خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller بھگوڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ریاض عاقب کوہلر


قسط نمبر30
ریاض عاقب کوہلر
”بھیا!.... آپ لوگ کچھ دن رک نہیں سکتا۔“ سعدیہ کی اردو سننے لائق تھی۔
امجد مزاحیہ لہجے میں بولا۔”نہیں بہن ہم نہیں رک سکتا۔ خوچہ امارا ادھر بوہت کام ہے۔“
”کچ دن تو رک سکتا ہے نا۔ پِر چلاجانا۔“ سعدیہ ملتجی لہجے میں بولی۔
”نئیں کچ دن بی نئیں رک سکتا۔“ امجد اسی کے انداز میں بولا۔
”دیکھو سعدیہ !بات یہ ہے کہ اگر ہم چند رک جائیں تو کیا ہوگا۔ کل نہیں تو پرسوں ہمیں لازماً جانا پڑے گا۔ تو ان چند دنوں کا کیا فائدہ۔ بچھڑنا جب مقدر میں ہو تو پھر کل کیا اور پرسوں کیا۔“
میری بات سن کر اس نے خاموشی سے سرجھکا لیا۔ مجھے پتا چل گیا کہ خاموش رہ کر وہ اپنی خفگی کا اظہار کر رہی تھی۔ میں اسے خوش کرنے کی خاطر عبدالمجید سے بولا۔
”مجید خان یوں کرو سعدیہ کو ابھی ابھی اپنے ماں باپ سے ملوانے لے جاﺅ اور کوشش کرنا کہ واپسی پر انھیں اپنے ساتھ ہی لے آﺅ۔“
”کک کیا مطلب ہے“ وہ جیسے گہری حیرانی سے بولی۔ ”مم میں کیسے امی ابو سے مل سکتی ہوں دشمنوں کے کانوں میں ذرا سی بھی بھنک پڑ گئی تو میرے ساتھ مجید بھی جان سے جائے گا۔“
”ہم نے جاناں خان سے صلح کرلی ہے۔ وہی ہیبت خان اور باسمت خان کا وارث ہے۔ تم بے فکر ہو کر جاﺅ۔ اب وہ تمھیں کچھ نہیں کہے گا۔“
”سچ بھیا؟“ وہ بے ساختہ مجھ سے لپٹ گئی۔
”بالکل سچ.... اور تمھارا گھر تو یہاں سے نزدیک ہی ہے نا؟“
”ہاں.... پیدل گھنٹا ، پون گھنٹا لگ جائے گا۔“
”چلو پھر تم دونوں نکلو....اور شام تک واپس پہنچنے کی کوشش کرنا کیوں کہ ہم آج یہاں سے شام کا کھانا کھا کر نکل چلیں گے۔“
”جی اچھا۔“ کہہ کر وہ شاکی نظروں سے میری جانب دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
اس کے اور مجید خان کے گھر سے نکلتے ہی میں امجد سے بولا۔ ”چل بھئی ماجے چودھری کا انٹرویوکر لیں۔“
”اسی مقصد کے لیے تُم نے انھیں کہیں بھیجا ہے۔“ امجد مسکرا کر بولا۔
”ہاں....“ میں اثبات میں سرہلاتے ہوئے بولا۔ ”مگر کہیں اور نہیں ان کے اپنے گھر۔“
”اچھا کیا یار!.... کچھ اس کی دل بستگی کا سامان بھی ہو جائے گا۔“ امجد بولا اور اٹھ کر بیرونی دروازے کی کنڈی اندر سے لگا دی۔
ہم دونوں چودھری کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے، اسے ہوش آچکا تھا۔
”اسے کھولو امجد!“ میرے لہجے میں بلا کی سنجیدگی تھی۔
امجد نے آگے بڑھ کر اسے کھول دیا۔ وہ دونوں کلائیوں کو مسلتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔
”سناﺅ چودھری!.... کیا حال ہے۔“ میں موڑھا لے کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ مگر وہ خاموش رہا۔ میں نے موڑھے پر بیٹھے بیٹھے اپنی داہنی ٹانگ اس کے ماتھے پر رسید کی اس کا سر ایک دھماکے سے زمین سے ٹکرایا کمرے کا فرش کچا ہونے کی وجہ سے اسے زیادہ چوٹ نہ آئی اور وہ کراہتا ہوا اٹھ بیٹھا۔
”میں نے کچھ پوچھا ہے چودھری۔“
”عمرجان تم اچھا نہیں کررہے۔“ یہ الفاظ اس کے منہ میں تھے کہ میں اس پر چیل کی طرح جھپٹا اور لاتوں گھونسوں سے اس کی تواضع کرنے لگا۔
”میں اچھا نہیں کر رہا ہوں سو¿ر کی اولاد.... گندے ،غلیظ....“ میرے منہ سے مغلظات کا لاوا ابل پڑا۔ چودھری زمین پر لڑھکنیاں لگا کر میری ٹھوکروں سے بچنے کی کوشش کرتا رہا جوابی کارروائی کی کوشش اس نے نہیں کی تھی۔ سر پر لگنے والی ایک ضرب سے وہ دینا و مافیہا سے بے خبر ہو گیا اس کی آنکھیں بند ہوتے ہی امجد نے مجھے بازو سے پکڑ کر پیچھے گھسیٹ لیا۔
”بس کر جانو وہ بے ہوش ہو چکا ہے۔“
میں چڑھی ہوئی سانسوں سے پیچھے ہٹ آیا۔ ”اسے دوبارہ باندھ دو ماجے کیوں کہ یہ جتنی دیر میرے سامنے رہے گا میراخود پر قابو نہیں رہے گا۔“ میں کمرے سے نکل آیا۔
امجد بھی چند منٹ بعد میرے پاس پہنچ گیا۔
”جانوتُم نے اس کے لیے حتمی طور پر کیا سوچا ہے؟“
اورمیں اسے اپنے پروگرام کے بارے بتانے لگا۔ میری بات ختم ہوتے ہی اس کی آنکھوں میں چمک سی لہرائی ....
”میں تم سے سو فیصد متفق ہوں۔“
اس کے بعد میں نے اسے راستے کے بارے جانان خان سے حاصل ہونے والی معلومات سے آگاہ کیا اور ہم راستے کے بارے لائحہ عمل طے کر نے لگے۔ ہم کافی دیر وہیں بیٹھے رہے یہاں تک کہ سورج کی روشنی پیلی ہوئی اور پھر آہستہ آہستہ سورج غائب ہو گیا۔ اندھیرا چھانے سے پہلے مجید خان اور سعد یہ واپس پہنچ گئے۔ سعدیہ کے چہرے پر ہویداتاثرات اس کی بے پایاں خوشی کو ظاہر کررہے تھے۔
”والدین کو ساتھ کیوں نہیں لائے ہو؟“
”وہ کل آئیں گے....کیوں کہ انھوںسامان وغیرہ سمیٹنا تھا۔“
”تم بھی آج کی رات ان کے پاس ٹھہرجاتیں۔“
’آج آپ نے یہاں سے جانا ہے نا....وہ تو ان شاءاﷲ اب ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔“
”اچھا اب تم کھانا پکا لو تاکہ ہم کھائیں اور نکلیں۔“
اور وہ ”جی اچھا“ کہتے ہوئے کچن کی جگہ کی طرف بڑھ گئی۔
اس کے جاتے ہی مجید خان آہستہ سے بولا۔ ”عمر جان بھائی سعدیہ کے والدین کو ہم نے یہ بتایا ہے کہ ہم شادی کر چکے ہیں۔“
”کوئی بات نہیں۔“ میں اسے تسلی دی۔ ”تم بس دن گنتے رہو جیسے ہی 4مہینے اور 10دن پورے ہوں چپکے سے دو گواہوں کی موجودی میں اس سے نکاح پڑھا لینا۔“
امجد نے کہا۔”جانو.... چودھری کی کمائی سے کچھ رقم انھیں بھی دے دو، نئی زندگی شروع کرنے میں مدد ملے گی غریبوں کو۔“
”جاو¿ رقم کا تھیلا لے آو¿، آدھی رقم انھی کو دے دیتے ہیں....ہم نے اتنی ساری رقم کا کیا کرنا ہے؟“
” عمر بھائی اس سے پہلے بھی آپ نے کافی رقم سعدیہ کو دی تھی جو اس نے میرے حوالے کر دی ہے اس کے علاوہ کچھ سونا بھی آپ یہاں چھوڑ گئے تھے۔ اتنا کچھ کافی ہے نا۔“ عبدالمجید احتجاجی لہجے میں بولا۔
”مجید خان یہ رقم ہم نے اپنے دشمن سے وصول کی ہے۔ اس لیے کہ اس نے ہمیں بہت زیادہ نقصان پہنچایا تھا۔ جانی بھی اور مالی بھی۔ بدلہ لینے کا حق ہم رکھتے ہیں تم چونکہ نئی زندگی شروع کر رہے ہو اور ہماری منہ بولی بہن کے شوہر بھی ہو توہمارا حق بنتا ہے کہ حتی الوسع تمھاری مدد کریں اور اس کے بعد اگر کبھی تنگی یا مالی مشکل محسوس کرو تو بے جھجک ہمارے پاس رحمن خیل آجانا۔ عمر جان گنڈہ پور کا نام کسی کے سامنے بھی لو گے وہ تمھیں مجھ تک پہنچا دے گا۔“
”آپ سے ملنے تو ان شا ءاﷲ ہم ضرور آئیں گے۔“اس کے لہجے میں ایک عزم تھا۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا۔”خودا گرنہ بھی آنا چاہو ہماری بہن کو ضرور بھیج دینا۔“
”اس کے بغیر تو اب میں ادھورا ہوں۔“ عبدالمجید نے جھینپے ہوئے کہا۔ اسی وقت امجد بھی رقم کا تھیلا لے آیا میں نے اس میں سے آدھی رقم اور سونے کی تمام اینٹیں عبدالمجید کے حوالے کر دیں۔
”ات ....اتنی زیادہ رقم۔ عم عمر جان بھائی۔“ وہ ہکلا یا۔
”ہاں مجید خان.... بھائی اس سے بھی زیادہ بہنوں کے لیے کرتے ہیں۔“ ”اب جاﺅ اس رقم کو کہیں سنبھال کررکھ لو۔“
امجد نے پوچھا۔”کس وقت نکلیںگے؟“
”بس کھانا کھاتے ہی نکلتے ہیں۔“
l l l
کھانا کھانے کے بعد ہم نے چودھری کو گاڑی کی پچھلی نشستوں کے درمیان فرش پر لٹا کر اوپر سے کمبل ڈال کر اسے چھپا دیا۔ ہمارے کھانا کھانے کے دوران مجید نے چودھری کو بھی کھانا کھلا دیا تھا۔ ایک جذباتی مکالمے کے بعد ہم ان سے الوداع ہو کر نکل آئے سعدیہ بڑی مشکل سے ہم سے جدا ہوئی تھی وہ باری باری ہم دونوںسے لپٹ کر بڑی شدت سے روئی تھی اتنے مختصر ساتھ کے بعد اتنی جذباتیت کی وجہ ہمارے وہ احسان تھے جو ہم نے اس کی ذات پر کئے تھے، اس کے علاوہ اس کا حقیقی بھائی بھی کوئی نہیں تھا جس کی وجہ سے ہماری جدائی اسے بہت شاق گزری تھی۔
”جانو!.... کمینے تُو جہاں سے بھی رخصت ہوتا ہے اپنے پیچھے رونے والے چھوڑ جاتا ہے۔“ امجد اپنی آنکھوں کے نم کونے خشک کرتے ہوئے بولا۔
”میری قسمت ہی ایسی ہے ورنہ میں کب یوں چاہتا ہوں۔“ اس چھوٹے سے مکالمے کے بعد گاڑی میں خاموشی چھائی رہی۔ ہم نے ایک پٹرول پمپ پر رک کر گاڑی کی ٹینکی فل کرائی اور تیل کا ایک کین فل کرا کے گاڑی کے پیچھے رکھ دیا تاکہ راستے میں ایندھن کی پرابلم نہ بنے۔ جنگل خیل بازار سے دو تین دن کا راشن اور پانی وغیرہ بھی میں نے گاڑی میں لوڈ کر لیا تھا۔ چودھری کی تلاش میں گھومتے ہوئے بھی ہم نے افغانستان کی سرحد عبور کر چکے تھے مگر اس وقت ہم بائی روڈ نہیں گئے تھے۔ جنگل خیل سے نکلتے ہی امجد بولا۔
”جانو!.... میں سو رہا ہوں تھک جانا تو مجھے اٹھا دینا۔“ میں نے اثبات میں سرہلا دیا اس نے ایک کمبل تہہ کر کے سر کے نیچے رکھا اور پچھلی نشست پر لیٹ گیا۔ جبکہ میں جانان خان اور عبدالمجید سے حاصل کی گئی معلومات کی روشنی میں اپنے راستے پر گامزن رہا اور پھر اگلے دودن ہم انھی دشوار گزار راستوں پر باری باری ڈرائیونگ کرتے ہوئے محو سفر رہے۔
راستے میں دو تین دفعہ چند گھنٹوں کے لیے رک کر ہم اپنی معمول کی ضروریات بھی پوری کرتے رہے۔ تیسرے دن شام کو ہم خرلاچی کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے اس وقت اس چیک پوسٹ پر اتنی چیکنگ نہیں ہوتی تھی یوں بھی ڈیوٹی پر موجود محافظوں کو بخشش دیتے وقت ہم نے کنجوسی نہیں دکھائی تھی۔ انھوں نے ہمیں کوئی بڑا سمگلر سمجھا تھا۔ خرلاچی سے ہم پاڑہ چنار بائی پاس کرتے ہوئے ٹل اور پھر وہاں سے کوہاٹ پہنچے۔ کوہاٹ میں رات گزار کر اگلی صبح ہم نے پشاور کا رخ کیا۔ راستے میں ایک دو جگہ پولیس نے ہمیں روکا مگر کرنسی نوٹوں کی سوندھی خوشبو نے انھیں بولنے کے قابل نہ چھوڑا۔ چودھری کی اپنی دولت اس کے خلاف استعمال ہو رہی تھی۔ حرام کی دولت کا اتنا عبرت ناک انجام اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی میری نظر سے نہیں گزرا۔
پشاور شہر میں داخل ہونے کے بجائے ہم نے اس کے مضافات میں گھوم پھر کر نسبتاً ایک ویران سی عمارت تلاش کر لی جو عام آبادی سے ہٹ کر بنی ہوئی تھی۔ عمارت کے بیرونی دروازے پر لٹکا زنگ آلود تالا چیخ چیخ کر اس بات کا اعلان کر رہا تھا کہ عرصہ دراز سے کوئی اس عمارت میں داخل نہیں ہوا تھا۔ عمارت میں اندرونی کمروں کو بھی تالے لگے ہوئے تھے۔ ایک کمرے کا تالا توڑ کر ہم اندر داخل ہوئے۔ کمرہ سامان سے عاری تھا۔ باقی کمروں کے تالے بھی باری باری کھول کر دیکھنے پر ہمیں دو تین ٹوٹی پھوٹی چارپائیوں اور ایک دو لوہے کے بکسوں کے اور کوئی قابل ذکر چیز نظر نہ آئی۔ دو چار پائیوں کو جھاڑ کر ہم نے بیٹھنے کے قابل بنایا، چودھری کو گاڑی سے نکال کر گرد آلود فرش پر پھینکا۔ کمرے کے دروازے کو اندر سے کنڈی کر دیا۔
”اس خنزیر کی بندشیں ڈھیلی کر دو یہ نہ ہو اسی طرح بندھے بندھے ہی جہنم رسید ہو جائے۔“
امجد سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھا اور اسے کھول دیا۔ بندشیں کھل جانے کے چند لمحے بعد تک وہ بے حس و حرکت پڑا رہا اور پھر کراہتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ اس کی کلائیوں اور پنڈلیوں پر رسی کے نشانات واضح نظر آرہے تھے۔ اپنی کلائیوں اور پنڈلیوں کو مسلنے کے بعد وہ مجھے مخاطب ہوا۔
”عمر جان تم مجھے قتل کیوں نہیں کر دیتے؟ اس طرح ذلیل و خوار کرکے کیا حاصل کرنا چاہتے ہو؟“
”بڑی جلدی اکتا گئے چودھری۔“ میرے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ ابھری۔ ”ابھی تو شروعات ہے چند دن بعد تم موت کی آرزو کرو گے مگر موت تمھارے قریب نہیں پھٹکے گی۔ میں تمھیں اس قابل بھی نہیں چھوڑوں گا کہ تم خود کشی کر سکو۔تمھارا کیا خیال ہے گنڈا پور سے دشمنی پالنا اتنا آسان ہے اور یاد ہے نا میں نے تھانے میں تمھیں کہا تھا مجھے قتل کر دو ورنہ بعد میں پچھتاﺅگے مگر تم اس وقت اپنی طاقت اور چوہدراہٹ کے زعم میں تھے اور ظلم پر ظلم کرتے گئے۔ یہ بھول گئے کہ بدلہ بھی لیا جا سکتا ہے اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ میں تمھارے ہر ظلم کا گن گن کر بدلہ لوں۔“
”تت تم کیا کرنا چاہتے ہو۔“ وہ خوفزدہ لہجے میں بولا۔
”چودھری.... اصولاً تو مجھے تمھارے گھر والوں کو تمھاری آنکھوں کے سامنے آگ میں زندہ جلادینا چاہئے تھا تاکہ تمھیں بھی پتا چلتا کہ اپنوں کو تکلیف میں دیکھ کر کیا محسوس ہوتا ہے مگر افسوس کہ اس دنیا میں ایسا کوئی نہیں ہے جو تمھیں عزیز ہو۔ تمھاری مثال تو اس سانپ کی سی ہے جو بھوکا ہو کر اپنے بچوں کو کھا جاتا ہے۔ اپنے والد اور بھائی کا قاتل تُو خود ہے۔ اپنی ماں بہن کو دھوکا دینے والا ان کے دکھ پر کیسے کڑھ سکتا ہے۔ تم جیسے خود غرض اس دنیا میں صرف اپنی ذات کے لیے زندہ رہنا جانتے ہیں اور تمھارے جیسے شخص کو تکلیف دینے کا آسان طریقہ یہی ہے کہ تمھیں ذاتی طور پر اذیت دی جائے اور یہی میں کروں گا۔“یہ کہتے ہی میں اس ٹوٹی پھوٹی چارپائی سے اٹھ کر اس کی طرف بڑھا اور اسے زدو کوب کرنے کا دل پسند مشغلہ شروع کر دیا۔ اس مرتبہ امجد نے بھی میرا ساتھ دیا۔ چند لمحے وہ ہمارے درمیان فٹ بال بنا رہا اور اس کے بعد بے ہوش ہو کر تمام تکالیف سے عارضی طور پر آزاد ہو گیا۔ ہم دونوں چارپائی پر آ کر بیٹھ گئے۔
”ڈاکٹر کی تلاش میں کس وقت نکلو گے؟“ امجد چارپائی پر بیٹھتے ہی مستفسر ہوا۔
”بس جا رہا ہوں.... تم اس کا خیال رکھنا۔ بلکہ بہتر تو یہی ہے کہ اسے ایک مرتبہ پھر باندھ دو۔“امجد اثبات میں سرہلاتے ہوئے اس کی جانب بڑھ گیا جبکہ میرا رخ بیرونی دروازے کی طرف تھا۔
l l l
”ایکسکیوزمی سر۔“ میں میڈیکل سٹور کے کیش کاﺅنٹر پر بیٹھے ہوئے ادھیڑ عمر شخص کو مخاطب ہوا۔
”جی فرمائیں۔“ وہ میری جانب متوجہ ہو گیا۔
”سر میں یہاں پر اجنبی ہوں کیا آپ پشاور کے کسی ماہر سرجیکل سپیشلسٹ تک میری رہنمائی کر سکتے ہیں۔“
”پشاور میں تو کئی ماہر سرجن موجود ہیں۔ مہنگے سستے۔ سرکاری، غیر سرکاری آپ کو کس قسم کا سپیشلسٹ درکار ہے۔“
”غیر سرکاری جس کے پاس اپنا ذاتی آپریشن تھیٹر موجود ہو۔“
”ڈاکٹر کرم الدین خان اور ڈاکٹر اے کے شیروانی دونوں کے ذاتی کلینک میں آپریشن تھیڑ کی سہولت موجود ہے مگر یہ خیال رکھنا کہ ان کی فیس اور بل ادا کرنابڑا دل گردے کا کام ہے۔ اس لیے عموماً غریب آدمی تو کیا متوسط طبقہ کے لوگ بھی ان کے کلینک کا رخ کرنے سے گھبرتے ہیں۔“ اس نے کافی تفصیلی جواب دیا۔
قارئین کی اطلاع کے لیے عرض کرتا چلوں کہ دونوں ڈاکٹروں کے فرضی نام تحریر کیے گئے ہیں کیوں کہ دونوں ڈاکٹر حیات ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کہانی میں کچھ مواقع پرمشہور افراد کے فرضی نام تحریر کیے گئے۔ یوں بھی ناموں کی اس تبدیلی سے کہانی کے پلاٹ یا واقعات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔(مصنف)
”تھینک یو سر۔“ میں اس کا شکر یہ اداکیا۔ ”اگر زحمت نہ ہو تو ان دونوں کا ایڈریس لکھ دیں۔“
اور اس نے سر ہلاتے ہوئے ایک کاغذ پردونوں ڈاکٹرز کا پتا لکھ کر میری جانب بڑھا دیا۔ میں اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سٹور سے نکل آیا۔ اس جگہ سے چونکہ ڈاکٹر کرم الدین خان کا کلینک نزدیک تھا اس لیے میں وہاں پہنچا مگر استقبالیہ سے پتا چلا کہ ڈاکٹر صاحب عارضی طور پر شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ ٹیکسی میں بیٹھ کر میں ڈاکٹر اے کے شیروانی کے کلینک میں پہنچا۔
”سر ڈاکٹر! صاحب تو اس وقت آپریشن میں مصروف ہیں۔ آپ ویٹنگ روم میں انتظار فرمائیں جیسے ہی فارغ ہوتے ہیں میں آپ کو اطلاع کر دوں گی۔“استقبالیہ پر بیٹھی لیڈی مو¿دبانہ لہجے میں بولی اور میں سر ہلاتے ہوئے ویٹنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔
مجھے زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا جلد ہی ڈاکٹر صاحب فارغ ہو گئے استقبالیہ کی طرف سے مطلع ہونے پر میں ڈاکٹر کے کمرے کی طر ف بڑھ گیا۔
”السلام علیکم!“
”وعلیکم السلام.... بیٹھیں۔“اس نے سامنے پڑی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
میں ”شکریہ “کہتے ہوئے بیٹھ گیا۔
”فرمائیں؟“
”ڈاکٹر صاحب.... بات ذرا راز داری کی ہے اس لیے براہ مہربانی اگر آپ کا م نہ کرنا چاہیں تو اسے اپنے تک ہی محدود رکھئے گا؟“
”مسٹر.... ڈاکٹر نام ہی راز داری کا ہے.... تم کھل کر بتاﺅ کیا مسئلہ ہے۔“
”سر!....میں دشمن دار آدمی ہوں، پچھلے دنوں میں میرا ایک آدمی گولی لگنے سے زخمی ہوا ہے۔ ہماری لاپر وائی اور علاج میں سستی کی وجہ سے زخم کافی بگڑ گیا ہے۔ اب ہو سکتا ہے کہ اس کی ٹانگ ہی کاٹنی پڑے جائے۔ بہ ہر حال یہ توآپ کا مسئلہ ہے کہ آپ اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ البتہ ہم اس کا علاج اس طرح راز داری سے کرانا چاہتے ہیں کہ کسی کو خبر نہ۔ کسی سے میری مراد پولیس وغیرہ سے ہے۔ باقی رہی فیس کی بات تو اس کی آپ فکر نہ کریں وہ ہم منہ مانگی ادا کریں گے۔“
چند لمحے وہ خاموشی سے میرے چہرے کو تکتا رہا۔ اس کے سپاٹ چہرے سے میں کوئی اندازہ نہ لگا سکاکہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔ اس کی خاموشی زیادہ دیربرقرار نہ رہی....
”تمھیں کس نے بتایا ہے کہ میں غیر قانونی کام کرتا ہوں؟“
”کسی نے بھی نہیں۔“ میں نفی میں سرہلایا۔ ”آپ سے پہلے میں ڈاکٹر کرم الدین خان کے کلینک پر گیا تھا مگر وہ عارضی طور پر شہر سے باہر گیا ہو ا ہے اس لیے میں آپ کے پاس آگیا اور آپ کے انکار کرنے کی صورت میں کسی اور ڈاکٹر کے پاس چلا جاﺅں گا۔ یہ کوئی زور زبردستی کی بات تو ہے نہیں نا؟“
”60 ہزار لگیں گے؟“
”70ہزار دوں گا۔50ہزار پیشگی اور 20ہزار بعد میں لیکن کام میری مرضی کا ہو گا اور آپ کے علاوہ کسی کو بھی پتا نہیں چلے گا۔“
”منظور ہے۔“ اس کی آنکھوں میں خوشی کی چمک لہرائی۔ 70ہزار اتنی معمولی رقم نہیں تھی۔ بے شک وہ کوئی غریب آدمی نہیں تھا مگر دولت ایک ایسی چیز ہے جس میں اضافہ ہر دینا دار کی خواہش ہوتی ہے۔ ”البتہ کام کے دوران مجھے اسسٹنٹ کی ضرورت پڑے گی اور وہ قابل اعتماد آدمی ہے۔“
”نہیں.... آپ کے علاوہ کوئی نہیں۔ اسسٹنٹ کی جگہ میں آپ کے ساتھ رہوں گا۔“
”مگر.... “ اس نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر بولا۔ ” ٹھیک ہے۔“
میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر بڑے نوٹوں کی گڈی نکال کر اس کے سامنے میز پررکھ دی۔
”یہ 50ہزار ہیں.... باقی کام کی تکمیل کے بعد۔“
”مریض کس وقت لاﺅ گے۔“ پیسے دراز میں رکھتے ہوئے وہ مستفسر ہوا۔
”جو وقت آپ مناسب سمجھیں۔“
”رات کو کیسا رہے گا؟“
”صحیح ہے ....کیا مریض کو ادھر لانا پڑے گا؟“
”ہاں....“ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”اس کلینک کے پیچھے والا گیٹ آپ کے لیے کھلا ہو گا۔ وہاں سے اندر داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ پر ایک لوہے کا دروازہ ہے وہ بھی آپ کو کھلا ملے گا اور اسے کھولتے ہی آپ کو سیڑھیاں اترنی پڑیں گی، سیڑھیوں کے اختتام پر آپریشن تھیڑ کا دروازہ ہے۔ میں رات کو نو بجے پہنچ جاﺅں گا۔“
”کیا کلینک رات کو بند ہو جاتا ہے؟“
”نہیں.... لیکن اس کا آپ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ آپ یوں بھی عقبی سمت سے آئیں گے۔“
”او کے ڈاکٹر صاحب پھر رات کو ملاقات ہو گئی۔“ میں نے اٹھ کر اس سے الوداعی مصافحہ کیا۔
”اس رقم کی رسید؟“ وہ بھی میرے ساتھ کھڑا ہو گیا۔
”مرد کی زبان سے بڑی کوئی رسید نہیں ہوتی۔“ میںنے کہااوروہ سرہلا کر رہ گیا۔
l l l
امجد شدت سے میرا منتظر تھا۔ میں نے چودھری کے سامنے اسے تمام تفصیل سے آگاہ کر دیا۔
”فنٹاسٹک۔“ وہ تعریفی لہجے میں بولا۔ ”اس کا مطلب ہے اپنا کام بہت کم باقی رہ گیا ہے چلو اچھا ہوا ڈاکٹر شہلا غریب بھی بے صبری سے میری منتظر ہو گئی۔“
”ہاں یار خوش قسمت ہو۔“ میں نے جانتے بوجھتے شہلا کے ذکر کو اجاگرکیا۔ ”چوہدرانی سے شادی کرنا ہر شخص کی قسمت میں نہیں ہوتا اور چوہدرانی بھی وہ جو ڈاکٹر ہو۔“
امجد میرا مزاج آشنا تھا اسے پتا چل گیا کہ میں نے کیوں اس طرح کی بات کی ہے۔اس نے چاہت سے شہلا کی باتیں چھیڑ دیں۔ اس دوران میں نے چودھری کے منہ پر بندھا ہوا کپڑا کھول دیا۔ مگر کچھ کہنے کی بجائے وہ ڈھیٹ بنا امجد کی شہلا کے متعلق گفتگو سنتا رہا۔ میں نے جب دیکھا کہ اپنی بہن کے ذکر پر بھی اسے کوئی غیرت نہیں آرہی تو امجد کو خاموش کراکر اس سے مخاطب ہوا....
”چودھری.... میرے خلاف تُو نے جو کرنا تھا بڑی سفا کی سے کیا میرے والدین بیوی بچے بھائیوں بھتیجوں بھتیجیوںبھابیوں تمام کوبے دردی سے نذر آتش کر دیا۔ تمھاری وجہ سے میں دشمن ملک میں در بدر پھرا، اس کی خفیہ ایجنسیوں کے تشدد کا نشانہ بنا، اپنے ملک کی پولیس کے لیے مشق ستم بنا۔ میرے پیارے چچا کی ٹانگیں ٹوٹیں، میری بہن پاگل ہوئی۔ ان سب کے علاوہ مجھے جو ذہنی اذیت برداشت کرنی پڑی، ایسی ذہنی تکلیف جو شاید پتھر کو بھی ریزہ ریزہ کر دے۔ تمھارے یہ تمام جرائم اس بات کے متقاضی تھے کہ میں تمھیں دیکھتے ہی بے دردی سے قتل کر دیتا۔ مگر اس کا نقصان یہ تھا کہ تمھیں پہنچنے والی تکلیف اور اذیت اس تکلیف سے بہت کم ہوتی جو مجھے برداشت کرنی پڑی، کئی راتیں جاگ کر گزارنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ،بھائی جو میرے بازو تھے ان کو مارنے کے جرم میں تمھارے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں۔ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے اس کے بدلے تمھاری آنکھیں نکال دوں۔ باپ سے نسبت کے تفخر پر معاشرے میں ہماری ناک اونچی ہوتی ہے اس کے بدلے تمھاری ناک کاٹ دوں۔ بیوی کی زیب وزینت سے ہم تسکین حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بدلے تمھارے چہرے کے نقوش بگاڑ دوں۔ اپنے چچا کی ٹانگوں کے بدلے تمھاری ٹانگیں کاٹ دوں۔ ماں ہمیں بولنا سکھاتی ہے اس کا بدلہ تمھاری گندی زبان کاٹ کر لوں اور مجھے ان سب کی جدائی میں جو اذیت اٹھانی پڑی ہے اس کی جزا میں تمھیں زندہ رکھوں اور میرا خیال ہے تُو مجھ سے متفق ہو گا اور فکر نہ کرنا میں نے ڈاکٹر سے بات کرلی ہے وہ یہ تمام کام بڑے سائنٹیفک انداز میں کرے گا۔ اس ضمن میں تمھاری حرام کی کمائی بڑی کار آمد ثابت ہوئی ہے۔“
میرے پُر سکون لہجے کو سن کر اس کے چہرے پر خوف کے تاثرات نمودار ہوئے چند لمحے تو وہ خوف کی شدت سے بات نہ کر سکا اور جب بولا تو فقط معافی مانگنے اور گڑگڑانے کے کوئی قابل ذکر بات اس نے نہ کی مگر اس کے یہ الفاظ میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے۔ اس کی بکواس کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم دونوں وہیں بیٹھ کر وہ کھانا کھانے لگے جو میں بازار سے لے آیا تھا۔ اس دوران منتوں اور زاری سے تھک کرچودھری منہ سے مغلظات اُگلنے لگا۔ اس کا مقصد شاید ہمیں غصہ دلانا تھا تاکہ طیش میں آ کر ہم اسے قتل کر دیں۔ مگر اتنے بچے ہم بھی نہیں تھے۔ میں نے کہا۔
”چودھری جتنا بھونک سکتے ہو بھونک لو۔ چند گھنٹے بعد تمھاری یہ گندی زبان کاٹ دی جائے گی۔“
”عمر جان تمھیں تمھاری ماں کا واسطہ.... تمھارے باپ کا....“ مگر اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا میں نے اس کے منہ پر اپنے پاﺅں کی بھر پور ٹھوکر جڑ دی۔
”اپنی گندی زبان سے ان کے نام مت لو چودھری۔ان کو تو تُو نے اس بڑھاپے میں زندہ آگ میں جلا دیا ہے۔ پتا ہے آگ میں جلنے پر کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ ٹھہر و تمھیں بتلاتا ہوں....ماجے!.... ذرالائیٹر دینا۔“
امجد نے لائیٹر نکال کر میری جانب بڑھا دیا۔ میں نے لائیٹر جلا کر چودھری کے پاﺅں کے نیچے پکڑ لیا۔ چند سیکنڈ بعد ہی اس کے منہ سے چیخیں نکلنے لگیں اور اس کے ساتھ ہی وہ یوں لرزنے لگا۔ جیسے اسے کرنٹ لگائے جارہے ہوں۔ چمڑا جلنے کی سڑانڈ کمرے میں پھیل گئی اور تکلیف کی شدت سے وہ بے ہوش ہو گیا۔ اسے اسی حالت میں چھوڑ کر ہم دونوں ان ٹوٹی پھوٹی چارپائیوں پر آمنے سامنے بیٹھ کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے لگے۔
l l l
حسب ِوعدہ ڈاکٹر اے کے شیروانی نے کلینک کاعقبی دروازہ کھلا رکھاتھا۔ دروازہ اتنا چوڑا تھا کہ ہم گاڑی سمیت اندر گھس گئے۔ گاڑی عقبی صحن میں روک کرہم نیچے اترے بڑا گیٹ بند کر کے میں نے امجد کو چودھری کے بے ہوش بدن کو اٹھانے کا اشارہ کیا اور خود ڈاکٹر کے بتائے گئے راستے پر ہو لیا۔ امجد مجھ سے چند قدم پیچھے تھے۔
ہم آگے پیچھے چلتے آپریشن تھیڑ میں پہنچ گئے۔ نو بجنے میں چند منٹ رہتے تھے۔ میں جان بوجھ کر چند منٹ پہلے پہنچا تھا۔ چودھری کو آپریشن ٹیبل پر لٹا کر ہم ڈاکٹر کا انتظارکرنے لگے۔ ڈاکٹر ٹھیک نو بجے تھیڑ میں داخل ہوا اور دروازہ اندر سے بند کرکے ....
”السلام علیکم۔“ کہتے ہوئے ہماری طرف بڑھا۔”میرا خیال ہے میں وقت پر پہنچا ہوں۔“
”بالکل ڈاکٹر صاحب۔“اس نے ہم دونوں سے مصافحہ کیااور ٹیبل پر پڑے چودھری کی طرف بڑھا۔
”اچھا یہ ہے مریض۔“ وہ چودھری کے قریب رکھ گیا۔ ”یہ بے ہوش کیوں ہے اور اس کی تو دونوں ٹانگیں صحیح نظر آرہی ہیں۔“
”ڈاکٹر صاحب۔“ میرا لہجہ بالکل بدل گیا۔ ”میرے پاس اتنا وقت تو نہیں ہے کہ میں آپ کو اپنی مکمل کہانی سنا سکوں مختصراً اتنا سمجھ لو کہ اس شخص کے ہاتھوں میرے تمام گھر والے زندہ جلے ہیں اور اب میں اسے عبرت کا نمونہ بنانا چاہتا ہوں۔ آپ نے بس اتنا کرنا ہے کہ اس کی دونوں ٹانگیں رانوں سے کاٹ کر علاحدہ کر دو۔ دونوں ہاتھ کندھوں سے تھوڑا نیچے کا ٹ دو۔ ایک آنکھ نکال دو ناک اور زبان کاٹ دو چہرے کے نقوش بگاڑ دو۔ اس کے ساتھ یہ بھی خیال رہے کہ یہ مرنے نہ پائے۔“
میری بات سن کرڈاکٹر کے چہرے پر حیرانی کے ساتھ خوف کے بھی تاثرات ابھرے اور وہ ہکلاتے ہوئے بولا۔
”آ.... آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟“
”میں نے وہی کہا ہے جو آپ نے سنا ہے۔“
”مم، مگر میں، میں اےسا.... کیسے کر سکتا ہوں؟“
”تم کرو گے ڈاکٹر۔“ امجد خوفناک لہجے میں بولا۔ ”ورنہ ہم یہی سب کچھ تمھارے ساتھ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ البتہ معاوضے کی فکر نہ کرو جتنا پہلے دیاتھا مزید اس سے دگنا ملے گا۔“
وہ تھوک نگل کر بولا۔ ”مم.... مگر.... یہ ظ.... ظ ظلم ہے۔“
”تمھیں یہ اس لیے ظلم نظر آرہا ہے کہ تُم نے ہمارے بچوں کے جلے ہوئے بدن نہیں دیکھے ہماری بہنوں کے ناقابل شناخت چہرے نہیں دیکھے۔ ہمارے والدین کے راکھ ہوتی ہڈیاں نہیں دیکھیں۔ اگر تم نے ان سب کا مشاہدہ کیا ہوتا تو کبھی بھی اسے ظلم نہ کہتے۔“
امجد کی بات سن کر اس نے بے چارگی سے میری جانب دیکھا۔ میں گیراکٹ مارک تھرٹین نکال کر اس کا معائنہ کر رہا تھا۔ میرا مقصد اسے خوفزدہ کرنا تھا۔
”اگر میں آپ کو ایسے ڈاکٹر کا ایڈریس دوں جو یہ کام بہ خوبی سرانجام دے۔“
”شٹ اَپ۔“ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے امجد دھاڑا۔ ”شروع ہو جاﺅ ہمارے پاس تمھاری بکواس سننے کے لیے بالکل وقت نہیں۔“
امجد کی دھاڑ سن کر وہ کانپ سا گیا تھا۔ کوئی چارہ کار نہ دیکھ کر وہ مرے مرے قدموں سے چودھری کی طرف بڑھا۔ اگلے دو گھنٹوں میں چودھری کی دونوں ٹانگیں اس کے جسم سے علاحدہ ہو چکی تھیں اور پھر آہستہ آہستہ اس کے باقی اعضاءبھی کم ہونے لگے۔جس وقت ڈاکٹر نے اپنا کام ختم کیا اس وقت دن نکل آیا تھا۔ آپریشن ٹیبل پرچودھری کی بجائے ایک عجیب ہیئت کا جسم پڑا تھا۔ آپریشن ختم کر کے ڈاکٹر بے جان سے انداز میں دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا تھا۔ امجد نے جیب میں ہاتھ ڈال کر بڑے نوٹوں کی دو گڈیاں نکال کر اس کی طرف بڑھائیں اور بولا۔”یہ ایک لاکھ روپیہ ہے اور ڈاکٹر صاحب میں اپنے رویے کی معذرت چاہتے ہوئے آپ کو اتنا بتلا دوں کہ یہ شخص انسان نہیں درندہ تھا، اور یہ اس سے بھی زیادہ برے سلوک کا مستحق تھا۔“
ڈاکٹر نے رقم کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا امجد نے وہ گڈیاں زبردستی اس کی جیب میں ڈال دیں اورچودھری کو نہایت احتیاط سے اٹھا کرکہا۔
”چلو جانو۔“ اور میں بھی ڈاکٹر کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے اس کے ساتھ چل پڑا۔
چودھری کو اپنے ٹھکانے پر پہنچا کر میں اپنے مقصد کے بندے کی تلاش میں نکلا۔ جو کہیں چھے سات گھنٹوں کی تلاش کے بعد مجھے مل سکا۔
”آپ فکر ہی نہ کریں صاحب۔“ میرا مطمح نظر جان کر اس کی آنکھوں میں چمک لہرانے لگی۔ ایسی مشینوں کی دیکھ بھال مجھے خوب آتی ہے۔“
”مشین؟“ میرے لہجے میں حیرانی تھی۔
”جی صاحب۔ ہماری اصطلاح میں اسے مشین ہی کہتے ہیں نوٹ چھاپنے والی مشین چار مشینیں میرے پاس پہلے سے موجود ہیں۔ ویسے آپ نے قیمت نہیں بتائی اس کی۔“
”بالکل مفت۔“
”نہیں صاحب آپ مذاق کررہے ہیں۔ اتنی قیمتی چیز آپ مفت میرے حوالے کر دیں گے۔“ اس کے لہجے میں حیرانی تھی۔
”بلا شک وشبہ۔تم ابھی چلو میرے ساتھ۔“
”آپ صحیح کہہ رہے نا؟“ اس کے لہجے میں اب تک بے یقینی تھی۔
”سچ کہہ رہا ہوں بھائی۔ تم آﺅ تو سہی۔ وہ شخص میرا دشمن ہے اور دشمن سے انتقام لینے کا اس سے بہتر طریقہ مجھے نظر نہیں آیا۔“ وہ میرے ساتھ چل پڑا مگر جب تک میں نے چودھری اس کے حوالے نہ کر دیا بے یقینی اس کے اندر ہلکورے لیتی رہی۔
”سر مم میں اپنی گاڑی منگوا لوں۔“ چودھری کو دیکھ کر وہ خوشی سے گڑ بڑا سا گیا تھا۔
”اپنی گاڑی اور بندے بھی منگوالو۔ اس کے علاوہ یہ چابی پکڑو۔“ میں نے اس کی جانب ڈبل کیبن ٹویوٹاکی چابی بڑھائی۔ ”صحن میں جو گاڑی کھڑی ہے یہ ہم علاقہ غیر سے لائے تھے اگر اس کی نیم پلیٹ اور کاغذات وغیرہ بنوالو تو استعمال کر سکتے ہو۔“
”سس۔ ص صاحب آپ مجھ پہ اتنے مہربان کیوں ہو گئے ہیں۔ کہیں میرے خلاف کوئی سازش تو تیار نہیں ہو گئی۔“
”تُم ہو ناامریکہ کے صدر کہ تمھارے خلاف ہم سازش کریں گے۔“ امجد ہنسا۔”بے وقوف اس گاڑی کے علاوہ ہم کافی رقم بھی تمھارے حوالے کریں گے اور یہ سب کچھ اس لیے کہ تم اس منحوس کا علاج کرواتے رہنا۔ بس ہمارا یہی مطالبہ ہے کہ یہ مرنے نہ پائے۔“
”میں بھلا اسے مرنے دے سکتا ہوں ؟“
”یہ رقم بھی رکھو۔“ امجد نے اپنی جیب سے چودھری کی حرام کی کمائی کی آخری پونجی نکالی۔ ”اوراب ہم چلتے ہیں۔“
”آخری بات۔“ میں نے کہا۔ ”اسے پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان جانے والے بس اڈے پر پکارکھناہے۔“
”ایسے ہی ہو گا صاحب آپ بے فکر رہیں۔“
رقم، گاڑی اور چودھری کو اس بھکاری مافیا کے سرغنہ کے حوالے کر کے ہم اس مکان سے باہر نکل آئے۔ کچھ قارئین تو شاید بھکاری مافیا سے واقف ہوں جنھیں علم نہیں ان حضرات کی معلومات میں اضافے کے لیے لکھتا چلوں کہ پاکستان میں بھیک مانگنے کا کاروبار بہت منظم انداز میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کاروبار سے وابستہ افراد کم عمر بچوں کو اغوا کرا کے ان کے مختلف اعضاءکو کاٹ کر یا سائنٹیفک انداز میں ٹیٹرھا میٹرھا کر کے ان سے بھیک منگواتے ہیں۔ آپ لوگوں نے کئی دفعہ فٹ پاتھ پر ایسے اجسام پڑے دیکھے ہوں گے جو از خود حرکت کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ اگر آپ ان پر نظر رکھیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ ان کی نگرانی کرنے والے باقا عدہ وہاں موجود ہوتے ہیں۔ بہ ہر حال یہ ایک لمبا موضوع ہے اور اہل قلم اس پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور لکھتے رہیں گے ہماراچونکہ یہ موضوع نہیں ہے اس لیے ہم اصل کہانی کی طرف بڑھتے ہیں۔
وہاں سے ہم سیدھے ایک متوسط طبقے کے ہوٹل میں پہنچنے شام ہو چلی تھی۔ کمرا بک کرا کے ہم نے کھانا کھایا اور کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر کے سو گئے۔ ایک بہت بڑا بوجھ ہمارے سروں سے اتر گیا تھا۔ دوسرا ہم کافی دنوں سے بے آرام بھی تھے۔اس لےے اگلے دن سورج چڑھے ہی ہماری آنکھ کھل سکی۔ روزمرہ کے معمولات سے فارغ ہو کر ہم نے ناشتا کمرے میں ہی منگوا لیا۔ چائے پیتے ہوئے امجد مستفسر ہوا۔
”جانو اب کیا ارادہ ہے؟“
” ہمارا مقصد پورا ہو گیا ہے اور اب مجھے کچھ سجھائی نہیں دے رہا کہ کیا کروں گھر چلتے ہیں، چچا فاضل سے مشورہ کر کے ہی ہم کچھ طے کر سکیں گے۔“
”جانو صاحب !....میرا مطلب ہے شیتل کے بارے کیا سوچا ہے میں تو جاتے ہی امی ابو کو شہلا کے ماموں کے ہاں بھیجنے والا ہوں آگے میری قسمت۔“
”شیتل تو ماضی کا ایک سہانا باب ہے۔ اب تو سعدیہ کی طرح اس کے سپنے ہی باقی ہیں۔“
”کیا بات کر رہے ہو یار!.... ادھر آتے وقت ہی تو اس کا لکھا ہوا خط تمھیں ملا تھا۔“
”اس بات کو 4ماہ سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے ماجے صاحب !....جو ماضی ہے۔ وہ مجھے ٹوٹ کر چاہتی تھی اس بات کا مجھے روزِ روشن کی طرح یقین ہے ....وہ اب بھی مجھے چاہتی ہے اس بارے وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔“
”تُم نے تو اس سے وعدہ کر رکھا تھا کہ چودھری کو اس کے انجام تک پہنچا کر اس سے ملنے کے لیے جاﺅ گے۔“
”میں ضروربالضرور اس سے ملنے کے لیے جاتا اگر وہ ایک عام شکل وصورت کی لڑکی ہوتی مگر وہ حسن کی دولت کے ساتھ دنیاوی دولت سے بھی مال مالا ہے اور ایسی لڑکی کو چاہنے والے ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں مل جائیں گے۔ اب تو شاید وہ ایک لٹے پٹے جانو کو پہچاننے سے ہی انکار کر دے۔“
”اتنا قنوطی بننے کی ضرورت نہیں۔“ امجد نے مجھے سمجھایا۔ ”چاہتیں اتنی آسانی سے دل سے رخصت نہیں ہوا کرتیں۔ اگر وہ تمھیں چاہتی تھی تو کسی کو بھی جیون ساتھی بنانے سے پہلے وہ تمھیں ضرور مطلع کرے گی۔“
”ہو سکتا ہے اس نے خط وغیرہ لکھا ہو مگر ہمیں بھی تو گھر سے رخصت ہوئے کافی عرصہ ہو گیا ہے۔“
”ہاں یہ ہو سکتا ہے۔“ امجد نے تائید سر ہلایا۔ ”بہ ہر حال گھرجا کر دیکھ لیں گے اگر کوئی خط آیا ہوا تو ٹھیک ہے ورنہ خود اسے خط لکھ کر معلوم کرلینا۔“
”خط تو پتا نہیں اسے کب ملے میرے پاس اس کا فون نمبر موجود ہے۔ فون کر کے اس سے بات چیت ہو سکتی ہے۔“
”ہاں یاد آیا۔ تم نے پہلے بھی ایک مرتبہ اس سے بات کی تھی۔ اس وقت تو اس کا نمبر تمھیں زبانی یاد تھا۔“
”اب بھی زبانی یاد ہے۔“
”چلو پھر ناشتا کر کے چلتے ہیںاور میرا مشورہ یہی ہے کہ گھر جانے سے پہلے انڈیا کا ایک چکر لگ جائے تو بہتر رہے گا، بعد میں جاتے ہوئے پرابلم ہو گی۔“
اور میں سر ہلا کر رہ گیا۔ ناشتا کرنے کے بعد ہم ہوٹل سے نکل آئے۔ پی سی او پر جا کر ہم کافی دیر اس کا نمبر ملانے کی کوشش کرتے رہے مگر ہمیں اس میں کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ آخر پی سی او والے کی یہ بات سن کر ہم پی سی او سے نکل آئے۔
” سر یہ نمبر استعمال میں نہیں ہیں۔“
”عجیب بات ہے یار گھر اور آفس دونوں نمبر بند مل رہے ہیں۔“
”میرا خیال ہے شیتل نے جان بوجھ کر یہ نمبرتبدیل کرادیے ہیں۔ شاید تمھارے ساتھ بے وفائی کرنے سے پہلے اس نے رابطے والے بکھیڑے کو ختم کر نا ضروری سمجھا ہو۔“
” سو فیصد متفق ہوں۔“ میں نے اس کی تائیدکی۔
” پھر گھر چلتے ہیں۔“ اس نے مشورہ دیا۔
”یونھی کرنا پڑے گا۔“
جاری ہے
 

قسط نمبر31آخری قسط
ریاض عاقب کوہلر
وہاں سے ہم ہوٹل پہنچے اپنا سامان سمیٹا، بقایاجات کی ادائی کی اور بس اڈے کی طرف چل پڑے۔ امجد شہلا کی یادوںمیں ڈوبا ہوا تھا اور گاہے گاہے مجھے بھی اپنی حالت سے آگاہ کر رہاتھا۔ جبکہ میری کیفیت عجیب سی ہو رہی تھی جسے میں فقط بوریت کا نام دے سکتا تھا۔ وہ کام جسے میں نے مقصدِ حیات اور زندگی کا محور سمجھا تھا پایہ تکمیل کو پہنچ گیا تھا اور اس کے بعد زندگی میں کوئی ایسی خواہش باقی نہیں تھی جس کے لیے بے تابی ہوتی، شاید شیتل کی محبت مجھے ایک مرتبہ پھر انڈیا جانے پر مجبور کرتی مگر اس کی طرف سے ٹیلی فون نمبروں کی تبدیلی اس بات کا واضح اعلان تھا کہ وہ مجھے اپنے دل و دماغ سے کھرچ چکی تھی، اس بات سے میری انا ہلکی سی مجروح ہوئی تھی اور دل کے کسی کونے میں مدہم سے غم کا احساس بھی ہو رہا تھا مگر اس سے پہلے میں جتنی چوٹیں کھا چکا تھا اس کے مقابلے میں یہ دکھ کچھ بھی نہیں تھا۔ جس دن سے شیتل نے محبت کا اظہار کیا تھا اسی دن سے مجھے اس کے بچھڑنے کا یقین تھا اور اسی وجہ سے میں نے اس کی یادوں کو اپنی سوچوں کا محور نہیں بنایا تھا۔ شیتل کے کسی کو ساتھی بنانے کے فیصلے سے میں ہلکا سا خفا ہونے کے باوجود مطمئن تھا۔ ان حالات میں اس کا کام بھی یہی بنتا تھا۔ میں نے بھی تو کبھی اس سے امید افزاءبات نہیں کی تھی اور اس کے باوجود شیتل جیسی لڑکی سے یہ گلہ رکھنا کہ وہ میرا انتظار کیوں نہ کر سکی عبث تھا۔ یہ بھی اس کا بڑا پن تھا کہ اس نے اپنا فون نمبر تبدیل کرکے میرا سامنا کرنے سے احتراز برتا تھا، وہ شاید اپنے وعدوں پر شرمندہ تھی۔
میںویگن میںبھی انھی خیالوں میں ڈوبارہا امجد نے ایک دو دفعہ مجھے مخاطب کیا لیکن میری غائب دماغی محسوس کرتے ہوئے اس نے سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔ رحمن خیل کے اسٹاپ پر اتر کر ہم آہستہ قدموں رحمن خیل کی طرف چل پڑے۔ پہلوان ہوٹل کے اڈے کی رونق وہی تھی جو برسوں سے چلی آرہی تھی۔
”بہت تھکے تھکے لگ رہے ہو۔“
”ہاں یار!....بس عجیب سی کیفیت ہو رہی ہے۔“
”گھر جا کر یہ ساری بوریت دور ہو جائے گی۔“
”ماجے!.... اب گھر ہماری قسمت میں کہاں۔“
”بن جائے گا یار!.... گھر بھی بن جائے گا بس ایک فصل اٹھانے کی دیر ہے۔“ اس نے مجھے تسلی دی۔
”مکان بلاشبہ بن جائے گا ، میری مراد گھر سے تھی کہ مکان کو ہم گھر نہیں کہہ سکتے۔“
” کیا تُم ہمیں اپنا نہیں سمجھتے؟“
”تُم تو پہلے بھی اپنے تھے، جب امی ابو، بھائی اور سعدیہ زندہ تھیں اور تمھارا ایک الگ مقام ہے میرے دل میں کسی کا نعم البدل بننے کی صورت میں تمھیں بھی کھودوں گا۔“
”یہ ساری بوریت اور قنوطی پن تم پر اس لیے طاری ہے کہ ایک تم ایک دم فارغ ہو گئے ہو اور کوئی کام تمھیں سوجھ نہیں رہا۔دوسرا شیتل سے تمھیں اس کا م کی توقع نہیں تھی جو وہ کر گزری بہ ہر حال فکر مت کرو رضیہ موجود ہے نا اس سے مل کر اپنا غم غلط کر لینا۔“ امجد سنجیدگی سے بات کرتے کرتے مذاق پر اتر آیا۔
”رضیہ تمھیں ہی مبارک ہو میں اس کے بغیر ہی بھلا۔ البتہ مصروفیت والی بات تُم نے خوب کہی۔ میرا تو خیال ہے کل پرسوں سے اپنی حویلی پر کام شروع کرادوں یوں کب تک اسلم بھائی کے گھر ٹکے رہیں گے۔“
” ایسے ہی کرلیں گے مگر ایک مہینے کے اندر اندر یہ کام مکمل کرانا پڑے گا کیوں کہ میں شہلا سے مزیددور نہیں رہ سکتا۔“
”بلے بھئی بلے....اتنی جلد ی ہے تو خیمہ لگا لیتے ہیں۔“
”خیمہ کیوں؟....وہ تمھاری شیتل جیسی نہیں ہے کہ آنکھ سے اوجھل ہوتے ہی کوئی اور شریک ِسفر ڈھونڈ لیا۔“
”اچھا اب بک بک بند کرو وہ سامنے اسلم بھائی نظر آرہا ہے۔“ میں نے اسلم بھائی کو سفید ٹوپی کے ساتھ گھر سے نکلتے دیکھ کر کہا۔ وہ شاید شام کی نماز کے لیے جارہاتھا۔ مگر ہم پر نظر پڑتے ہی وہ تیر کی طرح ہماری طرف بڑھا اور گرم جوشی سے ملا۔
”کس وقت پہنچے ہو؟“
”ابھی اترے ہیں گاڑی سے اور سیدھے ادھر ہی آگئے۔“
”گھر نہیں گئے کیا؟۔“ اس کے لہجے میں حیرانی تھی۔
”گھر؟ .... مگر گھر تو رہنے کے قابل نہیں تھا۔“
”رہنے کے قابل کیا وہ بہت ہی اچھے انداز میں تعمیر کر لیا گیا ہے۔ آپ آئیں امی جان اور اپنی بہن سے ملیں پھر چلتے ہیں۔“ مجھے لے کر وہ گھر میں گھس گیا جبکہ امجد بیٹھک میں چلا گیاتھا۔
جمیلہ باجی باورچی خانے میں تھی۔”اکرم کی ماں دیکھو تو کون آیا ہے۔ اسلم نے اونچی آواز میں اسے پکارا اس نے باہر جھانکااور مجھے دیکھتے ہی بھاگ کر آئی اور مجھ سے لپٹ گئی۔ میرے ماتھے اور سر پر بوسے دیتے ہوئے وہ رونے لگی تھی۔ ممانی جان بھی ہماری آواز سن کر اندرونی کمرے سے نکل آئیں۔
”عمر پُتر!....“ وہ ہم دونوں بہن بھائی کے گرد اپنے بازوﺅں کا حلقہ بناتے ہوئے بولی۔”شکر ہے تم آگئے ہو۔ یہ پگلی ہر وقت تمھیں یاد کر کے روتی رہتی تھی۔“
”ہاں ماں جی میں آگیاہوں اور ان شا ءاﷲ اب کہیں نہیں جاﺅں گا۔“
”اﷲ کرے ایسا ہی ہو۔“ وہ گلوگیر لہجے میں بولی۔ تھوڑی دیر ہم اس طرح جذباتی کیفیت میں رہے، پھر ممانی جان مجھے لے کرچارپائی پر بیٹھ گئیں اور جمیلہ باجی چائے بنانے لگیں۔ اسلم بھائی گھر سے نکل گیا تھا شاید وہ مغرب کی نماز پڑھنے گیا تھا۔
چائے بننے تک ممان جان مجھ سے سفر کا حال احوال پوچھتی رہی۔ میرے جانے کی غرض و غایت اس سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔ میں نے مختصر لفظوں میں اسے چودھری کے انجام سے آگاہ کر دیا تھا۔ جیسے ہی چائے تیار ہو کر آئی میں تھرماس اور ایک کپ امجد کو بیٹھک میں پکڑا آیا اور پھر آکر ممانی اور باجی سے گپ شپ کرنے لگا۔ جمیلہ باجی اﷲ کے فضل و کرم سے بالکل ٹھیک ہو گئی تھی۔ مزید تھوڑی دیر گزرنے کے بعد میں نے جانے کی اجازت چاہی، اسی وقت اسلم بھائی بھی گھر میں داخل ہوا ....
”عمر بھائی۔ میں نے گھر میں آپ دونوں کی آمد کا بتلا دیا ہے سب بے چینی سے آپ کا انتظار کررہے ہیں۔“
” کیا یہ گھر سے ہو کر نہیں آئے تھے؟“ ممانی حیرانی سے مستفسر ہوئی۔
”نہیں ماں جی۔“ اسلم سعادت مندی سے بولا۔
”پھر تو....“
”ہاں ماں جی۔“ اسلم نے جلدی سے قطع کلامی کی۔ ”گھر جا کر اسے معلوم ہو جائے گا، آپ رہنے دیں۔“
”کیا معلوم ہو جائے گا۔“ میں حیرانی سے مستفسر ہوا اس کا انداز مجھے بڑا عجیب لگا تھا۔
”یہی کہ آپ کا گھر بہت خوب صورت بن گیا ہے۔ تمھیں تو پتا ہے امی جان نے اگر تفصیل بتلانی شروع کر دی تو ساری تفصیلات بتا کر دم لیں گی اور آپ لوگ مزید کئی گھنٹے لیٹ ہو جاﺅ گے۔“
میں اس کی وضاحت سے مطمئن تو نہیں ہوا تھا مگر پھر بھی میں نے کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہ کی اور باجی اور ممانی جان سے اجازت لے کر ان کے گھر سے نکل آیا۔ امجد کو بھی اسلم بھائی نے بیٹھک سے سے بلا لیا اور ہم اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔
گلی میں داخل ہوتے ہی اپنے گھر کا دروازہ مجھے ٹیوب لائٹ کی روشنی میں چمکتا دمکتا نظر آیا۔ چچا جان نے غالباً پرانے طرز تعمیر کے مطابق حویلی بنائی تھی۔ اسلم بھائی ڈیوڑھی کے دروازے تک ہمارے ساتھ آیا اور وہاں سے واپس لوٹ گیا۔ گیٹ کھول کر ہم اندر داخل ہوئے چچا جان امجد کے امی ابو اور بہنیں تمام ہمارے انتظار میں صحن میں کھڑے تھے۔ مکان وہی تھا مگر مکین بدل گئے تھے،تباہ ہونے کے باوجود مٹی کا مکان دوبارہ اپنی اصلی حالت بلکہ اس سے بھی بہتر حالت میں تعمیر ہو گیا تھا مگر اس کے مکین واپس نہیں آ سکتے تھے۔ میرے اندر عجیب سی بے چینی پھیل گئی تھی اور پھرچچا فاضل کی مہربان بانہوں میں آ کر میری بے چینی کو ذرا سا سکون ملا۔
”پتر !....کیا رہا؟“ اس نے شفقت سے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا۔
”اﷲ نے کامیاب کیا ہے۔“ میں آہستہ سے بولا۔
چچا کے بعد میں امجد کے ابو سر فرازانکل اور آنٹی خدیجہ سے ملا امجد کو اس کی بہنوں نے گھیرا ہوا تھا۔ ملنے ملانے کا سلسلہ ختم ہوتے ہی ہم صحن میں بچھی چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔ موسم کافی خوشگوار ہو گیا تھا۔ سردیوں کی آمد آمد تھی۔
خدیجہ آنٹی ہمارے لیے کھاناگرم کرنے کے لیے کچن میں گھس گئیں۔ چچا فاضل مجھے مخاطب ہو ا۔
”پتر !....تم بیٹھو مت اپنے مہمان سے جا کر مل آﺅ۔ بلکہ اسے ادھر ہی لے آو تاکہ وہ بھی تمھارے ساتھ کھانا کھالے۔“
”میرا مہمان؟“ میرے لہجے میں حیرانی تھی۔
”ہاں ہاںتمھارا مہمان۔“
”کون ہے ؟“
”خود جا کر دیکھ لو تمھارے کمرے میں ہو گا۔ کوئی پرانا دوست ہے تمھارا۔“ اور میں بے پناہ تجسس لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ اس گھر کا چپہ چپہ میرا دیکھا بھالا تھا۔ چچا فاضل نے پچھلی تعمیر کے مطابق سب کچھ بنوایا تھا۔ وہ درو دیوار جن میں کبھی عدنان کے قہقہے گونجتے تھے ، سعدیہ کی پیار بھری سرگوشیاں سنائی دیتی تھیں، امی ابو کی شفقت اور ڈانٹ بھری نصیحتیں ملتی تھیں۔ بالکل خاموش تھیں۔ چچا فاضل کے سامنے سے ہٹتے ہی ان مانوس درو دیوار نے میرے دل میں عجیب سی رقت بھر دی تھی میں بہ مشکل اپنے آنسوﺅں کو رو کے اپنے کمرے دروازے تک پہنچا۔
یہ وہ دروازہ تو نہیں تھا جس نے میری جانِ حیات سعدیہ کے حیات آفریں ہاتھوں کا لمس چکھا ہوا تھا البتہ بناوٹ اور شکل کے لحاظ سے بالکل اس کے مشابہہ تھا۔ میں ایک لمحے دروازے کے سامنے رک کر اسے محبت بھری نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر آہستہ سے دروازہ کھول کراندر داخل ہوا۔ تمام کمرہ مجھے خالی دکھائی دیا مگر کمرے میں بکھری خوشبو کسی کی موجودی کا پتا دے رہی تھی اور یہ خوشبو میرے لیے انجان نہیں تھی البتہ اس خوشبو کو سونگھ کرجو نام میرے ذہن میں اُبھر رہا تھا وہ حیران کن ضرور تھا۔ میں نے دروازے سے چند قدم آگے بڑھائے۔مجھے شک تھا کہ کمرے میں موجود شخصیت باتھ روم میں چھپی تھی مگر میری یہ غلط فہمی اس وقت دور ہوئی جب مجھے پیٹھ پیچھے قدموں کی آواز آئی میں جھٹکے سے پیچھے مڑا لیکن وہ جو بھی تھا بلکہ تھی وہ بڑی شدت سے میرے ساتھ لپٹ گئی۔
”جان۔“ اس کے منہ سے نکلی مترنم مانوس آواز نے میرے کانوں میں رس گھولا۔
”شیتل تم؟“میں نے اسے زبردستی خود سے علاحدہ کر کے اس کا روشن چمکتا ہوا حسین و جمیل چہرہ دیکھا اورپھر اپنے ساتھ لپٹا لیا۔
”ہاں جان میں۔“ وہ عجیب وارفتگی سے بولی۔ ”میں تمھیں بھلا نہ پائی تمھارے بغیر رہ نہ سکی۔ تُم تو کل بھی میرے بنا جی سکتے تھے اور آج بھی تمھیں اس میں کوئی مشکل درپیش نہیں آئے گی۔ مگر میرے لیے یہ ممکن نہیں تھا“
میں مجرم ہوں مجھے اقرار ہے جرم محبت کا
مگر پہلے خطا پر غور کر لو پھر سزا دینا
”شیتل میری جان !.... تم اچھی طرح میری مجبوریوں سے واقف ہو۔ تم سے جدا ہو کرجب میں اپنے گاﺅں پہنچا اور جو کچھ مجھ پہ بیتی وہ میں تمھیں فون پربتا چکا ہوں باقی کی کہانی تمھیں چچا کی زبانی معلوم ہو گئی ہو گی۔ کیا تمھیں لگتا ہے کہ ان حالات میں مَیں تم سے کسی قسم کا وعدہ وعیدکر سکتا تھا۔“
”میں تو فقط ایک جھوٹی تسلی کی طلب گار تھی۔“اس نے اپنا سر ذرا سا پیچھے کرکے میری آنکھوں میں جھانکا اوردوبارہ اپنا سر میرے سینے پر رکھ دیا۔
” آج میں آزادہوںمیراچاند !.... اپنے سارے ضروری کام میں نے نمٹا لیے ہیں آج میں جھوٹ موت نہیں بلکہ سچائی سے ،یہ درخواست کررہا ہوں.... حالات سے لڑتے لڑتے میں ٹوٹ چکا ہوں، بکھر چکا اپنی محبت اور اپنے پیار سے مجھے سمیٹ لو۔“
” اسی لیے تو اپنا وطن چھوڑ کر آئی ہوں اور یہ جو تم بار بار مجھے شیتل کہہ کر پکار رہے ہو تو تمھاری اطلاع کے لیے عرض کردوں کہ اب میرا نام سعدیہ ہے۔“
اس کی بات سن کر میرے دل میں جو جذبات اٹھے انھیں لفظوں کا جامہ پہنانا مشکل تھا اور اس کام کے لیے میں نے الفاظ کی بجائے اعضاءکا سہارا لیاتھا۔
جانے کتنی دیرہم نے اسی محویت میں گزاری۔ دروازے پر ہونے والی دستک نے ہمیں ایک دوسرے سے دور ہونے پر مجبور کر دیا۔
دروازہ کھولے بغیر امجد چہکا۔ ”قبلہ اگر تعارف ہو چکا ہو تو چلیں غریب سا بندہ بھوکے پیٹ کھانے پر آپ کا منتظر ہے اور کھانا ایک مرتبہ ٹھنڈا ہو چکا ہے دوسری مرتبہ میں اسے ٹھنڈا نہیں ہونے دوں گا اور نہ تمھارے لیے تیسری مرتبہ گرم کیا جائے گا.... خداحافظ۔“
”یہ امجد ہے نا؟“ شیتل نے مسکراتے ہوئے تصدیق چاہی۔
”ٹھیک پہچانا۔“ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”چلو کھانا کھالیں۔“
کھانا کھانے کے دوران چچا فاضل نے بتایا کہ جیسے ہی ہم بنوں روانہ ہوئے تھے اگلے دن شیتل رحمن خیل پہنچ گئی تھی اور چند دنوں کے اندر ہی اس نے چچا فاضل، چچا سرفراز آنٹی خدیجہ اورامجد کی بہنوں کو اخلاق ،محبت اور خدمت سے اپنا گرویدہ کر لیا تھا۔ وہ کافی رقم ساتھ لائی تھی اور چچا فاضل سے بے پناہ اصرار کر کے اس نے حویلی پر کام شروع کرا دیا تھا۔ یہ اس کی خواہش تھی کہ حویلی کو پرانے طرز تعمیر پر بنایا جائے۔
کھانے کے بعد تمام لوگ غیر محسوس انداز میں ہمیں اکیلا چھوڑ کر غائب ہو گئے۔ ہم دونوں صحن سے اٹھ کر کمرے میں آ بیٹھے، رات گئے تک ہم باتوں میں مشغول رہے۔ شیتل مجھے میرے جانے کے بعد کے واقعات سنانے لگی۔ میرے انڈیا سے آتے ہی اس نے چوری چھپے اسلام قبول کر لیاتھا۔ اپنے باپ کی موت کے بعد زیادہ دن وہ فیکٹریوں کو نہ سنبھال سکی کہ تجربے کی کمی کے ساتھ اسے شوق بھی نہیں تھا۔ آخر کار دونوں فیکٹریاں اور جائیدادہ بیچ کر اس نے زیادہ تر پیسہ سوئیزر لینڈ کے ایک بینک میں جمع کرایا اور میرے لیے پاکستان آگئی۔ اس سارے کام میں شیش ناگ نے اس کی بہت مدد کی تھی۔ وہ برملا اسے اپنی بہن کہتا تھا اور شیتل کے بہ قول یہ سب کچھ اس نے میرے اس احسان کابدلہ چکانے کے لیے کیا تھا جو میں نے اسے زندہ چھوڑ کر کیا تھا۔
نیند ہماری آنکھوں سے کوسوں دور تھی مگر ہم ساری رات اکیلے کمرے میں اکٹھے نہیں گزار سکتے تھے بزرگوں کی موجودی ہمارے لیے بہت بڑی رکاوٹ تھی اور اس بات سے شیتل اچھی طرح واقف تھی۔ وہ بہ مشکل مجھے خدا حافظ کہہ کر امجد کی بہنوں کے کمرے میں سونے کے لیے چل دی۔
l l l
ایک ہفتے کے اندر اندر ہماری شادی ہو گئی۔ اپنی شادی میں مَیں نے بڑی یاد سے رضیہ میر نیاز خان کو بلایا تھا اور اس نے بھی بڑے اہتمام سے شادی میں شرکت کی تھی مگر شیتل کی شکل و صورت دیکھ کر اسے کوئی بات کرنے کی جرا¿ت نہ ہو سکی۔ البتہ آخری دن مجھے مبارک بار دینے کے بہانے میرے قریب آ کر اس نے فقط اتنا کہا۔
”جان!.... مبارک ہو۔ تم اپنے دعوے میں سچے نکلے۔“
میری شادی کے ایک ہفتے بعد امجد کی شادی بھی شہلا چودھری سے ہو گئی۔ میں نے اپنی آدھی زمینیں زبردستی امجد کے نام کر دی تھیں۔
شیتل بہت اچھی ، فرمانبردار اور محبت کرنے والی بیوی ثابت ہوئی۔ شادی کے ایک سال بعد ہی اس نے مجھے ایک پیارے سے بیٹے کا تحفہ دیا جس کانام اس نے بڑی چاہت سے عدنان رکھاتھا۔
عدنان کی پیدائش کے ایک مہینے بعد امجد اور میں چودھری اکبر کو دیکھنے کے لیے گئے تھے وہ لوہے کی ایک ریڑھی پر چیتھڑوں میں لپٹا ہوا پڑا تھا۔ اس کے زخم ابھی تک مندمل نہیں ہوئے تھے شاید جس بند ے کے حوالے ہم اسے کر کے آئے تھے وہ اس کے زخم ٹھیک ہونے دینا نہیں چاہتا تھا اور اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں تھی کہ اس حالت میں چودھری کو بھیک زیادہ ملتی تھی۔
اس ناگفتہ بہ حالت کے باوجود چودھری نے ہمیں دیکھتے ہی پہچان لیا تھا اس کی آنکھوں میں شناسائی کی چمک ابھری اور اس کے بعد اس کی آنکھوں میں نفرت کے بجائے التجا جھلکنے لگی اس کی آنکھوں کی تحریر پڑھنے میں ہمیں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ اس کی آنکھیں چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ
”عمر جان! مجھے معاف کر دو۔ میں نے بہت سزا کاٹ لی ہے۔ بہت اذیت برداشت کرلی ہے اب مجھے موت کی بھیک دے دو۔ بس بہت ہو چکا۔ تُم نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا اب زندگی بھی لے لو۔ میں تمھارا مجرم تھا تم نے اپنی پسندیدہ سزا سے مجھے ہم کنار کیا اسے میں زیادتی تو نہیں کہتا لیکن اگر زیادتی ہے بھی سہی تب بھی میں تم سے کوئی گلا نہیں کرتا بس مجھے موت کا تحفہ دے دو خدا تمھاری عمر دراز کرے تمھارے بیوی اور بچوں کو تمھاری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔ اب مجھے معاف کر دو، معاف کر دو۔ معاف کرو۔“
مگر ہم پر اس کی یہ التجائیں اثر نہ کر سکیں۔ اس کے بعد ہم نے ہر چھے ماہ بعد اس کے پاس جانے کا معمول بنا لیا اور پھر وہ ہمارا پانچواں چکر تھا جب میں اس کی خاموش التجاﺅں کو نہ ٹال سکا اور بازار سے مٹھائی خرید کر میں نے اس میں زہر ملایا۔ اس کی ریڑھی کے نزدیک پہنچ کر میں نے اس میں چند سکے ریز گاری پھینکی اور مٹھائی کی ڈلی جیب سے نکال کر اس کے منہ کی طرف بڑھائی۔ ”یہ لے چودھری تمھارے دکھوں کا اختتام کرنے والی مٹھائی ہے۔“
چودھری نے شکر گزار نظروں سے میری جانب دیکھا اور مسکراتے ہوئے منہ کھول لیا۔ اڑھائی سالوں میں یہ پہلی مسکراہٹ تھی جو اس کے لبوں پر ابھری تھی۔ چونکہ اس کی سماعت ٹھیک تھی اس لیے میں نے اسے آگاہ کرناضروری سمجھا تھا کہ وہ اپنے آخر وقت سے بے خبر نہ رہے۔ اس کے مٹھائی نگلتے ہی ہم تیزی سے وہاں سے پھوٹ لیے کیوں کہ مٹھائی میں بہت زور دار زہر ملا ہوا تھا۔ وہ دن ہوٹل میں گزار کر جب اگلے دن ہم واپسی کے لیے بس اڈے پہنچے تو چودھری والی جگہ پر ایک نابینا فقیر بیٹھا نظر آیا۔ چودھری اپنے اعمال کے ساتھ اپنے خالق حقیقی کے پاس پہنچ گیا تھا۔
l l l
چند سالوں بعد ہی امجد اور میں چار چار بچوں کے باپ بن گئے تھے۔
وہ دوپہر کا وقت تھا میں زمینوں کا چکر لگا کر لوٹا۔ ہاتھ منہ دھو کر جیسے ہی میں چارپائی پر بیٹھا سعدیہ نے (شیتل) لسی کا کٹورا، روٹیوں کا چھابہ اور سالن میرے آگے رکھ دیا۔ گھر میں ملازما موجود ہونے کے باوجود وہ میرے تمام کام اپنے ہاتھوں سے کرنا پسند کرتی اتنے سال گزر جانے کے باوجود اس کی محبت میں مجھے کوئی کمی یا ٹھہراﺅ نظر نہیں آیا تھا بلکہ اس کی محبت روز بہ روز بڑھتی جا رہی تھی۔
”جان !....پتا ہے شہلا باجی اور امجد بھائی نے فصل کٹائی کے بعد مری جانے کا پروگرام بنایا ہوا ہے۔“ میں نے پہلا نوالا ہی منہ میں رکھا تھا کہ وہ آہستہ سے بولی۔
”پھر ؟“ میں نوالہ چباتے ہوئے مستفسر ہوا۔
”اگر ہم بھی ان کے ساتھ....؟ “
”نہیں ہم ادھر نہیں جائیں گے۔“ اور پھر اس کی شکوہ کرتی نگاہوں کو دیکھ کربولا۔
” ہم انڈیا جائیں گے۔ ٹھا کرچا چا، شیش ناگ اور تمھارے دوسرے رشتا داروں کو ملنے۔“
”سچ جان۔“ وہ خوشی سے لرزتی ہوئی مجھ سے لپٹ گئی۔
”ہاں شیتل !....بالکل سچ۔“میں مسکراتے ہوئے بولا۔ میں اسے سعدیہ سے زیادہ شیتل کہہ کرمخاطب کرتا کیوں کہ مجھے معلوم تھا وہ میرے شیتل کہنے پر زیادہ خوشی محسوس کرتی ہے۔
”پورا ہفتہ وہاں رہیں گے۔“اس نے امید بھرے لہجے میں پوچھا۔
میں شرارت سے بولا۔”میرا ارادہ تومہینا رہنے کا ہے ،تم بے شک ہفتے بعد واپس آ جانا۔“
”جان!....“وہ چیختے ہوئے مجھ سے لپٹی اور میرے کاندھے پرسر رکھتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔
(ختم شد)
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top