• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story دہلیز کی قید۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
1,031
Reaction score
51,921
Location
Karachi
Gender
Male
ابا شروع ہی سے محنتی تھے، لہٰذا شادی کے بعد انہوں نے امی جان کو کوئی خاص عیش و آرام نہیں کرایا—اور کراتے بھی کیسے؟ ان کی کریانے کی ایک چھوٹی سی دکان تھی، جس پر وہ سارا دن گاہکوں کو سودا سلف تول کر دیتے رہتے اور رات کو تھکے ہارے گھر لوٹتے تھے۔ خدا کی مرضی کہ یکے بعد دیگرے ہم پانچ بہنیں پیدا ہوئیں، تو ابا اور اماں کی ہمت ہی ٹوٹ گئی۔ وہ خدا سے بیٹا مانگتے تھے، لیکن ہر سال ایک نئی بیٹی گھر آ جاتی۔ میرے والد اولادِ نرینہ کی خواہش میں اکثر غم زدہ اور اداس رہنے لگے۔

وہ بیٹیوں پر کڑی نگاہ رکھتے تھے اور میری والدہ کو ہر وقت اس بات پر ڈانٹتے کہ تم لڑکیوں پر سختی نہیں کرتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کل کلاں اگر انہوں نے پر پرزے نکال لیے، تو انہیں قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے امی جان کا جینا دوبھر کر دیا تھا۔ انہیں غصہ اس بات کا تھا کہ وہ بیٹے کے بجائے بیٹیوں کو جنم دیتی ہیں، مگر یہ امی کے بس میں کہاں تھا؟ یہ تو سراسر اللہ کے اختیار کا معاملہ تھا۔ جب ہم بڑی ہوئیں تو اخراجات بھی بڑھے، چنانچہ والدہ لوگوں کے کپڑے سینے لگیں۔ غرض یوں کھینچ تان کر گزارہ ہو رہا تھا۔ مجھ سے بڑی دو بہنیں تھیں، ہم تینوں نے صرف پرائمری تک پڑھا۔ اس سے آگے پڑھنے کی اجازت نہ ملی۔ ابا نے صاف کہہ دیا تھا کہ “اگر یہ پڑھیں گی تو ہم کھائیں گے کہاں سے؟” تعلیم کا خرچہ برداشت نہ کرنے کے سبب ہماری پڑھائی چھٹوا دی گئی۔

شروع میں والد صاحب ہمیں کچھ نہیں کہتے تھے، لیکن اب جب وہ گھر آتے تو ان کے تیور بہت بگڑے ہوتے۔ ان کا رویہ امی کے ساتھ ظالمانہ حد تک خراب تھا۔ وہ اکثر کہتے: “ان میں سے ایک بھی بیٹا ہوتا تو آج میرا بازو بنتا اور میرا بوجھ بانٹ لیتا، یہ تو سب کی سب بوجھ ہیں۔” میں اپنی تمام بہنوں سے زیادہ حساس تھی، اسی لیے یہ باتیں بہت زیادہ محسوس کرتی تھی۔ میرا بس نہیں چلتا تھا کہ کہیں سے ڈھیروں دولت کما کر باپ کی جھولی میں ڈال دوں، تاکہ ان کی بیٹا نہ ہونے کی حسرت خوشی میں بدل جائے۔

ایک دن ابا کا کسی شخص سے دکان کے سامان کے لین دین پر جھگڑا ہوا، وہ صاحبِ اثر آدمی تھا۔ اس نے اپنے رسوخ سے پولیس بلوا لی اور کھڑے کھڑے والد صاحب کی دکان خالی کرا دی، یوں ابا گھر بیٹھ گئے۔ اس بے عزتی کا انہوں نے ایسا اثر لیا کہ مہینوں بستر سے نہ لگے رہے اور گھر سے قدم تک نہ نکالا۔ ان کا رویہ میری ماں کے لیے مزید نفرت بھرا ہو گیا۔ وہ کہتے: “یہ جو تم نے پانچ بلائیں پیدا کی ہیں، دیکھ لینا ایک دن یہی ہمیں سرِ بازار رسوا کریں گی۔” ان باتوں کا سب سے زیادہ اثر میں لیتی تھی، جب کہ میری بڑی بہن صائمہ لا ابالی طبیعت کی حامل تھی۔ وہ ہر حال میں ہنستی مسکراتی رہتی اور زندگی اپنی مرضی سے گزارنا چاہتی تھی۔ وہ سولہ سال کی ہو چکی تھی، لیکن گھر کے کام کو ہاتھ تک نہ لگاتی۔ وہ سارا کام ہم چھوٹی بہنوں سے کراتی اور خود حکم چلاتی۔ دکان بند ہونے کے بعد ابا کا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہ رہا تھا۔ کبھی کہیں مزدوری کر لیتے اور کبھی تھوڑا بہت کما کر پھر گھر بیٹھ جاتے۔ یوں گھریلو اخراجات کا تمام بوجھ امی کے کندھوں پر آ گیا۔

امی چاہتی تھیں کہ صائمہ بڑی ہے، اس لیے وہ سلائی میں ان کا ہاتھ بٹائے، لیکن وہ ادھر دھیان ہی نہ دیتی۔ ماں نے اسے کافی سمجھایا کہ کچھ سینا پرونا سیکھ لے، مگر اس لڑکی نے ایک ٹانکا تک نہ لگایا۔ ان ہی دنوں ہمارے گھر کے قریب ایک دستکاری اسکول کا افتتاح ہوا، جہاں محلے کی کافی لڑکیوں نے داخلہ لیا۔ امی نے یہ سوچ کر صائمہ کو بھی وہاں داخل کرا دیا کہ شاید وہاں کچھ ہنر سیکھ لے تو سب کا بھلا ہو جائے۔ صائمہ کو تو جیسے پر مل گئے۔ اسے گھر کی چار دیواری میں گھٹن ہوتی تھی، اس لیے وہ سہیلیوں میں خوش رہتی اور شوق سے اسکول جانے لگی۔ ادھر ابا نے میری ماں کا جینا حرام کر دیا کہ “دیکھ لینا تم پچھتاؤ گی۔ یہ لڑکی ہنر کچھ نہیں سیکھے گی، البتہ ایک دن گھر سے ضرور بھاگ جائے گی۔ اس کے لچھن ٹھیک نظر نہیں آتے۔” مگر ماں تو ماں ہوتی ہے، اس کی آنکھوں پر ممتا کی پٹی بندھی تھی، جب کہ باپ کو زمانے کی اونچ نیچ کی زیادہ خبر تھی۔

میں یہ نہیں کہتی کہ لڑکیوں کو دستکاری اسکول نہیں جانا چاہیے، انہیں ضرور ہنر مند ہونا چاہیے، لیکن صائمہ کا اپنا مزاج اور ہمارے گھر کا زہریلا ماحول ایسا تھا کہ ہمارے کان پیار کے دو بول سننے کو ترستے تھے۔ جب صائمہ اسکول جاتی تو ابا پیچھے سے ضرور کہتے: “دیکھو! کیسی بن سنور کر نکلتی ہے، یہ لڑکی ایک دن گھر سے جائے گی اور پھر واپس نہیں آئے گی۔” جو ہونا ہوتا ہے، اس کے اندیشے پہلے سے ڈراتے ہیں۔ ابا کی چھٹی حس درست کام کر رہی تھی؛ ایک دن صائمہ ایسی گئی کہ پھر لوٹ کر نہ آئی۔ خدا جانے اسے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ وہ دن ہمارے لیے قیامت سے کم نہ تھا۔ محلے کی جن لڑکیوں کے ساتھ وہ جاتی تھی، ان سے پتا چلا کہ ہڑتال کی وجہ سے اسکول کی چھٹی تھی۔ صائمہ نے ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا، جس کا مطلب تھا کہ وہ سب منصوبے کے تحت ہوا۔ جانے کس نے اسے سبز باغ دکھائے کہ وہ تتلی بن کر اپنے بابل کے آنگن سے اڑ گئی۔ وہ دن انتہائی کربناک تھا؛ باپ سر پکڑے بیٹھا تھا اور ماں سسک رہی تھی۔ ہم بہنوں کے دل مٹھی میں تھے۔ والد صاحب غیرت کے مارے گھر سے باہر قدم نہیں نکالتے تھے۔ وہ کبھی روتے اور کبھی غصے میں ماں کو جوتوں سے مارنا شروع کر دیتے، جیسے کسی بے جان دیوار کو مار رہے ہوں۔ تکلیف سے ماں دوپٹہ منہ میں دبا کر روتی، کیونکہ صائمہ کے چلے جانے کا دکھ اس جسمانی اذیت سے کہیں بڑھ کر تھا۔

ابا کی اتنی پہنچ نہ تھی کہ کسی سے پوچھ گچھ کرتے، اور اکثر غیرت کے معاملات یوں ہی دبا دیے جاتے ہیں، اس لیے انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ تاہم گھر کا ماحول مزید سخت ہو گیا۔ ابا نے ہم تمام بہنوں پر کڑی پابندیاں لگا دیں اور آئے روز کسی نہ کسی بہانے ماں کو مارتے۔ یہ میری ماں کا حوصلہ تھا کہ اس سنگدل شخص کو برداشت کیا، ورنہ ہمیں تو ابا نے خون کے آنسو رلا دیے تھے۔ صائمہ چلی گئی، تو اس میں ہم چاروں کا کیا قصور تھا؟ لیکن والد صاحب کا کہنا تھا کہ “ماں اچھی ہو تو بیٹیاں بھی اچھی ہوتی ہیں۔ اس عورت کی تربیت میں کمی ہے، جس کی وجہ سے آج میں گلی محلے میں سر اٹھا کر نہیں چل سکتا۔” ایسے معاملے کہاں چھپتے ہیں؟ بات پھیل گئی اور محلے میں خوب بدنامی ہوئی۔ والد صاحب کا مزاج مزید زہریلا اور غصیلا ہو گیا۔ وہ گھر بیٹھ کر ہمیں طعنے دیتے کہ “دیکھ لینا یہ چاروں بھی باری باری بھاگ جائیں گی، وہ ذلیل تو ہمارے لیے مر گئی ہے۔”

میں اس دم گھٹتے ماحول میں چپکے چپکے روتی اور دعا کرتی کہ اس قید سے نجات ملے۔ محلے والوں نے ہمارا بائیکاٹ کر دیا، جس سے احساسِ کمتری مجھے دیمک کی طرح چاٹنے لگا۔ میں دعا کرتی کہ کاش ابا کہیں چلے جائیں تاکہ ہم سکھ کا سانس لے سکیں۔ لوگوں کی نظروں اور طعنوں سے بچنے کے لیے میرا باپ سارا دن گھر پڑا رہتا۔ دکان پہلے ہی جا چکی تھی، اب غم غلط کرنے کی خاطر انہوں نے شراب اور جوئے کا سہارا لے لیا۔ جب انسان ٹوٹ جاتا ہے تو اکثر غلط راستے چن لیتا ہے۔ ہمارا پالن ہار اب امی کی خون پسینے کی کمائی بھی چھیننے لگا۔ ماں کے پاس ایک ہی طعنہ تھا: “میں ان بیٹیوں کو کیوں کھلاؤں جو کل کو میرے منہ پر کالک مل کر بھاگ جائیں گی؟”

میرے دل میں بغاوت نے جنم لینا شروع کر دیا۔ جی چاہتا کہ میں بھی بھاگ جاؤں تاکہ ابا کو ایک اور سبق ملے، اور پھر صائمہ کو ڈھونڈ کر اس کا گلا گھونٹ دوں۔ مگر میں یہ سب نہ کر سکتی تھی، سو میں نے باپ کی موت کی دعائیں مانگنا شروع کر دیں۔ آپ خود سوچیے، جو شخص نہ کمائے، بلکہ گالیاں دے اور ماں پر تشدد کرے، کیا وہ جینے کا حق رکھتا ہے؟ قرض داروں کے تنگ کرنے پر ابا نے گھر کا سامان، یہاں تک کہ امی کی بالیاں اور میرے ٹاپس بھی فروخت کر دیے۔ شمسہ مجھ سے ایک سال بڑی تھی، وہ بے چاری ہمیشہ سہمی رہتی۔ ابا کو اس کی شادی کی فکر تھی، مگر ماں کہتی تھی کہ “جہیز کے نام پر ایک تنکا نہیں ہے، رخصتی کیسے ہوگی؟” ابا نے کہا: “میں ایسا رشتہ ڈھونڈوں گا کہ نہ جہیز چاہیے ہوگا نہ خرچہ۔” اور پھر یہ انہونی ہو گئی۔

ایک روز ابا اسلم صاحب نامی ایک شخص کو گھر لے آئے اور کہا: “یہ لڑکا میں نے شمسہ کے لیے چنا ہے۔” جس کو وہ “لڑکا” کہہ رہے تھے، وہ اچھا خاصا بوڑھا تھا اور تیسری شادی کرنا چاہتا تھا۔ لباس سے وہ صاحبِ ثروت لگتا تھا، مگر اسے دیکھ کر میرا جی دہل گیا۔ وہ تو ہمارے دادا کی عمر کا تھا۔ میں شمسہ آپا کو کچھ بتانے سے پہلے ہی رونے لگی۔ ماں نے دیکھا تو تڑپ اٹھیں: “کیا یہ لڑکا ہے؟ اس کی عمر دیکھو اور اپنی بچی کو دیکھو!” ابا گرجے: “بکواس نہ کر! میں اس شخص کا مقروض ہوں، کیا تیرا باپ قرض اتارے گا؟ میں زبان دے چکا ہوں۔” ایسے ظالمانہ الفاظ کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالتے محسوس ہوتے تھے۔

ماں کے انکار کے باوجود ابا نے دھمکی دی کہ اگر یہ رشتہ نہ ہوا تو ہمیں مکان بیچنا پڑے گا۔ جس روز میری پھول جیسی بہن اس بوڑھے سے بیاہی جا رہی تھی، اس کا حال برا تھا۔ وہ رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی، شاید اس کی تقدیر میں قربانی کا بکرا بننا ہی لکھا تھا۔ اب مجھے اپنے باپ سے شدید نفرت ہونے لگی۔ میری پیاری بہن زندگی کے زندان میں قید ہو گئی۔ اسلم صاحب اسے دو ماہ بعد ہم سے ملانے لاتے اور سائے کی طرح ساتھ رہتے۔ ماں چپکے چپکے روتی کہ ایک بیٹی غائب ہوئی اور دوسری بک گئی۔ یہ بکنا ہی تو تھا؛ پچاس ہزار کے قرضے کے بدلے شمسہ کی جوانی چھین لی گئی تھی۔ اس کے چہرے کی رونق ختم ہو چکی تھی، جیسے کسی نے گلاب کو مرجھا دیا ہو۔

کلثوم آپا کا گھر ہمارے قریب تھا، وہ ہمارے حالات سے واقف تھیں۔ وہ گھر میں بیوٹی پارلر چلاتی تھیں۔ انہیں ایک مددگار کی ضرورت تھی، تو انہوں نے امی سے کہا: “اگر تم رقیہ کو روز دو تین گھنٹے کے لیے میرے پاس بھیج دو، تو میں اسے کھانا اور ہزار روپے ماہوار دوں گی، ساتھ ہی ہنر بھی سکھا دوں گی۔” اماں تو یہی چاہتی تھیں، مگر مسئلہ ابا کا تھا۔ انہوں نے ڈرتے ڈرتے ذکر کیا تو ابا نے وہی طعنہ دیا: “کیا یہ بھی بھاگنے کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے؟” مجھے اتنا غصہ آیا کہ سوچا موقع ملا تو اس جہنم سے ضرور بھاگ جاؤں گی۔ کلثوم آپا نے بڑی مشکل سے ابا کو منایا اور یوں ہمارے زندان کا دروازہ تھوڑی دیر کے لیے کھلا۔ میں نے پہلی بار آزادی کا ذائقہ چکھا۔

آپا کے گھر کا ماحول بہت خوشگوار تھا۔ وہاں آنے والی ہنستی مسکراتی خواتین کو دیکھ کر میرے اندر بھی جینے کی امنگ پیدا ہوئی۔ آزادی کا مطلب ہمیشہ غلط نہیں ہوتا، لیکن ایک دکھی انسان کے لیے خوشگوار ماحول نعمت ہوتا ہے۔ ایک روز میں کچن میں تھی کہ آپا کا کزن عقیل وہاں آیا، جو ملازمت کی تلاش میں شہر آیا تھا۔ جلد ہی میں نے محسوس کیا کہ اس کے رویے میں میرے لیے احترام اور پسندیدگی ہے۔ ایک دن اس نے اظہارِ مدعا کر ہی دیا کہ “رقیہ، میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں، اگر تمہاری مرضی ہو تو میں اپنے والدین کو لے آؤں؟” میں خوفزدہ ہوگئی اور اسے سب کچھ سچ سچ بتا دیا کہ میرے والد کبھی نہیں مانیں گے۔

اگلے ہی دن میں نے ابا کو امی سے کہتے سنا کہ انہوں نے میرا رشتہ طے کر دیا ہے۔ وہ پھر سے ایک سودا کر رہے تھے؛ جوئے میں ہاری ہوئی رقم کے بدلے مجھے بھینٹ چڑھایا جا رہا تھا۔ میں نے عقیل کو سب بتا دیا، اس نے تسلی دی کہ وہ کل ہی اپنی ماں کو لے آئے گا۔ جب امی نے ابا کو عقیل کے بارے میں بتایا تو وہ آگ بگولہ ہو گئے اور سختی سے منع کر دیا۔ میں نے جب اس شخص کو دیکھا جس سے میرا رشتہ طے ہوا تھا، تو مجھے گھن آگئی۔ میں جو صائمہ کو بددعائیں دیتی تھی، اب سمجھ آیا کہ لڑکیاں گھر سے کیوں بھاگتی ہیں؛ جب ان کی قسمت زبردستی عمر رسیدہ مردوں سے جوڑ دی جائے۔

جس رات میں نے گھر چھوڑا، ابا حسبِ معمول دیر سے آئے اور ماں تھک کر سو چکی تھی۔ میں کپڑوں کی گٹھڑی لیے، اپنے گھر کی “عزت” کو روندتی ہوئی دہلیز پار کر گئی۔ اس وقت میں نے ماں اور بہنوں کے دکھوں کو فراموش کر دیا تھا، میری نظر میں صرف اپنے خواب تھے۔ ہم کراچی پہنچ گئے، جہاں امجد (عقیل کا دوست) کے فلیٹ پر ہمارا نکاح ہوا۔ میں خوش تھی لیکن دل میں ایک جرم کا احساس بھی تھا کیونکہ ماں کا چہرہ سامنے گھوم رہا تھا۔

ایک دن اچانک پولیس کے ساتھ ابا دروازے پر کھڑے تھے۔ ہمیں تھانے لے جایا گیا۔ ابا نے امجد پر اغوا کا الزام لگایا، جب کہ میں چلاتی رہی کہ میں اپنی مرضی سے آئی ہوں۔ معاملہ عدالت پہنچا تو میرے باپ نے وہ گھناؤنی چال چلی جس کا مجھے گمان نہ تھا۔ انہوں نے اس شخص (غلام علی) کو پیش کیا جس سے میرا رشتہ طے ہوا تھا اور جعلی نکاح نامہ دکھا کر دعویٰ کیا کہ میرا نکاح پہلے ہی ہو چکا ہے۔ عدالت نے امجد کو جیل بھیج دیا، جب کہ غلام علی مجھے “بچانے” کے بہانے گھر لے آیا۔ والد صاحب مقدمہ جیت چکے تھے، انہوں نے مجھے قانونی طور پر غلام علی کے حوالے کر دیا۔

آج چھ برس ہو چکے ہیں، میں فیصل آباد میں اس شخص کی قیدی اور باندی ہوں۔ دو بچوں کی ماں بن چکی ہوں، لیکن آج تک میکے کی شکل نہیں دیکھی۔ مجھے نہیں معلوم امجد کہاں ہے، یا میری ماں اور بہنوں پر کیا گزری۔ شاید یہ گھر سے بھاگنے کی سزا ہے، لیکن میری روح آج بھی اپنی ماں سے ملنے کو تڑپتی ہے۔ غلام علی وعدے تو کرتا ہے، مگر آج تک مجھے میرے اپنوں سے ملنے نہیں لے گیا۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top