خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Romance دلہن ایک رات کی ۔۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
1,166
Reaction score
56,337
Location
Karachi
Gender
Male
ارے یہ تم دلہن بن کر کہاں کی تیاری کر رہی ہو؟ کہی یہاں سے بھا گنے کا ارادہ تو نہی کر لیا ؟
اپنے ایسے نصیب کہاں ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے مقدر میں تو اس کو ٹھے کی چار دیواری لکھی گئی ہے جس سے میں چاہوں بھی تو دور نہی بھاگ سکتی۔
بھاگ کر جاوگی بھی کہاں روشنی ؟
وہ اپنے لیے گھنے سیاہ بال کندھے سے کمر پے جھٹکتی ہوئی ہوئی اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔ آج کے اس دور میں تو عورت گھر کی چار دیواری میں اپنوں میں محفوظ نہی اور تم یہاں سے
باہر جانے کا سوچ رہی ہو۔
سوچنا بھی مت روشنی ۔ ۔ ۔ اس دور ہمارے اپنے ہی ہمارے دشمن بن چکے ہیں ۔ خود کو ہی دیکھ لوماں باپ کے گزرنے کے بعد شوہر نے دوسری شادی کرلی اور اولاد نہ ہونے کا طعنہ دے کر گھر سے نکال دیا ۔
اسی لیے مجھے نفرت ہے مرد کے نام سے ہی مرد مطلبی اور جسم کا بھوکا ہے ۔ ۔ ۔ مرد کو بستر پر عورت ایسی چاہیے جس کے سب طلب گار ہو اور گھر میں بیوی پاکیزہ چاہتا ہے جس کا ماضی پاک ہو لیکن مرد یہ نہی سوچتا کہ اگر وہ خود کو بدل لے تو کسی بھی عورت کا دامن داغدار
نہ ہو۔
کوئی مرد سے کیوں نہی پوچھتا کہ تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ تمہارا دامن پاک ہے ؟ ارے مرد زناہ بھی کرلے ناں تو اسے معافی ہے کیونکہ وہ مرد ہے ، مرد ہے تو بہکنا واجب ہے اس پر اور عورت کی ایک غلطی اس کے لیے ساری زندگی گلے کا کانٹا بن جاتی ہے جو نہ حلق سے نیچے اترتا ہے اور نہ باہر آتا ہے ۔ ۔ ۔ بس اسی لیے نفرت ہے مجھے دنیا کے ہر
مرد ہے ۔
بس کریں رملہ بی بی ۔۔۔ اتنی نفرت اچھی نہی ہوتی کل کو آپ کو بھی بیاہ کر جانا ہے کسی مرد کے ساتھ اگر اتنی نفرت دل میں رکھیں گی تو زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا آپ کے لیے ۔ ہونہہ ۔ ۔ ۔ رہنے دو روشنی مجھے نہی جانا کسی مرد کے ساتھ بیاہ کر کے میں تو یہی رہوں گی اور اسی کو ٹھے کی زینت بنوں گی۔
اس دنیا کے مردوں سے اچھے تو یہ گھنگھرو ہیں جو نہ تو بے وفائی کرتے ہیں اور نہ ہی چھوڑ کر جاتے ہیں ، جن پیروں کی زینت بن جائیں اسی کے ہو جاتے ہیں۔ کسی دوسرے پیر
میں جانا بھی چاہیں تو اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں ۔
اللہ نا کرے بی بی جی ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ آپ کو اس گند بھری زندگی سے محفوظ رکھے آمین ۔ رہنے دو روشنی مجھے ایسی دعا نہ دو جس کا میں مان نہ رکھ سکوں ، اگر آج میرا باپ میرے سر پر ہو تا تو شاید میں تمہاری دعا پر آمین کہتی لیکن اب نہی کہہ سکتی کیونکہ جو باپ اپنی بیٹی کے سر پر شفقت کا ہاتھ نہی رکھ سکے ، اپنی بیٹی کو دنیا کے سامنے بیٹی نہ کہہ سکے ایسے باپ سے
تو میں بن باپ کے ہی اچھی ہوں ۔ اگر میری ماں کو ذلت کے اس گڑھے سے نکالنے کا وعدہ کیا ہی تھا اس نے تو پورا نبھاتا مگر نہی۔ اس کے لیے میری ماں سے نکاح کرنا تو آسان تھا مگرا اپنے گھر کی زینت بنانے سے ڈر گیا کیونکہ وہ ایک عزت دار خاندان کا وارث تھا اور میری ماں اس کیچڑ کا داغ
تھی۔
یہ عزت دار خاندانوں کے مرد ہم جھیوں کو بستر تو سجا سکتے ہیں مگر گھر نہی بسا سکتے ۔ ۔ ۔ ۔ گھر بسانے کے لیے تو انہیں ایک عزت دار عورت چاہیے جو بس ان کی ہو کر
رہے کسی اور خیال بھی ان پر حرام ہو اور خود چاہے دنیا کی ہر عورت پر نظر رکھ لیں انہیں
کوئی خوف خدا نہی ۔ میں تو یہ سوچتی ہوں کہ عورتیں پتہ نہیں کیسے مرد کی بے وفائی پر خاموش رہ لیتی ہیں صرف اس کے لیے کہ ان کا گھر نہ خراب ہو جائے ان کے دامن پر طلاق کا دھبہ نہ لگ جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ارے ایسی عورتوں کو تو ڈوب کر مر جانا چاہیے ۔ یہ خود مرد کو آزادی دیتی ہیں اور پھر کونوں میں منہ چھپا چھپا کر روتی ہیں۔
بی بی ابھی آپ کم عمر ہیں۔ ان باتوں کو نہی سمجھ سکتی، عزت کی روٹی زلت کی اس زندگی سے لاکھ گنا بہتر ہوتی ہے ۔ منافق مرد جیسا بھی ہو لیکن اپنی بیوی کی طرف اٹھنے والی ہر غیر نگاہ اس کا سینہ چیر سکتی ہے ، میرے شوہر نے طلاق مجھے خود نہی دی تھی بلکہ اپنی ماں اور بہنوں کے دباو میں آگیا تھا اور میرے بھائی نے مجھے اس لیے پناہ نہی دی کیونکہ میرے دامن پر بدکرداری کا دھبہ تھونپ دیا گیا تھا طلاق کی وجہ بنا کر ۔ ضروری نی که بر مرد ایسا ہو، میری زندگی جیسی بھی گزری گزر گئی لیکن آپ اپنے لیے ایسی زندگی کی دعا کبھی مت کرنا یہاں مرد عورت کو صرف گوشت کی دکان سمجھتے ہیں ، آتے ہیں جسم نوچتے ہیں اور ایک غسل سے خود کو پاک کر لیتے ہیں لیکن ہم عورتیں
اپنا نامہ اعمال گناہوں سے بھرتی جا رہی ہیں ، پتہ نہی کس منہ سے جائیں گی خدا کے سامنے دستہ نہی ہماری بخشش ہوگی بھی یا نہی ؟
صرف اور صرف اس پیٹ کی خاطر ہم خود کو ان حوسی بھیڑیوں کی سپر د کر دیتی ہیں جن کے
دل شاید ہیتھر ہو چکے ہیں۔
لیکن ایک بات تو صاف ہے روشنی ۔ ۔ ۔ ۔ رملہ نے روشنی کی بات درمیان میں ہی کاٹ
دی۔
یہاں جو مرد آتے ہیں وہ تمہارا جسم نوچتے ہیں : اذیت دیتے ہیں مگر ان کے جانے کے بعد تمہیں کوئی افسوس نہی ہوتا کیونکہ تمہیں ان سے کوئی امید ہی نہی ہوتی اس لیے میرے
خیال سے یہ زندگی زیادہ بہتر ہے ۔ تو بہ کریں بی بی جی ۔۔۔ اللہ آپ کو اس ذلت سے بچانے میں تو دن رات یہی دعائیں کرتی ہوں کہ کوئی نیک انسان آئے اور آپ کو یہاں سے لے جائے, ضروری نہی کہ ہر مرد ہی ایسا ہو اب اس کو ہی دیکھ لیں جو آج آنے والا ہے ۔
ہر سال آج کے دن یہاں آتا ہے اور اس کی ڈیمانڈ ہوتی ہے بس ایک دلہن جو پوری رات گھونگھٹ اوڑھے کمرے میں اس کے سامنے بیٹھی رہی ۔ پچھلے تین سال سے یہ سلسلہ چل رہا ہے لیکن مجال ہے جو اس نے آج تک مجھے ہاتھ بھی لگایا ہو۔
بس چپ چاپ فرش ہے بیٹھ کر شراب پیتا رہتا ہے ۔ پتہ نہی کس بات کی سزا دیتا ہے خود کو۔
دیکھنے میں تو کسی اچھے گھر کا لتا ہے لیکن پتہ نہی کیا حادثہ ہوا ہے اس کے ساتھ جو وہ ہر سال ایسا کرتا ہے اور یہاں آتا بھی بس اسی دن ہے ۔
اچھا ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کہانی تو پہلے کبھی نہی سنی روشنی، رملہ نے جیسے اس کی بات کا مزاق بنایا۔ روشنی نے افسوس سے سر بلایا ۔ ۔ ۔ یہ کہانی نہی حقیقت ہے رملہ بی بی, واقعی وہ ایک
غیرت مند مرد ہے ۔
اس ایک رات کی بہت بھاری قیمت ادا کرتا ہے بواجی اگر چاہے تو کچھ بھی کر سکتا ہے لیکن میرا خدا گواہ ہے کہ اس نے آج تک مجھے دیکھا تک نہی۔
میں جس طرح رات کو جاتی ہوں اسی طرح صبح کمرے سے واپس آتی ہوں۔ میں تو خود حیران ہوں کہ آج کے دور میں ایسے مرد بھی موجود ہیں ۔ بس کر دو روشنی کم از کم اسے غیرت مند تو مت بولو اگر اتنا ہی غیرت مند ہوتا تو کبھی کوٹھے پر نہ آنا دل لگی کے لیے کوئی اور ذریعہ ڈھونڈلیتا، بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ دل بہلانے کے لیے اسے کرایے کی دلہن کا ہی سہارا لینا پڑا۔
پتہ نہی کیا مجبوری ہے بیچارے کی جو اتنی چھوٹی سی عمر میں خود کو روگ لگا کر بیٹھ گیا ۔ خیر
ہمیں کیا ؟
مجھے باتوں میں لگا دیا آپ نے مجھے تیار ہونا تھا۔ یہ سرخ جوڑا مجھے دو روشنی، آج تمہاری جگہ میں دلہن بن کر جاوں گی اس کے کمرے میں۔ زرا میں بھی تو دیکھو آخر کون ہے وہ غیرت مند مرد ۔ ۔ ۔ آج کے دور میں اتنا نیک انسان
کہاں سے آگیا ۔
آپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے بی بی ہی ۔ ۔ مجھے مروانا ہے آپ نے بوا جی سے۔ اگر انہیں پتہ چل گیا ناں تو آج کی رات میری زندگی کی آخری رات ثابت ہو گی ۔ ۔ ۔ ۔ روشنی اس کے ہاتھ سے انکا جھپٹتی ہوئی بولی۔
کچھ نہی ہو تا روشنی تم یہ مجھے دو اور تیار کرو مجھے ۔ ۔ ۔ اماں کی فکر مت کرو ویسے بھی وہ شہر
سے باہر ہیں اتنی جلدی نہی آنے والیں ۔ ان کا کچھ پتہ بھی نہی ہے رملہ بی بی وہ کب آجائیں، میں اتنا بڑا دھوکا نہی دے سکتی انہیں, آپ نے صبح یو نیورسٹی واپس جانا ہے اپنی پیٹنگ کریں اور پڑھائی پر دھیان دیں۔ ان سب کاموں کاموں میں پڑنے کی ضرورت نہی ہے آپ کو ۔
آج نہی تو کل ان کاموں میں پڑنا ہی ہے روشنی تو آج کیوں نہی ؟
آخر تمہیں ڈر کس بات کا ہے اماں کا یا پھر اس بات کا کہ وہ میرے ساتھ کچھ غلط نا کر دے ؟
دونوں کا ڈر ہے مجھے بی بی جی ۔
اچھا ۔ ۔ ۔ ابھی تو تم کہہ رہی تھی کہ وہ بڑا غیرت مند ہے تمہاری طرف کبھی آنکھ اٹھا کر نہی دیکھتا اور اب کہہ رہی ہو کہ ڈرلگ رہا ہے ۔
وہ اس لیے بی بی جی کہ آپ جوان ہو اور خوبصورت بھی لیکن میری تو عمر ہو گئی کہی اس کی
نیست بدل گئی تو ؟
آپ میں بھی اتنی پیاری کے کوئی بھی آپ کو دیکھ کر ڈگمگا جائے وہ تو پھر نشے میں ہو گا ۔ ۔ ۔ آپ خدا کے لیے مجھے یہ لہنگا واپس کر دیں اور اپنے کمرے میں جائیں ۔ نہی روشنی ۔ ۔ ۔ ایک بار جو میں نے سوچ لیا وہ کیے بغیر اپنے قدم پیچھے نہی بٹاتی ہیں ، تم مجھے تیار کرو جلدی اور اس کمرے میں پہنچاو۔
میرے کمرے میں میرے موجود نہ ہونے کا کسی کو پتہ نہ چلے یہ زمہ داری بھی تمہاری ہے۔
لیکن بی بی جی ۔ ۔ لیکن ویکن کچھ نہی روشنی میں یہ پہن کر آ رہی ہوں ۔ ۔ ۔ زبر دستی لہنگا اٹھائے واش روم چلی گئی اور کچھ دیر بعد باہر آکر ڈریسنگ کے سامنے بیٹھ گئی ۔
کرو مجھے تیار ۔ ۔ ۔ ۔ انداز حکمانہ تھا۔
روشنی بے بسی سے آگے بڑھی اور اسے تیار کرنے میں مصروف ہو گئی۔ ایک بار پھر سوچ لیں بی بی جی اگر کچھ ہو گیا ناں تو اس کا انجام ہم دونوں کے لیے بہت بھیانک ہو گا ۔ جب روشنی اسے تیار کر چکی تو اسے روکنے کی ایک آخری کوشش کی مگر
رملہ نے گھونگھٹ چہرے پر گرالیا ۔
چلو روشنی مجھے اس کمرے میں چھوڑ دو چپ چاپ اور میرے کمرے میں جا کر میرے بستر پر لیٹ جاو تا کہ اگر کوئی آبھی جائے تو ٹینشن نہ ہو۔
روشنی کو بازو سے کھینچتی ہوئی کمرے سے باہر لے گئی اور روشنی نے ڈرتے ڈرتے مطلوبہ کمرے کا دروازہ کھول کر اسے اندر جانے کو بولا اور خود تیزی سے رطلہ کے کمرے میں چلی
گئی۔
یہ کسی کو ٹھے کا کمرہ ہے یا دلہن کا ؟
رملہ حیرت زدہ سی کمرے کی سجاوٹ پر نظر ڈالتی ہوئی بیڈ پر بیٹھ گئی حد ہے ویسے عجیب شوق
میں ان امیر زادوں کے ۔
یہی پیسہ کسی غریب کی بیٹی کو دے دیتا بھلا ۔ کسی کا بھلا ہو جاتا۔
موبائل کا کیمرہ آن کرتے ہوئے اپنی چند تصاویر بنائیں اور پھر دروازے کے باہر قدموں کی آہٹ سن کر تیزی سے فون تکیے کے نیچے چھپایا اور گھونگھٹ اوڑھے بیٹھ گئی۔ کمرے کا دروازہ کھلا اور وہ کالی شلوار قمیض پہنے کندھوں پر شال پھیلائے رملہ کی طرف دیکھے بغیر چپ چاپ صوفے پر بیٹھ گیا۔ ارسلہ سر جھکائے بیٹھی رہی اس کے دل کی دھڑکن بڑھ چکی تھی ، آج پہلی با روہ کسی انجان مرد کے ساتھ ایک بند کمرے میں موجود تھی جس کی موجودگی اسے کسی انجانے خوف میں
گھیرا چکی تھی۔
وہ صوفے سے اٹھ کر بیڈ کی طرف بڑھا اور رملہ کا تو جیسے سانس ہی اٹک گیا ہو ، دم سادھے اس کے قدم بیڈ کی طرف بڑھتے دیکھنے لگی اور تھر تھر کانپنے لگ گئی۔

وہ جیسے جیسے قریب آتا گیا رملہ کے ہاتھ پیر سن ہوتے گئے ۔ ۔ اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے
سانس ہی گلے میں اٹک گئی ہو ۔
وہ بیڈ کے قریب آیا لیکن سائیڈ ٹیبل پر پڑا کیلنڈر ٹھیک کرتے ہوئے آج کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہوئے واپس صوفے پر چلا گیا اور رملہ کی جان میں جان آئی۔

شکر ہے یہ واپس چلا گیا اور نہ مجھے تو لگا تھا کہ میں گئی۔ آپ کو لگا شاید میں آپ کی طرف آرہا تھا ؟
اس کی آواز پر رملہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا لیکن چہرے سے گھونگھٹ نہی اٹھایا۔ وہ ایک خوبصورت نوجوان تھا، نظریں میز پر جھکائے بوتل اٹھا کر گلاس میں انڈ لیتے ہوئے
گلاس ہو نٹوں سے لگائے مسکرایا۔
مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہی ہے ۔ آپ آرام سے سوجائیں ۔
رملہ حیرت زدہ سی اس کے چہرے کو دیکھتی رہ گئی ۔ روشنی کی بات سچ تھی وہ واقعی ایک غیرت مند مرد تھا ۔ ۔ ۔ ۔ چاہتا تو کچھ بھی کر سکتا تھا لیکن وہ تو بات بھی اتنی عزت سے کر رہا
تھا جیسے سامنے واقعی اس کی بیوی بیٹھی ہو۔
کچھ دیر کمرے میں خاموشی رہی لیکن جب رملہ بیٹھ بیٹھ کر تھک گئی تو چہرے سے گھونگھٹ
ہٹا دیا اور اس کی طرف متوجہ ہوئی ۔
آپ کیوں کرتے ہیں یہ سب ؟
رملہ کے سوال پر وہ تھوڑا چونک سا گیا لیکن اس کی طرف دیکھا ابھی بھی نہی نظریں جھکائے
مسکرا دیا۔
بس کچھ مجبوری ہے میری ۔۔۔ مختصر سا جواب دیا۔

ایسی بھی کیا مجبوری ہے جو آپ ہر سال اسی تاریخ کو ایک دلہن کی ڈیمانڈ کرتے ہیں جو آپ کے انتظار میں بیٹھی ہو, آپ آئیں اور اسے بنا کوئی تعلق نبھائے یہاں سے چلے جائیں۔ بہت سنا تھا آپ کے بارے میں اور جب سنا تب یقین نہی آیا کہ آج کے دور میں ایسا بھی کوئی مرد ہے ۔ جو تنہائی کے باوجود ایک خریدی ہوئی عورت پر ترس کھائے اور اتنی بھاری
رقم فقط ایک دلہن کی موجودگی کی ادا کرے ۔
"آخر ایسی کیا مجبوری ہے آپ کی ؟ "
میں بتا نا ضروری نہی سمجھتا ، میری ذاتی زندگی پر تبصرہ کرنے کی اجازت کسی کو نہی دی میں نے آج تک ۔ ۔ ۔ آپ کا جو کام ہے آپ وہ کریں ۔
اس کے بدلتے لہجے پر رملہ لب بھینچ کر رہ گئی۔ آپ میری طرف دیکھ کر بات کیوں نہی کر رہے ؟
رملہ کے اس سوال نے اسے رملہ کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا ۔ ۔ ۔ ٹکٹکی لگائے اس کے
چہرے کو دیکھتا رہ گیا ۔ اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر رملہ کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا ۔ ۔ ۔ ڈر کر خود میں سمت سی گئی۔ اس کی نظروں کی تپش اسے سلگا رہی تھی۔ نظریں جھکائے اپنے دونوں
ہاتھ مظبوطی سے ایک دوسرے میں پیوست کیے ۔

اب نظریں کیوں جھکا لی آپ نے ؟
میری آنکھوں میں دیکھ کر بات کریں ۔ ۔ ۔ رملہ کو کنفیوزڈ ہوتے دیکھ کر گہری سنجیدگی سے
بولا۔
آپ اگر اس طرح غصے سے دیکھیں گے تو مجھے خوف آرہا ہے آپ سے ۔ ۔ ۔ وہ نظریں
جھکائے ہی بولی ۔
رملہ کے جواب پر وہ مسکرا دیا اور نچلا ہونٹ دانتوں میں دبایا۔
خوف وہ بھی مجھ سے ؟
سچ کہوں تو اب مجھے بھی خود سے خوف آتا ہے ۔ پھر سے نظریں جھکائے بولا۔ میری تنہائی میری سب سے بڑی دشمن بنتی جا رہی ہے اور میں چاہ کر بھی اپنے لیے کچھ نہی کر سکتا ، ہر سال یہ رات مجھے بہت اذیت دیتی ہے ۔
ایسی اذیت جس سے میں بھاگ نہی سکتا ۔ ۔ ۔ بہت بے بس محسوس کرتا ہوں خود کو ایسے لگتا ہے جیسے یہ اذیت مجھے پورا سال جکڑے رکھتی ہے اور آج کی رات مجھے ہمیشہ کے لیے
خاموش کر دے گی۔
میرا دل ڈر سا جاتا ہے ۔۔۔ اپنے ہی گھر میں اپنے ہی کمرے میں خوف محسوس کرتا ہوں میں, ایسا لگتا ہے وہ یہی ہے اور مجھ سے حساب مانگے کی میری بے وفائی کا ۔

سمجھ نہی آتا کہ آخر کب یہ سلسلہ تھمے گا ۔ میں ایک ناکردہ گناہ کی سزا بھگت رہا ہوں اور شاید
صدیوں تک بھگتا رہوں گی ۔
ہوتا ہے ۔۔۔۔ مطلب آپ بھی بے وفا مردوں کی فہرست میں شامل ہیں، میرا اندازہ سہی
تھا ۔ ۔ ۔ آپ مرد ہوتے ہی بے وفا ہو۔
رملہ کے طنزیہ جملے اس کے کانوں میں کانٹوں کی طرح تھے ۔ ۔ ۔ ہاتھ میں تھامے شیشے کے گلاس کو اتنی زور سے دبایا کہ گلاس چکنا چور ہو گیا اور فرش پر بکھر گیا۔
رملہ ڈر کر خود میں سمٹ گئی ۔ ۔ ۔ اس کی حالت دیکھ کر اب واقعی اس پر خود طاری ہو گیا۔
اس کے ہاتھ سے بہتا خون دیکھ کر تو جیسے اس کے خوش ہی اڑ گئے ۔
وہ خاموشی سے اپنے ہاتھ کو دیکھتا رہا اور پھر جیب سے ایک رومال نکال کر زخم پر باندھ لیا ۔ کوٹھے پر آنے والا ہر مرد بے وفا نہی ہوتا " ۔ ۔ ۔ ۔ رملہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا اور اٹھ
کر اس کے پاس آگیا ۔ " یقین" ۔ ۔ ۔ کہنے کو تو بس ایک معمولی سا لفظ ہے لیکن کبھی کبھی یہ معمولی سا لفظ آپ کو زندگی بھر شرمندگی کے دلدل میں دھنسا دیتا ہے ۔ جہاں سے نا تو آپ بھاگ سکتے ہیں اور نہ
ہی وہاں رہنا آپ کے بس میں ہوتا ہے۔
دایاں ہاتھ رملہ کی گردن پے مظبوطی سے رکھتے ہوئے اس کے چہرے کے قریب ہوا۔

اس کی درد بھری آنکھیں ، اذیت سے بھر الہجہ اور اتنی قربت ۔ ۔ ۔ رملہ کو اپنی دھڑکن
کانوں میں سنائی دی۔
کبھی۔
سوچا ہے کتنی اذیت ملتی ہے اس مرد کو جو بے گناہ ہوتے ہوئے بھی سزا کا حق دار
ٹھرے ؟
کبھی سوچا ہے کتنی در دو دیتی ہے وہ تنہائی جو آپ کے سب سے دلعزیز شخص نے آپ کے
لیے چنی ہو ؟
سوچا ہے کبھی ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
بستر سجانا آسان ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مگر کسی کے دل میں چھپے درد کی گہرائی جاننا آسان نہی
ہوتا
ایک طنزیہ جملہ بولتے ہوئے رملہ کو چھوڑتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا اور دونوں ہاتھ چہرے لیے رکھتے ہوئے گھر میں سانس لیتے ہوئے اپنے بال مٹھی میں جکڑ کر واپس صوفے پر بیٹھ
گیا۔
رملہ اپنی گردن پر اس کی انگلیوں کا دباو ابھی تک محسوس کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ درد کی اذیت اور اس کے طنزیہ جملے نے اسے اس کی اوقات یاد دلا دی تھی۔
I am sorry
۔۔۔۔

پھر سے صوفے سے اٹھ کر رملہ کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا۔
رملہ مسکرا دی ۔ ۔ ۔ سہی کہا آپ نے کہ بستر سجانا تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن کسی کا درد محسوس کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن ایک بات میں بھی آپ کو بتا دوں کہ کوٹھے کی چار دیواری میں آنکھ کھولنے والی ہر لڑکی طوائف نہی ہوتی"
مجھے پتہ چلا تھا آپ کے بارے میں تو سوچا آپ کے درد کی گہرائی جاننے کی کوشش کروں اسی لیے اپنی جان ہتھیلی پے رکھ یہاں آگئی ۔ ۔ ۔ سوچا دیکھوں تو سہی آخر ایسا کونسا مرد آ رہا ہے اس کوٹھے پر جس کی ڈیمانڈ بس ایک دلہن ہے اور دلہن بھی ایسی جسے وہ ہاتھ تک
نہی لگائے گا۔
بہت چرچے سنے تھے آپ کی تربیت کے ۔ ۔ ۔ سوچا اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لوں ۔
تو کیا تھا ہے آپ کو کہ میں یہاں جسمانی خواہش کے لیے ہی آسکتا ہوں؟
رملہ کی باتوں پر بے یقینی سے اس کی طرف پلٹا اور سوال کیا ۔
ہاں ۔۔۔ حقیقت میں تو یہاں آنے والے ہر مرد کی یہی خواہش ہوتی ہے ۔ وہ جواب دے کر اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو
پو چھتی ہوئی چہرہ دیوار کی طرف موڑ کر بیٹھ گئی۔ اور اگر میری جگہ کوئی اور مرد ہوتا اور آپ کی اس خوبصورتی پر فدا ہو کر اپنی خواہش کی تکمیل
کے لیے قدم بڑھاتا تو کیا کر تیں آپ ؟

میری ایک آواز پر سب یہاں جمع ہو جاتے اور اسے دوبارہ یہاں آنے کے قابل نہی
چھوڑتے ۔
اچھا ۔ ۔ ۔ ۔ رملہ کے جواب پر وہ طنزیہ مسکرایا ۔
یہ کوٹھا ہے آپ کا گھر نہی میڈم ۔ ۔ ۔ یہاں آنے والا آپ پر حق جتانے کی پوری قیمت چکا کہ یہاں تک پہنچتا ہے اور آپ کی آواز اس کمرے کی چار دیواری سے باہر پہنچنے تک کی مہلت نہ دیتا آپ کو "ہر مرد ملک ہمدان نہی ہوتا ، ، ، یا درکھئیے گا میری بات ۔ اگر آپ واقعی ایسی نہی ہیں تو اپنی عزت کی حفاظت کریں اور دوبارہ بھول کر بھی ایسی غلطی مت کرنا جس سے زندگی بھر کا پچھتا واملے ۔
اگر اس غلیظ جگہ پر رہتے ہوئے بھی آپ کی عزت محفوظ ہے تو آپ بہت خوش قسمت ہے۔ ۔ ۔ میری دعا ہے کہ آپ کی عزت ہمیشہ ایسے ہی محفوظ رہے ۔
ونوں ہاتھ آگے بڑھائے اور اس کے چہرے پر دوبارہ گھونگھٹ اوڑھاتے ہوئے اپنا فون, وائلٹ اور کیز اٹھاتے ہوئے چہرہ شال میں چھپائے کمرے سے باہر نکل گیا۔
رملہ حیرت زدہ سی اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی ۔ کچھ دیر انتظار کرتی رہی لیکن وہ واپس نکل آیا تو وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور روشنی کے گلے لگ کر رودی۔
کیا ہوابی بی جی سب ٹھیک تو ہے ؟
 
اتنی جلدی واپس کیسے آگئیں آپ وہ تو صبح جاتا ہے ۔
کہی اس نے آپ کے ساتھ کچھ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی کی بات روشنی نے ادھوری چھوڑ دی ۔ نہیں روشنی ۔ ۔ ۔ رملہ سر نفی میں ہلاتی ہوئی اس سے الگ ہوئی اور اپنی جویلری اتارنے کے
لیے ڈریسنگ کے سامنے بیٹھ گئی ۔
تم سہی کہہ رہی تھی روشنی ۔ ۔ ۔ " وہ واقعی ایک غیرت مند مرد تھا ۔ ۔ ۔ اس کی آنکھوں میں حیا تھی, وہ جلدی چلا گیا ۔ ۔ ۔ شاید کچھ دیر اور وہاں رہتا تو خود کو بہکنے سے روک نہ پاستا ، میری
عزت ہمیشہ محفوظ رہنے کی دعا دے کر بنا لیٹے چلا گیا۔
آپ نے گھونگھٹ ہٹا یا ہی کیوں تھا بی بی جی ۔ ۔ ۔ ؟ میں تو ایسے چپ چاپ بیٹھی رہتی تھی جیسے میں وہاں ہوں ہی نہیں اور آپ نے گھونگھٹ اٹھا کر اس سے بات بھی کر لی اگر کچھ ایسا ویسا ہو جاتا تو کیا جواب دیتی آپ بوا جی کو ؟
ایسا ویسا کچھ نہ ہو شاید اسی لیے وہ وہاں سے چلا گیا ۔ ۔ ۔ میں تو آزما رہی تھی اسے اور وہ اپنی
آزمائیش پر پورا اترا ۔ اگر چاہتا تو کچھ بھی کر سکتا تھا لیکن اس نے نہیں کیا ۔ ۔ ۔ نظریں چراتا ہوا وہاں سے نکل گیا اور یہی ثبوت ہے اس کے غیرت مند ہونے کا ۔

وہ کوٹھے پر آتا ضرور ہے لیکن جسمانی خواہشات کی تکمیل کے لیے نہی بلکہ اپنے ماضی سے
بچنے کے لیے ۔
کچھ تو ہوا تو آج کی رات اس کے ساتھ ۔ ۔ ۔ جس کی چوٹ بہت گہر ی لگی ہے اس کے دل
تو پوچھا نہی آپ نے ؟
کوشش کی تھی پوچھنے کی لیکن اس نے بتانے سے صاف انکار کر دیا ۔ ۔ ۔ خیر چھوڑو ہمیں کیا, تم یہ جیولری اتار دو تا کہ میرے سر سے تھوڑا بوجھ ہلکا ہو ۔ سر میں درد شروع ہو چکا
ہے اس جیولری سے ۔
یہی تو میں سمجھا رہی تھی آپ کو کہ چھوڑیں اس بات کو اور اپنی پڑھائی پر دھیان دیں ، بیگ
پیک کر دیا ہے میں نے آپ کا سوجائیں آرام سے صبح شہر جانا ہے ۔
ہم ۔ ۔ ۔ ٹھیک ہے جلدی کر دو ۔ ۔ ۔ رملہ افسردہ سی بولی اور چینج کرنے کے بعد سونے کے لیے لیٹ گئی لیکن جیسے ہی آنکھیں بند کرتی اس کی درد بھری آنکھیں اور اذیت سے
بھر پور دلفریب مسکراہٹ آنکھوں کے سامنے آجاتی اور رملہ اٹھ کر بیٹھ جاتی۔ پوری رات یہی چلتا رہا آخر کار فجر کی اذان سن کر وضو کرنے چلی گئی اور نماز پڑھ کر بیگ اٹھائے گاڑی کی طرف بڑھ گئی ۔

گاڑی اسٹارٹ کی اور یو نیورسٹی کے لیے روانہ ہو گئی ۔
ہاسٹل پہنچ کر گاڑی پارک کی اور اپنے کمرے میں پہنچی ۔ ۔ ۔ یہاں آئے اسے ایک مہینہ ہوچکا تھا لیکن ابھی کسی سے زیادہ دوستی نہی ہوئی تھی اور وہ خود بھی دوسروں سے ذرا دور رہتی ڈرتی تھی کہ کسی اس کے بیک گراونڈ کو لے کر کوئی ایشو کری ایٹ نہ ہو جائے بس اسی
ڈر سے کسی کے ساتھ زیادہ دوستی رکھی ہی نہی ۔
ہاسٹل سے یونیورسٹی اور یو نیورسٹی سے ہاسٹل بس یہی تھی اس کی زندگی اس کے علاوہ مہینے میں ایک بار گاوں چکر لگا لیا کرتی ۔
روٹین کے مطابق آج بھی یو نیورسٹی پہنچی اور ناشتہ کرنے کے بعد اپنے ڈیپارٹمنٹ کی
طرف بڑھ گئی۔
تھکن سے برا حال تھا ایک تو نیند پوری نہی ہوئی اور دوسر اسفر کی تھکن ۔ ۔ ۔ بے دلی سے کلاس میں
داخل ہوئی اور اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی ۔
عجیب سیچوایشن میں ڈال دیا ہے میں نے خود کو ۔ ۔ ۔ یہ ملک ہمدان "کیا عجیب بندہ تھا اس سے چند منٹ کی ملاقات کسی گہری چھاپ کی طرح میرے دل و دماغ پر چھپ چکی ہے ۔ اپنے ہی خیالوں میں مگن بیٹھی تھی کہ سامنے سے کوئی کمرے میں داخل ہوا ۔ ۔ ۔ بلیک ی بلیک ٹی شرٹ اور اوپر بیلک جیکٹ، کندھے پے بیگ لگائے دائیں ہاتھ سے بال

سیٹ کرتا ہوا اپنے ہی خیالوں میں مگن تیزی سے چلتا ہوا رملہ کے پیچھے والے بینچ پر بیٹھ گیا اور رملہ کی تو جیسے سانس ہی گلے میں اٹک گئی ۔
چہرے پر آئے آئے بال کان کے پیچھے سمیٹتی ہوئے گہری سانس لی اور بیگ پر اپنی گرفت مظبوط کی کیونکہ سامنے سے آنے والا شخص کوئی اور نہی "ملک ہمدان " تھا ۔
ملک ہمدان پچھلی سیٹ پر براجمان تھا اور رملہ کا ڈر کے مارے گلہ خشک ہو رہا تھا ، با مشکل خود کو سنبھالا اور سر جھکائے لیکچر سننے میں مصروف ہو گئی۔
اپنی پریشانی میں اس قدر گم تھی کہ اسے پتہ ہی نہی چلا کب لیکچر شروع ہو گیا ۔ آج لیکچر کا وقت کچھ زیادہ ہی لمبا ہو گیا تھا، اللہ اللہ کر کے لیکچر ختم ہوا تو ملک ہمدان "کلاس
سے باہر نکل گیا اور رملہ نے سکھ کا سانس لیا ۔
افففف ۔ ۔ ۔ ۔ اگر اس نے مجھے دیکھ لیا تو ؟ ؟ ؟
سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی ۔ ۔ ۔ ابھی بیٹھی ہی تھی کہ وہ دوبارہ کلاس میں آتا دکھائی
دیا ۔

ڈر کے مارے رملہ کے ہاتھ پیر سن ہو گئے ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن ملک ہمدان اس کی طرف دیکھے بغیر
ہی اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
اب تو واقعی ہی رملہ کے ہوش اڑ گئے ۔ تیزی سے اپنے بیگ پر گرفت مظبوط کی اور ایک
نظر ہمدان پر ڈالی, وہ اپنے فون میں مصروف تھا۔
عجیب انسان ہے ۔ ۔ ۔ ۔ میں اس سے دور بھاگ رہی تھی اور یہ میرے پاس ہی بیٹھ گیا ۔ اگر اس نے مجھے پہچان لیا تو سب کو بتا دے گا کہ میں ایک طوائف ۔ ۔ ۔ افففف اگر اس
نے کسی کو بتا دیا تو میرا یہاں پڑھنا مشکل ہو جائے گا۔
تم یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو؟ کب سے تمہیں کال کر رہی ہوں ہمدان ۔ ۔ ۔ تم ہو کہ فون ہاتھ میں ہونے کے باوجود میری
کال اگنور کر رہے ہو, وجہ جان سکتی ہوں ؟
Dont Create seen
اچھا ناں سوری یار ۔۔۔۔ اب چلو اپنی کلاس میں اتنا بھی ناراض نہی ہونا چاہیے تھا تمہیں ۔ ۔ ۔ پتہ ہے کتنی مشکل ہوئی تمہیں ڈھونڈنے میں، ہر ڈیمار ٹمنٹ کے چکر لگا لگا کر
میرے پاوں درد ہو رہے ہیں۔ چلو یہاں سے ۔ ۔ ۔ ۔ اسے بازو سے کھینچتی ہوئی کلاس سے باہر لے گئی۔

اچھا ۔ ۔ ۔ اس کا ڈیپارٹمنٹ الگ ہے ۔ اپنی فرینڈ سے ناراض ہو کر یہاں بیٹھ گیا تھا۔ شکر ہے اللہ کا ۔ ۔ ۔ ۔ میں تو بہت ڈر گئی تھی۔ کیا کیا سوچ بیٹھی تھی میں ۔ بہت خوش ہو رہی تھی کہ اچانک نظر سامنے پڑے ہمدان کے فون پر پڑی ۔ اوہ ۔ ۔ ۔ ۔ اب یہ اپنا فون لینے واپس آئے گا کیا مصیبت ہے ؟
میں جا رہی ہوں یہاں سے ۔ ۔ ۔ کلاس سے باہر جانے ہی لگی تھی لیکن پھر رک گئی ۔ ۔ ۔ نہی اگر میں یہاں سے چلی گئی تو کوئی اور یہ فون اٹھا لے گا۔
بہت پریشان ہو جائے گا بیچارہ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا کرتی ہوں لاسٹ ڈائل نمبر چیک کرتی ہوں ۔ ڈرتے ڈرتے فون اٹھایا لیکن پاسورڈ لگا تھا ۔ اب کیا کروں ؟
ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ وہی لڑکی واپس آئی اور رملہ کے ہاتھ میں فون دیکھ کر تیزی سے اس کے پاس آئی اور اس کے ہاتھ سے فون جھپٹ لیا ۔
چوری کر رہی تھی, شرم نہی آتی تمہیں ؟ گھٹیا لڑکی ۔۔۔ تم مڈل کلاس لڑکیوں کو تو بس موقع چاہیے چوری کرنے کا, سمجھ میں نہی آتا کہ آخر تم جیسی لڑکیوں کو یو نیورسٹی میں ایڈمیشن کیسے مل جاتا ہے ۔
اس کے الزامات پر رملہ چونک کر اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور ساری کلاس ان کی
طرف متوجہ ہوئی ۔

Whats Wrong withu?
تمہیں کوئی حق نہی مجھے چور کہنے کا ۔۔۔ میں نے فون اس لیے اٹھا یا تھا کہ ۔۔۔۔ کہ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے رملہ کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی ۔ تم نے فون اس لیے اٹھایا تاکہ
اسے آف کر کے یہاں سے کھسک سکو۔
اچھی طرح جانتی ہوں میں تم جیسی گھٹیا لڑکیوں کو ۔ ۔ ۔ تم لوگ ہوتی ہی چور ہو بلکہ یہ عادت تم
لوگوں کو وراثت میں ملتی ہے۔
…..ShutUp
رملہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی اور اسے انگلی دکھاتے ہوئے وارن کیا ۔ ۔ مجھے جو کہنا ہے کہہ لولیکن خبر دار اگر تم نے میری وراثت پر انگلی اٹھائی تو تمہاری زبان کھینچ لوں گی
زبان کھینچوگی میری؟
وہ تیزی سے آگے بڑھی اور رملہ پر جھپٹنے کی کوشش کی لیکن رملہ بیچ کر سائیڈ پر ہو گئی اور وہ
دیوار سے ٹکرا گئی۔
میری بات سنو میڈم

ناں تو میں غریب ہوں اور ناں ہی چور ۔ اپنے پیسے کا رعب کسی اور پر جا کر جھاڑنا ۔ شکل سے تو تم خود چور لگ رہی ہو، میں لاسٹ ڈائلنگ نمبر چیک کرنے لگی تھی ۔ اپنی آنکھوں سے یہ حقارت کی پٹی اتار کر دیکھو ۔ پیسے والا روپ اتار کر بات کرنا مجھ سے اگر اس طرح جیز اور ٹاپس پہن کر ننگے سر مردوں کے ساتھ دھندناتے پھر نا امیری ہے تو لعنت بھیجتی ہوں
میں ایسے اسٹیٹس پر ۔
پیسہ میرے پاس بھی ہے لیکن میرے پاس سر ڈھانپنے کے لیے ڈوپٹا بھی ہے ۔ ۔ ۔ عزت کرنا اور کروانا اچھی طرح جانتی ہوں میں ۔
مطلب کیا ہے وہ تمہارا ؟
وہ پھر سے رملہ کی طرف جھپٹی اور اسے تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ کسی نے
اس کا ہاتھ تھام لیا ۔
Stop it Benish.What Are you Doing
سامنے ملک ہمدان کھڑا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا دھیان بینش کی طرف تھا ۔
?Are you mad
اس طرح کسی پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تمہیں سب کی رسپیکٹ ہوتی ہے ۔
….i Extremly Sorry
وہ رملہ کی طرف پلٹا لیکن وہ وہاں سے جاچکی تھی۔

★★★★★

تم سوری کیوں بول رہے ہوا سے ؟
بینش ہمدان کی طرف غصے سے پلٹی ۔۔۔۔ تمہیں اس کی فکر ہے لیکن میری نہی اس نے سب کے سامنے میری انسلٹ کی ہے اسے مجھ سے معافی مانگنی چاہیے تھی لیکن الٹا
تم اس سے معافی مانگ رہے ہو ؟
How Stupid You Are
باقی کا مسئلہ ہم کلاس سے باہر ڈسکس کریں بینی ؟
سب دیکھ رہے ہیں ہمیں ۔ ۔ ۔ ہمدان اردگرد نظر دوڑاتے ہوئے بولا۔
تم کرتے رہو مسئلہ حل ۔۔۔ مجھے کوئی شوق نہی ہے تم سے بات کرنے کا ، تمہارا فون چوری کر رہی تھی وہ اگر میں وقت پر نہ پہنچتی تواب تک فون بند کر چکی ہوتی وہ محترمہ اور مجھے
کہہ رہی تھی کہ لاسٹ ڈائلنگ نمبر چیک کر رہی تھی ۔
ہو سکتا ہے وہ سچ کہہ رہی ہو بینی، تمہیں ایک بار اس کی بات سن لینی چاہیے تھی ۔ ۔ ۔ ہمدان
اسے کلاس سے باہر لے آیا ۔
ہاں ہاں تمہیں تو وہی سہی لگے گی ناں میری کوئی ویلیو کہاں ہے تمہاری زندگی میں ۔ اگر تم
وہی میری بات سن لیتے تو یہ سب نہ ہوتا ۔
کیا ضرورت تھی کلاس سے باہر آنے کی؟

میں اتنا ہی تو پوچھا تھا میں نے کہ کل رات کہاں تھے تم ؟ تم نے کہا گھر جا رہے ہو لیکن تم گھر نہی گئے ۔ ۔ ۔ چچی سے بات ہوئی تھی میری
کل رات ، تم گھر نہی گئے تو کہاں تھے ؟
جہاں بھی تھا تمہیں اس سے کیا بینی ؟
تم نے علی کو کال کیوں کی یہ بتاو مجھے ؟ ۔ ۔ ۔ ہمدان غصے سے بولا ۔
مجھے اس سے کیا ؟
کیا مطلب ہے تمہارا اس بات سے ہمدان کیا تمہیں میری زرا فکر نہی ہے ؟ پوری رات تمہاری فکر میں سو نہی سکی میں اگر علی کو کال کر بھی لی تھی تو اس میں کیا مسئلہ
ہے؟
تمہارے بارے میں پوچھنے کے لیے ہی کی تھی کال اور تم اس سے اتنا چڑتے کیوں ہو؟ علی بھائی ہے تمہارا اور میرا کزن ۔ ۔ مجھے پورا حق ہے اس سے بات کرنے کا ۔ وہ بھائی ہے میرا لیکن بہت چھوٹا ہے ابھی ۔ ۔ ۔ تمہیں اندازہ بھی ہے میری غیر موجودگی کا مان کر کتنا پریشان تھا وہ ۔ اماں الگ کا لز کر رہی ہیں مجھے صبح سے اور بابا, علی اور دادا جی کی بھی بیس کالز آ چکی ہیں کہ میں رات کہاں تھا ؟

تم صرف کزن نہی ہو میری بلکہ بہت اچھی دوست بھی ہو لیکن تم ہمیشہ مجھے ڈی گریڈ کرنے کی راہیں تلاش کرتی ہو۔
اب جب میں گھر جاوں گا تو میری بہت بری کلاس لگے گی سب سے اور دادو نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ میں گھر ہی نہ آوں کچھ دنوں کے لیے کیونکہ بابا جان کا غصہ اس وقت ساتویں
آسمان پر ہے اور سب صرف اور صرف تمہاری وجہ سے ممکن ہوا ہے ۔ فکر ہو رہی تھی مجھے تمہاری ہمدان اور کزنز اور دوستی سے بڑھ کر بھی ایک رشتہ ہے ہمارے درمیان ، تمہاری ہونے والی بیوی ہوں میں ۔ ۔ ۔ یہ رشتہ ہر بار بھول کیوں جاتے ہو تم ؟ تم پوری رات غائب تھے اس کا مطلب بھی سمجھتے ہو ؟
دادا جان اور چاچو کا غصہ ساتویں آسمان پر نہ ہو تو اور کیا وہ تمہیں پھولوں کے ہار پہنائیں ؟ اگر میں پوری ایک رات کہی غائب ہو جاوں اور اگلی صبح تمہیں یہ کہوں کہ میں جہاں بھی تھی
تمہیں اس سے کیا ؟
Shut Up Beeni
ہمدان چڑتے ہوئے وہاں سے کینٹین میں آگیا ۔
اب جواب دو مجھے اس بات کا ہمدان ؟
بینش بھی تیزی سے اس کے پیچھے آئی اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔

تنہاری بات میں اور میری بات میں بہت فرق ہے بینی ۔ ۔۔۔ میں مرد ہوں کبھی بھی کہیں بھی
جا سکتا ہوں، خبر دار جو آئیندہ تم نے ایسی بات کی تو مجھ سے برا کوئی نہی ہوگا۔
ہاں تم مرد ہو ۔ ۔ ۔ تمہارے پاس تو لائسنس ہے پوری رات باہر گزارنے کا ۔
میں نے ایسا کب کہا بینی ۔ ۔ ۔ ۔ ضروری کام تھا مجھے ایک دوست ہے اس کے بھائی کی شدی تھی اس کے اسرار پر رک گیا ان کی طرف ۔ ۔ ۔ ۔ مجھ سے غلطی یہ ہوئی کہ میں نے
تمہیں نہی بتایا ۔
دوست تھا یا دوست تھی ؟
ہمدان نے بینش کے سوال پر بھنویں اچکاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔
Can we change the Topic
جو پوچھا ہے اس کا جواب دو ہمدان ۔ ۔ ۔ بات بدلنے کی کوشش مت کرو ۔
بات نہیں بدل رہا بینی ۔ ۔ ۔ تنگ آچکا ہوں تمہاری اس چک چک سے کیا تم تھوڑی دیر
کے لیے خاموش رہ سکتی ہو ؟
اوکے ۔۔۔۔ فائن میں خاموش ہو جاتی ہوں ۔ تم کرتے رہو جو تم نے کرنا ہے۔ یہی بہتر ہے تمہارے لیے ۔ ۔ ۔ ۔ ہمدان نے سکھ کا سانس لیا اور بیگ کندھے پر لٹکائے
وہاں سے چل دیا ۔

ناشتہ تو کرتے جاواب ۔ ۔ ۔ ۔ بینی آواز میں دیتی رہ گئی لیکن وہ نہی رکا۔
بھاڑ میں جاؤ تم ۔۔ مجھے بھی تمہاری پرواہ نہیں ہے ۔ ناشتہ کر کے ہی آوں گی میں ۔ ۔ ۔ ۔ بینی ویٹر کو آرڈر دیتی ہوئی ناشتے کے انتظار میں بیٹھ گئی اور ہمدان کلاس میں چلا
کیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت ہی عجیب لڑکی تھی یہ ۔ ۔ ۔ اتنی بد تمیز ۔ ۔ ۔ رملہ کو رہ رہ کر بینی پے غصہ آ رہا تھا ۔ اتنی بے عزتی آج سے پہلے میری کسی نے نہی کی۔ مجھے اس کے فون کو ہاتھ لگانا ہی نہی
چاہیے تھا ۔ گراونڈ میں اکیلی بیٹھی آنسو بہا رہی تھی ۔
سہی کہتی ہیں اماں باہر کی دنیا بہت خراب ہے ، پہلے تو لڑکوں سے ڈر لکھا تھا لیکن اب تو
لڑکیوں سے بھی ڈر محسوس ہوتا ہے ۔
پیسہ بڑی نا مراد چیز ہے ،یہ جس کا ہو جائے پھر وہ کسی کا نہی ہوتا"
دفع کریں ۔ ۔ ۔ زیادہ مت سوچیں آپ ایسے کم ظرف لوگوں کے متعلق سوچ کر اپنا وقت ضائع نہی کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔ اس آواز پر رملہ چونک کر پلٹی تو پیچھے ایک لڑکا بیٹھا تھا ۔

My Self Naseer
اس نے رملہ کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن اس نے کوئی جواب نہی دیا اور چہرہ دوسری طرف
موڑ لیا ۔
Oooops…itsok
اگر آپ ہاتھ نہیں ملانا چاہتی تو کوئی بات نہیں ۔ ۔ ۔ ویسے میں کوئی غیر نہی ہوں آپ کا کلاس
فیلو ہوں ۔
اکثر دیکھتا ہوں آپ کو کلاس میں لیکن آپ کسی سے بات ہی نہی کرتیں ۔ ۔ ۔ چپ چاپ
آتی ہیں اور اور چپ چاپ چلی جاتی ہیں ۔ ایسا کیوں ؟
میراخیال ہے آپ کو دوست بنانے چاہیے جو آپ کے ساتھ کھڑے ہو ہر حالات میں ۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح اکیلی تو نہی رہ پائیں گی آپ اس یو نیورسٹی میں ۔
اگر آپ چاہیں تو میں آپ سے دوستی کرنے کے لیے تیار ہوں اور اس طرح کے امیر زادوں سے نمٹنے کے لیے بھی ۔ ۔ ۔ کیا آپ مجھ سے دوستی کرنا پسند کریں گی ؟
رملہ غصے سے اس کی طرف پلٹی ۔ ۔ ۔ آخر تمہارا مسئلہ کیا ہے ؟
کیا میں نے تم سے کہا کہ میری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاو؟
ہمدردی مانگی تم سے ؟

نہیں ناں ۔ ۔ ۔ ۔ تو پھر کیوں تم اپنی دوستی کی خیرات میری جھولی میں ڈالنا چاہتے ہو۔
You Know what
تم سب مرد ایک جیسے ہی ہوتے ہو، اکیلی لڑکی دیکھتے ہی چانس مارنا شروع کر دیتے ہو, پہلے دوستی کرتے ہو اور پھر محبت کا ڈرامہ رچاتے ہو اور جب لڑکی پوری طرح آپ کی محبت میں
اندھی ہو جائے تو اسے اتنی زور کا دھچکا دیتے ہو کہ اسے واقعی لگتا ہے کہ وہ اندھی ہے ۔ میں ان لڑکیوں میں سے نہی ہوں جو تمہاری ہمدردی کی بھیک مانگوں گی ۔ ۔ ۔ ۔ میں اپنا راستہ خود بناتی ہوں اور منزل بھی خود طے کرتی ہوں تو بہتر یہی ہو گا کہ تم مجھ سے سوفٹ دور رہو۔ کلاس فیلو ہو تو کلاس فیلو کی طرح رہو, زیادہ رشتے داریاں بنانے کی ضرورت نہی ہے ۔ وہ غصہ سے اٹھا اور اپنا بیگ کندھے پر لگایا ۔ بہت اکڑ ہے اس لڑکی میں ۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری اکڑ تو میں ایسی نکالوں گا کہ یا در کھوگی ۔ ۔ ۔ غصے سے پاوں پٹختا ہوا وہاں سے چلا گیا ۔ اس کے جاتے ہی رملہ مزید پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور جب رو رو کر تھک گئی تو کلاس کی
طرف بڑھ گئی۔
کلاس میں داخل ہوتے ہی نظر نصیر پر پڑی ۔ ۔ ۔ وہ بھی اسے دیکھ کر مسکرا دیا ۔ رملہ ماتھے پر بل ڈالتی ہوئی اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی ۔

آج گھر جا رہا ہوں میں تیاری کر لو تم بھی ۔ ۔ ۔ تمہیں بھی ساتھ لے کر جاوں گا, جو بکھیرا تم نے بکھیرا ہے اسے تم ہی سنبھالو گی ۔ ۔ ۔ ہمدان نے جیسے بینش کے سر پر بم پھوڑا ۔
No way
وہ تیزی سے ہمدان کی طرف پلٹی ۔۔۔ تمہاری پرابلم ہے تم خود سولو کرو مجھے بلکل مت گھسیٹو اس معاملے میں ، یہ تمہارا معاملہ ہے تم جانو۔
بینش نے فورا منہ پر ہی جواب دیا۔
What the hell is this
یہ سارا ڈرامہ تمہارا کیا ہوا ہے ۔ نہ تم علی کو کال کرتی نہ یہ سب کچھ ہوتا ۔ جو کچھ تم نے کیا
ہے اب خود ہی سنبھالو۔ شام تک میں آرہا ہوں۔ میرے کہنے سے پہلے خود ہی تیار ہو جانا تم میرے ساتھ جا رہی ہو اور گھر جا کے سب کو بتاؤں گی کہ تم نے مذاق کیا تھا ۔
میں کیوں بتاؤں سب کو ؟ میں جھوٹ نہیں بول سکتی، مذاق نہیں تھا وہ تم سچ میں ایک رات کے لیے غائب تھے ۔ کیا تم مجھے بتاؤ گے تم کہاں تھے؟

اگر تمہیں لگتا ہے اس بار تم بچ جاوگے تو یہ نا ممکن ہے ۔ تم اکثر ہی ایسا کرتے ہو مجھے بتائے بغیر نہ جانے کہاں کہاں گھومتے رہتے ہو۔
مجھے لگتا ہے تم اپنے فرینڈ کے ساتھ ہوں گے لیکن تم فرینڈز کے ساتھ نہیں کہی اور ہی
ہوتے ہو پتہ نہیں کون سی فرینڈ بنالی ہے تم نے ؟
Just shut up Binesh
پتہ نہیں کیا کچھ چلتا رہتا ہے تمہارے دماغ میں جود منہ میں آتا ہے بول دیتی ہو ۔
ایک بار ا کہہ دیا نا دوست کی طرف تھا اس کے بھائی کی شادی تھی بزی تھا اس کے ساتھ۔ شادی اس کے بھائی کی تھی تمہارے بھائی کی نہیں جو تم اس کے گھر رات ہی رک گئے تھے ۔ شادی ختم ہوئی تو آ جاتے ہاسٹل اس کے گھر رکھنے کا کیا مقصد تھا ؟
جب تک تم مجھے بتا نہیں دیتے تم کہاں گئے تھے تب تک میں گھر والوں سے کوئی جھوٹ نہیں بولنے والی بہتر یہی ہے کہ تم اپنی ضد چھوڑ دو اور مجھے بتا دو کہ تم کہاں گئے تھے ؟
ایک بار کی بات ہے تمہیں سمجھ نہیں آتی ابھی بتایا ہے کہ دوست کی طرف تھا اور تم پھر ستہ وہی رٹ لگا کر بیٹھی ہوں کہ میں کہاں تھا؟

دن بدن میرے سر پہ چڑھتی جا رہی ہو تم کبھی کبھی تمہارے ان سوالوں سے میں بہت پریشان ہو جاتا ہوں ۔ عجیب بچوں والا دماغ ہے تمہارا بولنے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچتی کہ کیا بول رہی ہو اور تمہارے رویے سے اگلے بندے کے دل پہ کیا گزرتی ہے ۔ اگر تم اسی طرح کرتی رہی تو عنقریب میں کوئی اور یو نیورسٹی جوائن کر لوں گا، تم مجھے بہت
ڈسٹرب کر رہی ہو آج کل میں تنگ آگیا ہوں تمہارے فضول سوالات سے اور شک کرنے
کی عادت سے ۔
صبح اس لڑکی پر الزام لگا دیا اور اس کو ساری کلاس کے سامنے ذلیل کر دیا ۔ وہ بیچاری پتا
نہیں کیا سوچ رہی ہو گی کس پاگل لڑکی سے پالا پڑ گیا میرا۔
ہاں ہاں تمہیں تو میں ہی پاگل لگتی ہوں ۔ میں پاگل ہی ہو بس وہ لڑکی سہی تھی، جب وہ تمہارا فون واپس نہ کرتی تو پھر پوچھتی میں تمہیں کہ وہ چور تھی یا نہیں ؟
شکر کرو میں وقت پر پہنچ گئی اور اس کے ہاتھ سے خون بھینچ لیا ورنہ وہ تو تمہارا فون بند ہی کرنے والی تھی اور پکڑے جانے پر ہر چور یہی کہتا ہے کہ میں چور نہیں ہوں ۔ اگر تم نہ آتے کچھ دیر اور تو میں اس لڑکی کو اس کی اوقات دکھا دیتی۔
ہاں جیسے تم تو ملکہ عالیہ ہو ناں جو اسے اس کی اوقات دکھا دیتی کسی غریب کو اتنا نیچا نہیں دکھانا چاہیے تم خود کو کیا سمجھتی ہو؟۔۔(جاری ہے)
 
تمہارا اپنا تمہارے پاس کیا ہے ، باپ دادا کے پیسے پر عیاشی کرنا تو بہت آسان ہوتا ہے مزا تو تب ہے جب اپنی کمائی ہوئی دولت سے عیاشیاں کی جائیں ۔ کسی کی سادگی کا اتنا بھی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے بات تو منہ سے بھی کر سکتی تھی مگر تم نے ہاتھ اٹھا کر خود کو بہت گرا ہوا ثا بت کر دیا ہے ۔
کیا سوچ رہی ہوں گی وہ لڑکی کہ تمہیں ذرا بھی تمیز نہیں تھی کسی سے کیسے بات کرتے ہیں۔ وہ جو سوچتی ہے وہ سوچتی رہے۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے تم اس کی اتنی سائیڈ کیوں لے
رہے ہو کیا تم اس کو جانتے ہو ؟ میں ہی نیا قصہ شروع ہو گیا اب ؛ ہاں بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں میں اس لڑکی کو بلکہ کل رات اسی کے ساتھ تھا ۔ ۔ ۔ ۔ تمہیں جو سوچنا ہے اب جی بھر کے سوچتی رہو ، جا رہا ہوں
میں۔
ہاسٹل پہنچ کے کال کر دینا مجھے اور شام کو تیار رہنا لینے آؤں گا۔ زیادہ انتظار نہیں کروں گا
اگر تم نیچے نہیں آئی تو میں خود تمہارے کمرے سے تمہیں اٹھا کر لے جاؤں گا ۔ غصے سے اپنا بیگ اٹھائے کلاس سے باہر نکل گیا ۔ بینش اس کے پیچھے کلاس سے باہر نکلی لیکن ہمدان بہت دور جا چکا ہے

کیا مصیبت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب یہ لڑکی نیا عذاب بن گئی ہے میرے لیے ایک بار مل جائے مجھے اس کو تو ایسا مزا چکھاؤں گی کہ یا درکھے گی ساری زندگی ۔ وہ سوچتی سوچتی آگے بڑھ رہی تھی کہ اسے سامنے رلہ آتی دکھائی دی۔
اسے دیکھ کر اس سے اس کی طرف آگئی آخر تمہارا مسئلہ کیا ہے تم چاہتی کیا ہو مجھ سے؟
غصے سے اس پر پھٹ پڑی ۔
ایکسکیوز می ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بات تو مجھے تم سے پوچھنی چاہیے کہ آخر تمہارا مسئلہ کیا ہے تم کیوں
میری انسلٹ کرنے پر تلی ہوئی ؟
صبح تم نے کلاس میں اتنا زیادہ تماشہ لگایا اور اب یہاں تماشا لگا رہی ہو۔
میں تماشہ لگا رہی ہوں تمہارا ؟ صحیح کہا تم نے میں تماشہ لگا رہی ہوں تمہا را تماشہ ہی بنا چاہیے تم جیسی مڈل کلاس لڑکیاں یونیورسٹی میں پڑھنے کے لائق ہی نہیں ہیں اور تم جیسی لڑکیوں کو کوئی مڈل کلاس اکیڈمی
جوائن کرنی چاہیے۔
تم کون ہوتی ہوں مجھے سکھانے والی کہ مجھے کہاں پڑھنا چاہیے اور کہاں نہیں پڑھنا چاہیے یا یونیورسٹی کیا تمہاری ملکیت ہے ؟

جس طرح تمہیں یہاں پڑھنے کا حق ہے اسی طرح ہی مجھے بھی یہاں پڑھنے کا حق ہے میرے حلیے کی وجہ سے مڈل کلاس بولتی جا رہی ہو شرم آنی چاہیے تہیں ، میری ماں نے مجھے سر پہ
دو پیٹ لینا سکھایا ہے اور بہت اچھی تربیت کی ہے میری ۔ تم ایک بہت امیر گھرانے میں تربیت یافتہ لڑکی ہو اور تمہارے پیر نٹس کی تربیت تو مجھے بہت اچھی طرح نظر آرہی ہے ۔ یہ بیہودہ لباس پہن کر تم سمجھتی ہوں کہ سب تم پے
مرتے ہیں ؟
سب تم پہ فدا ہیں۔۔۔ وہ بس تمہارا جسم دیکھتے ہیں اور نظروں ہی نظروں میں تمہارا جسم نوچتے بھی ہیں اور تم سمجھتی ہو کہ تم بہت خوبصورت ہو ۔
تم جیسی لڑکیوں کی وجہ سے ہی یہ مرد آج یہ نام ہیں کیونکہ تم اپنا جسم دکھاتی ہوں اور پھر کہتی ہو کہ یہ ہمیں دیکھتے ہیں۔ ڈوب کے مر جانا چاہیے تمہیں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہو کر بھی تم اس قدر بے حیا ہو افسوس ہو رہا ہے مجھے تمہارے لیے ۔
تمہاری اتنی ہمت تم نے میرے گھر والوں کی تربیت پر انگلی اٹھائی تمہیں تو میں اس نے پھر سے ۔۔۔۔ رملہ کی طرف تھپڑ مارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ کسی نے اس کا ہاتھ تمام لیا اور اس بار رسلہ سائیڈ سے نہیں نکل پانی کیونکہ ملک میدان اس کی آنکھوں کے

سامنے کھڑا تھا جیسے ہی وہ رملہ کی طرف پلٹا اسے دیکھ کر چونک کر پیچھے ہٹا آپ
یہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
رملہ نے دو پٹہ اچھی طرح سر پر اوڑھا اور تیزی میں وہاں سے چل دی ہمدان اس کے پیچھے
پیچھے چل دیا
آپ یہاں کیا کر رہی ہیں اور بینش آپ کے ساتھ کیا کر رہی تھی میرا مطلب ہے یہ سب کیا
ھو رہا تھا ؟
آپ اسی سے کیوں نہیں جا کر پوچھ لیتے وہ یہ سب کیا کر رہی تھی ؟
بات کرنے کی تمیز بیک نہیں ہے اس کو سمجھا ئمیں اپنی دوست کو یہ یو نیورسٹی اس کی ملکیت
نہیں ہے اس کا دل چاہے یہاں پڑھ سکتا ہے ۔
Yeah why not
اس کی طرف سے معافی مانگتا ہوں لیکن آپ یہاں میں کچھ سمجھا نہیں ؟
کیوں آپ کے خیال میں ایک طوائف کی بیٹی پڑھ نہیں سکتی ۔ ۔ ۔ کیا اس کی قسمت میں بس
کو اٹھے کی چار دیواری ہی لکھی ہوتی ہے ؟
I am sorry I extremely sorry
میرا وہ مطلب نہیں تھا میں بس پوچھ رہا تھا ۔


جی میں بھی یہاں پڑھتی ہوں, صبح دیکھ لیا تھا آپ کو کلاس میں لیکن اس ڈر سے کہ کہیں آپ کسی کو میرے بارے میں بتا نہ دیں میں آپ کے سامنے نہیں آئی ، ڈر رہی تھی کہ کہیں کوٹھے کی چار دیواری یہاں تک پیچھا نہ کرلے ، اسی لئے آپ کے سامنے آنے سے کترا رہی تھی لیکن پھر بھی آپ کا سامنا کرنا پڑ گیا ۔
میری طرف سے بالکل بد گمان نہ ہو آپ میں کسی کو نہیں بتاؤں گا جو کچھ ہمارے درمیان ہوا, آپ سے بھی یہی التجا کرنا چاہوں گا پلیز کسی سے بھول کر بھی اس بات کا ذکر مت کیجئے گا بنش میری کزن ہے اور ہونے والی بیوی اگر اسے پتہ چل گیا کہ میں کل رات آپ کے
ساتھ تھا تو بہت بڑی پرابلم بن جائے گی۔
I request you please
آپ بے فکر ہے میں کسی کو نہیں بتاؤں گی میں تو آپ کی طرف سے ڈر رہی تھی اور آپ مجھ سے ڈر رہے ہیں لیکن آپ کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں چلتی ہوں کلاس کا ٹا ئم ہو رہا
ہے۔
She is so nice girl
اور ایک طرف یہ بینش مجھ سے بات کرنے کی تمیز نہیں ۔ ۔ ۔ رملہ کو جاتے دیکھ ہمدان حیرت زدہ سا مسکرا دیا اور جیسے ہی پلٹا بینش اس کے پیچھے ہی کھڑی تھی۔

کیا کہ رہی تھی وہ تم سے اور تم اتنے دیر سے اس کے ساتھ کیا باتیں کر رہے تھے ؟
کچھ خاص نہی ۔ ۔ ۔ ۔ تمہیں بتانا ضروری نہی سمجھتا ہیں۔
سی ہے ۔ ۔ ۔ جو بات تھوڑی دیر پہلے تم نے کہی تھی وہ سچ تو نہیں تھی کہیں واقعی تم اس
کے ساتھ تو نہی تھے ؟
Oh God
اگر میں کچھ دیر اور یہاں کھڑا رہا تو میں پاگل ہو جاؤں گا جا رہا ہوں یہاں سے ہاسٹل پہنچ کر مجھے
کال کر دینا ۔
پتا نہیں کیا جادو کر دیا ہے اس لڑکی نے اس کے خلاف ایک لفظ بھی سننا پسند نہی کرتا ۔ میں بھی کوئی جھوٹ نہیں بولوں گی تمہارے لئے ٹھیک ہے ساتھ تو چلی جاؤں گی لیکن وہاں
جا کر تمہیں پھنسایا نہ تو پھر کہنا غصے سے پاوں پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی ۔ سیڑھیوں میں کھڑے کسی وجود کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ہو نہ ۔۔۔ تو یہ لڑکی ایک طوائف کی بیٹی ہے ۔ ۔ ۔ مطلب طوائف کی بیٹی طوائف اور اکڑ دیکھو ایسے کر رہی ہے
جیسے کوئی پیر زادی ہو۔ اس کو تو میں ایسا سبق سکھاؤں گا نہ کہ یا درکھے گی ۔ ۔ ۔ وہ نصیر تھا جو رملہ اور ہمدان کے درمیان ہونے والی ساری گفتگو سن چکا تھا ۔

اب دیکھنا میں تمہیں کیسا مزہ چکھاتا اور اس لڑکی بھی تو بتا نا پڑے گا نہ کہ اس کا ہونے والا
شوہر کل رات اس طوائف کی بانہوں میں تھا ۔
That's Great
مسکراتے ہوئے بینش کو ڈھونڈنے چل دیا ۔
کبھی کبھی زبان سے نکلی بات اس طرح بھی پوری ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ پہلے سنا تھا لیکن آج
دیکھ بھی لیا ۔ شاید وہ گھڑی قبولیت کی گھڑی تھی۔
همدان حیرت زدہ سا بیڈ پر لیٹا کسی گہری سوچ میں گم تھا ۔
میں نے تو بس ایسے ہی بینی سے کہہ دیا تھا کہ میں کل رات اس لڑکی کے ساتھ تھا لیکن وہ تو
چی میں وہی لڑکی تھی ۔
یہ کل رات تو کوٹھے پر تھی اتنی جلدی یہاں کیسے پہینچ گئی ؟

★★★★★
سوچنے والی بات ہے ۔ ۔ ۔ ۔ شاید اپنی گاڑی ہو اس کے پاس, ہم میں بھی پتہ نہی کیا کچھ سین رہا ہوں ، ظاہر ی سی بات ہے اس کے پاس اپنی ہی گاڑی ہو گی اسی لیے تو اتنی جلدی
پہنچ گئی یہاں ۔
اس نے کہہ تو دیا ہے کہ وہ کسی سے ذکر نہی کرے گی کہ کل رات میں اس کے ساتھ تھا
یکن پھر بھی میرا دل مطمئن نہی ہے ۔
اتا ہی کیوں میر اول اس پر اعتبار کرنے پر راضی نہی ہو رہا ۔ ۔۔۔ بے بسی سے سینے پے
ہاتھ رکھ کر مسکرا دیا ۔ عجیب پاگل لڑکی ہے ۔ ۔ ۔ اگر واقعی وہ ایسی نہی ہے اور میری آزمائش لینے کے لیے دلہن میں بیٹھی تھی تو بہت ہی بے وقوف لڑکی ہے یہ ۔ ۔ ۔ اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید اس
کی خوبصورتی کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا ۔ پاگل لڑکی کو سمجھانا پڑے گا کہ آئیندہ ایسی بے وقوفی مت کرے اگر اس بد نام زمانہ جگہ پر رہ کیا ہیں اس کی عزت محفوظ ہے تو خود کو کسی آزمائش میں نہ ڈالے ۔ ہم ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن میں اس کی اتنی فکر کیوں کر رہا ہوں ؟
خود سے ہی سوال کرتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گیا ۔ اس کی زندگی ہے جو اس کا دل چاہے کرے مجھے اس سے دور ہی رہنا چاہیے ۔

ویسے بھی بینی کو شک ہو رہا تھا اور اگر اسے پتہ چل گیا تو قیامت آجائے گی ۔ ۔ ۔ ۔ نہی نہی
مجھے اس سے دور ہی رہنا ہو گا ۔
ہاں یہی سہی رہے گا ۔ ۔ ۔ ۔ بیگ پیک کر لیتا ہوں جلدی سے شام کو نکلنا ہے ۔ الماری کی طرف بڑھا اور بیگ پیک کر کے پھر سے لیٹ گیا۔
دارم کی آواز پر آنکھ کھلی ۔ ۔ ۔ عصر کا وقت ہو رہا تھا تھا وضو کرنے کے بعد مسجد گیا نماز
پڑھی اور بیگ اٹھائے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
بیگ گاڑی میں رکھا اور بینش کے ہاسٹل کے سامنے گاڑی روک کر اسے کال ائی ۔ ۔ ۔ آخر کار آدھا گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد وہ منہ پھلائے بینڈ بیگ پچھلی سیٹ پر
پھینکتی ہوئی بیٹھ گئی۔
تمہیں آگے بلانے کے لیے انویٹیشن بھیجنا پڑے گا کیا؟ ان کے سوال پر غصے سے دروازہ بند کرتی ہوئی آگے بیٹھ گئی۔ جیسے فرنٹ سیٹ پر بٹھانے کی کیا ضرورت تھی ؟
اہی کو بٹھا لیتے جس کے ساتھ کل پوری رات تھے۔
?What

ہمدان نے حیرانگی سے اسے دیکھا اور اسٹیرنگ و جیل پر ہانسوں کا دباو بڑھایا اور گاڑی
اسٹارٹ کر دی ۔ جیسے غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
ہاں تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ کل رات تم اس لڑکی کے ساتھ تھے تو جب رات گزار لی ہے
دن بھی اسی کے ساتھ گزار لیا کرو۔
Shut up beeni
بس غصے میں کہا تھا میں نے اور تم نے سیریس سمجھ لیا۔ ۔ ۔ بس کر دو یا ر بے وقوفی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔ تم ساری حدیں پار کرتی جا رہی ہو۔
سہی کہا تم نے میں تو ہوں ہی بے وقوف ۔ ۔ ۔ سمجھدار تو آپ میں جناب۔ اتنی لمبی کیا گفتگو چل رہی تھی صبح اس لڑکی سے تمہاری ؟
میں نے دور سے دیکھا تم کافی پریشان تھے اس لڑکی کو دیکھ کر ۔ ۔ ۔ جو میں سمجھ رہی ہوں
کہی وہ سچ تو نہی ؟
جی جی ۔ ۔ ۔ ۔ جو تم سمجھ رہی ہو وہی سچ ہے ، میں واقعی کل رات اس لڑکی کے ساتھ ہی تھا بلکہ کل رات ہی کیوں ۔ ۔ ۔ ۔ ہر رات اسی کے پاس ہوتا ہوں ۔ اب راز کھل ہی گیا ہے تو کھل کے سن لو۔ کیوں دماغ خراب کر رہی ہو میرا ؟

ابھی گھر جا کر بہت سارے سوالوں کے جواب دینے ہیں مجھے ۔ ۔ ۔ ۔ گھر والوں کی الگ
پریشانی بنی ہوئی ہے اور تم ہو کہ ابھی تک اس لڑکی کو لے کر بیٹھی ہو۔
تمہاری طرف سے معافی مانگ رہا تھا میں اس سے بس یہی سچ ہے ۔ ۔ ۔ باقی جو تمہارے دل
میں آئے جی بھر کے سوچتی رہو۔
I Dont Care
تم اتنی ٹینشن کیوں لے رہے ہو اس لڑکی کے لیے ؟
جب بھی میں تمہارے ساتھ اس کی بات کرنے کی کوشش کرتی ہوں تم غصہ کرتے ہو اور مجھے چپ رہنے پر مجبور کر دیتے ہو ۔
یہ سب تمہارے دماغ کا وہم ہے اور کچھ نہی مینی, تم ضرورت سے کچھ زیادہ ہی سوچ رہی
ہو۔
اس لڑکی سے ہمارا ٹکر او اتفاقا تھا اور کچھ نہی لیکن تم اپنی انا کے چکر میں اسے ذہن میں سوار
کر چکی ہوں ۔
Forget
ہماری اپنی زندگی بھی زندگی ہے ۔۔۔۔ اپنے بارے میں سو جو بجائے اس کے ہم اپنے قیمتی لمحات میں اسے ڈسکس کرتے رہیں۔


ہم کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو لیکن اس نے میری بہت انسلٹ کی تھی اور اسے معافی مانگنی چاہیے تھی مجھ سے لیکن الٹا تم اسی سے معافیاں مانگ آئے ہو۔
Come On yaaarrrr
زبر دستی معافی نہی منگوائی جا سکتی کسی سے جب تک اس کو خود اپنی غلطی کا احساس نہ ہو اور مجھے امید ہے کہ ایک دن وہ لڑکی خود تم سے معافی مانگے گی۔
ہاں ضرور ۔ میں وہ دن لا کر ہی چھوڑوں گی ۔۔۔ بینی کے چھرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اور ہمدان نے گہری سانس لیتے ہوئے سکھ کا سانس لیا۔
بینی اس کا بازو تمام اس کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کیے جیٹھ گئی۔ بہت نیند آرہی ہے مجھے جب گھر پہنچ جائیں تو مجھے جگا دیتا۔
ہمدان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔ ۔ ۔ اس کی یہ جنونی محبت کسی دن طوفان نہ بن
جائے۔
گھر پہنچتے ہی گیٹ کے باہر گاڑی پارک کی اور بینی کو جگا یا ۔
اٹھو گھر پہنچ گئے ہیں ہم ۔ ۔ ۔ ۔ کندھے سے بلایا تو وہ آنکھیں مسلتی ہوئی اٹھ گئی ۔ جیسے ہی ہمدان نے ہارن بجایا گیٹ کھل گیا ۔ ۔ ۔ اندر پہنچ کر گاڑی کی چابی گیٹ کیپر کی طرف
اچھالی اور اپنا فون اور وائلٹ اٹھا کر اندر چل دیا۔

رکو ۔ ۔ ۔ منیش تیزی سے ہمدان کی طرف دوڑی اور اس کے بازو پر ہاتھ رکھتی ہوئی
مسکراتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گئی ۔
ہمدان نے افسردگی سے سر ہلایا ۔ ۔ ۔ کچھ نہی ہو سکتا تمہارا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دونوں نے اندر داخل ہوتے ہی سلام کیا ۔
و علیکم اسلام ۔ ۔ ۔ ۔ بنیش کی ماما صوفے سے اٹھ کر دونوں کی طرف بڑھیں ۔
اسلام و علیکم تائی اماں ۔ ۔ ۔ ۔ ہمدان نے ہچکچاتے ہوئے انہیں سلام کیا ۔
وعلیکم اسلام ۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے سنجیدگی سے سلام کا جواب دیا اور دونوں کے سر پر باری
ائیں ہاتھ رکھا ۔
بین بنیا ٹا ئم گھر آنے کا دونوں کو؟
ہمدان کی ماما بھی آگے بڑھیں اور دونوں کا باری باری ماتھا چوما ۔
ہی جان مل ہی گیا ٹا ئم آپ کے لاڈلے کو گھر آنے کا ۔ ۔ ۔ زبر دستی لائی ہوں ورنہ اس کا دل ہی کہاں کرتا ہے گھر آنے کو رنگ برنگی تتلیاں دیکھنے کا عادی جو ہو چکا ہے ۔ ہمدان نے اس غصے سے گھورا لیکن بینش پر کچھ اثر نہی پڑا ۔ ۔ ۔ ہمدان نے جیب سے پین وڈ اور جینیش کا ہاتھ تھام کر اس کی دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر زور سے دبایا تو اس کی بیخ

نکل گئی۔

دیا گیا ہے نہ اماں یہ پیار ہی بہت کرتی ہے مجھ سے اس کی بات کیسے ٹال سکتا ہوں میں تیزی سے بولتے ہوئے اپنا ہاتھ واپس کھینچا اور بین دوبارہ پاکٹ میں رکھ دیا۔
کیا ہوا بینی؟ ہمدان اسے ہاتھ دباتے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا۔
ی بیان اس کے ہاتھ میں کچھ تھا ۔ کچھ کیا ہے اس نے ۔ ۔ ۔ جینیش تیزی سے اس کے ہاتھ
تھا مستی ہوئی بولی لیکن ہمدان کے ہاتھ میں بس فون اور وائلٹ تھا ۔
کتا ہے اچکاتے ہوئے مسکرا دیا ۔ ۔ ۔ تمہیں ڈرامے کرنے کی عادت ہے بینی ۔ ۔ ۔ میں
نے کچھ نہی کیا ۔
نہی چچی جان اس کے ہاتھ میں کچھ تھا ۔ ۔ ۔ بنیش نے مدد طلب نگاہوں سے ان کی طرف اور انہوں نے ہمدان کی طرف دیکھا اور ہمدان نے سر نفی میں ہلا دیا۔ بالا کر دو تم آتے ہی شروع ہو گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ماں کی آواز پر منیش ماں کی طرف پلٹی ۔ بھائی ۔ ۔ ۔ ۔ آپ آگئے علی تیزی سے دوڑتا ہوا ہمدان کے گلے لگ گیا ۔
کہاں چلے گئے تھے آپ ؟
پتا ہے کتنا ڈر گئے تھے ہم سب؟
Dont worry I am fine buddy

ہمدان نے اسے خود سے الگ کیا اور آئی بروا چکاتے ہوئے بینیش کی طرف دیکھا۔
بینیش نے بے رخی سے منہ دوسری طرف موڑ لیا ۔
کچھ نہی ہوا تھا مجھے ۔ ۔ ۔ دوست کے بھائی کی شادی تھی رات اس کی طرف رک گیا تھا اور فون کی بیٹری کو تھی پتہ ہی نہی چلا کب ختم ہو گیا ۔
بینی سے رابطہ نہی ہو سکا اسی لیے پریشان ہو گئی تھی یہ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے ناں بینی ؟
مجھے کیا پتہ ؟ بینیش کے جواب پر سب نے چونک کر ہمدان کی طرف دیکھا ۔ ۔ ۔ ۔ ہمدان کے پایا اور بینییش کے بابا بھی وہاں آچکے تھے ۔
دونوں ان کی طرف بڑھے سلام کر کے ہمدان نے بینش کو گھورا جس کا مطلب تھا کہ بتاو
سب کو کیوں مروانا چاہتی ہو مجھے ۔
بینیش نے کندھے پے آئے بال پیچھے جھٹکے اور مسکرادی ۔ ۔ ۔ میں مزاق کر رہی تھی۔ یہ
واقعی کل اپنے دوست کی طرف ہی تھا۔
مجھے لگا شاید گھر آیا ہو مجھے بتائے بغیر اسی لیے گھر کال کر دی میں نے ۔ ۔ ۔ رئیلی سوری میری وجہ سے آپ لوگ بہت پریشان ہوئے ۔
 
بھا بھی پلیز نیکسٹ ٹائم بھائی نے کسی بھی جانا ہو آپ بھی ان کے ساتھ جایا کریں ۔ ۔ ۔ علی کے مشورے پر بینی نے مسکراتے ہوئے ہمدان کی طرف دیکھا۔

پہلے بھی یہ چڑیل میرے ساتھ ہی رہتی ہے ہر وقت پر ۔ ۔ ۔ ۔ ہمدان کے جواب پر سب ہنس دیے سوائے بینش کے وہ ہمدان کے پیچھے دوڑی ابھی بتاتی ہوں تمہیں ۔۔۔۔ ہمدان اس کے پہنچنے سے پہلے ہی اپنے کمرے میں پہنچ کر دروازہ بند کر چکا تھا۔

ہمدان کمرے سے باہر آیا تو سب بینیش کے ارد گرد جمع تھے اور وہ اپنا پاوں تھام کر رو رہی

تھی ۔ ۔ ۔ وہ فکر مندی سے آگے بڑھا ۔

کیا ہوا تمہیں ایسے رو کیوں رہی ہو ؟

سیڑھیوں سے گر گئی سینڈل ٹوٹنے کی وجہ سے لگتا ہے پاوں میں موچ آگئی ہے ۔

تم بھی کمال کرتی ہو بینی ۔ ۔ ۔ دھیان سے چلا کرو ۔

اچھا اب رونا بند کرو میں کسی کو بھیج کر جراح کو بلواتا ہوں ۔

بھائی آپ فکر مت کریں میں نے بھیج دیا ہے ۔ ۔ ۔ علی ہمدان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے

ہوئے بولا ۔

ہم ۔ ۔ ۔ ۔ ہمدان مسکرا دیا۔ ۔

مجھے درد ہو رہا ہے اور تم دونوں کے دانت نکل رہے ہیں بابا دیکھیں زرا ان دونوں کو ۔ بینی کے انکشاف پر ہمدان سر تھام کر بیٹھ گیا ۔

ابھی تمہیں چوٹ لگی ہے اور تمہارا دھیان پھر بھی ہم پر ہے ۔ میں تو ویسے ہی مسکرارہا تھا ۔

ہاں ہاں تم تو ویسے ہی مسکرا رہے تھے

میں ہی جھوٹ بول رہی ہوں۔

اب میں نے یہ کب کہا کہ تم جھوٹ بول رہی ہو ؟

بس بھی کر دو تم دونوں ۔۔۔۔ بینش کی ماما بولیں تو دونوں خاموش ہو گئے۔ میں پھوپھو سے مل کر آتا ہوں ۔ ۔ ۔ ہمدان بہا نہ بناتے ہوئے وہاں سے چل دیا ۔

وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں کہ ہمدان دروازہ ناک کرتے ہوئے

کمرے میں داخل ہوا۔

اسلام و علیکم پھوپھو ۔ ۔ ۔ کیسی ہیں آپ ؟ ۔

وعلیکم اسلام ۔ ۔ ۔ انہوں نے محبت سے ہمدان کے سر پر ہاتھ رکھا اور اس کے کندھے پے

سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیں ۔

کیسی ہو سکتی ہوں میں ۔ ۔ ۔ ؟

چار سال ہو گئے ہیں میری نور کو اس دنیا سے رخصت ہوئے اور آج بھی ایسا لگتا ہے جیسے وہ یہی ہے ۔ ابھی اچانک سامنے سے آئے گی کہ امی آپ نے اپنی دوائی کی یا نہی کھا نا پورا ختم کیا یا نہی ابو کو یاد کر کے رو تو نہی رہی؟

مجھے اپنے باپ کی یاد میں رونے سے روکنے والی خود ایک یاد بن کر رہ گئی۔ جانے سے پہلے ایک بار بھی نہی سوچا کہ اس کے بغیر کیسے زندہ رہوں گی میں ، میری زندگی کا سب سے قیمتی ہیرا تھی میری نور۔

تمہارا انتظار کرتی رہی میں بہت کہ شاید تم آو گے اور میرا درد با نٹو گے لیکن تم بھی نہی

آئے۔

پھوپھو میں کیا بتاوں آپ کو کہ میں کیوں نہی آسکا ۔ ۔ ۔ میری ندامت اس دن مجھے یہاں

آنے ہی نہی دیتی ہر بار کوشش کرنے کے باوجود بھی ہار جاتا ہوں میں ۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس دن کی طرح آج بھی وہ میرے کمرے میں موجود ہوتی ہے اور محبت کی بھیک مانگتی ہے مجھ سے ، اس کی درد بھری آنکھیں,ازیت بھرا لہجہ اور التجائیں آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہیں ۔

آتے ہی رونا ڈال دیا آپ نے آپا ۔ ۔ ۔ ابھی ابھی تو تھکا ہارا گھر پہنچا ہے میرا بیٹا اور آپ

اپنی بیٹی کا رونا لے کر بیٹھ گئی ہیں۔

ماں کی گرجدار آواز پر ہمدان سوچوں کے سمندر سے باہر نکلا اور چونک کرماں کی طرف

دیکھا ۔

کیا ہو گیا ہے اماں ۔ ۔ ۔ اگر یہ اپنے دکھ مجھ سے بیان نہی کریں گی تو اور کس سے کریں گی ؟ ویسے بھی اس گھر میں میرے علاوہ ان کا کوئی ہمدرد تو ہے نہی تو پھر میں ہی سنوں گا ناں ۔ بس کر دو اس عورت کے لیے اپنی ماں سے لڑنا ہمدان ۔ ۔ ۔ یہ نہ خود چین سے جیتی ہے نہ

ہمیں جینے دے گی ۔

پہلے اس کے شوہر کی موت اور پھر اس کی بیٹی کا رونا ۔ ۔ ۔ ۔ ہماری خوشیوں کو کھا گئی ہیں یہ دونوں دیتہ نہیں تم کب سمجھو گے ۔

بس اماں ۔ ۔ ۔ ۔ خدا کا تھوڑا سا تو خوف کھالیں ۔ اس میں پھوپھو کا کیا قصور ہے ؟

قصور تو سارا اسی کا ہے ۔ ۔ ۔ ناں یہ شوہر کو ملک سے باہر بھیجتی نہ وہ مرتا اور بیٹی کی مرضی کے خلاف اس کی شادی طے نہ کرتی تو شاید آج وہ زندہ ہوتی ۔ ۔ ۔ مگر نہی اس عورت کو تو

بس پیسے کا جنون تھا ۔

پہلے شوہر کو دولت کی لالچ میں خود سے دور کر دیا اور پھر بیٹی کو دولت میں تولنا چاہا تو وہ بھی یہ دکھ برداشت نہیں کر سکی اور خود تو مر گئی لیکن اپنی ماں کو ہمیشہ کے لیے ہمارے سر پے

مسلط کر گئی۔

اماں جان بس کر دیں ۔ ۔ ۔ ۔ جو کچھ ہوا اس میں پھوپھو کا کوئی قصور نہی تھا ۔ ۔ ۔ پھوپھا جان کی موت ایک حادثہ تھی اور نور کو کیا ہوا یہ بھی اللہ کے سوا کوئی نہی جانتا تو پھر آپ کیسے ہر بار

ان دونوں کی موت کا الزام پھوپھو پر ڈال دیتی ہیں ؟

کیوں کرتی ہیں آپ ایسا کیا آپ کو ان پر زرا ترس نہیں آتا ؟

اس پر ترس کھانے کے لیے تم اکیلیے کافی نہی ہو کیا جو ہم بھی ترس کھائیں, بینی بہت رو رہی ہے چلو نیچے ۔ ۔ ۔ ۔ اسے بازو سے بھینچتی ہو ئیں کمرے سے باہر لے گئیں ۔ اماں آپ زیادتی کر رہی ہیں پھوپھو کے ساتھ ۔ ۔ ۔ نور کی موت کا زمہ دار کون ہے جس دن آپ کو پتہ چلے گا ناں اس دن آپ بہت پچھتائیں گی ، یا د رکھنا آپ میری بات ۔ اپنا ہاتھ آزاد کرتا ہوا تیزی سے نیچے چلا گیا اور وہ سوچ میں پڑ گئیں ۔ ۔ ۔ ایسا کیوں بولا ہمدان

نے؟

کچھ دیر سوچتی رہی اور پھر نیچے چلی آئیں ۔

جراح آیا اور بینیش کے پاوں کی مورچ نکال دی اور مرہم پٹی کر کے چلا گیا ۔

ہمدان دادا اور دادی کے پاس بیٹھا ان کا لیکچر سنے میں مصروف تھا ۔ ۔ ۔ کافی دیر ان کے پاس بیٹھا رہا پھر کمرے سے باہر آگیا ۔

گہری سنجیدگی میں صوفے پر ٹانگ پے ٹانگ جمائے دائیں گال پر ہاتھ رکھے کسی گہری سوچ میں گم تھا ۔ ۔ ۔ مت کرو میرا ساتھ ایسا ہمدان ۔ ۔ ۔ روک دو یہ شادی, میں مر جاوں گی

تمہارے بغیر ۔

تو مر جاو۔ ۔ ۔ ۔ یہی بہتر ہے تمہارے لیے ۔

بھائی ۔۔۔۔ علی نے اس نے کندھے پر ہاتھ رکھا تو چونک گیا ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔

بھائی کھانا کھا لیں ۔ ۔ ۔ علی نے میز کی طرف اشارہ کیا تو سب پر نظر ڈالتے ہوئے ازیت ، مسکرا دیا اور کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا۔

لکھتا ہے بھا بھی آپ تو اب ایک دو ہفتے یو نیورسٹی نہی جا سکیں گی ۔ ہاں مجھے بھی یہی لگ رہا ہے علی ۔ ۔ ۔ علی کی بات پر بینش منہ پھلائے بولی۔ لکھتا ہے بھائی بھی نہی جائیں گے تب تک ہے ناں بھائی ؟

کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

علی کے سوال پر ہمدان نے اس کی طرف ایسے دیکھا جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔

دھیان کہاں ہے آپ کا بھائی ؟

کہی نہی ۔ ۔ ۔ بس بینی کی وجہ سے تھوڑا پریشان ہوں, صبح واپس جانا ہے اور یہ چوٹ لگوا کر

گھر بیٹھ گئی ہے ۔

تو یہی بات تو میں پوچھ رہا ہوں کہ اب آپ بینش آپی کے ساتھ ہی یو نیورسٹی جائیں گے

ناں جب ان کا پاوں ٹھیک ہو جائے گا۔

ہاں ۔ ۔ ۔ میرا مطلب نہی میں صبح چلا جاؤں گا ۔ اتنی چھٹیاں افورڈ نہی کر سکتا ہیں ، جب یہ ٹھیک ہو جائے گی لینے آجاوں گا۔

کیوں افورڈ نہی کر سکتے تم اتنی چھٹیاں ، آخر ایسی بھی کیا مجبوری ہے تمہاری ؟

مجبوری نہی ہے اماں ۔ ۔ ۔ پڑھائی کا حرج نہی برداشت کر سکتا ہیں ۔

پڑھائی کا حرج یا پھر کچھ اور ۔ ۔ ۔ سچ بتاو کہ تمہارا ہم سے ملنے کو دل نہی کرتا، پچھلے چار سال سے تم نے یو نیورسٹی کو ہی اپنا گھر سمجھ لیا ہے ۔ فون کر کر کے تھک جاتے ہیں ہم کہ آکر مل جاولیکن تمہارے بہانے ہی ختم نہی

ہوتے ۔ آخر ایسا کیا ہے اس یونیورسٹی میں ؟

کیا ہو گیا ہے بھا بھی ؟

آپ خوامخواہ بات کو بڑھا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ یہ تو اچھی بات ہے کہ اس کا دل لگ گیا ہے پڑھائی میں اور آپ الٹا غصہ کر رہی ہیں اس پر ۔

جی تایا جان میں بھی تو یہی سمجھا رہا ہوں اماں کو کہ بار بار گھر آنے سے پڑھائی میں رکاوٹ آتی ہے مگر یہ میری بات سمجھتی ہی نہی۔

اس نے آج تک میری بات نہی سمجھی تو تمہیں کیا سمجھے گی ۔

باپ کے جواب پر ہمدان مسکرایا لیکن ماں کے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ کر فوراً مسکراہٹ سنبھلی ۔

سی تو کہ رہے ہیں تایا جی ۔ ۔ ۔ آپ کو تو شکر ادا کرنا چاہیے کہ آپ کے بیٹے کا دل لگتا ہے پڑھائی ورنہ ایسی بھی مائیں ہیں جن کو اپنوں بچوں سے ہمیشہ یہی شکایت رہتی ہے کہ

اس کا پڑھائی میں دھیان نہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ہمدان کا اشارہ منیش کی طرف تھا۔ بینش نے چونک کر ماں کی طرف دیکھا اور ہمدان کو گھور کر چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔

جی بچی جان سہی تو کہہ رہا ہے ہمدان ۔ ۔ ۔ اسے جانے دیں صبح واپس ۔ میں جب ٹھیک ہو جاوں گی تو چلی جاؤں گی، آپ فکر نہی کریں ۔ میرا پاوں سہی ہونے میں


پتہ نہی کتنے دن لگ جائیں گے ۔

میرے انتظار میں یہ اپنی کلاسز مس تو نہی کر سکتا ناں ۔

سہی ہے ۔ ۔ ۔ جب سب اس کی ہمایت میں بولیں گے تو میں اکیلی کیا کر پاوں گی مجھے ہی بار ماننی پڑے گی ۔۔۔۔ چلو اب سب کھانے پر دھیان دیں ٹھنڈا ہو رہا ہے۔

جی ۔ ۔ ۔ ہمدان پھیکا سا مسکرا دیا اور کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا ۔ کھانے سے فارغ ہوا تو علی اسے اپنے ساتھ لے گیا اپنے کمرے میں۔

اسے میتھ کے سوال سمجھاتے سمجھاتے وہ خود بھی وہی سو گیا ۔

صبح آنکھ کھلی تو بے بسی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں گیا اور بھاری قدموں کے ساتھ الماری

تک پہنچ کر کپڑے نکال کر فریش ہونے چلا گیا ۔

فجر کی نماز ادا کی اور اپنا فون اٹھائے کمرے سے باہر آگیا ۔

با ہر گارڈن میں چلتے چلتے کسی گہری سوچ میں گم ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا کر رہی تھی تم وہاں

درخت کے پیچھے ؟

ایسے چھپ چھپ کر کیوں دیکھ رہی تھی مجھے کوئی شرارت کرنے لگی تھی کیا ؟

سچ سچ بتاو مجھے ورنہ پھوپھو سے شکایت کر دوں گا میں تمہاری ۔

نہی ہمدان ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ڈری سہمی سی بولی ہی تھی کہ ہمدان نے ٹوک دیا ۔ چپ ۔ ۔ ۔ کتنی بار بولا ہے تمہیں کے ہمدان بھائی بولا کرو مگر تم سنتی ہی نہیں ۔ ۔ ۔ بڑا ہوں تم

سے تمیز کیا کرو۔

نہی بولوں گی میں آپ کو بھائی ۔ ۔ ۔ نور غصے سے چلائی ۔

کیوں نہی بولو گی مجھے بھائی ؟

پھوپھو سے شکایت کرتا ہوں تمہاری ۔ ۔ ۔ اور تم گھر پے کیا کر رہی ہو کا لج میں ایڈمیشن نہ

ہوا تمہارا ؟

نہی ہوا ایڈمیشن - - - امی کہہ رہی ہیں کہ بس میٹرک ہی کافی ہے ۔ لڑکیوں کو زیادہ نہی پڑھنا

چاہیے ۔

ضرور اماں نے کچھ کہا ہو گا ۔ ۔ ۔ آج ہی بات کرتا ہوں ان سے اور یو نیورسٹی سے واپسی پر تمہارا ایڈمیشن فارم لا تا ہوں ۔

نہی نہی ۔ ۔ ۔ ممانی نے کچھ نہی کہا امی سے ۔ ۔ ۔ میرے سارے فیصلے وہ خود ہی لیتی ہیں اور آپ فکر نہ کریں میری پڑھائی کی بلکہ اپنی پڑھائی پر دھیان دیں ابھی ابھی یونیورسٹی جوائن

کی ہے آپ نے میرے چکر میں اپنی پڑھائی کا حرج نہی کریں ۔

اچھا ۔ ۔ ۔ اتنی بڑی ہو گئی ہو تم کہ اب بڑے بھائی کو سمجھاو گی ۔ ۔ ۔ ہمدان نے اس کی چٹیا

کھینچی۔

بھائی نہی ہیں آپ میرے ۔ ۔ ۔ ایک بار سمجھتے کیوں نہی آپ ؟

غصے سے اپنی چٹیا ہمدان کے ہاتھ سے آزاد کرتی ہوئی وہاں سے بھاگ گئی اور ہمدان حیرت زدہ سا اسے جاتے دیکھتا رہ گیا۔

آج چار سال بعد بھی چلتے چلتے اسی جگہ پے آکر رک گیا اور اپنے خالی ہاتھ کو دیکھتے دیکھتے اذیت بھری نگاہوں سے گارڈن میں اس کی ہنسی اور غصے بھرے لہجے کو محسوس کر رہا تھا کہ

فون کی آواز پر ہوش میں آیا ۔ بینش کی کال آرہی تھی ۔ ۔ ۔ نا چاہتے ہوئے بھی کال رسیو کی اور اپنے کمرے میں چلا

آیا ۔ نہی ناشتے کا انتظار نہی کر سکتا ۔

بس جا رہا ہوں ۔ ۔ ۔ بیگ خالی کر کے دوسرے کپڑے بیگ میں رکھتے ہوئے وائلٹ اٹھائے بیگ کھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آیا۔

ہمدان - - - ناشتہ کر کے جانا۔ اس کی ماں آوازیں دیتی رہ گئی لیکن وہ بنار کے گاڑی میں بیگ رکھتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے یو نیورسٹی کے لیے نکل آیا ۔

کسی کی نہی سنتا یہ لڑکا ۔ ۔ ۔ کتنی آوازیں دی لیکن مجال ہے جو پلٹ کر ایک بار بھی ماں کی طرف دیکھا ہوا پتہ نہی کس بات کا بدلہ لے رہا مجھ سے اور کس جرم کی سزا دے رہا ہے خود

کو۔

چھوڑو بھی ۔ ۔ ۔ دیر ہورہی ہوگی اسے ۔ ۔ ۔ بینش کی ماں نے دیورانی کے کندھے پر ہاتھ

رکھتے ہوئے اسے تسلی دی۔

بس کر دیں بھا بھی رہنے دیں, جھوٹی تسلیاں نہ دیا کریں آپ مجھے ۔ ۔ ۔ میں واقعی پریشان رہنے لگی ہوں اب اس کی وجہ سے وہاں کا زرا خیال نہی رہا اس کو کہ ماں کو سلام کرے اور

ماں کی دعاوں میں گھر سے رخصت ہو۔

اسے پھوپھو کے دکھڑے سننا تو یادرہتا ہے لیکن ماں کا حال پوچھنا کبھی یاد نہی رہتا ۔ ۔ ۔ بس مجبور اسا گھر آتا ہے ملتا ہے اور صبح ہوتے ہی بغیر کسی سے ملے چلا جاتا

آخر میری غلطی کیا ہے ؟

★★★★★

مجھے بتائے تو سہی ۔۔ مجھے تو ڈر ہی لگتا ہے کسی بینش کے ساتھ بھی ۔ ۔ ۔ میرا مطلب بینش کو خوش رکھے گا یا نہی ۔ ۔ مجھے بہت فکر ہوتی ہے ۔

کہی جزبات میں ہم نے کوئی غلط فیصلہ تو نہی کر لیا بینی کے لیے ؟

خبر دار ۔ ۔ ۔ ۔ خبر دار جو ہمدان نے میری بیٹی کو تکلیف پہنچانے کا سوچا بھی تو اس کی زندگی بلا کر رکھ دوں گی ۔۔۔ جانتا نہی ہے وہ ابھی اپنی سائی کو میری اکلوتی بیٹی کی آنکھ میں اس کی

وجہ سے اگر ایک آنسو بھی آیا تو دیکھ لینا ۔

سمجھا و بیٹے کو، تمہارے ساتھ اس کے جو بھی معاملات ہیں وہ سہی ہو یا نہ ہو لیکن میری بیٹی کے ساتھ اس کے سارے معاملات سہی ہونے چاہیے۔

تم کیا در در کی ٹھوکریں کھانا چاہتی ہو؟ تمہارا اپنا جو کچھ تھا وہ تو تمہارے شوہر نے جو ے میں ہارا دیا ۔ ۔ ۔ اب کیا اپنے سر سے اس چھت کو بھی چھیننا چاہتی ہو؟

بات کرو ہمدان سے ۔ ۔ ۔ اپنی بیٹی کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی برداشت نہی کروں گی میں چلتی ہوں بیٹی کو یہ بلدی والا دودھ دے آوں ۔ تب تک تم ناشتہ دیکھ لو۔

جی بھا بھی ۔ ۔ ۔ وہ شرمندگی سے سر جھکائے ناشتہ بنانے میں مصروف ہو گئیں۔

،

ہمدان کا کسی لڑکی کے ساتھ چکر چل رہا ہے کیا ؟

وہ بیٹی کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئی بولی ۔

نہی ما ما ایسا کچھ نہی ہے ۔ ۔ ۔ بینی نے حیرت سے ماں کو دیکھا جیسے اسے یقین ہی نہ آیا ہو

ان کے سوال پر ۔

ایسا کچھ ہونا بھی نہی چاہیے بیٹا ۔ ۔ ۔ ورنہ میں اس کا وہ حال کروں گی کہ پورا گاوں دیکھے گا۔ نہی ماما جانی ایسا کچھ نہی ہے ۔ آپ کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہیں ۔

ہمدان کو مجھ سے ہی فرصت نہی ہوتی وہ بھلا کیا کسی اور لڑکی کی طرف دیکھے گا ۔ ۔ ۔ میں اسے خود میں ہی اتنا الجھا کر رکھتی ہوں کہ وہ کسی اور سے بات کرنا تو دور دیکھ بھی نہی پاتا۔

اچھا ۔ ۔ ۔ ۔ تم نے علی کو جو کال کی تھی کہ ہمدان ہاسٹل نہی ہے گھر آیا کہ نہی وہ سب کیا تھا ؟ کیا واقعی وہ اپنے دوست کی طرف تھا یا پھر کچھ اور معاملہ ہے اور اگر دوست کی طرف تھا بھی تو اس نے تمہیں بتانا ضروری نہی سمجھا ۔ ۔ ۔ ۔ کیوں ؟

ماما وہ اس لیے کیونکہ اس کا فون چارج نہی تھا۔ مجھے لگا شاید گھر آیا ہو کیونکہ ہر سال وہ نور کی

برسی والے دن گھر ضرور آتا ہے ۔

اب مجھے نہی پتہ چلا کہ وہ گھر آیا ہے یا شادی پر ۔

تم سے کس نے کہہ دیا کہ وہ ہر سال نور کی برسی پر گھر آتا ہے ؟

ماں کے سوال پر بینش چونک گئی ۔ ۔ ۔ کیا مطلب ماما ؟

وہ ہر سال گھر آتا ہے پچھلے تین سال سے ۔ ۔ ۔ یہ کہہ کر کہ پھوپھو سے ملنا ضروری

ہے ۔ وہ اس دن بہت دکھی ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ کیوں گھر نہی آتا کیا ؟

اب میری آنکھیں اتنی بھی بند نہی ہوتی جو وہ گھر آئے اور مجھے دکھائی نہ دے ۔ ۔ ۔ یا پھر وہ اتنی چھوٹی چیز تو ہے نہی جو دروازے کے نیچے سے اندر آجائے اور ہم دیکھ نہ سکیں ۔ ۔ ۔ آخر کیا کھیل کھیلنا چاہ رہا ہے وہ تمہارے ساتھ ؟

پتہ نہی ماما مجھے جو پتہ تھا میں نے آپ کو بتا دیا۔ مجھے تو یہی کہتا تھا کہ گھر جا رہا ہوں رات تیک

واپس آجاوں گا ۔

ہم ۔ ۔ ۔یہ ماں بیٹ مل کر کچھ تو کھچڑی پکا رہے ہیں لیکن میری نظروں سے بچ نہی پائیں

گے ، ان کی یہ حالاقیاں سمجھ رہی ہوں میں۔

میری بیٹی کا حق نہی مارنے دوں گی میں کسی کو ۔۔۔ تم فکر نہی کرو۔ یہ ہلدی والا دودھ پیو ۔ ۔ ۔ میں پتہ لگا لوں گی کیا معاملہ ہے ۔

جی ۔۔۔ بینش بھی پریشان ہو چکی تھی ۔ وہ کسی گہری سوچ میں گم کمرے سے باہر آئیں اور نند کے کمرے کی طرف بڑھیں ۔

آئیں بھا بھی ۔ ۔ ۔ آپ کو دروازہ کھٹکھٹانے کی کیا ضرورت ہے ؟

آپ کا اپنا گھر ہے جب چاہیں آسکتی ہیں یہاں ۔ ۔ ۔ نور کی ماما خوشی خوشی ان کے میں کھڑی ہو گئیں ۔

بس بس رہنے دو سب یاد ہے مجھے کہ یہ میرا گھر ہے اور تم کسی بوجھ کی طرح میرے گھر میں پڑی ہو، پتہ نہی کب جان چھوٹے گی تم سے ۔ ۔ ۔ خیر میں کچھ پوچھنے آئی تھی تم سے ۔

جی بھا بھی پوچھیں ۔۔۔ کیا پوچھنا چاہتی ہیں آپ، شاید آپ کے کسی کام آسکوں میں۔

جو میں پوچھنے والی ہوں اس کا سہی سہی جواب دینا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہی ہوگا ۔ ۔ ۔ نور کی

برسی پر ہر سال ہمدان تم سے ملنے آتا ہے کیا ؟

جی ۔ ۔ ۔ جی بھا بھی لیکن ہوا کیا ہے ؟

اچھا ۔ ۔ ۔ واقعی وہ ہر سال نور کی برسی پر گھر آتا ہے تو مجھے نظر کیوں نہی آتا ؟

میں نے تو ایک بار نہی دیکھا اسے یہاں آتے ہوئے اور جاتے ہوئے ۔


جی بھا بھی وہ رات کو آتا ہے اور رات کو ہی واپس چلا جاتا ہے ۔

ایسی کیا مجبوری اس کی جو وہ چوروں کی طرح آتا ہے اور چوروں کی طرح ہی چلا جاتا ہے ؟

پتہ نہی بھا بھی ۔ ۔ ۔ اب اس بات کا جواب تو آپ کو وہ خود ہی دے سکتا ہے۔ جواب تو میں اس سے لے ہی لوں گی تم فکر نا کرو اور اگر اس نے میری بیٹی کو دھوکا دینے کا سوچا بھی تو بہت پچھتائے گا ۔ ۔ ۔ غصے میں کمرے سے باہر نکل گئیں ۔

پچھتاتو ہم سب ہی رہے ہیں بھا بھی ۔ ۔ ۔ ہمدان کیا دھوکا دے گا آپ کی بیٹی کو وہ تو خود آپ کا قرض دار ہے ۔ بلکہ وہ ہی کیوں ہم سب ہی آپ کے قرض دار ہیں ۔

آخر آپ نے ہم سب پر رحم کھا کر اپنی چھت تلے پناہ جو دی ہے ۔ ۔ ۔ آپ کا قرض زندگی بھر نہی چکا پائیں گے ہم، میری بیٹی بھی اس قرض کا مداوہ ادا کر چکی ہے اب ہم سب

کی باری ہے ۔ بے بس سی کرسی پر بیٹھ کر بیٹی کی یاد میں آنسو بہانا شروع ہو گئیں ۔

همدان ہاسٹل پہنچ کر اپنا بیگ اٹھائے یونیورسٹی میں پہنچا ہی تھا کہ بینش کی کالز آنا شروع ہو

کیا مسئلہ ہے بینش صبح صبح ؟

ابھی ابھی پہنچا ہوں یو نیورسٹی ۔ ۔ ۔ کلاس میں جا رہا ہوں اور تم کال پے کال کری جا رہی

ہو۔

سب خیریت ہے ؟

کچھ خیریت نہی ہمدان ۔ ۔ ۔ تم پچھلے تین سال سے جو جھوٹ بولتے آرہے ہو وہ آج پکڑا جا

چکا ہے ۔

کیا جھوٹ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

ہمدان نے چونک کر فون کان سے ہٹا کر بینش کا نمبر دیکھا اور دوبارہ کان سے لگا لیا۔ یہی کہ تم پچھلے تین سال سے مجھ سے یہ جھوٹ بول رہے تھے کہ پھوپھو سے ملنے گھر جا رہے ہو لیکن ماما نے تو تمہیں گھر آتے ہوئے نہی دیکھا، کیا میں پوچھ سکتی ہوں کیا گیم کھیل

رہے ہو تم میرے ساتھ ؟

ہمدان نے غصے سے اپنے بال مٹھی میں جکڑے اور گہری سانس لیتے ہوئے نچلا ہونٹ

دانتوں تلے دبایا۔

بتا واب کچھ بول کیوں نہی رہے تم ؟

کیا بولوں میں بینی ؟

جب تمہیں مجھ پر یقین ہی نہی ہے تو میرے بولنے کا فائدہ ؟

غصے سے فون بند کرتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھا لیکن سامنے کسی سے ٹکرا گیا ۔ سامنے رسلہ تھی اگر اس کا ہاتھ نہ تھامتا تو وہ منہ کے بل سیٹر ہیوں سے گر جاتی۔

ہمدان کے سینے میں منہ چھپائے ڈر سے آنکھیں بند کیسے کھڑی رہی ۔

Excuse Me

مجھے کلاس کے لیے دیر ہو رہی ہے میڈم ۔ ۔ ۔ آپ پیچھے مٹنے کی گستاخی کریں گی ؟

رملہ تیزی سے پیچھے ہٹی اپنا ڈوپٹہ سیٹ کیا ۔ ۔ ۔ ایک تو غلطی آپ کی ہی مجھ سے معافی مانگنے کی بجائے مجھے ہی باتیں سنا رہے ہیں آپ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے ہی نظر ہمدان پر پڑی خاموش

ہو گئی۔

I am sorry

ہمدان نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور چہرے پر مسکراہٹ سجائے معزرت کرتے ہوئے

وہاں سے چل دیا ۔

رملہ اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی اور اس کی مسکراہٹ میں کھوسی گئی ۔ ۔ ۔ کتنا درد چھپا ہے اس کی مسکراہٹ میں بھی کسی گہری سوچ میں گم ہو گئی ۔

Everything is ok

کسی جانی پہچانی آواز پر واپس پلٹی تو پیچھے نصیر کھڑا تھا ۔

رملہ اس کی بات کا جواب دیے بغیر چپ چاپ وہاں سے چلی گئی ۔

اپنوں پے ستم غیروں پے کرم ۔ ۔ ۔ ارے واہ کیا کہنے محترمہ کے ۔ ۔ ۔ ادھر ملک ہمدان نے مسکرا کر دیکھ کیا لیا اسی کے خیالوں میں کھو گئی اور ادھر میں ہوں جس کی بات کی جواب

دینا بھی گوارہ نہیں کیا ۔

خیر کوئی بات نہیں ۔ ۔ ۔ نہ دو جواب کیونکہ کچھ دنوں تک تمہیں ایسا جواب دوں گا کہ

یا درکھو گی ، بس کچھ ثبوت اور مل جائیں پھر دیکھنا تم دونوں کی دنیا کیسے پلٹتا ہیں۔

بے باقی سے فون میں اتاری رملہ اور ہمدان کی تصویریں دیکھ کر مسکرا دیا ۔ پہلے سوچا تھا بینش کو تم دونوں کی سچائی بتا دوں لیکن پھر سوچا بینش ہی کیوں پوری یو نیورسٹی کو تم دونوں کے رشتے کے بارے میں پتہ چلنا چاہیے ، آخر کار میری انسلٹ بھی تو پوری یو نیورسٹی کے سامنے کی تھی آپ نے مس رملہ ۔ ۔ ۔ تو پھر آپ کی اوقات بھی پوری یو نیورسٹی کو پتہ چلنی چاہیے ناں ۔ ۔ ۔ بے باقی سے مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا ۔

@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@

فضول باتیں کرتا رہتا ہے ۔ دماغ خراب ہے اس لڑکے کا ۔ ۔ ۔ رملہ کینٹین میں بیٹھی جوس پی رہی تھی اور نصیر سے پیچھا چھڑانے کا طریقہ سوچ رہی تھی کہ وہ اچانک اس کے ساتھ والی

کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ گیا۔

رملہ نے گھورا مگر اسے کوئی فرق ہی نہی پڑا۔ آپ اکیلی بیٹھی تھیں تو میں نے سوچا تھوڑی کمپنی دے دوں آپ کو ۔

Excuse me

کیا میں نے آپ سے آپ کی کمپنی مانگی جو آپ منہ اٹھائے یہاں پہلے آئے ہیں ۔ آخر مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ آپ کیوں بار بار میرے راستے میں آرہے

ہیں ؟ ایک بار کہہ دیا ناں میں کہ مجھے آپ سے دوستی کرنے میں کوئی انٹرسٹ نہی ہے تو پھر اس طرح بار بار میرے سامنے آنے کی کوئی خاص وجہ؟

وجہ تو بہت خاص ہے بے بی لیکن کیا کروں ڈرتا ہوں کہی تم برا نامان جاو۔

ایسا کرو مجھے بتا دو وجہ ۔ ۔ ۔ ؟

ہمدان کرسی کھینچتے ہوئے اطمینان سے بیٹھتے ہوئے بولا۔

وہ اچانک یہاں آیا اور رملہ اسے دیکھ کر بہت حیران بھی ہوئی اور پر سکون بھی ۔

کیوں بتاوں میں آپ کو وجہ مسٹر ۔ ۔ ۔ آپ ہوتے کون ہیں؟

یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے ۔ تم دخل اندازی نہ ہی کرو تو بہتر ہے ۔ سینئیر ہو تو اپنی لمٹ می

زیادہ اسمارٹ بننے کی کوشش مت کرو۔

ہم ۔ ۔ ۔ اور کچھ کہنا ہے ؟

ہمدان غصے پر قابو کرتے ہوئے بس اتنا ہی بولا۔

ہاں بہت کچھ کہنا ہے لیکن تم کھسکو یہاں سے ۔

او کے ہمدان کرسی سے اٹھا اور رملہ کی طرف آیا ایک ہاتھ میں اس کا ہاتھ تھاما اور دوسرے ہاتھ میں اس کا بیگ اٹھائے چل دیا اور دوسری میز سے اپنا بیگ بھی اٹھائے گراونڈ کی

طرف بڑھ گیا۔

رملہ بس دیکھتی ہی رہ گئی ۔

کچھ بولنے کی ہمت ہی نہی کر سکی جبکہ ہمدان کا لیکچر جاری رہا۔ بہت ہی آوارہ قسم کے لڑکے ہیں یہاں آپ کو اپنی حفاظت کرنی چاہیے ۔

ضروری نہی ہر خوش شکل خوش اخلاق بھی ہو ۔ جہاں اکیلی لڑکی دیکھی چانس مارنا شروع کر

دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ رملہ کا ہاتھ تھام چلتا گیا۔

آپ بھی تو وہی کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ آخر کار رملہ بول ہی پڑی کیونکہ اردگرد سے گزرنے والے سٹوڈنٹس ان دونوں پر طرح طرح کے کمنٹس پاس کر رہے تھے ۔

کیا ۔۔۔

رملہ کی بات پر ہمدان رک کر پلٹ گیا ۔

موقع کا ایڈوانٹیج اٹھا رہے ہیں آپ بھی ۔ ۔ ۔ کس کی اجازت سے آپ نے مجھے ہاتھ لگا یا ؟

I am Sorry

ہمدان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو تیزی سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور اس کا بیگ اس کی

طرف بڑھا دیا ۔

میں تو بس آپ کو پروٹیکٹ کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ شر مندگی سے بولا ۔

اوہ تو آپ کی نظر میں اسے پروٹیکٹ کرنا کہتے ہیں ؟

اگر آپ کی ہونے والی بیوی دیکھ لیتی تو جانتے ہیں کیا ہو سکتا تھا ؟

ایک اور بہتان لگ سکتا تھا مجھ پر ۔۔۔ پہلے تو فون چوری کا الزام لگا تھا مگر اس بار وہ یہ سمجھتی کہ میں آپ کو اس سے چھینے کی کوشش کر رہی ہو ۔

وہ یہاں نہی ہے آپ اس کی فکر نہی کریں اور پلیز مجھے غلط مت سمجھیں ۔ ۔ ۔ ہمدان نے جیسے التجا کی د نا جانے کیوں وہ اس عام سی لڑکی کے لیے اتنا نڈھال ہو رہا تھا اسے واقعی سمجھ نہی آرہی تھی کہ ایسا کیوں کیا اس نے ۔

مطلب وہ یہاں نہی ہوگی تو آپ اس طرح لڑکیوں کے ہاتھ پکڑتے رہیں گے ؟ بہت ہی بری قسمت پائی ہے اس لڑکی نے ۔ ۔ ۔ آپ نے سوچا وہ یہاں نہی ہے تو کسی کا

بھی ہاتھ تھام لیتا ہوں ۔

ایسا کچھ نہی ہے میں ۔ ۔ ۔ جو بھی نام ہے آپ کا میں تو بس مدد کر رہا تھا آپ کی اور کوئی

پلان نہی تھا میرا ۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top