• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Spy Fiction قربانی کا سفر ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,726
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
ہونا تو نہیں چاہیے تھا، مگر پھر بھی لیفٹیننٹ جانباز سے میجر سکندر کو ہمیشہ ایک بےنام سی جلن محسوس ہوتی تھی۔ حالانکہ جانباز اس کا ماتحت تھا اور اس کے ہر حکم پر سرِتسلیم خم کر دیتا، مگر پھر بھی وہ سکندر کو ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔آج کل وہ ایک مشن پر کشمیر کی وادی کے ایک دور دراز گاؤں امیر آباد آئے ہوئے تھے۔ اس گاؤں میں ہندو اور مسلمان دونوں ہی بڑی تعداد میں آباد تھے۔ عیدالاضحیٰ کے دن قریب تھے۔ ہندو شدت سے چاہتے تھے کہ ان کے مذہبی جذبات کو مجروح نہ کیا جائے اور گاؤ ماتا کو قربان نہ کیا جائے، مگر مسلمان بھی اپنا فریضہ ادا کرنے پر مصر تھے۔باوثوق ذرائع سے خبر ملی تھی کہ ہندوؤں نے وقتِ قربانی دھاوا بول دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ مسلمان ہماری ماتا کو قربان کرنا چاہتے ہیں، ان سالوں کا گلا تو ہم کاٹیں گے! یہ جملہ ان کے درمیان عام سنائی دیتا تھا۔دو دن بعد عید تھی اور پورا لائحۂ عمل تیار کیا جا چکا تھا۔رات کو بیرک میں لیٹے میجر سکندر تمام پہلوؤں پر غور کر رہے تھے۔ تقاضا ہوا تو بیت الخلا جانے کے لیے اٹھے۔ قسمت کی خرابی کہ برف پر پھیلتے چلے گئے۔ پاؤں کچھ ایسے مڑا کہ بیرک میں موجود ڈاکٹر نے تشخیص کی کہ ٹخنے میں چِیر آگیا ہے۔ مکمل آرام ضروری ہے، ورنہ معاملہ اتنا بگڑ سکتا ہے کہ شاید عمر بھر نہ ٹھیک ہو۔درد بھی ناقابلِ برداشت تھا، جو دردکش گولیوں سے بھی کم نہ ہوتا۔ طوعاً و کرہاً انہوں نے پیس کیمپ سے بٹالین رابطہ کیا اور متبادل میجر رینک کے افسر کو بھیجنے کی درخواست کی۔اتنے قلیل وقت میں کسی کا وہاں پہنچنا اور حالات کو سمجھنا مشکل ہے، آپ کمانڈ لیفٹیننٹ جانباز کو دے دیں-وہی ہوا جس کا ڈر تھا — سارا کریڈٹ اس جانباز کو ملے گا۔ میجر سکندر دل مسوس کر رہ گیا۔
☆☆☆

پنڈت نارائن اُن لوگوں میں سے تھا جو لڑ مرنے کے لیے تیار تھے؛ اس کی سوچ یہ تھی کہ کشمیر کسی طور انہی کے حوالے نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ جہاں تک ممکن ہو، مخالفوں کی نسل کشی کی جائے — نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔ اس سے بہتر کوئی حل اس کے نزدیک نہیں تھا۔ دہائیوں سے اس نے اپنے جوان تیار کر رکھے تھے — مکمل تربیت یافتہ، مقید اور خطرناک۔ایک سال پہلے اس نے پانچ جوان امیر آباد گاؤں میں بھیجے تھے۔ یہ جوان نام، شناخت اور مذہب بدل کر امیر آباد کے مسلمانوں میں گھل مل کر رہ رہے تھے۔ منصوبہ یہ تھا کہ جب مسلمان اپنی بظاہر عید پر گاؤ ماتا کی قربانی کریں گے تو یہ جوان گاؤ ماتا کی جگہ مسلمانوں کی قربانی کروا دیں گے۔ علاقے کے شرپسند ہندوؤں کے ساتھ پہلے ہی ان کا گٹھ جوڑ طے پا چکا تھا کہ وہ بھی ان کے ساتھ دھاوا بول دیں گے اور مسلمانوں کو ختم کر دیں گے۔کل مسلمانوں کی عید تھی۔ پنڈت بین الاقوامی سکون کے ساتھ مطمئن تھا کہ اس کی تربیت کمزور نہیں تھی — یہ نسل کشی ضرور ہو کر رہے گی۔ تبھی فون بجا۔ اس نے فون اٹھایا۔نمستے پنڈت جی، یہ رام تھا، مشن پر بھیجے جانے والے جوانوں میں سب سے کم عمر۔مشن یاد ہے نا؟ پنڈت نے تصدیق چاہی۔جی پنڈت جی، جان دے دیں گے، مگر ان لوگوں کو گاؤ ماتا کا گلا کاٹنے نہیں دیں گے، رام نے کہا۔اور اگر پکڑے گئے تو؟ کیپسول نگل لیں گے۔ رام اس سائنائیڈ کیپسول کی طرف اشارہ کر رہا تھا جو ہر مشن پر جانے والے کے گلے میں ہوتا تھا۔ شاباش، میرے بچے، پنڈت نارائن مسکرا کر بولا۔پنڈت جی، لیتا کیسی ہے؟ رام نے پوچھا۔بڑی ہو گئی ہے، پنڈت نارائن نے مسکرا کر احوال سنایا۔ پھر بولا، بات کرواؤ۔پنڈت نے آواز دی تو پانچ سالہ لیتا دوڑتی آئی اور چہک کر باتیں کرنے لگی۔ رام اور لیتا بہن بھائی تھے۔ ہندو مسلم فسادات نے ان کے ماں باپ کو نگل لیا تھا۔ تب سے وہ پنڈت نارائن کے پاس تھے۔ رام مشن پر جانے سے پہلے لیتا کی فکر میں مبتلا تھا، مگر پنڈت کی پدرانہ شفقت سے بھی واقف تھا۔ دل پر پتھر رکھ کر وہ مشن پر چلا گیا اور لیتا پنڈت جی کے پاس رہ گئی۔ فون بند ہوا؛ لیتا مسکراتی ہوئی مرغیوں کے ساتھ کھیلنے چلی گئی۔ ہے رام، میرے رام کو آشیرواد دے، پنڈت نارائن ہاتھ جوڑ کر دعا کر رہا تھا۔
☆☆☆

مسلمان عید کی نماز پڑھ کر آئے اور اپنے بکرے، دُنبے اور گائیوں کو قربان کرنے کی تیاری کرنے لگے۔ امیر آباد میں رواج تھا کہ لوگ گھروں کی جگہ قربان گاہ میں جانور قربان کرتے تھے۔ رام، وِجے، سنیل، امریش اور جگدیش مسلح ہو کر تاک میں بیٹھے تھے۔ امریش ان کا سربراہ تھا، باقی لڑکوں نے اس کی بات ماننی تھی۔جیسے ہی وہ دھاوا بولتے، ہندو لڑکوں کی ایک **پلٹون** بھی آ پہنچی۔ قبل اس کے کہ جانور قربانی کے لیے گرائے جاتے، امریش نے جے رام کا نعرہ لگایا اور لڑکے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔لیفٹیننٹ جانباز بھی اپنی **پلٹون** کے ساتھ تیار تھا۔ لڑکے ابھی چھری چاقو چلا بھی نہ پائے تھے کہ بندوقوں سے لیس سپاہیوں نے انہیں حصار میں لے لیا۔ امریش اور جگدیش لڑ مرنے کو آگے بڑھے۔ دو سپاہی امریش کے چاقو سے زخمی بھی ہوئے، مگر جانباز کی گولی اس کے سینے پر لگی۔ وہ تڑپا، کچھ لمحے سسکتا رہا، پھر ساکت ہو گیا۔لڑکے تربیت یافتہ تھے، مگر بہرحال فوج کے مقابلے میں کمزور اور نہتے تھے۔ جب انہوں نے امریش کا یہ حال دیکھا تو فوراً کیپسول نگل لیا اور تڑپنے لگے۔ لیفٹیننٹ جانباز چیخ کر رہ گیا کہ کاش کم از کم ایک لڑکا تو زندہ ہاتھ آتا تاکہ ان کے سرغنہ کا پتا چلتا۔ ایک لڑکا اس کی گولی کا نشانہ بنا اور تین نے کیپسول پھانک لیا۔ یوں کوئی سراغ ہاتھ نہ لگ سکا۔رام، جو ابھی حملے کا حصہ نہیں بنا تھا، اپنا چھرا چھپاتا پیچھے ہٹنے لگا اور عام لوگوں میں گھل مل گیا۔ یوں بھی وہ مسلمان کے بھیس میں تھا، کسی کو پتا نہ چلا اور وہ بچ گیا۔اتنے میں ایک بچہ دوڑتا ہوا گھروں کی طرف سے آیا۔ہندوؤں نے ہمارے گھروں کو آگ لگا دی ہے، جلدی آ کر بچا لیں!علاقے کے مردوں نے جب سنا کہ ان کے گھر، جہاں ان کی بیویاں اور بچے قربانی کے گوشت کا انتظار کر رہے تھے، اب آگ کی لپیٹ میں ہیں، تو وہ دوڑتے ہوئے انہیں بچانے کے لیے نکلے۔ ان سے زیادہ پھرتی لیفٹیننٹ جانباز کے اشارے پر فوجی جوانوں نے دکھائی اور آبادی کی طرف بھاگے۔ جانباز سب سے آگے تھا۔راستے میں اس نے دیکھا کہ چند اوباش ہندو لڑکے، جن کے ہاتھوں میں جلتی ہوئی لکڑیاں تھیں، ایک لڑکی کو گھیرے کھڑے ہیں اور شیطانی قہقہے لگاتے ہوئے اسے چھونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جانباز آگے بڑھا اور ایک لڑکے کے جبڑے پر گھونسا مارا۔ دوسرے نے اس پر جلتی لکڑی سے وار کیا تو وہ جھک کر بچ گیا اور پھرتی سے لکڑی چھین لی۔ چند منٹوں کی بات تھی، وہ تینوں زمین پر چت ہو گئے۔میرے ساتھ آؤ محترمہ، لڑکی کا ہاتھ پکڑے وہ آبادی کی طرف چل پڑا۔ لڑکی کی ذمہ داری دو مسلمان مردوں کے حوالے کر کے وہ اس ہندو ہجوم تک پہنچ چکا تھا جو مسلمانوں کو زندہ جلانا چاہتے تھے۔ہجوم عام لوگوں کا تھا۔ یہ ان کے گمان میں بھی نہ تھا کہ فوجی اتنی جلدی ان کے سروں پر آن پہنچیں گے۔ وہ بوکھلا گئے۔ کچھ لوگ لڑنے کو آگے بڑھے، مگر جبڑوں پر پڑے گھونسے اور پیٹھ پر پڑی لاتیں ہی کافی ثابت ہوئیں۔ باقی کام ہوائی فائرنگ نے کر دیا۔جلد ہی وہ فوج کے نرغے میں آ چکے تھے۔ مسلمانوں نے اپنے جلتے گھروں پر پانی ڈالنا شروع کر دیا اور اپنے بوڑھے ماں باپ، بیوی بچوں کو بچانے کی کوشش کرنے لگے۔ چند لوگ معمولی طور پر جلے تھے، مگر کسی بڑے جانی نقصان سے محفوظ رہے۔
☆☆☆

عابدہ سرکاری ٹی وی کی ایک پرانی اور مستقل ملازمہ تھی۔ وہ نہ صرف نیوز براڈکاسٹنگ کرتی تھی بلکہ انٹرویو لینے بھی جایا کرتی تھی۔ آج وہ کشمیر کی برف زار وادیوں میں جان پر کھیل کر لوگوں کو بڑے جانی نقصان سے بچانے والے لیفٹیننٹ جانباز کا انٹرویو لینے آئی تھی۔یہ صرف آپ کا نام ہی نہیں، بلکہ آپ کے کارنامے بھی جان بازوں والے ہیں، عابدہ مسکرا کر کہہ رہی تھی۔جانباز بس مسکرا دیا۔ وہ اتنا مشہور ہو گیا تھا کہ ٹیلی ویژن والے اس کا انٹرویو لینے پہنچ گئے تھے۔اپنی فیملی کے بارے میں؟ عابدہ نے سوال کیا۔سب ٹھیک ہے۔ وہ گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔ میرا کوئی نہیں…کیا مطلب؟ عابدہ کو اچنبھا ہوا۔بچپن میں سیلاب میں ماں باپ، بہن بھائی، چچا، ماموں، دادا دادی، سب بہہ گئے۔ میرا بچپن یتیم خانے میں گزرا، جانباز کے چہرے پر آئی مسکراہٹ میں صبر کی چاشنی تھی۔ عابدہ اس جوان کو دیکھ کر رہ گئی۔ شاید اس کا سب کچھ یہی سرزمین تھی۔اور شادی؟شادی کرنا چاہتا ہوں، مگر کوئی رشتہ دار نہیں جو کہیں بات چلائے۔میں آپ کے لیے لڑکی ڈھونڈوں گی، عابدہ مسکرا کر بولی۔ اور دوبارہ یہ مت کہیے گا کہ آپ کا کوئی نہیں۔ میں آپ کی بڑی بہن ہوں۔ آپ پاکستان میں رہنے والے ہر ماں باپ کے بیٹے ہیں، ہر لڑکے کے دوست ہیں، اور ہر لڑکی کے بھائی…سوائے اس لڑکی کے، جس سے میری شادی ہوگی۔یہ کہہ کر جانباز ہنس پڑا، اور عابدہ بھی قہقہہ لگا کر ہنس دی۔دور کھڑے میجر سکندر، جو بند کمرے کے شیشے سے یہ ریکارڈنگ دیکھ رہے تھے، دونوں کو ہنستے دیکھ کر دل مسوس کر رہ گئے۔ اگر اُس دن ان کے ٹخنے کو چوٹ نہ لگی ہوتی تو آج جانباز کی جگہ وہ خود ہیرو بنے بیٹھے ہوتے۔وہ بڑبڑائے کہ وہیں ہندوؤں کے چھری چاقو سے کٹ کر مر کیوں نہیں گیا یہ جانباز۔انہوں نے اسی زخمی پاؤں سے دیوار کو ٹھوکر ماری اور کراہ کر رہ گئے۔عابدہ ریکارڈنگ کے اختتام پر کہہ رہی تھی کہ میں پورے پاکستان سے التماس کرتی ہوں کہ ملک کے اس جانباز سپوت کو خط لکھیں اور انہیں بتائیں کہ جانباز ان کے بھائی، بیٹے، بھانجے، بھتیجے ہیں۔یوں انٹرویو اختتام کو پہنچا۔
☆☆☆

چند دن بعد کا قصہ ہے۔ رجمنٹ پر ڈاکیہ ڈاک دینے آیا تو چند لفافے لیفٹیننٹ جانباز کے لیے بھی تھے۔ جانباز، جو ملک کا ہیرو بن چکا تھا، رجمنٹ میں بھی ایک الگ پہچان رکھتا تھا۔ اس نے بڑی حیرانی سے لفافے وصول کیے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بھلا کس نے اسے خط لکھے ہیں۔ بے صبری چھپاتے ہوئے وہ اپنے بیرک میں آیا اور خط کھول کر پڑھنے لگا۔ لکھا تھا کہ میں کوئٹہ سے لکھ رہا ہوں، آج سے میرے دو نہیں تین بیٹے ہیں اور تمہارے دو چھوٹے بھائی۔ چھٹیوں میں تمہارا انتظار رہے گا، تمہارا والد۔ یہ پڑھتے ہی اس کے جسم میں بجلی کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔ آنکھیں دھندلانے لگیں۔ اس کے ہم وطن اسے اپنانے کے لیے تیار کھڑے تھے۔ تمہارا چچا، تمہاری خالہ، تمہاری بہن — تمام خطوط کا مضمون تقریباً ایک سا تھا۔ جانباز نے کاغذ قلم نکالا، سب خطوط کے جواب دیے اور اگلے دن ڈاکیے کے حوالے کر دیے۔ ڈاکیہ چند اور خطوط بھی لایا تھا، ان کا متن بھی پہلے خطوط جیسا ہی تھا۔ کتنے لوگوں کا وہ منہ بولا بیٹا، بھائی، بھانجا اور بھتیجا بن گیا تھا۔ ان چھٹیوں میں وہ ملک گیر دورے پر نکلنے والا تھا اور سب سے ملنے جائے گا۔ آخری خط کا لفافہ چاک کرتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا کہ اب کے بار کس کا پیغام ہو گا۔ یہ خط ایسا تھا جس نے اسے بھٹکنے پر مجبور کر دیا۔ آغاز ہی کچھ عجیب تھا۔ “اوئے جانباز” طرز تخاطب پر ہی وہ رک گیا۔ لکھا تھا کہ تم نے جھوٹ کیوں بولا کہ تمہارا کوئی نہیں؟ تم کیسے مجھے بھول سکتے ہو؟ نکاح کے دو بول پڑھوا کر اپنا بنانے کے بعد لوگوں سے چھپاتے کیوں پھر رہے ہو؟ مانا کہ ہم جھگڑتے رہتے ہیں مگر وہ کون سے میاں بیوی ہیں جو جھگڑتے نہیں؟ اب ناراضی چھوڑو اور مان جاؤ۔ اس دفعہ جب آنا تو کشمیری شال لیتے آنا۔ تمہاری زوجہ ماہا۔ ماہا! زیر لب اس نے نام دہرایا۔ ابھی تک لوگوں نے اسے بھائی، بیٹا، بھتیجا بنایا تھا مگر ان محترمہ نے تو خاوند بنا لیا تھا۔ خط سینے پر رکھے وہ لیٹ گیا اور مسکرانے لگا۔ لفظ تمہاری زوجہ دہراتا تو ایک سرسراہٹ پورے جسم میں دوڑ جاتی۔ پھر دن مہینوں میں بدلنے لگے۔ زوجہ نامدار ماہا کے فرمائشی خطوط آتے رہے۔ کبھی اخروٹ کی فرمائش ہوتی تو کبھی خشک خوبانی کی۔ جانباز کو ان خطوط کا انتظار رہنے لگا۔ شروع میں جسے وہ بچگانہ بلکہ احمقانہ حرکت سمجھتا تھا، اب اسی کے لیے اس کے دل میں جذبات پیدا ہونے لگے۔ “آپ کی زوجہ” کے الفاظ دل دھڑکانے لگے۔ رجمنٹ میں مشہور ہونے لگا کہ جانباز شادی شدہ ہے اور اس کی بیوی، ٹیلیفون کے زمانے میں بھی، اسے خط بھیجتی ہے۔ ایک دن میجر سکندر نے پوچھا کہ تمہاری شادی ہو گئی؟ کہنا تو نہیں تھا مگر اس کے منہ سے جی نکل گیا۔ میجر سکندر نے حیرت سے کہا کہ مجھے نہیں پتا تھا اور آگے بڑھ گئے۔ جانباز نے زیر لب کہا کہ مجھے بھی نہیں۔ مگر ایک مسئلہ تھا، خط لکھنے والی نہ پتہ لکھتی تھی نہ فون نمبر۔ اب وہ کیسے رابطہ کرے؟ سالانہ چھٹیاں آنے والی تھیں اور وہ چاہتا تھا کہ اس ماہا نامی لڑکی سے، جو خود کو اس کی زوجہ کہتی ہے، مل آئے۔ مگر وہ رہتی کہاں ہے؟ وہ پتا اور نمبر کے بغیر کیسے جان پائے؟ وہ اسی کشمکش میں تھا کہ ایک اور خط آیا۔ اس میں لکھا تھا کہ اس مہینے کی پچیس تاریخ کو بہاولپور میں میجک شو ہو رہا ہے۔ مجھے ایسی شعبدہ بازی دیکھنے کا کوئی شوق نہیں مگر سہیلی بہت دلدادہ ہے، اس لیے جانا پڑے گا۔ اب کے بار آؤ گے تو گجرے پہنوں گی۔ بھائی کو بھابھی کے لیے لیتے دیکھتی ہوں تو ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔ تمہاری زوجہ ماہا۔ بہاولپور، پچیس تاریخ! جانباز خوشی سے کھل اٹھا۔ چھٹیاں ستائیس سے تھیں، اس نے اضافی چھٹیاں لیں اور نوابوں کی سرزمین بہاولپور میں سجنے والے میجک شو میں اپنی “زوجہ” کو ڈھونڈنے پہنچ گیا۔ شو شروع ہو چکا تھا۔ سینکڑوں کا مجمع تھا۔ اب ماہا کو کیسے ڈھونڈے؟ فوجی تھا، نڈر اور بے باک۔ اسٹیج پر چڑھ گیا اور کرتب دکھاتے جادوگر سے کہا کہ اگلے جادو کے لیے اس کی زوجہ ماہا کا نام لے۔ جادوگر اس کی مداخلت سے کچھ پریشان تو ہوا مگر اس نے نام لے ہی لیا۔ لیفٹیننٹ جانباز کی زوجہ ماہا۔ اگلی قطار میں بیٹھی ایک لڑکی بےاختیاری میں سر پکڑ کر کھڑی ہو گئی۔ تماش بین اندھیرے میں تھے مگر جانباز کا مسئلہ حل ہو گیا تھا۔ وہ چھلانگ لگا کر اترا اور سیکنڈوں میں ماہا تک پہنچ گیا۔ جادوگر افرا تفری کو سمیٹنے کے لیے اگلا جادو دکھانے لگا۔ جانباز اس کے قریب بیٹھ گیا اور بولا، تو تم ہو میری زوجہ۔ ماہا بوکھلا کر سہیلی کا ہاتھ پکڑ کر جانے لگی تو جانباز بھی پیچھے ہو لیا۔ باہر پہنچ کر اس نے صدا لگائی کہ یہ تو لے لو۔ ماہا نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ خطوط لیے کھڑا تھا۔ اس نے کہا، ان تمام خطوط کا جواب جو تم نے لکھے۔ مذاق میں چند خطوط کیا لکھ دیے، تم تو کشمیر سے آدھمکے۔ جانباز مسکرا کر بولا، تو اس مذاق کو حقیقت کا روپ دیتے ہیں، مجھ سے شادی کرو گی؟ ماہا سہم گئی، کچھ نہ بولی اور دوڑ کر دور چلی گئی۔ جانباز نے پکارا کہ جواب تو دے دو مگر وہ ایک شاندار گاڑی میں جا بیٹھی اور سہیلی کا انتظار کرنے لگی۔ جانباز نے اس کی سہیلی سے پوچھا کہ اپنی سہیلی کا پتہ تو بتاتی جائیں۔ وہ کچھ دیر تذبذب میں رہی پھر بولی، چراغ محل۔ اگلے دن جانباز چراغ محل کے دروازے پر کھڑا اندر جانے کی اجازت طلب کر رہا تھا۔ پوچھا گیا کہ کس سے ملنا ہے، تو وہ ہچکچاتے ہوئے بولا، ماہا سے۔ نواب زادی کی ٹیچر؟ اسے تب معلوم ہوا کہ ماہا دراصل نواب زادی کی معلمہ ہے۔ انٹرکام پر اجازت طلب کی گئی اور اسے دو دربان جیسے ملازمین کی قیادت میں مہمان خانے میں بٹھا دیا گیا۔ چند لمحوں بعد ماہا آئی تو وہ بوکھلا سی گئی۔ اس نے حیرت اور خفگی سے کہا کہ یہاں کیوں آ گئے؟کل سوچتا رہا، بھلا ایک لڑکی کیسے ایک لڑکے کو ہاں کر سکتی ہے، جب یہ نہ جانتی ہو کہ وہ کہاں رہتا ہے اور کتنا کماتا ہے؟ تو جناب! میری تنخواہ دس ہزار ہے۔ اگلے سال اس میں کچھ اضافہ ہو جائے گا۔ گھر اپنا نہیں ہے، البتہ بینک میں پیسے ہیں اور چند سالوں میں اتنے ہو جائیں گے کہ پانچ مرلے کا گھر خرید سکوں۔ اب بولو، قبول ہے؟ ماہا خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔ میرا کوئی نہیں ہے جو تمہارے والد سے بات کرے۔ اگر تم ہاں کہ دو گی، تو میں خود ان سے بات کر لوں گا۔ماہا ویسے ہی خالی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔ کل مجھے بارہ بجے کی گاڑی سے بہاول پور سے کوئٹہ جانا ہے۔ وہاں اپنے منہ بولے والدین سے ملنا ہے۔ سوچ لو، اگر جواب ہاں میں ہے تو بارہ بجے سے پہلے اسٹیشن پر آجانا۔ نواب زادی کی ٹیچر کو ایک اجنبی کے آنے سے وقت نہ ملے، نواب صاحب اعتراض نہ کریں، اس لیے وہ جلدی سے واپس ہو گئی اور ٹیچر یوں ہی خالی آنکھوں کی مورتی بنی رہی۔
☆☆☆

تو پھر کیا سوچا ہے تم نے؟ وہ گاڑی میں اپنی دوست حرا کے ساتھ بیٹھی تھی۔ ہاں کہہ دوں گی… ڈرائیو کرتے ہوئے وہ مسکرائی۔ کیا اتنا سیدھا ہے؟ حرا کی بات پر جیسے خواب ٹوٹ گئے۔ جانباز کے پاؤں بریک پر پڑے اور گاڑی اچانک رک گئی۔ پیچھے آتی گاڑیاں بھی یکدم رک گئیں اور پچھلی گاڑی سے گارڈ آگے آیا۔ نواب زادی صاحب، سب ٹھیک ہے؟ نواب زادی کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں، جلدی سے کالا چشمہ لگا کر آنسو چھپائے۔ سب ٹھیک ہے، وہ گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی۔تم ماہا نہیں، نواب زادی مہر النساء ہو، ریاست بہاول پور کی شہزادی، اور وہ ایک عام فوجی۔ تم دونوں کا کیا جوڑ! بس کرو یہ مذاق، بتا دو اسے حقیقت۔ حرا کے الفاظ کاٹ رکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اگلے دن جانباز جھانک کر دیکھتا رہا۔ کہیں سے ماہا آتی دکھائی نہ دی۔ پھر برقعے میں موجود ایک لڑکی نے اس کا کندھا تھپتھپایا۔ جانباز خوشی سے اچھل پڑا۔کیا یہ ہاں ہے؟ کوئٹہ بعد میں جانا، کل میں تم سے ملتان، بہاؤ الدین زکریا کے مزار پر ملوں گی، کچھ باتیں بتانی ہیں جو یہاں ممکن نہیں۔ ماہا جیسے آئی ویسے چلی گئی۔ کیا یہ ہاں ہے؟ وہ جانباز کو شش و پنج میں ڈال گئی۔
☆☆☆

نواب صاحب نے تقسیم کے بعد اپنی ریاست کا الحاق، پاکستان کے ساتھ اور سینکڑوں ایکڑ زمین حکومت پاکستان کو ڈونیٹ کی تھی کہ پھر بھی کم نہ ہوئی۔ بادشاہوں اور شہنشاہوں کو بھی اپنا طرز زندگی برقرار رکھنے کے لیے مالی حکمت عملی سے چلنا پڑتا ہے، اس لیے ریاست میں جو زرعی زمین اور فارم تھے ، سو تھے ، بیرون ملک میں بھی ان کے کئی بزنس تھے، جن میں سے نمایاں بزنس سرزمین عمان پر موجود اشیائے خوردو نوش کی فیکٹریاں تھیں۔ ان فیکٹریوں میں اعلیٰ معیار کا سامان تیار کیا جاتا، جو تمام خلیجی ممالک میں یکساں مقبول تھا۔چند دن پہلے کی بات ہے کہ شاہی ایلچی نواب صاحب کے محل میں شہنشاہ عمان کا خط لے کر حاضر ہوا۔ یہ خط دراصل ایک عشائیے کا دعوت نامہ تھا، جس میں شہنشاہ عمان کسی خاص امور پر بات کرنا چاہتے تھے۔ نواب صاحب نے دعوت قبول کرتے ہوئے پہلی فرصت میں عمان کا سفر کیا۔شہنشاہ عمان نے اپنے بیٹے، شہزادہ عمار، کے لیے نواب صاحب کی بیٹی، نواب زادی مہر النساء، کا ہاتھ مانگا۔ نواب صاحب خود بھی مہر النساء کی شادی کرنا چاہتے تھے۔ لاہور اور کراچی کے چند بڑے انڈسٹریلسٹ امراء کی طرف سے پیغام تو موصول ہوئے تھے، مگر عمان کا شاہی خاندان مہر النساء کو بہو بنانا چاہتا تھا۔ یہ خوش قسمتی کی بات تھی، گو کہ اس رشتہ داری میں شہنشاہ عمان کو بھی فائدہ تھا کیونکہ عمان میں پھیلا ہوا نواب صاحب کا کاروبار شہزادہ عمار کے اختیار میں آ جاتا۔مسکراتے ہوئے نواب صاحب نے ہاں کر دی۔ وطن واپسی پر اہلیہ کو خوشی سے بتاتے ہوئے انہوں نے پوچھا، لخت جگر کہاں ہے؟ نواب بیگم نے جواب دیا، مہر النساء اپنی سہیلی کے ساتھ بہاؤ الدین ذکریا کے دربار میں حاضری کے لیے گئی ہے۔
☆☆☆

میں نے وہ خط مذاق میں لکھے تھے۔ تو اس مذاق کو حقیقت کا روپ دے دیتے ہیں۔ یہ سب اتنا آسان نہیں۔ تو آسان بناتے ہیں۔ جانبار! ماہا چپ سی ہوئی۔ ہائے، آج پتا چلا کہ میرا نام کتنا شیریں ہے۔ ماہا خفگی سے اسے دیکھتی رہی۔ وہ دونوں یوں باتیں کر رہے تھے جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔ یہ بات یک وقت ان دونوں کے ذہن میں آئی اور جانباز کے ہونٹوں پر آنے پر اسے ایک پل ملا۔آج ہم چوتھی دفعہ مل رہے ہیں، لیکن یوں لگتا ہے… چوتھی نہیں، پانچویں۔ ماہانہ تصحیح کرنا ضروری سمجھی۔ جانباز نے گنے لگا۔ میجک شو، چراغ محل، ریلوے اسٹیشن اور اب دربار، یہ پانچویں ملاقات ہے۔ کشمیر کے گاؤں امیر آباد میں جب ایک لڑکی کو چند لڑکوں نے گھیر رکھا تھا اور تم نے اس کی جان اور عزت بچائی تھی، وہ لڑکی… میں تھی۔نواب زادی نواب صاحب کی اجازت سے سہیلیوں کے ساتھ کشمیر کی برف دیکھنے گئی تھی، کہ عام کشمیریوں کا رہن سہن دیکھنے کے چکر میں اکیلی گاؤں چلی آئی اور وہاں غنڈوں نے گھیر لیا۔ پہلی ملاقات کا قصہ سن کر جانباز کو ادراک ہوا کہ کیوں ایک لڑکی اسے زوجہ بن کر خط لکھنے لگی تھی۔ وہ ہنسنے لگا اور ہنس ہنس کر دہر ا ہوگیا۔ ماہا خفگی سے اسے دیکھتی رہی۔میں کچھ نہیں سنوں گا، اب تو تمہیں اپنی زوجہ بنا کر رہوں گا۔ لیکن ماہا حقیقت بتانے کی کوشش کرتی رہی۔ تبھی جانباز کی نظر دور سے آتے ایک جوڑے اور ساتھ موجود ننھے بچے پر پڑی۔ یہ میجر سکندر تھے، اپنی فیملی کے ساتھ۔ جانباز ایک منٹ میں دوڑتا ہوا میجر سکندر تک پہنچا۔ میجر صاحب ملتان کے رہائشی تھے۔ وہ بھی چھٹیوں پر گھر آئے ہوئے تھے اور آج بیگم اور بچی کے ساتھ دربار پر حاضری دینے آئے تھے۔ جانباز کو دیکھ کر ان کا منہ بن گیا: یہ یہاں بھی آ پہنچا۔لیفٹیننٹ جانباز، آپ تو واقعی جانباز ہیں، میں نے آپ کا انٹرویو ٹی وی پر دیکھا تھا۔ اور یہ لڑکی کون ہے؟ میجر سکندر کے برعکس ان کی اہلیہ خوش گپیاں کرنے لگیں۔ میری ہونے والی بیوی… چشم بدور، خوب جوڑی ہے۔اس وقت وہ ہندوستانی جوان رام بھی دربار کے احاطے میں گھوم پھر رہا تھا۔ وہ واپس پنڈت نارائن کے پاس نہ جا سکا اور کشمیر میں بھیس بدل کر رہنا بھی مشکل تھا، اس لیے جو گاڑی ملی، اس میں بیٹھ گیا۔ گاڑی نے اسے ملتان میں اتارا۔ اب وہ اپنی بہن کو یاد کرتا رہتا اور واپس ہندوستان جانے کے منصوبے بناتا رہتا۔ جانباز کو یہاں دیکھ کر اسے آگ لگ گئی۔یہ سالا پاکستانی فوجی… اگر اس دن ہیرو گیری نہ دکھاتا، تو نہ میرے ساتھی مرتے اور نہ میں آج یوں بھٹک رہا ہوتا۔ غصہ کچھ ایسا غالب آیا کہ نیفے میں اڑ سا چاقو نکال کر وہ جانباز کے سامنے آکھڑا ہوا اور تیزی میں کیے گئے پہلے وار سے ہی جانباز کا دایاں بازو زخمی کر دیا۔ جانباز اس حملے کے لیے تیار نہ تھا۔ قبل اس کے کہ رام دوسرا وار کرتا، میجر سکندر نے اسے پکڑ لیا۔ ان کے مضبوط بازوؤں میں وہ بے بس پرندے کی طرح پھڑ پھڑا کر رہ گیا۔زخمی جانباز کو فوجی اسپتال طبی امداد کے لیے لے گئے۔ پریشان ماہا بھی ساتھ تھی۔ جب طبی امداد اور ڈریسنگ کے بعد جانباز کو ڈسچارج کر دیا گیا، تب تلک دن کا اجالا مغرب کے بعد کے جامنی رنگ میں ڈھل چکا تھا۔ ماہا اور اس کی سہیلی اب رخصت چاہتی تھیں۔ہاں کہہ دو، تنخواہ کے دس ہزار تمہارے ہاتھ پر رکھوں گا، جانباز کہہ رہا تھا۔ ماہا چپ ہی رہی۔ ملکہ بنا کے رکھوں گا، خاص تخت بنواؤں گا، تخت سلیمان جیسا جس پر بیٹھ کر تم حکم چلاو… تخت سلیمان جیسا، اس افسردگی میں بھی وہ مسکرادی۔ بالکل، جانباز کی آنکھوں میں یقین تھا۔ماہا کچھ نہ کہا، چپ چاپ چل دی۔ کوریڈور کے دوسرے کنارے پہنچی، پھر مڑ کر دیکھا اور بولی: ہاں… کوئٹہ سے اپنے منہ بولے ماں باپ سے ملتے ہوئے، جب چھٹیوں کے بعد واپس ڈیوٹی پر پہنچا، تو ٹی وی کے لیے انٹرویو کرنے والی عابدہ کا خط اس کا انتظار کر رہا تھا۔ خط میں خیریت دریافت کرنے کے علاوہ اس کے لیے ایک اچھی سی لڑکی ملنے کی نوید بھی تھی۔خط کا جواب دینے کی بجائے جانباز نے اسے فون کیا۔ لڑکی مل گئی ہے اور آپ کے توسط سے ملی ہے۔ کیسے؟ عابدہ حیران ہوئی۔ جواب میں جانباز نے زوجہ بن کر خط لکھنے والی کے بارے میں بتایا، تو وہ اس فیری ٹیل پر مسکرا دی۔رام کو وہیں ملتان میں ہی انٹیلی جنس کور کی کسٹڈی میں دے دیا گیا تھا۔ سائنائیڈ کیپسول لینے سے پہلے ہی اس کی تلاشی لی گئی تھی۔ اس سے ہندو مسلم فساد کی کوشش کرنے والوں کے بارے میں معلومات انٹیلی جنس نے نکلوائی اور حکام بالا تک پہنچائیں۔ تب حکام بالا نے منتخب فوجیوں کو ایک سیکرٹ مشن پر بھیجا۔ غازی بن کر لوٹنا… برگیڈیئر صاحب نے نوجوانوں کی ہمت باندھائی۔ منتخب فوجیوں کی سربراہی میجر سکندر کر رہے تھے۔ جانباز بھی ان کی ٹیم کا حصہ تھا۔
☆☆☆

نواب زادی مہر النساء جب محل پہنچی تو ماں باپ کو اپنا انتظار کرتے پایا۔ نواب بیگم والہانہ انداز میں آگے بڑھیں اور بیٹی کو گلے لگا کر چومنے لگیں۔ مہر النساء مسکراتی رہی۔ نواب صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے بلایا اور ماتھا چوما۔مہر النساء! ہم نے آپ کا رشتہ سلطنت عمان کے شہزادہ عمار سے طے کر دیا ہے۔ شادی اسی سال کے آخر میں ہوگی۔مہر النساء پر جیسے آسمان ٹوٹ پڑا۔ وہ تو کسی اور کو ہاں کہہ آئی ہے، صرف ہاں ہی نہیں کہہ آئی بلکہ اپنا دل بھی دے آئی ہے۔ فوراً دوڑتے ہوئے وہ وہاں سے چلی آئی۔ شرما گئی… نواب بیگم نے مسکرا کر استفسار کیا۔مہر النساء کی جان سولی پر لٹک گئی تھی۔ وہ ان کم یاب لوگوں میں سے تھی جو دولت اور شہرت سے بیزار ہوتے ہیں۔ نوابوں والی پروٹوکول والی زندگی سے اسے اکتاہٹ محسوس ہوتی تھی، اسی لیے تو حرا کو ساتھ لیے نگر نگر گھومتی۔ اب تو اس کی زندگی میں جانباز آ گیا تھا، وہ جس نے جانبازوں کی طرح اس کی عزت بچائی تھی اور پھر آگے کی کہانی کی ابتدا بھی اس نے ہی کی تھی۔زوجہ بن کر اسے خط لکھے، اس خوش فہمی کے ساتھ کہ یہ یک طرفہ کارروائی ہی رہے گی، مگر جانباز تو اسے ڈھونڈتا ہوا ریاست آن پہنچا۔ یہ بھی مسلمہ حقیقت تھی کہ وہ جانباز کو دل سے چاہنے لگی تھی اور اس کی زوجہ بننا چاہتی تھی، باوجود اس کے کہ وہ اپنی ساری تنخواہ، جو کہ صرف دس ہزار تھی، اس کے ہاتھ پر رکھنے کا داعی تھا۔ جبکہ اس رفتم سے کہیں زیادہ کے لیے امپورٹڈ کپڑے اور جوتے آجاتے، مگر وہ پھر بھی اسی سے شادی کرے گی اور ایک عام فوجی کی بیوی بن کر زندگی گزارے گی۔اسے سلطنت عمان کے شہزادے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نہ ہی وہ نواب زادی کے رتبے سے ترقی پا کر شہزادی یا ملکہ بننا چاہتی تھی، مگر یہ ساری باتیں وہ اپنے والدین کو کیسے بتائے؟ وہ روتی رہتی اور سوچتی رہتی، اس بات سے بے خبر کہ اس کی مشکل آسان ہونے والی ہے۔ وہ نواب زادی تھی۔ ریاست کے لوگ اسے پہچانتے تھے، اس لیے وہ برقع پہن کر جانباز سے ملنے ریلوے اسٹیشن گئی تھی اور تفصیلی ملاقات کے لیے اس نے ملتان کے دربار کا نام لیا تھا، کیونکہ وہاں اسے پہچاننے والا کوئی نہ تھا۔ مگر جب ریلوے اسٹیشن پر لمحے بھر کے لیے جانباز کو چہرہ دکھانے کے لیے اس نے نقاب الٹا، تو ایک نیوز رپورٹر کی نظروں میں آگئی۔ وہ تو ویسے بھی چٹ پٹی خبروں کی تلاش میں تھا۔ اس نے نواب زادی کا تعاقب کیا، یہاں تک کہ مزار پر جانباز کے ساتھ اس کی تصاویر لیں، پھر تین چار دن بعد اخبار کی ہیڈ لائن تھی کہ نواب زادی مہر النساء ایک عام آدمی کی محبت میں گرفتار ہے۔نواب صاحب اخبار کے رسیانے تھے۔ ماتحتوں نے کچھ میگوئیاں ضرور کیں، مگر کسی میں یہ خبر نواب صاحب تک پہنچانے کا حوصلہ نہ تھا۔ آخرکار یہ خبر سلطنت عمان کے سفیر کی آمد کے موقع پر نواب صاحب تک پہنچی۔ اخبار کا سرورق نواب صاحب کو دکھاتے ہوئے حکم شاہی کے مطابق نواب زادی مہر النساء سے تصدیق یا تردید کی خواہش ظاہر کی گئی۔ نواب صاحب اخبار والوں کے جھوٹی خبروں سے خوب واقف تھے، بلا تامل انہوں نے مہر النساء کو بلایا۔نواب صاحب نے کہا کہ نواب زادی اخبار والوں کے مرچ مصالحوں سے خوب واقف ہیں، لیکن اس خبر نے شہزادہ عمار کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ آپ خود اپنی طرف سے تردید کر دیں۔مہر النساء وہاں کھڑی رہی۔ نواب صاحب اور ایلچی اس کے بولنے کا انتظار کرتے رہے، مگر وہ خاموش ہی رہی۔ رفتہ رفتہ نواب صاحب کے ماتھے پر شکنیں ابھریں۔ وہ مہر النساء کے پاس آئے اور سرگوشی سے کہا کہ اگر یہ بات سچ بھی ہے، تو بھی انکار کر دو۔ لمحوں کی خطا کو صدیوں کی سزا پر محیط نہ کرو۔باپ سے محبت اور احترام کا رشتہ تھا، مگر اب لبوں پر مصداق آیا۔ مہر النساء نے ہمت کی اور بولی کہ یہ سچ ہے، میں ایک عام فوجی سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔یہ کہتے ہوئے مہر النساء کی آواز بھیگ گئی اور وہ روتے روتے وہاں سے دوڑی چلی آئی۔ایلچی نے جھک کر سلام کیا اور اپنے راستے ہو لیا۔نواب صاحب ماتھے پر شکن لیے کسی گہری سوچ میں مستغرق تھے۔ چند دنوں میں انہوں نے جانباز کے بارے میںتمام معلومات حاصل کر لیں۔ وہ عام انسان نہ تھے، ایک ریاست کے نواب تھے۔ حکومت پاکستان پر ان کے کئی احسان تھے اور انہوں نے حکام بالا تک رسائی رکھی۔انہوں نے سوچا کہ اس لڑکے کو کسی ایسے مشن پر بھیج دو جہاں وہ شہادت کا درجہ پائے اور جنت میں حوریں اس کا استقبال کریں۔چنانچہ پنڈت نارائن کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے سیکریٹ مشن پلان کیا گیا اور لیفٹیننٹ جانباز اس مشن کی سیکنڈ کمانڈ تھے۔
☆☆☆

مہر النساء کو یہ ناممکن لگا کہ نواب صاحب اسے آزاد کشمیر رجمنٹ کے لیفٹیننٹ جانباز سے ملنے جانے دیں گے، مگر انہوں نے سیکیورٹی گارڈز اور حرا کی موجودگی میں بیٹی کو جانے دیا۔مہر النساء، جو جانباز کی ماہا تھی، کشمیر پہنچ گئی۔ جانباز، جو کچھ سنجیدہ تھا، ماہا کو دیکھ کر حیران رہ گیا اور کھل کر مسکرایا۔میرا دل کہتا تھا کہ اس مشن پر جانے سے پہلے تم سے ملاقات ہو گی۔کون سا مشن؟ مہر النساء، جو نواب صاحب کی رضا مندی کے ساتھ یہ بھی بتانا چاہتی تھی کہ وہ ایک عام لڑکی نہیں بلکہ نواب زادی ہے، لمحے بھر کے لیے ٹھٹھک گئی اور باتیں درمیان میں رہ گئیں۔مقبوضہ کشمیر جا کر پنڈت نارائن کو صفحہ ہستی سے ہٹانے کا مشن، تفصیلات جان کر مہر النساء کی جان حلق میں اٹک گئی۔اگر پکڑے گئے تو؟دعا کرو مار کر آئیں یا پھر شہید ہو جائیں۔ پکڑے گئے تو موت سے بدتر ہو گی۔روتے ہوئے مہر النساء کچھ بول نہ پائی۔ پہلے جب کبھی کسی مشن پر جاتا، تو شہید ہونے کی تمنا ہوتی تھی، کیونکہ پیچھے کوئی انتظار کرنے والا نہیں تھا۔ اب جب انتظار کرنے والا ہے، تو غازی بن کر لوٹنے کی تمنا ہے۔مت جاؤ، ہچکیوں کے درمیان ٹوٹے ہوئے الفاظ نکلے۔دعا کرنا کہ لوٹ آؤں۔ جانباز نے اپنے دونوں ہاتھ مہر النساء کے سر پر رکھ دیے۔
☆☆☆

بھیس بدل کر نارنجی کرتوں میں سادھوؤں کا روپ دھارے تمام فوجی مقبوضہ کشمیر پہنچے اور رات کے اندھیرے میں پنڈت نارائن کے گھر کو محصور کر لیا۔ کئی لوگ آگے آئے تاکہ لڑیں، مگر پاکستانی فوجیوں کے سامنے نہ ٹک سکے۔ پنڈت نارائن، جو غالباً سو رہا تھا، جاگ گیا اور جب جانباز اس کے کمرے تک پہنچا، تو وہ پستول تانے کھڑا تھا۔جانباز آگے بڑھا، پنڈت نے فائر کیا، مگر اس سے قبل ہی جانباز نے ہاتھ بڑھا کر فائر کا رخ چھت کی طرف کر دیا اور پستول اپنے قبضے میں لے لیا۔ پنڈت اب نہتا کھڑا تھا۔ اللہ کا نام لے کر جانباز نے دو فائر کیے اور پنڈت تڑپ تڑپ کر ٹھنڈا ہو گیا۔ تب تلک میجر سکندر بھی وہاں پہنچ گئے۔مرے ہوئے نارائن کو دیکھ کر انہوں نے جانباز کو اشارہ کیا اور منصوبے کے مطابق پنڈت کی رہائش گاہ کو آگ لگا کر وہاں سے نکل گئے۔ نکلتے ہوئے جانباز کے کانوں میں ایک چھوٹی بچی کے رونے کی آواز آئی۔رکو، لیفٹیننٹ، چلو، میجر سکندر نے کہا۔جانباز بچی کی رونے کی آواز نظر انداز نہ کر سکا۔ تمہاری جان بچی کی جان سے زیادہ قیمتی ہے، چلو بھاگو۔جانباز بھاگا، مگر اندر کی طرف گیا اور بچی کو اس کمرے سے نکال لایا۔ یہ بچی رام کی بہن تھی۔ بچی کو لے کر واپس آنے پر اس کے ساتھی بھاگ چکے تھے اور ہندوستانی فوج وہاں پہنچ چکی تھی۔ بچی کو ہندوستانی سپاہی کے حوالے کرنے کے بعد اس نے اپنے ہاتھ ہوا میں بلند کر دیے۔ ایک سپاہی آگے بڑھ کر اس کا پستول اتار لیا۔ اب وہ نہتا تھا اور ہندوستانی فوج کے قبضے میں تھا۔
☆☆☆

میجر سکندر اور دوسرے ساتھی چھپتے چھپاتے کسی نہ کسی طرح آزاد کشمیر پہنچ گئے اور وہاں سے اپنے بٹالین میں رپورٹ دی کہ جانباز پکڑا جا چکا تھا۔ یہ ایک افسوس ناک خبر تھی۔ ہندوستانی حکومت سے جانباز کے لیے رحم کی اپیل کی گئی، مگر وہ کیسے اپنے دشمن کو چھوڑ سکتے تھے، جو اُن کے گھر میں گھس کر درجن بھر آدمیوں کو قتل کر گیا تھا۔مہر النساء روتی دھوتی غم سے پاگل ہو گئی۔ ایسے ہی کئی سال گزر گئے۔ نواب صاحب نے اس کی شادی فیصل آباد کے ایک انڈسٹریلسٹ سے کر دی۔ سال کے چھے ماہ وہ لندن میں اور باقی فیصل آباد میں گزارتی۔ زندگی گزرتی گئی، یہاں تک کہ بچے ہوئے اور اسکول، پھر کالج جانے لگے۔یہ بیس سال بعد کا قصہ ہے۔ ان دنوں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی کافی کم ہو چکی تھی۔ تب ایک لڑکی ڈھونڈتی ڈھونڈتی فیصل آباد میں اس کے گھر آ پہنچی۔ اس کے پاس ایک خط تھا۔ یہ کسی اور کا نہیں، جانباز کا خط تھا۔ ماہا کے لیے ریاست بہاول پور بھیجا گیا تھا، مگر جس محل کا پتا اس میں درج تھا، وہ ڈونیٹ کر دیا گیا تھا۔ اب وہاں سرکاری اسپتال تھا، اس لیے دونوں دفعہ خط واپس چلا گیا۔ چنانچہ وہ لڑکی خود اسے ڈھونڈنے اور خط پہنچانے آتی تھی۔میں لیتا ہوں، بابا بتاتے تھے کہ مجھے بچاتے بچاتے لیفٹیننٹ جانباز خود گرفتار ہو گئے۔ میں یتیم لڑکی تھی، جس کا بھائی پاکستان کی قید میں دم توڑ گیا۔ مجھے ایک کرنل نے گود لیا۔ وہ بے اولاد تھے، انہی کو میں بابا کہتی ہوں۔ یہ خط بابا کو لیفٹیننٹ جانباز نے دیا تھا۔ بابا خود آرمی میں تھے، اس لیے یہ خط پہنچانے نہ آسکے۔اب جب میں بڑی ہو گئی ہوں اور یہ زندگی لیفٹیننٹ جانباز کی وجہ سے ہے، تو قرض اتارنے آنا چاہتی تھی۔ اور جب خط کھولا، تو کانپتے ہاتھوں سے مہر النساء نے پڑھا:میں نہیں جانتا یہ خط تم تک پہنچ پائے گا کہ نہیں، مگر پھر بھی میں اپنے جذبات تم تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں۔ خوابوں میں دیکھتا تھا کہ تمہاری گود میں سر رکھ کر لیٹا ہوں اور تم میرے بال سہلاتی ہو، مگر شاید یہ سب جنت میں ممکن ہو گا۔ لکھنا تو بہت کچھ چاہتا ہوں، مگر لکھ بھی نہیں پا رہا۔ پھانسی کا وقت قریب ہے۔ بس یاد رکھنا! میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں۔ اب جنت میں ملاقات ہو گی۔تمہارا جانبازخط ماہا کے ہاتھ سے گر گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ کیا کہانی تھی اور کیا انجام تھا؟ تبھی اس کی نظر اخبار کے ٹکڑے پر پڑی، جو غالباً خط کے لفافے میں ہی تھا، مگر اس کا دھیان نہیں گیا تھا۔ جھک کر اس نے وہ ٹکڑا اٹھایا۔ یہ بیس سال پرانے اخبار کا ٹکڑا تھا، جس پر عبارت درج تھی:نواب زادی مہر النساء ایک عام آدمی کی محبت میں گرفتار۔ اوپر پین سے لکھا ہوا تھا: پریوں کی دیس کی نواب زادی جو چند ہزار کمانے والے فوجی کے تخت سلیمان بنوا کر دینے کے جھانسے نما وعدے پر یقین کر کے اس سے شادی پر تیار ہو گئی۔اس کے آنسو ٹپ ٹپ جانباز کی لکھی تحریر پر گرنے لگے۔
☆☆☆
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top