قسط نمبر31
ریاض عاقب کوہلر
میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔”بہت اچھی خبر ہے،لگتا ہے وہ پہلی روشنی میں ہمیں گھیرنا چاہتے ہیں کیوں کہ ایسے وقت انسان عموماََ غافل ہوتا ہے۔“
اس نے تشویش زدہ انداز میں پوچھا۔”اب کیا کریں گے؟“
میں اطمینان سے بولا۔”تمھارے کرنے کو کچھ نہیں ہے،بس خود کو سردی سے بچاﺅ،دشمن کو میں سنبھال لوں گا۔“
وہ متعجب ہوا۔”یار !تمھارے لہجے سے ذرا بھی نہیں لگتا کہ دشمن پر ہم حملہ کرنے آرہے ہیں۔“
میں نے اس کی ڈھارس بندھائی۔”گھبرانا تو دشمن کو چاہیے ،کیوں کہ وہ ہمارے لگائے ہوئے شکنجے میں گردن رکھنے آرہے ہیں۔“
اس نے موم بتی جلاتے ہوئے پوچھا۔”انھیں یہاں تک پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا؟“
”سنائپر کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا کہ دشمن کتنی دیر میں اس تک پہنچے گا۔وہ بس انتظارکرنا جانتا ہے اس لیے ہم ابھی اپنے مورچے میں جائیں گے۔“یہ کہتے ہوئے میں جوتے ڈالنے لگا۔
اس نے میری تقلید کی تھی۔اگلے پانچ منٹوں میں ہم باہر نکل آئے تھے۔میرے مشورے پر رشید نے ایک اور موم بتی بھی جلا دی تھی۔سردی اچھی خاصی بڑھ گئی تھی،لیکن ہم نے گرم کپڑے پہنے ہوئے تھے۔
سرکنڈوں کی باڑ سے نکلتے ہوئے اس نے پوچھا۔”کار ساتھ لے جائیں گے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں ،میں چاہتا ہوں انھیں ذرا بھی شبہ نہ ہواورکار دیکھ کر ان کا یقین مزیدپختہ ہوجائے گا کہ ہم کمروں کے اندرہی موجود ہیں۔“
اس نے چپ سادھ لی۔پہاڑی کی بلندی تک پہنچنے میں ہمیں بیس پچیس منٹ لگے تھے۔ ایک مناسب جگہ کا انتخاب کر کے میں نے ایس آر ون کو بیگ سے نکالااورپرزوں کو جوڑنے لگا۔یہاں ایک بات قارئین دھیان میں رکھیں کہ سنائپر رائفل کو صفر کرنے کے بعد اگر اس کی ٹیلی اسکوپ سائیٹ کو رائفل سے اتار دیا جائے تو رائفل کی صفرنگ میں فرق پڑ جاتا ہے،اس وجہ سے میں ایس آر ون کی ٹیلی اسکوپ سائیٹ کو اس کے ماﺅنٹ سے نہیں اتارتا تھا،تاکہ فائر کی درستی میں فرق نہ آئے۔
میگزین بھر کر میں نے رائفل پر چڑھائی ،ایک فالتو میگزین بھی بھر کر ساتھ رکھ دی تاکہ زیادہ دشمنوں پر فائر کرنے کی تیاری مکمل ہو۔ہوا بالکل نہیں چل رہی تھی اس لیے میں نے ونڈ میٹر کے استعمال سے گریزکیا تھا۔یہاں سے کمروں اور کار کا فاصلہ بھی میں دن کو ناپ چکا تھا اس لیے چپکے سے رائفل کے عقب میں لیٹ گیا۔
رشید کو سردی لگ رہی تھی وہ ٹہلنے کو اٹھنے ہی لگا تھا کہ میں نے ڈانٹ کر حرکت کرنے سے منع کر دیا۔”حرکت بند،اتنی سردی سے تم مر نہیں جاﺅگے۔“
اس نے کراہتے ہوئے پوچھا۔”تمھیں سردی نہیں لگتی۔“
”لگتی ہے،لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں دشمن کو چوکنا ہونے کا موقع دوں۔“
اس نے دلیل دی ۔”دشمن ہمارے نگرانی پر مامورآدمیوں سے ہو کر یہاں تک پہنچے گا۔“
میں نے کہا۔”اگر ساتھیوں کی غفلت سے ہمیں بروقت علم نہ ہوسکایا دشمن کوئی ایسا رستہ اختیار کر کے یہاں تک پہنچ گیاجو ہمارے آدمیوں کی نگرانی میں نہ ہوا تو ساری تگ و دو ضائع چلی جائے گی کہ نہیں۔“
”یہ دیکھ رہے ہو۔“اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے جان چھڑائی۔”ذرا سی بھی حرکت نہیں کر رہا اور تمھارے ساتھ لیٹا ہوں،اب خوش۔“
میں فلسفیانہ انداز میں بولا۔”جہاں حرکت نہ کرنی ہو وہاں حرکت کرنے سے انسان ہمیشہ کے لیے بے حرکت ہو سکتا ہے۔“
اس نے دہائی دی۔”میری کم بختی کہ ایک خبطی سنائپر کا مددگار بننے کو دنیش رام کو میں ہی نظر آیا،حالاں کہ اس کے پاس کئی انتخاب موجود تھے۔“
مجھے ہنسی آگئی تھی۔وہ میرا سینئر بنا یا گیا تھا،ابتداءمیں وہ سنجیدہ رہنے اور کام سے ہٹ کر بات کرنے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتا تھالیکن اب اس کا مزاج بدل گیا تھا۔نجانے اس کی وجہ میرا رویہ تھا یا بے تکلفی پیدا ہونے کے بعد اس کی اصل شخصیت کھل کر سامنے آگئی تھی۔
ہم انتظار کرتے رہے،اندھیرا ملگجے اجالے میں بدلا اور پھر دھیرے دھیرے روشنی پھیلنے لگی۔طلوع آفتاب سے پہلے رشید کو گھنٹی وصول ہوئی۔مختصر الفاظ میں پیغام دے کر رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
وہ میری طرف متوجہ ہوا۔”گاڑیاں پٹرول پمپ عبور کر گئی ہیں ۔“
میں نے اعتماد ظاہر کیا۔”ہم بھی تیار ہیں۔“
وہ اطمینان سے بولا۔” جمع کا صیغہ استعمال کرنے کے بجائے تم صیغہ واحد متکلم استعمال کرتے تو زیادہ بہتر لگتا۔“
”دوربین پکڑو اور موہن بھیمانی پر نظر رکھنا،وہ ہمارا ہدف ہے باقی تمام بچ جائیں کوئی فرق نہیں پڑے گا،البتہ اس کی ہلاکت ضروری ہے۔“
اسی اثناءمیں دو کالے رنگ کی ڈبل کیبن نمودار ہوئیں اور درمیانی رفتار سے آگے بڑھتے ہوئے ہماری کار کے قریب آکر کر رک گئی تھیں۔گاڑیوں کی باڈی میں دو دو ہتھیار بردار بیٹھے تھے،تمام کے ہاتھ میں کلاشن کوفیں تھیں ۔گاڑیاں رکتے ہی وہ چھلانگ لگا کر نیچے اترے،کیبنوں سے بھی دو دو آدمی برآمد ہوئے،ڈرائیوروں کو ملا کر ان کی تعداد بارہ بن رہی تھی۔
عبدالرشید نے شناخت کرائی۔”اگلی گاڑی سے اترنے والا شخص جس نے سفید قمیص پر کالا کوٹ پہنا ہے اور نیچے دھوتی باندھی ہوئی ہے ،موہن بھیمانی ہے۔“
وہ صحیح موٹا تازہ اور لحیم شحیم تھا۔اس کے دائیں ہاتھ میں پستول موجود تھا۔بائیں ہاتھ کے اشارے سے وہ اپنے آدمیوں کو کمروں کو چاروں طرف سے گھیرنے کے احکام دے رہا تھا۔پہچان کا مرحلہ گزرنے کے بعد دیر کرنا درست نہ ہوتا۔میں نے عادت کے برعکس اس کی پیٹھ پر دونوں کندھوں کے بیچ شست سادھی اور اطمینان سے لبلبی دبا دی....عمدہ سائیلنسر کی وجہ سے بالکل ہلکی سی” ٹھک“ ہوئی تھی۔رائفل کے بٹ نے میرے کندھے کو پیار سے تھپکی لگائی اور ایس آر ون کی” آٹھ عشاریہ چھے پانچ “کی گولی اس کی پیٹھ سے گھس کر چھاتی پھاڑ کر نکل گئی تھی۔وہ زور دار جھٹکے سے اوندھے منہ گرا تھا۔نو سو میٹر کے فاصلے پر تو میں اس کے منہ میں بھی گولی گھسیڑ سکتا تھا،لیکن کھوپڑی میں گولی رسید کرنے سے واضح ہو جاتا کہ کسی مستند سنائپر نے گولی چلا ئی ہے اور میں چاہتا تھا یہ کام کسی اناڑی کا لگے اس لیے بڑے ہدف کا چناﺅ کیا تھا۔
رشید مسرت سے چہکا۔”واہ....کیا نشانہ ہے باس!“
مگر میرے پاس گپ شپ کا وقت نہیں تھا،میں نے رائفل دوبارہ کاک کی اور دوسرے آدمی پر گولی چلا دی۔وہ موہن بھیمانی کو اٹھانے جھکا تھا پہلو میں گولی کھا کر اس کے تڑپتے ہوئے وجود ہی پرلمبا ہو گیاتھا۔تبھی باقیوں کو پتا چلا کہ ان پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔
ایک دم تڑتڑاہٹ کی آوازیں بلند ہوئیں انھوں نے ہماری متوقع رہائش پر گولیاں چلانا شروع کر دی تھیں۔احمقوں کو اب تک یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ ان پر فائر کہاں سے آرہا ہے اور یہی وجہ تھی کہ انھوں نے گاڑیوں کی آڑ پکڑنے کو وہ جانب استعمال کی تھی جو میرے فائر کی زد میں تھی۔وہ اندھا دھند گولیاں چلا رہے تھے، جب تک انھیں فائر کی سمت کا پتا چلتا تین مزید لڑھک گئے تھے اور تبھی کسی سیانے کے واویلا کرنے پر انھیں غلطی کا احساس ہوا۔غلطی سدھارتے سدھارتے دو اور تڑپنے لگے تھے۔اتنے کم فاصلے پر ایس آر ون کی جان لیوا گولیاں تباہی پھیلا رہی تھی۔
صورت حال کا ادراک ہوتے ہی وہ گاڑیوں کے مخالف جانب مورچہ زن ہو گئے تھے۔ تبھی میں نے اگلی گاڑی کے عقبی ٹائر پر نشانہ سادھتے ہوئے گولی داغ دی۔زور دار دھماکے سے حواس باختہ ہو کر ایک شخص گاڑی کی آڑ چھوڑ کر چیختا ہوا کمروں کی طرف بھاگا،مگر ایس آر ون کی تیز رفتار گولی نے اسے چند قدموں سے زیادہ بھاگنے کی مہلت نہیں دی تھی۔کندھوں کے بیچ لگنے والی گولی نے اسے اوندھے منہ گرا دیا تھا۔
میں نے دوسری گاڑی کے ٹائر پر نشانہ سادھا ،ایک اور دھماکا ہوا مگر کسی نے آڑ کو چھوڑنے کی غلطی نہیں کی تھی۔
اسی وقت عبدالرشید بولا۔”باس !ایک شخص رینگتے ہوئے دور جانے کی کوشش میں ہے۔“
”نظر آگیا ہے۔“ اس جانب شست سادھتے ہوئے میں نے اس کی کھوپڑی کو تاکا کہ اس کا باقی جسم زمین سے چمٹا تھا اورلبلبی دباتے ہوئے اس کی رینگنے والی مشقت سے جان چھڑادی۔
اب صرف تین بچ گئے تھے اور تینوں گاڑی کے عقب میں چھپے تھے۔گاڑی کا آئل ٹینک بھی دوسری جانب تھا اس وجہ سے میری دسترس سے باہر تھااور ویسے بھی میرے پاس آتش گیر گولیاں موجود نہیں تھیں کہ آئل ٹینک میں آگ لگا سکتا۔ان کی موسلادھار فائرنگ اب بوندا باندی کی شکل اختیار کر گئی تھی کہ اکادکا ”ٹخ ....ٹخ “ جاری تھی وہ بھی بغیر نشانہ سادھے۔
میں نے لمحہ بھر انتظار کیا ،اس وقت گاڑی کے اگلے اور میری جانب سے مخالف پہیے سے سر نکال کر ایک شخص نے اس طرف جھانکنے کی کوشش کی،شاید وہ حالات کا جائزہ لینا چاہ رہا تھاوہ اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوتا اگر میری داہنی آنکھ ایس آر ون کی طاقتور ٹیلی اسکوپ سائیٹ سے نہ چپکی ہوتی ۔ایس آر ون کی سائیٹ عام انسانی آنکھ کی نسبت تیس گنا زیادہ دکھاﺅ مہیا کرتی ہے ،آپ خود اندازہ لگا لیں کہ ہدف میرے سامنے کس قدر واضح تھا۔وہ اسی صورت بچ سکتے تھے کہ مخالف جانب کے پہیوں کے پیچھے بے حس و حرکت دبکے رہتے۔اور یقینا یہی سوچ کر وہ بھی پہلے پہیے کے پیچھے ہی پناہ لیے ہوئے تھا ،مگر پھرانسانی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے صبر کا دامن چھوڑا اور میری مہارت کا امتحان لینا چاہا۔
ہلکی سی”ٹھک“ ابھری ۔آواز بہ مشکل چند گز تک سنائی دی ہو گی مگر گولی نو سو میٹر کا فاصلہ ایک سیکنڈ میں طے کر کے اس کی کھوپڑی تک پہنچی اور ان کی تعداد میں ایک اور شخص کی کمی ہو گئی تھی۔
بچ جانے والے دونوں پہیوں کے عقب میں یوں سمٹ گئے تھے کہ ان کے جسم کا کوئی عضو نظر نہیں آرہا تھا۔میں چونکہ بلندی پر تھا اس لیے گاڑی کے نیچے نہیں دیکھ پا رہا تھا۔
میں نے عبدالرشید کو مطلع کیا۔”انھیں یہاں سے نشانہ بنانا ممکن نہیں رہا ،میں چکر کاٹ کر ان کے پہلو میں پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں ۔“
اس نے پیش کش کی۔”میں بھی ساتھ چلتا ہوں ۔“
میں نے نفی میں سرہلاتے ہوئے تجویز پیش کی۔”نہیں تم یہیں اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر پستول سے اکا دکا فائر کرتے رہو تاکہ وہ تمھاری طرف متوجہ رہیں۔“
اس نے منہ بنایا۔”پستول کی گولی ان کا کیا بگاڑ لے گی۔“
میں چڑتے ہوئے بولا۔”میں نے عرض کی ہے انھیں متوجہ رکھنا ہے،اس کے علاوہ کوئی مطالبہ نہیں کیا۔“
اس نے اندیشہ اگلا۔”اگر میں سامنے آیا تو ان کے پاس بھی رائفلیں تو ہیں ناں؟“
میں نے اسے تسلی دی۔”ان کے پاس سنائپر رائفل نہیں ہے حضور ہے ،اس لیے وہ اتنی دور سے تمھیں نشانہ نہیں بنا سکیں گے۔“
اورمزید وضاحت کیے بغیر میں نے ایس آر ون پر نئی میگزین چڑھائی، کمر کے ساتھ بندھے ہولسٹر کو تھپتھپا کر گلاک کی موجودی کو یقینی بنایا اور پہاڑی کے عقبی جانب اتر نے لگا۔میری رفتار کافی تیز تھی۔ایس آر ون میں نے بغیر پیک کیے کندھے پر رکھ لی تھی اور سنائپنگ سے متعلق باقی سامان وہیں چھوڑ دیا تھا۔
وہ چھوٹی سی پہاڑی تھی اس لیے مجھے اترنے میں منٹ بھر سے زیادہ وقت نہیں لگا تھا۔نیچے پہنچتے ہی میں بائیں جانب پہلے سے منتخب راستے پر دوڑ پڑا۔پہاڑی کی لمبائی ڈیڑھ دو سو گز سے زیادہ نہیں تھی۔اور وہ ہدف کے متوازی نہیں بلکہ خاصی ترچھی تھی۔یوں کہ اس کے بائیں کونے تک پہنچنے کے بعد مجھے کاروں سیدھ میں ہونے کے لیے چار پانچ سوقدموں سے زیادہ فاصلہ طے نہ کرناپڑتا۔ مذکورہ فاصلہ طے کرتے ہی میں دائیں مڑا چند گز کے بعد آڑ ختم ہو گئی تھی۔آگے کھیت تھے،جن کی منڈیریں بہ ہرحال اتنی اونچی نہیں تھیں کہ سیدھا کھڑا ہو کر نظر آنے سے بچا جاسکتا ،البتہ عبدالرشید کی وجہ سے ان کا دھیان سامنے تھا اور خطرہ مول لیا جا سکتا تھا۔رشید کے پستول کے چند فائر مجھے سنائی دیئے تھے۔میں گندم کے ننھے پودودں کے درمیان قدرے ترچھا بھاگنے لگا۔
ایک دم تیز بھاگنے کی وجہ سے سانس پھول گیا تھا،لیکن یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا کہ میرے قدموں میں رکاوٹ ڈال سکتا۔سڑک عبور کر کے میں دس بارہ قدم آگے آیا اور وہ نظر آنے لگے۔ دونوں گاڑیوں کے پہیے کے پیچھے دبکے ہوئے تھے اور دائیں بائیں کے بجائے گاڑی کے نیچے سے پہاڑی کی سمت دیکھ رہے تھے۔ایک کے کان سے موبائل فون لگا تھا شاید اپنے آدمیوں کو کال کر رہا تھا۔میں نے کھیت کی منڈیر پر ایس آر ون کی دوپائی گاڑی اور بٹ اپنے کندھے میں پھنسا کر دوزانوبیٹھ گیا۔ٹیلی اسکوپ سائیٹ میں سے دیکھتے ہی وہ نہایت قریب نظر آنے لگے تھے،اتنے کم فاصلے پر ان کے چہروں پر چھائی وحشت اچھی طرح دیکھی جا سکتی تھی۔وہ ظالم اور شقی القلب ٹولہ تھا جن کے ہاتھ نہ صرف غریبوں کے خون سے رنگے تھے ،بلکہ وہ مفلسوں کی عزتیں پامال کرنے کے مجرم بھی تھے۔شری ناتھ یادیو جیسے ابلیس کی طاقت یہی لوگ تو تھے اور ایسوں کو زندہ چھوڑ کر میں غریبوں کے ساتھ ناانصافی نہیں کر سکتا تھا۔
فاصلہ پہلے سے کم ہو گیا تھا ،میرے اندازے کے مطابق پانچ سو میٹر سے زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔میں نے اندازے ہی سے ایلی ویشن ناب کو گھما کر مطلوبہ کلک کم کر دیئے۔لیزر رینج فائینڈر میں پیچھے چھوڑ آیا لیکن درست فاصلہ ناپنے کو میں سائیٹ کا اندرونی پیٹرن بھی استعمال کر سکتا تھا۔ البتہ تب میں نے وقت ضائع کرنا اس لیے مناسب نہ سمجھا کہ ایک تو فاصلہ کم تھا اور دوسرا میں نے گولی ہدف کے سر میں نہیں مارنا تھی۔
موبائل فون استعمال کرنے والے کوچھوڑ کر میں نے دوسرے کے کندھوں کے بیچ شست سادھتے ہوئے لبلبی کھینچی،گولی اس کی چھاتی سے نکل کر پہیے میں لگی تھی۔ اس کا تڑپنا اور پہیے کا زوردار دھماکے سے پھٹنا ایک لے میں ہوا تھا۔
موبائل فون والے نے موبائل نیچے پھینکا اور حواس باختہ ہو کر عقبی قدموں پیچھے ہٹنے لگا۔ اس کی کلاشن کوف سنگل راﺅنڈ فائر کرنے پر سیٹ تھی اوروہ مسلسل فائر کر رہا تھا۔میں نے اس کے نچلے دھڑ پر نشانہ سادھتے ہوئے لبلبی دبا دی۔
زوردار چیخ کے ساتھ وہ اوندھے منہ گرا اور ہتھیار چھوڑ کر اپنی زخمی ٹانگ کو دبا کر خون روکنے کی کوشش کرنے لگا۔میں نے سیفٹی لگاتے ہوئے ایس آر ون کندھے پر رکھی اور اس کی طرف دوڑ پڑا۔ بھاگتے ہوئے میں نے گلاک پستول ہولسٹر سے نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا تھا۔دوڑتے دوڑتے میں نے پستول کاک کر کے فائر کے لیے تیار کر لیاتھا۔(عام پستولوں کے برعکس گلاک کی خامی سمجھو یاخوبی کہ اس کا ہیمر پستول کی باڈی کے اندر ہی ہوتا ہے۔اور سیفٹی لبلبی کے اندر پوشیدہ ہوتی ہے۔یعنی اس کے ٹریگر کے اندر ایک اور چھوٹا سا ٹریگر ہوتا ہے اور جب تک اس پر زور نہ پڑے فائر نہیں ہوتا۔جن پستولوں کا ہیمر کیچ باڈی کے باہر ہوتا ہے،اگر کوئی پستول کا ک کر کے ہیمر کو انگوٹھے کی مدد سے دبا کر ٹریگر کوآہستگی سے آزاد کر دے تو غیر آرادی یا حادثاتی فائر نہیں ہو سکتا ،پھر سیفٹی لگانے پر حفاظت کا معیار دہرا ہو جاتا ہے اور اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ فائر کرتے وقت پستول کو مکمل کاک نہیں کرنا پڑتا ،صرف ہیمر کو پیچھے کھینچنا پڑتا ہے جو فقط انگوٹھے کے دباﺅ سے ہی ہوجاتا ہے)
وہ ٹانگ کو ایک ہاتھ سے دباتے ہوئے گاڑی کی طرف رینگنے لگا۔اب تک وہ احمق یہی سمجھ رہا تھا کہ شاید میں نے اسے پہاڑی کی بلندی سے نشانہ بنایا ہے۔
میں جونھی بیس پچیس قدم کی دوری پر پہنچا اسے چاپ سنائی دے گئی تھی۔اس نے تڑپتے ہوئے مڑ کر دیکھا اوراس کے ہاتھوں نے زخم کو چھوڑتے ہوئے ہتھیار کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔
میں نے گلاک سیدھا کیا....”ایسا سوچنا بھی مت،ورنہ کچھ بھی سوچنے کے قابل نہیں رہو گے۔“
کلاشن کوف کو پرے دھکیلتے ہوئے اس نے ہاتھوں سے اپنی ران کو دبا لیاتھا۔ اذیت بھری کراہیں ظاہر کر رہی تھیں کہ ایس آر ون کی گولی نے ران کے گوشت ہی نہیں ہڈی میں بھی چھید کر دیا تھا۔
میں نے شہزادی(ایس آر ون) کو نیچے رکھا اورہاتھ لہرا کر عبدالرشید کو اپنی طرف بلا لیا۔
اس نے بھی اٹھ کر جوابی ہاتھ لہرا دیا تھا۔
میں اپنے شکار کی طرف متوجہ ہوااور اس کے سامنے اکڑوں بیٹھتے ہوئے کہا۔ ”ابے کہا جو تھادور رہنا۔“
”کک....کس کو،کب....؟“وہ ہکلا گیا تھا۔
”اس بھڑوے کو ۔“میں نے موہن بھیمانی کی لاش کی طرف اشارہ کیا۔”اسے اچھی طرح سمجھایا تھا کہ پنگے نہ لے اور یہ بغیر سوچے سمجھے دوڑا چلا آیا۔“
وہ کراہتے ہوئے بولا۔”میں اس بارے کچھ نہیں جانتا۔“
میں مطلب کی گفتگو پر آیا۔” کس سے بات کر رہے تھے؟“
اس نے ہکلاتے ہوئے نفی میں سرہلایا۔”مم....میں کسی سے نہیں ۔“
”زیادتی کر رہے ہو دوست!یقین مانوزخمی ران پر میں نے زور سے تھوک بھی دیا تو تمھاری چیخیں بغیر موبائل کے تمھارے زندہ ساتھیوں تک پہنچ جائیں گی اور اگر زخم پر کس کر ایک مکا مار دیا تو تم خودان ساتھیوں کے پاس پہنچ جاﺅ گے۔“میں دائیں بائیں بکھری لاشوں کی طرف اشارہ کیا۔
وہ خوفزدہ انداز میں بولا۔”مہاراج شری ناتھ کو صورت حال سے آگاہ کر رہا تھا۔“
”تو کیا بتایا، کیا ہو رہا ہے؟“
اس نے وضاحت کی۔”وہ سوئے ہوئے ہیں بات نہیں ہو پائی، خدمت گار کو بتایا ہے کہ انھیں جگا دیں، لیکن اس سے پہلے ہی آپ کے حملوں نے اتنا خوفزدہ کر دیا کہ مجھے موبائل فون پھینک کر جان بچانا پڑی۔“
میں نے پوچھا۔”تو اب انھیں کیا کہو گے؟“
وہ خشک ہونٹوں کو زبان پھیر کر تر کرتا ہوا بولا۔”جج....جیسا آپ کہیں ،کہہ دوں گا۔“
”سچ بتاﺅکیا مہاراج شری ناتھ ،موہن بھیمانی کے کرتوتوں سے واقف نہیں ہیں۔“ میں نے اسے ایسا تاثر دیا گویا میں شری ناتھ کو نیک آدمی سمجھتا ہوں۔
وہ گڑبڑاتے ہوئے بولا۔”جج....جی ....جی انھیں معلوم نہیں ہے کہ موہن صاحب کیا کرتے پھرتے ہیں۔“
میں نے پوچھا۔”اچھا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ میں مہاراج شری ناتھ کو اکیلے میں مل سکوں؟“
اس نے حیرانی ظاہر کی۔”کس لیے ملنا چاہتے ہو؟“
میں اطمینان سے بولا۔”تاکہ بتاسکوں کہ موہن بھیمانی ان کے نام پر کیا گل کھلاتا رہا ہے اور ان کے معصوم بھگتوں پر کیسے کیسے ظلم ڈھاتا رہا ہے۔“
اس نے اپنے تیئں دلیل دی۔”کیا فائدہ جب موہن صاحب ہی باقی نہیں رہے۔“
میں اتنا کچا نہیں تھا کہ اس کی دلیل کا رد نہ کر سکتا،فوراََ بولا۔”یقینا موہن کے کئی خیر خواہ مہاراج کے داسوں کا روپ دھارے ان کے گرد موجود ہوں گے اور ان کا قلع قمع کرنے کو ضروری ہے کہ مہاراج کو ان کے بارے مکمل معلومات پہنچائی جائیں۔“
اس نے دائیں بائیں سرہلایا۔”سچ کہوں تو ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔مہاراج کسی انجان سے اپنے محافظوں کی غیر موجودی میں ملاقات کرنے پر قطعناََ تیار نہیں ہوں گے اور اگر ہو بھی گئے تو اپنی رہائش ہی پر بلائیں گے جہاں تمام محافظوں نے انھیں گھیرا ہوگا۔“
میں نے لاشوں کی طرف اشارہ کیا۔”ان کے کریا کرم میں تو مہاراج اَوَشِّیَک پدھاریں ”ضرور تشریف لائیں )گے۔اور اس مقصد کو انھیں باہر بھی نکلنا پڑے گا ،وہاں توملاقات ہونا ممکن ہے نا؟“
وہ الجھن آمیز لہجے میں بولا۔”تب بھی وہ محافظوں کے گھیرے ہی میں ہوں گے۔“
رشید نے آتے ہی اعلان کیا۔”ہمیں یہ جگہ جلد چھوڑنا ہوگی۔“
اس کی طرف مڑے بغیر میں نے ہدایت دی۔”سامان کار میں رکھو میں تب تک اپنے دوست سے چند باتیں کر لوں اور رائفل کا بیگ مجھے دے دو تاکہ رائفل کو پیک کر سکوں۔“
”ٹھیک ہے باس!“وہ ایس آر ون کا بیگ میرے سامنے رکھ کر کمروں کی طرف بڑھ گیا۔
میں نے دھمکی آمیز لہجے میں پوچھا۔”اچھا ذرا مہاراج کی رہائش کا حدوداربعہ اور ان کے محافظوں کی تفصیل بیان کرواور یاد رہے میرے پاس پہلے بھی اچھی خاصی معلومات ہیں،اجیت رائے سے بھی بہت کچھ معلوم ہوا تھا،میں دیو گڑھ کے مندر اورآشرم میں بھی کئی بار جا چکا ہوں ،اس لیے خوب سوچ سمجھ کر جواب دینا ذرا سی غلط بیانی تمھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بیان دینے سے محروم کر سکتی ہے۔“ یہ کہہ کر میں ایس آر ون کو کھول کر بیگ میں رکھنے لگا۔
وہ دھیمے لہجے میں جواب دینے لگا،تفصیل سن کر میں نے چند ضروری سوال پوچھے اور پھر اسے بھی اس کے ساتھیوں کے پاس بھیجنے کو گلاک سیدھا کیا،سائیلنسر لگے گلاک نے بھی ہلکا سا کھانس کراس کے دل میں سوراخ کر دیا تھا۔اس کا سر پہیے سے ٹکرایا اور وہ لمبا پڑ کر ایڑیاں رگڑنے لگا ۔
”نیچے تشریف لا کر میری مدد کر دو۔“میں نے رشید کو پکارا جو کار اسٹارٹ کر کے جانے کی تیاری پکڑ چکا تھا۔
اس نے اندیشے بھرے لہجے میں مطلع کیا۔”باس !شنید یہ ہے کہ دشمن کی تین گاڑیاں ادھر آنے کو نکل پڑی ہیں ۔“
میں نے تسلی دی۔”بے فکر رہو ان کے آنے سے پہلے ہم جا چکے ہوں گے۔“
اس نے نیچے اتر کر پوچھا۔”کیا کرنا ہے؟“
میں نے کام بتایا۔”ان کے ہتھیار کار کی ڈگی میں رکھوکیوں کہ دشمن کا اسلحہ اس کے لیے کبھی نہیں چھوڑا جاتااور تمام لاشوں کو دشمن کی گاڑیوں میں منتقل کرنا ہے۔“
وہ سرہلاتا ہوا دشمن کے ہتھیار اکٹھے کرنے لگا۔میں نے لاشوں کو ڈبل کیبن میں منتقل کرنا شروع کر دیاتھا۔ہتھیار کار کی ڈگی میں رکھ کر وہ میرا ہاتھ بٹانے لگا۔موہن بھیمانی کی میں نے خصوصی تلاشی لی تھی۔اس نے ہاتھ میں” والتھر پی نائینٹی نائین “پکڑا ہوا تھا۔یہ ایک بہترین پستول ہے ۔ یہ بھی نائین ایم ایم قطر کا ہے اور اس کی گولیاں گلاک میں استعمال ہو سکتی ہیں۔میں نے شکریہ کہتے ہوئے پستول اپنی جیب میں رکھ لیا۔مگر وہ جواب دینے کی حالت میں نہیں تھاکہ مجھے خوش آمدید کہہ سکتا۔
اس نے گلے میں سونے کی کافی موٹی زنجیر ڈالی ہوئی تھی جسے یونھی چھوڑ دینا بھی مجھے بہتر نہ لگا،آخر وہاں رہنے کے بہت سے اخراجات پورا کرنے کو مجھے بھی رقم کی ضرورت پڑتی سکتی تھی۔البتہ ایک بات کا میں نے ہمیشہ دھیان رکھا کہ کسی بھی مشن پر ملنے والی ایسی رقم میں گھر نہیں لے جاتا تھا۔نہ کبھی میں نے کسی عام یا شریف شخص کی دولت پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کی۔ویسے بھی میرا ٹاکرا شریف لوگوں سے نہیں ہوتا تھا۔البتہ صفائی اس لیے دی کہ یہ جزئیات لوگوں کے دماغ میں کوئی الٹی سیدھی سوچ پیدا کر سکتی ہیں، جبکہ میری کوشش ہوتی ہے کہ ایسے تمام واقعات کا احاطہ کروں جو مشن میں پیش آئے اور چھوٹے سے چھوٹے جزیے کو بھی نظر انداز نہ کروں۔تاکہ لوگوں کے لیے کوئی گوشہ تشنہ نہ رہے ایسے بہت سے سوالات جو کسی بھی تحریر پر اٹھائے جا سکتے ہیں ہے میری کوشش ہوتی ہے کہ دخل در معقولات (کسی کا گفتگو کے بیچ میں بولنا)سے پہلے ہی ان کی وضاحت کر دوں ۔میرے قارئین میں اچھی خاصی تعدادپاک آرمی سے تعلق رکھنے والوں کی ہے اور ہتھیار،ایمونشن ،مورچوں ،چھاپہ ،گھات ، قراولی اور دوسری فوجی معلومات ان کے لیے کوئی نئی یا اچھوتی نہیں ہوتیں ہیں۔شاید کچھ لوگوں پر یہ معلومات ناگوار بھی گزرتی ہوں ،لیکن بہت سے قارئین ایسے بھی ہیں،خصوصاََ عورتیں جو اس بارے بالکل لا علم ہیں ،اگر میں وضاحت نہ کروں تو ناول کے بہت سے مناظر ان کے لیے وضاحت طلب رہ جائیں گے ۔
جاری ہے
قسط نمبر32
ریاض عاقب کوہلر
رشید مزاحیہ انداز میں بولا۔”باس !لاشوں سے گفتگو کا فن ہمیں بھی سکھا دو۔“
میں ہنسا۔”صرف شکریہ ادا کیا ہے یار!....وہ کیا ہے کہ مجھے ہتھیاروں سے خصوصی لگاﺅ ہے اور اس نے اتنا بہترین پستول ترکے میں چھوڑ ا ہے۔“
اس نے کہا۔”لاشوں کو پڑا رہنے دیتے ہیں۔“
میں نے کہا۔”تم نہیں سمجھو گے مہاراج!بس دیکھتے جاﺅ۔“
دونوں گاڑیوں کی اگلی سیٹوں پر ہم نے دو دو لاشیں اور عقبی نشست پر چار چارلاشیں یوں رکھیں جیسے وہ بیٹھے ہوں بارہ لاشیں آسانی سے گاڑیوں کے کیبن میں سما گئی تھیں ۔میں نے کار کی ڈگی سے ایک کلاشن کوف اور چار بھری ہوئی میگزینیں نکالیں اورگاڑیوں کی طرف بڑھ گیا۔رشید کھوجنے والی نگاہوں سے مجھے گھور رہا تھا،لیکن اس نے استفسار کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔
میں نے اگلی گاڑی کے داہنی جانب کھڑے ہو کر کلاشن کوف کا ک کر کے سیفٹی لیور کو چھٹے(برسٹ) پر سیٹ کیا اور لبلبی دبا دی۔ بیرل کو میں چھڑکاﺅ کے انداز میں اگلی اور عقبی دونوں نشستوں پر پھیرتا رہا۔تڑتڑاہٹ سے ماحول گونج اٹھا تھا۔پھر اسی گاڑی کے دوسری جانب کھڑے ہوکر میں نے دوسری میگزین خالی کی ۔خالی میگزینیں میں رشید کی جانب پھینکتا رہا تاکہ وہ سنبھال لے۔دوسری گاڑی کے دونوں جانب بھی میں نے یہی حرکت دہرائی۔ وہ عام کھڑکیاں تھیں بکتر بند گاڑی نہیں تھیں کہ گولی کو روک پاتیں۔گاڑی کی باڈی میں چھلنی کی طرح سوراخ ہو گئے تھے۔
کلاشن کوف کے لگاتارفائر کی شرح (ریٹ آف فائر)کافی تیز ہے ۔یعنی ایک منٹ میں سات سو سے آٹھ سو راﺅنڈ فائر کر سکتی ہے اورویسے تو کلاشن کوف کی مختلف قسم کی میگزینیں دستیاب ہیں جن میں چالیس،پچھتر اور ایک سو بیس گولیوں کی گنجائش رکھنے والی میگزینیں شامل ہیں لیکن زیادہ استعمال ہونے والی میگزین میں تیس گولیوں کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس سے اندازہ لگالیں کہ ایک میگزین کتنے سیکنڈ میں خالی ہو سکتی ہے۔میرا ذاتی تجربہ ہے کہ تیس گولیوں والی میگزین کو خالی ہونے میں اڑھائی سے تین سیکنڈ کا وقت لگتا ہے۔ (یہاں پرایک وضاحت کر دوں کہ کچھ ہتھیار خودکار(آٹومیٹک) ہوتے ہیں جیسے ایل ایم جی اور بارہ عشاریہ سات ایم ایم گن وغیرہ ،خودکار حالت میں جتنی دیر لبلبی (ٹریگر) پر دباﺅ برقرار رکھا جائے ہتھیار فائر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میگزین سے آخری گولی بھی فائر ہو جائے۔کچھ ہتھیارنیم خودکار(سیمی آٹومیٹک) ہوتے ہیں جیسے مختلف پستول وغیرہ ، نیم خود کار حالت میں ہر گولی فائر کرنے کو لبلبی دبانا پڑتی ہے۔اور کچھ ہتھیار بلٹ ایکشن ہوتے ہیں جیسے رینج ماسٹر،تھنڈر بولٹ وغیرہ ، بلٹ ایکشن ہتھیاروں میں ہر بار گولی چلا کر رائفل نئے سرے سے کاک کرنا پڑتی ہے اور ایسا عام طور پر سنائپر رائفلوں میں ہوتا ہے ۔کچھ ہتھیارخودکار و نیم خودکار دونوں طرح عمل کرتے ہیں ان کے سیفٹی لیور تین پوزیشنوں پر لگائے (ایڈجسٹ) جا سکتے ہیں جیسے جی تھری ، کلاشن کوف وغیرہ۔ البتہ انڈیا کی بنی ہوئی رائفل انساس میں ایک اضافی خوبی ہے کہ تین گولیوں کا چھٹا ایک بار لبلبی دبانے پرفائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔قریب کی لڑائی یعنی عمارتی لڑائی میں رائفل کی یہ خوبی کافی مفید رہتی ہے،کیوںکہ دشمن سے مقابلے کے وقت احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ ایک سے زیادہ گولیاں فائر کر کے اس کی ہلاکت کو یقین بنایا جائے اور نیم خود کار حالت میں مسلسل دو یا تین بار لبلبی دبانا ایک بار لبلبی دبانے سے بہ ہرحال دقت طلب ہے، اگرسیفٹی کو خودکار حالت میں رکھا جائے تب بھی یہ مسئلہ رہتا ہے کہ ایک بار کے دباﺅ سے چار پانچ گولیاں فائر ہو جاتی ہیں جو ایمونیشن کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں )
گاﺅں کے جولوگ کھیتوں میں کام کر رہے تھے یا کسی اور وجہ سے گھر سے باہر تھے وہ فائرنگ کی شروعات ہی میں گھروں کو بھاگ گئے تھے۔شاید کسی تیزطرار نے تھانے بھی گھنٹی کردی ہو مگر اب تک پولیس نہیں پہنچی تھی۔ایسا ہونے کی صورت میں ہمیں اپنے آدمی ضرور مطلع کرتے،کیوں کہ اس گاﺅں میں تھانہ یا پولیس چوکی موجود نہیں تھی ،وہاں سے تھانہ دس بارہ کلومیٹر دور تھا۔خیر یہ اتنا فاصلہ نہیں تھا کہ پولیس اب تک پہنچ نہ پاتی۔ اس کی وجہ یہی ہو سکتی تھی کہ کسی نے تھانے میں اطلاع دینے کی زحمت ہی نہیں کی تھی یا پولیس کو اطلاع تو مل گئی تھی مگر وہ لڑائی کے اختتام کا انتظار کر رہی تھی اور یہ زیادہ قرین قیاس تھا۔پڑوسی ہونے کے ناتے ان کی پولیس کی عادات بھی ہم سے مختلف نہیں ہیں وہ بھی سانپ نکلنے کے بعد لکیر پیٹنا بہتر سمجھتے ہیں۔
فائر کر کے میں نے کلاشن کوف کار کی ڈگی میں رکھی اور رشید کے ہمراہ بیٹھ گیاوہ اسٹیئرنگ پر تیار بیٹھا تھا،میرے نشست سنبھالتے ہی اس نے کار آگے بڑھا دی۔اس نے گاﺅں والے راستے کے بجائے اسی سڑک پر سیدھا چلنا بہتر سمجھا تھا۔
آگے بڑھتے ہی اس نے شگوفہ چھوڑا۔”مجھے نہیں لگتا کہ لاشوں پر گولیاں برسانے کی وجہ رکمنی کی محبت ہو سکتی ہے۔“
میں نے طنزیہ انداز میں ماضی قریب کا مکالمہ یاد دلایا۔”یاد ہے کہا تھا تمھیں وقت کا ضیاع بالکل پسند نہیں ہے؟“
وہ قہقہ لگاتے ہوئے بولا۔”تب میں خود کو قائد سمجھ رہا تھا اور قیادت کرنے والااتنا نخرہ تو کر سکتا ہے نا۔“
میں متبسم ہوا۔”خیر سینئر تو تمھی ہو۔“
اس نے حقیقت اگلی۔”سچ تو یہ ہے ویر جی !آج تک کافی لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا،لیکن کوئی بھی اتنا باصلاحیت ،بااعتماد اور ہنس مکھ شخص نہیں دیکھا۔ہم تو ایک دوسرے کے فرضی نام کے علاوہ کچھ جانتے ہی نہیں ہیں ،لیکن تمھارے ساتھ کام کرتے ہوئے یوں لگ رہا ہے ہماری برسوں کی واقفیت ہے۔میری ہنسی مذاق کی حس تو دشمن ملک کی فضا نے ایسے چھین لی تھی گویا مجھے ہنسنا آتا ہی نہیں ہے اور اب ہر بات کھلے ڈلے اور بے تکلفی کے انداز میں کرنے کو جی چاہتا ہے۔“
میں فلسفیانہ انداز میں بولا۔”پریشانیوں کوسوچنا،الجھنوں کو اپنے مزاج پر حاوی رکھنااور مشکلات کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے مسائل کا حل نکلا کرتا ہے نہ انسان کامیابیاں سمیٹ پاتا ہے۔باقی ہونا تو وہی ہے جو مالک کی مرضی ہے ،ہم صرف کوشش کر سکتے ہیں اورمیرے خیال میں ہنستے ہوئے جدوجہد کرنے والا رنکھی محنت کرنے والے سے بہتر ہوتا ہے۔“
وہ موضوع کی طرف پلٹا۔”میں نے کچھ پوچھا تھا۔“
میں وضاحت کرتے ہوئے بولا۔”اگر لاشوں کو یونھی چھوڑ جاتے تو کوئی ادنیٰ ذہانت رکھنے والابھی جان جاتا کہ یہ کسی سنائپر کا کام ہے اور عام غنڈوں میں سنائپر نہیں پائے جاتے اور سنائپر بھی ایسا جس نے بارہ افراد کو اکیلے ہی نرگ باشی(جہنم رسید) کر دیا ہو۔یقینا شری ناتھ ایک منٹ میں سمجھ جاتا کہ یہ دنیش رام کے آدمی کا کام ہے ۔ اور بہ طور سنائپر میں انڈیا میں خاصا بدنام ہو چکا ہوں، دو جمع دو چار کی طرح سب کا شک میری طرف جاتا، اصل بات کی کرید ہوتی اور تحقیق کرنے پر دنیش رام کا راز فاش ہو جاتا۔جبکہ اب لگے گا ان پر فائر کرنے والے زیادہ لوگ تھے جنھوں نے انھیں گاڑیوں کے اندر ہی بھون ڈالا۔باقی امید یہی ہے کہ شری ناتھ اپنے آدمیوں کا پوسٹ مارٹم کرائے بغیر ہی ان کاکریا کرم کر دے گا۔جب ہر آدمی کے جسم میں درجنوں گولیاں پیوست ہوں گی تو وجہ جاننے میں وقت کوئی احمق ہی ضائع کرے گا۔ویسے بھی توجہ اور باریک بینی سے پوسٹ مارٹم تب کیا جاتا ہے۔جب پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے کوئی خاص شواہد حاصل کرنے ہوں۔ان کا پوسٹ مارٹم ہو بھی گیا،تب بھی کسی کارپورٹ دیکھنے میں دلچسپی ظاہر کرنا مشکل لگتا ہے۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولا۔”اس سے بہتر تھا گاڑیوں کو آگ لگا دیتے ،نہ رہتا بانس اور نہ بجتی بانسری۔ آدمیوں کے ساتھ دشمن کی دو قیمتی گاڑیاں بھی ضائع ہو جاتیں۔“
میں نے اسے کڑی نظروں سے گھورا۔”اس طرح تو ان کا کریا کرم ہو جاتااور شری ناتھ مہارا ج پر دھاوا بولنے کا موقع ہم کھو دیتے۔اب تو یقینا ان کی چتا کو آگ لگانے خود پہنچے گا کہ معاملہ اتنے زیادہ چیلوں کی ہلاکت کا ہے۔ اپنے دست راست موہن بھیمانی کے لیے تو یقینا شمشان گھاٹ آئے گااورامید ہے لبلبی دبانے کا موقع مل ہی جائے گااور الحمد اللہ میری لبلبی دبانے والی انگلی کو ناکامی کا منہ دیکھنے کا موقع کبھی نہیں ملا۔“
اس نے حیرانی ظاہر کی۔”تمھاری پیش گوئی ہمیشہ پوری ہوتی ہے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”اسے پیش گوئی نہیں تجربے بھرا اندازہ کہتے ہیں اور جب بات تجربے کی آتی ہے تو اندازہ؛ ....ظن ،قیاس و تخمینہ نہیں رہتا،یقین کی حدوں کو چھونے لگتا ہے۔“
وہ تحسین آمیز لہجے میں بولا۔”مان گیا ہوں باس !“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”اگر ایسا ہے توجلد از جلد کسی ٹھکانے پر پہنچنے کی کوشش کرو،کار کی ڈگی ہتھیاروں سے بھری ہوئی ہے ،یہ نہ ہو اپنی کامیابی کو کسی کی نظر لگ جائے۔“
”مسئلہ ہی کوئی نہیں۔“بے پروائی سے کندھے اچکاتے ہوئے اس کار نے کی رفتار بڑھادی۔ راستے میں دوتین ملاپی سڑکیں (لنک روڈ) چھوڑ کر وہ چوتھی سڑک پر مڑ گیا۔ پہلے ہم دو رویہ سڑک (ڈبل روڈ) پر گامزن تھے اب اکہری سڑک(سنگل روڈ ) آ گئی تھی۔وہ موبائل فون نکال کرکسی کو گھنٹی کر نے لگا۔رابطہ ہوتے ہی اس نے کہا۔
” تمھاری طرف آرہا ہوں ، ساتھ ایک مہمان بھی ہے۔“
ذرا سا وقفہ دے کر بات سنی اور پھر بولا۔”کھانا کھائیں گے ،شب بسری کا فیصلہ باس کرے گا۔“ذرا سا وقفہ دے کر کہا....
”ہاں وہی ہے اور باقی باتیں ملنے پر کریں گے۔“رابطہ منقطع کر کے وہ میری طرف متوجہ ہوا۔
”رات یہیں گزاریں گے یاجودھ پور یا پالی کا قصد کریں گے۔“
میں نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”یہاں مجھے دیو گڑھ کے پاپی کے تازہ حالات سے باخبر رکھ سکو تو یہیں رات گزار لیں گے۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”اس کا انتظام تو ہو چکا ہے،جہاں بھی رہیں گے تازہ صورت حال سے مطلع رہیں گے۔“
اور میں نے چپ سادھتے ہوئے فیصلہ اس کی صواب دید پر چھوڑ دیا۔
دو چھوٹے چھوٹے دیہات گزرنے کے بعد قدرے بڑی آبادی نظر آئی ،اس نے رفتار کم کرتے ہوئے ،کار سڑک سے اتار کر ایک گلی میں گھسا دی۔ گلی گو کچی تھی مگرکافی کشادہ تھی۔تیسرے مکان کے سامنے کار روکتے ہوئے اس نے ہارن دیا،چوڑا دروازہ فوراََ کھل گیا تھا۔وہ کار اندر لے گیا۔
دروازہ کھولنے والا تیس پینتیس سال کا بھرپور مرد تھا،بڑی بڑی مونچھیں ،کندھوں تک آتی گھنگریالی زلفیں، گہرا سانولا رنگ،مضبوط جسم؛ قمیص اور دھوتی باندھے ہوئے تھا۔جسامت سے پہلوان لگ رہا تھا۔
”سواگت ہے بھا جی!“ہم جیسے ہی نیچے اترے وہ بازو پھیلاتا ہوا میری طرف بڑھا۔ مجھ سے معانقہ کر کے اس نے رشید کو بھی زوردار جپھی ڈالی تھی۔(یہاں ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ انڈیا میں سیکڑوں بھاشائیں مطلب زبانیں بولی جاتی ہیں، خود انڈیا میں رہنے والے فقط ایک دو زبانیں ہی جانتے ہیں ۔اگر صرف ریاست راجھستان کا ذکر کروں تو وہاں درجنوں بولیاں بولی جاتی ہیں جیسے : ماواڑی،ہڑوتی،ہیرواٹی،پنجابی،بیکانیری،گوڑواڑی، دیوڑاوای، دھاوڑی، میواڑی، باگڑی، راگڑی، نیماڑی، ہاڑوتی، مالوی، ناگرچل وغیرہ کسی راجھستانی کو بھی ان تمام زبانوں پر مکمل عبور نہ ہوگا۔مجھے بھی مختلف لوگوں سے ٹاکراہونے پر مختلف زبانیں سننا پڑتیں۔دورانِ کورس ہمیں عموماََہندی سکھائی جاتی جسے ہر علاقے کے لوگ زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت تو سمجھتے ہی ہیں ۔جیسے پاکستان میں ہر صوبے کی اپنی بولی ہے ،لیکن اردو سمجھنے والے قریباََ ہر علاقے میں موجود ہیں۔راجھستان کی سب سے بڑی یا زیادہ بولی جانے والی زبان راجھستانی بھاشا ہے ۔چونکہ لکھتے وقت ہر زبان کا لحاظ رکھنا مشکل ہوتا ہے اور یہ ناول ہے کوئی درسی کتاب نہیں اس لیے مکالمہ وغیرہ اردو ہی میں تحریر کرتا ہوں ،البتہ اکا دکا لفظ ہندی کا بھی استعمال کر لیتا ہوں جو صرف خانہ پری کو ہوتا ہے۔اگر ہر مکالمے کو اسی انداز میں لکھوں جیسے بولا گیا تو اس کا ترجمہ بھی لکھنا پڑے گا،ورنہ معدودے چند کے شاید ہی کوئی تحریر کو سمجھ پائے)
تعارفی کلمات کے بعد ہم اس کی معیت میں چلتے ہوئے وسیع برآمدے میں آ بیٹھے ،جہاں بان کی چارپائیاں دھری تھیں۔ہمارے میزبان کا نام ونود سنگھ تھا۔
”کیا رہا؟“ہمارے تشریف ٹیکتے ہی ونود سنگھ اشتیاق سے مستفسر ہوا۔
رشید متبسم ہوا۔”موہن بھیمانی کی کسی نے ہتیا کر دی ہے۔بے چارے کو اتنی گولیاں لگی ہیں کہ زخموں کا شمار ناممکن ہوگیا۔“
”کیا....؟سچ میں ۔“متعجب انداز میں چلاتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ پکڑا۔”مان گئے استاد!پہلی ہی باری میں شری ناتھ کا دایاں بازو کاٹ دیا۔“
رشید اطمینان سے بولا۔”اوردوسرا نمبر شری ناتھ کا ہے۔“
ونود نفرت انگیز لہجے میں بولا۔”وہ سالا چوہے کے مافک بل میں گھسا ہے۔“
رشید نے میرا اندازہ دہرایا۔”اپنے چیلے چانٹوں کی چِتا کو اگنی دینے تواَوِشِّک آئے گا۔“
ونود پر خیال انداز میں بولا۔”پرنتوکڑے پہرے میں آوئے گا۔“
اسی دم رشید کا موبائل بج اٹھا۔اسکرین پر نظر دوڑا کر بولا۔”لگتا ہے پولیس یا شری ناتھ کے آدمی وقوعہ پر پہنچنے والے ہیں۔“اور کال وصول کرتے ہوئے موبائل فون کان پر رکھ لیا۔
ایک ادھیڑ عمرملازمہ نے آکر پوچھا۔”سردار جی !بھوجن پروس دوں ۔“
ونود سنگھ نے سوالیہ نظروں سے مجھے گھورا۔
میں بے تکلفی سے بولا۔”بھوک تو لگی ہے۔“
وہ ملازمہ کی طرف متوجہ ہوا۔”پروس دو۔“
ملازمہ واپس مڑ گئی۔رشید رابطہ منقطع کرتا ہوابولا۔”شری ناتھ کے چیلے پہنچ چکے ہیں ،پولیس بھی ان کے ہمراہ ہے۔“
میں نے کہا۔”اپنے ساتھیوں سے کہہ دو ہر پل کی خبر رکھیں ۔“
رشید بولا۔”نچنت رہیں باس!پہلے سے ہدایات دے رکھی ہیں۔“
اسی دوران میں ملازمہ نے بے تکلف کھانا چن دیا تھا۔کھانے کے دوران میں ہم گپ شپ کرتے رہے۔کھاناکھاکرمیں ایس آر ون کی صفائی کرنے لگا کہ فائر ہونے کے بعد ہتھیار کی صفائی نہایت ضروری ہے۔ونود سنگھ اور رشید کار کی ڈگی سے ہتھیار نکال کر کسی خفیہ جگہ چھپا رہے تھے۔ونود سنگھ کے دیہاتی طرز کے وسیع مکان میں کافی گنجائش تھی ۔چند کلاشن کوفیں تو کیا وہ درجن بھر گاڑیوں کو بھی آسانی سے چھپا دیتا۔
٭٭٭٭٭
شام کو معلوم ہوا کہ پولیس تمام لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے گئی تھی۔ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ اگلے دن دیو گڑھ کے شمشان گھاٹ میں ان کے کریا کرم کا بندوبست کیا جا رہا تھا۔
رشید نے تبصرہ کیا۔”سیکورٹی کا تو سخت انتظام ہو گا۔“
میں نے فیصلہ سنایا۔” پھر ابھی سے جا کر فائر کرنے کو مناسب جگہ ڈھونڈنا پڑے گی۔“
رشید نے کہا ۔”مجھے سنائی نہیں دیا کیا کہہ رہے ہو؟“
میں نے ہنستے ہوئے کہا۔”مذاق کر رہاتھا یار!“
اس نے سکھ کا سانس بھرا۔”شکر ہے ،میں تو سمجھا سچ میں رات خواری میں گزرے گی۔“
میں نے تصدیق چاہی۔”سماعتیں کام کرنے لگی ہیں ناں ۔“
وہ جلدی سے بولا۔”میں بھی مذاق کر رہا تھا۔“
”تو کھانا کھا کر آرام کرو،خوب اچھی نیند لو........“
وہ قطع کلامی کرتے ہوئے چہکا۔”شکریہ باس....بہت شکریہ۔“
میں سنجیدگی سے بولا۔”میری بات پوری نہیں ہوئی۔“
اس نے خیال ظاہر کیا۔”جانتا ہوں ، یہی کہنا ہے کہ کل سویرے نکلیں گے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”معلوم نہ تھا تم اتنا غلط اندازہ بھی لگا سکتے ہو۔“
وہ متعجب ہوا۔”کیا مطلب،گویا صبح بھی آرام کرنا ہے....پھر شری ناتھ کے خاتمے کو کب جائیں گے۔“
میں نے منہ بنایا۔”یہی تو بتا رہا تھا مگر تم نے بات ہی مکمل نہیں ہونے دی۔“
اس نے تکیہ دہرا کرتے ہوئے کہنی ٹیکی۔”چلیں اب بتا دیں ۔“
میں نے واضح کیا۔”ونود کو کہوہم سات بجے کھانا کھائیں گے،اس کے بعد تم بھرپورنیند لے لینااور ساڑھے سات بجے ہم دیو گڑھ کی جانب روانہ ہوجائیں گے۔“
اس نے تصدیق چاہی۔”صبح کے ساڑھے سات؟“
میں نے نفی میں سرہلایا۔” انیس سو تیس بجے،جسے عام لوگ شام کے ساڑھے سات کہتے ہیں ۔“
اس نے دہائی دی۔”مارے گئے باس!ظلم کی کوئی حد ہوتی ہے۔“
”سوا چھے بج رہے ہیں ،تم کھانے سے پہلے بھی پون گھنٹا آرام کر سکتے ہو اور کھانے کے بعد بھی دس پندرہ منٹ مل جائیں گے اور کتنا آرام چاہیے؟“
”خدا کسی سنائپر کے ساتھ قبر بھی سانجھی نہ کرے۔“طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے وہ ونود کو کھانے کا بتانے چل دیا۔
میں نے بلند بانگ قہقہ لگایا،مگر وہ کوئی ردعمل ظاہر کیے بغیر نکل گیاتھا۔
٭٭٭٭٭
کھانے کے بعد ہم نے کڑک چاے پی اورجانے کو تیار ہو گئے ۔ ونودمجھ سے بغل گیر ہوااور میرا ماتھا چوم کر کہا ۔
”رب راکھا میرے بھائی ،میرے دوست!....تم ہمارا فخر ہو۔“
میں نے انکساری سے کہا۔”یہ سب تم لوگوں کی دعاﺅں کے کرشمے ہیں ویر جی!“
”اپنا بہت خیال رکھنا۔“جذباتی لہجے میں کہتے ہوئے وہ میری پیٹھ تھپتھپاکر پیچھے ہو گیا۔
رشید پہلے ہی مصافحہ کر کے کار کی طرف بڑھ گیا تھا،میں اس کے پیچھے ہو لیا۔
بڑی سڑک پر چڑھتے ہی میں نے خاموشی کی دیوار گرائی۔”دیو گڑھ تک کتنا وقت لگے گا؟“
رشید نے شرافت سے جواب اگلا۔”دوگھنٹے لگ جائیں گے۔“
”مجھے کمین گاہ میں پہنچا کر تم کسی ہوٹل کا رستہ ناپنا۔“
وہ عزم سے بولا۔”اتنا بھی کمزور نہیں ہوں۔“
میں نے منہ بنایا۔”جتنا سوچتے ہو اس سے کچھ زیادہ ہی ہو۔“
وہ معترض ہوا۔”جاسوس ہوں ،کمانڈو نہیں کہ میری جسمانی برداشت ناپنے میں وقت ضائع کرتے رہو۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”تمھیں کُشتی نہیں نگرانی کرنا ہے۔“
اس نے کندھے اچکاتے ہوئے اعتراف کیا۔”اتنی سردی میں پوری رات کھلے میں گزارنے کی حماقت کوئی سنکی سنائپر ہی کر سکتا ہے، میرے بس کی بات نہیں ہے۔“
میں نے دہرایا۔” کہا تو ہے ، کسی ہوٹل میں چلے جانا۔“
وہ مسکنت سے بولا۔”مہاراج دنیش نے تاکید کی تھی کہ تمھاری حفاظت میں کوئی کمی نہ چھوڑوں ۔“
میں مزاحیہ انداز میں بولا۔”تم جیسا محافظ خدا کسی کو نہ دے۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”بہ ہر حال فکر نہ کرومیں ہوٹل میں جاگتا رہوں گا،کوئی بھی مسئلہ ہوتا ہے گھنٹی کرنا میں پہنچ جاﺅں گا۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”شمشان گھاٹ کے قریب کوئی اونچائی میسر ہے؟“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔”ہاں ،دیو گڑھ کو نیم پہاڑی علاقہ سمجھو۔“
میں نے پوچھا۔”علاقے کو اچھی طرح جانتے تو ہو نا۔“
”بے فکر رہیں باس!دیو گڑھ کے چپے چپے سے واقف ہوں ۔“
گپ شپ کرتے درمیانی رفتار سے کار چلاتے ہوئے ہم اڑھائی گھنٹے میں دیو گڑھ پہنچ گئے تھے۔شہر میں داخل ہوتے ہی میں نے کہا۔
”سیدھے شمشان گھاٹ چلو۔“
وہ شرافت سے بولا۔”ادھر ہی جا رہا ہوں باس۔“
شمشان گھاٹ کو دیکھنے کے بعد اس کے قریب پڑنے والی پہاڑیوں کو دیکھا،مگر اندھیرے کی وجہ سے دور دور تک دکھاﺅ ممکن نہ تھا بس مصنوعی روشنیوں کی مدد سے اندازہ ہی لگایا جا سکتا تھا۔“
گھنٹے ڈیڑھ کی مٹر گشت کے بعد میں نے رشید کو کسی ہوٹل میں چلنے کا کہا۔
وہ متعجب ہوا۔”مگر تمھارا ارادہ تو کچھ اور تھا۔“
میں منہ بناتے ہوئے بولا۔”مجھے تو حفاظت کا کوئی بندوبست نظر نہیں آیا۔“
”وہ شری ناتھ کے آنے سے گھنٹا بھر پہلے ہی سیکورٹی لگائیں گے،یہ تو نہیں کہاتھاکہ سرشام ہی راستوں کی نگرانی شروع کر دیں گے۔“
”خیر میں نے ارادہ موّخر کر دیا ہے کہ تمھارے بغیر ڈر لگے گا۔“
وہ جل کر بولا۔”تم بس میرامُوت خشک کرنا چاہتے تھے۔“
میں قہقہ لگا کر ہنس دیا تھا۔
جاری ہے
قسط نمبر33
ریاض عاقب کوہلر
وہ کھسیاتے ہوئے بولا۔”باس!تم جھوٹ بھی اس صفائی سے بولتے ہوکہ مخاطب کو سچ ہی لگتا ہے۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”جس بندے سے خدا عقل چھین لے اس کا ویسے بھی کچھ نہیں ہو سکتا۔“
وہ ماتھے پر ہاتھ مارتا ہوا بولا۔”ایک ہندو کا بہروپ بھر کر مسلسل خدا کی یاد میں لگے ہواور مجھ سے بھی بے احتیاطی کروا رہے ہو،جبکہ جاسوسی کا پہلا اصول ہے کہ تنہائی میں بھی اپنے بہروپ کے خلاف کوئی حرکت کرے اور نہ کچھ بولے۔“
”کرو احتیاط کس نے منع کیا ہے،باقی رہا میرا فعل تو میں جاسو س نہیں سنائپر ہوں۔“
”تم لا علاج ہو باس!“بے بسی بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے ایک ہوٹل کی پارکنگ میں کار موڑ دی۔عمارت کی پیشانی پر ہوٹل راج محل درج تھا۔تھوڑی دیر بعد استقبالیے سے ایک کمرے کی چابی پکڑ کر ہم پہلی منزل کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔کمرے میں دو سنگل بیڈ لگے ہوئے تھے۔تازہ دم ہو کر ہم آرام کرنے لیٹ گئے۔
آنکھیں میچنے سے پہلے میں نے ہدایت دی۔”صبح چھے بجے ہوٹل چھوڑ دیں گے اور چھے بجے کا مطلب ہے پانچ منٹ کم چھے بجے۔“
وہ معترض ہوا۔”تو صاف صاف پانچ منٹ کم چھے بجے کہیں ،پوراچھے بجے کہنے کا کیا مطلب ہوا؟“
میں نے اپنے فوجی ہونے کی یادہانی کرائی۔”پردیس میں آکر اپنے پیشے کے اصول تبدیل نہیں ہو اکرتے۔“
”تم مرواﺅ گے۔“طیش بھرے انداز میں کہتے ہوئے اس نے چپ سادھ لی تھی۔
صبح ہم منہ اندھیرے ہی ہوٹل سے نکل آئے تھے۔شمشان گھاٹ کے قریب پہنچنے تک ملگجا اجالا ہو گیا تھا۔طلوع آفتاب سے پہلے میں اس جگہ پہنچ گیا تھا جو رات کو اندازے سے منتخب کی تھی۔ رشید کو انتظار کرنے کا کہہ کر میں پہاڑی پر چڑھ گیاتھا۔وہاں سے شمشان گھاٹ کا زمینی فاصلہ تو قدرے زیادہ تھا البتہ فضائی فاصلہ ڈیڑھ پونے دو کلو میٹر کے بہ قدر تھا۔
موبائل فون پر گھنٹی کر کے میں نے رشید کو واپس لوٹنے کی ہدایت کی۔
وہ مشورہ دیتے ہوئے بولا۔”باس !ایک اکیلا دو گیارہ ہو تے ہیں۔“
”صاف کہوں تمھارے ساتھ مل کر جو گیارہ بنیں گے ان میں سے پونے گیارہ حصے کام مجھے خود کرنا ہوگا اور تم جوپاﺅ بھر کام کرو گے اس کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
وہ بھناتے ہوئے بولا۔”شیطان کے استاد !بھگوان تمھاری رکھشا کرے۔“اور میرا جواب سنے بغیر رابطہ منقطع کر دیا۔
میں نے دوبارہ گھنٹی کی۔
اس نے کال وصول کرتے ہوئے پوچھا۔”اب کیا ہے ؟“
”مہاراج!میری بات مکمل نہیں ہوئی۔“
”سن رہا ہوں،بلکہ مجبوراََ سننا پڑ رہی ہے۔“
”شمشان گھاٹ لازماََ جاناتاکہ میرے دوست کی آمد کی تصدیق کر سکو اور اسی وجہ سے تمھیں جانے کی اجازت دی ہے۔“
وہ فخریہ لہجے میں بولا۔”جانتا تھاباس!میرے بغیر کچھ نہیں کر سکتے ہو۔“
میں نے ہنستے ہوئے رابطہ منقطع کیا اور جگہ بنانے لگا۔
سب سے پہلے تو میں نے چھوٹے دستے والی کلھاڑی سے مطلوبہ جھاڑی میں لیٹنے کی جگہ بنائی جو شاخیں کاٹیں ان کو بھی جھاڑی کے دائیں بائیں اس انداز میں لگا دیا کہ اب دور تو کیا کافی نزدیک سے بھی میں نظر نہیں آسکتا تھا۔کلھاڑی سے زمین نرم کر کے بھی اپنے لیٹنے کی مناسب جگہ بنائی، گو اس کی خاص ضرورت تو نہیں تھی مگر سنائپنگ کے وقت میں اصولوں کے خلاف جانے سے گریز کرتا تھا اور اس کی وجہ میرے استادوں کی سخت تربیت تھی۔وہ ہمیشہ یہی نصیحت کرتے کہ میدان جنگ میں حالات کتنے ہی قابو میں کیوں نہ ہوں ایک سپاہی کو تیاری برے ترین حالات کی رکھنا چاہیے۔دشمن کی صلاحتیں کیا ہیں اس پر توجہ دینے کے بجائے ماہر ترین مخالف کے حملے سے بچنے کی تدابیر اپنانا چاہئیں۔
لیٹنے کی جگہ بنا کرمیں نے رائفل جوڑی ،سنائپنگ کی ضروری کارروائیاں پوری کیں جو یقینا آپ لوگوں کے لیے بھی نئی نہیں ہوں گی۔یعنی ہوا کی رفتار ناپنا،میگزین میں ایمونیشن بھرنا، فاصلہ ناپ کر ایلی ویشن ناب پر لگانا،حرارت ناپنا،رائفل کا لیول درست کرنا،بلندی و پستی کا زاویہ معلوم کرنا وغیرہ ۔یہ سب کر کے میں رائفل کے پیچھے لیٹ گیا۔اب انتظار کرنا تھا۔
سائیٹ کا آبجیکٹ لینز کور اور آئی گلاس کور ہٹا کر میں شمشان گھاٹ کا جائزہ لینے لگا جہاں ارتھیاں بنانے کا کام شروع ہو چکا تھا۔(یہاں ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ عام طور پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہندو اپنے مردوں کو لازماََ جلاتے ہیں،مگر حقیقت اس کے برعکس ہے،ہندو دھرم میں کریا کرم کے چار طریقے ہیں۔” اگنی،مٹی ،جل ،جنگل “(یعنی جلانا،دفنانا،پانی میں بہانا اور جنگل میں چھوڑ دینا)عموماََ بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو دفنایا جاتا ہے،اگر کوئی دفنانے کی وصیت کرے تو اسے بھی دفناتے ہیں چاہے اس کی عمر کتنی ہی کیوں نہ ہو۔اسی طرح ہندو اپنے پنڈتوں کو بیٹھی حالت میں دفن کرتے ہیں ۔ایک ارتھی کم از کم دس بارہ گھنٹے تک جلتی رہتی ہے۔پھر اس کی راکھ کوجسے ہندو استھی کہتے مٹی کی گڈوی میں ڈال کر گنگا میں بہا دیا جاتا ہے۔اس مقصد کو ہندو دور دراز کا سفر کر کے اپنے مردوں کی استھیاں گنگا میں بہانے جاتے ہیں)
شمشان گھاٹ کافی وسیع تھا اور بارہ ارتھیاں دو قطار میں بنائی گئی تھیں ۔ہر ارتھی کے لیے لکڑیوں کا ڈھیر ترتیب دیا گیاتھا،جس کے بیچ میں مردے کو رکھ کر آگ میں جلایا جاناتھا۔
میں دلچسپی سے سارا منظر دیکھتا رہا۔شمشان گھاٹ کے چاروں اطراف پولیس نے گھیرا ڈال دیا تھا۔وہاں سے شری ناتھ کے آشرم تک جو رستہ جاتا تھا اس پر بھی پولیس اور شری ناتھ کے چیلے متعین ہو گئے تھے۔شمشان گھاٹ کے قریب جواونچی عمارتیں تھیں ان کی چھتوں پر بھی پہرے دار نظر آرہے تھے۔ مجھے چھے سات گھنٹے انتظار کرنا پڑا تھابارہ بجے کے قریب ایک بڑا ہجوم لاشوں کو کندھوں پر اٹھائے شمشان گھاٹ کی طرف بڑھتا نظر آیا۔ان کے شمشان گھاٹ میں پہنچنے کے چند منٹ بعدسڑک پر چار پانچ کالے رنگ کی گاڑیاں حرکت کرتی نظر آئیں۔میں ایک دم چوکنا ہو گیا تھا۔گاڑیاں رکتے ہی دوسرے نمبر والی گاڑی کے علاوہ باقی گاڑیوں سے تیز و طرار اور چوکنا محافظ نکلے اور دوسری گاڑی کو چاروں طرف سے گھیر لیاتھا۔پھر اس گاڑی سے ایک شخص برآمد ہوا،فوراََ ہی تمام محافظوں نے عقبی نشست سے نکلنے والی شخصیت کو چاروں طرف سے گھیر لیاتھا۔
اسی وقت رشید کی گھنٹی موصول ہوئی۔میں نے وصول کرنے کا بٹن دبا کر موبائل فون کان سے لگالیا۔
”وہی ہے۔“مختصر اََ کہتے ہوئے اس نے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔
میں نے یکسو ہو کر اس پر شست سادھ لی تھی۔محافظوں نے یوں گھیرا بنایا تھا کہ کسی بھی سمت سے اسے نشانہ بنانے کی کوشش کامیاب نہ ہوپاتی،مگر ایک تکنیکی غلطی ان سے ہو گئی تھی ۔میں کافی بلندی پر بیٹھا تھااور وہاں سے ان کے مائی باپ کے جسم کا وہ حصہ صاف نظر آرہا تھاجس میں غلاظت و گندگی سے اٹی سوچیں بھری تھیں ،بالکل وہی حصہ جس پر نشانہ سادھنے کی مجھے ضرورت تھی۔البتہ میں نے اس کے رکنے کا انتظار کرنا بھی ضروری سمجھا تھا کہ مجھے کوئی خاص جلدی نہیں تھی۔
لاشوں کو ارتھی پررکھنے سے پہلے ایک چبوترا نما جگہ پر رکھا گیا تھا جہاں پنڈت اشلوک و منتر وغیرہ پڑھ کر آخری رسوم کا آغاز کرتاہے۔وہ ایک لاش کے پاس جا کر رکااور نیچے جھک کر غالباََ اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تھا۔چند لمحے وہ جھک کر کھڑا رہا ،شاید کچھ بول بھی رہا ہو،مگر میری نظر سے اوجھل تھا اس لیے درست اندازہ لگانا دشوار تھا۔جونھی وہ سیدھا ہوامجھے پسندیدہ نشانہ مل گیاتھا۔اس کا رخ قدرے ترچھا تھا اور سر کا دایاں حصہ میری شست کی زد میں آرہا تھا۔گو وہاں بھیڑ تھی مگر اس کے دائیں بائیں جو لوگ موجود تھے وہ کسی طرح رحم یا ہمدردی کے قابل نہ تھے۔عوام کافی فاصلے پر کھڑے تھے اس لیے کسی اور کو گولی نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی۔
میری شہادت کی انگلی کافی دیر سے لبلبی کا لمس محسوس کر رہی تھی،جونھی دماغ نے کہا ابھی.... انگلی نے سرعت سے حکم کی تعمیل کی اور پیچھے کو جھٹکا لیتے ہوئے لبلبی کو دبا دیاجس سے لبلبی کے ابھارکا ملاپ سیئر سے ٹوٹ گیا اور سئیرنے آزاد ہو کر نیچے کی طرف حرکت کی ، جونھی سئیر نیچے بیٹھا فائر نگ پن نے ہیمبر سپرنگ کی طاقت سے آگے جا کر گولی کے پرائمر پر چوٹ مارکربارود کو جلادیاتھا۔کھوکے کے اندر گیس پیدا ہوئی جس نے گولی کو چیمر میں دھکیلا،گولی لمبی بیرل میں لینڈ و گروز کی وجہ سے گھومتی ہوئی مزل کو چھوڑ کرنو سو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے ہدف کی طرف بڑھی اور انیس سو پچاس میٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے کھوپڑی کے دائیں جانب سے گھس کر اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے مخالف جانب سے نکل گئی تھی۔
ایک دم بھگدڑ مچ گئی تھی،کچھ لوگ حیرت و دہشت سے اپنی جگہ سن ہو گئے تھے، ہمت و حوصلے والے لاش کو اٹھانے بڑھے جبکہ کچھ لوگ حواس باختہ ہو کر بھاگ پڑے تھے۔میں دو تین منٹ تک تماشا دیکھتا رہالیکن اتنی فرصت نہ تھی کہ زیادہ دیر لطف اندوز ہوپاتا۔میرے لیے جلد از جلد وہ مقام چھوڑ دینا ہی بہتر تھا۔گو پولیس اور شری ناتھ کے محافظوں سے یہ امید نہ تھی کہ وہ درستی سے میری جگہ کا اندازہ لگا پاتے،لیکن احتیاط کا تقاضا تھا کہ دشمن کی کمزوری کے بھروسے پرمیں اپنی سلامتی کو قربان نہ کرتا۔ میں نے رشید کو بھی گھنٹی کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی کہ اس بارے پہلے ہی ہدایت دے چکا تھا۔ جان بچانے کی احتیاطوں کو وہ مجھ سے زیادہ جانتا تھا۔اس کے آنے سے پہلے میں نے بہتر سمجھا کہ رائفل سمیٹ کر پہاڑی کے نیچے پہنچ جاﺅں۔
وہاں کوئی دیکھنے والا تو تھا نہیں کہ محتاط انداز میں کمین گاہ کو چھوڑتا،اس لیے اٹھنے کا ارادہ کرتے ہی میں نے اپنے اوپر سے ٹہنیاں ہٹاتے ہوئے ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا،جونھی رائفل کی طرف ہاتھ بڑھائے،اچانک ہی ایک گولی چھوٹے تنے کے درخت میں سوراخ کرتے ہوئے میرے بائیں بازوکے کپڑے کو چھوتی ہوئی گزر گئی تھی۔فائر کرنے والے کا نشانہ درست تھا،لیکن درخت کا تنا ٹہنیوں کی وجہ سے دور سے نظر نہیں آرہا تھا،وہ اتنا موٹا تو نہ تھا کہ گولی اس میں پھنس جاتی البتہ اس نے گولی کا رخ موڑ دیا تھا جس کی وجہ سے گولی نے صرف جیکٹ کے بازو سے رگڑ کھائی تھی۔
میں برقی کوندے کی طرح اوندھے منہ گرا اور جسم کو بالکل ہی زمین سے ملا دیا۔ایسی حالت میں مجھ پر نشانہ سادھنا آسان نہ ہوتا۔میں اس انداز میں لیٹا تھا کہ گولی چلانے والے کو اپنی کامیابی کا یقین ہونا مشکل نہ تھا۔
اسی وقت میرے سر سے چند انچ اوپر” شوں ....شوں ....“ کی ہیبت ناک آوازوں سے چند گولیاں ٹہنیوں کو توڑتے ہوئے گزر گئیں،بلاشبہ میں ایک سے زیادہ سنائپروں کے نشانے پر تھا۔اگر میں نے احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کیا ہوتاتو اس وقت کہانی بیان کرنے کو باقی نہ بچا ہوتا۔
میرا دماغ حفاظتی تدابیر کے ساتھ سنائپروں کے حملے کی وجوہ کو بھی سوچ رہا تھا۔انھیں میری جگہ کے بارے پہلے سے پتا ہوتا تو یقینا شری ناتھ کے خاتمے سے پہلے ہی مجھے نشانہ بنا چکے ہوتے،اگر پہلے سے یہ معلوم نہ تھا تو اتنی جلدی انھوں نے میری جگہ کیسے ڈھونڈی تھی۔
لمحہ بھر سوچنے کے بعد یہی اندازہ لگایا کہ انھیں پہلے سے معلوم تھا کہ شری ناتھ پر سنائپر کا حملہ ہو گااور انھوں نے اپنے سنائپر مختلف جگہوں پر تعینات کر دیے تھے۔ میری جگہ کے بارے وہ لاعلم تھے، البتہ ان کا پیشہ ور سنائپر شری ناتھ کے دائیں بائیں موجود تھاجو اس کی ہلاکت کے بعد گولی چلنے کے درست مقام کا اندازہ لگا پایا تھا۔گولی ہدف کو جس زاویے سے چھوتی ہے اس کی بنیاد پر فائرر کی جگہ کا اندازہ لگانا کسی پیشہ ورسنائپر کے لیے قطعناََ دشوار نہیں ہوتا۔
موبائل فون کی تھرتھراہٹ(وائبریشن) نے مجھے متوجہ کیا۔کال وصول کرتے ہی رشید کی اندیشہ بھری آواز سنائی دی۔
”باس !نہایت خطرناک اطلاع ملی ہے۔“
میں تیز لہجے میں بولا۔”میں سنائپروں کے نشانے پر ہوں ، ادھر آنے کی غلطی مت کرنا۔ ان کا گھیرا توڑنے میں کامیاب ہو گیا تو خود سے رابطہ کروں گا،تم احتیاطی تدابیر پر عمل کرو۔“جاسوس ہونے کے ناتے وہ احتیاطی تدابیر کے بارے اچھے سے جانتاتھا مجھے وضاحت کی ضرورت نہیں تھی۔
اس نے بغیر تکرار کے ۔”ٹھیک ہے باس!“کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا تھا۔
غیر محسوس انداز میں بٹ پر گال ٹیکتے ہوئے میں نے ان چھتوں کی تلاشی لینا شروع کر دی جہاں ابتداءمیں ان کی حرکت کا مشاہدہ کر چکا تھا۔صاف ظاہر تھا کہ شمشان گھاٹ کے اطراف میں موجود اونچی عمارتوں پر دشمن سنائپر ہی مورچے بنا رہے تھے جنھیں میں عام آدمی سمجھا تھا۔
میں نے سب سے پہلے بالکل سامنے والی عمارت کی چھت پر دشمن کو ڈھونڈنے کی کوشش کی اور آسانی سے ڈھونڈ لیا کہ اس نے خود کو چھپانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی۔شاید اس لیے کہ انھیں یقین تھا کہ وہ پہلے ہلے میں مجھے مار گرائیں گے۔وہ دھوپ میں لیٹا تھا اور ٹیلی اسکوپ سائیٹ کے شیشے کی چمک صاف دکھائی دے رہی تھی،جبکہ میں سائے میں تھا اس وجہ سے سائیٹ کا شیشہ چمک نہیں مار رہا تھا۔دھوپ میں لیٹے سنائپر کے لیے ضروری ہے کہ وہ شیشے پر دھوپ نہ لگنے دے ورنہ دور سے تاڑ لیا جائے گا۔فاصلہ وغیرہ معلوم کر کے میں نے ٹیلی اسکوپ سائیٹ کے شیشے کے انچ بھر اوپر شست سادھی اورسانس روکتے ہوئے لبلبی دبا دی۔وہ جگہ ہی پر تڑپنے لگا تھا۔اسی وقت دو تین گولیاں ”شوں.... شوں“ کی آواز سے میرے سر سے چند انچ اوپر گرزی تھیں۔میں اپنی جگہ پر دبک گیا،ساتھ ہی خیال آیا کہ میں وہیں دبکا ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا،کیوں کہ وہ اپنے آدمی بھیج کر مجھے اس جگہ گھیر سکتے تھے۔مجھے وہاں سے فوری طور پر نکلنا تھا۔اگر وقت ہوتا تو میں تمام سنائپرز کا کریا کرم کر سکتا تھا لیکن میرے پاس وقت نہیں تھا۔
میں نے لیٹے لیٹے احتیاط سے رائفل کو کھول کر بیگ میں منتقل کیااورالٹا رینگتا ہوا جھاڑی کے عقبی جانب سے نکلا۔دائیں جانب ایک پتھریلی چٹان تھی،بیگ کو چھاتی سے لگا کر میں لڑھکتا ہوا چٹان تک پہنچااور اس کے عقب میں ہو گیاوہاں پھیلی گھنی کانٹے دار جھاڑیاں مجھے نظری آڑ مہیا کر رہی تھیں ورنہ تین چار سنائپروں نے مجھے بھون دیا ہوتا۔میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ دشمن مجھے اس انداز میں گھیریں گے۔اسی دم موبائل فون ہلکا سا تھرتھرایا اسکرین دیکھی تو رشید کا پیغام آیا ہوا تھا۔
”تمھیں گھیر رہے ہیں باس،بھاگنے کی کوشش کرو۔“
”ٹھیک ہے ۔“جوابی پیغام بھیجنا میں نے ضروری سمجھا تاکہ اسے میری خیریت کا معلوم ہو جائے۔
ایس آر ون کا بیگ کندھوں میں پہن کر میں پیچھے کی جانب کھسکنے لگا۔دشمن کا گھیرا مکمل ہونے سے پہلے مجھے بھاگنا تھا۔
عقبی ڈھلان میں تھوڑا سا نیچے جاتے ہی مجھے سامنے کے نشانے سے مکمل آڑ میسر ہوگئی تھی۔ لیکن ایک بات یقینی تھی کہ پہاڑی کی بنیاد میں دشمن کے بندے موجود تھے یا پہنچنے والے تھے۔جھاڑیوں کی وجہ سے دور دور تک دکھاﺅ ممکن نہیں تھا اس لیے میں اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ آیا دشمن پہنچ چکا تھا یا نہیں۔ اگر دشمن کے بندے پہلے سے تیار بیٹھے ہوتے کہ اطلاع ملتے ہی موقع کی طرف بھاگیں گے تب تو ان کا پہنچ جانا حیران کن نہیں تھا۔رشید نے بھی یہی پیغام بھیجا تھا کہ وہ مجھے گھیرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ گویاوہ اس علاقے میں دشمنوں کی نقل و حرکت دیکھ چکا تھا۔
چند قدم اٹھاتے ہی میری نظر ایک چھوٹی سی کھوہ پر پڑی ،جہاں ایک شخص سمٹ کر بیٹھ سکتا تھا۔ اس کے سامنے چھوٹی سی جھاڑی بھی موجود تھی ،مگر جھاڑی اتنی گھنی نہیں تھی کہ اندربیٹھا شخص مکمل چھپ سکتا۔سرعت سے فیصلہ کرتے ہوئے میں نے بیگ سے چھوٹے دستے والی کلھاڑی نکالی اور ایک گھنی جھاڑی سے چند شاخیں کاٹ لیں ،کٹی ہوئی شاخوں کے بچ جانے والے سروں پر میں نے مٹی اور گھاس کے تنکے مل دیئے تاکہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ وہ وہاں سے تازہ شاخیں کاٹی گئی ہیں۔ایک اور جھاڑی سے بھی چند شاخیں کاٹ کر میں نے ساری شاخیں کھوہ کے سامنے زمین میں اس طرح گاڑیں کہ جب تک شاخون کو ہٹا کر نہ دیکھا جاتا اندر موجود شخص نظر نہیں آسکتا تھا۔سامنے کی شاخیں دائیں بائیں کر کے میں اندر بیٹھ گیا اور شاخوں کو دوبارہ درست کر دیا۔
وہاں پاﺅں پسارنا ممکن نہ تھا۔میں گویا احتباءکی حالت میں بیٹھا تھا۔(اس حالت میں بیٹھنا کہ گھٹنے چھاتی کے ساتھ لگے ہوں ، ٹھوڑی گھٹنوں پر ٹکائی ہواور دونوں ہاتھ گھٹنوں کے گرد لپیٹے ہوں)
ایس آر ون کا بیگ میری دائیں جانب کھوہ کی دیوار کے ساتھ رکھا تھا۔اب مجھے دشمن کا انتظار کرنا تھا۔یقینا سب سے پہلے انھیں میری کمین گاہ تک ہی پہنچنا تھا۔
میراموبائل فون تھرتھراہٹ (وائبریشن)پر لگا تھا،اسے میں نے بالکل خاموش کر دیا کہ تھراتھراہٹ کی آواز بھی حساس کانوں والے دور سے سن لیتے ہیں اور پھر رشید کو پیغام لکھنے لگا۔
”میں اسی علاقے میں چھپا ہوں ،تم دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھ کر مجھے (اپ ڈیٹ) باخبر رکھنااور صرف لکھ کر پیغام بھیجنا،گھنٹی کرنے یا صوتی پیغام (وائس میسج) بھیجنے کی غلطی نہ کرنا۔“
”چھپنا ہی بہتر ہے باس ،کیوں کہ اس علاقے کو بڑی تعداد میں ایجنسی والوں ،پولیس اور شری ناتھ کے پالتو چیلوں نے گھیرا ہوا ہے، تلاشی لینے والے اس کے علاوہ ہیں۔“
میں نے پوچھا۔”شری ناتھ کا کیا بنا؟“
جواب آیا۔”اپنے دست راست کے پاس پہنچ گیا ہے۔“
اس دوران میں چاپ سنائی دی۔میں کھوہ میں ترچھا بیٹھا تھا،گردن کو بائیں جانب موڑا، کھوہ سے چند فٹ کے فاصلے پر دشمن کے نچلے دھڑ کی جھلک نظر آئی۔وہ خاموشی سے آگے بڑھ رہے تھے۔ اگلا گھنٹا ان کی نقل و حرکت جاری رہی۔انھوں نے خاموشی کا بت بھی گرا دیا تھا،اب ایک دوسرے کو پکارتے ہوئے ہدایات دی جارہی تھیں ۔آہستہ آہستہ قدموں کی چاپ اور پکارتی آوازیں ختم ہونے لگیں،وہ تلاشی کا دائرہ بڑھا رہے تھے۔دو تین تلاشی لینے والے کھوہ کے قریب آئے مگر کھوہ کو تلاش نہ کر سکے تھے۔
میں صبح کاناشتاکرکے وہاں پہنچا تھا اور اس وقت سہ پہر ہونے کو تھی ۔اچھی خاصی بھوک محسوس ہورہی تھی۔ایک پیشہ ور سنائپر مشن پر جانے سے پہلے اپنے پاس کھانے پینے کی کچھ نہ کچھ اشیا ءضرور رکھتا ہے۔میرے پاس بھی پانی کی بوتل اور دو تین پیکٹ بسکٹ موجود تھے۔بغیر آواز پیدا کیے میں نے بیگ سے بسکٹ کا پیکٹ نکال کر پیٹ کے واویلے کے سامنے بند باندھااور پھر بے فکر ہو کر آگے کا لائحہ عمل سوچنے لگا۔گاہے گاہے موبائل فون پر بھی نگاہ ڈال لیتا تاکہ رشید کا پیغام بر وقت پڑھ سکوں۔
مگر اس کے پیغام آنا بند ہو گئے تھے،اچانک ہی نگاہ موبائل فون کے سگنل پر پڑی ،ایک بھی سگنل نظر نہیں آرہا تھا۔پہلے تو لگا شاید کھوہ میں سگنل نہیں آرہے مگر پھر سوچا کہ کھوہ میں بیٹھے ہوئے میں رشید سے رابطہ کر چکا تھا۔اگر پہلے سگنل آرہے تھے تو بعد میں کون سی رکاوٹ پیدا ہو گئی تھی۔یقینا دشمن نے وہاں طاقت ور جیمر لگا دیا تھا ۔ انھیں شک تھا میں وہیں چھپا ہوں اور ان کی کوشش تھی کہ میں اپنے ساتھیوں سے رابطہ کر کے تازہ صورت حال معلوم نہ کر سکوں۔اگر واقعی میں ان کا یہی منصوبہ تھا تو وہ اتنی جلدی گھیرا ختم کرنے والے نہیں تھے۔
میری کمین گاہ اس قابل نہیں تھی کہ وہاں لمبا قیام کر سکتا۔کوئی عام آدمی تو شاید وہاں گھنٹا دو گھنٹے بھی نہ گزار پاتا ،یہ تو میری ہی برداشت تھی اتنی دیر سے وہاں یوں بند تھا جیسے انڈے میں مرغی کا بچہ ہوتا ہے۔اندھیرا گہرا ہوتے ہی میں احتیاط سے باہر آگیاتھا۔
ایک طریقہ تو یہ تھا کہ میں رات کا وقت کھوہ سے باہر گزارتا اور صبح کا اجالا پھیلتے ہی کھوہ میں گھس جاتااور دشمنوں کا گھیراﺅ ختم ہونے تک اسی روز مرہ پر عمل پیرا رہتا۔مگر مشکل یہ تھی کہ دشمن کا گھیراﺅ طول کھینچتا تو مسائل بڑھ جاتے اور پھر سردی میں کھلے آسمان تلے ساکن بیٹھے رہنا نہایت پر اذیت اور دشوار تھا۔کھانے پینے کا مسئلہ بھی توجہ طلب تھا کہ دو پیکٹ بسکٹ کے سہارے آخر کتنا وقت گزارتا۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ میں آج ہی دشمن کا گھیرا توڑ کر نکلنے کی کوشش کرتا۔گو اس میں بھی کم خطرات نہ تھے مگر کامیابی انھی لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو کوشش سے باز نہیں آتے۔
ارشاد خداوندی ہے کہ [وان لیس للانسان الا ماسعی](کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کے لیے وہ محنت کرتا ہے)یا ایک مفکر کہتا ہے کہ....” کوشش نہ کرنے والوں کو وہی ملتا ہے جو کوشش کرنے والوں سے بچ جائے۔“
میں مناسب وقت کا انتظار کرنے لگا۔پہرے دارابتدائی رات میں زیادہ چوکنا ہوتے ہیں، لیکن جوں جوں رات گہری ہوتی جاتی ہے ،تھکن ،نیند اور نااامیدی انھیں سست کر دیتی ہے۔موسم بھی اپنا اثردکھاتا ہے۔گرمی ہو تو آخیر شب کی ٹھنڈی ہو ا لوری کا کام کرتی ہے گرمی سے جھلسے بدن خنکی کی فرحت پا کر اونگنے لگتے ہیں اور سردیوں میں رات کے آخری پہر ٹھنڈک کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے، پہرے دار حدت کے حصول کو آگ جلانے پر مجبور ہو جاتے ہیں یاکمبل، چادر لپیٹ کر سردی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔عموماََ کانوں اور ناک کو بچانے کی خاطر مفلر وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے جو سماعتوں کی کارکردگی میں رکاوٹ بنتا ہے اور یہی وقت پہرے دار وں کی غفلت سے فائدہ اٹھانے کا ہوتا ہے۔
کھلے آسمان تلے سخت سردی پڑ رہی تھی۔میں نے گرم کوٹ تو پہنا ہوا تھا لیکن مسلسل بیٹھنے سے سردی کچھ زیادہ ہی محسوس ہو رہی تھی۔خود کو مصروف رکھنے کو میں نے تیز دھار چاقو سے چھوٹی چھوٹی ٹہنیاں کاٹنا شروع کر دیں۔یوں ایک تو چھپاﺅ و تلبیس کرنے میں آسانی رہتی دوسرا حرکت کرنے سے سردی کا احساس بھی کم ہوگیا تھا۔وقت کافی تھا اس لیے میں تسلی سے کام کرتا رہا۔اچانک ہی تڑتڑاہٹ کی آواز گونجی۔شاید وہ تلاشی فائر کررہے تھے۔یہ بھی ممکن تھاکسی جانور کی آہٹ پاکرفائر کھولاہو۔ مگر میں مطمئن انداز میں مصروف رہا کہ فائرکی آواز کافی دور سنائی دی تھی۔تھوڑی دیر بعد اکیلا فائر ہوا۔اور پھر وقفے وقفے سے کسی نہ کسی کی لبلبی پر دھری انگلی خارش کر جاتی۔
میں تسلی سے اپنے کام کو جڑا رہا۔جب مناسب ٹہنیاں اکھٹی ہو گئیں تو میں نے ایس آر ون کابیگ اسی کھوہ میں چھپا دیا جہاں پہلے خود چھپا تھا، کیوں کہ کسی بھی ناگہانی صورت حال میں اگر بھاگنا پڑ جاتا توآسانی رہتی ۔یوں بھی فی الحال ایس آر ون کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔میرے پاس تین پستول موجود تھے۔موہن بھیمانی کا’ والتھر پی نائینٹی نائین “ چرن جیت سے چھینا ہوا چھوٹے حجم کا ”روگر ایل سی پی اڑتیس بور “ اور گلاک نائینٹین۔ والتھر بھی میں نے بیگ میں رہنے دیا کہ گلاک اور روگر میرے لیے کافی تھے۔کھوہ کے دہانے کومیں نے درمیانے حجم کے پتھروں سے پاٹ دیاکہ جھاڑیاں اگر ہوا سے اڑ کر دائیں بائیں بھی ہو جاتیں تو کھوہ کسی کو نظر نہ آتی۔
چاند آخری کواٹر میں تھااور اب تک طلوع نہیں ہوا تھا لیکن مسلسل اندھیرے میں رہنے کی وجہ سے اشیاءکے ہیولے آسانی سے نظر آرہے تھے۔پھر میں جھاڑیو ں کو اپنے جسم کے گرد ایک مخصوص ترتیب سے لپیٹنے لگا۔گھنٹے بھر کی مشقت کے بعد میں نے متحرک جھاڑی کا روپ دھار لیا تھا۔ بوتل کے پانی سے مٹی گیلی کر کے میں نے چہرے پر مل لی کہ یہ بھی تلبیس میں شامل ہے۔
رات اڑھائی تین بجے کا عمل ہو گا جب میں جانے کو تیار ہوااورمحتاط انداز میں نشیب میں اترنے لگا۔سائیلنسر لگا گلاک میرے ہاتھ میں تھا۔اندھیرے میں اترائی ،چڑھائی سے کہیں زیادہ مشکل ہوتی ہے۔کیوں کہ پاﺅں ذرا سا غلط جگہ پر رکھنے سے انسان لڑھکتا ہوا نشیب میں پہنچ جاتاہے۔ اورحالات ایسے ہوں جیسے مجھے درپیش تھے تو لڑھکنے سے لگنے والی چوٹوں سے بندہ بچ بھی جائے دشمنوں سے نہیں بچ سکتا کہ آواز سنتے ہی سب نے اکٹھے ہو جانا تھا۔
راستہ میرا دیکھا بھالا نہیں تھا اس لیے اترائی کی مشکلات مزید بڑھ گئی تھیں۔البتہ پہاڑوں کاپرانا مزاج آشنا اور شناور تھااس لیے حرکت کرنے میں اتنا زیادہ مسئلہ بھی نہیں ہورہا تھا جتنا عام شخص کو درپیش ہو سکتا ہے۔
میں نے تیزی کے بجائے درستی کو ترجیح دی تھی اس لیے وہ چھوٹی سی اترائی بھی کافی دیر لگا کر طے ہوئی تھی۔مشکل ڈھلان رفتہ رفتہ آسان ڈھلان میں تبدیل ہوئی آخراترائی ختم ہو گئی۔ڈھلان پر جھاڑیاں کافی گھنی تھیں جوزمین کے ہموار ہوتے ہی بتدریج چھدری چھدری ہونے لگیں ۔تین چار مقامات پرآگ کے شعلوں کی جھلک دکھائی دے رہی تھی،یقینا سردی سے مقابلے کو آگ کاساتھ ضروری تھا۔آگ کی روشنی نے دکھاﺅ کے حالات کو قدرے بہتر کر دیا تھا۔روشنی کے قریب بیٹھنے والوں کو اندھیرا کچھ زیادہ ہی محسوس ہوتا ہے۔یہ انسانی آنکھ کی خصوصیت ہے کہ روشنی و اندھیرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔روشن کمرے میں بیٹھے شخص کو ایک دم اندھیرے میں جانا پڑے تو اسے کچھ بھی نظر نہیں آتا،لیکن دو تین لمحوں کے بعد اس کی بینائی اندھیرے سے موافق ہو کر کام کرنے لگتی ہے۔یونھی روشنی میں بیٹھے ہوﺅں کو اندھیرا ضرورت سے زیادہ محسوس ہوتا ہے اس لیے ان کا آگ جلانا میرے حق میں جاتا تھا۔گاہے گاہے ٹارچ کی روشنی بھی اندھیرے کا سینہ چیرتی ہوئی لہراکر دائیں بائیں سے نکل جاتی ،ان لمحات میں میں بالکل ساکن ہو جاتا تھا۔
جاری ہے
قسط نمبر34
ریاض عاقب کوہلر
اطراف کا جائزہ لیتا ہوامیں دھیرے دھیرے ایک الاﺅ کے قریب ہوتا گیا،یہاں تک کہ وہاں موجود پہرے داروں کی گفتگو سنائی دینے لگی تھی۔انھوں نے سیاست کا موضوع چھیڑا ہوا تھااور اپنے اپنے قائد کی خوبیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ دوسروں کی غلطیوں اور بے ایمانیوں کا تذکرہ بھی زور و شور سے کر رہے تھے۔ان کی بحث میرے لیے کافی مفید تھی۔دوسری ٹولی ان سے پچاس ساٹھ قدم دور بیٹھی تھی۔میں نے پہلی ٹولی سے دس پندرہ قدم کا فاصلہ رکھ کرآگے بڑھنا چاہااسی وقت موبائل فون کی مترنم گھنٹی بجی جو مجھے حیران کر گئی تھی،کیوں کہ میرے موبائل فون پر سگنل نہیں آرہے تھے جس کا مطلب میں نے یہ لیا تھا کہ انھوں نے سگنل جام کر دیئے تھے۔اسی دم یاد آیا کہ سگنل جام ہونے کے بعد میں ایک بار بھی موبائل فون کی اسکرین نہیں دیکھ سکا تھااور میرے موبائل فون کی گھنٹی و تھرتھراہٹ چونکہ بند تھی اس لیے کال یا پیغام آنے کا مجھے پتا نہیں چل سکتا تھا۔
موبائل فون کی گھنٹی کی آواز کافی بلند تھی۔”میرے محبوب قیامت ہو گی........“گلوکار جانے کس قیامت کا ذکر کر رہا تھا،مگر جس کا موبائل بج رہا تھااس نے اپنے ساتھی کو۔”ایک منٹ میں کال سن لوں ۔“کہہ کر جب میری طرف قدم بڑھائے تو وہ منظر بھی چھوٹی موٹی قیامت کی یاد تازہ کر گیاتھا۔
”میری گھنٹی کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں ۔“موبائل فون کان سے لگاتے ہوئے وہ شاکی لہجے میں بولا تھا۔اور پھر چپ ہو کر سننے لگا۔
نجانے دوسری طرف سے کیا کہا گیاتھا،لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد اس نے کہا۔”اچھی طرح جانتی ہو،تم سے زیادہ یہ میری اِچھا تھی،مگر کیا کروں سرکار کا نوکر ہوں ،انکار تو نہیں کر سکتا تھا۔“
وہ خاموش ہو کر بات سننے لگا اس دوران میں وہ بالکل میرے سامنے آکر رک گیا تھا۔وہ اتنے قریب آگیا تھا کہ اس کی محبوبہ کی ہلکی آواز بھی میرے کانوں تک پہنچنے لگی ۔وہ پوچھ رہی تھی....
”آخر ایسا بھی کون سا ضروری کام ہے جو اس سمے تک ختم نہیں ہو سکا۔“
”ایک نرگ واسی نے ذلیل کر کے رکھ دیا ہے،سارا دن اسے ڈھونڈتے رہے اور اب اسی کو پکڑنے کو پہرے پر کھڑا ہوں۔پتا نہیں بھوت ہے یا جادو گر،اپنا کام کر کے ایسا غائب ہوا ہے کہ کوئی سراغ نہیں مل رہا۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولی۔”بھوت کو ڈھونڈنا تو بے وقوفی ہوگی۔“
منوہر سنجیدگی سے بولا۔”تمھیں شاید مذاق لگ رہا ہے مگر خفیہ ایجنسی والے اسے بھوت سنائپر ہی کہہ رہے ہیں۔“
حیرانی کا اظہار ہوا۔”اب بھلا یہ کیا نام ہوا؟“
وہ اپنی معلومات اظہار کرتے ہوئے بولا۔”نام تو شاید ایس ایس ہے....بلکہ وہ بھی کوڈ نام ہے بے غیرت کا ....“
موضوع بدلتے ہوئے وہ شاکی ہوئی۔”پراتمیش جی !جانتے ہو،کتنی مشکل سے آج موقع ملا تھا جو تم نے ضائع کر دیا۔“
اس نے صفائی پیش کی۔”شما چاہتا ہوں میری جان!لیکن کیا کروں مجبوری تھی۔“
”اچھا ٹھیک ہے اور........بعد میں بات کرتی ہوں شاید پتا جی اٹھ گئے ہیں۔“ رابطہ منقطع ہوا اور موبائل فون کی اسکرین روشن ہوگئی۔ان لمحات میں اگر پراتمیش کا چہرہ میری طرف گھوم جاتا تو یقینا میں منکشف ہو گیا ہوتا۔مگر اچانک ہی میرے بائیں طرف روشنی نمودار ہوئی کسی نے ٹارچ کی روشنی ادھر پھینکی تھی۔آنکھوں کے سامنے ہاتھ رکھ کر وہ چلایا۔”یار !ٹارچ تو بند کرو۔“
ایک ہنستی ہوئی آواز ابھری ۔”میں نے سوچا شاید دشمن کو پکڑ لیا ہے۔“ساتھ ہی روشنی غائب ہو گئی تھی۔
دو تین قدم اس کی جانب بڑھتے ہوئے پراتمیش نے جوابی ہنسی اچھالی۔”اتنے بھاگوان (خوش قسمت) نہیں ہو منوہر جی!کہ کسی بھوت کو پکڑ سکو۔“میں نے گردن ادھر گھمائی،دو آدمی اسی طرف آرہے تھے۔ ان کے اندازسے نمایاں تھا کہ دشمن کی گشتی ٹولی تھی۔پہرے دار ٹولیوں کے درمیانی خلا کو محفوظ بنانے کو انھوں نے گشتی ٹولیاں بھی مقرر کی تھیں۔میں غیر محسوس اندازمیں دو قدم پیچھے لے کر ایک جھاڑی کے ساتھ جڑ گیاتھا۔
منوہر نے اندازہ ظاہر کیا۔”مجھے بھی لگتا ہے وہ خبیث پہلے ہی فرار ہونے میں کامیاب ہو چکا ہے اور ہم یونھی سمے برباد کررہے ہیں۔“
منوہر کے ساتھی نے کہا۔”گوند کو گولی لگنے سے پہلے ہم گھیرا مکمل کر چکے تھے۔“
پراتمیش نے افسوس ظاہر کیا۔”گوتم بھائی !گوند بہترین سنائپر تھا۔“
منوہر نے کہا۔”یقینا ہو گا،مگر اس خبیث کی مہارت میں بھی کوئی شک نہیں،کنجر کی گولی ہی خطا نہیں جاتی۔ مہاراج شری ناتھ یادیوکو اس کے محافظوں نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھافقط سر کا چھوٹا سا حصہ نظر آرہا تھااور وہ کامیابی سے وار کر گزرا۔“
پراتمیش نے لقمہ دیا۔”سنا ہے موہن بھیمانی کی ہتیا بھی اسی نے کی ہے،بلکہ اس سے پہلے ممبئی کاایک بڑا بزنس مین بھی اسی کا شکار بناتھااسی وجہ سے تو اسے ایس ایس کہہ کر بلایا جاتا ہے۔“
منوہر نے پوچھا۔”کس سے سنا ہے؟“
پراتمیش بولا۔”ایجنسی والوں سے....موہن بھیمانی اور اس کے ساتھیوں کی موت کی وجہ اسی رائفل کی گولی بنی جس سے مہاراج شری ناتھ کو نشانہ بنایا گیاہے اور سنا ہے یہ کوئی مخصوص رائفل ہے جو صرف ایس ایس کے پاس ہے ،تبھی ایجنسی والوں کو جونھی پتا چلا انھوں نے اسے گھیرنے کا منصوبہ سوچ لیا، لیکن مہاراج کی قربانی دے کر بھی بھوت کو نہ پکڑ سکے۔“
گوتم نے حیرانی ظاہر کی۔”تمھارے کہنے کا مطلب ہے ایجنسی والے پہلے سے جانتے تھے کہ وہ شری ناتھ پر حملہ کرے گا۔“
پراتمیش نے پراعتماد لہجے میں تفصیل بتائی۔”بالکل ایسا ہی ہے،موہن بھیمانی اور اس کے گیارہ ساتھیوں کی ہتیااتنا معمولی واقعہ نہیں تھاکہ را متوجہ نہ ہوتی۔انھیں پوسٹ مارٹم سے پہلے ہی وقوعہ سے مخصوص رائفل کے ایمونیشن کے کھوکے(کیس) ملے جو قریبی پہاڑی پر بکھرے پڑے تھے،وہ فوراََ اصل کہانی تک پہنچ گئے تھے،اس لیے پوسٹ مارٹم کرنے والے سے خصوصی طور پر موت کی وجہ دریافت کی گئی،پتا چلا تمام کی موت مخصوص رائفل کی گولی سے ہوئی تھی اور بعد میں ان کی لاش پر گولیاں برسا کر تفتیش کرنے والوں کو بھٹکانے کی کوشش کی گئی۔“
گوتم معترض ہوا۔”مگر اس سے یہ کہاں ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مہاراج شری ناتھ پر بھی حملہ کرے گا۔“
پراتمیش نے لولی لنگڑی دلیل دی۔”موہن بھیمانی کے دشمن مہاراج شری ناتھ کے دوست تو نہیں ہو سکتے۔“
گوتم نے منہ بنایا۔”کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ مہاراج شری ناتھ پر حملہ کرے گا اور وہ بھی شمشان گھاٹ میں ۔“
منوہر مخل ہوا۔”پراتمیش درست کہہ رہاہے دوست!اگرسنائپر نے لاشوں پر کلاشن کوف کی گولیاں برسا کرسنائپر رائفل کی گولیوں کو چھپانے کی کوشش کی تو اس کا ایک ہی مطلب نکلتا ہے کہ وہ نہیں چاہتا تھاان لوگوں کی موت کی وجہ ظاہر ہونے کے بعد مہاراج شری ناتھ ان کے کریا کرم کو شمشان گھاٹ آنے سے رک جائے۔اور سنائپر کو چارہ پیش کرنے ہی کو ایجنسی والوں نے مہاراج شری ناتھ سے حقیقت پوشیدہ رکھی۔“
گوتم متعجب ہوا۔”کیا یہ لوگ بھگوان سے نہیں ڈرتے،کہ اتنے مہان منش کی ہتیا ان کی خود غرضی و بے وقوفی کی وجہ سے ہوگئی۔“
منوہر دانت پیستے ہوئے بولا۔”ان ادھرمیوں(بے دینوں ) کو پاپ و پن (گناہ و ثواب)کی کیا پروا۔“
پراتمیش کے ساتھی پہرے دار نے ہانک لگائی۔”ساتھیو!چاے بنا رہاں ہوں پینا ہے تو قریب آجاﺅ اور مجھے بھی بتاﺅ کس تکرار میں لگے ہو۔“
”وکرم جانی !چاے ہم بھی پیئں گے۔“پہرے داروں کی دوسری ٹولی جو ذرا فاصلے پر بیٹھی تھی انھوں نے بھی چاے بننے کی اطلاع کا خیر مقدم کیا تھا۔
گشتی ٹولی اور پراتمیش ،وکرم کی طرف بڑھ گئے تھے۔ان کی باتوں سے میری معلومات میں بھی اچھااضافہ ہوا تھا۔ ’را ‘ نے شری ناتھ کی قربانی مجھے پکڑنے کو دی تھی۔اگر وہ پہلے سے شری ناتھ کو صورت حال سے آگاہ کر دیتے تو یقینا وہ سورما شمشان گھاٹ کا رخ بھی نہ کرتا۔
البتہ ایک بات واضح نہیں ہوئی تھی کہ انھوں نے مجھے گولی چلانے سے پہلے گرفتار کرنے کی کوشش کیوں نہ کی۔اس کے پس پردہ یقینا کوئی وجہ تو تھی ،لیکن وہ وقت ایسی باتیں سوچنے کا نہیں تھا،یہ بعد میں اطمینان سے سوچا جا سکتا تھا،فی الحال تو گھیرے سے نکلنے کی ضرورت تھی۔
پراتمیش وغیرہ الاﺅ کے قریب پہنچ کر بیٹھ گئے تھے۔میں محتاط انداز آگے سرکنے لگا۔وہ بیٹھے بیٹھے ٹارچ کی روشنی دائیں بائیں پھینک دیتے تھے،مگر ٹارچ کا رخ اندر کی طرف ہی ہوتاتھا۔
چالیس پچاس قدم کی دوری پیدا کرنے کے بعد میں قدرے سرعت سے دور ہٹنے لگا،لیکن اب تک احتیاط کا دامن نہیں چھوڑا تھا کہ بعید نہ تھا دشمن کے آدمیوں نے بیرونی گھیرا بھی لگایا ہوتا۔
ان سے فرلانگ بھر دور آتے ہی مجھے ایک سڑک مل گئی تھی۔سڑک عبور کر کے میں نے سب سے پہلے ایک بڑی جھاڑی کی اوٹ میں ہوکر جسم پر بندھی جھاڑیاں اتاریں اور موبائل فون نکال کر دیکھنے لگا۔ رشید کی کافی مس کالیں اور پیغام آئے ہوئے تھے۔اسے خیریت کے پیغام کے ساتھ چند ہدایات بھی لکھ کربھیجیں اور سڑک سے قدرے فاصلہ رکھ کر اس کے متوازی چلنا شروع کر دیا۔
سڑک پر گاڑیوں کی بتیاں نظر آتے ہی میں آڑ میں ہوجاتا،اگر کوئی گڑھا یا جھاڑی نہ ملتی تو فقط زمین پر لیٹ کرساکن ہو جاتا۔تیز رفتاری سے گزرنے والی گاڑی سے کوئی بیس پچیس قدم دور زمین پر لیٹے شخص کو دیکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا تھا۔
کلو میٹر دو کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہو گا کہ اچانک کرخت آواز نے مجھے حیرت سے اچھلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ساتھ ہی ٹارچ روشن ہوئی۔”ابے کون ہے تو!اور کہاں سے آرہا ہے۔“
”گھ....گھ.... گھنشام ہوں مہاراج !قریب کی کچی آبادی میں رہتاہوں ۔“
تحکمانہ آواز ابھری۔”ہاتھ سر سے اوپر کر کے قریب آجاﺅ۔“
میں ہاتھ سر سے بلند کر کے کانپنے کا ناٹک کرتے ہوئے اس کے قریب جانے لگا،محسوس یہی ہورہا تھا کہ میں آسمان سے گر کرکھجور میں اٹک گیا تھا۔
نجانے وہ کس مقصد کو وہاں موجود تھا۔اسی اثناءمیں سڑک کی جانب سے آواز ابھری۔
”کون ہے پاریش؟“
پاریش نے جواب دیا۔”پوچھ کر بتاتا ہوں سر جی!“
تبھی سڑک پر کسی چھوٹی گاڑی کی بتیاں دکھائی دیں۔قریب پہنچنے پر تیز ٹار چ جلا کر گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا۔مجھے فوراََ ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ انھوں نے وہاں چیک پوسٹ قائم کی ہوئی تھی اوران کا ایک شخص فطری تقاضے کو سڑک سے قدرے دور ہٹا تبھی اس کی نظر مجھ پر پڑی تھی۔
میں ہاتھ سر سے بلند کیے اس کے قریب ہوا۔
”گھوم جاﺅ۔“ اس نے انگلی سے اشارہ کیا،اس نے ہاتھ میں صرف ٹارچ پکڑی ہوئی تھی ، کوئی ہتھیار وغیرہ نظرنہیں آرہاتھا۔ تلاشی لیتے ہی گلاک اس کے ہتھے چڑھ جاتااور پھر وہ مجھے بے بس کرنے میں کامیاب ہو جاتا،اس سے پہلے ہی مجھے اپنا کام کر گزرنا تھا۔
مڑنے کا جھانسہ دیتے ہوئے میں ایک دم پلٹا اور برقی کوندے کی طرح جھپٹا۔جب تک اس کی سمجھ میں کچھ آتامیرا بایاں ہاتھ اس کے منہ پر جم چکا تھا جبکہ دائیں ہاتھ سے میں نے اس کی گردن کے گرد شکنجہ کسا اگلے ہی لمحے گردن توڑ جھٹکے نے اس سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا تھا۔ٹارچ بھی ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر گئی تھی۔اس کے ساتھی کار کی طرف متوجہ تھے اس لیے یہ کارروائی ان کی نظر سے اوجھل رہی تھی۔اس کا جسم بجلی کا کرنٹ لگنے والے شخص کی طرح تھرتھرا رہا تھا۔
اسے زمین پر پھینک کر میں نے ٹارچ اٹھائی اور اس کی روشنی میں چیک پوسٹ کی طرف چل پڑا۔کار آگے بڑھ گئی تھی۔
میرے ایک ہاتھ میں پستول اور دوسرے میں ٹارچ تھی۔ٹارچ میں نے جلائے رکھی کہ اس کی تیز روشنی مجھے آڑ مہیا کر رہی تھی۔جیسے چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہے ،یونھی ٹارچ کے پیچھے بھی اندھیرا ہی ہوتا ہے اور دیکھنے والوں کی بینائی روشنی کی رکاوٹ کو عبور کر کے اندھیرے تک نہیں پہنچ پاتی۔
وہاں تین آدمی موجود تھے ،وہ عارضی چیک پوسٹ تھی ،ایک ڈاٹسن کو آڑ ترچھا کھڑا کر کے انھوں نے آدھی سڑک بند کر دی تھی،یوں کہ وہا ں سے صرف ایک گاڑی کا گزر ممکن تھا۔دو پلاسٹک کی کرسیاں اور ان کے سامنے پلاسٹک کی میز بھی رکھی تھی ۔ایک آدمی کرسی پر بیٹھا تھا،میز پر ایک پستول نظر آرہا تھا۔ دو افراد کندھوں پر ہتھیار لٹکائے دھیمی آواز میں گپ شپ کر رہے تھے۔چوتھا شخص غالباََ پاریش ہی تھا جس کی گردن میں توڑ چکا تھا۔تمام سادہ لباس میں تھے جو ظاہرکر رہا تھا کہ وہ شری ناتھ کے پالتو تھے۔اگر پولیس والے ہوتے تو وردیوں میں ہوتے۔اور خفیہ ایجنسی والے اس طرح چیک پوسٹ نہیں لگایا کرتے۔البتہ ایک بات طے تھی کہ وہ تربیت یافتہ ضرور تھے اور شری ناتھ کے پاس تربیت یافتہ محافظوں کا دستہ بھی تھا یقینا یہ انھی میں سے تھے۔
ہتھیار برداروں میں سے ایک میری طرف متوجہ ہوا۔”کون تھا پاریش؟....اور یہ ٹارچ بھی بجھا دو یار۱!“
کرسی پر بیٹھا شخص بھی میری طرف متوجہ ہوگیا تھا۔ان کے علاوہ کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔ مجھے کرسی پر بیٹھا ہوا دشمن اہم لگا اس سے زیادہ نہیں تو تھوڑی بہت تفتیش کی جا سکتی تھی۔
ایک لمحے میں فیصلہ کرتے ہوئے میں نے گلاک سیدھا کیااور دوبار لبلبی دبادی ۔”ٹھک .... ٹھک ۔“کی مدہم آواز نے پہرے داروں کی جان اس فضول ذمہ داری سے چھڑا دی تھی۔نیچے گر کر وہ خوشی سے ناچنے لگے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سر میں لگنے والی گولی زیادہ دیرنہیں خوشی منانے کی اجازت نہیں دیا کرتی۔
میں ان کے رقص سے محظوظ نہیں ہوسکتا تھا اس لیے کرسی پر بیٹھے شخص کی طرح متوجہ ہوا جو تڑپ کر کھڑا ہو گیا تھا۔اس نے ہاتھ جیبوں میں ڈالے ہوئے تھے۔اس کے سنبھلنے سے پہلے میں اسے روشنی کے حصار میں لے چکا تھا۔ اس کے ہاتھ جیبوں سے نکلے اس اثناءمیں نظریں میز پر رکھے پستول کی طرف اٹھی تھیں۔
میں نے اطمینان بھرے لہجے میں دعوت دی ۔”اگر گولی سے تیز حرکت کر سکتے ہو تو پستول کی طرف ہاتھ بڑھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔“
اس نے ہونٹ بھینچتے ہوئے دھمکایا۔”پورے علاقے کو ہمارے آدمیوں نے گھیراہوا ہے تم مجھے مار کر بچ نہیں سکتے۔“
میں ہنسا۔”تمھیں چھوڑ کر بھی میرا بچنا ممکن نہیں کہ تمھارے تین ساتھیوں کو تو میں مہاراج شری ناتھ کی سیوا کے لیے روانہ کر چکا ہوں۔“
وہ کڑے لہجے میں بولا۔”تمھیں معلوم نہیں تمھارا انجام کیا ہوگا؟“
”شاید....مگر تیرے انجام کے بارے اندازہ لگا سکتا ہوں۔“یہ کہتے ہی میں نے گلاک کی لبلبی کو زحمت دی۔گولی ہدف ڈھونڈنے میں ناکام نہیں ہوئی تھی۔ وہ گھٹنے کو تھامتا ہوا نیچے گر گیا تھا۔ ہونٹوں سے تیز کراہیں نکلنے لگی تھیں ۔میں نے قریب ہو کر کرسی گھسیٹی ،میز پر پڑا پستول اٹھا کر دیکھاوہ ترکی کا بنا نائین ایم ایم تھا،اس کی میگزین اتار کر جیب میں ڈالتے ہوئے میں نے پستول کو کھولا اور ناکارہ کر کے دور پھینک دیا۔اس دوران میں میری آنکھیں دشمن پر گڑی تھیں۔ اس کی کراہیں آہستہ آہستہ بلند ہو نا شروع ہو گئی تھیں۔گولی لگتے وقت انسان کو اتنی تکلیف نہیں ہوتی ،مگر جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے تکلیف بڑھتی جاتی ہے۔زخم میں شدید جلن اور درد کا احساس ہونے لگتا ہے۔اگر گولی نے ہڈی کو نقصان پہنچایا ہو پھر تو اور زیادہ اذیت محسوس ہوتی ہے۔
”بالک!اپنا نام تو بتاﺅ....“
وہ بہ مشکل اذیت برداشت کرتے ہوئے بولا،”تت....تم بہت پچھتاﺅ گے۔“
میں نے اس کے دوسرے گھٹنے پر گولی ٹھونکی....”افف....“اس کے منہ سے درد بھری کراہ خارج ہوئی تھی۔
”یہ تو ناانصافی ہے نا کہ ہاتھ دو ہیں اور زخمی گھٹنا ایک۔“
اس کی اکڑ خانی ہوا ہوگئی تھی،گڑگڑاتے ہوئے بولا۔”پپ....پلیز مت کرو۔“
”یہ زیادتی ہے،تم نے میرے الفاظ چرا لیے ہیں ،حالانکہ یہ مجھے کہنا چاہیے تھا۔“
اس نے کراہتے ہوئے پوچھا۔”کیا چاہتے ہو؟“
میں اطمینان سے بولا۔”انڈیا کرکٹ ٹیم کا کپتان بننا چاہتا ہوں ،کیا مدد کر سکتے ہو۔“
وہ بوکھلاتے ہوئے بولا۔”ی ۔۔۔یہ کیسا سوال ہے؟“
میں نے پاﺅں اس کے دائیں گھٹنے پر رکھ کر ہلکے سے دبایا۔”الو کے پٹھے،سوال تھا کہ تمھارا نام کیا ہے،اب جواب بکو۔“
”افف....“وہ تڑپ گیا تھا۔
میں غرایا۔”جلدی بکو۔“ ہم سڑک کنارے موجود تھے اور کسی بھی وقت کوئی گاڑی وہاں سے گزر کراس تفتیش میں خلل ڈال سکتی تھی۔
”دیپک....“
”ایجنٹ ہو یا شری ناتھ کے پالتو؟“
وہ کراہتے ہوئے بولا۔”ایجنسی سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔“
”اور کتنی چیک پوسٹیں قائم کی ہوئی ہیں؟“
وہ شرافت سے بولا۔”ایک اور چیک پوسٹ اسی سڑک کے ددسرے سرے پر لگائی ہوئی ہے۔“
فرلانگ بھر کے فاصلے پر روشنی کی جھلک ابھری،میں نے بغیر تاخیر اس کے ماتھے میں گولی داغتے ہوئے سرعت سے اٹھااورایک پہرے دار کی رائفل اٹھا کر سڑک کے قریب ہو گیا۔ مفلر میں نے اچھی طرح چہرے پرلپیٹ لیا تھا۔ پہرے داراس انداز میں آڑے ترچھے پڑے تھے جیسے سوئے ہوں۔گو اتنی سردی میں کھلے آسمان تلے سونا عقل کو گالی دینا ہی ہے لیکن کسی راہگیر کے پاس سڑک کنارے لیٹے ہوئے لوگوں کو دیکھنے کا وقت نہیں ہوتااور بالفرض اچٹتی ہوئی نگاہ پڑبھی جائے تو یہ سوچنے کی فرصت نہیں ہوتی کہ کیوں لیٹا ہے۔
وہ ایک کار تھی،ڈرائیور نے قریب پہنچ کر رفتار آہستہ کی،مگر میں نے ہاتھ سے اسے جانے کا اشارہ کر دیا۔
”دھنے واد۔“کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گیاتھا۔میں نے جلدی جلدی لاشوں کو گھسیٹ کر نزدیکی جھاڑی کے عقب میں لے گیا۔پلاسٹک کی کرسیوں ،میز ، ہتھیاروں کو بھی ساتھ پھینکا اورڈاٹسن کی طرف بڑھ گیا۔ہتھیاروں کو ناکارہ کرنا مجھے نہیں بھولا تھا۔
اگنیشن سوئچ میں چابی لگی ہوئی تھی۔ڈاٹسن اسٹارٹ کر کے میں نے ریورس کی اور شہر کی طرف موڑ کر آگے بڑھ گیا۔آبادی میں داخل ہوتے ہی میری نظریں کسی مناسب جگہ کی تلاش میں دائیں بائیں گھومنے لگیں۔ایک چوڑی گلی میں چند کاریں کھڑی نظر آئیں،میں نے ڈاٹسن سڑک سے اتار کر وہاں کھڑی کی اور رشید کو گھنٹی کرنے لگا۔
اس نے گھنٹی وصول کرتے ہوئے بے صبری سے پوچھا۔”باس کہاں پہنچے؟“
میں نے ایک دو تین منزلہ عمارت کی پیشانی پر چمکتا نام پڑھتے ہوئے کہا۔”قریبی عمارت پر راج منزل لکھا ہوا ہے۔“
وہ بے چارگی سے بولا۔”میں نے نہیں دیکھی۔“
میں نے وضاحت کی۔”شمشان گھاٹ جانے والی سڑک کے شرقی جانب جو سڑک شہر میں داخل ہوتی ہے اس کے شروع میں یہ عمارت موجود ہے۔“
وہ خوشی سے چہکا۔”سمجھ گیا باس!اسی سڑک پرچلتے ہوئے شہر کے باہر آجاﺅ،میں قریب ہی موجود ہوں تمھیں اٹھا لیتا ہوں۔“
میں رابطہ کاٹتے ہوئے اسی جانب بڑھ گیا جدھر سے آیا تھا۔
اسے مجھ تک پہنچنے میں دس بارہ منٹ سے زیادہ نہیں لگے تھے۔کار روکتے ہوئے وہ باہر نکلا اور مجھے زور دار جپھی ڈال دی۔
”یقین کرو باس! لگا تھاہم نے تمھیں کھو دیاہے۔“
اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے میں ہنسا۔”تبھی اتنے خوش تھے۔“
وہ پھیکے تبسم سے بولا۔”شاید تم نہ مانو مگر میں نے اب تک کھانا نہیں کھایا۔“
میں اس سے علیحدہ ہوا۔”اکٹھے بیٹھ کر کھاتے ہیں۔“
وہ اسٹیئرنگ پر بیٹھتا ہوا بولا۔”مگر دیوگڑھ سے نکل کر۔“
میں نے اس کے پہلو میں نشست سنبھالی۔”میرا مشورہ ہے ایک دو دن دیو گڑھ میں ٹھہر جاتے ہیں۔“
اس نے نفی میں سر ہلایا۔” باس کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ تمھاری ہر بات کو حکم کا درجہ دوں گا۔“
میں معترض ہوا۔”کیوں ؟“
”جیسے ہی پتا چلے گا کہ تم ان کے گھیرے سے نکل گئے ہو وہ پہلی فرصت میں دیوگڑھ سے نکلنے والے راستوں پر نگرانی سخت کریں گے اور پھر پورے شہر کی باریک بینی سے تلاشی لیں گے،یہ علاقہ شری ناتھ کا ہے نجانے اس کے کتنے خیر خواہ اور چیلے چانٹے دیو گڑھ میں بھرے پڑے ہوں گے۔“
میں نے وجہ بتائی۔”میں اپنی قیمتی رائفل وہیں چھپا آیا ہوں اس لیے چاہتا ہوں اسے پہلی فرصت میں واپس حاصل کروں۔“
وہ رفتار بڑھاتے ہوئے بولا۔”اگر وہ ان کے ہاتھ نہ لگی تو چند دن بعد مل جائے گی اور اس کے لیے تمھارا یہاں رہنا ضروری نہیں ،یہ کام کوئی اور بھی کر سکتا۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”کوئی نئی تازی؟“
وہ مسرت سے بولا۔”مہاراج شری ناتھ یادیو کا انتم سسکار ہو گیا ہے،سنا ہے کسی اناڑی سنائپر کاشکار بنا ہے اس لیے مرنے کے ساتھ بدنامی کی ذلت بھی بے چارے کا مقدر بنی۔“
میں نے پوچھا۔”دنیش رام سے بات ہوئی؟“
وہ اطمینان سے بولا۔”اسی کے پاس جا رہے ہیں خود ہی بات کرلینا۔“
جاری ہے
قسط نمبر35
ریاض عاقب کوہلر
”تمھیں کیسے پتا چلا تھا کہ دشمن مجھے گھیر رہے ہیں؟“
وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا۔”شری ناتھ کو گولی لگنے کی تصدیق کرتے ہی میں شمشان گھاٹ سے نکلا،راستے میں مختلف کاروں کو پہاڑی کا رخ کرتے دیکھا جہاں تم چھپے تھے ،تبھی اندازہ ہوا دشمن نے تمھاری درست جگہ کا پتا چلالیا ہے اور محسوس یہی ہوتا ہے کہ انھیں پہلے سے سن گی تھی،تبھی تو گھیراﺅ کرنے والے بغیر کسی تاخیر کے وہاں پہنچ گئے تھے۔دوسرے مرحلے میں پولیس اور شری ناتھ کے چیلوں کو بھی بلوا لیا گیا۔اسی دوران میں موبائل فون کے سگنل بھی عارضی طور پر جام کیے گئے اور گھیرا مکمل ہوتے ہی موبائل فون سروس بحال کر دی گئی۔“
میں نے بھی پولیس والوں سے سنی ہوئی معلومات اس کے گوش گزار کر دی۔ساتھ ہی سنائپروں کے حملے کا بھی بتا دیا۔
رشید نے تبصرہ کیا۔”ایجنسی والے شری ناتھ کے کالے کرتوتوں سے اچھی طرح واقف تھے،تبھی انھوں نے شری ناتھ کو حملے سے لاعلم رکھااور تمھارے خلاف بھی شری ناتھ کی موت کے بعد کارروائی شروع کی۔“
میں سوچتے ہوئے بولا۔”اگر انھیں جگہ کا علم ہوتا توپہلے ہی سے میرے گرد گھیرا تنگ کر لیتے۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔”اگر انھیں جگہ کا علم نہ ہوتا تو اتنی جلدی سنائپر تمھارے خلاف کیسے گولی چلاتے۔“
میں نے تجزیہ کیا۔”موہن بھیمانی اور اس کے ساتھیوں کے قتل کی وجہ جانتے ہی انھیں اتنا تو یقین ہوگیاتھا کہ اس کارروائی کے پیچھے ایک سنائپر چھپا ہے۔گولی کی شناخت سے انھیں سنائپر کے نام کا بھی پتا چل گیا ہو گا۔اب رہ جاتا ہے میری جگہ کے بارے اندازہ لگانا،اس مقصد کے حصول کو انھوں نے ایک ماہر سنائپر کی ذمہ داری لگائی کہ وہ شری ناتھ کے قریب رہے تاکہ اس پر حملہ ہوتے ہی گولی چلانے والے کی جگہ کا درست اندازہ کر سکے۔کوئی بھی مستند سنائپر گولی کی آمد کے زاویے سے گولی چلانے کی جگہ کے بارے درست اندازہ لگا سکتا ہے۔پس میری جگہ کا پتا چلتے انھوں نے پہلے سے تیار ی حالت میں لیٹے سنائپروں کو میری جگہ کی نشاندہی کرائی،شمشان گھاٹ کے قرب و جوار میں موجود عمارتوں کی چھتوں پر ان کے سنائپر پہلے سے تعینات تھے۔دو جمع دو چار کی طرح کہانی واضح ہے۔“
وہ متعجب ہوا۔”گولی کو شناخت کرتے ہی انھیں تمھارے بارے کیسے پتا چلا؟“
میں نے وضاحت کی۔ایس آر ون میرے علاوہ انڈیا میں صرف ایک شخص کے پاس ہے جو اس کے استعمال سے بھی ناواقف ہے اور اس کے پاس رائفل کی موجودی سے را بھی لاعلم ہے۔باقی میں اس رائفل سے پہلے بھی چند لوگوں کو نشانہ بنا چکا ہوں۔“
اس کی حیرانی سوا ہو گئی تھی۔”ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ رائفل کسی اور کے پاس موجود ہی نہ ہو،پیسہ ہو چیزیں دستیاب ہو ہی جاتی ہیں۔“
میں فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”جو نایاب ہو وہ ہر جگہ دستیاب نہیں ہوتی۔“
اس نے منہ بنایا۔”مجھے فلسفے سننے کا کوئی شوق نہیں ہے۔“
میں نے جان چھڑاتے ہوئے کہا۔”اس بحث کو رہنے دو کہ یہ لمبی کہانی ہے۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”جودھ پور تک دو گھنٹے لگیں گے اور میرے خیال میں لمبی کہانی سننے کے لیے اتنا وقت کافی ہے۔“
میں نے حیرانی سے کہا۔”مگر آتے ہوئے ہمیں زیادہ وقت لگا تھا۔“
اس نے وضاحت کی۔”تب ہم براہ راست دیو گڑھ نہیں آئے تھے،پالی سے گنڈالیہ پہنچے تھے اور وہاں سے دیو گڑھ آئے تھے،جبکہ اب دیوگڑھ سے براہ راست جودھ پور جارہے ہیں۔“
”ہونہہ!“اثبات میں سرہلاتے ہوئے میں نے ہنکارا بھرااور اسے لورا براﺅن کی کمپنی ڈبلیو اے ایس کی کہانی سنادی۔
جودھ پور میں داخل ہونے تک آفتاب طلوع ہو گیا تھا۔ہم نے پہلے ایک ہوٹل پر ڈٹ کر ناشتا کیاکہ کل دن کے بھوکے تھے۔پر تکلف ناشتے کے بعد اس نے مجھے مندر کے داخلی دروازے پر اتارا اور ہاتھ لہراتا ہوا آگے بڑھ گیا۔طے یہی ہوا تھا کہ پہلے میں دنیش رام سے ملاقات کروں گا اس کے بعد اس کے مکان پر پہنچ جاﺅں گا۔
مندر میں داخل ہو کر میں سیدھا تلسی داس کے کمرے میں پہنچا۔وہ پوجا پاٹھ کے بعد واپس آگیا تھا اور دنیش رام کے پاس جانے کی تیاری کر رہا تھا۔اس کے کمرے کا ایک پٹ کھلا تھادروازے کو بجا کر میں نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر مسرت بھری حیرانی نمودار ہوئی اور وہ خوشی سے چہکا....
”پدھاریے ویر جی !پدھاریئے....“
میں نے اندر جا کر اس سے معانقہ کیا۔میری پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے وہ تحسین آمیز لہجے میں بولا۔”یقین کرو ویر جی !دل خوش ہو گیا ہے آپ کا کام دیکھ کر۔“
”دھنے واد بھائی! اور یہ بتائیں مہاراج سے ملاقات کس وقت ہو پائے گی۔“
”وہ بے چینی سے آپ کے منتظر ہیں،انھیں صبح سویرے ہی ستیش ورما کا پیغام موصول ہو گیا تھا۔“
میں دروازے کی طرف مڑا۔”تو چلیں ان کے پاس۔“
بنسی نے نفی میں سرہلاتے ہوئے ناشتے کا پوچھا اور میرے انکار پر کہا....
”آپ فی الحال آرام کریں ،آگیا(اجازت) ملتے ہی آپ کو لے جاﺅں گا۔“
میں موقع غنیمت جانتے ہوئے لیٹ گیا تھا۔بنسی لال دروازہ باہر سے بند کرتے ہوئے چلا گیاتھا۔
٭٭٭٭٭
جاگا تو بنسی لال اب تک نہیں لوٹا تھا۔غسل خانے میں گھس کر گرم پانی سے غسل کیا،باہر نکلا تو بنسی کو کھانے کے برتنوں کے ہمراہ منتظر پایا۔کھانا کھاتے ہوئے اس نے بتایا کہ دنیش رام سے تفصیلی ملاقات آدھی رات کے بعد ہی ہونا تھی۔میں کھانا کھا کر دوبارہ لیٹ گیا۔میدان عمل میں ایسے دن کم ہی نصیب ہوتے ہیں جب انسان کے پاس فکر کرنے کی وجہ نہ ہو،اسے ہدف پورا کرنے کا منصوبہ نہ بنانا ہو،اسے مستقبل کا لائحہ عمل نہ طے کر نا ہو۔اور جب ایسا لمحات میسر ہو جائیں تو پھر خواب صرف گھر کے ہی آتے ہیں میں بھی جاگتی سوچوںسے پلوشہ کو دیکھتا ہواسونے کی کوشش کرنے لگا۔
رات کا کھانا کھانے کے دو تین گھنٹے بعد میں بنسی لال کی معیت میں دینش رام کے کمرے میں پہنچا۔وہ پرتپاک انداز میں مجھے ملا تھا۔
”دھنے واد بالک!....مجھے امید دلائی گئی تھی کہ تم اچھا کام کرو گے اور تم نے تعریف کرنے والوں کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائی۔“
میں نے متبسم ہو کر ہولے سے سر ہلا تے ہوئے پوچھا۔”کیا اب خطرہ باقی نہیں رہا؟“
وہ اعتماد سے بولا۔”اَوِشِّک باقی نہیں رہا۔“
میں نے اندیشہ ظاہر کیا۔”ہو سکتا ہے اس کے پاس دستاویزی ثبوت بھی موجود ہوں۔“
اس کا اعتماد بحال رہا۔”کوئی دستاویزی ثبوت اس کے ہاتھ لگا ہوتا تو شاید موجود بھی ہوتا، اسے تو بس معلوم ہوا تھا اور ہمیں اس معلومات کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے کہ ایجنسیوں کی تفتیش و نگرانی کا سامنا کرنا دشوار تھا۔“
”اب میرے کیا حکم ہے۔“
اس نے اطمینان سے اعلان کیا۔”تمھارے پاس قریباََ ہفتے کا وقت ہے ،اس دوران میں تمھارے سرحد پار کرنے کا کوئی نہ کوئی بندوبست ہو جائے گا۔“
میں نے بے سکونی ظاہر کی۔”میرے خیال میں تو ہفتہ زیادہ ہے۔“
وہ ہنسا۔”ہاں ایک ہفتہ آرام کرنا واقعی تم جیسے شخص کے لیے مشکل ہو گا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”ہفتہ نہیں میں ایک سال بھی آرام کر سکتا ہوں مگر شرط یہ ہے وہ ساتھ ہو۔“
وہ مزاحیہ انداز میں بولا۔”دیکھ لو میاں ! یہ ہماراہی جگرہے کہ اس کے بغیر کئی سال گزار دیئے اور نجانے مزید کتنے گزارنے ہوں گے۔“
میں ایک دم اداس ہو گیا تھا،اس کا مزاح میں کہا ہوا فقرہ بھی چابک کی طرح لگا تھا۔بلاشبہ اس کی بھی تو پلوشہ تھی....پلوشہ تو ہر کسی کی ہوتی ہے،بس نام مختلف ہوتاہے،شکل مختلف ہوتی ہے،شاید مزاج میں بھی تھوڑا بہت فرق ہو ،مگر محبوب تو محبوب ہوتا ہے.... اپنا محبوب پیاراہی لگتا ہے اور پیاروں سے دور رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے اس کا اندازہ کرنا کم از کم میرے لیے بالکل دشوار نہیں تھااورجب آپ کو پتا ہو کہ انتظار لاحاصل ہے تو انتظار کی لذت باقی نہیں رہتی صرف نارسائی کی اذیت مقدر بنتی ہے۔
میں ندامت سے بولا۔”معافی چاہتا ہوں۔“
”پریشان ہوگئے۔“اس نے کھلکھلاتے ہوئے میرے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولا۔”یہ زندگی ہم نے خود چنی ہے میاں !کیوں کہ ہمارا وہ ،وہاں پہنچا ہوا ہے جہاں سے واپس نہیں آسکتا،البتہ میں وہاں جا سکتا ہوں تو انتظار کے لیے جگہ کا انتخاب کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے۔ جب گزارا ہی یادوں پر کرنا ہو تو ماحول اور مقام کے چناﺅ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔“
میں دکھی انداز میں بولا۔”ستیش ورما کی پانچ سال کی ایک بیٹی ہے جسے وہ اب تک نہیں دیکھ پایا۔“
دنیش نے انکشاف کیا۔”امید ہے اگلی سردیاں وہ وطن میں گزاررہا ہوگا۔“
میں مدعے پر آیا۔”یہ ہفتہ ستیش ورما کے ساتھ گزار سکتا ہوں۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”بھول جاﺅ کوئی ستیش ورما تمھیں ملا تھا۔“
میں لجاجت سے بولا۔”اس سے الوداعی ملاقات تو کر سکتا ہوں۔“
اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”وہ اب تک جودھ پور سے سیکڑوں میل دور جا چکا ہوگا۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا۔”کہاں؟“
وہ منہ بناتے ہوئے بولا۔”یہ جاننا تمھارے لیے ضروری نہیں ہے۔“
میں اکتائے ہوئے انداز میں بولا۔”مجھے کہاں جانا ہوگا؟“
”بنسی تمھیں ایک مکان تک پہنچا دے گا،کوشش کرنا ایک ہفتہ گھر ہی میں گزارنا۔جانے سے دو دن پہلے تمھیں ضروری ہدایا ت مل جائیں گی اس کے بعد تم اپنی رائفل لانے جا سکتے ہو اس سے پہلے نہیں۔اپنا موبائل فون بنسی کے حوالے کر دینا وہ تمھیں نیا موبائل فون دے دے گا اور یہاں سے رخصت ہونے کے بعد بھول جانا کہ تم کبھی اس مندر میں آئے بھی ہو۔اگرہماری ضرورت پڑے وہ بھی اتنی شدید کہ تم مرنے والے ہو جاﺅ تب بھی یہاں آنا نہ بنسی یا مجھ سے رابطے کی کوشش کرنا۔البتہ میرایا بنسی کا بلاوا آتا ہے تو مضائقہ نہیں۔“
میں نے پوچھا۔”اور اگر کچھ پوچھنا ہو؟“
وہ سختی سے بولا۔”شاید تم سن نہیں رہے،میں نے کہا ہے اگرہم سے رابطہ کرنے پر تمھاری موت ٹل سکتی ہے تو مرجانامگر رابطہ نہ کرنا۔“
میں ہنسا۔”ایسا تو نافرمان اولاد کو کہا جاتا ہے۔“
اس نے خشمگین نظروں سے مجھے گھورا اور پھر ناک سے گہرا سانس کھینچتے ہوئے کہا۔ ”نافرمان ہو تو واہیات استفسار کر رہے ہو نا۔“
میں خفیف انداز میں بولا۔”شما چاہتا ہوں مہاراج!اور بے فکر رہیں ان ہدایات پر عمل کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔“
وہ سخت لہجے میں بولا۔”کوشش تب کی جاتی ہے جب تمھارے پاس انتخاب کی سہولت موجود ہو برخوردار!اور میں نے ایسی گنجائش نہیں چھوڑی۔“
”جی مہاراج۔“میں نے سعادت مندی سے سرہلادیاتھا۔
چند اور احکامات میری سماعتوں میں ٹھونس کر اس نے الوداعی معانقہ کرتے ہوئے مجھے جانے کی اجازت دے دی۔
بنسی لال ،سرنگ میں میرا منتظر تھا۔”ویر جی !لمبی گپ شپ ہو رہی تھی۔“
میں نے بے چارگی ظاہر کی۔”گپ شپ کہاں یار!لمبی چوڑی ہدایات میرے کانوں میں ٹھونسی جا رہی تھیں۔“
وہ متبسم ہوا۔”وہ تو میرے پاس بھی کافی سے زیادہ ہیں۔“
”فرمائیں۔“
وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔”یہاں نہیں۔“
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ہم کاٹھ کباڑ والے کمرے میں پہنچے ،بنسی نے باہر جھانک کر احتیاطی تدبیر پر عمل کیا اور مجھے ساتھ آنے کا اشارہ کرتے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔تھوڑی دیربعد ہم اس کے کمرے میں تھے۔
”فی الحال آرام کرو،طلوع آفتاب سے پہلے نکلیں گے۔“مجھے ہدایت دیتا ہوا وہ نکل گیاتھا۔
٭٭٭٭٭
صبح میں بغیر ناشتا کیے بنسی لال کی معیت میں چل پڑا۔حسب سابق ہم مندر سے رکشے میں بیٹھ کر نکلے تھے۔بنسی کے اشارے پر ایک چوک میں اتر گئے،مختلف گلیوں سے گزارتے ہوئے وہ مجھے ایک کوارٹر نما مکان میں لے آیاتھا۔
تھوڑی دیر میرے ساتھ بیٹھ کر اس نے لمبی چوڑی ہدایات دیں اور پھر الوداعی معانقہ کر کے واپس ہو گیا۔میرے حوالے نیا موبائل فون کر کے اس نے پرانے والا واپس لے لیا تھا۔میں دوبارہ اکیلا رہ گیا تھااور ہدایات کے مطابق کسی سے رابطہ نہیں کر سکتا تھا۔خیر یہ اتنا مشکل بھی نہ تھا،یوں بھی ہمارا تعلق کام کی حد تک ہی تھاکوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی کہ اداس ہوجاتا۔
اگلے چار دن میں نے وہیں گزارے، بس کھانے کے اوقات میں کھولی سے نکلتا تھا۔بقایا وقت ٹی وی کے سامنے گزرتا۔شری ناتھ کے بھگت کافی تپے ہوئے تھے اور قاتل کو سرگرمی سے تلاش کر رہے تھے ،مگر ان کے ہاتھ کوئی سراغ نہیں لگا تھا جس کی بنیاد پر اپنی تلاش کو کسی کنارے لگا سکتے۔عجیب بات یہ تھی کہ خبروں میں نہ تو کسی پاکستانی جاسوس کا ذکر کیا گیا تھا اور نہ بہ طور سنائپر میرا ذکر آیاتھا،یہاں تک کہ موہن بھیمانی اور اس کے چیلوں کے بارے بھی یہ وضاحت نہیں کی جا رہی تھی کہ ان کا قاتل کوئی ایک ہی شخص تھا۔ایک دو غیر معروف چینلوں نے شری ناتھ کی موت کا سبب کسی شاطر و ماہر سنائپر کو ٹھہرایا تھا۔ تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ محافظوں کے گھیرے میں موجود شری ناتھ کو سر میں گولی مارنے والا کوئی عام شخص نہیں ہو سکتا تھا۔اس نے دشمنی کی وجہ شری ناتھ کے ماہ دو ماہ پہلے دیے ہوئے بیان کو ٹھہرایا تھا جس میں شری ناتھ پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دے کربھارت سرکار کو اس کے خلاف جنگ کرنے کا مشورہ دے رہا تھا۔ اس کے تیئں شری ناتھ مہاراج بھارت ماتا کا سچا بھگت تھا، اس کے بیان میں ایک اثر تھا اور اگر وہ اسی طرح بھارت سرکار پر زور دیتا رہتا تو جلد ہی بھارت نے پاکستان پر چڑھائی کر دینا تھی۔ پس اس خطرے سے بچنے کو پاکستان نے اپنا خصوصی سنائپر بھیجا جس نے مہاراج شری ناتھ کی ہتیا کی۔پاکستانی سنائپروں کے ذکر کے ساتھ اسے کچھ عرصہ پہلے ہوئے دھریندر شکلا اور ابھی دو تین ماہ پہلے ہوئے وگنیش شکلا کا قتل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی لگا تھا۔اس نے ان تمام اموات کا ذمہ دار ایس ایس نامی سنائپر کو ٹھہرایا تھا۔گو اس نے سابقہ کڑیوں کو حالیہ قتل کے ساتھ ملانے کی بھونڈی کوشش کی تھی مگر اتفاق یہ تھا کہ اس کا اندازہ درست تھا۔ایک دوروز تو شری ناتھ کا قتل خبروں کی سرخی بنا رہا مگر جلد ہی اس کی جگہ کئی ”بریکنگ نیوز“نے لے لی تھی۔جتنی زیادہ بھارت کی آبادی ہے اس حساب سے تو وہاں ہر منٹ میں بریکنگ نیوز مل جاتی ہے۔
پانچویں روز شام ڈھلے دروازے پر دستک ہوئی،میں ہولسٹر میں پستول کی موجودی کی تصدیق کر کے دروازے کی طرف بڑھ گیا،لیکن اس سے پہلے کہ دروازے تک پہنچتا۔”دھپ۔“ کی ہلکی سی آواز کے ساتھ کوئی چیز صحن میں آگری تھی۔برآمدے میں جلتے بلب کی روشنی صحن تک پہنچ رہی تھی۔ میں نے قریب ہو کر لفافہ اٹھالیا۔یقینا دنیش رام نے سفر کا بندوبست کر دیا تھا۔
کمرے میں آکر میں نے دروازہ کنڈی کیا اور لفافہ کھول کر دیکھنے لگا۔سرحد پار کرنے کی تفصیل بتائی گئی تھی۔مجھے باڑمیر کے راستے انڈیا کی سرحد عبور کرناتھی اور یہ سفر تیسرے روزصبح سویرے شروع ہونا تھا۔باڑمیرانڈیا کا سرحدی شہر ہے ،کافی بڑا شہر ہے اور ریگستانی علاقہ ہے۔اس کی سرحدیں تین اطراف میں جودھ پور،پالی اور سروہی سے ملتی ہیں۔جبکہ غربی جانب پاکستان کا صحرا شروع ہو جاتا ہے۔اور مجھے صحرا ہی کو پار کرنا تھا۔کچھ سفر پیدل ،کچھ سوار ہو کر۔مجھے سرحد پار کرانے والے رہنما سے باڑمیر جا کر ملاقات کرنا تھی۔ملاقات کا طریقہ کار اور جگہ کی وضاحت کر دی گئی تھی۔تفصیلات کودو تین بار پڑھ کر میں نے ذہن نشین کیا اور کاغذات کو جلا دیا کہ اس کے بارے یہی ہدایت ملی تھی۔
جانے سے ایک روز پہلے میں نے دیوگڑھ کا راستہ ناپا،بہ ظاہر وہاں حالات بالکل ٹھیک تھے۔ جب کہ سرکاری سطح پر کوئی خاص سرگرمی نظر نہیں آرہی تھی تو شری ناتھ کے چیلے چانٹوں میں اتنی ہمت مفقود تھی کہ ذاتی طور پر سرگرمیاں دکھاتے۔شری ناتھ اور موہن بھیمانی کی ہلاکت کے بعداس کے آدمیوںمیں کوئی ایسا تگڑا شخص موجود نہیں تھاجو شری ناتھ کی سلطنت کو سنبھال سکتا۔گھنٹوں ہی میں ساری تنظیم دھڑام سے زمین بوس ہو گئی تھی۔جس کا جتنا زور تھا اتنے حصے پر وہ قابض ہو گیا تھا۔
میرے پاس چونکہ اپنی سواری موجود نہیں تھی اس لیے عوامی بس میں وہاں پہنچا تھا۔ مطلوبہ پہاڑی کی طرف جاتے ہوئے مجھے کوئی مشکوک شخص نظر نہیں آیا تھا جولگتا کہ نگرانی کررہاہے۔
میں بہ ظاہر بے پروائی سے مگر بہ باطن نہایت محتاط اور چوکنے رہ کر ایس آن ون کی جگہ تک پہنچا تھا۔ جھاڑیاں ہٹانے پر کھوہ کے منہ پر رکھے پتھر سلامت نظر آئے تھے۔
دائیں بائیں نظریں دوڑا کر میں نے ایک بار پھر تسلی کی اور سرعت سے پتھروں کو کھوہ کے دہانے سے ہٹا دیا۔ عقب میں بیگ موجود تھا۔بیگ اٹھا کر میں نے ہلکا سا جھاڑا اور کندھوں میں ڈال کر واپسی کی راہ لی۔
شام تک میں جودھ پور پہنچ گیا تھا۔رات اپنے ٹھکانے پر گزار کر میں اگلے دن ناشتے کے بعد باڑمیر جانے کو تیار ہوگیاتھا۔
ملاقات کے وقت دنیش رام نے اخراجات کے لیے رقم کی پیش کش کی تھی مگر میرے پاس اچھے خاصے پیسے موجود تھے اس لیے میں نے خوش دلی سے منع کر دیا تھا۔
جودھ پور سے باڑمیر تک قریباََ دو سو کلومیٹر فاصلہ بنتا ہے۔ بس میں یہ فاصلہ اڑھائی تین گھنٹوں میں آرام سے طے ہو گیا تھا۔اپنے رہنما سے میری ملاقات اگلے دن طے تھی اس لیے میں نے پہلے کسی رہائش کی تلاش ضروری سمجھی تھی۔
بس اڈے سے میں پیدل ہی نکل آیا تھا۔سڑک کنارے ایک ہوٹل دیکھ کر میں ادھر مڑ گیا۔وہ بالکل ایسا ہی ہوٹل تھا جیسا عموماََسڑک کنارے بنے ہوتے ہیں ۔بغیر چاردیواری کے صحن جس میں گاہکوں کے بیٹھنے کے لیے پلاسٹک کی کرسیاں ،لکڑی و لوہے کے بینچ اور چارپائیاں رکھی ہوئی تھیں۔ لکڑی کی میزیں بھی کافی تعداد میں نظر آرہی تھیں جن پر جست کے جگ و گلاس نظر آرہے تھے۔دائیں جانب دو ٹرک،تین کاریں اور چند موٹرسائیکلیں کھڑی تھیں۔ہوٹل کی اصل عمارت طویل برآمدے اور ہال نماکمرے پر مشتمل تھی۔برآمدے ہی میں ایک جانب باورچی خانہ بنا تھا جہاں تندور پر تازہ روٹیاں لگائی جا رہی تھیں۔اور سچ کہوں تو انھی گرم روٹیوں نے مجھے اس طرف متوجہ کیا تھا۔
لوگوں کے سامنے تین چار قسم کے پکوان نظر آرہے تھے ۔لیکن مجھے جس نے لبھایا تھا وہ آلو، مٹر ،گاجرکا سالن تھا جس میں چکن کی چھوٹی چھوٹی بوٹیاں شامل تھیں ۔
ایس آر ون کا بیگ پہلو میں رکھ کر میں نے ایک چارپائی پر نشست سنبھالی۔اسی اثناءمیں چراغ کے جن کی طرح بیرا نمودار ہوا۔اپنی پسند بتا کر میں دائیں بائیں کا جائزہ لینے لگا۔میری عادت تھی کہ کسی بھی جگہ بیٹھتے وقت سب سے پہلے بھاگنے کے راستوں کا تعین کرتا تھا،گولی وغیرہ سے بچنے کو سب سے قریبی آڑ کا چناﺅ کرتا تھااور یہ عادت میری تربیت کے مرہون منت تھی ۔
بیرے نے سب سے پہلے تازہ پانی کا جگ بھر کر میرے سامنے رکھا۔گلاس میز کے پرلے کنارے پر پڑا تھا ،میں نے گلاس اٹھانے کو ہاتھ بڑھایاتبھی ۔”ٹن۔“ کی آواز سے گلاس ہوا میں اڑتا ہوا دور جا گرا تھا۔کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا تھا کہ گلاس کو آخر ہوا کیا تھا،تمام ناگواری سے میری جانب متوجہ ہو گئے تھے۔البتہ مجھے سیکنڈ کے بیسویں حصے سے بھی کم وقت میں اندازہ ہو گیا تھا کہ گلاس کسی ماہر سنائپر کی گولی کا نشانہ بنا تھا۔ایک ہاتھ سے ایس آر ون کا بیگ پکڑتے ہوئے میں نے زقند بھری اور زمین پر لیٹ گیا،اس کے ساتھ ہی سرعت سے کرال کرتا ہواقریبی آڑ کی طرف بڑھا جو ایک بڑے تنے والے درخت کی تھی۔
آڑ پکڑتے ہی میں نے دائیں بائیں نظر گھمائی تمام حیرانی سے میری طرف متوجہ تھے اب تک کسی احمق کو خطرے کااندازہ نہیں ہوا تھا ۔خوش قسمتی سے گلاس کی سیدھ میں کوئی گاہک نہیں بیٹھا تھا ورنہ اس کے جسم میں روشن دان کھل گیا ہوتا۔
میں سرعت سے سوچ کے گھوڑے دوڑا رہا تھا کہ آخر گولی چلانے والے کا مقصد کیا تھا اور جو شخص جستی گلاس کو نشانہ بنا سکتا تھا اسے میرے سر میں گولی ٹھونکنے میں بھلا کیا دشواری تھی۔
میںنے بیگ کندھوں میں پہن کر گلاک ہاتھ میں تھام لیا تھا۔اندازہ تھا کہ مجھے گھیرنے کی کوشش کی جا رہی تھی اور وہ مجھے زندہ پکڑنا چاہتے تھے تبھی گولی کا نشانہ نہیں بنایا تھا۔میں گلاس کو گولی لگنے کے زاویے سے دشمن کی جگہ کا اندازہ کرنے لگا۔اس جانب چند نمایاں عمارتیں نظر آرہی تھیں اور سنائپر کا ٹھکانہ کسی ایک عمارت میں ہوسکتا تھا۔اگر اس کی گولی کسی شخص کے جسم میں لگی ہوتی تو یہ اندازہ کرنا زیادہ سہل تھا ،مگرگولی گلاس کو لگی تھی اور گلاس اڑ کر کہیں دور جا گرا تھاتو بغیر گولی لگنے کے نشان کو جانچے سنائپر کی جگہ کا اندازہ بہ ہرحال کافی دشوار تھا۔میں بالکل درخت کے عقب میں ہو گیا تاکہ ان عمارتوں میں موجود کسی بھی سنائپر کو میرے جسم کا کوئی حصہ دکھائی نہ دے،ورنہ گلاس کو نشانے بنانے والے کو میرے کسی عضو میں گولی ٹھوکنا کون سا مشکل تھا۔
اسی وقت چارپائی سے اٹھ کر ایک شخص موبائل فون کان سے لگائے میری طرف بڑھا۔ میری نظریں اس پر گڑ گئی تھیں۔چند قدم دور ہوگا کہ میں للکارا ۔”وہیں رک جاﺅ۔“
وہ خالی ہاتھ اوپر کرتے ہوئے چلایا۔”پلیز گولی مت چلانا....تمھاری کال ہے میں بس تمھیں موبائل فون دینے آیا ہوں۔“
میں مشکوک لہجے میں بولا۔”میری کال کہاں سے آسکتی ہے۔“
”خود سن لو۔“اس نے دوتین قدم دور سے موبائل فون میری طرف اچھال دیا۔جسے میں نے ہوا ہی میں پکڑ لیا تھا۔
وہ پیچھے مڑ گیامیں نے موبائل فون کان کو لگایا۔
”ایس ایس بات کر رہے ہو۔“شستہ انگریزی میں پوچھا گیا تھا۔میں ششدر رہ گیا تھااس کے لہجے میں گہرا طنز و استہزاءپوشیدہ تھا۔
میں نے بے صبری سے پوچھا۔”کون ہو تم؟“
وہ ہنسا۔”یہ زیادتی ہے،پہلے سوال میں نے پوچھا ہے۔“
میں محتاط انداز میں بولا۔”اگر کہوں تمھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔“
اس نے قہقہ بلند کیا۔”یہ تو خیر سفید جھوٹ ہوگا،اطراف میں نظریں دوڑاﺅ کیا کسی اور شخص کواپنی جگہ چھوڑ کر اتنی سرعت سے آڑ پکڑتے دیکھا ہے۔“
”کیا چاہتے ہو؟“
وہ نروٹھے انداز میں بولا۔”میرے سوال کا جواب گول کر کے اپنے سوال کیے جا رہے ہو۔“
میں نے تسلیم کیا۔”شاید لوگ مجھے ہی ایس ایس کہتے ہیں۔“
وہ تفاخر سے بولا۔”غلط کہتے ہیںاور شاید یہ غلطی سدھارنے کا وقت آگیا ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔” تمھارے ساتھ متفق ہوں تو دشمنی ختم اور مجھے جانے دو۔“
اس نے مطعون کیا۔”ڈر گئے۔“
میں گہرا سانس لیتے ہوئے بولا۔”ہاں ،زندگی تو ہر کسی کو پیاری ہوتی ہے نا؟“
اس نے استہزائی انداز میں پوچھا۔”کبھی لبلبی دباتے وقت تم نے بھی یہ سوچا کہ ہدف کو زندگی کتنی پیاری ہو سکتی ہے۔“
میں ہنسا۔”تو تمھیں بھی وہی کرنا چاہیے تھا جو میں کرتا ہوں،گلاس کے بجائے میری کھوپڑی میں گولی ٹھونکتے۔“
”نہیں ....نہیں ....پھر تو مزا خراب ہو جاتا۔اتنی دور سے مجھے تم سے مقابلے کوبلایا گیا ہے بغیر چنوتی دیئے کیسے قتل کر دیتا۔“
میں نے استہزائی اداز میں پوچھا۔”تو چوہے بلی کا کھیل کھیلنا چاہتے ہو۔“
وہ اعتماد سے بولا۔”ارادہ تو یہی ہے۔“
میں نے تجویز پیش کی۔”ٹھیک ہے ،پھر مجھے جانے دو تاکہ ڈٹ کر مقابلہ کر سکوں۔“
”ہاتھ میں آئے دشمن کو سنائپر کبھی نہیں چھوڑا کرتا اور یہ تم سے زیادہ کون جانتا ہے۔“
میں نے منہ بنایا۔”پھر مقابلہ تو نہ ہوا ناں۔“
اس نے پیش کش کی۔”اچھا میں گلاس پر دوبارہ گولی چلاتا ہوں تم بتانا کہ میں کہاں چھپا ہوں،اگر صحیح بتا دیا تو جانے دوں گا۔“
میں نے انکار کرتے ہوئے کہا۔”میں نے درخت کے تنے سے جھانک کر دیکھا تو بڑی آسانی سے نشانہ بن جاﺅں گا۔“
اس کی اطمینان بھری آواز ابھری ۔”تمھیں جھانکنے کی زحمت نہیں کرنا پڑے گی۔“
اس کے ساتھ ہی گلاس کو گولی لگی وہ اڑ کر برآمدے کے ستون سے جا ٹکرایا تھا،گولی بھی گلاس میں دوسرا سوراخ کرتی ہوئی ستون کی بنیاد میں گھس گئی تھی۔کافی لوگ جو کھانا کھاتے ہوئے مجھے تعجب سے دیکھ رہے تھے اور وہ بیرا جو میرا کھانا میز پر چن کر مجھے اشارے سے بلا رہا تھا،اس مرتبہ گلاس کے بجنے اور گولی کے ستون سے ٹکرانے کا نتیجہ دیکھ چکے تھے۔تمام چیختے ہوئے بھاگ پڑے تھے۔
اورمیں کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کی مثال بنا پڑا تھاکیوں کہ اس مرتبہ گولی جہاں سے چلائی گئی تھی وہ میرا عقب بن رہا تھا۔ اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ میں اس وقت ایک سے زیادہ سنائپروں کے نشانے پر تھا۔اور سنائپر بھی ایسے جن کا نشانہ چھوٹے سے گلاس پر بھی نہیں چوک رہا تھا۔یقینا سیر کو سوا سیر ٹکرا گئے تھے۔
جاری ہے