خوش آمدید
لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔
Register Now!
-
PAID PLANS
ٹاپ پیکیج
👑
PREMIUM
16000
چھ ماہ کے لیے
بہترین ڈیل
💎
VIP+
6000
چھ ماہ کے لیے
بنیادی ڈیل
⭐
VIP
3500
تین ماہ کے لیے
You are using an out of date browser. It may not display this or other websites correctly.
You should upgrade or use an
alternative browser.
ہے ہجر میں وصال، زہے خوبیِ خیال
بیٹھے ہیں انجُمن میں تِری، انجُمن سے دُور
حسرت موہانی
تِرا ہر کمال ہے ظاہری، تِرا ہر خیال ہے سرسری
کوئی دل کی بات کروں تو کیا، تِرے دل میں آگ تو ہے نہیں
ناصر کاظمی
ساون میں خاک اُڑتی ہے دل ہے رُنْدھا ہُوا
جی چاہتا ہے گریۂ مستانہ کیجیے
یاس یگانہ عظیم آبادی
ہے آدمی بجائے خود اِک محشرِ خیال
ہم انجمن سمجھتے ہیں، خَلوت ہی کیوں نہ ہو
مِٹتا ہے فوتِ فُرصت ہَستی کا غم کوئی
عمرِ عزیز صرفِ عبادت ہی کیوں نہ ہو
مرزا غالب
ہمارے ذہن میں اِس فکر کا ہے نام وصال
کہ گر نہ ہو، تو کہاں جائیں، ہو تو کیوں کر ہو!
مجھے جُنوں نہیں، غالب! ولے بقولِ حضور
"فرقِ یار میں تسکین ہو تو کیوں کر ہو!"
مرزا غالب
وہ جہاں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی اک بات اچھی ہے میرے ہرجائی کی
پروین شاکر
شہرِ جمال کے خس و خاشاک ہوگئے
اب آئے ہو جب آگ سے ہم خاک ہوگئے
اے ابرِ خاص، ہم پہ برسنے کا اب خیال
جل کر تِرے فراق میں جَب راکھ ہو گئے
پروین شاکر
اک تجھی کو منتظر پایا نظرکے سامنے
میں نےجب بھی سوچ کی دہلیزپررکھاقدم
ریحانہ قمر
ساقیا تیرے بادہ خانے میں
نام ساغر ہے مےَکو ترسےہیں
ساغر صدیقی
دِل کو مہر و مہ و انجُم کے قرِیں رکھنا ہے
اِس مُسافر کو مگر خاک نشِیں رکھنا ہے
پروین شاکر
Create an account or login to read stories
You must be a member in order to leave a comment
Create account
Create an account on our community. It's easy!
Log in
Already have an account? Log in here.
New posts