- Thread Author
- #1
سردی اپنے پورے شباب پر تھی۔ عموم زندگی کی جوانیاں شام ہوتے ہی ختم ہو جاتی ہیں لیکن امراء طبقہ کی اصل زندگی شام سے ہی شروع ہوتی ہے۔ اس لیے شہر کے تمام بڑے بڑے ہو ٹلوں،رقص گاہوں، جوئے خانوں اور عیاشی کے خفیہ اڈوں میں شام ہوتے ہی چہل پہل شروع ہو جاتی ہے اور پھر صبح تک رنگ و نور کا ایک سیلاب ہر طرف روں دوں نظر آتا۔ رین بو ہوٹل دار الحکومت کا انتہائی شاندار اور وسیع و عریض ہوٹل تھا جہاں صرف اعلیٰ امراء طبقہ ہی داخل ہونے کی جرات کر سکتا تھا۔ ویسے تو چہل پہل یہاں ہر رات ہوتی تھی لیکن آج تو یہ چہل پہل اپنے پورے شباب پر تھی۔ ہول میں کرسیاں انتہائی قرینے سے سجائی گئی تھیں ہر خالی ٹیبل پر ریزرویشن کار ڈلگا ہوا تھا۔ ہال کو اتنے خوبصورت طریقے سے سجایا گیا تھا کہ انسان دیکھتے کادیکھتاہی
رہ جاتا۔ وہ ایسا محسوس کرتا جیسے الف لیلی دنیا میں آپہنچا ہو۔ پورا ہال بھرا ہوا تھا۔ صرف چند میزیں خالی تھیں۔ یہ سجاوٹ اور رونق رقاصہ میری کے دم سے تھی جس کی شہرت کا ستارہ آج کل بام عروج پر پہنچا ہوا
تھا۔ پوری دنیا میں اس کے رقص اور حسن کی شہرت تھی ، ہوٹل رین بو میں یہ اس کا دوسرا اقص تھا۔ کل رقص ہی اتنا جذ بات خیز اور نشہ آور ثابت ہوا کہ لوگ اس کے فن حسن اور شباب پر مر مٹے تھے۔ اس لیے
آج کل سے بھی زیادہ رونق تھی۔ ابھی پروگرام شروع ہونے میں کافی دیر تھی۔ اس لیے تمام لوگ کافی اور شراب وغیرہ سے شغل کر رہے تھے۔ ہال میں ہلکے ہلکے مترنم قمقے گونج رہے تھے جن کی شیرینی کے سامنے ہال میں بجنے والا آرکسٹرا بھی کبھی کبھی ماند پڑ جاتا۔
اچانک ہال کے دروازے پر عمران نمودار ہو اوہ زور سے کھنکھارا تو ایک دم تمام لوگوں کی نظریں اس طرف کی اٹھ گئیں اور پبر ہال میں ایک دم قہقے گونج اٹھے اس کی حالت ہی اتنی مضحکہ خیز تھی کہ سنجیدہ سے سنجیدہ انسان
بھی ہنسنے پر مجبور ہو جاتا۔ ایک تو میکنی کلر لباس پھر چہرے پر حماقت کی دبیز تہیں وہ ہال کو اتنی حیرانگی سے دیکھ رہا تھا جیسے پتھر کے زمانے کا انسان ہو۔ اور یہ سب کچھ زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا ہو۔ دیکھنے کا انداز ہی اتنا مضحکہ
خیز تھا کہ لوگوں کو بے تحاشہ بننے پر مجبور کر دیتا۔ وہ غور سے ہر چیز کو دیکھتا پہلے ایک آنکھ بند کر کے پھر دوسری اور پھر دونوں آنکھیں جب دونوں آنکھوں سے کچھ نہ نظر آتا تو چہرے پر جھنجلا ہٹ طاری ہو جاتی اسے وہاں اس طرح دیکھ دیکھ کر ایک ویٹر ادب سے اس کی طرف بڑھا اور اس سے ریزرویشن کارڈ کے متعلق پوچھنے لگا پہلے تو عمران نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی جب ویٹر زور سے بولا تو وہ ایسے اچھلا جیسے کسی سانپ نے اسے ڈس لیا ہو وہ سنبھلتے سنبھلتے ویٹر کو اپنے ساتھ زمین پر لے آیا ویٹر کے چہرے پر شدید غصے کے آثار تھے آئے۔ لیکن وہ کچھ نہ بولا اور عمران کھڑے ہو کر ایسے کپڑے صاف کر رہا تھا جیسے گرنا اس کا معمول ہو پھر وہ
وہاں سے آہستہ آہستہ چلتا ہوا ایک میز پر جا بیٹھا میز پر اس کے نام کا کارڈ لگا ہوا تھا۔ جو اس کے بیٹھتے ہی پاس کھڑے ہوئے ویٹر نے اٹھا کر میز کے نیچے رکھ دیا اس میز پر چار کرسیاں تھیں۔ عمران نے ساتھ والی کرسی پر ٹانگیں رکھ دیں اور اطمینان سے جیب میں ہاتھ ڈال کر چیونگم کا پیکٹ نکالا اسے پھاڑا اور پھر چیونگم کا ایک پیس منہ میں ڈال لیا۔ لوگ اسے انتہائی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے اور پھر اس کے بیٹھنے کا اند از اب بھی ہنسی لوگوں کی برداشت سے باہر تھی۔ ایک سمارٹ نوجوان پاس والی میز سے اُٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا عمران کے انہماک میں کوئی فرق نہ آیا۔ نوجوان بولا۔ کیا آپ پہلی بار کسی ہوٹل میں آئے ہیں ؟ عمران چونکا اور نوجوان کی طرف دیکھ کر فوراً کھڑا ہوا اور اس کا ہاتھ
پکڑ کر سینے سے لگایا اور زور سے بولا ہائے میری جان تیری تلاش میں میں نے تو سمندر چھان مارے ہیں، روسی راکٹ میں بیٹھ کر خلا میں ہو آیا ہوں مگر تم کہیں نہ ملے تو جوان گھبرا گیا اور غصے سے بولا کیا تم پاگل ہو۔ میری جان ہر عاشق کو پاگل ہی کہا جاتا ہے اور پھر تمھاری جیسی حسینہ کا عاشق نوجوان جھینپ گیا اور پھر اس نے
کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اس کا حالت دیکھ کر ہال میں بیٹھے ہوئے لوگ ہنستے ہنستے بے حال ہو گئے مگر عمران پھر اسی طرح بیٹھ گیا جیسے کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔ اتنے میں صفدر جو لیا اور چوہان ہال میں داخل ہوئے وہ تینوں اعلیٰ لباس میں ملبوس تھے خاص تور پر جو لیا تو آج خوب بن سنور کر آئی تھی آج کی دعوت بھی انھیں عمران نے دی تھی۔ وہ عمران کی طرف تیر کی طرح بڑھے اور ہیلو کا نعرہ لگاتے ہوئے کرسیوں پر بیٹھ گئے مگر جولیا کی کرسی پر تو عمران پیر پھیلائے بیٹھا تھا اس لیے وہ کھڑی رہی اور عمران کی یہ حالت دیکھ کر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
یہ کوئی بیٹھنے کا انداز ہے۔ ہٹاؤ میری کرسی پر سے پیر۔ لیکن عمران بھلا ایسی کچی عرض کہاں سنتا ہے ؟ اس کے کان پر جوں تک نہ رینگی وہ اس طرح پیر پھیلائے چیونگم چباتارہا اب تو جو لیا کا پارہ ایک دم ایک سو دس ڈگری پر پہنچ گیا وہ اور تو کچھ نہ کر سکی۔ اس نے میز پر سے ایش ٹرے اُٹھایا اور عمران کے سر پر دے مارا مگر مقابل بھی عمران تھا۔ اس صدی کا چالاک ترین انسان۔ ایش ٹرے لگنے سے پہلے وہ کرسی چھوڑ چکا تھا جو لیا جھنجلا کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئی۔ عمران پھر اپنی کرسی پر ایسے بیٹھ گیا جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو۔ تمام ہال کی نظریں ان کی طرف تھیں ان میں سے چند کی نظروں میں ملامت کے آثار تھے اور باقی مسکرارہے تھے۔ صفدر عمران کی طرف
دیکھ کر بولا۔ عمران صاحب آج کی دعوت آخر کس مقصد کے لیے ہے؟ آج میں اور جو لیا اپنے عشق کی پہلی سالگرہ منارہے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ دعوت دی ہے ورنہ مجھے کسی حکیم نے بتایا تھا کہ میں اتنے پیسے خرچ کروں صفدر اور چوہان ہنسنے لگے اور جو لیا بھنا کر رہ گئی۔ مگر کچھ نہ بولی۔اس کے بعد باتوں کا سلسلہ چل نکلا عمران نے کافی منگائی تھی آہستہ آہستہ جولیا بھی باتوں میں دلچسپی لینے لگی۔ اور اس کا غصہ اتر گیا مگر عمران باتوں کے ساتھ ساتھ ہال پر بھی نظر دوڑا لیتا۔ اچانک وہ بری طرح چونکا اور کچھ سنبھل کر بیٹھ گیا۔ لیکن یہ صرف چند سیکنڈ کے لیے ہوا۔ اس کے بعد وہ اسی طرح لاپر واہ ہو گیا لیکن صفدر
خاص تو ر پر تشویش میں پڑ گیا کیوں کہ عمران کا اس طرح چونکنا اس کے لیے کسی خاص بات کی طرف اشارہ کرتا تھا اس کی نظریں فوراداخلی دروازے کی طرف اٹھیں وہاں سے ایک غیر ملکی نوجوان انتہائی اعلی گرم سوٹ میں ملبوس آہستہ آہستہ ایک میز کی طرف بڑھ رہا تھا صفدر نے سمجھ لیا کہ عمران اسے ہی دیکھ کر چونکا
ہے اس نے عمران سے پوچھا یہ کون ہے ؟
میری ہونے والی بیوی کے داماد کا سسر ۔
کیا بات ہوئی چوہان نے حیرت سے منہ پھاڑ کر پوچھا۔ کمال ہے اتنی بڑی بات ہو گئی۔ اور تم کہتے ہو کوئی بات
ہی نہیں۔ عمران منہ بناکر بولا۔
آخر ہوا کیا؟ جولیا نے پھاڑ کھانے والے انداز میں پوچھا۔ عمران نے ان کی طرف منہ کر کے آہستہ سے کہا۔ یہ نوجوان جرمنی کی سیکرٹ سروس سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا نام ملڈن ہے ” جر منی “مگر یہ یہاں
کہاں۔ صفد ر اپنی حیرت نہ چھپاسکا۔
” یہی تو میں سوچ رہا ہوں۔” مگر تم اسے کس طرح جانتے ہو ؟
میں کس کو نہیں جانتا کہو تو اس کی سات پشتوں کا حال بیان کر دوں خیر ہو گا ہمیں کیا چوہان بولا۔ لیکن اس کے
چہرے پر بھی تشویش کے آثار نمایاں تھے۔
صفدر کیا تمھارے پاس ریوالور ہے ؟ عمران اچانک صفد رسے مخاطب ہوا” نہیں کیوں ہم یہاں دعوت کھانے آئے ہیں نشانہ بازی کرنے نہیں۔ ” ہوں لیکن مجھے یہاں ہنگامہ ہوتا نظر آتا ہے خیر دیکھا جائے گا۔ اتنے میں رقص شروع ہو گیا، رقص واقعی ہیجان خیز تھا سب لوگ رقص دیکھنے میں مصروف ہو گئے لیکن
عمران برے برے منہ بنارہا تھا جولیا سے رہانہ گیا۔ اس نے عمران سے پوچھا۔ تم یہ کو نین کیوں چبار ہے ہو ؟ میں سوچ رہاہوں کہ لوگ اس بے معنی اچھل کود پر عاشق ہو گئے ہیں اس سے زیادہ اچھی اچھل کود تو کلو کی
اماں کلو کے ابا سے لڑائی کے وقت کر لیتی ہو گی۔
رقص اپنے پورے عروج پر تھا اور میری کا جسم آہستہ آہستہ لباس سے بے نیاز ہوتا جار ہا تھا۔ لوگوں کے منہ سے سکاریاں سی نکل رہی تھیں۔
اچانک عمران تیر کی طرح سیڑھیوں کی طرف بڑھا چلا گیا۔ اس کو گئے تھوڑی دیر ہوئی تھی۔ کہ ایک زور دار چیخ بلند ہوئی۔ رقص رک گیا۔ تمام لوگ اپنی اپنی جگہوں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ان تینوں نے دیکھا کہ وہی نوجوان سینے پر ہاتھ رکھے فرش پر لوٹ پوٹ ہو رہا ہے دیکھتے ہی دیکھتے وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ قتل قتل کا شور مچ گیا لوگ جلدی سے کھسکنے لگے لیکن منتظمین نے دروازے بند کر دیئے جس پر چند لوگوں نے احتجاج کیا لیکن منیجر نے معزرت کی کہ جب تک پولیس نہ آجائے وہ دروازہ نہیں کھول سکتے اتنے میں عمران وا پس آتا ہوا نظر آیا اس کے بال کچھ بکھرے تھے اور چہرے پر بھی دو تین خراشیں تھیں وہ آکر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ جولیا نے کہا کہاں گئے تھے ؟ اپنی بیوی کے داماد کے سر کے قاتل کو پکڑنے۔
مگر تم نے اسے دیکھ کیسے لیا۔ مجھے گیلری کے پردے کے پیچھے پستول کی نالی کی جھلک نظر آگئی تھی۔ لیکن اپنے سے پہلے ہی وہ گولی چلا چکا تھا۔ اور پھر بھاگ گیا خیر میں نے اسے دیکھ لیا ہے اتنے میں پولیس آپہنچی اور تھوڑی سی تفتیش کے بعد دروازے کھول دیئے گئے۔ اور حسب توقع قاتل کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔۔(جاری ہے)
☆☆☆
رہ جاتا۔ وہ ایسا محسوس کرتا جیسے الف لیلی دنیا میں آپہنچا ہو۔ پورا ہال بھرا ہوا تھا۔ صرف چند میزیں خالی تھیں۔ یہ سجاوٹ اور رونق رقاصہ میری کے دم سے تھی جس کی شہرت کا ستارہ آج کل بام عروج پر پہنچا ہوا
تھا۔ پوری دنیا میں اس کے رقص اور حسن کی شہرت تھی ، ہوٹل رین بو میں یہ اس کا دوسرا اقص تھا۔ کل رقص ہی اتنا جذ بات خیز اور نشہ آور ثابت ہوا کہ لوگ اس کے فن حسن اور شباب پر مر مٹے تھے۔ اس لیے
آج کل سے بھی زیادہ رونق تھی۔ ابھی پروگرام شروع ہونے میں کافی دیر تھی۔ اس لیے تمام لوگ کافی اور شراب وغیرہ سے شغل کر رہے تھے۔ ہال میں ہلکے ہلکے مترنم قمقے گونج رہے تھے جن کی شیرینی کے سامنے ہال میں بجنے والا آرکسٹرا بھی کبھی کبھی ماند پڑ جاتا۔
اچانک ہال کے دروازے پر عمران نمودار ہو اوہ زور سے کھنکھارا تو ایک دم تمام لوگوں کی نظریں اس طرف کی اٹھ گئیں اور پبر ہال میں ایک دم قہقے گونج اٹھے اس کی حالت ہی اتنی مضحکہ خیز تھی کہ سنجیدہ سے سنجیدہ انسان
بھی ہنسنے پر مجبور ہو جاتا۔ ایک تو میکنی کلر لباس پھر چہرے پر حماقت کی دبیز تہیں وہ ہال کو اتنی حیرانگی سے دیکھ رہا تھا جیسے پتھر کے زمانے کا انسان ہو۔ اور یہ سب کچھ زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا ہو۔ دیکھنے کا انداز ہی اتنا مضحکہ
خیز تھا کہ لوگوں کو بے تحاشہ بننے پر مجبور کر دیتا۔ وہ غور سے ہر چیز کو دیکھتا پہلے ایک آنکھ بند کر کے پھر دوسری اور پھر دونوں آنکھیں جب دونوں آنکھوں سے کچھ نہ نظر آتا تو چہرے پر جھنجلا ہٹ طاری ہو جاتی اسے وہاں اس طرح دیکھ دیکھ کر ایک ویٹر ادب سے اس کی طرف بڑھا اور اس سے ریزرویشن کارڈ کے متعلق پوچھنے لگا پہلے تو عمران نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی جب ویٹر زور سے بولا تو وہ ایسے اچھلا جیسے کسی سانپ نے اسے ڈس لیا ہو وہ سنبھلتے سنبھلتے ویٹر کو اپنے ساتھ زمین پر لے آیا ویٹر کے چہرے پر شدید غصے کے آثار تھے آئے۔ لیکن وہ کچھ نہ بولا اور عمران کھڑے ہو کر ایسے کپڑے صاف کر رہا تھا جیسے گرنا اس کا معمول ہو پھر وہ
وہاں سے آہستہ آہستہ چلتا ہوا ایک میز پر جا بیٹھا میز پر اس کے نام کا کارڈ لگا ہوا تھا۔ جو اس کے بیٹھتے ہی پاس کھڑے ہوئے ویٹر نے اٹھا کر میز کے نیچے رکھ دیا اس میز پر چار کرسیاں تھیں۔ عمران نے ساتھ والی کرسی پر ٹانگیں رکھ دیں اور اطمینان سے جیب میں ہاتھ ڈال کر چیونگم کا پیکٹ نکالا اسے پھاڑا اور پھر چیونگم کا ایک پیس منہ میں ڈال لیا۔ لوگ اسے انتہائی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے اور پھر اس کے بیٹھنے کا اند از اب بھی ہنسی لوگوں کی برداشت سے باہر تھی۔ ایک سمارٹ نوجوان پاس والی میز سے اُٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا عمران کے انہماک میں کوئی فرق نہ آیا۔ نوجوان بولا۔ کیا آپ پہلی بار کسی ہوٹل میں آئے ہیں ؟ عمران چونکا اور نوجوان کی طرف دیکھ کر فوراً کھڑا ہوا اور اس کا ہاتھ
پکڑ کر سینے سے لگایا اور زور سے بولا ہائے میری جان تیری تلاش میں میں نے تو سمندر چھان مارے ہیں، روسی راکٹ میں بیٹھ کر خلا میں ہو آیا ہوں مگر تم کہیں نہ ملے تو جوان گھبرا گیا اور غصے سے بولا کیا تم پاگل ہو۔ میری جان ہر عاشق کو پاگل ہی کہا جاتا ہے اور پھر تمھاری جیسی حسینہ کا عاشق نوجوان جھینپ گیا اور پھر اس نے
کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اس کا حالت دیکھ کر ہال میں بیٹھے ہوئے لوگ ہنستے ہنستے بے حال ہو گئے مگر عمران پھر اسی طرح بیٹھ گیا جیسے کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔ اتنے میں صفدر جو لیا اور چوہان ہال میں داخل ہوئے وہ تینوں اعلیٰ لباس میں ملبوس تھے خاص تور پر جو لیا تو آج خوب بن سنور کر آئی تھی آج کی دعوت بھی انھیں عمران نے دی تھی۔ وہ عمران کی طرف تیر کی طرح بڑھے اور ہیلو کا نعرہ لگاتے ہوئے کرسیوں پر بیٹھ گئے مگر جولیا کی کرسی پر تو عمران پیر پھیلائے بیٹھا تھا اس لیے وہ کھڑی رہی اور عمران کی یہ حالت دیکھ کر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
یہ کوئی بیٹھنے کا انداز ہے۔ ہٹاؤ میری کرسی پر سے پیر۔ لیکن عمران بھلا ایسی کچی عرض کہاں سنتا ہے ؟ اس کے کان پر جوں تک نہ رینگی وہ اس طرح پیر پھیلائے چیونگم چباتارہا اب تو جو لیا کا پارہ ایک دم ایک سو دس ڈگری پر پہنچ گیا وہ اور تو کچھ نہ کر سکی۔ اس نے میز پر سے ایش ٹرے اُٹھایا اور عمران کے سر پر دے مارا مگر مقابل بھی عمران تھا۔ اس صدی کا چالاک ترین انسان۔ ایش ٹرے لگنے سے پہلے وہ کرسی چھوڑ چکا تھا جو لیا جھنجلا کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئی۔ عمران پھر اپنی کرسی پر ایسے بیٹھ گیا جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو۔ تمام ہال کی نظریں ان کی طرف تھیں ان میں سے چند کی نظروں میں ملامت کے آثار تھے اور باقی مسکرارہے تھے۔ صفدر عمران کی طرف
دیکھ کر بولا۔ عمران صاحب آج کی دعوت آخر کس مقصد کے لیے ہے؟ آج میں اور جو لیا اپنے عشق کی پہلی سالگرہ منارہے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ دعوت دی ہے ورنہ مجھے کسی حکیم نے بتایا تھا کہ میں اتنے پیسے خرچ کروں صفدر اور چوہان ہنسنے لگے اور جو لیا بھنا کر رہ گئی۔ مگر کچھ نہ بولی۔اس کے بعد باتوں کا سلسلہ چل نکلا عمران نے کافی منگائی تھی آہستہ آہستہ جولیا بھی باتوں میں دلچسپی لینے لگی۔ اور اس کا غصہ اتر گیا مگر عمران باتوں کے ساتھ ساتھ ہال پر بھی نظر دوڑا لیتا۔ اچانک وہ بری طرح چونکا اور کچھ سنبھل کر بیٹھ گیا۔ لیکن یہ صرف چند سیکنڈ کے لیے ہوا۔ اس کے بعد وہ اسی طرح لاپر واہ ہو گیا لیکن صفدر
خاص تو ر پر تشویش میں پڑ گیا کیوں کہ عمران کا اس طرح چونکنا اس کے لیے کسی خاص بات کی طرف اشارہ کرتا تھا اس کی نظریں فوراداخلی دروازے کی طرف اٹھیں وہاں سے ایک غیر ملکی نوجوان انتہائی اعلی گرم سوٹ میں ملبوس آہستہ آہستہ ایک میز کی طرف بڑھ رہا تھا صفدر نے سمجھ لیا کہ عمران اسے ہی دیکھ کر چونکا
ہے اس نے عمران سے پوچھا یہ کون ہے ؟
میری ہونے والی بیوی کے داماد کا سسر ۔
کیا بات ہوئی چوہان نے حیرت سے منہ پھاڑ کر پوچھا۔ کمال ہے اتنی بڑی بات ہو گئی۔ اور تم کہتے ہو کوئی بات
ہی نہیں۔ عمران منہ بناکر بولا۔
آخر ہوا کیا؟ جولیا نے پھاڑ کھانے والے انداز میں پوچھا۔ عمران نے ان کی طرف منہ کر کے آہستہ سے کہا۔ یہ نوجوان جرمنی کی سیکرٹ سروس سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا نام ملڈن ہے ” جر منی “مگر یہ یہاں
کہاں۔ صفد ر اپنی حیرت نہ چھپاسکا۔
” یہی تو میں سوچ رہا ہوں۔” مگر تم اسے کس طرح جانتے ہو ؟
میں کس کو نہیں جانتا کہو تو اس کی سات پشتوں کا حال بیان کر دوں خیر ہو گا ہمیں کیا چوہان بولا۔ لیکن اس کے
چہرے پر بھی تشویش کے آثار نمایاں تھے۔
صفدر کیا تمھارے پاس ریوالور ہے ؟ عمران اچانک صفد رسے مخاطب ہوا” نہیں کیوں ہم یہاں دعوت کھانے آئے ہیں نشانہ بازی کرنے نہیں۔ ” ہوں لیکن مجھے یہاں ہنگامہ ہوتا نظر آتا ہے خیر دیکھا جائے گا۔ اتنے میں رقص شروع ہو گیا، رقص واقعی ہیجان خیز تھا سب لوگ رقص دیکھنے میں مصروف ہو گئے لیکن
عمران برے برے منہ بنارہا تھا جولیا سے رہانہ گیا۔ اس نے عمران سے پوچھا۔ تم یہ کو نین کیوں چبار ہے ہو ؟ میں سوچ رہاہوں کہ لوگ اس بے معنی اچھل کود پر عاشق ہو گئے ہیں اس سے زیادہ اچھی اچھل کود تو کلو کی
اماں کلو کے ابا سے لڑائی کے وقت کر لیتی ہو گی۔
رقص اپنے پورے عروج پر تھا اور میری کا جسم آہستہ آہستہ لباس سے بے نیاز ہوتا جار ہا تھا۔ لوگوں کے منہ سے سکاریاں سی نکل رہی تھیں۔
اچانک عمران تیر کی طرح سیڑھیوں کی طرف بڑھا چلا گیا۔ اس کو گئے تھوڑی دیر ہوئی تھی۔ کہ ایک زور دار چیخ بلند ہوئی۔ رقص رک گیا۔ تمام لوگ اپنی اپنی جگہوں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ان تینوں نے دیکھا کہ وہی نوجوان سینے پر ہاتھ رکھے فرش پر لوٹ پوٹ ہو رہا ہے دیکھتے ہی دیکھتے وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ قتل قتل کا شور مچ گیا لوگ جلدی سے کھسکنے لگے لیکن منتظمین نے دروازے بند کر دیئے جس پر چند لوگوں نے احتجاج کیا لیکن منیجر نے معزرت کی کہ جب تک پولیس نہ آجائے وہ دروازہ نہیں کھول سکتے اتنے میں عمران وا پس آتا ہوا نظر آیا اس کے بال کچھ بکھرے تھے اور چہرے پر بھی دو تین خراشیں تھیں وہ آکر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ جولیا نے کہا کہاں گئے تھے ؟ اپنی بیوی کے داماد کے سر کے قاتل کو پکڑنے۔
مگر تم نے اسے دیکھ کیسے لیا۔ مجھے گیلری کے پردے کے پیچھے پستول کی نالی کی جھلک نظر آگئی تھی۔ لیکن اپنے سے پہلے ہی وہ گولی چلا چکا تھا۔ اور پھر بھاگ گیا خیر میں نے اسے دیکھ لیا ہے اتنے میں پولیس آپہنچی اور تھوڑی سی تفتیش کے بعد دروازے کھول دیئے گئے۔ اور حسب توقع قاتل کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔۔(جاری ہے)
☆☆☆