں ہی ایک موبائل فرنچائز نے فٹ پاتھ کنارے اپنا موبائل کاؤنٹر کھول رکھا تھا۔ چوکیدار بیلنس ڈلوانے کے لیے ذرا سی دیر کے لیے وہاں رکا اور فراز کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ عین اسی وقت فٹ پاتھ پر ہیوی موٹر بائیک تیز ہارن دیتی ہوئی اچانک اس کے سر پر آ گئی۔ ایک کے پیچھے ایک تیز رفتار بائیک سے فراز کا تصادم ناگزیر تھا۔ وہ بوکھلا کر بائیک سے بچنے کے لیے تیزی سے پیچھے ہٹا تو بدقسمتی سے راستہ روک کر کھڑی تھی۔ بائیک کی ٹکر سے بچنے والا فراز فٹ پاتھ پر بھرے بجلی کے تاروں سے الجھ کر اپنا توازن برقرار نہ رکھ پایا اور لڑکھڑاتے قدموں سے راستے میں پڑے درجن بھر ایل پی جی سلینڈروں سے جا ٹکرایا۔ پچاس کے جی والے قد آدم بھاری بھر کم سلینڈرز کے اوپر مزید چھوٹے سلینڈرز اونی ٹار کی مدد سے بے ترتیب مینار کی شکل میں کھڑا کر دیا گیا تھا۔ وہ بے ترتیب سلینڈرز فراز کو لے کر دھڑام سے نیچے گرے تو سروس روڈ پر شور مچ گیا۔ فراز بیچارہ ان کے نیچے دب کر بری طرح تڑپ رہا تھا۔ اس کی گردن اور سر پر گہری چوٹ لگی تھی اور اس کا جسم تڑپتے ہوئے بری طرح تھرتھر رہا تھا۔ آس پاس کے مکینک اور پتھاریداروں نے مل کر سلینڈرز ہٹانے کی کوشش کی تو انہیں زور دار جھٹکا لگا۔ دراصل کمپریسر یونٹ کو بجلی فراہم کرنے والی برقی تار میں ایک جوائنٹ تھا۔ فراز تار سے الجھ کر گرا تو جوائنٹ پر لگا ٹیپ ادھر دھڑ کر نکل گیا۔ فراز اس تار کے اوپر گرا ہوا تھا۔ یوں ایک طرف سلینڈرز سے لگنے والی شدید چوٹ اور دوسری طرف دو سو بیس والٹ بجلی کے جھٹکے فراز کا بدن بری طرح تھرتھرا رہا تھا۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں کیونکہ بجلی کا یہ غیر قانونی کنکشن ڈائریکٹ پول سے لیا گیا تھا۔کہتے ہیں حادثے ایک دم رونما نہیں ہوتے، ہم سب مل کر اس غفلت کی برسوں سے پرورش کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک معصوم نوجوان، جس نے ابھی ٹھیک سے دنیا بھی نہیں دیکھی تھی، وہ اس غفلت کی بھینٹ چڑھ گیا اور لاچارگی کے عالم میں تڑپ رہا تھا۔ اتنے میں کسی عقل مند نے لکڑی ڈھونڈ کر تار ہٹانے کی کوشش کی۔ زبردستی کے کام کا انجام اچھا نہیں ہوتا، اس کھینچ تان میں تار اپنے جوائنٹ سے ٹوٹ کر دو حصوں میں منقسم ہو گیا۔ ایک اصول ہے کہ اگر حرارت، آکسیجن اور ایندھن ایک جگہ اکٹھا ہو جائیں تو یہ مثلث دھماکے کا باعث بنتی ہے۔ جو سلنڈر نیچے گرے تھے ان میں سے ایک ریگولیٹر لیک تھا، جس سے مزید پریشر کے ساتھ گیس لیک ہونے لگی۔ کھینچ تان میں بجلی کا تار ٹوٹ کر آپس میں ملا، تو شارٹ سرکٹ سے پیدا ہونے والی چنگاری اور گیس کے اشتعال سے ایک خوفناک دھماکہ ہوا اور ہوا میں اڑنے والے دھاتی سلینڈرز کے ٹکڑوں کے ساتھ ایک ماں کے خواب اور باپ کے ارمان بھی چکنا چور ہو گئے۔دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور ایک ماں کا دل دہل گیا۔ مین روڈ پر آگ اور دھوئیں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ حادثے کی جگہ زخمیوں کی چیخ و پکار اور دل دہلا دینے والی بے چینی کی صورت حال تھی۔ ہما کا دل وسوسوں کی آماجگاہ بن کر دھڑکنے لگا، تو وہ گھبرا کر گھر سے نکل آئی۔ اتنی دیر میں سڑک پر رفاہی اداروں کی ایمبولینس جمع ہو گئی تھیں اور مختلف شہری اداروں کے ذمہ دار، پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔ ایسا پہلے بھی کئی بار ہو چکا تھا کہ ایک دھماکے کے بعد دوسرا دھماکہ مزید لوگوں کی جان لے جاتا تھا، لہٰذا حادثے کی جگہ کو کارڈن آف کر دیا گیا۔ لاؤڈ اسپیکر پر لوگوں کو جائے حادثہ سے دور ہٹ جانے کا حکم دیا جا رہا تھا۔ ہما بھی گھر لوٹ آئی۔کچھ دیر بعد ٹی وی چینل پر مختلف بریکنگ نیوز چل رہی تھیں۔ ابھی تک حادثے کی وجوہات کا تعین نہیں ہو پایا تھا، مگر سوشل میڈیا پر افواہوں کا سیلاب امڈ آیا تھا۔ کچھ ٹی وی چینل ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں سب سے پہلے یہ اہم خبر بریک کرنے کا دعویٰ کر رہے تھے، تو کہیں دہشت گردی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ کسی دہشت گرد کی لاش ہے۔ دھماکے کے شدید زخمیوں کے ساتھ ایک نوجوان کی بے شناخت لاش کی باقیات رفاہی ادارے کی ایمبولینس میں پوسٹ مارٹم کے لیے لے جائی گئیں۔
☆☆☆

ان کی دنیا اندھیروں میں ڈوب چکی تھی۔ کئی مہینے اس الزام سے بری ہونے میں لگ گئے کہ فراز کوئی دہشت گرد نہیں، بلکہ ایک خاص ضرورت رکھنے والا بچہ تھا، جو ماں باپ کی پندرہ سالہ جدوجہد کے نتیجے میں ملک کا کارآمد شہری بننے والا تھا، مگر اس سے پہلے ہی اس اندوہناک سانحے نے اس کی جان لے لی۔ وہ ماں باپ اپنے بے گناہ بچے پر لگے اس الزام کی چھاپ مٹانے کی تگ و دو میں مسلسل دھکے کھا رہے تھے۔ اس ملک کے بوسیدہ قانون میں اکثر بے گناہوں کو انصاف ملنے میں اتنی تاخیر ہو جاتی ہے کہ مظلومین کے گلے میں پڑا الزامات کا پھندا تنگ ہو کر ان کی جان تک لے چکا ہوتا ہے، اور کئی مقدمات میں بریت کا فیصلہ سائلین کی قبروں پر سنایا جاتا ہے۔ ایسے قانون کو اگر “فٹ پاتھ کا قانون” کہا جائے تو بلا شبہ غلط نہ ہوگا۔ ہما کے دل و دماغ پر اس سانحے کا ایسا شدید اثر ہوا کہ وہ ٹوٹ پھوٹ کر رہ گئی۔ اس حادثے کا المناک پہلو یہ بھی تھا کہ برسوں بعد آنے والی خوشخبری اس وقت دکھ میں بدل گئی، جب قبل از وقت پیدائش میں امتیاز کا بچہ بچ نہیں پایا۔ گذشتہ کئی مہینوں کی رُلانے والی طویل جدوجہد کے بعد بالآخر وہ دن آگیا، جب عدالت نے اس مشہور کیس میں دہشت گردی کی دفعات ختم کر کے فراز کو بے گناہ قرار دے دیا۔ “آپ کا بیٹا بے گناہ ثابت ہو گیا، اب آپ کیا چاہتے ہیں؟” ایک رپورٹر نے سوال کیا۔ “ہمارا بیٹا تو بے گناہ ثابت ہو گیا، مگر کیا اسے انصاف مل گیا؟ کیا وہ واپس اس دنیا میں آ سکتا ہے؟” دونوں میاں بیوی کی زبان پر دکھ بھرے سوال تھے، مگر کسی کے پاس ان سوالات کا جواب نہیں تھا۔مگر ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے ایک نئے عزم کے ساتھ سڑک پر حادثے کا باعث بننے والی تمام ناجائز تجاوزات کے ذمہ داران کے خلاف کیس دائر کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ ان کے بقول، فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لیے ہوتا ہے اور سڑک صرف سواریوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔ وہ تمام لوگ، جنہوں نے سڑک اور فٹ پاتھ پر کاروبار کی آڑ میں قبضہ جمایا تھا، فراز کی موت کے ذمہ دار تھے۔
☆☆☆

دہشت گردی کی عدالت سے نکل کر امتیاز اور ہما کی مدعیت میں فراز کا کیس عام عدالت میں پیش ہوئے مہینے گزر گئے ۔ حج تاریخ پر تاریخ دیئے چلا جارہا تھا۔ نجانے یہ کیسی ستم ظریفی تھی کہ پہلے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے وہ طویل عرصے تک انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہے اور اب حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف عدالتوں کے چکر لگاتے ان کے جوتے گھس چکے تھے۔ دہشت گردی کی عدالت سے نکل کر امتیاز اور ہما کی مدعیت میں فراز کا کیس عام عدالت میں پیش ہوا۔ مہینے گزر کیا ہم بار مان لیں؟ وہ روزانہ خود سے ایک سوال کرتے، مگر اگلے دن پھر سے ایک نئی امنگ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے۔ ایسے میں ایک دن ایک تحقیقاتی چینل نے شہر کی سڑکوں پر آئے دن حادثات میں شہریوں کی ہلاکت اور معذور افراد کے اعدادوشمار میں ہوشربا اضافہ پر ایک ڈاکیومنٹری تیار کی، جس میں فراز کی اندوہناک موت کی مفصل رپورٹ بھی شامل تھی۔شہر میں ناجائز تجاوزات نے بے شمار بے گناہ شہریوں کی جانیں لے لی تھیں۔ یہ اژدہا کئی جانیں نگل چکا تھا۔ رپورٹ کے آخر میں ہما اور امتیاز روتے ہوئے اپنے معصوم بیٹے کی تصویر ہاتھ میں لیے اربابِ اقتدار سے اپیل کر رہے تھے کہ شہر کے فٹ پاتھ اور سڑکوں کو تجاوزات مافیا کے تسلط سے آزاد کروایا جائے تاکہ پھر کسی کے جگر کے ٹکڑے کو حادثے کا شکار نہ بننا پڑے۔ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ تھا، ان کا درد بھرا انٹرویو دیکھتے ہی وائرل ہو گیا اور دونوں میاں بیوی کو انصاف دلوانے کے لیے ہر طرف سے آوازیں سنائی دینے لگیں۔ روزانہ نت نئے یوٹیوبرز موبائل کیمرہ لے کر ان کے پاس انٹرویو کے لیے آدھمکتے۔ ہماری عوام کا آپس میں اتفاق رائے یکساں نہیں رہتا۔ اس مدعے پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ ایک جماعت کا کہنا تھا کہ سڑکوں سے لوگوں کا روزگار چھین لیا گیا تو بیروزگاری، چوری اور لوٹ مار میں اضافہ ہوگا۔ دوسری جماعت کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی حق حاصل نہیں کہ وہ سڑکیں گھیر کر کاروبار کرے، جس سے ٹریفک کی روانی میں خلل یا حادثات میں قیمتی جانوں کے نقصان کا خطرہ ہو۔ سرکار کو چاہیے کہ ان افراد کو متبادل جگہ فراہم کرے۔یہ کیس عدالت میں ایک بار پھر چلا مگر لمبے عرصے گزرنے کے باوجود انجام تک نہ پہنچا۔ جب یہ اونٹ کسی کروٹ نہ بیٹھ سکا تو تنگ آکر امتیاز نے احتساب عدالت میں اپنا کیس دائر کر دیا۔ کہتے ہیں خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ایک در بند ہوتا ہے تو اللہ دوسرا کھول دیتا ہے۔ بے شک انصاف کے راستے میں روڑے اٹکانے والے جگہ جگہ کھڑے ہوں، مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ بالکل اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ فراز کیس میں احتساب عدالت نے فریقین کو طلب کر لیا تو دونوں میاں بیوی کو یوں لگا کہ شاید احتساب عدالت ہی وہ دروازہ کھولے، جہاں سے گزر کر انہیں انصاف ملے گا۔ “تم دیکھنا، ایک دن انصاف کا بول بالا ہوگا۔ ہمارے بچے کو انصاف ضرور ملے گا۔” امتیاز عزم سے اپنی بات دہراتا۔ ان شاء اللہ ممتا کی ماری، دکھیاری ماں دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیتی۔جرح شروع ہوئی تو امتیاز نے اپنا پرانا موقف دہرا دیا۔ اس کے وکیل نے حج کے سامنے روڈ سیفٹی ایکٹ کے آرڈیننس کی نقول پیش کیں۔ اس قانون کے مطابق سڑکوں پر غیر قانونی تجاوزات قائم کرنا اور فٹ پاتھ گھیر کر کاروبار کرنا قابلِ تعزیر جرم تھا۔ عدالت نے اس مقدمے کے مرکزی ملزمان میں ایل پی جی گیس فروش کو بھی نامزد کیا تھا جو بعد ازاں اس حادثے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ دوسرا مرکزی ملزم ٹائر پنکچر والا تھا، جس نے ایئر کمپریسر مشین کے لیے براہِ راست کنڈے سے بجلی کا غیر قانونی کنکشن لیا تھا۔ وہ شخص آج عدالت میں پیشی کے وقت غیر حاضر تھا اور وکیل صفائی نے اس کی غیر حاضری کی وجہ شدید علالت بتائی۔ حادثے کے عینی شاہدین میں ایک اہم گواہ امتیاز کے محلے کا چوکیدار تھا، جو اس حادثے میں معذور ہونے کے بعد ابتدائی طور پر ویڈیو بیان ریکارڈ کروا کر اپنے آبائی علاقے واپس جا چکا تھا۔امتیاز کے وکیل نے عدالت میں حاضر ملزمان سے جرح کی، تو معزز جج نے ان تمام افراد سے باری باری سوالات کیے: تم نے سڑک پر ورکشاپ کس کی اجازت سے قائم کی؟ محنت مزدوری کرتا ہوں مائی باپ، اور کوئی جرم نہیں کیا، مکینک گڑگڑایا۔ ہر ایک پتھاریدار سے ایک ہی سوال دہرایا گیا، جس کا مشترکہ جواب تھا کہ ہم بچوں کے لیے روزی کماتے ہیں، صادق اور عریب آدمی ہیں۔ سب نے غربت کی آڑ میں ہاتھ جوڑ کر ایک ہی جواب دہرایا۔ عدالت میں حاضر گواہان اور ملزمان کی جرح مکمل ہوئی تو جج نے غفلت کے مرتکب شہری اداروں کے ذمہ داران، افران کے ساتھ ٹائر پنکچر والے اور فٹ پاتھ پر بائیک چڑھانے والے موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا اور اگلی تاریخ پر عدالت برخاست کر دی۔
☆☆☆

حج کے جاری کردہ حکم نامے کا سمن متعلقہ اداروں تک پہنچا، تو ان کے کان کھڑے ہوئے۔ واضح طور پر اگلی دفعہ معزز عدالت ان افسران اور عملے کی گوشمالی ضرور کرتی ، لہذا ا علاقے کے ایس ایچ او اور شہری اداروں کے افسران نے مل بیٹھ کر اپنی جان چھڑانے کے لئے فوری کاروائی کا فیصلہ کر لیا۔ ٹائر دوسرے ہی دن سرکاری اہلکار مشینری لائے اور سڑک سمیت فٹ پاتھ پر جہاں کہیں جو سامان ہاتھ لگا، ضبط کر کے ٹرکوں میں لاد کر لے گئے۔ بجلی کے محکمے والوں نے تمام غیرقانونی کنکشن کاٹ دیئے۔ بظاہر اس کاروائی کا الٹا نتیجہ نکلا اور سڑک پر کاروبار کرنے والے تمام افراد نے شہری اداروں کے آپریشن کے خلاف تین روزہ بھوک ہڑتال کے نتیجے میں سڑک بلاک کر دی۔ کچھ مہینوں بعد الیکشن آنے والے تھے۔ موقع سے فائدہ اٹھا کر مختلف رنگ برنگی پارٹیاں بھی اس احتجاج میں کود پڑیں۔ہمیں ووٹ دیا ہوتا تو ، کبھی ایسی صور تحال پیش نہ آتی ایک سیاسی جماعت کار ہنما لاؤڈ اسپیکر پر چلا رہا تھا۔ایک اور جماعت کے کارکن اپنی جماعت کے جھنڈے لئے احتجاج میں شامل، گلے پھاڑ کر ہڑتالی مظاہرین کے حق میں شدید نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس مسئلے کو سبب بنا کر سب کو اپنے ووٹ بینک کی فکر پڑ گئی تھی۔ ایسے میں تجاوازت مافیا نے تاجر اتحاد بنا کر دونوں میاں بیوی پر کیس واپس لینے کے لئے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا۔ امتیاز اور ہما کو فون پر دھمکیاں ملنا شروع ہو گئی تھیں۔
☆☆☆

پچھلی سماعت میں حج نے جن موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو حاضر کرنے کا حکم نامہ جاری کیا بھتا، وہ کھاتے پیتے ، با اثر خاندانوں کے آزاد خیال نوجوان تھے۔ اس شہر میں یہ رواج عام تھا کہ جب کبھی ٹریفک جام ہوتا، تو موٹر سائیکل سوار فٹ ہاتھ پر بائکس چڑھا کر راہگیروں کے بیچ دندناتے ہوئے نکل جا جاتے۔ بظاہر یہ ایک عام کی بات تھی، لیکن ان نوجوانوں کو اس کیس میں بطور ملزمان نامزد کیا گیا تو انصاف کو اپنے پیر کی جوتی سمجھنے والوں نے تجاوزات مافیا سے مل جل کر امتیاز اور ہما کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا اور انہیں نوکری پر آتے جاتے، بازار سے گزرتے وقت ہراساں کیا جانے لگا۔ آدھی رات کو پتھراؤ کر کے گھر کے شیشے توڑ دیئے گئے۔ انہیں پہلے بھی دھمکیاں مل رہی تھیں، مگر اس بار کھلم کھلا دشمنی نکالی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ کچھ دن بعد امتیاز کے گھر پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی درج کر لی، مگر حالات اس حد تک خراب ہوئے کہ دونوں میاں بیوی اگلی پیشی تک خاموشی سے یہ علاقہ چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہو گئے تھے
☆☆☆

امتیاز اور ہما اپنے کسی خیرخواہ کے گھر روپوش تھے۔ دونوں کی ہمت جواب دیتی جارہی تھی، کیونکہ وہ دن بدن دھکے کھا رہے تھے۔ انہیں کیس واپس لینے کے لیے ہرجانہ کی پیشکش سمیت ڈرایا دھمکایا جا رہا تھا۔ امتیاز اپنی شریک حیات کی روز بروز گرتی ہوئی صحت دیکھ کر فکر مند تھا۔ فائرنگ والے واقعے کے بعد اس نے بیوی سے مشورہ کرنا مناسب سمجھا اور پوچھا کہ کیا ہمیں کیس واپس لے لینا چاہئے۔ ہما، جو نقاہت کے باعث بستر پر لیٹی آرام کر رہی تھی، امتیاز کی بات پر بے اختیار تڑپ کر اٹھ بیٹھی اور کہا کہ ہرگز نہیں، کسی صورت بھی نہیں۔ کسی ماں کے جگر کے ٹکڑے کو غفلت کی بھینٹ چڑھانے والے ذمہ داروں کو ہرگز معافی نہیں ملنی چاہئے۔ میں انہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔ حالات انہیں امید اور ناامیدی کے بیچ منجدھار میں بہا رہے تھے۔ ہما اپنے لخت جگر کی دردناک موت کو یاد کرکے سک گئی تھی۔ اب پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ اس کی بات درست تھی، مگر امتیاز سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا کیا جائے۔ شروع میں جو لوگ زور و شور سے ساتھ دینے کا وعدہ کر رہے تھے، اب اسی صورتحال میں صلح و صفائی کے دانشمندانہ مشورے دے رہے تھے۔ امتیاز باتوں باتوں میں شکوہ کرتا کہ بس اب تو اللہ ہی ہمارا مددگار ہے، جس نے ہمیں صبر و حوصلہ دیا، ورنہ اس سفر میں ہمارے ہمدرد کم اور دشمن زیادہ بنتے جا رہے ہیں۔ ہما بے بسی سے جواب دیتی۔ حالات ان کے خلاف جا رہے تھے۔ سچ کہا جائے تو معاشرے کا ایک بڑا طبقہ بدبودار منافقت کا چلتا پھرتا اشتہار بن چکا تھا۔ کوئی سچ کہتا تو لوگ تماش بین بن کر ہر مسئلے کا تماشا لگا دیتے۔ انصاف کے نعرے لگانا آسان تھا، مگر تقاضے پورے کرنا بہت مشکل۔ اس معاشرے میں انصاف بھی ایسے اونٹ کی مانند تھا جو اپنی مرضی سے جس طرف چاہے کروٹ لے سکتا تھا۔ ایسے میں ہما اور امتیاز کی جدوجہد جہاد سے کم نہ تھی۔ کئی بار تھک ہار کر پیچھے ہٹنے کا خیال آیا مگر اپنے لخت جگر کی اذیت ناک موت نے انہیں سچ کے راستے پر موڑ دیا۔ انہیں اب اپنی جان کی پرواہ بھی نہ رہی تھی۔ اسی دوران اگلی پیشی کی تاریخ آ گئی۔
☆☆☆

احتساب عدالت کے جج نے کارروائی کے آغاز میں سب سے پہلے شہری ادارے کے متعلقہ افسران کو طلب کیا۔ وکیل صفائی نے جرح شروع کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا سڑکوں پر ناجائز تجاوزات کا خاتمہ آپ کی ذمہ داری نہیں؟ علاقہ انچارج نے جواب دیا کہ میں نے کئی بار اعلیٰ حکام کو باور کرایا، کارروائی بھی کی، مگر ہر بار سفارش، سیاسی جماعتوں کے دباؤ اور تعلقات راستے کی دیوار بن جاتے ہیں۔ امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر تجاوزات کے خلاف آپریشن کئی بار منسوخ کرنا پڑا۔ اس بار پولیس کو بھی طلب کیا گیا تھا، جس پر سوال اٹھایا گیا کہ کیا امن و امان کی ذمہ داری آپ کی نہیں؟ یا آپ اس کام کے اہل نہیں، کیوں نہ آپ کی وردی اتار کر گھر بھیج دیا جائے؟ ایس ایچ او نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آزادی سے کام کرنے کی اجازت نہیں، ہمارے پاس تو بظاہر اختیارات ہیں، مگر سارے آرڈرز اوپر سے آتے ہیں۔ ہم علاقے سے ایک پان، سگریٹ کا کھوکا تک نہیں اٹھا سکتے، کیونکہ ہر کام میں کسی نہ کسی بااثر شخصیت کا حوالہ آجاتا ہے، ایم پی اے، ایم این اے تک کی کالیں آتی ہیں۔ بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کرنے سے پہلے عدالت سے اسٹے آرڈرز آ جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہم کیا کریں؟ ہم بھی غریب اہلکار ہیں، بچوں کا پیٹ بھی پالنا ہے۔ بعد ازاں بجلی کے محکمے کے متعلق پوچھنے پر افسر نے صاف انکار کر دیا کیونکہ ہر ہفتے جن خوانچہ فروش، پتھاریدار، پان سگریٹ کی دکانوں وغیرہ سے نذرانہ وصول کیا جاتا ہے، جو لائن مین اور نچلے اہلکاروں کی جیب میں جاتا ہے، جس کا نہ کوئی ریکارڈ ہوتا ہے اور نہ کوئی ثبوت۔ ویسے بھی کچھ دن پہلے علاقے کی تمام سڑکوں سے ناجائز کنکشن ختم کروا دیئے گئے تھے۔ حج نے افسر کو سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ سڑکوں پر ناجائز کنکشن کے خلاف انکوائری کریں، ذمہ داروں کے خلاف اگلی پیشی تک کارروائی کرکے رپورٹ جمع کروائیں، ورنہ سزا بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔ اس پیشی پر نامزد موٹر سائیکل سوار نوجوان حاضر نہیں ہوئے تھے، پولیس کی اطلاع کے مطابق وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک سے باہر جا چکے تھے، جبکہ کمپریسر کے مالک اور ٹائر پنکچر والے اپنے آبائی علاقے سے فرار ہو گئے تھے۔ عدالت نے ماتحت انچارج کو معطل کرنے کا حکم دیا، جس نے اگلی پیشی پر ملزمان کو حاضر کرنے کا وعدہ کر کے اپنی جان چھڑائی۔ علاوہ ازیں فائرنگ کے معاملے میں ملوث افراد کے گرفتار ہونے تک ہما اور امتیاز کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی۔ جرح اور گواہوں کے بیانات سننے کے بعد احتساب عدالت نے اگلی پیشی پر فیصلہ سنانے کا اعلان کر کے عدالت برخاست کردی۔ اس طویل جد و جہد کا نتیجہ آنے والا تھا۔ ہما اور امتیاز نے ہر قسم کے سیاسی اور سماجی دباؤ کے باوجود انصاف کے حصول کے لیے آخر وقت تک بار نہیں مانی۔ مستقل مزاجی سے بس ایک ہی بات پر ڈٹے رہے کہ سڑکوں اور فٹ پاتھ کے لیے بنائے گئے قانون پر سختی سے عمل کیا جائے تاکہ کئی قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔ مصالحت کی کوششوں میں امتیاز اور ہما کا ہر فورم میں یہی جواب تھا۔ اگلی پیشی پر پولیس نے حسب وعدہ نامزد موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو احتساب عدالت میں حاضر کر دیا، جبکہ ٹائر پنکچر والے کو مفرور قرار دے کر اس کی گرفتاری کے لیے دوسرے صوبے کی پولیس سے رابطہ کر لیا گیا تھا۔ وکیل صفائی نے نوجوانوں کے ڈرائیونگ لائسنس عدالت میں پیش کیے، جن کی عمر اٹھارہ سے بیس سال کے درمیان تھی۔ معزز جج نے نوجوانوں سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرتے وقت ٹریفک کے قانون کا احترام نہیں سکھایا گیا؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں؟ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں، کیا آپ سے یہی توقع رکھی جائے کہ ذرا سی جلد بازی اور غفلت سے اپنی اور دوسروں کی جان کو خطرے میں ڈال دیں؟ نوجوان شاید شرمندہ تھے یا اداکاری کر رہے تھے کیونکہ انہوں نے جواب دینے کے بجائے سر جھکانا مناسب سمجھا۔ ان کے وکیل نے پہلے ہی انہیں سب سکھا دیا تھا۔ نوجوان ابھی کم عمر تھے اور کئی مہینوں سے ان کے بااثر والدین پولیس کو اچھا خاصا رشوت دے چکے تھے۔ اس دفعہ اہلکاروں کی وردی اتارنے کی نوبت آ گئی تھی، اس لیے کوئی رشوت کام نہیں آئی اور انہیں حاضری دینی پڑی۔ کسی نے کہا ہے کہ پولیس کی دوستی اچھی نہ دشمنی۔ پچھلی دفعہ حج کے حکم کے مطابق بجلی کے محکمے نے بدعنوان اہلکاروں کے خلاف انکوائری کی، تو بجلی کے پول سے کنڈے ڈال کر پتھاریداروں کو براہ راست کنکشن فراہم کرنے والوں کا جرم ثابت ہونے پر محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے جرمانے اور قانونی چارہ جوئی کی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی۔ ہما اور امتیاز کے گھر پر ہوائی فائرنگ کرنے والے کچھ مشتبہ افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ عدالت نے غیر قانونی اسلحہ استعمال کرنے کی دفعات لگا کر ملزمان کے خلاف کیس بنا کر جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے۔ کیس کی سماعت مکمل ہوئی تو وقفے کے بعد عدالت نے فیصلہ سنانے کا اعلان کیا۔ اس دوران حج نے ہما اور امتیاز سے علیحدگی میں ملاقات کی اور دونوں کی مشاورت سے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ بالاخر وہ گھڑی آئی جب معزز عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے پولیس اور متعلقہ اداروں کو سات دن کے اندر علاقے میں تمام غیر قانونی تجاوزات کا فوری خاتمہ کرنے کا حکم دے دیا۔ سڑک پر پتھاروں، کیبن، ورکشاپ اور خوانچہ فروشوں کو بے دخل کر کے مستقبل میں ان کی سرپرستی کرنے والوں کو سخت جرمانے اور قید کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ مقدمے کا ایک مرکزی ملزم اللہ کی عدالت سے سزا پا چکا تھا۔ دوسرے مرکزی ملزم کمپریسر کے مالک کو غیر حاضری میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی اور اسے گرفتار کر کے مقامی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔
☆☆☆

موٹر سائیکل سوار نوجوان ابھی کم عمر تھے۔ تاجر اتحاد سے مل کر ہوائی فائرنگ کرکے دھمکانے کے شبہے میں، حج نے ہما اور امتیاز کی رضامندی سے علاقے کے تھانیدار کو دو سال تک ہر چھ ماہ بعد ان نوجوانوں کے اچھے حال چلن کا سرٹیفکیٹ جمع کروانے کا حکم دیا اور اگلی بار کسی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزا کی سرزنش کر کے چھوڑ دیا گیا۔ سات دن بعد عدالت کے حکم کے مطابق کارروائی مکمل ہوئی تو علاقے کے روڈ اور فٹ پاتھ تجاوزات سے پاک ہو چکے تھے۔ ہما اور امتیاز بھی یہی چاہتے تھے، لیکن اب ان کا اس علاقے میں دل نہیں لگتا تھا۔ وہ یہاں رہ کر کیا کرتے؟ ہر پل اپنے مظلوم بیٹے کی تصویر نگاہوں میں گھومنے لگتی تھی۔ انہوں نے گھر کا سودا کیا اور وہاں سے کہیں دور چلے آئے۔ دونوں نے وہ شہر ہی چھوڑ دیا تھا۔ دس سال بعد امتیاز اور ہما پھر اسی سڑک کنارے فٹ پاتھ پر اپنے چھ سالہ بیٹے عماد کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے کھڑے تھے۔ اللہ نے انہیں پھر اولاد کی نعمت سے نواز دیا تھا۔ آج فراز کی دسویں برسی تھی۔ سالوں میں انہوں نے بہت صبر کیا، مگر بیٹے کی یاد نے انہیں بہت بےتاب کیا تو بالآخر آج ایک بار پھر وہ گود اجڑ دینے والی اس خونی سڑک کو دیکھنے چلے آئے تھے۔ فٹ پاتھ پر کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔ گزرے دس برسوں میں آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا، تو آس پاس کے علاقوں کا نقشہ ہی بدل گیا۔ سڑک کنارے باقاعدہ کئی دکانیں بن چکی تھیں۔ پہلے سے کہیں زیادہ خوانچہ فروشوں اور پتھاریداروں کا اژدھام تھا۔ وہ اپنی آنکھوں سے یہاں قانونی فیصلہ کے مطابق تجاوزات کا مکمل خاتمہ دیکھ کر گئے تھے، مگر شاید کچھ عرصے بعد ہی عدالت کا حکم ہوا میں اڑا دیا گیا تھا۔ وہ حیرانی اور افسوس کے ساتھ وہاں کھڑے قانون کا مذاق اڑتا ہوا دیکھ رہے تھے کہ ایک ننگ دھڑنگ پاگل شخص قہقہے لگاتا ہوا وہاں سے گزرا۔ وہ بدحال، الف برہنہ تھا۔ پاگل کو دیکھ کر عماد گھبرا کر باپ سے چمٹ گیا۔ ہما اور امتیاز نے بھی بے اختیار منہ پھیر لیا۔ مقامی لوگوں نے کئی بار اس دیوانے کو کپڑے پہنانے کی کوشش کی تھی، مگر وہ ہر بار اپنا لباس پھاڑ کر کپڑوں کی دھجیاں ہوا میں اڑا دیتا، پھر لوگوں نے بھی پروا کرنا چھوڑ دی۔ وہ سب اس کی بےلباسی کے عادی ہو چکے تھے یا شاید بے حس تھے۔ جب کسی بے حس معاشرے میں انصاف کی دھجیاں بکھیر کر اسے بے لباس کر دیا جائے، تو اس برہنگی سے شریفوں کو منہ چھپانا پڑتا ہے۔ وہ دونوں میاں بیوی بھی شرم سے منہ چھپائے وہاں سے لوٹ آئے۔
ایک بہترین سٹوری جو ہمارے أپ کے ساتھ روز ہی وقوع پزیر ہو رہی ہے
ہر سڑک ہر فٹھ پت کا یہ ہی نظارہ ہے
یہ سٹوری نہیں ہمارے لیے ہمارہ عکس ہے
شاندار جناب
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top