خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • If you are unable to access the site, please try accessing it via a VPN.
    Try these VPN apps — CLICK HERE
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller شوٹر۔۔۔۔سنائپر ۔۔۔تیسرا پارٹ۔۔۔۔ریاض عاقب کوہلر


قسط نمبر46
2nd last
ریاض عاقب کوہلر
اس نے حیرانی سے پوچھا۔”غالباََ تم ان لوگوں کی قید میں تھے؟“
میں رکھائی سے بولا۔”اور غالباََ تم نے قسم کھائی تھی کہ انڈیا سے دفع ہوجاﺅ گے۔“
وہ معترض ہوا۔”تم نے یہ فیصلہ میری مرضی پر چھوڑ دیا تھا۔“
میں نے دانت پیسے۔”اور تم نے مقابلے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔“
اسی وقت شیام راﺅ کی آواز میری سماعتوں میں گونجی،وہ مسلسل پکار رہا تھا۔”باس .... باس۔“
میں نے موبائل فون تھامتے ہوئے جواب دیا۔”سن رہا ہوں ۔“
وہ عقیدت سے بولا۔”تمام مارے جا چکے ہیں باس!آپ کے لیے جیپ لے آﺅں؟“
جیپ بھیجنے کے بجائے خود لانے کی بات کرنا ظاہر کر رہا تھا کہ وہ مجھ سے کتنا متاثر تھا۔
”لے آﺅ۔“کہہ کر میں نے رابطہ منقطع کیا اور پاسکل کی طرف متوجہ ہوا۔
وہ غالباََ رابطہ ختم ہونے ہی کا انتظار کر رہا تھا،صفائی دیتے ہوئے بولا۔” تم سے مقابلہ کرنے نہیں آیاتھا،میرے تیئں تو تم دشمنوں کی قید میں تھے اور میں تمھارے دشمنوں کا خاتمہ کرنے آیا تھا۔“
میں نے طنزیہ انداز میں تصدیق چاہی۔”مجھے رہائی دلانے کو.... ہیں ناں؟“
وہ بے نیازی سے بولا۔”یہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔“
میں نے اندازہ لگایا۔”یقیناتم مجھے کرن چاولہ کے لیے حاصل کرنے آئے ہو گے۔“
اس نے شرافت سے تسلیم کرتے ہوئے اقرار میں گردن ہلائی۔”ظاہر بات ہے،اسی نے خطیر رقم خرچ کی ہے۔“
اسی دوران میں شیام راﺅ کے ٹھکانے سے جیپ نکل کر ہماری طرف بڑھنے لگی تھی۔ایک نظر ادھر دیکھ کر میں اٹھ بیٹھا۔پاسکل کی نظریں بھی ادھر ہی متوجہ تھیں۔
میں نے عام سے انداز میں پوچھا۔”ان دنوں کرن چاولہ کی رہایش کہاں ہے؟“
وہ لمحہ بھر خاموش رہا پھر جھجکتے ہوئے پوچھا۔”اگر میں نہ بتانا چاہوں۔“
میں ہنسا۔”توحلق میں ہاتھ ڈال کر اگلوا لوں گا۔“
وہ جلدی سے بولا۔”خیر میں کسی کے لیے اپنی کھال نہیں ادھڑوا سکتا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”تو بکو۔“
اس نے نزدیک پہنچنے والی جیپ کی طرف نظریں دوڑائیں اور پھر ریت پر ماتھا ٹیکتے ہوئے کہا۔”ہری اوم ہسپتال میں داخل ہے ،وہاں اس کا علاج جاری ہے۔“
ہری اوم ممبئی کا کافی بڑا اور جدید ہسپتال ہے۔میں نے پوچھا۔”کوئی پہرے دار یا محافظ وغیرہ ہوتا ہے۔“
اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔”ہر وقت دو مسلح محافظ اس کے قریب موجود رہتے ہیں۔“
اسی اثناءمیں شیام راﺅ خود جیپ کو لے کر وہاں پہنچ گیا تھا۔جیپ ٹیلے کے عقب میں کھڑی کر کے وہ اوپر آنے لگا۔میں نے مزید تفتیش موّخر کی اور سنائپنگ کا سامان سمیٹنے لگا۔بریٹا اورچیٹیک ایم ۰۰۲ بھی کھول کر میں نے بیگ میں منتقل کر دی تھی۔پہلی بار مجھے مجبوراََ وہ رائفل بملا کور کے حوالے کر نا پڑی تھی کہ میری وجہ سے اس کی رائفل کی ٹیلی سکوپ سائیٹ ٹوٹ گئی تھی اور کسی احسان کرنے والے پر جوابی احسان کرنا آسان ہوتا ہے۔
شراب کی تین بھری ہوئی بوتلوں کو میں نے باہر پھینک دیا تھا ۔پاسکل ملتجی ہوا۔”پلیز بوتلیں یہاں نہ پھینکنا۔“
میں نے کچھ سوچ کر بوتلیں بھی بیگ میں رکھ دی تھیں۔شیام راﺅ تیزی سے چلتا ہوا میرے پاس پہنچ گیا تھا۔
میں نے پاسکل کے بوٹوں کے تسمے جو آپس میں باندھے ہوئے تھے کھول کر اسے اٹھنے کااشارہ کیااور شیام راﺅ کو کہا۔”بیگ اور یہ قیدی نیچے لے جاﺅ میں اپنا سامان لاتا ہوں۔“
اس نے بیگ اٹھاتے ہوئے تصدیق چاہی۔”تو یہ وہ ذات شریف ہے جس کے بل بوتے پر ابھَے دادا مجھے دھمکا رہا تھا۔“
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔”ہاں....اور یہی وہ شخص ہے جس نے تمھارے باس مہیش بابو کی ہتیا کی تھی۔“
”کیا....؟“حیرانی بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ ٹھٹک کر رک گیا تھا۔
میں نے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔”یہ سچ ہے اور فی الحال میں نے کچھ پوچھ گچھ کرنا ہے،بعد میں آرام سے حساب کتاب کر لینا۔“
”اس سے تو بہت سے حساب کتاب رہتے ہیں باس!دھنے واد کہ آپ کی بدولت یہ میرے ہاتھ لگا۔“مجھے کہہ کر وہ پاسکل کی جانب مڑا ،ساتھ ہی اس کا ہاتھ گھوما،زوردار تھپڑپاسکل کی گدی میں لگا تھا۔ ”چل بے!تیری تو لاٹری نکل آئی ہے۔“
پاسکل نے میری طرف رخ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔”مسٹرایس ایس!یہ زیادتی ہے، میں شرافت سے سب کچھ بتا رہاہوں پھر تشدد کرنے کی ضررت باقی نہیں رہتی۔“ بے چارے کو اردو یا ہندی کی سمجھ نہیں آتی تھی تبھی اسے معلوم ہی نہیں ہوا تھا کہ اسے شیام کا تھپڑ کیوں کھانا پڑا تھا۔
”فی الحال اسے کچھ مت کہو۔“شیام کو ٹھنڈا ہونے کا کہہ کر میں نیچے اترنے لگا۔ میرا رخ اپنے سامان کی طرف تھا۔
تھوڑی دیر بعد ہم جیپ میں بیٹھے واپس جا رہے تھے۔
میں شیام کو مخاطب ہوا۔”اتنی فائرنگ کے بعد پولیس یہاں نہیں آئے گی؟“
شیام وضاحت کرتے ہوئے بولا۔”یہاں پولیس کی چوکی نہیں ہے،کسی حادثے وغیرہ پر باڑمیر ہی سے پولیس بلائی جاتی ہے۔ اب کوئی انھیں خبر کرے گا تو بے چارے آئیں گے ناں،ویسے بھی ہمارے ڈیرے کے معاملات سے اڑکا کے باسی دور ہی رہتے ہیں۔“
میں نے اسے ہدایت دی۔”تم لوگ پہلی فرصت میں لاشیں ٹھکانے لگانے کا بندوبست کرو،اس دوران میں میں اس سورما سے پوچھ گچھ کر لوں گا۔“
وہ مودبانہ انداز میں بولا۔”جو حکم باس!بس دھیان رکھنا کہ اس سے کوئی ایسا وعدہ نہ کر لینا کہ میرے انتقام لینے کی ساری خوشی ماند پڑ جائے۔“
”بے فکر رہو۔“اسے تسلی دیتے ہوئے میں باہر جھانکنے لگا،جہاں تین ڈبل ڈور گاڑیاں ایک قطار میں کھڑی تھیں۔میںنے شیام سے پوچھا۔”یہ گاڑیاں تمھارے کام آئیں گی یا نہیں؟“
وہ فخریہ لہجے میں بولا۔”پوری ریل گاڑی پرزے پرزے کر کے بیچ سکتے ہیں ان کی تو حیثیت ہی کوئی نہیں ہے ۔“
ہم داخلی دروازے کے پاس پہنچ گئے تھے ۔اس نے بریک پر دباﺅ ڈالاجیپ ہچکولا لے کر رک گئی تھی ۔چوکیدار نے سرعت سے دروازہ کھولااور شیام نے جیپ آگے بڑھا دی۔
شیام کے اپنے ساتھی اور جو محافظ دوست اس نے بلائے تھے تمام لاشیں اکٹھی کر رہے تھے، دشمنوں کے ہتھیار ڈالنے والے ساتھی کوشاید انھوں کسی کمرے میں بند کر دیا تھا۔
شیام نے جیپ اندرونی عمارت کے سامنے روکی،میں نیچے اتر گیا۔ تھوڑی دیر بعد میں پاسکل کے ہمراہ اس کمرے میں موجود تھا جو میں نے اپنی رہایش کے لیے پسند کیا تھا۔
اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے میں نے کہا ۔”شروع ہو جاﺅ۔“
وہ لجاجت سے بولا۔”اگر چند گھونٹ پینے کی اجازت دے دو تو شاید میں زیادہ بہترطریقے سے تمھارے سوالوں کے جواب دے سکوں۔“
اس کے ہاتھوں کو آزاد کرتے ہوئے میں نے اسے بیگ سے بوتل نکالنے کا اشارہ کیا۔ایسا کہتے ہوئے میں نے گلاک اپنے ہاتھوں میں تھام لیا تھا۔بیگ میں بھرا ہوا بریٹا بھی پڑا تھا اور میں خطرہ مول لینے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔پاسکل کوئی عام شخص نہیں ایک پیشہ ور سنائپر اور خونی تھا۔
اس نے کراہتے ہوئے ہاتھ سامنے لائے ،لمحہ بھر زخمی ہاتھ کو سہلایا ،پٹی خون سے تر ہو گئی تھی۔بائیں ہاتھ سے بیگ کھول کر اس نے ایک بوتل اٹھائی اور تشریف ٹیکتے ہوئے پوچھا۔ ”یہاں مرہم پٹی کا بندوبست نہیں ہو سکتا؟“
”ہو جائے گا ،پہلے میرے کچھ سوالات کے جواب عطا فرمائیں تاکہ مرہم پٹی وغیرہ کے بارے سوچا جاسکے۔“
کاک دانتوں سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے اس نے تھوکنے کے انداز میں دور پھینکا،بوتل کو منہ لگا کردو تین بڑے بڑے گھونٹ بھرے اور پھر سکون بھرا گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔”پوچھو....“
میں ترتیب سے سوالات پوچھنے لگا اور وہ بغیر ہچکچائے جواب دیتا گیا۔کرن چاولہ کے ٹھکانے کے بارے باریک بینی سے پوچھ کر میں نے دوسری تمام تفصیل بھی پوچھ لی تھی۔جس کا لبِ لباب یہی تھا کہ وہ فوجی مشقوں کے لیے انڈیا آیا تھاشری کانت سے دوستی ہوئی ،بعد میں وہ اسرائیلی فوج کو خیر باد کہہ کر پیشہ ور قاتل بنا،ایک اچھا سنائپر ہونے کے ساتھ وہ بہت عمدہ منصوبہ ساز بھی تھا۔شری کانت نے کرن چاولہ کی درخواست پر اسے خصوصی طور پراسرائیل سے بلوایا تھا۔کرن چاولہ اسے میری سرکوبی کو پاکستان بھیجنا چاہ رہا تھا۔کیوں کہ وہ کسی بھی قیمت پر مجھے اپنے روبرو چاہتا تھا۔اسے معلوم تھا کہ مجھ پر قابو پا کر وہ ممتا دیدی کا پتا بھی اگلوا سکتا تھا۔مجھے عبرت ناک انجام سے دوچار کر کے وہ ممتا دیدی پر بھی قبضہ جمانے کا خواہاں تھا۔اور خوش قسمتی سے جب پاسکل کی انڈیاآمد ہوئی انھی دنوں میں نے شری ناتھ کو ہلاک کیا تھا۔وہ شری کانت کے ہمراہ وہاں پہنچ گیا،پھر ہمارے درمیان جو کچھ ہوا وہ آپ لوگ پڑھ چکے ہو۔واپس جا کرپاسکل نے شری کانت کی موت کی وجہ کرن چاولہ کو نہیں بتائی تھی،نہ اپنی ہار کا بتایا تھااور جھوٹ بولا تھا کہ میں کہیں چھپ گیا ہوںاور پھر اگلا لائحہ عمل سوچنے سے پہلے کرن چاولہ تک یہ خبر پہنچی کہ میں رمیش بابو کے قبضے میں ہوں اور وہ پچاس کروڑ کے عوض مجھے بیچنا چاہتا ہے۔تبھی کرن چاولہ نے اپنے خاص ذرائع استعمال کر کے رمیش بابو کے حالیہ ٹھکانے کو کھوجااور پاسکل کے ہمراہ غنڈوں کے ایک ٹولے کو رمیش کی سرکوبی کے لیے بھیج دیا۔اب ا ن کی بدقسمتی کہ میں ان کی آمد سے پہلے نہ صرف رہا ہو چکا تھا بلکہ رمیش بابو کی بے وقوفی سے پیدا ہونے والے خطرے کے سدباب کو بھی تیار تھا۔
آخر میں وہ لجاجت سے کہہ رہا تھا۔”کیامجھے ایک اور موقع دے سکتے ہو؟....بلاشبہ میں نے تمھاری صلاحیتوں کا غلط اندازہ لگایا تھااور اب نتیجہ بھگت لیاہے۔“
میں رسان سے بولا۔”مجھے اب بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے اور یقین مانو اتنا کم ظرف نہیں ہوں کہ ہار ماننے والے کو قتل کروں ۔“
وہ خوشی سے چہکا۔”تو میں آزاد ہوں،یقین مانومیں چیٹیک ایم ۰۰۲ بھی اپنی خوشی سے تمھارے لیے چھوڑے جا رہا ہوں۔“
میں نے منہ بنایا۔”ویسے چیٹیک ایم ۰۰۲ اپنے پاس رکھنے کو مجھے تمھاری خوشی غمی کی پروا نہیں ہے۔تم چاہو یا نہ چاہو وہ میرے پاس رہے گی۔باقی حقیقت ہے کہ تم میرے قیدی نہیں ہو ۔“
”تو میں اسی وقت جانا چاہوں گا۔“وہ فوراََ کھڑا ہو گیا تھا۔
میں نے پرسکون انداز میں وضاحت کی۔”تم میرے قیدی نہیں ہوکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ تم کسی کے بھی قیدی نہیں ہو۔“
اس نے چونکتے ہوئے پوچھا۔”کیا مطلب؟“
میں نے اطمینان بھرے انداز میں انکشاف کیا۔”جس بندے نے تمھیں تھپڑ رسید کیا تھا اس کے پانچ دوستوں کی ہتیا تم کر چکے ہو،جن میں اس کا باس بھی شامل تھا،تو میری جان! اپنی رہائی کے لیے ان سے سودا بازی کرنا۔“
اس کی مسرت جھاگ کی طرح بیٹھ گئی تھی۔پھنسے پھنسے لہجے میں بولا۔”تم زیادتی کر رہے ہو۔“
”اگر تمھیں حقیقت میں یہی لگتا ہے تو میرا ایک مشورہ پلے سے باندھ لو....اگر شیام راﺅ وغیرہ سے جان بچانے میں کامیاب ہو جاﺅ تو پہلی فرصت میں کسی اچھے سے نفسیات دان سے رابطہ کرنا۔“
وہ فکر مندی سے بولا۔”مجھے نہیں لگتا اس مشورے پر عمل کر پاﺅں گا۔“
”دولت میں اتنی طاقت ہے کہ بڑوں بڑوں کے ایمان ڈگمگا جاتے ہیں۔باقی مقتول کے ورثاءکا خون بہا لینا عام رواج ہے،تم بھی پیش کش کر کے دیکھ لینا شاید جان بچ جائے۔“
وہ سر جھکا کر سوچنے لگا۔میں نے گھنٹی کر کے شیام کو بلا لیا تھا۔
”جی باس!“وہ منٹ بھر کے معمولی وقفے میں وہاں پہنچا تھا۔
میں نے کہا۔”کسی کو بلاﺅ کہ اسے یہاں سے لے جائے اور فی الفور اس کے ہاتھ کی مرہم پٹی بھی کردے اورتم میرے پاس بیٹھو کوئی ضروری بات کرنا ہے۔‘ ‘
”جی باس!“کہہ کر وہ باآواز بلند چیخا۔”شنکر!ادھر آﺅ....“لمحہ بھر بعد ایک شخص دروازے پر نمودار ہوا۔
”اس حرامی کی مرہم پٹی کردواور خیال رکھنا کہیں بھاگ نہ جائے،بہت خطرناک ہے۔“
”فکر نہ کریں بھائی!“شنکر نے مودّب انداز میں کہااور پاسکل کے ہمراہ باہر نکل گیا۔ پاسکل بے چارگی بھری نظروں سے مجھے گھور کر رہ گیا تھا۔
ان کے غائب ہوتے ہی میں شیام کی طرف متوجہ ہوا۔”گو تم نے اپنے آدمی کو چوکس رہنے کی ہدایت دے دی ہے،لیکن میں تمھیں مزید احتیاط کرنے کا مشورہ دوں گا،اس کے علاوہ دماغ میں رہے کہ پاسکل کو قتل کرنے کے باوجود تمھارے مرے ہوئے ساتھی زندہ نہیں ہو سکتے،اس حرامی کے پاس کافی پیسہ ہوگاجرمانہ لے کرمعاملہ رفع دفع کرو فائدے میں رہو گے۔“
”یہ آپ کا حکم ہے یا مشورہ۔“
میں اطمینان سے بولا۔”حکم ہوتا تو اسے تمھارے حوالے ہی نہ کرتا۔“
”اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر کے بتاتا ہوں۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”مجھے جانے کی ترتیب کے علاوہ کچھ نہیں سننا۔“
وہ جلدی سے بولا۔”میں نے بندہ بھیج کر معلوم کروا لیا تھا،اَترسوں (آئندہ پرسوں سے اگلا دن یا گزشتہ پرسوں سے پہلے والا دن)شام کو نکلیں گے۔“
”میں دشمنوں کے ایک گاڑی میں ابھی ممبئی کا رخ کر رہا ہوں،میرا سامان یہیں پڑا رہے گا، کوئی مسئلہ ہو تو مجھے گھنٹی کر دینا۔“
اس نے حیرانی سے پوچھا۔”خیر تو ہے،کس لیے جا رہے ہیں؟“
”ایک غلطی سدھارنے جا رہا ہوں اور ان شاءاللہ پرسوں تک لوٹ آﺅں گا۔“
اس نے خلوص بھرے لہجے میں مشورہ دیا۔”مجھے یا کسی اور بندے کو ساتھ لے جاﺅ آسانی رہے گی۔“
”شکریہ ،ممبئی میں مدد کرنے والے کافی دوست موجودہیں ،تم بس یہاں کی صورت حال سنبھال لواور چند دشمنوں پر قابو پانے کا مطلب ہرگز یہ نہیں بنتا کہ مزید دشمن نہیں آئیں گے۔اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنا۔“اسے آخری بار احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے میں کھڑا ہو گیا۔اس نے بھی نشست چھوڑ دی تھی۔
٭٭٭٭٭
دشمنوں کی گاڑی استعمال کرنا احتیاط کے منافی تھا لیکن ان کے سارے بندے مارے جا چکے تھے اور جو بچ گئے تھے وہ ہماری قید میں تھے اس لیے میں نے گاڑی کو عارضی طور پر استعمال کرنے میں مضائقہ نہیں سمجھا تھا۔وہاں سے ممبئی کا فاصلہ نو ساڑھے نو سو کلومیٹر کے بہ قدر تھا،مگر میرے پاس وقت کم تھا،جانے سے پہلے میں کرن چاولہ کو اس کا جائز مقام دینا چاہتا تھا جو شمشان گھاٹ سے ہوکرجاتا تھا۔
باڑ میر سے میں نے ڈیزل کی ٹینکی مکمل بھروائی اور روانہ ہو گیا۔ میں دن کے اڑھائی، تین بجے نکلا تھا،راستے میں صرف ایک بارتازہ دم ہونے اور رات کا کھانا کھانے کو رکا اور پھر چل پڑا۔گاڑی نئی اور بہترین تھی میں نے رفتارسو سے نیچے نہیں آنے دی تھی۔صبح چار بجے کا عمل ہو گا جب میں ممبئی میں داخل ہوا۔اپنے کسی دوست کو مطلع نہیں کیا تھاکہ میرا ارادہ کام ختم کرتے ہی واپس لوٹنے کا تھا۔پونے پانچ بجے کے قریب میری گاڑی ہری اوم ہسپتال کی پارکنگ میں داخل ہو رہی تھی۔
یہ ایک بڑا ہسپتال تھا۔صبح کے اس وقت بھی چہل پہل دکھائی دے رہی تھی۔کرن چاولہ ایک خصوصی کمرے میں داخل تھا جو عام وارڈوں سے دور تھا۔وہ ایسی جگہ تھی جہاں خصوصی مریض داخل ہو سکتے تھے۔کرن چاولہ کے کمرے کے بارے میں نے پاسکل سے تفصیل معلوم کر لی تھی۔ایک طویل راہداری عبور کر کے میں ہسپتال کے عقبی جانب پہنچاوہاں ایک بند دروازہ دکھائی دیا،کھٹکھٹانے پرہسپتال کے محافظوں کی مخصوص وردی والے ایک مسلح شخص نے کواڑ کھولتے ہوئے پوچھا۔”جی مہاراج!کس کو ملنا ہے؟“
میں رسان سے بولا۔”مسٹر چاولہ !سے ملاقات طے تھی۔“
اس نے رجسٹر دیکھ کر کہا۔”شما چاہتا ہوں مہاراج!مجھے ایسی ہدایت نہیں ملی۔“
”میں نے حیرانی ظاہر کی۔”ایسا نہیں ہو سکتا۔“اور پھر مضطرب انداز میں ہاتھ رگڑتے ہوئے کہا۔”بہ ہرحال تم کال کر کے تصدیق کر لو۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”ایسا کرنے کی ہمیں اجازت نہیں مہاراج!شما چاہتا ہوں مگر یہ کشٹ آپ کو خوداٹھانا ہوگا۔“
پہرے دار کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ وہ کسی صورت مجھے اندر جانے کی اجازت نہ دیتا، سردار خان کہا کرتا تھا ،” گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو گرم کر کے نکال لوانگلی ٹیڑھی کر کے زخمی کرنے خطرہ مول لینے کی کیا ضرورت ہے۔“
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ گھی کو گرم کرنے کے لیے بھی محنت چاہیے اور اگر سلیقے سے انگلی ٹیڑھی کی جائے تواس کے زخمی ہونے کا خطرہ بھی ٹل جاتا ہے۔
سائلنسر لگا پستول نکالتے ہوئے میں نے سیدھا کیا۔”اگر ایسا ہے تو ہاتھ اوپر اٹھانے کا کشٹ کریں مہاراج!“
”تت....تم....یہ کیا مذاق ہے۔“اس کا ہاتھ سلنگ کی طرف لپکا جس کے سہارے اس نے ہتھیار کندھے سے لٹکایا تھا۔وہ بارہ بور بندوق کی جدید شکل تھی جسے عرف عام میں رپیٹر کہا جاتا ہے۔
میں اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”یقین مانوچپ چاپ میرے احکامات ماننے ہی میں تمھاری بھلائی ہے۔ورنہ مرنے کے بعد صرف اخبار میں چھوٹی سی خبر چھپے گی کہ ایک ذمہ دار محافظ نے دہشت گرد کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنی جان دے دی اور چند گھنٹوں بعد لوگوں کی یاداشت سے تمھارا کارنامہ محو ہو جائے گا۔اپنے بیوی بچوں کا سوچوجنھیں تمھاری موت کا صدمہ سہنا پڑے گا اور تمھارے سہارے کے بغیر پہاڑ سی زندگی گزارنا پڑے گی....“میری بات ختم ہوتے ہی اس کے ہاتھ بے جان انداز میں نیچے لٹکنے لگے تھے۔
میں نے اگلا حکم دیا۔”ہاتھ گردن کے پیچھے باندھ کر الٹے گھوم جاﺅ۔“
اس نے تعمیل میں دیر نہیں کی تھی۔میں نے عقب میں دیکھ کر ممکنہ خطرے کو بھانپا اوراسے ٹہوکا دے کر اندر داخل ہو گیا۔وہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا ،جس کے دوسرے دروازے کے سامنے ایک اور گیلری اندر جا رہی تھی۔داخلی دروازے کو کنڈی کر کے میں نے جیب سے پلاسٹک کی باریک رسی نکال کر اس کی مُشکیں کس دیں۔منہ پر بھی رومال باندھ دیا تاکہ شور نہ کر سکے۔اس کا ہتھیار ایک کونے میں پھینک کر میں آگے بڑھ گیا،اس ساری کارروائی میں مجھے چند منٹ سے زیادہ نہیں لگے تھے۔
راہداری کا اختتام ایک گیلری میں ہوا جس کے آمنے سامنے کمروں کے دروازے تھے۔میرا ہدف تین نمبر کمرے میں تھا،تمام دروازوں کے اوپر سنہری رنگ کے ہندسے جگمگا رہے تھے۔ اور اس وقت تمام کمروں کے دروازے بند تھے۔میں دبے قدموں چلتا ہوا مطلوبہ کمرے کے سامنے پہنچا، دائیں بائیں دیکھا اورگردن جھکا کر چابی کے سوراخ پر آنکھ رکھ دی۔تنگ روزن سے پورے کمرے کا منظر تو نظر نہیں آرہا تھا البتہ کرسی پر بیٹھا ایک شخص ضروری دکھائی دیا جو سر جھکائے اونگھ رہا تھا۔
میں نے چابی کے سوراخ پر سائیلنسر کی نال رکھتے ہوئے لبلبی دبائی ۔”ٹھک۔“ کی آواز اتنی بلند نہیں تھی مگر خاموش ماحول میں کمرے میں موجود افراد کو چونکا گئی تھی۔فائر کرتے ہی میں دروازے کو دھکیلتے ہوئے برقی کوندے کی طرح اندر داخل ہوا۔کرسی پر بیٹھا ہوا شخص ہڑ بڑاتے ہوئے اٹھا اور پھر اس کا ہاتھ تپائی پر پڑے پستو ل کی طرف بڑھا،میرے پاس انھیں دھمکانے یاسمجھانے کا وقت تھا نہ وہ شریف لوگ تھے کہ اپنے بھلے کی بات سمجھتے،ایسوں کی سمجھ میں صرف ایک ہی بولی بیٹھتی ہے اور وہ گونگے گلاگ کی ”ٹھک ....ٹھک۔“ہے اس لیے میں نے لبلبی دبانے میں دیر نہیں کی تھی۔
پستول اٹھکانے کو وہ ذرا سا جھکا تھا،سر میں لگنے والی گولی نے اسے لڑھکا دیا تھا۔اس کا ساتھی صوفے پر لیٹا تھا۔اگلی گولی نے اس کی سر بوسی کی تھی۔دونوں گولیوں کو چلانے میں بہ مشکل ایک سیکنڈ لگا تھا۔ان سے فارغ ہوتے ہی پستول کی نال کرن چاولہ کی طرف مڑ گئی تھی جس کا دایاں ہاتھ تکیے کے نیچے کھسکا تھامگر پستول کی نال اپنی طرف اٹھتے دیکھ کر ساکن ہو گیا تھا۔وہ چت لیٹا تھایقینا ریڑھ کی ہڈی ٹھیک کروانے کی سرتوڑ کوشش کر چکا تھا ،مگر اس کا علاج اتنا آسان نہ تھا کہ وہ جلدی ٹھیک ہو جاتا۔
”بہتر ہوتا کہ تم اپنا علاج کراتے،پھر کسی قابل ہوتے تو دشمنی پالتے۔“نپے تلے قدم رکھتا ہوا میں اس کے بیڈ کے قریب ہوا۔
وہ پھسپھسے لہجے میں بولا۔”تمھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔“
”تمھاری درگت دیکھ کر دیدی بہت خوش ہوئیں تھیں اور انھوں نے میری پیشانی چوم کر کہا تھا کہ انھیں اپنے چھوٹے بھائی پر ناز ہے اور یہ کہ وہ جانتی تھیں میں تمھارا یہی حشر کروں گا۔آج کل وہ لورا براﺅن کے ہمراہ یورپ کی سیر کر رہی ہیں۔“
وہ ہونٹ بھینچتے ہوئے بولا۔”یہ سب مجھے کیوں بتا رہے ہو۔“
میں متبسم ہوا۔”تاکہ مرنے سے پہلے تمھارے دل میں دیدی کے بارے کچھ جاننے کی کھد بد نہ رہے۔“
اس نے بیزاری ظاہر کی۔”مجھے اس کا ذکر سننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔“
”خیر میرے پاس زیادہ گپ شپ کا وقت نہیں ہے،بس دو باتیں سن لو کہ تمھارا کارندہ شری کانت میرے ہی ہاتھوں ہلاک ہوا تھا اورتب پاسکل نے زندگی کی بھیک مانگ کر اپنی جان بچائی تھی، لیکن تمھیں شاید اصل بات کی ہوا نہیں لگنے دی۔اس وقت بھی وہ زخمی حالت میں میرے ساتھیوں کی قید میں ہے۔ بے چارہ میرا ایک وار بھی برداشت نہ کر سکا۔ اگر اس کے لیے کوئی پیغام دینا ہو تو جلدی بکو،کیوں کہ میں تمھاری غلاظت بھری کھوپڑی میں سیسہ اتارنے لگا ہوں۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے مجھ سے نظریں ملائیں۔“اگر وعدہ کروں کہ دوبارہ تمھارے خلاف کوئی کارروائی نہیں کروں گا تو کیا دوسر اموقع دے سکوگے۔“
میں نے صاف گوئی کا دامن پکڑا۔”مجھے ڈر لگتا ہے،کیوں کہ جس کی فطرت میں ٹیڑھا پن ہو اسے وعدے وعید سیدھا نہیں کر سکتے۔“
”سُنیتا کو کہنا،میں آج بھی اس سے اتنا ہی پیار کرتا ہوں جتنا ماضی میں کیا کرتا تھااور کہنا روہن (ممتا دیدی کسی زمانے میں اسے روہن کہا کرتی تھی)شرمندہ تھا،امید ہے میں نے اس کے ساتھ جو زیادتی کی اس کا پرایَش±چت میرے قتل سے ہو جائے گا۔“
” امید تو نہیں ہے ایسا ہوگا،بہ ہرحال تمھاری آخری خواہش جانتے ہوئے دیدی تک تمھارا پیغام پہنچ جائے گا۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے میں نے لبلبی کھینچی گولی اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان اور ناک کی جڑ میں لگی تھی۔
وہ ذرا سا تڑپا اور ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیئے۔میں کسی بھی چیز کو چھوئے بغیر کمرے سے باہر نکل آیا۔محافظ کے کمرے میں پہنچا تو منظر میں کوئی تبدیلی نظر نہ آئی،مجھے خوف تھاکہ اس دوران میں اس کی بدلی کرنے والا پہرے دار نہ پہنچ جائے،مگر بچت ہو گئی تھی۔ میں جلدی سے پارکنگ میں پہنچا تھوڑی دیر بعد میری گاڑی شہر سے باہر جانے والی سڑک پر رواں دواں تھی۔ممبئی میں جو کام کرنے آیا تھاوہ پورا ہو گیا تھا۔
جاری ہے
 

مجھے سوئے ہوئے چوبیس گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا لیکن میں راستے میں رک کر آرام کرنے کے حق میں نہیں تھا۔دو تین مرتبہ رک کر میں نے اچھی سی چاے بنوا کر پی تھی،البتہ کھانا جان بوجھ کر نہیں کھایا تھا تاکہ نیند سے بچا جا سکے۔
رات گئے میں اڑکا شیام راﺅ کے ٹھکانے پر پہنچ گیا تھا۔چوکیدار نے مجھے پہچانتے ہی دروازہ کھولااورمیں اپنے لیے متعین خواب گاہ میں جا کر سوگیا۔
دن چڑھے ہی آنکھ کھلی تھی۔تازہ دم ہو کر باہر نکلا تو شیام راﺅ نے ناشتا لگوانے کا پوچھا۔
میں بے تکلفی سے بولا۔”کھانا کھاﺅں گا۔“
”ٹھیک ہے باس!“ اثبات میں سرہلاتے ہوئے اس نے ملازم کو کھانا لانے کا بتایا اور دوبارہ میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے پاسکل کے متعلق مشورہ چاہا۔”باس !بتائیں ناں اس حرامی کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟“
میں مزاحیہ انداز میں بولا۔”مہاراج راﺅ صاحب!اب اس متعلق مجھ سے کچھ نہ پوچھنا کیوں کہ میں کل چلا جاﺅں گا،اپنے اندر فیصلہ لینے کی قابلیت پیدا کرو،تم اب اس گروہ کے سرغنہ ہو۔ اپنے تمام ساتھیوں کو بٹھا کر مشورہ کرو اور کسی ایک نتیجے پر پہنچ کر عمل کردو۔“
وہ اعتمادسے بولا۔”میں نے سوچا آپ کی موجودی کا فائدہ اٹھایا جائے،بہ ہرحال اب آپ کو رخصت کر کے ہی اس بارے فیصلہ کروں گا۔“
میں نے سراہا۔”یہ ہوئی نا مردوں والی بات۔“
اس کے بعد ہم جانے کی ترتیب بنانے لگے۔
وہ رات اور اگلا دن بھی سکون سے گزرا تھا۔دوپہر کو میں گھنٹے بھر کے لیے باڑمیر گیا اور ایس آر ون کو پرانے مقام پر دفنا کر لوٹ آیا تھا،سونے کی زنجیر اور دو لاکھ کے بہ قدر رقم بھی میں نےایس آر ون کے بیگ ہی میں رکھ دی تھی۔البتہ چیٹیک ایم ۰۰۲ کو پاکستان لے جانے کا ارادہ تھا۔سہ پہر کو میں شیام راﺅ اور اس کے دو آدمیوں کے ہمراہ اڑکا سے آگے بڑھ گیا تھا۔شیام راﺅ مجھے جانے کے راستے کے متعلق تفصیل بتانے لگا۔یہ سرحد ایسی تھی کہ جوانب کے پہرے داروں کی مرضی کے بغیر پار نہیں کی جا سکتی تھی۔البتہ شیام راﺅ ،مہیش بابو کے ساتھ مل کر برسوں سے یہ کام کر رہا تھا۔وہ کئی مرتبہ پاکستان جا چکا تھا۔
سرحدی گاﺅں” بھانی “تک ہمیں قریباََدو گھنٹے لگے تھے،وہاں رات کا کھانا کھایااور انتظار کرنے لگے،اس اثناءمیں پار جانے والے اور آدمی بھی پہنچ گئے تھے رات کو قریباََ ساڑھے دس بجے ہم جیپوں میں بیٹھ کر نکلے ۔جیپیں گھنٹا بھر ریت میں چلتی رہیں،پھر ایک مخصوص مقام پر جیپیں رک گئیں اور ہم پیدل چل پڑے،وہاں سے شیام راﺅ نے مجھ سے الوداعی معانقہ کرتے ہوئے کہا۔
”باس زندگی رہی تو پھر ملاقات ہو گی اور جب بھی انڈیا آنا ہوخدمت کا موقع ضرور دینا۔“
”کوشش کروں گا دوست کہ دوبارہ آمد پر ملاقات ہو سکے،البتہ وعدہ نہیں کر سکتا کہ ....
ع ہمارے وعدے کسی کی مرضی کے ماتحت ہیں۔
”مجھے انتظار رہے گا۔“عقیدت بھرے انداز میں کہہ کر وہ علاحدہ ہوااور مجھے پاکستانی کرنسی کی ایک چھوٹی سی گڈی پکڑاتے ہوئے کہا۔”یہ سرحد پار کرنے کے بعد کام آئیں گے۔“
پیسے جیب میں رکھ کر میں باقی لوگوں کی تقلید میں چل پڑا جو اندھیرے میں آگے بڑھ گئے تھے۔ میں نے سنائپر رائفل کا بیگ کندھوں میں ڈال لیا تھا۔ہمیں مسلسل تین چار گھنٹے تک چلنا پڑا، اس دوران میں مورچوں اور رہایشی بنکروں کے پاس سے گزرے،تین چار قسموں کی کانٹا دار تارکی رکاوٹیں عبور کی ،بارودی سرنگی قطعوں سے بھی گزرے اور پھر پندرہ بیس منٹ مزید چلنے کے بعد ہم پاکستان کی سرحد عبور کر رہے تھے۔پہلے کی طرح کانٹا دار تار،بارودی سرنگیں اور مورچوں کا حساس علاقہ عبور کر کے ہم گھنٹا بھر چلتے رہے یہاں تک کہ ایک جگہ جیپیں تیار ملیں۔طلوع آفتاب ہونے کو تھا جب ہم عمر کوٹ پہنچے۔وہاں سے آگے اپنا بندوبست تھا۔ میں بس اڈے پہنچ گیا۔وہاں سے میر پور خاص کی ویگن مل گئی تھی۔وہاں تک گھنٹا لگا،آگے کے لیے حیدر آباد کی بس مل گئی تھی۔پاکستان کی آب و ہوا میں ایسی تازگی اور اپنائیت کا احساس ہو رہا تھاجیسے انسان تپتی دھوپ سے چھاﺅں میں آجائے۔انڈیا میں ہر آن ،ہر لمحہ ، ہر لحظہ پکڑے جانے کا دھڑکا لگا رہتا تھا،مگر یہاں یوں لگ رہا تھا جیسے پورا پاکستان ہی میرا گھر ہو۔
حیدر آباد سے مجھے ڈیرہ اسماعیل خان جانے والی بس مل گئی تھی۔سنائپر رائفل کا بیگ ڈگی میں رکھوا کر میں نے بس کی آرام دہ سیٹ سنبھالی اور آنکھیں موند لیں۔
رات گئے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گیا تھا۔بس اڈے سے رکشا پکڑ کر میں آدھے گھنٹے میں گھر پہنچ گیا تھا۔رکشے والے کو فارغ کر کے داخلی دروازے کی طرف بڑھا،اطلاعی گھنٹی کے جواب میں چند لمحے بعد ہی ابو جان کی شفیق آواز سنائی دی۔”کون۔“
میں نے کہا۔”ابو جان !میں ہوں ذیشان....“
فوراََ ہی دروازہ کھل گیا تھا،ابو جان نے مجھے شفقت بھری آغوش میں لے لیا،ان کے عقب میں پلوشہ موجود تھی۔اس کے ہاتھ میں گلاک نظر آرہا تھا۔ابو جان کے کندھے پر ٹھوڑی ٹیکتے ہوئے میں نے نظر بھر کر اسے دیکھا وہ خوشی سے گلاب کے پھول کی مانند کھل اٹھی تھی۔لمبے عرصے کے بعد اپنے شوہر کو دیکھ کر مشرقی عورت کے چہرے پر جو حیا آلود تبسم ابھرتا ہے اس نظارے کا بدل کوئی دنیاوی منظر نہیں ہو سکتا۔
ابو جان سے علیحدہ ہو کر میں نے پلوشہ سے مصافحہ کیااور پھر ابو جان کے ہمراہ نشست گاہ کی طرف بڑھ گیا پلوشہ باقیوں کو اطلاع دینے آگے بھاگ پڑی تھی۔ ذرا سی دیر میں روما، امی جان، پھوپھو اور پلوشہ کا چھوٹا بھائی عدیل پہنچ گئے تھے۔صرف میرا بیٹا عبداللہ سویا رہا۔راستے میں کھانا نہیں کھایا تھا،روما فوراََ باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی تھی۔
٭٭٭٭٭
اگلے دن میں نے انصاری صاحب کو گھنٹی کر کے اپنی واپسی کی اطلاع پہنچائی۔
وہ اطمینان بھرا گہرا سانس لیتے ہوئے بولے ۔”یار !کافی دنوں سے منتظر تھا۔“
میں نے کہا۔”بس سر !ایک دو مسئلے ایسے پیدا ہو گئے تھے جنھیں نبٹاتے ہوئے چند ہفتے ضائع ہو گئے۔“
انھوں نے اشتیاق ظاہر کیا۔”اس متعلق تفصیل سے گفتگو ہو گی ۔فی الحال ایک ماہ چھٹی کا لطف اٹھاﺅ۔“
اور میں نے الوداعی کلمات کہتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا۔
میرے ساتھ سر جوڑے بیٹھی پلوشہ نے بے صبری سے پوچھا۔”کتنی چھٹی ملی ہے؟“
میں متبسم ہوا۔”پورا ایک ہفتہ۔“
”کیا ....کیا.... کیا....؟“مجھے گھونسا رسید کرتے ہوئے وہ چلائی۔”آپ اسی وقت تشریف لے جائیں ۔“
میں سنجیدگی سے بولا۔”میں نے سچ میں چلا جانا ہے؟“
وہ روہانسا ہوئی۔”راجو!سچ بتائیں کتنی چھٹی ہے؟“
میں شرارتی انداز میں ہنسا۔”بتا تو دیا ہے۔“
”ٹھیک ہے،اب مجھ سے بات نہ کرنا۔“پاﺅں پٹختے ہوئے وہ دور جانے لگی۔
”اے !....بات سنو....پلوشے ....پلوشے....پوری مہینا ہے یار!“اسے نہ رکتے دیکھ کر میں نے فوراََ اگل دیا تھا۔
پیچھے مڑتے ہوئے اس نے ساحرانہ نگاہوں سے مجھے گھورااور منہ بسورتے ہوئے بولی۔”تھوڑی ہے،پہلے دو ماہ ہوا کرتی تھی۔“
میں نے قہقہ بلند کیا۔”تب تم خوب صورت بھی ہوا کرتی تھیں ،اب تو چڑیل لگتی ہو....“
”اچھا یہ بات ہے۔“اس کی ہلکی نیلی آنکھیں میں برہمی جھلکی۔وہ سب کچھ برداشت کر لیتی تھی، مگر میرے منہ سے ایسا مذاق برداشت نہیں کرتی تھی جس میں اسے بدصورت کہاگیا ہو۔
پھوپھو جان باورچی خانے سے نمودار ہوتے ہوئے مستفسر ہوئیں۔”میری بیٹی کو کون چڑیل کہہ رہا ہے؟“ ان کے ہاتھوں میں طشت تھا جس میں چائے کی بھری ہوئی پیالیاں رکھی تھیں۔
میں چائے کی پیالی اٹھاتا ہوا بولا۔”ساری دنیا کہتی ہے پھوپھو!“
وہ درشتی سے بولی۔”کسی میں اتنی جرات نہیں کہ مجھے بد صورت بولے۔“
میں نے منہ بنایا۔”زبردستی خود کو خوب صورت کہلوانے کا کیا فائدہ جب پیٹھ پیچھے لوگ چڑیل،ڈائن اور بھتنی کہیں۔“
اس نے آنکھیں نکالیں۔”آپ کو تورام کی پجارن راجکماری پرما جی خوب صورت لگتی ہو گی ناں؟“
پھوپھو کے وہاں سے نکلتے ہی میں اس کے قریب ہوا۔”نہیں جی !مجھے بھی نیک بخت چڑیل ہی پیاری لگتی ہے۔ہمیشہ سے اور ہمیشہ تک۔“
میرے ساتھ جڑ کر بیٹھتے ہوئے اس نے منہ بنایا۔”جھوٹا۔“
میں سنجیدگی سے بولا۔”جانتی ہو،تمھارے بغیر دن کتنے پھیکے،بے مزہ اور اداس گزرتے ہیں۔“
”ہاں۔“اوپر نیچے سر ہلاتے ہوئے وہ گلو گیر ہوئی۔”میری جان بھی تو ہر وقت سولی پر ٹنگی رہتی ہے۔پتا نہیں آپ نوکری چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔“اس نے پرانا راگ الاپا۔
”روما کو بولے تیار ہو جائے شاپنگ پر چلتے ہیں۔“میں نے جواب دیے بغیر موضوع تبدیل کیا کہ اس متعلق ہماری پہلے بھی کئی بار بحث ہو چکی تھی اور اس پر نہ میرا سمجھانا اثر کرتا تھا نہ ڈانٹنا۔
”جانتی تھی کچھ ایسا ہی بولیں گے۔“چائے کی پیالی میز پر رکھتے ہوئے وہ رومی کو بلانے خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی تھی۔
تھوڑی دیر بعد ہم کار میں بیٹھے شہر کی طرف جا رہے تھے۔
٭٭٭٭٭
رات کو روما میرے ساتھ تھی۔میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے محبوبیت سے بولی۔”جھوٹے اجنبی !آپ ہمارے گھر گئے تھے ،مگر جانے سے پہلے مجھے ہلکا سا اشارہ بھی نہ کیا۔“
”پہلے ایسا ارادہ نہیں تھا،مگر پھر سوچا ساسو ماں اور سسر جی کو مل لیتا ہوں۔“
اس نے متبسم ہو کر آنکھیں نکالیں ۔”اور میں نے کب آپ کی پٹائی کی ہے جو امی جان سے شکایت کرتے رہے۔“
میں پر سکون انداز میں بولا۔”کر تو سکتی ہوناں....اگر خود نہ کرو تو میرا کیا قصور۔“
وہ مجھے پیار کرتے ہوئے بولی۔ ”شکریہ ،آپ نے انھیں میری طرف سے تحائف خریدنے کے لیے پیسے دیئے،تمام بہت خوش تھے۔“
میں نے اس کی پیش قدمی کا جواب دیتے ہوئے کہا۔”اور اس سے بھی زیادہ انھیں اس بات کی خوشی تھی کہ ان کی بیٹی خوش ہے۔“
”ہاں خوش ہوںحد سے زیادہ خوش ،اتنی کہ بیان نہیں کر سکتی۔“لبوں پر مَدُھر مسکان بکھیرے وہ خوشی ،اطمینان اور فرحت کا اظہار وارفتگی سے کرنے لگی۔
چھٹیاں برق رفتاری سے گزر رہی تھیں ۔اس دوران میں میں نے سردار سے ملاقات کر لی تھی۔ روما اور پلوشہ بھی میرے ساتھ ہی گئیں تھیں۔ دو دن مردان میں گزار کر ہم لوٹ آئے تھے۔
ایک ماہ بعد میں جانے کو تیار تھا حسب معمول چھٹی گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا تھا،تمام گھروالوں سے میں نے گھر ہی میں رخصت لی اور اکیلا ہی بس اڈے کی طرف بڑھ گیا۔چیٹیک ایم ۰۰۲ میں نے گھر ہی میں چھوڑ دی تھی۔پلوشہ دو تین دن تو بڑے شوق سے اس کے بارے سیکھتی رہی یہاں تک کہ روما کے واویلا مچانے پر اس نے مجبوراََ میری جان چھوڑی تھی۔
گھر سے نکلنا ہر پردیسی کے لیے دشوار اور مشکل ہوتا ہے ،لیکن ایک فوجی کے لیے اس کی شدت اس لیے بھی زیادہ ہوجاتی ہے کہ اسے واپسی کی امید عام لوگوں کی نسبت کچھ کم ہوتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی و موت اللہ پاک کے قبضہءقدرت میں ہے اور مرنے کے لیے کسی کا جنگ میں جانا ضروری نہیں ہوتا،موت تو بستر پر لیٹے اور میدان جنگ میں لڑتے شخص میں تمیز نہیں کیا کرتی۔ لیکن اس کے باوجود ماﺅں کے ہاتھ میدان جنگ میں لڑنے والے بیٹوں کے لیے زیادہ اٹھے رہتے ہیں۔
بس کی آرام دہ سیٹ سے ٹیک لگا کر میں نے آنکھیں موند لیں،میری کہانی کا اختتام عموماََدوران سفر ہی ہوتا ہے بہ قول شاعر....
ہم سے نہ پوچھ راستے گھر کے
ہم مسافر ہیں زندگی بھر کے
اجنبی راستے ،انجان منزلیں،روز و شب حادثے،ہر آن خطرات،لمحہ لمحہ مشکلات، ہر گھڑی مصائب، ذہنی و جسمانی تکالیف،موت و حیات کی کشمکش،گھٹن،وحشت اور کرب کا سامنایہ ایک فوجی کی قسمت میں بھرتی ہونے کے ساتھ لکھ دیا جاتا ہے۔اس کے برعکس عیش و آرام سے بھرپورایام،امن شانتی سے لبریز حیات،سردی و گرمی سے بچاﺅ، بھوک پیاس سے محفوظ پر سکون زندگی گزرانے کو کس کا دل نہیں کرتا۔شام کوتھکا ہارا گھر لوٹنے پر صحن میں کھیلتے ہوئے بچوں کی قلقاریاں کون نہیں سننا چاہتا۔ کون اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر لاڈ نہیں اٹھوانا چاہتا،کس کم بخت کا دل محبت کرنے والی بیوی کے ہاتھ کے بنے کھانوں سے سیر ہوتا ہے،کون احمق دوستوں کی محفلوں میں بلند بانگ قہقہے لگانے کو وقت کا ضیاع سمجھتا ہے،کون اپنے گاﺅں کی گلیوں میں مٹر گشت کرتے ہوئے تھکن محسوس کرتا ہے۔بے شک ان سوالوں کے جواب وہی اثبات میں دے سکتا ہے جو پردیسی نہ ہو۔ان احساسات کو وہی نظر انداز کر سکتا ہے جسے یہ سب کچھ تواتر سے میسر ہو۔اپنا تو یہ حال ہے کہ ....
دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا
تم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتا
خیر یہ لمبی بحث ہے،ہر کسی کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں،کوئی وطن کی خاطر....
قدموں میں تخت و تاج بھی رکھے گئے مگر
ہم سے ترے وقار کا سودا نہ ہوسکا
کی عملی تفسیر ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ایک سیاسی لیڈر کی خاطر اپنے محافظوں کی سب قربانیوں کو پاﺅں کی ٹھوکر میں اڑا دیتے ہیں۔انھیں سردیوں کی طویل راتوں میں سرحد پر پہرہ دیتے ٹھٹھرتے سپاہی دکھائی نہیں دیتے جن کی آنکھیں مشرق کی طرف طلوع آفتاب دیکھنے کو نہیں دشمن کی نقل و حرکت دیکھنے کو نگران ہوتی ہیں۔جو گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں آگ و بارود کا سامنا اس لیے نہیں کر رہے ہوتے کہ ان کی دہشت گردوں سے کوئی ذاتی دشمنی ہے یا ہندو نے ان کی آبائی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔جو دشمنوں سے گولیاں کھاتے ہوئے تو لب پر تبسم سجا سکتے ہیں،مگر اپنوں کی گالیاں کھا کر اظہار بے بسی کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔الزامات لگانا مشکل ہے نہ کیچڑ اچھالنا دشوار....دشمن جانتا ہے کہ وہ روایتی میدان جنگ سجا کر مقابلہ نہیں کر سکتا اس لیے اس نے نیا طریقہ سوچا ہے کہ اپنے ہی عوام کو اپنے محافظوں سے لڑا دیا جائے،بھلا کس طرح....؟؟؟یوں کہ ....حقائق کو مسخ کر دیا جائے۔ سچائی کو پروپیگنڈے کی سیاہ چادر سے ڈھانپ دیا جائے اورجھوٹ اس تواتر اور تسلسل سے بولا جائے کہ سچ لگنے لگے۔ملک دشمن عناصر کا بیانیہ جب محب وطن شہریوں کی زبان پر بھی گونجنے لگے تو سمجھ جاﺅ وطن کی سلامتی خطرے کی زد میں ہے۔ ہمیں آپس کی دشمنیوں، سیاسی اختلافات ،مذہبی مخالفت اور نسلی تفاخر کو پس پشت ڈال کر سب سے پہلے وطن کی سلامتی کے لیے ہم قدم ہم آواز ہونا پڑے گا۔ملک دشمن عناصر کے خلاف ذاتی دشمن کا گریبان چھوڑ کر اس کے کندھے سے کندھے ملانا پڑے گا۔تب ہم اپنے وطن کو خوش حال، مضبوط اورمحفوظ بنانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔
اللہ ہم سب کا ہامی و ناصر ہو آمین یا رب العالمین....ان شاءاللہ بہ شرط زندگی پھر ملاقات ہو گی۔جب تک زندگی ہے انسان کی کہانی جاری رہتی ہے اور میری کہانی تو میری موت کے بعد بھی جاری رہے گی کہ وطن اور دین اسلام کی خاطر دشمنوں سے برسرپیکار جماعت قیامت کی صبح تک مصروف عمل رہے گی....
دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
ختم شد
 
بہترین ناول جس کے سحر سے کوئی نہیں نکل سکتا بار بار پڑھو مگر تشنگی باقی رہ جاتی ہے ریاض عاقب کوہلر کے سارے ناول انگنت بار میں پڑھ چکا ہو مگر دل کو تسلی نہیں ہوتی
اسکا چوتھا پارٹ بھی آنے والا ہے اسالٹر کے نام سے جسکا شدت سے انتظار ہے
شکریہ
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top