خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • If you are unable to access the site, please try accessing it via a VPN.
    Try these VPN apps — CLICK HERE
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Life Story دل عشقم



قسط_35امینہ بیگم دوائی کھلا کر وہ خود اپنے باہر صحن میں آ بیٹھی۔۔۔موسم کافی خوشگوار ہوگیا تھا۔پچھلے چند مہینوں میں یہ اسکی عادت ہوگئی تھی کہ پورا دن امینہ بیگم کے ساتھ گزارتی اور رات یونہی صحن میں بیٹھی رہتی۔۔اس رات کے بعد سے جلال بمشکل ہی گھر آتا تھا اگر آتا بھی تو دن کے وقت ۔۔ تھوڑی دیر امینہ بیگم کے پاس بیٹھتا کھانا کھاتا اور واپس چلا جاتا۔۔زرمینے کو لگتا تھا شاید وہ جان بوجھ کر اسے اگنور کر رہا تھا شاید وہ اسکے ساتھ تعلق بنانے پر شرمندہ ہے اور یہ خیال آتے ہی اسکا دل دکھتا تھا ۔۔یونہی گھٹنوں کے گرد بازو باندھے وہ کھوئی تھی جب کھٹکے کی آواز نے اسے سوچوں سے نکالا۔۔سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے جلال کو کھڑے دیکھ اسے حیرت ہوئی تھی۔۔۔”آپ ۔۔۔ یہاں؟” اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے وہ حیرت سے جلال سے پوچھ بیٹھی۔”کیا مطلب میں یہاں؟؟ میرا گھر ہے کیا میں اپنے گھر نہیں آ سکتا؟”اسکی بات پر وہ خوامخواہ ہی شرمندہ ہوتے سر جھکا گئی۔۔”اتنے دنوں بعد شوہر گھر آیا ہے ایسے استقبال کرتے ہیں شوہر کا؟” اسے ہنوز کھڑے دیکھ وہ سنجیدگی سے کہتا اسے ایک بار پھر شرمندہ کر گیا تھا۔۔”آپ ۔۔ آپ فریش ہو جائیں میں کھانا لگاتی ہوں””بہت شکریہ ” سر کو خم دے کر کہتا وہ کمرے کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ جلدی سے کچن میں آئی تھی۔سالن اور چاول چولہے پر گرم کرنے کے لئے رکھتے وہ روٹیاں ڈالنے لگی۔۔اسکے ہاتھ تیزی سے کام کر رہے تھے وہ جلال کو شکایت کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتی تھی ۔۔جتنی دیر میں وہ فریش ہو کر چینج کر کے باہر آیا وہ کھانا آنگن میں ہی لگا چکی تھی۔۔۔،”آجائیں””ہممم اماں سو گئیں”؟”جی کچھ دیر پہلے ہی سوئی ہیں “”تم کیوں نہیں سوئیں؟”اب وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔”وہ نیند نہیں آرہی تھی تو””میرے بغیر نیند نہیں آرہی تھی یا ویسے ہی ؟”اسکا سوال اتنا ڈائیریکٹ تھا کہ زرمینے جلال کا چہرہ کا دیکھنے لگی۔۔۔۔”وہ۔۔۔وہ””اتنا مشکل سوال بھی نہیں کیا میں نے زرمینے” اسے ہکلاتے دیکھ وہ کہتا کھانے کی جانب متوجہ ہوگیا۔زرمینے کا دل کیا اپنا کچھ کرلے۔۔۔۔”سارا دن کیا کرتی ہو؟””جی؟”اسکا سوال عجیب لگا اسے۔۔،”زرمینے کان میں کوئی مسئلہ ہوگیا ہے؟”چہرے پر سنجیدگی سجائے وہ سوال پوچھ گیا مگر آنکھوں میں چھپی شرارت زرمینے سے مخفی تھی۔۔”نہیں کان تو ٹھیک ہیں میرے ۔۔ میرے کان خراب نہیں ہیں”اسے برا لگا تھا کبھی خفگی سے کہتے وہ رخ پھیر گئی۔۔جلال نے حیرت سے اسکا یوں خفا خفا روپ دیکھا۔۔”آپ نے بتایا نہیں دن میں کیا کرتی ہیں ؟” اس نے واپس سے اپنا سوال دہرایا۔۔۔”کچھ خاص نہیں کرتی””اگر ایسا ہے تو مل سے سائیں کے آفس آجائیں ہم ایک نئی کیمپین شروع کر رہے ہیں گاؤں کی عورتوں میں تعلیم کی آگاہی اور دوسرے معاملات ۔۔ جس کے متعلق میں اور سائیں ان عورتوں سے بات نہیں کر سکتے،””میں۔ میں یہ نہیں کر سکتے جلال مجھ سے نہیں ہوگا ” وہ ایک دم بوکھلائی۔۔کھانے سے ہاتھ روک جلال نے اسے دیکھا۔۔”آپ میری بیوی ہیں جلال اجمل کی۔۔۔۔ مجھے پتا ہے میری بیوی یہ کر سکتی ہے ” اسے کہتا وہ کھانا ختم کر پانی پینے لگا۔۔”میں سچ میں نہیں کر سکتی مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے جلال”اسکی بات پر سر ہلاتے وہ برتن سمیٹنے لگا تو زرمینے سے فورآ سے اسے روکا۔۔”آپ کیوں یہ برتن اٹھا رہے ہیں میں کر لوں گی””کیوں میں کیوں نہین کر سکتا یہ کام؟”جلال نے آئی برو اچکاتے اس سے سوال کیا۔”آپ آدمی ہیں نا ہی عورتوں کا کام ہے” اسکے سوال پر اس نے آہستہ سے جواب دیا ۔”کسی کام پر مرد اور عورت کا ڈھپہ نہیں لگا کر کام مرد اور عورت کر سکتے ہیں ۔۔۔ اس لیے آپ زرا میرے کمرے میں جا کر وہاں ایک فائل رکھی ہے وہ پڑھیں میں آتا ہوں یہ رکھ کر۔۔اسے کہتے وہ کچن کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ اچنبھے کا شکار ہوتے اندر کمرے میں آئی جہاں بیڈ پر فائلز رکھی تھی۔بیڈ پر بیٹھتے وہ ان فائلز کو دیکھنے کو پڑھنے لگی جیسے جیسے وہ فائل پڑھتی جا رہی تھی اسکی آنکھیں حیرت سے پھیلتی جا رہی تھیں۔۔وہ کمرے میں آیا اسے فائلز کے ساتھ مگن دیکھ اپنی شرٹ اتار کر سائیڈ رکھتے بیڈ پر اسکے قریب دراز ہوتا اسکی گود میں سر رکھ گیا۔۔زرمینے جو فائلز میں مگن تھی چونک کر اسے دیکھنے لگی۔۔”کیا ہوا ؟ اب کیا اپنی بیوی کے پاس بھی نہیں لیٹ سکتا ؟” اسے خود کو تکتا پاتے جلال نے زرا سا اسکی گردن اپنی جانب جھکاتے شرارت سے پوچھا۔”مجھے لگا آپ ۔” کچھ کہتے کہتے وہ ایک دم دانتوں تلے زبان دبا گئی۔۔۔”بات مکمل تھیں زرمینے””نہیں کچھ بس ویسے ہی ” اسکی جواب پر اسکے ہاتھ سے فائل لے کر بند کرکے سائیڈ پر رکھتا وہ اٹھ کر اسے اپنے سامنے کر گیا۔۔”آپ کو کیا لگا!””نہیں کچھ آپ بتائیں سب تیاریاں ہوگئیں””میں ان تین مہینوں میں بمشکل چھ سے سات بار گھر آیا اور وہ بھی دن کی روشنی میں اور آپ سے بس سرسری سے بات کی تو آپ کو لگا۔۔۔ مجھے وہ جاننا ہے جو آپ کو لگا ” زرمینے کو اس سے اتنے تفصیلی جواب کی امید نہیں تھی ۔تھوک نگلتے اس نے بیچارہ سا چہرہ بنائے جلال کو دیکھا۔”جواب ؟””وہ ” اس سے پہلے وہ آگے کچھ کہتیاسکے بالوں کو ہلکی گرفت میں قید کرتا وہ اسکے ہونٹوں پر جھکتے اسکی سانسوں کو اپنی قید میں لیتے اسے شاکڈ کر گیا۔۔۔اسکے لبوں کو چھوتے وہ پیچھے ہوا اور زرمینے کا چہرہ دیکھنے لگا جو اسکے لمس سے لال سرخ ہوگیا تھا۔”جواب دے دیں اب ورنہ دیری کی صورت ایک اور سزا ملے گی” اسکی دھمکی پر زرمینے نے فوراً سے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ جمایا۔۔اسکی اس حرکت پر وہ بےاختیار مسکرا اٹھا ۔۔”میں اگلی سزا اتنی سی نہیں دوں گا”اس سے پہلے زرمینے اسکی بات سمجھتی اسے خود پر گرائے وہ مکمل اس پر حاوی ہوتا اسکی سانسوں کو خود میں الجھاتا آگے ہاتھ بڑھا کر لائٹس آف کرگیا۔۔۔”جلال۔۔۔” ناہموار سانسوں کے درمیان اس نے جلال کو پکارا۔۔”کل سے اپنے سامنے رکھوں گا پورا دن اپنا مائنڈ تیار کرلیں زرمینے۔۔۔ مجھے اپنی بیوی کو کامیاب دیکھنا ہے دنیا کا مقابلہ کرتے بس اب زرمینے شاہ کو بھول جائیں آپ کو زرمینے جلال بننا ہے”اسکے ایک ایک نقوش کو اپنے لبوں سے سیراب کرتا وہ اسے خود میں الجھاتے دنیا بھلا گیا تھا۔۔۔۔_____________وہ ناجانے کتنی دیر اندر بند رہی تھی طبعیت خراب ہونے لگی تو وہ باہر کمرے میں جہاں جازب کہیں نہیں تھا ۔اس سے ہوئی بات یاد کر اسکا خون کھولنے لگا تھا۔جب اچانک اسکا دل خراب ہوا اور وہ تیزی سے واشروم بھاگی تھی۔۔چند لمحوں میں اسکا پورا معدہ خالی ہوگیا تھا بھوک الگ لگی تھی نڈھال سی باہر آتے وہ بستر پر ڈھے سی گئی۔۔بھوک سے پیٹ میں بل پڑ رہے تھے مگر اسکی اتنی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ اٹھ کر نیچے جاتی۔۔ نیند الگ آ رہی تھی۔۔نیند پر بھوک کی قربانی دیتے وہ چہرے پر تکیہ رکھتے ہی اگلے پانچ منٹ میں گہری نیند میں تھی۔۔جاذب کو اس سے بحث کے بعد اب کمرے میں آیا تھا اسے بیڈ پر آڑھے ترچھے انداز میں لیتے دیکھ گہرا سانس بھرتے صوفے پر آ بیٹھا جبکہ نگاہیں بیڈ پر سوئے اسکے وجود پر تھیں۔۔اتنے دنوں سے وہ اسے دیکھنے کے لئے تڑپ رہا تھا مگر کام کی وجہ سے اس لڑکی سے دوری اسکی مجبوری تھی اور اس نے کیا کیا اسے چھوڑ کر اپنے باپ سے ملنے چلے گئی اسے ایک بار بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا اسے نہیں تو گھر میں کسی کو بتا کر جا سکتی تھی مگر نہیں اس نے جاذب شاہ کو تکلیف دینی تھی وہ بدگمان ہو رہا تھا۔کھڑکی سے آتی سرد ہوا پر وہ صوفے پر سے اٹھتے کھڑکی تک آتا کھڑکی بند کرگیا۔۔مگر خنکی بڑھنے لگی تھی اب اسکے قدم بیڈ کی جانب تھا۔”نفرت کرتا ہوں میں تم سے” غصے سے کہتا وہ اس پر بلینکٹ ڈالتا خود صوفے پر آ لیٹا۔۔نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی وہ بس اسے دور سے لیٹے دیکھنے لگا پھر وہ صوفے سے اٹھتے بیڈ پر اسکے پہلو میں دراز ہوتا کروٹ لئے اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔۔جس کا رنگ زرد پڑ رہا تھا جیسے صدیوں کی بیمار ہو۔۔ اسے تشویش لاحق ہوئی تھی۔۔ہاتھ بڑھا کر اس نے نورے کا ماتھا چھوا ٹمپریچر نارمل تھا سکون کا سانس لیتے اسے دیکھتے دیکھتے کب نیند کی وادیوں میں گم ہوا اسے بالکل بھی احساس نہیں ہوا۔۔۔
صبح اسکی آنکھ کھلی تو طبعیت کافی بہتر محسوس ہو رہی تھی کمرے میں سوائے اسکے کوئی نہیں تھا مگر اپنے قریب سے آتی جاذب شاہ کی خوشبو اسے سکون پہنچا رہی تھی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اس نے گہرا سانس لیتے اسکی خوشبو کو سانسوں میں اتارا تھا وہ اسے بہت مس کر رہی تھی مگر اچانک کل رات اسکی باتیں یاد آتے اسکے چہرے کے تاثرات کرخت ہوئے تھے۔۔وہ رات سے بھوکی تھی کچھ کھانے کا سوچتے وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی جب ایک بار پھر اسکا دل خراب ہوا تھا تیزی سے واشروم جاتے وہ ہلکان ہوئی تھی خالی معدہ مزید خالی ہو کر اب تکیف دینے لگا تھا۔۔”مجھے اس حالت میں پہنچا کر خود دوسری شادی کرو گے میں اس لڑکی کا منہ نوچ لوں گی اور تمہیں گنجا کردوں گی جاذب شاہ” غصے سے کہتے اس نے بیڈ کی چادر زمین بوس کی تھی ۔۔بھوک سے پریشان ہوتے اس نے فائنلی نیچے کچن میں جانے کا فیصلہ کیا تھا۔فریش ہونے کا دل نہیں تھا مگر اس حلیے میں نیچے جانے کے لئے اسکا دل نہیں مانا۔۔فریش ہوتے وہ نیچے آئی جہاں لیونگ روم میں سکینہ بیگم اور انابیہ بیٹھی تھی اسے دیکھ فوراً سے انابیہ کھڑی ہوئی۔۔”بھابی کیسی ہیں آپ ؟””میں ٹھیک ہوں” آہستہ سے جواب دیتے وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی سر بھاری ہونے لگا تھا اس سے کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا اسکے قدم لڑکھڑائے تھے اس سے پہلے وہ گرتی انابیہ نے اسے تھاما تھا۔۔”آرام سے نورے ” سکینہ بیگم پریشانی سے اسکے پاس آئیں اور اسے سہارا دیتے صوفے پر بٹھایا۔۔”کیا ہوا طبعیت کو؟””چچی مجھے بھوک لگ رہی ہے” وہ رو دینے کو تھی اسکا پیٹ اب دھائیاں دے رہا تھا۔۔”میں کچھ لاتی ہوں آپ فکر نہیں کریں”اسے کہتے انابیہ فوراً سے کچن میں بھاگی جب وہ صوفے پر ڈھے سی گئی تھی۔۔”بیٹا ایسے کیا ہوگیا ہے طبعیت کو اچانک ؟”ان کے پوچھنے پر وہ ان کا چہرہ دیکھنے لگی جب باپ کو پرواہ نہیں تھی تو وہ کیوں کسی کو بتاتی ۔۔”کل سے ویکنس ہو رہی ہے چچی” آہستہ سے جواب دیتے وہ آنکھیں موند گئی جب قدموں کی چاپ محسوس کر اس نے آنکھیں کھولیں تو سامنے جاذب شاہ کو کھڑے پایا کو جانچتی نگاہوں سے اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا۔نورے نے اسے دیکھا وہ شاید نماز پڑھ کر آیا تھا اسے دیکھ نورے اپنا چہرہ موڑ گئی اور اسکا یوں کرنا جاذب کے آگ لگا گیا مگر سکینہ بیگم کی وجہ سے وہ چپ چاپ اپنے کمرے میں بڑھ گیا۔اسکے جاتے ہی انابیہ ناشتے کی ٹرے لے کر آئی ہلکا پھلکا سا ناشتہ تھا جو اس نے سکون سے کیا تھا شکر تھا کہ اسکا دل خراب نہیں ہوا تھا ناشتہ کرنے کے بعد تھوڑی اینرجی ملی تھی۔”نورے طبعیت ٹھیک نہیں لگ رہی ڈاکٹر کے جانا ہے؟””انہیں چچی میں ٹھیک ہوں بس نیند آرہی ہے” اسے کہتے وہ اپنے کمرے میں آئی جہاں جازب کو دیکھ اسکا حلق تک کڑوا ہوا تھا۔۔خاموشی سے آکر وہ بیڈ پر لیٹنے لگی جب اس تک پہنچتے جاذب نے اسکا بازو تھاما تھا۔۔”کیا بدتمیزی ہے ہاتھ چھوڑو میرا”اسکی گرفت سے ہاتھ چھڑانے کو مچلتے وہ غرائی تھی۔”غلطی کرنے کے بعد بھی ایسا رویہ؟؟””میں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے آئی سمجھ مسٹر جاذب شاہ”؟”اچھا تو پھر کیوں اپنے باپ سے ملیں؟”اسکے سوال پر استہزایہ مسکراہٹ اسکے لبوں پر آئی تھی۔”خون بہا میں آئی لڑکیاں جوابدہ نہیں ہوتیں مارنا ہے تو مار دو مگر میں جواب نہیں دوں گی جاؤ اپنی ہونے والی بیوی سے سوال جواب کرو””نورے میرا دماغ خراب مت کرنا” اسکا دماغ گھوما تھا ہاں اس نے غصے سے بول دیا تھا مگر اسکا کوئی ایسا ارادہ نہیں تھا دوسری شادی کرنے کا۔۔”اوو میں نہین کرتیں جائیں اپنے دوسری ہونے والی بیوی کے پاس” ایک جھٹکے سے اپنا بازو اس سے چھڑاتے وہ تڑخ کر بولی تھی جاذب کے حیرت سے اسے دیکھا۔کیا وہ جیلس ہو رہی تھی ؟ یہ خیال آتے ہی ایک کمپنی سی خوشی اسے ہوئی تھی۔۔”جب تک دوسری شادی نہیں ہوتی تب تک تم ہی میری بیوی ہو تو سارے حق بھی آپ سے ہی لونگا نا ونی والی بیوی” اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی اسکی سانسوں کو اپنی دسترس میں لیتے اسے بیڈ پر منتقل کرتا وہ خود اس پر حاوی ہوتا اسے بے بس کرگیا تھا۔۔نورے نے غصے سے اسکے بالوں کو مٹھی میں دبوچا تھا۔”سزا میں کمی نہیں آئے گی مسزز جاذب۔۔۔۔اسء کہتا وہ ایک بار پھر اسے اپنی گرفت میں قید کرگیا۔
سورج کی شعائیں اپنے چہرے پر پڑتے محسوس کر اس کے کسمساتے اپنے پہلو میں سوئے مامون کے سینے میں چہرہ چھپایا تھا جو اسکے قریب آنے پر اسکے گرد حصار قائم کرتا اسے خود میں قید کرگیا۔۔۔”گڈ مارننگ ڈارلنگ” اسکے چہرے پر بکھرے بال سمیٹتے وہ جھک کر اسکے ماتھے کو لبوں سے چھوتا اسکی کمر پر ہاتھ رکھتے اسے اپنے مزید قریب کر گیا۔۔”اٹھ جائیں ہمیں کہیں جانا ہے” اسکی بات پر شہرے نے بوجھل آنکھیں کھولے سے اسے دیکھا جو اس پر جھکا ہوا تھا۔”کہاں ؟””بس ایک جگہ اٹھیں اور تیار ہو جائیں میں ناشتہ ریڈی کرتا ہوں” اسکا یہ روپ جان لیوا تھا شہرے نے بےاختیار آگے کو ہوتے اسکے ہونٹوں پر مہر محبت ثبت کرتے مامون کو شاکڈ کیا تھا جو اسے شاکڈ کر خود اسکے سینے میں چہرہ چھپا گئی تھی۔”دیٹس ناٹ فئیر وائفی””مجھے بھوک لگی ہے ڈیول”اسکا دھیان اپنی حرکت پر سے ہٹانے کی خاطر وہ منہ بسور کر کہتے اسے چھوٹی سی بچی لگی تھی۔”اوکے ہری اپ ۔۔۔ اٹھیں اور ریڈی ہو میں بریک فاسٹ ریڈی کرتا ہوں” اسے اٹھا کر اسکا ڈریس اسے تھماتے وہ خود نیچے کچن میں آیا تھا۔شہرے کے لئے چیز آملیٹ ٹوسٹ فروٹ جوس بناتے ٹیبل پر سیٹ کرتے جب تک وہ فارغ ہوا چہرے تیار ہو کر نیچے آ چکی تھی۔مامون کی پسند کی ڈیپ ریڈ فراک اور لائٹ سے میک اپ کے ساتھ وہ بالوں کو اونچی پونی میں قید کئے آتے ہی اسکے سینے کا حصہ بنا تھی ۔۔”کچھ زیادہ ہی پیار نہیں آرہا آپ کو مجھ پر ڈارلنگ ؟””اونہوں ” اسکے تھوڑی پر پیار کرتے وہ نا میں سر ہلاتے مامون کو مسکرانے پر مجبور کر گئی۔۔”کم جلدی سے بریک فاسٹ کریں پھر میڈیسن کھانی ہے ” چئیر پر بیٹھتے اسے اپنے پاس بیٹھاتے وہ خود اسے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کروا رہا تھا۔۔اور شہرے مزے سے کھا بھی رہی تھی۔۔۔بریک فاسٹ کے بعد اسکے چہرہ صاف کرتے وہ اسکا ہاتھ تھامے باہر بڑھا تھا۔۔”آپ بتائیں تو ہم جا کہاں رہے ہیں؟””جلد پتا چل جائے گا،”اسے کہتا وہ اسے گاڑی میں بیٹھاتے خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھا تھا۔گاڑی مامون کے آفس کے آگے رکی تو شہرے کو حیرت ہوئی تھی۔آج صبح سے اسکے انداز ہی بدلے ہوئے تھے اسکا ہاتھ تھامے وہ آفس میں داخل ہوا تو کئی نگاہوں نے حیرت سے انہیں دیکھا تھا۔”سب کو جمع کرو” اپنے مینیجر کو کہتا وہ شہرے کو لئے اپنے آفس میں داخل ہوا۔”ڈیول مجھے یہاں لائے ہیں جلدی سے بتائیں ورنہ مجھے ہارٹ اٹیک ہو جائے گا” اسکی بات پر مامون فوراً سے اس تک آتا اسے صوفے پر بیٹھاتے خود اسکے قدموں میں بیٹھا۔،”کیا ہوا ہے کہیں درد ہو رہا ہے دل میں کچھ ہو رہا ہے شہرے ٹیل می میں ابھی ڈاکٹر کو بلاتا ہوں” اسکا ہوں پریشان ہونا شہرے کو غرور میں مبتلا کرگیا۔”مامون میں بالکل ٹھیک ہوں مجھے کچھ نہیں ہوا آئی پرامس ،””مگر ابھی تو کہا کہ ہارٹ اٹیک ؟””وہ تو آپ کے سسپینس کی وجہ سے کہا تھا میں بالکل ٹھیک ہوں فٹ اینڈ فائن لک ” اسکی بات پر مامون نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔تھوڑی دیر بعد وہ اسے لئے باہر آیا اور پھر اس نے سب سے اسکا تعارف کرواتے اسٹیلا کی حقیقت سے سب کو آگاہ کیا۔۔۔میں یہاں سے جا رہا ہوں جب تک واپس نہیں آؤ گا یہاں کا سارا کام اسٹیو اور مینجر سنبھالے گے آئی ہوپ آپ لوگ اچھا کام کریں گے اور ہمارے معیار کو برقرار رکھیں گے” مامون کی بات پر شہرے نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔۔”کہاں جا رہے ہو آپ ڈیول ؟'”میں نہیں ہم جا رہے ہیں “”کہاں ؟’ اس نے حیرت سے مامون کو دیکھا۔”پاکستان ” اسکی بات پر شہرے کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔۔۔”کیا ہم واقعی پاکستان جا رہے ہیں،؟””ہممم بالکل وہاں میں نے ایک جگہ انویسٹمنٹ کی ہے تو وہاں ابھی میری ضرورت ہے مجھے وہاں کچھ میٹنگز اٹینڈ کرنی ہے ” اسکی بات پر وہ خوش ہوگئی تھی فائنلی وہ اپنے گھر والوں سے مل سکے گی۔۔۔”پھر جلدی سے گھر چلیں نا ہمیں پیکنگ بھی تو کرنی ہوگی”اسکو اتنا خوش دیکھ وہ مسکرا اٹھا۔”ڈارلنگ میڈ سب کرلے گی ڈونٹ وری”اسکے گرد حصار باندھتا وہ اسے لئے وہاں سے نکلا تھا۔۔۔وہ خوش تھی بے حد خوش مگر وہ ابھی کہاں جانتی کہ ایک بہت بڑا طوفان آنا تو ابھی باقی تھا اسکی زندگی میں۔۔۔______________
آفس سے واپس آ کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں آئی تھی شائستہ بیگم گھر میں نہیں تھیں زارون بھی ان کے ساتھ گیا تھا۔بیڈ پر گرتے ہی وہ رو دی تھی ۔آج کا دن اتنا مشکل ہوگا اس نے سوچا نہیں تھا ۔۔ناجانے کتنی دیر گزری تھی جب زارون کی آواز پر وہ فوراً سے سیدھے ہوتے واشروم میں جا کر اپنا حلیہ ٹھیک کرنے لگی۔”مما ؟؟ مما””جی جان” واشروم سے نکلتے وہ اسے اپنی گود میں اٹھا کر بیڈ پر بیٹھی۔”آپ کی آئیز کیوں ریڈ ہو رہی ہیں مما؟'”کچھ نہیں بس کچھ لگ گیا تھا””مما آئی لو یو” زارون کے اچانک کہنے پر وہ نم آنکھوں سے مسکراتے اسے سینے سے لگاتے بے آواز رونے لگی۔کیسا ستم ہوا تھا اسکے ساتھ یہ ننھی سی جان اسکا سب کچھ بن گیا تھا اور اب اس عورت نے واپس آکر اس سے اسکا بیٹا چھین لینا تھا۔”مما وائے آر یو کرائننگ؟””بھوک لگ رہی ہے کچھ کھائیں ؟””مما پاستہ ؟”اسکی فرمائش پر مسکراتے وہ اسکے ساتھ نیچے آئی اسے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھاتے وہ اسکی پسند کا پاستہ بنانے لگی ۔گھر میں داخل ہوتے ضوریز نے مسکرا کر یہ منظر دیکھا تھا وہ عمائم کی تکلیف سمجھ رہا تھا مگر یہ سب کرنا ضروری تھی۔۔۔عمائم کمرے میں آئی تو ضوریز اسی کا منتظر تھا۔”عمائم””مجھے نیند آرہی ہے،” خفگی سے کہتے وہ اسکے پہلو میں دراز ہوئی تو ضوریز نے اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا۔۔”بس ناراض نا ہوں میں وعدہ کرتا ہوں نا کہ میں سب ٹھیک کردوں گا””ضوریز” وہ رو دینے کو تھی جب ضوریز نے اسکی آنکھوں کو نرمی سے چھوا۔۔۔”کچھ مت سوچیں میں سب سنبھال لوں گا” اسکے گال پر پیار کرتا وہ اسے خود میں قید کرگیا جبکہ وہ سکون اسکی آغوش میں قید آنکھیں موند گئی۔۔اگلے دن آفس روم میں وہ ضوریز کے ساتھ بیٹھی کچھ پیپیرز پر سائن کر رہی تھی وہاں کامران بھی موجود تھا اور ان تینوں کے علاؤہ شائستہ بیگم بھی وہاں موجود تھیں ان چاروں کے درمیان کچھ چل رہا تھا مگر کیا یہ صرف وہ لوگ ہی جانتے تھے۔۔”ہیلو وکیل صاحب دریہ سے میری میٹنگ فکس کریں کل۔۔۔ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں”وکیل کی بات سن کر وہ فون رکھ گیا۔۔،”عمائم۔۔۔ امی آپ دونوں نے خود کو مضبوط رکھنا ہے یہ سب بہت ضروری ہے زارون کے مستقبل کے لئے “اسکی بات پر وہاں موجود ان دنوں نے سر ہلایا تھا۔اب ضوریز کو بس کل کا انتظار تھا ناجانے کل کیا ہونے والا تھا۔۔
 
قسط_36سورج کی روشنی چاروں اور پھیلتے اندھیروں کو سمیٹتے جا رہی تھی۔۔۔جاذب نے کسلمندی سے کروٹ لیتے اپنا ہاتھ پھیلایا جب خالی پہلو دیکھ اسکی نیند اڑی تھی۔اٹھ کر بیٹھتے اس نے نورے کو ڈھونڈنا چاہا مگر وہ کہیں نہیں تھی۔۔کل کے بعد سے وہ اس سے بری طرح خفا ہوئی تھی دل انجانے خوف سے دھڑکا تھا۔اپنی شرٹ پہنتے وہ بالکونی میں آیا جہاں وہ نہیں تھا واشروم اور ڈریسنگ روم دونوں کا دروازہ کھلا تھا مگر وہ وہاں بھی نہیں تھی۔۔”یہ اتنی صبح کہاں جا سکتی ہے؟”خود سے کہتے وہ ابھی باہر جانے کا سوچ ہی رہا تھا جب نیچے سے آتی آوازوں پر وہ چونکا تھا۔یہ آواز کشور بیگم اور ردابہ کی تھی۔”اب انہیں کیا ہوا ہے صبح صبح” خود سے بڑبڑاتے وہ تیزی سے نیچے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔__________جاذب کی بدتمیزی کے بعد اسکی نیند بری طرح خراب ہوئی تھی۔۔اٹھ کر وہ فریش ہوکر نیچے آگئی بھوک اتنی شدید تھی اور اس گھر میں اسکے لئے کھانے کو کوئی دیتا ہی نہیں تھا”ظالم لوگ” غصے سے کہتے وہ نیچے آئی موڈ سیونگ کچھ زیادہ ہی ہو رہے تھے چھوٹی چھوٹی بات اسکا دماغ خراب کر رہی تھی۔وہ کچن میں آئی تو ملازمہ پہلے سے وہاں موجود تھی۔۔”مجھے بھوک لگ رہی ہے پلیز کچھ کھانے کو دے دو””جی اچھا بی بی جی” ملازمہ آہستہ سے کہتے اسکے لئے ناشتہ بنانے لگی۔”یہاں مہارانی کی طرح کیوں بیٹھی ہو وہ کیا تمہاری نوکر ہے جو تمہارے لئے ناشتہ بنائے گی؟”کچن میں داخل ہوتے کشور بیگم نے اسے دیکھا تو فوراً سے بولی تھیں جس پر نورے نے ایک نظر انہیں دیکھا اور پھر واپس سے ملازمہ کو دیکھنے لگی جو اب شش و پنج کا شکار تھی آیا کھانا بنایا کہ نہیں۔۔۔”تم کیا ان کا منہ دیکھ رہی ہو بناؤ”اس کے چڑ کر کہنے پر کشور بیگم نے تیزی سے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔۔”بہت بولنا آگیا ہے؟””دیکھیں کشور بیگم مجھے آپ کے منہ نہیں لگنا ہے اس لئے برائے مہربانی مجھ سے دور رہیں”غصے سے کہتے وہ خود اٹھ کر اپنا ناشتہ بنانے لگی فلحال وہ کسی بھی طرح کی بدتمیزی ان سے نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔”نکلو اس کچن سے فوراً ونی میں آئی لڑکی کی اتنی اوقات ردابہ نکالو اسے کچن سے” ان کی چیخ و پکار پر ردابہ فوراً اندر آئی تھی۔”پھپھو” سکینہ بیگم کی بیٹی ہونے کے باوجود وہ کشور بیگم کے قریب رہی تھی ہمیشہ”نکالو اسے یہاں سے” ان کی بات پر ردابہ فوراً اسکے قریب آئی تھی جب دو قدم پیچھے لیتے وہ فوراً سے اسے روک گئی۔”ایک قدم بھی آگے بڑھایا نا میں تمہارا منہ توڑ دوں گی””ہاتھ لگا کر تو دیکھا ” اسے کہتے ردابہ آگے بڑھ کر اسکا بازو دبوچے آگے گھسیٹنے لگی جب نورے کا ہاتھ اٹھا تھا اور ردابہ کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا۔۔۔”ہاتھ مت لگانا مجھے اپنے غلطی دوسرے کے شوہروں پر نظر رکھنے والی””کیا ہو رہا ہے یہاں؟” جاذب کی تیز آواز پر ردابہ نے ایک جھٹکے سے اسکا ہاتھ چھوڑا تھا جبکہ نورے اپنی جگہ سے ہلی تک نہیں تھی۔”جاذب اس نے مجھے تھپڑ مارا”ردابہ روتے سسکتے جاذب کے پہلو سے لگی تھی اور اس منظر نے نورے کو آگ لگائی تھی۔بنا انجام کی پرواہ کئے اس نے ردابہ کا بازو دبوچے اسے جاذب سے الگ کیا تھا۔”نورے ۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے٫؟” وہ غصے سے چیخا تھا اور یہی نورے کی بس ہوئی تھی آنکھوں میں آنسو بھرے اس نے جاذب کو دیکھا اور تیزی سے اسکے پہلو سے نکلی۔”کیا تماشہ لگا رکھا ہے آپ لوگوں نے صبح صبح کچھ لحاظ ہے آپ لوگوں کو” وہ اتنا شدید غصے میں تھا کہ گھر کے سبھی افراد وہاں آگئے”اور آپ کشور پھپھو خدا کے لئے اپنے گھر جائیں میری زندگی میں مزید مسئلے کرنے کی کوشش مت کریں اور میں کبھی دوسری شادی نہیں کروں گا ردابہ سے چچی ۔۔ اسے سمجھائے ہیں اور چچا کے آتے ہی اسکی شادی کسی اچھی جگہ کریں” وہ ایک ہی ساتھ سب کو اپنی لپیٹ میں لے گیا تھا ۔”تم تم مجھے میرے باپ کے گھر سے نکال رہے ہو جاذب؟””آپ کے باپ کا گھر ہے آئیں جتنا آنا ہے مگر میری زندگی سے اور میری بیوی سے خود کو دور رکھیں۔ “”تم مجھے میرے باپ کے گھر آنے سے نہیں روک سکتے جاذب””کیوں آپ نے بھی تو بڑی پھپھو کو روکا تھا وہ بھی تو اپنے باپ سے ملنا چاہتی تھیں وہ سب نے ملنے دیا تھا نہیں نا تو ؟”وہ سب کو آئینہ دیکھا رہا تھا۔”جاذب” نجمہ بیگم نے اسے ٹوکا۔۔”نہیں امی مجھے آج بولنے دیں بولنا بہت ضروری ہوگیا ہے وہ لڑکی جب سے اس حویلی میں آئی ہے اسکی زندگی عذاب کر کے رکھ دی گئی ہے یہاں وہ کھانا تک نہیں کھا سکتی ہے آپ اس گھر کی مالکن ہیں نا آپ کا دل تو نرم ہے آپ کیوں نہیں حق جاتیں اب بہت ہوگیا ہے””تم”کشور پھپھو نے کچھ کہنا چاہا مگر وہ ہاتھ کے اشارے سے انہیں روک گیا ۔”بس اب آپ کا فیصلہ آغا جان کی عدالت میں ہوگا کیونکہ میں اچھے سے جانتا ہوں آپ نے کیا کرنے کی کوشش کی تھی”اس کی بات پر وہ بری طرح گھبرائی تھیں جو اپنی بات کہہ کر رکا نہیں تھا۔۔۔___________وہ جلال کے ساتھ اس بڑی سی عمارت میں داخل ہوئی تھی وہ ایک یتیم خانہ تھا یہ یتیم خانہ عمر شاہ نے بنوانا شروع کیا تھا اور اب اسے جاذب سنبھال رہا تھا۔”سائیں چاہتے ہیں یہاں کا سارا انتظام آپ سنبھالیں””میں۔۔ میں کیسے؟ میں نہیں کر سکوں گی یہ جلال””زرمینے میں ہوں نا ساتھ جاذب سائیں ہونگے ہمیں یقین ہے آپ سنبھال لیں گی سائیں نے اس یتیم خانے کو آپ کے نام کر دیا ہے کیونکہ وہ سیاست میں قدم رکھ چکے ہیں””اسکی بات پر وہ چونکی تھی وہ اس قابل نہیں تھی کہ عمر شاہ کی وراثت سے اسے کچھ ملے۔۔”کیا ہوا اب رو کیوں رہی ہیں ؟”اسکی نم آنکھیں دیکھ وہ پوچھے بنا نہیں رہ سکا ۔۔”میں اس قابل نہیں ہوں کوئی مجھے ان کیا اولاد نہیں مانتا””آپ کے یہ کہنے سے سچ نہیں بدل جائے گا زرمینے آپ عمر شاہ کی بیٹی تھی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔۔”اسے بازوؤں سے تھامے مضبوط لہجے میں کہتا وہ اسے باور کروا گیا تھا۔”آجائیں میں آپ کو اس جگہ کو دیکھاؤ تھوڑی دیر بعد سائیں بھی آجائیں گے”اسے ساتھ لئے وہ اندر بڑھا تھا۔۔_______________
فلائٹ پاکستان لینڈ ہو چکی تھی وہ فلحال ائیرپورٹ سے سیدھا ہوٹل آیا تھا شہرے کو آرام کرنے کا کہتے اس نے یہاں موجود اپنے خاص آدمی کو ایک کام سونپا تھا مگر جو خبر اسے ملی وہ الجھ گیا تھا۔۔”شہرے کی ماں وہاں نہیں ہیں تو وہ کہاں ہیں مجھے ان کے بارے میں ساری معلومات فراہم کرو ان کی زندگی کا کوئی پہلو بچنا نہیں چاہیے” اسکی بات پر وہ اپنے کمرے میں آیا جہاں شہرے اسی کی منتظر تھی اسکے آتے ہی بھاگ کر اسکے بازوؤں میں سمائی تھی ۔۔”سوئی نہیں ؟””مجھے نیند نہیں آرہی میں بہت ایکسائڈڈ ہوں مامون نورے سے ملنے کے لئے” اس نے اپنی ماں کو نام نہیں لیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی انہیں اسکے آنے کی خوشی نہیں ہوگی۔”بہت جلد ابھی سفر کرکے آئے ہیں نا ریسٹ کرو آپ میں زرا ایک کام سے جا رہا ہوں جلدی واپس آؤ گا” اسکے ماتھے پر پیار کرتا وہ اسے آرام کرنے کا کہتے وہاں سے نکلا تھا اسکا اپنی منزل کی جانب تھا۔جب آدھے راستے میں اسکا موبائل رنگ ہوا تھا۔۔۔سامنے اپنی آدمی کا نمبر دیکھ وہ کار سائیڈ میں روکتے فون کان سے لگا گیا۔”سر عائلہ نامی عورت کا آپ نے انفارمیشن کا کہا تھا اسکے پاسٹ کی ساری انفارمیشن میں نے نکال کر آپ کو ٹرانسفر کر دی ہے۔۔۔””گڈ کوئی خاص خبر سلیم؟””سر اس عورت کا اصل نام عائلہ نہیں بلکہ کچھ اور ہے “سلیم کی بات پر وہ چونکا تھا”اور اسکے علاؤہ سر کو کہانی اس نے لوگوں کو سنائی ہے وہ بھی جھوٹی ہے یہ عورت جتنی عام لگتی ہے اتنی ہے نہیں””کیا کہنا چاہتے ہو سلیم آخر کون ہے یہ عورت؟””لاہور کی ایک مشہور طوائف زل جان کی بیٹی ہے یہ ارسلہ عائلہ”سلیم نے اسکے سر پر دھماکہ کیا تھا ۔ارسلہ عائلہ ایک طوائف کی بیٹی شہرے کی ماں ایک طوائف کی بیٹی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔یہ کیسی پہیلی تھی ۔۔ سادہ سی کہانی کے پیچھے اتنا بڑا جھول تھا۔اس نے کال کٹ کرکے اپنا موبائل نکالا ہی تھا کہ ایک خاص نمبر سے کال آنے لگی ابھی اسکے پاس عائلہ کی فائل دیکھنے کا وقت نہیں تھا۔اس کام کو کچھ دیر بعد پر ٹالتے وہ وہاں سے نکلا تھا کیونکہ اس وقت اسکا ایک جگہ ہونا بہت ضروری تھا۔اسکی موجودگی وہاں موجود کسی کا سکون برباد کرنے والی تھی اسکی پلیننگ پر پانی پھیرنے والی تھی۔۔۔۔_______________وکیل صاحب کے سامنے دریہ بیٹھی تھی جدید تراش خراش کا سوٹ پہنے میک اور سادہ سی جیولری۔۔جب کمرے کا دروازہ کھلا اور ضوریز عمائم اور کامران کے ساتھ اندر داخل ہوا ۔۔”امید کرتا ہوں زیادہ انتظار نہیں کروانا پڑا ہوگا۔۔””نہیں بالکل میں بس تھوڑا جلدی آگئی تھی کیونکہ مجھے میرے بیٹے سے ملنے کی بہت جلدی تھی”دل جلاتی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی وہ عمائم کو اس وقت سخت زہر لگ رہی تھی۔۔۔”جانتا ہوں میں تمہیں کتنی جلدی ہے اس لئے میں زارون کو ساتھ ہی لایا ہوں تاکہ تم آج ہی اسے اپنے ساتھ لے جاؤ” کہتے ساتھ وہ وکیل صاحب سے بات کرنے لگادریہ نے حیرت سے اسے دیکھا جس کے چہرے پر اپنے بیٹے کو کھونے کا زرا دکھ نہیں تھا۔”ضوریز صاحب مس دریہ نے آپ سے زارون اور ان کے منتھلی خرچے کا مطالبہ کیا ہے ۔۔””میں جانتا ہوں وکیل صاحب اور میں زارون کو اسکی ماں کے حوالے کرنے کے لئے تیار ہوں مگر خرچہ۔۔۔” وہ لمحے کو رکا تھا دریہ نے اسے دیکھا جبکہ عمائم مسلسل اسکی گھورتی بے چین کر رہی تھی ۔”میں زارون کے لئے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا””واٹ یہ کیا بات ہوئی ضوریز وہ تمہارا بھی بیٹا ہے” اسکی بات پر دریہ فوراً سے بولی تھی”ہاں جانتا ہوں اور میں الریڈی اس پر کافی خرچ کر چکا ہوں میں اب بھی میں کرتا اگر میرے پاس اتنے پیسے ہوتے۔۔ وکیل صاحب میری مہینے کی تنخواہ تیس ہزار ہے میں ہر ماہ پانچ ہزار ہی دے سکتا ہوں زارون کے لئے ” وہ چہرے پر بے بسی بھرا تاثر سجائے ایسے بولا کہ کامران نے بمشکل اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی۔”جھوٹ مت بولو ضوریز تم کروڑوں کی جائداد ہے مالک ہو اور تم اپنے بیٹے کو ہر مہینے پانچ ہزار دو گے کیا مذاق ہے””میں سچ بول رہا ہوں دریہ””دیکھو ضوریز اگر تم نے یہ فضول بات کرنے مجھے یہاں بلایا ہے تو میں اب کورٹ سے ہی بات کروں گی “”تب بھی تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ میرے پاس واقعی کچھ نہیں ہے میرا بزنس میرے کزن کے ساتھ تھا آدھے شئیرز اسکے تھے کچھ کامران کے میں بس ان کا ایک ایمپلائی تھا تھوڑے بہت شئیرز مس عمائم کے ہیں جن پر میں اختیار نہیں رکھتا میں بس ایک چھوٹا سا ملازم ہوں جو ان کا کام سنبھالتا ہے””اچھا ایسا کون سا تمہارا کزن ہے جس کے بارے میں کسی کو نہیں پتا “”اب یہ بات کہہ کر تو آپ میری انسلٹ کر رہی ہیں مس دریہ مامون شیرازی کو تو پوری دنیا جانتی ہے” اندر آتے مامون کی آواز پر سب نے چونک کر اسے دیکھا ضوریز کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی وہیں دریہ نے حیرت سے اس ہینڈسم سے انسان کو دیکھا۔۔”میں مامون شیرازی ضوریز کا باس اور کزن”اسے جواب دیتے وہ ضوریز سے ہاتھ ملاتے اسکے پاس بیٹھا تھا جو اب مسکراتی نگاہوں سے مامون کو دیکھ رہا تھا۔۔۔”مجھے بیوقوف مت بناؤ تم لوگ ایسا کوئی رشتہ دار نہیں تھا تمہارا”دریہ ماننے کو تیار نہیں تھی۔”چلیں میڈم میں تھوڑا سا کلئیر کردیتا ہوں آپ کو۔۔۔ میں مامون شیرازی ضوریز کے ماموں کا بیٹا ہوں جنہوں نے ضوریز کے بابا کے ساتھ بزنس اسٹارٹ کیا تھا اور پھر اپنے سارے شیئرز میرے نام کردئیے تھے۔۔۔اب وہ باہر ملک میں اپنا بزنس سنبھال رہے اور میں بھی جبکہ یہاں کا سارا بزنس ضوریز سنبھلتا تھا جس کی میں اسے سیلری دیتا تھا باقی گھر اور گاڑی فری “اس نے بڑی تفصیل سے اسے کہا تھا اور کچھ ایسا جھوٹ بھی نہیں تھا شروع کی کہانی ساری سچ تھی سوائے اسکے کہ ضوریز اسکا ملازم تھا ضوریز کے بزنس میں اسکا کوئی حصہ نہیں تھا وہ تو دریہ کی وجہ سے ضوریز نے وقتی طور پر اپنے شئیرز اس کے نام کردئیے تھے۔”ضوریز صاحب خرچہ اور بچہ دونوں دینے کے لئے راضی ہیں عدالت بھی یہی فیصلہ سنائے گی اب آپ بتائیں کیا آپ بچے کو لے جانا چاہیں گی اگر ہاں تو میں کاغذات تیار کرتا ہوں۔۔”دریہ کو اپنا پلین چوپٹ ہوتا محسوس ہوا تھا پانچ ہزار میں اسکا ایک سوٹ بھی نہیں آتا تھا وہ کیسے زارون کو اتنے پیسوں کے ساتھ پالے گی””میں کل تک آپ کو بتاتی ہوں ابھی زرا مجھے ارجنٹ کام ہے” فون ہاتھ میں اٹھاتے وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔ضوریز نے نفرت سے اسے دیکھا ناجانے کیسے یہ عورت اسکی زندگی کا حصہ بن گئی تھی۔۔۔اسکے جاتے ہی وہ سب بھی وہاں سے نکلے تھے۔۔۔
وہ کمرے میں آیا تو نورے کو پیکنگ کرتے دیکھ اسکا دماغ گھوما تھا۔”یہ سب کیا ہے کہاں جا رہی ہو ؟”اسکے ہاتھ سے کپڑے لیتا وہ غصے سے اسکا رخ اپنی جانب کر گیا۔۔”مجھے اس گھر میں نہیں رہنا نا مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے جاذب شاہ جاؤ مار دو میرے باپ کو مگر مجھے آزادی دے دو” اسکے سینے پر ہاتھ مارتے وہ چلائی تھی۔جاذب کو سمجھ نہیں آرہا تھا آخر وہ کیوں اتنی حساس ہو رہی ہے””نورے “”کیا نورے ہاں جاؤ جاؤ ابھی اور جا کر اس ردابہ سے شادی کرو”اسکے سینے پر ہاتھ مارتے اس نے جاذب کو پیچھے دھکیلا تھا۔”میں کسی سے بھی شادی کروں کیا فرق پڑے گا نورے کونسا تم مجھ سے محبت کرتی ہو””ہاں گدھی ہوں میں بیوقوف ہوں محبت نہیں کرتی مگر جہاں اس حویلی میں تین مہینے سے بیٹھی تمہارا انتظار کر رہی ہوں خود کو خوار کر رہی ہوں تمہارے پھپھو کی بکواس سنتی رہی مار کھاتی رہی ان سے ” وہ روتی جا رہی تھی بولتی جا رہی تھی۔”کوئی ایک بھی بات کرنے والا نہیں تھا مگر میں کیونکہ تم سے محبت نہیں کرتی اس لئے یہاں اکیلی سڑ رہی تھی ” اسکے اس انوکھے اظہار محبت پر وہ دنگ رہ گیا تھا چہرے پر تبسم کھلا تھا۔۔۔”نورے””کیا نورے جاذب شاہ کیا نورے؟؟؟ تین مہینے حویلی میں رہی تب تو تم نہیں آئے میری خبر لینے ہاں جب میں گھبرا کر زرا سا گھر سے باہر کیا نکلی تم نے مجھ پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی تم نے مجھ پر بھروسہ نہیں۔ کیا؟””ایسا نہیں ہے میری جان” وہ اب شرمندہ ہوتا اسکے قریب ہوا تھا جو فوراً سے دور ہوئی تھی ۔”خبردار ہو تم نے میرے قریب آنے کی زرا سی بھی کوشش کی “”نورے ایسے نہیں کرتے آئی ایم سوری” ایک جھٹکے سے اسے اپنے قریب کرتا وہ اسے اپنے ساتھ لگا گیا۔۔۔”میرے دشمن دوست سے زیادہ ہیں یہاں میں ڈر گیا تھا “”ہاں تو ڈرو گے تو دوسری شادی کرو گے جاؤ دوسری شادی کرو””میں کوئی دوسری شادی نہیں کرنے والا تھا میری جان ادھر دیکھو یار میں ایسا لگتا ہوں کہ دوسری شادی کروں گا””تم نے کہا تھا میں خون بہا میں آئی بس ایک معمولی لڑکی ہوں ایک بدلہ ہوں””دماغ خراب ہوگیا تھا میرا ورنہ دیکھو کبھی میں نے خون بہا میں آئی لڑکیوں جیسا کوئی ظلم کیا؟”اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔”مارا نہیں ہے بس لفظوں سے تو بہت کچھ کیا ہے” روتے روتے بولتے وہ اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی۔”اچھا اب بس رونا بند کرو یار اور یہ مارنے کی عادت ختم کرو ردابہ چہرہ سرخ ہوگیا ہے پورا۔۔۔ اتنی طاقت ہے میری بیوی میں مجھے پتا نہیں تھا ” اسکے شرارت سے کہنے پر اسکے کندھے پر مکا مار گئی۔۔”اففف ظالم بیوی””میں معافی نہیں کروں گی جاذب شاہ””کیوں بھئی “”پہلے میرے بابا کو معاف کردیں وہ شرمندہ ہیں”اسکی بات پر جاذب نے جبڑے بھینچے تھے۔”میں جانتی ہوں جاذب انہوں نے جو بھی کیا وہ قابل معافی نہیں ہے مگر ایک کام انہوں نے اچھا کیا ہے جاننا چاہیں گے کیا ؟؟”اسکی بات پر چونکتے جاذب اسے دیکھنے لگا.”کیا؟””زرمینے کو بچا کر”وہ اب بھی نہیں سمجھا تھا۔”سچ کا آدھا حصہ آپ جانتے ہیں اور آدھا میں””کیسا سچ؟” جاذب نے ناسمجھی سے اسے دیکھا جو اسکا ہاتھ تھامے بیڈ پر بیٹھتے لفظوں کا چناؤ کرنے لگی۔اور پھر اس نے اپنی بات کا آغاز کیا تھا۔۔۔


“فائنلی آپ کو فرصت مل گئی پھپھو سے ملنے کی” شائستہ بیگم کے شکوہ کرنے پر وہ ہولے سے مسکرا دیا۔”باپ سے ناراضگی اپنی جگہ مگر پھپھو سے کیسی ناراضگی مامون”مامون کی ماں کے انتقال کے فورآ بعد انہوں نے دوسری شادی کرلی تھی وہی روایتی سی کہانی نئی بیوی نئی زندگی مامون کہیں بہت پیچھے رہ گیا تھا اس نے اپنی ایک الگ دنیا بسا لی ایک خول میں خود کو بند کرلیا۔۔اس نے کر انسان سے تعلق توڑ لیا تھا۔ ایک واحد ضوریز تھا جو ہر اچھے برے وقت میں اسکے ساتھ رہا تھا وہ ویسے تو دور تھے مگر دل سے ایک دوسرے کے قریب۔۔ضوریز نے اس سے مدد مانگی تھی وہ پاکستان تو ویسے بھی آرہا تھا اسے دریہ بالکل اپنی سوتیلی ماں جیسی لگتی تھی۔”شادی کرلی اب بہو سے بھی ملوا دو ہے کہاں ؟””ہوٹل میں ہے””مامون “پھپھو میں اسے شام میں ہی یہاں لے آؤ گا آپ ناراض مت ہوں۔۔” وہ بدل رہا تھا شائستہ بیگم کو خوشی ہوئی تھی ناراض تھیں وہ اپنے بھائی سے۔۔۔مگر بھتیجے سے محبت حد سے زیادہ تھی۔۔۔۔کچھ دیر کے لئے وہ ان سے معذرت کرتا ضوریز کی اسٹڈی میں آیا تھا سلیم کی بھیجی گئی معلومات پڑھتے وہ ٹھٹکا تھا۔۔”ایسا کیسے ممکن تھا بھلا ۔۔۔”کیا ہوا کیا سوچ رہا ہے؟”ضوریز اسکے پاس آکر بیٹھا تو اس نے لیپ ٹاپ کی اسکرین کو اسکے موبائل سے کنیکٹ تھی ضوریز کے سامنے کر دی ۔۔”یہ کیا ہے ؟””مجھے جازب شاہ سے ملنا ہوگا ضوریز شاید وہ اس سچ سے انجان ہے”ضوریز بھی شاکڈ تھا ایسا بھلا کیسے ممکن تھا جاذب کے بابا اسکے بابا کے کزن تھے ان کے درمیان رشتہ رادی تھی مگر دوستی نہیں تھی اس کے باوجود وہ عمر شاہ کے ماضی سے آگاہ تھا اور اب ایک اور سچ ان کے سامنے آیا تھا۔۔۔۔مگر کیا تھا وہ سچ؟؟؟وہیں دوسری طرف عمائم کے موبائل پر ایک انجان نمبر سے کال آئی تھی۔”ہیلو کون؟””میں تم سے ملنا چاہتی ہوں کل اسی وقت اگر تم چاہتی ہو زراون تم سے دور نا جائے تو تم مجھ سے ملنے آؤ اور یہ بات ضوریز کو پتا نہیں لگنی چاہیے ،””اوکے میں آجاؤں گی مجھے ایڈریس سینڈ کرو” کہتے ساتھ اس نے فون بند کیا تھا جبکہ مقابل اسکے اتنی آسانی سے مان جانے پر مسکرائی تھی۔۔
 
قسط37
آخری قسط
وہ بے یقینی سے نورے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔”نورے””میں سچ بول رہی ہوں جازب اس دن بابا نے جب مجھے یہ سچ بتایا میں شاکڈ تھی۔۔” وہ اپنا بتا رہی تھی جبکہ ابھی یہی حال جاذب کا تھا۔۔”ابھی اور کتنے رازوں سے پردہ اٹھنا باقی ہے٫؟؟””جاذب میرے بابا کو معاف کردیں وہ مکمل طور پر آپ کے گناہگار نہیں ہیں اور جو گناہگار ہیں وہ اپنی زندگی سکون سے جی رہے ہیں”جاذب کا ہاتھ تھامے وہ نرمی سے کہہ رہی تھی جو بالکل گم صم سا ہوگیا تھا۔۔اتنے سالوں سے وہ ادھورے سچ کے پیچھے تھا جبکہ سب سے بڑا سچ تو آج اسکے سامنے آیا تھا اور ابھی ایک سچ اور اسکے سامنے آنا باقی تھا۔”مجھے تمہارے بابا سے ملنا ہے””بابا کے بارے میں ہمیں خان حویلی سے ہی پتا چل سکتا ہے””ٹھیک ہے میں خود جاؤں گا”جاذب اپنی جگہ سے اٹھا تھا جب نورے اسکے سامنے آئی ۔۔”میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گی۔ پلیز” اسکی التجا پر جاذب نے اثبات میں سر ہلایا۔وہ اپنی چادر لینے آگے بڑھی تھی جب اسکا سر بری طرح سے چکرایا تھا خود کو گرنے سے بچانے کے لئے وہ دیوار کا سہارا لینا چاہتی تھی مگر اس سے پہلے ہی اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا تھا۔جاذب نے بروقت اسے گرنے سے بچایا تھا مگر وہ اپنے حواس کھو چکی تھی۔۔”نورے۔۔۔ نورے آنکھیں کھولو یار کیا ہوا ہے نورے؟”اسکا گال تھپتھپاتے وہ اسے پکار رہا تھا”امی۔۔۔ چچی ۔۔۔ امی۔۔۔۔ نورے ” سب کو پکارتے وہ اسے بیڈ پر لیٹاتے اسکے ہاتھ پیر مسلنے لگا۔”یا اللّٰہ کیا ہوا ہے نور کو؟””پتا نہیں امی دیکھیں نا “”سکینہ ڈاکٹر رقیہ کو جلدی سے بلاؤ “”جاذب گھبراؤ نہیں انابیہ مجھے پانی دو”نجمہ بیگم انابیہ کے ہاتھ سے گلاس لے کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگی جبکہ جاذب مسلسل اسکے ہاتھ مسل رہا تھا۔۔اسپتال جانے میں وقت لگتا جبکہ ڈاکٹر کا گھر پڑوس میں ہی تھا۔ڈاکٹر رقیہ نے آتے ہی سب کو باہر بھیجا تھا۔۔۔”پھپھو اسے کیا ہوا ہے،؟””مجھے کیا پتا” کشور بیگم الجھ کر ان سب کو دیکھ رہی تھیں ان کا دل جو کہہ رہا تھا وہ نہیں چاہتی تھیں وہ بات پوری ہو۔۔تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر رقیہ باہر آئی تھیں۔”ڈاکٹر کیا ہوا ہے؟””گھبرانے کی بات نہیں پریگننسی میں ایسا ہوتا ہے آپ بس ان کی ڈائٹ کا اچھے سے خیال رکھیں اور انہیں تمام قسم کے اسٹریس سے دور رکھیں”ڈاکٹر کی بات پر جاذب نے حیرت سے انہیں دیکھا اور پھر نجمہ بیگم کو جن کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا وہ اپنی زندگی میں پہلی بار اپنی ماں کے چہرے پر مسکراہٹ اور خوشی دیکھ رہا تھا۔۔”جاذب سنا۔۔۔ میں دادی بننے والی ہوں میرا پوتا یا پوتی آنے والے ہیں یا اللّٰہ” وہ جاذب کے سینے سے لگی تھیں۔۔”ارے سکینہ ڈاکٹر کا منہ میٹھا کرواؤ میں زرا نورے کو دیکھوں”انہیں ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی ان کا اپنا آنے والا ہو جو بس ان کا ہوگا ان کا اپنا ۔۔۔”امی””نورے بچے بہت بہت شکریہ تمہارا” اسکے ماتھے پر پیار کرتے وہ اسکا شکریہ ادا کرنے لگیں۔”مجھے لگتا تھا میں بنا خوشی کے ہی کر جاؤں نا میرا شوہر میرا نا گھر والے میرے بیٹے کی زندگی بھی اتنی مشکل مگر آج اس خبر کے بعد ایسا لگ رہا ہے کسی نے مجھ میں ایک نئی روح پھونک دی ہو مجھے پھر سے زندہ کر دیا ہو””آپ کو خوش دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے امی “ان کے سینے سے لگے اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں اسے عائلہ بیگم شدت سے یاد آئی تھیں۔۔ وہ اسکی سگی ماں نہیں تھیں مگر انہوں نے اسے محبت دی تھی وہ احسان فراموش نہیں تھی۔۔”بس کرو یہ خوشی کا ناٹک پہلے یہ تو پتا کرو بچی واقعی جاذب کا ہے بھی یا “”بس۔۔۔۔ کشور آپا بس” کشور بیگم کی بات ابھی لبوں پر ہی تھی کہ وہ بری طرح دھاڑی تھی کمرے میں آتے جاذب اور سکینہ اپنی جگہ ساکت ہوئے تھے۔۔۔”نجمہ””آپ کو پتا بھی ہے کیا بول رہی ہیں کتنا بڑا بہتان لگا رہی ہیں میری بہو پر ‘؟”میں بس سچ””سچ آپ سچ بول رہی ہیں میں بولوں سچ پھر؟””کیسا سچ امی؟”جاذب کی آواز پر نجمہ نے ناگواری سے کشور بیگم کو دیکھا جو خود الجھ گئی تھیں۔۔”نور کے لئے انہوں نے دوا منگوائی تھی تاکہ وہ کبھی ماں نا بن سکے” ان کے انکشاف پر وہاں موجود ہر شخص کے سر پر بھاری پہاڑ گرا تھا وہیں کشور بیگم کو لگا ان کا وجود کسی بڑے پہاڑ کے نیچے آیا ہوں ۔۔”پہلی گولی انہوں نے نورے کو دی تبھی مجھے اس بات کا پتا چل گیا تھا پھر بھی میں نے آپ کا بھرم رکھا اور خاموشی سے ان گولیوں والے کھانے کو نور تک پہنچنے سے پہلے ہی روکتی رہی مگر اب بس۔۔۔ اب اگر آپ نے میری بہو یا بیٹے کی زندگی میں مداخلت کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا””بکواس کر رہی وہ جھوٹ بول رہی ہو میں نے ایسا کچھ نہیں کیا بابا جان میں نے ایسا کچھ نہیں کیا” سہیل شاہ کو کمرے کے دروازے پر کھڑے دیکھ وہ بھاگ کر ان تک گئی تھیں جو پتھرائی نظروں سے انہیں دیکھ رہے تھے۔۔۔وہ برے تھے ہاں وہ مانتے تھے مگر وہ قاتل تو نہیں تھے کسی کے ساتھ اتنا برا تو نہیں کر سکتے تھے۔۔۔”بابا””چلی جاؤ یہاں سے کشور۔۔۔ میں غلط تھا میری دی گئی چھوٹ تمہیں اتنا گرا دے گی میں نے کبھی نہیں سوچا تھا” ان کے لہجے میں اداسیاں گھلی تھیں۔۔”بابا آپ ۔۔۔ بابا میں نے سب آپ کے لئے کیا آپ کیوں ایسے بول رہے ہیں ؟””یہ سب تم نے خود کے لئے کیا کشور اپنے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ماضی سے نا میں نکل سکا نا تم اور تم دیکھو ہم دونوں تکلیف میں ہیں ہم نے کسی کا ناحق دل دکھایا تھا نا۔۔۔ وہ عورت مجھ سے بھیک مانگتی رہی میں نے اسے دھتکار دیا میں برا تھا اور دیکھو مجھے اب اسکی سزا مل رہی ہے “وہ دل برداشتہ تھے۔۔”آج اسکے بیٹے کو دیکھا میں نے کشور۔۔۔ وہ بالکل اپنی ماں جیسا ہے میرا نواسا۔۔۔ میں نے اسکی ماں کو نہیں اپنایا پھر بھی اس نے مجھے عزت دی” ان کی بات پر سب سناٹے میں تھے اگر کوئی الجھا ہوا تھا تو وہ بس نورے تھی۔۔۔”مامون آپ سے ملنا آیا تھا آغا جان ؟” سناٹے کو چیرتی جاذب کی آواز گونجی۔۔ وہ بے یقین تھا۔”نیچے ہے تم سے ملنے آیا ہے اسے کوئی سچ بتانا ہے تمہیں””ایک سچ ہمیں بھی آپ کو بتانا ہے” انہیں کہتا جاذب نورے کو تھامے نیچے بڑھا تھا جہاں مامون موجود تھا۔سب کے آتے ہی اس نے کچھ کاغذات ان کے سامنے رکھے تھے۔۔”یہ سب کیا ہے مامون ؟””میں یہاں آنا نہیں چاہتا تھا مگر مجھے یہاں آنا پڑا کیونکہ سوال میری بیوی کی شناخت کا تھا”اس نے لمحے کا توقف کیا۔سب نے الجھ کر اسے دیکھا تھا۔”ارسلہ۔۔۔ عمر شاہ کی دوسری بیوی نے صرف زرمینے کو جنم نہیں دیا تھا ان کے یہاں جڑواں بیٹیوں کی پیدائش ہوئی تھی “”کیا مطلب ؟” آغا جان کی آواز کپکپائی تھی۔”مطلب میں بتاتا ہوں”مامون کی بجائے جواب دروازے کے بیچ کھڑے انیس یزدانی کی جانب سے آیا تھا جو خاموشی سے آکر ان کے سامنے بیٹھے تھے۔اور پھر ماضی کی کہانی ایک بار پھر شروع ہوئی تھی۔۔۔_________$جس دن عمر شاہ اور ارسلہ کے یہاں بچیوں کی پیدائش متوقع تھی اسی دن صابر یزدانی ( نورے کے دادا) ارسلہ سے ملے۔۔۔جو پہلے ہی ٹوٹی بکھری ہوئی تھی صابر یزدانی نے انہیں عمر شاہ کے خلاف بھڑکایا انہیں بتایا کہ وہ ہونے والی اولاد کو چھین لینگے ہر طرح سے انہوں نے ارسلہ کو عمر شاہ کے خلاف کیا تھا اور وہ جس نازک حالت میں تھیں وہ بدگمان ہو بھی گئیں۔۔۔صابر یزدانی کو سہیل شاہ سے نفرت تھی کیونکہ وہ ان سے وعدہ خلافی کر گئے تھے انہیں جو چاہیے تھا وہ انہیں نہیں ملا تھا زمین کی ہوس میں وہ اندھے ہوگئے تھے۔۔وہیں ارسلہ کی طبعیت بگڑی تو اسے فوراً اسپتال پہنچایا گیا جہاں اس نے جڑواں بچیوں کو جنم دیا۔۔۔اسی وقت صابر شاہ نے منصوبے کے تحت ایک بچی جو غائب کروا دیا ۔۔ارسلہ کو ہوش آیا تو وہ پاگل ہوگئں اپنی حالت کی پرواہ کئے بغیر وہ اپنی دوسری بیٹی کو اسپتال چھوڑے ننھی جان کو ڈھونڈنے باہر نکل گئیں تبھی عمر شاہ اسپتال آئے جہاں انہیں پتا چلا ارسلہ بچی کو چھوڑ کر جا چکی ہےوہ اپنی چھوٹی بچی کو اپنے ساتھ لے آئے ۔۔۔ارسلہ اپنی ایک بچی کے گم میں تھیں کہ اسپتال آنے کے بعد انہیں اپنی دوسری بچی کے غائب ہونے کی خبر ملی۔۔صابر یزدانی نے بڑا گیم کھیلا تھا سب کے منہ پیسوں سے بند تھے۔۔ارسلہ کو عمر شاہ سے نفرت محسوس ہوئی تھی تبھی صابر یزدانی نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ ان کی دونوں بیٹیوں کو الگ الگ جگہ پر رکھا گیا ہے۔۔جب تک ارسلہ اپنی ایک بیٹی کے پاس پہنچی عمر شاہ مر چکا تھا۔۔صابر شاہ نے انہیں اس بات سے بھی ناواقف رکھا اور انہیں بتایا کہ عمر شاہ نے کہا ہے اگر بیٹا ہوتا تو میں اسے خاندان میں لے آتا مگر بیٹی ہوئی ہے تو طوائف ہی بنے گی،”ان کی باتیں سن کر دل میں جو ایک آخری امید جاگی تھی وہ بجھتے نفرت کی چنگاری میں بدل گئی۔انہوں نے اپنی گود میں موجود شہرے کو نفرت سے دیکھا اگر اسکی جگہ بیٹا ہوتا تو وہ عمر کے ساتھ ہوتیں۔۔یہ سوچتے ہی انہوں نے شہرے کو کسی اچھوت کی طرح خود سے دور پھینکا تھا وہ اسے اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتیں تھیں مگر بھی صابر یزدانی نے انہیں سمجھایا یہ لڑکی آگے ان کے کام آ سکتی تھی یہی نہیں بلکہ اپنی پوتی نور کو ونی ہونے سے بچانے کی خاطر وہ اسے ارسلہ عائلہ کے حوالے کر گئے۔ارسلہ ان دونوں کو لے کر نئے شہر آگئیں۔صابر یزدانی نے ان کی ہر ضروریات کا خیال رکھا۔اور پھر ایک دن ارسلہ کا پرانا عاشق انہیں ڈھونڈتے آ پہنچا۔۔ جس کا ایک بیٹا پہلے سے تھا ارسلہ کو نام چاہیے تھا اس لئے انہوں نے اس آدمی سے شادی کرلی اپنا نام عائلہ مشہور کر دیا اور پھر وہ کراچی میں نورے کی تربیت اور شہرے سے نفرت کرنے لگیں۔۔وقت گزرتا گیا اور پھر ایک نیا دور شروع ہوا۔۔۔________سب دم سادھے انیس یزدانی کو بولتے سن رہے تھے۔۔جاذب کو یقین نہیں آرہا تھا شہرے اسکی بہن تھی جس سے وہ بے خبر تھا۔”یہی سچ ہے شہرے عمر شاہ اور ارسلہ کی بیٹی ہے “”جاذب” نورے نے مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھاما۔۔یہ کیسی سازش تھی ایک زمین کی خاطر۔۔۔کیا ہوتا جو سہیل شاہ اپنی بہن کا حصہ انہیں دے دیتے کم از کم ان کا باپ تو زندہ ہوتا۔۔”مجھے معاف کردو جاذب میں نہیں جانتا تھا میرے بابا کے دماغ میں کیا ہے وہ بس اس زمین کو چاہتے تھے سہیل شاہ نے وعدہ کیا تھا وہ مکر گئے مگر میرے بابا اسی انا کا مسئلہ بنا گئے خون ریزی ہوئی سب تباہ ہوگیا مجھے معاف کردو””مجھے معاف کردو جاذب میری لالچ میرے اپنے بیٹے کو کھا گئی”دروازے پر کھڑی زرمینے اور جلال حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے وہ سب کچھ سن چکے تھے۔۔سہیل شاہ کی نگاہیں زرمینے پر پڑی تو اب کے قدم خودبخود اسکی جانب بڑھے۔۔”میں نے بہت اذیت دی تمہیں بے گناہ ہو کر بھی نفرتیں سہی ہیں ہوسکے تو اپنے بوڑھے دادا کو معاف کر دینا”سہیل شاہ نے اسکے آگے ہاتھ جوڑنے چاہے جسے وہ فوراً تھام گئی۔۔”ایسا مت کریں آغا جان””مامون مجھے اپنی دوسری پوتی سے ملنا ہے کیا تم ہمیں اس سے ملوا سکتے ہو ؟” وہ ایک آس سے اسے دیکھ رہے تھے مامون نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔۔_____________


گاڑی اس ہوٹل کے سامنے رکی تھی۔ڈرائیور کو آنے کا کہتے وہ اندر بڑھی تھی۔ریسیپشن سے اپنا مطلوبہ روم نمبر معلوم کرتے وہ اوپر بڑھی۔جہاں کوئی اسکا منتظر تھا۔روم نمبر سات کا دروازہ اسکے لئے کھلا ہوا تھا وہ اندر داخل ہوئی تو سامنے ہی دریہ بیٹھی تھی وہ شاید اسکی کی منتظر تھی ۔۔”تھینک یو سو مچ عمائم تم مجھ سے ملنے آئیں””ملنے تو آنا ہی تھا میں بھی جاننا چاہتی تھی کہ تمہیں مجھ سے ملاقات کرنے کی کیوں ضرورت محسوس ہوئی” اسکے سامنے صوفے پر بیٹھتے عمائم نے اپنا بیگ اسکے عین سامنے دیکھا۔”دیکھو عمائم میں جانتی ہوں تم مجھ سے غصہ ہو کیونکہ میں زارون کو واپس لینے آگئی””نہیں دریہ میں کیوں غصہ ہونگی وہ تمہارا بیٹا ہے تم اسکی ماں ہو تمہارا حق ہے اس پر”اسکی بات پر دریہ نے سر ہلایا۔۔”مجھے نہیں پتا تھا ضوریز کی فاینینشل حالت اتنی بری ہے۔۔۔ “”میری سمجھ میں نہیں آرہا دریہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں “؟عمائم نے الجھ کر اسے دیکھا وہ واقعی نہیں سمجھی تھی۔۔۔”تم ضوریز کو کہو وہ مجھے زارون کا خرچہ دے میں اکیلی عورت اسے نہیں پال سکوں گی””دیکھیں دریہ ضوریز نے سب کے سامنے کہا کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق زارون کی کفالت کرینگے آپ ایک ماڈل ہیں آپ اپنا کرئیر بنا رہی ہیں اس انڈسٹری میں آپ کو آخر ضوریز کے پیسوں کی ضرورت ہی کیوں ہے؟”اسکی بات پر دریہ نے مٹھی بھینچی۔۔۔”کیونکہ وہ ضوریز کا بھی بیٹا ہے اسے بھی احساس ہونا چاہیے اپنی زمہ داری کا””آپ کو نہیں لگتا دریہ ضوریز اپنی زمہ داریاں بہت اچھے سے نبھاتے آ رہے ہیں اور آگے بھی نبھائیں گے کتنی زارون کی ضرورت ہے “”ہممم مجھے ایسا کچھ لگ رہا ہے عمائم۔۔۔۔ کہ تم زارون سے جان چھڑانا چاہتی ہو؟”اسکی بات پر عمائم کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری ۔”تم ضوریز کے بزنس میں پارٹنر ہوں میں نے تو سنا تھا تمہیں زارون سے محبت ہے تم کیوں ضوریز کی ہیلپ نہیں کر دیتیں زارون کی “”ایک منٹ۔۔۔ دریہ زارون کے ساتھ پیسہ اتنا ضروری کیوں ہے؟؟؟ جتنا مل رہا ہے اس میں خوش کیوں نہیں ہو رہی آپ کو آپ کا بیٹا مل رہا ہے پھر بھی آپ کو پیسہ چاہیے آخر کیوں؟””عمائم””مجھے تو ایسا لگتا ہے آپ زارون کے لئے نہیں پیسوں کے لئے واپس آئی ہیں””ہاں بالکل ٹھیک کیا اور اگر تم چاہتی ہو کہ زارون خوش رہے تو ضوریز سے کہو مجھے پیسے دے ورنہ میں اسے زارون کی شکل دیکھنے کو ترسا دوں گی اسے اتنا ٹارچر کروں گی کہ وہ اپنے باپ سے نفرت کرنے لگا اس زارون کو میں اتنا ٹارچر کروں گی کہ وہ تڑپے گا میں اسے ” اس سے پہلے وہ اپنا جملہ مکمل کرتی عمائم نے ایک تیز تھپڑ اسکے منہ پر کھینچ کر مارا تھا۔”یہی یہی۔۔۔ سچ تو سننا تھا اور اب یہ سچ عدالت بھی سنے گی اور تمہاری انڈسٹری کے لوگ بھی۔۔۔””کک۔۔۔ کیا مطلب ؟””مطلب اب تمہیں عدالت میں پتا چلے گا کل کیس کی سنوائی ہے آجانا ” اسے کہتے عمائم وہاں رکی نہیں تھی جبکہ دریہ ہونق بنی اسے جاتے دیکھ رہی تھی۔۔”عمائم روکو میری بات سنو” وہ بھاگ کر عمائم کے پیچھے آئی تھی اگر اس نے کوٹ کا کہا تھا تو اسکا مطلب تھا اس نے ضرور کوئی اسکے خلاف ثبوت رکھا ہے۔”کیا ہوا کیا پرابلم ہے؟”ماتھے پر بل ڈالے علائم نے اسے دیکھا اور ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑاتے وہ گاڑی میں جا بیٹھی۔دریہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئ۔۔۔______________”کیا کرنے گئی تھیں آپ ؟”ضوریز ناراض نہیں تھا وہ بس اس سے پوچھ رہا تھا۔”اس گھٹیا عورت کو تھپڑ مارنے کا دل کر رہا تھا۔”مار دیا؟””جی بالکل” اترا کر کہتے وہ ضوریز کی گردن کے گرد حصار باندھتے اسکے قریب ہوئی۔”نا کریں عمائم سچ میں مار دیا؟” وہ بے یقین تھا۔۔”اور نہیں تو کیا یقین نہیں آرہا تو یہ میں نے پوری وڈیو بنائی ہے دیکھ لیں اور ہاں وکیل صاحب کو بھیج دیجیئے گا اسکے ارادے جان کر جج صاحب خود ہی اسکے خلاف فیصلہ دینگے اور اگر نہیں دیا تو میں اس وڈیو کو سوشل میڈیا پر وائرل کروانے والی ہوں تاکہ دریہ خود ہی پیچھے ہٹ جائے””اففف اففف اتنا شاطر دماغ؟”اسے اپنے قریب کرتے ضوریز نے اسے چھیڑا۔”جی بالکل بھئی جسکا شوہر اتنا شاطر ہو تو بیوی کو بھی شاطر بننا پڑتا ہے”اسکے اترا کر کہنے پر ضوریز اسے جھٹکے سے اپنے قریب کرتا اسکے چہرے پر جھکتے اپنے لمس کے اسکے چہرے پر گلاب رنگ کھلا گیا ۔وہ مطمئن تھا وہ جانتا تھا دریہ کے ارادے جان عدالت خود ہی زارون کو ان کے حوالے کر دے گی ۔اور پھر ایسا ہی ہوا تھا دریہ یہ کیس بری طرح ہاری تھی ایک اسکی وڈیو دوسرا زارون کی مرضی ۔۔۔وہ اپنی عمائم اور بابا کے ساتھ رہنا چاہتا تھا۔جج نے دریہ کو کڑے لفظوں میں سنایا تھا۔جس پر وہ بس کھول کر رہ گئی۔اسکے بس میں ہوتا تو ناجانے کیا کر جاتی۔۔۔مگر اسکی غلطی تھی وہ جذبات میں آکر اپنا آپ عمائم پر ظاہر کر گئی تھی۔۔۔”مما بابا اب تو میں ان آنٹی کے ساتھ نہیں جاؤں گا نا؟” زارون کے سوال پر عمائم نے جھک کر اسے گود میں اٹھایا۔۔۔”بالکل نہیں کسی میں ابھی اتنی ہمت نہیں کہ میرے بیٹے کو مجھ سے دور کرسکے۔۔۔”بابا مما آئی لو یو،” عمائم کے گال پر پیار کرتے وہ ان دونوں سے بولا تو ضوریز نے مسکراتے اپنی گود میں لیا اور خود عمائم کے گرد اپنے بازوؤں کا گہرا تنگ کرگیا۔۔”بیٹا تو ہے پیار بھی کرتا ہے ہم سے اب بیٹی کی پلیننگ کریں مسزز ضوریز ؟؟”اسکی بات پر عمائم نے شرم سے ایک مکا اسکے بازو میں رسید کیا۔۔”کاش آپ تھوڑی شرم کرلیتے””شرم کروں گا تو بیٹی کیسے آئے گی؟””ضوریز بس” اسکے بازو اپنے کندھے سے ہٹاتے وہ آگے بڑھی تھی۔اسکے یوں شرما کر فرار ہونے پر ضوریز بے ساختہ قہقہ لگا اٹھا ۔____________



شہرے بے یقینی سے سامنے بیٹھے لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔مامون اسے یہاں لے کر آیا تھا وہ اسے سب بتا چکا تھا اور شہرے وہ شاکڈ تھی۔۔۔”شہرے ؟” نور نے اسے اپنے ساتھ لگایا اتنے وقت بعد اپنی بہن کا ساتھ پاتے ہی وہ سسکی تھی۔۔”نور””شہرے رو کیوں رہی ہو یار ابھی دیکھو نا ساری فیملی مل گئی تمہیں تمہاری” اسے روتے دیکھ وہ تڑپا تھا۔”امی کہاں ہیں؟””وہ نہیں ہیں جاذب نے انہیں ڈھونڈا تھا مامون نے بھی کوشش کی مگر وہ کہیں نہیں ہیں””یہ میری سگی بہن ہے” اس نے زرمینے کی جانب اشارہ کیا جو بہت اشتیاق سے اپنے سامنے بیٹھی اپنی بہن کو دیکھ رہی تھی ۔ان دونوں نے ہی اپنے اپنے حصے کی تکلیف اٹھائی تھی۔۔”ہممم۔۔ زرمینے””زری کیا تم بھی میری طرح ڈرپوک ہو ؟””شہرے میڈم آپ ڈرپوک ہیں یہ بات مجھے تو ہر گز نہیں پتا تھی” مامون کی بات پر جہاں وہاں بیٹھے سب مسکرائے تھے وہیں شہرے نے گھور کر اسے دیکھا تھا۔۔”اور میں آپ کا بڑا بھائی” جاذب نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا مگر وہ اٹھ کر اسکے سینے سے لگی تھی۔۔جاذب نے دوسرا بازو پھیلائے زرمینے کو اشارہ کیا۔۔۔جو فوراً سے اسکے پاس آتی جاذب کے سینے سے لگی تھی۔۔کشور بیگم تو جل کر یہاں سے کب کی جا چکی تھی ردابہ شرمندہ سی اپنے کمرے میں بند تھی۔۔۔”آغا جان میں نے ایک فیصلہ لیا ہے”اسکی بات پر آغا جان نے سر اسے دیکھا۔۔”کیسا فیصلہ ؟””میں نے بابا کا ٹرسٹ زرمینے کے نام کیا تھا اسکا حصہ مگر اب چونکہ شہرے بھی آگئی ہے تو میں وہ زمین ان دونوں کو دینا چاہتا ہوں اسکے علاؤہ ان دونوں کا حصہ ان دونوں کو دینا چاہتا ہوں””بھائی ہمیں کچھ نہیں چاہیے ” زرمینے فوراً سے بولی تھی۔۔”میں تمہیں کامیاب دیکھنا چاہتا ہوں زرمینے اور شہرے ۔۔ اسکے لئے میں ہر چیز کر سکتا ہوں اگر مامون اجازت دے،””شہرے جیسے مرضی اپنی زندگی گزارے مجھے کیا پرابلم ہوگی؟””لیکن میں ہاؤس وائف ہی ٹھیک ہوں بس میں اب اپنوں کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں”اسکی فرمائش پر جاذب مسکرا دیا۔۔ہر چیز ٹھیک ہو چکی تھی سب نے مل کر ایک ساتھ شاندار سا ڈنر کیا تھا۔۔کھانے سے فارغ ہوکر شہرے مامون کے ساتھ اپنے روم میں آئی تھی جو نورے نے اسکے لئے سیٹ کیا تھا جب شہرے نے اچانک مامون کے گرد بانہیں گزارے اسکے سینے پر ٹھوڑی ٹکائی۔۔۔”افف خیریت اتنے لاڈ ؟؟””آپ اب سیٹ ہیں ؟””بالکل نہیں میں تو بہت خوش ہوں” اسکے چہرے پر بکھرے بال سمیٹتے وہ اسکی آنکھوں کو لبوں سے چھوتا اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش کو اپنے شدت بھرے لمس سے متعارف کرواتا اسے بوکھلانے پر مجبور کر گیا ۔”مامون””جی میری جان”اسکی گردن میں چہرہ چھپائے وہ اسے تنگ کر رہا تھا۔”مامون کیا ہم ہمیشہ کے لئے یہاں شفٹ ہو جائیں ؟””ہممم۔۔۔ “”ہممم کیا؟””سوچیں گے نا میرا سارا بزنس وہاں ہے سب سمیٹنے میں بھی کئی سال چاہئے “”اوو۔۔۔””لیکن ہم یہاں زیادہ رہ سکتے ہیں جہاں میں وہاں میری شہرے ” اسے بانہوں میں بھرتے وہ اسے بیڈ پر لٹا گیا”مامون؟””سفر کیا ہے آج اور ریسٹ نہیں تھوڑا سکون دیں خود کو””مامون آپ کو پتا ہے نورے کے بے بی آنے والا ہے””ہممم آئی نو””مامون اگر ہمارے بے بی ہوا نا تو ہم اسکی شادی نورے کے بے بی سے کریں گے” اسکی فرمائش پر بےاختیار مسکرا اٹھا ۔”تو پھر اسکے لئے بے بی کی پلیننگ بھی کرنی ہوتی ہے کریں؟”اسکے اوپر سایہ افگن ہوتا وہ اسے شرمانے پر مجبور کرگیا۔______________بالکونی میں کھڑی وہ کھلی فضا میں سانس لے رہی تھی بالآخر سب ٹھیک ہوگیا تھا۔”کیا سوچ رہی ہیں ڈارلنگ ؟” اسکے گرد حصار باندھے جازب نے اسکے کندھے پر اپنے لب رکھے۔۔”میں ناراض ہوں جاذب شاہ””بنتا ہے ناراض ہونا مگر اب میں روز آپ کو بناؤں گا” اسکا رخ اپنی طرف کرتے وہ اسے اپنے حصار میں لاک کرگیا۔”ابھی تو ہماری لائف کا اسٹارٹ ہے دیکھتے ہیں آپ کی محبت ایسی ہی رہتی ہے یا نہیں” اسکی بات پر وہ مسکرایا اور جھک کر اسکی ٹھوڑی کو چومتے اسکے ہونٹوں کو اپنی قید میں لیا تھا ۔نورے نے سختی سے اسکے کالر کو اپنی مٹھیوں میں جکڑا تھا جو اسے یونہی اٹھائے بیڈ پر لاتے اسکے چہرے پر سے بال سمیٹتے اسکا حیا بار چہرہ دیکھنے لگا جھکتی پلکوں کا رقص جازب شاہ کو پاگل کر رہا تھا۔”آئی ایم سوری فار ایوری تھنگ مائے لیڈی۔۔۔ اب جاذب شاہ کا وعدہ ہے وہ کبھی نورے پر انچ تک نہیں آنے دے گا آئی لو یو ۔۔۔ آئی رئیلی لو یو۔۔۔ مور دین انیتھنگ” اسکی انگلیوں کی پوروں کو چومتے وہ اسکی گردن میں چہرہ چھپا گیا تھا۔وہ شرمندہ تھا اپنے لفظوں پر دانستہ اور نادانستہ کی گئی غلطیوں اور اسے دی گئی تکلیفوں کے لئے۔۔۔”اگر آپ روایتی مردوں کی طرح میرے ساتھ سلوک کرتے تو شاید میں آپ کو کبھی معاف نہیں کرتی مگر آپ کبھی میرے لئے روایتی بنے ہی نہیں آپ کے لفظوں سے زیادہ آپ کے ایکشن سے متاثر ہوئی ہوں میں سوائے کچھ کچھ کے” اسکا چہرہ اوپر اٹھائے نورے نے شرارت سے اسکی ناک سے ناک مس کی۔۔ جس پر فری ہوتے اس پر جھکتا وہ اسے مکمل اپنے حصار میں قید کرگیا۔”مجھے جونئیر جازب دینے کا بہت شکریہ میری جان”اسکی شہہ رگ چومتے وہ اسے خود میں قید کرگیا۔۔۔____________”کیسا لگ رہا ہے ؟”جلال نے اسکا ہاتھ تھام کر پوچھا تھا وہ جو اسکے سینے پر سر رکھے لیٹی تھی ہولے سے مسکرا دی۔۔”میں بہت خوش ہوں جلال۔۔۔ آپ تو میرے لئے لکی ثابت ہوئے ہیں آپ کے میرے زندگی میں آتے ہی میری زندگی میں خوشیاں بکھر گئی ہیں”اسکی بات پر وہ ہولے سے مسکرایا تھا۔”اچھا واقعی کون کون سی خوشی آئی ہے؟”وہ پوری طرح اسکی جانب متوجہ تھا۔۔زرمینے نے مسکراتے اسے دیکھا اور پھر زرا سا اونچا ہوتے اس نے جلال کے کان کے پاس اپنے لب رکھے ۔۔”آپ سے شادی کے بعد مجھے اماں کا پیار ملا، گھر ملا، آغا جان کی محبت ملی اور۔۔”اس نے توقف کیا جلال اسکے اور پر اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔۔”اور؟””اور مجھے ماما بننے کی خوشی ملی” کہتے ساتھ اس نے فوراً سے جلال کے سینے میں چہرہ چھپایا تھا۔”کیا کیا مطلب”؟ چونکتے جلال نے اسکا چہرہ دیکھا جو شرمائے جا رہی تھی ۔”کیا یہ سچ ہے،؟””ہممم۔۔ “”زرمینے تھینک یو سو مچ میں بتا نہیں سکتا میں کتنا خوش ہوں آئی لو یو” اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرے وہ اسکے ایک ایک نقوش کو چومتا اسے اپنی دسترس میں لے گیا خوشیاں ان کے گرد رقصاں تھی آخر کار ان دونوں کو ان کی منزل مل گئی تھی۔۔۔____________


کچھ وقت بعد۔۔۔۔پوری حویلی کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا خوشیوں کی بہاریں شاہ حویلی پر اتری تھیں۔کچھ وقت پہلے ہی نور اور جاذب کے گھر بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی جبکہ زرمینے نے یہاں بھی بیٹا۔۔۔سہیل شاہ اپنی تیسری نسل کو گود میں لئے بیٹھے تھے۔ضوریز مامون جازب جلال کو چھیڑ رہے تھے جبکہ ساری خواتین اندر تھیں۔۔۔مامون نے شہرے کی تعلیم دوبارہ سے شروع کروائی تھی۔۔۔وہ کبھی یہاں تو کبھی باہر ہوتا تھا وہ چاہ کر بھی اپنے باپ کو نہیں چھوڑ سکتا تھا۔۔۔”دادو مجھے بھی بہن چاہیے” زارون کی فرمائش پر عمائم نے سٹپٹا کر ایک طرف کھڑے ضوریز کو دیکھا تھا۔۔گزرے وقت میں وہ کامیاب بزنس وومن کے طور پر ابھر کر سامنے آئی تھی۔جبکہ زرمینے وہ سیکھنے کے مراحل میں تھی اس نے اپنی تعلیم گاؤں کے لوگوں کو تعلیم دینا شروع کیا تھا جلال ہر قدم پر اسکے ساتھ تھا اسے سنبھالے ہوئے تھا۔سب مکمل تھا۔۔۔ہر طرف خوشیوں کی بہاریں چھائی ہوئی تھیں جاذب الیکشن جیت گیا تھا گاؤں میں اسپتال اور اسکول بن گئے تھے ہر کسی کی ہیپی اینڈنگ تھی۔۔سب ایک ساتھ تھے خوش تھے انیس یزدانی بھی سب کے ساتھ تھے سب نے اپنے اپنے حصے کی سزا پا لی تھی اور وہاں صرف خوشیوں کا بسیرا تھا۔۔۔۔___________سالوں بعدخان منزل میں اس وقت خوشیوں کی بہاریں اتری تھی جب ولی شاہ نے میٹرک کے امتحان میں سب کو پیچھے چھوڑا تھا۔۔۔پورے گاؤں میں میٹھائیاں بانٹی گئی تھیں۔اور ولی خان وہ خود مٹھائی کا ڈبہ لئے شاہ حویلی میں داخل ہوئی تھا۔۔۔”ولی شلی تم نہاں؟” وہ جو اندر بڑھ رہا تھا آواز پر رک کر گردن موڑ کر ایک جانب دیکھا جہاں جھولے پر اپنی گڑیا کے ساتھ بیٹھی جاذب شاہ کی سب سے لاڈلی بیٹھی تھی اور اپنی توتلی زبان میں اس سے سوال کر رہی تھی ۔۔”بڑا ہوں میں لالہ بولا کرو” اسکے پاس آتے ولی نے اسکے بال بگاڑے “”ہونہہ لالہ شالہ” منہ بناتے وہ ولی کے پیر پر پیر مارتے تیزی سے اندر بڑھی تھی۔۔ولی نے اس چھوٹی بلا کو اندر جاتے دیکھا اور پھر مسکرا کر سر جھٹکتے وہ اندر بڑھا تھا جہاں اسی نک چڑھی بلی کی معصوم سی بہن اندر اسکی منتظر تھی کیونکہ اسکے ولی لالہ اسکے لئے چاکلیٹ لے کر آئے تھے۔۔۔”کیا لائے ہیں ولی صاحب؟”شہرے کو سلام کرتے وہ اسکے پاس آکر بیٹھا تھا۔۔”ولی برو پلیز کم ود اس نا” شہرے کے برگر بچے کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا وہ لوگ بہت جلد واپس جانے والے تھے۔۔وہ بہت خاموش طبعیت سا بچہ تھا چپ رہنے والا۔۔۔”زرمینے کہاں ہیں شہرے؟” وہ ان سب کو نام سے ہی مخاطب کرتا آیا تھا گزرے سالوں میں دونوں حویلیوں میں رشتے بہت مضبوط ہوئے تھے وجہ نورے جاذب شاہ تھی۔جو اب جاذب کے ساتھ اسکے کام میں اہم کردار ادا کرتی تھیجاذب نے مسکرا کر اس چھوٹی سی گڑیا کو دیکھا جو اپنی چند منٹ بڑی بہن کے رعب میں آرہی تھی ۔تبھی جلال اور زرمینےسب کی زندگیاں مکمل تھیں۔۔۔۔تبھی کچھ دیر بعد ضوریز عمائم باقی سب کے ساتھ اندر آئے تھے وہ سب چھٹیوں میں ساتھ اکھٹے ہوتے تھےحویلی ایک بار پھر آباد ہوئی تھی جہاں بس خوشیاں بستی تھیں۔
ختم شد
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top