- Thread starter
- #71
alone_leo82
Well-known member
کب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں
امجد اسلام امجد
کب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں
اپنے گھر میں ہیں یا سفر میں ہیں
یوں تو اڑنے کو آسماں ہیں بہت
ہم ہی آشوب بال و پر میں ہیں
زندگی کے تمام تر رستے
موت ہی کے عظیم ڈر میں ہیں
اتنے خدشے نہیں ہیں رستوں میں
جس قدر خواہش سفر میں ہیں
سیپ اور جوہری کے سب رشتے
شعر اور شعر کے ہنر میں ہیں
سایۂ راحت شجر سے نکل
کچھ اڑانیں جو بال و پر میں ہیں
عکس بے نقش ہو گئے امجدؔ
لوگ پھر آئنوں کے ڈر میں ہیں