ہمارے محلے مین ایک گھر تھا جن مین ایک باپ جو کہ سلائی کا م۔کرےتھے درزی کیندکان تھی اور ایک بیوی اس کی جو گھر مین عورتوں کے کپڑے سیتی تھی اور دو بیٹیاں ایک فرحانہ موٹی بھاری قسم کی اور ایک اس سے چھوٹی بہن نائلا کو دبلی پتلی سی لیکن اچھا فگر تھا چھوٹی میرے ساتھ میری کلاس مین پڑھتی تھی یہ۔تو تھے کردار
چھوٹی کیون کہ میری کلاس مین پڑھتی تھی تو مین اس سے کوئی آئینہ یا گائیڈ لینے یا دینے اس کے گھر چلا جاتا تھا گرمیوں کہ۔چھٹیون مین مجھے کوئی کام۔پڑا تو مین اس کے گھر گیا تو اس کی امی صحن میں کپڑے سلائی کر رہی تھی انہوں نے مجھے کہاکہ دونوں بہنیں چھت پر پڑھ رہی ہیں مین آرام سے چھت پر گیا تو مین نے سیڑھی سے اندر چھت پر قدم رکھا ہی۔تھا تو کیا۔دیکھتا ہون کہ۔دونون کی شلواریں نیچے ہوئی ہوئی ہین اور دیوار کے ساتھ چھوٹی بہن لگی ہوئی ھے اور بڑی بہن پیچھے سے اس کو چود رہی ھے مین دیکھ کر ایک۔دم۔واپس ہوگیا انہون نے مجھے نہین دیکھا تھا بعد مین کسی محلے کی لڑکی نے اپنے گھر بتایا کہ وہ سامنے والی۔فرحانہ نے میرے ساتھ غلط کام۔کہا۔ھے ایسی شکایت جب زیادہ ہوئیں تو لوگوں نے ان کو وہاں سے نکالنے کا سوچا کیون کہ وہ۔کرائے دار تھے۔ کچھ سال بعد مجھے ایک لڑکے نے بتایا کہ وہ۔بڑی لڑکی خسرہ تھی اس کا بڑا سارا لن تھا اور اس نے سب سے پہلے اپنی بہن کا شکار کیا اور پھر اور محلے کی لڑکیوں کو بھی پھسا کر ان کی سیل توڑی ایک بچی بہت کم۔سن۔تھی تو اس نے گھر بتا دیا تو ان کو گھر بدلنا پڑا۔ ماں باپ کو اس کا پتا تھا کہ وہ۔خسرہ ہے لیکن کسی کو نہین بتایا بڑی بنا کر پالا ویسے اس کی چھاتیاں اور بال اور جسم سارا عورتوں کی طرح تھا اب سوچتا ہوں کہ کاش اس وقت اتنی عقل ہوتی تو ان کے ساتھ مل۔کر مزے کرتا