- Moderator
- #1
ہماری نانی ہمارے گھر کے برابر والے مکان میں رہتی تھیں، لہٰذا دن میں کئی بار ان کے ہاں چکر لگ جاتا تھا۔ اس دن بھی میں انہیں سالن دینے جا رہی تھی کہ ان کے سامنے والے مکان میں کسی کو دیکھ کر میرے قدم ٹھٹھک گئے۔
یہ مکان عرصے سے خالی پڑا تھا۔ آج وہاں دروازے کی جالیوں سے ایک ادھیڑ عمر عورت جھانکتی نظر آئی، لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ دروازے پر تالا پڑا ہوا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئی اسے گھر میں قید کر گیا ہو۔ مجھے دیکھ کر وہ اشارے سے بلانے لگی۔ اس کی اس حرکت پر مجھے خوف محسوس ہوا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ یہ عورت پاگل ہے، اسی لیے اسے قید کیا گیا ہے۔ میں نے سراسیمگی میں نانی کے گھر کا دروازہ تیزی سے بجانا شروع کر دیا۔ نانی اماں نے گھبرا کر دروازہ کھولا اور پوچھا: “خیر تو ہے؟ کیا کوئی پاگل کتا تمہارے پیچھے لگ گیا ہے جو اس طرح دروازہ پیٹ رہی ہو؟” میں جلدی سے اندر گھسی اور سامنے والے مکان کی طرف اشارہ کیا، جہاں وہ عورت کھڑی ہنس رہی تھی۔ میں نے پوچھا: “کیا یہ پاگل ہے؟” نانی نے تسلی دیتے ہوئے کہا: “نہیں، پاگل نہیں ہے، بس تھوڑا سا ذہنی مسئلہ ہے۔” پھر وہ بتانے لگیں: “یہ ہر کسی کو دیکھ کر یونہی ہنستی ہے۔ نئے کرایہ دار آئے ہیں، بس میاں بیوی ہی ہیں۔ اس عورت کا نام صبیحہ ہے اور شوہر افتخار صاحب ہیں، جو سرکاری ملازم ہیں اور جلد ہی ریٹائر ہونے والے ہیں۔”
اس روز میں نانی کے گھر تھوڑی ہی دیر بیٹھی کیونکہ میرا ذہن الجھا ہوا تھا۔ انہوں نے رکنے کا اصرار بھی کیا، لیکن دل کی حالت عجیب تھی، اس لیے رکی نہیں۔ قدم باہر نکالنے سے پہلے میں نے دروازے سے جھانکا کہ وہ عورت اب بھی وہیں ہے یا اندر چلی گئی؟ خدا کا شکر کہ وہ وہاں نہیں تھی، تبھی میں تیزی سے اپنے گھر کی طرف لپکی اور اندر پہنچ کر ہی سکون کا سانس لیا۔
کچھ ہی دن گزرے تھے کہ وہ عورت، یعنی صبیحہ، مجھے نانی کے گھر میں نظر آنے لگی۔ میں ڈری تو نانی نے کہا: “ڈرو نہیں، یہ تمہیں کچھ نہیں کہے گی، صرف پیار کرے گی۔ یہ ممتا کی ماری ہے۔” مجھے نانی اماں کی یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی۔ ان دنوں میری عمر نو دس برس تھی، اس لیے میں نے مزید بات تو نہیں کی لیکن اس عورت سے ڈرنے لگی، کیونکہ وہ ہر کسی کو پیاسی آنکھوں سے دیکھتی تھی۔ اس کی موجودگی سے مجھ پر وحشت طاری ہوتی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا باتیں کرتی تھی، البتہ نانی اماں اس کے مسائل سے واقف تھیں۔ وہ اکثر نانی کے پاس بیٹھی رہتی اور ان سے باتیں کر کے سکون محسوس کرتی تھی۔
رفتہ رفتہ سب کو معلوم ہو گیا کہ صبیحہ ایک بے ضرر عورت ہے۔ وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتی، بس ہنستی ہے یا ایسی باتیں کرتی ہے کہ سننے والے بظاہر تو ہنس دیتے ہیں لیکن دل سے دکھی ہو جاتے ہیں۔ کبھی وہ بالکل نارمل ہو جاتی، پھر کچھ دنوں بعد اسے گھر گھر گھومنے کا دورہ سا پڑتا، تب وہ پورے محلے میں جھانکتی پھرتی۔ اس کا شوہر اکثر اسے گھر میں بند کر کے تالا لگا جاتا تھا۔ وہ کبھی کبھی رات بارہ بجے تک باہر بیٹھی رہتی۔ میزبان تنگ آ جاتے مگر وہ گھر جانے کا نام نہ لیتی۔ محلے والے اس کے حال سے واقف تھے، اس لیے سب اس کے ساتھ ہمدردی اور محبت سے پیش آتے تھے۔ صرف میں ہی تھی جسے اس کے معاملات کی پوری خبر نہیں تھی، اسی لیے میں نہ صرف اس سے ڈرتی تھی بلکہ اس کے سائے سے بھی بھاگتی تھی۔ شاید کم عمری کی وجہ سے ایسا تھا۔
ایک دن صبح میں گھر کے کام کر رہی تھی اور امی کچن میں کھانا پکا رہی تھیں، تمام بہن بھائی پڑھنے گئے ہوئے تھے کہ اچانک کسی نے زور سے بیل بجائی۔ میں نے دروازہ کھولا تو سامنے وہی عورت کھڑی تھی۔ اسے دیکھتے ہی میری سٹی گم ہو گئی۔ مجھے نانی اماں کی بات یاد آئی کہ یہ عورت گھر میں اکیلی ہونے کی وجہ سے اداس ہو جاتی ہے اور پڑوس میں جا بیٹھتی ہے۔ میں فوراً راستے سے ہٹ گئی اور وہ ہنستی ہوئی ہمارے گھر کے اندر آ گئی۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے کوئی پرانی شناسائی ہو؛ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ پہلی بار آئی ہے۔ اس نے پوچھا: “تیری ماں کدھر ہے؟” میں نے جلدی سے کچن کی طرف اشارہ کر دیا اور ڈر کے مارے اس طرف نہ گئی۔ وہ کافی دیر تک میری ماں سے نجانے کیا باتیں کرتی رہی۔ باتوں کے دوران وہ وقفے وقفے سے مجھے دیکھ کر اپنے مخصوص انداز میں ہنس دیتی تھی، اور میں یہی سوچتی رہی کہ یہ عورت جلد سے جلد ہمارے گھر سے چلی جائے تو اچھا ہے۔
میں نے صبیحہ کو جب بھی دیکھا، پریشان حال گلیوں میں پھرتے ہی دیکھا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ لوگوں کے چہروں میں اپنے کھوئے ہوئے پیاروں کو تلاش کر رہی ہو۔ دو تین سال میں صبیحہ ہمارے محلے کا ایک جانا پہچانا چہرہ بن چکی تھی۔ اب ہر کوئی اسے اہمیت دیتا اور پیار سے بات کرتا تھا۔ میں بھی اب اس کی کہانی سے واقف ہو چکی تھی، اس لیے دل سے ڈر نکل گیا تھا۔ اب وہ جب بھی آتی، میں خود آگے بڑھ کر اس کا استقبال کرتی تھی۔
آئیے! اب میں آپ کو ان کی اصل کہانی سناتی ہوں۔
خالہ صبیحہ کی عمر ان دنوں پچپن سال تھی اور یہ ان کی دوسری شادی تھی۔ آپ شاید حیرت سے سوچ رہے ہوں گے کہ اس عمر میں کسی عورت کی دوسری شادی؟ عام طور پر اس عمر میں مرد دوسری شادی کرتے ہیں، لیکن عورت کے لیے یہ ایک غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔ مگر مجبوراً عورت کو کبھی کبھی وہ سب کچھ بھی کرنا پڑتا ہے جو وہ نہیں کرنا چاہتی۔ دوسرے شوہر سے خالہ صبیحہ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ پہلے شوہر سے ان کے تین بیٹے تھے، جو سب شادی شدہ اور صاحبِ اولاد تھے۔ ان کی ایک بیٹی بھی تھی جس نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی اور اب اس کا میکے سے کوئی ناتا نہیں رہا تھا۔
جب تک خالہ صبیحہ کے پہلے شوہر زندہ تھے، وہ بہت پرسکون زندگی گزار رہی تھیں۔ وہ اچھے خاصے کھاتے پیتے لوگ تھے۔ انہوں نے اپنے بچوں کو بہت لاڈ پیار اور آسائشوں میں پالا پوسا۔ خالہ نے ان سے ایسی بے مثال محبت کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ماں باپ نے بے شمار قربانیاں دے کر انہیں اس قابل بنایا تھا کہ وہ معاشرے میں سر اٹھا کر چل سکیں اور اونچی سوسائٹی میں اٹھنا بیٹھنا ہو۔ خالہ اور ان کے شوہر نے بچوں کی خوشیوں کی خاطر ان کی جلد شادیاں کر دیں اور انہیں کاروبار سیٹ کر کے دیا تاکہ وہ خوشحال زندگی گزار سکیں؛ پھر اچانک شوہر کے انتقال نے صبیحہ خالہ کو ایسا صدمہ پہنچایا کہ کچھ عرصہ تو انہیں اپنا ہوش ہی نہ رہا۔
جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، یہ حادثہ پرانا ہوتا گیا۔ رفتہ رفتہ اولاد نے ماں سے آنکھیں پھیر لیں اور باپ کی جائیداد آپس میں بانٹ لی۔ ماں بیچاری خاموشی سے اولاد کے یہ رنگ دیکھتی رہ گئی۔ اب مرحلہ آیا کہ ماں کس کے پاس رہے گی؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور بہوؤں نے کوئی نہ کوئی مجبوری آڑے لے آئی۔ کوئی بھی اس بات پر راضی نہ تھا کہ ماں اس کے پاس رہے۔ اب ماں کدھر جائے؟ صبیحہ خالہ کیا کرتیں، بس سب کے چہرے دیکھ کر روتی رہیں۔ بوڑھی ماں کو زندگی کے بقیہ دن گزارنے کے لیے صرف ایک چھوٹی سی جگہ اور دو وقت کی روٹی ہی تو چاہیے تھی، لیکن تین جوان بیٹے اسے اپنے پاس رکھنے کو تیار نہ تھے، حالانکہ ان کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ اگر تینوں بیٹے یا بیٹی باری باری بھی انہیں اپنے پاس رکھتے، تو ان کی باقی زندگی عزت سے کٹ جاتی اور وہ اس دوراہے پر نہ پہنچتیں جہاں وہ آج کھڑی تھیں۔
آخر وہ دن بھی آ گیا جب ان سب نے ماں کو رکھنے سے صاف انکار کر دیا اور اپنی اپنی مجبوریاں گنوانے لگے۔ وہ دکھ سے نڈھال اپنے والد کے پاس آئیں جو نہ صرف حیات تھے بلکہ خوشحال بھی تھے۔ انہوں نے اپنی بیوہ بیٹی کو سنبھال لیا۔ بیٹی نے رو رو کر اولاد کی نافرمانی کا حال سنایا تو باپ نے تسلی دیتے ہوئے کہا: “میں نے تمہیں پالا پوسا، تمہارا گھر بسایا اور جہیز بھی دیا تھا۔ میں اب بھی تمہاری ذمہ داری اٹھا سکتا ہوں۔ تم میرے پاس رہو کیونکہ یہ تمہارے باپ کا گھر ہے۔” اس طرح خالہ صبیحہ اپنے والد کے گھر آ گئیں، مگر یہاں بھی بھابیاں تھیں۔ وہ وہاں تب تک ہی رہ سکتی تھیں جب تک والد زندہ تھے، پھر بھابیاں طعنے دیتی تھیں کہ “دیکھو کیسی ناخلف اولاد ہے جو اپنی ماں کو نہیں رکھ سکتی، خدا ایسے بیٹے کسی کو نہ دے۔” یہ باتیں خالہ کے دل پر تیر بن کر لگتی تھیں، جس کی وجہ سے وہ بیمار رہنے لگیں۔ تب ان کے والد نے سوچا کہ “میری عمر اسی برس سے تجاوز کر چکی ہے، کل کو میں مر گیا تو میری بیٹی کا کیا بنے گا؟ بھابیاں اسے پھر نکال باہر کریں گی۔”
انہیں دنوں صبیحہ خالہ کے ایک کزن افتخار صاحب کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔ ان کے دو ہی بیٹے تھے جو امریکہ میں مقیم تھے اور غیر ملکی لڑکیوں سے شادیاں کر چکے تھے۔ افتخار صاحب بالکل اکیلے ہو گئے تھے۔ وہ اکثر ان کے گھر آیا کرتے تھے، چنانچہ خالہ کے والد نے سوچا کہ کیوں نہ میں اپنی بیٹی کا نکاح اس بھتیجے سے کر دوں؛ وہ بھی تنہا ہے اور صبیحہ کو بھی ایک مستقل ٹھکانہ مل جائے گا۔ جب بیٹی سے اس کا ذکر کیا تو وہ رو پڑی۔ وہ تو بقیہ زندگی اپنے شوہر کی یادوں کے سہارے بسر کرنا چاہتی تھی۔ “دوسری شادی اور اس عمر میں؟ لوگ کیا کہیں گے؟” لوگوں کو تو چھوڑیے، خود خالہ صبیحہ کا دل کسی طور اس بات پر آمادہ نہیں ہو رہا تھا۔
والد جہاں دیدہ تھے؛ وہ جانتے تھے کہ ان کے بعد بیٹی کا کوئی دوسرا آسرا نہیں ہے۔ وہ دن رات اسے یہی سمجھاتے: “بیٹی! میرا کہا مان لے، میں عمر کے اس حصے میں ہوں جہاں زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ پتہ نہیں کس لمحے بلاوا آ جائے اور میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر جاؤں؛ پھر میرے بعد تمہارا خیال کون رکھے گا؟ میری روح بھی تمہاری بے بسی دیکھ کر بے چین رہے گی۔” صبیحہ خالہ نے کہا: “ابا جان! چاہے کچھ ہو، اب میں اس گھر سے کہیں نہ جاؤں گی۔” والد نے ٹھنڈی آہ بھر کر جواب دیا: “وہ تو ٹھیک ہے بیٹی، لیکن میرے بعد یہ گھر تمہارے باپ کا نہیں بلکہ تمہارے بھائیوں کا ہو جائے گا۔ کاش تمہاری اولاد اس قابل ہوتی اور تمہیں بوجھ نہ سمجھتی، تو آج میں تمہیں دوسری شادی کے لیے کبھی نہ کہتا، مگر اب میں تمہیں کس کے سہارے پر چھوڑ دوں؟”
بوڑھے باپ کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھ کر صبیحہ خالہ پریشان ہو گئیں۔ انہوں نے سوچا کہ کہیں ان کے انکار کے صدمے سے والد کو کچھ ہو نہ جائے۔ جو باپ اپنی بیٹی سے اتنی محبت کرتا ہو، بیٹی کو بھی اس کے کہے کی لاج رکھنی چاہیے۔ والدین آخر اولاد کا بھلا ہی تو چاہتے ہیں۔ رات بھر خالہ کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔ وہ خود کو سمجھاتی رہیں اور بالآخر اپنی قسمت کا فیصلہ والد پر چھوڑتے ہوئے رضامندی دے دی۔ ان کے والد خوش بھی ہوئے اور اس بات پر افسوس بھی کرتے رہے کہ کاش اولاد ایسا سلوک نہ کرتی تو انہیں اس عمر میں بیٹی کا نکاح نہ کرنا پڑتا۔ خیر! اللہ کا شکر ادا کر کے بڑی سادگی سے ان کی شادی ہو گئی۔
ان کے دوسرے شوہر عمر میں ان سے پانچ برس چھوٹے تھے۔ وہ سرکاری ملازم تھے، اس لیے وہ انہیں ویسی عیش و آرام والی زندگی تو نہ دے سکے جیسی ان کے پہلے شوہر نے مہیا کی تھی۔ افتخار صاحب کے پاس روپیہ پیسہ بہت زیادہ نہ تھا، مگر شرافت کی وہ دولت تھی جو انہوں نے اس تنہا عورت پر نچھاور کر دی۔ اگرچہ خالہ ذہنی طور پر پوری طرح نارمل نہ رہی تھیں، مگر رفتہ رفتہ اس شخص کی محبت اور خلوص نے رنگ دکھایا اور وہ زندگی کی طرف لوٹنے لگیں۔ پھر بھی، ان کا وہ ہنسنا اور بلا وجہ ہر گھر میں جا کر بیٹھ جانا بند نہ ہوا؛ شاید اس طرح ان کے دل کا بوجھ کم ہوتا تھا۔
محبت بھی عجیب شے ہے، اتنا کچھ ہونے کے باوجود خالہ صبیحہ اولاد کی محبت کو اپنے دل سے نہ کھرچ سکیں۔ افتخار صاحب خود عرصے سے اپنے بیٹوں سے جدا تھے، اس لیے وہ اپنی بیوی کے دکھ کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور ان کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ان کی شرافت دیکھ کر خالہ کے والد صاحب بہت خوش ہوئے اور خدا کا شکر ادا کیا کہ ان کا فیصلہ غلط ثابت نہیں ہوا تھا۔ وہ دونوں واقعی خوش تھے۔
میں یہ کہانی لکھنے پر اس لیے مجبور ہوئی کہ اگر خدانخواستہ کوئی اپنے والدین کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھے ہوئے ہے، تو خدارا اپنے رویے کی تلافی کر لے۔ والدین اس دنیا میں انمول ہستی ہیں۔ وہ خود کانٹوں پر چل کر اولاد کو منزلوں تک پہنچاتے ہیں۔ ماں کے قدموں تلے تو جنت ہے، اور ہم نادانی میں اپنی جنت کو ہی ناراض کر دیتے ہیں۔ ماں کے ایک دن کے دودھ کا قرض بھی بھلا کون اتار سکتا ہے؟
اولاد چھوٹی ہو تو ماں باپ بڑے مان سے کہتے ہیں کہ جب یہ بڑے ہوں گے تو ان (والدین) کی زندگی سنور جائے گی۔ وہ نہیں جانتے کہ کس کی زندگی بگڑے گی اور کس کی سنورے گی۔ ماں باپ کا درجہ بہت بلند ہے، مگر اولاد اکثر یہ باتیں بھول جاتی ہے۔ ایک بات ضرور یاد رہے کہ آج جو سلوک آپ اپنے والدین کے ساتھ کریں گے، کل وہی سلوک آپ کی اپنی اولاد آپ کے ساتھ کرے گی۔
یہ مکان عرصے سے خالی پڑا تھا۔ آج وہاں دروازے کی جالیوں سے ایک ادھیڑ عمر عورت جھانکتی نظر آئی، لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ دروازے پر تالا پڑا ہوا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئی اسے گھر میں قید کر گیا ہو۔ مجھے دیکھ کر وہ اشارے سے بلانے لگی۔ اس کی اس حرکت پر مجھے خوف محسوس ہوا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ یہ عورت پاگل ہے، اسی لیے اسے قید کیا گیا ہے۔ میں نے سراسیمگی میں نانی کے گھر کا دروازہ تیزی سے بجانا شروع کر دیا۔ نانی اماں نے گھبرا کر دروازہ کھولا اور پوچھا: “خیر تو ہے؟ کیا کوئی پاگل کتا تمہارے پیچھے لگ گیا ہے جو اس طرح دروازہ پیٹ رہی ہو؟” میں جلدی سے اندر گھسی اور سامنے والے مکان کی طرف اشارہ کیا، جہاں وہ عورت کھڑی ہنس رہی تھی۔ میں نے پوچھا: “کیا یہ پاگل ہے؟” نانی نے تسلی دیتے ہوئے کہا: “نہیں، پاگل نہیں ہے، بس تھوڑا سا ذہنی مسئلہ ہے۔” پھر وہ بتانے لگیں: “یہ ہر کسی کو دیکھ کر یونہی ہنستی ہے۔ نئے کرایہ دار آئے ہیں، بس میاں بیوی ہی ہیں۔ اس عورت کا نام صبیحہ ہے اور شوہر افتخار صاحب ہیں، جو سرکاری ملازم ہیں اور جلد ہی ریٹائر ہونے والے ہیں۔”
اس روز میں نانی کے گھر تھوڑی ہی دیر بیٹھی کیونکہ میرا ذہن الجھا ہوا تھا۔ انہوں نے رکنے کا اصرار بھی کیا، لیکن دل کی حالت عجیب تھی، اس لیے رکی نہیں۔ قدم باہر نکالنے سے پہلے میں نے دروازے سے جھانکا کہ وہ عورت اب بھی وہیں ہے یا اندر چلی گئی؟ خدا کا شکر کہ وہ وہاں نہیں تھی، تبھی میں تیزی سے اپنے گھر کی طرف لپکی اور اندر پہنچ کر ہی سکون کا سانس لیا۔
کچھ ہی دن گزرے تھے کہ وہ عورت، یعنی صبیحہ، مجھے نانی کے گھر میں نظر آنے لگی۔ میں ڈری تو نانی نے کہا: “ڈرو نہیں، یہ تمہیں کچھ نہیں کہے گی، صرف پیار کرے گی۔ یہ ممتا کی ماری ہے۔” مجھے نانی اماں کی یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی۔ ان دنوں میری عمر نو دس برس تھی، اس لیے میں نے مزید بات تو نہیں کی لیکن اس عورت سے ڈرنے لگی، کیونکہ وہ ہر کسی کو پیاسی آنکھوں سے دیکھتی تھی۔ اس کی موجودگی سے مجھ پر وحشت طاری ہوتی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا باتیں کرتی تھی، البتہ نانی اماں اس کے مسائل سے واقف تھیں۔ وہ اکثر نانی کے پاس بیٹھی رہتی اور ان سے باتیں کر کے سکون محسوس کرتی تھی۔
رفتہ رفتہ سب کو معلوم ہو گیا کہ صبیحہ ایک بے ضرر عورت ہے۔ وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتی، بس ہنستی ہے یا ایسی باتیں کرتی ہے کہ سننے والے بظاہر تو ہنس دیتے ہیں لیکن دل سے دکھی ہو جاتے ہیں۔ کبھی وہ بالکل نارمل ہو جاتی، پھر کچھ دنوں بعد اسے گھر گھر گھومنے کا دورہ سا پڑتا، تب وہ پورے محلے میں جھانکتی پھرتی۔ اس کا شوہر اکثر اسے گھر میں بند کر کے تالا لگا جاتا تھا۔ وہ کبھی کبھی رات بارہ بجے تک باہر بیٹھی رہتی۔ میزبان تنگ آ جاتے مگر وہ گھر جانے کا نام نہ لیتی۔ محلے والے اس کے حال سے واقف تھے، اس لیے سب اس کے ساتھ ہمدردی اور محبت سے پیش آتے تھے۔ صرف میں ہی تھی جسے اس کے معاملات کی پوری خبر نہیں تھی، اسی لیے میں نہ صرف اس سے ڈرتی تھی بلکہ اس کے سائے سے بھی بھاگتی تھی۔ شاید کم عمری کی وجہ سے ایسا تھا۔
ایک دن صبح میں گھر کے کام کر رہی تھی اور امی کچن میں کھانا پکا رہی تھیں، تمام بہن بھائی پڑھنے گئے ہوئے تھے کہ اچانک کسی نے زور سے بیل بجائی۔ میں نے دروازہ کھولا تو سامنے وہی عورت کھڑی تھی۔ اسے دیکھتے ہی میری سٹی گم ہو گئی۔ مجھے نانی اماں کی بات یاد آئی کہ یہ عورت گھر میں اکیلی ہونے کی وجہ سے اداس ہو جاتی ہے اور پڑوس میں جا بیٹھتی ہے۔ میں فوراً راستے سے ہٹ گئی اور وہ ہنستی ہوئی ہمارے گھر کے اندر آ گئی۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے کوئی پرانی شناسائی ہو؛ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ پہلی بار آئی ہے۔ اس نے پوچھا: “تیری ماں کدھر ہے؟” میں نے جلدی سے کچن کی طرف اشارہ کر دیا اور ڈر کے مارے اس طرف نہ گئی۔ وہ کافی دیر تک میری ماں سے نجانے کیا باتیں کرتی رہی۔ باتوں کے دوران وہ وقفے وقفے سے مجھے دیکھ کر اپنے مخصوص انداز میں ہنس دیتی تھی، اور میں یہی سوچتی رہی کہ یہ عورت جلد سے جلد ہمارے گھر سے چلی جائے تو اچھا ہے۔
میں نے صبیحہ کو جب بھی دیکھا، پریشان حال گلیوں میں پھرتے ہی دیکھا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ لوگوں کے چہروں میں اپنے کھوئے ہوئے پیاروں کو تلاش کر رہی ہو۔ دو تین سال میں صبیحہ ہمارے محلے کا ایک جانا پہچانا چہرہ بن چکی تھی۔ اب ہر کوئی اسے اہمیت دیتا اور پیار سے بات کرتا تھا۔ میں بھی اب اس کی کہانی سے واقف ہو چکی تھی، اس لیے دل سے ڈر نکل گیا تھا۔ اب وہ جب بھی آتی، میں خود آگے بڑھ کر اس کا استقبال کرتی تھی۔
آئیے! اب میں آپ کو ان کی اصل کہانی سناتی ہوں۔
خالہ صبیحہ کی عمر ان دنوں پچپن سال تھی اور یہ ان کی دوسری شادی تھی۔ آپ شاید حیرت سے سوچ رہے ہوں گے کہ اس عمر میں کسی عورت کی دوسری شادی؟ عام طور پر اس عمر میں مرد دوسری شادی کرتے ہیں، لیکن عورت کے لیے یہ ایک غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔ مگر مجبوراً عورت کو کبھی کبھی وہ سب کچھ بھی کرنا پڑتا ہے جو وہ نہیں کرنا چاہتی۔ دوسرے شوہر سے خالہ صبیحہ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ پہلے شوہر سے ان کے تین بیٹے تھے، جو سب شادی شدہ اور صاحبِ اولاد تھے۔ ان کی ایک بیٹی بھی تھی جس نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی اور اب اس کا میکے سے کوئی ناتا نہیں رہا تھا۔
جب تک خالہ صبیحہ کے پہلے شوہر زندہ تھے، وہ بہت پرسکون زندگی گزار رہی تھیں۔ وہ اچھے خاصے کھاتے پیتے لوگ تھے۔ انہوں نے اپنے بچوں کو بہت لاڈ پیار اور آسائشوں میں پالا پوسا۔ خالہ نے ان سے ایسی بے مثال محبت کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ماں باپ نے بے شمار قربانیاں دے کر انہیں اس قابل بنایا تھا کہ وہ معاشرے میں سر اٹھا کر چل سکیں اور اونچی سوسائٹی میں اٹھنا بیٹھنا ہو۔ خالہ اور ان کے شوہر نے بچوں کی خوشیوں کی خاطر ان کی جلد شادیاں کر دیں اور انہیں کاروبار سیٹ کر کے دیا تاکہ وہ خوشحال زندگی گزار سکیں؛ پھر اچانک شوہر کے انتقال نے صبیحہ خالہ کو ایسا صدمہ پہنچایا کہ کچھ عرصہ تو انہیں اپنا ہوش ہی نہ رہا۔
جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، یہ حادثہ پرانا ہوتا گیا۔ رفتہ رفتہ اولاد نے ماں سے آنکھیں پھیر لیں اور باپ کی جائیداد آپس میں بانٹ لی۔ ماں بیچاری خاموشی سے اولاد کے یہ رنگ دیکھتی رہ گئی۔ اب مرحلہ آیا کہ ماں کس کے پاس رہے گی؟ اس سوال پر سب خاموش ہو گئے اور بہوؤں نے کوئی نہ کوئی مجبوری آڑے لے آئی۔ کوئی بھی اس بات پر راضی نہ تھا کہ ماں اس کے پاس رہے۔ اب ماں کدھر جائے؟ صبیحہ خالہ کیا کرتیں، بس سب کے چہرے دیکھ کر روتی رہیں۔ بوڑھی ماں کو زندگی کے بقیہ دن گزارنے کے لیے صرف ایک چھوٹی سی جگہ اور دو وقت کی روٹی ہی تو چاہیے تھی، لیکن تین جوان بیٹے اسے اپنے پاس رکھنے کو تیار نہ تھے، حالانکہ ان کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ اگر تینوں بیٹے یا بیٹی باری باری بھی انہیں اپنے پاس رکھتے، تو ان کی باقی زندگی عزت سے کٹ جاتی اور وہ اس دوراہے پر نہ پہنچتیں جہاں وہ آج کھڑی تھیں۔
آخر وہ دن بھی آ گیا جب ان سب نے ماں کو رکھنے سے صاف انکار کر دیا اور اپنی اپنی مجبوریاں گنوانے لگے۔ وہ دکھ سے نڈھال اپنے والد کے پاس آئیں جو نہ صرف حیات تھے بلکہ خوشحال بھی تھے۔ انہوں نے اپنی بیوہ بیٹی کو سنبھال لیا۔ بیٹی نے رو رو کر اولاد کی نافرمانی کا حال سنایا تو باپ نے تسلی دیتے ہوئے کہا: “میں نے تمہیں پالا پوسا، تمہارا گھر بسایا اور جہیز بھی دیا تھا۔ میں اب بھی تمہاری ذمہ داری اٹھا سکتا ہوں۔ تم میرے پاس رہو کیونکہ یہ تمہارے باپ کا گھر ہے۔” اس طرح خالہ صبیحہ اپنے والد کے گھر آ گئیں، مگر یہاں بھی بھابیاں تھیں۔ وہ وہاں تب تک ہی رہ سکتی تھیں جب تک والد زندہ تھے، پھر بھابیاں طعنے دیتی تھیں کہ “دیکھو کیسی ناخلف اولاد ہے جو اپنی ماں کو نہیں رکھ سکتی، خدا ایسے بیٹے کسی کو نہ دے۔” یہ باتیں خالہ کے دل پر تیر بن کر لگتی تھیں، جس کی وجہ سے وہ بیمار رہنے لگیں۔ تب ان کے والد نے سوچا کہ “میری عمر اسی برس سے تجاوز کر چکی ہے، کل کو میں مر گیا تو میری بیٹی کا کیا بنے گا؟ بھابیاں اسے پھر نکال باہر کریں گی۔”
انہیں دنوں صبیحہ خالہ کے ایک کزن افتخار صاحب کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔ ان کے دو ہی بیٹے تھے جو امریکہ میں مقیم تھے اور غیر ملکی لڑکیوں سے شادیاں کر چکے تھے۔ افتخار صاحب بالکل اکیلے ہو گئے تھے۔ وہ اکثر ان کے گھر آیا کرتے تھے، چنانچہ خالہ کے والد نے سوچا کہ کیوں نہ میں اپنی بیٹی کا نکاح اس بھتیجے سے کر دوں؛ وہ بھی تنہا ہے اور صبیحہ کو بھی ایک مستقل ٹھکانہ مل جائے گا۔ جب بیٹی سے اس کا ذکر کیا تو وہ رو پڑی۔ وہ تو بقیہ زندگی اپنے شوہر کی یادوں کے سہارے بسر کرنا چاہتی تھی۔ “دوسری شادی اور اس عمر میں؟ لوگ کیا کہیں گے؟” لوگوں کو تو چھوڑیے، خود خالہ صبیحہ کا دل کسی طور اس بات پر آمادہ نہیں ہو رہا تھا۔
والد جہاں دیدہ تھے؛ وہ جانتے تھے کہ ان کے بعد بیٹی کا کوئی دوسرا آسرا نہیں ہے۔ وہ دن رات اسے یہی سمجھاتے: “بیٹی! میرا کہا مان لے، میں عمر کے اس حصے میں ہوں جہاں زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ پتہ نہیں کس لمحے بلاوا آ جائے اور میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر جاؤں؛ پھر میرے بعد تمہارا خیال کون رکھے گا؟ میری روح بھی تمہاری بے بسی دیکھ کر بے چین رہے گی۔” صبیحہ خالہ نے کہا: “ابا جان! چاہے کچھ ہو، اب میں اس گھر سے کہیں نہ جاؤں گی۔” والد نے ٹھنڈی آہ بھر کر جواب دیا: “وہ تو ٹھیک ہے بیٹی، لیکن میرے بعد یہ گھر تمہارے باپ کا نہیں بلکہ تمہارے بھائیوں کا ہو جائے گا۔ کاش تمہاری اولاد اس قابل ہوتی اور تمہیں بوجھ نہ سمجھتی، تو آج میں تمہیں دوسری شادی کے لیے کبھی نہ کہتا، مگر اب میں تمہیں کس کے سہارے پر چھوڑ دوں؟”
بوڑھے باپ کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھ کر صبیحہ خالہ پریشان ہو گئیں۔ انہوں نے سوچا کہ کہیں ان کے انکار کے صدمے سے والد کو کچھ ہو نہ جائے۔ جو باپ اپنی بیٹی سے اتنی محبت کرتا ہو، بیٹی کو بھی اس کے کہے کی لاج رکھنی چاہیے۔ والدین آخر اولاد کا بھلا ہی تو چاہتے ہیں۔ رات بھر خالہ کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔ وہ خود کو سمجھاتی رہیں اور بالآخر اپنی قسمت کا فیصلہ والد پر چھوڑتے ہوئے رضامندی دے دی۔ ان کے والد خوش بھی ہوئے اور اس بات پر افسوس بھی کرتے رہے کہ کاش اولاد ایسا سلوک نہ کرتی تو انہیں اس عمر میں بیٹی کا نکاح نہ کرنا پڑتا۔ خیر! اللہ کا شکر ادا کر کے بڑی سادگی سے ان کی شادی ہو گئی۔
ان کے دوسرے شوہر عمر میں ان سے پانچ برس چھوٹے تھے۔ وہ سرکاری ملازم تھے، اس لیے وہ انہیں ویسی عیش و آرام والی زندگی تو نہ دے سکے جیسی ان کے پہلے شوہر نے مہیا کی تھی۔ افتخار صاحب کے پاس روپیہ پیسہ بہت زیادہ نہ تھا، مگر شرافت کی وہ دولت تھی جو انہوں نے اس تنہا عورت پر نچھاور کر دی۔ اگرچہ خالہ ذہنی طور پر پوری طرح نارمل نہ رہی تھیں، مگر رفتہ رفتہ اس شخص کی محبت اور خلوص نے رنگ دکھایا اور وہ زندگی کی طرف لوٹنے لگیں۔ پھر بھی، ان کا وہ ہنسنا اور بلا وجہ ہر گھر میں جا کر بیٹھ جانا بند نہ ہوا؛ شاید اس طرح ان کے دل کا بوجھ کم ہوتا تھا۔
محبت بھی عجیب شے ہے، اتنا کچھ ہونے کے باوجود خالہ صبیحہ اولاد کی محبت کو اپنے دل سے نہ کھرچ سکیں۔ افتخار صاحب خود عرصے سے اپنے بیٹوں سے جدا تھے، اس لیے وہ اپنی بیوی کے دکھ کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور ان کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ان کی شرافت دیکھ کر خالہ کے والد صاحب بہت خوش ہوئے اور خدا کا شکر ادا کیا کہ ان کا فیصلہ غلط ثابت نہیں ہوا تھا۔ وہ دونوں واقعی خوش تھے۔
میں یہ کہانی لکھنے پر اس لیے مجبور ہوئی کہ اگر خدانخواستہ کوئی اپنے والدین کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھے ہوئے ہے، تو خدارا اپنے رویے کی تلافی کر لے۔ والدین اس دنیا میں انمول ہستی ہیں۔ وہ خود کانٹوں پر چل کر اولاد کو منزلوں تک پہنچاتے ہیں۔ ماں کے قدموں تلے تو جنت ہے، اور ہم نادانی میں اپنی جنت کو ہی ناراض کر دیتے ہیں۔ ماں کے ایک دن کے دودھ کا قرض بھی بھلا کون اتار سکتا ہے؟
اولاد چھوٹی ہو تو ماں باپ بڑے مان سے کہتے ہیں کہ جب یہ بڑے ہوں گے تو ان (والدین) کی زندگی سنور جائے گی۔ وہ نہیں جانتے کہ کس کی زندگی بگڑے گی اور کس کی سنورے گی۔ ماں باپ کا درجہ بہت بلند ہے، مگر اولاد اکثر یہ باتیں بھول جاتی ہے۔ ایک بات ضرور یاد رہے کہ آج جو سلوک آپ اپنے والدین کے ساتھ کریں گے، کل وہی سلوک آپ کی اپنی اولاد آپ کے ساتھ کرے گی۔