خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller ماکازونگا۔۔۔۔عمران سیریز ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
1,090
Reaction score
54,235
Location
Karachi
Gender
Male
سردی اپنے پورے شباب پر تھی۔ عموم زندگی کی جوانیاں شام ہوتے ہی ختم ہو جاتی ہیں لیکن امراء طبقہ کی اصل زندگی شام سے ہی شروع ہوتی ہے۔ اس لیے شہر کے تمام بڑے بڑے ہو ٹلوں،رقص گاہوں، جوئے خانوں اور عیاشی کے خفیہ اڈوں میں شام ہوتے ہی چہل پہل شروع ہو جاتی ہے اور پھر صبح تک رنگ و نور کا ایک سیلاب ہر طرف روں دوں نظر آتا۔ رین بو ہوٹل دار الحکومت کا انتہائی شاندار اور وسیع و عریض ہوٹل تھا جہاں صرف اعلیٰ امراء طبقہ ہی داخل ہونے کی جرات کر سکتا تھا۔ ویسے تو چہل پہل یہاں ہر رات ہوتی تھی لیکن آج تو یہ چہل پہل اپنے پورے شباب پر تھی۔ ہول میں کرسیاں انتہائی قرینے سے سجائی گئی تھیں ہر خالی ٹیبل پر ریزرویشن کار ڈلگا ہوا تھا۔ ہال کو اتنے خوبصورت طریقے سے سجایا گیا تھا کہ انسان دیکھتے کادیکھتاہی
رہ جاتا۔ وہ ایسا محسوس کرتا جیسے الف لیلی دنیا میں آپہنچا ہو۔ پورا ہال بھرا ہوا تھا۔ صرف چند میزیں خالی تھیں۔ یہ سجاوٹ اور رونق رقاصہ میری کے دم سے تھی جس کی شہرت کا ستارہ آج کل بام عروج پر پہنچا ہوا
تھا۔ پوری دنیا میں اس کے رقص اور حسن کی شہرت تھی ، ہوٹل رین بو میں یہ اس کا دوسرا اقص تھا۔ کل رقص ہی اتنا جذ بات خیز اور نشہ آور ثابت ہوا کہ لوگ اس کے فن حسن اور شباب پر مر مٹے تھے۔ اس لیے
آج کل سے بھی زیادہ رونق تھی۔ ابھی پروگرام شروع ہونے میں کافی دیر تھی۔ اس لیے تمام لوگ کافی اور شراب وغیرہ سے شغل کر رہے تھے۔ ہال میں ہلکے ہلکے مترنم قمقے گونج رہے تھے جن کی شیرینی کے سامنے ہال میں بجنے والا آرکسٹرا بھی کبھی کبھی ماند پڑ جاتا۔
اچانک ہال کے دروازے پر عمران نمودار ہو اوہ زور سے کھنکھارا تو ایک دم تمام لوگوں کی نظریں اس طرف کی اٹھ گئیں اور پبر ہال میں ایک دم قہقے گونج اٹھے اس کی حالت ہی اتنی مضحکہ خیز تھی کہ سنجیدہ سے سنجیدہ انسان


بھی ہنسنے پر مجبور ہو جاتا۔ ایک تو میکنی کلر لباس پھر چہرے پر حماقت کی دبیز تہیں وہ ہال کو اتنی حیرانگی سے دیکھ رہا تھا جیسے پتھر کے زمانے کا انسان ہو۔ اور یہ سب کچھ زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا ہو۔ دیکھنے کا انداز ہی اتنا مضحکہ
خیز تھا کہ لوگوں کو بے تحاشہ بننے پر مجبور کر دیتا۔ وہ غور سے ہر چیز کو دیکھتا پہلے ایک آنکھ بند کر کے پھر دوسری اور پھر دونوں آنکھیں جب دونوں آنکھوں سے کچھ نہ نظر آتا تو چہرے پر جھنجلا ہٹ طاری ہو جاتی اسے وہاں اس طرح دیکھ دیکھ کر ایک ویٹر ادب سے اس کی طرف بڑھا اور اس سے ریزرویشن کارڈ کے متعلق پوچھنے لگا پہلے تو عمران نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی جب ویٹر زور سے بولا تو وہ ایسے اچھلا جیسے کسی سانپ نے اسے ڈس لیا ہو وہ سنبھلتے سنبھلتے ویٹر کو اپنے ساتھ زمین پر لے آیا ویٹر کے چہرے پر شدید غصے کے آثار تھے آئے۔ لیکن وہ کچھ نہ بولا اور عمران کھڑے ہو کر ایسے کپڑے صاف کر رہا تھا جیسے گرنا اس کا معمول ہو پھر وہ
وہاں سے آہستہ آہستہ چلتا ہوا ایک میز پر جا بیٹھا میز پر اس کے نام کا کارڈ لگا ہوا تھا۔ جو اس کے بیٹھتے ہی پاس کھڑے ہوئے ویٹر نے اٹھا کر میز کے نیچے رکھ دیا اس میز پر چار کرسیاں تھیں۔ عمران نے ساتھ والی کرسی پر ٹانگیں رکھ دیں اور اطمینان سے جیب میں ہاتھ ڈال کر چیونگم کا پیکٹ نکالا اسے پھاڑا اور پھر چیونگم کا ایک پیس منہ میں ڈال لیا۔ لوگ اسے انتہائی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے اور پھر اس کے بیٹھنے کا اند از اب بھی ہنسی لوگوں کی برداشت سے باہر تھی۔ ایک سمارٹ نوجوان پاس والی میز سے اُٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا عمران کے انہماک میں کوئی فرق نہ آیا۔ نوجوان بولا۔ کیا آپ پہلی بار کسی ہوٹل میں آئے ہیں ؟ عمران چونکا اور نوجوان کی طرف دیکھ کر فوراً کھڑا ہوا اور اس کا ہاتھ
پکڑ کر سینے سے لگایا اور زور سے بولا ہائے میری جان تیری تلاش میں میں نے تو سمندر چھان مارے ہیں، روسی راکٹ میں بیٹھ کر خلا میں ہو آیا ہوں مگر تم کہیں نہ ملے تو جوان گھبرا گیا اور غصے سے بولا کیا تم پاگل ہو۔ میری جان ہر عاشق کو پاگل ہی کہا جاتا ہے اور پھر تمھاری جیسی حسینہ کا عاشق نوجوان جھینپ گیا اور پھر اس نے


کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اس کا حالت دیکھ کر ہال میں بیٹھے ہوئے لوگ ہنستے ہنستے بے حال ہو گئے مگر عمران پھر اسی طرح بیٹھ گیا جیسے کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔ اتنے میں صفدر جو لیا اور چوہان ہال میں داخل ہوئے وہ تینوں اعلیٰ لباس میں ملبوس تھے خاص تور پر جو لیا تو آج خوب بن سنور کر آئی تھی آج کی دعوت بھی انھیں عمران نے دی تھی۔ وہ عمران کی طرف تیر کی طرح بڑھے اور ہیلو کا نعرہ لگاتے ہوئے کرسیوں پر بیٹھ گئے مگر جولیا کی کرسی پر تو عمران پیر پھیلائے بیٹھا تھا اس لیے وہ کھڑی رہی اور عمران کی یہ حالت دیکھ کر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
یہ کوئی بیٹھنے کا انداز ہے۔ ہٹاؤ میری کرسی پر سے پیر۔ لیکن عمران بھلا ایسی کچی عرض کہاں سنتا ہے ؟ اس کے کان پر جوں تک نہ رینگی وہ اس طرح پیر پھیلائے چیونگم چباتارہا اب تو جو لیا کا پارہ ایک دم ایک سو دس ڈگری پر پہنچ گیا وہ اور تو کچھ نہ کر سکی۔ اس نے میز پر سے ایش ٹرے اُٹھایا اور عمران کے سر پر دے مارا مگر مقابل بھی عمران تھا۔ اس صدی کا چالاک ترین انسان۔ ایش ٹرے لگنے سے پہلے وہ کرسی چھوڑ چکا تھا جو لیا جھنجلا کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئی۔ عمران پھر اپنی کرسی پر ایسے بیٹھ گیا جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو۔ تمام ہال کی نظریں ان کی طرف تھیں ان میں سے چند کی نظروں میں ملامت کے آثار تھے اور باقی مسکرارہے تھے۔ صفدر عمران کی طرف
دیکھ کر بولا۔ عمران صاحب آج کی دعوت آخر کس مقصد کے لیے ہے؟ آج میں اور جو لیا اپنے عشق کی پہلی سالگرہ منارہے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ دعوت دی ہے ورنہ مجھے کسی حکیم نے بتایا تھا کہ میں اتنے پیسے خرچ کروں صفدر اور چوہان ہنسنے لگے اور جو لیا بھنا کر رہ گئی۔ مگر کچھ نہ بولی۔اس کے بعد باتوں کا سلسلہ چل نکلا عمران نے کافی منگائی تھی آہستہ آہستہ جولیا بھی باتوں میں دلچسپی لینے لگی۔ اور اس کا غصہ اتر گیا مگر عمران باتوں کے ساتھ ساتھ ہال پر بھی نظر دوڑا لیتا۔ اچانک وہ بری طرح چونکا اور کچھ سنبھل کر بیٹھ گیا۔ لیکن یہ صرف چند سیکنڈ کے لیے ہوا۔ اس کے بعد وہ اسی طرح لاپر واہ ہو گیا لیکن صفدر


خاص تو ر پر تشویش میں پڑ گیا کیوں کہ عمران کا اس طرح چونکنا اس کے لیے کسی خاص بات کی طرف اشارہ کرتا تھا اس کی نظریں فوراداخلی دروازے کی طرف اٹھیں وہاں سے ایک غیر ملکی نوجوان انتہائی اعلی گرم سوٹ میں ملبوس آہستہ آہستہ ایک میز کی طرف بڑھ رہا تھا صفدر نے سمجھ لیا کہ عمران اسے ہی دیکھ کر چونکا
ہے اس نے عمران سے پوچھا یہ کون ہے ؟
میری ہونے والی بیوی کے داماد کا سسر ۔
کیا بات ہوئی چوہان نے حیرت سے منہ پھاڑ کر پوچھا۔ کمال ہے اتنی بڑی بات ہو گئی۔ اور تم کہتے ہو کوئی بات
ہی نہیں۔ عمران منہ بناکر بولا۔
آخر ہوا کیا؟ جولیا نے پھاڑ کھانے والے انداز میں پوچھا۔ عمران نے ان کی طرف منہ کر کے آہستہ سے کہا۔ یہ نوجوان جرمنی کی سیکرٹ سروس سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا نام ملڈن ہے ” جر منی “مگر یہ یہاں
کہاں۔ صفد ر اپنی حیرت نہ چھپاسکا۔
” یہی تو میں سوچ رہا ہوں۔” مگر تم اسے کس طرح جانتے ہو ؟
میں کس کو نہیں جانتا کہو تو اس کی سات پشتوں کا حال بیان کر دوں خیر ہو گا ہمیں کیا چوہان بولا۔ لیکن اس کے
چہرے پر بھی تشویش کے آثار نمایاں تھے۔
صفدر کیا تمھارے پاس ریوالور ہے ؟ عمران اچانک صفد رسے مخاطب ہوا” نہیں کیوں ہم یہاں دعوت کھانے آئے ہیں نشانہ بازی کرنے نہیں۔ ” ہوں لیکن مجھے یہاں ہنگامہ ہوتا نظر آتا ہے خیر دیکھا جائے گا۔ اتنے میں رقص شروع ہو گیا، رقص واقعی ہیجان خیز تھا سب لوگ رقص دیکھنے میں مصروف ہو گئے لیکن


عمران برے برے منہ بنارہا تھا جولیا سے رہانہ گیا۔ اس نے عمران سے پوچھا۔ تم یہ کو نین کیوں چبار ہے ہو ؟ میں سوچ رہاہوں کہ لوگ اس بے معنی اچھل کود پر عاشق ہو گئے ہیں اس سے زیادہ اچھی اچھل کود تو کلو کی
اماں کلو کے ابا سے لڑائی کے وقت کر لیتی ہو گی۔
رقص اپنے پورے عروج پر تھا اور میری کا جسم آہستہ آہستہ لباس سے بے نیاز ہوتا جار ہا تھا۔ لوگوں کے منہ سے سکاریاں سی نکل رہی تھیں۔
اچانک عمران تیر کی طرح سیڑھیوں کی طرف بڑھا چلا گیا۔ اس کو گئے تھوڑی دیر ہوئی تھی۔ کہ ایک زور دار چیخ بلند ہوئی۔ رقص رک گیا۔ تمام لوگ اپنی اپنی جگہوں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ان تینوں نے دیکھا کہ وہی نوجوان سینے پر ہاتھ رکھے فرش پر لوٹ پوٹ ہو رہا ہے دیکھتے ہی دیکھتے وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ قتل قتل کا شور مچ گیا لوگ جلدی سے کھسکنے لگے لیکن منتظمین نے دروازے بند کر دیئے جس پر چند لوگوں نے احتجاج کیا لیکن منیجر نے معزرت کی کہ جب تک پولیس نہ آجائے وہ دروازہ نہیں کھول سکتے اتنے میں عمران وا پس آتا ہوا نظر آیا اس کے بال کچھ بکھرے تھے اور چہرے پر بھی دو تین خراشیں تھیں وہ آکر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ جولیا نے کہا کہاں گئے تھے ؟ اپنی بیوی کے داماد کے سر کے قاتل کو پکڑنے۔
مگر تم نے اسے دیکھ کیسے لیا۔ مجھے گیلری کے پردے کے پیچھے پستول کی نالی کی جھلک نظر آگئی تھی۔ لیکن اپنے سے پہلے ہی وہ گولی چلا چکا تھا۔ اور پھر بھاگ گیا خیر میں نے اسے دیکھ لیا ہے اتنے میں پولیس آپہنچی اور تھوڑی سی تفتیش کے بعد دروازے کھول دیئے گئے۔ اور حسب توقع قاتل کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔۔(جاری ہے)
☆☆☆
 
ٹیلی فون کی گھنٹی زور سے بھی جولیا نے لیک کر ریسیور اٹھالیا۔


ہیلو جو لیا اسپیکنگ اس نے کہا۔
ایکسٹو ایک غراہٹ سی بلند ہوئی اور جو لیا سنبھل گئی۔
گڈمارننگ سر۔ مارننگ۔
جو لیا تمام ممبروں سے کہ دو کہ ایک گھنٹہ بعد دانش منزل میں جمع ہو جائیں آج ہماری ٹیم میں ایک نئے ممبر کا
اضافہ ہو رہا ہے۔اس کا تعارف تم سب سے کرایا جائے گا۔
جولیا نے تمام ممبروں کو فون کر کے یہ خبر سنادی۔
ایک گھنٹہ بعد سیکرٹ سروس کے تمام ممبران دانش منزل کے ایک ہال میں بیٹھے تھے۔ وہ آپس میں اس نئے
ممبر کے متعلق بات چیت کر رہے تھے۔ آخر اتنے سارے ممبر بھرتی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا ہم لوگ کم ہیں ؟ تنویر نے ناک سکوڑ کر کہا۔ ایکسٹو تم سے بہتر سمجھتا ہے جولیا نے تنگ آکر جواب دیا۔ ایکسٹو کوئی خدا نہیں۔ آخر وہ بھی ہماری طرح انسان ہے۔ خیر یہ تو نہ کہو۔ ایکسٹو جیسادماغ تو ہم سب مل کر بھی
پیدا نہیں کر سکیں گے ۔ چوہان نے کہا اتنے میں عمران دروازے میں داخل ہوا۔
یہ تم سب مل کر کسے پیدا کر رہے ہو کیا اس کے لیے جو لیا اکیلی کافی نہیں۔سب قہقہ مار کر ہنسنے لگے لیکن جو لیا
اور تنویر کامنہ بن گیا۔ ابھی وہ جواب دینے ہی والے تھے کہ یکا یک ٹرانسمیٹر کا بلب سپارک کرنے لگا اور وہ سب ایکسٹو سننے کے لیے سنبھل گئے۔ لیکن عمران اسی طرح لا پرواہی سے بیٹھا رہا۔ کیا تمام ممبر آگئے ہیں ؟ ایکسٹو کی آواز آئی۔ جی ہاں ! جولیا نے جواب دیا۔


خوب! تو سنو آج میں آپ کا ایک نئے ممبر سے تعارف کرا رہا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ تم سب بھی اس سے مل کر ضرور خوش ہوں گے اور وہ ہماری ٹیم میں ایک شاندار اضافہ ہو گا اس کا نام کیپٹن شکیل ہے میں نے اسے ملٹری انٹیلی جنس سے لیا ہے اور اس کا سابقہ ریکار ڈ انتہائی شاندار ہے باقی رہی پرسنالٹی والی بات تو وہ آپ سب
خود دیکھ لوگے۔ ایکسٹو کی آواز آنا بند ہوگئی تھی۔ اتنے میں دروازہ کھلا اور ایک دراز قد سید ھے بالوں والا
نوجوان جس نے انتہائی خوبصورت چا کلیٹی رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا اس کا قد تقریباً چھ فٹ چار انچ کے قریب
تھا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا جسم بھرا ہوا اور فولاد کی طرح سخت معلوم ہوتا تھا۔ چہرہ بالکل سپاٹ تھا صرف کشادہ پیشانی پر دو لکیریں ابھری ہوئی تھیں جو اس کی وجاہت میں اور بھی اضافہ کر رہی تھیں۔ سب اس کی وجاہت اور خو بصورت شخصیت سے متاثر نظر آنے لگے۔ کیپٹن شکیل نے اندر داخل ہو کر سب کو سلام کیا اور پھر ایک ایک سے ہاتھ ملانے لگا۔ صفدر نے تعارف کی رسم ادا کی اور پھر وہاں چائے کا دور چلنے لگا۔ اور اس دوران باتوں کا سلسلہ چھڑ گیا جس کا تعلق کیپٹن شکیل کی ذات ہی سے تھا۔ کیپٹن شکیل نے اپنا تعارف تفصیل کرایا کہ وہ ایک اعلیٰ پٹھان خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ ایم اے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملٹری میں چلا آیا وہاں سے ملٹری انٹیلیجنس میں لیا گیا اور اب اسے یہاں بھیج دیا گیا۔ اس کی باتیں کرنے کا انداز بھی انتہائی دلکش تھا لیکن یہ عجیب بات تھی کہ باتیں کرنے کے دوران اس کا چہرہ انتہائی سپاٹ رہتا تھا جیسے وہ میک اپ میں ہو۔ اس چیز کو جولیا اور صفدر نے محسوس کیا لیکن وہ چپ رہے
ایکسٹو کی آواز ٹرانسمیٹر سے دوبارہ ابھری۔
کیپٹن شکیل
لیس سر کیپٹن شکیل فوراً بولا۔ باقی سب لوگ قہقہ مار کر ہنس پڑے۔


صفدر بولا۔
آپ حیران نہ ہوں کیپٹن صاحب یہ ہیں ہی ایسے ابھی تو آگے آگے آپ پر ان کے جو ہر کھلیں گے۔ میں کوئی مس جو ہر کلکتے والی ہوں جو میرے جو ہر کھلیں گے۔ صفدر تم نے میری توہین کر دی ہے اب میں سے ہر گز نہیں جاؤں گا۔ عمران براماننے والے انداز میں بولا اور ایک بار پھر سب ہنس پڑے جن میں
کیپٹن شکیل بھی شامل تھا پھر یہ دلچسپ مجلس برخاست ہو گئی۔
☆☆☆
شہر میں گہما گبھی پورے زوروں پر تھی ہر شخص اپنے اپنے حال میں مست تھار یڈیو پر دو پہر کی خبریں نشر ہو رہی تھیں۔ کہ اچانک ریڈیو کی نشریات میں گڑ بڑ ہونے لگ گئی اور پھر ایسا معلوم ہوا جیسے اناؤنسر کی آواز مدھم ہوتی چلی گئی وہ کہ رہی تھی کہ اے کرہ عرض کے لوگو سنبھل جاؤ۔ اب بھی وقت ہے کہ تم لوگ اپنے ظالم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کر دو جنہوں نے تمھارے حقوق ضبط کر رکھے ہیں جمع تمہیں غربت کی چکیوں میں پیس رہے ہیں یہ سب غدار ہیں ان کو ان کی غداری کی بھیانک سزاد و یہ پہلا الٹی میٹم ہے اگر دوروز کے اندر اندر تم لوگوں نے اپنے موجودہ حاکموں کے خلاف بغاوت نہ کی تو ماکاز و نگا کی نظروں میں تم بھی غدار ہو جاؤ گے۔اور پھر تمہاری بھی وہی سزا ہو گی جو ان کی ہے۔ سنواب بھی سنبھل جاؤ ” ماکاز و نگا تمہیں وقت
دے رہا ہے دو دن صرف 48 گھنٹے اس کے بعد تم سب پر ایک آفت ٹوٹ پڑے گی جس سے نہ جوان بچ سکیں گے نہ بوڑھے نہ عورتوں کو پناہ دی جائے گی اور نہ بچوں کو ہر امیر و غریب کو یکساں سزادی جائے گی اگر دوروز کے اندراندر تم نے موجودہ حکومت کا تختہ الٹ دیا تو عوام اس سزا سے بچ جائیں گے اور ماکاز و نگا کی
نگرانی میں یہ دنیا جنت بن جائے گی۔ “ما کاز و نگا ” زندہ باد۔ تقریر ختم ہوتے ہی اناؤنسر کی آواز دوبارہ آنے


اس آواز کو سنتے ہی حکومت کی تمام مشنیری پریشان ہو گئی ٹیلی فون پر ٹیلی فون ہونے لگے اس کی آواز کا مخرج معلوم کرنے کی کوششیں کی جانے لگیں لیکن کچھ پتہ نہ چل سکا۔ صرف اتنا معلوم ہوا کہ اسی وقت تمام دنیا کی نشریات جام ہو گئیں اور یہی آواز تقریبا ہر ملک کے اس علاقہ کی قومی زبان میں نشر ہوئی تمام دنیا اس اعلان
سے بوکھلا اٹھی عوام میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ چند لوگ اس کی حمائیت میں تھے اور چند اس کے خلاف۔ شر پسند عناصر نے اپنی سر گرمیاں تیز کر دیں۔ لیکن ہر ملک کی حکومت نے سختی سے اس تقریر کی تردید کی۔ لوگوں کو ہوشیار کیا کہ اس کالے پروپیگنڈے سے بچیں دارالحکومت میں فوری طور پر حکام کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا جس میں کافی بحث و مباحثہ کے بعد یہ طے پایا گیا کہ نظم و نسق کو ہر حالت میں برقرار رکھا جائے اور غنڈہ عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے۔
شام کی خبروں میں ایک بار پھر یہ اعلان دہرایا گیا جس سے ہلچل میں اضافہ ہو گیا پھر تو خبروں کے ہر بلٹن کے دوران یہ اعلان داہر ایا گیا اور مہلت کی مدت با قاعدہ گھنٹوں میں بتائی جاتی پوری دنیا کے لوگوں میں خوف و ہر اس پھیل گیا ساری دنیا میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا جیسے جیسے مدت ختم ہوتی جاتی خوف وہراس میں
اضافہ ہوتا چلا جاتا۔
دار الحکومت کا نظم و نسق فوج نے سنبھال لیا لیکن حکام اور عوام دونوں پریشان تھے کہ یہ مصیبت کہاں سے نازل ہو گئی اور کس طرح ہو گی۔ اور کس قسم کی ہو گی سب کے ذہنوں میں ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا جس کا کوئی مناسب جواب نہ مل سکا تھا۔ آخر اس مہلت کے ختم ہونے میں ایک گھنٹہ باقی رہ گیا پھر آہستہ آہستہ وہ گھنٹہ بھی گزر گیا لوگ پریشانی کے عالم میں گھروں میں گھس گئے اچانک فضا میں وہی آواز گونجنے لگی کرہ ارض کے لو گو تمھاری سزا کا وقت آ پہنچا “ماکاز و نگا تمھیں بھیانک سزادینا چاہتا ہے لیکن چونکہ یہ پہلی وار ننگ تھی اس لیے سزا انتہائی کم دی جائے گی اس کے بعد جو سزا ہو گی وہ انتہائی بھیانک ہو گی لو گو تیار ہو جاؤ۔
 
اب سے ٹھیک پانچ منٹ کے بعد تمہاری زمینوں میں پانی کی سطح اونچی ہو جائے گی اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔زمین کے چپے چپے میں سے پانی نکلنے لگا۔ تمام عمارتیں چاہے وہ کچی تھیں یا پکی ایسے گرنے لگیں جیسے ریت کی دیوار میں لوگ ڈوبنے لگے تمام انتظامی مشینری فیل ہو کر رہ گئی سڑکوں پر پانی ہی پانی بہنے لگا۔ لوگ دھڑا دھڑ اونچی اونچی جگہوں پر پہنچنے لگے لیکن اس دھکم پیل میں سینکڑوں لوگ مر گئے لوگ حکومت کے خلاف ہو گئے یہ سب کچھ آدھے گھنٹے کے لیے ہوا اس کے بعد زمین سے پانی نکلنا بند ہو گیا اب ہر طرف قیامت کا سماں تھا طوفان نوح کی تو صرف حکائتیں سنی ہوئی تھیں اب لوگوں نے اپنی آنکھوں سے طوفان نوح کا منظر دیکھ لیا تھ ہر طرف پانی ہی پانی تھا اب پانی نکلنا تو بند ہو گیا تھا لیکن عمارتیں دھڑادھڑ گررہی تھیں لوگ عمارتوں سے سامان نکالنے لگے لیکن ہر طرف پانی ہی پانی تھا سینکڑوں لاشیں اس پانی میں تیر رہی تھیں۔ ان میں بچے بھی تھے بوڑھے بھی اور عور تیں بھی مختلف سامان بھی پانی میں تیر رہا تھا ہر طرف موت کی سی ویرانی چھائی ہوئی تھی لیکن یہ اچھا ہوا کہ ہر لحہ پانی کی سطح نیچے گر رہی تھی۔ آخر جب پانی کی سطح بالکل نیچے ہو گئی تو بچے کھچے بد حال لوگ بلڈ نگوں کی آخری منزلوں سے نکل آئے اب شہر میں ہر طرف ماتم ہورہا تھالا کھوں کی تعداد میں لوگ مر چکے تھے کروڑوں کا نقصان ہو چکا تھا۔ دارالحکومت کو فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا اور فوجی گاڑیاں اور ٹینک شہر میں گشت کر رہے تھے۔ ہر طرف اداسی ہی اداسی چھائی ہوئی تھی ویرانی ہی ویرانی موت کی ویرانی۔
☆☆☆
صفدر آرام سے بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ ایک دم اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کا نام لیا ہو وہ چونک اٹھا اور ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ لیکن ہوٹل کے سب لوگ اپنی اپنی باتوں میں مصروف تھے وہ بڑا حیران ہوا پھر سوچا شائد کسی کے ساتھی کا نام ہو چنانچہ وہ پھر چائے کی پیالی کی طرف متوجہ ہو گیا کہ اچانک اسے ایک چھوٹا سا کنکر لگا بے ساختہ اس کی نظر او پر اٹھ گئی تو گیلری میں اسے کیپٹن تشکیل بیٹا ہوا نظر آیا۔ کیپٹن شکیل نے اسے آنکھ

سے اشارہ کیا وہ خوداٹھ کر باتھ روم کی طرف چلا گیا۔ صفدر نے اطمینان سے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور اٹھ کر باتھ روم کی قطار کی جانب بڑھ گیا ایک طرف اسے کیپٹین تشکلیل سگریٹ پیتا نظر آیا اس کی آنکھوں میں بے تعلقی تھی اور چہرہ ہمیشہ کی طرح ہر قسم کے جزبات سے عاری۔ صفد ر جیسے ہی اس کے پاس سے گزرا ایک کاغذ کا پرزہ اس کے ہاتھ میں منتقل ہو گیا صفدر فورا ایک خالی باتھ روم میں
گیا اس نے پرزہ پڑھاتو لکھا تا صفدر اپنی سامنے والی میز پر گرے سوٹ والے کا خیال
رکھنا وہ تمہارا تعاقب کرتا ہوا یہاں تک آیا ہے۔ صفدر نے کاغذ کو مروڑ کر بیسن میں بہادیا اور خود دروازہ کھول دیا۔ باہر آگیا تو اسے وہی گرے سوٹ والا اپنی طرف آتا ہوا نظر آیا صفدر کو دیکھتے ہی اس کے چہرے ہر اطمینان کی جھلک نمایاں ہوئی صفدر بغیر توجہ دیئے اس کے پاس سے گزرتا چلا گیا صفدر سیدھا کاؤنٹر پر گیا اور کاؤنٹر گرل سے فون کی اجازت چاہی۔ صفد ر نے ایکسٹو کے نمبر گھمائے فورا ادھر سے ایکسٹو کی مخصوص آواز ابھری۔

ایکسٹو۔
میں صفدر بول رہا ہوں جناب۔
کہو کیا بات ہے ؟ آواز میں سختی نمایاں تھی۔
جناب میں آپ کے حکم کے مطابق ہوٹل شیز ان میں ٹھیک چھ بجے پہنچ گیا تھا وہاں مجھے کیپٹن شکیل نے ایک گرے رنگ والے سوٹ کے متعلق بتایا کہ وہ میرا تعاقب کرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے۔
صفدر۔۔۔۔۔۔ایکسٹو غرایا۔
لیس سر صفدر نے فورا کہا۔
تم فور اہوٹل سے چلے جاؤ گرے سوٹ والا تمہارا پیچھا کرے گا اسے ہر حالت میں لے کر دانش منزل میں پہنچ
جاؤ۔ میں ناکامی کی بات نہیں سنوں گا۔
او کے سر۔ صفدر نے جواب دیا اور سلسلہ منقطع کر دیا۔ اس نے فون رکھ کر کاؤنٹر گرل کی طرف دیکھا لیکن وہ اس طرف متوجہ نہ تھی۔ صفدر نے آہستہ سے جیب سے پیسے نکالے اور کاؤنٹر پر رکھ کر باہر نکلتا چلا گیا۔ باہر آ کر اس نے ادھر اُدھر دیکھا اور ایک ٹیکسی کو بلا کر اس میں بیٹھ گیا۔ ڈرائیور کو نیو ہائی سٹریٹ کی طرف چلنے کا حکم دیا۔ ٹیکسی چل پڑی صفدر نے تھوڑی دیر بعد پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک سرخ رنگ کی کار بڑی تیزی س ان کے آگے نکل گئی اسے وہی گرے سوٹ والا ڈرائیو کر رہا تھا۔ صفدر مسکرایا اور اس نے ڈرائیور کو کہا کہ اس کا
پیچھا کرو۔
ڈرائیور نے کہا مگر جناب۔
صفدر نے کہا کہ یہ پولیس کا کام ہے گھبر اؤمت اور ڈرائیور بڑی مستعدی سے اس کا پیچھا کرنے لگا۔ اچانک سرخ رنگ کی کار جھرنا جھیل کی طرف مڑگئی۔ یہ ایک سنسان سڑک تھی صفدر سنبھل گیا اب تمام راسته سنسان شروع ہو گیا تھا اچانک سرخ رنگ کی کار سڑک پر ٹیڑھی ہو کر کھڑی ہو گئی۔ ٹیکسی ڈرائیور نے بڑی پھرتی سے بریک ماری ٹیکسی رک گئی ایک کار پیچھے بھی آر کی اس میں سے چار آدمی پستول لئے نیچے اتر آئے صفدر بری طرح گھر چکا تھا لیکن وہ اطمینان سے بیٹھارہاوہ چاروں اس کی کار کے گرد کھڑے ہو گئے ان میں سے ایک نے صفدر کو نیچے اترنے کو کہا جیسے ہی صفدر نیچے اتر اوہ سرخ رنگ کی کار تیزی سے آگے بڑھ گئی اور صفدر اپنی قسمت کو کوسنے لگاوہ چاروں اسے پستول کی زد میں لئیے اپنی کار کی طرف بڑھنے لگے صفدر نے سوچا اس طرح تو وہ خود کسی حقیر چوہے کی طرح چوہے دان میں پھنس جائے گا۔ اسے کچھ کرنا چاہیے۔ یہ سوچتے ہی
وہ چلتے چلتے ایک دم بیٹھ گیا۔ اس سے بالکل پیچھے آنے والا اس کے اوپر سے گرتا ہوا آگے جاپڑا اصفدر کو اتنا موقع
کافی تھا۔ وہ باقی تینوں سے الجھ پڑا اور اتنی تیزی سے لاتیں اور گھونسے مارنے لگا کہ ان کے ہاتھ سے پستول
چھوٹ گئے اور وہ صفدر سے گتھ گئے صفدر بھلا تین آدمیوں کے بس میں کہاں آتا تھا۔ اس نے دومنٹ سے بھی کم عرصے میں تینوں کو لناد یا چانک اس کے پیچھے سے ایک چینی ابھری اور وہ اچھل کر ایک طرف ہٹ گیا اسے اپنے پیچھے ایک آدمی جس کو اس نے نیچے بیٹھ کر گرایا تھا گرتا ہوا نظر آیا۔ یہ کارنامہ لیکسی ڈرائیور کا تھا جس نے ایک پتھر سے اسے مار گرایا تھا۔ صفدر نے ان چاروں کی تلاشی لی تو سب کی جیبوں سے ایک عجیب و غریب کارڈ نکلا جس پر سرخ روشنائی سے ماکازونگا لکھا ہوا تھا۔ نیچے موت کی تصویر یعنی کھوپڑی اور اس کے نیچے دو ہڈیاں بنی ہوئی تھیں۔اتنے میں وہ ٹیکسی ڈرائیور بھی قریب آگیا صفدر نے اسے تحسین آمیز نظروں سے دیکھا اور اس کی مدد سے ان چاروں کو اٹھا کر ان کی کار میں ٹھونس دیا اور خود ٹیکسی میں بیٹھ کر واپس شہر کی طرف چل پڑا کیوں کہ اسے یقین تھا کہ وہ اس سرخ رنگ کی کار کو نہیں پاسکتا وہ ایکسٹو سے سخت شر مندہ تھا اب نہ جانے اس کی اس ناکامی پر ایکسٹو کا یہ عمل کیا ہو گا لیکن شاید ان کارڈوں کی وجہ سے جان بچ جائے۔ شہر آنے پر اس نے ٹیکسی فون بو تھ کے قریب رکوادی۔ (جاری ہے)
☆☆☆
 
جیسے ہی گرے سوٹ والا ہوٹل سے اٹھا کیپٹن شکیل نے اپنی جگہ چھوڑ دی بل وہ پہلے ہی ادا کر چکا تھا وہ تیر کی طرح گرے سوٹ والے کے پیچھے گیا۔ گرے سوٹ والا ایک سرخ رنگ کی سپورٹس کار میں بیٹھ رہا تھا۔ کیپٹن شکیل نے تیزی سے ادھر ادھر دیکھا اور پھر وہ ڈگی کو آہستہ سے اٹھا کر پھرتی سے اندر کھس گیا۔ اتنے میں کار آہستہ آہستہ چل پڑی پھر وہ تیزی سے بھاگنے لگی کیپٹن شکیل ایک جھری سے پیچھے کا نظارہ
دیکھ رہا تھا اچانک کارنے ایک ٹیکسی کو کر اس کیا اس میں اسے صفدر کی قمیض کے کف میں لگے ہوئے
مخصوص بٹن کی جھلک نظر آئی۔ پھر وہ سرخ ٹیکسی تیزی سے کار کے پیچھے بھاگتی ہوئی نظر آئی۔ اچانک کار رک
گئی۔ کیپٹن شکیل نے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا نہیں تو اس کا سر ڈگی کے ڈھکنے سے جانکر آتا۔ ٹیکسی کے
بریک بھی بڑی تیزی سے لگے تھے۔ کیپٹن شکیل کو ڈر تھا کہ کہیں کار میں موجود گرے سوٹ والا اتر کر پیچھے نہ چلا آئے لیکن کوئی نہ آیا۔ اس نے دیکھا کہ صفدر کی کار کے پیچھے ایک اور کار آکر ر کی اور صفدر چار پستولوں کی زد میں نیچے اتر رہا ہے ابھی وہ کچھ کرنے کا ارادہ ہی کر رہا تھا کہ کار تیزی سے چل پڑی۔ اب ساری سکیم اس کی سمجھ میں آگئی تعاقب کو روکنے کا بہترین طریقہ استعمال کیا گیا تھا۔
کار تیزی سے چل رہی تھی اچانک وہ کچے میں اتر گئی۔ اب کیپٹن شکیل سخت مشکل میں پھنس گیا۔ کیوں کہ اسے خطرہ تھا کہ کہیں ڈگی کے اچھلنے یا خود اس کے اچھلنے سے گرے سوٹ والا ہو شیار نہ ہو جائے۔ لیکن کچے
میں تھوڑی دیر ہی چل کر کار رک گئی اور وہ گرے سوٹ والا اتر کر ایک طرف چل پڑا۔ کیپٹن شکیل بھی پھرتی سے ڈگی میں سے اترا اور ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا۔ سامنے ہی ایک پہنچی سی عمارت نظر آرہی تھی وہ کار سے اترنے والا شخص اس میں داخل ہو گیا۔ کیپٹن شکیل نے بھی اس عمارت میں داخل ہو کر عمارت کے دروازے کے بعد ایک راہداری بنی ہوئی تھی جس کے دونوں طرف کمرے تھے۔ ایک دروازے کی در زمیں سے روشنی کی تنگی سی باہر کیر آرہی تھی۔ کیپٹن شکیل بلی کی سی چال چلتے ہوئے اس دروازے تک پہنچا اس کے ہاتھ میں ریوالور مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔ اور وہ انتہائی چوکنا نظر آرہا تھا۔ اس نے درز سے آنکھ لگا کر دیکھا
تواند ر چار آدمی نقاب پہنے صوفوں پر بیٹھے تھے۔ گرے سوٹ والا ایک طرف کھڑا تھا۔
کیا ر ہا۔ ایک نقاب پوش نے پوچھا
سب ٹھیک ہے۔
گرے سوٹ والے نے جواب دیا۔ کسی نے تعاقب تو نہیں کیا؟ تعاقب کیا تھا مگر ترکیب نمبر چار سے روک دیا۔


اچانک پیپٹین کو پیچھے سے ایک لات لگی۔ اور کیپٹن بے خیالی میں کمرے کے اندر جا گرا لیکن فوراً اٹھ کھڑا ہوا دروازے پر ایک قوی ہیکل حبشی ہاتھ میں پستول تھامے کھڑا تھا اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ کمرے میں بیٹھے ہوئے چار کتاب پوش ہڑ بڑا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ کیپٹن کا پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرے سوٹ والے کے قدموں میں جا گرا تھا۔ جسے اس نے اٹھالیا تھا اب کیپٹن شکیل خالی ہاتھ تھا۔
صاحب یہ کتا باہر سے باتیں سن رہا تھا حبشی غرایا۔|
ہوں۔ ایک نقاب پوش کی پھنکارتی ہوئی آواز آئی۔ کون ہو تم اور یہاں کیسے آئے اس نے کیپٹن شکیل کی طرف مخاطب ہو کر پو چھا۔ سوال کے پہلے حصے کا جواب میں نہیں دے سکتا۔ البتہ دوسرے کا بتا سکتا ہوں کہ میں (گرے سوٹ والے کی طرف اشارہ کر کے ) ان کی کار کی ڈگی میں آیا ہوں۔ تمہیں یہ بتانا پڑے گا کہ تم کون ہو اور یہاں کیسے آئے ہو نقاب پوش کی غراہٹ بھیانک ہو گئی۔ لیکن کیپٹن شکیل نے کوئی جواب نہ دیا۔ نقاب پوش نے حبشی کی طرف دیکھ کر کہا اس کے دماغ ٹھکانے لگاؤ اس گرانڈیل حبشی نے اپنا پستول ایک نقاب پوش کے حوالے کر دیا اور خود آہستہ آہستہ کیپٹن
شکیل کی طرف برھا۔ اس کا انداز انتہائی مرعوب کن تھا لیکن کیپٹن شکیل ایک ٹھوس چٹان کی طرح کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر کوئی شکن نہ تھی۔ وہ انتہائی اطمینان سے اس حبشی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ حبشی اس کا یہ اطمینان دیکھ کر ایک لمحے کے لیے جھے پا لیکن پھر اچانک اچھل کر کیپٹن شکیل کی طرف آیا۔ کیپٹن شکیل انتہائی پھرتی ایک طرف ہٹ گیا۔ حبشی اتنی تیزی میں ہی آگے کی طرف بڑھا پیچھے سے کیپٹن شکیل نے اس کی پشت سے ایک بھر پور لات ماری اور حبشی اچھل کر سامنے والی دیوار ٹکڑا گیا پھر اچانک وہ تیزی سے پلٹا اس کا چہرہ لہولہان ہو گیا تھا اور انتہائی بھیانک لگ رہا تھا آنکھوں میں شعلے سے بھڑک اٹھے تھے اس نے اپنا دایاں ہاتھ تیزی سے ہلا یا کیپٹن شکیل نے فوراً پہلو بدلا لیکن حبشی اسے ڈاج دینے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے فوراً انتہا


پھرتی سے اور زور سے اپنے بائیں ہاتھ سے کیپٹن شکیل کے منہ پر بھر پور گھونسہ مار دیا اور کیپٹن شکیل لڑکھڑاتا ہوا تین قدم پیچھے چلا گیا۔ اب کیپٹن شکیل کی آنکھوں میں سرخی آگئی لیکن چہرے پر وہی اطمینان تھا اچانک کیپٹن شکیل اپنی جگہ سے اچھلا اور اس کے دونوں پیر تیزی سے حبشی کے سینے سے ٹکڑائے حبشی کے منہ سے ایک بھیانک چیخ نکلی اور وہ زمین پر گر پڑا اس کے منہ اور ناک سے خون کے فوارے ابل پڑے کیپٹن شکیل کی زور دار فلائنگ لک سے اس کی پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں وہ چند سیکنڈ کے لیے تڑپا اور ٹھنڈا ہو گیا چاروں نقاب پوش ایک لمحے کے لیے حیران رہ گئے کیپٹن شکیل انتہائی تیزی سے گھوما اور دوسرے لمحے گرے سوٹ والا اس کے ہاتھوں میں تھاوہ دروازے کی طرف بھاگا گرے سوٹ والا اس کے ہاتھوں میں ایک بے بس پرندے کی طرح مچل رہا تھا۔ اچانک نقاب پوشوں کو ہوش آیا ایک نے گولی چلا دی لیکن بے سود گولی دروازے کے سامنے والی دیوار سے ٹکرائی تھی کیپٹن تکلیل راہداری کے آخری سرے تک دوڑتا گیا پھر اچانک پلٹا اور ایک ساتھ کے کمرے میں گھس گیا۔ گرے سوٹ والا اب بھی اس کے ہاتھوں میں مچل رہا تھا لیکن کیپٹن شکیل نے اس کا منہ سختی دبادیا۔ نقاب پوش ڈرتے ہوئے راہداری میں آئے لیکن کیپٹن شکیل انہیں نظر نہ آیادہ راہداری سے باہر نکل گئے وہاں بھی کیپٹن شکیل کا کوئی پتہ نہ تھا۔
اتنی جلدی بھلا کہاں جاسکتا ہے ایک نقاب پوش نے کہا۔
پتہ نہیں ایک غراہٹ بلند ہوئی۔ کہیں پچھلے دروازے سے تو نہیں بھاگ گیا پہلے نے کہا اور چاروں پچھلے دروازے کی طرف بھاگے لیکن وہاں بھی نہ تھا۔ ایک نقاب پوش نے جو ان کا سردار تھائیوں کو عمارت کے مختلف کونوں میں دیکھنے کے لیے ہو گا دیا اور خود بلڈ نگ دیکھنے کے لیے گیا۔ اتنا وقفہ کیپٹن شکیل کے لیے کافی تھا اس نے گرے سوٹ والے کو ہاتھوں پر اٹھایا اس کے منہ پر ہاتھ رکھنے کی وجہ سے بے ہوش ہو گیا تھا وہ گیٹ کے سامنے کھڑی ہوئی سرخ کار میں


پھرتی سے بیٹھ گیا۔ گرے سوٹ والے کو اس نے پچھلی سیٹ پر پھینکا اور پھر انتہائی تیزی سے کر بیک کی۔ اور سڑک پر سے ہوتا ہوا تیزی ایک طرف چل پڑا اس کی کار کی پچھلی طرف سے گولیاں ٹکرائیں لیکن جلد ہی اس کی کار پستول کی رینج سے نکل گئی چند ہی لمحوں میں وہ جام نگر والی سڑک پر تھا۔ اس کی کار انتہائی تیزی سے بھاگ رہی تھی۔ اور اس کارخ دانش منزل کی طرف تھا۔(جاری ہے)
☆☆☆
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top