• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

امجد اسلام امجد

کب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں
امجد اسلام امجد


کب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں
اپنے گھر میں ہیں یا سفر میں ہیں
یوں تو اڑنے کو آسماں ہیں بہت
ہم ہی آشوب بال و پر میں ہیں
زندگی کے تمام تر رستے
موت ہی کے عظیم ڈر میں ہیں
اتنے خدشے نہیں ہیں رستوں میں
جس قدر خواہش سفر میں ہیں
سیپ اور جوہری کے سب رشتے
شعر اور شعر کے ہنر میں ہیں
سایۂ راحت شجر سے نکل
کچھ اڑانیں جو بال و پر میں ہیں
عکس بے نقش ہو گئے امجدؔ
لوگ پھر آئنوں کے ڈر میں ہیں
 
قائد اعظم
امجد اسلام امجد



آدم کی تاریخ کے سینے میں ڈوبے ہیں
کتنے سورج کتنے چاند
کیسے کیسے رنگ تھے مٹی سے پھوٹے
موج ہوا کے بنتے اور بگڑتے رستوں میں ٹھہرے
اور خاک ہوئے
نیلے اور اتھاہ سمندر کے ہونٹوں کی پیاس بنے
آنے والے دن کی آنکھوں میں لہراتی آس بنے
کیسے کیسے رنگ تھے جو مٹی سے چمکے
اور چمک کر پڑ گئے ماند
کچھ سورج ایسے پھر بھی
اپنی اپنی شام میں جو اس دشت افق کا رزق ہوئے ہیں
لیکن اب تک روشن ہیں گہنائے نہیں
پھول ہیں جن کو چھونے والی سبز ہوائیں خاک ہوئیں
لیکن اب تک تازہ ہیں کمہلائے نہیں
ایسا ہی اک سورج تھا وہ آدم زادہ
ٹوٹی اینٹوں کے ملبے سے جادہ جادہ
ٹکڑا ٹکڑا یکجا کر کے
ایک عمارت کی بنیادیں ڈال رہا تھا
سات سمندر جیسے دل میں
ان کے غم کو پال رہا تھا
جن کے کالے تنگ گھروں میں کوئی سورج چاند نہیں تھا
پھولوں کی مہکار نہیں تھی بادل کا امکان نہیں تھا
صبح کا نام نشان نہیں تھا
نیند بھری آنکھوں کے لان میں
وہ خود سورج بن کر ابھرا
ڈھلتی شب میں پورے چاند کی صورت نکلا
صبح کے پہلے دروازے پر دستک بن کر گونج اٹھا
آج میں جس منزل پر کھڑا ہوں
اس پر پیچھے مڑ کر دیکھوں
تو اک روشن موڑ پہ اب بھی
وہ ہاتھوں میں
آنے والے دن کی جلتی شمع تھامے
میری جانب دیکھ رہا ہے
جانے کیا وہ سوچ رہا ہے

Boht khoobsurat nazam phar kye maza a gya
 
پلکوں کی دہلیز پہ چمکا ایک ستارا تھا
امجد اسلام امجد


پلکوں کی دہلیز پہ چمکا ایک ستارا تھا
ساحل کی اس بھیڑ میں جانے کون ہمارا تھا
کہساروں کی گونج کی صورت پھیل گیا ہے وہ
میں نے اپنے آپ میں چھپ کر جسے پکارا تھا
سر سے گزرتی ہر اک موج کو ایسے دیکھتے ہیں
جیسے اس گرداب فنا میں یہی سہارا تھا
ہجر کی شب وہ نیلی آنکھیں اور بھی نیلی تھیں
جیسے اس نے اپنے سر سے بوجھ اتارا تھا
جس کی جھلملتا میں تم نے مجھ کو قتل کیا
پت جھڑ کی اس رات وہ سب سے روشن تارا تھا
ترک وفا کے بعد ملا تو جب معلوم ہوا
اس میں کتنے رنگ تھے اس کے کون ہمارا تھا
کون کہاں پر جھوٹا نکلا کیا بتلاتے ہم
دنیا کی تفریح تھی اس میں ہمیں خسارا تھا
جو منزل بھی راہ میں آئی دل کا بوجھ بنی
وہ اس کی تعبیر نہ تھی جو خواب ہمارا تھا
یہ کیسی آواز ہے جس کی زندہ گونج ہوں میں
صبح ازل میں کس نے امجدؔ مجھے پکارا تھا
 
در کائنات جو وا کرے اسی آگہی کی تلاش ہے
امجد اسلام امجد



در کائنات جو وا کرے اسی آگہی کی تلاش ہے
مجھے روشنی کی تلاش تھی مجھے روشنی کی تلاش ہے
غم زندگی کے فشار میں تری آرزو کے غبار میں
اسی بے حسی کے حصار میں مجھے زندگی کی تلاش ہے
یہ جو سرسری سی نشاط ہے یہ تو چند لمحوں کی بات ہے
مری روح تک جو اتر سکے مجھے اس خوشی کی تلاش ہے
یہ جو آگ سی ہے دبی دبی نہیں دوستو مرے کام کی
وہ جو ایک آن میں پھونک دے اسی شعلگی کی تلاش ہے
یہ جو ساختہ سے ہیں قہقہے مرے دل کو لگتے ہیں بوجھ سے
وہ جو اپنے آپ میں مست ہوں مجھے اس ہنسی کی تلاش ہے
یہ جو میل جول کی بات ہے یہ جو مجلسی سی حیات ہے
مجھے اس سے کوئی غرض نہیں مجھے دوستی کی تلاش ہے
 
دشت دل میں سراب تازہ ہیں
امجد اسلام امجد



دشت دل میں سراب تازہ ہیں
بجھ چکی آنکھ خواب تازہ ہیں
داستان شکست دل ہے وہی
ایک دو چار باب تازہ ہیں
کوئی موسم ہو دل گلستاں میں
آرزو کے گلاب تازہ ہیں
دوستی کی زباں ہوئی متروک
نفرتوں کے نصاب تازہ ہیں
آگہی کے ہماری آنکھوں پر
جس قدر ہیں عذاب تازہ ہیں
زخم در زخم دل کے کھاتے میں
دوستوں کے حساب تازہ ہیں
سر پہ بوڑھی زمین کے امجدؔ
اب کے یہ آفتاب تازہ ہیں
 
نکل کے حلقۂ شام و سحر سے جائیں کہیں
امجد اسلام امجد


نکل کے حلقۂ شام و سحر سے جائیں کہیں
زمیں کے ساتھ نہ مل جائیں یہ خلائیں کہیں
سفر کی رات ہے پچھلی کہانیاں نہ کہو
رتوں کے ساتھ پلٹتی ہیں کب ہوائیں کہیں
فضا میں تیرتے رہتے ہیں نقش سے کیا کیا
مجھے تلاش نہ کرتی ہوں یہ بلائیں کہیں
ہوا ہے تیز چراغ وفا کا ذکر تو کیا
طنابیں خیمۂ جاں کی نہ ٹوٹ جائیں کہیں
میں اوس بن کے گل حرف پر چمکتا ہوں
نکلنے والا ہے سورج مجھے چھپائیں کہیں
مرے وجود پہ اتری ہیں لفظ کی صورت
بھٹک رہی تھیں خلاؤں میں یہ صدائیں کہیں
ہوا کا لمس ہے پاؤں میں بیڑیوں کی طرح
شفق کی آنچ سے آنکھیں پگھل نہ جائیں کہیں
رکا ہوا ہے ستاروں کا کارواں امجدؔ
چراغ اپنے لہو سے ہی اب جلائیں کہیں
 
ہوا ہی لو کو گھٹاتی وہی بڑھاتی ہے
امجد اسلام امجد


ہوا ہی لو کو گھٹاتی وہی بڑھاتی ہے
یہ کس گمان میں دنیا دیے جلاتی ہے
بھٹکنے والوں کو کیا فرق اس سے پڑتا ہے
سفر میں کون سڑک کس طرف کو جاتی ہے
عجیب خوف کا گنبد ہے میرے چار طرف
مری صدا مرے کانوں میں لوٹ آتی ہے
وہ جس بھی راہ سے گزرے جہاں قیام کرے
زمیں وہاں کی ستاروں سے بھرتی جاتی ہے
یہ زندگی بھی کہیں ہو نہ شہر زاد کا روپ
شبانہ روز کہانی نئی سناتی ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top