قسط نمبر 11
ریاض عاقب کوہلر
اگلے دن طلوع آفتاب کے ساتھ ہی گلگارے کو اس کا شوہر وہاں چھوڑ گیا تھا۔وہ چند منٹ چچا شمریز کے ساتھ بیٹھا رہا۔مجھ سے معانقہ کرتے ہوئے اس نے پر خلوص انداز میں شکریہ ادا کیا تھا۔نشانہ بازی کی صلاحیت نے پٹھانوں کے درمیان مجھے عموماََ سرخ رو ہی رکھا ہے۔ہتھیار سے لگاﺅ پٹھانوں کے خون میں شامل ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے عربوں کو تلوار بازی اور تیر اندازی کا شوق ہوتا تھا۔نبی پاک ﷺ نے بھی اس شوق کو پسند فرمایا ہے۔بلا شبہ ایک جنگجو مومن ہی اسلام کی اشاعت،حفاظت اور ترقی کا ضامن ہوسکتا ہے۔ زیادہ دور نہ جائیں 1948کی پاک بھارت جنگ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ ، جب ریاستِ کشمیر میں ہندوﺅں ،سکھوں اور ریاستی افواج کی قتل وغارت کی کارروائیاں حد سے بڑھیں تو کشمیرکے انقلابی لیڈروں نے شمال مغربی سرحد کے قبائلی سرداروں سے رابطہ کر لیا۔قبائلی سرداروں نے کشمیری مسلمانوں کی آواز پر لبیک کہا اور پٹھانوں کے جتھے جنگ آزادی میں شامل ہونے کو کشمیر کی طرف چل پڑے۔ اس وقت پاکستانی فوج کے بکھرے ہوئے غیر منظم یونٹ یا تو پنجاب میں تقسیم ملک سے پیدا شدہ حالات سے بر سر پیکار تھے،یا مہاجرین کے قافلوں کو حفاظت مہیا کر رہے تھے کہ ان قافلوں پر ہندو اور سکھ بلوائی حملے کر رہے تھے۔قبائلیوں کی کشمیر میں آمد کے ساتھ ہی آزادی کی تحریک کو چار چاند لگ گئے اور مہاراجہ کی فوج کو ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔پاکستان آرمی کی کشمیر آمد تک ہندوﺅں کو ہر جگہ انھی پٹھانوں نے شکست و ہزیمت سے دوچار کیا تھا۔اور ان کا راستہ روکا، ورنہ ہندو اس وقت گلگت تک پہنچ چکا ہوتا۔گو بعد میں پاک آرمی نے حالات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے،کہ قبائلی پٹھان کوئی منظم فوج نہیں تھے۔وہ دشمن کے خلاف چھاپہ مار کارروائی تو کامیابی سے کر گزرتے لیکن دشمن کی شکست کے بعد زمین پر قبضہ جمانے کے بجائے کسی اور سمت کا رخ کر لیتے تھے۔
پلوشے تھوڑی دیر پہلے ہی ثمر خان کے ساتھ گھر سے باہر نکل گئی تھی۔اس کے ہاتھ میں اپنی کلاشن کوف اورثمر خان کے ہاتھ میں خالی بوتلیں دیکھتے ہی مجھے پتا چل گیا تھا کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے۔جلد ہی کلاشن کوف کے فائر کی آواز سنائی دینے لگی۔
گل بیٹی کو سلا کر ہمارے پاس آبیٹھی تھی۔
نشست سنبھالتے ہی وہ شوخی سے بولی۔”شکریہ۔“
”کس بات پر؟“میں نے حیرانی ظاہر کی۔
اس نے انکشاف کیا۔”اگر کل آپ کھونٹے کونہ گراتے تو میری سبکی ہو جانا تھی۔میں نے تماشا دیکھنے والی لڑکیوں کے سامنے اعلان کیا تھا کہ رنڑا کا لالا جان تین گولیوں میں ہدف گرا دے گا۔“
میں معنی خیز لہجے میں مستفسر ہوا۔”رنڑا کا لالا جان،تمھارا کیا لگتا ہے؟“
شمریز چچا نے اونچا قہقہ بلند کیاتھا۔گل کے جواب دینے سے پہلے دروازے پر دستک ہوئی اور چچا شمریز اس جانب بڑھ گئے۔
جواب گول کرتے ہوئے اس نے موضوع تبدیل کیا۔”پلوشہ کا رقص اچھا تھا یا میرا۔“یقینا وہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔اور جو موضوع اس نے چھیڑ دیا تھا اس بارے میں متردد تھا۔ گفتگو کا رخ موڑتے ہوئے میں نے انکشاف کیا۔
” کل ہم واپس جائیں گے۔“
وہ شاکی ہوئی۔”کیوں ....کیوں ....کیوں ؟“
میں لجاجت سے بولا۔”گل! چھٹی کے پانچ دن بقایا ہیں اورتین دن گھر تک پہنچنے میں لگیں گے۔“
وہ سرعت سے بولی۔”خواگااوبو سے پانچ کلومیٹر شمال کی طرف ترنگ خیل کلے ہے اب وہاں سے انگور اڈے تک گاڑی مل جاتی ہے۔اگر یہاں سے صبح کو چلیں تو سہ پہر تک انگور اڈے پہنچ جائیں گے۔“
میں نے جِز بِز ہوا۔”تو۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”دو دن مزید رہنا پڑے گا۔“
میں ملتجی ہوا۔”گل !سمجھنے کی کوشش کرو۔“
وہ برہمی سے بولی۔”یہ کوشش آپ کیوں نہیں کرتے۔“
میں سٹ پٹاتے ہوئے بولا۔”یہاں چار دن تو گزار لیے ہیں ۔“
وہ بے نیازی سے بولی۔ ”اپنی گڑیا بہن کے لیے گزارے ہیں ۔“
”شاید ضد و ہٹ دھرمی تمھارامذہب ہے۔“میں جھلا گیا تھا۔
”تو جائیں ، آپ کو پکڑا تو نہیں ہے۔“وہ بگڑ گئی تھی۔
گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے سر پکڑلیاتھا۔وہ خواہ مخواہ اپنی اہمیت جتانا چاہ رہی تھی۔ مجھے دو دن رکنے میں اتنا تردد نہ ہوتا اگر گزشتہ رات پلوشے سختی سے واپسی کا اعلان نہ کر چکی ہوتی۔تب میں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔اب میرے رکنے پر وہ بدک سکتی تھی۔یوں بھی گلگارے اور میرے تعلق کو وہ ناپسندیدگی کی سند سے نواز چکی تھی۔اس کے نزدیک کسی شادی شدہ لڑکی کا مجھ سے بے تکلف ہونا نہ صرف غلط بلکہ بہت بے ہودہ تھا۔گو رنڑا بھی نہایت دلکش ،جاذب نظر اور پرکشش لڑکی تھی،لیکن اس کی زبان مجھے لالا جان کہتے نہیں تھکتی تھی۔میں بھی اسے گڑیا بہن کہتا تھا۔لیکن گل کی گفتگومیں نہ تو بہن بھائی کا سابقہ، لاحقہ شامل ہوتا اور نہ غیروں کی سی جھجک تھی۔وہ بے تکلفی اور اپنائیت سے مخاطب ہوتی۔مجھے گھورتے ہوئے اس کی آنکھوں میں وارفتگی پوشیدہ ہوتی جو پلوشہ کو بالکل ناقابلِ قبول تھی۔
اچانک پلوشہ چہکتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔”راجو!دوتین گولیوں سے کل جتنے فاصلے پر میں نے بوتل کو نشانہ بنا لیا ہے۔آپ بے شک ثمر خان سے پوچھ لیں ۔“وہ دروازے کو رخ کر کے ثمر خان کو آواز دینے لگی۔
گل ایک جھٹکے سے اٹھ کر بغلی دروازے کی طرف بڑھ گئی تھی۔
”جی باجی!“ثمر خان اندر آیا۔
”اسے کیا ہوا؟“پلوشہ نے گل کی پشت کو گھورا۔
میں نے سرعت سے بہانہ گھڑا۔”شاید ننھی پلوشہ جاگ گئی ہے۔“
منہ بناتے ہوئے اس نے کندھے اچکائے اور ثمر خان کی جانب متوجہ ہوئی۔”ثمر خان!راجو کو بتاﺅ ناں میں نے دو تین گولیوں میں کتنی آسانی سے ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔“
وہ سعادت مندی سے بولا۔”جی لالاجان،باجی سچ کہہ رہی ہیں ۔“
پلوشے ہر قسم کے ہتھیارچلا لیتی تھی مگر اس کا نشانہ بالکل واجبی سا تھا۔ایسے لڑاکے قریبی لڑائی میں تو کارگر فائر کر لیتے ہیں لیکن سنائپنگ ان کے بس سے باہر ہوتی ہے۔میں نے سر جھٹک کر متبسم ہوا۔
”ثمر خان سچ بتا ﺅ،پلوشے نے کتنی گولیاں فائر کی ہیں ؟“چونکہ کلاشن کوف کی ”ٹخ....ٹخ۔“ کافی دیر تک سنتا رہا تھا اس لیے پلوشے کی دو تین گولیوں والی بات مجھے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
وہ ہکلایا۔”دد....دو ہی کی ہیں لالاجان!“
میں نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔”تمھارے باباجان جھوٹ کے بارے کیا کہتے ہیں ۔“
وہ سرعت سے بولا۔”یہی کہ جھوٹ مذاق میں بھی نہیں بولنا چاہیے۔“
میں نے چٹکی بجاتے ہوئے اشارہ کیا۔”اب سچ اگلو۔“
پلوشہ نے جلدی سے لقمہ دیا۔”زیادہ سے زیادہ پانچ ،چھے گولیاں چلائی ہوں گی۔کیوں ثمر خان۔“
”ثمر خان سر جھکاتے ہوئے بولا۔”لالاجان !صرف دو ہی چلائی ہیں ۔“
میں نے آنکھیں نکالیں ۔”ثمر خان....“
وہ گھبرا کر بولا۔”سس....سچ کہہ رہا ہوں لالاجان صرف دو میگزین خالی کی ہیں ۔“
پلوشہ تلملاتے ہوئے بولی۔”میرا موبائل فون فوراََواپس کرو۔“
وہ لجاجت سے بولا۔”بب....باجی!لالا جان نے زبردستی اگلوایا ہے۔“
اس نے برہمی ظاہر کی۔”میں کچھ نہیں جانتی،جو معاہدہ ہوا تھا تم اس پر پورے نہیں اترے۔“
ثمر خان نے ملتجی نگاہوں سے مجھے گھورا،میں متبسم ہوا۔”بھاگ جاﺅ،اسے میں پکڑ لیتا ہوں ۔“
وہ فوراََ مڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔پلوشہ کے قدم اٹھانے سے پہلے میں نے اسے تھام لیااور اس کی ہلکی نیلی آنکھوں کو باری باری ہونٹوں سے چھوتے ہوئے وارفتگی سے بولا۔ ”جب ان رائفلوں کا نشانہ رینج ماسٹر سے کئی گنازیادہ کارگراوردرست ہے تو تمھیں کسی اور ہتھیار سے خود کو اچھا نشانہ باز ثابت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔“
”دروازہ کھلا ہے کوئی آجائے گا۔“حیا آلود لہجے میں کہتے ہوئے وہ کسمساتے ہوئے میری گرفت سے نکل گئی تھی۔
میں نے ہنستے ہوئے کلاشن کوف اٹھا لی تاکہ صفائی کر سکوں ۔فائر ہونے کے بعد جتنا جلدی ہتھیار کو صاف کیا جائے اتنا بہتر ہوتا ہے۔دیر ہونے کی صورت میں بارود کے ذرات اور بُلٹ کی رگڑ سے چمٹنے والے سیسے سے بیرل کی اندرونی سطح رفتہ رفتہ خراب ہونے لگتی ہے۔زیادہ عرصہ گزرنے پر بیرل کے اندر گڑھے بن جاتے ہیں اور ہتھیار فائر کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ذاتی ہتھیار کی صفائی کے بارے سنائپر تو کچھ زیادہ ہی وہمی ہوتے ہیں ۔خاص کر راﺅ تصور صاحب کے شاگردتو اپنے چہرے کی صفائی سے زیادہ توجہ اپنے ہتھیار کی صفائی پر دیتے ہیں ۔
٭٭٭٭٭
رات کے کھانے پر چچا شمریز نے جانے کی بابت دریافت کیا تھا۔یقینا اس کی منشا یہی تھی کہ ہم چند دن مزید رہیں ۔
میرے بولنے سے پہلے گل نے اطمینان سے کہا۔”باباجان !یہ دودن مزید ٹھہریں گے۔“
چچا شمریز مسرت سے بولے۔”سچ؟“اسی وقت پلوشہ نے مجھے گھورا،لیکن کچھ کہنے سے گریز کیا تھا۔
میں نے صفائی سے موضوع تبدیل کیا۔”چچا جان!آپ ثمر خان کو پڑھنے شہر کیوں نہیں بھیجتے۔“
میرے جواب دینے سے اعراض برتنے کو جانے انھوں نے کیا سمجھا تھا ،مگر دوبارہ اس موضوع پر زبان نہ کھولی۔میں پلوشے کی موجودی میں گل کو نہیں سمجھا سکتا تھا ورنہ میرا لجاجت بھرا لہجہ سن کر پلوشے بپھر جاتی۔ گل کا مطالبہ ناجائز نہیں تھا۔وہ حقیقی معنوں میں میری محسنہ تھی اور اتنا حق جتا سکتی تھی کہ دو دن رکنے کو کہہ دے، لیکن اپنی جانِ حیات پلوشے کی مرضی کے خلاف کرنا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔اسے ناراض کرنے کا حوصلہ کرنا کم از کم میرے بس سے باہر تھا۔میرا ارادہ تھا کہ گل کو اکیلے میں اپنی مجبوری کا بتا کر اور اگلی چھٹی پر آنے کا وعدہ کر کے منا لوں گا۔وہ نہایت سمجھ دار لڑکی تھی،یقینا میری حالت کا ادراک اسے آسانی سے ہوجاتا۔
شمریز چچا بولے۔”گل تو کب کا زور دے رہی ہے،یہ بے شرم خودہی شوق نہیں رکھتا۔“
وہ معصومیت سے بولا۔”لالاجان!اسکول جانے کا کیا فائدہ،جبکہ میں آپ کی طرح نشانے باز بننا چاہتا ہوں ۔“
میں نے قہقہ لگایا۔”یہی تمھاری بے وقوفی ہے۔کیا بغیر تعلیم کے اچھا نشانے باز بنناممکن ہے۔“
وہ معترض ہوا۔”نشانے بازی کا تعلیم سے کیا تعلق۔“
”ایک گولی فائر کرتے وقت ہوا کی رفتار، بلندی پستی کا زاویہ،ہدف کا فاصلہ،ایمونیشن کی قسم اور کئی ایسی باتوں کا جاننا ضروری ہوتا ہے جو بغیر تعلیم کے ممکن نہیں اور یہ سب کچھ میں تب سکھا سکتا ہوں جب تم اچھی تعلیم حاصل کر لو۔“میرے لبوں پر شرارتی مسکراہٹ ابھری۔ ”تمھاری پلوشہ باجی کو میں کوشش کر کے بھی اچھا نشانے باز نہ بنا سکا۔اگر پڑھی لکھی ہوتی تو ایک بوتل پر دو میگزین ایمونیشن نہ پھونکتی۔“
چچا شمریز اور گل کا قہقہ بلند ہوا،پلوشے برہمی سے مجھے گھورنے لگی تھی۔
”ٹھیک ہے میں پڑھائی کرنے شہر جاﺅں گا،مگر آپ وعدہ کریں جب میں تعلیم مکمل کر لوں گا تو مجھے اپنے جیسا نشانے باز بنائیں گے۔“
”ان شاءاللہ میں تمھیں ضرور سکھاﺅں گا۔“میں نے وعدہ کرنے تساہل نہیں برتا تھا۔
کھانے کے بعدہم عشاءتک وہیں بیٹھے گپ شپ کرتے رہے۔میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ گل کو کس طرح اکیلا کر کے سمجھاﺅں ۔ایک دو بار آنکھیں چار ہونے پرجبکہ پلوشہ کسی اور جانب متوجہ تھی میں نے اشارے میں اجازت مانگی ،مگر اس نے بے نیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے نفی میں سرہلادیا تھا۔
عشاءکی نماز پڑھ کر میں موقعے کا متلاشی ہوا مگر پلوشے مجھے کمرے میں لے گئی۔
”راجو!سوتے ہیں ، کل کا دن سفر میں گزرے گااور مجھے سخت نیند آئی ہوئی ہے۔“
”جیسی سرکار کی مرضی۔“میں نے سرِ تسلیم خم کیا۔
وہ طمانیت سے مسکرا دی تھی۔ہم سونے لیٹ گئے مگر میری نظرو ں سے نیند غائب تھی۔میں کسی طرح گل کو قائل کرنا چاہ رہا تھا۔ورنہ صبح ہمارے چلے جانے کو وہ اپنی سبکی خیال کرتی، اس کا مان ٹوٹ جاتا، وہ پکی ناراضی گانٹھ لیتی۔اور یہ مجھے منظور نہیں تھا۔اسے منانااتنا بھی دشوار نہیں تھا بس پلوشہ کی غیر موجودی میں ا سے ملنے کی ضرورت تھی۔ ارادہ تھا کہ پلوشہ کے سوجانے پر اس کے پاس جاﺅں گا۔یقینا اس نے چچا شمریز اور ثمر خان کے کمرے ہی میں سونا تھا۔اور چچا شمریزکی موجودی مجھے تقویت دیتی۔
پلوشے تھوڑی دیر اٹھکیلیاں کر کے سو گئی تھی۔وہ کافی گہری نیند سوتی تھی۔شادی ہو جانے کے باوجود اس کی نیند الھڑ نادان لڑکیوں کی طرح بے فکری والی تھی۔لیکن میں اس کے گہرے سانس سن کر بھی نہ اٹھ سکا کہ وہ میرے بازو پر سررکھے لیٹی تھی۔اس کا ایک ہاتھ میری چھاتی پر دھرا تھا۔میں چاہت بھری نظروں سے اس کا معصوم چہرہ دیکھنے لگا۔وہ میری شریک حیات تھی،میرے دکھ سکھ کا ساتھی،ہنسی خوشی کی حصے دار،درد و غم بانٹنے والی، میری عزت،میرامان،میری محبت،چاہت،الفت۔اس کے دم سے میری زندگی میں بہاریں تھیں ، وہی میرے قہقہوں کی ضامن تھی،اسی کی وجہ میرے گھر کی رونقیں تھیں ،بلا شک و شبہ وہ بہت قیمتی، انمول اور بہترین بیوی تھی۔اس کی دید سے میری آنکھیں سیر نہیں ہوتی تھیں ۔اسے تکتے تکتے پتا ہی نہ چلا اور میں نیند کی میٹھی وادیوں میں کھو گیاتھا۔میری آنکھ پلوشہ کی آواز سے کھلی تھی۔ہلکے سے بڑبڑا کر اس نے کروٹ تبدیل کی اور مخالف جانب رخ موڑ لیا۔جمائی لیتے ہوئے میری نگاہ گھڑی پر پڑی۔سوئیاں دو کا ہندسہ عبور کر چکی تھیں ۔میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا گل کو قائل کرنے کا منصوبہ ادھورا رہ گیا تھا۔اتنی رات گئے گل سے بات چیت کرنا مجھے عجیب لگ رہا تھا۔گو چچا شمریز کے کمرے میں موجود ہونے کی وجہ سے مجھے جھجک محسوس نہیں ہو رہی تھی لیکن پھر بھی رات کے دو بجے گفتگو مناسب نہ رہتی۔میں دوبارہ لیٹ گیا ،لیکن گل کی ناراضی کا خیال آتے ہی میں نے کمرِہمت باندھنے کا فیصلہ کر لیا۔
ہمارے کمرے سے متصل گھر کا سٹور تھا اور اس کے ساتھ چچا شمریز کی خواب گاہ تھی۔گل کی شادی کے بعد ثمر خان اور رنڑا بھی باپ کے کمرے ہی میں سوتے تھے۔البتہ گل جب وہاں آتی تو دونوں بہنیں علیحدہ کمرے میں سوتی تھیں ، جو باورچی خانے سے ملحق تھا۔آج رنڑا کی غیر موجودی میں گل کوباپ کے کمرے ہی میں سونا چاہیے تھا۔یہی سوچ مجھے چچا شمریز کی خواب گاہ میں لے گئی ،دروازہ بھیڑا ہوا تھا مگر اندر سے کنڈی نہیں تھا۔ میں بے تکلفی سے دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا۔ہلکی چرچراہٹ ابھری جو خاموشی کے ماحول میں صور اسرافیل محسوس ہوئی تھی۔وہاں گل موجود نہیں تھی۔یقینا وہ آج اکیلے کمرے میں لیٹی تھی۔چچا شمریز اور ثمر خان دروازے کی چرچراہٹ سے نہیں جاگے تھے۔میں دبے قدموں واپس مڑا اوردروازے کو بھیڑتا ہوا باہر نکل گیا،دوسری بار بھی دروازے نے۔”چوں ....چوں ۔“کر کے گہرا احتجاج کیا تھا۔
گل کے پاس اکیلے کمرے میں جانے کی ہمت خود میں مفقود پاتا تھا۔گو میرا غلط ارادہ نہیں تھا، نہ گل کمزور کردار کی مالک تھی لیکن پھر بھی رات کے اس وقت ہمارے گفتگو کرنے کو کسی صورت مناسب خیال نہیں کیا جا سکتا تھا۔میں اپنے کمرے کی طرف مڑا۔دو قدم لیتے ہی میری سماعتوں میں دھماکا ہوا۔
”راجو!“ گل کی مدہم آواز نے بھی مجھے اچھلنے پرمجبور کر دیا تھا۔وہ خواب گاہ کے دروازے پر کھڑی تھی۔
”کیا بات ہے ؟“ چند قدم لے کر اس نے بے تکلفی سے میرا ہاتھ تھام لیا تھا۔
”وہ....مم....میں ....“میں گڑبڑا گیا تھا۔میری چور نظریں چچا شمریز کی خواب گاہ کی جانب اٹھیں اور پھر میں نے مڑ کر اپنے کمرے کی طرف دیکھا۔پلوشے یا چچا شمریز کسی کے جاگنے کی صورت میں بھی بھاری ندامت میرا نصیب بن سکتی تھی۔
”مجھے ڈھونڈ رہے تھے۔“گل کی آواز میں ذرا بھی جھجک اور ہکلاہٹ شامل نہیں تھی۔
”ہا....ہاں ،مگر فی الحال تم سوجاﺅ صبح بات کریں گے۔“میں نے ہاتھ اس کی ملائم و گرم گرفت سے چھڑانا چاہا۔
اس نے گرفت سخت کرتے ہوئے برہمی ظاہر کی۔”خود پر بھروسہ نہیں ہے یا میرے کردار پر شبہ ہے۔“
میں چڑ چڑا ہوا۔”گل فضول باتیں نہ کرو۔“
وہ بدتمیزی سے بولی۔”اور آپ کاکیا،میرا مطلب آپ کو مکمل اجازت ہے فضول باتوں کی۔“
”آرام کرو۔“میں نے اپنے کمرے کی طرف مڑنا چاہاکہ وہاں مزید ٹھہرنا مناسب نہیں تھا۔
”ٹھہریں ۔“میرے ہاتھ پر اس کی گرفت سخت ہوئی۔”پہلے یہ بتائیں کیا کہنا چاہتے تھے۔“
”گل سو جاﺅ۔“میں نے دبے لہجے میں جھڑکا۔”کوئی اٹھ گیا توالگ تماشا بن جائے گا۔“
وہ بے پروائی سے بولی۔”ڈرتا کون ہے۔“
”سمجھنے کی کوشش کرو۔“میں جھلا گیا تھا۔
”میرے ساتھ آئیں ۔“اس نے مجھے اپنے کمرے کی طرف کھینچا۔
”پاگل تو نہیں ہوئی ہو۔“میں بدک گیا تھا۔
”راجو!میں جانتی ہوں آپ نے کوئی ضروری بات کرنا ہے،اب وقت ہے کر لو۔وہاں کوئی جھانکنے نہیں آئے گا۔اور کم از کم آپ کو میرے کردار پر شک نہیں کرنا چاہیے۔“
”گل میں شک........“
”چلیں ۔“قطع کلامی کرتے ہوئے اس نے مجھے دروازے کی جانب کھینچا اور میں ہچکچاتا ہواساتھ ہو لیا۔
”بیٹھو۔“اس نے مجھے خالی چارپائی پر دھکیلااوردوسری چارپائی پر نشست سنبھال کر متبسم ہوئی۔ ”اب بولیں عشاءکوکیا اشارے کر رہے تھے۔“
میں شاکی ہوا۔”تمھیں نہیں معلوم۔“
اس نے منہ پھلایا۔”راجو میرا اتنا حق بھی نہیں ہے کہ آپ کو دو دن رکنے کا کہہ سکوں ۔“
میں بغیر لگی لپٹی رکھے بولا۔”میں آج تک تمھارے ساتھ رشتے کا تعین نہیں کر سکا۔ تجاہل عارفانہ سے کام لے کر اسے اچھی دوستی کا نام دے سکتا ہوں ،مگر عورت مرد کی دوستی کی نہ شریعت اجازت دیتی ہے اور نہ ہمارا معاشرہ۔یہ تمھارے شوہر کو پسند ہو گا نہ میری بیوی ہی اس کی اجازت دے گی۔پلوشہ بہت فراخ دل بیوی اور اعلیٰ ظرف لڑکی ہے۔ لیکن یقین مانو پہلے دن سے میرے ساتھ تمھاری بے تکلفی کونہ صرف شدت سے محسوس کیاہے بلکہ نا پسندیدگی کی سند سے نوازا ہے۔حالاں کہ رنڑا بھی تمھاری طرح خوب صوت ،معصوم اور پیاری ہے مگر اس کی بے تکلفی پلوشہ پر گراں نہیں گزری کہ وہ مجھے لالاجان کہتی ہی نہیں سمجھتی بھی ہے۔“
اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”آپ کو بھائی سمجھتی ہوں اور نہ بہن بننے پر تیار ہوں ۔“
”وہی تو جاننا چاہتا ہوں کہ ہمارے درمیان کیا رشتہ ہے؟“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں جانتی۔“
”کیا چاہتی ہو؟“میں کھل کر سامنے آگیا تھا کہ جب تک اس کی غرض معلوم نہ ہوتی سمجھانا دشوار تھا۔
ارزق چشم (نیلی آنکھیں )میرے چہرے پر مرکوز ہوئیں ۔ان میں گلہ، شکوہ اور اذیت ہویدا تھی۔
”کبھی تنہائی میں بھی میری قابلِ گرفت حرکت دیکھی ہو۔سب کے سامنے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ لیتی ہوں اور اب بھی صرف ہاتھ چھونے کی گستاخی کی ہے۔اور قسم کھاتی ہوں اگر جذبات سے مغلوب ہو کر آپ مجھے نازیبا چھونے کی کوشش کرتے توتھپڑمارنے میں تساہل نہ برتتی۔شوہر کی امانت میں خیانت کا میں تصور بھی نہیں کر سکتی۔البتہ دل میرے اختیار میں نہیں ہے۔اور امید ہے بے اختیاری کوکراماََ کاتبین بھی قلم بند کرنے سے گریز فرمائیں گے۔“
میں نے دہائی دی۔”گل! میں کیا کروں ،تم میری محسنہ ہو۔تمھیں خفا نہیں کر سکتا۔تمھارا حق جتانا یا فرمائشیں کرنا بھی مجھے گراں نہیں گزرتا،مگر میری شریک حیات اس کی اجازت نہیں دیتی۔وہ صرف میری بیوی ہی نہیں محبوبہ بھی ہے۔ اسے ناراض کرنے یا دکھ دینے کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔ہمارے الجھے ہوئے رشتے کی زد میں آکر دونوں کی خانگی زندگی کسی بھی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتی ہے۔ “
وہ بے نیازی سے بولی۔”پروا کسے ہے۔“
میں معترف ہوا۔”مجھے۔“
اس کے ہونٹوں پر خوب صورت مسکراہٹ ابھری۔”تو یہ آپ کا مسئلہ ہے۔“
میں جِزبِز ہوا۔”گل تنگ نہ کرو سمجھیں ۔“
”یہی درخواست آپ سے بھی ہے۔“وہ کچھ سمجھنے کو تیا رنہیں تھی۔
میں تلملاتے ہوئے بولا۔”چاہتی کیا ہو؟“
اس نے منہ بنایا۔”کچھ بھی نہیں ۔“
”صبح ہم واپس جائیں گے۔“میں نے لاینحل بحث کا خاتمہ کیا۔
لبوں پر مَدُھرتبسم بکھیرتے وہ مخمور لہجے میں بولی۔”صرف اتنی سی بات منوانے کوآپ رات کے دو بجے مجھے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔“
”تو کیا کرتا،پلوشے صبح جانے پر بہ ضد تھی اور تمھاری سوئی مجھے روکنے پر اٹکی تھی۔“
وہ خوش دلی سے بولی۔”ٹھیک ہے چلے جانا۔“
”شکر ہے۔“میرے چہرے پر اطمینان پھیل گیا تھا۔
وہ کھل کھلائی۔”آپ پوچھ رہے تھے نا مجھے کیا چاہیے؟“
”تو....“بے ربط ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتے ہوئے میں نے نظریں چرائیں ۔
وہ وارفتگی سے بولی۔”بس اتنامان رکھ لیا کریں ۔یہ مجھے کافی سے بھی زیادہ ہے۔اور یقین کریں میں نے آج ایک لحظے کو بھی آنکھیں نہیں جھپکیں ،مسلسل جاگ کر آپ کا انتظار کر رہی تھی۔ آپ سے بات چیت کی غرض ہی سے میں علیحدہ سوئی ہوں ۔جونھی ابو جان کے کمرے کا دروازہ چرچرایا مجھے معلوم ہو گیاکہ آپ تشریف لے آئے ہیں ۔“
”اجازت ہے۔“میں نے اٹھنے کو پر تولے۔
”ایک بات پوچھوں ؟“
”تمھیں اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔“
وہ شاکی ہوئی۔”اتنا برا رقص تو نہیں کرتی کہ آپ نے تھوڑی دیر دیکھنا بھی پسند نہ کیا۔“
رقص کو اعضاءکی شاعری کہتے ہیں اور اس نسبت سے اس کے مصرعے،تشبیہات و استعارات، قافیے و ردیف اوربندشیں ایسی تھیں کہ سننے والے،میرا مطلب دیکھنے والے عقل و خرد سے بے گانہ ہوجاتے۔وہ خوش شکل ہی نہیں خوش بدن بھی تھی۔شادی کے بعد اس کاچھریرا بدن فربہی مائل ہو گیا تھاجو پہلے سے زیادہ جاذب نظر اور پرکشش لگتاتھا۔میں یہ سب کچھ سوچ کر رہ گیا تھا کہ کہنے کا حوصلہ مفقود پاتا تھا۔وہ میرے لیے قابلِ احترام و معزز تھی اور جن کی عزت کی جاتی ہے ان پر پھبتیاں کسی جاتی ہیں نہ حیا سوز گفتگو کی جاتی ہے۔
بدقت تمام بولا۔”تمھیں ناچتے ہوئے دیکھنے کامجھے قانونی اختیار نہیں تھا۔“
وہ مصر ہوئی۔”میں نے خود بلایا تھا۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”ہاں ،مگر تمھارے پاس بھی یہ اختیار نہیں ہے۔“
میرے رو برو آتے ہوئے اس نے گہری نظروں سے میری آنکھوں میں کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کی۔
”راجو!اپنی گڑیا بہن کی باجی کو مجبور سمجھ کر معاف کردینا۔“
میرے لبوں پر پھیکی مسکراہٹ ابھری۔”اپنا خیال رکھنا گل!“اور دروازے کی طرف مڑ گیا کہ وہاں میں نے اتنی دیرلگا دی تھی جو بدنامی سے کچھ زیادہ ہی تھی۔گل سے اپنا رشتہ میں اب بھی نہیں سلجھا سکا تھا ،لیکن کم از کم یہ اطمینان ضرور ہو گیا تھا کہ وہ بے راہروی پر آمادہ نہیں تھی۔محبت اور عزت وعصمت میں چناﺅ کامرحلہ آتا تو اس کا انتخاب عصمت ہوتی۔اسے بس ذرا سی توجہ درکار تھی۔میں نے ابتداءہی سے اسے بہت زیادہ اہمیت اور مان دیا تھا اور اب اسے اپنا حق سمجھ کر وہ دست بردار ہونے پر تیار نہیں تھی۔
دھیرے سے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے میں نے باہر قدم رکھا اور میرے سر پر جیسے بم پھٹا تھا۔ پلوشہ صحن کے بیچوں بیچ کھڑی اسی جانب متوجہ تھی۔میں سن ہی تورہ گیا تھا۔پورے جسم سے جان جیسے رخصت ہو گئی تھی۔ میں نے فوراََ خود کو سنبھالنے کی کوشش کی کہ غیر ہوتی حالت مجھے مجرم ثابت کر دیتی،جبکہ میرا فعل غلط ہونے کے باوجود میں ضمیرکی عدالت میں پاک صاف تھا۔
”یہاں کیوں کھڑی ہو اندر آجاتیں ۔“کوشش کے باوجود میں لہجے کی لرزش پر قابو نہیں پا سکا تھا۔لگ رہا تھا کوئی انہونی ہو گئی ہے۔پلوشہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔گہرے سانس لیتے ہوئے وہ بار بار یاقوتی لبوں کو باہم بھینچ کر تر کر رہی تھی۔
اس نے ماضی کرید ا۔”آپ نے تو خواب گاہ میں اس لیے قدم رکھا تھا کہ آپ کے پاس ماہین کوقتل کرنے اورطلاق دینے کا اختیار تھا۔مظلوم حوا زادی کے بس میں کیا ہے۔میں تو صحن میں کھڑی خوش فہمیاں پال رہی تھی،کمرے میں جھانک کر دل خراش منظر دیکھنے کی تاب مجھ میں کہاں تھی۔“
”اے ....ایسا کچھ نہیں ہے پلوشے! میں قسم کھاتا ہوں ہم صرف بات کر رہے تھے۔میں بس اسے سمجھا رہا تھا۔“
وہ زہر خند ہوئی۔”جیسے ماہین ،طاہر کو سمجھا رہی تھی ہے نا۔“
اسے بازوﺅں سے تھامتے ہوئے ملتجی ہوا۔”تت....تم....تم غلط سمجھ رہی ہوپلوشے!کیا اپنے راجو پر اعتماد نہیں ہے۔“
وہ کراہی۔”کوئی دوسرابتاتا تو اس کا گریبان تھام لیتی۔“
”میں نے پوچھا۔”کیا اپنے راجو پر اعتماد نہیں ہے؟“
وہ ایک جھٹکے سے خود کو چھڑاتے ہوئے سسکی۔”تھا،اسی کا نتیجہ تو بھگت رہی ہوں ۔“
”جانتی تو ہوگل ہمارے جانے کے حق میں نہیں تھی اور تم واپسی کی خواہاں تھیں ،میں بس اسے سمجھانے گیا تھا کہ اپنی بیوی کی بات نہیں ٹال سکتا۔میرا مقصد فقط اسے دل آزاری سے بچانا تھا۔“
وہ تلخی سی بولی۔”اگر اس کا شوہر تمنا کرتا کہ میں دودن مزید یہاں قیام کروں تو کیاسمجھانے کو مجھے اس کے ساتھ اکیلے کمرے میں بند ہونے کی اجازت دے دیتے۔“
میرا ہاتھ گھوما،تھپڑا کھا کر وہ نیچے گر گئی تھی۔
آنکھیں برساتے ہوئے وہ لرزتے ہوئے اٹھی۔”کاش یہ اختیار عورت کے پاس بھی ہوتا۔“
جاری ہے
قسط نمبر 13
ریاض عاقب کوہلر
”تو آج کل کیا چل رہا ذیشان میاں ۔“کرنل صاحب کے جاتے ہی وہ بے تکلفی سے مخاطب ہوئے۔
میں ادب سے بولا۔”چھٹی سے آج ہی لوٹا ہوں سر!پہلے پاک ،افغان سرحد پر تعینات تھا۔“
”گھر میں خیریت ہے؟....اگر مزید چھٹی چاہیے ہو تو بتاﺅ،کیوں کہ میں نہیں چاہتا دوران مشن تمھیں گھرکے مسائل ستاتے رہیں ۔“
”الحمداللہ سربالکل خیریت ہے۔آپ بے فکر ہوکر کام بتاسکتے ہیں ۔“
وہ صاف گوئی سے بولے۔”گو ایک پاکستانی سنائپر کو موت سے ڈراناعجیب بلکہ احمقانہ لگتا ہے،لیکن تمھیں خطرے سے آگاہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔چوں کہ یہ میرا ذاتی کام ہے اور تمھاری ذمہ داری وطن کی خدمت و حفاظت ہے اس لیے تمھارے پاس انکار کا انتخاب موجود ہے۔“
میں محتاط انداز میں بولا۔”میرا نہیں خیال اتنے بڑے عہدے کا آفیسر کوئی غیر قانونی کام لینا چاہے گا۔ باقی اہلِ پاکستان کی خدمت بھی دراصل وطن ہی کی خدمت ہے۔“
انھوں نے بھرپورقہقہ بلند کیا۔”ہوشیار ہو،غیر قانونی کام کا ذکر کے اپنی ترجیحات کا اعلان خوب صورت انداز میں مجھ تک پہنچانے کا شکریہ۔“
میں خفیف ہوتا ہوا بولا۔”سر !اگر برا لگا ہو تو معذرت خواہ ہوں ۔“
وہ خوش دلی سے بولے۔”اچھا لگا ہے اس لیے تو شکریہ کہا ہے۔“
”تو کام بتائیں ۔“
اس کے ہونٹوں پر خوب صورت مسکراہٹ نمودار ہوئی اور وہ شرارتی لہجے میں بولے۔”ایک خوب صورت ،پرکشش و جاذب نظر حسینہ کواغواءکرانا ہے،عمر یہی کوئی اٹھارہ سال آٹھ مہینے اور....“انھوں نے گھڑی پر نگاہ ڈال کر لمحہ بھر توقف کیا۔ ”سترہ دن،نام ہے پرما ملہوترا۔“
میں نے الجھن آمیز حیرانی سے پوچھا۔” سمجھا نہیں سر!“
وہ شوخی سے بولے۔”میں سمجھا دوں گا،پہلے ہامی تو بھرو۔“
میں اتنے سینئر آفیسر کے مذاق کا برا بھی نہیں منا سکتا تھا۔مجبوراََ ان کا ساتھ دینا پڑا۔”سر! قسم لے لیں کبھی کسی لڑکی کو اغواءکرنے کا اتفاق نہیں ہوا،نہ اغواءبرائے تاوان والے کسی ٹولے سے واقفیت ہے۔ میرا کام تو لبلبی دبا کر دشمن کو اوپر پہنچاناہے۔اور کسی خوب صورت لڑکی پر گولی چلانا ،چاہے وہ ہندو ہی کیوں نہ ہو خاصادشوار ہے۔“
وہ دل کھول کر ہنسے،پہلی نظر میں پر رعب ،سنجیدہ و بردبار نظر آنے والا شخص نہایت زندہ دل ،ہنس مکھ اور جلد بے تکلف ہونے والا تھا۔
”یار تمھیں گولی چلانے کو کس نے کہاہے۔اسے گولی لگی تو اس سے پہلے میری جان نکل جائے گی۔ میں نے کہا اغواءکر کے لانا ہے۔اور ایمان سے ،وہ مجھے شہناز بیگم سے بھی کئی گنا زیادہ عزیز ہے۔وہ ہے ہی اتنی پیاری کہ اب کیا کہوں ۔“
میں نے چپ سادھ لی تھی۔
انھوں نے ایک اور قہقہ اچھالا۔”شاید سوچ رہے ہو کہ ایک بڈھا اٹھارہ سالا دوشیزہ سے کیسے محبت کر سکتاہے،مگر یار محبت تو محبت ہے نا کسی سے بھی ہو سکتی ہے،مجھے بھی ہو گئی۔“
میں ہکلایا۔”نن....نہیں سر!ایسی گستاخانہ سوچ میرے دماغ میں پیدا نہیں ہو سکتی۔“
انھوں نے ایک دم غیر متعلق سوال پوچھا۔” شادی شدہ ہو؟“
”جی سر!“میں نے اثبات میں سرہلایااور دشمن جاں کود کر میری آنکھوں میں آبسی۔ وہ توناراض ہونا جانتی ہی نہیں تھی۔پتا نہیں اتنا سنجیدگی سے خفا ہونا کہاں سے سیکھ لیا تھا۔
انھوں نے دوسرا سوال پوچھا۔”بچے کتنے ہیں ؟“
”سر!ایک بیٹا ہے۔“انھیں سنجیدہ دیکھ کر میرے ہونٹوں سے بھی ہنسی غائب ہو گئی تھی۔
ان کے سوال جاری رہے۔”جانتے ہو،مرد کو بیٹا زیادہ پیارا ہوتا ہے یا بیٹی؟“
”سر!سنا تو یہی ہے کہ بیٹی زیادہ پیاری ہوتی ہے۔“
”صحیح سنا ہے یار!بیٹی بہت پیاری ہوتی ہے۔خاص کر اس صورت میں جب اکلوتی ہو۔“وہ دکھی نظر آنے لگے ،ہنستے چہرے پر غم کے بادل چھا گئے تھے۔چند لمحے گہری سوچ میں ڈوبے رہے اور پھرمیری طرف رخ موڑا،گہرے رازوں کی امین آنکھوں میں پانی کی مقدار گنجائش سے بڑھ گئی تھی۔اگلے ہی لمحے مقدس پانی کٹوروں کا بند عبور کر کے گالوں پرلڑھکتے ہوئے اعلان کرنے لگا کہ دکھ کے اظہار میں بڑے عہدہ دار ان کا طریقہ کم درجہ لوگوں سے مختلف نہیں ہوتا۔انھیں آبدیدہ دیکھ کر میں محجوب ہو گیا تھا۔میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیسے تسلی دوں ۔ایک سپاہی ،بریگیڈئر کو کیا دلاسا دیتا۔مگر پھر میں حوصلہ کر کے اٹھا اور قریب بیٹھ کران کا ہاتھ سہلانے لگا۔
”سر!دکھوں کامقابلہ کرنا مشکل ضرور ہے پرناممکن نہیں ہے۔اللہ پاک کی ذات پر توکل کرنا ایسا ہتھیار ہے جو ہر دکھ کا گلا کاٹ دیتا ہے۔ امید کا دامن پکڑے رکھناکامیابی کی نوید لاتا ہے اورجب تک آس زندہ ہوتی ہے ناممکنات ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں ۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے انھوں نے رومال آنکھوں پر پھیرااور شفقت بھرے لہجے میں بولے۔ ”شکریہ بیٹا!“
میں خاموشی سے ان کے مزید بولنے کا منتظر رہادو تین لمحے سوچنے کے بعد انھوں نے انکشاف کیا۔
”پرما ملہوترا میری بیٹی ہے،میری ننھی شہزادی ،جان سے پیاری پری ہے۔“
”کیا....؟“میں ہکابکا رہ گیا تھا۔
میری حیرانی کو درخور اعتناءنہ جانتے ہوئے ان کی بات جاری رہی۔”اس وقت میں کیپٹن تھا۔تین ماہ دورانیے کے انٹیلی جنس کورس میں نمایاں کارکردگی نے میرے لیے ایک ایسی راہ کا تعین کردیاتھا جسے اختیار کرنے کی صورت میں گھربار کیا ،وطن کی آب ہوا بھی شجر ممنوعہ بن جاتی۔ غیر شادی شدہ ہونامیرا انتخاب کرنے والوں کے لیے مزیدترغیب آمیز تھا۔مجھے اپنا پیارا وطن چھوڑ کرغیر معینہ مدت تک بھارت میں رہنا تھا۔ کافی سوچ و بچار کے بعد میں نے رضامندی کا اظہار کر دیا۔والدہ صاحبہ حیات نہیں تھیں ورنہ یہ فیصلہ آسانی سے نہ کر سکتا۔والد صاحب ریٹائرڈکرنل تھے اور ایک فوجی کو وطن کی محبت کا درس دینااس کی خدمات کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔انھوں نے میرے فیصلے کو کشادہ دلی سے سراہا تھا۔بلاشبہ وہ ایک عظیم شخص تھے۔آج اپنی اولاد سے جدا ہونے کے بعد مجھے ان کے دکھ کا ادراک ہورہا ہے۔گو مجھ سے بڑا بھائی انھیں سنبھالنے کو موجود تھا پر ان کا اپنا مقام تھا وہ میری جگہ کبھی پُر نہیں کر سکتے تھے۔ ابوجان کی شفقت پدری پر وطن کی محبت غالب آگئی اور انھوں نے اپنے دکھ کو بہ ظاہر ہنستے ہوئے گلے سے لگا لیا تھا۔خیر میری رضامندی اور ابوجان کی اجازت ملنے کے بعد میری تربیت نئے سرے سے شروع ہوئی۔جو سال بھر جاری رہی۔تب پتا چلا کہ تین ماہ کے کورس میں میری سکھلائی ابجد سے آگے نہیں بڑھ پائی تھی۔اس بار مجھے ہندی اوربھارت میں بولی جانے والی دوسری دو تین مشہورزبانیں مراٹھی تامل وغیرہ سکھائی گئیں ، ہندی رسم الخط سکھایاگیااورمیری تربیت اس نہج پر ہوئی کہ میں سوچتا بھی ہندی میں تھا۔(بے شک ہندی ،اردو کی اصل ایک ہے ،مگر وقت گزرنے کے ساتھ اردو میں سنسکرت کے مشکل اور ناقابلِ فہم الفاظ متروک ہو گئے اور ان کی جگہ عربی وفارسی کے سہل و خوش تلفظ الفاظ کثیر تعداد میں در آئے اوراردو نے رسم الخط بھی عربی،فارسی سے مستعار لے کر ایک علیحدہ شناخت بنالی جبکہ ہندی سنسکرت سے جڑی رہی)مجھے نئی شاخت ملی،میرا نام پاریش ملہوترا رکھا گیا۔انبالہ کے ایک مضافاتی گاﺅں کی شہریت ملی۔ نقلی والدین ملے۔لیکن ان بے چاروں کی نظر میں ، میں ان کا سگا بیٹا ہی تھا۔اس معاملے میں ذرا سا خطرہ بھی مول نہیں لیا گیا تھا۔موہن ملہوتراکا بڑا بیٹا لڑکپن میں غائب ہو گیا تھا۔اس کی تلاش میں کافی سرگرمی دکھائی گئی مگر بیٹا واپس نہ مل سکا۔آخر رودھو کر انھیں چپ سادھنا پڑی۔ماں کسی بھی مذہب،کسی بھی مسلک،کسی بھی قوم کی ہوماں ہی ہوتی ہے۔اولاد کو بھول جانا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔رادھا ملہوترابھی اپنے بیٹے کو بھلا نہیں پائی تھی۔پاکستان میں جونھی میری تربیت شروع ہوئی،انبالہ میں موجود مخصوص افراد نے موہن ملہوترا کے گرد دائرہ تنگ کرنا شرع کر دیا۔بڑی چابک دستی اور منصوبہ بندی سے اس تک بیٹے کی زندگی کی نوید پہنچائی گئی۔پگلی ماں کی تو نیندیں ہی حرام ہو گئیں ۔ اپنی بے چینی و بے قراری پر جو دبیز پردے ڈالے تھے وہ تارِ عنکبوت کی طرح بکھر گئے۔میری ناگفتہ بہ حالت کی تصاویر دکھا کر ان کے سکون و آرام کو تہ و بالا کیا گیا۔یہاں تک کہ موہن ملہوترا نے بیٹے کی بازیابی کی کوششیں تیز کر دیں ۔دورانِ تربیت مجھے ان کے پورے خاندان کی تصاویر دکھا کر نہ صرف ان کی شناخت میرے دماغ میں نقش کی گئی بلکہ پاریش ملہوترا کے دائیں گال پر بنا مخصوص تِل اور بائیں کہنی پرپرانے زخم کا نشان بھی میرے جسم کا حصہ بن گیاتھا۔ تربیت کے خاتمے پر میں خفیہ طریقے سے انبالہ پہنچایا گیا۔ آخر ایک دن موہن ملہوترااپنے بیٹے کے حصول میں کامیاب ہو ہی گئے۔سات آٹھ سال بعد انھیں بیٹا ملا تھا۔پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔مجھے اپنے اغواءکی مکمل کہانی ازبر تھی۔کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا تھا۔
موہن ملہوترایک متمول شخص تھا۔شناخت کے مرحلے سے فارغ ہوتے ہی میں نے باپ کے سامنے پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔پاریش مڈل میں تھا جب غائب ہوا تھا۔اب میں وہیں سے آغاز کرتا تو یقینا آٹھ دس سال حصولِ تعلیم ہی میں برباد ہوجاتے۔مگر موہن ملہوترا نے میرے لیے گھر ہی پراستاد کا بندوبست کر دیا۔ پہلے ہی سال میں نے میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کر لیا۔اگلے دو سال میں ایف اے کر کے میں نے آرمی جوائن کرنے کی کوشش شروع کر دی۔اپنے شناختی کاغذات میں میں نے عمر کافی کم درج کرائی تھی۔میرا چہرہ بھی ایسا تھا کہ عمر سے پانچ چھے سال چھوٹا ہی لگتا تھا۔
موہن ملہوترا کی کوشش سے میں بھارتی فوج میں آفیسر بھرتی ہو گیا۔پاک فوج کی اعلیٰ تربیت نے مجھے ہر میدان میں سرخ رو رکھا۔بہ ہر حال یہ طویل داستان ہے جو ایک نشست میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے میں اجمالاََ ان واقعات پر روشنی ڈال رہا ہوں ۔تربیت کے خاتمے پر کیپٹن بننے تک مجھے چھوٹے چھوٹے کام سونپے جاتے رہے اور پھر میرے ذمہ ایک عجیب کام لگایا گیا۔مجھے پاروتی شکلا نامی لڑکی کو محبت کے جال میں پھانس کر شادی کرنا تھی۔“
گہرا سانس لے کر انھوں نے صوفے سے ٹیک لگائی چند لمحوں بعد مضمحل آواز ابھری۔” جاسوس بننے والے کوایسے غیر اخلاقی کاموں سے بھی پالا پڑتاہے جن کی اجازت نہ شریعت دیتی ہے اور نہ انسان کا ضمیر،مگر مادرِ وطن قربانی مانگتی ہے اوربیٹوں کو سرتسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔میں بھی چھٹیوں میں آگرہ پہنچ گیا کہ اس کا تعلق آگرہ ہی سے تھا۔وہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھی۔کم بخت فوجیوں میں ایک خصلت مشترک ہے کہ محبت کرتے ہیں مگر طریقہ کار سے ناواقف ہوتے ہیں اور میں تو اس معاملے بالکل اناڑی تھا۔یونیورسٹی کی طالبہ کا سامنا کرنا مجھے ٹینک کے نیچے لیٹنے سے مشکل لگ رہا تھا۔اس کی دلکش شکل اور تیز ی طراری دیکھ کر تومیں نے ناکامی کا اعلان کرنے کا ارادہ کر لیا۔گو اس کی تصویر میں نے پہلے سے دیکھی ہوئی تھی ،لیکن سامنے آنے پر وہ تصویر سے کئی گنا زیادہ خوب صورت و طرح دار لگی۔تین دن مسلسل اس کا پیچھا کرتا رہا۔وہ کلاس روم میں ہوتی اور میں نامراد عاشق کی طرح سبزہ زار یا کیفے میں بیٹھ کر راہ تکتا رہتا۔تعاقب کے چوتھے دن جب وہ سہیلیوں کے جھرمٹ میں کیفے میں بیٹھی تھی اور میں فیصلہ کر چکا تھا کہ شام کو اپنی ناکامی کی باقاعدہ رپورٹ متعلقہ شخص کے حوالے کر دوں گا۔ بالکل اچانک اور غیر متوقع طور پر وہ اپنی سہیلیوں کو معذرت کرتے ہوئے میرے سامنے آبیٹھی۔میں اسے پھانسنے کے چکروں میں تھا لیکن اس کے قریب آنے پر ہاتھ پاﺅں پھول گئے تھے۔اورمیرے چہرے پر گھبراہٹ نمودار ہو گئی تھی۔اس نے اطمینان بھرے انداز میں پانی کا گلاس بھر کر میری جانب کھسکا دیا۔
”پانی پی لو۔“
میں نے پورا گلاس ایک ہی سانس میں معدے میں انڈیل لیاتھا۔
اس نے اطمینان سے پوچھا۔”اب بتاﺅ،پیچھا کیوں پڑے ہو؟“
”نن....نہیں مادام ....ایسا تو نہیں ہے۔“میں بری طرح ہکلا گیا تھا۔
اس نے آنکھیں نکالیں ۔”پاروتی شکلاکو جھوٹ بولنے والے ایک آنکھ نہیں بھاتے۔“
میں نے تھوک نگلتے ہوئے دائیں بائیں دیکھ کرراہ فرار تلاش کی،عجیب مصیبت میں گرفتار ہو گیا تھا۔ اس کا قریب بیٹھنا اچھا بھی لگ رہا تھااور بھاگنا بھی چاہتا تھا۔اس کی مترنم آواز حواسوں پر چھارہی تھی اور استفسار سے گھبراہٹ بھی ہو رہی تھی۔اس کی صورت سے آنکھیں ٹھنڈک بھی پا رہی تھیں اور نظریں بھی چرانا چاہتا تھا۔
”کیا پوچھا ہے۔“میز پر دونوں ہاتھ ٹیکتے ہوئے وہ آگے کو جھکی۔
اور تب اس چیونٹی کے مصداق جو ہاتھی کے پاﺅں تلے آتے وقت بے بسی سے کاٹ لیتی ہے،میں نے بھی ہڑبڑاتے ہوئے اُگلا۔”تت....تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔“
اس کی موٹی آنکھوں نے پھیل کر پورے چہرے کو ڈھانپ لیا تھا۔”کیا آپ پاگل ہیں ۔“
تیر کمان سے نکل چکا تھا،پیچھے ہٹنے اور انکار کی گنجائش نہیں رہی تھی۔میری قسمت میں یونیورسٹی کے طلبہ کی مار لکھی تھی تو اسے ٹالا نہیں جا سکتا تھا۔تبھی ہمت باندھتے ہوئے اثبات میں سرہلادیا۔
”ہاں ،چند دن ہی ہوئے ہیں پاگل ہوئے۔جب تمھیں پہلی بار دیکھا تھا۔“
وہ عجیب سے لہجے میں بولی۔”مسٹر! یقینا آپ پاروتی شکلا سے واقف نہیں ہیں ،ورنہ ایسی جرا¿ت کبھی نہ کرتے۔“
منہ پر تھپڑ نہ پڑتے دیکھ کر ہمت سوا ہو گئی تھی۔میں نے بات بڑھائی۔”کیپٹن پاریش ملہوترا،جنم بھومی انبالہ ہے۔آگرہ کسی کام سے آیا تھااور اب کسی بھی کام کے قابل نہیں رہا۔مجھ سے شادی کر لو تاکہ میں دھرتی ماتا کی خدمت نچنت (بے فکر)ہوکرکرسکوں ۔ “
”یقینا آپ دیوانوں سے بھی دو قدم آگے ہیں ۔“اس کے ہونٹوں پر مدھر تبسم ابھرا،تب وہ اتنی پیاری ،اچھی اورپرکشش لگی کہ مجھے اپنا فعل نہایت غلط محسوس ہوا۔ نہ جانے اس سے کیا کام نکلوانا چاہتے تھے۔ ایک دم میں نے ناکامی کے اعتراف کا فیصلہ کیا،کہ بھارت میں فقط ایک ہی کام نہیں تھا۔نہ میں اکیلا جاسوس ہی تھا۔اس کام کو کوئی دوسرا بھی منتخب کیا جا سکتا تھا۔یہ سوچتے ہی میں ایک جھٹکے سے اٹھ کر لمبے ڈگ رکھتا ہوا کیفے سے باہر جانے لگا۔
”اے!کہاں چل دیے۔“اس نے بوکھلاتے ہوئے آواز دی، مگر میں نہ رکا۔کیفے سے چند قدم ہی دور آیا تھا کہ کسی نے پیچھے سے ہاتھ پکڑا۔میں چونکتے ہوئے مڑا۔پاروتی ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرے کھڑی تھی۔
”انکار تو نہیں کیا کہ آپ ترنت (فوراََ)بھاگ پڑے۔“
”کک....کیا۔“میں ہکلا گیا تھا۔
وہ بے باکی سے بولی۔”مجھے گھورنے والے آپ اکیلے نہیں ہیں کہ تفتیش کرتی پھروں ،البتہ اس قابل لگنے والے پہلے ہیں جسے نظر انداز نہ کیا جا سکے۔“
اس کے اعتراف نے مجھے گنگ کر دیا تھا۔
وہ شوخی سے مسکرائی۔”منہ میں گھنگنیاں ڈالے کھڑے رہو گے یا کچھ کھانے پینے کی دعوت بھی دو گے۔“
”مم....میں نے ویسے ہی مذاق کیا تھا۔ایک دوسری لڑکی کو پسند کرتا ہوں ، اس کے لیے یاد کیے مکالمے تمھارے سامنے دہرا دیے۔“میں نے جھوٹ کا سہارا لے کر خوب صورت بلا سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی جو چند لمحوں میں حواسوں پر چھانے لگی تھی۔میں کوئی بھی ایسا کام نہیں کر سکتا تھا جس سے اس کی ذات کو ادنیٰ سا نقصان پہنچتا۔کسی ایک کام میں ناکامی کا مطلب یہ نہیں تھا کہ میری ساری خدمتوں پر پانی پھر جاتا۔
اس کے چہرے پر تحیرابھرا،شوخ آنکھوں کی گہرائی میں اضطراب ہلکورے لیتا ہوا نمودار ہوا۔ اور اس سے پہلے کہ شکوہ کرتی نگاہوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑتے ،میں پیچھے مڑ کر تیز قدموں سے اپنے ہوٹل کی طرف چل پڑا۔شام کو ناکامی کی رپورٹ تحریر کر کے میں نے مخصوص ذریعے سے اس شخص تک پہنچا دی جس سے مجھے ہدایات ملا کرتی تھیں ۔وہ رات آنکھوں ہی میں بیتی تھی۔پاروتی کے ساتھ مختصر لمحات گزار کر اتنی بے چینی تھی تو اس کا مستقل ساتھ مجھے کام ہی سے نکال دیتا۔
اگلے دن واپس انبالہ روانہ ہواتاکہ بقیہ چھٹی گھر گزار سکوں ۔البتہ گھر واپس آکر محسوس ہوا کہ میں صرف جسمانی دوری پیدا کرنے میں کامیاب ہوا تھادل و دماغ سے اسے نہیں جھٹک پایا تھا۔
دوسرے دن مجھے اپنی رپورٹ کاجواب موصول ہوا تھا۔
”اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا،اصل ہدف کوئی اور ہے۔وہ صرف درمیانی کڑی ہے۔تم اسے شریک حیات بنا سکتے ہو۔“
میں کافی بے چینی و بے سکونی محسوس کر رہا تھا۔اسے نقصان نہ پہنچنے کی خبر نے مجھے اسی دن آگرہ لوٹنے پر مجبور کر دیا۔انبالہ سے آگر ہ تک قریباََ ساڑھے چار پانچ سو کلومیٹر کا فاصلہ میں نے راستے میں رکے بغیر طے کیا تھا۔رات ہوٹل میں گزار کر میں اگلی صبح سویرے ہی یونیورسٹی پہنچ گیاتھا۔ اس کی روزمرہ معلوم تھی۔ڈرائیور اسے چھوڑ کر واپس لوٹ جاتا تھا۔وہ پیریڈ شروع ہونے سے ادھ پون گھنٹا پہلے آتی اورفالتو وقت یونیورسٹی کی لائبریری میں گزارتی تھی۔خالی پیریڈ کے دوران وہ سہلیوں سے گپ شپ کرتی ،کیفے میں جا کر کھانے پینے کا شغل کرتی،چھٹی کے وقت دوبارہ تھوڑی دیر لائبریری میں گزارتی،یہاں تک کہ ڈرائیور لینے پہنچ جاتا۔
اس کی آمد سے پہلے میں یونیورسٹی لائبریری کے مخصوص گوشے میں موجود تھا جہاں وہ بیٹھا کرتی تھی۔ ایک کتاب کھول کر بہ ظاہرصفحات پر نظر دوڑا رہا تھا مگر میرا رواں رواں اس کی آمد کا منتظر تھا۔اور پھر وہ پہنچ گئی۔ کتابوں کی الماری کا رخ کرنے سے پہلے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑ ی۔وہ سن کھڑی مجھے گھورنے لگی۔ دو تین لمحے بعد جانے کے ارادے سے مڑی،تبھی میں نے آواز دی۔
”مس شُکلا....“گو مگو کی کیفیت میں وہ رک گئی تھی۔بلاشبہ سخت خفا تھی۔اور چھوٹی سی ملاقات کے بعد ناراضی کا اظہاربتا رہا تھا کہ میں اس کے لیے کتنا اہم تھا۔
کتاب بند کر کے میں قریب ہوا،غزالی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے دھیرے سے بولا۔ ”شما کردو۔“
اس نے سردمہری سے پوچھا۔”کیا ہم ایک دوسرے سے واقف ہیں ۔“
”پتا نہیں ۔“میں نے دائیں بائیں سرہلایا۔
” لڑکیوں کو چھیڑنے کا نتیجہ جانتے ہیں ۔“
میں اداسی سے بولا۔”شاید۔“
وہ ہنسی ضبط کرتے ہوئے بولی۔”یقیناجس لڑکی کے لیے مکالمے یاد کر رکھے تھے،اس نے دھتکار دیاہے جو دوبارہ میری ضرورت پڑ گئی ہے۔“
میں بے بسی سے بولا۔”مجھے اظہار کرنا نہیں آتا،نہ روٹھوں کو منانا جانتا ہوں اور نہ یہ پتا ہے کہ جو پیارا لگے اس سے کیسے جان چھڑائی جاتی ہے۔کوشش کی تھی ناکام رہا ،مجبوراََ واپس آنا پڑا۔“
”میں سکھا دیتی ہوں اظہار کیسے کرتے ہیں ۔“یاقوتی لبوں پر مدھر تبسم ابھرا جو اس کا سب سے بڑا ہتھیار تھا،میرے ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے کندھوں پر رکھتے ہوئے بولی۔”اب بولیں ،پاروتی!مجھے بہت اچھی لگتی ہو، تم سے پریم کرنے لگا ہوں ، کیا میری بے رونق زندگی میں بہار بن کر آسکتی ہو۔اگر تم نے انکار کیا تو میں بے موت مارا جاﺅں گا....میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر رومانوی لہجے میں بول دیں ....چلیں شاباش۔“
اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے میں دل کی گہرائی سے بولا۔”شادی کرو گی۔“
اس نے شرما کر آنکھیں جھکا لی تھیں ۔“انصاری صاحب نے خاموشی سادھ لی۔میں بھی چپ چاپ ان کے بولنے کا منتظر رہا۔تھوڑی دیر گہری سوچوں میں کھوئے رہنے کے بعد وہ دھیرے سے مسکرائے۔ ”جانتے ہو ،پاروتی سے ملاقات میں نے اتنی تفصیل سے کیوں بیان کی۔“
میں نے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے نفی میں سرہلا دیا تھا۔ورنہ اس کا سیدھا سادہ جواب یہ تھا کہ محبوب کی باتیں کرنے سے کبھی سیری نہیں ہوتی،خاص کر پہلی ملاقات یاداشت میں یوں محفوظ رہتی ہے جیسے لمحہ بھر پہلے کی بات ہو۔مجھے بھی تو اپنی پلوشے کی پہلی دید ازبر تھی۔گو ہماری ملاقات دشمنوں کے انداز میں ہوئی تھی لیکن پھر بھی وہ سہانا وقت یاداشت میں ثبت ہو گیا تھا۔
انھوں نے قہقہ لگایا۔”تمھیں شاید کبھی محبت نہیں ہوئی۔“
میں نے مسکرانے پر اکتفا کیا تھا۔انھوں نے ملازمہ کو چائے کا بتا کر بات جاری رکھی۔
”یار !وہ مجھے بہت پیاری تھی۔اس کی رضامندی پا کر میں نے بغیر تاخیر کے والدین کو انبالہ سے بلا لیا تھا۔
چھوٹی بہن اور بھائی کی شادی ہو چکی تھی۔والدین کافی عرصے سے مجھے زور دے رہے تھے ایسے عالم میں جب میں نے اپنی خواہش ان تک پہنچائی تو وہ بھاگے چلے آئے۔
اگلے دن ہم پاروتی شکلا کے گھر پہنچ گئے۔وہ اس دن یونیورسٹی نہیں آئی تھی۔جب اس کے والد سے تعارف ہوا تو میرا ماتھا ٹھنکا۔لمبے تڑنگے کرنل دھیرندر شکلا کی شخصیت میرے لیے انجانی سہی مگر اس کا رینک باور کرانے کو کافی تھا کہ پاروتی شکلا کے ذریعے مجھے کس کڑی سے جوڑا جا رہا تھا۔
میرا خاندانی پسِ منظر، فوج کی نوکری اور پاروتی کی مرضی ،ان عوامل کے ہوتے ہوئے مجھے ٹھکرانا آسان نہیں تھا۔خرانٹ شکل کے دھیرندر شکلا نے رضامندی ظاہر کردی۔اس کے خشونت بھرے چہرے پر کرختگی،بے رحمی ، کھردار پن اور درشتی گویا ابل رہی تھی۔پاروتی جیسی ملائم ،دلکش اور پیاری لڑکی کا والد مجھے دل کی گہرائیوں سے ناپسند آیا تھا۔
دونوں طرف رضامندی کے بعد پاروتی کی تعلیم مکمل ہونے تک شادی مو¿خر کی گئی۔اس کا آخری سمیسٹر شروع تھا۔تین ماہ بعد وہ میری زندگی میں باقاعدہ دلھن بن کر داخل ہوئی۔
وہ مجھے دل کی گہرائیوں سے چاہتی تھی۔اور میں بھی بغیر کسی لالچ ،غرض اور مطلب کے اس پر فداءتھا۔شادی کے ایک ماہ بعد ہی پاکستان کے ساتھ حالات خراب ہوئے اور مجھے کشمیر کے محاذ پر جانا پڑا۔بہت مشکل اور کڑا وقت تھا،مختصر یہ کہ اللہ کے فضل و کرم سے اپنے کسی بھائی کی گولی کا نشانہ نہ بنا اور چھے سات ماہ بعد چھٹی آگیا۔ گھر آکر پتنی کو دیکھا تو خوف و گھبراہٹ سے چکر آگئے تھے۔وہ چھے سات ماہ کی حاملہ تھی۔میں کسی صورت بچہ نہیں چاہتا تھا ،لیکن اب پاروتی کو حمل گرانے پر راضی کرنا ناممکن تھا۔یوں بھی جس جی کو اللہ پاک دنیا میں بھیجنا چاہے اس کی راہ میں کوئی دنیاوی طاقت رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔ مجبوراََ چپ سادھنا پڑی۔اللہ پاک نے مجھے ایک خوب صورت بچی کا باپ بنا دیا۔جیسے پرما کی دنیا میں آمد میری منشا کے خلاف ہوئی تھی یونھی میرے دل پراس کے قابض ہونے میں بھی میرے ارادے یا خواہش کا عمل دخل نہیں تھا۔نہ چاہتے ہوئے بھی روز بہ روز میرے دل میں اس کی محبت بڑھتی گئی۔البتہ ایک دھیان میں نے ضرور رکھا کہ پاروتی دوبارہ ماں نہ بن سکے۔ اگر بے احتیاطی سے حمل ہو بھی گیا تو میں نے پاروتی کی بے خبری میں اسے ایسی دوائیاں کھلادیں جس سے حمل ضائع ہونا پڑا۔تین چار حمل ضائع ہونے کے بعد اس نے میری مسلسل نصیحتوں کو قابل عمل جانتے ہوئے دوسری اولاد کی خواہش دل سے نکال دی تھی۔بہ ہر حال یہ ضمنی بات ہے۔پاروتی سے شادی کے چند ماہ بعد ہی مجھے دھیرندر شکلا کے مزید نزدیک ہونے کا حکم ملا تھا۔وہ مستقل مقبوضہ کشمیر کے محاذ پر تعینات تھا۔ اس کے بارے جو تفصیل ملی تھی میرے دل میں اس کی نفرت کا گراف مزید بلند کر دیا تھا۔مظلوم کشمیریوں پر ظلم ڈھانااس کا محبوب مشغلہ تھا۔کشمیری مجاہدوں میں بھی وہ شیطان کی طرح مشہور تھااور اسے قتل کرنے کی کوششوں میں مجاہدین اپنا کافی نقصان کر چکے تھے۔میں اس کا داماد تھا، ایسے موقع کا حصول مشکل نہیں تھا کہ اسے کیفر کردار تک پہنچا سکتا،مگر ایسی صورت میں ایک تو خود پھنس جاتا دوسرا دھیرندر شکلا ایک اہم شخص تھا ، اس کی وساطت سے مجھے کافی کارآمد معلومات اور دشمن کے راز مل جاتے تھے۔جو اس کے خاتمے کے بعد ناممکن الحصول ہو جاتے۔میں طبیعت پر جبر کر کے اس ظالم کے مزید قریب ہونے لگا۔مسلمانوں سے اظہار نفرت، انھیں دہشت گرد ، ظالم اور سفاک قرار دینا،پاک فوج کی بزدلی اور ڈرپوکی پر لطائف اور پاکستان سے بغض و عناد کا پرچار ایسے منتر تھے جس سے میں اس کامنظورِنظر بنتا گیا۔اس کے چھٹی آنے پربے شمار ملاقاتیں ہوتیں اور باتوں باتوں میں کافی معلومات اگلوا لیتا۔ اس کی غیر موجودی میں اس کے سامان کی بھی تلاشی لے لیتاتھا۔اس کے قریب ہونے کی مجبوری میں مجھے انبالہ چھوڑ کر آگرہ میں مستقل رہائش اختیار کرنا پڑی۔میرا یہ فعل پاروتی کے نزدیک اسے خوش کرنے کو تھا۔ گو میں اسے خوش دیکھنا چاہتا تھا لیکن آگرہ منتقل ہونا سراسر احکامات کے تابع ہواتھا۔
میرے دل میں پاروتی کو مسلمان کرنے کی بڑی حسرت تھی، لیکن اپنی محبت و خواہش پر میں نے وطن کی محبت کو مقدم رکھا۔ تبھی پاروتی کو حق کی راہ دکھانے کا حوصلہ نہ کر سکا،یونھی پرما کے بارے بھی ایسی کوشش نہ کر سکا تھا۔ البتہ ایک خیال میں نے ضرور رکھا کہ وہ ہندو مت کے قریب نہ جا سکے۔میری کوشش سے وہ اول دن سے آزاد خیال اور لبرل بن گئی تھی۔البتہ میں خود اپنے بناوٹی مذہب کا بہت دھیان رکھتا تھا۔کیوں کہ اسی طرح میری شناخت زیادہ پوشیدہ رہ سکتی تھی۔
میرے سسر دھیرندر شکلابریگیڈئر ،میجر جنرل اور پھر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچ گئے تھے۔ اچھے سروس ریکارڈکے ساتھ میں نے بھی لیفٹیننٹ کرنل کا رینک لگالیاتھااس دوران پاک فوج کے مطلوبہ اہداف خوش اسلوبی سے پورے کرتا رہا۔میں ہمیشہ بچ بچا کے اور نہایت احتیاط سے کام کرتا تھا۔ہفتوں کا کام مہینوں تک مو¿خر رکھتا اور بے احتیاطی نہ کرتا۔لیکن میرے چوکنا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ باقیوں سے بھی غلطی نہیں ہو سکتی تھی۔
جاسوسی کا کام نہایت توجہ ،باریک بینی ،بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور ہوشیاری کا متقاضی ہے۔ ایک جاسوس کے واسطے پھیلے ہوئے نہیں ہوتے۔ورنہ ایک کے پکڑے جانے کی صورت تمام دشمن کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔البتہ ایک دو افراد سے رابطہ رکھنا مجبوری ہوتا ہے۔اور میری بدقسمتی کہ دشمن کے راز اور معلومات وغیرہ میں جس آدمی کے ذریعے بھیجا کرتا تھاوہ پکڑا گیا۔اور ایجنسی کے غیر انسانی تشدد کے سامنے اس نے میرا راز فاش کر دیا۔چونکہ میرا سسر ایک جنرل تھا اور شروع دن سے اس کے خفیہ ایجنسیوں سے روابط تھے بلکہ وہ بہ ذات خود ”را “اور دوسری ایجنسیوں میں کافی سروس گزار چکا تھا۔ایجنسیوں نے جونھی میرے خلاف دائرہ تنگ کرنا شروع کیا، میرے سسر کے ایک خیر خواہ نے اس تک یہ خبر پہنچا دی۔اسے میری خوش قسمتی سمجھو کہ جب وہ اپنے خاص کمرے میں ایجنسی کے بندے سے گفتگو کر رہا تھاتب پاروتی نے اتفاق سے ساری گفتگو سن لی تھی۔وہ چند لمحے پہلے ہی گھر پہنچی تھی اور والد کی تلاش میں اس کے مخصوص کمرے کی طرف بڑھی،اندر داخل ہونے کو وہ دروازہ دھکیلنے ہی لگی تھی کہ والد کے منہ سے میرا نام سن کرلمحے بھر کو ٹھہر گئی۔ جوں جوں گفتگو آگے بڑھی خوف و ڈر سے اس کا خون خشک ہوتا گیا۔والد کو ملے بغیر وہ سرعت سے پلٹی اور گاڑی بھگاتے ہوئے گھر پہنچ گئی۔
انصاری صاحب نے چپ سادھ لی تھی۔کافی دیر سرجھکائے بیٹھے رہے۔پھر ان کی اذیت بھری آواز نے خاموشی کو توڑا۔
” ان لمحوں کو بیان نہیں کر سکتا۔گھر پہنچ کر سب سے پہلے اس نے میرا گریبان پکڑا تھا،مجھے دھوکے باز،مطلبی،ظالم،خود غرض اور نجانے کیا کیا پکارا اور پھر مجھے لپٹ کر یوں بلک بلک کر روئی جیسے دودھ پیتا بچہ روتا ہے۔میں بھی جانتا تھا کہ جدائی کی گھڑی سر پر پہنچ گئی ہے۔پاروتی کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور ایسا ہی تھا جیسے گردن کٹنے کے بعد زندہ رہنا۔اگر وہاں رکنے کی کوئی صورت بچنے کا ذرا سا بھی احتمال ہوتا تو میں نہ بھاگتا،مگر یہ ممکن نہیں تھا۔مجھے اپنے جگر کے دو ٹکڑوں ،پرما اور پاروتی کو وداع کہنا پڑا۔پرما تو گھر پر موجودہی نہیں تھی۔چونکہ میں جانتا تھا کہ وہاں میری نگرانی ہو رہی ہے اس لیے پاروتی مجھے کار کی ڈگی میں چھپا کر باہر لے گئی۔وفا کی پتلی مجھے چھوڑنے انبالہ تک آئی۔میں نے اسے ساتھ لے جانے کی بڑی کوشش کی پر وہ نہ مانی۔گو اس نے وطن کی محبت پر میری محبت کو ترجیح دی تھی مگر اس کی بھارت ماتا سے محبت اور اپنے دھرم سے لگاﺅ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔ اسی وجہ سے تو میں اسے اسلام کی دعوت نہیں دے سکا تھا۔
بہ ہرحال وہ مجھے انبالہ چھوڑ کر آنسو بہاتے ہوئے واپس لوٹ گئی۔میں کس طرح بھارت سے نکلا یہ ایک الگ کہانی ہے۔پاکستان پہنچنے میں پورا مہینا لگا تھا۔یہاں آتے ہی سب سے پہلے میں نے پاروتی اور پرما کی خبر لی۔تب خیرخواہوں کی زبانی یہ روح فرسا خبر پہنچی کہ پاروتی بہ خیریت آگرہ نہیں پہنچ پائی تھی۔راستے ہی میں حادثے کا شکار ہو کر نذرِ اجل ہو گئی تھی۔یقینا میری جدائی کا دکھ اس سے برداشت نہیں ہو پایا تھا۔اور میں بے وفا آج بھی زندہ سلامت بیٹھا ہوں ۔“انصاری صاحب کی آنکھوں میں نمی نمودار ہوئی۔
جاری ہے
قسط نمبر 15
ریاض عاقب کوہلر
اللہ ڈینو نے خیال ظاہر کیا۔”دھیرندر شکلا کی ممبئی والی رہایش گاہ کاسلطان دادا کو یقینا معلوم ہو گا۔“
میں نے کہا۔”مگر پوچھ نہیں سکتے،انصاری صاحب نے صاف کہا تھاکہ سلطان دادا ہمیں اغواءکر کے انٹیلی جنس تعاقب کے ممکنہ اندیشے سے نجات دلانے کا ذمہ دار ہے اوربس۔اگر اس سے ہدف کے بارے کوئی معلومات لینا مناسب ہوتا تو وہ وضاحت کر دیتے۔“
وہ متفق ہوا۔”دو تین دن تو یہاں گزارناپڑیں گے۔“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”احتیاط ہی میں بھلائی ہے۔“
کھانے کے اختتام تک چائے آگئی تھی۔ پیالیاں ہمیں پکڑا کر وکرم برتن سمیٹنے لگا۔ہم چائے پی ہی رہے تھے کہ فائر کی آوازآئی اور پھر شور سنائی دینے لگا۔وکرم بھاگ کر باہر نکلا،ہم بھی پیچھے ہو لیے تھے۔
پانچ مسلح افراد اداخلی دروازے کے سامنے کھڑے تھے۔آگے آگے چھریرے بدن اور لمبی قامت کا جوان تھا۔جو باآواز بلند سلطان دادا کو للکار رہا تھا۔
”سلطان دادا !تم نے راجپوت کی طاقت کا اندازہ لگانے میں غلطی کی ہے۔اگر تمھارے خیال میں راجپوت کے گروہ نے چوڑیا ں پہن رکھی ہیں تو لوآگئے ہیں ۔ہماری خالی کلائیاں دیکھ کر یقین آئے نہ آئے گولی کی دلیل پر شبہ دور ہو جائے گا۔“
سلطان دادا خالی ہاتھ تھا،اس نے ہاتھ اٹھاکر اپنے گرگوں کو ہتھیار نیچے کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے تحمّل سے کہا۔ ”تمھیں غلط فہمی ہوئی ہے راجپوت! سلطان نہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتاہے اور نہ کسی دوسرے دادا کے علاقے میں واردات کا شوقین ہے۔“
”مجھے ملنے والی اطلاع جھوٹی نہیں ہو سکتی۔“راجپوت اس کی صفائی پر مطمئن نہیں ہوا تھا۔
سلطان ہماری طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔”میں اپنے آدمی واپس لینے گیا تھا۔ دونوں تمھارے سامنے کھڑے ہیں ۔اطمینان سے تسلی کر لو۔“
راجپوت کے چہرے پر الجھن ابھری۔”میں سمجھا نہیں ؟“
سلطان نے وضاحت کی۔”سندیپ اور گوپال میرے پرانے واقف کار کے جاننے والے ہیں ۔ اس نے درخواست کی کہ انھیں چنددن اپنے پاس رکھوں ۔ہوائی اڈے پہنچا تو یہ وہاں سے جا چکے تھے۔ اپنے دوست سے معلومات لیں اور ان کے پیچھے پہنچ گیا۔باقی اغواءکا ڈراماکرنا انھیں تنگ کرنے کو کیا۔ورنہ تمھاری حدود میں کوئی واردات کرنا ضروری ہوتا توپہلے اجازت لیتا۔“
راجپوت نے اپنا پستول جیب میں ڈالا۔اس کے چہرے پر ہلکی سی خفت ابھری۔”یقینا تم میری جلد بازی کو شما کر دو گے۔“
سلطان دادا مسکرایا۔”اگرمیرے ہمراہ بیٹھ کرایک پیگ وسکی پی لی تواس بارے سوچا جا سکتا ہے۔“
راجپوت لبوں پرپھیکی مسکراہٹ سجائے اس کے ساتھ ہو لیا۔لڑائی کا ماحول ایک دم دعوتِ شرب وطعام میں تبدیل ہو گیا تھا۔سلطان دادا کے گرگے، راجپوت داداکے ساتھیوں کو سنبھالنے لگے۔ہم اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
سارا ممبئی مختلف جرائم پیشہ افراد نے بانٹا ہوا ہے۔ہربڑے غنڈے کا اپنا علاقہ ہے جہاں دوسراغنڈہ کوئی واردات نہیں کر سکتا۔اس میں جیب تراشی سے لے کر بینک ڈکیتی تک کے جرائم شامل ہیں ۔بلکہ غنڈہ گردی تو درکنار ممبئی اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں تو بھیک مانگنے والی مافیا تک نے علاقے تقسیم کیے ہوئے ہیں ۔ راجپوت دادا بھی اسی سلسلے میں سلطان دادا کے پاس حساب کتاب کرنے آیا تھا کہ اس کے تیئں سلطان دادا نے ہمیں اس کی حدود میں اغواءکر کے حد بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔اور سلطان دادا نے حکمت سے معاملہ سنبھال لیا تھا۔
”ان غنڈوں کا جاسوسی نظام تو حکومت سے کئی گنا تیز ہے۔“چارپائی سنبھالتے ہی اللہ ڈینونے حیرانی ظاہر کی تھی۔
میں ہنسا۔”پیٹ کا معاملہ ہے بھائی۔ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں ،دو ملّا مرغی حرام کر دیتے ہیں ۔دو سپہ سالار فوج مروا تو سکتے ہیں لڑا نہیں سکتے ،پھر ایک علاقے میں دو غنڈوں کا راج کیسے ہو سکتا ہے۔“
اللہ ڈینو نے دکھ ظاہر کیا۔”کراچی میں تھوڑا عرصہ رہنے کا اتفاق ہوا ہے وہاں بھی یہی حالت ہے۔“
میں نے کہا۔”اس کی بڑی وجہ ہماری گندی سیاست ہے۔بے چاری پولیس تو وزیروں کے ہاتھ یرغمال بنی ہے،جس ڈاکو غنڈے پر ہاتھ ڈالتی ہے وہ کسی نہ کسی ایم این اے کا اپنا بندہ یا منظورِ نظر نکلتا ہے۔آرمی پہلے ہی اتنے محاذوں پر منقسم ہے کہ کوئی نیا محاذ نہیں کھول سکتی۔تو تبدیلی کیسے آئے گی۔یقین کرو پولیس کو خود مختار کرنا اس مسئلے کا بہترین حل ہے مگر صاحبِ اقتدار طبقے کو یہ حل منظور نہیں ۔“
اللہ ڈینو نے موضوع تبدیل کیا۔”ویسے سلطان دادا نے کچھ زیادہ تحمل اور برداشت کا مظاہرہ نہیں کیا؟“
” غلطی کا اعتراف کرنا اس کی مجبوری تھی۔راجپوت داداکے علاقے میں دخل اندازی اس نے کی تھی۔ او راجپوت کا یوں اس کے اڈے پر چڑھ دوڑنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ افرادی طاقت میں سلطان دادا سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہے۔“
”یقینا شکلا جی کے زیر زمین افراد سے قریبی تعلقات ہوں گے۔“اللہ ڈینو نے نیا موضوع چھیڑ دیا۔
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”تبھی اس کے متعلق ان لوگوں سے کسی بھی قسم کی معلومات لینے سے گریزاں ہوں ۔“
اللہ ڈینو نے خیال ظاہر کیا۔”ہم نوکری حاصل کرنے کے بہانے زیر زمین کام کرنے والے کسی اور گروہ سے بھی یہ معلومات لے سکتے ہیں ۔“
اس کا مشورہ پسند آیا تھا،میں نے اتفاق میں سرہلادیا۔اور ہم اسی بارے مشورہ کرنے لگے۔مگر وکرم نے ہمیں زیادہ دیر گپ شپ نہیں کرنے دی تھی۔دروازہ بجا کر وہ جواب کا انتظار کیے بغیر اندر آیا۔
”اپنا سامان اٹھاکر میرے ساتھ چلیں ۔“اس کے لہجے میں ہلکی سی گھبراہٹ تھی۔اور انداز ایسا نہیں تھا کہ استفسار کے چکروں میں وقت کھوٹا کرتے۔اپنے مختصر بیگ سنبھال کر ہم اس کی معیت میں کمرے سے نکلے۔عمارت کے داخلی دروازے کے بجائے وہ ایک اور کمرے میں گھس گیا تھا۔وہ خواب گاہ تھی۔ایک کونے میں سنگل بیڈ رکھا تھا،ساتھ فوم کی تین کرسیاں پڑی تھیں اور عقبی دیوار کے ساتھ لکڑی کی منقش پٹ والی کپڑوں کی ایک چوڑی الماری رکھی تھی۔
وکر م نے الماری کے پٹ کھول کر ہینگر میں لٹکے کپڑوں کو بائیں جانب اکھٹا کیا اورکوئی مخصوص بٹن دبایا،الماری پیچھے کی جانب کھل گئی تھی۔ایک تنگ سا دروازہ نظر آیا جس کے عقب میں سیڑھیاں تھیں ۔وکرم پہلی سیڑھی پر رک گیا۔ہمیں نیچے اترنے کا اشارہ کر کے وہ خود دروازہ بند کر نے لگا۔
دس پندرہ سیڑھیاں اتر کر چھوٹی سی گیلری تھی۔اس کے بعد پھر سیڑھیاں تھیں ۔وکرم ہم سے آگے بڑھ گیا۔سیڑھیوں کا اختتام لکڑی کے دروازے پر ہوا۔دروازہ کھول کر وکرم اندر گھسا،پہلے کمرے ہی کی طرح وہاں بھی کپڑوں کی ایک الماری رکھی ہوئی تھی۔الماری کے رستے ہم دوسری جانب خواب گاہ میں پہنچ گئے۔
وکرم نے ایک چابی میری طرف بڑھائی۔” دائیں جانب ، تیسرے ،چوتھے نمبر پر کمرہ نمبر ایک سو انیس ہے۔وہاں ٹھہر کراگلی ہدایت کا انتظار کرو۔“
اللہ ڈینو نے کہا۔”ٹھیک ہے ،مگر جانے سے پہلے ہماری الجھن دور کر دو۔“
وکرم نے وضاحت کی۔”راجپوت دادا کو ہماری کارروائی کی اطلاع کرن چاولہ سے ملی۔اورزیر زمین حلقوں میں کرن چاولہ کی شہرت را کے مخصوص کارندے کی حیثیت سے ہے۔یقینا اپنا شک دور کرنے کو اس نے راجپوت دادا کی سلطان دادا تک رہنمائی کی ہے۔اور اس صورت میں سیدھے راستے سے جانا آپ کو پھنسا سکتا تھا۔ بہ ہرحال مطمئن نہ ہونا کہ خطرہ اب تک ٹلا نہیں ۔اور سلطان دادا کی اجازت کے بغیر کہیں جانے کی کوشش نہ کرنا۔اور نہ خود کو قید ی سمجھنا۔سب کچھ آپ کے فائدے کو کیا جا رہا ہے۔“
ہم اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دروازہ کھول کر باہر نکلے اور خود کو گیلری میں پایا جس کے دونوں جانب کمرے بنے تھے۔دروازوں پر کمرہ نمبرز کی تختیاں دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ہوٹل میں تھے۔ان کے اڈے کے عقبی جانب جو ہوٹل تھا یقیناخفیہ رستے کے ذریعے ہم وہاں پہنچ گئے تھے۔
دائیں جانب چوتھا دروازہ کمرہ نمبر ایک سو انیس کا تھا۔قفل کھول کر ہم اندر گھس گئے۔وہ درمیانے حجم کا کمرہ تھا۔کونے میں ڈبل بیڈ اور اس کے ساتھ شیشے کی ایک میز اور سامنے صوفہ سیٹ رکھا ہوا تھا۔بائیں ہاتھ بیت الخلاءو غسل خانے کا دروازہ تھا۔دائیں دیوار میں ایک بڑی کھڑی تھی جس پر دبیز پردہ لٹک رہا تھا۔
صوفے پر نشست سنبھالتے ہوئے اللہ ڈینو بولا۔”یقینا ہمارا ڈراما ناکام ہو گیا ہے۔“
”ضروری تو نہیں کہ انسان جو سوچے وہی ہو۔“میں بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔
اس نے منہ بنایا۔”ناکامی برداشت کر نا اتنا بھی آسان نہیں ہوتا۔“
میں نے شکر گزاری کا اظہار کیا۔” خوش قسمت ہیں کہ ناکامی کی اطلاع ہمیں دشمن کی زبانی سننے کو نہیں ملی۔ورنہ یہ بھی ممکن تھااپنی آنکھ کسی عقوبت خانے میں کھلتی۔“
اللہ ڈینو ے فکر مندی ظاہر کی۔”کیا تمھیں لگتا ہے سلطان دادا ہمارے لیے را سے ٹکر لے پائے گا۔“
میں بہ ظاہرمتفق ہوا۔”اعتبار کرنے کے علاوہ کوئی صورت ہے توبتاﺅ۔“
”اگر معاملہ سچ میں را کا ہے تو وہ اتنی آسانی سے سلطان دادا کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔اوریہاں سے نکلنے میں جتنی سستی دکھائیں گے ہمارے گرد گھیرا تنگ ہوتا جائے گا۔“
میں معترض ہوا۔”مگر وکرم ہمیں کہیں جانے سے منع کر چکا ہے۔“
ڈینو معنی خیز لہجے میں بولا۔”اور ہم اتنے بھولے ہیں ناں کہ اس کا کہنا مان لیں گے۔“
میں نے پوچھا۔”کیا تمھیں سلطان دادا پر شک ہے؟“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں ،مگر اس کاخلوص بھی شاید ہمارے کام نہ آسکے۔ وہ سلطان دادا کی کسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اسے مجبور بھی کر سکتے ہیں ۔“
”مجھے نہیں لگتاانھوں نے ہوٹل کو نظر انداز کر دیا ہوگا۔یقینا ہوٹل سے سلطان دادا کے تعلق کو وہ اچھی طرح جانتے ہوں گے۔کرن چاولہ اب تک راجپوت دادا سے سلطان دادا کی واردات کی وضاحت سن چکا ہو گا اور اس کے بعد دو جمع دو چار کی طرح منطقی نتیجہ اخذ کرنااس کے لیے مشکل نہ ہوگا۔“
اس نے زوردیا۔”یہی تو کہہ رہا ہوں ،گھیرا مکمل ہونے سے پہلے بھاگنامفید رہے گا۔دوسری صورت میں پھنسنا یقینی ہو جائے گا۔“
”توچلیں ۔“متفق ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
اللہ ڈینو نے منصوبہ پیش کیا۔”الگ ،الگ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھ کر چلیں گے۔ بچھڑگئے اور موبائل فون پر بھی بات نہ ہوپائی تونیتا بس اسٹیشن پر کل اور پرسوں دن کے دس بجے سے بارہ بجے تک ایک دوسرے کا انتظار کریں گے۔“(انڈین کنکشن کے موبائل فون ہمیں مسقط ہی میں اپنے خاص ایجنٹوں سے وصول ہو گئے تھے)
میں نے امید ظاہر کی۔”شاید وہ ہماری صورت سے واقف نہیں ہوں گے۔“
ڈینو بولا۔”جب بات مفروضوں کی ہے توہوائی اڈے سے پیچھا کرنے والے ایجنٹوں کو ہماری شناخت ہو سکتی۔اوریقینا ہوٹل کے دروازے اور سلطان دادا کے اڈے کے باہروہ افراد موجود ہوں گے۔“
میں نے مشوہ دیا۔”پھر لباس تبدیل کر کے بیگ یہیں چھوڑ دیتے ہیں ۔“
ڈینو اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بیگ اٹھا کر غسل خانے میں گھس گیا۔میں نے وہیں کپڑے تبدیل کر لیے۔نیلی جینز پر پھول دار قمیص پہن کر ضروری کاغذات پتلون کی جیب میں منتقل کیے اور جانے کو تیار ہو گیا۔ڈینو غسل خانے سے نکلا تو اس کا حلیہ بھی مجھ سے ملتا جلتا تھا۔
”دس منٹ بعد نکلنا۔“ہاتھ لہرا کر وہ نکل گیا۔
میں اس کی خیریت کی دعا کرتا ہوامضطرب انداز میں ٹہلنے لگا۔اللہ ڈینو سے جذباتی لگاﺅ نہ ہونے کے باوجود وہاں وہ میرا اکیلا دوست،مددگار بلکہ سب کچھ تھا۔ہمارامقصد،ہدف اور منزل ایک تھی۔اس وجہ سے ہمارے دکھ درد اور غم الم بھی سانجھی ہو گئے تھے۔انجان ہو کر بھی اتنا اپنا پن پاکستان آرمی کے ہر جوان،عہدہ دار اور آفیسر میں پایا جاتا ہے۔ہر شہید ہونے کی لاش ہمیں اپنی لاش نظر آتی ہے۔ہر گھائل کے زخم ہمیں اپنے بدن پر دکھائی دیتے ہیں اورہر مبتلائے درد کی اذیت ہمیں بھی محسوس ہوتی ہے۔
ڈینو کے جانے کے بعد میں نے چند منٹ انتظار کیااور پھر باہر نکل آیا۔اندازے سے چلتا ہوا میں ہوٹل کے ہال میں پہنچا۔اس وقت رش نہ ہونے کے برابرتھا۔دوپہر کے کھانے کا وقت گزر گیا تھا اور رات کے کھانے کا وقت ابھی دور تھا۔ہم سے ذرا سی غلطی ہو گئی تھی ،گھنٹے ڈیڑھ بعد نکلتے تو رش زیادہ ہوجاتا،ایسی صورت میں ہم زیادہ محفوظ رہتے۔مگر اب قدم بڑھا دیئے تھے اور واپس لوٹنا مناسب نہیں تھا۔یہ احتمال بھی ذہن میں جاگا کہ زیادہ دیر کرنے کی صورت میں کوئی اور افتاد بھی سرپر پڑ سکتی تھی۔
استقبالیہ پر دو تین بندے کھڑے،استقبالین سے کچھ استفسار کر رہے تھے۔میں دھیمے قدموں سے داخلی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔اسی وقت ایک جوڑا بھی دروازے کا رخ کرتا نظر آیا۔لڑکی نے چست جینز اور اس کے اوپرنصف بازوﺅں کی بنیان پہنی تھی۔کھلتی ہوئی سانولی رنگت ، مسکراتا چہرہ اور دلفریب بدن، دعوتِ نظارہ دے رہا تھا۔لڑکی ،لڑکے کی دوستی تو اب وطنِ عزیز میں بھی معیوب نہیں سمجھی جاتی اور نیک بیبیاں دھڑلے سے اپنے مرد دوستوں کو متعارف کراتی پھرتی ہیں ۔انڈیا تو اس معاملے میں ہم سے کئی قدم آگے ہے۔بلکہ ہمارا رہبر و رہنما اور استاد ہے کہوں تو بے جا نہ ہوگا۔انھی کی فلمیں دیکھ دیکھ کر پاکستانی قوم میں بھی یہ شعور جاگا کہ نکاح اور شادی کو ثانوی بلکہ قید و بند کا درجہ دے دیا گیاہے۔
میں نے قدموں کی رفتار غیر محسوس انداز میں سست کی،یوں کہ وہ میرے ساتھ سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔لڑکی مرد کے بائیں جانب چل رہی تھی۔میں قدم دو کا فاصلہ رکھ کر اس کے دائیں چلنے لگا۔ اس لڑکی کی موجودی میں مشکل تھا کہ کوئی میرا چہرہ دیکھنا گوارا کرتا۔
داخلی دروازے سے نکل کر میں نے دائیں بائیں نگاہیں گھمائیں ،البتہ چہرے کو فطری انداز میں سامنے ہی رکھا۔ایک انسان کی آنکھیں گردن گھمائے بغیر ایک سو اسی ڈگری کا نظارہ کر سکتی ہیں ۔پارکنگ میں اکادکا افراد گاڑی کھڑی کر کے ہوٹل کے دروازے کارخ کرتے نظر آئے،چند ایک گاڑیوں میں بیٹھ رہے تھے۔ دو افراد موٹر سائیکل کی سیٹ پر بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے لیکن ان کی نگاہیں غیر محسوس انداز میں ہر آنے جانے والے پر گڑی تھیں اور وہی مجھے بھی مشکوک لگے۔ایک کلین شیو ،جبکہ دوسرے نے کافی بڑی مونچھیں چھوڑی ہوئی تھیں ۔داڑھی دوسرے کی بھی صفاچٹ تھی۔
میں قدم بڑھا کر نوجوان جوڑے کے ساتھ یو ں چلنے لگا گویا انھی کا ساتھی ہوں ۔چہرے پرہلکی مسکراہٹ طاری کیے میں ان سے ادھ قدم پیچھے چلتا رہا۔پریم پنچھی ایک دوسرے میں الجھے ہوئے تھے۔
نگرانی کرنے والوں نے ہمیں نظر بھر کر دیکھا لیکن کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔یقینا لباس تبدیل کرنا مفید رہا تھا۔میرا اور اللہ ڈینو کا قد بھی درمیانہ تھااور شکل و صورت بھی عام سی تھی۔اور کسی بھی جاسوس کو ایسا ہونا نہایت سود مند رہتا ہے۔غیر معمولی لمبا یا ٹھگنا ہونا انسان کی شناخت کو آسان کر دیتا ہے۔یونھی خوب صورتی اور بدصورتی بھی پہچان کو سہل کر دیتی ہیں ۔نوجوان لڑکا فربہی مائل اور دراز قامت تھا۔اور اسی کی وجہ سے نگرانی کرنے والوں نے ہمیں اہمیت نہیں دی تھی،کہ ان کی نظر میں لڑکا میرا ساتھی تھا۔یقینا انھیں ہمارا حلیہ بتایا گیا ہو گا۔اور میرا ساتھی نظر آنے والے لڑکے کی قامت ہم سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی تھی۔اس کی وجہ سے میں بھی شک کی زد سے دور رہا تھا۔
گومعاملہ اس کے برعکس بھی ہو سکتا تھا کہ وہ دونوں حقیقت میں خفیہ ایجنسی کے افراد نہ ہوتے اور مجھے حالات کی وجہ سے ایسے لگ رہے ہوتے۔لیکن چند لمحوں بعد میرے اول الذکراندیشے حقیقت کا روپ دھار گئے تھے۔
پارکنگ سے نکل کر پریمی جوڑا جونھی سڑک پر چڑھا ،دائیں جانب سے دھیمی رفتار میں چلتی ہوئی ایک ٹیکسی نمودارہوئی۔لڑکے نے ہاتھ لہرایا۔ڈرائیور نے ٹیکسی روکی اور دونوں عقبی نشست پر بیٹھ گئے۔میں نے مڑ کر دیکھادونوں موٹر سائیکل سوار میری جانب ہی متوجہ تھے۔اور پریمی جوڑے نے جانے میں جس سرعت اور مجھ سے لاتعلقی کا مظاہرہ کیا تھا وہ انھیں چونکا گیا تھا۔میرا ،ان کے ہمراہ یوں چلنا جیسے ان کا ساتھی ہوں اور پھر ایک دم اکیلا رہ جانا مجھے مزید مشکوک بنا رہا تھا۔
میں سڑک کے دوسری جانب یوں کھڑا ہو گیا جیسے ٹیکسی کا انتظار کر رہا ہوں ۔بہ ظاہر بے پروااور غیر متعلق سا،لیکن بہ باطن انھی کی طرف متوجہ رہا۔
لمحے بھر مشورے کے بعد کلین شیو ٹہلنے کے انداز میں میری طرف آنے لگا۔یقینا اس کا ارادہ مجھے مخاطب کر کے جانچنے کا تھا۔مزید ٹھہرنا مناسب نہیں تھا،لیکن حرکت کرنا ان کے شک کو تقویت دے جاتا۔میں نے نظر گھمائی اور بائیں جانب سے قریب آتے خالی رکشے کو دیکھ کراس کے رکنے کی دعامانگی۔
ہاتھ لہرانے پر رکشے کی رفتار کم ہوئی اور وہ میرے سامنے آرکا۔دشمن سڑک کے قریب آچکا تھا۔رکشے کو دیکھتے ہی اپنے ساتھی کو بلانے لگا۔
میں نے سیٹ سنبھالتے ہی رکشے ڈرائیور کو تیز چلنے کاکہا۔بلاشبہ رکشا ،موٹر سائیکل کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔وہ جلد ہی ہمیں آلیتے۔موٹر سائیکل ایک ایسی سواری ہے جو گلیوں ،سڑکوں اور ہر قسم کی جگہوں پر تیز رفتاری سے حرکت کر سکتی ہے۔ میرا دماغ سرعت سے ان حالات سے جان چھڑانے کی ترکیب سوچ رہا تھا۔ایک جاسوس کی زندگی میں ایسے لمحات بہت نازک اور خطرناک ہوتے ہیں ۔ایک غلط فیصلہ دردناک عذاب میں پھنسا سکتا ہے کہ موت بھی زندگی سے بہتر لگنے لگتی ہے۔
”سردار جی !ذرا تیز چلو۔“میں نے سکھ ڈرائیور کوتاکیدکی۔
”جانڑاں کتھے ہیے باﺅ....“(کہاں جاناہے۔“رفتار بڑھاتے ہوئے وہ ہلکا سا مسکرایا۔
”دائیں مڑ جاﺅ۔“اسے ہدایت دیتے ہوئے میں نے عقب میں دیکھا۔مونچھوں والا اپنے ساتھی کو بٹھا رہا تھا۔رکشے نے موڑ کاٹا۔
”یہیں روک دو۔“میں نے گھبراہٹ بھرے لہجے میں کہا۔
ڈرائیور نے بریک دباتے ہوئے گھبرا کر پوچھا۔”کیا ہوا ؟“
میں نے پچاس کا نوٹ ڈرائیور کی گود میں پھینکااور جواب دیئے بغیر نیچے چھلانگ لگا دی۔ فٹ پاتھ پر کافی رش تھا،میں بھیڑ میں شامل ہو گیا۔اسی وقت موٹر سائیکل رکشے کے قریب پہنچ کر رک گئی تھی۔
میں نے غیر محسوس انداز میں رفتار بڑھا دی۔پچا س ساٹھ قدم چلتے ہی میں ایک دم فٹ پاتھ سے اتر کر مارکیٹ میں گھس گیا۔اسی وقت مجھے عقب سے۔”وہ جارہا ہے۔“کی آواز سنائی دی تھی۔
مارکیٹ میں گھستے ہی میں جلدی سے تنگ گلی میں گھسااور ٹیڑھی میڑھی گلیوں میں آگے بڑھنے لگا۔وہ مارکیٹ کی بڑی گلی میں تو موٹر سائیکل دوڑا سکتے تھے لیکن تنگ گلیوں میں گھسنے کوانھیں موٹرسائیکل سے اترنا پڑتا۔
چار پانچ موڑ مسلسل کاٹنے کے بعد اچانک کسی نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔میں بدکتے ہوئے مڑا اور سامنے بڑی مونچھوں والے نگران کو دیکھتے ہی حیران رہ گیا تھا۔اس کا کلین شیو ساتھی موٹر سائیکل پر چند قدم دور بڑی گلی میں بیٹھا تھا۔دونوں کے ہونٹوں پر استہزائی تبسم پھیلا تھا۔
”مہاراج!کاہے کی جلدی ہے۔داس کو بھی سیوا کا موقع دیں ۔“
سوچنے کا نہیں ،عمل کا وقت تھا۔ان کی تفتیش کا سامنا کرنا،بھاگنے کی توجیہ کرنااور ممبئی میں اپنا ٹھکانادکھانا ممکن نہیں تھا۔میرے کاغذات سرسری بازپرس تک تو مجھے بچا سکتے تھے،باریک بینی سے جانچ ہونے پرپکڑا جانا یقینی تھا۔
”کیا میں آپ کو جانتا ہوں ؟“میں نے حیرانی بھرے لہجے میں الجھن ظاہر کی۔
وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔”اسی وجہ سے تو روکا ہے کہ کچھ اپنے بارے بتا سکوں اور کچھ آپ کے بارے جان سکوں ۔“
”پھر کبھی سہی۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے برقی کوندے کی طرح میرا دایاں مکہ اس کی ٹھوڑی کی طرف بڑھا۔میرے اطمینان نے اسے غلط فہمی میں مبتلا کر دیا تھاتبھی وہ دفاع نہیں کر سکا تھا۔عام طور پر دائروی مکا باکسرز کا پسندیدہ ہوتا ہے۔ٹھوڑی کے نچلے کنارے پر لگنے والی ضرب انسان کاجبڑا اتار دیتی ہے اور کسی کو عارضی بے ہوش کرنے کا یہ تیر بہ ہدف نسخہ ہے۔بہ شرط مکا مارنے والے کو مہارت حاصل ہو۔
اناڑی میں بھی نہیں تھا،اس کا ثبوت منہ کے بل گرنے والامچھڑ تھا۔اس کے گرنے کا نتیجہ دیکھے بغیر میں بھاگ پڑا۔اچانک شور اور چیخ و پکار شروع ہو گئی تھی۔
”بندہ ماردیا....وہ جا رہا ہے....کوئی پانی لاﺅ....یہ بے ہوش ہے........پولیس کو بلاﺅ....“ جیسے کئی جملے میری سماعتوں میں پڑے تھے،رکنے کا مطلب تھاگرفتار ہوناجس کا میں متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔
مارکیٹ کی دو تین گلیاں میں نے جلدی سے عبور کیں ۔اور رفتار کم کر لی کہ بھاگنا مجھے مشکوک بنا رہا تھا۔ایک دکان کے باہر مختلف بنیان اور قمیصیں لٹکی دیکھ کر میں اندر گھسا۔پی کیپ اورنصف بازوﺅں والی ہلکے نیلے رنگ کی ایک بنیان خرید کر میں نے فوراََ پہنی اور قیمت چکاکر باہر نکل آیا۔تعاقب کرنے والے سب سے پہلے لباس کو تاڑتے ہیں ،کیوں کہ لباس انسان کی آدھی پہچان کرا دیتا ہے۔اور بھیڑ میں شکل سے پہلے لباس پر نظر پڑتی ہے۔پھول دار قمیص دور سے میری شناخت بن رہی تھی۔البتہ زیادہ تر مردوں بلکہ عورتوں کی اکثریت تک نے جینز پہنی تھی اس لیے میں نے زیریں لباس تبدیل نہیں کیا تھا۔
مارکیٹ کے دوسرے دروازے سے باہر نکل کر میں نے سڑک عبور کی اور مخالف جانب موجود مارکیٹ میں گھس گیا۔اوراس کے بھی دوسرے دروازے سے نکل کر سڑک پر آگیا۔تھوڑا پیدل چلتے ہی ایک خالی رکشا نظر آیااور ہاتھ لہرا کر میں اندر بیٹھ گیا۔
”کسی اچھے سے ہوٹل میں لے جاﺅ۔“سیٹ سے ٹیک لگا کر میں نظریں گھماتے ہوئے دائیں بائیں کا جائزہ لینے لگا۔نہ جانے اللہ ڈینو کا کیا ہوا تھا۔اس کا گرفتار ہونا امکان سے باہر نہیں تھا۔اس کی خیریت معلوم کرنے کو میں نے موبائل فون نکالا،اس کے دو پیغام آئے ہوئے تھے۔بھاگ دوڑ میں مجھے پیغام کی گھنٹی (میسج ٹون)ہی نہیں سنائی دی تھی۔
پہلے پیغام میں ....”بیگم سے ڈرنے والے زن مرید کو معلوم ہونا چاہیے کہ دو سالے جناب کو پھینٹی لگانے کو گھر کے سامنے موٹر سائیکل لیے بیٹھے ہیں ۔“اوردوسرے پیغام میں.... ”دوست، سالوں کے ذکر پرتمھیں سانپ کیوں سونگھ گیا ہے۔“ لکھا تھا۔
بہ ظاہر مزاحیہ پیغام کے پس پردہ اس نے مجھے نگرانی کرنے والوں کی بابت اطلاع دی تھی۔انصاری صاحب نے ہمیں موبائل فون کے استعمال میں بہت زیادہ احتیاط برتنے کی تاکید کی تھی۔اسی وجہ سے ڈینو نے بار بار پیغامات یا کال کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔اس کے پیغام سے اتنا تو واضح ہو گیا تھا کہ وہ بہ خیرت نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔اس تک اپنی خیرت پہنچانے کو میں نے ”شکریہ جناب۔“کا پیغام بھیجنا ضروری سمجھا تھا۔
ڈرائیور نے پندرہ بیس منٹ میں رکشا ایک ہوٹل کے سامنے روکا۔کرایہ ادا کر کے میں اتر گیا۔رکشے کے آگے بڑھنے تک میں ہوٹل کے دروازے کی طرف چلتا رہا،مگر جیسے ہی رکشا ذرا دور ہوامیں سڑک عبور کر کے دوسری جانب پہنچ گیا۔فرلانگ بھر چلتے ہی ایک دوسرا ہوٹل نظر آگیا۔سورج غروب ہو چکا تھا۔بھاگ دوڑ میں دوپہر کا کھانا ہضم ہو چکا تھا۔اور اس وقت اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی۔میں جس طرح خطرے سے بال بال بچا تھا ایسے حالات میں عام آدمیوں کی بھوک اڑ جایا کرتی ہے۔مگر میں تربیت یافتہ سنائپر تھااور ایک سنائپر کی زندگی میں خطرات اس تسلسل سے برستے ہیں کہ سامنا کرنا ،بازار جا کر خریداری کرنے جتنی اہمیت رکھتا ہے۔ جیسے دریا میں گھسنے والے کاچھینٹوں سے ڈرنا حماقت کہلاتا ہے یونھی ایک سنائپر کا خطروں سے پہلو تہی کرنانہ صرف بزدلی بلکہ اس کے اناڑی ہونے پر دلالت کرتا ہے۔گو میرا حالیہ مشن بہت مختلف اور الجھا ہوا تھا،لیکن جان جانے کا خطرہ کسی بھی دوسرے مشن سے کم نہیں تھا۔جنگلوں ،پہاڑوں اوربیابانوں کی خاک تو میں نے بہت چھانی تھی لیکن ترقی یافتہ شہر میں دوسرا مشن تھا۔اس سے پہلے میں انڈیا کے شہر انبالہ میں رنجیت چوپڑہ نامی دہشت گرد کا پتا صاف کر چکا تھا۔البتہ وہ حالیہ مشن کے مقابلے میں بہت آسان ثابت ہوا تھا۔میرا ہدف بالکل واضح اور سامنے تھا۔جبکہ مس پرما کا دورر دور تک نام نشان نظر نہیں آرہاتھا۔دھیرندر شکلابھی رنجیت چوپڑا سے کئی گنا زیادہ اہم اور بڑی شخصیت تھا۔انڈیا جیسے بڑی آبادی اور رقبے والے ملک میں انھیں ڈھونڈنا کافی دشوار تھا۔اور ڈھونڈنے سے زیادہ مسئلہ اس کے خاتمے کا تھا۔ایسے حالات میں یقینا میری ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ گئی تھیں ۔
ہال میں بیٹھ کر میں نے دال چاول اور تلی ہوئی مچھلی منگوالی۔کھانے کے دوران نظریں تسلسل سے ہال میں گھومتی رہیں ۔لیکن بھیڑ بہت زیادہ تھی ،ہال میں کوئی میز خالی نظر نہیں آرہی تھی۔درمیانہ درجے کے ہوٹلوں میں عموماََ یہی صورت حال نظر آتی ہے۔ہال کی دیواروں کے ساتھ چند بڑی سکرین کی ”ایل ای ڈیز“ لگی تھیں ۔ایک ایل ای ڈی مجھ سے نزدیک تھی،بے دھیانی میں سکرین کو گھورتے ہوئے اچانک ایسی خبر چلنے لگی جس نے مجھے اچھلنے پر مجبور کر دیا تھا۔دو تین گھنٹے پہلے مارکیٹ میں ایجنسی کے آدمی سے میری لڑائی کاوڈیو کلپ چلایا جا رہا تھا۔ہندی رسم الخط تو میں نہیں پڑھ سکتا تھا البتہ خبر پڑھنے والی کی گفتگو بہ خوبی سمجھ سکتا تھا۔اس کے مطابق خطرناک پاکستانی دہشت گرد نے ایک عام آدمی کو اس بنا پر مکا مار کر قتل کر دیا کہ وہ اسے پہچان گیا تھا۔”سی سی ٹی“کیمرے کی وڈیو بہت زیادہ صاف نہیں ہوتی۔میرا چہرہ بھی زیادہ واضح نہیں تھا۔لیکن کوئی باریک بین اور ہوشیار شخص شناخت کر سکتا تھا۔البتہ بالائی لباس تبدیل کر کے میں نے عقل مندی کی تھی۔
مضروب کے قتل کی افواہ بھی مجھے زیادہ خطرناک ثابت کرنے کو اڑائی جا رہی تھی۔یہ انڈین ایجنسیوں کا پرانا طریقہ کار ہے۔یوں کسی بھی چھپنے والے کو زیادہ مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں ۔اور دہشت گرد کے ساتھ پاکستان کا نام لینا تو ان کی فطرت ہے۔بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے الزام تراشی کرنا ان کی عادت ہی نہیں مشغلہ ہے۔اور ایک ہم ہیں کہ ان کا حقیقی جاسوس اور دہشت گرد پکڑ کر بھی آواز بلند نہیں کر سکتے۔ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ کمزور،بے دست وپااور بودی رہی ہے۔عالمی سطح پر ہم کبھی اپنا مقدمہ صحیح طریقے سے پیش کر سکے اور نہ لڑ سکے ہیں ۔
میری وہاں موجودی بہ طور جاسوس تھی نہ دہشت گردی کا ارادہ تھا۔بلکہ ایک باپ کو بیٹی سے ملانااور ایسے ناپاک وجود کے خاتمے کو تھی جو پاکستان سے زیادہ انڈیا کے لیے نقصان دہ تھا۔لیکن حصولِ مقصد کو نیت کی درستی کافی نہیں ہوتی۔طریقہ کار بھی نیت جتنا ہی اہم اور ضروری ہوتا ہے۔اور سچ کہوں تو میرا طریقہ کار قانون کے دائرے سے بالاتر تھا۔اس لحاظ سے انڈین ٹی وی کی خبر کو جھٹلانا دیانت داری کے منافی ہوگا۔
میں نے پی کیپ کو سر پر کچھ اور دبا دیاتاکہ چہرہ مزید چھپ جائے۔پہلے میرا ارادہ اسی ہوٹل میں شب بسری کا تھا،مگر اب احتیاط ضروری ہو گئی تھی۔جنگلوں اور پہاڑوں کی نسبت شہری آبادی میں رہنا مجھے دشوار لگ رہا تھا۔
کھانے کا بل چکا کر میں باہر نکل آیا۔وڈیو میں میری داڑھی واضح نظر آرہی تھی اور حلیہ تبدیل کرنے کا آسان طریقہ یہی تھا کہ میں داڑھی صاف کر دیتا۔بلاشبہ ایک جاسوس کواپنے بچاﺅ کو اخلاقی اقدار کی قربانی دینا پڑتی ہے۔انصاری صاحب کی کہانی میں اجمالاََ بیان کر چکا ہوں ۔ان کے علاوہ بھی کئی جاسوسوں سے ملاقات کا موقع ملا۔تفصیلی بات چیت ہوئی اور پتا یہ چلا کہ اپنی پہچان چھپانے کو جاسوس کوکئی اخلاقی قدریں پامال کرنا پڑتی ہیں ، اصول توڑنا پڑتے ہیں ،کردار داغ دار کرنا پڑتا ہے،جھوٹ بولنا پڑتا ہے اور جوائ، شراب نوشی ،آبرو باختہ عورتوں سے تعلق رکھنا یہ سب بہ حالت مجبوری روا سمجھا جاتا ہے۔
ایک دکان سے میں قینچی ،شیونگ ریزر اور دستی آئینہ خریدلیا۔اندھیرا پھیل چکا تھامیری نظریں کسی مناسب گوشے کی تلاش میں بھٹکنے لگیں تاکہ داڑھی صاف کر سکوں ،اچانک ڈینو کی گھنٹی آنے لگی۔
گھنٹی وصول کرتے ہوئے میں نے محتاط لہجے میں ”ہیلو۔“کہا۔
وہ شوخ لہجے میں بولا۔”کیسے ہو مہاراج!پسند کرو تو آج رات دعوت کر سکتا ہوں ۔“
”اپنی بھابی کو تو جانتے ہو ،یہ نہ ہو میری جان کو آجائے۔“میں نے اشارے میں خطرے کا استفسار کیا۔
”دیدی کو سمجھا دوں گا،میری کوئی بات نہیں ٹالتیں ۔“اس نے ”سب اچھا“رپورٹ دی۔
”تمھارے گھر آنا پڑے گا؟“میں نے مخصوص انداز میں پتا معلوم کیا۔
وہ اطمینان سے بولا۔”گھر پر کہاں عیاشی ہو سکتی ہے۔اس وقت خصوصی دوست کے ساتھ ہوں ،پتا بھیج رہا ہوں جلدی پہنچو۔“ خصوصی دوست کا مطلب مجھے یہی سمجھ آیا تھا کہ وہ اس وقت کسی لڑکی کے ساتھ تھا۔
رابطہ منقطع کر نے کے منٹ بھر بعد ہی پیغام موصول ہوا۔نرائن نگر کالونی کا گلی اور مکان نمبر درج تھا۔ نزد شیو مندرلکھ کر پہچان کو آسان کیا گیا تھا۔
مجھے اپنی جگہ کے بارے کوئی خاص معلومات نہیں تھیں ،نہ میں ممبئی کے گلی کوچوں سے واقف تھا۔ اتنے بڑے شہر سے واقف ہونے کوکم از کم چند ماہ کی آوارہ گردی ضروری تھی۔البتہ رکشے ،ٹیکسیاں وغیرہ رہنمائی کو موجود تھے۔ایک خالی رکشا روک کر میں اسے نرائن نگر اور شیو مندر کے بارے بتانے لگا۔
اس نے کہا۔”ڈیڑھ سوروپے لگیں گے بابو۔“
”رام....رام ،اتنے دام۔“میں نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔
”دس کم دے دینا۔“اس نے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری۔
تھوڑی تکرار کے بعد ایک سو بیس روپے کرایہ طے ہوا اور میں رکشے میں بیٹھ گیا۔خود کومشکوک ہونے سے بچانے کو تکرار کرنا ضروری تھا۔
جاری ہے
قسط نمبر 16
ریاض عاقب کوہلر
شیو مند رسے پچاس ساٹھ قدم آگے جا کر مطلوبہ گلی میں داخل ہوا جا سکتا تھا۔میں مندر کے سامنے اتر گیا۔ رکشے والے کو فارغ کر کے میں نے چند لمحے انتظار کیااور رکشے اوجھل ہوتے ہی گلی کی طرف بڑھ گیا۔ڈینو نے اعتماد سے ”سب اچھا“ کی رپورٹ دی تھی لیکن میں نے احتیاط کا دامن چھوڑنامناسب نہ سمجھا۔اور میری یہ احتیاط کام آگئی تھی۔
گلی کافی وسیع اور روشن تھی۔پندرہ نمبرمیرا مطلوبہ مکان تھا۔بہ ظاہر بے پروائی لیکن بہ باطن چوکنے انداز میں گلی میں داخل ہوا۔پہلے مکان کے دروازے پر پینتیس کا عدد چمکتا ہوا نظر آیا،چند قدم آگے مخالف جانب چونتیس عدد پڑھتے ہی مجھے پتا چل گیا کہ میں گلی کے اختتام سے آغاز کی طرف جا رہا تھا۔گلی کی رونق اب تک بحال تھی۔اکادکا راہگیروں کا آنا جانا لگا تھا۔
تھوڑا سا آگے بڑھتے ہی روشنی کے کھمبے سے ٹیک لگائے ایک فقیر نظر آیا۔مجھ پر نظر پڑتے ہی جانے اس کے جی میں کیا سمائی کہ ”بجرنگ بلی“ کا نعرہ بلند کر کے مجھے قریب بلانے لگا۔
”بالک!جوگی کی سہائتا کرتے جاﺅ۔“(بچے جوگی کی مدد کرتے جاﺅ)
اسے نظر انداز کر کے میں نے آگے بڑھنا چاہا،مگر جونھی پاس سے گزرا اس کی تیز سرگوشی ابھری۔ ”میری بات سن کر جاﺅ۔“یہ کہنے کے ساتھ اس کی بلند آواز ابھری۔”بالک!جوگی کو نظر انداز کرنے والے کو نرگ میں بھی جگہ نہیں ملتی۔“
اس کے نعرے سے زیادہ سرگوشی نے مجھے چونکا دیا تھا۔میں نے بدک کر آگے پیچھے دیکھا،کوئی خطرہ موجود نہ پا کر بھکاری کا مطمح نظر جاننے کو قریب ہوا۔
وہ تیز لہجے میں بولا۔”بالک!جوگی کو سہارا دے کر اس کے ٹھکانے تک پہنچا دو،بھگوان تمھاری رکھشا کرے گا۔“
میں متذبذب کھڑا رہا،سمجھ میں نہیں آرہا تھاکیا جواب دوں ۔
اس نے سرگوشی میں میرا شناختی نام لیتے ہوئے کہا۔”سندیپ چوپڑا!آگے خطرہ ہے۔“
ایک دم لگا میں پھنس گیا ہوں ،کیوں کہ ضروری نہیں کہ مجھے پہچاننے والا دوست ہی ہوتا۔
اس کی بلند آواز میری سوچوں میں مخل ہوئی۔”بالک!جوگی کو سہارا دے کر اٹھاﺅ۔“
ایک بار میرا جی واپس بھاگنے کو کیالیکن پھر یہ سوچ کہ دشمن کو مجھے للکارنے کی کیاضرورت تھی وہ مجھے بے دھیانی میں بھی گھیر سکتے تھے۔یوں سرگوشی کرنے والا دوست ہی ہو سکتا تھا۔مگر یوں ایک دم کسی دوست کا مل جانا بھی عجیب لگ رہا تھا۔میرے پاس سوچنے کا وقت نہیں تھا۔لمحے کے دسویں حصے میں فیصلہ کرتے ہوئے میں نے بھکاری کو سہارا دینے کو ہاتھ بڑھا دیا۔
دائیں ہاتھ سے میرا ہاتھ تھام کر اس نے بائیں ہاتھ میں ڈنڈا تھامااورنقاہت کا اظہار کرتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔لیکن اس کے ہاتھ کی گرفت یہ باور کرانے کو کافی تھی کہ کمزوری کا اظہار نرا ڈراما ہی تھا۔
اٹھتے ہی اس نے دایاں بازو میرے کندھے پر رکھا ،ساتھ ہی اس کی سرگوشی نما بڑبڑاہٹ ابھری۔
” گوپال چند خطرے میں گھرا ہے۔اور اس کا چارہ ڈال کر تمھیں یہاں گرفتار کرنے کوبلایا گیا ہے۔“اللہ ڈینو کے شناختی کاغذات گوپال چند کے نام سے بنے تھے۔
میں نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔”کون ہوتم؟“
وہ درشت ہوا۔”انصاری صاحب کو تم جیسے گدھے ہی ملے تھے یہاں بھیجنے کو جنھیں یہ بھی معلوم نہیں ایسے وقت استفسار نہیں کیا جاتا۔جب تمھارے شناختی ناموں کا ذکر کر دیا ہے تو مزید تفتیش کرنا ضروری ہے کیا؟“
میں ششد رہ گیا تھا۔بہ مشکل ندامت ظاہر کر سکاتھا۔”معذرت خواہ ہوں ۔“یقینا وہ پاکستا ن کا گمنام ہیرو تھا۔ایسے ہیروزکا ایک روپ نہیں ہوتا۔موقع کی مناسبت سے ہر روپ دھار لیتے ہیں ۔دنیا کے ہر خطے میں جہاں وطن کو ضرورت پڑتی ہے یہ حاضر ہوتے ہیں ۔اپنے اصل چہرے،نام اور شناخت کو شاید یہ خود بھی بھول جاتے ہیں ۔ان کے پیش نظر صرف وطن کی خدمت اور حفاظت کا فریضہ رہتا ہے۔
وہ ہولے سے بڑبڑایا۔”ریڑھی والا اور دونوں گاہک،دشمن ہیں ۔“
مکان نمبر پندرہ کے سامنے ایک شخص آئس کریم کی ریڑھی لگائے کھڑا تھا۔ساتھ ہی لکڑی کے بینچ پر دو جوان بیٹھے خوش گپیوں میں مشغول تھے۔ ان کے انداز سے لگ رہا تھا جیسے پرانے شناسا اچانک ملیں اورآئس کریم کھا کر حال احوال بانٹنے لگیں ۔میں نے مذکورہ افراد کی طرف دیکھ کر ہولے سے کہا۔”سمجھ گیا۔“
”مکان کے دوسری جانب بھی تین آدمی موجود ہیں ۔گلی کے اس سرے پر چائے کا کھوکا بنا ہے اور تینوں گاہک کے روپ میں بیٹھے ہیں ۔“
میں نے پوچھا۔”کرنا کیا ہے؟“
”انھیں بے ہوش کر کے گوپال کو ساتھ لے جانا ہوگا۔“
”تمام کو؟“اسے سہارا دے کر میں آگے بڑھتا رہا۔
”ان تینوں کو۔“آہستہ سے کہتے ہوئے اس نے زوردار نعرہ بلند کیا۔”جے بجرنگ بلی،جوگی کو آئس کریم کھلاﺅ۔“
میں اسے سہارا دیئے ریڑھی کے قریب پہنچااور لکڑی کے بیچ کے ساتھ بٹھاتے ہوئے ریڑھی والے کو کہا۔”بھائی !جو گی بابا کو آئس کریم کا کپ دینا۔“
”جی مہاراج۔“شائستگی سے کہتے ہوئے اس نے بکس کھولا۔اسی اثناءمیں جوگی بابا نے بیٹھے بیٹھے جیب سے بوتل نکال کر باری باری دونوں گاہکوں کے چہرے پر سپرے کر دیا۔وہ ہڑبڑا گئے تھے،لیکن ان کے سنبھلنے سے پہلے بے ہوشی کی زود اثر دوا اپنا کام کر گئی تھی۔اٹھتے ہی دونوں دھڑام سے نیچے گرے تھے۔
ریڑھی والے نے چونکتے ہوئے قمیص کے نیچے ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی مگر اس سے پہلے میں حرکت میں آگیا تھا۔میرا بھرپور مکا اس کی کنپٹی پر لگا۔”اوغ۔“کی آواز کے ساتھ ہی وہ ڈھیر ہو گیا تھا۔
جوگی نے حفظ ماتقدم کے طور پر اس کے چہرے پر سپرے کرتے ہوئے اس کی بے ہوشی کو گہرا کر دیاتھا۔میں نے سرعت سے تلاشی لی،اس نے نیفے میں سائیلنسر لگا” والتھر پی ٹونٹی ٹو“پستول اڑسا ہوا تھا۔
اس اثناءمیں جوگی ،گاہکوں کی تلاشی لے کران کے لباسوں سے ہتھیار برآمد کر چکا تھا۔تینوں کے پاس سائلنسر لگے عمدہ پستول موجود تھے۔
”وقت کم ہے ،گوپال کو بلاﺅ۔“جوگی نے دونوں پستول اپنے لباس میں چھپا لیے تھے۔
میں نے فوراََ ڈینو کا نمبر ڈائل کیا۔”کس وقت تک پہنچو گے بھائی اتنی دیر لگا دی۔“کال وصول کررتے ہی اس نے واویلا کیا۔
”تم خطرے میں ہو محترم،اس چھپکلی کو بے ہوش کر کے فوراََ دروازے پر پہنچو میں منتظر ہوں ۔“
”اوہ....ٹھیک ہے میں منتظر ہوں ۔“گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے معنی خیز لہجے میں سمجھ جانے کا اشارہ دیا۔
اگلے دو منٹ میں وہ دوڑتے ہوئے باہر نکلا۔مجھے دیکھتے ہی اس کے مترددچہرے پراطمینان کی جھلک نمودار ہوئی تھی۔
”اس طرف۔“جوگی نے واپسی کی راہ کی طرف رہنمائی کی۔کھلا چوغہ اور لمبے بالوں کی وگ اتار کر اس نے لپیٹے اوربنڈل بغل میں دبا لیا۔نیچے سادہ شلوار سوٹ پہنا ہوا تھا۔اس نے اسٹریٹ لائیٹ کی طرف اشارہ کیا۔”نشانے باز کون سا ہے ،بتیاں ناکارہ کر دو۔“
یقینا انھیں میرے بارے زیادہ نہیں تو سرسری معلوما ت ضرور تھیں ۔اس کا مطمح نظر میں نہیں سمجھا تھا لیکن ہدایت پر عمل کر گزرا۔سائیلنسر لگے پستول نے دو دفعہ” ٹھک ٹھک۔“ کی اور دو بتیاں کرچی ہو کر زمین بوس ہو گئی تھیں ۔گلی میں ملگجااندھیرا چھا گیا تھا۔تیسری اسٹریٹ لائیٹ پستول کی مار سے ذرا دور تھی۔چند قدم دوڑتے کرمیں لمحہ بھر کورکاایک اور۔”ٹھک۔“نے گلی کی آخری بتی توڑ دی تھی۔
جوگی سب سے آگے تھا۔دو افراد موڑ مڑ کر گلی میں داخل ہوئے۔ان کے انداز سے صاف معلوم ہو رہا تھا کہ وہ عام لوگ تھے۔ان کے قریب ایک لمحے کو قدم روکتے ہوئے جوگی نے دونوں کے چہرے پر بے ہوشی کا سپرے کر دیا۔وہ دھڑام سے نیچے گرے تھے۔جوگی تیز رفتاری سے آگے بڑھ گیا۔گلی کے ماقبل اختتامی (سیکنڈلاسٹ)مکان کے دروازے کے سامنے رک کر اس نے دائیں بائیں دیکھااورلوہے کے دروازے پربندر کی طرف پاﺅں رکھتا ہوامکان کے اندر کود گیا۔اگلے ہی لمحے اس نے ذیلی دروازہ کھول کر ہمیں اندر بلا لیا۔
ہم آگے پیچھے اندر گھسے۔ذیلی دروازہ اندر سے کنڈی کر کے جوگی اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گیا۔وہ درمیانے حجم کا مکان تھا۔جوگی کی معیت میں چلتے ہوئے ہم سامنے سے گھوم کر پچھواڑے میں پہنچے۔ایک کھڑکی کو دھکیل کر وہ اچک کر اوپر چڑھا اور اندر گھس گیا۔ہم نے تقلید کی تھی۔
اس نے کھڑکی کنڈی کردی۔تھوڑی دیر بعد ہم ایک خواب گاہ میں بیٹھے تھے۔جوگی کا گھر کی بتیاں نہ جلانا ظاہر کر رہا تھا کہ وہ کسی انجان شخص کا گھر تھا۔مکین کی غیر حاضری سے فائدہ اٹھا کر وہ عارضی استعمال میں لا رہا تھا۔یقینا مکان پہلے سے اس کی نظر میں تھا تبھی بغیر جھجکے اندر گھسا تھا۔کھڑکے و دروازے کے پردے برابر کر کے اس نے موبائل فون کی روشنی جلائی اور میز پر رکھ دیا۔
”گوپال چند تمھاری عقل گھاس چرنے گئی ہوئی تھی۔“نشست سنبھالتے ہی وہ ڈینو پر برہم ہوا۔
ڈینوکھسیاتے ہوئے بولا۔”پہچان کرا کر بے عزتی کرو یار!“
جوگی نے اسے تیز نظروں سے گھورا۔”خالی لڑائی بھڑائی کی مہارت تمھیں خطرات سے نہیں بچا سکتی۔“
ڈینو نے صفائی دی۔”میں نے اسے بازاری لڑکی سمجھا تھا۔“
میں مخل ہوا۔” مجھے بھی سمجھا دو۔“
ڈینو نے مسمسے لہجے میں تفصیل بتلائی۔” جونھی ہوٹل کے ہال میں پہنچا ایک لڑکی استقبالیہ کے سامنے نظر آئی۔مجھے دیکھ کر اس نے دعوت آمیزتبسم اچھالا۔اندھاکیا چاہے دو آنکھیں ،سوچا شاید پیشہ ور لڑکی ہے۔اس کی مدد سے میں ہوٹل سے آسانی سے نکل سکتا تھا۔پس جوابی مسکراہٹ اچھال کے قریب ہو گیا۔بے حیا فوراََ ہی مان گئی۔ارادہ تھا ہوٹل سے نکل کر جان چھڑا لوں گا،مگر پھر شب بسری کا لالچ آڑے آگیا۔باہر نکلتے ہوئے مجھے نگرانی کرنے والے بھی نظر آئے تھے ،تبھی تمھیں پیغام بھی بھیجے۔شردھاسہناکا مکان مجھے چھپنے کو بہتر لگا اس لیے تمھیں بھی دعوت دے دی۔اب تمھارے کہنے پر بے چاری کو بے ہوش کر آیا ہوں ۔“
جوگی نے انکشاف کیا۔”اس کا نام سنیتا جیسوال ہے۔را کی خصوصی ایجنٹ ہے۔بے خبری میں مار کھا گئی ہو گی ورنہ اتنا آسان ہدف نہیں ہے۔باقی ہم شروع سے تم پر نظر رکھے ہوئے تھے۔سلطان دادا نے اپنا کام بہ احسن خوبی نبھایا مگرتمھاری بدقسمتی کہ را کا ایک نمائندہ بھی تمھارے تعاقب میں تھا۔وہ خود تو سلطان دادا پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا اور نہ تصدیق کر سکتا تھا۔اس نے کرن چاولہ تک یہ خبرپہنچا دی۔راجپوت دادا کا پتاکرن چاولہ ہی نے کھیلا۔ راجپوت دادا کے را کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ۔ گو کرن چاولہ جانتا تھا کہ سلطان دادا تک اس کا نام پہنچ جائے گا اور اس کے بعد وہ تمھیں چھپانے کی کرے گا، لیکن اس کا مطمح نظر تمھاری موجودی کی تصدیق کے ساتھ تمھاری پہچان بھی تھی۔وہ سلطان دادا پر کچا ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔حکومتی کارندے حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ زیر زمین لوگوں سے نہ بگاڑیں ۔ سلطان دادا کے اڈے اور ہوٹل کی عمارت کے درمیانی ربط سے وہ بھی واقف تھے،تبھی ہوٹل پر زیادہ توجہ دی اور گوپال کو آسانی سے ورغلا لیا۔چونکہ ان کا مطمح نظر تم دونوں کی گرفتاری تھااور سندیپ چوپڑا ان کے ہاتھ نہیں آسکا تھا تبھی انھوں نے گوپال کو ڈھیل دیئے رکھی تاکہ گوپال کے ذریعے سندیپ کو پکڑ سکیں ۔ہم بھی ان کے تعاقب میں تھے۔گلی کے سرے پر میں نے اور دوسری جانب ہمارے ایک اور ساتھی نے مورچہ پکڑا ہوا تھا،کیوں کہ ہمیں اندازہ تھا وہ سندیپ کو وہیں بلائیں گے۔“
جوگی کی وضاحت نے ہمارے کافی شکوک دور کر دیے تھے۔ڈینو منہ بنا کربولا۔”اگر سلطان دادا کے بجائے آپ لوگ ہی ہمیں وصول کرتے تو زیادہ مناسب رہتا۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”اس طرح ہم خود نظر میں آجاتے۔اور ہماری یہاں موجودی کا مقصد انصاری صاحب کی بیٹی کی بازیابی نہیں ہے۔“
میں شاکی ہوا۔”تو اب مدد کرنے کی کیا ضرورت تھی۔“
جوگی اطمینان سے بولا۔”مجبوراََمخل ہوناپڑا۔کیوں کہ ایک تو ہمارے بے نیازی برتنے پر تم دونوں کی گرفتاری یقینی تھی،دوسرا اب ان کی توجہ تم دونوں پر مرکوز تھی اس لیے ہم آسانی سے وار کر گئے۔“
ڈینو ممنونیت سے بولا۔”بہ ہرحال شکریہ۔“
” تمھارے شکریے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔تم دونوں کی جگہ کوئی بھی پاکستانی ہوتا ہم اسے بچانے کی کوشش ضرور کرتے۔باقی انصاری صاحب کے کچھ قرض بقایا ہیں اگر خود ان کا کام نہیں کر سکتے تو اس کے مدد گاروں کی تھوڑی بہت مدد ضرور کر سکتے ہیں ۔“
میں نے پوچھا۔”کیا یہاں محفوظ ہیں ؟“
اس کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔”دورانِ لڑائی کس کا داﺅ چل جائے یہ مقدر کے ہاتھ میں ہے۔ ہمارا کام کوشش کرنا ہے،سوفیصد کامیابی کا حصول کسی اور کے قبضہ قدرت میں ہے۔البتہ دونوں اپنے موبائل فون بند کردو،کیوں کہ تمھارے موبائل نمبر ان کے پاس پہنچ گئے ہوں گے۔“
ہم نے موبائل فون بند کر کے کوڑا کرکٹ کی ٹوکری میں پھینک دیے تھے۔
”ڈینو نے اندازہ ظاہر کیا۔”یقینا یہ کسی اانجان شخص کا مکان ہوگا اور اس کی آمد کسی بھی وقت متوقع ہو سکتی ہے۔“
جوگی نے وضاحت کی۔”بھاگنے کی کوشش میں پکڑے جا نے کا اندیشہ تھا۔“
میں نے پوچھا۔”یہاں کب تک چھپیں گے؟“
”کچھ کہہ نہیں سکتے۔“بے نیازی ظاہر کرتے ہوئے جوگی نے آنکھیں بند کرلیں ۔
ڈینونے منہ بنایا۔”پھر اپنا نام ہی بتا دو۔“
”دیپک۔“وہ دھیرے سے بولا۔”اوریقینا یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہو گی کہ ایک آدمی کا جاگنا ضروری ہے۔“
ڈینو مجھے اٹھنے کا اشارہ کر کے ڈرائینگ روم میں لے آیا،وہاں اندھیرا تھا۔اس لیے ہم جوگی کا موبائل فون ساتھ لے آئے تھے۔بیٹھنے کی جگہ تلاش کرکے میں نے روشنی بجھا دی۔
ڈینو شرم سار ہوا۔”سوری یار!میں نے تمھیں بھی پھنسانے میں کسر نہیں چھوڑی تھی۔“
میں متبسم ہوا۔”انصاری صاحب کو کم از کم دو تین ماہ تک ہمیں جاسوسی کی تربیت دینا چاہیے تھی۔“
ڈینوکو کرید ہوئی۔ ”بھائی کا اصل نام دیپک تو نہیں ہوگا۔“
میں نے سمجھایا۔”اس نے ہمارے اصل نام جاننے کی کوشش نہیں کی تواپنانام کیوں کر بتائے گا۔“
”اچھا مٹی پاﺅ۔“اس نے گہرا سانس لیا۔”یار! مجھے تو شردھا یاد آرہی ہے۔“
میں نے یاد دلایا۔”اس کا نام سنیتا ہے۔“
وہ عاشقانہ لہجے میں بولا۔”نام بھاڑ میں ڈالو،صورت اتنی موہنی ہے کہ مستقل انڈیا میں رہائش کا سوچنے لگا تھا۔سانولی ہے لیکن حواس پر چھا نے کی صلاحیت رکھتی ہے۔“
میں ہنسا۔”اتنی ہی پیاری ہوتی تو بے ہوش کر کے نہ آتے۔“
”مجبوری تھی یار!ورنہ ارادہ یہی تھا کہ پرما انصاری کے بجائے پہلے شردھا کو اغواءکرکے پاکستان لے جاﺅں گا۔“
میں نے ٹوکا۔”تم مسلسل اس کا غلط نام لیے جا رہے ہو۔“
وہ شوخی سے بولا۔”کیا کروں ،اس نام میں نغمگی زیادہ ہے۔اور جب تمھیں پتا چل جاتا ہے کہ شردھا کہنے سے میری مراد سنیتا ہی ہے تو تمھی ٹوکنے سے باز آجاﺅ۔“
”فضول بحث کو چھوڑو اور آگے کا سوچو۔“میں نے موضوع تبدیل کیا۔
وہ اطمینان سے بولا۔”سوچنے کو دیپک صاحب تشریف لے آئے ہیں ۔“
میں نے واویلا کیا۔”یقین مانومجھے تومعاملے کا سر پیر نظر نہیں آرہا۔ڈور ایسی الجھی ہوئی ہے کہ کوئی سرا دکھائی نہیں دیتا۔“
”ایک مشورہ مانو گے۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”تمھاری حالیہ بے راہروی متقاضی ہے کہ مشورہ سنے بغیر میں اثبات میں سر نہ ہلاﺅں ۔“
وہ عاشقانہ لہجے میں بولا۔”بے راہروی سے مراد شردھا سہناہے تو یہ الزام سر آنکھوں پر۔“
میں چڑ کر بولا۔” مشورہ پھوٹو۔“
”آرام سے سوجاﺅ،دیپک بھائی سے مل بیٹھ کر کوئی حل سوچیں گے۔“
”تمھاری عادتیں کیسی بھی ہوں مشورہ رد کرنے کے قابل نہیں دیا۔“طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے میں موبائل روشن کر کے خواب گاہ کی طرف بڑھ گیا۔
”تمھارے طعنے اس دل سے شردھا سہنا کی محبت کم نہیں کر سکتے۔“میری تقلید میں اس نے بھی خواب گاہ کا رخ کیا تھا۔
دیپک ڈبل بیڈ پر پھیل کر لیٹا تھا۔مجھے بھی ایک کونے میں جگہ مل گئی تھی۔موبائل فون میز پر رکھ کر میں لیٹ گیا۔
عموماََ سول دوستوں سے سنا ہے کہ انھیں نئی جگہ پر نیند نہیں آتی۔لیکن ایک فوجی بے چارہ اتنے علاقے گھوم چکا ہوتا ہے کہ کوئی جگہ اسے نئی معلوم نہیں ہوتی۔ایک سنائپر تواس معاملے اور بھی سخت جان ہوتا ہے۔ پتھریلی چٹانوں ،اونچے درختوں ،برفیلی وادیوں اور گرم ریگزاروں میں موسم کی شدت کی پروا کیے بغیر سو جانا ایک سنائپر ہی کا خاصا ہوتا ہے۔جب خطرات برساتی بادلوں کی طرح سر پر منڈلا رہے ہوں ۔موت کے قدموں کی چاپ اونچی ایڑی کے سینڈل کی پختہ فرش پر ٹک ٹک کی طرف سنائی دے رہی ہو۔مقصد پورا کرنے کا جنون و لگن دل و دماغ پر حاوی ہو ایسے میں سو جاناکمال کہلاتا ہے۔اور ایسے کمال پاکستانی سنائپرز سے سرزد ہوتے رہتے ہیں ۔علامہ اقبال ؒ نے طارق بن زیادؒ کا قول مصرع میں نقل فرمایاکہ....
ع ہر ملک ملک ماست کہ ملکِ خدائے ماست
اور بلاشبہ پاکستانی سنائپرزپر بھی یہ مصرع مکمل طر پر منطبق ہوتا ہے۔وہ تو آرام دہ بستر تھا۔گو خطرہ موجود تھا لیکن بدن کو راحت میسر تھی۔جو جسمانی اور ذہنی اذیت میں سونے کے عادی ہوں انھیں صرف ایک دشواری جاگنے پر مجبور نہیں رکھ سکتی۔میں بھی لمحوں ہی میں گہری نیند میں ڈوب گیا تھا۔
میری آنکھ ڈینو کے جگانے پر کھلی تھی۔
”شش....خطرہ ہے۔“اس نے دھیمی آواز میں سرگوشی کی تھی۔ سنائپر کا دماغ عام آدمی سے مختلف ہوتا ہے۔جاگتے ساتھ اسے ماحول کا ادراک ہو جاتا ہے۔اور ایسا مسلسل مشقوں سے ہوتا ہے کہ آنکھ کھلتے ہی انسان حواس باختہ نہ ہو جائے۔
میں نے فوراََ ڈینو سے موبائل لے کر بجھا دیا تھا۔ دروازے پر کھڑ پڑ ہوئی۔میرا خیال مالک مکان کی طرف پلٹا،مگر دبے قدموں کی چاپ او رہلکی سرگوشیاں میرے اندازے کو جھٹلا رہی تھیں ۔
اچانک ہی کمرہ تیز روشنی میں نہا گیا، کسی نے” مین سوئچ آن“ کیاتھا۔یقینا گھر والوں نے جاتے وقت ہر کمرے کی روشنی بجھانے کے بجائے صرف ”مین سوئچ “سے بجلی منقطع کی تھی جو بٹن کے دبتے ہی بحال ہو گئی تھی۔
روشنی ہوتے ہی دروازے کو ٹھوکر مار کر کھولا گیا۔چست لباس پہنے ہوئے دو افراد ہتھیار تانے دندناتے ہوئے اندر گھسے۔انھوں نے انساس رائفلیں پکڑی ہوئی تھیں ۔(5.56ایم ایم انساس رائفل (انڈین نیشنل سمال آرمز سسٹم)ایک اچھی رائفل ہے۔اس کا رسیور اور پسٹل گرپ کلاشن کوف جیسا ہے۔میگزین شفاف پلاسٹک کی بنی ہے اور اس میں 22گولیاں آتی ہیں ۔خود کار ہتھیاروں کو جب چھٹے(برسٹ) پر لگایا جائے تو فائرر کی انگلی کے دباﺅ سے گولیوں کی بوچھاڑ نکلتی ہے۔یعنی جتنی دیر ٹریگر دبا کر رکھا جائے گا اتنا لمبا چھٹا فائر ہو گا۔ اور یوں عموماََ اچھے فائرر بھی لمبے چھٹے فائر کر بیٹھتے ہیں جو کہ گولیوں کے ضیاع کے ساتھ ہدف کو بھی فائرر کی مرضی کے خلاف زیادہ نقصان پہنچا دیتے ہیں ۔لیکن انساس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ سلیکٹیو میکانزم کے ذریعے سنگل شاٹ اور تین راﺅنڈ کے چھٹے فائر کئے جا سکتے ہیں )
”ہاتھ اوپر۔“ کرخت لہجے میں پکاراگیا۔
مگر ڈینو اسپرنگ کی طرح اچھلا،اس کی بھرپور ٹھوکر، دائیں والے کی چھاتی میں لگی تھی۔وہ دروازے سے باہر جا گرا۔دوسرے نے رائفل ڈینو کی طرف گھمائی،لیکن اس سے پہلے میں لبلبی (ٹریگر )دبا چکا تھا۔ وہ وقت خطرہ مول لینے کا نہیں تھا کہ میں اسے زخمی کرنے کا سوچتا۔ تبھی ”والتھر پی ٹونٹی ٹو“ کی گولی اس کے کان سے ایک انچ اوپر کھوپڑی میں گھسی۔وہ مری ہوئی چھپکلی کی طرح نیچے گراتھا۔
ڈینو فرش پر لوٹ لگاتے ہوئے دروازے سے گزرا اور اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے دشمن پر جا پڑا۔سر کی بھرپور ٹکر چھاتی میں رسید کرتے ہوئے ڈینو نے اس کے ہتھیار پر ہاتھ ڈالا۔وہ کولہوں کے بل نیچے گرا تھا۔لیکن ڈینو سے ایک غلطی ہو گئی تھی وہ تیزی میں درستی بھول گیا تھا۔حملہ کرنے والے صرف دو نہیں تھے۔کمانڈوز عموماََکمروں پر دھاوا بولتے وقت چار کی تعداد میں حملہ کرتے ہیں ۔ ایک کمانڈو کو یہ اصول بھولنا نہیں چاہیے تھا۔اور میدان جنگ میں ذرا سی غلطی، گنجائش کا موقع چھین لیا کرتی ہے۔
ڈینو، انساس چھینتے ہی پیٹھ کے بل فرش پر گرااور دیوار کے ساتھ کھڑے دشمن پر فائر کھول دیا۔ اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ اسے بنیادی اصول نہیں بھولا تھا۔بس جوش میں ہوش کھو بیٹھا تھا۔دروازے کے دائیں بائیں کھڑے ہوئے دو افراد میں سے ایک تو اس کی گولیوں کا نشانہ بن گیا البتہ دوسرے نے لبلبی دبا کرڈینو کی چھاتی میں سوراخ کھول دیا تھا۔
اس حالت میں بھی ڈینو کی حرکت نہیں رکی تھی،اس کی رائفل نے دوسرا چھٹا اگلا اور اسے مارنے والا بھی چیختا ہوا نیچے گر گیا تھا۔
میں بجلی کی سی سرعت سے ڈینو کی طرف بھاگا۔اس دوران ڈینو کی ٹکر کھا کر گرے ہوئے دشمن نے اٹھ کر ڈینو کو ٹھوکر رسید کرنے کی کوشش کی،مگرسائیلنسر لگا ” والتھر پی ٹونٹی ٹو“ دوسری گولی اگل چکا تھا۔ بھاگتے ہوئے بھی میں دشمن کے ماتھے کو کامیابی سے داغ چکا تھا۔
اس سے پہلے کہ میں باہر نکلتا، دو افراد ڈرائینگ روم کے دروازے سے اندر آئے۔دونوں نے ہتھیار پہلے سے تانے ہوئے تھے۔میں فوراََ منہ کے بل گرا۔ان کے ہتھیار ایک ساتھ گرجے گولیاں میرے اوپر سے گزری تھیں۔
بلاشبہ میں بال بال بچا تھا ،لیکن دشمن کی گولیاں رایگاں نہیں گئی تھیں ۔میرے کانوں میں دیپک کی زور دار کراہ پہنچی،یقینا وہ بھی میری تقلید میں باہر نکل رہا تھا۔
میں نے لیٹے لیٹے پستول سیدھا کیا،دونوں دشمن اگلا چھٹا فائر کرنے کی حسرت لیے منہ کے بل گرگئے تھے۔
ڈینو کی حالت دیکھ کر مجھے نہیں لگتا تھا کہ اسے مدد کی ضرورت تھی۔یقینا اس کے سانس پورے ہو چکے تھے۔وطن کی حفاظت کی قسم کھانے والے کے نصیب میں وطن کی مٹی بھی نہیں لکھی تھی۔
میں پیچھے مڑا،میرے دوسرے ساتھی نے بھی ڈینو کی تقلید کرنا پسند کیا تھا،دو چھٹے چہرے سے ٹکرا کر اسے ناقابلِ شناخت بنا چکے تھے۔ایک ساتھ چھے گولیوں نے بے چارے کو تڑپنے کا موقع بھی نہیں دیا تھا۔میں ایک لمحے کو ساکن ہوا، موجود صورت حال سے نکلنے کو دماغ کے گھوڑے دوڑائے،یقینا جان بچانے کو ہتھیار ڈالنا ضروری ہو گیا تھا۔ انڈین کمانڈوز نے مکان کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔اور ایک پستول کے سہارے میں تربیت یافتہ کمانڈوز کا گھیرا توڑ کر بھاگ نہیں سکتا تھا۔
کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے اچانک دھماکا ہوا،میں نے فوراََ خود کو نیچے گرایا ،مگر اس سے پہلے ہی میری دائیں ران میں گرم سیسہ گھس کے دوسرے جانب نکل گیا تھا۔گولی لگتے وقت درد یا تکلیف کا احساس بالکل بھی نہیں ہوتا،لیکن اس کے بعد ہر گزرتے لمحے زخم پھوڑے کی شکل اختیار کرتا جاتا ہے۔
فائر کرنے والے کا احسان تھا کہ اس نے کھوپڑی،گردن اور پیٹھ کے بجائے ران میں گولی ماری تھی۔ شاید اس کا ارادہ مجھے زندہ پکڑنے کا تھا۔اور اللہ پاک کی منشا کے مطابق میرے چند سانس بقایا تھے،ورنہ میرا حشراللہ ڈینو اور دیپک سے مختلف نہ ہوتا۔
نیچے گرتے ہی میں فوراََ سیدھا ہوادشمن نے چوکنے انداز میں رائفل تانی ہوئی تھی۔میرے سیدھا ہوتے ہی اس نے رائفل ہلا کر مجھے دھمکانے کی کوشش کی ،مگر اس کے ہونٹوں سے دھمکی نکلنے سے پہلے میرا پستول گولی اگل چکا تھا۔ میرا اسے زندہ پکڑنے کا ارادہ نہیں تھاکہ کھوپڑی کو نشانہ نہ بناتا۔اور سنائپر اتنے قریب سے نشانہ خطا نہیں کیا کرتا۔
جاری ہے
قسط نمبر 17
ریاض عاقب کوہلر
گولی ماتھے میں لگی تھی۔ اس کے نیچے گرتے ہی میں لمحے کے بیسویں حصے میں ایک فیصلے پر پہنچا۔ ”والتھر پی ٹونٹی ٹو“ کا دستہ میں نے دیپک کے دائیں ہاتھ میں پکڑایا،بیڈ پر اس کی گڈری اور لمبے بالوں والی وگ پڑی تھی۔گڈری کا اندرونی کپڑا پھاڑ کر میں نے سرعت سے پھوڑا بنی ران پر کس کر لپیٹا تاکہ خون کا اخراج رک سکے۔ابتدائی طبی امداد کا پہلا اصول خون کے بہاﺅ کو روکنا ہوتا ہے۔اکثر زخمی صرف خون ضائع ہونے سے ہلاک ہو جاتے ہیں ورنہ ان کے زخم بہ ذات خود جان لیوا نہیں ہوتے۔دیپک کے بالوں کی وگ اور گڈری بیڈ کے نیچے پھینک کر خود بھی بیڈ کے نیچے کھسک گیا۔مکان کے باہر دوڑتے قدموں کی آوازیں اور احتیاط سے اندر گھسنے کی ہدایات گونج رہی تھیں ۔مرنے والوں کے کانوں میں وائر لیس سیٹ کے ہینڈ فری لگے ہوئے تھے اس لیے وائرلیس کی بلند آواز نہیں ابھر رہی تھی۔اور اپنے ساتھیوں کی خاموشی کی وجہ ہی سے وہ اندر گھسنے میں احتیاط برت رہے تھے۔ان کا محتاط پن ہی مجھے چند لمحوں کی مہلت دے گیا تھااور میں بیڈ کے نیچے گھس گیا۔گو یہ جواءہی تھا مگر اس وقت جواءکھیلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ڈینوجلد بازی اور جوش میں حالات کو اس نہج تک لے آیا تھا ورنہ میں گرفتاری دینے پر تیار ہو جاتا۔
میرے اندازے کے مطابق ان کی نظر میں ہم صرف دو تھے۔اور دو لاشیں ملنے کے بعد انھیں تیسرے کی تلاش کی ضرورت باقی نہیں ہونا چاہیے تھی۔خوش قسمتی سے جن افراد نے کمرے میں تین افراد کو دیکھا تھا وہ تمام ہلاک ہو چکے تھے۔باہر والوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اندر دشمنوں کی تعداد کتنی ہے۔جو ہمارے صورت آشنا تھے انھیں بھی دیپک کو دیکھ کر کوئی شک نہیں ہو سکتا تھا کیوں کہ اس کا چہرہ ناقابلِ شناخت ہو چکا تھا۔اس کے چہرے کو پہچاننے اور اس پر واری قربان ہونے والی نگاہیں کہیں دور پاکستان میں تھیں ۔وہاں تو بس نفرت ، حقارت اور ناپسندیدگی سے دیکھنے والی آنکھیں تھیں جن کی نظر میں اس کا وجود دھرتی کا بوجھ تھا۔یقینا نفرت و محبت کا تعلق پہچان و واسطے سے ہے،صورت و کردار کے تعین سے نہیں ۔
کمانڈو ز کے طریقہ کار میں ہمیشہ ایسے کمرے کی تلاشی لینے کو جس میں دشمن کی موجودی یقینی ہو دستی بم (ہینڈ گرنیڈ)اندر پھینک کر رائفل کی چند گولیاں فائر کرتے ہیں تاکہ کوئی دستی بم کو اٹھا کر واپس نہ پھینک سکے۔ (پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ دستی بم پن نکلنے کے تین سے چار سیکنڈ بعد پھٹتا ہے)لیکن ایسا تب کیا جاتا ہے جب دشمن کے چوکنا ہونے کا یقین ہو۔ہمیں انھوں نے بے خبری میں چھاپنے کی کوشش کی تھی جو کامیاب نہیں ہو پائی تھی۔اور اب وہ دستی بم پھینکنے کی حالت میں نہیں تھے کہ خود ان کے ساتھی اندر موجود تھے۔گو ساتھیوں کی طرف سے خاموشی چھا جانا، ساتھیوں کے ضائع ہونے کو ظاہر کرتا ہے،مگر ان کے بے ہوش ہونے کا امکان بھی نظر انداز نہیں کیا سکتاتھا۔ اور وہ اسی امید پر دستی بم نہیں پھینک رہے تھے۔
”تم چاروں طرف سے گھیرے میں آچکے ہو۔جان بچانا ہے توہتھیار پھینک دو۔“
اوندھے منہ لیٹ کر میں نے سر قالین پر ٹیکا ہوا تھا۔بھورے رنگ کے قالین پر خون کی سرخی واضح نظر آرہی تھی۔لیکن اندازہ تھا کہ میرے خون کو بھی دیپک کا خون سمجھا جا سکتا تھا۔
دشمن نے زیادہ دیر انتظار نہیں کیاتھا۔ڈرائینگ روم کا دروازہ خواب گاہ کے دروازے سے ذرا ترچھا تھا۔تبھی دشمن کا داخلہ میری نظر سے اوجھل رہا۔چند لمحوں بعد دو پاﺅں میری نظروں کے سامنے طلوع ہوئے اور ایک دم کمرے کے سامنے سے گزر کر دروازے کے دائیں جانب چھپ گئے۔ دروازے کی بائیں جانب بھی کسی نہ کسی کو موجود ہونا چاہیے تھا۔لمحہ بھر بعد وہ دھاڑتے ہوئے اندر داخل ہوئے....
”خبرادار....ہاتھ اوپر....حرکت نہیں ۔“جیسے فقرے باآواز بلند کہتے ہوئے انھوں نے متوقع دشمن پر رعب ڈالا،مگر اندر انھیں اپنے ساتھی اور دیپک کی لاش کے علاوہ انھیں کچھ نہیں ملا تھا۔دو آدمی سرعت سے غسل خانے کے دروازے تک گئے،مگر ناکام لوٹے تھے۔
”کلیئر....کلیئر....کلیئر....“وقفے وقفے سے تین مختلف آوازوں نے سب اچھاپیش کیا۔میں دم سادھے لیٹا رہا۔
دو بوٹ میرے چہرے سے دو تین فٹ کی دوی پر آکر رکے۔میرے دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہو گئی تھی،مگر خیریت گزری اور اس نے نیچے جھانکنے سے گریز کیا تھا۔
ان کا سرغنہ وائرلیس سیٹ پر” سب اچھا “دے رہا تھا۔”دو گھس بیٹھے ہلاک کر دیئے ہیں ۔اپنے سات ساتھی شہید ہوئے ہیں ۔“مسلمانوں کی نقل میں اب غیر مسلم اقوام بھی وطن کی خاطر لڑ کر مرنے والوں کو شہید کہنے لگے ہیں ۔
ایک اور آواز ابھری۔”کچرا دان (ڈسٹ بن)میں دو موبائل پڑے ہیں ۔“
سینئر نے انھیں خبردار کیا۔”کرن چاولہ صاحب یہیں آرہے ہیں ،ان کی آمد تک لاشوں سے چھیڑ خانی نہیں ہوگی۔“
ایک آدمی رو دینے والے انداز میں بولا۔”مارے گئے،وہ تو بہت بے عزت کریں گے۔“
وہ آپس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گئے تھے۔
کرن چاولہ کا نام میں نے سلطان دادا کے آدمی اور پھر دیپک سے بھی سنا تھا۔یقینا را کا خصوصی کارندہ تھا۔جبھی تو کمانڈوز بھی اس کے نام سے گھبرا رہے تھے۔
ڈرائینگ روم سے ان کی گفتگو کی آواز گونجتی رہی۔دیپک اور ڈینو کو کوستے ہوئے وہ اپنے مرنے والے ساتھیوں پر اظہارِ افسوس کر رہے تھے۔اس کے ساتھ کرن چاولہ کے سوالوں کے جواب تیار کر رہے تھے کہ کس طرح دو دہشت گردان کے ساتھ کمانڈوز کا کام تمام کر گئے تھے۔
میری ران میں شدید دردہورہا تھا۔ میری خوش قسمتی تھی کہ گولی نے ہڈی نہیں توڑی تھی۔اور ران کے کنارے کے گوشت کو چھیدتی ہوئی باہر بھی نکل گئی تھی۔پٹی کو چھونے پر مجھے ہلکی چپچپاہٹ محسوس ہوئی۔خون ہلکا ہلکا رس رہا تھا۔میں عجیب حالات میں پھنس گیا تھا۔اللہ ڈینو کی جدائی کو دماغ اب تک ہضم نہیں کر پایا تھا۔ اس کے ساتھ رشتہ نیا سہی مگر وہ ایک مخلص اور کارآمد ساتھی تھا۔دلیر،نڈراور پہل کرنے والا۔دیپک انجان سہی مگر سچا خیر خواہ تھا۔یقینا اس کی وجہ سے ہمیں کافی سہولتیں میسر ہوتیں ،لیکن شومئی قسمت کہ تعلقات کے آغاز کے ساتھ وچھوڑے کی صدا گونج اٹھی تھی۔
ان کی گفتگو سے بے نیاز میں آگے کا سوچنے لگا۔پہلا مرحلہ تو جان بچانے کا تھا۔نامعلوم کرن چاولہ کی آمد کیا گل کھلانے والی تھی۔ممکن تھا وہ بیڈ کے نیچے جھانکنے پر مصر ہوتا۔اور ایسا ہونے کی صورت میری گرفتاری یقینی تھی۔اس کے بعد کیا ہونا تھا یہ سوچنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی۔
سنائپر جتنا بھی سخت جان ہوایک حد تک تکلیف برداشت کر سکتا ہے۔اور انڈین عقوبت خانے میں پھنسنا کسی بھی پاکستان جاسوس کی اخیر درجے کی بدقسمتی کہلاتی ہے۔انڈین ایجنسیوں کے پاس تشدد کے وہ طریقے اور حربے ہیں کہ قدم زمانے کاغیرانسانی تشدد بھی اس کے سامنے ہیچ نظر آتا ہے۔
مگر کہتے ہیں پانی میں گھسنے والے کو گیلا ہونے سے نہیں ڈرنا چاہیے۔میں نے بھی انصاری صاحب کو ہامی بھرتے وقت بدترین حالات کو مدنظر رکھا تھا۔دشمن ملک میں گھسنے والا ہر جاسوس اس دن کے لیے ذہنی طور پر تیار رہتا ہے۔
اچانک ڈرائنگ روم میں ہلچل مچی۔میں اس طرف متوجہ ہوا۔معلوم ہوا کرن چاولہ پہنچ گیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ایک گھمبیر آوازمیری سماعتوں سے ٹکرائی۔بولنے والا پراعتماد و پر رعب لگ رہا تھا۔اپنے ساتھ آدمیوں کی لاشیں دیکھ کر اس نے اظہار برہمی کیا تھا لیکن اس کی درشتی میں حوصلہ و متانت چھپی تھی۔ وہ سرغنہ کے منصوبے میں پیشہ ورانہ غلطیاں اور کمیاں اجاگر کرنے لگا۔
”محاصرے میں آئے دو دہشت گردوں سے اپنے سات کمانڈوز مروا کر انھیں ہلاک کردینانالائقی، کمزوری اور حد درجے کی حماقت ہے۔اگر لڑنے کی صلاحیت نہیں تھی تو دستی بم استعمال کرتے،آنسو گیس کام میں لاتے۔راکٹ لانچر سے حملہ کرتے ،مگر اپنے آدمیوں کی بَلّی نہ دیتے۔ سات آدمی مروا کر تو کوئی اناڑی بھی دو آدمیوں کو قتل کرسکتے تھے۔تم کیسے کمانڈو ہو۔اگر دشمن کو زندہ پکڑا ہوتا پھر بھی کوئی بہانہ تو موجود ہوتاکہ انھیں زندہ پکڑتے ہوئے اپنے آدمی قتل ہوئے ہیں ۔“اس نے لمحہ بھر کو توقف کیا تبھی حملہ آوروں کے سرغنہ نے صفائی دینے کو منہ کھولا۔
”سر!ہم انھیں غافل سمجھنے کی غلطی کر بیٹھے۔مگر وہ جوابی کارروائی کو مکمل تیار تھے۔“
”لچر بہانے بازی سے پرہیز کرو سوراج!....کیا بھارتی کمانڈوز صرف سوئے ہوئے دشمنوں ہی پر کاری وار کر سکتے ہیں ۔“کَرن چاولہ برہم ہوا۔”اگر وہ ہوشیار تھے تو تم بھی غنودگی میں نہیں تھے۔“
سوراج نے ندامت ظاہر کی۔”سوری سر۔“
کرن چاولہ نے درشتی سے کہا۔”من کرتا ہے تمھارے بچ جانے والے ساتھیوں کو بھی مرنے والوں کے پاس بھجوا دوں ۔“
سوراج کے پاس جواب ختم ہوگئے تھے۔کسی اورکی بھی آواز نہیں ابھری تھی۔کرن چاولہ کا عہدہ مجھے معلوم نہیں تھا،مگر انداز سے آفیسر لگ رہاتھا۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد کرن چاولہ کی آواز ابھری،لہجہ بدلا ہوا تھا۔یقینا اس نے غصے پر قابو پا لیا تھا۔”یہ چارلاشیں دیکھو،ہر ایک کے سر میں گولی ماری گئی ہے۔اسے کہتے ہیں پیشہ ورانہ مہارت۔“وہ لاشیں دیکھتا ہوا اندر گھسا۔”اس کے بھی سر میں گولی لگی ہے۔اور یہ اس کا کام ہے۔“وہ دیپک کی لاش کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔ ”اس نے تمھارے کمانڈوز پر خالی ہاتھ حملہ کیا۔“کرن چاولہ نے ڈینو کی لاش کی طرف اشارہ کیا۔”اور اس نے تیز رفتاری اور درستی سے فائر کرتے ہوئے اپنے ساتھی کی مدد کی۔مگر سمجھ میں نہیں آرہا اسے کیسے گولیاں لگیں ....؟“ کرن چاولہ نے عمدہ تجزیہ کرتے ہوئے الجھن ظاہر کی۔میرے دل کی دھڑکن ایک دم بڑھ گئی تھی۔کرن چاولہ نہایت منجھا ہوا اور شاطر دشمن لگ رہا تھا۔بعید نہیں تھا کہ وہ تیسرے دشمن کی موجودی کا اندازہ کر لیتا۔
لیکن اس سے پہلے کہ میرے اندیشے حقیقت کا روپ دھارتے غیبی مدد آپہنچی ایک بے وقوف بولا۔ ”سر!اسے میں نے چھلنی کیا ہے،میں سنتوش کے عقب میں تھا ،جونھی اسے گولی لگی میں نے فائر کھول دیا۔ دشمن کے نیچے گرتے ہی احتیاطاََ باہر نکل گیا کہ مجھے اور دشمن کی موجودی کا خدشہ تھا۔ “اس نے شایدکرن چاولہ سے شاباش چاہنے کی غرض سے جھوٹ بولا تھا۔
کرن چاولہ معترض ہوا۔”اس کے چہرے پر دو چھٹے لگے ہیں ۔اور ایک رائفل سے چلائے ہوئے دو چھٹے ایک شخص کو کیسے لگ سکتے ہیں ؟اصولاََ اسے پہلے چھٹے کے ساتھ گر جانا چاہیے تھا۔“
نئی آواز ابھری۔”میں بھی موہن کے ساتھ تھا،ہم نے اکٹھے فائر کیا تھا۔“
”کمروں کی مکمل تلاشی لے لی تھی۔“کرن چاولہ کے بوٹ بیڈ کے نزدیک آکر رکے۔
سوراج پر جوش لہجے میں بولا۔”جی سر!باریک بینی سے دیکھ چکے ہیں ۔کوڑا کرکٹ کی ٹوکری سے دو موبائل ملے ہیں ،اس کی جیب سے بھی دو پستول برآمد ہوئے ہیں ۔“یقینا اس نے دیپک کی طرف اشارہ کیا تھا۔”اور کوئی قابل ذکر چیز نہیں ملی،غسل خانے اور ڈریسنگ روم کی تلاشی لے تھی۔“
”یہ تینوں پستول ہمارے آدمیوں سے چھینے ہوئے ہیں ۔“کرن چاولہ پستولوں کو پہچان گیا تھا۔
”بالکل سر۔“سوراج نے پرزور انداز میں تائید کی تھی۔
”لاشیں پوسٹ مارٹم کو بھجوا دواورکرنل صاحب کے لیے تحریری رپورٹ تیار کردو۔“ اختتامی ہدایات دیتے ہوئے کرن چاولہ کے قدم واپسی کو مڑ گئے۔
سوراج نے ایڑیاں بجا کر۔”جے ہند۔“ کہا۔اور کرن چاولہ کے غائب ہوتے ہی وہ موہن اور اس کے ساتھی کی طرف متوجہ ہوا۔
”تم دونوں نے غلط بیانی کیوں کی؟“
موہن نے کہا۔”سوچا شاید چاولہ صاحب کی شاباش سننے کو مل جائے،مگر حسرت ہی رہی۔کسی کو سراہنے میں موصوف اتنے ہی کنجوس ہیں جتنے پردھان منتری فوجیوں کی تنخواہ بڑھانے میں ۔“
سوراج نے مطعون کیا۔”تم جانتے نہیں چاولہ صاحب کتنے باریک بین اور ہوشیار ہیں ،اگر جھوٹ پکڑ لیتے توکتو ں والی ہو جانا تھی۔“
موہن بے نیازی سے بولا۔”وہ تو پہلے ہی ہو چکی تھی۔“
”بہ ہر حال آئندہ خیال رکھنا،فضول کی چالاکیاں مجھے پسند نہیں ہیں ۔“سوراج نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔”اوراب اپنے ساتھیوں کی لاشیں اٹھاﺅ۔“
تمام انتظامی امور میں لگ گئے۔گھنٹے بھر میں تمام لاشیں لے گئے تھے۔اس دوران میں دم سادھے لیٹا رہا۔زخم میں درد جیسے رچ بس گیا تھا۔مجھے مناسب طبی امداد کی سخت ضرورت تھی، لیکن یہ عیاشی فی الوقت میری قسمت میں نہیں تھی۔بلکہ اس وقت تو مجھے کراہنے اور درد کے اظہار کی سہولت بھی میسر نہیں تھی۔میں دانت بھینچے بے تحاشا تکلیف کو برداشت کرنے کی سعی کرتا رہا۔
کمرہ دشمنوں کے وجود سے خالی ہونے کے بعد میں نے موبائل پر وقت دیکھا،صبح کے پانچ بج چکے تھے۔نجانے وہ کسی کو نگرای پر مامور کر گئے تھے یا نہیں اس کی تصدیق کرنا آسان نہیں تھا۔ٹانگ زخمی ہونے کی وجہ میں تیز رفتاری سے حرکت نہیں کر سکتا تھااور ایسی حالت میں محفوظ کمین گاہ سے نکلنا کسی طور مناسب نہیں تھا۔ جب تک مجھے خطرہ ٹلنے کا یقین نہ ہوجاتاخواب گاہ سے نکلنا بے وقوفی ہوتی۔ درد میرے لیے نیا تھا ،نہ تکلیف انجانی تھی اور نہ بھوک پیاس یا بے آرامی اچھوتی تھی۔میں بیڈ کے نیچے دبکا رہا۔
کمرے کی روشنی وہ جلتی چھوڑ گئے تھے۔گھنٹے ڈیڑھ بعد سورج کی روشنی بھی محسوس ہونے لگی۔گولی میری دائیں ران میں لگی تھی ،مگردرد پوری ٹانگ میں محسوس ہو رہا تھا۔گڈری سر کے نیچے رکھ کر میں چت لیٹ گیا اور گہرے سانس لیتے ہوئے خود کو پر سکون کرنے کی کوشش کرنے لگا۔بیت الخلاءمیں جانے کی حاجت بھی ہورہی تھی۔لیکن احتیاط ،تقاضے کی راہ میں رکاوٹ بنی رہی۔دوپہر تک فطری تقاضا برداشت سے باہر ہوگیا تھا۔ میں بیڈ کے نیچے ہی حاجت پوری کر لیتا مگر انسانی فضلے کی بدبو کسی بھی اندر آنے والے کو فوراََ متوجہ کر دیتی۔ مجبورا مجھے بیڈ کے نیچے سے نکلنے کا خطرہ مول لینا پڑا۔
میں کھسک کر باہر نکلا،اٹھنے کی کوشش پر منہ سے چیخ نکلتے رہ گئی تھی۔بے ساختہ کراہ تو زبردستی ہونٹوں سے پھسل گئی تھی۔زخم میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں ۔چند لمحے میں ٹانگ لمبی کیے بیٹھا رہا اور پھر بائیں ٹانگ پر زور دے کر کھڑا ہوگیا۔چلنے کو سہارے کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔دائیں ٹانگ پر بالکل زور نہیں دے پا رہا تھا۔جب ایک اینچ بھی آگے سرکنے میں ناکامی ہوئی تودونوں ہاتھ زمین پر ٹیک کر میں جھکے جھکے کھڑکی کی طرف بڑھنے لگا۔
انسان بھی کتنا بے بس ،کمزور اور ضعیف ہے۔ذرا سی تکلیف برداشت نہیں ہوتی۔اوردعوے اتنے بلند بانگ کہ آسمان کو چھو لے، اکڑ جیسے پہاڑ اکھیڑ پھینکے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ طاقت و قوت کا مالک تو بس ایک ہی ہے۔جو ہاتھی کو چیونٹی سے زیادہ بے بس کردے ،شیر کو کیچوا بنا دے،صحت مند کو اپاہج و معذور کردے،شہ زور کو کمزور کردے۔اور وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔یقینا ساری بڑائیاں ،بلندیاں ،عزتیں ،طاقتیں اسی ذات کے قبضہ ءقدرت میں ہیں ۔
کھڑکی کے پاس پہنچ کر میں دیوار کے سہارے اٹھا،پردے لوہے کے پائپ میں پروئے گئے تھے۔پردے کو کھینچ کر میں نے پائپ کو پردے سے باہر نکال لیا۔جیب سے چھوٹا چاقو نکال کر میں نے پردے سے ایک چوڑی پٹی کاٹی کہ حرکت کرنے سے زخم سے خون رسنے لگا تھا۔اور میں نہیں چاہتا تھا کہ پورے کمرے میں خون کے قطرے پھیل جائیں ۔پٹی ران پر لپیٹی ،پردے کو تہہ دے کر میں نے کھڑکی کے کنارے ہی پر رکھا اور لوہے کے پائپ کے سہارے بیت الخلاءکی طرف بڑھ گیا۔خواب گاہ کا ملحقہ غسل خانہ(اٹیچ باتھ روم) میرے لیے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا تھا۔تازہ دم ہو کر میں باہر نکل آیا۔تھوڑی بہت حرکت کرنے سے تکلیف تو کم نہیں ہوئی تھی ،البتہ درد برداشت کرنے کی اہلیت بڑھ گئی تھی۔صبح سے وہاں کسی شخص کی آمد نہیں ہوئی تھی۔اور مجھے سخت بھوک محسوس ہو رہی تھی۔دل کیا وہاں سے نکل جاﺅں ،مگر سنائپربھوک کے ہاتھوں ایک دن میں اتنا بے بس نہیں ہو جاتا کہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دے۔میں نے رات ہونے کا انتظارکرنا ضروری سمجھا کہ اندھیرا کافی غلطیوں کو ڈھانپ لیتا ہے۔
کمرے کا تنقیدی نظروں سے جائزہ لے کر میں دوبارہ بیڈ کے نیچے گھس گیا۔اوراندھیرا چھانے تک درد سے لڑتا رہا۔کمرے کی بتی روشن تھی اس وجہ سے مجھے رات ہونے کا اندازہ موبائل فون پر وقت دیکھ کر ہوا تھا۔ اس دوران کمرے میں کسی کی آمد نہ ہوئی۔یہ دیکھ کر میرااطمینان مزید بڑھ گیا تھا۔نو بجنے کو تھے جب میں بیڈ کے نیچے سے نکلا۔گڈری کو بیڈ کے نیچے ہی چھوڑ دیا کہ وہاں پہلے بھی کسی نے نہیں جھانکا تھا۔یوں بھی اگر بیڈ کو ہٹایا جاتا تو میرے خون کے داغ ظاہر کر دیتے کہ وہاں کوئی چھپا رہا تھا۔البتہ غالب گمان یہی تھا کہ وہاں اب ایجنسی کے کسی بندے کا آنا محال تھا۔کیوں کہ ان کے تیئں ہدف ہلاک کر کے وہ مقصد پورا کر چکے تھے۔اب گھر کے مکین ہی نے آکر مکان سنبھالنا تھا۔
جاتے ہوئے انھوں نے روشنی بجھانے کی زحمت کی تھی نہ کسی کمرے کے دروازے کو بند کرنا گوارا کیا تھا۔صرف گھر کے داخلی دروازے کو قفل کرنے پر اکتفا کیاتھا۔وہاں ڈھونڈنے پر یقینا کچھ نہ کچھ کھانے کو مل جاتا۔ اورکچھ نہیں تو خشک راشن تو ضرور مل جاتا۔مگر کسی کی آمد کے امکان کو رد نہیں کیا سکتا تھا۔اور میری حالت ایسی تھی کہ صحیح طریقے سے چل نہیں سکتا تھا تو جان چھڑا کر بھاگتا کیسے۔پائپ کے سہارے چلتا ہوا میں صحن میں پہنچا۔داخلی سے نکلنا مجھے مناسب معلوم نہیں ہوا تھا۔
نظریں گھما کر میں نے صحن کا جائزہ لیااور داہنی دیوار کی طرف بڑھ گیا جہاں لوہے کے فریموں میں گملے رکھے ہوئے تھے۔ان فریموں کی شکل ریک نما تھی۔ہر فریم کے تین خانے تھے اور ہر خانے میں چار گملے سجے ہوئے تھے۔ان فریموں کی مدد سے میں آسانی سے دیوار عبور کر سکتا تھا۔اگر زخمی نہ ہوتا توایسے سہارے ڈھونڈنے کی کبھی ضرورت نہ پڑتی،مگر تب میری ران پھوڑا بنی ہوئی تھی۔اور دیوار چڑھنا تو کجا مجھے ہموار زمین پر چلنے میں سخت دقت ہو رہی تھی۔
ایک فریم کے قریب ہو کر میں پائپ کی مدد سے کوشش کر کے فریم کے تیسرے خانے پر پہنچ گیا۔اس مشقت میں پاﺅں کے بجائے میں نے ہاتھوں کا زیادہ استعمال کیا تھا۔دیوار کے سرے پر چڑھنے تک مجھے دانتوں پسینہ آگیا تھا۔دیوار کی اونچائی بہ مشکل آٹھ فٹ ہو گی جو میرے لیے نانگا پربت بن گئی تھی۔ورنہ دوران تربیت نو فٹ کی دیوار ہم بھاگتے ہوئے سر کرتے تھے۔آرمی کی مختلف تربیتوں میں اسالٹ کورس بھی شامل ہے جسے آپ رکاوٹوں بھری دوڑ کہہ سکتے ہیں ۔ایک میل کی حدود میں مختلف رکاوٹیں بنائی جاتی ہیں جنھیں چھوٹے جھولے اور ہتھیار کے ساتھ بھاگ کر عبور کرنا پڑتا ہے۔اختتام پرہدف پر پانچ گولیاں بھی فائر کی جاتی ہیں ۔
دیوار کے اوپر لیٹ کر میں نے دوسری جانب جھانکا۔ایک مختصر صحن نظر آیا۔برآمدے میں بلب روشن تھاجس کی پیلی روشنی صحن کا اندھیرا دور کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔مجھے سب سے زیادہ خطرہ کتے سے تھا۔ گھر میں کتا ہونے کی صورت میں میں صحن میں اترتے ہی پکڑا جاتا۔مگر تھوڑی دیر انتظار کے باوجود جب کتے کے آثار نہ دکھے تو میں نے پائپ دیوار کے ساتھ کھڑا کیا اور ہاتھوں کے بل لٹک گیا۔یوں میرے پاﺅں کا زمین سے فاصلہ چار پانچ انچ سے زیادہ نہیں رہا تھا۔زخمی ٹانگ کو ہلکا سا سمیٹتے ہوئے میں بائیں پاﺅں پر کودگیا۔اوپر سنبھال کے رکھنے کے باوجود داہنی ٹانگ کو زور دار جھٹکا لگا تھا۔بڑی مشکل سے میں نے درد بھری کراہ کو ہونٹوں میں دبایا تھا۔
چندلمحے دیوار پرسر ٹیکے کھڑا رہا۔درد میں افاقہ ہوتے ہی میں پائپ کے سہارے اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گیا۔پچھلا مکان متمول شخص کا تھا،لیکن وہ مکان کسی سفید پوش کا دکھائی دے رہا تھا۔مکان کی بناوٹ ایسی نہیں تھی کہ گھوم کر عقبی جانب سے جائزہ لیا جا سکتا۔کمروں کی دیواریں مکان کی چار دیواری کا حصہ تھیں ،اس لیے کمروں کا عقبی حصہ گلی میں آرہا تھا۔
صحن میں گاڑی وغیرہ کا نہ ہونا مکین کی مفلسی کے ساتھ میری بے بسی کا بھی مظہر تھا۔کیوں کہ کار کی مدد سے وہاں سے نکلا جا سکتا تھا۔
برآمدے کے سامنے پہنچتے ہی میں شش و پنج میں پڑ گیا تھا۔گھر والوں کو دھمکانے کو میرے پاس ہتھیار بھی موجود نہیں تھا،اگر مکین مجھے پولیس کے حوالے کرنے پر تل جاتے تو میرا جان چھڑانا ناممکن ہو جاتا۔ یوں گھر میں داخلے کا میرے پاس ایک ہی جواز تھا کہ میں اپنے مجرم ہونے ا اعتراف کرلیتا۔یقینا مکین گزشتہ شب، ساتھ والے مکان میں ہونے والی فائرنگ سے محظوظ ہوچکے تھے اور اب ایک زخمی کو گھر کے صحن میں دیکھ کر انھیں میرے بارے اندازہ لگانے میں کوئی دقت نہ ہوتی۔
کسی نتیجہ پر پہنچنے سے پہلے دروازہ کھلا۔میرے پاس پیچھے ہٹنے کی مہلت نہیں تھی۔
”کون ہے؟“ایک نسوانی آواز ابھری اگلے ہی لمحے تیس بتیس سال کی قبول صورت خاتون باہر نکلی۔آنکھوں پر سیاہ چشمہ اور ہاتھ میں چھڑی پکڑے ہونا اس کے نابینا ہونے کی چغلی کھا رہا تھا۔
میں خاموش کھڑا رہا۔
وہ اعتماد سے بولی۔”جواب کیوں نہیں دے رہے،میں محسوس کر سکتی ہوں ۔تمھارے پاﺅں کی آہٹ ہی مجھے باہر لائی ہے۔“
میں خاموش ہی رہا۔
اس کی طنزیہ ہنسی ابھری۔”ایک اندھی محتاج کے پاس تمھیں کیا ملے گا؟“
میں نے خاموشی توڑی۔”دو نوالے روٹی تو مل ہی جائے گی۔“
”تم تکلیف میں ہو۔“اس کا اندازہ مجھے حیران کر گیا تھا۔
”کیسے پتا چلا؟“میں حیرانی نہیں چھپا سکا تھا۔
”دیکھ نہیں سکتی،محسوس تو کر سکتی ہوں ۔تمھاری آوازمیں درد چھپا ہے۔“
میں نے اقرار کیا۔” زخمی ہوں ۔“
وہ متبسم ہوئی۔”شاید یہ کل کی ٹخ ٹخ کا پھل ہے۔“
”آپ کو جھٹلا نہیں سکتا۔“
وہ رکھائی سے بولی۔”کسی مجرم کو زیب نہیں دیتا کہ ایک معذور کو جوکھم میں ڈالے۔“
میں بے چارگی سے بولا۔”تھوڑا سا کھانااور زخم کی مرہم پٹی کرنے پر شاید آپ کو زیادہ تکلیف نہ پہنچے۔“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولی۔”اس کی کیا دلیل کہ مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔یوں بھی ایک مرد شکم سیر ہونے کے بعد اکیلی عورت کے لیے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔“
”کیسے یقین دلاسکتا ہوں ؟“
وہ اطمینان سے بولی۔”جو عملی تجربات سے گزر چکی ہو اسے چکنی چپڑی باتوں پر یقین نہیں آسکتا۔“
جی چاہا پوچھوں کہ ” میرے زبردستی گھرمیں گھسنے پر کیسے روکو گی۔“مگر پھر اس کی مظلومیت پر ترس آ گیا۔ایک جوان اندھی عورت کو مرد سے جو خطرہ ہو سکتا تھااس نے کھل کر اظہار کر دیا تھا۔اوراس کے پس پردہ آج کے مرد کا کردار ہے۔یقینا سارے مرد ایسے نہیں ہوتے،مگر حکم اکثریت کے مزاج پر لگایا جائے گا۔اس بے چاری کا بھی کسی جنسی درندے سے واسطہ پڑ چکا تھا۔یہ بھی ممکن تھا اسے یہ تجربہ ایک سے زیادہ بار ہو چکا ہو،تبھی وہ کسی مرد پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھی۔
میں نے پوچھا۔”کیا مجھے اندر آنے کی اجازت نہیں دو گی۔“
وہ دوٹوک لہجے میں بولی۔”بالکل نہیں دوں گی۔“
میں کہیں اور جانے کی حالت میں نہیں تھا،مگر ایک سہمی ہوئی عورت کی مرضی کے خلاف اس کے گھر میں گھسناکسی طور مناسب نہیں تھا۔ورنہ اس کے پاس مجھے روکنے کی طاقت نہیں تھی۔
”معافی چاہتا ہوں آپ کو زحمت دی۔“میں بیرونی دروازے کی طرف بڑھا کہ اب کوئی اور دیوار عبور کرنامیرے لیے ناممکن تھا۔کافی دیر رکنے کے بعد قدم آگے بڑھاتے ہوئے میرے ہونٹوں سے ہلکی آواز میں ۔”سی....“برآمد ہوا تھا۔ہونٹ بھینچ کر میں نے کراہوں کا گلا گھونٹا اور بیرونی دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔
”ٹھہریں ۔“اس کی اضطراری آواز گونجی۔”شاید آپ زیادہ زخمی ہیں ۔“ لہجہ کافی بدلا ہوا تھا۔
وہ غیرت دکھانے کا کوئی موقع نہیں تھا۔میں رک گیا۔
”آجائیں ،کسی مجبور کو در سے دھتکارنامناسب نہ ہوگا۔اور بنتی کرتی ہوں وقت آنے پرتم بھی ترس کھا لینا۔“اس کی خوف میں لپٹی ہمدردی نے مجھے ششدر کر دیا تھا۔میری مدد کرنے سے پہلے وہ میرے شر سے پناہ مانگ رہی تھی۔نجانے کون سے درندہ صفت مرد تھے جنھوں نے اس مظلوم کومرد ذات سے اتنا متنفر کر دیا تھا۔ مگر وہ وقت استفسار یا اس کی کہانی سننے کا نہیں تھا۔ٹانگ کی تکلیف میں کمی یا ٹھہراﺅ کے بجائے اضافہ ہو رہا تھا۔ جب تک زخم صاف کر کے مناسب مرہم پٹی نہ ہوتی اور درد کش گولیاں نہ ملتیں یہ حالت برقرار رہنا تھی۔ ایسے زخم جن کی بروقت دیکھ بھال نہ کی جائے بعض اوقات ناسور بن جاتے ہیں ۔ایسا ہونے پر ٹانگ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔
میں زبانی کلامی وعدے کے بجائے عملی نمونہ پیش کر کے اس کے دل سے کم از کم یہ غلط فہمی دور کر سکتا تھا کہ سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے۔میں خاموشی سے اس کی طرف بڑھ گیا۔ایک طرف ہو کر اس نے مجھے داخل ہونے کا رستہ دیا۔
ایک کھلا کمرہ تھا ،جس کے دائیں بائیں دو اور کمروں کے دروازے تھے جبکہ عقبی جانب باورچی خانہ نظر آرہا تھا۔کمرے میں رکھاپرانا صوفہ سیٹ ، چند کرسیاں اور دو میزیں اسے ڈرائینگ روم ظاہر کر رہی تھیں ۔ میں نے بیٹھنے کو پلاسٹک کی کرسی کو ترجیح دی تھی کیوں کہ صوفہ زخمی ٹانگ کے خون سے داغ دار ہو سکتا تھا۔
” صوفے پر بیٹھیں ناں ۔“میرے نشست سنبھالنے سے اسے اندازہ ہو گیا تھا۔اس کے سننے کی حس غضب کی تھی۔اللہ پاک جس سے کوئی نعمت لیتا ہے تو بدلے میں دوسری حس میں ناقابل بیان اضافہ ہو جاتا ہے۔
میں نے وضاحت کی۔”زخمی ٹانگ سے خون رس رہا ہے،صوفہ گندا ہو جائے گا۔“
”میں طبی امداد کا سامان لاتی ہوں ۔“وہ بغلی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔اس کے اعتماد سے اٹھتے ہوئے قدم ظاہر کر رہے تھے کہ گھر کے چپے چپے سے خوب واقف ہے۔
قریب پہنچ کر اس نے چھڑی سے دروازے کی تصدیق کی اور اندر چلی گئی۔چند لمحوں بعد وہ طبی صندوقچہ (میڈیکل بکس )اٹھائے نمودار ہوئی۔چھوٹے قدم رکھتے وہ نزدیک آئی،چھڑی سے میز ٹٹول کر اس نے صندوقچہ اوپر رکھااور کرسی گھسیٹ کر میرے پاس بیٹھ گئی۔ہونٹوں پر خوشگوار تبسم بکھیرے وہ گویا ہوئی۔
”بینائی ختم ہونے سے پہلے میں نرس تھی،آٹھ سال پرانی بات ہے لیکن کام بھولی نہیں ہوں ۔اب ذرا زخم کی تفصیل بتلاﺅ تاکہ مرہم پٹی کر سکوں ۔“
میں نے کہا”داہنی ران میں عقبی طرف سے گولی لگی ہے۔اور سامنے سے نکل گئی ہے۔“
اس نے تسلی آمیزلہجے میں مرا حوصلہ بڑھایا۔”یقینا ہڈی بچ گئی ہے ورنہ چل نہ سکتے۔اور گولی کا نکل جانا بھی تمھاری خوش قسمتی ہے۔“
میں ہولے سے بولا۔”آپ صحیح کہہ رہی ہیں دیدی۔“
اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔لمحہ بھر کو وہ سن ہو گئی تھی۔پھر نشست چھوڑتے ہوئے بولی۔”زخم دھونے کو گرم پانی لاتی ہوں ،اگر پٹی باندھی ہے تو کھول کر زخم کو ننگا کر دو۔“وہ باوچی خانے کی طرف بڑھ گئی اور میں پٹیاں کھولنے لگا۔چونکہ پٹیاں پتلون کے اوپر ہی باندھی تھیں اس لیے زخم سے چمٹی نہیں تھیں ۔البتہ پتلون اتارتے وقت میری کراہیں نکل گئی تھیں کہ کپڑا زخم سے بری طرح چمٹا ہوا تھا۔
میرے زخم کھولنے تک وہ پانی گرم کر کے لے آئی تھی۔میں نے پتلون اتار دی تھی اور صرف جانگیہ(انڈر ویئر )پہنا تھا۔اس کے اندھا ہونے کے باوجود مجھے ہلکی سی جھجک ہو رہی تھی۔مگر ران ننگا کرنا مجبوری تھی۔کہ زخم کی صفائی اس کے علاوہ ممکن نہ تھی۔گولی گوشت پھاڑتے ہوئے سامنے سے نکلی تھی۔گولی لگنے کی جگہ چھوٹا سا سوراخ تھا مگر جہاں سے گولی نکلی تھی اس جگہ کا گوشت پھٹ گیا تھا۔
چھڑی سے میز چھو کر اس نے پانی کا برتن رکھا اور کرسی گھسیٹ کر میرے قریب بیٹھ گئی۔
”میں پٹی کر لوں گا دیدی۔“مجھے جھجک ہو رہی تھی۔
وہ اطمینان سے بولی۔”نرس تو غیروں کی مرہم پٹی فرض سمجھ کرکر تی ہے،تم نے تو دیدی بنا لیا ہے۔اور چھوٹے بھائی کی مرہم پٹی کرنے میں کیسی جھجک۔“
میں نے وضاحت کی۔”آپ کو نظر نہیں آتاتبھی کہہ رہا تھاکہ خود کر لوں گا۔“
”نابینا ہوں ،انجان نہیں ہوں ۔“میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے وہ شفقت سے بولی۔”میرا ہاتھ زخم پر رکھو۔“
میں نے اس کا ہاتھ زخم پر رکھ دیا۔اس نے نرمی سے زخم کو چھوا اور ہولے ہولے ہاتھ گھما کر پورے زخم کا جائزہ لینے لگی۔زخم کو اچھی طرح ٹٹول کر وہ بڑبڑائی۔”پستول کی گولی تو نہیں لگتی۔“
مجھے حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔”آپ کو کیسے اندازہ ہوا؟“
”کہا ناں پیشہ ور نرس ہوں ۔پستول کی گولی اتنا گہرا شگاف نہیں ڈالتی۔“اس نے چھڑی سے میز کی جگہ کا اندازہ کیا اور میز کو قریب گھسیٹ کر طبی صندوقچے کو کھولنے لگی۔میں نے اس کی مدد کو ہاتھ بڑھائے۔وہ شفقت سے جھڑکتے ہوئے بولی۔”آرام سے بیٹھے رہو،میں کر سکتی ہوں ۔“
میں نے جھینپتے ہوئے ہاتھ واپس کھینچ لیے۔
اس نے روئی نکال کر پانی میں بھگوئی اور نرمی سی زخم پر پھیرنے لگی۔ انداز میں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ بڑی بہن کی شفقت بھی جھلک رہی تھی۔
گرم پانی سے زخم کو صاف کر کے وہ پائیوڈین میں روئی بھگو کر زخم پر لگانے لگی۔اگلے مرحلے میں اس نے چوڑی پٹی کاٹ کر اس پر ایک کریم ملی اور پٹی کو زخم کے منہ پر رکھ کر اوپر سے پٹی لپیٹ دی۔
مرہم پٹی ہوتے ہی درد کافی حد تک کم ہو گیا تھا۔
وہ درد کش ٹیکہ تیار کرنے لگی۔مجھے خاصی حیرانی ہوئی تھی۔
”دیدی،بغیر دیکھے آپ کو کیسے پتا کہ یہ کون سا ٹیکہ ہے؟“
”بدھو، مختلف ٹیکو ں کی بوتلوں کا حجم یکساں نہیں ہوتا۔اور میرے پاس چند قسم کے ٹیکے ہی پڑے ہیں ۔آسانی سے شناخت کر لیتی ہوں ۔“
ٹیکہ تیار کر کے اس نے مجھے کولہے پر لگایااور پھر اینٹی بایوٹک ٹیکہ تیار کر کے میری رگ میں لگا دیا۔انگلیوں سے ٹٹول کر جس طرح اس نے میری رگ تلاش کی تھی میرے لیے حیران کن نظارا تھا۔ایک اندھی مسیحا پہلی بار دیکھی تھی۔
جاری ہے
قسط نمبر 18
ریاض عاقب کوہلر
بکس کو بند کر کے اس نے شفقت سے پوچھا۔”کھانا کھاﺅ گے؟“
میں بے تکلفی سے بولا۔”سخت بھوک لگی ہے۔“
” گرم کر کے لاتی ہوں ۔“وہ اٹھنے لگی۔
میں سرعت سے بولا۔”پہلے کوئی چادر یا تولیہ لادو کہ میں صرف جانگیے میں ہوں ۔“
وہ شرارتی انداز میں بولی۔”تو یہاں ایک اندھی کے علاوہ کون ہے جو شہزادے کو دیکھنے آئے گا۔“
میں جھینپتا ہوا بولا۔”دیدی مجھے عجیب لگ رہا ہے۔“
وہ مسکراتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھیں ۔واپسی پر ہاتھ میں مردانہ شلوار قمیص تھی۔”یہ پتا جی کے کپڑے ہیں ۔“اس نے صاف لباس میری طرف بڑھادیا۔
میں نے شکریہ کہتے ہوئے کپڑے لے لیے۔وہ باورچی خانے کی طرف بڑھ گئیں ۔
لباس تبدیل کر کے میں نے پرانے کپڑے اور خون آلود پٹیاں وغیرہ سمیٹ کر کوڑا کرکٹ کی ٹوکری میں پھینکے۔اور صوفے پر بیٹھ گیا۔
تھوڑی دیر بعد وہ کھانا گرم کر کے لے آئیں ۔آلو بھجیا اور توے کی تازہ روٹی تھی۔ مجھے کھانا پکڑا کر وہ چائے بنانے چلی گئیں ۔سخت بھوک لگی تھی۔میرے کھانا کھانے تک وہ گرما گرم چائے لے آئی تھیں ۔اور اس وقت مجھے چائے کی سخت طلب بھی ہو رہی تھی۔سگریٹ ،نسوار جیسی لت سے قدرت نے مجھے دور رکھا ہے ،لیکن چائے تو میری نظر میں قدرت کا تحفہ ہے۔
چائے اس نے دو پیالیوں میں لائی تھی۔مجھے پیالی پکڑا کر اس نے میرے سامنے نشست سنبھالی۔ ”اب اپنی کتھا (کہانی)سناﺅ۔“
میں نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا”ضروری ہے۔“
”نہیں ،لیکن مشتاق ضرور ہوں ۔“
”خود کو بے گناہ کہنا تو جھوٹ ہوگا۔“
اس نے منہ بنایا۔” صفائی تونہیں مانگی۔“
میں ہچکچاتے ہوئے بولا۔”اگر اپنے متعلق سچ بتانا مشکل ہو تو کیا کروں ۔“
اس نے انکشاف کیا۔” خبروں میں سنا ہے کہ حساس ادارے کے کمانڈوز نے ملحقہ مکان پر چھاپہ مار کر دوتین دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔اور حقیقت تو یہ ہے کہ چھاپہ مار دستے کے کچھ افرادمیرے گھر کی دیوار پھلانگ کر ساتھ والے مکان میں داخل ہوئے تھے۔“
میں نے جان چھڑائی۔”جب آپ جانتی ہیں تو استفسار کا مطلب؟“
اس نے الجھن ظاہر کی۔”کیا دہشت گرد تم جیسے ہوتے ہیں ،جو اکیلی عورت کو دیدی بنا لیں ۔“
”اچھائی اور برائی کا احساس تو تعلق کے مرہونِ منت ہوتا ہے۔فاقوں سے مغلوب ہوکردکان کا تالا توڑنے والا اپنے بچوں کو مسیحااور دکان دار کو ڈکیت لگتا ہے۔“
”فلسفہ سننے کا موڈ نہیں ہے۔“
میں جِز بز ہوا۔”دیدی !میرے پاس آپ کو بتانے کو کچھ نہیں ہے۔“
وہ شاکی ہوئی۔”اعتبار نہیں ہے۔“
”بے اعتباری،کسی خوف یا خطرے کے زیر اثر ہوتی ہے۔اور آپ جیسی نرم دل و معصوم چاہتے ہوئے بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔“
اس نے منہ بنایا۔”میں گھنٹی کر کے پولیس کو بلا لیتی ہوں تاکہ یہ غلط فہمی تو دور ہو کہ میں کچھ کر نہیں سکتی۔“
میں نے قہقہ لگایا۔”پولیس کے آنے سے پہلے میں نکل جاﺅں گا۔“
”ہل کر دکھاﺅ۔“سنجیدہ لہجے میں کہتے ہوئے اس نے دایاں ہاتھ گریبان میں ڈالا واپسی پراس میں میں لیڈیز پستول موجودتھا۔سنہری رنگ کا ننھا سا پستول منقش سانپ کی طرح مجھے گھور رہا تھا۔میرے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا۔
میں نے چائے کی پیالی دھیرے سے میز پر رکھی....
ایک دم اس نے تبصرہ کیا۔”تم نے چائے کی پیالی نیچے رکھ دی ہے۔“
مجھے حیرت کا جھٹکا لگا۔اتنی مدہم آواز بھی اس نے سن لی تھی۔کالے شیشوں کی عینک کو تاڑتے ہوئے مجھے لگا شاید وہ دیکھ سکتی ہے۔
اس نے میری سوچ پڑھ لی تھی،ایک دم نفی میں سر ہلایا۔”دیکھ نہیں سکتی،صرف سن سکتی ہوں اور یقین مانو اگر پہلو بھی بدلو گے تو مجھے محسوس ہو جائے گا۔“
”کیا چاہتی ہیں ۔“میں نے بے بسی کا اظہار کیااور تب لگا کہ اسے بے بس جاننا میری حماقت تھی۔ گھر داخل ہونے کی اجازت میں نے اخلاقی تقاضا پورا کرنے کو مانگی تھی۔لیکن وہ اس وقت بھی مسلح تھی اور یقینا مجھے بہ زور روک سکتی تھی۔
وہ متبسم ہوئی۔”تمھاری غلط فہمی دورکرنا چاہتی تھی۔“اس کا دایاں ہاتھ پستول غائب کرنے کو گریبان کی طرف بڑھ گیا۔میں نے نظریں جھکا لی تھیں کہ اسے دیدی پکارنے کی نسبت سے وہ میرے لیے محترم و مقدس تھی۔
میں شاکی ہوا۔”اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔“
اس نے خفت سے پوچھا۔”خفا ہو۔“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سرہلایا۔
نشست چھوڑتے ہوئے اس نے چھڑی سے میز کو چھوا اور گھوم کر میرے پہلو میں آگئی۔”دیدی سے بھی کوئی خفا ہوتا ہے بھلا۔“میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے اس نے شفقت سے پچکارا۔
”دیدیاں ڈانٹتی ہیں ،دھمکی نہیں دیتیں ۔“
”شما چاہتی ہوں ۔“اس نے ندامت ظاہر کی۔
میں خفت سے بولا۔”اب بے عزتی تو نہ کریں نا۔“
وہ گزشتہ موضوع کی طرف پلٹی۔”کیا آپ کا تعلق پڑوسی ملک سے ہے؟“
”کیوں ، پڑوسی ملک والاکسی محترم خاتون کو دیدی بنانے کامجاز نہیں ہوتا۔“اس کی تفتیش سے جان چھڑانے کومیں نے بے موقع واویلا مچایا۔
وہ شاکی ہوئی۔”ایسا کب کہاہے۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”آج رات کو پناہ مل سکتی ہے؟“
اس نے حکم صادر کیا۔”مکمل ٹھیک ہونے تک تم کہیں نہیں جا رہے۔“
میں نے منہ بنایا۔”اگر یونھی تفتیش ہوتی رہی توشاید آج ہی بھاگ جاﺅں ۔“
” مجھے مسلسل ٹال رہے ہو۔“اس کا ہاتھ بازو پر رینگتا ہوا میرے کان کی لو تک پہنچااور اس نے کان پکڑ کر شفقت سے کھینچا۔”بتا رہے ہو یاکان اکھیڑ دوں ۔“
”بعض اوقات خاموش رہنامجبوری بن جاتی ہے کہ بندہ جھوٹ بولنا نہیں چاہتا اور سچ بول نہیں سکتا۔ صرف اتنا یقین دلا سکتا ہوں کہ کسی بے گناہ کو نقصان پہنچانے نہیں آیا،نہ بھارت سرکار کی املاک کو نقصان پہنچانے کا ارادہ ہے اورنہ رازوں کے حصول کو آیا ہوں ۔“
”تمھاری وضاحت نے میر ی ڈھارس بندھادی،ورنہ یہی کھد بد رہتی کہ شاید میں نے کسی مجرم کو پناہ دی ہے۔“
میں نے صاف گوئی سے اعتراف کیا۔”کسی کو مجرم گرداننااخلاق نہیں مملکت کے قانون کے دائرہ کار میں آتا ہے۔اور اس لحاظ سے مجرم ہوں ۔“
میرے سر میں چپت رسید کرتے ہوئے وہ متبسم ہوئی۔”چھوٹے،تم فلسفے کی آڑ میں اپنے سارے راز چھپالو۔“میرے دیدی کہنے پر اس کے رویے میں نہ صرف بے تکلفی در آئی تھی بلکہ ایک قسم کی شفقت بھی جھلک رہی تھی۔
”مجھے اپنی دیدی کا نام تک معلوم نہیں ۔“میں نے سوالوں کا رخ اس کی جانب موڑا۔
وہ جلدی سے بولی۔”ممتا وشنول۔“
”اور آپ کب سے اکیلی رہ رہی ہیں ۔“
”پتا جی کے دیہانت (انتقال)کے بعد سے اکیلی ہوں ۔“وہ افسردہ ہو گئی تھی۔
”آپ اپنے نرس ہونے کا ذکر کررہی تھیں ،اس کا مطلب ہے آپ کی بینائی بعد میں ضائع ہوئی۔“
”انٹرویو لینے کی ضرورت نہیں میں خود سے سب کچھ بتا دیتی ہوں ،بلکہ بینائی ختم ہونے کاتو پہلے بتا چکی ہوں ،شاید بھول گیاہے۔“
میں نے بات بنائی۔”مگر یہ تو نہیں بتایا کہ کیسے ختم ہوئی۔“
تھوڑا فاصلہ بڑھا کر انھوں نے صوفے سے ٹیک لگائی اور گہری سوچ میں کھو گئیں ۔میں نے ٹوکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔لمحہ بھر بعد وہ گویا ہوئی۔”پتا جی فوج میں تھے۔ بھارت ماتا سے ان کی محبت کسی تعارف کی متقاضی نہیں ہے۔ہم دو بہن بھائی تھے۔چھوٹا راجیو اور میں ۔ہم پر و ہ جان چھڑکتے تھے،مگر دیش کی محبت پر ہمیں کبھی ترجیح نہ دی۔ریٹائرڈ ہونے پر انھوں نے ایک دکان ڈالی،اچھی خاصی آمدن ہو جاتی تھی۔ماتا جی ،پتا جی کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہی تھیں ۔راج بھی ایک حادثے میں ہمیں چھوڑ کر چلا گیا۔ جانتے ہو مرتے وقت اس کا سر میری گود میں تھا۔“ان کی آواز گلو گیر ہوئی۔آنسو پینے میں انھیں چند لمحے لگے تھے۔ایک گہرا سانس لے کر انھوں نے سلسلہ تکلم جوڑا۔”ماتا جی اور راج کے دیہانت (انتقال) کے بعد پتا جی کی ساری محبتیں مجھ پر نچھاور ہونے لگیں ۔ان کا ارادہ مجھے ڈاکٹر بنانے کا تھامگرمیں لکھنے پڑھنے میں واجبی سی تھی۔ایف ایس سی بہ مشکل پاس کر سکی تھی۔ انھیں ، مجھے مسیحا کے رو پ میں دیکھنے کا بڑا شوق تھا،لیکن میں ڈاکٹر نہیں بن سکتی تھی۔مجبوراََ ان کی خواہش کے احترام میں نرس بن گئی۔اسی اثناءمیں روہن گجرال سے ملاقات ہوئی۔“ایک بار پھر وہ چپ ہو گئی۔یقینا روہن گجرال بھی کوئی خاص شخص تھا کہ وہ جذباتی ہو گئی تھیں ۔ میں صبر کیے ان کے بولنے کا منتظر رہا۔تھوڑی دیر بعد ان کی آواز گہری کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔
”بہت پیار جتایا کرتا تھا۔آسمان کے تارے توڑنے کے دعوے،راج کماریوں کی سی زندگی دینے کی ڈینگیں ،آسائشیں و آرام دینے کے وعدے،ہر حال میں ساتھ نبھانے کی قسمیں اور زبان اتنی میٹھی کہ یقین کیے بغیر چارہ ہی نہ تھا۔شبہ ہی نہیں گزرتا تھاکوئی اس اعتماد سے جھوٹ بھی بول سکتا ہے۔جب نبھانے کا وقت آیا توظالم فیصلہ سنانے بھی نہ آیا کہ کم از کم گلہ شکوہ ہی کر لیتی۔“ایک اور گہرا سانس لے کر اس نے جذبات پر قابو پایا.... ”روزانہ اسی کے ساتھ ہسپتال جایا کرتی تھی۔وہ موٹر سائیکل بھی اسے میں نے لے کر دی تھی۔یہاں آکر پہلے میرے ہاتھ سے ناشتا کرتا اور پھر ہم دونوں ہسپتال جاتے۔مجھے ہسپتال اتار کر وہ یونیورسٹی چلا جاتا۔اس دن اس کے ناز نخرے اٹھاتے تھوڑی دیر ہو گئی۔تبھی اسے تیز رفتاری کا مظاہرہ کرنا پڑا۔دو جگہ ٹریفک سگنل توڑکر وہ ہسپتال کے قریب پہنچااور تیسرے اشارے کو توڑتے ہوئے مخالف سمت سے آنے والے موٹر سائیکل سے تصادم ہو گیا۔ہم دونوں پختہ سڑک پر بری طرح گرے تھے۔اس نے ہیلمٹ پہنا تھالیکن میں بغیر ہیلمٹ کے تھی۔ہوش آیا تو دنیا اندھیر ہو چکی تھی۔کافی علاج کرایا مگر آنکھوں کی روشنی بھگوان نے واپس لے لی۔جب تک ڈاکٹروں نے میری دید ختم ہونے کی تصدیق نہ کر دی وہ باقاعدگی سے آتا رہا۔جونھی معلوم ہوا کہ اب میں کبھی نہیں دیکھ سکوں گی الوداع کیے بغیر غائب ہو گیا۔اس کے بعد میری اس سے بات نہ ہوئی۔ایک بار پتا جی کو بات کرتے سنا تھا۔پتا جی اس کی بنتی (منت) کرتے ہوئے میرے خوشیوں کی بھیک مانگ رہے تھے۔مگر اس نے پتا جی کی توہین کر کے رابطہ منقطع کر دیا۔پھر میں نے پتا جی کو سختی سے منع کر دیا کہ اس ظالم کے سامنے گڑگڑانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔میں پتا جی کو خوش نظر آنے کو بہ ظاہر ہنستی مسکراتی رہتی،لیکن جب دکان پر چلے جاتے تب جی بھر کر رو لیتی۔اور ان کے آنے تک جی ہلکا ہو جاتا۔مگر شاید یہ میری خوش فہمی تھی کہ پتا جی میرے غم سے ناواقف ہیں ۔انھیں میرا غم اندر ہی اندر کھا گیا۔اور پتا ہی نہ چلا ایک دن مجھے اکیلا چھوڑ کر سورگ (جنت)کی راہ لی۔پتا جی کے کریا کرم کے بعد مجھے مستقبل کے اندیشوں نے گھیر لیا۔مگر یہ پریشانی عارضی ثابت ہوئی۔بھگوان کے کرم سے پتا جی چلتی ہوئی دکان چھوڑ گئے تھے۔ان کے دیہانت کے بعدان کا ملازم میرے پاس دکان کا حساب کتاب لے آیا۔وہ شروع دن سے پتا جی کے ساتھ تھا۔میں نے دکان کا سارا حساب کتاب اسی کے حوالے کر دیا۔تین سال ہو گئے ہیں ،بھگوان کی کرپا سے یکم کو گھر آکر حساب کتاب دے جاتا ہے۔اچھی گزر اوقات ہو رہی ہے۔بس یہی میری کہانی ہے۔“
اس نے کافی تفصیل سے اپنی کہانی سنائی تھی،جو غیر ضروری تفصیلات حذف کر کے اجمالاََ آپ کے سامنے بیان کر دی ہے۔
اب اس نے توپوں کا رخ میری جانب موڑنا تھا، اس سے پہلے ہی میں نشست چھوڑتا ہوا بولا۔ ”سخت تھکن محسوس ہو رہی ہے۔آرام کی جگہ ہی دکھا دیں ۔“
ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے وہ کھڑی ہو گئی۔میرا اپنے بارے کچھ بتانے سے اعراض کرنا اس کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں تھا۔بیٹھتے وقت وہ چھڑی لپیٹ لیتی تھی۔جدید ساخت کی چھڑی سمٹ کر بالشت برابر رہ جاتی تھی۔قدم بڑھانے سے پہلے اس نے چھڑی کو سیدھا کیااور بائیں جانب کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔بلاشبہ چھڑی اندھے کے لیے آنکھ کا کام کرتی ہے۔اور ہر قدم پر وہ چھڑی کے محتاج ہوتے ہیں ۔
دروازہ دھکیلتے ہوئے وہ اندر داخل ہوئی۔درمیانے حجم کی خواب گاہ میں مسہری ،کپڑوں کی الماری، دوتین کرسیاں اورایک میزپڑی تھی۔
”یہ میرے راج کی خواب گاہ ہے،بعد میں پتا جی یہاں منتقل ہو گئے تھے۔الماری میں ان کے چند سوٹ بھی لٹکے ہوں گے۔بلا تکلف پہن لینا۔“
”شکریہ دیدی۔“میں بستر کی طرف بڑھ گیا۔وہ واپس مڑ گئیں ۔
بستر کو جھاڑ کر میں بیٹھ گیا۔ممتا وشنول کا ملنا ایک خوشگوار حادثہ لگ رہا تھا۔نہایت باکردار،ہنس مکھ، خوش اخلاق اور نرم دل عورت تھی۔میرا دیدی کہنا انھیں نہال کر دیتا تھااور تبھی میرے قریب آنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔زخم کے ٹھیک ہونے تک وہاں چھپنا نہایت مفید تھا۔اللہ پاک نے سر چھپانے کا ایسا ٹھکانہ مہیا فرما دیا تھا جہاں زخم کی دیکھ بھال بھی ہو رہی تھی،آرام بھی مل گیا تھااور کھانے کی بھی کمی نہیں تھی۔
بوٹ کھول کر میں نے زخمی ٹانگ کو ہاتھوں میں پکڑ کر بستر پر سیدھا رکھا اور تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گیا۔ گزشتہ رات نے مجھ سے قریبی ساتھی اور مددگار چھین لیے تھے۔ڈینو کے بغیر میری طاقت آدھی رہ گئی تھی۔ ساری زندگی دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والے مجاہد کا آخری وقت پردیس میں آنا تھا کہ جہاں اس کا جنازہ پڑھنے والا کوئی نہیں تھا۔وہ زندہ دل،نڈراور باصلاحیت جوان تھا۔اس مشن میں اس کی حیثیت سرغنہ کی سی تھی۔ گوباقاعدہ طے نہیں ہوا تھا لیکن میں نے اس کے مشوروں کو اپنی رائے پر مقدم رکھا تھا۔اور اب اس کے جانے پر سامنے خلا ہی نظر آرہا تھا۔اندھیرے میں تو ہم پہلے ہی سے تھے۔ اب تو گویا بے دست و پا بھی ہو گیا تھا۔
اس کی شہادت مجھے اس لیے کھل رہی تھی کہ میرا مدد گار اور ساتھی تھا لیکن گھر والوں کا تو زندگی کا سہارا چلا گیا تھا۔نجانے اس کے ماں باپ پر کیا بیتے گی۔ پریشان کن سوچوں میں دروازے پر ہونے والی آہٹ مخل ہوئی۔گردن گھمانے پر ممتا دیدی نظر آئیں ۔ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرے میں ٹرے اٹھائی تھی۔البتہ لباس ایسا نہیں تھا کہ میں نظر بھر کر دیکھ سکتا۔شاید سونے کو انھوں نے شب باشی کا لباس پہنا تھا۔ہلکا پھلکا پاجامہ اور اس پر نصف بازوﺅں والی بنیان۔میری آنکھیں جھک گئی تھیں ۔وہ سڈول ومتناسب جسم کی بھرپور عورت تھیں ۔ ہلکا سانولا رنگ،نین نقش تیکھے و جاذب نظر۔ہونٹوں پر ہر وقت دھیمی مسکان کی موجودی نے انھیں پرکشش بنا دیا تھا۔ہلکے سانولے رنگ نے ان کی شخصیت کو مقناطیسی بنا دیا تھا۔لیکن میرے دل میں ان کے لیے بڑی بہن جیسا احترام اور مقام تھا۔میں نے نظریں نیچی کر لیں ،اگرچہ وہ میری نظروں کی آوارگی نہیں دیکھ سکتی تھی لیکن جو دلوں کے بھید جانتا ہے، اتنا باریک بین ہے کہ سوچوں کی آلودگی جس سے چھپائی نہ جا سکے، اس کے سامنے تو جواب دہ ہونا تھا۔
”دیدی خیر تو ہے۔“میں سیدھا ہوا۔
چھڑی سے میز کو چھو کر اس نے ٹرے رکھاجس میں دودھ کا گلاس اور چند گولیاں پڑی تھیں ۔ ”بستر پر لیٹتے ہوئے خیال آیا کہ تمھیں دوائی تو کھلائی ہی نہیں ہے۔“
”آپ نے کیوں زحمت کی،مجھے آواز دی ہوتی۔“
وہ طمانیت سے بولی۔”تکلف کی ضرورت نہیں ہے چھوٹے!بڑی بہنیں ماں کی جگہ پر ہوتی ہیں ۔اور ماﺅں کو اولاد کے کام آتے خوشی ہوتی ہے۔“
میں نے منہ بنایا۔”خیر اتنی بھی بڑی نہیں ہیں کہ میری اماں جان بن جائیں ۔ممتا نام کا غلط فائدہ نہ اٹھائیں ۔“
وہ کھلکھلاتے ہوئے بولیں ۔”دوائی لے کر آرام کرواور دودھ کا گلاس ختم کرنا۔“وہ دروازے کی طرف مڑ گئیں ۔
میں ٹرے کی طرف متوجہ ہو گیا۔گولیاں کھا کر میں نے دودھ کا گلاس پیا اور آرام کرنے لیٹ گیا۔
٭٭٭٭٭
دوسرے ہی دن میں نے داڑھی ،مونچھیں صاف کر کے کلین شیو کر لی تھی۔دیپک کا موبائل فون میرے پاس تھا۔ اس میں ڈائل کیا ہوا ایک ہی نمبر تھا۔ کئی بار گھنٹی کرنے کے باوجود وہ نمبر بند ہی ملتا تھا۔ یقینا انھوں نے مذکورہ نمبر ضائع کر دیا تھااور اب وہ موبائل فون میرے لیے ناکارہ تھا۔
اگلے دو ہفتے گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا تھا۔ممتا دیدی ایک مثالی خاتون تھیں ۔مجھے انھوں نے اتنی محبت، توجہ اور شفقت سے نوازا کہ میرے دل کی گہرائیوں میں اتر گئیں ۔ہم رات گئے تک گپیں ہانکتے رہتے۔ وہ اپنے چھوٹے بھائی راجیو کے نام پر مجھے راج کہہ کر بلاتی تھیں ۔ میں انھیں اپنے بارے قریباََ سب کچھ بتا چکا تھا۔جینی ،گلگارے،ماہین کی بے وفائی،سردار کی دوستی ،لی زونا کی کہانی، پلوشہ ورومانہ کے ساتھ عشق کی داستان،بیٹے عبداللہ کے بارے اور بھی کافی تفصیل ،البتہ انڈیا آنے کے مقصد کے بارے چاہ کر بھی کچھ نہیں بتا سکا تھا۔ انھوں نے بھی ایک دو بارسرسری سا کریدنے کے بعد زیادہ زور نہیں دیا تھا۔ جینی کے ذکرپر اس نے پوچھا....
”امریکہ کیا کرنے گئے تھے۔“
جواب دیا۔”نشانہ بازی سیکھنے۔“
وہ متبسم ہوئی۔”واہ چھوٹے،تم سنائپر ہو۔“
میں حیرت سے اچھل پڑا تھا،مشکوک انداز میں پوچھا۔”دیدی !آپ سنائپر کے بارے کیا جانتی ہیں ؟“
”سنائپر پر پہلی فلم میرے خیال میں 1993میں بنی تھی، دوسری 2002اور تیسری 2004میں ۔ تینوں فلمیں میں نے دیکھی ہوئی ہیں ۔بلکہ ایک سے زیادہ مرتبہ دیکھی ہیں ۔اس کے بعد میرا خیال ہے 2011میں اس موضوع پر فلم آئی تھی لیکن نہ دیکھ سکی کہ اس وقت میری آنکھیں باقی نہیں رہی تھیں ۔“ممتا دیدی کی آواز میں اداسی در آئی تھی۔
میں اچنبھے سے بولا۔”اچھا اتنا شوق تھا سنائپر فلم دیکھنے کا کہ فلم ریلیز ہونے کی تاریخ بھی یاد ہے۔“
”ہاں بہت زیادہ شوق تھا۔“ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے انھوں نے شوخی سے پوچھا۔”تم اپنا بتاﺅ، کبھی ہدف پر گولی ماری بھی ہے یا ایویں ہی ہو۔“
میں نے قہقہ لگایا۔”گولی چلا لیتاہوں ۔“
انھوں نے ایک دم پوچھا۔”میرے دیش میں بھی گولی چلانے تو نہیں آئے۔“
میں جلدی سے بولا۔”فکر نہ کریں کسی بے گناہ کے سر میں گولی نہیں ماروں گا۔“
ان کا ہاتھ میرے بازو کو چھوتا ہوا کان تک پہنچا۔کان کی لو کو انگوٹھے و شہادت کی انگلی میں بھینچتے ہوئے وہ معنی خیز لہجے میں بولیں ۔”تم نے چھاتی کے بجائے سر کا نام لیا ہے۔گویا اچھے نشانہ باز ہو۔“ان کا مشاہدہ غضب کا تھاکہ عام سی بات سے خاص نتیجہ اخذ کیا تھا۔
میں بات بناتا ہوا بولا۔”ہر آدمی اپنی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کر تا ہے،آپ کے چھوٹے بھائی نے ڈینگ مار دی تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑی۔“
”میرا خیال ہے کافی پیتے ہیں ۔“انھوں نے نشست چھوڑ دی تھی۔
٭٭٭٭٭
مجھے بس ان کے لباس پر اعتراض تھاجو ستر پوشی کے ضروری تقاضے پورے نہیں کرتا تھا۔وہ شب باشی کے لباس میں بے حجابانہ میرے سامنے آجاتیں ۔کبھی کبھی نیکر بھی پہن لیتیں ۔یوگا کی مشقیں باقاعدگی سے کرتی تھیں اور اس وقت چست پاجامے میں ملبوس ہوتیں ۔ یوگا کی مشقیں ہی تھیں کہ وہ اتنی سمارٹ نظر آتی تھیں ۔
لباس صرف ان کا مسئلہ نہیں انڈیا میں عورتوں کی اکثریت اس معاملے میں آزاد خیال ہے۔پاکستان میں بہت زیادہ جدت کے باوجود خواتین اس نہج تک نہیں پہنچیں ۔صرف اونچے طبقے کی نام نہاد آزادی کی علم بردار قلیل تعدادکی خواتین میں ایسی بے حیا پائی جاتی ہیں ، جنھیں نہ تو مذہب و شریعت کا لحاظ ہے اور نہ روایات کا پاس۔شوبز سے تعلق رکھنے والی مختصر سی جماعت بھی ایسے پہناوں کی عادی ہے۔ورنہ اکثریت کا لباس بہت بہتر ہے،پردے کے تقاضے پورے نہ بھی کرے ستر پوشی کی ضروریات کو کافی ہے۔ہماری دیہاتی خواتین کی شرم و حیا کے تو کیا کہنے۔شاید ایک بی بی کے لباس سے مغرب کی درجن بھر خواتین کے لباس تیار ہو جائیں ۔
میں نے ایک دو بار سرسری سا ٹوکا مگر وہ ہنس کر ٹال گئیں ۔اطمینان سے بولیں ....
”گھر میں چھوٹے بھائی کے علاوہ کون ہے کہ مجھے احتیاط کی ضرورت ہو۔“
میں ان پر زور نہیں دے سکتا تھا البتہ اپنی آنکھوں پر قابو پانا میرے بس میں تھا۔یوں بھی وہ اول آخر میری باجی ہی تھیں ۔رنڑا گڑیا کے بعد پہلی خاتون تھیں جنھیں میری زبان نے دل کی تصدیق کے ساتھ بہن بولا تھا۔یقینا مرد کی فطرت میں عورت ذات کے حصول کا حرص کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔جیسے لطیفہ ہے کہ” عورت کی زبان اور مرد کی آنکھ سب سے آخر میں مرتی ہے۔“گورومانہ جیسی خوب صورت اور پلوشہ جیسی موہنی لڑکی کے حصول کے بعد مجھے کسی اورعورت کی احتیاج نہیں ہونا چاہیے تھی،مگر جنس مخالف کی خوب صورتی سے متاثر ہونا تو مرد کی فطرت میں شامل ہے اور میں گناہ گار سا مرد ہی ہوں ۔البتہ اس میں بھی شبہ نہیں کہ میرے دل میں کبھی پلوشہ اور رومانہ سے بے وفائی کرنے کا خیال نہیں آیا۔جیسے ان پر میں صرف اپنا حق جتاتا تھا یونھی خود کو ان کی امانت سمجھتا تھا۔گلگارے اور جینی جیسی پرکشش لڑکیاں بھی مجھے متزلزل نہیں کر سکی تھیں ۔گو گلگارے تو اول آخر مشرقی لڑکی تھی اور اپنی پارسائی پر دھبہ برداشت نہیں کر سکتی تھی مگر جینی جس معاشرے کی پیداوار تھی وہاں جسمانی تعلقات کو اتنی زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔شادی سے پہلے خواتین کا مردوں کے ساتھ ملنا (ڈیٹ کرنا) عام سی بات ہے۔
میری جس بات کا جواب نہ دینا ہوتاممتا دیدی بڑی خوب صورتی سے ٹال دیتی تھیں ۔ایک دن پوچھا۔
”دیدی !آپ کے پاس پستول کب سے ہے۔“
”پتا جی نے لے کر دیا تھا۔اور انھی سے چلانا بھی سکھا تھا۔“
”تو پستول کی موجودی میں کوئی آپ سے کیسے چھیڑخانی کر سکتا ہے۔“مجھے ان کی پہلے دن کی باتیں یاد آئیں ۔
ان کا ہاتھ میرے سر تک پہنچا،بالوں کو جھٹکا دیتے ہوئے وہ شفقت سے بولیں ۔”بدھو،کوئی بڑی بہن سے بھی ایسا سوال کر تا ہے۔“
”شما چاہتا ہوں ....“مجھے ندامت کا اظہار کرتے بنی تھی۔
٭٭٭٭٭
تین ہفتو ں کے اختتام پر میرا زخم بالکل ٹھیک ہو گیا تھا۔اس دوران میں ایک بار بھی صحن میں نہیں نکلا تھا۔کیوں کہ کسی پڑوسی کی نظر پڑ جاتی تونہ صرف دیدی کا کردار داغ دار ہوتا بلکہ مجھے بھی خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔
آخر ایک دن میں جانے کو تیا رتھا۔ تین ہفتے بہت اچھے گزرے تھے۔لگتا ہی نہیں تھا کہ میں کسی خطرناک مشن پر ہوں ۔گھر کا سا ماحول،آرام اور سکون،اچھا کھانا،ممتا دیدی کی شفقت بھری محبت اور دیکھ بھال جی نہیں چاہتا تھا وہ ٹھکانہ چھوڑ دوں ۔مگر وہاں مستقل رہنے کو نہیں آیا تھا۔گھر سے نکلے ہوئے مہینے سے زیادہ ہو گیا تھا۔گو فوجیوں کے لیے چند ماہ کی دوری اتنی اہمیت نہیں رکھتی،مگر اس بار معاملہ مختلف تھا۔ایک تو میری جان سے پیاری پلوشے کی خفگی کا خیال تھا کہ اسے منانے کا مشکل مرحلہ باقی تھا۔اور اس کے بچکانہ فیصلوں سے کوئی بھی الٹی سیدھی امید کی جاسکتی تھی۔دوسرا گھر گھنٹی پر ملنا بھی ممکن نہیں رہا تھاکہ انصاری صاحب نے انڈیا سے گھر بات کرنے کو سختی سے منع کیا تھا۔
”جانا ضروری ہے۔“ممتادیدی کے لہجے میں اداسی در آئی تھی۔
میں بے بسی سے مسکرا دیا۔”آپ نہیں جانتیں ۔“
”ایک بات مانو گے۔“
میں اعتماد سے بولا۔”آپ ہر بات منوا سکتی ہیں ،بس میرے اختیار کے دائرہ کار میں آتی ہو۔“
”اگر میں کہوں اپنے دیش لوٹ جاﺅ،کیا جواب ملے گا؟“
میں نے اطمینان سے کہا۔”کہا نہ ہر وہ بات جو میرے دائرہ اختیار میں آتی ہو۔“
”جانتی تھی تم یونھی ٹرخاﺅ گے۔“انھوں نے منہ پھلا لیا تھا۔
”یہ ناراض ہونے کا وقت ہے۔“صوفے سے اتر کر میں قالین پر بیٹھا اور ان کی گود میں سر رکھ لیا۔
میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے وہ گلو گیر ہوئی۔”مجھ میں بری خبر سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔“
”موت کی آمد خطرات کے ساتھ مقید نہیں ہے۔آرام دہ بستر پر لیٹے شخص کی موت بھی اس کے اتنے نزدیک ہوتی ہے جتنی میدان جنگ میں لڑنے والے سپاہی کی۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔”مگرفکر صرف میدان جنگ والوں کی ہوتی ہے۔“
”تو میری کامیابی کی پرارتھنا(دعا)کریں ،پریشان ہونے سے کیا حاصل۔“
وہ شاکی ہوئی۔”دیش دشمن کے لیے کیا پرارتھنا کروں ۔“
”کامیابی کی نہ سہی چھوٹے بھائی کی خیریت کی پرارتھنا تو کر سکتی ہیں ناں ۔“
میرا سر گود سے ہٹا کر وہ کھڑی ہوئیں اور چھڑی کے سہارے کمرے کی طرف بڑھ گئیں ۔میں صوفے پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد خواب گاہ سے برآمد ہوئیں تو ایک ہاتھ میں ڈبا اٹھائے ہوئے تھیں ۔میرے پہلو میں نشست سنبھال کر انھوں نے ڈبا کھولا،ایک خوب صورت گھڑی برآمد ہوئی تھی۔میری گھڑی اتار کر وہ قیمتی گھڑی میری کلائی پر باندھنے لگیں ۔
میں معترض ہوا۔”یہ کیا ہے۔“
”ہندو لڑکیاں اپنے بھائی کو راکھی باندھتی ہیں ۔میں بھی گھڑی کی شکل میں راکھی کی رسم پوری کر رہی ہوں ۔“
”بہت قیمتی گھڑی لگ رہی ہے۔“
”کسی کو تحفہ دینے کی غرض سے کافی پہلے خریدی تھی۔اب مردانہ گھڑی میرے کس کام کی سوچا چھوٹے پر احسان جتا دوں ۔“
میں نے اپنا نام ذیشان بتایا تھا،مگر انھوں نے کبھی مجھے ذیشان کہہ کر نہیں پکارا تھا۔ہمیشہ راج یاچھوٹا کہتیں ۔اور جب ڈانٹنا ہوتا تو بدھو کہتیں ۔
میں ممنونیت سے بولا۔”پہلے تھوڑے احسان ہیں ۔“
”اپنی محرومیوں و حسرتوں کی تلافی کو احسان نہیں کہتے۔اور وچن دو اس گھڑی کو کبھی کلائی سے جدا نہیں کرو گے۔“
میں شاکی ہوا۔”آپ کو لگتا ہے میں ایسا کرسکتا ہوں ۔“
”کبھی نہیں ۔“ان کے ہونٹو ں پر خوب صورت تبسم نمودار ہوا۔”تھوڑی سی رقم بھی رکھ لو۔“انھوں نے درمیانی مالیت کے نوٹوں کی ایک گڈی میری طرف بڑھائی۔
میں نے انکار میں کیا۔”ہمارے ہاں بہنوں کو پیسے دیئے جاتے ہیں لیے نہیں جاتے۔“
وہ ملتجی ہوئی۔”ادھار سمجھ کر رکھ لو،بعد میں لوٹا دینا۔“
”ضرورت ہوتی تو مانگ لیتا۔“
وہ مصر ہوئی۔”فالتو پڑے ہیں ۔میرا خرچ نہ ہونے کے برابر ہے اور آمدن زیادہ ہے۔“
میں نے پیسے لے کر ان کے میز پر پڑے پرس میں ڈال دیئے۔”اب اجازت دیں ۔“میں نے نشست چھوڑی۔
انھوں نے کھڑے ہو کر ہتھیلیوں میں میرا چہرہ تھامااور ماتھے پر بوسا دے کر بولیں ۔”اس گھر کے دروازے تمھارے لیے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔“
جاری ہے
قسط نمبر 19
ریاض عاقب کوہلر
”فی امان اللہ۔“دھیرے سے کہہ کر میں مڑا اور تیز قدموں سے چل پڑا۔تین ہفتوں کے بعد میں کھلے آسمان تلے آیا تھا۔باہر جانے کو میں نے ایسے وقت کا انتخاب کیا تھاکہ رش حتی الوسع کم ہو۔یوں کسی بھی نگرانی کرنے والے کی سن گن لینا نسبتاََ آسان ہو جاتا ہے۔ممبئی جیسے شہرمیں بازاروں میں بھیڑ ختم ہونے کی آرزو کرنا حماقت ہی ہے۔البتہ وہ مضافاتی کالونی تھی اورگرمیوں کی دوپہر میں لوگوں کی آمدورفت خال خال ہی نظر آتی تھی۔دروازہ کھول کر میں نے دھیرے سے باہر جھانکا،دو آدمی بڑی سڑک کی طرف جاتے دکھائی دیئے۔ باہر نکل کر میں نے اپنے پیچھے دروازہ بند کیابڑی سڑک کا رخ کرنے کے بجائے میں اسی گلی میں سیدھا چلتا گیا،جہاں دیپک کے ہمراہ اس مکان کے دروازے تک گیا تھا جس میں ڈینو چھپا تھا۔بڑی سڑک شیو مندر کی طرف جاتی تھی اور یہ دوسری جانب تھی۔
ایک نیچی چاردیواری والے مکان کے صحن میں چند بچے شور کرتے نظر آئے۔ سنیتا جیسوال (را کی ایجنٹ جس نے ڈینو کو پھانسا تھا) کے مکان کے سامنے گزرتے ہوئے میں نے طائرانہ نگاہ ڈالی،مگردروازے کو تالا لگاتھا۔گلی کے ایک جانب نکاسی کی نالی بنی تھی جس میں گندہ پانی بہہ رہا تھا۔میں نے دیپک والا موبائل فون اس نالی میں پھینک دیا،کیوں کہ اس میں ممتا دیدی کا فون نمبر محفوظ تھا۔ انھوں نے بھی مجھ سے موبائل فون نمبر لیاتھا،لیکن میں ان سے رابطہ رکھنے کے حق میں نہیں تھا۔کسی مصیبت میں پھنسنے پر موبائل فون نمبر کی وجہ سے وہ بھی دھر لی جاتیں ۔اور انڈین ایجنسیوں کی تفتیش کا جو طریقہ کار ہے اس میں پھنس کر ایک اندھی لڑکی جو بھرپور جوان اور اچھی شکل و صورت کی مالک ہواس پر کیا بیتتی اس کا اندازہ کرنے کو عقل کل ہونا بالکل ضروری نہیں ہے۔البتہ ان کا نمبر میری یاداشت میں محفوظ تھاجو اشد ضرورت کے وقت میں استعمال کر سکتاتھا۔
تھوڑا آگے بڑھتے ہی گلی دائیں مڑ گئی تھی۔سامنے سے ایک جوان آرہا تھا جس کے کان سے موبائل فون لگایا ہوا تھا۔مجھ پر اجنبیت بھری نگاہ ڈال کر وہ آگے بڑھتا رہا۔میرے احساس اس وقت عجیب سے ہو رہے تھے۔ہر شخص مجھے مشکوک نظر آرہا تھا۔ممتا دیدی کا گھر گویا ایسی پناہ تھا جس سے نکلتے ہی دشمن مجھے ہڑپنے کو تیار کھڑے تھے۔یقینا ڈینو اور دیپک کی موت نے مجھے اکیلا کر دیاتھا۔
جونھی مکمل موڑ مڑ ا کچھ فاصلے پر چارافراد گھتم گھتا نظر آئے۔غور کرنے پر پتا چلاتین افراد مل کر ایک شخص کو زدو کوب کررہے تھے۔ان کے شور اور گالیاں بکنے کی آواز کافی دور تک جا رہی تھی۔ایک اکیلا اور دو گیارہ ہوتے ہیں وہاں تو ایک کے مقابل تین تھے۔کوئی راہگیربھی نظر ہیں آرہا تھا جو انھیں چھڑاتا۔میں نے چچا خواہ مخواہ بننے سے گریز کا سوچا ،دوسروں کے معاملے میں ٹانگ اڑانے کہاں کی عقل مندی تھی۔مگر ان کے قریب پہنچنے تک میں اپنے ارادے پر قائم نہ رہ سکا۔اکیلے آدمی کو گرا کر انھوں نے ٹھوکروں ر کھ لیا تھا۔اور جس بے دردی سے اسے پیٹ رہے تھے شاید جان ہی سے مار دیتے۔
”اوئے چھوڑو اسے۔“میں نے ایک آدمی کو دھکا دے کر دور کیا اور دوسرے کو بازو سے پکڑ کر کھینچا۔
”تیری تو....“تیسرا غراتا ہوا مجھے مارنے دوڑا۔جس کی مدد کو میں آیا تھااس نے ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیے تھے اورمجھے ان تینوں کا سامنا کرنا پڑ گیا تھا۔مجھے تر نوالہ سمجھ کر وہ گالیاں بکتے ہوئے جھپٹے....آگے والے کی چھاتی میں بائیں ٹانگ رسید کرتے ہوئے میں اچھل کر ایک قدم پیچھے ہٹااور دائیں پاﺅں پر گھومتے ہوئے بائیں پاﺅں کی ایڑی اس کے پیچھے آنے والے کی گردن پر جڑ دی۔دونوں گلی کے پختہ فرش پر گرے تھے۔ اپنے ساتھیوں کا انجام دیکھتے ہی تیسرے کے قدموں میں ٹھہراﺅ آگیا تھا۔
”تم ہمیں جانتے نہیں ،زندگی پیاری ہے تو اپنی راہ لو۔“اس نے دھمکانے کی کوشش کی۔
”اچھا۔“میں نے اس کی طرف قدم بڑھائے۔وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگا۔اس کے ساتھی بھی ڈگمگاتے ہوئے اٹھے اور تینوں ایک ساتھ دور جاتے ہوئے مجھے دھمکیاں بھی دیتے گئے۔ایسے کردار پاکستان میں بھی کافی مل جاتے ہیں ۔کمزور کو شیر اور زور آور کے لیے بکری۔
جب جان لیا کہ ان تلوں میں تیل نہیں ہے، میں مضروب کی طرف متوجہ ہوا۔وہ ہوش میں تھااور مخالفین کو فرار ہوتا دیکھ رہا تھا۔میں نے اسے سہارا دے کر اٹھایا۔وہ کھسک کر قریب کھڑی کار کی ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔مجھے دیکھتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
”شکریہ جوان۔“یہ کہتے ہوئے اس کا ہاتھ کوٹ کی جیب میں رینگا جوایک چھوٹی سے بوتل کو لیے باہر نکلا۔ڈھکن کھول کر بوتل منہ سے لگائی،دو تین گھونٹ بھر کر اس نے گہرا سانس لیا۔
”پیو گے۔“ فراخ دلی سے دعوت دیتے ہوئے اس نے بوتل میری جانب بڑھائی۔
”شکریہ۔“میں اٹھتے ہوئے بولا۔”میرا خیال ہے اب آپ خود کو سنبھال لیں گے۔“
وہ متبسم ہوا۔”آپ کا خیال غلط ہے۔“
”بتایئے کیا خدمت کروں ۔“
اس نے پوچھا۔”ڈرائیو کر لیتے ہو؟“
میں نے اثبات میں سر ہلادیا۔
’مجھے ٹھکانے تک پہنچادو،اس کے بعد جہاں کہو گے میرے آدمی پہنچا دیں گے۔“
وقت کی میرے پاس کمی نہیں تھی کہ انکار کرتا۔اسے سہار دے کر میں نے کار میں بٹھایاڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ قیمتی لباس اور شان دار کارر دیکھتے ہوئے اس کی حیثیت کا کچھ نہ کچھ اندازہ ہو رہا تھا۔ایسے وقت میں جب میں ڈور کٹی پتنگ کی طرح بے مقصد پھر رہا تھااس کی مدد سے کسی متعین راہ کی طرف قدم بڑھا سکتا تھا۔
کلچ دبا کر میں گیئر لگایااور ریس پر پاﺅں کا دباﺅ بڑھا کر کار آگے بڑھا دی۔
”گلی سے نکلتے ہی دائیں مڑ جانا۔“وہ مجھے راستہ بتانے لگا۔
سڑک پر آتے ہی اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا۔”مجھے وشال گپتا کہتے ہیں ، راجپوت گپتا کا چھوٹا بھائی ہوں ۔جوراجپوت دادا کے نام سے مشہور ہیں ۔“
”سندیپ چوپڑا۔“
وہ ممنونیت سے بولا۔”دھنے وادسندیپ!(شکریہ) آپ کی وجہ سے میری جان بچی۔“
میں نے پوچھا۔”آپ ان اچکوں کے ہاتھ کیسے چڑھ گئے؟“
اس نے دانت پیسے۔”اچکے نہیں ،کسی دشمن کے بھیجے ہوئے مہرے تھے،بس میرے قتل کو واردات کا رنگ دینا چاہتے تھے جو آپ کی بدولت ممکن نہ ہو سکا۔لیکن میں سالے کے قتل کو واردات کا رنگ نہیں دوں گا۔“
میں نے بھولابنتے ہوئے پوچھا۔”ایسی بھی کیا دشمن کہ بندہ جان لینے پر اتر آئے۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولا۔”جیسے ان کی ٹھکائی کی،مجھے نہیں لگتاآپ شریف زادے ہیں ۔“
میں برا مناتے ہوئے بولا۔”لڑائی بھڑائی میں طاق ہوناکسی کی شرافت پر سوالیہ نشان نہیں چھوڑتا۔“
”شما چاہتا ہوں اپنی بات کی وضاحت نہیں کر سکا۔میرا مطلب تھاعام آدمی یوں لڑنے کے ماہر نہیں ہوتے۔البتہ سرکاری ملازم یا غلط دھندے میں ملوث افرادہو سکتے ہیں ۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”ذاتی بچاﺅ(سیلف ڈیفنس)کی تربیت حاصل کرنے والے کے بارے آپ کیا کہیں گے۔“
اس کے ہونٹوں پر کھسیانی ہنسی نمودار ہوئی۔”یقینا مسلسل غلط بول کر میں اپنے محسن کو ناراض کر بیٹھا ہوں ۔“
”نہیں سر،میں نے صرف صفائی پیش کی ہے۔“
”تو آپ کیا کرتے ہیں ؟“اتنی آسانی سے جان چھوٹنے پر اس نے موضوع تبدیل کرنے میں دیر نہیں کی تھی۔
میں محتاط انداز میں بولا۔” تعلیم کے اختتام پر کوئی نوکری نہ ملی تو شوقیہ ایک کراٹے کلب میں داخلہ لے لیا۔اب بھی کوئی کام دھندہ نہیں ہے اس لیے فی الحال تو آوارہ گردی کر رہا ہوں ۔“
”پتا جی کیا کرتے ہیں ۔“
”پتا جی کو سورگباشی (جنت مکین )ہوئے چار سال گزر گئے ہیں ۔امی جان ان سے ایک سال پہلے چل بسی تھیں ۔ایک بڑی بہن ہے جنھیں ڈولی میں بٹھا کر پتا جی نے میرے لیے کوئی ذمہ داری باقی نہ رہنے دی۔اب بیوہ خالہ کے ساتھ رہتا ہوں جو مجھ سے اتنا ہی تنگ ہیں جتنا کسی بھی مفت خورے سے ہوا جا سکتا ہے۔“ مختصر سے سوال کا میں نے تفصیلی جواب دیا تھاکہ اس کے اگلے سوال یہی ہونا تھے۔
”کون سا کام کر سکتے ہو؟“اس کا سوال میری منشا کے مطابق آیا تھااور جواب پہلے سے تیار تھا۔اطمینان سے کہا۔
”دولت مند بنناچاہتا ہوں ۔“
”میں نے کا م کا پوچھا ہے۔“اس نے سوال دہرایا۔
”بتایا نا دولت مند بننا چاہتا ہوں کام کوئی بھی ہو کر لوں گا۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولا۔”قتل کر لو گے۔“
سرخ اشارے پر بریک دباتے ہوئے میں نے اس کی آنکھیں میں دیکھا۔”قتل کرنے کو میں کام نہیں سمجھتا۔“
اس نے قہقہ بلند کیا۔”اغوائ، ڈکیتی،چوری ،جیب تراشی....“
”یہ سب کرنے کو مجھے کسی کا ملازم بننے کی کیا ضرورت ہے۔“
وہ مجھے لاجواب کرتا ہوا بولا۔”تبھی تصدیق چاہی تھی کہ کیا کر سکتے ہو۔“
”کوئی بھی شریفانہ کام ۔“اشارہ سبز ہو گیا تھا۔بریک سے پاﺅں ہٹا کر میں نے ریس پر رکھ دیا۔
وہ استہزائی انداز میں بولا۔”بال کاٹنے کے بارے کیا خیال ہے۔“
میں گڑبڑاتے ہوئے بولا۔”میں بس کسی غریب کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔“
اس نے منہ بنایا۔”تو کسی غریب کو اغواءکوئی پاگل ہی کرے گا۔اور غریب کے گھر کچھ ہو گا تو ڈاکا مارا جائے گا۔“
میں نے چپ سادھ لی۔
”چوک سے دائیں ۔“
موڑ کاٹ کرمیں نے گلا کھنکارا۔”آپ مجھے اپنے محافظوں میں بھی تو شامل کر سکتے ہیں ۔لڑائی بھڑائی جانتا ہوں ،اور سکھاﺅ گے تو یقیناہر قسم کے اسلحے کااستعمال سیکھ لوں گا۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسا۔”اڈے پر چل کر گپ شپ کریں گے۔“ساتھ ہی اس نے ذیلی سڑک پر جانے کا اشارہ کیا۔تھوڑی دیربعد ہم ایک وسیع عمارت کے چوڑے دروازے سے اندر داخل ہورہے تھے۔کار پہچانتے ہی چوکیدار نے بغیر پوچھے دروازہ کھول دیا تھا۔
سیمنٹ کی پختہ روش پر چلتے ہوئے میں نے کھلے صحن میں پہلے سے موجود گاڑیوں کے قریب کار روک دی۔ تین چار موالی قریب آگئے تھے۔ان میں ایک نسبتا بہتر لباس میں تھا۔
نیچے اتر تے ہی وشال گپتانے اس کا گریبان پکڑتے ہوئے دو تھپڑ جڑ دیئے تھے۔
”سالے حرامی تو سویا ہوا ہے۔وہ ماں کے خصم آج اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہوتے اگرمجھے اس دلیر جوان کی مدد نہ ملی ہوتی۔“
”بب....باس!سالے محافظوں کی جیپ کھراب (خراب)ہو گئی تھی۔اپن نے کافی گھنٹیاں بجائیں مگر تم نے گھنٹی نہ اٹھائی۔“
وشال گپتانے ایک اور تھپڑکھینچ مارا۔”میرے ساتھ خراب جیپ بھیجی کیوں تھی؟“
وہ ہکلایا۔”شش....شما کردو باس ،اپن آئندہ کھیال (خیال) رکھے گا۔“
”مجھ پر حملہ کرنے والوں میں بلی آنکھوں والاکنجر،استاد سنگھا ساتھ تھا۔اسی سے باقی دو کا پتا چلے گا۔ صبح ہونے سے پہلے وہ تینوں مجھے ہر حالت میں چاہئیں ۔“
وہ جلدی سے بولا۔”اپن ابھی ان کی تلاش میں بندے بھیجتا ہے۔“
”اس لڑکے کی اچھی خاطر تواضع کرو،بہترین رہائش مہیا کرو،اگر شکایت کا موقع ملا تو کھال میں بھس بھر دوں گا۔اور میرے کمرے میں ڈاکٹر بھیج دو۔“ اسے ہدایت دے کر وشال گپتا میری طرف متوجہ ہوا۔ ”سندیپ، فی الحال آرام کروبعد میں تفصیلی بات چیت ہو گی۔“
”جی سر۔“میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیاتھا۔
کتنے شیریں ہیں ترے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
کے مصداق وہ سیکرٹری نما شخص مجھے خندہ پیشانی سے ملا۔”شکریہ دوست،تمھاری وجہ سے اپن کی جان بچ گئی۔“
”آپ کی؟“میں نے حیرانی ظاہر کی۔
اس نے وضاحت کی۔”اگر وشال صاحب کو کچھ ہو جاتا تو راجپوت دادا نے سالا بغیر صفائی مانگے اپن کی گردن اتاردینا تھی۔“
”پھر تو آپ کو جان بچنے پر مبارک ہو۔“
اس نے فوراََ تعارف کرایا۔”اپن کا نام راجیو ورماہے۔“
”سندیپ چوپڑا....“میں نے جوابی تعارف کرایا۔
”چلیں ۔“اس نے اندرونی عمارت کی طرف اشارہ کیااور میں اس کی معیت میں چل پڑا۔تھوڑی دیر بعد ہم پر تعیش مہمان خانے میں بیٹھے تھے۔وہ کمرہ خصوصی مہمانوں کے استعمال میں رہتا ہو گا تبھی اتنا پرآسائش اور آرام دہ تھا۔کھانا میں کھا کر آیا تھا اس لیے صرف تازہ جوس پینے پر اکتفا کیا تھا۔اس نے چند قیمتی مشروبات کی پیش کش بھی کی تھی مگر میرے نزدیک ان کی اہمیت گٹر کے پانی جتنی تھی۔تبھی خوب صورتی سے ٹال گیا تھا۔
٭٭٭٭٭
رات کو پر تکلف عشائیے (ڈنر)کے بعد میں وشال گپتاکے بلاوے کا انتظار کرتے کرتے سو گیا تھا۔ گو دل کے کسی کونے میں پہچانے جانے کا ہلکا سا خوف موجود تھا کہ یہ خوف جاسوس کو ہر وقت لا حق رہتا ہے۔لیکن یہ تسلی بھی تھی کہ وشال میرا احسان مند تھا۔مجھے فائدہ نہ بھی پہنچاتا،نقصان پر بھی جری نہیں ہو سکتا تھا۔
رات کو جلد سونے کے باوجود صبح دیر سے آنکھ کھلی تھی۔ناشتے کے تھوڑی دیر بعد ہی وشال گپتا کا بلاوا آگیا تھا۔اس عمارت کے تین بڑے حصے تھے۔ایک وشال گپتا کے لیے مختص تھا۔اور اس جانب کوئی نہیں جاتا تھا،دوسرا مہمان خانہ اور محافظوں کی رہائش بنی تھی۔جبکہ کشادہ تہہ خانے میں جمنازیم، پستول شوٹنگ رینج اورلڑائی کا رنگ بنا تھا۔اوپر کے دونوں حصوں کو ایک راہداری جدا کرتی تھی۔اور اسی راہداری میں تہہ خانے تک جانے کا رستہ تھا۔
راجیو ورما کی معیت میں چلتے ہوئے میں وشال گپتا کے پاس پہنچا۔وہ اکیلا ہی بیٹھا تھا۔شیشے کا نازک اور خوب صورت گلاس سنہری سیال سے آدھا لبریز اس کے ہاتھ میں تھا۔مجھے دیکھتے ہی اس کے ہونٹوں پر تبسم ابھرا۔راجیو کو جانے اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ بولا۔
”سوری یار! تمھیں انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی،میں انتقام کے چکرمیں پڑ گیا تھا۔“
نشست سنبھالتے ہوئے میں نے خوش دلی سے پوچھا۔”کوئی سپھلتا(کامیابی) ملی؟“
خالی گلاس میں تھوڑا سا مشروب انڈیل کر اس نے میری طرف کھسکاتے ہوئے اطمینان بھرے لہجے میں کہا۔”شمشمان گھاٹ(ہندوﺅں کا قبرستان) تک پہنچا دیا ہے،اب گھر والے کریا کرم (آخری رسومات) کر لیں گے۔“
میں نے گلاس واپس ان کی طرف دھکیلتے ہوئے حیرانی ظاہر کی۔”بڑی جلدی پکڑے گئے۔“
میرے شراب نہ پینے پر تبصر ہ کیے بغیر وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”بھوسے کے ڈھیر سے سوئی تلاشنا یقینا ناممکن سمجھا جاتا ہے،مگر مقناطیس پاس ہو توتھوڑی سی محنت کی ضرورت پڑتی ہے۔“
”آپ کے پاس کون سا مقناطیس تھا۔“
”دولت بہت بری چیز ہے یار!اس کے حصول کو لوگ کیا کچھ نہیں کرتے۔یہ ایسا مقناطیس ہے کہ دلوں سے محبت وہمدردی کھینچ لیتی ہے۔میں نے بھی یہی مقناطیس استعمال کیا۔ان کے گروہ کے اپنے آدمیوں نے ان کے چھپنے کی جگہ کی مخبری کی۔“
میں ہنسا۔”مخالفین تو سخت طیش میں ہوں گے۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”دشمن کو مارنے سے زیادہ غصہ دلانے میں مزہ آتا ہے۔“
”میرے بارے کیاسوچا۔“میں اصل موضوع پر آیا۔
” میرے محافظ کو لڑائی بھڑائی کا ماہر ہونے کے ساتھ اسلحے کا اچھا شناور ہونا چاہیے۔“
میں نے دامنِ امید دراز کیا۔” آپ کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا ،کمی بیشی آپ نکال دینا۔“
”جانچے بغیر فیصلہ نہیں کر سکتا۔“
”کیا مطلب؟“میں نے حیرانی ظاہر کی۔
اس نے قہقہ لگایا۔”مذاق کر رہا تھا یار،تم کل سے میرے محافظوں میں شامل ہو گے۔فی الحال راجیوکے پاس لے جاتا ہوں تاکہ تمھیں پستول وغیرہ چلانا سکھا دے۔“
”میں تیار ہوں ۔“بغیر کسی ہچکچاہٹ میں نے ہامی بھری۔اس کا محافظ بن کر دھیرندر شکلا کو ڈھونڈنااور ٹھکانے لگانا آسان ہوجاتا۔زیر زمین گروہ اسلحے اور نشہ آور اشیاءکی اسمگلنگ میں پیش پیش ہوتے ہیں ۔اور اسلحے کے ضمن میں دھیرندر شکلابھارت کا سب سے بڑا ڈیلر تھا۔نہ صرف انڈین آرمی کو اسلحے کی سپلائی کرتا بلکہ غنڈوں اور حکومت مخالف تنظیموں کے ساتھ بھی اس کے روابط تھے۔مگر وہ جس مقام پر تھااس تک عام آدمی کی رسائی دشوار ترین تھی۔بہت زیادہ سوچنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ پرما انصاری کو ڈھونڈنے کے بجائے دھیرندر شکلا کو ٹھکانے لگانے کی جستجو کرنا زیادہ مناسب تھا۔اس کے بعد پرما انصاری کا حصول زیادہ دشوار نہ ہوتا۔گو دھیرندر شکلا کی پہلی رہائش گاہ آگرہ میں تھی لیکن وہاں مستقل ٹھکانہ نہیں تھا۔ملک کے چند بڑے شہروں میں اس کے ٹھکانے موجود تھے اور اب پہلا مرحلہ اسے ڈھونڈنے کا تھا۔اس کی روز مرہ سے واقف ہو کر ہی آگے کا لائحہ عمل طے کیا جا سکتا تھا۔اور اس کے لیے وشال گپتا کا محافظ بننا کافی فائدہ مند ہو سکتا تھا۔
”چلیں پھر۔“گلاس سے آخری گھونٹ بھرتے ہوئے اس نے نشست چھوڑ دی۔ہم سٹنگ روم میں بیٹھے تھے۔جو اس کی خواب گاہ سے متصل تھا۔عمارت کے اندر اس کی رہائش ایک علیحدہ مکان جیسی بنی تھی۔وہاں سے نکل کرہم چوڑی راہداری میں داخل ہوئے جہاں سیڑھاں نیچے اتر رہی تھیں ۔راہداری کے دوسرے پر ایک اور دروازہ تھاجودوسری راہداری میں کھلتا جہاں محافظوں کی رہائش گاہ اور مہمان خانہ بنا تھا۔
سیڑھیوں کا اختتام ایک وسیع ہال میں ہو رہا تھا۔ہال کے ایک کونے میں جمنازیم اوردرمیان میں باکسنگ رنگ بنا تھا۔ تین جوڑیاں رنگ کے باہر مشق کر رہی تھیں اور دو جوڑیاں رنگ کے اندر ایک دوسرے پر داﺅ پیچ آزما رہی تھیں ۔ انھیں نظر کرتا ہوا وہ آگے بڑھ گیا۔اگلا دروازہ کھول کر ہم چند سیڑھیاں طے کر کے نیچے اترے۔آگے جو ہال تھا اس کی چوڑائی کم اور لمبائی زیادہ تھی۔وہ ایک جدید شوٹنگ رینج تھی۔وہاں پچاس میٹر کے فاصلے تک فائر کی سہولت موجود تھی۔اور پستول کے لیے یہ رینج کافی سے بھی زیادہ تھی۔پستول ہمیشہ دوبدو اور قریب کی لڑائی میں استعمال ہوتا ہے۔گو فلموں میں تو ہیرو اس سے ہیلی کاپٹر بھی گرا لیتے ہیں مگر حقیقی زندگی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔اچھے پستول کی گولی بھی چالیس پچاس میٹر کے بعد طاقت کھونے لگتی ہے۔پستول سے نشانہ بھی پندرہ بیس میٹر کے دائرے ہی میں درست لگتا ہے۔فاصلہ بڑھنے سے جہاں گولی کی طاقت میں کمی آتی ہے وہیں نشانے کی درستی بھی غیر یقینی ہوتی جاتی ہے۔اس کے علاوہ پستول کی گولی کی بناوٹ بھی گول ہوتی ہے۔اگر چھوٹے ہتھیاروں کے ایمونیشن کی بات کی جائے توایک کارتوس کے تین حصے ہوتے ہیں ۔پہلا کیس یا کھوکا جس میں بارود بھرا ہوتا ہے۔یہ پیتل کا بنا ہوتا ہے اور اس کے پیندے میں پرائمر لگا ہوتا ہے۔کارتوس کے اندر دھواں پیدا نہ کرنے والا بارود بھرا ہوتا ہے جو کہ دانوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ اس میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ آگ ملنے پرا یک دم اور تیزی سے جلتا ہے اور بہت ساری گیس پیدا کرتا ہے جو کہ گولی کو ساتھ اڑا کر لے جاتی ہے۔ جبکہ گولی کارتوس کے اگلے سرے پر لگی ہوتی ہے اور نوکدار ہوتی ہے۔ یہ سیسے کی بنی ہوتی ہے اور اس کے اوپر تابنے کا خول ہوتا ہے۔ یہ شکل میں لمبی ہوتی ہے تاکہ ہوا کے خلاف اپنی رفتار قائم رکھ سکے۔البتہ پستول کی گولی جیسا کہ پہلے ذکر کر چکا ہوں ہلکی گولائی لیے ہوتی ہے،تبھی ہوا کے خلاف زیادہ مزاحمت نہیں کرتی۔یوں بھی پستول صرف قریبی لڑائی میں استعمال ہوتا ہے۔ آرمی میں پستول کا استعمال تربیت یافتہ کمانڈوز یا آفیسرز کرتے ہیں ۔ان کے علاوہ سنائپرز کے پاس بھی سنائپر رائفل کے علاوہ پستول موجود ہوتا ہے۔عام فوجی ،رائفل ہی استعمال کرتے ہیں ۔جس میں سرفہرست جی تھری اور کلاشن کوف ہیں ۔
اب ذکر چھڑ ہی گیا ہے تو یہ بھی یاد رکھیں کہ مختلف پستولوں کے قطرمختلف ہوتے ہیں ۔جیسے تیس بور،نائین ایم ایم اور اڑتیس بور بہت مشہور ہیں ۔قطر مختلف ہونے کی وجہ سے ایمونیشن بھی مختلف ہوتاہے۔بین الاقوامی سطح پر استعمال ہونے والے اچھی ساخت کے اکثر پستولوں کا قطر9ایم ایم ہے۔جیسے گلاک، بریٹا، ہیکلر اینڈ کوچ، زگانا(زگانا میں 30بور بھی دستیاب ہے)ڈزرٹ ایگل وغیرہ۔
راجیو ورما وہاں پہلے سے موجود تھا۔شوٹنگ رینج جدید سہولیات سے مزین تھی۔چار لکڑی کے کیبن بنے تھے جہاں چار فائرر بیک وقت چار ہدفوں پر فائر کر سکتے تھے۔ہدف متحرک تھے۔بٹن دبا کر ہدف کواپنی مرضی سے آگے پیچھے کیاجا سکتا تھا۔
راجیو نے آگے بڑھ کر ہمیں خوش آمدید کہا۔
وشال بولا۔”تمھارا نیا شاگرد آگیا ہے،اسے پستول کا استعمال مکمل سکھا دو۔“
راجیو اعتماد سے بولا۔”آپ فکر ہی نہ کریں باس،اپن ہے نا....شام تک بابوسالے رجنی کانت (انڈین فلموں کا پرانا ہیرو) کا مافک گولیاں پھونکے گا۔“
وشال سر ہلاتا ہوا ایک کیبن میں گھس گیا۔بٹن دبا کر اس نے ہدف کو مناسب فاصلے پر پیچھے دھکیلا اور جیب سے پستول نکال کر فائرکرنے لگا۔اپنے کانوں پر اس نے ایئرگارڈ(کانوں کو فائر کی آواز سے محفوظ رکھنے والے حفاظتی غلاف ) چڑھا لیے تھے۔
راجیو مجھے ایک میز کے قریب لے گیا جہاں گلاک سیون ٹین سیمی آٹومیٹک رکھا ہوا تھا۔میں کئی قسم کے پستول استعمال کر چکا ہوں ،مگر گلاک ہمیشہ سے میرا پسندیدہ رہا ہے۔ گلاک دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی تھی۔
راجیو نے پوچھا۔” کبھی پستول چلایا ہے۔“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”چند مرتبہ چلایا ہے۔“
”شاباش،پھر تو مسئلہ ہی کوئی نہیں ۔ اب پستول چلانے سے پہلے چند کھسوسی (خصوصی)باتیں مگج (مغز)میں بٹھا لو۔کیوں کہ سالا، خالی لبلبی(ٹریگر) دبانا پستول چلانا نہیں ہوتا۔ایک فائرر سالے کو پستول کے بارے ضروری باتوں کا بھی پتا ہونا چاہیے۔یہ سالا بہت عمدہ اورکھاس (خاص) ساخت کا پستول ہے۔ پہلے تم کا میگزین میں گولیاں بھرنے کے بارے سیکھاﺅں گا....“راجیو مجھے بنیادی باتیں بتانے لگا۔میں پوری دلچسپی سے سیکھنے لگا۔ ایک دم تربیت کے ابتدائی دن نظر میں گھوم گئے تھے۔ہماری تربیت کی شروعات رائفل سے ہوئی تھی۔ پستول کے بارے ہم نے بہت بعد میں سیکھا تھا۔پستول اور رائفل کے فائر میں بہت زیادہ فرق ہے۔اگر میں تفصیل میں جاﺅں تو شاید یہ ناول کے بجائے سکھلائی کی کتاب بن جائے،اس لیے موضوع کی طرف پلٹتے ہیں ۔
میگزین میں گولیاں بھرنے کے بعد راجیو میگزین چڑھانے اتارنے،پستول کاک کرنے،سیفٹی لگانے، نشانہ سادھنے کے بارے سمجھانے لگا۔اس دوران وشال گپتا وہاں سے جا چکا تھا۔
گھنٹا ڈیڑھ سکھلائی کے بعد راجیو عملی مظاہرے کومجھے ایک کیبن میں لے گیا۔
پہلے اس نے خود فائر کیا اور دس میٹر کے فاصلے پر بہ مشکل پانچ گولیاں مار سکا تھا۔ہدف پر اس کی بکھری ہوئی گولیاں دیکھ کر مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔فائر کی جو تکنیکیں مجھے اپنے استاد تصورصاحب،فیاض صاحب وغیرہ نے سکھائی تھیں وہ راجیو بے چارے نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی ہوں گی۔جاسوس بن کر ایک اناڑی کی شاگردی اختیار کرنا پڑ گئی تھی۔یقینا سردار مجھے اس حالت میں دیکھ لیتا تو اس کی ہنسی نہ رکتی۔کہاں ایس ایس اور کہاں راجیو ورما۔اور پھر دس میٹر کے فاصلے پرگلاک سیون ٹین سے ہدف پر گولی نہ مارنے کی خبر اگر تصور صاحب تک پہنچ جاتی توانھوں نے مجھے کچا ہی چبا جانا تھا۔
بہ ہر حال میں سکھلائی میں پوری دلچسپی اور شوق ظاہر کرتا رہا۔تین چار باریوں کے بعد میرا نشانہ بہتر ہونا شروع ہو گیااور ساتویں آٹھویں باری پر راجیو میری پیٹھ تھپتھپا رہا تھا۔
آخر کار اس کے ہونٹوں سے نکلا۔”تم کا فائر تو استاد سے بھی اچھا ہو گیا ہے رے۔“
میں اسے تسلی دیتا ہوا بولا۔”استاد تو استاد ہوتا ہے راجیو صاحب۔“
” عجیب بات ہے سالاتم نے پانچ کی پانچ گولیاں دائرے کے اندر ٹھوک دیں ۔ایسا تو شاید وشال صاحب بھی نہ کرسکیں ۔حالاں کہ ان کا فائر بہت اچھا ہے۔“
میں بے پروائی سے بولا۔”اتفاقاََ لگ گئی ہوں گی یار۔“
اس نے ہدف کا فاصلہ بڑھا کر پینتیس میٹر کر دیا۔مجھے شرارت سوجھی اور میں نے ساری گولیاں ہدف کے سر میں ڈیڑھ انچ کے گروپ میں مار دیں ۔کیبن میں سکرین لگی تھی،جس پر ہدف کا قریبی نظارا(کلوز ویو)نظر آرہا تھا۔وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سکرین کو گھورتے ہوئے بڑبڑایا۔
”سندیپ،سالاتم نے کمال کر دیا رے۔یہ مظاہرہ اگر وشال صاحب کے سامنے کر دے تو اپن کا انعام تو کہیں نہیں گیا۔“
”پہلے نشانہ پکا تو لوں ۔“دس گولیاں بھر کر میں نے میگزین چڑھائی اور پہلے کی طرح تمام ہدف کے سر میں ٹھوک دیں ۔راجیو نے باقاعدہ تالیاں بجا کر مجھے داد دی تھی۔
”ماں قسم ،جندگی(زندگی) میں پہلی بار سالا تمھارے مافک اچھا شاگرد ملا ہے۔“
میں نے مکھن لگایا۔”اس میں ساراکمال آپ کی سکھلائی کو جاتا ہے استاد۔“
وہ چھاتی چوڑی کرتے ہوئے بولا۔”چلو ،باس کے پاس ،سالا انھیں بھی پتا چلے اپن میں گُن ہیں ۔“
”پستول کی صفائی نہیں کرنا۔“اسے پستول پتلون میں اڑستے دیکھ کر بے ساختہ میرے ہونٹوں سے نکلا تھا۔
”یہ سالا کون سا کیچڑ میں گرا کہ صفائی کی ضرورت پڑے گی۔“وہ منہ بناتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔ اور میں دل ہی دل میں ان گالیوں کو سوچنے لگا جو پستول کی زبان ہونے کی صورت راجیو کو پڑنا تھیں ۔ایسا بندہ تصور صاحب کے سامنے چڑھ جاتا تو اس کا زندہ بچنا ناممکنات سے تھا۔اور بالفرض زندہ بچ بھی جاتا پاﺅں پر چلنے کے قابل نہ رہتا۔
فائر کے بعد ہتھیار کی صفائی نہ کرنے کو وہ ایسا ہی سمجھتے تھے جیسے بندہ پاخانے کے بعد استنجا نہ کرے۔اور حقیقت یہی ہے کہ فائر کے بعد اگر ہتھیار کو اچھے طریقے سے صاف نہ کیا جائے تو ہتھیار جلد ہی ناکارہ ہو جاتا ہے۔کیوں کہ کسی بھی ہتھیار کی کارکردگی کا انحصار اس کی بیرل اور چال والے پرزے ہوتے ہیں ۔ فائر کے بعد بیرل میں بارود اور سیسے کے ذرات چمٹ جاتے ہیں ۔اگر انھیں صحیح طریقے سے صاف نہ کیا جائے تو جلد ہی بیرل کو زنگ آلود کر دیتے ہیں ۔جس سے بیرل میں گڑھے پڑ جاتے ہیں ۔یوں سب سے پہلے تو ہتھیار کی درست نشانے بازی میں فرق پڑتا ہے اور آہستہ آہستہ ہتھیار فائر کے قابل ہی نہیں رہتا۔وہ پستول میری ملکیت نہیں تھا مگر ہتھیاروں سے قدرتی لگاﺅ کی وجہ سے مجھ پر راجیو کے فعل کا برا اثر پڑا تھا۔بہ ہر حال میں بحث و تکرار کی حالت میں نہیں تھا۔
جاری ہے