خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller شوٹر۔۔۔۔سنائپر ۔۔۔تیسرا پارٹ۔۔۔۔ریاض عاقب کوہلر


قسط نمبر21
ریاض عاقب کوہلر
اس نے بھی اٹھنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔اگلے ہی لمحے ہم گھتم گھتا ہو گئے تھے۔اس وقت میرے انگ انگ میں غصے ،نفرت اور بدلے کی آگ بھری تھی۔اس کے ممتا دیدی کے ساتھ ناروا سلوک نے میرے تن بدن میں وہ آگ لگائی تھی کہ میری صلاحیتیں عام روزمرہ سے بھی کچھ بڑھ گئی تھیں۔وہ بھی بہترین لڑاکا تھااور یہ اس کا اپنے اوپر اعتماد ہی تھا کہ شکنجے میں آئے دشمن کو دو بدو لڑائی کا موقع فراہم کر رہا تھا۔
شروع میں ہم دونوں برابر رہے ،لیکن آہستہ آہستہ بازی پلٹنے لگی، ہم نے کرسیوں اور لکڑی کی میز کو بھی بہ طور ہتھیار استعمال کیا ،دونوں کے چہرے اور جسم کے دوسرے حصوں سے خون رس رہا تھا۔ جسمانی لڑائی میں سب سے زیادہ اہمیت چوٹ برداشت کرنے کی ہوتی ہے۔ایک اچھا لڑاکاوہی ہوتا ہے جو مارنے کے ساتھ مار کھانے کا حوصلہ بھی رکھتا ہو۔انسانی جسم کے کچھ حصے ایسے ہیں جنھیں بہ طور ڈھال استعمال کیا جا سکتا ہے۔ان میں کہنیاں، کندھے،ٹانگیں وغیرہ شامل ہیں۔یہ ایسے انگ ہیں جو چوٹ برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔اس کے برعکس پیٹ ،پسلیاں،چہرہ،گردن ،کنپٹی وغیرہ نسبتاََ نازک انگ ہیں اور ان میں سے کسی بھی انگ پر بھرپور چوٹ لگنے سے بندہ انٹا غفیل ہو سکتا ہے۔البتہ ایک لڑاکے کا جسم عام انسانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ چو ٹ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی وجہ مسلسل مشق ہوتی ہے۔
پچھلی بار کرن چاولہ سے میرا دو تین دفعہ ٹاکرا ہوا تھااور اس دوران میں میں نے اس کے لڑنے کے طریقے کو بہت باریک بینی اور غور سے پرکھا تھا۔اپنے آخری کورس کے دوران جسمانی تربیت کی مشق کرتے ہوئے میں نے دفاعی حکمت عملی میں لاشعوری طور پرکرن چاولہ کے جارحانہ حملوں کو روکنے کے کے کئی طریقے سوچے تھے،،اس لڑائی میں وہ مشق میرے بہت کام آرہی تھی۔
لڑائی کا اختتامی مرحلہ پندرہ بیس منٹ بعد آیا تھا،جو لوگ لڑنے کا فن جانتے ہیں انھیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ پندرہ بیس منٹ تک مسلسل لڑنا انسان کو کتنا تھکا دیتا ہے۔بین الاقوامی باکسنگ مقابلوں میں ایک راﺅنڈ تین منٹ کا ہوتا ہے اور ہر راﺅنڈکے بعد ایک منٹ کا وقفہ ہوتا ہے تاکہ باکسر تھکن اتار سکے۔اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ خالی ہاتھ لڑائی کتنی مشکل اور تھکا دینے والی ہوتی ہے۔
ہم دونوں وحشیوں کی طرح ایک دوسرے کو رگیدرہے تھے۔کرن چاولہ کی بائیں پسلیوں میں دو زور دار مکے مار کر میں نے اسے دفاعی قدموں پر پیچھے دھکیلا،لیکن اس کے ساتھ ہی میرا دماغ اس کے دونوں چیلوں سے نبٹنے کا سوچ رہا تھا۔اس وقت میں لڑائی کا اختتام کر سکتا تھا،مگر میں نے اسے پیچھے ہٹنے دیااور پھر اسے گھیر کر کمرے کے کونے میں سمٹنے پر مجبور کر دیا۔اچانک ہی کرن چاولہ نے قدم آگے لیتے ہوئے دایاں گھٹنا اٹھا کر میری پسلیوں میں رسید کرنے کی کوشش کی ،مگر میں نے کہنیاں سامنے کرتے ہوئے اس کا وار خطا کر دیا تھا۔اس نے فوراََ ہی مجھے گریبان سے تھامتے ہوئے گھما کر کونے میں دھکیلا، گو اپنے تیئں یہ اس نے خود کیا تھا مگر درحقیقت وہ میری چال میں آگیا تھا۔جونھی اس نے مکے چلا کر میری ٹھوڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی،میں نے دو مکے کہنیوں پر سہار کر ایک دم اس کے بازوﺅں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور ساتھ ہی دایاں گھٹنااس کی بائیں پسلیوں پر رسید کر دیا۔
”افف ....“ کی بھیانک آواز کے ساتھ وہ جھکا،میرادایاں ہاتھ فوراََ اپنی پنڈلی تک پہنچا، روگر ایل سی پی اڑتیس بورکے دستے کو پکڑنے میں مجھے ذرا بھی دیر نہیں لگی تھی۔چھوٹے حجم کا نسوانی پستول چرن جیت نامی غنڈے کو ٹھکانے لگانے پر میرے ہاتھ چڑھا تھا۔
دایاں ہاتھ سیدھا کرتے ہوئے میں نے مسلسل دو بار لبلبی دبائی،ہلکے دھماکوں کے ساتھ روی اور شنکر کٹے ہوئے درختو ں کی طرح زمین بوس ہوئے تھے۔انھیں گولی مارتے ہی میں نے گھٹنا موڑ کر کرن شکلا کے ماتھے پر رسید کیاوہ درد بھری کراہ سے پشت کے بل لمبا ہو گیا تھا۔
پستول جیب میں ڈالتے ہوئے میں نے کرن چاولہ کی پنڈلیوں سے پکڑ کر اسے گھمایا،یوں کہ اب اس کا چہرہ فرش کی طرف ہو گیا تھا۔اس کے ساتھ ہی میں نے اس کی ٹانگوںکو اوپر کی طرف کھینچا دونوں پنڈلیوں کو اپنی بغلوں میں دابا اور اس کے کندھوں پراپنے گھٹنے رکھ کر اس کا بالائی جسم فرش سے جوڑ دیا۔
اس کا جسم کمان کی طرح مڑ گیا تھا،اس نے تڑپ کر میری گرفت سے نکلنے کی کوشش کی مگر میری پکڑ مضبوط تھی،جلد ہی وہ مرحلہ آیا جب اذیت سے کراہتے ہوئے اس نے ہار مانی....
”مجھے شکست تسلیم ہے۔“
”میں نے نہیں سنا۔“اطمینان سے کہتے ہوئے میں دباﺅ اور بڑھا دیا تھا۔
وہ ہانپتا ہوا گڑگڑایا۔”مم....میں ....ہا....ررمانتا ہوں....ہار مانتا ہوں ،پلیز۔“
”ہار تو شاید ممتا دیدی نے بھی مانی ہو گی ،کیا اسے سہولت ملی تھی؟“
وہ پراذیت لہجے میں کراہا۔”مم.... میں اسے منا لوں گا....معافی مانگ لوں گا۔“
”تو منا لینا، کون سا تمھیں قتل کر رہا ہوں۔“زہریلے انداز میں کہتے ہوئے میں نے اس کے زیریں جسم کو زور دار انداز میں جھٹکا دیا،اس کے حلق سے فلک شگاف چیخ بلند ہوئی تھی ساتھ ہی ”کڑاکے“ کی آوازکے ساتھ ریڑھ کی ہڈی کے دو تین مہرے ٹوٹ گئے تھے۔
اچانک کمرے کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا،اندر داخل ہونے والے کے ہاتھ میں پستول دیکھتے ہی میں نے کرن چاولہ کے بے ہوش جسم کو اپنے سامنے ڈھال کے طور پر پکڑا،ساتھ ہی میرادایاں ہاتھ جیب میں رینگ گیا۔روگر ایل سی پی اڑتیس بورکے دستے کو تھامتے ہی میں نے انگوٹھے کی مدد سے گھوڑا پیچھے کھینچا،دشمن آنکھوں میں غیظ و غضب لیے مجھے گھور رہا تھا۔
اس نے پستول لہرا کر دھمکی دینا چاہی۔”باس کو میرے حوالے کر کے گرفتاری دے دو ورنہ....“
اس کے بعد اس کی زبان کچھ کہنے سے قاصر ہو گئی تھی،کیوں کہ اڑتیس بور کی گولی نے اس کی کھوپڑی میں روشن دان کھول دیا تھا۔وہ اوندھے منہ گرا،میں نے کرن چاولہ کے بے ہوش جسم کو نیچے پھینکا اور دروازے کی طرف دوڑپڑا۔روی کے پاس سے گزرتے میں نے گلاک نائنٹین اٹھا لیا تھا۔
کمرے کا دروازہ ڈرائنگ روم میں کھلتا تھا۔صوفوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے میں ڈرائنگ روم کے داخلی دروازے کی طرف بڑھا،باہر چوڑا برآمدہ تھاجس سے گیراج کا کام بھی لیا جاتا تھا۔وہاں دو کاریں موجود تھیں۔سامنے ہی عمارت کا بڑا دروازہ تھا جس کے سامنے چوکیدار موجود تھا۔اس کا رخ برآمدے کی طرف ہی تھا،یقینا اس کے کانوں تک بھی کرن چاولہ کی بھیانک چیخیں پہنچی تھیں۔لگتا یہی تھا کہ یہ چیخنا چلانا معمول سے ہٹ کر نہیں تھا تبھی تو اس نے اندر داخل ہونے کی کوشش نہیں تھی۔
مجھ پر نظر پڑتے ہی وہ چونکتے ہوئے اپنی رائفل کی طرف متوجہ ہوا جو لکڑی کی کرسی کے سہارے کھڑی تھی،مگر وہ صرف ذرا سا ہی ہلا تھا کہ میں دھاڑا۔
”ہاتھ اٹھا لو ورنہ تمھیں اٹھانے لگا ہوں۔“
اس نے خوفزدہ ہوتے ہوئے ہاتھ سر سے اوپر کر لیے تھے۔
قریب پہنچ کر میں مستفسر ہوا۔”تمھارے علاوہ یہاں کتنے افراد ہیں۔“
وہ تھوک نگلتا ہوا بولا۔”آپ لوگوں کے علاوہ ایک موہن ہے ۔“
میں نے دھمکایا۔”غلط بیانی تمھاری جان لے سکتی ہے۔“
وہ خشک ہونٹوں کو زبان سے تر کرتے ہوئے بولا۔”سچ کہہ رہا ہوں۔“
میں نے حکمیہ انداز میں کہا۔”گھوم جاﺅ۔“
وہ تھکے تھکے انداز میں مڑا،اس کی پیٹھ ہوتے ہی میں نے گلاک کے دستے سے اس کا سر بجایا۔”اوغ۔“کی دردناک آواز نکالتے ہوئے وہ ڈھیر ہو گیا تھا۔اس کا ازار بندنکال کر میں نے اس کے ہاتھ پشت کی طرف باندھے اور شلوار سے اس کے ٹخنے باندھ دیئے۔گو گھنٹے پون گھنٹے تک اس کے ہوش میں آنے کا امکان نہیں تھا،لیکن میں کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔
اسے گھسیٹ کرمیں نے درانٹا کی باڑ کے عقب میں پھینکا اور واپس مڑ گیا۔دس پندرہ منٹ میں میں نے تمام عمارت چھان لی تھی۔ چوکیدار نے جھوٹ نہیں کہا تھا۔پوری عمارت خالی پڑی تھی۔اوپری منزل کے کمرے میں ایک کمپیوٹر پڑا تھا،جس کی سکرین پر ہال کا منظر نظر آرہا تھا،یقینا موہن نامی آدمی وہیں بیٹھ کر ہمیں دیکھ رہا تھا۔ریکارڈنگ اس وقت بھی ہورہی تھی۔کمپیوٹر آف کر کے میں نے سی پی یو کھولااور ہارڈ ڈسک اپنے قبضے میں کر لی۔ امید تھی اس میں اور بھی کام کی چیزیں مل جاتیں۔
واپس ہال میں پہنچا تو کرن چاولہ اب تک بے ہوش پڑا تھا۔پانی کا جگ چہرے پر انڈیل میں نے اسے ہوش میں لایا۔اس نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھول دی تھیں۔
اس کے قریب اکڑوں بیٹھتے ہوئے میں نے اطمینان بھرے انداز میں انکشاف کیا۔ ”میرے استادصوبیدار مراد خان نے یہ داﺅ سکھاتے وقت نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا۔’بیٹا!یہ داﺅ صرف اس بندے پر آزمانا جس سے تمھیں حد سے زیادہ نفرت ہو،کیوں کہ اس سے ریڑھ کی ہڈی کے جو مہرے کھسکتے ہیں انھیں ٹھیک کرناکسی ڈاکٹر کے بس کی بات نہیں ہے۔“
وہ اذیت بھرے لہجے میں گڑگڑایا۔”مم....مجھے ....قق....قتل کر دو۔“
میں اطمینان سے بولا۔”جان سے مار کر تمھیں بچا نہیں سکتا۔“
وہ ملتجی ہوا۔”میں بنتی کرتا ہوں۔“
”اس سے کرو جس کے مجرم ہو۔“
وہ مجھے کینہ توز نظروں سے گھور کر رہ گیا تھا۔
میں نے اس کی نفرت بھری نظروں کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔”ممتا دیدی کہاں قید ہیں؟“
وہ کراہتا ہوا بولا۔”مجھے نہیں پتا۔“
میں نے استہزائی لہجے میں کہا۔”کیا لگتا ہے مزید تشدد برداشت کر لوگے۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولا۔”ایک معذور پر تشدد کرو گے۔“
میں اعتماد سے بولا۔”ممتا دیدی کا پتا اگلوانے کے لیے میں تیرا ریشہ ریشہ الگ کر سکتا ہوں اور یہ بھول جاﺅ کہ مرنے دوں گا۔“
وہ تھکے تھکے انداز میں بولا۔”راون قلعہ میں قید ہے،لیکن وہ ایسی جگہ نہیں ہے جہاں سے اسے زندہ فرار کرایا جا سکے۔“
”وہ میرا مسئلہ ہے ۔“میں اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔”اور برخوردار! میں چاہتا تو پلازے کے باہر ہی تمھیں ،تمھارے چیلوں سمیت نرگ واسی بنا سکتا تھا۔اگر یاد ہو تو میں ستون کے قریب تھا،آڑ پکر کر تینوں پر ایک ایک گولی ضائع کرنے کی ضرورت پڑنا تھی،مگر میں نے ایسا نہ کیا،کیوں کہ تمھاری زبان سے سچ اگلوانا تھا۔تمھاری مغرور طبیعت اورخود پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کرنے کی عادت نے مجھے فیصلہ کرنے کا حوصلہ دیا؛امید تھی کہ تم مقابلے پر اصرار کرو گے کہ گزشتہ ملاقاتوں میں تمھارے ذہن میں اپنی مہارت کا کچھ زیادہ ہی فتور پیدا ہو گیا تھااور تو نے میرے اندازے کو غلط ثابت نہیں کیااس کے لیے شکریہ۔باقی اپنی موجودہ حالت کے تم خود ذمہ دار ہو ،تمھیں ممتا دیدی کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کرنا چاہیے تھا۔اگر گھٹیا پن کا مظاہرہ کر ہی لیا تھا تو اس کے چھوٹے بھائی کے سامنے اظہار نہیں کرنا تھابہ ہرحال اب بھگتو....اورامید پر دنیا قائم ہے، حرام کا بہت مال تو نے اکھٹا کیا ہے، کوشش کرو شاید علاج ہو جائے۔“بات ختم کرتے ہوئے میں لمبے ڈگ بھرتا ہواباہر نکل آیاالبتہ وہ جگہ چھوڑنے سے پہلے میں نے غسل خانے میں جا کر اپنا حلیہ وغیرہ درست کر لیا تھا۔
واپسی کا رخ کرنے سے پہلے ایک ہارڈ وئیر کی دکان سے میں نے ہارڈ ڈسک کے لیے ایکسٹرنل ہارڈ ڈسک کا مخصوص کور لے لیا تھا جس کی مدد سے وہ ہارڈ ڈسک کسی بھی دوسرے لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر سے منسلک کی جا سکتی تھی۔
٭٭٭٭٭
مجھے دیکھتے ہی وشواس سنگھ حواس باختہ سا میری طرف بڑھا۔”واہ گرو کی سوںبہت پریشان تھا۔مجھ تک خبر پہنچی تھی کہ تمھیں کرن چاولہ پکڑ کر لے گیا ہے۔“
میں اس سے معانقہ کرتے ہوئے متبسم ہوا۔”خبر تو ٹھیک پہنچی۔“
اس نے میرے چہرے کو گھورتے ہوئے اندازہ لگایا۔”لگتا ہے کافی مارا ماری ہوئی ہے۔“
میں نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے پوچھا۔”ٹی وی پر وگنیش شکلا کے بارے کوئی خبر چلی؟“
وشواس سنگھ نے کہا۔”اس کے قتل ہونے کے چند منٹ بعد ہی ”فوری خبر “(بریکنگ نیوز) آگئی تھی۔ اب تو باقی تفصیل بھی جاری کر دی گئی ہے۔“
مجھے تفصیل جاننے میں دلچسپی نہیں تھی کہ انڈین میڈیا کی لغواور کذب بیانی سے اچھی طرح آگاہ تھا۔کسی بھی خبر اور واقعے کو توڑ مروڑ کر پاکستانی ایجنسیوں کے سر منڈھنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔یہاں بھی بہ ظاہر وگنیش شکلا کے قتل میں میں ملوث تھا،مگر اسے قتل کرنے کی اصل وجہ سے کسی نے پردہ نہیں اٹھانا تھا۔جو شخص پاکستان میں میرے بیوی بچوں اور پری وش کی جان کے درپے تھا اس پر جوابی وار کرنا کہاں کا ظلم اور ناانصافی تھی۔اگر یہاں کرن چاولہ کی چال زیر بحث لائی جائے تب بھی غلطی انھی کی مانی جائے گی۔مجھے انڈیاآنے پر مجبور تو کیا گیا تھاناں ۔
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”کچھ کھانے کو مل جائے گا۔“
وہ خوش دلی سے بولا۔”تازہ دم ہو جاﺅ،اکٹھے کھانا کھاتے ہیں۔پریشانی کی وجہ سے میں دن کا کھانا بھی نہیں کھا سکا ہوں۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ تمھاری بھابی بھی اب تک بھوکی ہے۔“
اسی وقت پریتو بھابی خواب گاہ سے برآمد ہوئی۔”ویر جی !آپ آگئے،ٹھیک تو ہیں ناں۔“
میں مسکراتے ہوئے بولا۔”جن کے پیٹھ پیچھے دعائیں کرنے والی بہنیں موجود ہوں انھیں کیا ہو سکتا ہے۔“
”آپ تازہ دم ہو جائیں میں کھانا لگاتی ہوں۔“وہ باورچی خانے کی طرف مڑ گئی۔اور میں نے غسل خانے کا رخ کیا۔
کھانے کے دوران میں میں نے وشواس سنگھ کو تفصیل بتادی،کرن چاولہ کے بارے جان کر اسے خوشی ہوئی تھی۔چائے پی کر میں نے وشواس سنگھ سے ایک لیپ ٹاپ مانگا۔
وہ مستفسر ہوا۔”پریتو!کے پاس لیپ ٹاپ موجود ہے،کام چل جائے گا یا نیا منگوا دوں۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”نئے کی ضرورت نہیں ہے۔“
اس نے پریتو کو لیپ ٹاپ لانے کا کہا ، جو اس نے میرے سامنے لا کر رکھ دیا۔
”بھابی !انٹر نیٹ کا روٹر بھی آن کر دینا۔“
”ٹھیک ہے ویر جی!“کہہ کر وہ کمرے کی طرف مڑ گئی۔
میں وشواس سنگھ کی طرف متوجہ ہوا۔”صبح کسی شخص کو پلازے میں بھیج دینا۔ وہاں چھت پر موجودپانی کی ٹینکی میں میں نے اپنی رائفل والا بیگ پھینکا تھا وہ احتیاط سے نکال کر لے آئے ۔“
”ٹھیک ہے۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔
”صبح ملاقات ہو گی ۔“کہتے ہوئے میں نے نشست چھوڑ دی۔
کمرے میں جا کر میں نے لیپ ٹاپ آن کرنے سے پہلے ہی مخصوص نمبر پر بات کی،لگا وہ بے صبری سے منتظر تھا۔ رسمی سلام دعا کے ساتھ ہی ہدایت دی۔ ”کل دس بجے وہ منتظر ہو گی۔“
”پہلے تم سے ملنا چاہتا ہوں۔“
”تو پہلے میرے پاس آجانا۔“کہہ کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔وہ فون پر زیادہ بات نہیں کیا کرتا تھا۔اس لیے میں نے بھی ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔اس کا جگہ کا تعین کیے بغیر رابطہ منقطع کرنا ظاہر کررہا تھا کہ اس نے پرانی جگہ ہی پر ملنا تھا۔
میں نے لیپ ٹاپ آن کر کے ہارڈ ڈسک کی چھان بین شروع کر دی۔اس میں زیادہ تر کرن چاولہ کے ذاتی مجرموں سے پوچھ گچھ کی وڈیوز تھیں۔چند پاکستانی جاسوسوں کی وڈیوز بھی موجود تھیں ۔چند لڑکیوں کی نازیبا وڈیوز بھی اس میں بھری ہوئی تھیں،جنھیں وہ اپنے ذاتی مقاصد کو استعمال کرتا تھا۔ایک وڈیو میں امرتا ریوٹکر کو معیوب حالت میں دیکھ کر مجھے حیرانی نہیں ہوئی تھی۔سب سے اہم وہ وڈیو تھی جس میں کرن چاولہ ڈینو کاہم شکل تیار کرا رہا تھا۔
اپنی اور ڈینو کی وڈیو میں نے انصاری صاحب کی آئی ڈی پر بھیج دیں ،تاکہ انھیں صورت حال واضح ہوجائے۔پھر لیپ ٹاپ بند کر کے سونے کو لیٹ گیا۔
٭٭٭٭٭
دس بجے پشپا کماری سے ملنے کا وقت طے تھا میں آٹھ بجے ہی شری رام ہوٹل کے کمرہ نمبر ستائیس کے سامنے پہنچ گیا تھا۔دستک کے جواب میں دروازہ اسی شخص نے کھولا جس سے پچھلی بار ملاقات ہوئی تھی۔
ایک طرف ہوکر اس نے مجھے داخل ہونے کا رستہ دیا،لمحہ بھر بعد ہم آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
”بولو۔“بغیر کسی تمہید کے وہ مطلب پر آیا۔
”کرن چاولہ کے ٹھکانے سے یہ ہارڈ ڈسک ملی ہے اس میں کافی وڈیوز ایسی ہیں جوآپ لوگوں کے کام آسکتی ہیں۔“
ہارڈ ڈسک لے کر وہ مستفسر ہوا۔”اور کچھ....؟“
میں نے انکشاف کیا۔”ڈینو زندہ نہیں ہے انھوں نے جان بوجھ کر غلط خبر پھیلائی تھی۔“
”شاید ایسا ہی ہو۔“اس نے تکرار سے گریز کیا تھا۔
میں نے پوچھا۔”کیا اب بھی پشپا کماری سے ملاقات کی ضرورت باقی ہے؟“
اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”خود بہتر جانتے ہو کہ تمھاری منہ بولی بہن کا معاملہ ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”وہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”انھیں ایک سنائپر کی ضرورت ہے،اگر مدد کر دو گے تو کل کلاں کو وہ ہمارے ممنون و احسان مند ہوں گے۔“
”ٹھیک ہے۔“مختصراََ کہتے ہوئے میں نے جانے کی اجازت چاہی۔
”چوکنے رہنا،کرن چاولہ کے معذور ہونے کا مطلب را کا معذور ہونا نہیں ہے۔“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ چوکنا رہا جائے۔“
”اور اس دن تم کال نہیں اٹھا رہے تھے،میں تمھیں گولی چلانے سے منع کرنے والا تھا۔“
میں نے انکشاف کیا۔”میرے گولی چلانے یا نہ چلانے سے فرق نہ پڑتاکیوں کہ سارے منصوبے کا انھیں علم تھا۔“
وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔”ہمیں توبس مشکوک افراد کی نقل و حرکت دیکھ کر شک گزرا تھا۔“
میں نے اجمالاََ ساری کہانی دہرا دی۔
وہ تحسین آمیز لہجے میں بولا۔”اس دن پلازے میں اپنی آنکھوں کے سامنے تمھیں ایکشن میں دیکھنے کا اتفاق ہوا، بلاشبہ تم جیسے کمانڈوز ہمارا فخر ہیں۔“
میں خلوص دل سے بولا۔”یقینا میری کارکردگی آپ جیسے ہیروز کی قربانی کے سامنے نہایت سطحی سی ہے۔“
”برخوردار!ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی ہمیں ہیرو سمجھتا ہے یا زیرو،ہمارا کام اپنے ملک و قوم کی خدمت ہے اور اس کے لیے کسی عزت،شہرت اور تعریف کے ہم چنداں محتاج نہیں ہیں۔چند ٹکوں پر بیرونی آقاﺅں کی خوشنودی حاصل کرنے والے ہمیں کس بے دردی ،سنگدلی اور بے رحمی سے غاصب و لٹیرا کہتے ہیں،اسے کبھی ذہن میں نہیں لایا۔اپنے سیاسی مفاد کے حصول کو ہم پر کیا کیچڑ اچھالا جاتا ہے کبھی غور نہیں کیا۔ہماری قربانیوں کا خود غرض اور مطلب پرست لیڈروں کی محبت میں کیسے مذاق اڑایا جاتا ہے ،کبھی نہیں سوچاکیوں کہ ہمیں صلے کی پروا ہے نہ مال و دولت کا لالچ اور تمھیں بھی نصیحت کرتا ہوں ،کبھی بکواس کرنے والے ناعاقبت اندیشوں کے اعتراضات اور بے ہودہ تجزیوں سے متاثر نہ ہونا۔ جو کچھ ہم کر رہے ہیں اس کا صلہ ہمارا ربّ دے گا۔“
”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں سر!“میں مغموم ہو گیا تھا۔
اس نے نشست چھوڑ کر مجھے گلے سے لگایا اور پیٹھ تھپکتے ہوئے بولا۔”یاد رکھنا بیٹا!....
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
”بجا فرمایاسر!“مودّبانہ انداز میں کہتے ہوئے میں نے الوداعی مصافحہ کیا۔
”مجھے یہاں سورج داس کہتے ہیں۔“
”یاد رہے گا۔“کہتے ہوئے میں باہر نکل آیا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر22
ریاض عاقب کوہلر
دس بج کر چار پانچ منٹ ہوئے تھے جب میں بملا عرف پشپا کے فلیٹ کے سامنے پہنچ گیا تھا۔ گھنٹی کے جواب میں فوراََ ہی دروازہ کھل گیا،یقینا وہ میری منتظر تھی۔گہرے آسمانی رنگ کی بنیان اورچست جینز میں کسی منجھی ہوئی اتھلیٹ کی طرح لگ رہی تھی۔سنہرے بال پونی میں قیدہونے کی وجہ سے تسلسل سے ہل رہے تھے جیسے پھولوں کی ڈال ہوا سے لہراتی ہے۔اس کا جسم نہایت متناسب اور سانچے میں ڈھلا ہوا تھا۔صاف لگتا تھا کہ باقاعدگی سے ورزش کرتی ہے۔
مجھے دیکھتے ہی اس کے ہونٹوں پر خوب صورت تبسم نمودار ہوا اور اس نے ایک جانب ہو کر مجھے راستہ دیا۔
اند ر داخل ہو کر میں نے بغیر اجازت صوفے پر نشست سنبھال لی تھی۔
وہ دروازہ بند کر کے میرے سامنے آئی۔”چائے ،کافی یا ٹھنڈا....“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”شکریہ۔“
وہ ندامت سے بولی۔”معذرت ،گزشتا ملاقات خوشگوار ماحول میں ختم نہیں ہوئی تھی، اس لیے چائے پانی ہی کانہ پوچھ سکی۔“
میں قدرے طنزیہ لہجے میں بولا۔”پشپابی بی!مہمان نوازی ماحول کی محتاج نہیں ہوا کرتی ۔“
”ٹھنڈا صحیح رہے گا،آپ کو غصے پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔“بے تکلفی سے کہتے ہوئے وہ باورچی خانے میں گھس گئی۔چند لمحوں بعد وہ آم کا تازہ جوس میرے سامنے رکھ رہی تھی۔ میں نے بے تکلفی سے گلاس اٹھا لیا۔اپنا گلاس اٹھا کر وہ ساتھ والے صوفے پر بیٹھ گئی۔
”ایک بات پوچھوں؟“چھوٹا سا گھونٹ لیتے ہوئے اس نے دلچسپی سے پوچھا۔
”سوال پوچھنے سے کس نے روکا ہے،البتہ جواب کا تقاضا کرنا درست نہیںہوگا۔“
اس نے منہ بنایا۔”پھر پوچھنے کا فائدہ۔“
میں نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”تو نہ پوچھو،میں یہاں انٹرویو دینے تو نہیں آیا۔ آپ مدعے پر آئیںتاکہ کوئی لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔“
اس نے قہقہ لگایا۔”ہر کسی سے بد اخلاقی سے پیش آتے ہو یا مجھی پرخصوصی نوازش ہو رہی ہے۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”مجھے لگا تھا آپ کسی اہم عہدے پر فائز ہیں۔“
وہ فخریہ انداز میں بولی۔”ایسا ہی ہے۔“
میں جھلاتے ہوئے بولا۔”تو عہدہ دینے والے اتنے سادہ ہیں کہ وقت ضائع کرنے والی کو اتنے اہم عہدے پر بٹھا دیا۔اللہ کی بندی ہم کسی مقصد سے اکٹھے ہوئے ہیں،رشتہ داریاں پالنے کو جمع نہیں ہوئے۔گزشتہ ملاقات کو ڈالو بھاڑ میں اور مدعے پر آﺅ۔“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی۔”میں بھی سنائپر ہوں اور آٹھ نو سومیٹر تک سر میں نہیں تو چھاتی میں تو گولی مار ہی لوں گی، مگر آپ کی طرح نخرہ نہیں کرتی۔پانچ چھے سو میٹر کی دوری سے وگنیش شکلا کے سر میں گولی کیا مار دی مزاج ہی ٹھکانے نہیں آرہے۔“
میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے اپنی برہمی پر قابو پایا۔”تو آپ جیسی اچھی سنائپر کے ہوتے ہوئے مجھ جیسے اناڑی کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔“
اس نے بے بسی ظاہر کی۔”مجھے نہیں پتا ،بس بڑوں کا فیصلہ ہے۔“
میں جان چھڑاتے ہوئے بولا۔”اچھا اس بارے بعد میں طے کریں گے،فی الحال آپ صورت حال واضح کریں۔“
”قیدی نمبر ایک سو تیرہ ایک قلعہ نما عمارت میں قید ہے ،جہاں........“اس نے تفصیل بتانا شروع ہی کی تھی کہ میں قطع کلامی کرتے ہوئے بولا۔
”قیدی نمبر ایک سو تیرہ کو رہنے دو،قیدی نمبر پانچ کی بات کرو۔“
وہ متعجب ہوئی ۔”کیا مطلب؟“
میں نے وضاحت کی۔”قیدی نمبر ایک سو تیرہ صرف ایک دھوکا ہے ،اس لیے ہم قیدی نمبر پانچ کی رہائی کا لائحہ عمل طے کریں گے۔“
”وہ تو ہمارا آدمی ہے ۔“
”کوئی بات نہیں ،آپ لوگ تو اپنے کہے سے پیچھے نہیں ہٹے نا،ہمیں خود ہی ایک سو تیرہ کو آزاد نہیں کراناتو آپ کا کیا دوش۔“
وہ الجھن آمیز لہجے میں بولی۔”شاید آپ بدلے میں کوئی اور کام نکلوانا چاہتے ہیں۔“
میں نے وضاحت کی۔”فی الحال تو کوئی کام نہیں ہے ،البتہ بعد میں سورج داس کو کسی مدد کی ضرورت ہوئی تو امید ہے آپ لوگ ضرورساتھ دو گے۔“
”قیدی نمبر پانچ ،را کی ایک آفیسر ہے۔اس کے پاس ایسے بہت سے راز ہیں جو ہماری تحریک آزادی میں نئی روح پھونک سکتے ہیں۔اپنی آزادی اور کسی دوسرے ملک فرار کرانے کی شرط پر وہ تمام رازبتانے پر راضی ہے۔“
میں نے مضطرب انداز میں ہاتھ مروڑے۔”اسے آزاد کرانے کے بارے کیا سوچا ہے؟“
”وہ جہاں قید ہے،اس جگہ کا کوڈ نام راون قلعہ ہے ۔وہاں حفاظتی انتظامات بہت سخت ہیں۔ ہمیں حملہ کرنے کو نہ صرف جدید ہتھیاروں کی ضرورت پڑے گی بلکہ کافی نفری بھی چاہیے ہو گی۔ راون قلعہ میں ہمارا ایک آدمی بہ طور خاکروب موجود ہے،اس لیے عمارت کا اندرونی نقشہ اور حفاظتی انتظامات کے بارے ہمیں تفصیل سے معلوم ہے۔ہمارے لیے بڑا مسئلہ راون قلعہ کی چھت پر موجود ایک پہرے دار اور سامنے اور پشت کی دیواروں کے اوپر بنے مورچوں میں موجود پہرے دار ہیں۔ انھیں ناکارہ کرنے کو ہمیں ایسا سنائپر چاہیے جودوپونے دو کلومیٹر کے فاصلے سے درست نشانہ سادھ سکے، کیوں کہ وہاں قریب ایسی عمارت نہیں ہے جہاں سے راون قلعہ کی چھت کو نشانہ بنایا جا سکے....کیا آپ اتنے فاصلے سے سنائپنگ کر لیں گے۔“
اس نے راون قلعہ کا نام لے کر کرن چاولہ کی معلومات کی تصدیق کر دی تھی۔ میں نے دریافت کیا۔”پوچھ سکتا ہوںآپ کی حیثیت کیا ہے؟....میرا مطلب ہم دونوں جو کچھ طے کریں گے یہ حتمی ہو گا یا اسے منظور کرنے کی اجازت کسی اور سے لینا ہوگی۔“
وہ صاف گوئی سے بولی۔”میں کمانڈر ہوں ،مگر مجھ سے بڑے بھی موجود ہیں اور وہ لائحہ عمل میں تبدیلی کرنے کے مجاز ہیں۔“
میں نے فیصلہ سنایا۔”پھر میں کسی ایسے کو ملنا چاہوں گا جس کے ساتھ حتمی منصوبے پر بات کی جا سکے۔“
”آپ میری توہین کر رہے ہیں۔“اس نے بہ ظاہر برہمی سے کہا مگر ہونٹوں پر کھلتا تبسم الفاظ سے میل نہیں کھا رہا تھا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ ایک منصوبے کے لیے مذاکرات کرواتارہوں۔مجھے براہ راست اس شخص کو ملنا ہے جو شروع کریں کا اعلان کر سکے۔“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔”ٹھیک ہے،آپ کھانا کھا کر آرام کریں،اس سے شام کو ملاقات ہو گی۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا۔”کہاں آرام کروں؟“
اس نے وضاحت کی۔”یہیں پراور اس دوران میں آپ کو موبائل فون میرے حوالے کرنا ہوگا۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”یہ نہیں ہوسکتا،میں کسی ایسے کے ساتھ مل کر کام نہیں کر سکتا جسے مجھ پر اعتماد نہ ہو۔“
وہ جلدی سے بولی۔”بات اعتماد کی نہیں احتیاط کی ہے۔“
میں نے منہ بنایا۔”آپ کے کسی بھی کمانڈر سے زیادہ میں انڈین سرکار کو مطلوب ہوں۔“
وہ صاف گوئی سے بولی۔”ہوں گے ،مگراحتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہماری مجبوری ہے۔“
”شکریہ کہ آپ نے اسے اپنی مجبوری تسلیم کیاہے اور آپ کی مجبوری آپ کے نزدیک اہم ہو سکتی ہے اسے دوسروں پر مسلط نہ کریں۔“
وہ قدرے درشتی سے بولی۔”ایک ساتھ کام کرنے والوں کا فائدہ نقصان ایک ہوتا ہے۔“
میں بگڑ کر بولا۔”تو آپ کب مجھے اپنا تسلیم کر رہی ہیں، ملاقات تک کمرے میں نظر بند رکھنا اور موبائل فون لے لینا۔ کیا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ میں اعتبار کے قابل نہیں ہوں۔“
اس نے مفاہمتی انداز اپنایا۔”آپ بات کو کوئی اور رخ دے رہے ہیں۔“
میں نے اٹھنے کو پر تولے۔”محترمہ!میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں جو ضائع کرتا پھروں، مجھے فوراََ جواب دیں،نہیں تو خدا حافظ۔“
”ایک منٹ....“کہتے ہوئے وہ کمرے کی طرف بڑھ گئی، میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا رہا۔اس کی واپسی دوتین منٹ بعد ہوئی تھی۔بیٹھنے کے بجائے وہ داخلی دروازے کی طرف بڑھ گئی تھی۔ اس کے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہلکی سی” ٹھک“ ہوئی۔لگا کسی نے انگلی کی نکل صرف ایک باردروازے پر ماری ہو۔
بملا نے بے صبری سے دروازہ کھولا،ایک دراز قد آدمی اندر آیا ،جس نے منہ پر ماسک چڑھایا ہوا تھا۔اس کی چمکیلی آنکھیں میرے چہرے پر گڑی تھیں۔
بملانے جلدی سے دروازہ بند کیا،اس اثناءمیں وہ ماسک اتار کر میرے قریب پہنچ گیا تھا۔ میں نے نشست چھوڑ کر اس کے مصافحے کو بڑھے ہاتھ کو تھاما۔
میرے ہاتھ کو دوستانہ گرم جوشی سے دباتے ہوئے اس نے اپنا نام بتایا۔”دلجیت سنگھ۔“
”آکاش چڈا۔“
اس نے قہقہ بلند کیا۔”راجا ذیشان حیدرصاحب!میں نے اپنا اصل نام بتایا ہے۔“
میں معترض ہوا۔”اصولاََ تو ہمیں ایک دوسرے کے نام سے واقف نہیں ہوناچاہیے۔“
مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے اس نے وضاحت کی۔”آپ کا نام انڈین عوام کی سماعتوں کے لیے نیا نہیں ہے،پھر چھپانے کا فائدہ؟“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”اچھا سوال ہے۔“
وہ خوش دلی سے بولا۔”مذاق کر رہا تھا۔“
”میں چائے لاتی ہوں۔“بملا،باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی تھی۔
میں نے پوچھا۔”تو آپ قریب ہی موجود تھے۔“
”ہاں،چند دنوں سے میں بھی اس عمارت کے ایک فلیٹ میں مقیم ہوں۔“
”معذرت آپ کو زحمت دی ،مگر ایسا کرنا ضروری تھا۔“
اس نے سمجھنے کے انداز میں سرہلاتے ہوئے پوچھا۔”بتائیں ہمارے منصوبے میں کیا کمی ہے؟“
میں نے اندیشہ ظاہر کیا۔”مجھے لگتا ہے ،قیدی کی نگرانی بڑھا دی جائے گی اور اسے راون قلعہ پر حملہ کر کے رہا کرانا مشکل ہوگا۔“
وہ متعجب ہوا۔”اور ایسا سوچنے کی وجہ ؟“
میں نے پوچھا۔”کرن چاولہ کو جانتے ہو؟“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔”اور سنا ہے آپ نے اسے ناکارہ کر دیا ہے۔“
”ٹھیک سنا ہے ، وہ ناکارہ ضرور ہوا ہے لیکن بول سکتا ہے اوراس نے سب سے پہلے قیدی نمبر پانچ کی نگرانی بڑھانے کا حکم دینا ہے۔“
”بے فکر رہو،اس کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں کہ قیدی نمبر پانچ سے ہماری سودے بازی ہو چکی ہے۔“
میں نے کہا۔”یقینا ایسا ہی ہوگا،مگر کرن چاولہ کو یقین ہے کہ میں قیدی نمبر پانچ کوچھڑانے کی پوری کوشش کروں گا۔“
وہ ششدر رہ گیا تھا۔”کیا را کی ناک اتنی تیز ہے کہ جو کھچڑی پکی نہیں اس کی خوشبو اس نے پہلے سے سونگھ لی۔“(مطلب اب تک ہم نے منصوبہ بنایا نہیں اور انھیں پہلے سے پتا چل گیا)
میں نے انکشاف کیا۔”میجر سنیتا جیسوال ایک پاکستانی کی مدد کرنے کے جرم میں زیر عتاب آئی ہیں اور وہ پاکستانی میں ہوں۔“
”اوہ....“معنی خیز انداز میں کہتے ہوئے اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”لگتا ہے آپ ہمارے بہت کام آنے والے ہیں،یقینا اپنی محبوبہ کے لیے آپ جان لڑا دیں گے۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے غصہ ضبط کیااور پھر قدرے درشتی سے اسے جھڑکا۔”سکھ ہواور چول نہ مارے یہ کہاں ممکن ہے۔“
وہ بوکھلائے ہوئے انداز میں بولا۔”کچھ غلط بول گیا ہوں کیا؟“
میں نے وضاحت کی۔”وہ میر ی دیدی ہیں ۔“
اس نے ندامت ظاہر کی۔”شما چاہتا ہوں،میں لاعلم تھا۔“
اسی اثناءمیں بملا برتنوں کے ساتھ نمودار ہوئی ،ہمیں چائے پیش کر کے وہ اپنی پیالی اٹھا کر دلجیت سے تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر بیٹھ گئی تھی۔
”بملا ،مجھے منصوبہ بتا چکی ہے، دو کلومیٹر تک میں ہدف کو سنبھال لوں گالیکن اصل مسئلہ اندر داخل ہونے والوں کے لیے بنے گا ،نجانے دشمن نے وہاں کتنے افراد اکٹھے کیے ہوں گے اور وہ کتنے چوکس ہوں گے۔“
اس نے گیند میری طرف پھینکی۔”آپ کے پاس کوئی منصوبہ ہے؟“
میں نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے سادہ سا منصوبہ پیش کیا۔”اگر تحریک آزادی کے دو کمانڈروں کی گفتگو دشمن تک پہنچا دی جائے جس میں وہ راون قلعہ کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہوں تو امید ہے را وہاں موجود اہم افراد کو کسی دوسرے مقام پر ضرور منتقل کرے گی،جن میں دیدی بھی شامل ہوں گی اور یقینا راستے میں ہم انھیں آسانی سے شکار کر سکتے ہیں۔“
وہ تحسین آمیز لہجے میں بولا۔”بلاشبہ جتنی تعریف سنی تھی آپ اس سے کچھ زیادہ ہی سمجھ دار لگے ہیں۔“
میں نے تصدیق چاہی۔”تو آپ متفق ہیں۔“
وہ کشادہ دلی سے بولا۔”دل و جان سے....“
اچانک میراموبائل فون بجنے لگا۔سکرین پر سورج داس کا نمبر چمک رہا تھا۔
کال وصول کرنے کا بٹن دباتے ہوئے میںنے محتاط انداز میں ۔”ہیلو ۔“کہا۔
سورج داس کی پررعب آواز ابھری۔”سنا ہے کل تمھاری بہن کو علاج کے لیے دہلی بھیجا جا رہا ہے اور جھوٹ نہ بولنا،مجھے پکی اطلاع ملی ہے۔“
میں نے چونکتے ہوئے پوچھا۔”کس نے بتایا ہے؟“
”بتانے والے کئی ہیں،بس افسوس یہ ہے کہ تم نے چھپانے کی کوشش کی،بہ ہرحال کوئی بات نہیں۔“ناراضی بھرے انداز میں کہتے ہوئے اس نے رابطہ منقطع کر دیاتھا۔اس کا انداز ایسا تھا کہ کوئی دوسرا اس گفتگو کو سن کر یہی سمجھتا کہ وہ گلہ کر رہا ہے۔
”ایک خوش خبری ہے۔“رابطہ منقطع ہوتے ہی میں دلجیت سنگھ کی طرف متوجہ ہوا۔
وہ جلدی سے بولا۔”سچ میں خوش خبری سننے کا بہت شوقین ہوں۔“
بملا چہکی۔”میں بھی۔“
میں نے کہا۔”کل دیدی کو دہلی منتقل کیا جا رہا ہے۔“
”ویری گڈ....“وہ خوشی سے اچھل پڑا تھا۔
میں نے کہا۔”وقت کم ہے،جلدی سے منصوبہ ترتیب دینا پڑے گا۔“
دلجیت ،بملا کو مخاطب ہوا۔”نقشہ لے آﺅ۔“
وہ مو¿دبانہ انداز میں سرہلاتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھ گئی ،واپسی پر اس کے ہاتھ میں بڑا سا نقشہ تھا۔اسے قالین پر بچھا کر ہم مناسب جگہ ڈھونڈنے لگے۔ اس دوران میں ہماری بحث بھی جاری رہی ۔سب سے پہلے تو سڑک کی نشاندہی ضروری تھی اور ہمیں معلوم ہی نہ تھا کہ وہ کس راستے سے جائیں گے۔بملا اس علاقے کی ہم سے زیادہ واقف تھی۔اس نے ایک جگہ پر نشان لگا کر دلائل سے ثابت کیا کہ وہ جگہ ہر لحاظ سے مناسب تھی۔اگلے مرحلے میں ہم نے لائحہ عمل ترتیب دیا۔طے ہوا کہ صبح صادق سے پہلے روانہ ہو جائیں گے۔میں نے اور بملا نے وہیں سے روانہ ہونا تھا،دلجیت سنگھ نے اپنے باقی ساتھیوں کے ساتھ ہمیں گھات کے مقام پر ملنا تھا۔بات چیت کے لیے بھی مخصوص کوڈ ہم نے طے کر لیے تھے،تاکہ موبائل پر بات کرتے ہوئے کوئی ہماری گفتگو سن لے تو سمجھ نہ سکے۔
دلجیت سنگھ ہمیں محتاط رہنے کی تاکید کرتے ہوئے نکل گیا۔اس کے جانے کے بعد میں بھی دو تین ضروری کام نبٹانے نکل آیا۔سب سے پہلے میں نے سورج داس سے ملاقات کی اور چند باتوں کی تصدیق چاہی،مگر اسے زیادہ تفصیل معلوم نہ تھی۔ صرف اتنا معلوم تھا کہ ممتا دیدی اور دو خاص قیدیوں کو دہلی بھجوایا جا رہا تھا۔یہ کارروائی خفیہ رکھی جا رہی تھی، مگر مارخور کے ذرائع نے اس راز تک رسائی پا لی تھی۔انھوں نے تین گاڑیوں میں روانہ ہونا تھا۔دو ڈبل کیبن اور ایک قیدیوں کی بند وین تھی ۔ڈبل کیبنوں میں سادہ لباس میں ہتھیار بردار کمانڈوز موجود تھے۔ انھوں نے رکے بغیر دہلی پہنچنا تھا،جہاں تینوں قیدی نامعلوم مقام پر منتقل ہو جاتے۔
تفصیل جان کر میں مستفسر ہوا۔”محافظوں کی تعداد معلوم ہے؟“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”معلوم نہیں،البتہ اندازاََ درجن بھر سے زیادہ محافظ ہوں گے۔“
میں الوداعی مصافحہ کر کے باہرنکل آیا۔وہاں سے میں وشواس سنگھ کے پاس پہنچااس نے ایس آر ون منگوا لی تھی۔اسے اجما لاََ صورت حال سے آگاہ کر کے میں نے رات کا کھانا اس کے ہمراہ کھایا اور بملا کے فلیٹ کی طرف چل پڑا۔وہ شدت سے میری منتظر تھی۔
”اتنی دیر لگا دی،قسم سے سخت بھوک لگی ہوئی ہے۔“
صوفے پر نشست سنبھالتے ہوئے میں اطمینان سے بولا۔”کھانا کھا لیا ہے۔“
وہ منہ بنا کر بولی۔”تو مجھے بتا کر جانا تھا خواہ مخواہ اتنا اہتمام کیا ہے۔“
میں بیزاری سے بولا۔”شاید میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا تھا کہ اکٹھے کھانا کھائیں گے۔“
وہ خاموشی سے باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی،کھانا اس نے باورچی خانے ہی میں کھایا تھا اس دوران میں میں منصوبے پر از سر نو غور کرتا رہا۔
وہ چائے کے برتنوں کے ساتھ باورچی خانے سے نکلی تھی۔چائے پی کر میں اس کے بتائے ہوئے کمرے میں آرام کرنے لیٹ گیا۔چار پانچ گھنٹوں کی مہلت موجود تھی ۔
میری آنکھ موبائل فون کے الارم سے کھلی جو میں نے سونے سے پہلے لگا دیا تھا۔جب تک میں تازہ دم ہوتابملانے ناشتا تیار کر لیا تھا۔پر تکلف ناشتا کر کے ہم جانے کو تیار تھے۔اس کے پاس ڈریگنووسنائپر رائفل موجود تھی۔جس پر اس نے کافی مشق کی تھی اور آٹھ سو تک درست فائر کر لیتی تھی۔ پارکنگ میں اس کی سوزکی کار کھڑی تھی۔ہم نے ڈگی میں بیگ رکھے اور منہ اندھیرے نکل آئے۔
میں نے پوچھا۔”اس دن آپ کو موٹر سائیکل پر دیکھا تھا۔“
”ایک نرس کے ساتھ موٹر سائیکل ہی جچتا ہے،ویسے بھی یہ کار مشن میں استعمال کو رکھی ہے اوراس کے کاغذات پشپا کماری کے نام کے بنے ہیں۔“
ہمیں چلتے ہوئے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ دلجیت کی گھنٹی آگئی۔
”ہم نکل چکے ہیں۔“مختصراََ کہتے ہوئے بملا نے کال منقطع کر دی تھی۔
طلوع آفتاب کے ساتھ پیغام کی گھنٹی بجی ۔بملا نے اسکرین پر نظریں دوڑائیں۔”وہ نکل پڑے ہیں۔“کہتے ہوئے بملا نے موبائل فون میری طرف بڑھا دیا۔میں نے پیغام پڑھالکھا تھا.... ”آج ملنے نہیں آسکتا ابھی کہیں جا رہا ہوں۔“
دلجیت سنگھ نے مختلف مقامات پر پانچ ایسے آدمی مقرر کیے تھے جنھوں نے وقفے وقفے سے گاڑیوں کا تعاقب کرنا تھا۔تعاقب کا طریقہ ایسا منظم رکھا تھا کہ کسی کو ان پر شک نہیں ہو سکتا تھا،کیوں کہ ہر چند کلومیٹر کے بعد تعاقب کرنے والا تبدیل ہو جاناتھا۔
ہم نے ممبئی دہلی ہائی وے پر چڑھ کر رفتار بڑھا دی۔دلجیت سنگھ اپنے آدمیوں کے ساتھ رات ہی کو مطلوبہ مقام پر پہنچ چکا تھا۔
دریائے ویترنا کا پل عبور کر کے ہم نو دس کلومیٹر آگے گئے ہوں گے ،کہ بملا نے کار سڑک سے اتار لی۔وہاں ایک بڑ موڑ تھا۔سڑک کے بائیں جانب دو تین سو میٹر کے فاصلے پر ایک نہر جا رہی تھی۔وہاں دلجیت سنگھ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ موجود تھا۔وہاں سڑک انگریزی حرف ”ایل “ کی طرح ایک دم مڑ رہی تھی۔اس سے تھوڑا آگے چڑھائی شروع ہو جاتی تھی۔سڑک کے بائیں جانب نشیبی زمین تھی جبکہ دائیں جانب قدرے بلند تھی اور یہ بلندی آگے جا کر بتدریج بڑھ رہی تھی۔ہم دائیں بائیں کے بجائے سڑک کی سیدھ میں آگے بڑھ گئے۔ سڑک کے ایک دم مڑنے کی وجہ سے ہم بائیں طرف آرہے تھے۔کار ہم نے ایسی جگہ کھڑی کی جو سڑک سے نظر نہ آئے اور ہم سے زیادہ دور بھی نہ ہو۔
بملا کو میں نے وہیں چھوڑا اور خود مخالف جانب یعنی سڑک کے دائیں اونچائی پر چلا گیا۔عام طور پر گھات لگانے والی ٹولیاں ہدف کے ایک ہی جانب بٹھائی جاتی ہیں،تاکہ اپنے بندے ایک دوسرے کے فائر سے زخمی نہ ہوجائیں۔مگر یہاں معاملہ دوسرا تھا،گھات میں عموماََ تباہی پھیلائی جاتی ہے جبکہ ہم نے اپنے ساتھیوں کوآزاد کراناتھا،اگر ہم بروقت حالات پرقابو نہ پا سکتے تو انھیں کمک مل سکتی تھی جس کے بعد ناکام ہونا ہمارا مقدر بن جاتا۔آٹھ مسلح افراد بھی سڑک کے دائیں جانب مناسب مقامات پر چھپ کر بیٹھ گئے تھے۔
جاری ہے
 

قسط نمبر23
ریاض عاقب کوہلر
قافلے کے بارے ہمیں پل پل کی خبر پہنچ رہی تھی۔آخر وہ لمحہ آپہنچا جب ہماری” سگنل پارٹی“ (گھات میں دشمن کے قافلے کی آمد کی پیشگی اطلاع دینے والی پارٹی )نے قافلے کی آمد کا اعلان کر دیا۔ ہم تمام محدود حیطہ عمل (کم رینج والے )کے وائرلیس سیٹوں پر ملاپ میں تھے۔
جلد ہی مجھے پہلی ڈبل کیبن دکھائی دے گئی تھی،اس کی باڈی میں دو افراد بیٹھے تھے۔اگلی نشست پر ڈرائیور اور سیکنڈ سیٹر،عقبی سیٹ پر تین افراد اور دو افراد باڈی میں مجموعی طور پر سات افراد تھے۔ اس کے پندرہ بیس گز پیچھے سفید رنگ کی وین تھی جس کی باڈی بند تھی اور اس سے مزید پندرہ بیس گز عقب میں دوسری ڈبل کیبن تھی۔
میں نے اگلی ڈبل کیبن کے سامنے اور ڈرائیور کے مخالف جانب والے پہیے پر شست سادھی،جونھی گاڑی مڑنے لگی میں نے لبلبی دبا دی۔ تین چار سو میٹر کے فاصلے پرایس آر ون کو اناڑی سنائپر بھی چلاتا تو شاید اس کی گولی بھی خطا نہ جاتی۔پہیہ پھٹنے سے گاڑی لہرائی ،ڈرائیور نے بڑ ی مشکل سے گاڑی کو الٹنے سے بچایا تھا۔گاڑی سڑک سے اتر گئی تھی۔اس میں بیٹھے کمانڈوز بجلی کی سی سرعت سے باہر نکلے اور سڑک کے دائیں جانب آڑ پکڑ لی۔
قیدیوں والی وین بھی رک گئی تھی۔آخری گاڑی کے محافظوں نے بھی اگلی گاڑی تقلید کرتے ہوئے مورچے سنبھال لیے تھے۔
اچانک میگا فون پر دلجیت سنگھ کی آواز بلند ہوئی۔”ہتھیار پھینک کر تم لوگ اپنی جان بچا سکتے ہو۔“دلجیت سنگھ سڑک سے سو ڈیڑھ سو گز کے فاصلے پر ایک بڑے پتھر کے عقب میں تھا۔
انھیں آواز چونکہ پشت کی جانب سے سنائی دی تھی اس لیے وہ فوراََ مڑے اور اس پتھر پر فائر جھونک دیا جس کے عقب میں دلجیت سنگھ نے آڑ پکڑی ہوئی تھی۔اور یہ باضابطہ اعلان تھا کہ وہ مقابلہ کرنے کو تیار تھے۔
میں نے سب سے دور بیٹھے ہوئے شخص کے سرپرشست سادھی اور لبلبی دبا دی کہ یہی منصوبہ تھا،مقابلے کی صورت میں ہمیں فوراََ انھیں ختم کرنا تھا۔
ہدف نیچے گر کر تڑپنے لگا ،میں نے سرعت سے دوسرے آدمی پر شست سادھی اور لبلبی دبا دی۔ دوسرے کے گرتے ہی انھوں نے رائفلوں کے دہانے کھول دیے تھے۔میں قدرے دو ر تھا اور آڑ بھی پکڑی ہوئی تھی ،جبکہ باقی تمام سو ڈیڑھ سو قدموں کے فاصلے پراطمینان بھرے انداز میں پتھروں کے پیچھے لیٹے تھے۔
میں نے تیسرے ،چوتھے اور پھر پانچویں کو نشانہ بنایا،اس اثناءمیںبملا بھی تین کو نشانہ بنا چکی تھی۔مقابلہ کرنے والوں کو آڑ نہیں مل رہی تھی جہاں وہ چھپ جاتے۔،تبھی ایک نے اپنا ہتھیار پھینک کرہاتھ اٹھا لیے اور اس کی دیکھا دیکھی باقیوں نے بھی ہتھیار پھینک کر جان بچانے میں عافیت سمجھی تھی۔
دلیت سنگھ نے حکم جاری کیا۔”ہاتھ سر پر باندھ کر آگے چلتے آئیں۔“
جیسے ہی وہ تھوڑا سا آگے بڑھے دلجیت سنگھ کے ڈھاٹا پوش ساتھیوں نے پتھروں کے عقب سے نکل کر انھیں رائفلوں کے نشانے پر رکھ لیاتھا۔قیدیوں والی وین کے ڈرائیور اور سیکنڈ سیٹر سمیت وہ آٹھ محافظ تھے۔
تبھی قیدیوں والی وین کا دروازہ کھول کر دو محافظ قیدیوں کو یرغمال بنائے باہر نکلے ۔ ایک محافظ نے لڑکی کے گلے میں بازو ڈال کر اس کے سر سے پستول کی نال لگائی ہوئی تھی ،جبکہ دوسرے نے ایک مرد قیدی کے ساتھ یہی سلوک کیا ہوا تھا۔یقینا وہ لڑکی ممتا دیدی تھیں۔
انھوں نے وین کی باڈی سے پشت ٹیک کر اپنے عقب کو محفوظ کیا،وہ قیدیوں کو لے کر بھاگنا چاہتے تھے۔
میں نے پوچھا۔”پشپا!تمھیں دشمن نظر آرہے ہیں۔“
بملا کی مایوسی بھری آواز آئی۔”نہیں ،انھیں وین کی آڑ میسر ہے۔“
میں نے ٹیلی اسکوپ سائیٹ کے ”میگنی فیکیشن ایڈجسٹ منٹ ناب “سے دکھاﺅ کوبڑھایا اور” آئی لینز فوکسنگ ناب“سے منظر کو واضح کر کے دشمن کے ہاتھ پر شست سادھ لی۔مجھے لگ رہا تھا کہ اس کی انگلی لبلبی پر رکھی تھی۔اسے سر میں گولی مارنے میں یہ خطرہ تھا کہ اضطراراََ انگلی دب جانے کی صورت میں ممتا دیدی نہ بچ پاتیں۔میں نے اس کے ہاتھ پر شست سادھی اور لمحہ ضائع کیے بغیر لبلبی دبا دی۔گولی اس کے ہاتھ پر لگی اور پستول اس کے چہرے سے اس زور سے ٹکرایا کہ وہ نیچے گر گیا تھا۔
ممتا دیدی کے ہاتھ پشت کی جانب بندھے تھے۔
میں نے فوراََ دوسرے شخص پر شست سادھی جو پستول کو لہرا لہرا کر کچھ کہہ رہا تھا،یوں پستول کی نال کا رخ اوپر کو اٹھ گیا تھا،بغیر لمحہ ضائع کیے اس کے سر پر شست لیتے ہوئے میں نے گولی چلا دی تھی۔
وہ اچھل کر گاڑی سے ٹکرایا اور نیچے گر کر ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا۔
”گڈ شاٹ۔“دلجیت کی تحسین آمیز آوازبلند ہوئی تھی۔
”پشپا!وقت نہیں ہے جلدی کرو۔“کہتے ہوئے میں نے ایس آر ون کو اسی حالت میں کندھے پر رکھا اور تیز رفتاری سے نیچے جانے لگا۔دلجیت اپنے آدمیوں کے ہمراہ پہلے سے قیدیوں کے پاس پہنچ گیا تھا۔ اس میں دو پاکستان کے آفیسر جاسوس تھے اور تیسری ممتا دیدی تھیں۔میرے پہنچنے تک انھوں نے ممتا دیدی کی ہتھکڑی کھول دی تھی۔اس کی نظریں میری طرف متوجہ تھیں ۔میں جونھی قریب پہنچا ،وہ بھاگتے ہوئے میری طرف بڑھی....
”راج !میرے شہزادے،میری جان میرے بھائی....“گلوگیر لہجے میں کہتے ہوئے اس نے مجھے بانہوں میں بھر لیا تھا۔” جانتی تھی تم آﺅگے ....تم ضرور اپنی دیدی کو بچانے آﺅ گے.... مجھے پورا یقین تھا ........میں منتظر تھی....صرف اور صرف تمھاری منتظر تھی....“ بے ربط الفاظ ہونٹوں سے ادا کرتے ہوئے وہ آنسو بہاتی رہی۔
دلجیت سنگھ قدرے ندامت سے بولا۔”ذیشان بھائی !وقت کم ہے۔“
”ہاں چلتے ہیں۔“کہتے ہوئے میں نے ممتا دیدی کو خود سے علیحدہ کیا،خاصی کمزور ہو گئی تھیں۔ریشمی بال الجھے ہوئے اور بے رونق لگ رہے تھے ،چہرے پر بھی دو تین نیل نظر آرہے تھے اور لگتا یہی تھا کہ باقی بدن پر بھی تشدد کے نشانات نے ہونا تھا۔انھوں نے ہلکے نیلے رنگ کا پاجامہ اور اسی رنگ کی قمیص پہنی تھی ،بالکل جیسے آپریشن تھیٹر کے مریضوں کے کپڑے ہوتے ہیں۔بدن سے ہلکی بو اٹھ رہی تھی جیسے انھیں نہائے ہوئے کافی عرصہ ہو گیا ہو۔شاید انھیں بھوکا بھی رکھا جاتا ہو۔ انڈین عقوبت خانے میں میں چند دن گزار چکا تھااور اچھی طرح جانتا تھا وہ کس طرح تشدد کر سکتے تھے۔ دیدی کا جرم تو مجھ سے بھی زیادہ تھا کہ غدار کو جاسوس سے زیادہ زدو کوب کیا جاتا ہے۔یہی وجہ تو تھی کہ کرن چاولہ کو اس کے بارے کھلی چھوٹ دے دی گئی تھی ۔
میں نے دونوں قیدیوں سے مصافحہ کیا،اسی دوران میں بملا بھی پہنچ گئی تھی۔بچ جانے والے دشمنوں کی مُشکیں کس کے ہم نے وہیں چھوڑااور ان کے ہتھیار اپنی گاڑیوں میں رکھے اورچار گاڑیوں میں بیٹھ کر واپس چل پڑے ۔دو تین کلومیٹر فاصلہ طے کرتے ہی ہماری گاڑیوں نے مختلف سمتوں کا رخ کرنا شروع کر دیا۔میں ،بملا اور ممتا دیدی ایک کار میں تھے۔کار بملا چلا رہی تھی جبکہ میں اور ممتا دیدی عقبی نشست پر تھے۔میرا دایاں ہاتھ انھوں نے یوں تھا ما ہوا تھا جیسے میرے غائب ہونے کا اندیشہ ہو۔
ان کے چہرے کو دیکھا،نم آنکھوں سے وہ مجھے ہی گھور رہی تھیں۔چہرے پر بڑی بہنوں کی سی شفقت اور ممتا جھلک رہی تھی۔
اس کے ہاتھ کو پیار سے تھپتھپاتے ہوئے میں نے ندامت ظاہر کی۔ ”معافی چاہتا ہوں دیدی!میں نے بہت دیر کر دی۔معلوم ہی نہیں تھا وہ ظالم آپ کے ساتھ اس سنگ دلی سے پیش آرہے ہیں۔“
گہراسانس لیتے ہوئے وہ وارفتگی سے بولیں۔”جیسے ہی میرے سر پر پستول تاننے والے کے ہاتھ پر گولی لگی میں فوراََ سمجھ گئی کہ فائر کرنے والا میرے راج کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا۔“
”مجھے جب یہ خبر ملی کہ آپ پر مقدمہ چل رہا ہے تو سوچا ایک آفیسر کے ساتھ وہ کس حد تک جا سکتے ہیں،زیادہ سے زیادہ تفتیش ہی کریں گے ۔مگر ان درندوں میں تو انسانیت نام کو نہیں۔“
اس نے سسکی بھری۔”جب خود پر گزرتی ہے تو معلوم ہوتا ہے۔“
میں نے ان کا سر کندھے سے لگایا۔”بس اب آپ آزاد ہیں۔“
وہ غیظ و غضب سے بولیں۔”جب تک کرن چاولہ جیسے درندے کو عبرت کا نمونہ نہیں بنا لیتی خود کو آزاد نہیں سمجھ سکتی۔“
میں نے ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔”جن بہنوں کے بھائی زندہ ہوں انھیں بدلہ لینے کی فکر نہیں کرنا چاہیے۔“
معاََ بملا بولی۔” یہاں اترنا ہوگا۔“وہ لنک روڈ پرچار پانچ کلومیٹر مغرب کی جانب آگئی تھی۔ سڑک سے ایک کچا رستہ زرعی فارم کی طرف جا رہا تھا ،جس کی عمارت سڑک سے پانچ چھے سو گز کے فاصلے پر تھی۔وہاں ایک جیپ موجو د تھی۔جس کے ہمراہ دو آدمی موجود تھے۔
ہم کار سے نکل کر جیپ میں بیٹھے اور اپنی سنائپر رائفلیں بھی جیپ میں رکھ لیں۔ ایک آدمی کار میں بیٹھ کر آگے بڑھ گیا جبکہ دوسرا جیپ کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیاتھا۔
جیپ جونھی فارم کے قریب پہنچی داخلی دروازہ کھل گیا۔وسیع صحن عبور کر کے جیپ ایک کھلے برآمدے میں جا رُکی۔
”ہمارا سامان اندر لے آﺅ۔“بملا ڈرائیور کو ہدایت دے کر نیچے اتر گئی،اس کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ پہلی مرتبہ وہاں نہیں آرہی تھی۔
بملا ،ممتا دیدی کو مخاطب ہوئی۔”مادام سنیتا !یقینا پہلے آپ نہانا پسند کریں گی۔“
ممتا دیدی نے اثبات میں سر ہلایا۔”ہاں اور میڈیکل بکس بھی منگوا لو،راج میرے زخموں پر مرہم پٹی کر دے گا۔“
میں ہنسا۔”پشپا کماری ،پیشہ ور نرس ہیں دیدی۔“
بملا نے دعوت دی ۔”آئیں مادام آپ کو کمرہ دکھا دوں۔“
ممتا دیدی مجھے مخاطب ہوئی۔”راج تم بھی آﺅنا؟“
”دیدی آپ تازہ دم ہو جائیں ،زخموں پر مرہم بھی لگوا لیں ۔میں بھی رائفل صاف کر کے آتا ہوں ۔“
انھوں نے منہ بنایا۔”کسی ملازم کو بتا دو۔“
میں نے ایس آر ون کو تھپتھپایا۔”یہ میری محبوبہ ہے دیدی ،کسی ملازم کے حوالے کیسے کر سکتا ہوں۔“
”تم بھی ناں۔“شقفت بھر ے انداز میں میرا کان کھینچتے ہوئے وہ بملا کے ہمراہ آگے بڑھ گئیں۔
”میں نے رائفل کو اچھی طرح صاف کر کے بیگ میں ڈالا ،اتنی دیر میں دوپہر کا کھانا تیا رہو گیا تھا۔مگر اس سے پہلے کہ ہم کھانا شروع کرتے ایک شخص سرعت سے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے قریب آیااور بملا کو مخاطب ہوا۔
”مادام !پولیس کی گاڑیاں آرہی ہیں۔“
”ٹھیک ہے ،سنبھال لینا۔“اسے کہتے ہوئے وہ اطمینان سے اٹھی۔”چلو راجا صاحب!“
میں اس کے ہمراہ ہو لیا۔”مادام !آجائیں ۔“اس نے ممتا دیدی کو بھی کمرے سے بلالیا۔ چند لمحوں بعد ہم خفیہ تہہ خانے میں منتقل ہو گئے تھے۔ اپنے ہتھیار بھی ہم وہیں اٹھا لائے تھے۔
ممتا دیدی کا پرانا لباس بملا نے پہلے ہی بھٹی میں جھونک کر جلا دیا تھا۔
پندرہ بیس منٹ بعد ملازم نے سب اچھا رپورٹ دے دی۔ہم تہہ خانے سے نکل آئے۔کھانا کھا کر میں اور ممتا دیدی ان کے کمرے میں آگئے تھے۔
صوفے پر اس کے پہلو میں بیٹھتے ہوئے میں نے پوچھا۔”اب بتائیں یہ سب کچھ کیسے ہوا تھا؟“
وہ فلسفیانہ انداز میں بولی۔”کم ظرف کی دوستی جی کا زیاں۔“
”انھیں آپ پر شک کیسے ہوا؟“
”تمھارے فرار کے بعد کرن چاولہ نے تجدید تعلقات کی کوششیں شروع کر دیں، مگر میرے سامنے اس کا گھٹیا چہرہ بے نقاب ہو گیا تھا۔کردار کے لحاظ سے وہ کسی نچلے درجے کے غنڈے سے بھی گیا گزرا تھا۔میرے آئینہ دکھانے پر دھمکانے لگا کہ وہ تمھارے بارے میرے سارے راز فاش کردے گا۔ میں نے اس کی دھمکی کو اہمیت نہ دی،مگر نہیں جانتی تھی وہ اتنا گر جائے گا۔میرے خلاف اس نے کافی ثبوت اکٹھے کیے ہوئے تھے۔تم میرے بالوں سے چمٹی نکال کر لورا براﺅن کے ہمراہ جو قید سے فرار ہوئے تھے،اس بارے وہ اچھی طرح جانتاتھا۔پھر تمھیں ان کے گھیرے سے نکالا،ان کے منصوبے سے آگاہ کیاوغیرہ وغیرہ....اگر مجھے ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ وہ اتنا گر جائے گا تو یقینا فرار ہو جاتی ،مگرمعلوم نہیں تھا اس لیے گرفتار ہوگئی۔سوچا تھا آسانی سے اپنا دفاع کر لوں گی،مگر اس نے سارا کیس تیار کیا ہوا تھا۔ اور پھر میری تفتیش کی ذمہ داری بھی اس نے حاصل کر لی اور مجھے........“اس نے سر جھکا لیا تھا۔ آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو نکلنے لگے۔”میں اسے چھوڑوں گی تو نہیں۔“
میں متبسم ہوا۔”کیا کریں گی۔“
”اس کا جینا اجیرن کردوں گی، وہ حال کروں گی کہ نہ جی سکے گا اور نہ مر پائے گا۔“
میں نے اپنا موبائل فون اس کی طرف بڑھایا۔”اچھا پہلے یہ وڈیوو دیکھو۔“
اس کے چہرے پر حیرانی نمودار ہوئی۔”یہ کیا ہے؟“اور موبائل فون تھام کر وڈیو دیکھنے لگی،جوں جوں وڈیو آگے بڑھتی گئی وہ مٹھیاں بھینچتے ہوئے پرشوق انداز میں اسکرین پر نظریں گاڑے بیٹھی رہی، یہاں تک کہ وہ لمحے بھی آگئے جب میں نے کرن چاولہ کی ریڑھ کی ہڈی توڑی تھی۔
”راج !میرے بھائی۔“وہ ہاتھوں کے پیالے میں میرا چہرہ تھا م کر بے ساختہ میری آنکھیں اور ماتھا چومنے لگیں۔”جانتی تھی، اچھی طرح جانتی تھی میرا راج !اپنی دیدی کا بدلہ لے گا....“وہ کافی دیر جذباتی انداز میں مجھے شفقت و محبت سے ساتھ لپٹائے رہیں۔
جذبات کا طوفان تھمتے ہی میں نے ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا۔”اب بتائیں،کیا کرنا ہے؟“
انھوں نے فوراََ مطالبہ کیا۔”مجھے اپنے ساتھ پاکستان لے جاﺅ۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”میں نہیں چاہتا کوئی میری دیدی کو شک کی نگاہ سے دیکھے یا ان کی نگرانی کرائے۔سب جانتے ہیں کہ آپ را کی میجر رہ چکی ہیں اور اس سارے واقعے کو کوئی را کے ڈرامے کا نام بھی دے سکتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے پاکستان اور بہن کی محبت میں کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑ جائے۔“
اس کے چہرے پر مایوسی پھیل گئی تھی۔”سوچا تھا بقیہ زندگی اپنے راج کے ساتھ گزاروں گی۔“
”میں نے کچھ اور سوچا ہے۔“
وہ مستفسر ہوئیں۔”کیا ؟“
”تمھیں کسی یورپی ملک میں فرار کرا دیتا ہوں۔“
پھیکے تبسم سے اس نے غالب کا مصرعہ گنگنایا۔”ہم نے مانا ہے کہ دلی میں رہیں، کھائیں گے کیا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”یہ فکر کرنا بھائیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔“
اس نے اشتیاق سے پوچھا۔”پھربھی کچھ پتا تو چلے؟“
میں نشست چھوڑتے ہوئے بولا۔”فی الحال آرام کریں،کوئی بندوبست کرلوں پھر تفصیل بتاﺅں گا۔“
اور اس نے اثبات میں سرہلادیا تھا۔
اپنے کمرے میں جا کر میں نے لورا براﺅن کو ای میل کر کے اس کا وٹس اپ نمبر مانگا اور آرام کرنے لیٹ گیا۔سہ پہر کو جاگ کر نماز پڑھی اور ای میل دیکھی تو لورا کا جواب آیا ہواتھا۔
میں نے آڈیوکال کی،اس نے کاٹ کر وڈیو کال ملا لی۔
”میری شکل اتنی بری تو نہیں ہے کہ آڈیو کال کر رہے ہو ۔“رابطہ ہوتے ہی اس نے آنکھیں نکالیں۔ کافی عرصے بعد اسے دیکھا تھا،چہرے پر پہلے سے زیادہ رونق چھائی تھی،یقینا یہ عیش و آرام اور پر سکون زندگی گزارنے کی وجہ سے تھا۔
میں نے منہ بنایا۔”کسی بے وفا کا چہرہ دیکھنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔“
”اے!غلط بات نہیں....“اس نے تنبیہی انداز میں انگلی اٹھائی۔”بات خود نہیں کرنا چاہتے اور الزام مجھے دیتے ہو۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”اچھا جھگڑے کو چھوڑو،ڈیوڈ کی سناﺅ۔“
اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”کب کا علیحدگی ہو گئی۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”کیوں؟“
اس نے تفصیل بتائی۔”پیسے والوں کو لڑکیوں کی کیا کمی اور ایسے دل پھینک کے ساتھ رہنا مجھے کیوں گوارا ہوتا۔اپنا اپنا حصہ لے کر ہم خوش دلی سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔“
میں نے مزاحیہ انداز میں پوچھا۔”اور میرا حصہ؟“
وہ فراخ دلی سے بولی۔”اب تک سوئٹزر لینڈ کے اکاﺅنٹ میں ایک ملین پاﺅنڈ رقم موجود ہے اور مجھے خوشی ہو گی اگر وہ تم لے لو۔“
”سچ کہہ رہی ہو؟“میں نے خوش گوار حیرانی سے پوچھا۔
وہ خفگی سے بولی۔”ریجا!اتنی بے اعتباری بھی اچھی نہیں ہوتی۔“
میں نے کہا۔”ٹھیک ہے وہ رقم میری بہن کو دے دینا۔“
اس نے وضاحت چاہی۔”تمھاری بہن کون؟“
جواباََ مجھے ممتا دیدی کے متعلق تفصیل سے بتانا پڑا۔
تفصیل جانتے ہی وہ متعجب ہوئی۔”اب تک وہ تعلق نبھا رہے ہو۔“
میں فلسفیانہ انداز میں بولا۔”تعلق توڑنے کو نہیں جوڑے جاتے۔“
وہ گہرا سانس لیتے ہوئے بولی۔”پہلے میں سوچتی تھی کہ تم احمق ہو اور اب مجھے یقین آگیا ہے کہ ٹھیک سوچتی تھی۔“
میں نے تصدیق چاہی۔”تو طے ہو گیا۔“
اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔”بتاﺅ ،رقم اسے کیسے بھجواﺅں؟“
میں نے پوچھا۔”آج کل تم کہاں ہوتی ہو؟“
”سوئیٹزر لینڈ کی سیاحت کر رہی ہوں۔“
”میں چاہتا ہوں ،تم ممتا دیدی کو اپنے ساتھ رکھو،کیا ایسا ممکن ہے۔“
وہ شرارت سے بولی۔”گویا تم اپنی بہن کی شادی مجھ سے کرا رہے ہو۔“
میں نے جھڑکا۔”گھٹیا گفتگو نہیں کیپٹن۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”ہاں گھٹیا ،گفتگوکا اجازت نامہ تو صرف تمھارے پاس ہے۔“
میں نے کہا۔”میرے سوال کا جواب دو۔“
وہ برہمی سے بولی۔”بکواس کر چکی ہوں نا،اسے اپنی محبوبہ کی طرح رکھوں گی اور کیاسننا چاہتے ہو۔“
میں ہنسا ۔”شکریہ۔“
وہ خلوص سے بولی۔”اپنے پاس رکھو ،البتہ کوئی اور کام ہو تو بلا تکلف بتا دو،لورا براﺅن تمھارے احسانات کو کبھی بھولی ہے نہ بھولے گی۔“
میں شرارت سے ہنسا۔”جھوٹ مت بولو،ایک چھوٹا سا وعدہ تو تم سے نبھایا نہ گیا۔“
وہ ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی۔”شروع ہو گئی ریجا کی بکواس۔“
”غریب کاسچ بھی بکواس لگتا ہے۔“
اس نے للکارا۔”یہ نہ ہو میں سیاحتی ویزے پر پاکستان پہنچ جاﺅں اور پیلا وشہ کے سامنے تمھیں وعدہ پورا کرانے لے جاﺅں،پھر ریجا صاحب کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔“
میں فوراََ بولا۔”سوری۔“
وہ کھل کھلا کر ہنس دی تھی۔ ہم کافی دیر گپ شپ کرتے رہے۔یہاں تک کہ ملگجا اندھیرا دیکھ کر میں نے اجازت چاہی۔اس دوران میں ہم کافی کچھ طے کر چکے تھے۔
رات کا کھانا میں نے ممتا باجی کے ہمرا کھایا تھا،وہیں اسے لورا براﺅن کے متعلق بھی بتا دیا۔ اتنی بڑی رقم کا سن کر وہ دنگ رہ گئی تھی۔بے یقینی سے پوچھا۔ ”اس رقم سے تمھارے کئی کام ہو سکتے تھے۔“
میں نے جذباتی دھونس جمائی۔”تو اب بھی میرے ہی کام آرہی ہے،کیا آپ میری ذمہ داری نہیں ہیں۔“
وہ خفیف انداز میں بولیں۔”چھوٹے!مجھے اس رقم کا دسواں حصہ بھی کافی ہو گا،باقی تم اپنے لیے منگوا لو۔“
”جانتا تھا،منہ بولے رشتے کو ہمیشہ بیساکھیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔اگر آپ کے سگے بھائی نے رقم دی ہوتی تو آپ منہ بنا کر کہتیں،میرا حق اس سے زیادہ بنتا ہے ۔“
وہ بپھرتے ہوئے بولیں۔”اگر دوبارہ منہ بولا رشتہ کہا تو چماٹوں سے چہرہ لا ل کردوں گی۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”دوبارہ آپ نے بھی ایسا کچھ کہا تو میں چپ نہیں رہوں گا۔“
”ٹھیک ہے نہیں کہتی۔“اس نے اس انداز میں کہا کہ میرا قہقہ نکل گیا تھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر24
ریاض عاقب کوہلر
اگلے چند دن ہم نے وہیں گزارے۔ اس دوران میں سورج داس سے بھی کال پر بات ہوئی، اپنے دونوں جاسوس اس کے پاس پہنچ گئے تھے۔میرا کام وہاں ختم ہو چکا تھا۔ممتا دیدی نے دلجیت سنگھ کے ساتھ چند نشستوں میں انھیں تفصیل سے ضروری معلومات دے دی تھیں۔ممتا دیدی کو باہر بھیجنے کی ذمہ داری بھی انھی کی تھی۔اور پھر ایک دن میں ممبئی کے چتر پتی شیوا جی مہاراج انٹرنیشنل ایرپورٹ پر ممتا دیدی کو الوداع کہہ رہا تھا۔اس وقت وہ ایک عمر رسیدہ خاتون کے روپ میں تھیں۔وقت رخصت وہ مجھے لپٹا کرشفقت سے نوازنے لگیں ۔دیکھنے والوں کو لگ رہا تھا کہ ماں ،بیٹے کو پیار کر رہی ہے۔اس کا انداز ہی ایسا تھا۔
”جانے پھر کب ملاقات ہو۔“میرا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں تھامتے ہوئے وہ آبدیدہ ہو گئی تھیں۔
میں تسلی دیتا ہوا بولا۔”فی الحال آپ کادور جانا ضروری ہے اور پریشان نہ ہونا لورا براﺅن آپ کا پورا دھیان رکھے گی۔اس کے ساتھ مل کر دنیا دیکھیں،دماغ کو سکون دیںاورفکر نہ کریں ان شاءاللہ جلد ہی ملاقات ہو گی۔“
نم آنکھیں لیے وہ آگے بڑھ گئیں۔ جب تک نظر آتی رہیں میں وہیں کھڑا رہا اور پھر بوجھل قدموں سے ائر پورٹ سے نکل آیا۔
میں دلجیت سنگھ اور بملا کور سے الوداعی ملاقات کر کے آیا تھا۔وہاں سے سیدھا وشواس سنگھ کے پاس پہنچا،دوتین دنوں کے اندر اس نے میرے کاغذات تیار کروا دیئے تھے ۔جانے سے ایک دن پہلے میں نے ایس آر ون کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا منصوبہ بنایا،یوں بھی میں اس سے پینتالیس سے زیادہ گولیاں فائر کر چکا تھااورپچاس گولیوں کے بعد اس کی کارکردگی میں فرق آنا شروع ہو جاتاہے۔ میں فٹوں کے نہیں انچوں کے حساب سے نشانہ سادھتا تھا اور جس رائفل میں درستی نہ ہوتی وہ میرے کسی کام کی نہیں تھی ۔البتہ ایک لمبی رفاقت کے بعد اس سے جدا ہونا بھی ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی قریبی دوست سے بچھڑ رہاہوں۔مگر رائفل کو دفن کرنے کی نوبت نہ آسکی اس سے پہلے ہی انصاری صاحب کی میل موصول ہوئی۔
”جوان!یقینا تمھیں گھر آنے کی جلدی ہو گی ،مگر ایک ایسا کام آن پڑا ہے جو ایک سنائپر ہی کرسکتا ہے۔ تمھیں جودھ پور جانا پڑے گا،وہاں بالدیو نگر کالونی میں شیوا مندر کے بڑے پروہت سے ملومزید رہنمائی وہ کرے گا۔پہچان کا کوڈ۔”میرا نام آکاش چڈا ہے اور میں اپنا گھر مندر کو دان کرنا چاہتا ہوں۔“
وہ جواب دے گا۔”پہلے اپنے گھر والوں سے مشورہ کر لو۔“
تو کہنا۔”مندر ہی میرا گھر ہے اور آپ میرے باپ کی جگہ پر ہیں۔“
وہ جواب دے گا۔”ٹھیک ہے کل گھر کے کاغذات کے ساتھ آجانا۔“
آپ اجازت لے کر وہاں سے نکل آنا،باقی ملاقات کا طریقہ وہ خود طے کر لے گا۔
٭٭٭٭٭
انصاری صاحب کی میل پڑھنے کے بعد میں شش وپنج میں پڑ گیا کہ آیا ایس آر ون کو دفن کروں یا آخری حد تک اس سے فائر کروں،کیوں کہ انھوں نے سنائپنگ سے متعلق مشن کا تو بتا دیا تھا، لیکن سنائپر رائفل کے متعلق وضاحت نہیں کی تھی کہ آیا اس کا بندوبست مجھے خود کرنا تھا یا میرے مدد گاروں کی ذمہ داری تھی۔اور بالفرض سنائپر رائفل مجھے وہ مہیا کرتے تب بھی وہ رائفل ایس آر ون کامتبادل نہیں ہو سکتی تھی،کیوں کہ اس جیسی خصوصیات رکھنے والی ہیوی سنائپر رائفلیں ایس آر ون سے بہت زیادہ وزنی ہیں۔رینج ماسٹر، بیرٹ ایم ایک سو سات،چیٹیک ایم ۰۰۲ انٹروینشن،ایکوریسی انٹرنیشنل اے ایس ۰۵، آرٹک وارفیئر۰۵،ٹیک ۰۵وغیرہ تمام دورمار رائفلیں ہیں اور معیار کے اعتبار سے بھی بہترین ہیں، مگر ایک تو وزنی ہیں ،دوسرایقینی نہیں تھا کہ وہ اتنی قیمتی رائفل کا بندوبست کرپاتے،کیوں کہ ہر رائفل کی قیمت پاکستانی رقم میں دس پندرہ لاکھ سے اوپر تھی اور پھر اس کی خریداری بھی ایک مسئلہ ہی تھا۔کوئی عام چیز تو تھی نہیں کہ بندہ بازار سے جا کر خرید لیتا۔سب سے بڑھ کر ہیوی سنائپر رائفلیں بڑی پیکنگ میں دستیاب ہوتی ہیں اور انھیں ویرانے میں ساتھ پھرانا مشکل نہیں ہوتامگر کسی شہر میں ایسا کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور تھا۔
اس مسئلے پر تھوڑی دیر دماغ کھپانے کے بعد میں نے انصاری صاحب سے پوچھنا ضروری سمجھا کیوں کہ ممکن تھا میرے خیر خواہوں نے سنائپر کا رائفل کا پہلے سے بندوبست کر رکھا ہوتااور میں خواہ مخواہ اس بارے سوچ سوچ کرہلکان ہوتا رہتا۔انھیں ای میل بھیج کر میں جواب کا انتظارکرنے لگا۔
گھنٹے بھر بعد جواب ملا تھا۔”تمھارے پاس وہ خاص رائفل موجود تو ہے ؟....ویسے ان لوگوں کے پاس سٹائر رائفل دستیاب ہے،باقی تم خود بہتر جانتے ہو۔“
سٹائر رائفل گو وزن میں بہت ہلکی ،استعمال میں سادہ اور کارکردگی میں عمدہ ہے ،مگر اس کی کارگر رینج آٹھ سو میٹر ہے اور مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ کتنے فاصلے سے فائر کرنا تھا۔بہتر یہی تھا کہ ایس آر ون میں پاس رکھتا۔اسی دوران میں اچانک ہی خیال آیا اور میں وٹس اپ پر لورا کو کال کرنے لگا۔ ممتا دیدی ان کے پاس پہنچ چکی تھیں ،دونوں سے تھوڑی دیر گپ شپ کر کے میں نے لورا سے پوچھا۔
”کچھ یاد ہے ایس آر ون رائفل کس کس کو بیچی تھی؟“
وہ سوچتے ہوئے بولی۔” تین رائفلیں عرب شیخوں کو دی تھیں،ایک وشال گپتا کواور ایک رائفل ایک نواب صاحب کے حوالے کی تھی غالباََنواب نیصاراللہ نام تھا،جان ہی نہیں چھوڑ رہا تھابڈھا کھوسٹ۔ اس کے علاوہ کسی کو نہیں بیچی تھی اور وجہ تمھیں معلوم ہے۔“یقینا سنائپر ہونے کے ناطے اس کی یاداشت کافی اچھی تھی تبھی تو اسے نام یاد رہ گیا تھا۔البتہ نصراللہ نام اس نے مخصوص یورپین لہجے میں ادا کیا تھا۔
میں نے پوچھا۔”کچھ معلوم ہے،کس علاقے سے تعلق رکھتا تھا؟“
”اگر میں غلطی پر نہیں تو شاید احمد آباد نام لیا تھا،مجھے اپنے پاس آنے کی دعوت بھی دی تھی،سونے کا لاکٹ بھی تحفے میں دیاتھا۔“ اس نے قہقہ لگایا۔”مجھ پرلٹّو ہو گیا تھا کم بخت،ساٹھ سال سے زیادہ عمر تھی مگر ٹھرکی تم سے بھی بڑھ کر تھا۔“
میں برا مناتے ہوئے بولا۔”میں کب تم پر لٹّو ہوا تھا یا تحفہ دینے کی حماقت کی تھی ۔“
وہ تفاخر سے بولی۔”بھول گئے،کتنا خرچا کیا تھا اور میرے زخمی وجود کو اٹھا کر کیسے عاشقوں کی طرح بھاگ رہے تھے۔“
میں نے بھناتے ہوئے پوچھا۔”اور اس کی وجہ میرا ٹھرکی پن تھا؟“
اس نے کندھے اچکاتے ہوئے بے پروائی سے کہا۔”اور کیا۔“
میرے ہونٹوں سے بے ساختہ نکلا۔”کمینی!“
وہ اطمینان سے بولی۔”کمینہ!“
میں نے کہا۔”تم سے بات کرنا ہی گناہ ہے۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔”منت کس نے کی ہے۔“
”راج!مجھ سے بات کرونا۔“ممتا دیدی مخل ہوئیں۔”میں اسے جانتی ہوں ،نواب نصراللہ کا تعلق احمد آباد کے مضافاتی قصبے ہمت نگر سے ہے ،لیکن بھول جاﺅ کہ وہ سنائپر رائفل تمھیں دے گا۔ نہایت سنکی شخص ہے اور کافی دولت مند بھی ہے اس لیے یہ توقع فضول ہے کہ ایس آر ون تمھارے حوالے کرنے پر تیار ہو جائے گا۔ بہتر ہوگاایسی کوشش میں وقت ضائع نہ کرو،اگر پیسے ہیں تو ایک شخص کا پتا بتاتی ہوں اس سے تمھیں ہر قسم کی اچھی سنائپر رائفل مل جائے گی۔“
”دیدی !ایس آر ون چھوٹے سے بیگ میں پیک ہو جاتی ہے اور وزن میں بھی ہلکی ہے، جبکہ دوسری ہیوی سنائپر رائفلیں وزنی ہونے کے ساتھ حجم میں بھی بڑی ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ بھی ایس آر ون میں ایسی کئی خصوصیات ہیں جو عام سنائپر رائفلوں میں نہیں ہوتیں۔“
”مگر نواب نصراللہ سے رائفل خریدنے کا مشورہ میں نہیں دے سکتی کیوں کہ ........“ وہ اس کے بارے تفصیل سے بتانے لگیں۔
ان کی بات مکمل ہوتے ہی میں نے ہنسا۔”دیدی ! کوئی نہ کوئی ’ جگاڑ ‘کر لوں گا۔“
لورا کی آواز ابھری۔”میں مشورہ دوں۔“
میں بیزاری سے بولا۔”تم سے بات ہی نہیں کرنا چاہتا۔“
وہ شوخی سے بولی۔”شرم کرو ریجا!میں وہی ہوں جس کے ساتھ تمھارے عشق کے قصے افغانستان سے ہندوستان تک پھیلے ہیں۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”گوری چڑیل! حد ہوتی ہے غلط بیانی اور بے ہودہ گوئی کی بھی۔“
”ہاہاہا....“اس کا مترنم قہقہ ابھرا۔”اپنی بہن کے سامنے شریف بننے کا عمدہ ناٹک کر رہے ہو،لیکن یہ اداکاری کسی کام نہیں آئے گی۔ میں سنیتا کو سب کچھ تفصیل سے بتا چکی ہوں۔“
”اچھا پھوٹوکیا مشورہ ہے،ورنہ تمھاری واہیات گفتگو جاری رہے گی۔“
اس نے طنزیہ انداز میں ایک انگریزی کہاوت دہرائی جس کا سادے الفاظ میں مفہوم یہی بنتا ہے کہ ۔”چھلنی کوزے کو کہہ رہی ہے تم میں دو سوراخ ہیں۔“
میں بیزاری سے بولا۔”فضول گوئی کے بجائے مدعے پر آﺅ۔“
اس نے اطمینان سے کہا۔”گفتگو کا یہ اندازتمھی سے سیکھا ہے ۔“
میں جان چھڑاتے ہوئے بولا۔”تم کوئی مشورہ دینے والی تھیں۔“
وہ مستفسر ہوئی۔”تمھارے پاس وشال گپتا والی سنائپر رائفل موجود ہے ناں۔“
میں الجھن آمیز لہجے میں بولا۔”ہاں،مگر اس پر چالیس،پینتالیس سے زیادہ گولیاں فائر کر چکا ہوںاور وہ کسی بھی وقت جواب دے سکتی ہے۔“
” نواب کے مہمان بن کر وہاں پہنچ جاﺅ اور کسی بہانے سے رائفل تبدیل کر لینا،اس گھامڑ کوحقیقت کا کیا پتا ۔“وہ شوخی سے بولی۔”اگر ڈاکٹر سجاتا کو ساتھ لے جاﺅ تو شاید مکمل پزیرائی ملے۔“
میں ندامت سے بولا۔”اس سے تو ملاقات ہی نہیں کر سکا ۔“
لورا اطمینان سے بولی۔”پہلے نہیں کی تو اب کر لو،بے چاری خوش ہو جائے گی۔“
میں رسان سے بولا۔”اس کی خوشی سے زیادہ اس کی حفاظت ضروری ہے۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”تم نے ساری دنیا کی لڑکیوں کا ٹھیکا نہیں لے رکھا۔“
”صحیح کہا،مگر خیر خواہوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔“
”جھوٹ مت بولو یار !میں نے تو کبھی بھول کر بھی تمھاری بھلائی کا نہیں سوچا تھا پھرمیرے آگے پیچھے کیوں گھومتے تھے....؟“وہ ممتا دیدی کی موجودی کا فائدہ اٹھا کر مجھے چھیڑ رہی تھی، جانتی تھی کہ ان کے سامنے میں فضول بات ہونٹوں سے نہیں نکال سکتا تھا۔
میں چڑ کر بولا۔”تمھارے آگے پیچھے گھومنے والا کوئی گدھا ہی ہو سکتا ہے۔“
لورا نے قہقہ لگایا۔”شکر ہے تم نے مان لیا۔“
میں جھلا کر بولا۔”یہ گھٹیا گفتگو ختم ہو گی یا نہیں۔“
وہ موضوع تبدیل کرتے ہوئے اطمینان سے بولی۔”بڈھانواب شکار کابہت شوقین ہے، تب مجھے بھی دعوت دی تھی ۔“
”تمھیں تو شاید........“میں کچھ الٹا سیدھا بولنے والا تھا کہ ممتا دیدی پر نظر پڑی ،وہ لورا سے سر جوڑے میری طرف متوجہ تھی۔میں بات بدلتے ہوئے بولا۔”اچھا میں دیکھ لوں گا۔“
لورا کا استہزائی قہقہ بلند ہوا۔میں کھسیانے انداز میں بولا۔”ہی ہی کی کوئی خاص وجہ؟“
اس نے افسوس بھرے انداز میں سرہلایا۔”چچ....چچ....بے چارا ریجا....“
میں ممتا دید ی کی طرف متوجہ ہوا۔”دیدی !آپ سنائیں ....لورا کی بے ہودہ گفتگو تو شاید ختم نہ ہو۔“
وہ متبسم ہو ئی۔”میں تمھارے درمیان فیصلہ نہیں کر سکتی،تو بہتر ہوگا ہم اپنی باتیں کریں۔“
میں نے کہا”پھر اردو میں بات کریں۔“
لورا معترض ہوئی۔”یہ غلط ہے،کوئی انسانوں والی بولی بولو....“
مگر اس کے واویلے کونظر انداز کیے ہم اپنی زبان میں شروع رہے۔احتجاجاََ لورا بھاگ گئی تھی۔ میں نے بھی ممتا دیدی سے چند منٹ گپ شپ کی اور انھیں خدا حافظ کہہ دیا۔
٭٭٭٭٭
ڈاکٹر سجاتا کا نمبر میرے پاس محفوظ تھالیکن مصروفیت کی وجہ سے رابطہ نہیں کر سکا تھا۔ ویسے بھی اس سے کوئی کام ہی نہیں تھا تو کیا رابطہ کرتا۔
البتہ لورا کا مشورہ قابل عمل تھا۔اگر سجاتا کا ساتھ مل جاتا تو امید تھی میں آسانی سے ایس آر ون حاصل کر لیتا۔میں نے نمبر ملا کر موبائل فون کان کو لگا لیا۔گھنٹی گئی مگر اس نے وصول نہ کی،میں نے دوبارہ کوشش کی اور کامیابی ملی۔
”ہیلو....“اس کی محتاط آواز میرے کانوں میں پڑی۔
میں رسان سے بولا۔”راجا بات کر رہا ہوں ،پہچانا؟“
وہ رکھائی سے بولی۔”کون راجا اور کس سے بات کرنا ہے؟“
میں ہنسا۔”آپ کتنے راجوں کو جانتی ہیں۔“
”میں کسی راجا کو نہیں جانتی اور............“ایک دم اس کی زبان کو بریک لگی اور اس نے ہکلاتے ہوئے کہا۔”مم.... مگروہ تو........“
میں قطع کلامی کرتے ہوئے بولا۔”دوبارہ آنا اتنا مشکل تو نہیں ہے۔“
وہ پر جوش انداز میں بولی۔”آپ اس وقت کہاں ہیں؟....میرے پاس آجائیں یا پتا بتائیں میں پہنچ جاتی ہوں۔“
میں نے پیش کش کی۔”آپ نے رہائش گاہ نہیں بدلی تو میں خود پہنچ جاتا ہوں۔“
وہ قدرے خفگی سے بولی۔”رہائش وہی ہے اور بھول گیا ہے آپ مجھے تم کہا کرتے تھے۔“
میں جلدی سے بولا۔”معذرت چاہتا ہوں۔“
وہ رسان سے بولی۔”میں منتظر ہوں اوردوپہر کا کھانا اکٹھے کھائیں گے۔“
وشواس سنگھ کو بتا کر میں وہاں سے نکل آیا۔راستے میں پھولوں کا گلدستہ بھی لے لیا کہ خالی ہاتھ جانا مناسب نہیں لگ رہا تھا۔جگہ میری دیکھی بھالی تھی اس لیے پہنچنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی۔ اس کا فلیٹ دوسری منزل پر تھامیں لفٹ سے دوسری منزل پر پہنچا ،تھوڑی دیر بعد میں فلیٹ نمبر۹۱اے کے دروازے کی گھنٹی بجا رہا تھا۔
دروازہ خود سجاتا نے کھولا تھا۔وہ پہلے جیسی ہی تھی بس ذرا فربہ ہو گئی تھی۔
”اتنی دیر لگا دی۔“خوش دلی سے مسکراتے ہوئے اس نے مصافحہ کیااور ایک طرف ہو کر مجھے اندر آنے کا رستا دیا۔
اسے گلدستہ پکڑاتے ہوئے میں نے اندرداخل ہوااور بے تکلفی سے ایک صوفے پر تشریف ٹیک دی تھی۔دروازہ بند کر کے اس نے پھولوں کو گلدان میں سجایا اور میرے سامنے نشست سنبھال لی۔ ”یقین نہیں آرہا آپ کو دیکھ رہی ہوں۔“
میں نے کہا۔”ایک ضروری کام سے آیا تھا ،سوچا اپنی بہن سے ملتا جاﺅں۔“
اس نے منہ بنایا۔”بہن کی شادی پر آنے کی زحمت تو کی نہیں اب کیا فائدہ؟“
میں خوشگوار حیرت سے بولا۔”کیا....سچ میں ؟“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔”پچھلے ہفتے ہی ہنی مون ٹورسے لوٹے ہیں۔“
میں نے پوچھا۔”بھائی کدھر ہیں ؟“
اس نے کہا۔”ہسپتال میں ہیں،انھیں بتا دیاہے بس آنے والے ہی ہوں گے۔“
میں محتاط انداز میں بولا۔”میرا تعارف کرایاتھا؟“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”اسے کہا ہے کہ لکھنو¿ سے میرا منہ بولا بھائی آیا ہے اور....“ اس نے میرے بارے جو کچھ خاوند کوبتایا تھاتفصیل سے دہرا دیا۔
اس کے خاوند ڈاکٹر سدارتھ کے آنے تک ہم گپ شپ کرتے رہے۔اس کی آمد پر اکٹھے کھانا کھایا۔ ڈاکٹر سدارتھ ہنس مکھ اور نرم دل شخص تھااورسجاتا سے بہت محبت کرتا تھا۔ یقینا سجاتا کو ایک بہترین شوہر ملا تھا۔
سہ پہر ڈھلے ان سے اجازت لے کر میں وہاں سے نکل آیا۔سجاتا نے مجھے روکنے کی کوشش کی مگر میں نے مصروفیت کا بتا کر ٹال دیاتھا۔یوں بھی اسے میرے کام کا پتا تھا اس لیے میری مصروفیات کا اندازہ لگانا اس کے لیے مشکل نہیں تھا۔اسے کام کے بارے میں نے کچھ نہیں بتایا تھا کیوں کہ اب وہ شادی شدہ تھی اور مشرقی عورت شوہر کی اجازت کی محتاج ہوتی ہے۔وہاں جانا بہ ظاہرتو بے فائدہ رہا تھا،البتہ سجاتا سے ملاقات ہوگئی تھی۔ وہ ایک مخلص لڑکی تھی اور اس نے میری کافی مدد کی تھی،یقینا اپنے محسنوں کے حال سے باخبر رہنا اور موقع ملنے پر رابطے بحال رکھنا بھی کم مفید نہ تھا۔
لفٹ موجود نہیں تھی ،میں نے انتظار کرنے کے بجائے سیڑھیوں سے جانا مناسب سمجھا۔ سیڑھیاں اترتے ہوئے میں پہلی منزل پر پہنچااور جونھی فرشی منزل تک جانے کو پہلے قدمچے پر قدم رکھا اچانک ہی پیٹھ سے پستول کی نال ٹکرائی اور ایک سرد آواز سماعتوں میں پڑی۔
”غلط حرکت کرنے سے پہلے سوچ لینا کہ اس کے بعد درست حرکت کے بھی قابل نہیں رہو گے۔“آواز نسوانی تھی ،مگر قدرے بھاری ,یوں جیسے آواز تبدیل کی گئی ہو۔
میں نے قد م روکتے ہوئے گردن گھمانا چاہی۔”مڑ کر دیکھنا بھی غلط حرکت تصور ہوگا،ہاتھ اوپر اور آہستہ سے دائیں مڑو۔“
میں نے شرافت سے ہدایات پر عمل کیا۔بدقسمتی سے راہداری خالی پڑی تھی،اگر آمدرفت ہوتی بھی تو اسلحہ دیکھ کربھلا کون مدد کرتا۔
”آگے بڑھو۔“پستول کی نال سے ٹہوکا دیتے ہوئے اس نے اگلی ہدایت دی۔
میں سست روی سے قدم لینے لگا،دماغ اس آواز کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا،لگا میں اسے پہچانتا ہوں مگر اس کے لہجہ بدلنے کی وجہ سے شناخت نہیں کر پارہا تھا۔اس کے ساتھ یہ حیرانی بھی دماغ کو چکرا رہی تھی کہ آخر وہ مجھ تک پہنچی کیسے تھی۔
”شایدسجاتا نے مخبری کی ہے۔“ایک امکانی سوچ پیدا ہوئی جسے میں نے سختی سے جھٹلا دیا تھا کہ ڈاکٹر سجاتا سے میں اتنے گھٹیا رویے کی توقع مر کر بھی نہیں کر سکتا تھا۔ وہ نہایت مخلص اور سادہ دل لڑکی تھی اور میں بھی اتنا کوڑھ مغز نہ تھا کہ رویوں کی شناخت نہ کر پاتا۔
فلیٹ نمبرگیارہ اے کے سامنے جاتے ہی اس نے حکم دیا۔”گیارہ بائیس تالے کا نمبر ہے کھول کر اندر چلے جاﺅ۔“
میں نے نمبر ملا کر قفل کھولا اور دروازے کو اندر کی طرف دھکیل دیا۔دروازے میں ایک ہی پٹ تھا جو دائیں جانب کھلتا تھا۔دروازہ قفل ہونے کی وجہ سے یقینا فلیٹ خالی ہونا تھااورتکنیکی طور پر دروازے میں داخل ہونے کے وقت ہی مخالف سے نمٹنا نسبتاََزیادہ آسان تھااندر جانے کے بعد تو اس نے جسمانی فاصلہ پیدا کر لینا تھا پھر اس کے خلاف کوئی چال مشکل ہی سے کامیاب ہو پاتی۔
اس نے ایک بے وقوفی یا چالاکی یہ کی تھی کہ پستول کی نال مسلسل میری پیٹھ میں چبھوئی ہوئی تھی جس کی وجہ سے دیکھے بغیر اس کی جگہ کا اندازہ کرنا آسان تھا۔پہلا قدم میں نے ٹھیک اس جگہ رکھاجہاں کمرے کی بائیں دیوار کی سیدھائی بن رہی تھی،دوسرا قدم فٹ بھر آگے جانا تھا۔میرا پاﺅں سستی سے مطلوبہ جگہ سے ٹکرایا اور پھرمیں بجلی کی سی سرعت سے بائیں جانب ہٹا،ساتھ ہی اس کے ہتھیار والے بازو کو تھامتے ہوئے میں نے اپنا گھٹنا اٹھا دیا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر25
ریاض عاقب کوہلر
گھٹنا اس کے بائیں پہلو سے ٹکرایا،بے چاری کے منہ سے زور دار ۔”اوغ۔“نکلی تھی۔ ساتھ ہی احساس ہوا کہ جلد بازی میں اپنی شناسا کو اچھی خاصی چوٹ پہنچا چکا ہوں۔ وہ بملا تھی۔ ہتھیار کے نام پر اس نے بالوں والے برش کا دستہ میری پیٹھ پر ٹیکا ہوا تھا۔جس کا دباﺅ بالکل پستول کی نال جیسا لگ رہا تھا۔یقینا وہ مذاق کے موڈ میں تھی ،مگر جو ردعمل میں نے ظاہر کیا تھااصولاََ اسے اس کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے تھا۔
”بیڑا غرق راجے!....افف....“وہ پہلو پر ہاتھ رکھے کراہتی ہوئی سیدھی ہوئی۔
میں نے ندامت ظاہر کی۔”سوری یار!....تم نے ڈرا ہی دیا تھا۔“
وہ بائیں پہلو کو مسلتے ہوئے آگے بڑھی،میں نے جلدی سے دروازہ بند کرتے ہوئے اسے سہارا دینے کو ہاتھ بڑھائے۔
”دور رہو۔“خفگی بھرے لہجے میں مجھے ڈانٹے ہوئے وہ صوفے کے قریب پہنچی اور گرنے کے انداز میں لمبی پڑ گئی۔
”پانی لاتا ہوں۔“خفت بھرے انداز میں کہتے ہوئے میں نے باورچی خانے کی تلاش میں گردن گھمائی جو دائیں طرف نظر آیاتھا۔میں جلدی سے پانی کی ٹھنڈی بوتل اور گلاس لے آیا۔خفگی بھری نگاہوں سے مجھے گھورتے ہوئے اس نے گلاس پکڑ لیا۔
میں نے اس کے سامنے نشست سنبھا لتے ہوئے صفائی دی۔۔”اصولاََغلطی تمھاری ہے۔“
ایک ہی سانس میں گلاس خالی کرتے ہوئے اس نے میری طرف تانا۔”گلاس سے تمھارا سر پھوڑ دوں گی۔“
میں متبسم ہوا۔” کیا خبر تھی تم ہوگی۔“
وہ آنکھیں نکالتے ہوئے بولی۔”شکر کرو میرے ہاتھ میں اصل پستول نہیں تھا،ورنہ تمھاری حرکت کے بعد میں نے گولی ٹھوک دینا تھی۔“
میں نے منہ بنایا۔” ایسا موقع ملتا تب ناں۔“
اس نے بائیں پہلو کو دباتے ہوئے دہائی دی۔”یار !....اتنی زور سے تو کوئی دشمن کو بھی نہیں مارتا۔“
”تمھاری اپنی غلطی ہے،اگر مذاق کرنا بھی تھاکم از کم تھوڑا سا فاصلہ تو رکھتیں۔“
”میرے ہاتھ میں بالوں کا برش تھا،دور سے دھمکانے کے بجائے ،تمھاری پیٹھ میں دستہ چبھونامناسب لگا....اور سچ کہوں تو میں مکمل تیار تھی،مگر پھر پتا ہی نہ چلا۔“ معصومیت سے کندھے اچکاتے ہوئے وہ مسکرا دی تھی۔
میں نے پوچھا۔”تم کب سے میراپیچھا کر رہی تھیں؟“
”لفٹ سے نکلتے وقت تمھیں سیڑھیوں کی طرف بڑھتے دیکھاتو حیران رہ گئی۔آواز دے ہی رہی تھی کہ دماغ میں شرارت جاگی اور میں بے وقوفی کر گزری....افف....“جواب دیتے ہوئے اس نے پھر واویلا کیا۔
دشمن سمجھتے ہوئے میں نے گھٹنے کا وار بھی تو بہت زور سے کیا تھااور اس کی بدقسمتی کہ بے چاری دفاع نہیں کر سکی تھی ،ورنہ کوئی گھریلو خاتون نہیں تھی کہ ایک چوٹ کھا کر ہائے وائے شروع کر دیتی۔
میں نے پوچھا۔”پہلے والی رہائش کیوں چھوڑی؟“
”ہم مستقل کہیں بھی نہیں رہ سکتے،کیوں کہ ہماری روزمرہ ایسی نہیں ہے جسے مستقل ٹھکانہ راس آسکے۔اس لیے پڑوسیوں سے تھوڑی بہت شناسائی ہوتے ہی ٹھکانہ تبدیل کر لیتے ہیں۔“
”ہونہہ!....“گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے اثبات میں سرہلادیاتھا۔
وہ مستفسر ہوئی۔”اور تم کہاں آوارہ گردیاں کرتے پھر رہے ہو،میرے خیال میں تو تمھیں اب تک لوٹ جانا چاہیے تھا۔“
میں نے جواب گول مول کیا۔”ایک دوست سے ملنے آیا تھا،باقی سرکاری آدمی ہوں، میرے آنے جانے کا فیصلے کوئی اور کرتا ہے۔“
اس نے اندازہ لگایا۔”پھر کوئی مشن؟“
”شاید ایسا ہی کچھ ہے۔“
اس نے پیشکش کی۔”اگر مدد کی ضرورت ہو تو مانگ سکتے ہو۔“
”شکریہ۔“کہہ کر میں نے جانے کے ارادے سے نشست چھوڑی۔
وہ خفگی سے بولی۔”کہاں چل دیے،کچھ کھائے پیے بغیر تم نہیں جا سکتے۔“
”کھا پی کر ہی آرہا ہوں۔“
مجھے بیٹھنے کاا شارہ کرتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولی۔” ایک ضروری بات کرنا ہے۔“
”ہونہہ!“میں دوبارہ صوفے سے جُڑ گیاتھا۔
اس نے امید ظاہر کی۔”کیا یہ ممکن ہے کہ تم دو تین دن میرے پاس گزارو۔“
”کیا....کیوں؟“اظہار تعجب کے بعد میرے منہ سے یک لفظی استفسار نکلا تھا۔
اس نے متبسم ہو کر انکشاف کیا۔”تمھاری شاگرد بننا چاہتی ہوں ۔“
”اتنا وقت کہاں ہے؟....“میں نے انکار میں سرہلایا،لیکن اچانک خیال آیا کہ ایس آر ون کے حصول کی کوشش کو اسے ساتھ لے جاﺅں ۔وہ سجاتا سے خوب صورت نہیں تو کم بھی نہیں تھی اور سب سے بڑھ کر اس نے عملی میدان کی خاک چھانی ہوئی تھی اس لیے سجاتا سے کئی گنا زیادہ مفید تھی۔
”البتہ میرے ساتھ احمد آباد جانا چاہو توتمھارا مقصد بھی پورا ہو جائے گا۔“ میں نے فوراََ حل بھی بتا دیا تھا۔
اس نے چوٹ کی۔”گویا سنائپنگ سکھانے کا معاوضا چاہیے۔“
میں نے منہ بنایا۔”لمحہ بھر پہلے تم نے فرمایا تھاکہ مدد کی ضرورت ہو تو کہہ سکتا ہوں۔“
اس نے جھینپتے ہوئے بات سنبھالنے کی کوشش کی۔”تو تب کہتے ناں؟“
میں نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”ضرورت ہو تی تو کہہ دیتا،البتہ تمھارے فائدے کا سوچ کر پیش کش کر دی ہے۔“
وہ مستفسر ہوئی۔”احمد آباد میں کیا کام ہے؟“
” ایک مفید سنائپر رائفل ہے جو احمد آباد کے علاوہ کہیں سے بھی نہیں مل سکتی....“ میں نے اسے ایس آرا ون کے متعلق ضروری تفصیل بتادی۔
”ایک منٹ....“کہہ کر اس نے موبائل فون میں پیغام لکھا اور کسی کو بھیج کر بولی۔ ”اگر اجازت مل گئی تو ضرر چلوں گی۔“
میں نے اثبات میں سرہلانے پر اکتفا کیا تھا۔
جواب آنے تک چاے بنا لوں ۔“مجھے مطلع کرتے ہوئے وہ باورچی خانے میں گھس گئی۔میں صوفے سے ٹیک لگا کر آئندہ کا لائحہ عمل سوچنے لگا۔
وہ چائے اور جواب کے ساتھ ہی باورچی خانے سے نمودار ہوئی تھی۔”اجازت مل گئی ہے۔“ میرے سامنے پیالی دھرتے ہوئے اس نے خوشگوار تبسم سے اعلان کیا۔
میں نے پوچھا۔”جانتی ہو تمھیں کیوں ساتھ لے جانا چاہ رہا ہوں؟“
وہ اعتماد سے بولی۔”ایک اکیلا دو گیارہ....“
میں نے حقیقت اگلتے ہوئے اس کے اندازے کو ذبح کیا۔”وہ سنکی بڈھا خوب صورت لڑکیوں کے لیے کچھ زیادہ ہی نرم ہے۔“
وہ تعجب سے بولی۔” تعریف کر رہے ہو یا تذلیل؟“
میں متبسم ہوا۔”انکشاف کر رہا ہوں کہ میدانِ عمل میں عورتوں کے پاس دہرے ہتھیار ہوتے ہیں ،بس انھیں استعمال کا طریقہ آنا چاہیے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”چھوٹی بچی نظر آرہی ہوں یا باپردہ خاتون کہ جسے اس انکشاف کی ضرورت پڑے گی....مرد کی فطرت کوپہچاننااور اس کے مطابق کام لیناعورت کی فطرت میں شامل ہے.... ہم جیسی لڑکیوں کو آغاز تربیت ہی میں یہ سب سکھادیا جا تا ہے۔یوں بھی عورت کسی بھی سطح کی ہو مردوں کو سنبھالنے کا ہنر قدرت نے اس کی سرشت میں ودیعت کیا ہوتا ہے۔میں مختصر نشست میں کسی بھی مرد کی فطرت کو جانچ سکتی ہوں اوراندازہ کر سکتی ہوں کہ موصوف کی کیا عادات و اطورا ہو سکتے ہیں۔“
میں مزاحیہ انداز میں بولا۔”تو پہلی ملاقات میں میرے بارے کیا اندازہ لگایا تھا؟“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”یہی کہ نہایت بدذوق،بد تہذیب ،بد اخلاق اور گنوار شخص ہو۔“
میں نے خفگی ظاہر کی۔”اتنا گھٹیا اندازہ لگانے کی وجہ؟“
اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”اب بھی اپنے موقف پر قائم ہوں۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”تم چند دنوں کے لیے باقاعدہ میری شاگرد بننے جارہی ہواس دوران میں مجھے عزت سے مخاطب کرنا،تمیز کے دائرے میںرہ کر گفتگو کرنا اور سیکھنے کی صلاحیتوں کو بروے کار لا کر کم وقت میں زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی کوشش کرنا ہوگی۔“
”ٹھیک ہے استاد جی!“ ایک دم سنجیدہ ہوتے ہوئے اس نے پوچھا۔”اب بتائیں لائحہ عمل کیا ہوگا؟“
میں نے کہا۔” تمھیں وہاں کسی مشہور بدیسی اخبار کی رپورٹر بن کر جانا ہوگا، میں بہ طور ترجمان ساتھ جاﺅں گا۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”مسئلہ ہی کوئی نہیں ہے۔“
میں نے نشست چھوڑتے ہوئے ہدایت کی۔”صبح تیار رہنا۔“
اس نے پیشکش کی۔”رات یہیں گزار لیتے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”دوست کے گھر میری سنائپر رائفل پڑی ہے وہ لانا ہے ،اس بہانے الوداعی ملاقات بھی کر لوں گا۔“
اس کے ہونٹوں پر دھیماساتبسم ابھرا۔”جیسا آپ کو مناسب لگے استاد جی!“میری سرزنش کے بعد اس کے لہجے میں واضح تبدیلی آگئی تھی۔
٭٭٭٭٭
اگلے دن ہم بملا کی کار میں روانہ ہوئے۔ہسپتال سے اس نے چند دنوں کی چھٹیاں لے لی تھیںاور اپنے لیے بی بی سی کی خصوصی رپورٹر کا کارڈ بنوا لیا تھا جس پر اس کی تصویر بھی چسپاں تھی۔ نام کی جگہ مس ایلزبتھ درج تھا۔ ایک اچھے سے کیمرے کا بندوبست بھی کر دیا تھاکیوں کہ میں نے اس کا ترجمان ہونے کے ساتھ کیمرا مین بھی ہوناتھا۔
تھوڑا سا آگے آتے ہی وہ ایس آر ون کے متعلق مستفسر ہوئی۔”کیا یہ ڈریگنوورائفل سے بہتر ہے؟“اس کے پاس ڈریگنوو رائفل موجودتھی۔
میرے چہرے پر دھیما تبسم ابھرا۔”ڈریگنوو کی کارگر رینج کتنی ہے؟“
وہ فخر سے بولی۔”ہزار میٹر۔“
اورایس آر ون کی کارگر رینج دوہزار میٹر ہے ۔“
”کیا رینج کا زیادہ ہونا ،ہتھیار کے اچھا ہونے کی دلیل ہو سکتا ہے۔“اس کا استفسار سیکھنے کا جذبہ لیے ہوئے تھا۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں،اس میں اور بہت سی چیزیں بھی شامل ہوتی ہیں اور ایس آر ون ہر لحاظ سے ڈریگنوو سے بہتر ہے۔“
اس نے پر تجسس اشتیاق ظاہر کیا۔”مثلاََ۔“
”ایس آرون چھوٹے بیگ میں پیک ہو جاتی ہے،فائر کی درستی زیادہ ہے،اس کی ٹیلی اسکوپ سائیٹ ڈریگنوو کی سائیٹ سے کئی گنا زیادہ دکھاﺅ مہیا کرتی ہے،کارکردگی کے لحاظ سے وزن بہت کم ہے........“میں ایس آر ون کی نمایاں خصوصیات بتانے لگا۔
وہ تحسین آمیز لہجے میں بولی۔” بہترین رائفل ہے۔“
میں نے انکشاف کیا۔”لیکن ایک ایسی خامی ہے جو اس کی تمام خوبیوں پر پانی پھیر دیتی ہے۔“
اس نے اشتیاق سے پوچھا۔”وہ کیا؟“
میں نے پھیکے لہجے میں کہا۔”اس سے فقط پچاس گولیاں ہی فائر کی جا سکتی ہیں۔“
وہ متعجب ہوئی۔”پھر اس کے حصول کواتنی تگ و دو کی کیا ضرورت ہے؟“
میں نے منہ بنایا۔”ضرورت ہے تو کوشش کر رہا ہوں ناں۔“
اس نے درست اندازہ لگایا۔”گویا جو رائفل آپ کے پاس پہلے سے ہے اس پر پچاس گولیاں فائر ہو چکی ہیں ،اسی لیے آپ اسے ایک نئی رائفل سے بدلنا چاہتے ہیں۔“
میں ہنسا۔”ماشاءاللہ کافی سمجھ دار لگ رہی ہو۔“
وہ مصر ہوئی۔”بتاﺅ ناں ؟“
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”تمھارا اندازہ بالکل صحیح ہے۔“
وہ گردن اکڑاتے ہوئے بولی۔”شاگرد کس کی ہوں ۔“
میں نے ٹوکا۔”کچھ زیادہ مکھن نہیں لگایا جا رہا۔“
اس نے انکشاف کیا۔”پہلے آپ کے بارے زیادہ نہیں جانتی تھی مگر تکمیل مشن کے بعد ہم نے تھوڑی بہت تحقیقات کیں اور جو معلومات سامنے آئیں انھوں نے پشیمان کر دیا کہ آپ کی موجودی کا کوئی فائدہ ہی نہیں اٹھا سکی تھی،ورنہ اتنے دن اکٹھے رہے تھے میں کافی کچھ سیکھ سکتی تھی اور کل ایک دم آپ سامنے آئے تو اپنی خواہش پر قابو نہ پاسکی اور اظہار کردیا۔“
”تو پھر وقت ضائع نہیں کرتے۔“سنجیدگی سے کہتے ہوئے میں اسے سنائپنگ کے بارے تکنیکی باتیں بتانے لگا۔چھے سات گھنٹوں کے طویل سفر میں ہمارا موضوع گفتگو سنائپنگ ہی رہاتھا۔وہ شوق، دلچسپی اور توجہ سے میری گفتگو سنتی رہی ،جہاں سمجھ نہ آتی سوال کر لیتی۔بہت سی باتیں عملی طور پر سمجھانے والی تھیںوہ بعد کے لیے مو¿خر کر دیں۔
راستے میں ایک ہوٹل پر رک کر دوپہر کا کھانا کھایا اور پھر سفر جاری رہا۔احمد نگر کہیں سہ پہر کوپہنچے تھے۔رات ہوٹل میں گزار کر اگلے دن مکمل تیاری کے ساتھ ہمت نگر روانہ ہو گئے جہاں نواب نصراللہ کی رہایش تھی۔اس کے بارے مجھے زیادہ تر معلومات ممتا دیدی سے ملی تھیں۔
بملانے کالے رنگ کا تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا۔آنکھوں پر نازک فریم والی عینک ٹکی تھی، جبکہ کلائی پر سنہرے ڈائل والی زنانہ گھڑی بندھی تھی۔ ہاتھ میں قیمتی قلم اور خوب صورت سی نوٹ بک تھی۔ رپورٹر کا روپ دھارنے کویہ لوازمات اور لباس ضروری تھا۔میں نے گلے میں کیمرا ڈال لیا تھا۔ فوٹو کھینچنے کو بٹن دباناکوئی الجبرا نہیں تھا کہ مجھے مشق کی ضرورت پڑتی۔
میرا ارادہ وہاں سے جلد از جلد ایس آر ون حاصل کر کے جودھ پور جانے کا تھا کہ وہیں سے مجھے اگلے ہدف کے بارے معلومات ملنا تھیں ۔کہتے ہیں ” راستا ہماری مرضی نہیں ضرورت طے کرتی ہے۔“ اس وقت میرے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا تھا۔وطن واپسی کے بجائے دشمن ملک میں مزید قیام اور بملا جس سے دوبارہ ملاقات کا کوئی امکان نہ تھا اب وہ ہم سفر بنی ہوئی تھی۔
نواب نصراللہ کی رہایش کو ڈھونڈنے میں ہمیں زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑی تھی۔وہ اپنے علاقے کی مشہور شخصیت تھا۔وسیع و عریض حویلی کے دروازے پر دو چوکیدار متعین تھے۔ہمارا مطمح نظر جانتے ہی ایک چوکیدار بے نیازی سے بولا۔”بعد میں تشریف لائیں،نواب صاحب گیارہ بجے جاگتے ہیں۔“
میں نے دستی گھڑی پر نگاہ دوڑائی ہندسے دس بجے کی منزل کو چھونے والے تھے۔میں چوکیدار کی طرف متوجہ ہوا۔”ہم انتظار کر لیں گے۔“
وہ رکھائی سے بولا۔”جنید صاحب کی اجازت کے بغیر ہم کسی مہمان کو حویلی کا دروازہ عبور کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔“
”ہم واپس چلے جائیں گے ،مگر ملاقات ہونے پر میں نواب صاحب سے تمھاری شکایت ضرور کروں گی۔“بملا نے منہ بگاڑ کر انگریزی میں بات کی تھی۔جس کامیں نے فوراََآسان ہندی میں ترجمہ کر دیا تھا۔
چوکیدار اتنا بے وقوف تھا کہ اسے ذرا بھی تعجب نہ ہوا کہ جو لڑکی ہندی بول نہیں سکتی وہ سمجھ کیسے لیتی ہے۔البتہ وہ پریشان ضرور ہو گیا تھا۔مجھے رکنے کا اشارہ کر کے اس نے انٹرکام اٹھا کر نواب کے دست راست جنید سے بات کی اس نے غیر متوقع طور پر ہمیں اندر آنے کی اجازت دے دی تھی۔
نواب نصراللہ کی حویلی مغلیہ طرز تعمیر کا بہترین نمونہ تھی۔کافی پرانی عمارت تھی البتہ اس کی دیکھ بھال بہترین انداز میں کی گئی تھی۔تھوڑی دیر بعد ہم دیوان خانے(بیٹھک) میں بیٹھے تھے ۔جنید تیس پینتیس سال کا جوان تھا۔لمبی قامت، سڈول جسم ،مضبوط ہاتھ پاﺅں وہ نواب صاحب کا دست راست ہونے کے ساتھ محافظ بھی تھا۔شکل و صورت اور رکھ رکھاﺅسے اچھا خاصا تعلیم یافتہ لگ رہا تھا۔
ہمیں بیٹھنے کا کہہ کر اس نے مہذب انداز میں پوچھا۔”کیسے تشریف آوری ہوئی؟“
میں پہلے سے گھڑی ہوئی کہانی بیان کر نے لگا۔”مادام ایلزبتھ ،بی بی سی کی رپورٹر ہیں۔ ہندوستان کے نوابوں ،خاندانی رئیسوں اور بڑے نسب والے افراد کے بارے خصوصی فیچر لکھ رہی ہیں۔ مختلف نوابوں کا انٹرویو کر چکی ہیں اور اسی سلسلے میں نواب نصراللہ صاحب سے ملاقات کو حاضر ہوئے ہیں۔میرا نام آکاش چڈا ہے اور میں مادام کا ترجمان اور کیمرا مین ہوں۔“
اس نے مہمان نوازی کا تقاضا پورا کرنے کوپوچھا۔”آپ ناشتا کر چکے ہیں؟“
”ہاں۔“میں نے اثبات میں سرہلادیاتھا۔
”چاے ،کافی کا بتاﺅں یاکچھ اور پینا پسند فرمائیں گے۔“یقیناکچھ اور سے اس کی مراد شراب ہی تھی۔
میں نے اپنے منصوبے کی طرف قدم بڑھائے۔”اگر ممکن ہو تو ہم نواب صاحب کے جاگنے سے پہلے حویلی کا جائزہ لینا چاہیں گے،باقی چاے وغیرہ ہم نواب صاحب کے ہمراہ ہی پینا پسند کریں گے۔“
اس نے حیرانی سے پوچھا۔”اس کی کیا ضرورت ہے؟“
”مادام نے نواب صاحب کے بارے تفصیل سے مضمون لکھنا ہے،اس ضمن میں ان کے شوق، ان کے پاس موجود نوادرات ،ان کے گھوڑوں ،کتوں ،ہتھیاروں وغیرہ کی تصاویر بھی بنانا پڑیں گی۔“
اس کے چہرے پر ہلکا ساتذبذب نمودار ہوا،اسی وقت بملا نے ٹوٹی پھوٹی ہندی میں کہا۔
”پلیز ،ایکسپٹ اٹ ایساامارا ٹائم ویسٹ نائیں ہوئیں گاناں ۔“(پلیز مان جائیں یوں ہمارا وقت ضائع نہیں ہوگانا) ایک تو لڑکی، پھر بدیسی ،اوپرسے حسن و اداکا تڑکااور سب سے بڑھ کر اس کا لوچ دار لہجہ اور لجاجت بھرا انداز جنید میاں انکار پر ڈٹا نہ رہ سکا۔چہرے پر تبسم بکھیرتے ہوئے کہنے لگا۔
”واہ آپ تو ہندی بول لیتی ہیں۔“
شرمانے کی اداکاری کرتے ہوئے بملا نے ایک اور کاری وار کیا۔ ”تھوڑا .... تھوڑا .... البٹہ، سمجھ زیادہ لیتا ہے۔“
جنید نشست چھوڑتے ہوئے بولا۔”خیر میں آپ کی ہندی سے بہتر انگریزی بول لیتا ہوں۔“ویسے بھی اس کا انداز تعلیم یافتہ ہونے کی چغلی کھا رہا تھا،انگریزی میں بات کر کے اس نے میرے اندازے کی تصدیق کر دی تھی۔
بملا نے کھل کھلا کر اس کا شکریہ ادا کیا تھا۔
” گھوڑوں اور کتوں کو دیکھنے کے لیے چند کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا،کیوں کہ وہ نواب صاحب کے فارم ہاﺅس پر ہوتے ہیں ........“
بملا قطع کلامی کرتے ہوئے بولی۔”نہیں پہلے ہم حویلی دیکھنا چاہیں گے،وہاں نواب صاحب کے ہمراہ جانا مناسب رہے گا۔“
”تو چلیں۔“جنید نے مجھے نظر انداز کرتے ہوئے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔ دونوں پہلو بہ پہلو چلنے لگے ۔میں ملازموں کی طرح ان سے دو قدم پیچھے رہا۔
حویلی کی اندرونی عمارت کافی وسیع تھی،دیوان خانہ (ڈرائنگ روم )ہم دیکھ چکے تھے۔ لیکن کہانی میں حقیقت کا رنگ بھرنے کو بملا اس سے دیواروں کے ساتھ لٹکی پرانی بندوقوں ،تلواروں، ڈھالوں کے بارے استفسار کرنے لگی اور میں ان کی تصاویرکھینچنے لگا۔وہاں سے نکل کرطعام خانہ (ڈائننگ روم)نعمت خانہ(باورچی خانہ)خلعت خانہ اور پتا نہیں کس کس خانوں میں گھومنے لگے۔ اس دوران میں بملا نے بڑی مہارت و چابک دستی سے جنید کو اپنی ڈھب پر لاتے ہوئے قدیم ہتھیاروں کو زیر بحث لاکرجدید ہتھیاروں کے بارے استفسار کیا۔
”نواب صاحب شکار کے بہت زیادہ شوقین ہیں اور ان کے پاس مختلف ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ ہے۔“
بملا نے اشتیاق ظاہر کیا۔”کیا میں دیکھ سکتی ہوں۔“
”کیوں نہیں۔“جنید ،بملا کے التفات پاکر پھولے نہیں سما رہا تھااور یہ اتنا بڑا مطالبہ نہ تھا کہ وہ انکار کر سکتا۔تھوڑی دیر بعد ہم” کوت “(ایسا کمرہ جس میں ہتھیار رکھے جاتے ہیں)میں موجود تھے۔
جاری ہے
 

قسط نمبر26
ریاض عاقب کوہلر
وہاں دیواروں کے ساتھ مختلف ہتھیار ٹنگے تھے اور کوت کے بیچوں بیچ بھی لکڑی کی میزیں رکھ کر ہتھیار سجائے گئے تھے۔قریباََ ساری سنائپر رائفلیں میزوں پر رکھی گئی تھیں کیوں کہ سنائپر رائفل کے ساتھ عموماََ دو پائی جڑی ہوتی ہے اور ٹیلی اسکوپ سائیٹ کا رائفل پر لگا ہونا تو لازم ہے۔بھارت کی بنی ودوانسک اورگیپارڈ اینٹی میٹریل رائفل،روس کی ڈریگنوو،اسرائیل کی گلیل،آسٹریا کی سٹائیر، انگلینڈ کی رینج ماسٹر و تھنڈر بولٹ،امریکہ کی اے ایس ففٹی،بیرٹ ون او سیون وغیرہ سجی تھیں ۔ایک کونے میں ایس آر ون بھی رکھی تھی۔دیواروں پر اے کے فورٹی سیون،انساس،سیون و ایٹ ایم ایم ،جی ٹو ایم فور وغیرہ ٹنگی تھیں۔اتنا بڑا ذخیرہ دیکھ کر مجھے کافی حیرانی ہوئی تھی۔نجانے اتنے ہتھیاررکھنے کی نواب نصراللہ کو اجازت کیسے ملی تھی،ممکن تھا اس نے وہ ہتھیار بغیر پر مٹ کے رکھے ہوتے آخر کوانڈیا کی پولیس بھی رشوت لینا کار ثواب ہی سمجھتی ہے۔امراءسے چاے پانی کے نام پر جیب خرچ لینا کوئی انوکھا یا عجیب کام نہیں جس کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہو۔
بہ ہرحال ہتھیارجمع کرنا نواب نصراللہ کا شوق تھااور ایک ساتھ اتنی محبوباﺅں کو دیکھ کر مجھے بے پایاں مسرت ہوئی تھی۔البتہ میرا مطمح نظر ایس آر ون کا حصول تھا،رائفل پر قبضہ جمانے کو مجھے دو تین منٹ کا وقت درکار تھاجبکہ جنید کی موجودی میں یہ ممکن نہ تھااوراس بات سے بملا کور بھی اچھی طرح واقف تھی۔
دو تین رائفلوں کے متعلق چند سوال کر کے اس نے اچانک پوچھا۔”کیا یہاں دو کرسیاں اور ایک تپائی رکھوائی جا سکتی ہے؟“
”کیوں؟“جنید کی حیرانی بجا تھی۔
بملا اسے بانس پر چڑھاتے ہوئے لوچ دار آواز میں بولی۔”بس میرا دل چاہ رہا ہے کہ یہاں بیٹھ کر چاے پیتے ہوئے آپ کے ہمراہ چند تصاویر کھینچواﺅں تاکہ نواب صاحب کے خوبرواور باصلاحیت محافظ کا تعارف ان خوب صورت ہتھیاروں کے پس منظر میں کروا سکوں۔“
جنید نے گھڑی پر نگاہ دوڑاتے ہوئے الجھن ظاہر کی۔”یہ اتنا مشکل نہیں ہے البتہ ہمارے پاس زیادہ سے زیادہ دس پندرہ منٹ بچے ہیں،نواب صاحب ساڑھے گیارہ بجے تک زنان خانے سے برآمد ہو جاتے ہیں۔“
بملا جھٹ سے بولی۔”آپ ایک میز،دوکرسیاں رکھوائیں اور چائے کی خالی دو پیالیوں سے بھی کام چل جائے گا،ہم نے تصاویر بنوانا ہیں چائے تھوڑا پینا ہے۔“
وہ چٹکی بجاتے ہوئے بولا۔”آپ مجھے دو تین منٹ دیں ۔“
بملا دل آویز تبسم سے بولی۔”میں منتظر ہوں اور اتنی دیر میں ہتھیاروں کا جائزہ لے لیتی ہوں ، باقی ان کے بارے تفصیل تو آپ ہی بتا سکتے ہیں،ہم نے تو ہتھیار بس فلموں ہی میں دیکھے ہیں یا کبھی کبھار پولیس وغیرہ کے پاس نظر پڑ جاتے ہیں۔“
”آپ فکر نہ کریں میں سب سمجھا دوں گا۔“فخریہ انداز میں کہتے ہوئے وہ دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ اس کا دروازے سے نکلنا اور میرا ایس آر ون پر جھپٹنا ایک ساتھ ہوا تھا۔بملا دروازے پر جا کر نگرانی کرنے کو کھڑی ہو گئی۔
میں نے سرعت سے میز پر رکھی ایس آر ون سنائپر رائفل کو مناسب حصوں میں کھولا،اپنی پشت سے بیگ اتار کر اپنی رائفل کے پرزے باہر نکال کر میز پر رکھے ،نواب صاحب کی ایس آر ون کو بیگ میں منتقل کر کے اپنی والی رائفل کو جوڑنے لگا۔ ساری کارروائی میں مجھے دوتین منٹ سے زیادہ نہیں لگے تھے۔جنید کی واپسی پانچ چھے منٹ بعد ہی ہو سکی تھی۔اس وقت میں اور بملا بیرٹ ون او سیون کے ساتھ کھڑے اس کے پرزوں کو اناڑی پن سے چھیڑ رہے تھے۔اس سے پہلے بملا نے اپنے موبائل پر پانچ منٹ بعد کا الارم سیٹ کر دیا تھا۔
جنید کے ہمرا ہ تین ملازم موجود تھے جنھوں نے دو کرسیاں اور ایک میز اٹھائی ہوئی تھی۔ان کے کرسیاں اور میز لگانے تک ایک ملازم چاے کی پیالیاں وغیرہ لے آیا تھا۔ میں نے جنید اور بملا کی چند تصاویر کھینچیں ، اسی دوران میں بملا کا موبائل فون بجنے لگا۔
جنید کو معذرت کا اشارہ کرتے ہوئے اس نے موبائل فون کان سے لگا لیا۔
”کیا....؟جی .... جی ....ٹھیک ہے....ہم آرہے ہیں....“چند یک طرفہ باتیں کر کے اس نے موبائل فون پرس میں ڈالتے ہوئے جنید کو کہا۔
”معذرت چاہتی ہوں ایک ایمرجنسی ہو گئی ہے،ہم سہ پہر کو لوٹیں گے اورڈنر آپ کے ساتھ کریں گے۔میرامطلب صرف آپ کے ہمراہ، نواب صاحب کا انٹرویو لینے کے بعد آپ اپنی رہائش پر اس کا بندوبست کرتے ہیں یا کسی ہوٹل وغیرہ سے کھلاتے ہیں،شاید شب بسری بھی آپ کے ہاں ہو جائے۔“معنی خیز انداز میں کہتے ہوئے اس نے جنید سے پرتپاک مصافحہ کیا،اس کی پیش کش ایسی نہیں تھی کہ جنید بے چارے کو سوال و جواب کی ہمت ہوتی وہ بس مضطرب انداز میں ہاتھ ملتے ہوئے اتنا ہی کہہ سکا تھا۔
”بالکل ....بالکل یہ میرے لیے اعزا ز کی بات ہو گی ،آپ بس جلدی آنا۔“وہ ہمیں چھوڑنے داخلی دروازے تک آیا تھا۔ہم بملا کی کار میں بیٹھ کر وہاں سے نکل آئے۔ڈرائیونگ سیٹ میں نے سنبھالی تھی ۔جنید بے چارہ ہمارے دروازے سے نکلنے تک وارفتگی سے ہاتھ لہراتا رہا۔
سڑک پر چڑھتے ہی بملا نے قہقہ لگا کر پوچھا ۔”کیسا رہا؟“
میں نے افسوس بھرے انداز میں سرہلایا۔”تم عورتوں کے لیے مردوں کو بے وقوف بنانا کتنا آسان ہوتا ہے۔“
مجھے گھورتے ہوئے اس نے منہ بنایا۔”سچ کہا،مگر کچھ بے وقوف ،بے وقوف بننے پر تیار ہی نہیں ہوتے۔“
میں نے بے نیای سے کندھے اچکائے۔”شاید ایسا ہی ہے۔“
اس نے موضوع تبدیل کیا۔”اب کیا ارادہ ہے؟“
میں نے سوال لوٹایا۔”میرا ارادہ تو پہلے سے متعین ہے اپنی سناﺅ۔“
اس نے پیش کش کی۔”اگر میرے بڑوں سے گزارش کرو تو شاید آپ کے ساتھ جانے کی اجازت دے دیں۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ کسی تحریک کے مقاصد کی تکمیل کو کوشاں رہوں۔“
وہ متعجب ہوئی۔”محترم!میں آپ کے مشن کو پورا کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہی ہوں نہ کہ آپ کو کہیں لے جانے کا منصوبہ بتایا ہے۔“
میں نے اطمینان بھرے لہجے میں پوچھا۔”اور میرے مشن کی تکمیل کے بعد اگر تمھارے بڑوں نے میری خدمات طلب کر لیں تو کس منہ سے انکار کروں گا۔“
وہ خفگی سے بولی۔”صاف کہیں مجھے ساتھ لے جانا نہیں چاہتے۔“
میں نے حقیقت کھولی۔”ایسا بالکل نہیں ہے،البتہ کسی کے احسان کا بار اٹھانے سے پہلے جوابی خدمت کو اپنا دامن کشادہ رکھنا پڑتا ہے اور میں اس کامتحمل نہیں ہو سکتا۔“
وہ شاکی ہوئی۔”آپ کے کام تو میں آ چکی ہوں ۔“
میں نے کہا۔”اس کا بدلہ پہلے ہی چکتا کر چکا ہوں،تمھارا مطمح نظر سنائپنگ کے متعلق کچھ نیا سیکھنا تھا اور اس بارے تمھیں کافی کچھ بتا چکا ہوں ،مزید جو جاننا ہے بلا تکلف پوچھ سکتی ہو۔“
اس نے ہونٹ بھینچتے ہوئے چپ سادھ لی تھی۔احمد نگر واپس پہنچ کر ہم نے ایک عام سے ہوٹل میں رات گزاری،اگلی صبح میں بملا کور عرف پشپا کماری سے الوداعی مصافحہ کر رہا تھا۔
اس نے صاف گوئی سے تبصرہ کیا۔”گوارادہ تھا کہ آپ کے ہمراہ تھوڑا عرصہ گزار کر سنائپنگ کے بارے زیادہ سے زیادہ سیکھوں گی،مگر آپ کچھ زیادہ ہی مطلب پرست،بلکہ خود غرض ہیں۔ اپنے مقصدکے علاوہ کچھ کرنا تو درکنار شاید سوچنا بھی پسند نہیں کرتے۔یقینا سنیتا جیسوال کی رہائی بھی آپ کا اپنا مطمح نظر تھی تبھی ہمارا ساتھ دینے پر تیار ہوئے تھے ،ورنہ پہلی ملاقات میں آپ نے مل کر کام کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔“
میں نے اطمینان بھرے لہجے میں اعتراف کیا۔”تمھاری رائے کو غلط فہمی قرار دینا غلط ہوگا۔“
”زہر لگتی ہے تمھاری صاف گوئی ۔“بیزاری بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ میرا جواب سنے بغیر دروازے کی طرف بڑھ گئی تھی۔
اس کے جانے کے بعد میں نے چند منٹ انتظار کیا اورپھر ہوٹل کے واجبات ادا کر کے نکل آیا۔ ایس آر ون کابیگ میرے کندھوں پر لدا تھا۔وہاں سے میں نے ریلوے اسٹیشن کا رخ کیاکہ ایک جاسوس کے لیے سفر کا یہ ذریعہ سب سے محفوظ ہوتا ہے۔جس ڈبے میں میں سوار ہوا وہاں کافی بھیڑ جمع تھی، بھانت بھانت کے لوگ اکٹھے ہوئے تھے۔مختلف بولیاں سننے کو مل رہی تھیں۔میرے سامنے والی سیٹ پر ادھیڑ عمر میاں بیوی،اپنے چار بچوں کے ہمراہ براجمان تھے۔سب سے بڑے بچے کی عمر قریباََبارہ سال ہوگی،باقی بہن بھائی اس سے چھوٹے تھے۔آغاز سفر ہی میں ان بچوں نے وہ ہنگامہ مچایا کہ دماغ کچھ سوچنے کے قابل ہی نہ رہا ۔ماں کی ڈانٹ اور باپ کی ڈانٹنے کے ساتھ ساتھ ٹھکائی کرنے کو بھی وہ کسی خاطرمیں نہیں لارہے تھے۔البتہ ان کا ساتھ گھنٹے ڈیڑھ ہی کا رہا۔دوسرے تیسرے اسٹیشن پر ان کے اترنے سے یکسوئی تو نصیب ہوئی مگر شغل میلہ ہاتھ سے جاتا رہا۔بچوں کی شرارتوں میں بھی ایک سکون و اطمینان پوشیدہ ہوتا ہے۔خاص کر ہم جیسے پردیسی جو اپنے بچوں کے لیے للچا رہے ہوتے ہیں وہ غیر کے بچوں کو ہنستا کھیلتا دیکھ کر چند لمحے حالات کی گھمبرتا کو بھلا کر ان کی شرارتوں میں کھو جاتے ہیں۔قتیل شفائی نے تعزیت کی مناسبت سے کہا تھاکہ ....
ماتم سرا بھی ہوتے ہیں کیا خود غرض قتیل
اپنے دکھوں پہ روتے ہیں لے کر کسی کا نام
پردیسی بعینہ اپنے بچوں کی شرارتوں کو غیروں کے بچوں کی حرکات و سکنات میں کھوجتے رہتے ہیں۔جب اپنے نظر نہ آئیں تو ان کی شباہتیں ڈھونڈنے کو متلاشی نظریں غیروں و بے گانوں میں بھی کئی مماثلتیں تاڑ لیتی ہیں۔مجھے بھی اپنے بیٹے عبداللہ کی قلقاریاں ،اس کا چہکنا،ہنسنا،مسکرانا،توتلی زبان میں باتیں کرنا،بھاگتے ہوئے ڈگمگا نا اور سنبھلنے کی کوشش میں پھر گر پڑناسب کچھ یاد تھا،مگر وہ نظر سے اوجھل تھااور بے گانے ملک میں کوئی بھی اس عمر کا بچہ نظر آتا تو میری نظروں کا مرکز بن جاتاتھا۔
بلاشبہ ایک فوجی کا وطن کی خاطر دشمن ملک چلے جانا ہی بہت بڑی قربانی کے زمرے میں آتا ہے،جبکہ ہم پر تو یہاں ایسے لمحات بھی گزرتے ہیں کہ اللہ پاک کی ذات کے علاوہ کچھ یاد ہی نہیں رہتا۔ موت اتنے قریب آجاتی ہے کہ اس کے لمس کا ذائقہ تک بندہ چکھ لیتا ہے اور جب مختلف صعوبتوں، تکالیف،مصائب،مشکلات اور دشواریوں سے نبرد آزما ہو کر وطن کا خدمت گار گھر واپس لوٹتا ہے اور دشمن کے ایجنٹوں کی پڑھائی ہوئی باتیں اپنوں کی زبان سے اس کی سماعتوں تک پہنچتی ہیں، تب کڑھنے، افسوس کرنے اور اذیت برداشت کرنے کے علاوہ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔بلا شبہ ہم احسان فراموش قوم ہیں، جو اپنے ہیروز کے کارناموں کو پرکھنے کو غیر کی دی ہوئی عینک لگا کر دیکھتے ہیں ،جن کی سماعتیں وطن دشمن عناصر کے الزامات کو سننے کے لیے وقف ہیں ،جن کی عقول حقائق کا ادراک کرنے کے بجائے بہتانات کو قبول کرنے پرمائل ہیں ؛جنھیں اپنے محافظوں کے ہاتھوں میں پکڑاہواہتھیار تو نظر آرہا ہے،اس کا دہشت گردوں پربرسنا دکھائی نہیں دے رہا۔بس دعا ہی کر سکتا ہوں کہ اللہ پاک ہمیں عقل و شعور دے، کیوں کہ ہمیں تو یہی سکھایا گیا ہے کہ جب اپنوں کی بات آئے پھر ہار جانے میں بھلائی ہوتی ہے۔
جودھ پور تک کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جو قابل ذکر ہو۔ریل گاڑی وہاں رات گئے ہی پہنچی تھی۔ ریلوے اسٹیشن ہی پر مسلمانوں کے ایک ہوٹل میں رات کا کھانا کھاکر میں پیدل چل پڑا۔ انصاری صاحب نے مجھے شیوا مندر کے بڑے پجاری: پنڈت دنیش رام سے ملنے کا کہا تھا۔باقی ہدایات اسی سے ملنا تھیں۔صبح کا انتظار کرنے کے بجائے میں نے اسی وقت مندر کا رخ کرنا بہتر سمجھااور ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر اسے بالدیونگر کالونی جانے کا بتا دیا۔تمام راستے میں کھڑکی سے جھانک کر راستوں کی پہچان ذہن نشین کرتا رہا۔گو رات کا وقت ہونے کی وجہ سے دکھاﺅ مصنوعی روشنیوں کا محتاج ہو کر رہ گیا تھا، اس کے باوجود ایک سنائپر ہونے کے ناتے میں نے کافی معلومات یاداشت میں بٹھا لی تھیں۔
بالدیو کالونی آتے ہی ڈرائیور نے پوچھا۔”کہاں اترنا ہے باﺅ!“
میں رسان سے بولا۔”شیوا مندر کے سامنے اتار دو۔“
چار پانچ منٹ بعد اس نے مجھے ایک بڑے مندر کے سامنے اتار دیا۔رات کے اس وقت کوئی خاص چہل پہل نظرنہیں آرہی تھی۔داخلی دروازے پر دربان موجود تھا مگر اس نے مجھ سے تعرض نہیں کیا تھا۔ایک دو بندوں سے رہنمائی لے کر میں پنڈت دنیش رام کی خواب تک پہنچ گیا،مگر وہاں موجود دربان مجھے اندر جانے کی اجازت دینے پر تیار نہیں تھے۔
ایک نے تحکمانہ انداز میں کہا۔”مہاشے! پنڈت جی کے سونے کا وقت ہو چکا ہے،سویرے درشن کر لینا۔“
میں قدرے بلند لہجے میں بولا۔” مجھے ضروری کام ہے۔“
دوسرابے نیازی سے بولا۔”یہاں کوئی بھی بغیر ضروری کام کے نہیں آتا۔“
میں نے پینترا بدلا۔”مگر مجھے انھوں نے خود بلایاہے۔“
پہلا مشکوک انداز میں بولا۔”جھوٹ مت بولو،ایسا ہوتا توہمیں مہاراج کا حکم پہلے سے مل چکا ہوتا۔“دوسرا بھی مجھے مشتبہ نظروں سے گھورنے لگا تھا۔
میں اعتماد سے بولا۔”آپ پوچھ لیں،انھیں اطلاع دیں آکاش چڈا آیا ہوا ہے ،اگر انھوں نے ملنے سے انکار کردیا تو واپس چلا جاﺅں گا۔“
لمحہ بھر گھورنے کے بعد مجھے وہیں رکنے کا اشارہ کر کے ایک اندر گھس گیا۔اس کی واپسی دو تین منٹ بعد ہوئی تھی۔باہر نکل کراس نے میری تفصیلی تلاشی لی اور اندر جانے کی اجازت دے دی۔ دروازے میں داخل ہوتے ہی اندازے کے برعکس ایک ہال دکھائی دیا تھا۔لکڑی کے منقش دروازے کے سامنے ایک اور محافظ موجود تھا۔یقینا وہ پنڈت جی کی خواب گاہ کا دروازہ تھا۔اس دربان نے بھی میری اچھی طرح تلاشی لے کر تسلی کی اور پھرکہا۔”اپنا بیگ یہیں چھوڑ دو ۔“
میں نے بیگ کندھوں سے اتار کر دیوار کی جڑ میں رکھ دیا۔زنجیر کے ساتھ میں نے نمبروں والا چھوٹا سا قفل لگایا ہوا تھا اس لیے یہ خوف نہیں تھا کہ وہ میرے بیگ کی تلاشی لے سکے گا۔
اس نے میرے لیے خواب گاہ کا دروازہ کھول دیاتھا۔
وہ درمیانے حجم کا کمرہ تھا جہاں فرش پر فقط چٹائی بچھی تھی۔اس پر گھٹے ہوئے سر والا ایک ادھیڑ عمر شخص براجمان تھا۔ دائیں ہاتھ ایک اور کمرے کا دروازہ دکھائی دے رہا تھا اور میرے اندازے کے مطابق اصل خواب گاہ وہ تھی۔اور جہاں ہم موجود تھے وہ ملاقات کا کمرہ تھا۔
”نمستے مہاراج!“میں نے ہندوﺅں کے انداز میں ہاتھ جوڑتے ہوئے آداب کہا۔
وہ مجھے تیز نظروں سے گھورتے ہوئے قدرے ناراضی سے بولا۔”بولو بالک!کیوں جھوٹ بول کر رات کے سمے ملاقات کی ضد کی ہے۔“
”مہاراج!میرا نام آکاش چڈا ہے اور میں اپنا گھر مندر کو دان کرنا چاہتا ہوں۔“
مجھے اس کی آنکھوں میں ہلکا سا اضطراب نظر آیا مگر بہ ظاہر وہ پرسکون انداز میں بولا۔ ”بالک! پہلے اپنے گھر والوں سے مشورہ کر لو۔“
میں نے کوڈ ورڈ کا اگلا حصہ بولا۔”مہاراج !مندر ہی میرا گھر ہے اور آپ میرے باپ کی جگہ پر ہیں۔“
اس نے اطمینان بھرے انداز میں سرہلایا۔ ”ٹھیک ہے بالک !کل گھر کے کاغذات کے ساتھ آجانا۔“
”نمستے مہاراج!“میں ہندوﺅں کے انداز میں ہاتھ جوڑتے ہوئے الٹے قدم پیچھے ہٹنے لگا۔
”سنو بالک!“اس کے پکارنے پر میرے قدم رک گئے تھے۔
”جی مہاراج!“
”رات کافی ہو گئی ہے،فی الحال بنسی لال کے کمرے میں آرام کر لوصبح گھر چلے جانا۔“
پھر میری سوالیہ نظروں کو دیکھتے ہوئے کہا۔”جس کے پاس تمھارا بیگ پڑا ہے، وہی بنسی ہے۔اسے بتا دو آج رات تم اس کے کمرے میں لیٹو گے،باقی وہ سنبھال لے گا۔“یقینا خواب گاہ کے دروازے پر کیمرے لگے ہوئے تھے جن کی مدد سے وہ اندر بیٹھے باہر کا منظر دیکھ لیتا تھا۔
دوبارہ ۔”نمستے مہاراج !“ کہہ کر میں باہر نکل آیا۔ بنسی لال کے پاس پہنچ کر میں نے پنڈت کی منشا اس تک پہنچا دی۔
بغیر باز پرس کیے،اس نے میرا بیگ اٹھاتے ہوئے پوچھا۔”چلیں ویر جی!“ اور میں سرہلاتا ہوا اس کے پیچھے ہو لیا۔
وہ ایک کھلی رہداری میں آیا جہاں دونوں جانب کمروں کے دروازے نظر آرہے تھے، دائیں طرف کے تیسرے کمرے کے دروازے پر رک کر اس نے قفل کھولا اور مجھے پیچھے آنے کااشارہ کرتے ہوئے اندر گھس گیا۔
وہ چھوٹا ساکمرا تھا، غربی جانب اکیلی چارپائی دھری تھی جس پرصاف ستھرا بستر بچھا تھا، ساتھ ہی لکڑی کی میز رکھی تھی ،اوپر جستی جگ اور گلاس رکھا ہوا تھا۔عقبی جانب چھوٹا دروازہ نظر آرہا تھا جو میرے اندازے کے مطابق غسل خانے کا تھا۔کمرے میں کھڑکی موجود نہیں تھی۔ دیواروں پر ہلکاپیلا رنگ ہوا تھا۔چھت سفید رنگ کی تھی جس کے درمیان میں پنکھا لٹک رہا تھا۔ داہنی اور باہنی دیوار کے ساتھ دو بلب ٹنگے تھے ان کی وجہ سے کمراخوب روشن تھا۔دروازے کے بائیں جانب لکڑی کی الماری پڑی تھی،غسل خانے کے دروازے کے ساتھ کھونٹی لگی تھی جس پر صاف ستھرے تین چارلباس لٹک رہے تھے۔دروازے کے دوسری جانب چہرہ دیکھنے کو شیشہ لگا ہوا تھاجس کے نچلی جانب لکڑی کا تختہ دیوار میں ٹھونک کر اس پر تیل کی شیشی اورکنگھی رکھی ہوئی تھی۔
اس نے غسل خانے کے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔”ویر جی!آپ تازہ دم ہو جائیں ، میں بھوجن (کھانا)لاتاہوں۔“
میں شکریہ ادا کرتے ہوئے بولا۔”دھنے واد مہاراج!.... بھوجن کر چکا ہوں۔“
”کچھ چاہیے ہو تو حکم کریں۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”فی الحال تو نیند آئی ہے۔“
”آپ آرام کریں،کوئی چیز ضرورت ہو تو بے جھجک بتا دینا،سامنے والی قطار میں دوسرا کمرا میرا ہے۔ بس ادھ گھنٹا کی چوکیداری باقی ہے،پھر میں صبح تک فارغ ہی ہوں۔“
میں نے اثبات میں سرہلا دیا تھا۔وہ باہر نکل گیا۔میں آرام کرنے لیٹ گیا۔اچھی خاصی سردی ہو رہی تھی،میں نے کمبل اوڑھ کر آنکھیں موند لیں۔مشن کے بارے کچھ معلوم نہیں تھا اس لیے آگے کا لائحہ عمل نہیں سوچا جا سکتا تھا۔
رات کا جانے کون سا پہر تھا جب ہلکے سے کھٹکے سے میری آنکھ کھلی،اسی وقت بٹن دبنے کی دھیمی سی آواز آئی اور کمرا روشن ہو گیا۔میں جھٹکے سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیاتھا،مگر بنسی لال کو دیکھتے ہی میرے تنے ہو اعصاب ڈھیلے پڑ گئے تھے۔
”چلیں ویر جی!مہاراج نے بلایا ہے۔“
”اس وقت؟“میں نے دستی گھڑی پر نگاہ دوڑائی صبح کے چار بج رہے تھے اورآفتاب طلوع ہونے میں دو اڑھائی گھنٹے باقی تھے۔
بنسی لال نے منہ بنایا۔” آپ کے تعجب کرنے پر حیرانی ہو رہی ہے۔“
تب مجھے لگا اس کا تعلق بھی اپنوں ہی سے تھا۔
میں نے خفیف ہوتے ہوئے پوچھا۔”سامان اٹھا لوں ؟“
”بے ٹھکانہ شخص کو تو سنڈاس(بیت الخلا)میں جاتے ہوئے بھی اپناسامان ساتھ رکھنا چاہیے۔“
میں نے جوتے پہن کر چارپائی کے نیچے رکھا ایس آر ون کا بیگ کندھوں میں ڈالا اور بنسی لال کے پیچھے قدم بڑھا دیے،جو مجھے تیار دیکھ کر باہر نکل گیا تھا۔راہداری میں بس ایک لحظے کو رک کر اس نے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور پھر نپے تلے قدم رکھتا ہوا مخصوص سمت کو بڑھ گیا۔میں بھی ہونٹوں پر مہر لگائے اس کے پیچھے چلنے لگا۔
دو تین موڑ مڑنے کے بعد وہ ایسے کمرے میں گھس گیا جہاں کاٹھ کباڑ بھرا ہوا تھا۔دروازہ اندر سے کنڈی کرکے وہ الٹی پڑی میز کی طرف بڑھا۔ اسے ہٹا کر چٹائی کو سمیٹا اوراس کے نیچے موجودلکڑی کا دروازہ اوپر اٹھا دیا۔نیچے سیڑھیاں جا رہی تھیں۔
بٹن دبا کر اس نے روشنی کرتے ہوئے مجھے سیڑھیاں اترنے کا اشارہ کیا۔ میرے آگے بڑھتے ہی اس نے دروازہ بند کیا اور میرے عقب میں قدم بڑھا دیے۔
سیڑھیوں کا اختتام راہداری پر ہوا تھا۔ وہ پھر میرے آگے ہو گیا۔
اس کے برابر ہوتے ہوئے میں نے کہا۔” پوچھ سکتا ہوں ہم کہاں جا رہے ہیں؟“
وہ نرم لہجے میں بولا۔”مہاراج کے پاس۔“
میں قدرے بیزاری سے بولا۔”جب میں نے اپنی شناخت کرادی تھی تو مہاراج کو اسی وقت تفصیلات بتا دینا چاہئیں تھیں اور اگر اس راستے پر سفر کرنا ضروری تھا تو یہ بھی اسی وقت طے ہو سکتا تھا۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولا۔”ایک جاسو س کو نیند اس قدر پیاری نہیں ہونا چاہیے کہ ذرا سا بے آرام ہوتے ہی اول فول بکنا شروع کر دے۔“
میں کندھے اچکاتے ہوئے بے نیازی سے بولا۔ ”یقینا میں تمھاری وضاحت سے مطمئن نہیں ہوا۔“
وہ نرمی سے بولا۔”کیا لگتا ہے مہاراج کے سارے خدمت گار ان کے اصل روپ سے واقف ہیں اور ایک اجنبی کے ساتھ زیادہ وقت بتا کر وہ شک کی زد میں نہیں آئیں گے یا لوگوں کی چہل پہل کے وقت میں تمھیں خفیہ راستے کے ذریعے مہاراج تک پہنچا سکتا تھا۔“
اس کی بات ختم ہونے تک دوسری سیڑھیاں آگئی تھیں اوراس کا جواب بھی میری کھوپڑی میں بیٹھ گیا تھا اس لیے مزید سوال سے گریز کیاتھا۔
سیڑھیاں چڑھ کر ہم اوپر پہنچے،اس بار چھت والے دروازے کے بجائے دیوار والے دروازے سے واسطہ پڑاتھا۔ اس نے بٹن دبادیا،دو تین لمحے بعد دروازے پر لگا سبز بلب روشن ہوا اور اس نے پٹ کھول دیے۔باہر نکلنے پر ہم خواب گاہ میں تھے۔سامنے ہی مہاراج پنڈت دنیش رام ایک صوفے پر براجمان تھا۔
مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ بنسی لال کو مخاطب ہوا۔”تم جا سکتے ہو۔“
بنسی نے ہندوﺅں کے انداز میں ہاتھ جوڑ کر نمستے کہا اور الٹے قدموں واپس مڑ گیا۔ تنہائی میں بھی انھوں نے اداکاری نہیں چھوڑی تھی اور یہی جاسوس کی کامیابی کا رازہوتا ہے کہ وہ اپنے روپ میں ڈھل جایا کرتا ہے اورتنہائی میں بھی اپنے اصل کو بھلا ئے رکھتاہے ۔
بنسی لال کے رخصت ہوتے ہی وہ میری طرف متوجہ ہوا۔”مشن کے بارے تم کتنا جانتے ہو؟“
لاعلمی کے اظہار کو کندھے اچکاتے ہوئے میں نے نفی میں سرہلادیاتھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر27
ریاض عاقب کوہلر
اس نے اگلا سوال کیا۔”تم سنائپر ہو؟“
میں نے اس بار بھی کچھ بولے بغیر اثبات میں سرہلانے پر اکتفا کیا تھا۔
”تمھارے بارے انصاری کو میں نے ہی کہا تھااور ایک مشن کو پورا کرنے کے بعد تمھیں دوسرے مشن کے لیے رکنا پڑا۔معذرت، مگر مجبوری تھی اور یہ کام کوئی اچھا سنائپر ہی سرانجام دے سکتا تھا۔“
یقینا وہ انصاری صاحب سے بھی رتبے میں بڑا تھا تبھی تو انھیں اس انداز میں پکار رہا تھا۔ بہ ہرحال اس کا عہدہ وغیرہ میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا کہ جاسوسوں کو حفظ مراتب ملحوظ خاطررکھنا ضروری نہیں ہوتا۔سادہ الفاظ میں کہوں تو جاسوس ”پروٹوکول“ سے مبّرا ہوتے ہیں۔
میں بے پروائی سے بولا۔”معذرت فضول ہے کہ میں آپ کے لیے نہیں رکااور نہ آپ نے ذاتی کام کو میری خدمات طلب کی ہیں۔“
اس کے لبوں پر ہلکا سا تبسم نمودار ہوا، وہ موضوع تبدیل کرتے ہوئے مدعے پر آیااور تفصیل بتانے لگاجس کا لب لباب یہی تھا کہ ....ریاست راجھستان اور اس کے مضافاتی علاقوں میں ان کا سیٹ اپ بہت مستحکم ، مضبوط اور منضبط تھا اور وہاں کی تمام کارروائیوں کاپنڈت دنیش رام ہی مہتمم و منتظم (اہتمام و انتظام کرنے والا) تھا۔ اس علاقے میں ایک بڑی شخصیت مہاراج شری ناتھ یادیو کی بھی تھی۔بہ ظاہر وہ بہت بڑا رشی اور دھرم سیوک تھالیکن بہ باطن بہت بدکردار، غلیظ اور ادھرمی(دہریہ ،بے دین)تھا۔اس کے زیر نگرانی کئی اناتھ آشرم بھی قائم تھے جو مختلف شہروں میں موجود تھے۔کئی مندر بھی اس کے زیر تسلط تھے ۔اناتھ آشرم کی آڑ میں عورتوں سے دھندہ کرانا،نشہ آور ادویات کا کاروبار کرنا، اسلحے و نشے کی اسمگلنگ سے لے کر ٹارگٹ کلنگ کرانے تک کے ہر گھٹیا اور انسانیت سوز افعال میں سرتاپا ملوث تھا۔سرکاری حلقوں میں اس کی پہنچ بہت اوپر تک تھی۔اس کی آئے روز دولت میں بڑھوتری کی ہوس اور طاقت میں اضافے کا خناس بڑھتا جا رہا تھااورطاقت و دولت کے حصول کو اس نے مزید ہاتھ پاﺅں پھیلانے شروع کر دیے تھے۔ پنڈت دنیش رام کی بدقسمتی کہ شری ناتھ اس کے راز سے آگاہ ہو گیا تھااور ان کے سیٹ اپ کے بارے بھی کافی کچھ جان گیا تھااوراب اسے دنیش رام کے زیر نگرانی جتنے آشرم چل رہے تھے وہاں من مانی کرنے کی اجازت چاہیے تھی۔اس کے علاوہ وہ دنیش رام کے جاسوسوں کوبھی اسمگلنگ میں استعمال کرنا چاہتا تھااور یہی اس کی زبان بندی کی قیمت تھی۔ دوسری صورت میں وہ تمام کو گرفتار کرانے کی دھمکی دے رہا تھا۔گو جاسوس کو دشمن ملک میں اخلاقیات کی قربانی دینا پڑتی ہے، مذہبی تعلیمات کو پس پشت ڈالنا پڑتا ہے،معاشرتی اقدار سے روگردانی کرنا ہوتی ہے اور انسانیت مخالف کارروائیوں کو دامن کشادہ کرنا پڑتا ہے لیکن یوں کسی کے ہاتھ مسلسل بلیک میل ہونا اور اپنی زندگی ایک مجرم کے پاس گروی رکھواناسراسر گھاٹے کا سودا اور حماقت تھی۔بلیک میلروں کے تقاضوں کی عموماََ کوئی حد نہیں ہوتی۔ان کی مانگ نہایت آسان مطالبوں سے ہوتے ہوئے ایسی شرائط تک جا پہنچتی ہے جہاں متاثرہ شخص یوں محبوس ہو کر رہ جاتا ہے کہ شکنجے میں آئے پرندے کی طرح پھڑپھڑا بھی نہیں سکتا اور اس کے بعد ”نہ جائے ماندن،نہ پائے رفتن “ والا معاملہ باقی رہ جاتا ہے۔اگر دنیش رام اپنے سیٹ اپ کے ساتھ منظر عام سے غائب ہو جاتا تو اس کی جان تو بچ جاتی مگر برسوں کی محنت پر پانی پھر جاتااور مہاراج شری ناتھ یادیوکاکوئی نقصان نہ ہوتا کہ اس کے ہاتھ مفت میں دنیش رام کے اثاثے آجاتے۔ دنیش رام کے زیر نگرانی جو آشرم چل رہے تھے وہاں تمام امور قواعد و ضوابط کے تحت سرانجام پا رہے تھے۔ یتیم و مفلس بچوں ،بیواﺅں اور معاشرے کی دھتکاری ہوئی عورتوں اور بوڑھوں کو نہ صرف چھت اور دو وقت کی روٹی میسر تھی بلکہ عورتوں و بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ آشرم کے اپنے اسکول تھے جہاں بچوں کو پرائمری تعلیم دی جاتی تھی۔ہندو ﺅں میں بھی اپنے دھرم اور اچھائی کے نام پر خرچ کرنے والے بہتیرے مل جاتے ہیں،البتہ اس رقم کو صحیح جگہ تک پہنچانا بین الاقوامی مسئلہ ہے۔میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ کون سا دین برحق ہے البتہ ذاتی طور پرمسلمان ہونے کے ناتے میں اسلام کے برحق ہونے پر ایسے ہی ایمان رکھتا ہوں جیسے اپنے سانس کے چلنے پرزندہ ہونے کایقین ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مسلمان ہوں، عیسائی ہوں ،سکھ ہوں یا ہندوہر مذہب میں دین فروشوں کی کمی نہیں ہوتی۔مذہب کے نام پر کمائی کے اڈے کھولنا اور دین کے نام پر دنیا کمانے والے بے شمار ہیں۔ہر دین میں ایسے کئی مل جاتے ہیں جن کا پیٹ اور خواہش نفس ہی ان کا مذہب ہوتا ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے ،نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا....”لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ ان کامقصد ان کا پیٹ ہوگا،دولت ان کی عزت ہو گی،عورت ان کا قبلہ ہو گی، درہم و دیناران کا دین ہو گااور وہ بدترین لوگ ہوں گے، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔“
شری ناتھ یادیو کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا تھا۔اس کے دل میں نہ مذہب کی اہمیت تھی،نہ وطن کی محبت ؛نہ انسانیت کا احساس تھااور نہ خوف خدا ۔اس کی غرض اپنے مقصد ومطلب سے تھی اس کے لیے وہ کوئی بھی حد عبور کر سکتا تھا۔اپنی عیاشی کی تکمیل کو وہ کسی بھی شریف و باحیا لڑکی کو جبر و زبردستی سے داغ دار کر سکتا تھا،اپنے مخالفین کے خاتمے کو بے بنیاد مقدمات بنا کر جیل بھجوانے سے لے کر انھیں قتل کرانے تک جا سکتا تھا۔جس کے دل میں دنیا کی ہوس سرائیت کر جائے وہ قارون کی دولت پا کر بھی [ھل من مزید](کیا کچھ اور بھی ہے)کے نعرے لگاتا رہتا ہے۔
اس کی گفتگو رکتے ہی میں نے پوچھا۔”کیاشری ناتھ یادیو کے قتل سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟“
نفی میں سرہلاتے ہوئے اس نے وضاحت کی۔”شری ناتھ کا دست راست موہن بھیمانی بھی اس کے دھندوں میں گردن تک ملوث ہے ۔ شری ناتھ کے ساتھ اس کا خاتمہ بھی لازم ہے اور دونوں کو ایک ہی وقت قتل کرنا ضروری ہے۔اگر کسی کو پہلے قتل کیا گیا تو دوسرا مکمل طور پر زیر زمین ہو جائے گا اورایسا ہونے کی صورت میں ہمارا مقصد ہی ناکام ہو جائے گا۔“
میں نے تعجب ظاہر کیا۔”انھیں قتل کرنے میں کیارکاوٹ پیش آرہی تھی؟....آپ کے سیٹ اپ کا سلسلہ دو ریاستوں میں پھیلا ہے،کیا دو غنڈوں کو قتل کرانامشکل تھا۔“
”ہم میں زیادہ تر فقط جاسوس ہیں ،تمھاری طرح کمانڈو نہیں ہیں کہ لڑائی بھڑائی کے ماہر ہوں اور شری ناتھ تو عام کمانڈوز کے بس کا روگ بھی نہیں ہے کیوں کہ اس کی سیکورٹی نہایت سخت ہے۔ زرہ پوش (بلٹ پروف)کارمیں گھومتا ہے ،جدیدحفاظتی زرہ(بلٹ پروف جیکٹ)سوتے وقت ہی اتارتا ہے،ساتھ مسلح محافظوں کی کثیر تعداد ہوتی ہے۔اس کی رہائش پر بھی کڑا پہرا ہوتا ہے کہ کسی ملاقاتی کواس تک پہنچنے سے پہلے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔“
میں نے پوچھا۔”کیا آپ کے خلاف اس کے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ وہ بلیک میل کر رہا ہے؟“
دنیش رام نے نفی میں سرہلایا۔”ہمارا ایک خاص جاسوس تلک داس را کے ایجنٹوں کے ہاتھوں زخمی ہوا اور پھر جان بچانے کو اسے شری ناتھ کے ایک مندر میں پناہ لینا پڑی۔مندر کا بڑا پجاری شری ناتھ کا خاص آدمی تھا، جبکہ تلک داس بے چارہ شری ناتھ کے نام و کرتوتوں سے ناواقف تھا۔اس نے پجاری کے ہاتھ میرے لیے پیغام بھیجاتاکہ میں اسے فی الفور اپنی حفاظت لے سکوں ۔پجاری نے وہ پیغام موہن بھیمانی تک پہنچا دیا۔گو تلک داس نے اشاروں (کوڈ ورڈز) میں پیغام لکھا تھا مگر شری ناتھ جیسا کائیاں شخص بات کی تہہ تک پہنچ گیا اور اپنے آدمی کو میرا آدمی ظاہر کر کے تلک داس کے پاس بھیج دیا۔اس نے تلک داس کو بہ ظاہر محفوظ ٹھکانے پر منتقل کر دیامگر وہ ان کی اپنی جگہ تھی۔اس آدمی نے باتوں باتوں میں تلک داس سے کافی کچھ اگلوا لیا کیوں کہ تلک داس اسے اپنا ہی آدمی سمجھ رہا تھا۔پس اس کے بعد شری ناتھ نے ملاقات کر کے ساری صورت حال میرے سامنے رکھ دی کہ:اسے میرے جاسوس ہونے سے کوئی لینا دینا نہیں ،بس اپنے مفادات سے غرض ہے۔بلکہ یہ بات اس کے لیے زیادہ مفید ہے کہ یوں میں اس کے کسی مطالبے سے انحراف نہیں کر سکتا۔اس واقعے کو مہینا ہونے والا ہے اورمیں نے گزشتا ہفتے اس کے مطالبات پر سرتسلیم خم کر دیا ہے،کیوں کہ میں بنے بنائے سیٹ اپ کو تباہ و برباد نہیں کرسکتا۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”مندر کے پجاری کو تلک داس پر کیسے شک ہوا؟“
”را کے بندے تلک داس کو ڈھونڈنے اس پجاری تک گئے تھے اور اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کہ را کے ایجنٹ کسی سڑک چھاپ غنڈے کا پیچھا تو نہیں کریں گے۔“
میں نے پوچھا۔”آپ اتنے بڑے پنڈت ہیں کیاصرف شری ناتھ کے کہنے پر جاسوس سمجھ لیے جائیں گے؟“
اس نے منہ بناتے ہوئے وضاحت کی۔”اگر را کو مجھ پر صرف شک ہی ہو گیا تو میری نقل و حرکت پر نظر رکھے گی اور اس کے بعد میں صرف پوجا پاٹھ ہی کے قابل رہ جاﺅں گا۔“
میں نے گفتگو سمیٹی۔”مجھے کوئی مددگار ملے گا یا اکیلا کام کرنا پڑے گا۔“
وہ اطمینان سے بولا۔’بالکل ملے گا،اگر کوئی خاص ہتھیار درکار ہو تو اس کا بندوبست بھی کیا جا سکتا ہے۔“
”انصاری صاحب تو کہہ رہے تھے آپ کے پاس فقط سٹائر سنائپررائفل دستیاب ہے۔“
اس نے وضاحت کی۔”ایسا ہی ہے،سٹائر رائفل ہمارے پاس موجود ہے ،مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم کسی اور رائفل کا بندوبست نہیں کر سکتے۔“
میں نے منہ بنایا۔”اس کی وضاحت انصاری صاحب نے کر دی ہوتی تو شاید میں دو تین دن پہلے پہنچ گیا ہوتا۔میں تو رائفل کے بندوبست میں لگا رہا۔“
اس نے تکرار سمیٹی۔”رائفل ملی کہ مجھے بندوبست کرنا پڑے گا؟“
میں نے ایس آر ون کے بیگ کو تھپتھپایا۔”الحمداللہ مل گئی ہے۔“
وہ دکھی انداز میں بولا۔”کوشش کیا کرو کہ اس کی یادفقط دل تک محدود رہے ، ہونٹوں پر یہ نام بہت میٹھا لگتا ہے ،مگر ہمارا بہروپ اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔“
میں معترض ہوا۔”یہاں کوئی اور تو موجود نہیں ہے ناں ۔“
وہ مصر ہوا۔”ایسا ہی ہے،مگر دشمن ملک میں تنہائی میں بھی بے احتیاطی نہیں کرنا چاہیے اور یہی اصول ہے۔“
میں نے غلطی تسلیم کی۔”آئندہ خیال رکھوں گا۔“
وہ پھیکے تبسم سے بولا۔”اسی میں بھلائی ہے۔“
بلا شبہ جاسوس کودشمن ملک میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوتا ہے۔ہر لحظہ دل و دماغ میں اندیشہ جا گزیں رہتا ہے کہ میرا راز پھوٹ جائے گا۔ سیانے جاسوس تو تنہائی میں بھی اپنے بہروپ کے مطابق ہی ہر کام کرتے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ دنیش رام نے غلطی سے بھی اپنے کسی آدمی کا اصل نام منہ سے نہیں نکالا تھا۔تلک داس، بنسی لال وغیرہ کے پس پردہ یقینا کوئی عبداللہ ،عبدالرحمن ہی چھپا تھا۔مگر یہ ایسا راز ہے جس سے فقط غائب کو جاننے والا عظیم رب ہی واقف ہے۔ ایسے کتنے ہی گمنام مجاہدمٹی کی تہہ اوڑھ کر لیٹے ہیں جن کے نام اور کام سے وہ واقف نہیں جن کے لیے انھوں نے اپنی جان قربان کی۔ کئی تو ایسے ہیں جنھیں اپنی مٹی بھی نصیب نہ ہوئی۔
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
دنیا کا اصول ہے کہ جو اپنے کام کا جتنا ماہر ہوتا ہے اتنا زیادہ ہی شہرت پاتا ہے،مگر یہ ایسی صلاحیت ہے جہاں زیادہ مہارت ،زیادہ گمنامی کو لاتی ہے۔یہاں دولت،شہرت ،نمود و نمائش کا نام و نشان بھی نہیں ہے ۔یہ ایسا رستہ ہے کہ اپنے دین اور عقیدے پر عمل کرنا بھی محال ہو جاتا ہے اور ایسوں کا جب اپنوں کے طنز و تشنیع و استہزاءسے سامنا ہو تب ....
مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہوگا
میں دوستوں کی حراست میں مارا جاو¿ں گا
کے مصداق انسان دشمن سے تو بچ کے نکل آتا ہے مگر اپنوں میں جا کر زندہ درگور ہو جاتا ہے۔ قارئین عموماََ شاکی رہتے ہیں کہ میں واقعات سناتے سناتے ان تفصیلات میں کھو جاتا ہوں جن کا کہانی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا،حالاں کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ ان تفصیلات کا کہانی کے واقعات سے بے شک ربط نہ ہو کہانی کے کرداروں سے گہرا تعلق ہوتا ہے اور یہ تعلق سمجھنے کو انسان کا حساس ہونا ضروری ہے۔بہ ہر حال یہ لمبی بحث ہے جو دلائل و تکرار سے نہیں سمیٹی جا سکتی۔
میں نے پوچھا۔”اب میرے لیے کیا حکم ہے؟“
دنیش نے اٹھتے ہوئے کہا۔”میری پوجا پاٹھ کا سمے ہو چلا ہے،تم تھوڑی دیر انتظار کرو،بنسی لال موقع پا کر تمھیں باہر نکال دے گااور اس کے بعد تمھیں ستیش ورما سے بھی ملا دے گا جو مشن کی تکمیل تک تمھارے ساتھ رہے گا۔ “
میں اسے احترام دینے کو کھڑا ہو گیا۔وہ میری پیٹھ تھپتھپاتا ہوا باہر نکل گیا۔میں بنسی لال کا انتظار کرنے بیٹھ گیا۔
میرے انتظار نے آدھے گھنٹے سے زیادہ طول نہیں کھینچا تھا۔کھٹکا ہوا اور دروازے کے پٹ کو دھکیلتا ہوا بنسی لال نمودار ہوا۔
اس کے ہونٹوں پر مہربان تبسم جھلکا۔”چلیں ویر جی!“
میں سرہلاتاہوا اس کے ہمراہ ہو لیا۔اس بار ہم سامنے کے دروازے سے باہر نکلے تھے ۔
مندر سے نکلنے تک وہ خاموشی سے آگے چلتا رہا اور میں اس کی تقلید میں قدم بڑھاتا رہا۔ داخلی دروازے کے ساتھ ہی چند رکشے اور ٹیکسیاں کھڑی تھیں۔ہم ایک رکشے میں بیٹھ گئے۔
”میوڑا کالونی ۔“کا بتا کر اس نے سیٹ سے ٹیک لگا لی۔میں نے سوال کرنے سے گریز کیا تھا کہ مطلب کی بات پوچھ نہیں سکتا تھا اورفضول گوئی بے فائدہ تھی۔
رکشے والا چل پڑا۔ادھ گھنٹے کے سفر کے بعد ہم میوڑاکالونی پہنچ گئے تھے ۔بنسی لال نے کرایہ چکایااورہم اتر گئے۔وہ سڑک سے اتر کر قریبی گلی کی طرف بڑھ گیا۔میں اس کے شانہ بہ شانہ چلنے لگا۔
وہ ہدایات دیتے ہوئے بولا۔”ستیش ورما کو آپ کا تعارف کرادیا ہے۔اس کی ہدایات پر مکمل عمل کرنا،وہ بہت ہوشیار اور کام کا آدمی ہے۔شری ناتھ یادیوکے بارے جتنا وہ جانتا ہے ہم میں سے کوئی نہیں جانتا۔“
میں نے خاموشی سے سرہلا دیا تھا۔
زندگی جا گ گئی تھی۔گلی میں لوگوں کی چہل پہل شروع تھی۔ڈیڑھ دو سو قدم لینے کے بعد وہ تنگ گلی میں مڑ گیا جس میں بہ مشکل موٹرسائیکل جا سکتی تھی۔چوتھے دروازے پر جا کر اس نے دستک دی، لمحہ بھر بعد دروازہ کھل گیا تھا۔
وہ پچیس چھبیس سال کا جوان تھا۔میانہ قامت،چھریرا بدن اور رنگت ہلکی سانولی۔
”نمستے مہاراج!“بنسی لال کو دیکھتے ہی اس نے ہاتھ باندھتے ہوئے پرنام کیا۔
بنسی لا ل نے جوابی پرنام کرتے ہوئے کہا۔”مجھے واپس جانا ہوگااور آکاش بھائی تمھارے حوالے۔“
اس نے بغیر کسی تکرار کے اثبات میں سرہلاتے ہوئے میرے لیے راستہ چھوڑ دیا۔ بنسی لال واپس مڑ گیا تھا۔
میں خاموشی سے اندر گھس گیا۔ وہ چھوٹا سا کوارٹر نما مکان تھا،جس میں چند فٹ ہی کا صحن تھا۔
اس نے تصدیق چاہی۔”ناشتا تو نہیں کیا ہوگا؟“
”ہاں۔“میں نے بے تکلفی سے سرہلا دیاتھا۔
”میں بس پانچ منٹ میں آیا۔“مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ باہر نکل گیا۔
اس کی واپسی ناشتے کے ساتھ ہوئی تھی۔ہم نے حلوہ پوری،نان چھولے اور دہی وغیرہ کے ساتھ ڈٹ کر ناشتا کیا ۔چاے اس نے گھر ہی میں بنا دی تھی۔چاے پینے تک وہ رسمی گفتگو کرتا رہا،میں بھی ہوں ہاں میں جواب دیتا رہا۔برتن سنبھالنے کے بعد وہ مطلب کی گفتگو پر آگیا تھا۔
”ایک تو بالکل محتاط رہنا اور کسی بھی انجان شخص سے شری ناتھ کے بارے معلومات لینے کی کوشش نہ کرنا کیوں کہ اس کے عقیدت مندوں کی بڑی تعدادعلاقے میں موجود ہے۔“
میں اثبات میں سرہلاتے ہوئے بولا۔” شروعات کہاں سے کریں گے؟“
”شری ناتھ ،عموماََ اپنی قلعہ نما حویلی میں پایا جاتا ہے جو کہ دیوگڑھ کے مضافات میں ہے، مگر حویلی کے اندر گھس کر اسے شکار کرنا قریباََ ناممکن ہے کیوں کہ حویلی کی حفاظت کا انتظام بہت سخت ہے۔ اس کی دیواریں بھی مضبوط اور کافی بلند ہیں اور قریب ایسی اونچی جگہ بھی موجود نہیں جہاں سے کوئی سنائپر اسے شکار کرسکے۔باہر نکلتے وقت بھی وہ اپنے محافظوں کے گھیرے میں ہوتا ہے۔گاڑیوں کا پورا قافلہ اس کے ہمراہ ہوتا ہے۔اس کی کار بھی زرہ پوش (بلٹ پروف)ہے اور وہ خود بھی لباس کے نیچے جدید حفاظتی زرہ پہن کر رکھتا ہے........“وہ وہی باتیں قدرے تفصیل سے بتانے لگا جو دنیش رام اختصار کے ساتھ میرے گوش گزار کر چکا تھا۔
”ٹھیک ہے ،مگر کہیں سے تو ابتدا کرنا ہو گی۔“
وہ پرخیال لہجے میں بولا۔” اس کی نقل و حرکت کی خبر رکھنے کو ہمیں کسی ایسے مخبر کی ضرورت ہے جس کی رسائی اس کی حویلی کے اندر تک ہو۔“
میں نے اندیشہ ظاہر کیا۔”ایسا شخص ڈھونڈنے کی کوشش میں ہم اچانک پن (سرپرائز)کھو دیں گے۔“
وہ اعتماد سے بولا۔”شاید ایسا نہیں ہوگا۔“
میں نے یاد دلایا۔”خود ہی تو کہہ رہے تھے کہ کسی انجان بندے سے شری ناتھ کے متعلق پوچھنا مناسب نہیں ہو گا۔“
اس کے ہونٹوں پر معنی خیز تبسم ابھرا۔”ہاں ،مگر کسی جاننے والے سے پوچھنے میں قباحت نہیں ہو گی۔“
میں نے متفق ہوتے ہوئے کہا۔”واقفیت تو یہاں تمھاری ہی ہے۔“
اس نے تجویز کیا۔”فی الحال آرام کر و،پھر نکلتے ہیں کام کے لیے۔“
میں ہلکی مسکراہٹ سے بولا۔”یہاں آرام کرنے نہیں آیا دوست!“
اس نے اندازہ لگایا۔”اس بیگ میں غالباََسنائپر رائفل ہے۔“
میں نے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا۔
اس نے مشورہ دیا۔”اسے یہیں چھوڑنا پڑے گا۔“
دماغ میں بنسی لا ل کی نصیحت گونجی اور میں نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا۔”میرا تو خیال ہے اس کی ضرورت کسی بھی وقت پڑ سکتی ہے۔“
وہ زور دیتے ہوئے بولا۔”وہ ناسور اتنی آسانی سے موقع نہیں دے گا،اس لیے رائفل کو یہیں چھپا جاتے ہیں ۔ جب بھی ضرورت پڑی ، یہاں سے لے جانا مشکل نہیں ہوگا۔“
”جیسا مناسب سمجھو۔“میں نے گیند اس کی جانب اچھال دی تھی۔
اس نے اپنی خواب گاہ میں چارپائی کے نیچے فرش کے اندر بنے خفیہ خانے میں رائفل کا بیگ چھپادیا۔فرش پر پلاسٹک کی چٹائی بچھی تھی اور اگر کوئی چٹائی کو ہٹا دیتا تب بھی خفیہ خانہ اس مہارت سے بنایا گیا تھا کہ اسے ڈھونڈنا نہایت دشوار تھا،البتہ کسی کو سن گن ہوتی تو اسے کامیابی مل سکتی تھی۔
تھوڑی دیر بعد ہم گھر سے نکل آئے تھے۔سڑک پر پہنچتے ہی ہمیں رکشا مل گیاتھا۔ بس اڈے پہنچ کر ہم پالی جانے والی گاڑی میںبیٹھ گئے۔آرام دہ بس میں ڈیڑھ دو گھنٹے کے سفر کا پتا ہی نہیں چلا تھا۔پالی بس اڈے پر اتر کر ہم نے کھانا کھایا اور پھر دوسری بس میں بیٹھ گئے۔ستیش نے گنڈالیا کی دو ٹکیں لے لی تھیں۔بس قدرے پرانی تھی ،سیٹیں بھی چھوٹی اور تنگ تھیں۔گنڈالیا تک ہمیں دو گھنٹے لگے تھے۔سہ پہر ہونے کو تھی جب ہم گنڈالیا اترے۔راستے بھر میں نے ستیش سے دریافت نہ کیا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں،کیوں کہ ایک تو ہمیں خلوت نصیب نہیں تھی دوسرا کوئی خاص بات ہوتی یا وہ مشورہ وغیرہ لینا چاہتا تو خود ہی بات شروع کر لیتا۔
گنڈالیا چھوٹا سا دیہات تھا۔بس ہمیں سڑک پر اتار کر آگے بڑھ گئی تھی۔ اس کی آخری منزل دیوگڑھ تھی جہاں ہمارے دشمن کی رہائش تھی۔
بس کے نکلتے ہی وہ پوچھنے لگا۔”جانتے ہو یہاں کیوں آئے ہیں؟“
میں اطمینان سے بولا۔”شاید رات کا کھانا کھانے۔“
”کیا،یہ کیسا جواب ہے؟“اس کے چہرے پرناخوشگوارحیرانی ابھری۔
”جواب ہمیشہ سوال کے مطابق ہی ہوتا ہے۔“میرا طمینان برقرار رہا۔
اس نے منہ بنایا۔” جاسوس کو اتنا اندازہ توہونا چاہیے۔“
میں ہنسا۔”بہ طور جاسوس میرا پہلا مشن ہے اس لیے غلطیوں کی گنجائش ہونا چاہیے۔“
اس نے سنجیدگی ظاہر کی۔”میں مذاق کے موڈ میں نہیںہوں ۔“
میں نے اندازہ لگایا۔”کسی ایسے سے ملاقات کرنے جس سے معلومات ملنے کی توقع ہو۔“
وہ رکھائی سے بولا۔”جواب درست ہے اور یاد رہے مجھے وقت کا ضیاع بالکل پسند نہیں ہے۔“
گو میرے پاس صفائی میں کہنے کو بہت کچھ تھا ،مگر خاموش رہا کہ ہر انسان اپنی فطرت کے تابع ہوتا ہے۔ کتنی بھی مشکل ،الجھی ہوئی اور ناگفتہ بہ صورت حال کیوں نہ ہوتی میں اور سردار طنز و مزاح کا دامن پکڑے رہتے تھے، لیکن ستیش ورماالگ مزاج کا شخص تھااور میں اس کا مزاج درست کرنے نہیں شری ناتھ یادیو کا حلیہ بگاڑنے آیا تھا۔
مجھے خاموش پا کروہ مدعے پر آیا۔”اس کا نام رشو بھٹلا ہے۔ غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور شیری ناتھ کے دست راست موہن بھیمانی کا ڈسا ہوا ہے۔“
میں نے شوشہ چھوڑا۔”یقینا اس کی بیوی خوب صورت ہوگی ۔“
جاری ہے
 

قسط نمبر28
ریاض عاقب کوہلر
مجھے خشمگیں نظروں سے گھورتے ہوئے اس نے آبادی کی طرف قدم بڑھائے جو سڑک سے فرلانگ بھر دور تھی اور وہاں تک ایک پختہ راستہ بنا ہوا تھا۔”تمھارا اندازہ ٹھیک ہے مگر انداز غلط ہے اور رشو بھٹلا کی بیوی نہیں بہن خاصی خوب صورت ہے ۔پہلے وہ شری ناتھ کے معتقد تھے۔ پورا گھرانا اس کا بھاشن سننے جایا کرتاتھا۔اسی دوران میں رشو کی بہن رکمنی بھٹلا پر موہن بھیمانی کی نظر اٹک گئی ، وہ گھٹیا پن اوربے غیرتی میں کسی بھی طرح شری ناتھ سے کم نہیں ہے۔تمام غنڈوں کی باگ دوڑ اسی کے ہاتھ میں ہے۔لوگوں کی بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو شری ناتھ کے تمام کرتوت بھی موہن کے کھاتے میں ڈالتے ہیں، ان کی آنکھوں پر عقیدت کی پٹی بندھی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ شری ناتھ بھولا بھالا سادھو سنت ہے اور موہن اس کا نام استعمال کر کے اپنا الو سیدھا کر رہا ہے،مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ شری ناتھ کے کرتوتوں کی سیاہی موہن بھیمانی سے قدرے بڑھی ہوئی ہی ہے۔ البتہ اس کی حتی الوسع کوشش یہی ہوتی ہے کہ عوام کے سامنے اس کی پارسائی کا بت قائم رہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کو وہ خاصا محتاط رہتا ہے۔ لیکن کہتے ہیں ناں خوشبو و بدبو کی طرح گنا ہ اور نیکی بھی چھپائے نہیں جا سکتے۔اس لیے ذی شعور لوگوں کی نگاہ سے شری ناتھ کے کرتوت اوجھل نہیں ہیں۔“چھوٹا سا وقفہ لے کر اس کی بات جاری رہی۔ ”بہ ہر حال موہن ،رکمنی کی خوب صورت شکل اور تروتازہ شباب کودیکھ کر خود پر قابو نہ رکھ سکااور اپنا کارندہ بھیج کر تمام گھر والوں کو رکوا دیا کہ مہاراج شری ناتھ یادیو نے ان کی آدھینتی (عاجزی) سے متاثر ہو کر ان کی منورتھ (دلی خواہش)پوری کر دی اور انھیں ملاقات کا شرف بخشا ہے۔ یہ خوش خبری سن کر تمام گھرانا خوش ہو گیا تھا۔ایسا صرف ان کے ساتھ نہیں ہو رہا تھا کہ وہ چونکتے،جب بھی شری ناتھ بھاشن دیتا اس کے بعد کسی ایک یا دو تین یاتریوں کو ملاقات کا شرف ضرور بخشتاتھا۔وہ بے چارے انتظار کرنے بیٹھ گئے۔گھنٹے ڈیڑھ بعد ان کا بلاوا آگیا،شری ناتھ کا آشیرواد پا کر وہ خوشی سے نہال ہو گئے تھے۔اسی دوران میں شری ناتھ نے رکمنی کے والدین تک اپنی خواہش پہنچائی کہ وہ رکمنی کو ایک ہفتے کے لیے مندر کی سیوا کے لیے وہیں چھوڑ جائیں۔یہ پیش کش انومان بھٹلا اور اس کی پتنی رتناکے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھی۔ وہ رکمنی کو وہیں چھوڑ کر واپس چل پڑے۔ گھر لوٹتے ہی رشو نے بہن کا ضروری سامان بیگ میں ڈال کر وہ بھی وہاں پہنچا دیا تھا۔ ہفتے بعد جب وہ بہن کو واپس لینے گیا تو اسے بڑی مشکل سے رکمنی سے ملنے دیا گیا۔ بہ ظاہر وہ خوش نظر آنے کی کوشش کر رہی تھی اور کچھ عرصہ مزید وہاں رہنے پر مصر تھی ،مگر اس کا اڑا ہوا رنگ اور پھیکا تبسم رشو کی نظروں سے چھپا نہ رہ سکا۔اس نے انکار میں سرہلا کر اسے واپس چلنے کا کہا۔ اسی دوران میں وہاں موجود شری ناتھ کے سیوک نے اسے خاموشی سے لوٹ جانے کا کہا،مگر رشو اپنی ضد پر اڑ گیا۔ سیوک اسے پکڑ کر موہن بھیمانی کے پاس لے گیا اور اس کے سمجھانے کا انداز ایسا نہ تھا جو رشو بھٹلا کے دماغ میں نہ بیٹھتا۔ اپنی درگت بنا کر وہ خو ن کے آنسو بہاتا گھر پہنچا۔اب رکمنی کو وہاں پھنسے دو ماہ ہو چکے تھے۔ ہر جمعرات کو وہ گھر والوں سے ملنے ایک رات کے لیے گنڈالیا لائی جاتی تھی،لیکن اس دوران میں گھر کے سامنے موہن بھیمانی کے مشٹنڈے پہرے داری پر موجود رہتے تھے،اگلے دن وہ انھی کی نگرانی میں واپس لوٹائی جاتی۔گڑبڑ کرنے یا راز کھولنے کی صعوبتیں وہ تھانے دار کو حقیقت سے آگاہ کرنے کے چکر میں کاٹ چکے تھے۔ جب پورے کنبے کودو دن حوالات میں بند رہ کر پھینٹی لگی تھی ۔ بہ مشکل منت سماجت کر کے اور تھانیدار کے پاﺅں پکڑ کروہ جان چھڑا پائے تھے۔علاقے میں موہن بھیمانی کا مکمل قابو تھا،بغاوت کرنے والوں کو وہ کڑی سے کڑی سزا دیتا اور ان کے قبضے میں آئی کوئی لڑکی بھاگ جاتی تو اس کی تلاش میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرتا،بہ ذات خود اس کی سرکوبی کو میدان میں اتر آتا۔پولیس ، میڈیا والے ، غنڈے بدمعاش ،جاگیردار اور تجار وغیرہ میں سے کوئی ایسا نہ تھاجو شری ناتھ کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ کرتا۔جب شری ناتھ نے دینش رام کے معاملے میں ٹانگ اڑائی اور انھیں بس میں کرنا چاہا تب دینش رام نے ستیش ورما کو شری ناتھ کے بارے مکمل معلومات لینے کی ذمہ داری سونپی تاکہ اپنا بچاﺅ کر سکیں۔یوں ستیش ورما نے شری ناتھ کے مخصوص آشرم تک رسائی پائی جہاں وہ عموماََ موجود رہتا تھا۔ وہیں سے رشوبھٹلا اس کی نظر میں آیا اور اس نے خود کو مظلوم اور شری ناتھ کے مظالم کے شکار کے طور پر پیش کر کے رشو کی ہمدردیاں حاصل کر لی تھیں۔
وہ جونھی سانس لینے کو رکا میں نے سوال دھر دیا۔”جب اس کے بھاشن کے استھان تک ہر کوئی رسائی پا سکتا ہے پھر تو اسے قتل کرنا دشوار نہ ہوگا؟“
وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔” پنڈال تک جانے والوں کی باریک بینی سے تلاشی لی جاتی ہے، ”واک تھرو گیٹ“(ایسے دروازے جو گزرنے والوں کے پاس دھات کی موجودی ظاہر کر دیتے ہیں)سے گزارا جاتا ہے ۔میٹل ڈیٹیکٹر سے تلاشی لی جاتی ہے۔عورتوں اور مردوں کی تلاشی لینے کو ماہر مردو زن تعینات ہیں ۔ بتاﺅ خالی ہاتھ اندر گھس کر کوئی اس سو¿ر کا کیاکچھ بگاڑ لے گا۔سونے پر سہاگایہ کہ سیوکوں کے روپ میں اس کے ہتھیار بردار درجنوں محافظ وہاں موجود ہوتے ہیں۔اگلی دو قطاروں میں تو بیٹھتے ہی اس کے خاص بندے ہیں ۔“
میں مسئلے کا حل سوچنے لگا۔دورانِ گفتگو ہم آبادی کے درمیان تک پہنچ گئے تھے۔وہ کچے پکے مکانات پر مشتمل چھوٹا سا دیہات تھا۔ چھوٹے سے مکان کے سامنے رکتے ہوئے ستیش دروازے پردستک دینے ہی لگا تھا کہ میں جلدی سے بولا۔”ٹھہرو۔“
اس نے حیرانی سے مجھے گھورا ۔”خیر تو ہے؟“
”پہلے میری بات سن لو۔“میں نے اسے آگے چلنے کا اشارہ کیا۔
وہ الجھن آمیز انداز میں کندھے اچکاتا ہوا میرے ساتھ ہو لیا۔میں اسے تجویز بتانے لگا۔ہم ٹہلتے ہوئے آبادی سے باہر آ گئے تھے۔
میرا منصوبہ سن کر وہ نیم رضامندی سے بولا۔”یہ ممکن تو ہے ،مگر کہیں غریب لوگ پھنس نہ جائیں؟“
میں نے پوچھا۔”کیا انھیں کسی اور جگہ پر رہائش لے کر دینا مشکل ہے؟“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”یہ نہیں کہا،البتہ موہن بھیمانی جیسے کائیاں شخص سے انھیں بچانا دشوار لگتا ہے۔“
میں نے کہا۔”دینش رام نے کہا تھا کہ دونوں کا اکٹھے شکار کرنا ضروری ہے،مگر میں سوچتا ہوں کسی بہانے سے بھیمانی کا کانٹا پہلے نکال دیا جائے اوراس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ ہم کسی غیر متعلق شخص کا چارہ ڈال کر اسے گھیریں گے یوں کم ازکم انھیں ہم پر شک نہیں ہوگا۔“
وہ ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔”کیا اس منصوبے پر عمل کرنا ضروری ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”اگر تمھارے پاس اس سے بہتر منصوبہ ہے تو قطعناََ نہیں۔“
اس نے منہ بنایا”اس سے بہتر تو کیا،میرے پاس سرے سے منصوبہ ہی نہیں ہے۔“
” پھر بسم اللہ کریں۔“میں رشو بھٹلا کے گھر کی طرف مڑ گیا۔
دروازے کے سامنے پہنچ کر اس نے کنڈی کھڑکھڑائی،لحظہ بھر بعد کھلتی رنگت کا جوان برآمد ہوا۔ستیش کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں شناسائی کی جھلک ابھری تھی۔
”نمستے کمار بھائی!“اس نے پرنام کو ہاتھ جوڑے۔ستیش نے اسے اپنا نام کمار بتایا تھا، کیوں کہ ستیش ورما کے نام کے اس کے شناختی کاغذ بنے ہوئے تھے اور ہر جگہ اپنا تعارف کرانا جاسوس کا شیوہ نہیں ہوتا۔ جاسوس ہر شخص کے لیے علیحدہ شناختی نام رکھتا ہے اور ایسا کرنا اپنی شناخت چھپانے کو بہت ضروری ہوتاہے۔
”نمستے رشو بھائی!“ستیش نے رسمی تقاضا پورا کیا ،میں نے بھی اس کی تقلید کی تھی۔
وہ میرا تعارف کراتے ہوئے بولا۔ ”یہ میرا دوست لکشمن ہے،میں نے اسے آپ پر بیتنے والی بپتا سنائی اور یہ ملنے پر اصرار کرنے لگا۔“
اس نے دعوت دی۔”اندر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔“
ہم اس کے ساتھ چل پڑے۔اس کی ماں رسوئی (باورچی خانے)میں گھسی تھی،جبکہ باپ گرم چادر اوڑھے صحن میں بیٹھا تھا۔اسے نمستے کہتے ہوئے ہم رشو کے کمرے میں جا بیٹھے۔
رِشو بے تکلفی سے بولا”یقینا آپ بھوجن کر کے ہی جائیں گے، اس لیے چاے بعد میں پی لیں گے۔“
ستیش نے اثبات میں سرہلایااور بغیر تمہید مقصد کی بات چھیڑ دی۔ ”سناﺅ،ہماری رکمنی بہن کا کیا حال ہے؟“
وہ کرب آمیز لہجے میں بولا۔”لگتا تو یہی ہے وہ راکھشس،اتنی آسانی سے ہماری بھولی بھالی بہن کی جان نہیں چھوڑے گا۔“
ستیش دکھی لہجے میں بولا۔”آپ کی تکلف کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہم خود بھی اسی کرب سے گزر چکے ہیں،البتہ ہم اپنی بہنوں کو تو نہیں بچا سکے رکمنی کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے۔“
اس نے پھیکے انداز میں کہا۔”کمار بھائی!ہم دونوں اچھی طرح جانتے ہیں یہ ناممکن ہے۔“
”ناممکن صرف ہمارے لیے ہے، بھگوان کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ باقی میں اپنے بہت اچھے دوست لکشمن کو ساتھ لایا ہوںیہ ان معاملات میں بہت تجربے کار ہے۔امید ہے ان کی بتائی ہوئی تجویز آپ کے جی کو لگے گی۔“
وہ میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے عقیدت سے بولا۔”فرمائیں۔“
میں نے فوراََ سوچے سمجھے منصوبے کی طرف قدم بڑھائے۔”اگر آپ اپنے کنبے کے ساتھ کسی اور علاقے کی طرف بھاگ جائیں تو یقینابقیہ زندگی آرام سے گزار سکتے ہیں۔“
وہ اذیت بھرے لہجے میں بولا۔”شاید کمار بھائی نے آپ کو بتایا نہیں کہ جب بھی رکمنی ہمیں ملنے آتی ہے اس کے ہمراہ دو تین مشٹنڈے ضرور ہوتے ہیں جو رات بھر ونود کاکاکے چائے کے کھوکے پر بیٹھ کر ہمارے گھر کی نگرانی کرتے ہیں،ایسا نہ ہوتا تو رکمنی جانے کب کا بھاگ چکی ہوتی۔“
میں اطمینان سے بولا۔”انھیں ہم سنبھال لیں گے۔“
اس نے اندیشہ اگلا۔”موہن بھیمانی کے ہاتھ بہت لمبے ہیں وہ ہمیں جلد ہی ڈھونڈ نکالے گا۔“
میں نے کہا۔”اس کے ہاتھوں کی طوالت راجھستان کی حدود تک موثر ہے،کسی اور ریاست میں وہ آپ لوگوں کو نہیں ڈھونڈ سکے گا۔“
اس نے اگلا اعتراض اٹھایا۔”یہاں ہمارا گھر ہے ،میری نوکری ہے ،ہماری تھوڑی سی زمین بھی ہے جو پتا جی کاشت کرتے ہیں اور گھر کا گزارا چل جاتا ہے،کسی اور علاقے میں ہمیں یہ سہولیات میسر نہیں ہوں گی۔“
ستیش بولا۔”رہائش کا بندوبست ہو جائے گا باقی محنت مزدوری آپ کو خود کرنا ہو گی۔“
اس نے حیرانی سے پوچھا۔”مگر کیسے؟“
میں نے کہا۔”وہ ہم پر چھوڑ دو،باقی اگر اپنی مظلوم بہن کو بہ حفاظت یہاں سے نکالنا چاہتے ہو تو ہمت سے کام لینا پڑے گا۔اپنی بہتری کے لیے خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔“
وہ نیم رضامندی سے بولا۔”ماتا،پتا سے مشورہ کیے بغیر حتمی فیصلہ نہیں کر سکتا۔“
میں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا۔”آج رات ان سے مشورہ کر لینا،اگر راضی ہو جائیں تو اپنابھاری سامان اونے پونے میں بیچو ،گھر اور زمین بھی بک سکتی ہے تو بیچ دو،کوئی پوچھے تو بتانا رکمنی کی دیو گڑھ آشرم میں نوکری لگی ہے اسے آنے جانے میں دقت ہوتی ہے اس لیے وہاں گھر لے رہے ہیں۔آج ہفتہ ہے آپ کوجمعرات تک اپنے کام سمیٹنے ہیں۔“
وہ دکھی دل سے بولا۔”اس بے چاری کے بارے ہم پہلے سے یہی جھوٹ بول رہے ہیں۔“
”ٹھیک ہے پھرہم چلتے ہیں ،آپ خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں....اپنی بہن کی زندگی بچانا چاہتے ہیں یا یونھی ڈر ڈر کر اس کی بربادی کا تماشا دیکھتے رہو گے۔“
”مگر آپ کیوں ہمارے اتنے کام آرہے ہیں؟“اس کے لبوں پر وہ سوال مچلا جو اسے بہت پہلے پوچھ لینا چاہیے تھا۔
میں نے پھیکی مسکراہٹ سے کہا۔”بھگوان نے بہت دولت دی ہے،اتنی ہمت تو نہیں ہے کہ شری ناتھ کا مقابلہ کر کے رکمنی بہن کو چھڑا سکوں ،البتہ آپ کوبھاگنے میں مدد دے سکتا ہوں اور کسی دوسری ریاست میں رہائش کو چھوٹے موٹے مکان کا بندوبست بھی کر سکتا ہوں اور مدد صرف آپ کی نہیں کر رہا ،میری کوشش ہے کہ رکمنی کی طرح جو مظلوم لڑکیاں آشرم میں قید ہیں انھیں شری ناتھ کے پنجے سے رہائی دلا کر کسی اور ریاست میں ان کے رہنے سہنے کا بندوبست کروں۔اس کام میں کمار بھائی بھی میرا مددگار ہے اور شروعات رکمنی سے کرنے لگے ہیں۔باقی آپ کواپنی بہن کے لیے اسی طرح بے غیرتی اور ذلالت کی زندگی پسند ہے تو ہم کسی اور سے شروعات کر لیتے ہیں،بس درخواست کریں گے کہ یہ گفتگو کسی اور کو نہ بتانا ورنہ بہت ساری مظلوم لڑکیاں ساری زندگی اس زندان سے نہیں نکل پائیں گی۔“
وہ ندامت سے بولا۔”شما چاہتا ہوں،میں آپ پر شک نہیں کر رہا یونھی معلومات کی غرض سے پوچھ بیٹھا تھا، ورنہ کمار بھائی کو اچھی طرح جانتا ہوں کہ کتنے ہمدرد اور نیک دل انسان ہیں۔“
میں نے تسلی دی۔”پوچھنا آپ کا حق بنتا ہے اور بے فکر رہوہم فقط آپ کی بہتری چاہتے ہیں،آپ سے کوئی لالچ یا غرض نہیں ہے ۔ویسے بھی پن کے کام بھگوان کی خوشنودی حاصل کرنے کو کیے جاتے ہیں کسی منش سے فائدہ حاصل کرنے کو نہیں۔“
وہ ممنونیت سے بولا۔”یقینا آپ دونوں ہمارے لیے نیکی کے دیوتا بن کر آئے ہیں۔“
میں نے مشورہ دیا۔”اگر آپ کا بھاگنے کاارادہ بن جائے تو رکمنی کو گھنٹی کر کے گھر اور زمینیں بیچنے کے متعلق بتا دینا،وجہ پوچھنے پر کہنا کہ اس کی آسانی کی خاطر آپ دیوگڑھ منتقل ہونا چاہتے ہو۔“
اس نے اندیشہ ظاہر کیا۔”مجھے شک ہے وہ لوگ رکمنی کی کال سنتے ہوں گے۔“
میں نے اطمینان سے سرہلاتے ہوئے کہا۔”ایسا ہی ہے اور میں چاہتا ہوںکہ انھیں آپ کے ذریعے ہی یہ خبر پتا چلے اگرکسی اور کے ذریعے ان تک یہ بات پہنچی تو مشکوک ہو جائیں گے، بلکہ ایسا کرو دیو گڑھ کا ایک دو چکر لگا کر دو تین پراپرٹی ڈیلروں سے گھر کی خریداری کی بات چیت بھی کر لیناتاکہ وہ مطمئن ہو جائیں۔پراپراٹی ڈیلروں کو بھی یہی کہانی سنانا کہ بہن کی آشرم میں نوکری لگی ہے اور اس کی سہولت کی خاطر آپ دیوگڑھ میں رہائش لینا چاہتے ہو تاکہ اسے گھر والوں سے ملنے میں دقت نہ ہو۔“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔”جیسا آپ کہیں ویر جی!“
اسی وقت اس کی ماں رتنا نے اندر جھانک کر کہا۔”پتر!بھوجن پروس دیا ہے آجائیں۔“
ہم اٹھ گئے،کھانے کے دوران میں ہم ادھر ادھر کی گپ شپ کرتے رہے۔فارغ ہوکر ہم وہاں سے نکل آئے تھے۔
گنڈالیامیں رات گزارنے کو ہوٹل تو کوئی تھا نہیں،بس چاے کا ایک کھوکا تھا جہاں رات گزارنے کا انتظام نہیں تھا۔البتہ موہن بھیمانی کے چیلے کھوکے والے سے چارپائیاں لے کر وہیں کھلے میں لیٹ جاتے تھے۔اس علاقے میں شری ناتھ کے چیلوں کے لیے جگہ کی ویسے بھی کمی نہیں تھی۔
ہم سڑک پر نکل آئے ۔گھنٹا ڈیڑھ انتظار کے بعد پالی کی بس مل گئی تھی۔رات پالی میں گزار کر صبح کو جودھ پور روانہ ہوگئے۔راستے میں رشو کی کال موصول ہوئی۔وہ جوش و خروش سے بتا رہا تھا کہ اس نے والدین کو راضی کر لیا تھا۔
میں نے شاباش دیتے ہوئے کہا۔”آپ منصوبے پر عمل کرنا شروع کر دیں ،بھگوان نے چاہا تو ہم ضرور کامیاب وکامران ہوں گے۔“
”ویر جی !سچ تو یہ ہے میں مرنے سے نہیں ڈرتا،مگر میرا مرنا کسی کام تو آتا ناں ، خواہ مخواہ جان دینے کا کیا فائدہ ملتااورپہلے توہمارے پاس کوئی منصوبہ ہی نہیں تھا،اب آپ لوگوں کی کرپا سے ہمیں ایک رستا سجھائی دے گیا ہے،بھگوان نے چاہا تو ہم ضرور ان پاپیوں سے جان چھڑا لیں گے۔“
میں نے اسے تسلی دی۔”ایسا ہی ہوگا۔“
اوراس نے رسمی کلمات کہتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا۔
ستیش میری طرف متوجہ ہوا۔”شاید وہ تیار ہو گئے ہیں۔“اس نے یک طرفہ گفتگو سن کر اندازہ لگایا تھا۔
میں نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے کہا ۔”مجھے یقین تھا وہ تیار ہوجائیں گے۔“
٭٭٭٭٭
اگلے دو تین دن ہم بھی انتظامی امور میں مصروف رہے،اس کے لیے ستیش ورما نے پرانی کارخرید لی تھی۔کارکا بندوبست کرنااس لیے بھی بہت ضروری تھاکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں وقت ضائع ہوتا تھا۔ستیش نے اپنے بندوںسے بات چیت کر کے ایسے ٹرک میں رشو لوگوں کے لیے جگہ ڈھونڈ لی تھی جس نے جمعرات کی صبح اجمیر شہر سے ممبئی کے لیے کوئی سامان لے کر جاناتھا۔ٹرک ڈرائیور نے راج سمندمیں رک کر ہمارا انتظار کرنا تھا۔
ہم نے گنڈالیا کے بھی دو تین چکر لگالیے تھے۔رشو اور اس کے والدین بھاگنے کے لیے پرجوش تھے۔اپنا گھر اور زمینیں انھوں نے جاننے والوں کو بیچ دیے تھے۔بھاری سامان بھی کباڑ میں بیچ کر وہ جمعرات کے منتظر تھے۔بدھ کے دن رات کے وقت ہم رشو کے گھر پہنچ گئے تھے۔اپنی کار ہم نے رشو کے گھر سے دور پارک کر دی تھی ۔رشو بھٹلانے ہماری ہدایات پر من و عن عمل کیا تھا۔انھوں نے گھر میں ضرورت کے چند برتن اور چارپائیوں کے علاوہ فالتو سامان نہیں چھوڑاتھا۔
انھیں اگلی کارروائی کے بارے سمجھا کر ہم وہاں سے نکل آئے تھے۔وہ رات اور اگلا دن ہم نے پالی میں گزارا۔سہ پہر کو رشو کی گھنٹی آئی کہ رکمنی وہاں پہنچ گئی تھی۔
میں نے کہا ۔”اسے تفصیل سمجھا دو اور بے فکر رہوہم شام ڈھلے پہنچ جائیں گے۔“
رابطہ منقطع کر کے میں نے ستیش کو تیار ہونے کو کہا۔
وہ بستر چھوڑتے ہوئے چستی سے بولا۔” تیار ہوں باس!“
”تو چلو۔“میں بھی کھڑا ہو گیا۔ہوٹل کے واجبات چکتا کر کے ہم باہر نکل آئے ،تھوڑی دیر بعد ہماری کار گنڈالیا کی طرف بھاگ رہی تھی۔
اندھیرا گہرا ہونے تک ہم گنڈالیا پہنچ گئے تھے۔کار ہم نے سڑک سے اتار کر درختوں کے جھنڈ میں پارک کر دی تھی،وہاں سے آگے کار میں سفر کرنا مناسب نہیں تھا،کیوں کہ شری ناتھ کے چیلوں نے کار کی روشنیاں دیکھ کر متوجہ ہوجانا تھا۔
ایس آر ون کا بیگ بھی میں نے کار کی ڈگی میں رہنے دیا کہ فی الحال اس کی ضرورت نہیں تھی۔ البتہ میرے نیفے میں سائیلنسر لگا گلاک نائینٹین اور پنڈلی کے ساتھ بندھا روگر ایل سی پی اڑتیس بور موجود تھا۔چھوٹے حجم کا روگر اڑتیس بور کافی کارآمد ثابت ہوا تھا،یہ پستول غنڈے چرن جیت سے میرے ہاتھ لگا تھا جبکہ گلاک میرے دیرینہ دوست کرن چاولہ کا تھا۔
ستیش ورما کے پاس بھی ایک تیس بور پستول موجود تھا۔اور ان دو مشٹنڈوں کے لیے تو گلاک کی ایک ایک گولی کافی تھی ۔ دونوں چائے کے کھوکے پر بیٹھے تھے۔ کھوکا رشو بھٹلا کے گھر کے قریباََ سامنے ہی تھا۔وہ رات کے نو دس بجے تک کھلا رہتاتھا۔گنڈالیا کے باسی وہاں بیٹھ کر ٹی وی وغیرہ دیکھتے،چائے پیتے ،سگریٹ ،بیڑی ،پان وغیرہ بھی دستیاب تھے۔گرو وار (جمعرات کے دن )کودونوں چیلے کھوکا بند ہونے تک وہیں بیٹھے رہتے اور جب کھوکے کا مالک جانے لگتا تواس سے رات گزارنے کو چارپائی مانگ لیتے۔اپنا تعارف انھوں نے مندر کی داسی رکمنی کے محافظوں کے طور پر کرایا ہوا تھا۔رات کو ایک چیلا آرام کرتا اور دوسرا جاگ کر رکمنی کے گھر کی نگرانی کرتاتھا۔
گھنٹی پر رشونے ہمیں دونوں چیلوں کا حلیہ تفصیل سے بتا دیا تھا،اس لیے کھوکے پر جا کر انھیں پہچاننا اتنا مشکل بھی نہیں لگا تھا۔ دونوں چاے پیتے ہوئے گپ شپ کر رہے تھے۔اب تک کھوکے پر اچھی خاصی ہلچل نظر آرہی تھی،لوگ ٹی وی اسکرین کی طرف متوجہ تھے جس پر خبریں چل رہی تھیں۔
ہم نے بھی چاے کا بتا کر نشست سنبھال لی۔اس دوران میں ہم ان مشٹنڈوں کا بھی جائزہ لیتے رہے۔
ستیش دبی زبان میں بولا۔”ویر جی!دیکھ لو کہیں مروا نہ دینا،دونوں پہلوان لگ رہے ہیں۔“
میں مسکنت سے بولا۔”بات تو تمھاری ٹھیک ہے،کوئی مشورہ دو نا؟“
وہ کراہتے ہوئے بولا۔” زیادتی کر رہے ہو،یہ شعبہ تمھارا ہے اور صاف کہہ دوں مجھ سے کسی مدد کی توقع نہ رکھنا۔“
میں متبسم ہوا۔”تم سے یہی امیدتھی۔“
اس نے مجھے تیز نظروں سے گھورا۔”منصوبہ کس کا تھا۔“
”چائے پیو۔“میں نے اسے بھاپ اڑاتی پیالیوں کی طرف متوجہ کیا جو اسی وقت ونودکاکا نے وہاں رکھی تھیں۔
چائے پی کر ہم اٹھ گئے تھے ،کیوں کہ وہاں ان مشٹنڈوں کے علاوہ تمام مقامی لوگ جمع تھے اور میں نہیں چاہتا تھا وہ ہمارے بارے مستفسر ہوں۔ہم واپس سڑک کی جانب چل پڑے، اس دوران میں میں نے رشو کو گھنٹی کر کے بتا دیا تھا کہ ہم پہنچ گئے ہیں اور وہ ذہنی طور پر تیار رہیں۔
انتظار کرنے کے لیے کار سے بہتر کوئی جگہ نہیں تھی۔اچھی خاصی سردی پڑ رہی تھی ،ستیش نے جیب سے مونگ پھلی کا لفافہ نکال کر ڈیش بورڈ پر رکھ دیا۔وقت گزارنے کا اس سے بہترین مشغلہ کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔
ستیش نے اندیشہ دہرایا۔”کیا لگتا ہے ،ان سانڈوں پر قابو پا لیں گے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”گولی کسی طاقتور یا کمزور کا لحاظ نہیں رکھتی دوست!“
اس نے منہ بنایا۔”اور اگر گولی خطا ہو گئی تو؟“
میں متبسم ہوا۔”تو میں تمھارے ساتھ ہی ہوں گا۔“
وہ مسکنت سے بولا۔”مجھے تو اس سارے ڈرامے کا کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا۔“
”فائدہ تو ہے،ہم نے اس خبیث کو یہ باور کرانا ہے کہ اس معاملے میں دنیش رام کے بجائے رکمنی کے کسی عاشق کا ہاتھ ہے اور یہی وہ طریقہ ہے کہ ہم ان کے خلاف کھل کر کارروائی کر سکیں گے ۔“
اس نے مشورہ دیا۔”میں تو کہتا ہوں دونوں کو نرگ میں بھیج دو....پوچھ تاچھ میں اسے ہم پر حملہ کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔“
میں نے اس کی ڈھارس بندھائی۔”یار !تم مجھے بہت ہی ہلکا لے رہے ہو۔“
ستیش نے دہائی دی۔”تم ان خبیثوں سے واقف نہیں ہو نا؟“
”ایسے کردار کسی بھی ملک، خطے یا قوم کے ہوں ایک جیسی گھٹیا سوچ،ظالمانہ مزاج اور بے حس طبیعت رکھتے ہیں۔انھیں لگتا ہے کہ وہ ناقابل شکست ہیں ،عام لوگ بھی یہی سمجھتے ہیں ،مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔اوپر والے کا قانون ہے کہ ہر سیر کے لیے سوا سیر موجود رہتاہے۔“
ستیش منہ بناتے ہوئے بولا۔”اورشری ناتھ کے لیے سوا سیر تم ہو۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”ہم صرف کٹھ پتلیاں ہیں ،جو طاقت، قوت،اقتدار اور بادشاہی کا اصل سرچشمہ ہے اس کی مرضی ہو تو چیونٹی کو بھی ہاتھی کے خلاف سواسیر بنا دے،خرگوش کو جنگل کے بادشاہ پر مسلط کر دے ،ایک مچھر کے ذریعے خدائی کا دعوا کرنے والے بادشاہ کو تخت پر بٹھا کر جوتے لگوائے،ناکافی سامان جنگ والے تین سو تیرہ کو سامان حرب سے لیس ایک ہزار پرفاتح بنا دے ، وہ کچھ بھی کر سکتا ہے دوست !اور اس کی سنت ہے کہ موسیٰ اور فرعون کی لڑائی میں وہ ہمیشہ موسیٰ ہی کا مددگار بنتا ہے۔“
سیتش نے چپ سادھ لی تھی۔پونے دس بجے رشو کی گھنٹی وصول ہوئی، وہ قدرے خوفزدہ لہجے میں بتا رہا تھا۔”ویر جی !ونود کاکا نے کھوکا بند کر دیا ہے۔“ چونکہ کھوکا ان کے گھر کے نزدیک ہی تھا اس لیے وہ اپنے دروازے سے کھوکے کا جائزہ لے سکتا تھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر29
ریاض عاقب کوہلر
میں نے تسلی دی۔”گھر کے اندر ہی رہو،ہم سنبھال لیں گے۔“
”ویر جی !سچی بات تو یہ ہے،بہت ڈر لگ رہا ہے،دونوں مشٹنڈے بہت تگڑے ہیں،لگتا ہے آپ کو ایک ہاتھ سے اٹھا کر دور پھینک دیں گے۔“
میں بے نیازی سے بولا۔”فکر مت کرو،یہ ہماری ذمہ داری ہے ۔“
اس نے کہا۔”ٹھیک ہے ہم تیار ہیں ۔“
گھنٹی بند کرتے ہوئے میں ستیش کی طرف متوجہ ہوا۔”یہیں ٹھہرو،میں گھنٹی کر کے تمھیں بلا لوں گا۔“اور کار سے باہر نکل آیا۔
اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔”اکیلے ،ان دونوں کو سنبھال لو گے۔“
”چار بھی ہوتے تو سنبھال لیتا۔“اعتماد بھرے لہجے میں کہتے ہوئے میں آبادی کی طرف بڑھ گیا۔
آبادی شروع ہوتے ہی میں بڑے والی گلی کو نظر انداز کر کے عقبی گلی میں گھس گیا،کیوں کہ اس گلی میں میں دور سے نظر آجاتا۔گلیوں کی قراولی(ریکی) ہم پہلے سے کر چکے تھے اس لیے مطلوبہ مقام تک پہنچتے ہوئے مجھے دقت نہیں ہوئی تھی۔
چاند تیسرے کوارٹر میں تھااور مشرق سے سر ابھار رہا تھا۔کھوکے کے قریب پہنچتے ہی میں نے چہرے پر ماسک چڑھایا ،گرم چادر کو اس انداز میں لپیٹا کہ میری تیز نقل و حرکت اس پر اثر انداز نہ ہو اوردبے قدموں آگے بڑھ گیا۔رشو کے گھر سے منسلک مکان کے داخلی دروازے پربلب روشن تھااور اس کی ہلکی ہلکی روشنی کھوکے تک پہنچ رہی تھی،چاند اوربلب کی وجہ سے دکھاﺅ کے حالات کافی بہتر تھے۔
میں نے سائلنسر لگا گلاک ہاتھ میں تھام لیا تھا۔پستول پہلے سے کاک تھا بس لبلبی پر انگلی کا دباﺅ بڑھانے کی دیر تھی۔
جونھی کھلے میں آیا کھوکے کے سامنے چارپائیوں پر دو نوں غنڈے دکھائی دیے، ایک لحاف میں تھا ،جبکہ دوسرا چادر کی بکل مارے بیٹھا تھا۔ ہاتھوں میں جلتی سگریٹ اس کے جاگنے کا اعلان کر رہی تھی۔میں بے پروائی سے آگے بڑھا،اسی اثناءمیں چاپ سن کر وہ چونکتے ہوئے میری طرف متوجہ ہوگیاتھا۔
”کون ہے بے تو؟“اس نے نشست چھوڑ ی۔
میں نے پستول کی نال کا رخ لحاف میں لیٹے شخص کی طرف موڑا اور تین بار لبلبی دبا دی۔ گو میں اسے ایک گولی سے بھی ختم کر سکتا تھا،مگر جان بوجھ کرگولیوں کو ضائع کیا تھا۔اور عام طور پر غنڈوں کی یہی عادت ہوتی ہے کہ ایک گولی کی جگہ پر تین چار گولیاں ضائع کر دیتے ہیں۔
چارپائی ایک دم زلزلے کی زد میں آگئی تھی۔وہ جانکنی کے عالم میں تڑپنے لگاتھا۔
”تت....تم ....تم ....“ خوفزدہ انداز میں ہکلا تے ہوئے دوسرے کا ہاتھ جیب کی طرف بڑھا۔
میں نے اطمینان بھرے انداز میں کہا۔”ہاتھ اوپر ورنہ تمھارا ہاتھ جیب میں جانے سے پہلے بھیجا باہر آجائے گا۔“
اس کے ہاتھ فوراََ بلند ہو گئے تھے،البتہ وہ ابتدائی جھٹکے سے سنبھل گیا تھا،دھمکی دیتے ہوئے بولا۔ ”تم جانتے نہیں کتنی بڑی غلطی کر چکے ہو۔“
میں ہنسا۔”کم از کم اتنی بڑی غلطی نہیں کی جتنی تم کر چکے ہو کہ اب تمھارے لیے جان بچانا مشکل ہو گیا ہے۔“
اس کا عتماد لوٹ آیا تھا،کرخت لہجے میں بڑہانکی۔”بالک!موہن بھیمانی کے بندوں سے موت بھی کنارا کرتی ہے۔“
”آزما لیتے ہیں۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے میں نے اپنے گونگے بیلی کو تھپکی دی(مطلب سائلنسر لگے پستول کی لبلبی دبائی)گولی اس کی داہنی ران میں لگی تھی۔
”افف ....“کی دردناک آواز منہ سے نکالتے ہوئے وہ نیچے گر گیا تھا۔
میں استہزائی انداز میں بولا۔”یا تم جھوٹ بول رہے یا پھر موہن بھڑوے کے آدمی نہیں ہو۔“
”تت....تم ....تم ....بہت پچھتاﺅ گے۔“زخم کو دباتے ہوئے وہ ہکلا گیا تھا،جس تیزی سے اس کا اعتماد بحال ہواتھا اس سے کئی گنا سرعت سے غائب ہو گیاتھا۔موت کو سامنے پا کر بڑوں بڑوں کی پھنے خانی ہوا ہوجاتی ہے۔
میں نے دوبارہ پستول سیدھا کیا۔”وہ میرا مسئلہ ہے،البتہ تم اذیتوں سے بچنا چاہتے ہو تو میرے سوالوں کے ٹھیک ٹھیک جواب دینا ہوں گے۔“
وہ مجھے کینہ توز نظروں سے گھور کر رہ گیا تھا۔
میں ستیش کو گھنٹی کرنے لگا۔
”ویر جی !امن سکون ہے نا؟“گھنٹی اٹھاتے ہوئے اس نے اندیشے بھرے لہجے میں پوچھا تھا۔
”ہاں اورکار آگے لے آﺅ۔“تفصیل بتائے بغیر میں نے گھنٹی کاٹ دی تھی۔
وہ اپنا مفلر زخم پر لپیٹ کر خون روکنے کی کوشش کر رہا تھا،جن کا واسطہ مار کٹائی سے پڑتا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ خون بہنے سے انسان کتنی جلدی موت سے ہم کنار ہو سکتے ہیں۔
اس کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھتے ہوئے میں نے اپنی کہنیاں گھٹنوں پر ٹیکیں اورپرسکون لہجے میں پوچھا۔”تمھارا نام ؟“
وہ کراہتے ہوئے بولا۔”اجیت۔“
میں نے اگلا سوال کیا۔”موہن بھیمانی سے کیسے ملاقات ہو سکتی ہے؟“
وہ ہونٹ بھینچتے ہوئے بولا۔”جب تک وہ نہ چاہے ،اس سے کوئی نہیں مل سکتا۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”کیا ہر وقت چوہے کی طرح بل ہی میں گھسا رہتا ہے۔“
”عموماََ،شری ناتھ مہاراج کے ساتھ ہوتا ہے ،البتہ کوئی خاص کام ہو تو اپنے محافظوں کے ساتھ باہر نکلتا ہے۔“
میں لہجہ بدلتے ہوئے بولا۔”مہاراج شری ناتھ کے تو ہم بھی داس ہیں ،لیکن یہ موہن بھڑوا سالا ایک نمبر کا فراڈ ہے،بھولے بھالے سادھو کو دھوکے میں رکھ کر اپنا الو سیدھا کر رہا ہے۔“
اسی وقت ستیش وہاں پہنچ گیا تھا۔اس نے چہرہ مفلر سے ڈھانپا ہوا تھا،کیوں کہ ہم نے پہلے سے طے کیا تھا کہ ایک کو لازماََ زندہ چھوڑیں گے تاکہ وہ موہن تک ہمارا پیغام پہنچا سکے۔
ستیش جونھی کار سے اترا،میں نے فوراََ اشارہ کرتے ہوئے کہا۔”تم رکمنی کو کار میں بٹھاﺅ، اسے میں اپنے ساتھ پالی لے کر جاﺅں گا،بلکہ ایسا ہے اس کے گھر والوں کو بھی ساتھ چلنے کا کہہ دو کہ میرے پاس محفوظ رہیں گے ۔یہاں تو موہن بھڑوا انھیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور اب وہ میرے ہونے والے ساس سسر ہیں۔“
”ٹھیک ہے باس!“ستیش نے منصوبے کے مطابق کارآگے بڑھائی اور رکمنی کے گھر کے سامنے روک دی۔
اجیت نے دھمکی اُگلی۔”تم اپنے دامن میں انگارے سمیٹ رہے ہو بالک!“
میں نے پستول کی نال اس کی طرف سیدھی کرتے ہوئے کہا۔”میری خیر خواہی رہنے دو اور اپنے گرو کے بارے سچ اگلنا شروع کرو۔“
وہ کراہتے ہوئے بولا۔”میں مہاراج موہن کا ادنیٰ سا داس ہوں ،مجھے مار کر تمھیں کچھ بھی نہیں ملے گا،نہ اس سے تمھاری بہادری ثابت ہو گی اور نہ مہاراج موہن بھیمانی کاکوئی نقصان ہو گا۔“
ایک دم میر ا ہاتھ گھوما ،زور دار تھپڑ نے اس کا منہ لال کر دیا تھا۔”کہا ناں نصیحت و مشورے کو چھوڑواور میرے سوالوں کے جواب دو۔“
غصے و خفت سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔میں نے اطمینان بھرے انداز میں سوالات کا سلسلہ شروع کر دیا۔
”موہن بھیمانی کا موبائل فون نمبر بتاﺅ۔“
وہ کراہتے ہوئے بولا۔”میرے موبائل فون میں اس کا نمبر محفوظ ہے۔“
میں نے پوچھا۔”تمھاری گھنٹی تو اٹھاتا ہے نا؟“
اس نے اثبات میں سرہلادیاتھا۔
میںکرید کرید کرموہن کے متعلق ضروری معلومات پوچھنے لگا۔وہ اطمینان بھرے انداز میں جواب دیتا گیا ،یوں جیسے اسے یقین ہو میں اس کی معلومات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا۔
قریباََ ضروری معلومات نچوڑنے کے بعد میں نے منصوبے کی طرف قدم بڑھائے ۔”اپنے بزدل گرو کو کہہ دینا کہ رکمنی صرف شنکر شاندوری کی ہے ،اگر اسے اپنی زندگی عزیز ہے تو دوبارہ رکمنی کے بارے سوچنے کی بھی حماقت نہ کرئے،ورنہ اس کے ساتھ وہی کروں گا جو پاگل کتے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔اس خبیث نے رکمنی کی عزت خراب کی ہے ،اس کی پاداش میں اسے نرگ میں پہنچانا بنتا ہے،لیکن صرف اس لیے معاف کر رہاہوں کہ وہ جانتا نہیں تھا رکمنی، صرف شنکر شاندوری کی ہے ۔اب اگر اس نے رکمنی کے حصول کی کوشش کی تو معافی کی گنجائش بالکل نہیں ہوگی۔“
یہ خوش خبری سن کر کہ اسے زندہ چھوڑ رہاہوں ،اس کے چہرے کی رونق لوٹ آئی تھی۔
میں نے ہلکا سا وقفہ دے کربات جاری رکھی۔”رکمنی،کے بغیر میں زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا ، یہ اس شہدے کو اچھی طرح سمجھا دینا۔باقی وہ سمجھتا کہ اس کے پاس پالتو کتوں کی فوج ہے تو اس کا یہ بھرم بھی جلد توڑ دوں گا اگر اس نے رکمنی کو تلاش کرانے کی کوشش کی۔“یہ کہتے ہوئے میں نے اچانک ہی پستول کو سائلنسر سے پکڑ کر اس کے سر کی سختی کا اندازہ کیا،وہ ایک طرف لڑھک گیا تھا۔
دونوں کی تلاشی لے کر میں نے ان کی جیبوں سے موبائل فون نکال کراپنے پاس رکھ لیے تھے۔موہن سے بات کرنے کو وہ موبائل میرے کام آسکتے تھے۔زخمی ہونے والے نے نیفے میں تیس بور پستول اڑسا ہوا تھا وہ بھی میں نے اپنے پاس رکھ لیا۔گو شری ناتھ کا تعلق ایجنسی سے نہیں تھا کہ موبائل فون سے میرا ٹھکانہ ڈھونڈ لیتا،لیکن احتیاط کے طور پر میں نے موبائلوں کو بند کرنا ضروری سمجھا تھا۔ ویسے بھی اس کی پہنچ کافی اوپر تک تھی اورراجھستان کی حدود میں بلاشبہ اس کا سکّہ چلتا تھا۔ دوسری احتیاط میں نے یہ کی کہ رسی سے اجیت کی مشکیں کس دی تھیں۔ان سے فارغ ہو کر میں کار کی طرف بڑھ گیاتھا۔
انومان بھٹلاکاسارا کنبہ سمٹ سمٹا کر کار کی عقبی نشست میں سما گیا تھا۔وہ میرے منتظر تھے۔ میں نے ستیش کے ساتھ اگلی نشست پر جگہ سنبھالی اور ستیش نے کارموڑ کر آگے بڑھا دی۔بڑی سڑک پر چڑھ کر اس نے کار دیوگڑھ کی طرف موڑدی فرلانگ بھر آگے جا کر چوک آیا ۔وہاں سے سیدھی سڑک دیوگڑھ کی طرف جا رہی تھی، ہم دائیں جانب مڑ گئے۔اس سڑک پر سیدھا جا کر ہم راج سمند پہنچ سکتے تھے۔جہاں ان لوگوں کو ممبئی لے جانے کے لیے ٹرک موجود تھا۔ٹرک میں سامان کے اندر اتنا خلا چھوڑا گیا تھا جہاں چار آدمی آرام سے بیٹھ سکتے تھے۔وہاں سے آگے اس کنبے نے ٹرک ہی میں سفر کرنا تھا۔
انھیں ٹرک تک پہنچا کرہمیں واپس بھی لوٹنا تھا۔ستیش اچھی خاصی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔جتنا جلدی ہم اس علاقے سے نکل جاتے اتنا ہی بہتر تھا۔خصوصاََ رشواور اس کے گھر والوں کو کسی محفوظ جگہ پہنچانا ضروری تھا۔ستیش نے تھوڑا آگے جاتے ہی اپنے آدمیوں کو گھنٹی ملا لی تھی۔وہاں سامان سے لدا بڑا ٹرک موجود تھا جو ایک دن پہلے اجمیر سے نکلا تھا۔
راج سمند کا فاصلہ ساٹھ ستر کلومیٹر ہوگااور کار میں زیادہ سے زیادہ گھنٹا لگ جاتا۔
رشو کی منمناتی آوازابھری۔”ہم کہاں جا رہے ہیں ؟“
میں نے جواب دیا۔”راج سمند میں سامان سے لدا ایک ٹرک موجود ہے جو آپ لوگوں کو ممبئی پہنچا دے گا،وہاں جا کر آپ نے اس نمبر پر گھنٹی کرنا ہے۔“میں نے ایک کاغذ پروشواس سنگھ کا موبائل فون نمبرلکھ کر ان کی طرف بڑھادیا۔”یہ میرا دوست ہے ،وہاں آپ لوگوں کو رہائش بھی مل جائے گی اور اس کی وساطت سے چھوٹی موٹی نوکری بھی مل جائے گی۔“
انومان بھٹلادعائیہ انداز میں بولا۔”بھگوان آپ کو سکھی رکھے ،آپ لوگوں نے ہمارے لیے بہت بڑا خطرہ مول لیا ہے۔“
میں نے تنبیہی انداز میں پوچھا۔”اپنے موبائل فون اور کنکشن کارڈ تو آپ لوگوں نے ساتھ نہیں لائے ناں،کیوں کہ ان کی وجہ سے آپ کو ڈھونڈنا آسان ہو جائے گا۔“
”جی بھائی!باقی موبائل فون تو بیچ دیے تھے صرف ایک فون آپ سے رابطے کے لیے پاس رکھا ہے۔“رشو نے ایک سادہ موبائل فون جیب سے نکال کر دکھایا۔
”ادھر دو۔“میں نے موبائل فون اس کے ہاتھ سے لے کر بند کیا اور اپنی جیب میں رکھ لیا۔
”بھائی !آپ کو یقین ہے نا وہ ادھر ہمیں نہیں ڈھونڈ پائے گا۔“ایک مترنم آواز میری سماعتوں میں پہنچی۔ مڑ کر ایک نظردیکھا، چہرے پر دنیا جہاں کی معصومیت سمیٹے وہ میری طرف متوجہ تھی۔اس کے نقوش بڑی حد تک گلگارے کی چھوٹی بہن رنڑا سے ملتے تھے۔بلاشبہ غریب لڑکیوں کوحسین ہوناراس نہیں آیا کرتاکہ مفلسی کے چاند پر ہوس کی کالک پھینکنے کو ہر بدقماش جری رہتا ہے۔وہ اگر اتنی حسین نہ ہوتی تو آج رات کے اندھیرے میں یوں بے بسی و بے کسی کی تصویر بنی کسی نامعلوم مقام کی طرف فرار ہونے پر مجبور نہ کی جاتی۔اپنے ہمراہ اس نے والدین اور بھائی کی زندگی بھی اجیرن کر دی تھی۔قصور اس کا نہیں تھا مگر نشانہ اسی بے چاری نے بننا تھا۔
”اگر وہ غلطی سے ادھر پہنچ بھی گئے،تمھیں کچھ نہیں کہہ سکیں گے کیوں کہ کسی عام شخص کے پاس تمھیں نہیں بھیج رہا ۔“ مجھے یقین تھا وشواس سنگھ کے پاس وہ بالکل سلامت رہتے۔
وہ قدرے جذباتی انداز میں بولی۔”بھائی !آپ بغیر کسی لالچ اور غرض کے ہمارے اتنے زیادہ کام آئے ہیں،میں ہمیشہ بھگوان سے آپ کی سلامتی اور بہتری کی پرارتھنا کروں گی۔“
میں متبسم ہوا۔”اس سے زیادہ مجھے چاہیے بھی کچھ نہیں۔“
ہم گھنٹے پون گھنٹے میں راج سمند پہنچ گئے تھے۔شہر سے باہر ہی ہمیں ایک ٹرک دکھائی دیا جو سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔ستیش چونکہ ان سے رابطے میں تھا اس لیے بغیر کسی دقت کے ان کے پاس جا کر رک گیا۔
ستیش کار سے اتر کر ٹرک کی طرف بڑھ گیا اور میں رشو اور باقیوں کو ضروری ہدایات دینے لگا۔ انھیں اچھی طرح سمجھا کر میں نیچے اترا، انھوں نے میری تقلید کی تھی۔
ستیش ورماغالباََ ٹرک ڈرائیور کے ساتھ کھڑا تھا۔
”اوپرچڑھ جائیں۔“ستیش ورما نے لکڑی کی چھوٹی سی سیڑھی کی طرف اشارہ کیا جو ٹرک کے ”ٹیل بورڈ “کے ساتھ رکھی تھی۔
”یہ اپنے پاس رکھو،راستے میں ضرورت پڑ سکتی ہے۔“میں نے تیس بور پستول رشو کی طرف بڑھا دیا۔
”ویر جی !میں ........“اس نے انکار میں سرہلانا چاہا۔
قطع کلامی کرتے ہوئے میں نے پستول اس کے ہاتھ پر رکھا۔”بحث و تکرار کا نہیں کہا۔“
میرا لہجہ ایسا تھا کہ اس نے چپکے سے پستول پکڑ لیا۔
تمام کو ٹرک میں سوار کرا کر میں نے ڈرائیور کو دو تین ہدایات دیں اور انھیں جانے کی اجازت دے دی۔کرائے وغیرہ کی ادائی پہلے سے ہو چکی تھی۔
ٹرک کے آگے بڑھتے ہی ہم نے کار کی اصل نیم پلیٹ لگائی ،چادریں اتار کر گرم کوٹ پہنے، سپورٹس شوز کی جگہ عام جوتے پاﺅں میں ڈالے اور واپس چل پڑے۔ایک دشمن کو ہم زندہ چھوڑ آئے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ وہ کتنا کچھ بیدار مغز تھا،لیکن احتیاط اسی میں تھی کہ ہم دشمن کو کسی بھی لحاظ سے کمزور نہ سمجھتے۔دشمن کو ہلکا سمجھنے والے عموماََ گھاٹے میں رہتے ہیں۔
”تمھیں یقین ہے وہ اس ڈرامے پر یقین کر لے گا۔“ستیش نے پرانے اندیشے کو نئے الفاظ کا جامہ پہنایا۔
میں نے اطمینان سے پوچھا۔”رکمنی کی شکل دیکھی تھی۔“
اس نے منہ بنایا۔”یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔“یقینا اسے میرا استفسار غیر متعلق لگا تھا۔
میرے اطمینان میں فرق نہیں آیا تھا۔”جواب تو یہ تمھارے سوال ہی کا ہے البتہ تمھاری سمجھ میں نہیں آیا تو میں بے قصور ہوں۔
”میرے اندیشے کا رکمنی کے حسن سے کیا تعلق؟“وہ چڑ گیا تھا۔
”چلو تم نے یہ تسلیم تو کر لیا کہ رکمنی خوب صورت ہے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔”اور اس سے یہ ثابت ہو ا کہ موہن بھیمانی تمھاری رام کہانی پر یقین کر لے گا۔“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”یہی تو سمجھانے کی کوشش کر رہاہوں،رکمنی جیسی خوب صورت لڑکی کا عاشق اس کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔میں نے اس کا زخمی بندہ اس لیے چھوڑ دیا تاکہ وہ اسے یقین دلا سکے کہ میں رکمنی کے لیے کتنا سنجیدہ ہوں اور ساتھ یہ بھی کہلوا بھیجا کہ اگر وہ رکمنی کا پیچھا چھوڑ دے تو میری اس سے کوئی دشمنی نہیں....اور یقیناایسا ہونا ناممکن ہے۔موہن جیسا بے غیرت جس پر اپنی طاقت و قوت کا کچھ زیادہ ہی خمار چڑھا ہواہے وہ کبھی میری دھمکی کو نظر انداز نہیں کرے گا۔اگر رکمنی اس کے لیے ضروری نہ ہوئی ،تب بھی وہ اس کی واپسی کے لیے پوری طاقت میدان میں جھونک دے گا۔“
نجانے وہ میرے ساتھ متفق ہوا تھا یا نہیں ،البتہ تکرار سمیٹتے ہوئے موضوع تبدیل کیا۔ ”تو ابھی ہم پالی جائیں گے؟“
”ہاں ،اور وہاں پر انھیں اپنی مرضی کے میدان جنگ میں گھسیٹیں گے۔“
اس نے حیرانی سے پوچھا۔”بھلا وہ کیسے؟“
میں اعتماد سے بولا۔”ایک ترکیب ہے میرے ذہن میں ،اگر کام کر گئی تو موہن گیا کام سے۔“
وہ مصر ہوا۔”کچھ پتا تو چلے۔“
میں نے پوچھا۔”جانتے ہو نا ،موبائل فون سے کسی کی بھی جگہ کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔“
اس نے اثبات میں سرہلانے پر اکتفاکیا تھا۔
”پہلے ہم ایسی جگہ ڈھونڈیں گے جہاں انھیں گھیر سکیں ،پھر وہاں اس کے آدمیوں سے چھینے ہوئے موبائل فون پر اسے کال کر کے غصہ دلائیں گے،امید یہی ہے کہ وہ ہمیں پکڑنے کو بغیر کسی تاخیر کے پہنچے گا۔“
ستیش نے منہ بنایا۔”اکیلا تو نہیں آئے گا نا؟“
میں نے یقین دہانی کرائی۔”فکر نہ کرو پانچ دس بندوں کے لیے میں اکیلا کافی ہوں۔“
وہ دوٹوک انداز میں بولا۔” اگر وہ دس سے زیادہ بندے لے آیاتو ان سے بھی تم نے ہی نبٹنا ہے بھائی!لڑائی بھڑائی کے کام میں مجھے اپنے ساتھ گنتی میں شامل نہ کیا کرو۔“
”اس بارے بعد میں بات کریں گے۔“اسے چپ کرا کر میں آگے کا لائحہ عمل سوچنے لگا۔ ستیش کا یہ کہنا کہ وہ دس سے بھی زیادہ بندے لا سکتا ہے ،مجھے فکر مند کر گیا تھا۔ستیش اچھا جاسوس تھا،لیکن مار کٹائی اس کے بس کا روگ نہیں تھا۔اس معاملے میں وہ عام آدمی جتنا ہی کارآمد تھا۔جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ بعض جاسوس ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا لڑائی بھڑائی سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ وہ بس جاسوسی کے ماہر ہوتے ہیں اور ستیش ورما کا شمار بھی انھی میں ہوتا تھا۔کافی دیر سوچنے کے بعد مجھے بملا کا خیال آیا اسے بلایا جا سکتا تھا،مگرہماری الوداعی ملاقات کسی خوشگوار ماحول میں نہیں ہوئی تھی۔
”اب کیا ارادہ ہے؟“ستیش ورما سے زیادہ دیر خاموش بیٹھا نہ رہا گیا۔
میں نے کہا۔”پالی پہنچ کر کسی ہوٹل میں چند گھنٹے آرام کر یں گے اس کے بعد اگلے منصوبے کا سوچیں گے۔“
”تو پھر جلد از جلد پالی پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔“کہتے ہوئے اس نے رفتار بڑھا دی تھی۔
میں وشواس سنگھ کو گھنٹی کرنے لگا....دوسری ہی گھنٹی پر اس نے کال وصول کر لی تھی۔
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا۔”ہیلو !سو تو نہیں رہے تھے۔“
وہ غنودگی بھری آواز میں بولا۔”اس وقت الو جاگتے ہیں یا الو کے پٹھے۔“
میں اطمینان سے بولا۔” میں نے بھی یہی سوچ کر گھنٹی کی تھی ۔“
وہ مسکنت سے بولا۔”یار !تو تو سکھ نہیں ہے کوئی عقل کی بات کر لیا کر۔“
میں ہنسا۔”سکھ نہ سہی سکھوں سے یاری تو پالی ہوئی ہے ناں اور کسی کی عقل خبط ہونے کو اتنا کافی ہے۔“
وہ لجاجت سے بولا۔”اگر وقت گزاری کو گھنٹی کی ہے تو صبح گپ شپ کریں گے،سچ میں یار! بہت تھکا ہوں ۔“
میں سنجیدہ ہوتے ہوئے مدعے پر آیا اور اسے انومان بھٹلا کے کنبے کے بارے ضروری ہدایات دینے لگا۔تفصیل بتانے کے بعد میں نے پوچھا۔
”انھیں اپنے پاس کام پر رکھتے ہوئے تمھیں کوئی تکلیف تو نہیں ہو گی ناں؟“
وہ بگڑے ہوئے لہجے میں بولا۔”سوائے بکواس کرنے کے تمھیں کچھ آتا بھی ہے، اب یہ پوچھنے کی بات ہے۔“
میں نے جلدی سے موضوع تبدیل کیا۔”پریتو بھابی کو آداب کہنااورمیری بھتیجی پدما کور کو ڈھیروں پیاردینا ۔“
”جس بے چاری کا تم جیسا چچا ہو گا وہ کہاں سو پائے گی،دونوں ماں بیٹی جاگ گئی ہیں جناب!یہ لو بات کر لو۔“اس نے موبائل پرتیو بھابی کو پکڑا دیاتھا۔ ان سے علیک سلیک کر کے میں اجازت لی اورکال منقطع کر دی۔
رات کے آخری پہر ہم پالی پہنچ گئے تھے۔ایک درمیانے درجے کے ہوٹل میں کمرہ لے کر ہم آرام کرنے لیٹ گئے تھے۔
جاری ہے
 

قسط نمبر30
ریاض عاقب کوہلر
گزشتہ رات کی بے آرامی کے باوجود اگلے دن ہم طلوع آفتاب کے ساتھ اٹھ گئے تھے۔ پرتکلف ناشتا کر کے ہوٹل سے نکل آئے اورکسی مناسب مقام کی تلاش میں ہم پالی شہر کے مضافاتی دیہاتوں کا جائزہ لینے لگے۔دور تک فائر کرنے کے لیے چونکہ مجھے اونچائی دستیاب تھی اس لیے میں نے ایسی جگہوں کی قراولی بہتر سمجھی تھی جہاں چھوٹی موٹی ٹیکریاں موجود ہوں ۔آخر میں میں ایسی جگہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ چھوٹی سی پہاڑی جو زمین سے ڈیڑ ھ دو سو فٹ بلند تھی۔اس کے دامن میں کاشت شدہ علاقہ تھا جس میں گندم کی فصل لگی تھی۔گندم کے پودوں نے ابھی دو تین انچ ہی لمبائی پکڑی تھی۔ان کھیتوں کے بیچوں بیچ چھوٹا سامکان تھاجس کا فاصلہ پہاڑی سے چند سو گز سے زیادہ نہیں تھا۔مکان چونکہ کھیتوں کے بیچوں بیچ تھا اس لیے وہاں تک رسائی کو تین چار فٹ چوڑا رستہ بنا ہوا تھا ۔اس پر کار نہیں چل سکتی تھی ۔نیچے اتر کر ہم کچے راستے پر چلتے ہوئے مکان تک پہنچے،مکان کی چاردیواری سرکنڈوں کی بنی ہوئی تھی۔جس کی اونچائی تین چارفٹ کے بہ قدرہو گی۔ قریب سے جائز ہ لینے پر دونوں کمرے بند نظر آئے تھے۔
کلومیٹر ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پرایک چھوٹا سا دیہات تھا۔جہاں پچاس ساٹھ کچے پکے مکانات موجود تھے۔
میں نے کمروں کا باہر ہی سے جائزہ لیتے ہوئے اعلان کیا۔”یہ جگہ بہترین ہے۔“
ستیش نے پوچھا۔”مجھے بھی سمجھا دو کہ یہ جگہ کیسے بہترین ہے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”سمجھا نہیں سکتا،کیوں کہ یہ سمجھانے کو تمھیں سنائپر کورس کرانا پڑے گا۔“
اس نے منہ بنایا۔”تمھیں میری مرضی پر چلنا تھا بالک اور تم مجھے اپنے پیچھے گھسیٹ رہے ہو۔“
میں اطمینان سے بولا۔”ٹھیک ہے پھرتمھی بتاﺅموہن بھیمانی کو کس طرح قتل کر سکتے ہیں۔“
”ہونہہ!“گہری سوچ میں ڈوبتے ہوئے اس نے لمحہ بھر غور کیااور پھر اوپر نیچے سرہلاتے ہوئے کہا۔”بالکل ،یہ بہترین جگہ ہے اور تمھارا منصوبہ قابل عمل ہے۔“
میرے ہونٹوں سے قہقہ ابلا،اس نے میرا ساتھ دیا تھا۔ہنسی رکتے ہی وہ اعتراف کرتے ہوئے بولا۔”یار !....تم نے میرے مزاج کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیا ہے۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”گاﺅں میں پتا کرتے ہیں یہ گھر کس کا ہے تاکہ یہاں رہنے کی اجازت لے سکیں۔“
اس نے مشورہ دیا۔”کسی سے پوچھ کر رہنے میں خطرہ ہے کہ ہمارا راز فاش ہو جائے گا۔“
میں نے کہا۔” یہاں رہنے کا راز ہی تو فاش کرنا ہے۔“
وہ جھلاتے ہوئے بولا، ” ٹی وی پر اشتہار دے دیتے ہیں۔“
میں نے یاددہانی کرائی۔”بھول گیا ہے کیا کہا تھا کہ انھیں یہاں تک لانا ضروری ہے اور ہمارا پتا لگنے ہی پر وہ یہاں پہنچیں گے۔“
”اچھی طرح یاد ہے ،مگر وجہ سمجھ میں نہیں آرہی۔“
میں وضاحت کرتے ہوئے بولا”ویر جی !جاسوسی اور سنائپنگ علیحدہ موضوع ہیں،ہر فن کی اپنی پیچیدگیاں،چالیں اور طریقہ کار ہوتا ہے۔باقی اس جگہ کے بہترین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہاں مجھے ٹیکری کی اونچائی میسر ہے جس سے دور دور تک دکھاﺅ ممکن ہو گا۔مکان عام آبادی سے ہٹ کرہے جس کی وجہ سے کسی اور کو گولی لگنے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہوگا۔ہدف کے گاڑیوں میں بھاگنے کا راستہ صرف ایک ہی ہے جو میری نگرانی میں ہوگا۔وہ دیوگڑھ یا پالی سے اس طرف آنے کا قصد کریں گے یوں ان کی آمد کا پیشگی پتا چلانا نہایت آسان ہوگا کیوں یہاں تک آنے کا خاص رستہ ایک ہی ہے۔جس مکان میں ہم اپنے رہنے کا جھانسہ دیں گے اس تک بھی گاڑی نہیں جاتی،مجبوراََ انھیں گاڑیوں کو چھوڑنا پڑے گااور یوں انھیں نشانہ بنانا آسان ہو جائے گا۔“
”ہتھیار ان کے پاس بھی ہوں گے اور اکیلے کے مقابلے میں ان کی تعداد زیادہ ہوگی۔“
”ہم ان سے کلومیٹر بھر دور بیٹھے ہوں گے اور پستول کی گولی چالیس پچاس گز کے بعد بے اثر ہو جاتی ہے،اگر ان کے پاس کلاشن کوفیں بھی ہوئیں تب بھی وہ تین سو میٹر سے زیادہ فاصلے پر کارگر فائر نہیں گراسکیں گے اور سب سے بڑھ کر میری رائفل پر عمدہ قسم کا سائیلنسر لگا ہوا ہے،انھیں معلوم ہی نہیں ہوگا کہ فائر کہاں سے ہورہا ہے۔“
وہ جھری جھری لیتا ہوا بولا۔” سنائپنگ تو جاسوسی سے بھی مشکل کام ہے یار!تمھارا منصوبہ سمجھنے کودماغ کی چولیں ہی ہل گئی ہیں ۔“
میں مزاحیہ انداز میں بولا۔”اگر تمھاری سمجھ میں ’ماڑا موٹا‘میرا منصوبہ آگیا ہے تواپنے دو ساتھیوں کو بڑی سڑک پر پٹرول پمپ کے قریب متعین کر دو تاکہ وہ دشمن کی آمد کی پیشگی اطلاع دے سکیں۔“
اس نے حیرانی ظاہر کی۔”ابھی سے؟“
”ہو سکتاہے ہم جیسے ہی ان کے بندوں کے موبائل فون آن کریں وہ اس طرف متوجہ ہو جائیں،اگر ایسا نہ ہوا تو ہم خود انھیں گھنٹی کر کے متوجہ کرکے مجبور کریں گے کہ وہ ہمیں تلاش کرنے کی کوشش کریں۔جس سطح کے ان کے تعلقات ہیں ان کے لیے گھنٹی تلاشنا(کال ٹریس کرنا) بالکل مشکل نہ ہوگا۔“
”چلیں گاﺅں کی طرف اورمیں اپنے آدمیوں سے بات کرلیتا ہوں ۔“موبائل فون کان کو لگاتے ہوئے وہ کار کی طرف بڑھ گیا۔ہم موڑ کاٹ کر واپس مڑے اور سڑک پر جا کر دوسرے راستے سے گاﺅں میں پہنچ گئے کہ وہاں سے براہ راست گاﺅں کی طرف گاڑی کاراستہ موجود نہیں تھا۔اس دوران میں اس نے اپنے آدمیوں کو ضروری تفصیل بتا دی تھی۔
آبادی میں گھستے ہی ایک چھوٹی سی دکان پر نظر پڑی،کار روک کر ہم اتر گئے۔
”نمستے چاچا!“بوڑھے دکاندار کو آداب کہہ کر میں نے مطلوبہ مکان کے بارے استفسار کیا۔کہ وہ کس کا ہے۔
وہ فوراََ بولا۔”پتر !وہ مکان تو شیام بھونسلے کا ہے،مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو۔“
میں نے پوچھا۔”چچا !ہمیں چند دن رہنے کو مل سکتا ہے؟“
وہ خوفزدہ لہجے میں بولا۔”ایسا غلطی سے بھی مت سوچنا....وہاں رات کے سمے رچنا کماری اور اس کے شوہر مہیش کے بھوت پھرتے ہیں ۔“
ستیش نے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا۔”یہ رچنا کون ہے چچا۔“
”شیام کے پتر مہیش نے ایک شہری لڑکی سے شادی کی اور اسی کی ایما پر پہاڑی کے دامن میں ،کھیتوں کے بیچوں بیچ وہ خوب صورت گھر بنایا۔بہت سندر چھوری تھی۔ایک دن شہر سے سیاحوں کی ٹولی وہاں پہنچی انھوں نے پہاڑی کے دامن میں خیمے لگائے، کھانا وغیرہ تیار کیا،خوب ہلا گلا کیا،اونچی آواز میں موسیقی سنتے رہے ۔شور شرابہ سن کر بے چاری رچنا بھی تماشا دیکھنے قریب گئی،دو تین اوباش لڑکوں نے اسے دیکھا تو ان کی نیت خراب ہو گئی۔وہ رات کے وقت ان کے گھر میں گھس گئے ۔مہیش نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی مگر بے چارہ اکیلا کیا سکتا تھا۔انھوں نے مہیش کی ہتیا (قتل)کر کے اس کی بیوی رچنا کی عزت خراب کی اور پھر اس کا گلا بھی گھونٹ دیا۔شیام بے چارہ جوان بیٹے اور بہو کی ہتیا پر گم سم رہنے لگا۔ اس کی پتنی تو آدھی پاگل ہو گئی تھی۔گاﺅں والوں کی کوششوں سے پولیس نے کیس تو درج کر لیا مگر آج تک ہتیاروں (قاتلوں)کو تلاش نہیں کر پائے۔اس واقعے کو سال ہوگیا ہے اور تب سے یہ مکان بند ہے۔گاﺅں کے بہت سے آدمیوں نے وہاں رات کو روشنی بھی دیکھی ،کبھی کبھار کسی عورت کے چیخنے کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں، پنڈت جی کا کہنا ہے وہ رچنا کماری کی بے چین روح ہے جسے اپنے ہتیاروں کی تلاش ہے۔“
میں نے پوچھا۔”شیام بھونسلے ہمیں کہاں مل سکتا ہے۔“
بوڑھے دکاندار نے منہ بناتے ہوئے شیام کے گھر کی طرف ہماری رہنمائی کر دی،شاید ہمارے بے خوف چہرے دیکھ کر لگا تھا کہ ہم اسے جھوٹا سمجھ رہے ہیں۔
میں نے دکان سے نکلنے سے پہلے کہا۔”شکریہ چچا آپ نے ہماری رہنمائی کی اور چنتا نہ کرو، ہم وہاں دن کا سمے بتایا کریں گے،رات کو کہیں اور ڈیرہ لگا لیا کریں گے۔“
وہ خوشی سے مسکرا دیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد ہم ایک پرانے سے مکان کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔اس جھونپڑی نما مکان سے کھیتوں کے بیچ بنے پختہ کمرے رہنے کے لیے بہترین تھے،مگر برا ہوہندو دھرم کا جہاں اس طرح ماورائی کھیل تماشے بڑے اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستانیوں میں بھی توہم پرستی کافی زیادہ ہے اور ایسی جگہوں کو منحوس و برا خیال کیا جاتا ہے جہاں کسی کا قتل ہوا ہو۔البتہ دین اسلام میں ایسی فضولیات کی کوئی جگہ نہیں۔بدروح ،بری آتما،بھوت پریت،چڑیلیں ،دیو،پری ،سایا،پچھل پیری وغیرہ قصے کہانیوں کی باتیں ہیں۔صرف جنات کا وجود برحق ہے ،مگر ان کے بارے بھی یار لوگ نے زیادہ تر افسانے اور جھوٹے واقعات تراش رکھے ہیں۔ورنہ حقیقت یہی ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور کوئی دوسری مخلوق اس سے برتر نہیں ہو سکتی۔
دروازہ کھولنے والا ایک بوڑھا تھا۔ہم نے ہاتھ جوڑتے ہوئے پرنام کہا۔
جوابی پرنام کرتے ہوئے وہ سوالیہ نظروں سے ہماری شکلیں گھورنے لگا۔
میں نے تصدیق چاہی۔”آپ کا نام شیام ہے؟“
اس نے آہستہ سے سرہلا دیا تھا۔اس کا گم سم چہرہ دیکھ کر لگ رہا تھا کہ آج تک وہ اپنے جوان بیٹے کا غم دل سے نہیں نکال سکا تھا۔
”شیام چچا!ہمیں چند دن رہنے کے لیے آپ کے مکان کی ضرورت ہے۔“
اس نے ہکلاتے ہوئے پوچھا۔”کک.... کون سامکان۔“
میں نے وضاحت کی۔”کھیتوں کے بیچ بنا ہوا مکان ،جس کی چاردیواری سرکنڈوں کی بنی ہوئی ہے۔“
اس کے چہرے پر اذیت ابھری اور افسردہ لہجے میں بولا”مگرپتر !وہ تو ........“
میں قطع کلامی کرتا ہوا بولا۔”ہمیں سب کچھ معلوم ہے شیام چچا!.... بے فکر رہیں ،ہم صرف دن کے اوقات میں وہاں رہیں گے۔اور آپ کو کرایہ بھی دیں گے۔“یہ کہتے ہوئے میں نے چند بڑے نوٹ اس کی طرف بڑھا دیے تھے۔
اتنی زیادہ رقم دیکھ کر وہ حیران رہ گیا تھا۔اس نے کانپتے ہاتھوں سے نوٹ پکڑے اور شکر گزار ہوا۔”دھنے واد پتر!بھگوان آپ لوگوں کو سکھی رکھے۔“
ہم واپس مڑے اور چکر کاٹ کر مکان کے سامنے پہنچ گئے۔
صبح کے ناشتے کے بعد پانی کا گھونٹ پینے کا موقع نہیں ملا تھااور اس وقت سہ پہر ہونے کو تھی۔ میں کار سے نیچے اترتے ہوئے ستیش کو مخاطب ہوا۔”تم قریبی شہر سے کھانا وغیرہ لے آﺅ،چاے کا راشن بھی لیتے آنا،دو گدے اور لحاف بھی ضرور لاناکیوں کہ رات گزارنے کو ان کی ضرورت پڑے گی۔ میں ذرا کمروں کی صفائی کر لوں۔“
اس نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے کار موڑ لی۔جبکہ میں کچے راستے پر چلتا ہوا مکان کی طرف بڑھ گیا۔سرکنڈوں کی باڑ کے بیچوں بیچ چھوٹا سا رستہ چھوڑا گیا تھاجس کے درمیان سرکنڈوں ہی کا بنا ہوا دروازہ لگا تھا، مگر اس وقت دروازہ ٹوٹ کر نیچے گر چکا تھا،باڑ بھی جگہ جگہ سے خراب ہو چکی تھی۔چھوٹے سے صحن میں پتوں کا انبار بکھرا تھا۔ایک کونے میں ہینڈ پمپ لگا ہوا تھا۔میں نے چلا کر دیکھا، تھوڑی سی کوشش سے پانی نکل آیا تھا۔ویسے بھی وہاں پانی کی کمی نہیں تھی کہ چند کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے کھاری گزررہا تھا۔
کمروں کے دروازوں پر زنگ آلود تالے لٹکے تھے،میں نے جیسے ہی ایک تالے کو پکڑ کر ہلکا سا جھٹکا دیاتالہ آسانی سے کھل گیا تھا۔یقینا وہ تالے پہلے ہی کوئی توڑ چکا تھااور اب بس دکھاوے کو کنڈوں میں لٹکے ہوئے تھے۔
دروازے کو دھکیلتے ہوئے میں نے اندر قدم رکھا،کمرہ گردوغبار سے اٹا پڑا تھا۔وہ کمرہ اندر سے مزید دو حصوں میں تقسیم تھا آدھا کمرہ باورچی خانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور آدھا نشست گاہ کے لیے مختص کیا گیا تھا۔مگر وہاں سے فرنیچر غائب تھا۔باورچی خانے میں بھی چند ادھ جلی لکڑیوں اور ایک چولھے کے سوا کوئی چیز دکھائی نہیں دی تھی۔چولھے کے اندر لوہے کا پائپ جڑا تھا جو چھت سے باہر نکل گیا تھا،یوں وہاں لکڑی جلانے سے دھواں اندر نہیں پھیل سکتا تھا۔
میں نے دوسرے کمرے کا جائزہ لیا وہ بھی خالی پڑا تھا۔اس کے ساتھ ملحقہ بیت الخلا ءبھی تھا۔میں صحن میں نکل آیا، کیکر کے درخت سے چند سبز ٹہنیاں توڑ کر جھاڑو بنایا اور کمروں کی صفائی کو جت گیا۔
ستیش کے آنے تک میں کمروں کی صفائی کر چکا تھا۔اس نے آمد کا اعلان ہارن بجا کر کیا تھا۔میں اس کے پاس پہنچ گیا۔کار کی ڈگی اور عقبی نشست پر رکھا ضروری سامان ہم اندر لے جانے لگے۔ایس آر ون کا بیگ بھی میں نے ساتھ لے جانا ضروری سمجھا تھا۔
سب سے پہلے ہم نے ڈٹ کر کھانا کھایا اور پھر خواب گاہ میں گدے بچھا دیئے۔ستیش موم بتیوں کے دو تین پیکٹ بھی لے آیا تھا۔
میں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وضو کر کے عصر کی نماز پڑھی اور پھر ستیش کوساتھ لے کر پہاڑی کی جانب چل پڑا۔وہاں فائر کے لیے مناسب جگہ تلاش کر کے میں نے ضروری فاصلے ناپے، غروب آفتاب تک ہم واپس لوٹ آئے تھے۔ستیش نے موم بتی جلائی۔میں مغرب پڑھنے لگا،کافی دنوں بعد سجدہ کرنے کا موقع ملا تھا۔شام کی نماز میرے ساتھ ستیش نے بھی پڑھی تھی۔نماز کے بعد وہ تھوڑی دیر گم سم بیٹھا رہاپھراس کی ہلکی سی بڑبڑاہٹ ابھری۔
”جانتے ہو کتنے عرصے بعد یہ نعمت میسر ہوئی ہے۔“
میں نے کہا۔”تم چوری چھپے تو پڑھ سکتے ہو یار!“
وہ دکھی دل سے بولا۔”ہمارے چاروں طرف ہر وقت خطرہ منڈلا رہا ہوتا ہے، تبھی ڈر لگتا ہے کہ کسی نے دیکھ لیا تو بھانڈا پھوٹ جائے گا۔“
”ہونہہ!“گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے چپ سادھ لی تھی۔وطن کی خدمت میں جن سے عبادت کی لذت بھی چھن جاتی ہے ان کے بارے واہیات تبصرے کرنا تو نہایت آسان ہے ،مگر کوئی ان کی طرح صرف ایک دن گزار کر دیکھے تو پتا چلے: مشکل کسے کہتے ہیں ، دشواری کیا ہوتی ہے ، موت کے سائے میں زندگی گزارنا کتناوحشت ناک ہے اور تکلیف و اذیت کس چڑیا کا نام ہے ۔
لمحہ بھر بعد اس کی آواز ابھری۔”میرا نام عبدالرشید ہے،تعلق لکی مروت سے ہے ،یہاں پانچ سال ہو گئے ہیں ۔جب یہاں آرہا تھا تب بوڑھی ماں اور حاملہ بیوی کو گھر چھوڑ آیا تھا،بعد میں ایک بچی ہوئی جس کی تصویر ہی دیکھ سکا ہوں ،نامعلوم سچ میں اسے دیکھنا نصیب ہو گا یانہیں۔“
میں نے اسے افسردگی سے نکالنے کومزاحیہ انداز میں کہا۔ ” پختون یئے؟“(پٹھان ہو)
وہ خفیف انداز میں بولا۔” لگتا ہے پشتو بولنابھی بھول گیا ہے ۔“یہ فقرہ اس نے خالص مروت پشتو میں ادا کیا تھا۔پشتو زبان بھی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ پاکستان کی مختلف قوموں میں مروج ہے۔ پشاور، مردان،صوابی ،سوات وغیرہ کی پشتو الگ ہے ،کرک کی خٹک قوم کا لہجہ جدا ہے۔ مروت قوم کا اپنا انداز ہے ،کوئٹہ والے کسی اور لہجے میں پشتو بولتے ہیں اور اہل وزیرستان کا لہجہ سب سے مختلف ہے۔
میں نے کہا۔”مادری بولی کہاں بھولتی ہے دوست!“
اس نے موضوع کو تھامے رکھا۔”تم بھی پٹھان ہو؟“
میں نفی میں سرہلاتے ہوئے ہنسا۔”خالص پنجابی ہوں ،پٹھان بیوی کے ہتھے چڑھ گیا اور پشتو سیکھنا پڑی۔“آنکھوں کے سامنے پلوشے کا موہنا چہرہ چمکنے لگا تھا۔
اس نے اشتیاق سے پوچھا۔”شادی کیسے ہوئی؟“
میں نے جان چھڑانا چاہی۔”لمبی کہانی ہے یار!“
وہ مصر ہوا۔”لمبی رات کاٹنے کو یقینا مددگار ثابت ہوگی۔“
اس کا اشتیاق دیکھتے ہوئے میں نے پلوشے کے کہانی جزوی تفصیل سے سنا دی۔وہ دلچسپی سے متوجہ رہا۔میرے چپ ہوتے ہی تحسین آمیز لہجے میں بولا۔”لگتا ہے ہماری بہن کافی دھانسو قسم کی زوجہ ہے۔“
”ایسی ویسی۔“خوشگوار لہجے میں کہتے ہوئے میں نماز پڑھنے کو اٹھ گیا۔وہ جائزہ لینے باہر نکل گیا تھا۔
فارغ ہو کر سونے کو لیٹا تو عبدالرشید (ستیش)نے بتایا۔”ہمارے بندے اپنی جگہ پر پہنچ گئے ہیں۔“
”گویا دشمن سے بات چیت کی جا سکتی ہے۔“میں نے اجیت رائے(وہ غنڈہ جسے میں زخمی چھوڑ آیا تھا) کاموبائل فون آن کر تے ہوئے موہن بھیمانی کا نمبر ڈھونڈنے لگا،جو مہاراج موہن کے نام سے محفوظ ملا۔
کال کرنے پر پہلی ہی گھنٹی اٹھا لی گئی تھی۔ کرخت آواز سنائی دی۔”یہ تم ہو اجیت؟“
میں نے موبائل کا سپیکر آن کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا۔”نہیں یہ اجیت کی درگت بنانے والا ہے۔“
وہ غراتے ہوئے بولا۔”اوہ....تمھاری اتنی جرات کہ براہ راست مجھ سے رابطہ کرنے کی حماقت کر لی۔“
میں اس کی دھمکی کو پاﺅں کی ٹھوکر میں اڑاتے ہوئے بولا۔”دیکھو بے!اپنی حد میں رہو ،میں نے تمھارے کتورے(کتے کا بچہ)کو واضح پیغام دیتے ہوئے اپنی شرط بتا دی تھی،ایک بار پھر دہرا دوں : اگر طبعی موت مرنا چاہتے ہو تو رکمنی سے دور رہنا۔جو کچھ پہلے ہوا اسے تمھاری لاعلمی میں کی ہوئی غلطی سمجھ کر معاف کر رہا ہوں ،آئندہ یہ امید نہ رکھنا۔“
”تم بس اپنی اذیتوں میں اضافہ کر رہے ہو۔“ وہ بہ مشکل دھاڑنے سے رکا تھا۔
میں اس کی حیثیت کو گالی کے ساتھ اجاگر کرتے ہوئے بولا۔”تم جیسے ........کو اچھی طرح جانتا ہوں ۔جو ملیچھ ،مہاراج شری ناتھ یادیو جیسے مہان پُرش (عظیم انسان)کو دھوکا دے سکتا ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ لیکن یاد رکھنا اس بار تمھارا ٹاکرا بہت غلط شخص سے پڑ گیا ہے، تو بہتر ہو گا کم کہے کو غنیمت جانو اور میری محبوبہ کا پیچھا چھوڑ دو۔“
”رکمنی صرف میری ہے بھڑوے میں تیری ............“اس کے بعد اس کے منہ کا گٹر کھل گیا تھا۔اس کا غصہ دیکھتے ہوئے یقین ہو گیا کہ اس نے میرے بچھائے ہوئے جال میں قدم رکھ دیے ہیں۔
میں سکون سے اس کے مغلظات سنتا رہاجونھی میری باری آئی نہایت ٹھنڈے لہجے میں بولا۔ ”میرا پرستاﺅ سوئیکارکرنے (میری نصیحت ماننے ) سے تم کتے کی موت مرنے سے بچ جاﺅ گے۔ تم نے ایک معصوم کوداغدار کردیا ،اس غلطی ہی پر تمھاری ہتیا کرنا جائز ہو جاتا ہے ،لیکن سدھرنے کاایک موقع دے رہا ہوں ۔اگر بدھی(عقل) میں میری بات نہ بیٹھی تو جلد ہی تمھاری ودوا(بیوہ) شرادھ دے رہی ہوگی۔( ہندوﺅں کے مردوں کے نام کا کھانا جو ان کی نجات کے لیے دیوتاﺅں کو چڑھایا جاتا ہے اور برہمنوں کو کھلایا جاتا ہے اسے شرادھ کہتے ہیں)
وہ ہتھے سے اکھڑتے ہوئے بولا۔” ہمت ہے تو سامنے آکر بکواس کرو تاکہ تمھیں وہیں گھسیڑوں جہاں سے نکلے تھے۔“
میں پرسکون انداز میں بولا۔”اگر بھونکنا بہادری ہوتا تو دلیر صرف کتے مانے جاتے۔“
اس کے منہ سے پھر مغلظات کا طوفان ابل پڑا، وہ غصے کی انتہا کو پہنچ گیا تھا۔یقینا اس کے سامنے ہوتا تو وہ کب کا مجھ پر حملہ کر چکا ہوتا۔کیوں کہ آج تک کسی کو جرات نہیں ہوئی تھی کہ اس کے سامنے اونچی آواز میں بات کر پاتا اور میں اسے کھری کھری سنارہا تھا۔
میں بھی بازاری انداز اختیار کرتے ہوئے بولا۔”ابے بھڑوے!تمھیں بھونکنے کے علاوہ کچھ آتا بھی ہے ،صبح سے ٹیاﺅں ٹیاﺅں لگائی ہوئی ہے اور اپنے بھلے کی بات بھی تمھاری بدھی میں نہیں بیٹھ رہی۔“
”ایک دفعہ سامنے تو آجاﺅ،میں تمھاری ............“اور پھر غلیظ گالیاں شروع ہو گئیں۔
میں نے جلتی پر پٹرول چھڑکا۔”مجھے ڈھونڈنا آسان نہیں ہے پتر!....البتہ تم پر میری ہر وقت نظر ہو گی اور جب بھی موقع ملا سرمیں گولی مار کرتمھارا گندا بھیجا نکال دوں گااس لیے بہتر ہو گا رکمنی اور میری تلاش کاخیال دل سے نکال دو۔ویسے بھی جہاں میں موجود ہوں یہاں نرگ میں جلتا ہواتمھارا پِتّا بھی مجھے نہیں ڈھونڈ سکتا۔“
وہ پھنکارا۔”ایک بار میرے ہاتھ آجاﺅ،تمھاری وہ حالت کروں گا کہ ساتوں جنم تک موہن بھیمانی کا خوف تمھارے دل سے نہیں نکل سکے گا۔“
”ابے کائر!رہنے دو یہ ڈینگیں،تم جیسے چوہے بس لڑکیوں کے لیے شیر ہیں ورنہ اپنے بل سے باہر نکلنے کی ہمت ان میں نہیں ہوتی۔“
ایک دم اس نے رابطہ منقطع کر دیا تھا،یقینا اب میری باتوں کوبرداشت کرنا اس کے حوصلے سے باہر ہو گیا تھا۔
کال منقطع ہوتے ہی عبدالرشید تحسین آمیز لہجے میں بولا۔ ”تم نے اسے صحیح تپا دیا ہے، مجھے تو لگتا ہے ابھی کے ابھی ہماری تلاش میں نکل کھڑا ہو گا۔“
میں نے متنبہ کیا۔”اپنے بندوں کو چوکنا کر دو،ان کی ذرا سی غلطی سے ہماری جان جا سکتی ہے۔“
وہ مجھے تسلی دیتے ہوئے بولا۔”بے فکر رہو وہ نگرانی کے ماہر ہیں ،اس کے علاوہ میں نے دیو گڑھ میں موجود اپنے لوگوں کو بھی چوکنا کر دیا ہے ،آشرم سے نکلنے والی ہر گاڑی پر ان کی نظر ہو گی۔“
”تو پھر آرام کرتے ہیں۔“میں نے آنکھیں موند لیں۔وہ بھی موم بتی بچھا کر اپنے بستر میں ہو گیا تھا۔
رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب مجھے رشید نے آواز دے کر جگایا۔
”آکاش بھیا !اٹھ جاﺅ۔“
”کیا ہوا؟“دستی گھڑی کا ڈائل روشن کر کے وقت دیکھتے ہوئے میں اٹھ بیٹھا تھا۔ہندسے چار بجنے کا اعلان کر رہے تھے۔
وہ متوحش انداز میں بولا۔”آشرم سے دوگاڑیاں نکلی ہیں اور ان کا رخ ہماری جانب ہے۔“
جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top