کمال اپڈیٹس تھیں اب عمائم اپنا بدلا کیسے لیتی ہے اپنے ماں سے اور اپنی ماں کو انکا اصلی روپ دکھاتی ہے نور کے ساتھ حازب کا رؤیہ بدلتا ہے کے نہیں اور مامون ڈیوڈ تک کیسے پہنچتا ہے انتظار ہے اگلی قسط کا
شکریہ
قسط_18رات کی سیاہی رفتہ رفتہ ختم ہوتی جا رہی تھی جب اسکی گاڑی اپنے گھر کے پورچ میں آکر رکی ۔پوری رات وہ اپنے دوست کے ساتھ ہاسپٹل میں تھا اس بیچارے جا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور ایسے میں مامون اسے اکیلے نہیں چھوڑ سکتا تھا۔پوری رات وہاں گزارنے کے بعد وہ اب گھر آیا تو پورا گھر سناٹوں کی زد میں تھا اس نے حیرت سے بنا واچ مین کے گیٹ کو دیکھا۔اندر آتے وہ سیدھا اپنے کمرے میں آیا تھا مگر جھٹکا تو تب لگا جب شہرے کو غائب پایا۔۔”لٹل گرل ؟”واشروم کا دروازہ ناک کرتے اس نے شہرے کو پکارا مگر وہ وہاں ہوتی تو ملتی ۔۔۔”لٹل گرل کہاں ہو؟” پورے کمرے میں اسے دھونڈتے وہ باہر آیا اور پھر اس نے اپنا پورا گھر چھان مارا تھا مگر وہ وہاں کہیں نہیں تھی۔۔”ڈیم لٹل گرل” اس سے پہلے وہ کوئی ایکشن لیتا اسکا موبائل رنگ ہوا تھا۔۔”ہیلو؟””کیا ہوا شیرازی صاحب کیسے ہیں؟””ڈیوڈ؟””ارے پہچان گئے کیا بات ہے””اپنا منہ بند رکھو اور آئندہ مجھے فون مت کرنا کیا اتنی ذلت کافی نہیں تھی جو پھر ذلیل ہونے آگئے ؟””اس بار ذلیل ہونے کی باری تمہاری ہے کیونکہ تمہاری پیاری بیوی میرے قبضے میں ہے جو کچھ دیر میں میری ہونے والی ہے بچا سکتے ہو تو بچا لو “خباثت سے کہتا وہ مامون کا پارہ ہائی کر گیا تھا۔۔”میری بات یاد رکھنا اگر میری بیوی کو ایک کھرونچ بھی آئی تو میں زندہ زمین میں گاڑ دوں گا ۔۔۔”وہ فون پر غرایا تھا تبھی دوسری جانب سے ڈیوڈ کا قہقہ گونجا۔۔”تب تک بہت دیر ہوگئی ہوگی تمہاری بیوی میری دسترس میں ہے اب تم بس سوچو میں اسکے ساتھ کیا کیا کرسکتا ہوں”اسے کہتا وہ کھڑاک سے فون بند کرگیا۔۔”ہیلو۔۔۔ ہیلو؟؟”مامون نے غصے سے موبائل صوفے پر پھینکا تھا اسکی زرا سی لاپرواہی دشمن کو وار کرنے کا وقت دے گئی تھی۔۔گہرا سانس بھر اس نے سب سے پہلے خود کو ریلکس کرتے اسٹیو کو کال ملائی۔۔”اسٹیو میں تمہیں ڈیوڈ کا نمبر کا بھیج رہا ہوں مجھے اسکی لوکیشن چاہیے فوراً”اسٹیو کو حکم دیتا وہ تیزی سے اپنی اسٹڈی میں آیا لیپ ٹاپ آن کرتے اس نے کل رات کی فوٹیج آن کی۔۔۔سامنے لاونج کا منظر تھا جہاں شہرے موجود تھی ۔۔جیسے جیسے وہ وڈیو دیکھتا جا رہا تھا اسکے جبڑے بھینچتے جا رہے تھے سختی سے مٹھیاں بھینچے وہ آگ اگلتی نگاہوں سے اسکرین کو دیکھ رہا تھا جیسے ابھی بھسم کر کے رکھ دینے کا ارادہ ہو۔۔۔”یہ حرکت کر کے تو نے اپنی موت جو دعوت دی ہے اب میں تجھے بتاؤں گا اس حرکت کا انجام کیا ہوتا ہے” خود سے کہتا وہ دراز سے اپنی گن نکال کر باہر کی جانب بڑھا تبھی اسکا موبائل رنگ ہوا تھا اسٹیو نے اسے ڈیوڈ کی لوکیشن اینڈ کی تھی۔۔گن کو پینٹ کی جیب میں پھنساتے وہ تیزی سے وہاں سے نکلا تھا اسکے ارادے خطرناک تھے وہ طوفان بنا ہوا تھا ایسا طوفان جو سب کچھ بھسم کردینا چاہتا ہو۔۔۔۔_____________دکھتے سر اور دکھتے پپوٹوں کی وجہ سے اس نے بمشکل آنکھیں کھولی تو گزرے لمحات آنکھوں کے پردوں پر لہراتے ایک جھٹکے سے اسے ہوش کی دنیا میں پٹخ گئے۔۔خوف سے اسکا چہرہ سفید پڑا تھا۔۔ایک ایک سب باتیں یاد آتی جا رہی تھیں اور اسکا دل جیسے پاگل ہونے کو تھا۔وہ اس وقت اس بڑے سے کمرے میں کرسی پر روسیوں میں جکڑی بیٹھی تھی کمرے میں اس وقت سوائے اسکے کوئی نہیں تھا ۔۔”یا اللّٰہ میری مدد کریں” خود سے کہتے وہ مسلسل ہاتھ پیروں کو حرکت دیتے خود کو کھولنے کی کوشش کر رہی تھی مگر باندھنے والے نے جیسے اپنی ساری طاقت اسے باندھنے میں ہی لگا دی تھی۔۔”چچ چچ افسوس ہو رہا ہے یہاں سے سب سے طاقتور انسان کی بیوی کو ایسے بے بس دیکھ کر” ڈیوڈ کی آواز پر شہرے نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو دروازے کی دہلیز پر کھڑا سینے پر ہاتھ باندھے بڑی دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔”کھولو مجھے جانے دو۔۔۔ پلیز مجھے جانے دو””ارے ایسے کیسے؟ ابھی تو تمہیں ہوش آیا ہے اب تو میں تمہیں بتاؤں گا پیار کیسے کیا جاتا ہے مامون سے زیادہ پیار کرنے کا ارادہ ہے میرا تمہیں” اسکے لفظوں پر شہرے کو کراہیت محسوس ہوئی تھی۔۔”دیکھو مجھے جانے دو ۔۔ پلیز ” وہ رو دینے کو تھی سامنے والے کے ارادے اسے خوفزدہ کر رہے تھے۔۔۔”بالکل نہیں تمہاری وجہ سے پہلے ہی میری رات ضائع ہوگئی بے ہوش وجود کا فائدہ اٹھانے میں وہ مزہ نہیں اصل مزہ تو اب آئے گا جب تک چیخوں گی تڑپوں گی اور تمہیں کوئی بچانے نہیں آئے گا” قدم بہ قدم چلتے اسکے قریب آتے اس نے ایک جھٹکے سے شہرے کے بالوں کو مٹھی میں جکڑا تھا۔۔۔”اہہہہ۔۔۔۔ چھوڑو” درد سے بلبلاتے وہ چلائی تھی جب اچانک ڈیوڈ اس پر جھکتا اسکا منہ مٹھی میں دبوچ گیا۔۔۔”آج نہیں چھوڑو گا آج تو وہ حشر کروں گا کہ تیرا وہ شوہر بھی تیری شکل نہیں پہچان پائے گا بہت غرور ہے نا اسے خود پر آج میں اسکا غرور مٹی میں ملاؤں گا اسکی عزت اپنے قدموں میں روندوں گا”اسکے منہ پر ہنکار بھرتے ڈیوڈ نے شہرے کی بازو کھینچ کر وہاں سب کپڑا پھاڑا اور اسکی اس حرکت پر شہرے کے رونے میں اضافہ ہوا تھا اسے لگ رہا تھا وہ مزید نہیں زندہ رہ پائے گی ۔۔ اسکی عزت چلے گئی تو وہ کیا کرے گی۔۔۔”مجھے چھوڑ دو مت کرو” ڈیوڈ کے ارادے خطرناک دیکھ وہ اسکے آگے گڑگڑا رہی تھی جب اسے رسیوں سے آزاد کرتے ڈیوڈ نے اسے بیڈ پر پھینکا اور خود اس پر حاوی ہوا تھا ۔۔شہرے کی چیخیں پورے میں گونج رہی تھی ڈیوڈ نے اسکے منہ پر تکیہ رکھ اسکی چیخوں کا گلا گھونٹا مگر شہرے کے مزاحمت کے لئے چلتے ہاتھ پیر اسکے کام میں رکاوٹ کا سبب بن رہے تھے۔اس سے پہلے وہ مزید کوئی حرکت کرتا کمرے کا دروازہ دھاڑ کی آواز کے ساتھ کھلا تھا۔۔اور پھر اگلے ہی لمحے ڈیوڈ زمین پر تھا۔۔۔_________اس نے کمرے میں قدم رکھا تو عجیب سے احساس نے اسے اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔۔وہ اس وقت سادہ سے لان کے پرنٹڈ سوٹ میں موجود تھی میک سے پاک سے چہرہ۔۔وہ ابھی ابھی چینج کر کے آئی تھی۔۔ جب نگاہیں بیڈ پر بیٹھے ضوریز پر پڑیں۔۔اس تمام عرصے میں پہلی بار اسے اس رشتے کی نزاکت کا احساس ہوا تھا۔۔”عمائم؟” ضوریز کی پکار پر وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی جو بیڈ پر کچھ کاغذات بکھرائے بیٹھا تھا۔۔انوکھا ہی دولہا تھا جسے اس وقت بھی کام کی پڑی تھی۔۔”ہمم؟” اس نے وہیں سے جواب دیا تھا جب ضوریز نے بغور اسکے نازک سراپے کو دیکھا۔اسکی نظروں سے پزل ہوتی وہ خوامخواہ ہی اپنا دوپٹہ سیٹ کرنے لگی۔۔”اتنی دور سے آپ کو میری بات سمجھ آجائے گی؟”اسکے سوال میں ایسا کچھ نہیں تھا مگر وہ خوامخواہ ہی شرمندہ ہوئی تھی ۔”سوری ” آہستہ سے کہتے وہ دھیمے سے قدم اُٹھاتے بیڈ کے پاس آکر رکی۔۔”بیٹھ جائیں یہ بیڈ انسانوں کو نہیں کھاتا ہے””میں جانتی ہوں “آہستہ سے کہتے وہ وہیں بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی۔ضوریز نے ایک نظر پھر اسے دیکھا۔”ٹھیک سے بیٹھ جائیں””میں ٹھیک ہی ہوں” بالکل کنارے سے کھسک زرا آگے ہوتی وہ منمنائی تھی۔کمرے میں پھیلی گلاب کی محصور کن خوشبو ، ضوریز کے کلون کی مہک اور یہ خاموشی ۔۔۔ ماحول کو رومانیت بخشتی عمائم کو انکنفرٹیبل کر رہی تھی۔”ٹھیک سے بیٹھیں گر جائیں گی” اچانک ہی ضوریز نے اسکا بازو تھام اسے اوپر کی جانب کیا تھا گرنے کے ڈر سے وہ دوسرے ہاتھ سے ضوریز کا بازو سختی سے تھام گئی۔اسکی نرم انگلیوں کا لمس محسوس کر ضوریز نے سر اٹھائے اسے دیکھا نگاہوں کے تصادم پر عمائم کا دل زوروں سے دھڑکا تھا۔۔یہ شخص کچھ نا کر کے بھی اسکے حواسوں پر چھا رہا تھا۔۔”یہ کچھ ڈاکیومنٹس ہیں جنہیں آپ نے سائن کرنا ہے” فضا ہر چھائی عجیب سی خاموشی جو توڑتے ضوریز اس سے مخاطب ہوا جو یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی اسکی پکار پر چونکی۔۔”کہاں؟”اسکے پوچھنے پر ضوریز نے ایک جانب اشارہ کیا۔۔اس سے پہلے وہ سائن کرتی کمرے کے بجتے دروازے نے ان دونوں کو ہی الرٹ کیا تھا۔”اس وقت کون ہوسکتا ہے” خود سے کہتے وہ فائلز سائیڈ ٹیبل کی دراز میں رکھتا اٹھا تھا جبکہ عمائم کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کرے ۔۔”امی؟” دروازہ کھولتے ہی ضوریز کو شائستہ بیگم کا پریشان چہرہ نظر آیا اور پھر ان کے پہلو سے آنکھوں میں آنسو لئے کھڑا زارون۔۔۔”بابا۔۔۔ مجھے آپ کے پاس سونا ہے” دونوں بانہیں وا کئے اس نے ضوریز کو دیکھا ۔”بیٹا میں اسے کب سے سمجھا رہی ہوں مگر آج تو ضد پکڑ کر بیٹھ گیا ہے”شائستہ بیگم کی بات پر ضوریز نے سر ہلاتے زارون کو گود میں بھرا۔۔”مما؟” ضوریز کی گود میں اسکے کندھے پر سر ٹکائے اس نے عمائم کو پکارا جو فوراً سے اسکے پاس آئی۔۔”آپ کے پاس سونا ہے”اسکی بات پر عمائم ہولے سے مسکرا دی ۔”ٹھیک ہے بچے””چلو تم لوگ سوجاؤ میں جا رہی ہوں” زارون کو ان دونوں کے حوالے کرتیں وہ کمرے کا دروازہ بند کرتے اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی مگر اب ان کے چہرے پر پریشانی بھرے تاثر کی جگہ مسکراہٹ تھی۔۔۔
عمائم نے آنکھیں پھیلائے زارون کو دیکھا اور پھر ضوریز کو ۔۔”بابا مجھے آپ کے اور مما کے ساتھ بیڈ پر سونا ہے”وہ جو صوفے پر سونے کا ارادہ کر رہی تھی زارون کی ضد پر پریشان سی ضوریز کو دیکھنے لگی۔۔”ہاں تو بیٹا آپ سوجاؤ” اسے کہتے وہ خود بیڈ پر لیٹتا زارون کو اپنے سینے پر لٹا گیا ۔”مما۔۔ کم” زارون نے ہاتھ بڑھا کر عمائم کو پکارا جو پریشان حال سی بیڈ کے کنارے کھڑی تھی ۔”مما۔۔۔ ؟ بابا مما نہیں سوئیں گی ہمارے ساتھ؟” اسے پکارتے زارون نے ضوریز سے پوچھا جو گہری نگاہوں سے اس پریشان حال دولہن کو دیکھ رہا تھا ۔۔”عمائم؟””ہمم؟” اسکے پکارنے پر وہ سوچوں سے نکلتی چونکی۔”سوجائیں ۔۔ ساری رات آپ کھڑے ہو کر نہیں گزار سکتیں۔۔ گزار سکتی ہیں ؟؟” بولنے کے ساتھ اس نے سوال کیا جس پر آہستہ سے نا میں سر ہلاتے وہ بیڈ کے کنارے پر آ لیٹی ایک کروٹ اور وہ زمین بوس۔۔ضوریز نے مسکراہٹ دبائے اسے دیکھا ۔۔زارون کی ڈیمانڈ اس نازک جان پر بہت بھاری پڑ رہی تھیں وہ اچھے سے جانتا تھا۔ہاتھ بڑھا کر لائٹس آف کرتے ضوریز سیدھا ہوا تبھی اچانک زارون نے عمائم کا ہاتھ پکڑ ضوریز کے ہاتھ پر رکھا تھا۔۔”زارون” ایک جھٹکے سے وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی اس سے پہلے وہ بیلنس کھو کر زمین پر گرتی ضوریز نے اسکا بازو تھام اسے اپنی جانب کھینچا تھا کہ وہ سیدھا اسکے کشادہ سینے سے جا لگی ۔۔۔دل کی دھڑکن ساکن ہوئی تھی آنکھیں پھیلائے وہ خود کو ضوریز کے اتنا قریب دیکھ رہی تھی کیا ہوا کیسے ہوا اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا۔۔”آرام سے ابھی گر جاتیں””مما مجھے بھی ہگ کریں نا بابا کی طرح”افففف زارون۔۔۔ عمائم کا دل کیا شرم سے ڈوب مرے۔۔ایک دم سے سیدھے کو کر بیٹھتے اس نے زارون کو بے بسی سے دیکھا۔۔۔”زارون کم ہئیر بابا کے پاس سونا ہے نا؟”ضوریز نے اپنا بازو پھیلایا تو وہ جلدی سے اسکے بازو پر سر رکھتا اپنا ہاتھ عمائم کی جانب بڑھا گیا”مما کم نا”اسکی حرکت پر ہولے سے مسکراتے عمائم اسکا ہاتھ تھامے اپنی جگہ پر لیٹی تھی۔۔بیچ میں زارون اور سائیڈ میں وہ دونوں۔۔”مما کس می،”زارون کی فرمائش پر عمائم نے پیار سے اسکے گال کو چھوا مگر پھر زارون کو اپنے بابا کی طرف دیکھتے پایا تو جھک سے اپنا ہاتھ اسکے لبوں پر رکھتے اس نے زارون کو اپنی جانب کیا تھا۔۔”گڈ نائٹ جلدی سے سوجائیں صبح جلدی اٹھنا ہے نا؟”اسکا زارون کو یوں چپ کروانا ضوریز کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہا تھا چہرے پر سجی مسکراہٹ کو سنجیدگی کے پردے میں چھپاتا وہ آنکھیں موند گیا۔۔۔_____________
وہ جب سے کمرے میں واپس آئی تھی ایسے ہی صوفے پر لیٹی جاگ رہی تھی جاذب سو چکا تھا نور نے گردن گھما کر ایک نظر بیڈ پر گہری نیند سوئے جاذب کو دیکھا۔۔۔اب تک جتنی ان کی بات ہوئی تھی صرف لڑائی کی صورت ہوئی تھی وہ ماضی کے بارے میں جاننا چاہتی تھی ان کی باتوں سے اتنا تو اسے احساس ہوگیا تھا کہ اسکے بابا نے کچھ ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے اسے سزا مل رہی ہے مگر ہوا کیا تھا۔۔۔وہ جاننا چاہتی تھی۔۔”مجھے یہاں نہیں رہ سکتی یہ میری جگہ نہیں ہے ” اس نے ایک بار پھر خود کو باور کروایا۔۔نیند تو اب آنے سے رہی اس لئے وہ اٹھ کر کھڑی میں آ کھڑی ہوئی۔اونچائی سے اسے گاؤں کا کافی سارا حصہ نظر آرہا تھا جو اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔،”مجھے کیسے بھی کر کے سچ جاننا ہوگا اور اسی گھر کا کوئی شخص مجھے حقیقت بتا سکتا ہے “خود سے کہتے وہ ریلکس ہوئی تھی اب اسے بس کل کا انتظار تھا۔واپس صوفے پر آکر لیٹتے وہ آنکھیں موند گئی۔جب دوبارہ اسکی آنکھ کھلی تو کمرے میں روشنی پھیلی ہوئی تھی صبح ہو چکی تھی۔ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھتے اس نے بیڈ کی جانب دیکھا جو خالی تھا۔۔۔”شکر ہے صبح صبح اس انسان کی شکل دیکھنے کو نہیں ملی” خود سے بڑبڑاتے وہ سائیڈ پر اپنے کپڑے لئے واشروم میں بند ہوئی تھی ۔فریش ہو کر وہ باہر آئی۔بھوک سے برا حال تھا اس گھر میں جب سے آئی تھی ٹھیک سے کچھ کھایا بھی نہیں تھا۔یہی سوچتے وہ دوپٹہ ٹھیک سے اوڑھتی نیچے آئی جہاں عجیب سی خاموشی کا راج تھا۔۔سیڑھیاں اترتے وہ نیچے آئی تو کچن کے سامنے کھلے حصے میں کنور پھپھو براجمان ملازمہ سے اپنے سر کی مالش کروا رہی تھیں۔۔اسے سامنے آتے دیکھ ان کے ماتھے پر بل پڑے۔۔”کہاں جا رہی ہو لڑکی؟”ان کی کرخت آواز پر اسکے کچن کی جانب بڑھتے قدم رکے۔۔”کچن میں جا رہی ہوں””کیوں؟” ان کے سوال پر اس نے ایک نظر انہیں دیکھا۔۔”مجھے بھوک لگ رہی ہے “”تو کیا کریں تیرے باپ نے مفت کا رکھا ہے کھانا؟” ان کے کاٹ دار لہجے پر نورے کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔۔۔”دیکھیں میں آپ سے تمیز سے بات کر رہی ہو اس لئے بہتر ہے آپ اپنی زبان””چپ کر تو” اسکی بات کاٹتے وہ غصے سے چیخیں ۔”کیا بول رہی ہے نہیں کر رہی تمیز سے بات بول کیا کرے گی مارے گی مجھے ؟”وہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھتی اسکی جانب بڑھی تھیں جس نے فوراً سے اپنے قدم پیچھے کئے۔۔۔”مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی ” اتنا کہہ کر وہ واپس پلٹی تھی جب اچانک پیچھے سے کشور بیگم نے اسکا بازو دبوچے دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑا ۔تکلیف سے نورے کی چیخ نکلی تھی۔۔”بول اب کیا کرے گی ہاں “”میرے بال چھوڑیں مجھے درد ہو رہا ہے” درد سب تڑپتے اس نے اپنے بال کشور بیگم کی گرفت سے آزاد کروانے چاہے جب وہ اسکے بالوں پر مزید گرفت مضبوط کرتیں اسکے بازو میں اپنے ماننے کھبوتی۔۔ اسے تکلیف سے بلبلانے پر مجبور کر گئیں۔۔۔”تجھے کیا لگا تھا مفت میں کھانا کھائے گی اور میرے بھتیجے کے کمرے میں چھپی رہے گی کیا اپنی حیثیت بھول گئی ہے ارے تو کسی طوائف سے بھی گئی گزری ہے”ان کے لہجے کی آگ نورے جو جھلسا رہی تھی ان کی تیز آواز پر اپنے کمرے میں بند زرمینے تیزی سے باہر آئی تھی جہاں اپنی پھپھو کو اس انجان لڑکی کو مارتے دیکھ اسکا چہرہ خود سے سفید پڑا۔۔”پھپھو ۔۔۔ چھوڑیں انہیں کیا کر رہی ہیں ؟” ان سب تماش بینوں میں وہ واحد تھی جو نورے کو بچانے آگے آئی تھی مگر کشور بیگم نے ایک دھکے سے اسے پیچھے دھکیلا کہ لڑکھڑاتے وہ زمین پر گری تھی۔۔”دور رہے فحاشہ کی اولاد ۔۔ گندگی کا کیڑا خبردار جو مجھ سے کوئی رشتہ جوڑا”وہ عورت پاگل ہو رہی تھی۔۔۔نورے اپنی پوری طاقت لگا رہی تھی مگر اس عورت کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر تھی وہ اکیلے اسکا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔۔”چھوڑو مجھے ۔۔۔ مجھے درد ہو رہا ہے””انہیں چھوڑ دیں انہیں درد ہو رہا ہے ،” وہ جو کبھی اپنے حق میں بھی نہیں بولی تھی آج اس انجان لڑکی کے لئے بول رہی تھی۔۔کڑوے لفظوں کو تیر برداشت کرنے کے باوجود وہ آگے آتی نور کو ایک جھٹکے سے کشور بیگم کی گرفت سے دور کر گئی تھی۔۔زرمینے کی اس حرکت پر پاگل ہوتے کشور بیگم اسے مارنے کو آگے بڑھیں جب نورے بیچ میں آتی ان کا ہاتھ پکڑ کر دور جھٹک گئی۔۔”تو۔۔۔ تیری اتنی مجال” اس سے پہلے وہ مزید کوئی قدم اٹھاتی نجمہ بیگم جو ابھی سکینہ بیگم کے ساتھ حویلی میں داخل ہوئی تھیں ان کے درمیان آئی تھیں۔۔۔”تم جاؤ اپنے کمرے میں جاؤ” اتنے دنوں میں وہ پہلی بار نورے کو بولتی نظر آئی تھیں۔۔آنسوؤں کو قابو کئے وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے اوپر کمرے میں آکر بند ہوئی تھی باہر جو ہمت دیکھائی تھی سب ختم ہوئی تو بستر پر گرتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔____________
وہ الیکشن کمپین میں مصروف ہوگیا تھا کہ کھانے تک کا ٹائم نہیں تھا۔”آپ گھر جائیں میں ہوں یہاں”جلال کی بات پر وہ سر ہلا گیا وہ واقعی ابھی صرف سکون چاہتا تھا اس لئے بنا ضد کئے وہ اپنے آفس سے نکلتے سیدھا حویلی میں آیا تھا۔حسب معمول حویلی اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔کچن میں آتے اس نے سب سے پہلے کھانا گرم کیا اور وہیں چئیر گھسیٹ کر بیٹھتے کھانا ختم کیا تھا کچھ کھا کر جسم میں جان آئی تھی کام کے چکر میں وہ اکثر کھانا ہی بھولنے لگا تھا۔۔۔کھانے سے فارغ ہوتے وہ سیدھا اپنے کمرے میں آیا جب اسکی نگاہیں زمین پر بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی نورے سے جا ٹکرائیں۔۔۔”نورے؟” اس کے پکارنے پر نورے نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ہنوز یونہی بت بنی بیٹھی رہی۔۔”نور میڈم میں آپ سے مخاطب ہوں ” ایک بار پھر اسے پکارتا وہ شرٹ کے اوپری دو بٹن کھولتا اسکے سامنے آن کھڑا ہوا مگر جواب اب بھی نہیں تھا۔۔۔ماتھے پر بل ڈالے اس نے نورے کو دیکھا۔۔،”نور فاطمہ یزدانی کیا میری آواز نہیں آرہی یا بہری ہوگئی ہو” وہ اب کے تیز آواز میں کہتا ایک جھٹکے سے اسکا بازو دبوچے اسے اپنے مقابل کر گیا تھا مگر اسکے چہرے کو دیکھ جاذب شاہ کو ایک جھٹکا سا لگا تھا۔۔۔_____________دبے قدموں سے گھر میں داخل ہوتے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا جب اچانک لاونج کی لائٹس آن ہوئیں۔۔اندر کو بڑھتے جلال کے قدم تھمے تھے۔۔”مل گئی فرصت گھر آنے کی؟”امینہ بیگم کی آواز پر آنکھیں بند کر واپس کھولتا وہ گھوما جہاں صوفے پر اسکی دادی بیٹھی تھیں۔۔۔”اسلام وعلیکم بڑی اماں””وعلیکم السلام ۔۔۔ “”اب تک کیوں جاگ رہی ہیں؟””یہ سوال پوچھنے کا ہے جلال اجمل؟ جس بڑھیا کا پوتا راتوں کو گھر نا آتا ہو وہ کیسے سکون سے سو سکتی ہے””یہ غلط بات ہے آپ جانتی ہیں میرا کام کیسا ہے “ان کے پاس بیٹھتے جلال نے ان کے دونوں ہاتھوں کو تھاما۔۔”میرا اس اکیلے گھر میں فن گھٹتا ہے جلال””آپ کسی ملازم کو رکھنے نہیں دیتیں۔۔ بڑی پھپھو آپ کو بلاتی رہتی ہیں آپ وہاں بھی نہیں جاتیں اب بتائیں میں کیا کروں ؟””شادی کرلے۔۔ بہو گھر آئے گی تو میری اداسی بھی دور ہوگی” ان کی بات پر جلال نے لب بھینچے تھے۔”بڑی اماں خدا “”جانتی ہوں کیا کہنا چاہتا ہے تو مگر زندگی یونہی اکیلے نہیں گزر سکتی جلال اچھے سے سوچ سمجھ کر جواب دینا مجھے۔۔ اب جا نہا لے میں کھانا لگاتی ہوں” اسے کچھ بھی کہنے کا موقع دئیے بغیر وہ کچن کی جانب بڑھ گئیں جبکہ وہ گہرا سانس بھر کر اٹھتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔
قسط_19″نور فاطمہ یزدانی کیا میری آواز نہیں آرہی یا بہری ہوگئی ہو” وہ اب کے تیز آواز میں کہتا ایک جھٹکے سے اسکا بازو دبوچے اسے اپنے مقابل کر گیا تھا مگر اسکے چہرے کو دیکھ جاذب شاہ کو ایک جھٹکا سا لگا تھا۔۔۔اسکا پورا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا چہرے پر ناخنوں کے نشان تھے جو اسے اپنا بچاؤ کرتے لگے تھے۔جاذب ہونق بنا اسے دیکھ رہا تھا جس کی آنکھوں کی سرخی اور سوجن اس بات کی گواہ تھی کہ وہ پورا وقت روتی رہی ہے۔۔”یہ سب کس نے کیا ہے؟”سختی سے ہونٹ بھینچے جاذب نے اس سے سوال کیا تھا۔مگر جواب اس بار بھی نہیں آیا۔وہ چپ تھی بالکل چپ ۔۔”نور میں کچھ پوچھ رہا ہوں جواب دو مجھے” اسکا بازو سختی سے دبوچے جاذب نے اسے اپنے قریب کیا تو درد سے اسکی سسکی نکلی۔۔اسکے سسکنے ہر جاذب نے جھٹکے سے اسکا ہاتھ اپنے سامنے کر اسکی آستین اوپر کی جہاں ناخنوں کے نشان کے ساتھ نیلے نشان واضح تھے۔۔”کس نے کیا ہے نورے ؟” اب کی بار اسکے لہجے میں ان دیکھی سی آگ تھی۔۔”دیکھو جاذب شاہ ۔۔۔ دیکھو اور خوش ہو ۔۔ تم جشن مناؤ تم نے نورے یزدانی کو رونے پر مجبور کردیا یہی چاہتے تھے نا؟” وہ بولی بھی تو کیا۔۔۔۔”کیا مطلب ہے اس بات کا””مطلب مطلب پوچھ رہے دیکھو میرے باپ نے جو کیا اسکی سزا ہے یہ” اپنے بازو اسکے سامنے کئے وہ تڑپی تھی۔”تمہیں مجھ سے بدلا لینا ہے نا تو ایک بار لے لو،خدا کے لئے جاذب شاہ میرے صبر کو مت آزماؤں ” جازب کے سینے پر ہاتھ مارتے وہ اسکی گرفت سے نکلتی دور ہوئی تھی۔۔اور ایسا کرنے سے اسکے قدم بری طرح ڈگمگائے ۔۔جازب نے فوراً سے اسے تھاما تھا۔۔”نورے مجھے مارنے والے نا نام بتاؤ بس ۔۔۔”اسے اپنے قریب کئے وہ ایک بار پھر اپنا سوال دہرا رہا تھا ناجانے کیوں اس لڑکی کے آنسو دل پر گرتے محسوس ہو رہے تھے وہ اسے ایسے ہی تو دیکھنا چاہتا تھا تڑپتا ہوا اب دل کی تکلیف اسکی سمجھ سے باہر تھی۔۔۔”تم مار دو مجھے جاذب شاہ” اسنے بلکنے ہر جاذب نے اسے بےاختیار اپنے سینے سے لگایا تھا ۔”مجھے تم سب سے نفرت ہے بہت برے ہو تم لوگ ۔ ۔ کھانا نہیں۔۔۔ دیتے مارتے ہو۔۔۔ سونے نہیں دیتے مجھ سے میری آزادی چھین لی” وہ اپنے ہوش میں نہیں لگ رہی تھی جاذب نے اپنے سینے پر رکھا اسکا سر ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اسے دیکھا جس کی آنکھیں بند تھیں۔۔ مگر وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔۔۔جاذب نے اسے بانہوں میں بھرتے بیڈ پر لٹایا۔۔۔۔”آئی ہیٹ یو جاذب شاہ ٫” تکلیف سے بند ہوتی آنکھیں بمشکل کھولے اس نے ایک بار نفرت کا اظہار کیا تھا۔۔”ہاں ٹھیک ہے کرلینا نفرت مگر مجھے بتاؤ یہ سب کس نے کیا ہے ؟””مجھے نہیں بتانا ” اسے کہتے وہ تکیے میں چہرہ چھپا گئی۔۔گہرا سانس بھرتے جاذب نے اسے دیکھتا جو کچھ لمحے غصے سے اسے مار رہی تھی اور اب بالکل خاموش ہوگئی تھی۔۔۔اسکے ہاتھوں پر موجود زخم دیکھ اسکا دماغ ایک بار پھر خراب ہوا تھا ۔۔وہاں سے ہٹتا وہ ڈریسنگ روم میں آیا فرسٹ ایڈ باکس لئے وہ باہر آیا جب کمرے کا دروازہ ناک ہوا تھا۔اتنی رات کو کون ہوسکتا تھا یہی سوچتے اس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا مگر سامنے زرمینے کو دیکھ اسے حیرت ہوئی تھی۔”زری۔۔ کیا ہوا اس وقت یہاں؟””بھیا۔۔ بھابھی صبح سے بھوکی ہیں پھپھو نے انہیں کھانا کھانے نیچے جانے پر مارا ہے بہت ان کے سر کے بال نوچے اور ۔۔۔””انہوں نے تمہیں بھی مارا ہے ؟” اس کی بات کاٹتے جاذب نے پوچھا اس سے پہلے وہ نفی میں سر ہلاتی جاذب نے اسکا ہاتھ اسکی کلائی اپنے سامنے کی جہاں لال زخم سا ہو رہا تھا ۔”بھیا میں ٹھیک ہوں آپ پلیز بھابھی کو کچھ کھکا دیں کیونکہ کشور پھپھو نے پانی میں انہیں کچھ ملا کر پلایا تھا”یہ نیا انکشاف تھا جو اس پر ہوا تھا اسے اب نورے نا عجیب و غریب رویہ یاد آیا تھا۔”آپ نے کھانا کھایا ؟””جی٫””تو اب زرمینے شاہ مجھ سے جھوٹ بھی بولیں گیں؟” کمرے سے نکلتے وہ اسے کہتا اسکا ہاتھ تھام نیچے کچن میں آگیا۔”بھیا””شاباش کھانا لو اپنا اور مجھے نور کے لئے بھی کچھ دو”اسکی بات پر سر ہلاتے وہ کھانس گرم کرنے لگی جب اچانک کچھ یاد آنے پر اس نے گردن موڑ کر جازب کو دیکھا۔”بھیا ؟””ہممم؟”.”کیا وہ واقعی انیس یزدانی کی بیٹی ہیں!٫”زرمینے کے سوال پر اسکا سر اثبات میں ہلا۔”کاش نا ہوتی” زرمینے کے ہاتھ سے ٹرے لیتا وہ بڑبڑایا۔اسے سونے کی تاکید کرتا وہ اوپر اپنے کمرے میں آیا جہاں نورے واپس سے اپنی پرانی پوزیشن میں زمین پر بیٹھی تھی۔گہرا سانس بھرتے جاذب نے وہیں ٹرے ٹیبل پر رکھتے اسے زبردستی زمین سے اٹھاتے اپنی بانہوں میں بھرا ۔”چھوڑو مجھے جازب شاہ۔۔۔ وہ موٹی مارے گی” کشور پھپھو کے لئے بار بار موٹی لفظ پر اس نے گھور کر نور کو دیکھا جو کشور پھپھو کی دی گئی ناجانے کون سی دوائی کے زیر اثر تھی ۔”چپ ہو کر یہاں بیٹھو نورے” اسے صوفے پر بیٹھاتے جاذب نے اسے کھینچ کر اپنے حصار میں لیا۔۔”آئی ہیٹ یو جاذب شاہ” اسکی قمیض کے بٹنوں سے کھیلتے اس نے آہستہ سے اسکے سینے پر چٹکی بھری۔۔”سس۔۔ سیدھے بیٹھو نورے” اسکے ہاتھ تھام کر اسے ڈانٹتا وہ آگے بڑھ کر اسکے لئے نوالہ بنانے لگا۔”جاذب انہوں نے مجھے کھانا نہیں دیا” اسکی بات پر نورے کے منہ کی جانب بڑھتا جازب کا ہاتھ تھما چہرے کے تاثرات ناقابل فہم حد تک سخت ہوئے تھے۔۔”میں دے رہا ہوں نا کھاؤ””انہوں نے مجھے مارا جاذب تم سے بھی گندی ہیں وہ۔۔۔ تم مارتے نہیں ہو” اسکے گال سے گال مس کرتی وہ الگ ہی جون میں تھی اور جاذب شاہ اچھے سے سمجھ رہا تھا اسے یہ دوا کیوں دی گئی ہے مگر اس حویلی میں انہیں یہ دوا لا کر کس نے دی سوال یہ تھا۔۔”وہ اب نہیں ماریں گی شاباش یہ کھانا کھاؤ” اسکے منہ کی طرف نوالہ کرتا وہ بچوں کی طرح اسے پچکار رہا تھا جو صبح سے بھوکی تھی فوراً سے راضی ہوتی کھانا کھانے لگی۔۔وہ کھانا کھانا کھا رہی تھی اور جاذب اسے کھانا کھلا رہا تھا اپنی ساری تھکن بھولے وہ اسکی فکر میں بیٹھا تھا۔۔نورے کو کھانا کھلا کر وہ اسے یونہی بانہوں میں اٹھائے بیڈ پر لایا اور اسے لٹاتے کنفرٹر اچھے سے اسکے گرد اڑھایا۔۔”سوجاؤ” نورے کو خود کو تکتا پاتے جاذب نے اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھ آہستہ سے جھکتے اسکے ماتھے پر اپنے سلگتے لب رکھے۔۔اندر ایک آگ لگی تھی جو کسی صورت کم نہیں ہو رہی تھی۔گھٹن بڑھتی گئی تو وہ سونے کے بجائے باہر آگیا اب اسے صبح کا انتظار تھا اس سے پہلے وہ سکون سے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔۔___________
“مجھے چھوڑ دو مت کرو” ڈیوڈ کے ارادے خطرناک دیکھ وہ اسکے آگے گڑگڑا رہی تھی جب اسے رسیوں سے آزاد کرتے ڈیوڈ نے اسے بیڈ پر پھینکا اور خود اس پر حاوی ہوا تھا ۔۔شہرے کی چیخیں پورے میں گونج رہی تھی ڈیوڈ نے اسکے منہ پر تکیہ رکھ اسکی چیخوں کا گلا گھونٹا مگر شہرے کے مزاحمت کے لئے چلتے ہاتھ پیر اسکے کام میں رکاوٹ کا سبب بن رہے تھے۔اس سے پہلے وہ مزید کوئی حرکت کرتا کمرے کا دروازہ دھاڑ کی آواز کے ساتھ کھلا تھا۔۔اور پھر اگلے ہی لمحے ڈیوڈ زمین پر تھا۔۔۔”ہاؤ ڈئیر یو ٹو ٹچ مائے وومن”غصے سے پاگل ہوتے وہ ڈیوڈ کے منہ پر مارے جا رہا تھا۔۔جبکہ اس صورتحال میں بھی شہرے نے جھٹکے سے مامون کو دیکھا تھا اس نے ابھی کیا کہا تھا۔۔”ہاؤ ڈئیر یو ۔۔۔۔ ” اسکا جبڑہ دبوچے مامون نے ڈیوڈ کا سر دیوار پر مارا۔۔اسکا یہ جنونی روپ دیکھ شہرے چیخی تھی۔”ڈیول۔۔۔ پلیز اسے چھوڑ دیں۔۔۔ وہ مر جائے گا”وہ دونوں آپس میں گتھم گتھا تھے۔”ڈیول۔۔۔۔پلیز” تیزی سے بھاگتے وہ مامون کی طرف آئی جس کے سر پر تو جنون سوار تھا ۔”ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی میں یہ ہاتھ کاٹ کے پھینک دوں گا” ڈیوڈ کے اوپر بیٹھا وہ اسے نڈھال کرگیا تھا اسکا پورا وجود زخموں سے چور تھا۔۔زرا سی دیر میں اسکی حالت خراب ہوگئی تھی۔۔مامون نے اسکی گردن کو ایک جھٹکا دیا شہرے تڑپ کر اسکے پاس آئی ۔۔”ڈیول خدا کے لئے اسے چھوڑ دیں وہ مر جائے گا” مامون کا ہاتھ تھامے وہ اسے روک رہی تھی جس کے سر پر خون سوار تھا۔۔”میں اسے آج مار دونگا اسے بھی پتا چلے میری بیوی کو ہاتھ لگانے والے کی سزا کیا ہے” اپنی پینٹ سے گن نکالتے اس نے ڈیوڈ پر تانی تبھی اچانک شہرے اسکے سامنے آتی پسٹل کو آگے سے پکڑ گئی۔۔”نہیں ڈیول۔۔۔ پلیز نہیں ” اسکی آنکھوں میں التجا تھی ۔۔”ڈیول تمہیں میری قسم” اچانک مامون کے سینے سے لگتی وہ اسے ساکت کرگئی تھی پسٹل والا ہاتھ پہلو میں گرا تھا۔۔اس نے شہرے کے گرد بازو باندھ نفرت بھری نظروں سے ڈیوڈ کو دیکھا جو درد سے کراہا رہا تھا۔۔۔اس نے مامون شیرازی کی بیوی کو ہاتھ لگایا تھا اتنی آسانی سے معافی بھلا کیسے مل سکتی تھی اسے۔۔”میں اسے کچھ نہیں کرتا ریلکس” شہرے کو مطمئن کرتا وہ آگے بڑھا تھا مگر جانے سے پہلے وہ اسٹیو کو اشارہ کرنا نہیں بھولا تھا۔اب ڈیوڈ اسٹیو کے حوالے تھا جو اپنے باس کی خاطر کچھ بھی کرسکتا تھا۔۔_____________وہ اسے لئے سیدھا گھر آیا تھا۔شہرے کا ہاتھ اسکے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں تھا وہ اسے کمرے میں آیا اس سے پہلے وہ کچھ کہتا یا کرتا شہرے نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے بیڈ پر بٹھایا۔مامون نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔”چپ کر کے یہاں بیٹھو” اسے کہتے وہ مڑی تھی جب مامون نے اسکا ہاتھ پکڑا۔۔”کیا تم مجھے آرڈر دے رہی ہو؟””ہاں بالکل آرڈر دے رہی ہوں اس لئے چپ چاپ یہاں بیٹھے رہنا ورنہ اچھا نہیں ہوگا”اسے دھمکی دیتی وہ ڈریسنگ روم میں آئی وہ واپس کمرے میں آئی تو اسکے ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس تھا۔۔”ادھر چہرہ دیکھاؤ” اسکا چہرہ اوپر کرتے وہ دیکھنے لگی جہاں آنکھ کے پاس زخم تھا اور کچھ اسکے ہاتھ پر ۔”زیادہ ہی غنڈہ بننے کا شوق ہے؟ اوو سوری میں بھول گئی تھی تم ایک غنڈے ہی ہو”غصے سے بڑبڑاتے وہ اسکے زخم پر دوا لگانے لگی جبکہ مامون خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔”یار میں کوئی بچہ ہوں جو اتنے سے زخم پر””مسٹر ڈئیر ہسبینڈ۔۔۔ اپنا منہ بند کرکے بیٹھیں ورنہ اچھا نہیں ہوگا” اسکی دھمکی پر سر ہلاتے وہ منہ بند کرگیا۔۔مامون شیرازی کو کوئی اگر قابو کر سکتی تھی وہ یہ لڑکی تھی مامون سمجھ گیا تھا جبھی جھٹکے سے اسے کھینچتے اپنے پیر پر بٹھایا۔۔”یہ کیا بدتمیزی ہے؟””بدتمیزی کہاں ہے جھکے جھکے کمر درد ہو جائے گا ” اسکے گرد گرفت مضبوط کرتے وہ مسکرا کر کہتا اسکے کندھے پر ٹھوڑی ٹکا گیا۔۔”دور ہو کر بیٹھو نا””دور تو ہوں ویسے شہرے ایک بات بتاؤ ؟””کیا ؟””پاکستان میں تو بیویاں اپنے شوہروں کی بڑی عزت کرتی ہیں آپ کر کے بلاتی ہوں یہ تم مجھے تم تم کیوں کرتی ہو ؟””کیونکہ تم ایک ڈیول ہے جو مجھے زبردستی یہاں لایا ہے”جلے دل سے کہتی وہ اسکا ہاتھ تھامے کریم لگانے لگی۔۔”یار میں نے تو تمہیں بچایا ہے اس حرام خور بھائی سے تمہارے”اسکی بات پر مامون کے ہاتھ پر چلتا شہرے کا ہاتھ تھما تھا۔۔”اچھا سنو نا تم مجھے آپ کہا کرو مجھے بھی وہ والی فیلنگ لینی ہے” اسکا چہرہ اپنی جانب موڑے وہ اس سے کسی بچے کی طرح ضد کر رہا تھا۔۔”ڈیول مجھے دوائی لگانے دو تنگ نہیں کرو”اپنے اوپر سے اسکے ہاتھ اٹھاتے وہ کھڑی ہوئی تھی جب مامون نے واپس سے اسکا ہاتھ تھاما تھا ۔۔”کیا ہوا؟””ابھی لگ رہی ہو ایسے،” اسکے مقابل آتا وہ جھک کر اسکے ہونٹوں پر مہر لگا گیا۔اسکی اچانک حرکت پر شہرے کی آنکھیں پھیلیں۔۔۔
صبح کا اجلا سویرا کھڑکی کے راستے کمرے میں داخل ہوتا بیڈ پر محو استراحت عمائم کی نیند خراب کرنے کا باعث بنا تھا۔۔چہرہ جھکائے اس نے روشنی کو آنکھوں سے دور کیا تھا جب اچانک اسے عجیب سے احساس نے آن گھیرا ۔۔اپنی کمر کے گرد لپٹے ہاتھ کے لمس کو محسوس کر اس نے آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔۔وہ اس وقت ضوریز کے سینے کر سر رکھے لیٹی تھی جب کے ضوریز کا ہاتھ اسکی کمر کے گرد بندھا تھا جبکہ دوسرا اسکے اوپر تھا۔ضوریز چہرہ اسکی طرف کئے کروٹ کے بل لیٹا تھا۔۔۔اس سے پہلے وہ خود کو اس کی قید سے آزاد کرتی ضوریز کا ہاتھ مزید اسکی کمر پر گرفت مضبوط کرتا اسے ساکت کر گیا۔ضوریز شاید جاگ چکا تھا یہ خیال آتے ہی عمائم کا چہرہ لال سرخ ہوا تھا۔وہ کیسے ضوریز کے اتنے قریب ہوئی تھی اسے تو خود پر حیرت ہو رہی تھی۔۔وہیں دوسری جانب ضوریز حیرت سے خود سے جڑی عمائم کو دیکھ رہا تھا ۔۔ضوریز نے گردن اٹھائے زارون کو دیکھا جو کمرے میں کہیں نہیں تھا۔۔وہ اچھے سے سمجھ رہا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے۔۔آہستہ سے اپنا ہاتھ عمائم کی کمر سے ہٹاتے وہ اسکا سر اپنے سینے سے ہٹاتا تکیے پر رکھ گیا جب اچانک وہ رکا تھا۔عمائم کے چہرے کو دیکھ اسکے چہرے پر مسکراہٹ ابھری تھی۔۔وہ جاگ کر بھی سوتی بنی ہوئی تھی۔۔۔بیڈ سے اٹھ کر وہ واشروم میں بند ہوا تب جا کر عمائم کا سانس بحال ہوا تھا۔۔شکر کا سانس لیتے وہ فورآ سے ڈریسنگ روم کی جانب بھاگی تھی۔۔شام گھر میں ہی ولیمے کی تقریب ہوئی تھی عمائم کے گھر سے صرف اسکی امی اور ماموں آئے تھے اور اسی توقع بھی یہی تھی۔۔۔”عمائم؟”وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی اپنی جیولری اتارنے کی کوشش کر رہی تھی جو اس سے کھل کر نہیں دے رہی تھی جب ضوریز نے اسے پکارا۔۔”کیا کوئی ہیلپ چاہیے ؟”وہ کب سے اسے کوشش کرتے ہلکان ہوتے دیکھ رہا تھا۔”وہ یہ نہیں کھل رہا” یہ پانچ لفظ کہنے میں اسے شدید قسم کی شرمندگی ہوئی تھی۔۔”اٹس اوکے میں ہیلپ کردیتا ہوں”اسے کہتے وہ عمائم کے پیچھے آ کھڑا ہوا ۔اب وہ اسکا نیک لیس اتارنے میں ہیلپ کر رہا تھا اپنی گردن پر ضوریز کی انگلیوں کو لمس محسوس کرتے وہ خود میں سمٹی تھی۔۔”میں کر لیتی ہوں””اونہوں بس ہوگیا ” اسکا ہاتھ ہٹاتے وہ مکمل توجہ سے اسکی مدد کر رہا تھا یہ جانے بغیر کے اسکا لمس کسی کی جان مشکل میں ڈال رہا تھا۔”ہوگیا”نیک لیس اسے تھماتے وہ مسکراتے پیچھے ہوا جیسے کوئی بڑا میدان مارا ہو۔۔”سوجائیں اب کافی رات ہوگئی ہے” ضوریز کی بات پر سر ہلاتے وہ اپنا تکیہ اٹھائے صوفے کی جانب بڑھی تھی جب ضوریز کی پکار نے اسکے قدم روکے۔۔”عمائم۔۔ ہمارے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہے اسے اس طرح بے مول مت کریں ۔۔ واپس بیڈ پر آئیں” اسکا انداز اتنا قطعی تھا کہ عمائم اس سے سوال تک نہیں کرسکی خاموشی سے آکر بیڈ کی سائیڈ پر ٹک گئی۔۔”ہمارا نکاح ہوا ہے آپ میری بیوی ہیں میں آپ پر ہر طرح سے حق رکھتا ہوں” اسکی بات پر عمائم نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا گناہوں کے تصادم پر عمائم نے بےاختیار نگاہیں جھکائیں۔”میں اس رشتے کو لے کر سنجیدہ ہوں یہ شادی کے کوئی مذاق نہیں اور آپ سے بھی یہی امید رکھتا ہوں کہ آپ اس رشتے کی باریکی کو سمجھیں میں اپنی ضروریات کے لئے باہر جا کر منہ مارنے والا آدمی نہیں ہوں مجھے آپ ضرورت ہوگی میں آپ کے پاس ہی آؤں گا بہتر ہے خود کو اسکے لئے تیار کرلیں”اپنی بات مکمل کرتا وہ اسے ہونق چھوڑے خود ٹیرس پر آکر سیگریٹ سلگا گیا۔۔وہ یہ سب بولنا نہیں چاہتا تھا مگر آج عمائم کو صوفے پر سونے کے لئے جاتے دیکھ وہ خود کو روک نہیں سکا تھا۔۔ایسا نہیں تھا کہ اسے عمائم سے محبت ہوگئی تھی وہ ایک کھرا انسان تھا اسکے نزدیک رشتوں کی بہت زیادہ اہمیت تھی ایسے میں جب عمائم اسکے نکاح میں آئی تو اس نے دلی رضامندی سے اس سے نکاح قبول کیا تھا ہاں اسکا عمائم سے فلحال تعلق بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر آج عمائم کی الگ سونے والی حرکت پر اسے ناگواری محسوس ہوئی تھی۔۔اس لئے وہ اس پر اپنی سوچ واضح کر گیا تھا وہ اب اسکی بیوی تھی یہ کوئی کہانیوں والی زندگی نہیں تھی ۔۔____________
وہ ابھی تک شاکڈ میں تھی ضوریز کے لفظوں نے اسکی نیند اڑا دی تھی۔۔بستر پر پڑے وہ ضوریز کے کہے لفظوں کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔اس نے گردن موڑ کر ٹیرس کی جانب دیکھا یہاں سے صرف ضوریز کی پشت نظر آرہی تھی ۔”کیا یہ واقعی اس رشتے کو اتنی سنجیدگی سے لے رہے ہیں ؟” خود سے سوال پوچھتے اس نے جھرجھری سی لی تھی اسے اپنی ضوریز کی پہلی ملاقات یاد آئی تھی اور پھر اسکے بعد جتنی ان کی ملاقات ہوئی ان میں قابل ذکر کچھ نہیں تھا ۔ضوریز کو پلٹتے دیکھ اس نے فوراً سے آنکھیں بند کرتے اپنا چہرہ چادر سے چھپایا تھا اور اسکی یہ حرکت ضوریز سے چھپی ہر گز نہیں تھی۔۔بیڈ پر بیٹھتے اس نے ایک نظر عمائم کی کمر کو دیکھا اور پھر بستر پر لیٹتے لائٹس آف کرتا وہ اچانک ہی اسکے پیچھے سے اپنے حصار میں قید کرتا عمائم کی جان نکال گیا۔۔۔اسکی ہشت ضوریز کے سینے سے لگی ہوئی تھی جبکہ ضوریز کے ہاتھ آگے سے اسے اپنی مضبوط قید میں لئے ہوئے تھے۔۔”آپ” عمائم کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا”سوجائیں میں کچھ نہیں کر رہا” اسکی مزاحمت پر اسے ٹوکتا وہ آنکھیں موند گیا جبکہ دوسری جانب وہ اس نازک جان کی نیند بری طرح اڑا گیا تھا۔۔۔____________فجر کی اذان کی آواز پر اس نے اٹھ کر وضو کیا تھا اسے یہاں آئے اتنے دن ہوگئے تھے مگر وہ کمرے میں قید ہوکر رہ گئی تھی۔۔کل جو ہوا اسکے بعد اسکا اس کمرے میں دل گھبرا رہا تھا کچھ سوچتے وہ وضو کرتے جائے نماز اٹھائے نیچے حویلی کے لان میں آگئی۔۔ہلکا ملگجا اندھیرا چھایا ہوا تھا ٹھنڈی ہوا اسے سکون بخش رہی تھی۔۔گہرا سانس بھرتے اس نے خود کو پرسکون کیا اور نماز ادا کرنے کھڑی ہوئی تھی۔”فحاشہ نماز بھی پڑھتی ہیں،؟” اس نے نیت باندھی ہی تھی کہ کشور بیگم کی کاٹ دار آواز پر اسکے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے وہ بھاگ بھی نہیں سکتی تھی۔۔اس عورت نے بچپن سے لے کر آج تک اسے سوائے تکلیفوں کے کچھ نہیں دیا تھا۔۔۔”نہیں ہوتی تیری نماز قبول ” اسے کہتے انہوں نے اچانک ہی اسے زور سے دھکا دیا تھا وہ لڑکھڑائی مگر ایسے ہی نماز پڑھتی رہی آنسو اسکے گال کو بھگو رہے تھے ۔۔وہ سجدے میں گئی جب ایک زور دار تھپڑ اسکی کمر پر پڑا تھا۔۔تکلیف کے باوجود وہ سجدے میں گری رہی آج اس ظالم عورت نے حد کردی تھی۔۔وہ ناجانے کس چیز سے اسکی کمر پر مار رہی تھیں جب آخری سجدہ کرتے اسکی سسکی نکلی تھی۔۔اسکے سلام پھیرتے ہی اچانک کشور بیگم نے اسکے بال مٹھی میں جکڑتے اسکے منہ پر تھپڑوں کی بارش کی تھی۔۔۔”مجھ سے مقابلہ کر رہی تھی ہاں میرے آگے کھڑی ہونے کی ہمت کہاں سے آگئی تجھ میں” اسے کہتے انہوں نے زرمینے کو زور سے دھکا دیا تھا مگر زمین پر گرنے کے بجائے وہ مہربان بازوؤں میں گری تھی۔۔آنسوؤں سے تر چہرہ اٹھائے اس نے خود کو بچانے والے کو دیکھا اور وہاں جلال اجمل کا چہرہ دیکھ اسے جھٹکا لگا۔۔”تم ۔۔ تم نے کیوں اسے بچایا ؟”وہ چیخی تھی۔۔،”اب آپ نے انہیں ہاتھ لگایا تو میں سائیں کو بتانے میں لمحہ نہیں لگاؤں گا،،” کشور بیگم کو دھمکی دیتا وہ زرمینے کی جانب مڑا جس کا وجود کپکپا رہا تھا زندگی میں پہلی بار جلال انصر کو کسی پر ترس آیا تھا تو وہ زرمینے شاہ تھی۔۔”اپنے کمرے میں جائیں آپ” اجازت ملتے ہی وہ تیزی سے اوپر بھاگی تھی۔
قسط_20حویلی میں صبح معمول کی طرح تھی وہی سب اپنے کاموں میں مگن تھے۔نجمہ بیگم اپنے کمرے میں تھیں کشور بیگم کی موجودگی میں وہ بہت کم ہی گھر سے باہر نکلا کرتی تھیں۔۔۔سکینہ بیگم ملازمہ کے ساتھ مل کر گیہوں صاف کر رہی تھیں اور کشور بیگم ہمیشہ کی طرح اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی سب کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔”پھپھو آپ نے ناشتہ کیا ؟”ردابہ ان کے پاس آکر بیٹھی تو سکینہ بیگم نے گھور کر اسے دیکھا تھا جو ان کی گھوری نظر انداز کرتے کشور بیگم کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی۔”انابیہ میرے لئے ناشتہ بنا دو””وہ ابھی سارے کام کر کے بیٹھی ہے کوئی ضرورت نہیں ہے انابیہ تم بیٹھو اور تم اٹھو ہر وقت فارغ رہنا ” انابیہ کو منع کرنے کے ساتھ انہوں نے ردابہ کو لتاڑا۔۔”میرے بھتیجی کو کچھ بھxی مت بولو سکینہ۔۔۔ اوپر جو فحاشہ کمرے میں بند ہے نا اسے اٹھاؤ اور کام پر لگاؤ کیا مفت کی روٹیاں توڑنے آئی ہے وہ؟ اور وہ خون بہا والی اس سے بھی کام کرواؤ مفت میں کسی کو روٹی نہیں ملے گی اس گھر میں رہنا ہے تو کام کرنا ہوگا””تو ردابہ بھی مفت کی روٹیاں نہیں کھائے گی”جواب جاذب کی جانب سے آیا کشور بیگم نے اسکی جانب دیکھا جہاں وہ نورے کا ہاتھ تھامے مضبوطی سے تھامے کھڑا تھا۔۔۔کشور بیگم نے اسے گھورا تھا۔وہ بالکل بھی نیچے نہیں آنا چاہتی تھی مگر جاذب اسکی جان کو آگیا تھا۔۔”مجھے نہیں جانا نیچے””جو زبان کے جوہر مجھے دیکھاتی ہیں اتنی ہمت دوسروں کے سامنے بھی کرنی چاہیے” اسکا ہاتھ تھامتے وہ نیچے بڑھا مگر اسے رکنا پڑا تھا نورے اپنی جگہ اسٹک کھڑی تھی۔۔”نورے خدا کی قسم مجھے زبردستی کرنے پر مجبور نہیں کریں” اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتا وہ اسے ڈرا گیا اس شخص سے کوئی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔۔اس لئے وہ جازب کے ساتھ نیچے آگئی۔۔جہاں اب کشور بیگم آگ اگلتی نگاہوں سے اسکے گھور رہی تھیں۔۔”یہ گھر کی بیٹیاں ہیں تم گھر کی بیٹیوں کا مقابلہ ان دو ٹکے””دو ٹکے کے لوگ نہیں ہوتے ان کی سوچ ہوتی ہے” جاذب کی بات پر کشور بیگم نے غصے سے اسے دیکھا۔”تم مجھے دو ٹکے کا بول رہے ہو””میں نے کسی کا نام نہیں لیا سب خود سمجھدار ہیں “”تم””میری بات غور سے سنیں پھپھو ” ان کی بات کاٹتے وہ دو قدم آگے آیا تھا اسکے چہرے پر چٹانوں کی سی سختی تھی۔۔”یہ لڑکی میری مجرم ہے ۔۔ اسے سزا دینے کا حق صرف اور صرف مجھے ہے۔۔ آئندہ اسے ہاتھ لگانے سے پہلے سو بار سوچئیے گا””تو مجھے دھمکی دے رہا ہے جاذب؟ اپنی پھپھو کو؟””آپ جانتی ہیں میں دھمکیاں نہیں دیتا ۔۔۔””اسکے باپ نے میرے بھائی کو مارا تھا “”پھپھو ۔۔۔ کیا واقعی آپ کو میرے باپ کے مرنے کا اتنا دکھ ہے؟ اسکی موت کا بہانہ کرکے اپنے پرسنل فیلنگز کو مطمئن نا کریں “”اور تم ” وہ اب نورے کی جانب مڑا تھا۔۔”میرے علاؤہ تمہیں کوئی تکلیف نہیں دے سکتا یہ بات یاد رکھنا”اسے کہتا وہ نورے کا ہاتھ تھام ڈائننگ ٹیبل پر آیا تھا..کشور بیگم خوں آشام نظروں سے اسے گھور رہی تھیں۔۔جاذب اسے کھانا سرو کر رہا تھا۔۔اور یہ منظر کسی کو آگ لگانے کے لئے کافی تھا ۔۔____________”میں اندر آجاؤں ؟” دروازہ ناک کرتے نورے نے اندر جھانکا جہاں بیڈ پر زرمینے بیٹھی تھی نور کو اپنے کمرے کی دہلیز پر کھڑے دیکھ وہ فوراً سے اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔۔”آجائیں نا بھابھی””کیسی ہو؟””آپ کیسی ہیں؟”اسکا جواب دینے کے بجائے زرمینے سے سوال کیا تھا۔نورے اسکے پاس وہیں بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی ۔”میں ٹھیک ہوں جاذب کو تم نے بتایا تھا نا سب؟””ہممم””زرمینے کیا تم مجھے بتا سکتی ہوں سالوں پہلے کیا ہوا تھا مجھے کچھ نہیں پتا آخر ہوا کیا تھا۔۔۔اور تم تو جاذب کی بہن ہو نا تمہارے ساتھ ان کا رویہ ایسا کیوں؟””کیا آپ واقعی جاننا چاہتے ہیں “؟”ہاں”وہ واقعی جاننا چاہتی تھی۔”زرمینے۔۔۔ زرمینے” اس سے پہلے زرمینے بات کا آغاز کرتی نیچے سے اپنی نام کی پکار پر اس نے خوفزدہ نگاہوں سے نورے کو دیکھا۔۔۔”یہ اتنا چیخ کیوں رہی ہیں””پتا نہیں میں نے کچھ نہیں کیا بھابھی” وہ خوفزدہ ہوگئی تھی نور نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ کی گرفت میں لیا تھا ۔”ڈرو مت مینے میں ہوں ساتھ” اسکا ہاتھ تھامے وہ اسلئے اپنے ساتھ نیچے بڑھی تھی جہاں لاؤنج میں اس وقت گھر کی سبھی خواتین موجود تھیں۔۔نیچے اترتے ہی کشور بیگم کسی چیل کی طرح زرمینے پر جھپٹتے اسکا بازو اپنی سخت گرفت میں دبوچ گئیں۔۔۔”آرام سے کیا کر رہی ہیں آپ”زرمینے کا کپکپاتا وجود نورے کی نظروں سے مخفی نہیں رہا تھا۔۔۔”آوارہ بد چلن تیرا عاشق آیا ہے تجھ سے ملنے”ان کی بات پر زرمینے نے جھٹکے سے سر اٹھایا تھا۔”میں نے کچھ نہیں کیا پھپھو۔۔۔””جھوٹ بولتی ہے بے حیا””جب وہ بول رہی ہے اس نے کچھ نہیں کیا تو آپ کو سمجھ کیوں نہیں آرہا ہے””تو اپنی بکواس بند کرو سمجھ آئی جاذب شاہ نے تمہیں سر چڑھایا ہے میں نے نہیں “”آپا سکون سے بات کرلیں ” سکینہ نے انہیں ٹوکا جن کی آواز تیز ہوتی جا رہی تھی۔”اس فحاشہ سے اتنی ہمدردی کیوں ہے سب کو آخر” وہ چٹخی۔۔”کیا ہو رہا ہے یہاں” اچانک ہی سخت مردانہ رعب دار آواز گونجتی سب کو ساکت کر گئی تھی۔۔
کشور بیگم نے جھٹکے سے گردن موڑ کر دیکھا جہاں سہیل شاہ جلال اجمل کا ہاتھ تھامے کھڑے تھے۔کشور بیگم کی زبان کو بریک لگے تھے وہیں زرمینے نورے کے پیچھے چھپی تھی۔۔”کیا تماشا لگا رکھا ہے کیا یہ محزب لوگوں کا گھر ہے کیسی زبان استعمال ہو رہی ہے؟’وہ غصے سے بول رہے تھے کشور بیگم کا سر جھکا تھا۔۔”جاؤ سب اپنے اپنے کمروں میں “سب کو کہتے انہوں نے جلال کو دیکھا”تم میرے ساتھ آؤ “اسے کہتے وہ آگے بڑھے تھے ان کے پیچھے جاتے جلال نے زرمینے کے جھکے سر کو دیکھا تھا۔۔___________اسکے ہونٹوں کو آزادی دیتے وہ پیچھے ہوتا شہرے کا چہرہ دیکھنے لگا جو لال سرخ ہو رہا تھا۔۔حقیقت کی دنیا میں واپس لوٹتے شہرے نے غصے سے مامون کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔”کیا مسئلہ ہے ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟””میں دیکھ رہی آخر کوئی اتنا بدصورت کیسے ہوسکتا ہے”؟اسکی بات پر شہرے کا منہ مارے حیرت کے کھلا تھا۔”تم۔۔ “”کوئی اتنا بدصورت کیسے ہوسکتا ہے تم اپنا خیال کیوں نہیں رکھتیں”اپنی بات کہتے مامون نے دانتوں تلے لب دبایا۔”یو۔۔۔ یو ۔۔ ڈیول تم کیسے اس طرح کسی سے کہہ سکتے ہو ۔ اتنا روڈ۔۔۔ اگر اتنی ہی بری ہوں میں تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے مجھے” مامون کے بازو پر ہاتھ مارتے وہ غصے سے کہتی اسے قہقہ لگانے پر مجبور کرگئی۔شہرے اسے ہنستے دیکھ رہی تھی ورنہ تو اسکا چہرہ ہمیشہ سڑا ہوا ہی رہتا تھا۔۔”اس لئے نہیں چھوڑ رہا کیونکہ مجھے بدصورت لڑکیاں بہت پسند ہیں اس لئے میں تمہیں نہیں جانے نہیں دوں گا ساری زندگی تنگ کروں گا جب تک مر نہیں جاتا” آنکھ ونک کر کے کہتا وہ شہرے کو آنکھیں گھمانے پر مجبور کرگیا۔۔”اوکے فائن” اسے کہتے وہ غصے سے وہاں سے واک آؤٹ کر گئی۔۔اسکے ناراض ہونے پر مامون شرارتی انداز میں مسکراتا بیڈ پر اپنی جگہ پر لیٹ گیا۔شہرے شاور لے کر اپنے نائٹ ڈریس پہن کر باہر آئی مگر مامون کو دیکھ اسکا منہ بنا تھا۔۔ناراضگی کے اظہار کے طور پر وہ خاموشی سے بیڈ پر لیٹتی آنکھیں موند گئی جب مامون نے اسے اپنی جانب کھینچ کر اپنے حصار میں لیا تھا۔شہرے نے مزاحمت نہیں کی تھی۔۔۔”اسکی خوشبوؤں میں سانس لیتا اسکے بالوں میں چہرہ چھپاتا وہ سکون سے آنکھیں موند گیا۔۔۔___________”چھوڑ دو مجھے ۔۔۔ جانے دو۔۔۔ مجھے ہاتھ مت لگاؤں””پلیز مجھے جانے دو”وہ سر ادھر ادھر پٹختے مسلسل بول رہی تھی اسکی آواز سے مامون کی نیند کھلی تھی ۔”مجھے جانے دو پلیز مجھے مت””شش۔۔۔ شہرے ۔۔ میں یہی ہوں کوئی تمہیں نہیں چھین سکتا لٹل گرل لک ” اسکا چہرہ تھپتھپاتے مامون اسے ہوش کی دنیا میں واپس لایا تھا۔۔”یور آر مائن کوئی تمہیں مجھ سے نہیں چھین سکتا۔۔ ششش رونا بند کرو۔۔ میں یہی ہوں کالم ڈاؤن ” اسے اپنے ساتھ لگائے وہ مسلسل اسے چپ کروا رہا تھا جو مامون کا لمس پاتے ہی پرسکون ہوئی تھی۔۔”ڈیول””شش۔۔ کچھ نہیں سوچو بس سوجاؤ میں یہی ہوں اپنی اینجل کے پاس ” اسکے ماتھے پر لب رکھتے وہ اسے خود میں بھینچ گیا۔مامون کے لمس کی حدت پاتے وہ پل میں پگھلتی پرسکون ہوئی تھی۔۔”چلو سو جاؤ شاباش ورنہ طبعیت خراب ہو جائے گی” اسے گال پر پیار کرتا وہ ہولے سے مسکرایا یہ لڑکی اسکی عادت بنتی جا رہی تھی جو محبت سے زیادہ جان لیوا تھی اسکے لئے۔۔۔شہرے نے کسی بچے کی طرح مامون کے گرد اپنی گرفت مضبوط کی ہوئی تھی جیسے اسکے دور جانے کا ڈر ہو ۔
“عمائم آپ اپ سیٹ ہو؟”زارون کی بات پر وہ جو گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی بری طرح چونکی۔۔”نو بے بی آپ کو ایسا کیوں لگا!”؟”آپ بابا کو مس کر رہی ہیں نا ؟”اسکی بات پر عمائم نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔”آپ کو ایسا کیوں لگ رہا ہے بے بی؟”زارون کو گود میں بھرتے عمائم نے محبت سے اسکے گال پر پیار کیا۔۔”کیونکہ آپ کب سے بابا کی پک دیکھ رہی ہیں “اسکی بات پر عمائم نے چونک کر سامنے لگی ضوریز کی تصویر کو دیکھا وہ انجانے میں اسکی تصویر دیکھ رہی تھی یہ خیال آتے ہی اسکے گال سرخ ہوئے تھے ۔”ایسا تو کچھ نہیں ہے میں تو آپ کے بابا کو مس نہیں کر رہی””اصولاً تو کرنا چاہیے تھا”جواب زارون کے بجائے کمرے میں داخل ہوتے ضوریز کی جانب سے آیا تھا۔عمائم نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کیں۔۔یہ شخص ہمیشہ کسی جن کی طرح اچانک آجاتا تھا..”بابا “عمائم کی گود سے اترتے زارون ضوریز کی گود میں چڑھا ضوریز نے بری طرح اسکے گال پر پیار کیا تھا ضوریز کی داڑھی کی چبھن محسوس کرتے زارون کھلھلایا۔۔۔ان دونوں کو ہنستے مسکراتے دیکھ عمائم کھل کر مسکرائی تھی۔”بابا مما کو بھی پیار کریں نا” زارون کی بات پر عمائم کے چہرے پر بکھری مسکراہٹ سمیٹی وہیں ضوریز نے مسکراتے عمائم کو دیکھا اور پھر وہ جھکتے عمائم کے گال کو اپنے شدت بھرے لمس سے مہکا گیا تھا۔۔۔حیرت اور شرم کی زیادتی سے عمائم کا چہرہ سرخ ہوا تھا وہیں زارون کا کھلکھلاتا قہقہ گونجا۔۔”آپ ۔۔ آپ ؟””زارون سامنے تھا اس لئے ابھی گال پر پیار کیا ہے اس لئے اسی پر اکتفا کریں “ضوریز کی معنی خیز بات پر عمائم کے گال دہک اٹھے۔۔”چلو بچے اب جلدی سے آپ جاؤ میں فریش ہو کر آتا ہوں” زارون کو گود سے اتارتے وہ اپنی شرٹ کے اوپری بٹن کھولنے لگا۔۔زارون کے جاتے ہی عمائم اسکے سامنے آئی تھی۔۔”یہ کیا طریقہ ہے آپ نے بچے کے سامنے ایسی حرکت کیوں کی وہ اب سب کو بتائے گا”ضوریز نے تحمل سے اسکی بات سنی اور پھر اسکے دونوں ہاتھ تھام اسے اپنے قریب کرگیا ۔۔”کیا بتائے گا ؟” اسکے ہاتھ اپنی کمر کے پیچھے لگاتا وہ عمائم کی حالت خراب کر رہا تھا۔۔”آپ نے۔۔۔””میں نے پہلے ہی کہا تھا میں آپ کو ٹائم دوں گا مگر زیادہ نہیں””آپ پلیز دور””دور کیوں شوہر ہوں سانسوں سے بھی زیادہ قریب آ سکتا ہوں ” اسکی ٹھوڑی لبوں سے چھوتا وہ عمائم کو کپکپانے پر مجبور کرگیا تھا وہ مکمل ضوریز کے سہارے کھڑی تھی۔۔”کل وکیل صاحب آئیں گے آج میں امی سے بات کرنے والا ہوں وش میں لک””گڈ لک”اپنا چہرہ ضوریز سے دور کرتے وہ ہولے سے کہتی اسے مسکرانے پر مجبور کرگئی ۔۔”کم آن میری وائف ہیں آپ کے لئے امی سے ڈانٹ کھانے والا ہوں تھوڑا تو اچھے سے وش کریں” اپنے گال اسکے آگے کرتا وہ اسکی جان نکال رہا تھا۔۔”آپ دور ہو کر بات کریں نا پلیز”اسکی سخت گرفت سے نکلنے کو وہ مچلی تھی جب قدموں کی آہٹ پر ضوریز نے اسے رہائی تھی۔”جائیں بخش دیا آج” آزادی ملتے ہی وہ تیر کی تیزی سے کمرے سے باہر بھاگی تھی مبادہ لمحے کی دیر اور وہ ایک بار پھر ضوریز کے شکنجے میں ہوتی۔۔اس کی پھرتی پر ضوریز محفوظ سا ہنس پڑا۔۔_________
“خانوں نے اپنی اصلیت دیکھانا شروع کردی ہے کیا یہ بات جاذب کو پتا ہے،؟”سہیل شاہ کی بات پر جلال کا سر نفی میں ہلا ۔۔”وہ سائیں کے راستوں میں رکاوٹ تو بن رہے تھے مگر ان کا نشانہ زرمینے بی بی ہو نگی اس بات کا انداز انہیں ہے””مجھے پہلے ہی پتا تھا اس لڑکی کی وجہ سے ہمیں ایک نا ایک دن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا”سہیل شاہ کا موڈ بری طرح خراب تھا جلال نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔۔”جلال۔۔۔ جلد از جلد کوئی لڑکا ڈھونڈ کر مجھے بتاؤ میں اس لڑکی کی شادی اسی مہینے میں کر دینا چاہتا ہوں یہ لڑکی جتنی جلدی اپنے گھر کی ہو جائے اتنا اچھا۔۔”ان کی بات پر وہ چونکا تھا۔”اتنی جلدی لڑکا ملنا مشکل ہے جب لوگ پہلے ہی باتیں بنا رہے ہیں” جواب جلال کے بجائے سہیل شاہ کے خاص ملازم کی جانب سے آیا تھا۔۔”کیا مطلب ؟””شاہ سائیں۔۔ اس لڑکی کے بارے میں ناجانے کتنی باتیں گاؤں میں پھیل چکی ہیں آخر کون کرے گا اس لڑکی سے شادی جس کا ماضی””شاہ صاحب میں جاؤں ؟” جلال کو ناگوار گزرا تھا اس لڑکی کا یوں موضوع بنائے جانا۔۔”ہممم۔۔۔بلکہ ایک کام کرو مجھے زرا پانی لا کر دو” اپنے خاص آدمی کے اشارے پر سہیل شاہ نے اسے فوراً منظر سے ہٹایا۔”کیا ہوا؟””شاہ سائیں لڑکا سامنے ہے زمانے میں ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔ ہم اس لڑکی کی شادی جلال سے کر سکتے ہیں گھر کا بندہ ہے ہر چیز جانتا ہے سمجھتا ہے”اس کی بات سہیل شاہ کے دل کو لگی تھی ۔”ٹھیک ہے جاؤ جا کر اس لڑکی کو بلاؤ تب تک میں جلال سے بات کرتا ہوں۔۔”وہ ہتھیلی پر سرسوں جمانے کو تیار بیٹھے تھے اس آدمی کے جاتے ہی جلال اندر آیا سہیل شاہ نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔”جی شاہ صاحب ،””ہم نے ایک فیصلہ لیا ہے جلال””کیسا فیصلہ ” وہ اچنبھے کا شکار ہوا تھا۔۔”بتاتے ہیں فیصلہ بھی مگر پہلے ہمیں یہ بتاؤ ہماری بات تمہارے لئے کتنی اہمیت رکھتی ہے؟”.”شاہ صاحب آپ کی بات میرے لئے حکم کا درجہ دیکھتی ہے” ان کی سوچ سے انجان وہ آہستہ سے بولا۔”اگر ایسا ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ تم اس لڑکی سے شادی کرلو ۔” انہوں نے اپنی بات سے جلال اجمل کے سر پر دھماکہ کیا تھا جھٹکے سے سر اٹھائے وہ انہیں دیکھنے لگا۔۔”کیا مطلب ؟””مطلب کوئی اتنا مشکل بھی نہیں ہے ہم چاہتے ہیں تم اس لڑکی سے شادی کرو ۔ ویسے بھی آخر کب تک کنوارا رہنے کا ارادہ ہے تمہارا ؟””معاف کیجئے گا شاہ صاحب مگر میں یہ شادی نہیں کرسکتا”وہ ان سے بدتمیزی نہیں کر رہا تھا مگر وہ کیسے اتنی بڑی بات اس سے ایسے کر سکتے تھے انہیں سوچنا چاہیے تھا ۔۔”کیا تم اس لئے اس سے شادی نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اسکا ماضی”؟ انہوں نے دانستہ بات ادھوری چھوڑی تھی۔۔”میں بس ان سے شادی نہیں کرنا چاہتا کسی بھی وجہ سے ” اسکا انداز دوٹوک تھا۔۔دروازے کے پار کھڑی زرمینے کے لئے اپنے پیروں پر کھڑے رہنا مشکل ہوگیا تھا اتنی ازارں تھی اسکی ذات۔۔۔ کوئی اسے قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔۔نا اسکے اپنے نا کوئی غیر۔۔۔اسکا دل ٹوٹا تھا اور بہت بری طرح ٹوٹا تھا۔۔”ایک بار پھر سوچ لو جلال ” سہیل شاہ کی آواز پر اسکا رواں رواں کان بن گیا تھا۔۔”میں اچھے سے سوچ کر آپ کو جواب دے رہا ہوں اگر میں کبھی شادی کروں گا بھی تو وہ لڑکی زرمینے شاہ تو بالکل بھی نہیں ہوگی “ایک آخری کیل تابوت میں ٹھونکی گئی تھی۔وہ ٹوٹ کر بکھری تھی اپنی ذات بے مول لگی تھی فوراً سے وہاں سے ہٹتے وہ ننگے پیر روتی ہوئی سیڑھیاں اترتے اس جگہ سے تو کیا اس حویلی سے بھی نکلتی چلی گئی ۔۔۔جلال کمرے سے نکلا تو اسے سامنے سے کشور بیگم آتی نظر آئیں۔۔”میری بات سنو جلال” وہ ان کے پاس سے گزر رہا تھا جب ان کی آواز پر اسے رکنا پڑا ۔”جی؟””تم اس گھر کے پرانے ملازموں میں سے ہو مگر تمہارا میرے سامنے کھڑے ہونا مجھے سمجھ نہیں آیا””میں کے سامنے کبھی کھڑا نہیں ہوا””تم میرے اور اس لڑکی کے بیچ میں آئے وجہ جان سکتی ہوں میں،؟””ایسا کچھ نہیں ہے اگر اس دن آپ کی جگہ کوئی اور بھی ہوتی تب بھی میں یہی کرتا ” اسکا انداز دو ٹوک تھا۔۔۔کشور بیگم نے بغور اسے دیکھا۔”آئندہ میرے معاملے میں مت بولنا جلال اجمل۔۔ اور دوسری بات بہت جلد اس حویلی سے وہ لڑکی دفع ہو جائے گی مگر تم نے اسی حویلی میں کام کرنا ہے””کیا مطلب “؟ وہ سمجھا نہیں تھا”میری نند کا بیٹا ہے میں اس کی شادی اس لڑکی سے کروانے والی ہوں بہت جلد۔ ۔” ان کی بات پر وہ بری طرح چونکا تھا جہاں تک اسے پتا تھا کشور بیگم کی نند کا ایک ہی بیٹا تھا جو ذہنی معذور تھا۔۔”ہو جو ذہنی “”پاگل نہیں ہے وہ اور ویسے بھی اس داغدار لڑکی کو کون اپنائے گا وہی سہی۔۔۔ یہ بات تمہیں اس لئے بتا رہی ہوں تاکہ تم اپنی نوکری کی فکر کرو نا کے اس لڑکی ” اسے سمجھاتیں وہ آگے بڑھ گئیں جبکہ وہ ناجانے کتنے لمحے اپنی جگہ سے ہل نہیں سکا تھا۔
قسط_21دن تیزی سے گزر رہے تھے شہرے خود کو کافی ہلکا محسوس کر رہی تھیں مامون کا رویہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اچھا ہوتا جا رہا تھا۔۔اسکے پاس کرنے کو کچھ نہیں تھا کچھ سوچتے وہ نیچے کچن میں چلی آئی۔۔اسکا کوکنگ کرنے کا موڈ تھا کچھ سوچتے اس نے شیف سے مامون کی پسند کا سارا کھانا پوچھا اور پھر اس نے مامون کی پسند کی کچھ ڈشز بنائی تھی۔ایک نظر سب چیزوں پر ڈال وہ فخریہ مسکرائی۔۔”ڈیول تو آج خوش ہو جائے گا” خود سے کہتے وہ اوپر کمرے میں آکر فریش ہوئی۔پنک فراک اور ٹراؤزر پہنے اس نے بالوں کو کھلا چھوڑ آگے سے کلپ لگائے ہونٹوں پر لپ گلوز لگائے اس نے ایک نظر آئینے میں اپنی تیاری دیکھی۔۔اپنی تیاری سے مطمئن ہوتے وہ سیڑھیاں تیزی سے اترتے نیچے آئی جبھی اسے سامنے سے سامنے سے مامون گھر میں داخل ہوتا نظر آیا۔اسے دیکھ شہرے کے چہرہ پر مسکراہٹ امڈ آئی۔۔تیزی سے بھاگتے وہ اسکی جانب بڑھی جب اپنی حرکت کا احساس ہوتے اس نے بمشکل اپنے قدم روکے تھے۔۔”لک۔۔۔ لگتا ہے کسی نے مجھے بہت مس کیا”شہرے کو کھینچ کر اپنے ساتھ لگاتے مامون شرارت سے بولا۔۔”جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہے” وہ مان جائے ایسا ہوسکتا تھا بھلا۔۔۔”اووو ایسا پھر کوئی کیوں مجھے دیکھ کر اپنی بانہیں کھولے میری جانب آرہا تھا۔۔”اسکے گال پر شدت بھرا لمس چھوڑتا وہ اسے کسمسانے پر مجبور کر گیا ۔”ایسا کچھ نہیں ہے میں بس کھانے کا بولنے آرہی تھی میں نے کھانا بنایا ہے ” اسکے حصار میں قید وہ چلتی صوفے تک آئی۔۔۔”اچھا واقعی۔۔۔ پھر تو میرا پیٹ خراب ہو سکتا ہے” اسکی شرارت سمجھتے شہرے نے گھور کر اسے دیکھا۔۔۔”ہونہہ آپ کو کیا پتا میں کتنا مزے کا کھانا بناتی ہوں”اسکی بات پر مامون چونکا اور پھر اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔”تم ابھی مجھے آپ کہا نا جانو ؟”اس کی بات پر شہرے نے فوراً سے نا میں سر ہلایا۔۔”جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہے””اچھا واقعی زرا ادھر دیکھنا””مامون پلیز ابھی جلدی سے فریش ہوجاؤ نا بھوک لگ رہی ہے” اسکا دھیان خود پر سے ہٹاتی وہ جلدی سے اٹھی تھی۔”اوکے کو حکم” اسکی ناک دباتے وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں گیا فریش ہوکر واپس آیا تو وہ ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھی۔۔مامون کے بیٹھتے ہی شہرے نے اسے کھانا سرو کیا تھا۔۔پہلا بائٹ لیتے ہی اس نے داد دینے والے انداز میں شہرے کو دیکھا۔۔”کچھ کہنا ہے؟””ہممم۔۔ دراصل۔۔۔ میں گھر میں رہ رہ کر بور ہو جاتی ہوں “اسکی بات پر مامون نے سر ہلایا۔”میں میڈ کو کہہ دوں گا وہ زیادہ ٹائم تمہارے ساتھ گزارا کرے”,”نہیں نہیں۔۔۔ وہ دراصل””لٹل گرل ۔۔ ٹیل می نا””ڈیول میں اپنی پڑھائی مکمل کرنا چاہتی ہوں میں کالج جانا چاہتی ہوں ” اسکا دل ڈر رہا تھا یہ بات کہتے ہوئے مگر مامون کے رویے کی وجہ سے اس نے ہمت کر ہی لی تھی۔۔”ہمم۔۔۔ میں اس بارے میں سوچوں گا ابھی فلحال جلدی سے ڈنر فنش کرو دیکھو زرا خود کو دن بہ دن کمزور ہوتی جا رہی ہو لوگ کہیں گے مامون اپنی بیوی کو کھانا نہیں دیتا”اسکی ناک دباتے وہ شرارت سے کہتا اسکی جانب اسپون بڑھا گیا۔شہرے نے گھور کر اسے دیکھا اور پھر اس کے ہاتھوں سے کھانا کھانے لگی ۔۔____________
“بولو ضوریز کیا بات ہے بیٹا”؟شائستہ بیگم نے پریشانی سے اسے دیکھا جو انہیں ضروری بات کا کہہ کر اندر کمرے میں لایا تھا اور اب خاموش بیٹھا تھا ۔”کہو بھی “”امی مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے””ضوریز تم مجھے ڈرا رہے ہو بیٹا””شادی سے پہلے عمائم میرے پاس آئی تھیں۔۔۔”اسکی بات پر شائستہ بیگم چونکی۔۔اور پھر وہ انہیں سب بتاتا گیا۔۔جب وہ اپنے آفس میں بیٹھا تھا اور عمائم مضطرب سی اس کے سامنے بیٹھی تھی۔۔”ضوریز میرے بابا پر ایک الزام ہے کہ انہوں نے کاروبار میں غبن کیا انہوں نے فراڈ کیا میں چھوٹی تھی میں چیزیں نہیں سمجھتی تھی۔۔۔ مگر مجھے اتنا پتا ہے میرے بابا بے گناہ ہیں میں نے ان کی باتیں سنی تھیں۔۔۔ بدنامی لوگوں کی باتیں اور مر گئے ضوریز۔۔۔ امی نے انہیں نہیں سمجھا ان کا ساتھ نہیں دیا اور میرے ماموں وہ ان کے پورے بزنس پر قابض ہوگئے میں نے خود سنا تھا ماموں بڑے ماموں سے بات کر رہے تھے کہ انہوں نے بابا کو جھوٹے کیسزز میں پھنسایا تاکہ وہ ان کے بزنس پر قبضہ کرسکے اور انہوں نے سب کیا ۔۔۔ امی نہیں سمجھتیں “ضوریز کو اسکے لئے افسوس ہوا تھا۔۔”آپ مجھ سے کیا چاہتی ہیں عمائم؟””آپ سے شادی کی صورت میرے بابا نے جو شئیرز میرے نام کئے ہیں وہ مجھے مل جائیں گے لیکن ماموں ایسا نہیں ہونے دیں گے وہ چاہتے ہیں میں ان کے بیٹے سے شادی کرلوں میں اپنے بابا کا بزنس واپس حاصل کرنا چاہتی ہوں۔۔ اور مجھے اس میں آپ کی مدد چاہیے میں اپنے بابا کو بے گناہ تو ثابت نہیں کر سکتی مگر میں ان کی محنت ایسے لوگوں کو نہیں دے سکتی میں اپنے شئیرز آپ کو دینا چاہتی ہوں کیونکہ شاید کہیں نا کہیں میں آپ پر ٹرسٹ کرنے کا رسک لینا چاہتی ہوں “”آپ کو رسک لینے کی ضرورت نہیں ہے عمائم۔۔۔ میں آپ کی مدد کروں گا آپ میرے انڈر کام کرینگی آپ بزنس سیکھیں گی۔۔۔””مگر شائستہ آنٹی ؟” اسے ان کی فکر تھی۔۔”میں انہیں سنبھال لوں گا میں سب سنبھال لوں گا ڈونٹ وری ،” وہ اسے پرسکون کر گیا تھا اس نے عمائم کے بابا کے وکیل سے بات کی وہ ہر چیز سیٹ کر گیا اور عمائم ہے کے لالچی ماموں اس کے بنائے پلین میں پھنس گئے تھے ۔۔”تو تم چاہتے ہو عمائم تمہارے ساتھ آفس جوائن کرے؟”اسکے بات ختم کرنے پر انہوں نے سوال پوچھا جس پر ضوریز نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔”ٹھیک ہے مجھے کوئی مسئلہ نہیں بس عمائم کو کوئی پریشانی نہیں ہونا چاہیے””میں یقین دلاتا ہوں آپ فکر مت کریں” ان کا ہاتھ تھامے مسکرایا تھا۔۔”آپ اتنی جلدی مان گئیں اور آپ کی بہو فضول میں ٹینشن لے رہی تھیں۔۔۔”اسکی بات پر شائستہ بیگم مسکرائیں ۔۔”چلو تم نے اسے بہو تو مانا میری””میں انہیں بیوی بھی مان چکا ہوں امی۔۔ آپ جانتی ہیں میں رشتوں کو مذاق نہیں بناتا۔۔۔”وہ جانتی تھی وہ رشتے نبھانے میں کتنا کھرا ہے۔۔”جاؤ میری بہو کو بتا دوں تاکہ اسکی اٹکی سانسیں بحال ہوں” ان کے شرارت سے کہتے اسے مسکرانے پر مجبور کرگیا۔۔۔____________وہ کمرے میں مضطرب سی ٹہر رہی تھی ضوریز شائستہ بیگم کے پاس سے ابھی تک نہیں آیا تھا ۔بیڈ پر اپنا کام کرتے زارون ہر دو منٹ بعد کاپی پر سے سر اٹھائے اپنی مما کو دیکھتا۔”مما۔۔۔۔ “”ہممم؟””آپ کیوں راؤنڈ لگا رہی ہیں ؟””بے بی مجھے ڈر لگ رہا ہے””کیوں آپ کو کیوں ڈر لگ رہا ہے؟”وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے اس سے پوچھ رہا تھا عمائم نے احتیاط سے دروازے کی جانب دیکھا۔۔”آپ کے بابا دادو کے پاس گئے ہیں “”آپ کی شکایت کرنے؟” زارون نے آنکھیں بڑی کیں۔”وہ کیوں میری شکایت کریں گے میں اتنی پیاری معصوم سی ہوں ہیں نا؟” اسے کہتے عمائم نے تصدیق کی جس پر زارون کا سر فوراً ہاں میں ہلا۔۔”پھر آپ ٹیشن مت لیں بابا نہیں کریں گے آپ کی کمپلین””وہ کمپلین نہیں کرتے وہ جن ہیں سیدھا حملہ کرتے ہیں”منہ بنا کر کہتے اس نے ضوریز کی حرکت یاد کر جھرجھری سی لی۔۔”ابھی حملہ نہیں کیا میں نے اور اتنی شکایتیں آگے کب حملہ ہوگا تو کیا کروں گا میں” ضوریز کی آواز پر عمائم نے سختی سے آنکھیں میچیں۔۔دل کیا کہیں جا کر چھپ جائے۔۔۔”بابا مما۔۔ ڈر رہی تھیں وہ “”زارون بے بی جلدی سے اسے فنش کریں”اسے ٹوکتے اس نے ضوریز کو دیکھا جو مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔”آپ اپنے سارے ڈاکیومنٹس مجھے دے دیں عمائم ۔۔۔آپ کا اپاونمنٹ لیٹر ریڈی ہوگا پھر””امی نے پرمیشن دے دی؟” اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔”ہممم””تھینک یو تھینک ” بےاختیار اسکے سینے سے لگتے وہ خوشی کا اظہار کر گئی۔۔ہوش تب آیا جب اپنے گرد ضوریز کی گرفت محسوس ہوئی۔”سوری۔۔ وہ” اس نے ضوریز سے دور ہونا چاہا مگر وہ گرفت مزید مضبوط کر گیا۔۔”آپ کی مما بس ڈرتی ہی رہتی ہیں ہیں نا زارون ؟” اسے حصار میں لئے وہ زارون سے مخاطب ہوا۔”بابا سب سے نہیں ڈرتی بس آپ سے ڈرتی ہیں آپ انہیں جن لگتے ہیں نا ” زارون کی بات پر اس کی روتی شکل بنی تھی۔اپنے بابا کے سامنے وہ اسکی باتیں یوں کہے گا اس نے سوچا نہیں تھا۔۔”اچھا اور کیا کیا لگتا ہوں میں آپ کو مسزز ضوریز ؟””کچھ بھی نہیں کچھ بھی تو نہیں زارون تو مذاق کر رہا ہے آپ کیوں سیریس ہو رہے ہیں” چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ صاف اپنی بات سے مکر گئی۔۔۔”اچھا ایسا ہے کیا؟””ہاں نا ابھی آپ مجھے چھوڑیں میں چائے کافی ہوں آپ کے لئے” اسکی گرفت سے آزاد ہوتے وہ تیزی سے اسکی گرفت سے نکلی تھی۔۔”بے شرم بچے کے سامنے بھی نہیں چھوڑتے” کچن میں آتے اس نے سکون کا سانس لیا تھا ضوریز کی زرا سی قربت اسے حواس باختہ کردیتی تھی ۔۔___________
وہ حویلی میں داخل ہوا تو اس وقت شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔۔۔حویلی میں رونق اپنے معمول کے مطابق تھی۔نجمہ بیگم سے ملتا وہ اپنے کمرے میں آیا جہاں نورے نماز پڑھ رہی تھی۔۔اپنی شرٹ کے اوپری بٹن کھولتا وہ بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹا۔۔اسکے چہرے کا رخ نور کی جانب تھا وہ یک ٹک اسے دیکھے گیا۔۔نورے نے سلام پھیر کر دعا مانگی جاذب کی نگاہیں اسے کنفیوز کر رہی تھیں۔جائے نماز سمیٹ کر وہ اٹھی جب جاذب کی آواز نے اسے پلٹنے پر مجبور کر کیا۔۔”کیسا رہا دن کسی نے کچھ کہا تو نہیں؟”اسکے سوال پر نورے نے غور سے اسے دیکھا۔”آپ میری فکر کر رہے ہیں جاذب شاہ؟ جب کہ آج آپ نے خود کہا کہ مجھے تکلیف صرف آپ دے سکتے ہیں تو یہ فکر بنتی نہیں ہے”جاذب کے لفظوں نے اسکا دل دکھایا تھا اس شخص کی زرا سی نرمی اسکا دل پگھلا دیتی تھی مگر وہ خود کو کمزور نہیں پڑنے دے سکتی تھی۔۔”میں نے ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہا ۔۔ تم میری ملکیت ہو۔۔ بہت جلد تمہیں اس بات کا ثبوت بھی دے دوں گا” سیدھا ہر کر بیٹھتے وہ معنی خیزی سے کہتا نورے کو الجھا گیا۔۔اسے جاذب کی بات کا مطلب بالکل سمجھ نہیں آیا تھا۔۔۔”کیا مطلب اب کیا کرنے والے ہو آپ میرے ساتھ؟”اسکے سوال پر وہ کھل کر مسکراتا اپنی جگہ سے اٹھتے اسکے روبرو آیا۔۔جاذب کے اپنی جانب بڑھتے قدم دیکھ نورے نے اپنے قدم پیچھے لئے تھے نا وہ رک رہا تھا نا نورے مگر پھر نورے کو رکنا پڑا جب کمر دیوار سے لگی۔۔اس سے پہلے وہ جازب کے پہلو سے نکلتی اسکے دونوں جانب ہاتھ رکھ جازب نے اسکے فرار کی راہیں بند کیں۔”کہاں جا رہی ہو ابھی مجھے میری بات کا مطلب تو سمجھانے دو” اسکے چہرے پر آئے بالوں کو پھونک سے اڑاتا وہ اسکی جان ہوا کررہا تھا اس شخص کی زرا سی قربت جان لیوا تھی۔۔۔۔”دور۔۔۔دور ہو کر بات کریں پلیز””اب دور ہوکر بات کرنے میں مزہ نہیں آتا مجھے تو تمہاری سانسوں سے زیادہ قریب ہونا ہے تمہاری روح میں اترنا ہے اور تمہیں محسوس کرنا ہے” اسکی گردن میں چہرہ چھپائے وہ مخمور لہجے میں کہتا نورے کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کرگیا تھا۔۔۔۔”جاذب شاہ میں خون بہا میں آئی ہوں مت بھولو””بالکل نہیں بھولا کہ تم میری بیوی بھی ہو”اسکی گردن کو اپنے سلگتے لمس سے سیراب کرتا وہ خود پر سے کنٹرول کھو رہا تھا وہ اسکے لئے نشے جیسے تھی جس کی طلب کر گزرتے لمحے بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔نورے نے سختی سے جازب کا کندھے دبوچا اپنے پیروں پر کھڑا رہنا اب مشکل ہوتا جا رہا تھا۔۔”آپ پلیز۔۔۔ میں گر جاؤں گی “”میں گرنے نہیں دوں گا”اسکی کمر کو مضبوطی سے تھامے وہ اس سے پہلے مزید کوئی گستاخی کرتا اسکے کمرے کا دروازہ زور زور سے بجا تھا۔۔۔”کیا مصیبت ہے” اس دور ہوتے اپنے بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ بیزاری سے کہتا دروازے کی جانب بڑھا جبکہ نورے تو زمین پر بیٹھتی چلے گئی۔۔”کیا مصیبت ہے؟””چھوٹے سائیں زرمینے بی بی حویلی میں نہیں ہیں””کیا مطلب حویلی میں نہیں ہیں؟”ملازمہ کی بات پر اسکا دماغ بھک سے اڑا تھا۔۔”وہ حویلی میں کہیں نہیں ہیں ان کا کمرہ خالی ہے “”یہی ہوگی وہ کہاں جا سکتی ہے ” خود سے کہتا وہ تیزی سے وہاں سے باہر نکلا تھا۔۔۔_______________
کھردری سڑک پر ننگے پاؤں چہرہ دوپٹے میں چھپائے وہ چلتی جا رہی تھی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھی دل پھٹ رہا تھا کیا قصور تھا آخر اسکا ۔۔وہ اپنی مرضی سے تو اس دنیا میں نہیں آئی تھی نا۔۔ پھر کیوں ہر کوئی اسے بنا قصور کے دھتکارا جا رہا تھا پاؤں درد سے شل تھے کھردرے پتھر پاؤں میں زخم کر گئے تھے مگر یہ زخم دل کے زخم کے آگے کچھ نہیں تھے۔وہ خود سے لڑتے لڑتے تھک گئی تھی سانس کی روانی ناہموار ہونے لگی تو وہ سڑک کے ایک کونے میں بڑے سے پتھر کے پیچھے جا بیٹھی۔وہ رونا چاہتی تھی بہت زیادہ۔۔”کاش آپ مجھے پیدا ہوتے ہی مار دیتیں ۔۔۔ کاش بابا آپ مجھے حویلی نا لاتے” وہ ان دو ہستیوں سے شکوہ کر رہی تھی جو اسے اس دنیا میں اور اسے اس حویلی میں لانے کا سبب بنے تھے۔”بابا آپ چاہتے تھے میں ایک عزت بھری زندگی گزاروں مگر دیکھیں کوٹھے میں بھی کسی عورت کو اس طرح ذلیل نہیں کیا جاتا ہوگا جس طرح میں یہاں ہر لمحہ ہوتی ہوں ۔۔ہر لمحہ میرے ذات کا تماشہ بنتا ہے میں مرنا چاہتی ہوں مگر مجھے موت نہیں آتی میرے صبر اب ختم ہونے لگا ہے میں بہت جلد مر جاؤں گی” چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ سسکی۔۔۔رات کے سائے گہرے ہونے لگے تھے آوارہ کتے اسکے اردگرد بیٹھے آنکھیں بڑی کئے اسے دیکھنے لگی اسے ان آنکھوں سے بھی خوف محسوس ہوا تھا مگر وہ کہاں جانتی تھیں اس سے بھی خوف ناک انسان کی شکل میں چھپے کتے اسکے منتظر گھات لگائے بیٹھے ہیں۔۔اپنے کپڑوں سے مٹی صاف کرتے وہ اٹھ بیٹھی اسے اس گاؤں سے دور جانا تھا وہ اب اس حویلی میں واپس نہیں جانا چاہتی تھی۔۔لڑکھڑاتے قدموں سے چلتے وہ واپس سڑک پر آئی جب اسے لگا کوئی اسکے پیچھے ہو۔۔اپنے پیچھے انسانی ہیولہ دیکھتے اسکا دل خوف سے سمٹا ۔۔قدموں کی رفتار تیز کی تو پیچھے موجود شخص نے بھی اسکے ساتھ اپنی رفتار تیز کرتے اسکے خدشہ کی تصدیق کی۔۔”لیا *****عزت کی حفاظت کرنا” دل سے دعا کرتے وہ تیزی سے بھاگی تھی کہ اچانک اسکا پاؤں زمین پر پڑے پتھر پر پڑتا اسے منہ کے بل گرا گیا تھا ۔۔۔