قسط نمبر11
ریاض عاقب کوہلر
میں رینگتے ہوئے چٹان سے دور ہٹنے لگا،جب لگا کہ اب میرا نظر آنا یقینی ہے،تبھی ایک دم اٹھ کر بھاگ پڑا۔ایک بات میرے حق میں جاتی تھی کہ وہاں قدم قدم پر بڑے بڑے پتھر بکھرے ہوئے تھے اور ان کی بڑی ٹارچوں کی تیز روشنی دکھاﺅ کو آسان کر رہی تھی۔میں نے مسلسل بھاگنے کے بجائے چند قدم لیے اور ایک اور پتھر کی آڑ پکڑ لی،اسی وقت تڑتڑاہٹ کی آواز سے ماحول گونج اٹھا تھا۔فائر رکتے ہی میں دوبارہ بھاگ پڑا،یونھی چند بار پتھر کی آڑ پکڑ کر میں اتنی دور آ گیا تھا کہ دشمن کے شستی فائر کی حد سے نکل گیا تھا۔یہ اندازہ کرتے ہی میں موبائل کی ٹارچ جلا کر بھاگ پڑا۔اتنا مجھے یقین تھا کہ جب تک دو تین بندے نیچے نہ اتر آتے وہ میرے تعاقب کی ہمت نہیں کر سکتے تھے۔
نالہ بتدریج وسیع ہونے لگا۔بھاگتے وقت میں نالے کی بائیں جانب تھا،لیکن فرلانگ بھر فاصلہ طے کرتے ہی میں نے نالہ عبور کیا اور دائیں جانب ہو گیااور جونھی رسائی کے قابل چڑھائی نظر آئی بلندی کا رخ کیا،کیوں کہ نالے میں سامنے کی جانب سے ان کی کوئی ٹولی نکل آتی تو گھیرے میں آجاتا۔
تھوڑا سا بلند ہوتے ہی مجھے دور سے روشنیاں آتی نظر آئیں ،میری بروقت احتیاط کام آگئی تھی۔
چڑھائی چڑھتے ہی میں نے تھوڑی دیر رک کر اپنی حالت درست کی کہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے میرا سانس دھونکنی کے مانند چل رہا تھا۔بلندی کا سفر یوں بھی انسان کو ادھ موا¿ کر دیتا ہے۔اب رات قریباََ ڈھل رہی تھی،گھنٹے ڈیڑھ میں روشنی ہو جانا تھی، تب میری حرکت دور دور سے نظر آسکتی۔
جہاں میں موجود تھا وہ جگہ چوڑے میدان جیسی تھی نالے کے کنارے سے دس بارہ قدم ہٹ کر میں نے آگے کا سفر جاری رکھا اس دوران میں میری نظریں کسی مناسب جگہ کی تلاش میں سرگرداں رہیں ۔ ٹارچ کی مدہم روشنی اس قابل تو نہ تھی کہ دور دور تک جائزہ لے سکتا، البتہ اتنا فائدہ ضرور دے رہی تھی کہ میں ٹھوکر کھائے بغیر حرکت کر سکتاتھا۔
تھوڑی دیر بعد ہی مجھے ایک مناسب مقام مل گیا تھا۔وہاں کافی گھنی جھاڑیاں پھیلی ہوئی تھیں ،چھدرے چھدرے درخت بھی موجود تھے۔بعض درخت ایسے تھے جن کے تنے جھاڑیوں میں چھپے تھے۔ ایسا ہی ایک درخت جو بالکل نالے کے کنارے پر تھا،اس کے گرد گھنی جھاڑی کے علاوہ ایک قدرتی گڑھا بھی موجود تھا۔جودو فٹ چوڑا گڑھااور اڑھائی تین فٹ گہرا تھا۔میں نے پہلے گڑھے کو محفوظ کیا تاکہ کوئی موذی کیڑا اذیت کا باعث نہ بن جائے۔ پھرتیزی کے ساتھ ایک اور جھاڑی سے چند شاخیں توڑ کر گڑھے کے اندر گھس کر وہ شاخیں سامنے یوں لگا دیں جیسے قدرتی طور پر وہاں اُگی ہوں۔ اس دوران میں میں اطراف سے بھی غافل نہیں ہوا تھا۔گڑھے میں چھپنے سے پہلے میں نے ایک بار نالے میں جھانک لیا تھا۔میری کمین گاہ سے سو ڈیڑھ سو گز دائیں جانب دونوں ٹولیوں کا ملاپ ہو گیا تھا،وہ کسی دم بھی اوپر پہنچ سکتے تھے۔
میں روشنی ہونے تک اپنا سفر جاری رکھ سکتا تھا،یوں میں نالے سے کافی دور نکل جاتا،مگر اس کا نقصان یہ تھا کہ دشمنوں کی کوئی اور ٹولی ٹکرا جاتی اور جلدی میں چھپنے کی جگہ تلاش نہ کر سکتا تو دھر لیا جاتا۔
بیٹھنے کے بعد مجھے سب سے پہلے پیٹ بھرنے کا خیال آیا تھا۔گھی سے چپڑی،باسی روٹی کے چند ٹکڑے تھیلے میں موجود تھے۔انھی کو چبا کر میں نے دہائیاں دیتے پیٹ کو چپ کرایا۔
پندرہ بیس منٹ بعد میرے کانوں میں باتوں کی آواز آنے لگی۔ملگجا اجالا ہو گیا تھا۔جلدہی باتیں سمجھ میں آنے لگیں۔کوئی وائرلیس سیٹ پر بات کر رہا تھا۔
”سر !وہ پچھم (مغرب)کی طرف ہی گیا ہوگا،کیوں کہ ہم نے اسے اسی جانب جاتے دیکھا تھا اوور....“
وائرلیس سیٹ سے آواز ابھری۔”اس طرف بھی ایک ٹولی تلاش کر رہی ہے،تم اسے پوربی (شرقی) جانب ڈھونڈو،میرے اندازے میں وہ جلد از جلد وہاں سے دور نکلنے کی کوشش کرے گا اوور....“
وہ باتیں کرتا ہوامیری کمین گاہ سے چند قدم کے فاصلے پر آکر رکااور نالے کی جانب دیکھنے لگا۔ کوئی جونئیر آفسر تھا،شاید لفٹین یا پھر کیپٹن تھا۔کندھے پر لگے اسٹار واضح نظر نہیں آرہے تھے۔اونچا قداور متناسب جسم۔ آستینیں کہنیوں تک موڑے وہ بڑے اندازسے کھڑا تھا۔دو جوان کلاشن کوفیں تھامے اس کے عقب میں موجود تھے۔اس کی ران کے ساتھ ہولسٹر بندھا تھا جس میں پستول کا دستہ نظر آرہا تھا۔
کنٹرول کی ”اوور“ سنتے ہی بولا۔ ”ٹھیک ہے سر!ہم جھاڑیوں کی تلاشی لے کر پورب کی جانب بڑھ جائیں گے،البتہ سنائپر کی جوڑی ہم نالے کے کنارے چھوڑجاتے ہیں اوور....“
پوچھا گیا۔”تمھارے ساتھ کتنے افراد ہیںاوور....؟“
”میرے سمیت پندرہ اوور....“
”سنائپرز کو بھی ساتھ لے جاﺅاوور....“
اس نے وضاحت کی۔”سر!ان کے پاس ودوانسک ہے ،اب زبان باہر نکالی ہوئی ہے کہ اسے اٹھا کر چلنا کافی مشکل ہے۔ ان کی وجہ سے ہم بھی تیز رفتاری سے حرکت نہیں کر سکتے اوور۔“ (ودوانسک انڈیا کی اپنی فیکٹری کی بنی اینٹی میٹیریل اور اینٹی پرسنل رائفل ہے،جس کی کارگر رینج اٹھارہ سو میٹر ہے۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ اسے کھولے بغےر آسانی سے تےن قسم کے قطر مےں تبدےل کیا جا سکتا ہے، یعنی ۷۲۱ایم ایم ، ۵۴۱ ایم ایم اور ۰۲ ایم ایم ۔البتہ اس کا وزن پچیس چھبیس کلو گرام ہے اور پہاڑی علاقے میں اتنے وزن کو ساتھ پھرانا ناممکن نہیں تو دشوار ترین ضرورہے)
”اچھا ٹھیک ہے ،لیکن ان سے رابطے میں رہنا اور انھیں بتا دونالے پر نظر رکھیں،ممکن ہے گھس بیٹھیااب تک نزدیک ہی کہیں چھپا ہواوور....“
”ٹھیک ہے سر!اوور....“
”کیپ لسننگ آﺅٹ....“کہتے ہوئے کنٹرول خاموش ہو گیا تھا۔
”گوتھم....تیواری....“اس نے باآواز بلند کسی کو پکارا تھا۔
”جی سر!“تھوڑے فاصلے سے بیزاری بھری آواز ابھری تھی۔
” میرے پاس آﺅ۔“
دو تین منٹ بعد دو جوان اس کے سامنے کھڑے تھے،دونوں کی پیٹھ پر جھولے لدے ہوئے تھے۔ایک کے ہاتھ میں کلاشن کوف بھی نظر آرہی تھی۔
”کمپنی کمانڈر سے بات ہو گئی ہے،تم دونوں یہیں رک کر اگلے حکم کا انتظار کرو۔خصوصاََ نالے پر گہری نظر رکھنا،اگر دشمن نظر آجاتا ہے تو ہمیں فوراََ اطلاع کرنااور خیال رہے وہ بھاگنے نہ پائے۔“
ایک خوشی سے چہکا۔”نہیں بھاگنے دیں گے سر!“یقیناپر اذیت سفر سے جان چھوٹنے پر وہ خوش تھے۔
انھیں وہیں چھوڑ کر وہ باقیوں کے ہمراہ آگے بڑھ گیا۔ اس دوران میں اس کے عقب میں ٹھہرے جوانوں نے دو تین مرتبہ اس جھاڑی کا سرسری جائزہ لیا تھا،مگر میں ایسے چھپا تھا کہ وہ گہری نظر سے دیکھنے پربھی مجھے نہیں ڈھونڈ سکتے تھے۔البتہ انھیں کسی اور ذریعے سے اطلاع مل جاتی کہ میں اس جھاڑی میں روپوش ہوں پھر مجھے تلاش کرنا مشکل نہ ہوتا۔بلاشبہ ایک اچھے سنائپر کے لیے چھپاﺅ و تلبیس میں ماہر ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا اس کا اچھا نشانہ باز ہونا اہم ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیںسنائپر کے لیے اچھا نشانے باز ہونا کافی ہوتا ہے ۔حالاں کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔سنائپر کی خصوصیات میں نشانہ بازی سب سے اہم سہی مگر چھپاﺅ و تلبیس،سخت جانی،زیادہ قوت برداشت ،عمدہ یاداشت ،جسمانی تندرستی، نقشہ بینی میں مہارت وغیرہ بھی بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔
دونوں اپنے ساتھیوں کے جاتے ہی جھولے اتار کر وہیں بیٹھ گئے تھے۔بدبختوں نے اس مقام سے سرمو حرکت نہیں کی۔البتہ ان کا رخ نالے کی طرف تھا۔
ایک بولا۔”شکر ہے خواری سے جان چھوٹی۔“
دوسرے نے مشورہ دیا۔”میرا خیال ہے رائفل کو جوڑ لیتے ہیں،تاکہ ضرورت پڑنے پر جلدی سے فائر کیا جا سکے۔“
رائفل جوڑ کر وہ گپیں ہانکنے لگے، ان کا انداز بالکل بھی نگرانی والا نہ تھا۔یقینا وہ باقاعدہ سنائپر نہیں تھے،بس رائفل پر رینج لگا کر ٹریگر دبانے کی حد تک ہی انھیں سنائپنگ کاپتا تھا ۔ان کے انداز میں اتنی بے پروائی تھی کہ میں آسانی سے انھیں نشانہ بنا کر سنائپر رائفل پر قبضہ جما سکتا تھا۔مگر ودوانسک میرے کسی کام کی نہیں تھی،کیوں کہ اتنی وزنی رائفل کو ساتھ پھرانا آسان نہ تھا۔البتہ ڈریگنوو،گلیل یا سٹائر جیسی ہلکی سنائپر رائفل ہوتی تو انھیں مارنے کا سوچ بھی لیتا۔
آفتاب بلند ہوا،مگر اس کی روشنی زیادہ دیر قائم نہیں رہی تھی۔شمالی جانب سے بادل بلند ہوئے اور جلد ہی پورے آسمان کو لپیٹ میں لے لیا۔کشمیرکا موسم ہمیشہ سے ایسا ہی ہے۔معلوم نہیں ہوتا کہ کس وقت کیا صورت حال اختیار کر جائے۔پاک فوج میں ایک مقولہ بہت مشہور ہے کہ” لاہور کے فیشن،کشمیر کے موسم اور محبوب کے مزاج کا کوئی پتا نہیں چلتا کب بدل جائے۔“
صبح دم شمال کی جانب نظر آنے والے دو تین بادلوں نے گھنٹے ڈیڑھ میں یوں آسمان کو لپیٹا تھا کہ سورج کی کوئی کرن ہی نہیں دکھائی دے رہی تھی۔ساتھ ہی ہلکی ہلکی ہوا شروع ہو گئی تھی۔بہ ظاہر موسم بہت سہانا نظر آنے لگا تھا ،مگر میں ذہنی طور پر نئی آزمایش کے لیے تیار ہو گیا تھا۔گڑھے میں ہونے کی وجہ سے مجھے سردی محسوس نہیں ہو رہی تھی،لیکن بارش ہونے کی صورت میں گیلا ہونے سے نہ بچ سکتا۔ گرمیوں میں پہاڑوں پر جو موسلا دھار برستی ہے اس کی شدت کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں جنھیں اس علاقے میں رہنے کا تجربہ ہو چکا ہو۔
دونوں کی باتوں سے مجھے ان کے نام تو معلوم ہو گئے تھے۔ ایک کانام دیوش تیواری اور دوسرا گوتھم گوشوامی تھا۔اپنے کمانڈر کو بھی وہ گاہے گاہے سب اچھا دیتے رہے۔مختلف ٹولیوں کے کمانڈروں کی باتیں بھی وائرلیس سیٹ کے ذریعے میری سماعتوں تک پہنچ رہی تھی۔
ہوا میں نمی کا تناسب دم بدم بڑھتا جا رہا تھا۔گوتھم نے اپنے کمانڈر سے بات کر کے واپسی کا پوچھا۔جواباََاسے اچھی خاصی جھاڑ پلا دی گئی تھی۔
”شاید تم لوگوں کو آرام سے بیٹھنا راس نہیں آرہا اور تم اپنی........کی خارش مٹانے کو ہمارے پاس آنا چاہتے ہواوور....“
گوتھم مو¿دبانہ لہجے میں بولا۔”سر !میں نے تو اس لیے پوچھا کہ موسم خراب ہو رہا ہے اور ہمارے پاس برساتیاں بھی نہیں ہیں اوور....“
”یہ میری ذمہ داری نہیں ہے، اپنی جگہ پر قائم رہوکیپ لسننگ آﺅٹ....“پارٹی کمانڈر نے حتمی حکم دے کر انھیں خاموش کر دیاتھا۔
دیوش تیواری نے دل کی بھڑاس نکالی۔”سالا،کل کا چھوکرا ہے اور انداز دیکھو جیسے کمانڈنگ آفیسر ہو۔“
”یہ بڑا........ہے۔“گوتھم نے اپنے آفیسر کی بہن کے کردار پر روشنی ڈالی جو اس کے اندر کی غلاظت کو ظاہر کر رہی تھی۔
تیواری نے قہقہ لگالقمہ دیا۔”یقینا وہ بھی اسی کی مافک (مانند) سرخ و سفید ہو گی۔“
گوتھم نے بھی دانت نکال دیے تھے۔اسی دوران میں ہلکی ہلکی بوندیں گرنے لگیں۔
گوتھم جیبوں میں ہاتھ ٹھونستے ہوئے بولا۔”کوئی پناہ ڈھونڈنا پڑے گی۔“ ایک دم میرے دل میں اندیشے بھر گئے تھے کہ پناہ کے لیے سب قریب اور مناسب وہی درخت تھا جس کے نیچے میں چھپا تھا۔
تیواری نے چاروں اطراف میں سر گھماتے ہوئے میرے اندیشے کی تصدیق کی۔ ”درخت کے نیچے چلے جاتے ہیں۔“
گوتھم نے پسندیدگی سے سرہلایا اور وہ درخت کی طرف بڑھنے لگے۔انھوں نے اپنے ہتھیار وہیں چھوڑ دیے تھے۔یہ بے احتیاطی ان کی بے پروائی اور اناڑی پن کو ظاہر کر رہی تھی۔ ایک فوجی کو میدان جنگ میں کبھی اپنے ہتھیارکوخود سے دور نہیں کرناچاہیے۔
میں نے پستول ہاتھ میں تھام لیا تھا۔وہ ہوا کی مخالف سمت درخت کی آڑ میں کھڑے ہو گئے۔گوتھم کے پاﺅں میری پناہ گاہ سے ڈیڑھ دو فٹ دور تھے۔چند لمحوں بعد ہوا اور بارش کی تیزی میں اضافہ ہو گیا تھا۔بارش سے بچنے کو وہ جھاڑی کی ٹہنیاں ہٹا کر پیچھے کی طرف کھسکے اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔گوتھم کاپاﺅں گڑھے میں اترا ،وہ بڑی مشکل سے گرنے سے بچا تھا۔
تیواری نے کہا۔”احتیاط سے۔“
گوتھم نے پیچھے مڑ کر دیکھااورگڑھے کا جائزہ لینے کو جھک گیا۔ تبھی میں نے حرکت میں آنے کا فیصلہ کر لیاکہ مزید دبکے رہنا نقصان دہ ہو سکتا تھا۔زستاوا تیس بور میرے ہاتھ میں تھا،لبلبی دباتے ہی ”ٹھک “ ہوئی اور گوتھم اوندھے منہ نیچے گرا ،میں ایک دم کھڑا ہو گیا۔ تیواری کے منہ سے بلند بانگ چیخ نکلی اور وہ سیدھا بھاگ کھڑا ہوا۔نجانے اس نے مجھے کیا سمجھا تھا؛کوئی جانور،جن بھوت یا دشمن۔میں نے پستول والا ہاتھ سیدھا کیااور دوسری بار لبلبی کو پیچھے کھینچ لیا۔اسے چند قدم سے زیادہ بھاگنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ گولی اس کی کھوپڑی کی پشت میں لگی تھی۔نیچے گر کر وہ ایڑیاں رگڑنے لگا۔میرے کپڑوں پر گوتھم کے خون چھینٹے گرے تھے،مگر تیز بارش کی وجہ سے خون جم نہیں سکا تھا۔
میں نے سرعت سے دونوں کی تلاشی لی، لیکن کوئی کام کی چیز نہ ملی۔ودوانسک سنائپر رائفل میرے بہت کام آسکتی تھی مگرجیسا کہ پہلے بتا چکا ہوں اتنے وزن کو ساتھ پھرانا بہت مشکل تھا، اس لیے میں نے فقط اس کی ٹیلی سکوپ سائیٹ اتار کر پاس رکھ لی تھی کہ اس سے دوربین کا کام لیا جا سکتا تھا۔اس کے بعد رائفل کے پرزوں کو آسانی سے جتنا ہو سکتاتھا توڑ پھوڑ دیا۔یہ لڑائی کا اہم اصول ہے کہ جب بھی موقع ملے دشمن کے ہتھیار ناکارہ کر دو۔ہمیں تو جب اپنا ہتھیار مجبوری کی حالت میں چھوڑنا پڑے تو اسے تباہ کر دیتے ہیں کہ دشمن اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے وہ تو پھر دشمن کا ہتھیار تھا۔
کلاشن کوف میرے لیے بہت ضروری تھی اس لیے کندھے پر لٹکا لی۔مزل (کلاشن کو ف کا دہانہ)کا رخ زمین کی طرف کر دیا تھا تاکہ اس میں پانی نہ جا سکے۔ان کا وائرلیس سیٹ بھی اٹھا نا نہیں بھولا تھا۔گوتھم نے یہ عقل مندی کی تھی کہ وائرلیس سیٹ کو پلاسٹک کے لفافے میں لپیٹ لیا تھا۔ورنہ جتنی تیز بارش ہو رہی تھی وائرلیس سیٹ نے ناکارہ ہو جانا تھا۔زستاوا تیس بوربھی میں نے لفافے میں لپیٹ لیا تھا۔
مزید وہاں رکنا مناسب نہیں تھا۔مجھے معلوم نہ تھا کہ دشمن جس راستے سے گیا تھااسی سے واپس لوٹتا یا کسی اور راستے کا انتخاب کرتا،البتہ مجھے جانے کے لیے وہی سمت بہتر لگی تھی اس لیے اسی جانب قدم بڑھا دیے۔
بارش کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا تھااور لباس ،جوتے وغیرہ گیلا ہوجانے سے چلنے میں دقت ہو رہی تھی،مگر اس وقت چلنا ہی مناسب تھا کہ یوں کم از کم جسم تو گرم رہتا۔
راستہ آہستہ آہستہ نشیب میں اتر رہا تھااور پھسلن کی وجہ سے زیادہ تیزی سے چلنا ممکن نہ تھا۔ میں دائیں بائیں کا جائزہ لیتا ہوا محتاط انداز میں محو سفر رہا۔معاََ ریڈیو سیٹ جاگ پڑا،کوئی ون بریواگوتھم کو پکار رہا تھا۔چند بار پکارنے کے بعد وہ سی پی تھری کو پکارنے لگا۔
ایک دبی دبی آواز ابھری۔”سی پی تھری فار،ون بریواسینڈ یورر میسج اوور....“
ون بریوا” سی پی تھری !آبشار نالے کے پوربی جنگل میں ہم گوتھم اور تیواری کو چھوڑ آئے ہیں ،وہ ہمیں نہیں سن رہے ،انھیں کال کرواوور....“
سی پی تھری نے پوچھا۔”کیا پیغام دینا ہے اوور....“
جواب آیا۔”انھیں بتاﺅ،آبشار نالے میں اتر کر نالہ ملاپ پر پہنچیں،ہم اسی راستے پر لوٹ رہے ہیں اوور....“
”راجر....“کہہ کر سی پی تھری سنائپرز کو پکارنے لگا۔”سی پی تھری فار گوتھم ....گوتھم اوور....“
گوتھم بے چارہ زندہ ہوتا تو جواب دیتا۔ سی پی تھری سے چند بار اسے پکارا گیا اور پھر وہ ون بریوا کو پکارنے لگا۔”سی پی تھری فار ون بریوا اوور....“
”سینڈ یورر میسج اوور....“
”کوئی جواب نہیں آرہا اوور....“
”سی پی تھری !شاید وہ بارش سے چھپنے کو کسی پناہ گاہ میں گھسے ہیں،کیا آپ کسی کو بھیج کر انھیں ہمارا پیغام دے سکتے ہیںاوور....“
سی پی تھری نے جواب دیا۔”بارش رکنے کے بعد ہی یہ کام ہو سکتا ہے اوور....“
”ون بریووا فار سی پی تھری !ٹھیک ہے رہنے دیں،ہم اسی راستے پر واپس چلے جاتے ہیں، اوور اینڈآل۔“
میں گہرا سانس لے کر رہ گیا تھا۔اگر سی پی تھری والا ہامی بھر لیتا تو کم از کم اس خطرے سے تو جان چھوٹ جاتی ،مگر اب نامعلوم وہ کس جگہ پر مجھے ٹکراتے۔پہلے میرا رخ مشرق کی جانب تھا پھر میں نے اپنا رخ قدرے شمال کی جانب موڑ دیا،مگر ان کے آنے کا مقرر رستہ معلوم نہ تھا اس وجہ سے مجھے بے حد احتیاط کی ضرورت تھی۔البتہ اپنے اندازے کے مطابق میں گھنٹا پون گھنٹا آزادی سے سفر کر سکتا تھا، کیوں کہ انھیں گئے ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی اور اتنی جلدی وہ اوپر نہیں پہنچ سکتے تھے۔
بارش اسی تسلسل سے جاری تھی۔ہوا کی تیزی نے اسے طوفانی کر دیا تھا۔دوپہر ہو گئی تھی اور اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی،مگر کھانے کے لیے کوئی چیز پاس نہیں تھی۔ گوتھم لوگوں کے پاس بھی کھانے کو کچھ موجود نہ تھاکہ میرے کام آتا ،بہ ہرحال بھوک ،پیاس اور سنائپر کا تو جنم جنم کا ساتھ ہے۔ اس کے علاوہ تھکن، بے آرمی ،موسم کی سختیاں اور دشمنوں سے مسلسل ٹاکرا بھی سنائپرز کامقدر ہے جس سے جان چھڑانا اسی صورت میں ممکن ہے کہ انسان سنائپنگ چھوڑ کر گھر بیٹھ جائے۔
فرلانگ بھر چلنے کے بعدہموار اترائی ڈھلان میں تبدیل ہوگئی۔جھاڑیاں بھی چھدری چھدری ہو گئی تھیں اور تھوڑا مزید فاصلہ طے کرنے کے بعد شاید بالکل ہی ختم ہو جاتیں،ایسے میں دشمن کے ایک دم سامنے آجانے پر میرا بچ نکلنا مشکل تھا۔حفظ ماتقدم کے طور پر میں نے شمالی جانب رخ کر لیا۔ اس طرف چڑھائی تھی اور اتنا تو مجھے بھی یقین تھا کہ دشمن نشیب سے اوپر آرہا تھا۔
چڑھائی کے سفر میں توانائی زیادہ خرچ ہونے لگی اور سردی کا احساس قدرے کم پڑ گیاتھا۔چڑھائی ابتداءمیں تو ہموار تھی جو آہستہ آہستہ مشکل ڈھلان میں تبدیل ہونے لگی۔پھسلن کی وجہ سے میں دو تین بار گرا بھی تھا۔لباس ،ہتھیار اور تھیلا پانی سے شرابور تھے۔بھوک کی شدت میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہو رہا تھا۔سردی کے ساتھ سخت تھکن بھی محسوس ہو رہی تھی۔لباس ،تھیلا اور ہتھیار اب بوجھ لگنے لگے تھے۔ایسے حالات میں فطری جبلت کے زیر اثر ہی پاﺅں متحرک تھے ۔بارش کی رفتار مدہم ہوئی مگر ہوا کی شدت برقرار رہی۔تیز ہوا جیسے جسم میں کانٹے چبھو رہی تھی۔بادلوں کی گرچ چمک بھی جاری تھی۔
وائرلیس سیٹ پر خاموشی چھائی تھی اور اس کی وجہ موسم کا خراب ہونا تھا۔اس علاقے میں آسمانی بجلی گرنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور اس سے نبٹنے کو وائرلیس ،ٹیلی فون ،لوہے کی اشیائ، درختوں اور پانی کے ذخائر سے دور رہنے کی تاکید کی جاتی ہے۔اس وقت بھی بجلی یوں کڑک رہی تھی جیسے بپھرا شیر دھاڑتا ہے۔
میرے پاس ہتھیار بھی موجود تھا،وائرلیس سیٹ بھی میں نے آن رکھا تھا اور درختوں کے بیچوں بیچ بھی گزر رہا تھا ،کہ ان احتیاطوں پر عمل کرنا ممکن ہی نہ تھا۔مجبوری کی حالت میں ایسی احتیاطیں پس پشت ڈال دی جاتی ہیں۔
مجھے چلتے ہوئے اڑھائی تین گھنٹے ہونے کو تھے معاََ سیٹ پر ون بریوا کی گھبرائی ہوئی آواز ابھری۔
”ون بریوا فار کنٹرول.... کنٹرول اوور....“مگر کنٹرول کی طرف سے کوئی جواب نہیں ،مل رہا تھا۔چند لمحے کنٹرول کو پکارنے کے بعد وہ” تھری ٹو “کو پکارنے لگا۔غالباََ تھری ٹو اس کا کمپنی ہیڈکواٹر تھا۔تھری ٹو شاید پہلے ہی اسے سن رہا تھا فوراََ بول پڑا۔
”تھری ٹو سینڈ یور میسج اوور....“
ون بریوا حواس باختہ انداز میں بولا۔”تھری ٹو !گوتھم اور دیوش تیواری کو ہم آبشار نالہ پر پکٹ لگانے کو چھوڑ گئے تھے۔اب واپسی پر دونوں کی لاشیں ملی ہیں اوور....“
تھری ٹو غم و غصے کی ملی جلی کیفیت سے بولا۔”کیا....مگر کیسے ہوا سر....؟“
ون بریوا اسے تفصیل بتانے لگا۔اس کی بات ختم ہوتے ہی تھری ٹو کنٹرول کو پکارنے لگا،مگر شاید کنٹرول نے سیٹ آف کیا ہوا تھاتبھی جواب نہیں دے رہا تھا۔تب ون بریوا نے چند دوسری پوسٹوں سے بات کر کے مختلف راستوں پر ناکے لگانے کے احکام دینا شروع کر دیے۔
میرے قدموں میں تیزی آگئی تھی کیوں کہ جتنی دیر ہوتی دشمن اس علاقے میں پھیل جاتے اور پھر میرا حرکت کرنا ممکن ہی نہ رہتا۔
میں ابھی بلندی سے کافی دور تھا،کہ اچانک جھاڑیوں کے ایک جھنڈ سے باہر نکلتے ہوئے میری نظر سامنے بلندی پر پڑی،جو اس سے پہلے میری نظر سے اوجھل تھی،وہاں دشمن کی پوسٹ نظر آرہی تھی۔واپس جھاڑیوں میں گھس کر میں نے جھولے سے ودوانسک کی ٹیلی اسکوپ سائیٹ نکالی اور شیشوں کے غلاف(کور) اتار کر پوسٹ کا جائزہ لینے لگا۔عام دوربین کے برعکس ٹیلی اسکوپ سائیٹ میں دیکھنے کے لیے آنکھ کو” آئی گلاس “سے ذرا دور رکھنا پڑتا ہے۔بنیادی طور پر تو آئی ریلیف کا مقصد فائر کے وقت لگنے والے جھٹکے سے آنکھ کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے،مگر جب ٹیلی اسکوپ سائیٹ کو رائفل سے اتار کر دیکھا جائے تب یہ فاصلہ رکھنامجبوری بن جاتا ہے کہ اس کے علاوہ دکھاﺅ ممکن نہیں ہوتا۔ٹیلی اسکوپ سائیٹ کو سہارا دینے کو میں نے ایک درخت کے تنے پر فٹ کیا اور پھر مخصوص فاصلے سے دیکھنے لگا۔اس کا دکھاﺅ عام آنکھ کی نسبت آٹھ گنا زیادہ تھا۔پوسٹ کا زیادہ سے زیادہ فاصلہ سات آٹھ سو میٹر کے بہ قدر تھا ،اس لیے ہر چیز واضح نظر آرہی تھی۔بارش کی وجہ سے پہرے دار دکھائی نہیں دے رہے تھے،شایدامورچے کے اندر کھڑے ہو کر نگرانی کر رہے تھے۔البتہ چمنی سے دھویں کی اٹھتی ہوئی لکیر ظاہر کر رہی تھی کہ پوسٹ غیر آباد نہیں تھی۔
میں نے اپنا رخ ایک بار پھر مشرق کی جانب موڑ دیا۔وائرلیس سیٹ پر جنگ جاری تھی۔ ابھی تک کسی کو بھی وائرلیس سیٹ کے گم ہونے کا خیال نہیں آیاتھا۔ویسے بھی وہ سیٹ زیادہ دیر میرا ساتھ نہیں دے سکتا تھا،کسی بھی وقت اس کی بیٹری جواب دے سکتی تھی اور اضافی بیٹری موجود نہیں تھی۔
میں نے سیٹ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے عارضی طور پر سیٹ کو بند کر دیا تاکہ بعد میں آن کر کے دشمنوں کی تازہ صورت حال سے آگاہ ہو سکوں ۔
ایک بار پھر اترائی کا سفر شروع ہو گیا تھا اس لیے میری رفتار قدرے تیز تھی۔پانی برسنے کی مقدار میں اضافہ ہونے لگا تھا۔ایک جگہ چکنی مٹی آئی کوشش کے باوجود میں گرنے سے نہیں بچ پایا تھا، پھسلتا ہواپندرہ بیس گز نیچے پہنچ گیا تھا۔کلاشن کوف کی جو حالت ہو گئی تھی مجھے نہیں لگتا تھا کہ صحیح فائر کر پائے گی۔مگر اس کی ضرورت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا تھا۔بارش تھمنے کے بعد میں اس کے حصوں پرزوں اور ایمونیشن کو خشک کر کے قابل استعمال بنایا جا سکتا تھا۔حرکت رکتے ہی میں اٹھ کر بیٹھ گیااور گیلی زمین ہی پر پاﺅں پسار کر بیٹھ گیا۔مسلسل چل کر جسم شل ہورہا تھا۔گیلے جوتوں اور جرابوں سمیت چلنا اضافی اذیت تھی۔گہرے سانس لیتے ہوئے میں نے ڈھلان کے ساتھ ٹیک لگا لی۔بارش کے قطرے براہ راست میرے چہرے پر گر رہے تھے۔تھکن سے بھی زیادہ تکلیف دہ بھوک تھی۔کڑی مشقت نے پیٹ میں اینٹھن پیدا کر دی تھی۔مجھے جلد ہی خوراک ڈھونڈناتھی،ورنہ دوسری صورت میں درختوں کے پتے چباناپڑجاتے۔سانس جاری رکھنے کو کچھ بھی چبایا جا سکتا ہے۔
جاری ہے
قسط نمبر12
ریاض عاقب کوہلر
اچانک تڑتڑاہٹ کی تیز آواز ابھری ،میں اچھل پڑا تھا،لگا دیکھ لیا گیا ہوں اور پھر کچھ سوجھنے سے پہلے ہی کانوں میں ایک دکھی آواز گونجی۔
”یارا!بندر تھا،خواہ مخواہ پاپ کروا دیا۔“ہندو بندروں کو ہنومان دیوتا مانتے ہیں اور ان کی بہت تکریم کرتے ہیں۔ یقینا جھاڑیوں میں حرکت ہونے پر انھوں نے میرے شبے میں فائر کھولا تھا۔ چند منٹ سستانامیری جان بچا گیا تھا۔میں فوراََ اوندھے منہ لیٹ کر نزدیکی جھاڑی میں رینگ گیا۔ دشمن زیادہ دور نہیں تھے۔ان کی آوازیں سنائی دینے لگیں،شایدپہلے بندر کی حرکت کی وجہ سے انھوں نے عارضی طور پر چپ سادھی تھی۔
وائرلیس سیٹ پر استفسار ہونے لگا۔”کنٹرول فار پی فور،تمھاری طرف سے فائرنگ کی آواز آرہی ہے۔“
جواب دیا گیا۔”جھاڑیوں میں حرکت دیکھ کر مکیش نے فائر کیا اور غلطی سے ایک بندر مارا گیا۔“
”چوکنے رہنا،اب تک گھس بیٹھا پکڑا نہیں گیااوور....“
”ہم خبردار ہیں اوور....“
”کیپ لسنگ آﺅٹ....“کنٹرول انھیں رابطے میں رہنے کا کہہ کر خاموش ہو گیا۔
ایک تشویش بھری آواز ابھری۔”مجھے نہیں لگتا یہ کسی اکیلے بندے کاکام ہو سکتا ہے،لازماََ دہشت گردوں کا پوراگروہ ہے جو چھوٹی ٹولیوں پر حملے کر رہا ہے۔“
ایک اور آواز ابھری ۔”اطلاعات کے مطابق آبشار نالے میں اکیلا بندہ ہی دیکھا گیا تھا۔“
پہلے والے نے طنزیہ انداز میں کہا۔”مہاراج گوبند تو اپنی بدھی(عقل)اپنی استری (بیوی) کے پاس رکھ آئے ہیں،بھئی!کسی ایک آدمی کے نظر آنے کامطلب یہ نہیں کہ وہ اکیلا ہے۔ممکن ہے اس کے باقی ساتھی کامیابی سے اس علاقے سے گزر چکے ہوں اور اپنی گشت کو آخری آدمی دکھائی دے گیا ہو۔“
”شیشہ پوسٹ والوں کو بھی اکیلا شخص ہی نظر آیا تھا، البتہ تم جیسے ڈرپوک کے لیے اکیلا شخص بھی ٹولی برابر ہوتا ہے۔“بولنے والا یقینا گوبند تھا۔
ایک نئی آواز ابھری۔”یار آپس میں نہ لڑو،وہ اکیلا ہے یاپوری ٹولی ہے،رام قسم بچیں گے نہیں۔البتہ ہمیں چوکنا رہنا پڑے گا۔“
گوبند بولا۔”پہلے ویر سنگھ نے بکواس کی ہے۔“
ویر سنگھ طیش میں آیا۔”بکواس تم کر رہے ہو۔“
تیسرے آدمی نے دوبارہ بیچ بچاﺅ کراتے ہوئے دونوں کو دھمکایا۔ ”اگر تم لوگوں نے بکواس بند نہ کی تو ہوشیار(اٹن شن) کھڑا کر دوں گا۔“یقینا وہ دونوں سے سینئر تھا۔
لڑنے والوں نے چپ سادھ لی تھی۔
میں جھاڑی میں دبکا اندھیرا ہونے کا انتظار کرنے لگا۔گو گہرے بادلوں کی وجہ سے لگ رہا تھا جیسے شام کاوقت ہو،مگر گھڑی کے مطابق غروب آفتاب میں گھنٹا پڑا تھا۔امید یہی تھی کہ شام تک ان کا بلاوا آجانا تھا۔گھنٹا ڈیڑھ وہاں گزارنا چنداں دشوار نہ تھا۔یوں بھی ایک سنائپر تو کئی کئی گھنٹے،بلکہ دنوں کے حساب سے ایک مقام پر ایستادہ رہتا ہے۔
بارش میں ٹھہراﺅ آیا ،موسلا دھاربارش بتدریج بوندا باندی میں تبدیل ہوکر رک گئی تھی۔ مجھے زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا،جلد ہی ان کا واپسی کا بلاوا آگیاتھا۔
تبھی گوبند کی آواز ابھری۔”میں بس دو منٹ لوں گا۔“
ویر سنگھ نے بازاری زبان استعمال کی جس کا مہذب ترجمہ یہ بنتا ہے”تمھیں ابھی حاجت ہو رہی ہے۔“
گوبند اس سے بھی بے ہودہ انداز میں بولاجس کا شریفانہ ترجمہ ۔”فطری تقاضا تو تمھیں بھی پیش آسکتا ہے۔“بنتا ہے۔
ان کا سینئر چلایا۔”دونوں اپنی بکواس بند کرو۔اور گوبند جلدی کرواندھیرا گہرا ہونے سے پہلے ہمیں پوسٹ پر پہنچنا ہے۔“
میں اطمینان سے دونوں ہاتھوں پر سر ٹیکے انھی کی طرف متوجہ تھا۔جب گوبند کو اپنی طرف آتے دیکھاتو میرے شل اعصاب ایک دم ہڑبڑا کر مستعد ہوگئے۔دائیں ہاتھ نے بجلی کی سی سرعت سے پستول کے دستے کو قبضے میں لیا تھا۔اتنی مہلت نہیں تھی کہ کسی اور جھاڑی کا رخ کرتا۔البتہ گوبند کسی اور جھاڑی کی طرف بڑھ جاتا تو آزمائش ٹل سکتی تھی۔مگر گوبند کے سانس وہیں پورے ہونے تھے،تبھی تو وہ سیدھا وہیں پہنچاتھا۔گو میں شاخوں میں چھپا تھااور اتنی آسانی سے اسے نظر نہیں آسکتا تھامگر جونھی اس نے جھاڑی کی آڑ پکڑ کر اس سمت کو رخ موڑا جدھر اس کے ساتھی موجود تھے،تب میں نے مزید انتظار مناسب نہ سمجھا کہ جیسے ہی وہ تشریف نیچے لاتااس کی نگاہیں براہ راست مجھ پر پڑتیں۔ہاتھ سیدھا کرتے ہی میں نے لبلبی کھینچی۔”ٹھک“ہوا اور گوبند جو جھاڑی کی شاخیں ہلنے پر مکمل طور پر ادھر متوجہ ہی نہیں ہو پایا تھا،کولہوں کے بل نیچے اور اذیت سے ایڑیاں رگڑنے لگا۔گولی اس کے ماتھے پر لگی تھی اور سر میں لگنے والی گولی چیخنے کی مہلت نہیں دیا کرتی۔
اس کے ساتھی ہتھیار وغیرہ سنبھالنے میں مصروف تھے۔میں سرعت سے ان کی طرف بڑھا، پچاس ساٹھ قدم کا فاصلہ اتنا طویل نہ تھا کہ مجھے زیادہ وقت لگتا۔البتہ دوڑتے قدموں کی آواز سن کر وہ اس جانب متوجہ ہو گئے تھے۔
”حا....حملہ....“ہکلا کر کہتے ہوئے ان کے سینئرنے کندھے سے کلاشن کوف اتارنا چاہی، لیکن میں اسے فائر کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا تھاکیوں یوں باقی ٹولیاں اس جانب متوجہ ہو جاتیں۔
ایک دم قدم روک کرمیں نے مسلسل دو بار ٹریگر دبایا اور دونوں کومستقبل کے خوف سے بے نیاز کر دیا۔
نیچے گر کر وہ تڑپنے لگے تھے۔میں نے قریب جا کر تلاشی لی،وائرلیس سیٹ کی اضافی بیٹری،برساتی(رین کوٹ) اور لفافے میں ملبوس کلاشن کوف ہی مجھے کام کی چیزیں لگی تھیں۔حسب معمول ان کے ہتھیار ناکارہ کر کے میں آگے بڑھ گیا۔لاشوں چھپانے کا وقت نہیں تھا،امید یہی تھی کہ جب تک انھیں اپنے بندوں کے قتل کا معلوم ہوتا میں وہاں سے دور جا چکا ہوتا۔
زمین پرلیٹنے کی وجہ سے میرے کپڑوں پر کیچڑ لگی ہوئی تھی۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں کیچڑ نہ ہونے کے برابر تھی مگر میں جس جگہ گرا تھا وہاں کافی چکنی مٹی موجود تھی اس وجہ سے کپڑوں کی رنگت مٹیالی ہو چکی تھی۔برساتی میں نے تھیلے میں رکھ لی تھی کہ چلنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔
وہ اترائی نالے پر جا کر ختم ہوئی،نالہ عبور کر کے پھر چڑھائی تھی۔میں نالے میں بھی سفر کر سکتا تھا مگر ایک تو بارش کی وجہ سے پانی معمول سے زیادہ بہہ رہا تھا،دوسرا نالے میں دشمن کی کسی ٹولی سے مڈبھیڑ ہونے کا خطرہ زیادہ تھا۔اس وجہ سے میں نے نالہ عبور کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔بوٹ ویسے بھی گیلے ہو چکے تھے،اتارنے کا تکلف کیے بغیر میں نے نالے کے گدلے پانی میں پاﺅں رکھ دیے۔پانی گھٹنوں سے بلند نہیں تھا۔دوسری طرف پہنچ کر میں نے بلندی کا سفر شروع کر دیا۔گووہاں ہر بلندی پردشمن کی کسی نہ کسی پوسٹ کے ہونے کا احتمال موجود تھااور یہ امکان محتاط حرکت کا تقاضا کرتا تھا،جبکہ وہاں سے جلد از جلد دور نکلنا تیزرفتاری کا مطالبہ کر رہا تھا۔اس تضاد کے بعد میری حرکت میں احتیاط اور سرعت دونوں شامل ہو گئی تھیں جس کے لیے بصارتوں و سماعتوں سے کام لینے کے ساتھ دماغ کو مسلسل ماحول میں حاضر رکھنا ضروری تھا۔عموماََ راستے کی طوالت کوخوشگوار یادوں اور خیالات کے سہارے طے کیا جاتا ہے،مگر ان حالات میں دماغ کو کسی اور طرف مصروف کرنا کسی طور مناسب نہ تھا۔
بادل ہنوز چھائے تھے۔ان کی وجہ سے تاریکی میں اتنا اضافہ ہوگیا تھا کہ بغیر روشنی کے سفر کرنا ممکن ہی نہیں رہاتھا۔ ایک لاش کی جیب سے مجھے ایسا لائیٹر ملا تھاجس میں چھوٹی سی ٹارچ نصب تھی۔ایسے لائیٹر اپنے ہاں بھی عام دستیاب ہیں ۔میں اسی کی روشنی میں آگے بڑھ رہا تھا۔
بھوک اور تھکن آہستہ آہستہ میرے اعصاب کو مضمحل کر رہی تھی۔اگر کچھ کھانے ہی کو مل جاتا تو تھکن سے اتنی جلدی مارکھانے والا نہیں تھا،مگر خالی پیٹ سخت مشقت بہت دشوار تھی۔ایک سنائپر کی زندگی میں ایسے مراحل بارہا درپیش ہوتے ہیں جب زندہ رہنے کے بجائے موت کی آغوش میں پناہ لینا آسان لگنے لگتا ہے اور اس وقت میں ایسے ہی مرحلے سے نبرد آزما تھا۔
ایک بار پھر بونداباندی شروع ہوگئی تھی۔آسمان کسی غمزدہ بیوہ کی طرح رہ رہ کر اشک بہانے لگتا۔ہوا میں پہلے جیسے شدت نہیں رہی تھی،البتہ بارش دھیرے دھیرے تیز ہونے لگی۔قدم روک کر میں نے تھیلے سے برساتی نکال کر پہنی اوروائرلیس سیٹ آن کر کے دشمن کی گفتگو( ٹرانسمشن) سننے لگا۔
گوبند لوگوں کی تلاش جاری تھی۔جس پوسٹ پر انھوں نے پہنچنا تھاوہ کنٹرول کو ا ن کے نہ پہنچنے اور رابطہ نہ ہونے کی بابت بتا رہے تھے۔
کنٹرول نے ان کی تلاش میں دو تین پوسٹوں کو تلاشی ٹولیاں نکالنے کا حکم دیا۔ساتھ ہی مختلف پوسٹوں کو حکم دیا کہ ان کے سنتری ٹارچوں کے اشارے کریں ،تاکہ وہ راستہ بھول گئے ہوں تو روشنی کو دیکھ کر قریبی پوسٹ کا رخ کرسکیں۔ان کے تیئں شاید وہ راستہ بھول گئے تھے اور ان کے وائرلیس سیٹ کی بیٹری بھی ختم ہوچکی تھی۔
میں نے مڑ کر دیکھا،مختلف اطراف سے روشنیاں جھلک رہی تھیں،سامنے دیکھنے پر مجھے ٹارچ نظر نہیں آئی تھی،جس کا صاف مطلب یہی تھا کہ ادھر دشمن کی کوئی پوسٹ موجود نہیں تھی۔
ریڈیو سیٹ بند کر کے میں نے قدم آگے بڑھا دیے۔ اب کم از کم اتنا اطمینان ضرور تھا کہ سامنے کی بلندی پردشمن کی کوئی پوسٹ موجو نہیں تھی۔گرج چمک کے ساتھ بارش کی رفتار میں ایک دم تیزی آگئی تھی۔بجلی چمکنے پر میں نے تھوڑی دور ایک گھنے درخت کو تاڑ ا اور ادھر بڑھ گیا۔ وہ میرے راستے سے قدرے نیچے کی طرف تھا۔وہاں جھاڑیاں بھی پھیلی تھیں۔درخت کے نیچے زیادہ بارش نہیں لگ رہی تھی۔بارش کا زور گھنٹے ادھ میں ٹوٹ گیا تھا۔ جونھی بارش ہلکی ہوئی میں پھر چڑھائی چڑھنے لگا۔
شیطان کی آنت کی طرح لمبی چڑھائی میرے دو اڑھائی گھنٹے مزید لے گئی تھی۔اوپر پہنچ کر میں سخت نقاہت محسوس کر رہا تھا۔ایک جھاڑی کی آڑ میں بیٹھ کر میں نے اس کے کڑوے و ترش پتے چبانے کی کوشش کی مگر وہ اتنے بدذائقہ تھے کہ مزید کھانے کا حوصلہ نہ ہو سکا۔ایک پتھرسے ٹیک لگا کر میں وہیں لمبا پڑ گیافی الحال وہ نوبت نہیں آئی تھی کہ زبردستی پتے چباتا۔
آنکھیں بند کرتے ہی تھوڑا سا سکون ملا اور اپنے پیاروں کی شکلیں آنکھوں کے سامنے دھم سے آکودیں۔انسان فطرتی ضرورتوں کا اتنا محتاج ہے کہ جو ضرورت عارضی طور پر رسائی سے دور ہو جائے ،دماغ کی سوئی اسی ضرورت پر جا اٹکتی ہے۔اس وقت مجھے شدید بھوک لگی تھی تبھی پلوشہ اور رومانہ کی بھی وہی یادیں دماغ کے پردے پر چلنے لگیں جوکھانے پینے سے متعلق تھیں۔رومانہ ہمیشہ مجھے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا کرتی جبکہ پلوشہ کی عادت تھی کہ یہ خدمت مجھ سے لیتی۔تنہائی میں اس نے کبھی کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھائے ۔کھانا بنانے میں رومانہ ماہر تھی،گو پلوشہ بالکل انجان نہ تھی مگر رومانہ کی موجودی میں وہ کم ہی باوررچی خانے کا رخ کرتی۔اس کی دلچسپیاں اچھل کود کی طرف زیادہ مائل تھیں۔
پلوشہ کو سوچتے چند لمحوں کو میری آنکھ لگ گئی ۔خواب میں بھی آنکھوں کے سامنے مختلف پکوان ناچتے رہے۔میں زیادہ دیر نہیں سو سکا تھااوربارش کی بوندیں مجھے ہوش کی دنیا میں کھینچ لائیں۔کروٹ تبدیل کر کے میں نے رخ موڑلیا۔بارش برستی رہی ،ریڈیو سیٹ آن کرنے پر خاموشی چھائی نظر آئی۔ مختلف چینل تبدیل کرنے پر بھی کوئی آواز سنائی نہ دی ،یقینا انھوں نے موسم کی وجہ سے سیٹ بند کر دیے تھے۔ ایسے موسم میں وائرلیس سیٹ مسلسل آن رکھنے کے بجائے ہر گھنٹے یا دو گھنٹے بعد سیٹ آن کر کے سب اچھا دیا جاتا ہے اور پھر سیٹ آف کر دیے جاتے ہیں۔دستی گھڑی دیکھی،پانچ بجنے میں دس منٹ باقی تھے۔ ویسے تو پاک انڈیا اوقات میں ادھ گھنٹے کا فرق ہے،لیکن میں نے سرحد پار کرتے وقت گھڑی پر انڈین وقت لگا دیا تھا ۔
دس منٹ بعد دوباہ سیٹ آن کیاتو پہلے والے چینل پر ہلچل نظر آئی۔ایک ٹولی مرنے والوں کی لاشوں کے ساتھ پوسٹ پر خیریت سے واپس پہنچنے کی اطلاع دے رہی تھی۔چند ٹولیوں نے مختلف جگہوں پر ناکا بندی کا بتایا۔کچھ ٹولیاں دور دراز کی پوسٹوں سے اس جانب رواں دواں تھیں۔دور دراز اس لیے کہا کہ کنٹرول کی آواز تو مجھے آرہی تھی مگر جنھیں مخاطب تھا ان کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔
ان کی نظر دہشت گردوں کی پوری ٹولی وہاں سرگرم تھی جو اکیلے یا دو تین افراد پر مشتمل ٹولیوں کو نشانہ بنا رہی تھی۔ اس وجہ سے اب کم از کم دس سے پندرہ افراد پر مشتمل ٹولیاں تشکیل دی گئی تھیں ۔
بادلوں کے باوجود ملگجا اجالا پھیل رہا تھا۔میں نے بوتل کے پانی سے وضو کیا اور صبح کی نماز پڑھ کر اللہ پاک کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلا دیے۔وہی ذی شان ان مشکلات میں میرا ہامی و مددگار تھا۔
دعا مانگ کر میں آگے جانے کو تیا رہو گیا،کیوں جتنا جلدی وہاں سے نکل جاتا اتنا ہی بہتر تھا۔دشمن نے پورے علاقے کی ناکا بندی شروع کر دی تھی اور ہر گزرتے لمحے وہ علاقہ چوہے دان میں تبدیل ہوتا جا رہا تھا۔گو ان پہاڑوں اور ہاتھ کی لکیروں کی طرح پھیلے نالوں میں کسی ایک شخص کو تلاش کرنا دشمن کے لیے بھی آسان نہ تھا مگر مسئلہ یہ تھا کہ میں کہیں چھپ کر لیٹ نہیں سکتا تھا۔اور وہاں سے نکلنے کو مجھے کسی نہ کسی راستے سے تو گزرنا تھا،دشمن راستوں کی ناکا بندی کر کے ہی بیٹھ جاتا تو مجھے پکڑنا چنداں دشوار نہ ہوتا۔
پہاڑی کی چوٹی تک جانے کو تھوڑی سی بلندی طے کرنا باقی تھا،مگر میں اوپر جانے کے بجائے پہاڑی کے پہلو سے گزر کر دوسری جانب پہنچا،اتنی روشنی ہو گئی تھی کہ نظر دور تک کام کر سکتی تھی۔پہاڑی کے دامن میں گھنے درخت اور جھاڑیوں کا جنگل پھیلا نظر آرہا تھا۔آگے آبادی بھی نظر آرہی تھی۔آبادی کو دیکھتے ہی میرا دل خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔بلاشبہ وہ روما ہی کا گاﺅں تھا۔دو تین اور نشانیاں دیکھ کر میں نے اپنے اندازے کی تصدیق کی اور پھر نیچے اترنے کوراستہ تلاش کرنے لگا۔مشکل ڈھلانیں راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی تھیں۔میں اس پہاڑی کے مشرقی بازو پر موجود تھااور مجھے شمال کی سمت جانا تھا،مگر راستہ نہ ہونے کی وجہ سے میں جنوب مشرق کی جانب نیچے اترنے لگا۔میری کوشش تھی کہ جلد از جلد شمالی جانب کے جنگل میں پہنچ جاﺅں۔بادلوں نے اب تک آسمان کو گھیرا ہوا تھا ،البتہ بارش رکی ہوئی تھی۔سو ڈیڑھ سو گز نیچے اترنے کے بعد میں ایسے مقام پر پہنچ گیا تھا جہاں سے شمالی جانب اترنا قدرے ممکن ہو گیا تھا۔سب سے زیادہ سہولت جا بجا اگی ہوئی جھاڑیاں تھیں جن کی شاخوں کے سہارے سیدھی چٹانوں سے اترنا بھی زیادہ دشوار نہیں رہا تھا۔البتہ بارش کی وجہ سے زمین نرم ہو گئی تھی اور پتھروں پر تھوڑا سا زور پڑنے پر بھی وہ زمین سے اکھڑ جاتے تھے،جس کی وجہ سے گرنے کا امکان بڑھ گیا تھا۔بہ ہرحال جھاڑیوں کی مضبوط شاخوں کو سختی سے جکڑ کر میں محتاط انداز میں پچھتر ،اسی درجے کے زاویے پرجھکی چٹانوں سے نیچے اترنے لگا۔سو ڈیڑھ سو گز کے بعد اترائی قدرے ہموار ہو گئی تھی۔
ایک بار تو جی چاہا کہ موقع کا فائدہ اٹھا کر روما کے گھر پہنچ جاﺅں ،وہاں مجھے خوش آمدید کہنے والے موجود تھے، مگر پھر یہ مناسب نہ لگا کیوں کہ اس وقت کسی کی نظر بھی مجھ پر پڑ جاتی تووہ لوگ خطرے میں پڑ جاتے۔گاﺅں میں ضمیر فروش لوگوں کی موجودی کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔اپنی بھوک کواندھیرا چھانے تک برداشت کرنا میری مجبوری تھی۔ایک گھنی جھاڑی میں جگہ بنا کر میں چھپ گیا۔جب تک جھاڑی کو کھنگالا نہ جاتا مجھے نہیں ڈھونڈا جا سکتا تھااور جھاڑیوں کے جنگل میں ہر جھاڑی کی تلاشی لینا یقینا آسان نہ تھا۔
دوپہر کوچند بکریاں جھاڑیاں پر منہ مارتی وہاں آئی تھیں ،ایک بکری کے دودھ سے بھرے تھن دیکھتے ہی میں نے اسے قابو کیا اور دودھ پینے لگا۔ اس وقت وہ دودھ اس قدر شیریں اور حیات بخش محسوس ہوا تھا جیسے آب حیات ہو۔تھوڑے سے دودھ سے میں سیر تو نہ ہوا البتہ شام تک کا وقت کاٹنا قدرے آسان ہو گیا۔دوپہر ڈھلے دشمنوں کی ایک ٹولی بھی دس بارہ گز کے فاصلے پر گزری،میں بے حس و حرکت پڑا رہا۔سہ پہر تک بارش رکی رہی ،مگر اس کے بعد ہلکی ہلکی ہوا چلنے لگی اور بوندا باندی شروع ہو گئی تھی جو رفتہ رفتہ تیز ہونے لگی۔گھنے بادلوں کی وجہ سے سہ پہر ہی کو شام جتنا اندھیرا پھیل گیا تھا۔
میں شام تک جھاڑی میں دبکا رہا،جونھی اندھیراپھیلا محتاط انداز میں جھاڑی سے باہر نکل آیا۔اس دوران میں بارش کی رفتارکم زیادہ ہوتی رہی مگر وہ مسلسل جاری تھی۔
میں نشیب کی طرف بڑھ گیا۔بارش کی وجہ سے امید نہیں تھی کہ دشمنوں کی کوئی ٹولی وہاں موجود ہو سکتی تھی۔اس کے باوجود میں نے احتیاط کا دامن نہیں چھوڑا تھا۔جھاڑیوں کے جنگل سے نکلتے ہی فرلانگ بھر ہموار میدان تھا پھر آبادی شروع ہو رہی تھی۔وہاں کم مکان ایسے تھے جن کی دیواریں ملی ہوئی تھیں،زیادہ تر مکان دور دور اور اکیلے بنے تھے۔اپنے سسر شفیق کے گھر کا رستہ میری یاد میں محفوظ تھا۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد میں مطلوبہ مکان تک پہنچ گیا تھا۔ مجھے سخت بھوک لگی تھی۔گزشتہ چھتیس گھنٹے میں نے بھوکے گزارے تھے اور اس دوران میں سخت مشقت سے بھی واسطہ رہا تھا۔دوپہر کو بکری کا دودھ تو بس اونٹ کے منہ زیرہ ہی محسوس ہوا تھا۔
میرا ہاتھ دستک دینے کو اٹھااور میں نے زنجیر پکڑ کر زور سے ہلا دی۔
تیز بارش کی وجہ سے یقینا وہ اندر دبکے تھے تبھی کوئی جواب نہیں ملاتھا۔
میں نے دوبارہ دروازہ کھٹکھٹایا،تبھی....”کون؟“ کی ہلکی سی آواز ابھری۔
”جواب دینے کے بجائے میں نے سہ بارہ زنجیر ہلا دی۔
بھاگتے قدموں کی چاپ دروازے کے سامنے آرکی ۔”کون ہے بھئی؟“میرے کانوں میں برادر نسبتی سکندر کی آواز گونجی۔
میں دبے لہجے میں بولا۔”سکندر بھائی !میں ذیشان حیدر ہوں۔“
کنڈی کھول کر سکندر نے باہر جھانکا۔”ذیشان بھائی!آپ،خیریت تو ہے نا؟“حیرانی سے کہتے ہوئے اس نے معانقے کو بازو کھول دیے تھے۔
”فی الحال تو خیریت ہے۔“بشاشت سے کہتے ہوئے میں اس کے گلے لگ گیا۔
بازوﺅں میں بھینچ کر اس نے گرم جوشی سے معانقہ کیا اور پھر مجھے اندر کھینچ لیا۔تھوڑی دیر بعد میں گھر والوں کے بیچ موجود تھا۔وہاں میں نے مہینے بھر کا وقت بتایا تھااوراس گھر کا کوئی فرد میرے لیے اجنبی نہیں تھا۔روما کے حوالے سے یوں بھی میں تمام کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا۔
روما کے والدشفیق اور والدہ ریحانہ نے مجھے گلے سے لگا کر شفقت دی۔ گیلے لباس اور جوتوں کی وجہ سے سب سے پہلے انوار کپڑوں کا نیا جوڑا اور چپل لے آیا تھا۔ غسل خانے میں جا کر میں نے کپڑے اتارے اور خشک لباس پہن لیا۔ جوتوں اور لباس سے نجات حاصل کرتے ہی میں نے سکھ کا سانس لیا تھا۔ غسل خانے سے نکلا تو ساسو ماں کو کھانے کے ہمراہ منتظر پایا۔
تکلف کیے بغیر میں کھانے پر پل پڑا تھا۔کھانے کے بعد میری فرمائش پر وہ دودھ والی چائے بنا کر لے آئی تھیں۔
چائے پی کر میں انھیں تفصیل بتانے لگا۔ روما کے دونوں بھائی، بھابیاں ،امی ابوتمام ہی میرے گرداکٹھے ہو گئے تھے۔گزشتہ دو دنوں کے اجمالی حالات بتا کر میں نے ضروری کام کے سلسلے میں سرحد پار کرنے کا بتادیا۔انھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ میرا تعلق پاک آرمی سے ہے تبھی زیادہ کریدنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ میرے مشن کے بارے جاننے کے بجائے وہ روما اور اس کے بیٹے عبداللہ کے بارے کچھ سننے کے مشتاق تھے۔گاہے گاہے ان کی روما سے بات ہو جاتی تھی،مگر کوئی ایسا ذریعہ نہیں تھا کہ بے چارے اس سے مل پاتے۔
تھوڑی دیر گپ شپ کے بعد ،مجھے آرام کرنے کا مشورہ دے کر وہ باہر نکل گئے ۔انھی کی زبانی یہ بھی معلوم ہوا کہ آج صبح کو انڈین آرمی نے گاﺅں کی سرسری تلاشی لی تھی۔میں نے انھیں سختی سے منع کر دیا تھا کہ وہ کسی رشتا دار کے سامنے بھی میرا ذکر نہ کریں۔
ان کے جانے کے بعد میں نے عشاءکی نماز پڑھی اور آرام کرنے لیٹ گیا۔ پیٹ بھرنے کے بعد میری آنکھیں بند ہونے لگی تھیں۔
٭٭٭٭٭
احتیاط کے پیش نظرمیں نے چند روز وہیں گزارنے کا فیصلہ کیا تاکہ میری تلاش کی سرگرمی ماند پڑ سکے۔مگر ایسا اتفاق بنا کہ مجھے ارادے سے رجوع کرناپڑا۔ہوا کچھ یوں کہ دو مجاہدجو نجانے پاکستان کی طرف سے آرہے تھے یا یہاں سے واپس جا رہے تھے ان کا ٹاکرا انڈین سپاہ کے ایک سیکشن سے ہوگیا۔(سیکشن کی سپاہ دس افراد پر مشتمل ہوتی ہے)جوانب سے فائرنگ ہوئی،جس کے نتیجے میں انڈیا کے چار جوان ہلاک ہوئے اور دونوں مجاہدین بھی شہید ہو گئے۔میری گزشتہ دنوں کی ساری کارروائیاں بھی انھی کے سر منڈھ دی گئی تھیں۔یہ تمام واقعہ مجھے وائرلیس سیٹ پر دشمن کی بات چیت سن کر معلوم ہوا تھا۔دو مجاہدوں کی شہادت نے میرے راستے کی کافی مشکلات دور کر دی تھیں۔ مزید ایک دو دن وہاں بتا کر میں جانے کو تیا رتھا۔تمام میرے جانے پر خفا تھے مگر میں سسرال میں رہنے کے ارادے سے نہیں آیا تھا کہ وہاں پڑا رہتا۔رخصت ہونے سے پہلے میں نے ایک لاکھ کے بقدر انڈین کرنسی یہ کہہ کر اپنے سسر کے حوالے کی تھی وہ روما نے ان کے لیے بھیجی ہے۔شفیق صاحب نے آبدیدہ ہو کر پیسے پکڑے،بیٹی کی جدائی بلاشبہ ان پر بہت گراں تھی۔ڈیڑھ لاکھ کے قریب رقم مجھے مشن کے سلسلے میں مہیا کی گئی تھی،میں نے اسی میں سے مذکورہ رقم ان کے حوالے کردی تھی ۔ان کے لیے تحائف وغیرہ لانا تو ویسے بھی ناممکن تھا البتہ اس رقم سے وہ اپنی مرضی کے تحفے خرید سکتے تھے۔عشاءکی نماز کے بعد میں گھر والوں سے رخصت لے کر نکل آیا۔روما کی ماں نے مجھے ساتھ لپٹا کر میری آنکھوں اور ماتھے پر بوسے دے کر کہا۔
”بیٹا!میری رومی کا بہت خیال کرنا۔“
میں ہنسا۔”ماں جی!وہ گھر کی مالکن ہے،آپ سے گزارش ہے اسے کہو میرا خیال رکھا کرے، سچ میں کبھی کبھی تو ناشتا پانی بند کر دیتی ہے۔“
وہ متعجب ہوئیں۔”وہ ایسی تو نہیں ہے۔“
میں محبت بھری عقیدت سے بولا۔”وہ بہت زیادہ اچھی ہے ماں جی!اتنی کہ بیان نہیں کر سکتا۔اس کی وجہ سے ہمارے گھر میں اجالا ہے اور بالکل بے فکر رہیںاس کا اتنا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے جیسے وہ گھر کی بہو نہیں بیٹی ہو۔“
وہ دامن پھیلا کر دعائیں دینے لگیں۔
سکندر نے قریبی شہر تک میرے ساتھ جانے کی پیش کش کی مگر میں نے انکار میں سرہلادیا۔ روما کے بھائی کو میں اپنی جنگ کا ایندھن نہیں بنا سکتا تھا۔
وہاں سے آگے جانے کو کچی سڑک موجود تھی اور یقینا سڑک پر سفر کرنا مجھے کافی مسائل سے بچا سکتا تھا لیکن قباحت یہ تھی سڑک پر دشمن کی گشتوں سے مڈبھیڑ ہونے کے علاوہ یہ خطرہ بھی تھا کہ دشمن کی پوسٹوں سے نزدیک ہو کر گزرنا پڑتا۔ اور میں کسی کی نظر میں آنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ پہلے والے ہنگامے کسی اور کے متھے لگ گئے تھے اب جتنا چھپ کر سفر کرتا اتنا بہتر تھا۔اس جگہ سے میں ایک بار پہلے بھی گزر چکا تھا ،مگر پہاڑی علاقے کی بھول بھلیاں اتنی آسانی سے ازبر نہیںہوتیں۔البتہ اپنی عمدہ یاداشت اور تجربے کی وجہ سے میں کچھ نہ کچھ اندازہ لگا سکتا تھا۔
میں نالے میں آگے بڑھنے لگا۔اپنے موبائل فون کی بیٹری میں نے چارج کر لی تھی اور اس کی مدہم روشنی میں پتھروں ،گڑھوں وغیرہ سے بچتے ہوئے میں راستہ ناپنے لگا۔
نالہ کافی وسیع تھا جو آگے جا کر آہستہ آہستہ تنگ ہونے لگا۔دشمن کی اگلی دفاعی لائن کو میں کافی پیچھے چھوڑ آیا تھا،لیکن اس علاقے میں دشمن کے ٹرانزٹ کیمپ وغیرہ کا خدشہ بہ ہرحال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔برف باری کے موسم میں جب گاڑیاں رک جاتی ہیں تب سپاہ کو پیدل چلنا پڑتا ہے ایسے حالات میں طویل فاصلہ طے کرنا ممکن نہیں ہوتا اور راستے میں رکنے و رات گزارنے کو ایسے کیمپوں کی ضرورت پڑتی ہے۔نالے کے دائیں بائیں چند جگہوں پر روشنی کی جھلک دیکھ کر دشمن کے کسی ایسے ہی کیمپ کا گمان ہوا تھا۔وہ سول لوگ بھی ہو سکتے تھے ،کیوں کہ پہاڑی علاقوں میں عموماََ لوگوں نے دور دراز مقامات پر گھر بنائے ہوتے ہیں۔آبادی کی سہولیات سے دور نجانے وہ لوگ کیسے زندگی گزار لیتے ہیں، یہ انھی کو یا اللہ پاک ہی کو معلوم ہوگا۔
دو تین گھنٹے نالے میں چلنے کے بعد جب نالہ اتنا تنگ ہو گیا کہ پاﺅں گیلے ہونے کا خطرہ محسوس ہونے لگا تب میں پچاس ساٹھ گز کی چڑھائی طے کر کے کچی سڑک پر پہنچ گیا۔
نالے میں دائیں بائیں سے کئی چھوٹے نالوں کا پانی بھی شامل ہو رہا تھا۔جس کی وجہ سے پانی کی مقدار زیادہ ہوتی جا رہی تھی۔آگے جاکر نالہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ اس کے باوجود پانی اتنا زیادہ تھا کہ کپڑے گیلے کیے بغیر نالہ عبور کرنا ممکن نہ تھا۔چند سال پہلے وہاں سے گزرتے وقت بھی اس جگہ پل موجود نہیں تھا اور اب تک پل نہیں بن سکا تھا۔موسم بالکل صاف تھاگزشتہ بارش کی وجہ سے ہلکی پھلکی سردی ضرور تھی مگر مسلسل چلنے کی وجہ سے مجھے پسینہ آیا ہوا تھا۔
جاری ہے
قسط نمبر13
ریاض عاقب کوہلر
آگے جا کر وہ سڑک دائیں طرف مڑ گئی تھی۔نالہ عبور کرنے کو لوہے کا مضبوط پل بنا ہوا تھا۔کیوں کہ نالے میں پانی کی مقدار اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ پل کے بغیر عبور کرنادشوار ہو گیا تھا۔ڈھلوانی نالوں میں بہنے والے پانی کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ انسان رسے کے بغیر اسے عبور نہیں کر سکتا۔
پل عبور کرنے کے بعد میں پختہ سڑک پر پہنچ گیا تھا۔آگے کا رستہ مجھے یاد تھا۔صبح کا ملگجا اجالا پھیلنے تک میں نالہ ملاپ تک پہنچ گیا تھا۔وہاں دو نالے باہم مل رہے تھے۔شہر میں داخلے سے پہلے میرے پاس انڈین آرمی سے چھینا ہوا جتنا سامان تھامیں نے نالے میں پھینک دیا۔البتہ زستاوا تیس بور کے ہولسٹر کو میں نے پنڈلی سے باندھ دیا تھا۔گو اسے بھی ساتھ پھرانے میں خطرہ تھا مگر ایسے خطرے تو مول لینا پڑتے ہیں۔
میں شہر میں داخل ہوا۔سب سے پہلے پولیس کی چوکی پر نظر پڑی جو سڑک کنارے بنی ہوئی تھی ۔ایک بیرئر بھی لگا تھا لیکن کوئی سنتری نظر نہ آیا۔ بیرئر بھی کھلا ہوا تھا۔بلاشبہ سنتری بادشاہ ناشتے کو تشریف لے گیا تھایا کسی دوسرے تقاضے سے مغلوب ہو کر بیت الخلاءوغیرہ میں گھسا تھا۔یہ بھی ممکن تھا آرام فرما رہاہو۔بہ ہر حال ایسے فرض شناس پہرے داروں کی وجہ سے ہم جیسے پردیسیوں کو کافی سہولیات مل جایا کرتی ہیں،اس لیے انھیں اچھے لفظوں میں یاد کرنے کے علاوہ چارہ نہیں ہے۔
زندگی بیدار ہو گئی تھی۔ بازاراتنا بڑا نہیں تھا ،زیادہ تر دکانیں بند نظر آرہی تھیں البتہ دو تین ہوٹل کھلے تھے جہاں ناشتا بنتا نظر آرہا تھا۔میرے پاس پراٹھے موجود تھے البتہ چائے کے لیے کسی ہوٹل کی خدمت لینا لازم تھا۔میں ایک ہوٹل میں گھس گیا،اسے چائے کا بتا کر میں نے دیسی گھی میں بنے ہوئے پراٹھے کھول کر سامنے رکھ لیے۔لفافے میں بند ہونے کی وجہ سے پراٹھے بالکل نرم تھے۔میں بے تکلفی سے پراٹھوں کو جڑ گیا۔کسی بھی گاہک کو میری حرکت پر تعجب نہیں ہوا تھا کہ ہوٹل پر بیٹھ کر میں گھر سے لائے ہوئے پراٹھے کھا رہا تھا۔ ایسے عوامی ہوٹلوں میں یہ عام سی بات ہے۔چائے آنے تک میں ایک پراٹھا چٹ کر گیا تھا۔
دو پیالیاں چائے کی اور تین پراٹھے معدے میں انڈیل کر میں شام تک کے لیے تیا رہوگیا تھا۔اب صرف نیند کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی،کہ رات بھر مسلسل چلنے کی وجہ سے جسم آرام کا طلب گار ہورہا تھا۔مگر ایسے حالات میں ہم جسم کی نہیں مان سکتے ہیں ۔بل چکا کر میں ہوٹل سے باہر آگیا۔وہاں آرام کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہ تھا۔ایسی شہروں میں کاﺅنٹر انٹیلی جنس کے افراد کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے جو ہر نووارد سے تفتیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔اس لیے صبح سویرے کسی دوسرے شہر کی طرف روانہ ہونا بہترین تھا۔ویگن اڈے پر ایک گاڑی تیار ملی تھی۔بس آخری سیٹ کی سواریاں باقی تھیں۔ویگن کے عقبی دروازے سے آخری سیٹ کی پشت پھلانگتا ہوا میں شیشے کی جانب بیٹھ گیا۔دس پندرہ منٹ میں سواریاں پوری ہو گئی تھیں۔پتا چلا ویگن سری نگر جا رہی تھی۔ویگن روانہ ہو ئی اور میں نے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔پچھلی بار جب میں یہاں سے گزرا تھا تو سڑک کی حالت بہت خراب تھی مگر اب سڑک پہلے سے بہتر نظر آئی۔ٹوٹی پھوٹی سڑک کی تازہ تازہ مرمت ہوئی تھی۔
راستے میں دو تین چیک پوسٹیں آئیں مگر کوئی خاص چیکنگ نہیں ہوئی تھی۔سری نگر تک ہم خیریت سے پہنچ گئے تھے۔وہیں بس اڈے ہی سے مجھے اننت نگر کی گاڑی مل گئی تھی۔ ایک گاڑی سے نکل کر میں دوسری میں بیٹھ گیاتھا۔
سہ پہر تک ہم اننت نگر پہنچ گئے تھے۔آگے پٹھان کوٹ کی گاڑی شام کے آٹھ بجے نکلنا تھی۔میں نے بس اڈے سے نکل کر ایک درمیانہ سا ہوٹل دیکھا اور کمرہ کرائے پر لے کر دروازہ اندر سے کنڈی کیا اورسات بجے کا الارم لگا کر سو گیا۔شام کواٹھ کر غسل کیا کمرے ہی میں نماز پڑھی اور پھر استقبالین کے پاس کمرے کی چابی جمع کرا کر کے باہر نکل آیا۔مختصر سا سامان میرے پاس ہی تھا ۔
ہوٹل سے نکل کر میں بس اڈے کی جانب روانہ ہو گیا۔اندھیرا گہرا ہو رہا تھا۔ سڑکوں اور رستوں پر آمدورفت نہ ہونے کے برابر تھی۔شاید وہ وقت ہی ایسا تھا کہ زیادہ تر لوگ رات کے کھانے وغیرہ میں مصروف تھے۔وہاں سے بس اڈہ اتنی دور نہ تھا کہ مجھے رکشا ،ٹیکسی کرانے کی ضرورت پڑتی۔
جونھی میں ایک گلی سی نکل کر بس اڈے جانے والی سڑک پر مڑاتھوڑے ہی فاصلے پر ایک جیپ نظر آئی، جو کھمبے کے ساتھ کھڑی تھی۔بلب کی روشنی میں پولیس والوں کی وردیاں دور ہی سے نظر آگئی تھیں۔ایک شخص ڈرائیونگ سیٹ پر ،دو عقبی سیٹوں پر جبکہ دو پولیس والے سڑک کنارے کرسیاں لگائے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔میں واپس مڑنے کی حالت میں نہیں تھاکیوں کہ انھوں نے مجھے دیکھ لیا تھا۔اپنی چال میں اعتماد پیدا کرتا ہوامیں آگے بڑھتا گیا۔
ان کے قریب پہنچتے ہی میں نے ہاتھ باندھ کر مُسکنت سے ....”نمستے مہاراج !“ کہا،یوں کہ میرے قدم رکے نہیں تھے۔
کرسی پر تشریف ٹیکے حوالدار نے دبنگ لہجے میں پوچھا۔”اوئے کہاں جا رہے ہو؟“ نامعلوم وہ سبھی کو روک رہا تھا یا مجھ پر ہی خصوصی شفقت فرمائی تھی۔
میں قدم روکتے ہوئے بولا۔”بس اڈے مہاراج!“
”رمیش!اس کی تلاشی لو ذرا۔“حوالدار نے جیپ میں بیٹھے سپاہی کو آواز دی۔
لمبے قد کا دبلا پتلا رمیش جیپ سے اتر کر میری طرف بڑھا۔میرے اعصاب تن گئے تھے۔
رمیش نے میرا تھیلا لے کر ٹٹولا،مگر اس میں کپڑوں کاجوڑا اور عام استعمال کی دو تین چیزیں موجود تھیں۔ پستول پنڈلی کے ساتھ بندھا تھا۔جیب میں بٹوہ رکھا تھا جس میں پچاس ہزار روپے اور شناختی کارڈ رکھا تھا۔
رمیش نے اناڑی پن سے میرے جسم پر ہاتھ پھیرااورجیب سے بٹوہ نکال کر جائزہ لینے لگا۔
”اوئے !اتنے پیسے کیوں ساتھ پھرا رہے ہو؟“رمیش نے یوں تڑی دی جیسے اتنی رقم جیب میں رکھنا جرم ہو۔
میں لجاجت سے بولا۔”مہاراج!چھوٹا موٹا دکاندار ہوں،پٹھان کوٹ کے ایک تاجر کا ادھار واپس کرنا تھا اس لیے اتنی رقم جیب میں رکھی ہے۔“
رمیش نے نصیحت جھاڑی۔”بے وقوف اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈ کے زمانہ میں نقدی جیب میں پھرانا حماقت ہے۔“
میں تا¿سف سے بولا۔”ان پڑھ آدمی ہوں مہاراج،یہ طریقے ہمیں کہاں آتے ہیں۔“
”ہونہہ!ٹھیک ہے جاﺅ۔“بٹوے سے پانچ سو روپے نکال کر اس نے بٹوہ میری طرف بڑھا دیا تھا۔
چہرے پر بے بسی طاری کرتے ہوئے میں نے بٹوہ لے کر جیب میں رکھ لیاتھا ۔
”اور خیال کرنا،یہاں کافی چور اچکے موجود ہیں۔“رمیش نے ڈھٹائی سے دانت نکالتے ہوئے مجھے جانے کا اشارہ کیا۔
آگے بڑھتے ہوئے میں نے سوچا۔”پولیس سے بڑا چور اچکا کون ہوسکتا ہے۔“مگر وہ ایسا موقع نہ تھاکہ اپنی سوچ کو الفاظ کے قالب میں ڈھال سکتا۔میں تو اتنی آسانی سے جان چھوٹنے پر دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کررہا تھا۔
”چائے کے ساتھ کچھ کھانے کو بھی منگوا لو۔“ کانوں میں حوالدار کی اطمینان بھری آواز پڑی۔میرے ہونٹوں پر تبسم رینگ گیا تھا۔بے وقوف نے چائے کی پیالی اور چند بسکٹوں کے لیے ملک دشمن کو آزاد کر دیا تھا۔مجھے یقین ہے کہ اگر پولیس والے صحیح طریقے سے جرم اور مجرموں کی سرکوبی کو کمر کس لیں تو نوے فیصد جرائم ختم ہو جائیں گے۔
پانچ سو کی بھینٹ دے کر میں اپنے تیئں بے فکری سے بس اڈے کی طرف روانہ ہوگیا، مگر مجھے بس اڈے میں داخل ہونا نصیب نہیں ہوا تھا۔اس سے پہلے ہی عقبی طرف سے روشنی نمودار ہوئی چند لمحوں بعد ایک موٹر سائیکل میرے پہلو میں آکر رک گئی تھی۔وہاں ملگجا اجالا پھیلا تھاکہ پچاس ساٹھ قدم دور کھمبے پر لگے بلب کی ہلکی سی روشنی ہی وہاں تک پہنچ سکتی تھی۔قریب کوئی دوسرا راہگیر بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ان کی شکلیں دیکھتے ہی میری چھٹی حس خطرے کی گھنٹی بجانے لگی۔لگا خفیہ ایجنسی والے پہنچ گئے ہیں۔ مگر جونھی انھوں نے منہ کھولااطمینان بھرا گہرا سانس میرے ہونٹوں سے خارج ہوا تھا۔پیچھے بیٹھے ہوئے شخص نے جیب سے پستول نکال کر سیدھا کرتے ہوئے کرخت لہجے میں کہا۔
”شرافت سے ،بٹوہ،گھڑی اور موبائل فون ہمارے حوالے کردو۔“
مجھے حقیقت تک پہنچنے میں دیر نہ لگی ،بلاشبہ یہ مخبری پولیس والوں نے کی تھی۔دو آدمیوں پر قابو پانا مشکل نہ تھا ۔میں انھیں آسانی سے ٹھکانے لگا سکتا تھا،مگر یوں میں مزید پھنس جاتا۔اگر وہ سچ میں پولیس والوں کے بھیجے ہوئے تھے تو پولیس والے منتظر ہوتے کہ کب وہ ڈاکا ڈال کر واپس آتے ہیں۔ میں شرافت سے رقم بھی ان کے حوالے کر سکتا تھا،مگر پھر بے دست و پا ہوجاتا۔اپنا زاد راہ میں کیسے لٹیروں کے حوالے کرتا۔وہاں قدم قدم پر رقم کی ضرورت تھی۔آخری حل یہ تھا کہ انھیں جل دے کر بس اڈے میں گھسنے کی کوشش کرتا۔ وہاں وہ زبردستی نہیں کر سکتے تھے۔
”دد....دیتا ہوں مہاراج!“خوفزدہ ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے میں نے جیب سے بٹوہ نکال کر اس کی طرف بڑھایا،جونھی اس کا ہاتھ بٹوے کی طرف بڑھامیں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچتے ہوئے اس کے پستول والے ہاتھ پر ٹھوکر لگائی،پستول اس کے ہاتھ سے نکل کر دور جا گرا تھا۔اگلی ٹھوکر میں نے موٹر سائیکل والے کے پہلو میں رسید کی وہ موٹر سائیکل سمیت نیچے گر گیا تھا۔میں بگٹٹ بھاگ پڑا۔
دونوں مغلظات بکتے ہوئے اٹھے ،مگر ان کے سنبھلنے تک میں بیس پچیس قدم دو رجا چکا تھا۔ جب تک وہ موٹر سائیکل اسٹارٹ کرتے میں بس اڈے میں گھس گیاتھا۔وہاں زیادہ رونق تو نہیں تھی ،مگر پھر بھی اتنے لوگ نظر آرہے تھے کہ اچکے کوئی کارروائی نہ کر پاتے۔بس اڈے میں گھستے ہی میں نے پیدل چلنا شروع کر دیاتھا۔وہاں دو تین بسیں اورچند ویگنیں نظر آرہی تھیں۔مجھے دیکھ کر ایک ویگن والے نے پٹھان کوٹ کا نعرہ بلند کیااور میں اثبات میں سرہلاتے ہوئے اس طرف بڑھ گیا۔ویگن آدھے سے زیادہ بھر چکی تھی۔سیٹ سنبھالتے ہی میں نے سامنے دیکھا،دونوں اچکے بس اڈے کے داخلے پر کھڑے تھے۔ انھوں نے مجھے ویگن میں بیٹھتے دیکھ لیا تھا۔
ادھ گھنٹے بعد ویگن کے پہیے حرکت میں آگئے۔دوتین سواریاں کم تھیں،مگر سواریوں کی دھمکی پر کہ وہ نیچے اتر جائیں گے مجبوراََ ڈرائیور کو چلنا پڑاتھا۔
اس وقتی مصیبت سے جان چھوٹنے پر میں نے خدا کا شکر ادا کیا تھا۔پٹھان کوٹ پہنچنے تک میں آگے کے منصوبے سوچتا رہا۔سواریوں کی گفتگو سے یہی اندازہ ہوا کہ پٹھان کوٹ تک اڑھائی تین گھنٹے لگنے تھے۔ڈرائیور نے پاک بھارت ڈرائیوروں کی مشترکہ عادت کے زیر اثر اونچی آواز میں گانے لگا دیے تھے۔میں گانے کے خوب صورت بولوں میں کھو گیا۔موسیقی اور محبوب کی یادوں کا گہرا تعلق ہے۔ پرکشش ساز سوچوں پر یوں قابض ہوتے ہیں کہ انسان بے بس ہوجاتا ہے۔
کیسے کٹی راتیں،کیسے کٹے وہ دن
کیسے جئے تنہا،کیسے رہے تیرے بن
ہم پہ جو گزری ہے، تم کو بتائیں گے
چیر کے دل اپنا تم کو دکھائیں گے
او صاحبہ....اوصاحبہ....او صاحبہ، اوصاحبہ
گلوگار کا او صاحبہ کہنا مجھے ”او پلوشہ ....اوپلوشہ “ لگ رہا تھا۔آنکھیں بند کر کے میں نے تصور میں محفل سجائی جس میں بس میں اور پلوشہ تھے۔اس کا تبسم، ہنسی، قہقہے؛اس کی ادائیں ،ناز نخرہ، شوخیاں؛اس کا لڑنا ،جھگڑنا،روٹھنا؛اس کے گلے، شکوے،دھمکیاں؛اس کا پیار، محبت ،وارفتگی سب کچھ آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگا۔اگر مجھ سے سنائپر کی زندگی کے سب سے مشکل اور پر اذیت مرحلے کا پوچھا جاتا تو بغیر لمحہ ضائع کیے میں جدائی کا نام لیتا۔گزشتہ دنوں بھوک ،تھکن ،سردی بارش وغیرہ کی شدید اذیتیں سہنے کے باوجود وہ لمحات میرے لیے اتنے تکلیف دہ نہیں تھے جتناجدائی کی گھڑیاں ہوتی تھیں۔
راستے میں ایک ہوٹل پر رک ہم نے کھانا کھایااور پھر گاڑی آگے بڑھ گئی۔اس کے بعد ویگن منزل آنے تک نہیں رکی تھی۔ڈرائیور نے جونھی اڈے میں گاڑی روکی میں اپنا تھیلا سنبھال کر نیچے اترگیا۔
رات کے اڑھائی بجے کا عمل تھا۔وہاں ایک شخص سے ملے بغیر میں آگے نہیں جاسکتا تھا اس لیے شب بسری کاٹھکانہ ڈھونڈنے بس اڈے سے باہر آگیا۔پتا یہ چلا تھا کہ قریب ہی کافی ہوٹل موجود تھے جہاں رات گزاری جا سکتی تھی۔
بس اڈے سے نکل کر میں بہ مشکل پچاس ساٹھ قدم لے پایا تھا کہ ایک موٹرسائیکل زن سے سامنے آرکی۔اس پردو مسٹنڈے سوار تھے۔
”کہاں جا رہے ہو مہاراج!ہم چھوڑ آتے ہیں۔“عقبی سیٹ پر براجمان مکروہ صورت شخص نے پستول کی جھلک دکھاتے ہوئے اطمینان بھرے انداز میں پوچھا۔مجھے حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔ نہ جانے پٹھان کوٹ میں میرے کون سے دشمن پیدا ہو گئے تھے۔
میں ابتدائی جھٹکے سے سنبھل کر بولا۔”شکریہ بھائی صاحب! پیدل ہی ٹھیک ہوں۔“
موٹر سائیکل سے اتر کر بدتمیزی سے میرا گریبان تھامتے ہوئے وہ زہر خندہوا۔”کیا خیال تھامنوہر دادا کے بندے پر ہاتھ اٹھا کر بھاگنے میں کامیاب ہو جاﺅ گے۔“
میں نے ہکلانے کی اداکاری کی تاکہ ان سے اصل بات اگلوا سکوں ۔”کک....کون منوہر دادا اور کس پر میں نے ہاتھ اٹھایا ہے۔“
اس نے گریبان والے ہاتھ کو جھٹکا دیتے ہوئے انکشاف کیا۔”اننت نگر میں تم جن موٹر سائیکل سواروں کو چکمہ دے کر بھاگے ہووہ منوہر دادا کے آدمی ہیں۔“
مجھے کچھ کچھ اندازہ تھا کہ وہ کون لوگ ہو سکتے تھے،اس کے زبان کھولنے پر تصدیق ہو گئی تھی۔ یقینا اننت نگر میں مجھے ٹکرانے والے اچکوں نے پٹھان کوٹ میں موجود اپنے ساتھیوں کو صورت حال سے آگاہ کیا تھا۔ ایسے اچکے آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑا کرتے۔
اس نے دائیں ہاتھ سے میرا گریبان پکڑا تھا اور بائیں ہاتھ میں پستول تھاما ہوا تھا۔ایک دم میرے بائیں ہاتھ کا مکا اس کے پستول والے ہاتھ پر لگااس کے ساتھ ہی میں نے دایاں ہاتھ زور سے اس کے دائیں ہاتھ کی پشت پر مارا،اپنی انگلیوں سے اس کی ہتھیلی پر گرفت جماتے ہوئے میں نے بایاں ہاتھ اس کی کہنی کے نیچے رکھ کر جھٹکے سے اوپر اٹھایا۔وہ بے ساختہ نیچے جھکتے ہوئے گھوم گیا تھا۔بائیں ہاتھ سے میں نے مڑی ہوئی کہنی کو مزید آگے کی طرف دھکیلا....اس کے ہونٹوں سے کریہہ چیخ نکلی، کیوں اس کا بازو کندھے کے جوڑ سے نکل گیا تھا۔ وہ تڑپتے ہوئے گھٹنوں کے بل گر گیاتھا۔ یہ ساری کارروائی اتنی تیزی اور چابک دستی سے ہوئی تھی کہ اس کا ساتھی کوئی مدد نہ کر سکا۔وہ بس ہڑ بڑا کر سیدھا ہوااور موٹر سائیکل کو سٹینڈ پر لگا ہی رہا تھا کہ میری بائیں لات اس کی ٹھوڑی کے نیچے لگی۔
”افف....“ کی دردناک آواز نکالتا ہوا وہ دوسری جانب الٹ گیا تھا۔موٹر سائیکل بھی نیچے گر گئی تھی۔جب تک وہ اٹھنے میں کامیاب ہوتا میں زقند بھر کر قریب ہوا اور اپنی دائیں ایڑی اس کے سر پر ایسے رسید کی جیسے فوجی پریڈ کے دوران میں قدم مار کرتے ہیں۔اس کا سر پختہ سڑک سے ٹکرایا اور اس نے ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیے۔
میں مڑ کر دوسرے کے قریب ہوا....”بڑے ڈھیٹ ہو یار!سوچا تھااشارے سے سمجھ جاﺅ گے مگرلاتوں کے بھوت باتوں سے بہل جائیں تو انھیں بھوت کون کہے۔“یہ کہتے ہی میں نے اسے گریبان سے پکڑ کر اٹھایا۔
وہ گڑگڑایا۔”شش....شما چاہتا ہوں ،اُپن کو معلوم نہ تھا آپ استاد ہو۔“
میں متبسم ہوا۔”بہت جلدی سمجھ میں آگیا ہے۔“
”اُپن ،مانک حرامی کی باتوں میں آگیا تھا۔“
”خیر تھوڑا سا کشٹ تو بھوگنا پڑے گابالک۔“کہتے ہوئے میں نے اس کاگریبان چھوڑااور ٹھوڑی پر دائروی مکا جڑ دیا۔
وہ لہراتے ہوئے اوندھے منہ گرگیاتھا۔
تلاشی لینے پر دونوں کے پاس مقامی ساختہ پستول اور تھوڑی سی نقدی برآمد ہوئی۔پستول ناقص معیار کے تھے اس لیے میرے کسی کام کے نہ تھے۔دونوں کی سلائیڈ اتار کر میں نے فائرنگ پنیں توڑیں اور پرزے دور دور اچھال دیے تھے۔ان کی گردنیں توڑنے کا بھی ارادہ ہوا،کہ پٹھان کوٹ قیام کے دوران میں وہ مجھے تنگ کر سکتے تھے۔مگر پھر سوچانامعلوم اننت نگرکے اچکے مانک نے کس کس کو میرا حلیہ بتا کر مدد مانگی تھی۔میں وہاں کے غنڈوں کے خلاف اعلان جنگ کرنے نہیں آیا تھا۔انھیں زندہ چھوڑنے پر جھگڑا ختم ہونے کی امید زیادہ تھی۔
گو یہ سارا کھیل لمحوں میں نبٹا تھا،مگر اس کے باوجود وہاں کچھ بندوں نے یہ سب کچھ ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھااور پرائی آگ میں دامن جلانے کے بجائے انھوں نے نظر انداز کرنا زیادہ مناسب سمجھا تھا۔
وہاں سے جلدی نکلنے کو مجھے موٹرسائیکل کام آسکتی تھی۔میٹر میں چابی لگی تھی۔موٹر سائیکل سیدھی کر کے میں نے کک لگائی اور سمت کا تعین کیے بغیر چل پڑا۔کلومیٹرکے بھرکا فاصلہ طے کرنے کے بعد میں نے موٹر سائیکل سڑک کے کنارے چھوڑی اور ایک بازار میں گھس گیا۔اتنی رات گئے بازار سنسان پڑا تھا۔میری نظریں کسی مناسب ہوٹل کی تلاش میں تھیں تاکہ رات کا بقیہ حصہ سکون سے گزار سکوں ۔دو تین ہوٹل نظر آئے جن میں سے ایک بھی میرے مطلب کا نہیں تھا۔میں جلد از جلد کسی ہوٹل کی چاردیواری میں محفوظ ہونا چاہتا تھا کہ سڑک گردی کرتے اور گلیاں ناپتے ہوئے پولیس والوں یا را کے نمائندوں سے ٹاکرا ہونے کا زیادہ خدشہ تھا۔
خیرادھ پون گھنٹے کی تگ و دو کے بعد ایک درمیانہ درجے کا ہوٹل نظر آگیا تھا۔داخلی دروازے پر چوکیدار بیٹھا تھا۔ مجھ پر اچٹتی ہوئی نظر ڈال کر وہ موبائل سکرین کی طرف متوجہ ہو گیا جہاں ایک غریب لڑکی کو تشنج کا دورہ پڑا ہوا تھا۔غریب اس لیے کہا کہ بے چاری کے بدن پر مکمل لباس ہی موجود نہیں تھا۔ساتھ ہی جذبات کو برانگیختہ کرنے والے ساز گونج رہے تھے۔اتنی مہربانی چوکیدار نے ضرور کی تھی کہ موبائل سپیکر کی آواز مدہم رکھی تھی۔یوں کم از کم آواز کے دائرے میں آنے والے مہذب افراد کا سکھ غارت نہیں ہو رہا تھا۔
استقبالین کرسی پر اونگھتا ہوا ملا۔میرے میز کو کھٹکانے پر سر جھٹکتا ہوا سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
”شب بسری کو کمرہ درکار ہے۔“میں سیدھا مطلب کی بات پر آیا۔
”نام؟“رجسٹر کھول کر وہ میری طرف متوجہ ہوا۔
میں نے شناختی کارڈ پر درج نام بتایا۔”آکاش چڈا۔“
اس نے اگلا سوال پوچھا”پتا؟“
اور میں نے شناختی کارڈ اس کی جانب بڑھا دیا۔
پتا درج کر کے اس نے شناختی کارڈ میری طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا۔”کتنے دن رہنا ہے؟“
میں رسان سے بولا۔”دو دن۔“
”چوبیس گھنٹوں کا ہزار روپیاہوگا،کھانے پینے کا بل علیحدہ ہوگا۔“
میں نے دو ہزار کا نوٹ اس کی جانب بڑھا دیا۔
نوٹ جیب میں ڈال کر اس نے دیوار پرنصب بورڈ سے ایک چابی اتار کر میری طرف بڑھائی ۔”دوسری منزل، کمرہ نمبراکتیس۔“
میں سرہلاتا ہوا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔اپنے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے میں نے ایک چکر لگا کر دوسری منزل کا جائزہ لے لیا تھا۔
کمرہ نمبر اکتیس میں داخل ہو کر میں نے سب سے پہلے تو باریکی سے تلاشی لی،کیوں کہ ایسے ہوٹلوں میں عموماََ خفیہ کیمرے نصب ہوتے ہیں جو مہمانوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔خفیہ ایجنسیوں سے بھی ان کے روابط ہوتے ہیںجاسوسوں کو پکڑوانے میں ایسے کیمرے بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔گاہے گاہے پریمی جوڑوں کی نازیبا وڈیوز بھی ہاتھ لگ جاتی ہیںجو انھیں بلیک میل کرنے کے بھی کام آتی ہیں اور کسی واہیات سائیٹ کو بیچی بھی جا سکتی ہیں۔
یہ سب کچھ میں نے اپنے آخری کورس میں سیکھا تھا۔مگر باریک بینی سے تلاشی لینے پر بھی کوئی ایسا آلہ نہیں ڈھونڈ پایا تھاجس سے کوئی مجھے سن یا دیکھ سکتا۔ مکمل اطمینان کرنے کے میں آرام کرنے لیٹ گیا۔
٭٭٭٭٭
صبح کی اَذان سن کر آنکھ کھلی،وضو کر کے میں نے کمرے ہی میں نمازادا کی اور دوبارہ لیٹ گیا۔دوسری مرتبہ دن چڑھے ہی آنکھ کھلی تھی۔دستی گھڑی پر نظر دوڑائی،سوئیاں دس کا ہندسہ عبور کر چکی تھیں۔میں تازہ دم ہو کر ہوٹل سے نکل آیا۔ناشتے کا وقت تو گزر چکا تھاایک مسلم ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھا کر میں نے دودھ پتی کی دو پیالیاں معدے میں انڈیلیں اور بل چکا کر باہر نکل آیا۔دروازے ہی پر مجھے خالی رکشا مل گیا تھا۔اندر بیٹھ کر میں نے ڈرائیور کو نزدیکی مارکیٹ میں جانے کا کہا۔
مارکیٹ پہنچ کر میں نے ایک چھوٹا سا بیگ خریدا کہ کپڑے کا تھیلادیہاتی پس منظر کے لیے تو عمدہ تھا ،جدید شہر میں مجھے تماشابنا سکتا تھا۔دو جینز کی پتلونیں اور بنیان بھی خرید لیں کہ انڈیا کے عام جوان عموماََ یہی لباس پہنتے ہیں۔ویسے بھی اچکوں کا ایک گروہ میرے مخالف ہو گیا تھاان کے ساتھ لڑ بھڑ کر توانائی ضائع کرنے سے بہتر تھا کہ میں حلیہ ہی تبدیل کر لیتا تاکہ لڑائی کی نوبت ہی نہ آتی۔خریداری کے بعد ایک صاف ستھرے حمام میں گھس گیا۔اپنے لمبے بال فوجی کٹ کروا کر میں نے داڑھی پر باریک مشین پھروائی اور مونچھیں بالکل صاف کر دیں۔حمام میں داخل ہوتے وقت میں ایک دیہاتی نظر آرہا تھا،مگر باہر نکلتے وقت جدید شہر کا بگڑا ہوجوان۔
پٹھان کوٹ میں مجھے” جیسوال چلڈرن ہاسپٹل“کی لیبارٹری کے ایکسرے ڈیپارٹمنٹ کے مادھو راج کو ملنا تھا۔ایک خالی ٹیکسی کو ہاتھ دے کر میں اندر گھس گیا۔”جیسوال چلڈرن ہاسپٹل کا سن کر اس نے سرہلاتے ہوئے ٹیکسی آگے بڑھا دی۔
پٹھان کوٹ اتنا بڑا شہر نہیں ہے۔ٹیکسی نے جیسوال چلڈرن ہاسپٹل تک پندرہ بیس منٹ سے زیادہ نہیں لگائے تھے۔ہسپتال کی مستطیل عمارت کے سامنے اتر کر میں نے ٹیکسی ڈرائیور کو فارغ کیااور ہسپتال کے داخلی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔لوگوں کی آمدورفت جاری تھی۔داخلی دروازے پر دو چوکیدار موجود تھے ،مگر وہ لوگوں سے کوئی تَعَرُّض نہیں کر رہے تھے۔ہسپتال میں کافی چہل پہل تھی جو کہ عمومی طور پر ہسپتالوں کا خاصہ ہوتی ہے۔زیادہ تر لوگوں کے چہروں پر پریشانی مُتَرَشِّح تھی۔یوں ہسپتال کا رخ اکثرکرتے بھی وہی لوگ ہیں جنھیں کوئی نہ کوئی مسئلہ درپیش ہو۔ایک خاکروب سے لیبارٹری کا محل وقوع پوچھ کرمیں اس طرف بڑھ گیا۔دو تین راہداریوں سے گھوما، چند دروازے پھلانگے اور لیبارٹری کے سامنے پہنچ گیا۔ ایکسرے ڈیپارٹمنٹ ڈھونڈنا چندان دشوار نہ تھا۔وہاں دو تین عورتیں اور چار پانچ مرد پہلے سے موجود تھے۔زیادہ تر کے ہمراہ بچے نظر آرہے تھے۔میں بھی انتظار میں بیٹھ گیا۔مادھو راج کی عمر پینتیس چھتیس سال ہو گی۔میانہ قامت،گہری سانولی رنگت،گھنگریالے بال اور سڈول جسم؛ ہونٹوں پر پھیلی خوب صورت مسکراہٹ اس کی خوش اخلاقی کی مظہر تھی۔
باری آنے پر میں نے قریب جا مخصوص کوڈ ورڈ اداکیا۔”مادھو بھائی !میں نے شکروار (جمعہ)کو اپنے بچے کا ایکسرے کروایا تھا،مگر اس کی رپورٹ اب تک نہیں ملی۔“
اس نے بالکل نارمل انداز میں میری آنکھوں میں جھانکااور جوابی کوڈ بولا۔ ”مہاراج! تاریخ بتائیں،نامعلوم آپ کس شکروار کو آئے تھے۔“یہ کہہ کر اس نے ایک لمحہ سوچنے کی اداکاری کی۔”تمھارے بچے کا نام بلرام تو نہیں ہے۔“
میں نے کوڈ ورڈ کا اگلا حصہ ادا کیا۔”نہیں بھائی !اس کا نام توسوراج چڈا ہے ۔“
”اسے ساتھ ہی لے آتے تو دوبارہ ایکسرے کر لیتے۔“اس نے بہ ظاہر جھلاتے ہوئے کہا تھا۔
میں نے کوڈ ورڈ کا آخری حصہ بولا۔”اگرنہ ملا تو اسے بھی بلوا لوں گا۔“
وہ نرم لہجے میں بولا۔” فی الحال آپ بیٹھیں جونھی رش ختم ہوتا ہے ،میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں۔“
پہچان مکمل ہو گئی تھی۔ میں اطمینان بھرے انداز میں سرہلاتا ہوابیچ پر بیٹھ گیا۔گھنٹا ڈیڑھ انتظار کرنا پڑا تھا۔یہاں تک کہ کھانے کا وقفہ ہوگیا اس نے مجھے قریب بلایا۔
”شما چاہتا ہوں بھائی!آپ کا ایکسرے نہیںمل سکا،آپ یوں کریں اپنا موبائل فون نمبرلکھ دیں اگر بعد میں مل گیا تو مطلع کر دوں گا۔“یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا نوٹ پیڈ میری طرف دھکیلا جس کے نیچے ایک لفافے کی جھلک نظر آرہی تھی۔
جاری ہے
قسط نمبر14
ریاض عاقب کوہلر
میں نے صفائی سے لفافہ پکڑااور نوٹ پیڈ واپس دھکیلتے ہوئے جھلاتے ہوئے بولا۔”دھنے واد!میں دوبارہ ایکسرے کروا لوں گا۔“لفافہ پتلون کی جیب میں منتقل کرتا ہوامیں لیبارٹری اور پھر ہسپتال سے باہر آگیا۔وہاں سے میں سیدھا اپنے ہوٹل پہنچااور غسل خانے میں گھس کر لفافے کا جائزہ لینے لگا۔ اندر ایک خط موجود تھا۔جس میں لمبی چوڑی تفصیل درج تھی بہ ظاہر ایک شخص نے اپنے دوست کو خیریت کا خط لکھاتھا۔ لیکن درحقیقت اس میں مجھے آگے کا منصوبہ بتایا گیا تھا۔خط کو ڈی کوڈ کرنے پر معلوم ہوا.... مجھے جالندھرجانا تھا۔وہاں عوامی پارک کے سامنے ایک سگریٹ پان کا کھوکا تھا۔مجھے اسی کھوکے والے کو ملنا تھا۔کھوکے تک پہنچنے کا رستا اور کھوکے والے کو اپنی شناخت وغیرہ کرانے کا طریقہ کاربھی درج تھا۔ساری معلومات ذہن نشین کرنے کے بعد میں نے خط جلا کر راکھ پانی میں بہائی اور باہر نکل آیا۔
پٹھان کوٹ میں مزید رکنا بے کار تھا۔میں نے مختصر سامان سمیٹ کر بس اڈے کا رخ کیا۔ گو وہا ں سے جالندھر جانے کے لیے ریل گاڑی بھی مل جاتی مگر مجھے بس کا سفر مناسب لگا تھا۔
بس اڈے پر زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا۔دو پونے دو گھنٹوں کا رستہ خیریت سے کٹا تھا۔ دماغ میں اچکوں کے گروہ سے مڈبھیڑ ہونے کا خطرہ موجود تھا مگراللہ پاک نے کرم فرمایا اور بچت ہو گئی تھی۔
جالندھر کافی بڑا شہر ہے۔میں نے رات ایک درمیانہ درجے کے ہوٹل میں گزاری اور صبح ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر عوامی پارک کی طرف چل پڑا۔متعلقہ پارک ڈھونڈنے کو مجھے زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑی تھی۔اس کے سامنے کافی ساری دکانیں موجود تھیں،البتہ سگریٹ پان کا کھوکا ایک ہی تھا۔دو تین خریداروں کو بھگتا کر جونھی کھوکے والا میری طرف متوجہ ہوا۔
میں نارمل انداز میں بولا۔”ایک گولڈ لیف سگریٹ دینا بھائی!“
اس نے بے پروائی سے گولڈ لیف کی ڈبی سے ایک سگریٹ نکال کر میری طرف بڑھا دیا۔
میں نے پچاس کا نوٹ نکال کر اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔”ایک ٹافی دے دو اور باقی پیسے رکھ لو۔“
وہ ہلکا سا چونکا مگر فوراََ اپنے جذبات پر قابو پاتا ہوا بولا۔”سو پچاس سے غربت کہاں مٹتی ہے بابو! دینے ہی ہیں تو پچاس ساٹھ ہزار پکڑاﺅ تاکہ لینے کا مزہ تو آئے۔“
میں رکھائی سے بولا۔”میں اتنی ہی استطاعت رکھتا ہوں بھئی!نہیں چاہئیں تو واپس کردو۔“
”یہ لیں جی اپنی بقیہ رقم اتنا بھاری احسان مجھ سے کہاں اٹھے گا۔“اس نے بقیہ ریز گاری میری جانب بڑھائی،جو میں نے جیب میں ڈال دی۔پہچان کا مرحلہ بہ احسن و خوبی طے ہو گیا تھا۔
اس نے دائیں بائیں دیکھ کر احتیاط کے تقاضے پورے کیے اور پھر دبے لہجے میں بولا۔
”نیو کرشنا کالونی،گلی نمبر پانچ ،مکان نمبر چودہ....اگلی ہدایات وہاں سے ملیں گی۔ پہچان کے الفاظ:’رہائش کے لیے کمرہ مل جائے گا،اکیلا ہوں مگر شریف آدمی ہوں۔“
”اگر میں نے تازہ تازہ کورس نہ کیا ہوتا تو اس طریقہ کار پر ضرور ناں بھوںچرھاتا،مگر اب مجھے اپنے خیرخواہوں کی مشکلات کا بھی اندازہ تھا اور اس احتیاط کی ضرورت سے بھی خوب آگاہ تھا اس لیے خوش دلی سے اثبات میں سر ہلاتا ہوا اپنے رستے ہو لیا۔
دشمن ملک میں اپنی بقا کی خاطر جاسوسوں کو بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ،کئی احتیاطوں کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے،بیسیوں ضرورتوں کو پس پشت ڈالنا پڑتا ہے،اخلاقی اقدار کوپامال کرنا پڑتا ہے،تکلیفوں و اذیتوں کے لیے دامن کشادہ کرنا پڑتا تب کہیں جا کر وطن کی خدمت کا حق ادا ہوتا ہے۔
چند قدم لیتے ہی نیوکرشنا کالونی تک جانے کو رکشا مل گیا تھا۔گلی نمبر پانچ کی نکڑ پر اتر کر میں نے رکشے والے کو فارغ کیااور محتاط انداز میں کشادہ گلی میں داخل ہو گیا۔گھروں کے سامنے مکان نمبر کی تختیاں درج تھیں اس لیے مکان نمبر پندرہ بغیر تگ و دو کے مل گیا تھا۔
اطلاعی گھنٹی بجانے پر ایک ادھیڑ عمر شخص نے دروازہ کھولا۔
”نمستے!“میں نے ہاتھ باندھ کر ہندوﺅں کے طریقے پر سلام ڈالا۔
جوابی اداب کہہ کر وہ مستفسر ہوا۔”جی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟“
”رہائش کو کمرہ مل جائے گا؟اکیلا ہوں مگر شریف آدمی ہوں۔“
گلی میں سرسری نظر دوڑا کر اس نے بغیر جواب دیے پیچھے ہو کر مجھے اندر آنے کا رستہ دیا۔ اور میرے داخل ہوتے ہی دروازہ کنڈی کر دیا۔وہ ایک چھوٹا سا مکان تھا۔اس کی معیت میں چلتے ہوئے مختصر سا صحن عبور کر کے ہم ڈرائینگ روم میں گھس گئے۔مگر وہاں بٹھانے کے بجائے وہ مجھے اندرونی کمرے میں لے گیا تھا۔
”پدھاریئے۔“فوم والی کرسی کی طرف ہاتھ کااشارہ کر کے وہ باہر نکل گیا۔ ایک درمیانہ ساکمرہ تھا جس میں سنگل بیڈ اور خواب گاہ کا دوسرا سامان موجود تھا۔
اس کی واپسی کھانے کے برتنوں کے ساتھ ہوئی تھی ،اتنی دیر میں میں کمرے کا اچھی طرح جائزہ لے چکا تھا۔
میرے سامنے کھانے کی ٹرے رکھ کر اس نے بیڈ پر نشست سنبھال لی۔کھانا اس نے بھی میرے ساتھ ہی کھایااور اس دوران میں رسمی گفتگو کرتا رہا۔میں بلا تکلف کھانے کو جڑ گیا تھا۔کھانے کے بعد چائے پیتے ہوئے وہ مطلب کی گفتگو پر آیا۔
”پہلے اسے نیو دہلی میں رکھا گیا تھا،ہفتہ ہوا دوبارہ ممبئی میں منتقل کر دیا گیا ہے۔وہاں منتقلی کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔“یقینا وہ ڈینو کے بارے بتا رہا تھا۔
میں نے پوچھا۔”ممبئی میں کس مقام پر قید ہے؟“
اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”اس بارے ممبئی جا کر ہی معلوم ہوگا۔“
”کس سے پتا چلے گا؟“
وہ ممبئی کا ایک پتا بتاتے ہوئے بولا۔”یہاں پر آپ کو ایک نرس بملا کور ملے گی،باقی تفصیل اس سے معلوم ہو گی۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”ایک سکھ لڑکی پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔“
وہ متبسم ہوا۔”مجھ پر کر رہے ہو تو اس پر بھی کرنا پڑے گا کہ اس کا نام میرے واسطے سے آپ تک پہنچ رہا ہے۔“
میں جلدی سے بولا۔”شک نہیں کر رہا ،بس متعجب ہوں۔“
اس نے وضاحت کی۔”وہ تحریک خالصتان کی سرگرم رکن ہے،بعض اوقات ہم ایک دوسرے کے کام آتے رہتے ہیں۔“
میں مستفسر ہوا۔”ممبئی میں اپنے آدمی بھی تو ہوں گے۔“
وہ رکھائی سے بولا۔”فکر نہ کروجب ضرورت پڑے گی وہ آپ کو ڈھونڈ لیں گے۔“
میں نادم ہوا۔”معذرت،شاید آپ کو برا لگا۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”آئندہ خیال رکھنا،جتنا ضروری ہو اتنا ہی بتایا جاتا ہے اور سچ کہوں تو ہم میں سے ہر ایک کا دوسرے سے لا تعلق اور انجان رہنا ہی ہماری بقا کا ضامن ہے۔“
میں مدعے پر آیا۔”بملا کو شناخت کیسے کروانا ہوگی۔“
اس نے طریقہ کار بتا کر پوچھا۔”کسی چیز کی ضرورت ہے تو آپ کی ضروریات پوری کرنا میری ذمہ داری میں آتا ہے۔“
میں نے نفی میں سر ہلایا۔”فی الحال تو کوئی نہیں۔“
اس نے مجھے ایک موبائل فون پکڑایا۔”اسے غیر محفوظ سمجھنے پر پھینک دینا۔“اور نشست چھوڑتے ہوئے بولا۔” آپ تشریف لے جا سکتے ہیں۔“
میں الوداعی مصافحہ کر کے نکل آیا۔جالندھر میں کوئی کام باقی نہیں رہا تھا اس لیے میں نے وہاں رکنا ضروری نہ سمجھا۔ممبئی میرا دیکھا بھالا شہر تھا۔اب تووہاں کے زیر زمین حلقوں میں بھی اپنے شناسا موجود تھے۔گو احباب کے ساتھ ساتھ وہاں دشمن بھی کافی تھے۔خاص کر کرن چاولہ جیسا خطرنا ک شخص بھلانے کے قابل نہ تھا۔البتہ یہ معلوم نہ تھا کہ وہ اب تک ممبئی ہی میں موجود تھا یا اس کی تبدیلی کہیں اور ہو گئی تھی۔خیر اس کے بارے ممبئی پہنچتے ہی معلوم ہوجانا تھا۔
میں آگے کا لائحہ عمل سوچنے لگا۔میرے سامنے تین مقاصد تھے،وگنیش شکلا کا قتل،ڈینو کی اور ممتا دیدی کی رہائی۔گو سرکاری طور پر مجھے ممتا دیدی کے بارے نہ تو کوئی ہدایات ملی تھیں اور نہ کسی کا مفاد اس سے وابسطہ تھا کہ میں انھیں آزاد کراتا،یہ بس میرے اپنے جذبات تھے۔وہ میری منہ بولی بہن تھیں اور گزشتہ مشن میں انھوں نے میری کافی مدد کی تھی۔ان کی آنکھوں میں مجھے ہمیشہ بے پایاں خلوص، شفقت اور محبت نظر آتی تھی۔اپنے دیس کی سچی سیوک ہونے کے باوجود وہ میرے بارے بہت جذباتی تھی اور میری مدد کرنے کی پاداش ہی میں کال کوٹھڑی ان کا نصیب بنی تھی۔
وگنیش شکلا کو ٹھکانے لگانے کو مجھے سنائپر رائفل کی ضرورت پڑنا تھی ۔گو ممبئی میں سنائپر رائفل کا حصول کچھ زیادہ مشکل نہ تھا ،مگر میرادماغ پرانی رفیقہ سے ملاقات کو مچل اٹھا۔ایس آر ون ایک بہترین سنائپر رائفل تھی اور تکنیکی لحاظ سے اس سے پندرہ بیس گولیاں فائر کرنے کی گنجائش اب تک موجود تھی۔انڈیا سے نکلتے وقت میں نے ایس آر ون سورت کے قریب دھامن نامی گاﺅں کے مضافات میں دفن کی تھی۔نجانے وہ اب تک وہیں موجود تھی یا کسی کے ہاتھ چڑھ گئی تھی۔حالات کا تجزیہ کرنے پر مناسب یہ معلوم ہورہا تھا کہ مجھے وگنیش شکلا کو پہلی فرصت میں ٹھکانے لگاناچاہیے تھا،کیوں کہ ممبئی میں میری آمد کا جونھی شہرہ ہوتااس نے احتیاطی تدابیر بڑھا دینا تھیں،ہو سکتا ہے مستقل زیر زمین ہو جاتا ۔ میں اس کے انتظار میں ممبئی میں ڈیرے نہیں ڈال سکتا تھا۔وہ خود چھپ کر اپنے پورے گروہ کو میرے خلاف میدان میں لے آتا،یوں میں شکاری کے بجائے شکار بن جاتااور اگر پہلے اسے ٹھکانے لگا دیتا تب کم از کم ایک دشمن تو راستے سے ہٹ جاتا۔
آگے کا لائحہ عمل طے کر کے میں جالندھر سے سورت روانہ ہو گیا۔ طویل سفر تھالیکن لمبے روٹ کی آرام دہ بس کی وجہ سے زیادہ تکلیف نہ ہوئی۔دورانِ سفر یاداشت پر زور دے کر میں نے دھرمودادا،وشواش سنگھ،پریتو بھابی،ڈاکٹر سجاتا وغیرہ کے فون نمبر یاد کیے اور موبائل میں درج کر لیے کہ ممبئی پہنچ کر ان سے رابطے کی ضرورت پڑ سکتی تھی۔
اگلے دن سہ پہر ڈھلے سورت پہنچارات ہوٹل میں گزار کر صبح سویرے دھامن روانہ ہوگیا۔بس اڈے میں گاڑی سے نکلتے ہی میرے قدم اس مخصوص مقام کی طرف بڑھ گئے جہاں میں نے ایس آر ون دفن کی تھی۔وہ مقام گاﺅں سے اتنا دور نہ تھا،مگر دن کے وقت دائیں بائیں لوگوں کی آمدورفت کی وجہ سے وہاں کھدائی نہیں کی جا سکتی تھی۔اندھیرا چھانے تک کام مو¿خر کر کے میں واپس دھامن گاﺅں لوٹ آیا۔ وہاں عبدالخالق کے گھر ہم نے چند دن گزارے تھے۔ ہوٹل کے بجائے میں نے شام تک کا وقت ان کے گھر گزارنے کا سوچا ۔اتفاقاََ وہاں پہنچ ہی گیا تھا تو ملنے میں کوئی حرج نہ تھا۔ دھامن گاﺅں قریباََ ویسے کا ویسا ہی تھا جیسے گزشتہ بار چھوڑ گیا تھا۔مطلوبہ مکان ڈھونڈنے میں مجھے ذرا بھی دقت نہیں ہوئی تھی۔گھنٹی بجانے پر خود عبدالخالق باہر نکلا تھا۔
”جی ۔“میرے چہرے پر اچٹتی نظر ڈال کر اس نے روکھے لہجے میں پوچھا۔اس کے چہرے پر بے رونقی چھائی تھی۔میں نے خود کو ہونق محسوس کیا،ایک مرتبہ تو جی چاہا چپکے سے لوٹ جاﺅں، مگر پھر تعارف کرانا ضروری سمجھا۔
”چچا جان !میں ذیشان حیدر ہوں ........“
”ارے آپ !معذرت خواہ ہوں پہچان نہ سکا۔“قطع کلامی کرتے ہوئے اس نے معانقے کو بازو پھیلا دیے تھے۔چہرے پر لحظے بھر کو بشاشت نمودار ہوئی تھی۔
پر تپاک انداز میں مل کر وہ مجھے گھر میں لے گیا تھا۔عبدالخالق کی بیوی ساجدہ ،بیٹے اسحاق اور بیٹی عائشہ نے بھی مجھے آسانی سے پہچان لیا تھا۔اتوار تھی اس لیے تمام گھر ہی میں مل گئے تھے ۔تھوڑی دیر بعد میں مہمان خانے میں بیٹھا دوپہر کا کھانا کھارہا تھا۔
دورانِ گپ شپ عبدالخالق نے وہاں آمد کا مقصد پوچھا۔
میں ہنسا۔”یہ آنا جانا تو لگا رہتا ہے چچا جان!“
وہ ممنونیت سے بولا” بڑی بات کہ آپ نے ہمیں ملنے کو وقت نکالا۔“
پچھلی بار پری نے اس کی بیٹی عائشہ کو تعلیمی اخراجات کی مد میں ہیرے کا لاکٹ دیا تھا۔ بلاشبہ وہ مہربانی انھیں اچھی طرح یاد تھی۔
میں نے خفیف لہجے میں وضاحت کی۔”اتفاق سے دھامن میں کام پڑ گیا تھا،اس لیے ملنے کو آگیا ۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”کسی بہانے آئے تو،اب چند دن تو سیوا کا موقع دیں گے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”شام تک یہیں ہوں ۔“
وہ معترض ہوا۔”یہ تو خیر زیادتی ہے۔“
”چچا جان!کچھ مجبوریاں ایسی ہوتی ہیں جنھیں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔“
”ذیشان بیٹا ٹھیک کہہ رہا ہے۔“ساجدہ خالہ نے ووٹ میرے پلڑے میں ڈالا۔
عبدالخالق نے گہرا سانس لیا۔”چلیں جو مناسب سمجھیں۔“وہ گہری سوچ میں کھو گیا تھا۔ میں نے شدت سے محسوس کیا تھا کہ تمام گھر والوں کے چہروں پر پریشانی ثبت تھی۔شاید وہ میری آمد سے دلی طور پر خوش نہیں تھے یا کوئی ایسی بات تھی جس کا تذکرہ کرنا انھیں گوارا نہ تھا۔میں نے پوچھنے کی زحمت نہ کی کہ تجسس مناسب نہ تھا۔
کھانا کھا کر میں نے مہمان خانے میں ظہر کی نماز پڑھی اور آرام کو لیٹ گیا۔گرمیوں کے دن تھے پیٹ بھرنے کے بعد قیلولہ کرنے کو دل چاہ رہا تھا۔مگر میں زیادہ دیر آرام نہیں کر سکا تھا۔ دروازے کی گھنٹی بجائی گئی اور پھر انتظار کیے بغیر دروازہ زور سے دھڑ دھڑایا گیا تھا۔
میں اٹھ بیٹھا مگر کمرے سے باہر نہ نکلا لمحہ بھر بعد ہی چند مردانہ آوازیں سنائی دیں،جن کے لہجے میں کافی غصہ اور برہمی پائی جاتی تھی۔ میں نے باتوں پر کان دھر دیئے۔
”بڈھے!تمھیں ایک دن کی مہلت دی تھی نا کہ حرام کے پلے کو بچانا ہے تو نقصان کی بھرپائی کرنا ہو گی۔“
عبدالخالق منمنایا۔”آپ زیادتی کر رہے ہیں،میرا بیٹا بے قصور ہے۔“
”یہ بے قصور ہے۔“کرخت لہجے میں کہا گیا،ساتھ ہی ”چٹاخ“ کی زور دار آواز گونجی یقینا کسی چہرے پر تھپڑ پڑا تھا۔
ساجدہ خالہ کی لرزتی آواز ابھری۔”پلیز میرے بیٹے کو نہ ماریں،ہم پیسے دیں گے۔“
استہزائی قہقہے سے کہا گیا۔”رقم ہی لینے آئے ہیں ناں خالہ!“
ساجدہ خالہ ملتجی ہوئی۔”ہمیں تھوڑی مہلت چاہیے۔“
”قسطوں کا کاروبار نہیں کرتے،ہمیں پیسے چاہئیں ابھی،مکان بیچتے ہو،زیور بیچتے ہو یا اس چھوکری کو بیچتے ہو۔“کافی غلیظ انداز تھا اس کا۔میرا خون کھولنے لگا تھا،مگر میں مداخلت کرکے معاملے کو مزید خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔میں نے شام تک چلے جانا تھا،بعد میں انھیں کون بچاتا۔ یہ بھی ممکن تھا ہنگامے میں ایک ادھ بندہ مارا جاتااور پولیس کی آمد پر میرے لیے مشکلات کھڑی ہو جاتیں۔ ایسے معاملات سے جتنا دور رہتا اتنا ہی بہتر تھا۔غنڈوں کے جانے کے بعد عبدالخالق سے مکمل بات معلوم کر کے میں ان کی مقدور بھر مدد کر سکتاتھا۔
”غلط بات نہیں کرنا،میری بہن کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں۔“بہن کے نام پر اسحاق کے خون نے جوش مارا تھا۔
”تیری بہن کی....“گندی گالی بکتے ہوئے غالباََاس نے اسحاق پر حملہ کردیا تھا،کیوں کہ تھپڑوں اور لاتوں کی آواز کے ساتھ ساجدہ اور عائشہ کی چیخیں ابھری تھیں اور خدا رسول کے واسطے دیتے ہوئے اسحاق کو بچانے لگیں۔پھر شاید کسی نے عائشہ کو پکڑا تھا کہ اس نے چلاتے ہوئے کہا۔
”چھوڑو مجھے خبیث کمینے....“
دو تین کریہہ قہقہے ابھرے ،تبھی معاملہ میری برداشت سے باہر ہو گیاتھا۔میری احتیاط انھیں ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا سکتی تھی۔دروازہ کھول کر میں بگولے کی طرح باہر نکلا۔وہ چار آدمی تھے ، ایک نے عائشہ کو بالوں سے پکڑا تھادو اسحاق کی مرمت کر رہے تھے جبکہ تیسرا ہاتھ میں پستول پکڑے اطمینان سے وہ نظارہ دیکھ رہا تھا۔میرے قدموں کی آواز پر پستول بردار چونک کر میری طرف متوجہ ہوا، مگر اتنی دیر میں قریب پہنچ کر میں حملہ کر چکا تھا۔ پسلیوں کے نیچے بھرپور گھونسا رسید کر کے میں نے اسے نیچے جھکایا اور اور ایک دم گھٹنا اٹھا کر اس کی ٹھوڑی پر وار کر کے اسے لیٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔
اس کی بھرپور کراہ سنتے ہی باقی میری طرف متوجہ ہوئے۔عائشہ کے بالوں سے پکڑنے والاغرایا۔”ابے تو کون ہے؟“
مگر میں جواب دئیے بغیر اس کی جانب بڑھ چکا تھا۔عائشہ کو ایک جانب دھکا دیتے ہوئے اس نے میرا حملہ روکنے کی کوشش کی،مگر یہ کوشش سیلابی ریلے کے سامنے کچی مٹی کا بند باندھنے جیسی تھی۔ اس کے ہاتھ سیدھے کرنے سے پہلے میرا گھٹنا اس کی پسلیوں کے نیچے ہتھوڑے کی طرح پڑ چکا تھا۔
”ڈھب “ کی زوردار آواز کے ساتھ اس کے منہ سے درد بھری کراہ نکلی اور وہ ماہی بے آب کی طرح فرش پر لوٹنے لگا۔
اسحاق کی پٹائی کرنے والے ایک ساتھ میری طرف بڑھے،ایک نے ہاتھ گھما کر مجھے گھونسا مارنے کی کوشش کی ،گھٹنوں میں ہلکا سا خم دیتے ہوئے میں نے اس کا وار خطا کیااور جب تک وہ سنبھلتا میرا دائروی مکا اس کی ٹھوڑی سے ملاقات کر چکا تھا۔
”اوغ “کی آواز کے ساتھ وہ اوندھے منہ گرا تھا۔ اب میرے سامنے اکیلا شخص باقی تھا۔ اس کے چہرے پر پریشانی نمودار ہوئی۔ہاتھ اوپر اٹھاتے ہوئے وہ ہکلایا۔
”تت....تم جانتے نہیں ہم کس کے آدمی ہیں۔“
اس کا گریبان تھامتے ہوئے میں نے زور دار جھٹکا دیا۔”بھڑوے!تمھاری بدمعاشی عورتوں پر چلتی ہے۔“
وہ مجھے دھمکاتا ہوا بولا۔”ہم استاد چرن جیت کے آدمی ہیں اور اسی کے حکم پریہاں پہنچے ہیں۔“
میں نے زستاوا تیس بور نکال کر اس کی ٹھوڑی سے لگایا۔”اگر اس کے بعد تمھارے بزدل استاد یا اس کا کوئی چیلا یہاں نظر آیاتو پھر کہیں نظر نہیں آﺅ گے۔“
مجھے کینہ توز نظروں سے گھورتا ہوا وہ خاموش رہا تھا۔
میں نے اسے اسے پیچھے دھکا دیا وہ لڑکھڑتا ہوا دو تین قدم پیچھے ہو گیا تھا۔”ایک منٹ میں غائب ہو جاﺅ۔“برہمی سے کہتے ہوئے میں ان کا پستول بھی اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیا تھا۔
میراپہلا شکار اب تک ہوش و حواس سے بے گانہ تھا۔باقی تین ٹھیک تھے۔ اپنے ساتھی کو اٹھا کر وہ دروازے کی طرف بڑھ گئے۔ ان کے چہرے پر نظر آنے والے تاثرات مجھے یقین دلانے کو کافی تھے کہ حالات گھمبیر ہو گئے تھے۔وہ اتنی آسانی سے اپنی سبکی نہیں بھول سکتے تھے۔میری سمجھ میں کوئی ایسا طریقہ نہیں آرہا تھا کہ سانپ بھی مرجاتا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹتی۔
میں گھروالوں کی طرف متوجہ ہوا۔ساجدہ خالہ اور عائشہ اب تک رو رہی تھیں۔میں نے آگے بڑھ کر عائشہ کا زمین پر گرا دوپٹا اٹھایااور اس کے سر پر رکھتے ہوئے بولا۔
”گڑیا!پریشان نہیں ہوتے اللہ پاک خیر کرے گا۔“
وہ گلو گیر ہوئی۔”بھیا!وہ پھر آئیں گے۔آپ تو آج چلے جائیں گے اس کے بعد ہمیں کون بچائے گا۔“
میں متانت سے بولا۔”بچانے والی ذات اللہ پاک کی ہے اور فکر نہ کرواس کا بھی کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔“
عبدالخالق منمنایا۔”ذیشان بیٹا!مجھے لگتا ہے آپ نے معاملہ سلجھانے کے بجائے الجھا دیا ہے۔“
میں آزردگی سے بولا۔”تو کیا کرتا،خاموش تماشائی بنا رہتا۔“
وہ گہرا سانس لے کر خاموش ہو گیا تھا۔
میں مطلب کی بات پر آیا۔”اچھا یہ بتائیں ہوا کیا تھا؟“
اس نے درشتی سے اسحاق کی جانب اشارہ کیا۔” اس احمق سے پوچھو۔“
”چچا جان!بچوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں،انھیں کوسنے میں توانائی ضائع کرنے کے بجائے غلطی سدھارنے کی کوشش کرنا زیادہ مناسب رہتا ہے۔“
چارپائی پر ڈھے جانے والے اندازمیں بیٹھتے ہوئے وہ بددلی سے بولا۔”چرن جیت ایک مقامی غنڈہ ہے۔نشہ آور اشیاءکا دھندہ کرتا ہے۔اس نے کالج کے چند لڑکوں کو بھی اپنے گروہ میں شامل کیا ہوا ہے جو کالج میں اس کا مال سپلائی کرتے ہیں۔بدقسمتی سے اسحاق کاایک کلاس فیلو وکاش بھی اس دھندے میں ملوث ہے ۔وہ چرن گروہ کے کالج کے لڑکوں کا سرغنہ ہے۔پرسوں وکاش نے بیگ میں میں تازہ مال لایا جو اس نے اپنے کارندوں میں تقسیم کرنا تھا۔ اس کے ساتھ بیٹھنے والے لڑکے نے یہ بات اسحاق کو بتائی اور اس بے وقوف نے فوراََ پرنسپل کو شکایت کر دی۔پرنسپل کے حکم پر وکاش کے اسکول بیگ کی تلاشی لی گئی۔اور تمام مال برآمد کر لیا گیا۔پرنسپل صاحب نے پولیس کو بلوا لیا،وہ وکاش کو پکڑ کر تھانے لے گئے۔گو پولیس چرن جیت گروہ سے ملی ہوئی ہے ،مگر خبر چونکہ میڈیا تک پہنچ گئی تھی اس لیے وکاش فی الحال پولیس کی حراست میں ہے اور یہ غنڈے ہمارے سر ہو گئے کہ جو مال اسحاق کی وجہ سے پولیس کے ہاتھوں لگا ہے ہمیں اس کی بھرپائی کرنا پڑے گی۔غنڈوں نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر ہم نے پولیس یا میڈیا تک یہ خبر پہنچائی تو وہ عائشہ کو اٹھا لیں گے اور ....“عبدالخالق نے سر جھکا لیا۔ بیٹی کی بے توقیری کی بات زبان پر لانا اتنا آسان نہ تھا۔
میں نے پوچھا۔”کتنے پیسے مانگ رہے ہیں؟“
”دس لاکھ۔“
ہماری گفتگو جاری تھی کہ اچانک دروازے کو زور زور سے دھڑدھڑایا گیا۔اور پھر بغیر لمحہ ضائع کیے ایک شخص دیوار عبور کر کے اندر داخل ہوا اور دروازہ کھول دیا۔ دس ڈشکرے ہتھیاروں سے لیس گھر میں داخل ہوئے سب سے آگے بھینسے کی طرح موٹا تازہ کالا بھجنگ شخص تھا ،جس کے ماتھے اور دائیں گال پر چاقو کے زخم کے نشان تھے۔
جاری ہے
قسط نمبر15
ریاض عاقب کوہلر
عائشہ اور ساجدہ خالہ کے چہرے خوف سے فق ہو گئے تھے ۔عبدالخالق اور اسحاق کی حالت بھی کوئی اچھی نہ تھی۔اسی دوران میں میرے دماغ میں ایک خیال بجلی کے کوندے کی طرح لپکا اور میں مطمئن ہوگیا تھا۔مسئلے کا قابل عمل حل میں نے سوچ لیا تھا۔
میں نے عائشہ اور ساجدہ خالہ کو کہا۔”آپ اندر جائیں۔“
”سنا ہے یہاں کوئی ہیرو آیا ہوا ہے۔“سب سے آگے والے نے طنزیہ انداز میں گفتگو کا آغاز کیا تھا۔میرے اندازے میں وہ چرن جیت خود تھا بعد میں میرا اندازہ صحیح ثابت ہوا تھا۔
میں اطمینان سے بولا۔”جب ہم رقم دینے پر آمادہ ہیں تو عورتوں کو زدکوب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔میرے خیال میں غنڈوں کے کچھ اصول تو ضرور ہوتے ہیں۔“
اس نے ہاتھ سیدھا کرتے ہوئے استہزائی قہقہ بلند کیا۔”ادھر دو۔“
میں نے اعتماد سے کہا۔”دو دنوں بعد تمھیں رقم مل جائے گی۔“
”ٹھیک ہے۔“اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”لیکن میرے آدمیوں پر ہاتھ اٹھانے والا اپنے ہاتھ کٹوانے پر تیار ہو گا یاڈاکٹر بننے والی لونڈیا کو معافی تلافی کے طور پر چرن جیت کی سیوا میں بھیجے گا۔“
میں نے اسے اکسایا۔”چاہیے تو یہ تھا کہ اپنے چیلوں کے بجائے تم اکیلے میرے ہاتھ پاﺅں توڑتے تاکہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ چرن جیت کتنا بڑا دادا ہے۔“
”بالک!گروہ اس لیے نہیں بنائے جاتے کہ منش اکیلا شکار کرے۔“
”چرن جیت!بہتر تو یہی تھا اپنی ساکھ بچا کر پتلی گلی سے نکل لیتے۔تمھارا پیسوں والا مطالبہ میں مان رہا ہوں،یہ نہ ہوتمھیں لینے کے دینے پڑ جائیں۔“
”ہاہاہا....“چرن جیت نے بلند بانگ قہقہ لگایا۔”بالک لگتا ہے ہندی فلموں کے کچھ زیادہ ہی شوقین ہو۔جب چرن جیت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ بڈھے کو سبق سکھا کر جائے گاتو مان لو ایسا ہی ہوگا۔البتہ تم کوئی تیر مار سکتے ہو تو مار لو۔“
”تمھاری مرضی۔“کہتے ہوئے میں موبائل فون نکال کر وشواس سنگھ کا نمبر ملانے لگا۔ ایک خدشہ ذہن میں موجود تھا کہ کہیں اس نے نمبر تبدیل نہ کر لیا ہو مگر گھنٹی جانے پر میں نے اطمینان بھرا سانس لیا تھا۔
چرن جیت نے قہقہ لگایا۔”بالک!پولیس کو بلانے کی غلطی کی تو انجام اور بھی برا ہو سکتا ہے۔“
”ہیلو....“وشواس سنگھ کی خمار آلود آواز ظاہر کر رہی تھی کہ وہ نیند سے جاگا تھا۔
”راجا بول رہا ہوں۔“میں نے شرافت سے تعارف کرایاکہ مذاق کا وقت نہیں تھا۔
”راجا....“اس نے حیرانی بھرے انداز میں دہرایا۔
میں مخصوص انداز میں بولا۔”پریتو کا بھائی ....“
وہ خوشی سے چہکا۔”ابے تو کدھر سے آگیا ہے۔“اس کے لہجے سے خمار غائب ہو گیا تھا۔
”تفصیل بعد میں فی الحال مسئلہ سنو،دھامن گاﺅں کا ایک سورمااستاد چرن جیت مجھے دھمکا رہا ہے۔“
”موبائل فون دو ماں کے یار کو....“وشواس سنگھ کے منہ سے مغلظات نکلنے لگی تھیں۔
”بات کرو۔“میں نے چرج جیت کی طرف موبائل فون بڑھا دیا۔
تمسخرانہ تبسم ہونٹوں پر سجائے اس نے موبائل فون کانوں کو لگایا،نجانے وشواس سنگھ نے کن الفاظ میں اپنا تعارف کرایا تھا کہ لمحہ بھر بعد ہی چرن جیت کا رنگ اڑ گیا تھا۔
”جج....جی....دادا!....نن....نہیں ایسی کوئی بات نہیں........جی ....جی جو حکم .... ....مم.... میں معافی مانگ لیتا ہوں....مجھے پتا نہیں تھا دادا!........“وقفے وقفے سے اس کی گھگیائی ہوئی آواز بلند ہوتی رہی۔
”یہ لیں جناب!“تین چار منٹ کی گفتگو کے بعد اس نے مرے مرے ہاتھوں سے موبائل فون میری جانب بڑھا دیا۔
میں نے موبائل فون کانوں کو لگایا۔”اس بہن کے ٹکے کو اچھی طرح سمجھا دیا ہے،تم فی الفور میرے پاس پہنچنے کی کرو۔“
میں ہنسا۔”کر لی نا سرداروں والی بات ،گرو جی !ہیلی کاپٹر تو میرے پاس ہے نہیںاس لیے تھوڑ انتظار کرو کل ملاقات ہو گی۔“
”منتظر رہوں گا۔“اس نے تکرار کیے بغیر رابطہ منقطع کر دیاتھا۔
”شما چاہتا ہوں مہاراج!مجھے معلوم نہ تھا آپ کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں۔“چرن جیت نے صلح کی طرف قدم بڑھانے میں دیر نہیں کی تھی۔
”چرن جیت!تم اور تمھارے آدمیوں نے میری چھوٹی بہن کے متعلق کافی بکواس کی ہے۔ ابھی تمھیں لاعلم سمجھتے ہوئے معاف کر رہا ہوں ۔اگلی بار یاد رکھناصرف گروہ نہیں تمھارے کنبوں کا بھی صفایا کر ادوں گا۔صرف وشواس سنگھ ہی نہیں ،ممبئی زیر زمین حلقوں کے نامی گرامی لوگ جن میں دھرمو دادا اور راجپوت داداسر فہرست ہیں، میرے گہرے دوست ہی نہیں ممنون و احسان مند بھی ہیں۔“
وہ لجاجت سے بولا۔”شکایت کا موقع نہیں ملے گا مہاراج!“
”پھوٹنے کی کرو۔“میں نے انھیں دفع ہونے کا اشارہ کیا۔
وہ سرعت سے گھر سے نکل گئے تھے۔ عبدالخالق اور اسحاق حیرانی سے مجھے گھور رہے تھے۔ عائشہ اور ساجدہ خالہ بھی وہیں پہنچ گئیں۔ وہ بھی سخت حیران تھیں۔
ساجدہ خالہ میرے سر پر دست شفقت رکھتے ہوئے بولیں۔”بہت بہت شکریہ بیٹا!آپ نے ہمیں بہت بڑی مصیبت سے نکالاہے۔“
چچا عبدالخالق اور اسحاق بے ساختہ مجھے لپٹ گئے تھے۔چند لمحے جذباتیت بھری فضا قائم رہی۔ زیادہ تعریف وپذیرائی سنبھالنا میری استطاعت سے باہر تھا۔مجبوراََ مجھے موضوع تبدیل کرنا پڑا ۔ ”خالہ !اچھی سے چائے ہی پلا دیں۔“
”بھیا !میں لاتی ہوں ۔“عقیدت بھرے انداز میں کہتے ہوئے عائشہ باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی تھی۔
میں نے باقیوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔”آپ لوگوں نے فکر نہیں کرنا،میں دوتین موبائل فون نمبر دوں گا۔اگر ان غنڈوں میں سے کوئی بھی تنگ کرنے کی کوشش کرے فوراََ اطلاع کرنا،انھیں سنبھالنے والے ان سے بڑے مگر مچھ میرے جاننے والے ہیں۔“
ساجدہ خالہ ممنونیت بھرے لہجے میں بولیں۔”آپ ہر دفعہ ہمارے لیے رحمت کا فرشتہ بن کر آتے ہیں ۔یقین مانو دوسرا دن ہے پریشانی سے نیند ہی غائب ہو گئی تھی۔“
”خالہ! دعا کیا کریں۔باقی یہ اللہ پاک ہی انسان کی مدد فرمانے والا ہے ،البتہ سبب وہ کسی کو بھی بنا دیتا ہے۔“
عبدالخالق شفقت بھرے لہجے میں بولا۔”برخوردار! وہی مسبب الاسباب ہی سبب کا شکریہ ادا کرنے کا حکم فرماتا ہے۔“
”عائشہ کی پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟“میں نے پھر موضوع تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
”بہت اچھی بھیا!“اس نے باورچی خانے سے ہانک لگائی تھی،گویا اس نے سماعتیں ہماری باتوں پر دھری تھیں۔
میں نے ہنستے ہوئے مذاق کیا۔”راج کماری نے پیغام بھجوایا ہے کہ عائشہ نے نمایاں پوزیشن نہ لی تو وہ خود اس کے کان کھنچنے آئے گی۔“
وہ چائے کے برتنوں کے ہمراہ نمودار ہوئی۔۔”ایساموقع نہیں آنے دوں گی بھیا۔“
میں چائے کی پیالی تھامتے ہوئے بولا۔”چلو دیکھ لیں گے۔“
بہ مشکل پیالی خالی کی تھی کہ عصر کی اَذان ہو گئی۔ باپ بیٹا مسجد میں چلے گئے،میں وہیں کمرے میں نماز پڑھنے لگا۔
نماز پڑھ کر بہ مشکل مصلے سے اٹھاتھا کہ عائشہ اپنی ماں کے ساتھ کمرے میں آگئی۔ میں چارپائی پر نشست سنبھالتے ہوئے ان کی طرف متوجہ ہوا۔
عائشہ لجاجت سے بولی۔”بھیا !ایک بات مانیں گے۔“
میں ہنسا۔”سن کر تعین کروں گا۔“
وہ ملتجی ہوئی۔”اگر آپ چلے گئے تو وہ غنڈے پھر آجائیں گے،کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ تھوڑے عرصے کے لیے ہمارے ہاں رہ لیں،میرا مطلب اپنے کام پر یہیں سے چلے جایا کریں اور چند گھنٹو ں یا ایک دو دن بعد پھر لوٹ آیا کریں۔“
میں متبسم ہوا۔”مجھے نہیں پتا تھا کوئی ڈاکٹر اتنی سیانی بھی ہو سکتی ہے۔“
وہ خوشی سے کھل اٹھی تھی۔”مطلب ٹھیک ہے۔قسم سے آپ کی موجودی میں اتنا حوصلہ ملتا ہے کہ بتا نہیں سکتی۔“
”نہیں بالکل غلط ہے،میرا آپ لوگوں کو ملنے آنا بھی میری حماقت ہے آپ مستقل قیام پر زور دے رہی ہیں۔“
ساجدہ خالہ معترض ہوئیں۔”ایسا تو نہ کہیں بیٹا!“
میں نے سنجیدہ ہوتے ہوئے پوچھا۔”کیا آپ جانتی ہیں میری انڈیا آمد کا مقصد کیا ہے؟“
عائشہ نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں،لیکن یہ ضرور جانتی ہوں میرا بھیا کسی بے گناہ یا مظلوم کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔“
میں نے انکشاف کیا۔”اگر میری اس گھر میں موجودی کی کسی ایجنسی کو بھنک بھی پڑ گئی تو آپ لوگوں پر جو قیامت ٹوٹے گی اس کا اندازہ ہی نہیں کرسکتے آپ۔“
عائشہ اور اس کی ماں کے چہرے پر خوف نمودار ہوا۔وہ گلو گیر لہجے میں بولی۔ ”بھیا !میں تو بس یہ چاہ رہی تھی کہ خوف و ڈر کے سائے میں زندگی نہ گزاروں،آپ کے یہاں رہنے پر غنڈے ہمارے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کر سکتے۔“
”بے فکر رہو گڑیا!جب کہہ دیا ہے کہ اب ان میں سے کوئی غنڈہ اس گھر کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا تو بس نہیں دیکھے گا۔“
وہ معصومیت بھرے لہجے میں بولی۔”یقین نہیں آرہا ناں،وہ غنڈے جاتے ہو جس انداز میں مجھے گھور کر گئے ہیں ،لگتا ہے آپ کے گھر سے نکلتے ہی آجائیں گے۔“
”اچھا ایسا ہے،میں آج رات یہیں گزاروں گا اور صبح تک ممبئی کے ان غنڈوں کو بلو ا کر چچا جان سے ملواﺅں گا جو چرن جیت جیسے سڑک چھاپ کو چٹکیوں میں مسل سکتے ہیں۔وہ آپ کے بھائی اور ابو کے ساتھ چرن جیت کے ٹھکانے پر جائیں گے اور ایک بار پھر انھیں متنبہ کر کے آئیں گے، اب خوش۔“
سر جھکاتے ہوئے اس نے بے دلی سے سرہلادیا تھا۔
”چلو اٹھ جاﺅ، پڑھائی کرواوران فضول خیالات کوذہن سے جھٹک دو۔“
”ٹھیک ہے بھیا!“کہتے ہوئے وہ کھڑی ہو گئی۔
ساجدہ خالہ اٹھتے ہوئے بولیں۔”میں بھی چلتی ہوں بیٹا!شام کے لیے کچھ اچھا سا کھانابنا لوں۔“
”دن کا کھانا بھی برا نہیں تھا خالہ!“
وہ مسکرائی۔”ہاں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے مزید اچھا نہیں بن سکتا۔“
٭٭٭٭٭
پر تکلف عشائیے(ڈنر) کے بعد میں نے عبدالخالق کو کہا۔”چچا جان ! مجھے گھنٹے ڈیڑھ کے لیے ایک ضروری کام سے جا نا ہوگا۔“
عائشہ معترض ہوئی۔”بھیا !اگرچھپ کر جانے کا ارادہ کیے ہوئے ہیںتو بتا دیں،کم ازکم آپ کو الوداع تو کہہ دیں۔“
میں ہنسا۔”نہیں گڑیا!رات یہیں گزاروں گا اور خالہ جان کے ہاتھوں کا بنا ناشتہ کر کے ہی رخصت لوں گا۔“
وہ مان کے ساتھ بولی۔”اگر ایسا نہ کیا تو اگلی ملاقات پر بات نہیں کروں گی۔“
میں اعتماد سے بولا۔”ان شاءاللہ ایسا موقع نہیں آئے گا۔“
اسحاق نے پیش کش کی۔”میں آپ کے ساتھ چلا جاتا ہوں۔“
”ضرورت نہیں ہے۔ آپ لوگ دروازہ کنڈی کر کے لیٹ جائیں میں واپسی پر دیوار پھلانگ کے آجاﺅں گا۔“
عبدالخالق نے کہا”نہیں بیٹا!آپ اطلاعی گھنٹی بجا دینا میں انتظار کروں گا۔“
”ٹھیک ہے۔“میں نے اثبات میں سرہلایا۔”ویسے بھی اتنی دیر نہیں لگے گی۔“
میں نے چھوٹا موٹا سامان وہیں چھوڑ دیا البتہ اپنے ساتھ بیگ رکھ لیا تھا،کیوں کہ ایس آر ون کے بیگ نے مٹی سے لتھڑا ہونا تھا،خواہ مخواہ کپڑے خراب کرنے کے بجائے نیا بیگ ساتھ رکھنا ضروری تھا۔
بیگ لے جانے کی وضاحت میں نے چچا جان کو پہلے سے کر دی تھی۔
”خیال سے جانا بیٹا!“انھوں نے دروازے پر مجھے نصیحت کی اور میں سرہلاتا ہوا گلی میں نکل گیا۔
رات اتنی زیادہ نہیں بیتی تھی،مگر دیہات ہونے کی وجہ سے خاص چہل پہل نہیں تھی۔ایس آر ون کے مدفون کا میں دن کو جائزہ لے چکا تھا اس لیے راستہ مجھے ازبر تھا۔دھامن سے میں براستہ سڑک نکلا اور مخصوص جگہ پر پہنچتے ہی سڑک سے اتر کر جنوب کی جانب بڑھ گیا۔فرلانگ بھرچلنے کے بعد میں جھاڑیوں کے اس جھنڈ تک پہنچ گیا جہاں پری وش کے ہمراہ سخت رات گزاری تھی۔سردی ،بارش اور بخار نے بے چاری کو ادھ مواءکر دیا تھا۔
جھاڑیوں کا جھنڈ پہلے سے کچھ بڑھ چکا تھا،شاید کسی نے انھیں کاٹنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔تھوڑی سی تگ و دو کے بعد میں نے اس مخصوص جگہ کا تعین کر لیا جہاں میرے اندازے میں ایس آر ون دفن تھی۔پنڈلی سے باریک دھار والا خنجر نکال کر میں مٹی کھودنے لگا۔تھوڑی ہی دیر میں فٹ بھر نیچے جا چکا تھا۔ اچانک خنجر کی دھار پلاسٹک کے بیگ سے ٹکرائی اورمیں نے اطمینان بھرا سانس لیا تھا۔
مزید چند منٹ لگا کر میں نے بیگ باہر نکالااور زنجیر کھول کر ایس آر ون کے پرزے نئے بیگ میں منتقل کرنے لگا۔گولیاں، رائفل والا تیل،سنائپنگ کا سامان وغیرہ دوسرے بیگ میں ڈال کر میں واپس روانہ ہو گیا۔
اتنی آسانی سے ایس آر ون کا مل جانا میرے لیے خوشی کی بات تھی۔ایس آر ون ملتے ہی لورا براﺅن یاد آگئی تھی۔کافی عرصے سے اس سے بات نہیں ہوئی تھی،شروع شروع میں اس کی ای میل مل جاتی تھیں مگر پھر مصروفیات کی گرد میں یہ سلسلہ غائب ہو گیاتھا،البتہ جینی سے کبھی کبھار بات چیت ہو جاتی تھی۔
واپسی کے لیے میں نے سڑک کے بجائے وہی راستہ اختیار کیا تھا جس پرمیں برستی بارش میں یوں چلا تھا کہ کندھوں پر پری وش کا بوجھ بھی تھا۔مجھے گھنٹے ڈیڑھ سے زیادہ وقت نہیں لگاتھا۔بڑی گلی میں گھس کر میں سو ڈیڑھ سے گز چلا اور جونھی عبدالخالق چچا والی گلی میں مڑا ،مجھے فوراََ دیوار کے ساتھ چپک جانا پڑا۔ان کے گھر کے سامنے ایک جیپ کھڑی تھی اور ایک شخص دیوار پھلانگ کر اندر گھسا تھا۔
دروازے کے سامنے بھی تین افراد موجود تھے۔اندر گھسنے والے نے داخلی دروازہ کھولا اور تینوں اندر گھس گئے۔میں ایک لمحے میں نتیجے پر پہنچ گیا تھا۔یقینا وہ گھر کی نگرانی کرا رہے تھے۔جیسے ہی مجھے جاتے دیکھا انھوں نے سمجھا میں چلا گیا ہوں ۔لیکن اس کے باوجود یہ جرا¿ت کرنا کافی عجیب تھا۔ جانے ان کے دماغ میں کیا فتور چل رہا تھا اس بارے اندازے لگانے کا وقت بالکل نہیں تھا۔یہ باتیں بعد میں پوچھی جا سکتی تھیں،فی الحال تو گھر والوں کی حفاظت کا معاملہ تھا۔
میں بجلی کی سی سرعت سے دروازے کے قریب پہنچا، جیپ خالی تھی۔کسی کو بھی باہر نگرانی کے لیے نہ چھوڑنا ان کے اناڑی پن کو ظاہر کر رہا تھا۔
زستاوا تیس بور دائیں ہاتھ میں پکڑتے ہوئے میں بگولے کی طرح گھر میں گھسا، ایک شخص برآمدے کے سامنے کھڑا تھا۔اس بے وقوف کا رخ بھی برآمدے کی طرف تھا۔چاپ سنتے ہی وہ سرعت سے مڑا،مگر اس کے مڑنے سے بس اتنا ہی فرق پڑا تھا کہ گولی گُدی کے بجائے ماتھے میں پیوست ہوئی تھی۔وہ اوندھے منہ گر کر ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا۔
میری سماعتوں میں کسی کی گھٹی گھٹی چیخ پہنچی، اندازہ یہی تھا کہ وہ عائشہ تھی۔ایک شخص عبدالخالق اور ساجدہ خالہ کے دروازے کو دھڑدھڑا تے ہوئے دھمکا رہا تھا۔
”دروازہ کھول دو ورنہ توڑ دوں گا۔“
میں نے ایس آر ون کا بیگ وہیں پھینک کر خود کو ہلکا کر لیاتھا۔اسی اثناءمیں اپنے ساتھی کے نیچے گرنے کی آواز پر دروازے کے ساتھ مشغول غنڈہ پیچھے مڑا، میں اس کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔اس نے پستول والا ہاتھ سیدھا کرنے کی کوشش کی مگر وہ اس سے تین گنا سرعت کا مظاہرہ کرتا تب بھی مجھ سے پہل پن نہیں چھین سکتا تھا۔زستاوا کی گولی نے ماتھا ڈھونڈنے میں ذرا بھی غلطی نہیں کی تھی۔
”لڑکی !زیادہ حرکت کی تو گردن کاٹ دوں گا۔“عائشہ کے کمرے کی طرف سے ایک غراتی ہوئی آواز سنائی دی تھی۔میرے دماغ میں حیرانی بھری سوچ ابھری۔
”نجانے ان خبیثوں کو کیسے پتا چلا تھا کہ یہ عائشہ کا کمرہ ہے۔“
یہ سوچتے ہوئے بھی میرے قدم رکے نہیں تھے۔دروازے کے قریب پہنچنے پر میری سماعتوں میں ۔
”اوں ....اوں....“ کی آواز پہنچی۔یقینا انھوں نے بے چاری کا منہ ٹیپ یا کپڑے وغیرہ سے بند کیا تھا۔اندر داخل ہوتے ہی مجھے ایک شخص عائشہ کے پاﺅں باندھتا نظر آیا جب کہ دوسرا اس کے ہاتھ باندھنے میں مصروف تھا۔اس کے منہ پر ٹیپ چپکی تھی اور وہ زور زور سے مچلتے ہوئے ان کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی،مگر نازک سی لڑکی دو مسٹنڈوں کی گرفت سے کیسے نکلتی۔
عائشہ کا رخ دروازے ہی کی طرف تھا،مجھے دیکھتے ہی اس کا مچلنا رکا اور چہرے پر رونق نمودار ہوئی۔اس کے پاﺅں باندھنے والا سامنے بیٹھا تھا اور ہاتھ باندھنے والا عقب میں تھا۔
ایک لحظے میں صورت حال بھانپتے ہوئے میں برقی کوندے کی طرح ان کے سر پر پہنچا، بھاگتے قدموں کی آواز پر سامنے والے نے مڑ کر دیکھا،مگر تب تک میں قریب پہنچ چکا تھا،ایک دم اس کی ٹھوڑی پر دایاں ہاتھ رکھتے ہوئے میں نے کھوپڑی پر بائیں ہتھیلی رکھی اور دونوں ہاتھوں کو مخالف سمت میں زوردار جھٹکا دیا۔
”کٹاک۔“ کی آواز ابھری اور وہ لمبا لیٹتے ہوئے ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا۔عائشہ کے ہاتھ باندھنے والابدک کر سیدھا ہوا، ہتھیار نکالنے کو اس کا ہاتھ جیب میں رینگا،مگر میں اس سے تیز ثابت ہواتھا۔میرا دایاں مکاہتھوڑے کی طرح اس کی ٹھوڑی پر لگاوہ کولہوں کے بل نیچے گرا۔ بدبخت کافی سخت جان تھا وار سہار گیا ۔الٹی قلابازی کھاتے ہوئے سیدھا ہوا اور ساتھ ہی مجھے لات مارنے کو دائیں پاﺅں پر گھوم گیا۔نیچے جھکتے ہوئے میں نے اس کا وار خطا کیا۔ وہ لڑکھڑا گیا تھا۔اس کے سنبھلنے سے پہلے میں گھٹنا موڑتے ہوئے اوپرکو اچھلا اور دایاں گھٹناکسی مینڈھے کی زوردار ٹکر کی طرح اس کی پسلیوں کے نیچے لگا۔
”اوغ....“ کی بھیانک آواز سے وہ دہر ا ہو گیا تھا۔ایک ادھ پسلی تو لازماََ ٹوٹی ہو گی۔
میری اگلی ٹھوکراس کے سر میں لگی تھی ۔ اس کا سر دھماکے سے پختہ فرش سے ٹکرایا اور اس نے ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیے۔
میں عائشہ کی طرف متوجہ ہوا،جو آنکھوں میں نمی لیے میری طرف متوجہ تھی۔میں نے فوراََ اس کے ہاتھ پاﺅں کھولے، منہ سے ٹیپ ہٹتے ہی وہ ۔”بھیا!“ کہہ کر روتے ہوئے مجھے لپٹ گئی تھی۔
”سب ٹھیک ہو جائے گاگڑیا!....تیرا بھائی آگیا ہے نا؟“
وہ سسکی۔”اسے لیے کہتی تھی آپ نہ جائیں۔“
”اچھا فکر نہ کرو،جب تک انھیں انجام تک نہیں پہنچاتا کہیں نہیں جاﺅں گا اور اب تم جلدی سے اپنے ابو امی کی خبر لو،میں اس سے پوچھ گچھ کر لوں۔“
”جی بھائی!“آنکھوں پر الٹا ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ دروازے کی طرف بڑھ گئی۔میں بے ہوش غنڈے کی طرف متوجہ ہوا وہ اوندھے منہ پڑا تھا۔
تین چار زوردار تھپڑ کھا کر اس نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھول دی تھیں۔
”بادشاہو!میرے بتانے میں کوئی فرق تھا یا،تم سمجھتے ہی تھپڑ کی زبان ہو۔“
وہ کراہتے ہوئے بولا۔”تت....تم بچو گے نہیں....“
”فی الحال تو اپنی فکر کرواور مجھے معاملہ سے آگاہ کرو کہ ابھی کون سی خارش مٹانے آئے تھے۔“
وہ کینہ توز نظروں سے مجھے گھور کر رہ گیا تھا۔ اسی وقت عبدالخالق اور اسحاق اندر داخل ہوئے۔ عبدالخالق کے چہرے پر خوف و وحشت چھائی تھی۔
میں نے ہدایت دی۔”چچاجان!آپ گھر والوں کے ہمراہ اپنے کمرے میں چلے جائیں اور جب تک میں نہ بلاﺅں باہر نہ نکلنا۔“
اس نے اعتراض کرنا چاہا”مگر بیٹا....“
میں نے قطع کلامی کی۔”چچا !میرے پاس سمجھانے کو ایک لمحہ بھی نہیں ہے۔“
”ٹھیک ہے بیٹا!“ وہ مڑ گئے۔
”برخوردار!کچھ پوچھا ہے۔“میں نے اس کی ٹوٹی ہوئی پسلی پر ہاتھ رکھ کر اندر کی طرف دبایا۔
”آہ....افف....“ وہ تکلیف کی شدت سے تڑپتے ہوئے بولا۔”بب....بھگوان کے لیے ایسامت کرو۔“
میں نے زور بڑھاتے ہوئے کہا۔”اگر منتوں کے بجائے مطلب کی بات اگلنے پر توجہ دیتے تو بچ جاتے۔“
وہ ہار مانتے ہوئے بولا۔”بب ....بتا تا ہوں....بتاتا ہوں۔“
میں نے اس کی پسلی سے ہاتھ ہٹایا۔”شروع ہو جاﺅ،اگر میں شروع ہوا تو تیری ایک پسلی سلامت نہیں رہے گی۔“
جاری ہے