خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Moral Story ممتا کی پہچان۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
1,090
Reaction score
54,248
Location
Karachi
Gender
Male
ہمارا اور چچا جان کا مکان ساتھ ساتھ تھا اور دونوں گھروں کے درمیان ایک مشترکہ دروازہ تھا۔ چچا جان زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے، ان کی شادی گاؤں کی ایک خاتون سے ہوئی تھی۔ ان کی آپس میں نہ بن سکی اور چچا شادی کے بعد پریشان رہنے لگے، مگر بچوں کی خاطر دونوں نباہ کرنے پر مجبور تھے۔ اس تلخ اور کشیدہ ماحول کا بچوں کے ذہنوں پر بہت برا اثر پڑا۔ گھر کی اعصاب شکن فضا نے سب سے زیادہ چچا جان کے بڑے بیٹے حامد کو برباد کیا۔ وہ میٹرک بھی نہ کر سکا۔ آٹھویں جماعت تک اس نے اچھے نمبر لیے، مگر نویں میں وہ اسکول سے بھاگ کھڑا ہوا اور برے لڑکوں کی صحبت میں پڑ گیا۔ اب وہ گھر سے کئی کئی دن غائب رہتا، ہیروئن کا نشہ کرتا اور ماں باپ کو تنگ کرتا۔ غرض اس کی وجہ سے چچا جان اور تمام گھر والوں کی زندگی عذاب بن گئی۔ وہ جب بھی نشہ کر کے گھر آتا، چچا جان اسے پیٹنے لگتے۔ چیخ و پکار سن کر ہم لوگ جا کر چچا جان کو قابو کرتے اور حامد کو ان کی مار پیٹ سے بچاتے۔ چچی اپنے جوان بیٹے کو پٹتا دیکھ کر برداشت نہ کر پاتیں؛ وہ اپنے بال نوچتیں، دیوار سے سر ٹکراتیں اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگتیں۔

جب کافی دنوں تک یہی منظر بار بار دہرایا گیا تو ہم بھی اکتا گئے، کیونکہ اس تلخی بھرے پڑوس کا ہم سب کے ذہنوں پر بھی برا اثر پڑتا تھا۔ آخر کار ہم نے چچا جان کے گھریلو معاملات میں مداخلت چھوڑ دی۔ ابو جان نے کہہ دیا کہ حامد ان کا بیٹا ہے، وہ اسے ماریں یا زندہ رکھیں، ہمیں اس سے کیا؛ مگر چچا جان اپنے رویے میں تبدیلی نہ لا سکے اور نہ ہی حامد نشہ ترک کر سکا۔ روز کے جھگڑے اور فساد نے چچی کا ذہنی توازن بگاڑ دیا تھا۔ جوان بیٹے کی بربادی کے صدمے سے وہ ہوش کھو رہی تھیں، یہاں تک کہ انہیں اپنے لباس تک کا ہوش نہ رہا۔ اب چچا جان کے لیے دوہری مصیبت ہو گئی؛ بیوی کو سنبھالیں، بچوں کو دیکھیں یا کمانے کی فکر کریں؟ ماں ذہنی طور پر معذور ہو تو بچے بھلا کس طرح سکون سے رہ سکتے ہیں۔ تمام بچوں کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔ چچا دن بھر دکان پر محنت کے بعد جب تھک کر گھر آتے، تو خود کھانا پکاتے یا ہوٹل سے لا کر بچوں کو کھلاتے۔ بیٹے بڑے تھے اور لڑکیاں چھوٹی، اس لیے وہ گھر نہیں سنبھال سکتی تھیں۔ جھاڑو تو میں جا کر لگا آتی تھی، مگر چچی سے ڈر بھی لگتا تھا کہ نہ جانے کب چیخنے لگیں یا بالوں سے پکڑ لیں۔ اس ڈر سے ہم چچا کے گھر زیادہ نہیں جاتے تھے۔

جب بھی چچی کو دورہ پڑتا، بچوں کی حالت قابلِ رحم ہو جاتی۔ وہ کبھی ہمارے گھر آ جاتے تو کبھی باہر نکل جاتے۔ بہت علاج کے بعد چچی کے رونے میں کچھ کمی آئی، مگر گھر اور بچوں سے اب بھی انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ جو کچھ ان کے سامنے کھانے کو رکھ دیا جاتا، وہ کھا لیتیں۔ اب وہ نہ شور مچاتیں اور نہ ہی چیختی چلاتی یا گالیاں دیتی تھیں، بہر حال اب گھر میں ان کی خاموشی اور لا تعلقی کے باعث کچھ سکون تھا۔ پہلے جیسی حالت نہ تھی کہ سارا گھر ہی پاگل خانہ نظر آئے۔ بچے بھی اب ماں کے پاس نہیں بھٹکتے تھے۔ چچا جان کا گھرانہ ایسا تھا کہ ہم تو کیا، سارے محلے والے ان پر ترس کھاتے تھے۔ ان کا دوسرا بیٹا قاسم جوان ہوا تو چچا جان نے سوچا کہ کیوں نہ اس کی شادی کر دی جائے تاکہ بہو آ کر گھر کا نظام سنبھال لے۔ بچیاں بھی بڑی ہو رہی تھیں اور ان کی نگرانی کے لیے گھر میں ایک عورت کا ہونا لازمی تھا۔ چنانچہ انہوں نے دوڑ دھوپ کر کے بڑی مشکل سے قاسم کی شادی کر دی۔

قاسم اچھا لڑکا ثابت ہوا۔ وہ باپ کے ساتھ دکان پر محنت بھی کرتا اور گھر کے مسائل میں ان کا ہاتھ بھی بٹاتا۔ جب سے وہ جوان ہوا تھا، چچا جان نے حامد سے الجھنا چھوڑ دیا تھا۔ حامد جب چاہتا گھر آتا اور جب چاہتا چلا جاتا؛ اسے رقم کی ضرورت ہوتی تو باپ کی بجائے چھوٹے بھائی سے مانگتا۔ قاسم کی سمجھداری اور اس کی بیوی کے سلیقے نے گھر کو سنبھال لیا اور اب گھر میں خاصا سکون آ گیا تھا، جس کا اثر سب پر خوشگوار ہوا۔ چچی جان بھی اب پہلے سے کچھ بہتر نظر آتی تھیں، اگرچہ وہ ابھی تک ذہنی طور پر مکمل صحت مند نہ ہو سکی تھیں۔ دوسری طرف حامد کی حالت اب بھی نہ بدلی تھی۔ وہ اب بھی نشہ کر کے گھر آتا، جھگڑا کرتا اور چھوٹے بھائیوں کو گالیاں دیتا، تو باپ غصے میں اسے بد دعائیں دینے لگتا، البتہ مار پیٹ ترک کر دی تھی۔ چچا جان سمجھ گئے تھے کہ حامد پر مار پیٹ کا الٹا اثر ہوتا ہے اور اسے اس طرح نہیں سدھارا جا سکتا۔ حامد کو جب نشہ پورا کرنے کے لیے گھر سے پیسے نہ ملتے، تو وہ مجبوراً مزدوری کرنے لگتا اور جو کچھ کماتا، اس سے اپنا نشہ پورا کر لیتا۔

یہ پچھلی سردیوں کا ذکر ہے، جب ایک دن حامد گھر آیا اور اپنے بھائی سے رقم طلب کی۔ اس پر چچا جان سخت ناراض ہوئے اور بہو کو منع کر دیا کہ “خبردار جو اس حرام خور کو تم نے ایک روپیہ بھی دیا”۔ سسر کے ڈر سے بہو نے حامد کو رقم نہ دی، تو وہ باپ سے ناراض ہو گیا۔ اب اس نے گھر میں سونا بھی چھوڑ دیا۔ وہ ہوٹل میں کھانا کھاتا اور ہمارے گھر کے ساتھ والی گلی میں سو جاتا۔ اس نے اپنے کپڑے بھی ہمارے گھر رکھ دیے تھے تاکہ اسے اپنے گھر نہ جانا پڑے۔ دو ہفتے اسی طرح گزر گئے۔ ایک دن ہمارے گھر کچھ مہمان آئے ہوئے تھے کہ حامد آ گیا۔ وہ اپنے کپڑے لے کر غسل خانے گیا، پھر تیار ہو کر باہر چلا گیا اور کسی کو نہیں بتایا کہ کہاں جا رہا ہے۔

دوسرے دن چچا دوڑے ہوئے آئے اور بتایا کہ حامد کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور اس کی لاش ٹھٹھہ اور مکلی کے درمیان سڑک پر پڑی ہے۔ وہ میرے دونوں بھائیوں کو ہمراہ لے گئے اور کچھ محلے والے بھی ساتھ تھے۔ ہر ایک نے آ کر یہی بتایا کہ لاش حامد ہی کی ہے۔ حادثہ بہت شدید تھا؛ چہرے کا آدھا حصہ مسخ ہو چکا تھا اور کھوپڑی پھٹ گئی تھی۔ چہرے کا صرف تھوڑا سا حصہ بچا تھا جو ہو بہو حامد جیسا تھا۔ گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ حامد کے ماموں اور ننھیالی رشتہ دار بھی آ گئے۔ ہم سب رو رہے تھے، حامد جیسا بھی تھا، آخر ہمارا خون تھا۔ لاش کو ہسپتال لے جایا گیا، پوسٹ مارٹم ہوا اور پھر گھر لائی گئی۔ ہم سب نے چہرہ دیکھا، جو دیکھا نہ جاتا تھا۔ ہر شخص افسردہ اور سہما ہوا تھا۔ مرد بھی لاش کی حالت دیکھ کر عبرت پکڑ رہے تھے۔ دور دور سے لوگ آ رہے تھے، وہ میت کا آدھا چہرہ دیکھتے اور کہتے کہ “ہاں یہ حامد ہی ہے، افسوس جوان موت مرا”۔ چچا جان تو بیٹے کا چہرہ دیکھتے ہی غش کھا گئے۔

چچی جان اس سارے ہنگامے سے بے نیاز کمرے کے کونے میں الگ تھلگ بیٹھی تھیں، جیسے انہیں کسی بات کی خبر ہی نہ ہو۔ گھر میں رونے پیٹنے کی آوازیں اتنی زیادہ تھیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی، مگر چچی جان پتھر کا بت بنی ہوئی تھیں۔ وہ ماں تھیں، اس لیے آخری دیدار کے لیے ان کو باہر لانا ضروری تھا۔ امی جان ہمت کر کے دو عورتوں کے ہمراہ ان کے پاس گئیں اور بولیں: “بھابھی اٹھو، باہر آؤ۔ دیکھو تمہارا حامد بہت بری طرح زخمی ہوا ہے، اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے”۔ امی انہیں زبردستی باہر لے آئیں۔ چچی جان میت کے قریب آ کر کھڑی ہو گئیں، تبھی کسی نے چہرے سے چادر ہٹا دی۔ چچی نے چہرہ دیکھا۔ ہر شخص وہاں کسی خوفناک یا دردناک ردِ عمل کی توقع کر رہا تھا، لیکن میت کا بچا کھچا چہرہ دیکھ کر چچی جان کے ساکت لبوں پر ایک مدھم مسکراہٹ ابھری، جیسے انہوں نے اطمینان کا سانس لیا ہو۔ پھر وہ کہنے لگیں: “یہ میرا حامد ہے؟ تم لوگ خواہ مخواہ رو رہے ہو۔ نہ جانے کس بیچارے کی لاش ہے، رونا تو اس کی ماں کو چاہیے”۔ یہ کہہ کر وہ مڑیں اور دوبارہ اپنی جگہ جا کر بیٹھ گئیں۔

سب نے یہی سمجھا کہ پاگل عورت ہے، اس لیے بیٹے کی میت دیکھ کر بھی ایسی بات کر رہی ہے جو کوئی ذی ہوش خاتون نہیں کہہ سکتی۔ ہر ایک کو یہی افسوس تھا کہ ذہنی توازن ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے اسے بیٹے کی موت کا یقین نہیں آ رہا۔ تبھی کسی نے ایک تسبیح، یٰسین شریف اور ایک چابی لا کر دی جو پوسٹ مارٹم کے وقت متوفی کی جیب سے نکلی تھیں۔ ایک عورت نے یہ چیزیں چچی جان کو دیں تاکہ شاید انہیں دیکھ کر ان کا دل بھر آئے اور رو کر سکتہ ٹوٹے۔ چچی جان نے ان چیزوں کو غور سے دیکھا اور بولیں: “اب تو یقین کر لو کہ یہ میرا بیٹا نہیں ہے۔ وہ نشہ کرتا تھا، نماز قرآن کہاں پڑھتا تھا؟ یہ چابی گھر کے ہر تالے میں لگا کر دیکھ لو، کیا کسی کو لگتی ہے؟” اس عورت نے حیرت سے انہیں دیکھا اور چابی حامد کی بہن کو دی۔ اس نے گھر کے سب صندوقوں اور تالوں پر آزمائی، مگر وہ کسی کو نہ لگی۔ اس پر کچھ عورتوں کو شک گزرا کہ کہیں ماں ٹھیک ہی نہ کہہ رہی ہو۔

ہمارا چھوٹا سا شہر تھا، اس لیے سب ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ تسبیح اور یٰسین شریف دیکھ کر چچا جان بھی شک میں پڑ گئے تھے کہ یہ چیزیں حامد کی نہیں ہو سکتیں، لیکن سوال یہ تھا کہ اگر یہ حامد نہیں تو پھر وہ کہاں ہے؟ وہ ناراض تو تھا، مگر عام طور پر بتا کر جاتا تھا۔ ہم سب دعا کرنے لگے کہ اگر یہ مرحوم حامد نہیں ہے، تو خدا کرے وہ جہاں کہیں بھی ہو، بخیریت گھر آ جائے۔ چچی جان بھی سجدے میں گر کر دعا کر رہی تھیں کہ “اے خدا! میرا حامد جہاں کہیں بھی ہے، اسے لوٹ کر گھر لے آ”۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس دکھی ماں کے دل کی پکار سن لی۔

چند دن ہی گزرے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ ایک نوجوان باہر کھڑا تھا۔ چچا جان نے دروازہ کھولا اور پوچھا: “کون ہو اور کس سے ملنا ہے؟” اس نے کہا: “میرا نام رزاق ہے اور میں امجد صاحب سے ملنا چاہتا ہوں، کیا آپ ہی حامد کے والد ہیں؟” چچا نے جواب دیا: “ہاں میں ہی امجد ہوں”۔ نوجوان نے کہا: “جناب، حامد کا میری کار سے ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔ میں اسے ہسپتال لے گیا تھا، اس کی ٹانگ میں فریکچر ہوا ہے اور وہ وہاں زیرِ علاج ہے”۔ یہ سن کر چچا کے گھر میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ زخمی ہی سہی، مگر اس کے زندہ ہونے کی خبر تو ملی۔ چچا فوراً اس اجنبی کے ساتھ ہسپتال روانہ ہو گئے اور چچی ایک بار پھر اللہ کے حضور سجدے میں گر گئیں۔ بالآخر دعائیں رنگ لائیں اور ان کا بیٹے کی واپسی ہوئی اور وہ بھلا چنگا ہو گیا۔ علاج کے دوران ڈاکٹروں کی کوششوں سے حامد کے نشے کی عادت بھی چھوٹ گئی۔ اللہ جسے بچانا چاہتا ہے، اسے موت کے منہ سے بھی نکال لاتا ہے؛ یہ ایک معجزہ ہی تھا۔ خدا جانے وہ کس بدنصیب کی لاش تھی جو حادثے کی نذر ہو گیا تھا۔ حامد کی واپسی سے پورے خاندان کو نئی خوشی ملی۔ چچی جان، جنہیں سب پاگل سمجھتے تھے، انہیں بھی واقعی ایک نئی زندگی ملی۔ میرا یقین ہے کہ ماں کا دل اپنی اولاد کے لیے الہامی ہوتا ہے اور صدقِ دل سے نکلی دعا بارگاہِ الہی میں ضرور قبول ہوتی ہے۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top