خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller بھگوڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ریاض عاقب کوہلر


قسط نمبر20
ریاض عاقب کوہلر
”اب بتائیں۔“ بیٹھک میں داخل ہوتے ہی اس نے بے صبری ظاہر کی۔
”پتا ہے انسان کا دل پر اختیار نہیں ہوتا۔“
”بالکل۔“ اس نے تائید میں سرہلایا۔
”جب پہلی بار رضیہ کو دیکھا تو دل ہار بیٹھا، گو وہ معاشی لحاظ سے برتر ہے مگر اتنا گیا گزرا میں بھی نہیں ہوں۔ ملک صاحب سے مل کر اس کا رشتا مانگنے کاارادہ ہے مگر جب تک رضیہ راضی نہ ہو ملک صاحب سے بات چیت فضول رہے گی۔“
وہ اچنبھے سے بولا۔”مگرمیں آپ کے کس کام آ سکتا ہوں۔“
”آپ رضیہ کی روزمرہ کا جائزہ لیں۔ خاص کر اس کے حویلی سے باہر جانے کے اوقات اور محافظوں کی تعدادوغیرہ کا معلوم کریں۔ میں بدھ کودوبارہ آﺅں گا۔“
اس نے منطقی سوال کیا۔”آپ والدین کو رشتا لینے کیوں نہیں بھیجتے۔“
”والدین زندہ ہوتے تو یوں خوار نہ ہو رہا ہوتا۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی میری آواز گلوگیر ہو گئی تھی۔
وہ نادم ہوا۔ ”معذرت خواہ ،مجھے پتا نہیں تھا۔اور فکر نہ کریں میں بدھ تک مطلوبہ معلومات حاصل کر لوں گا۔ اگر رضیہ بی بی نے ایک بار آپ کو دیکھ لیاتو اسے انکار نہیں کرپائے گی۔آپ جیسا خوبرو جوان میری نظر سے نہیں گزرا۔“
میں ٹھیٹ عاشقوں کے انداز میں بولا۔”آپ کا حسن نظر ہے ، خدا رضیہ کو بھی ایسی نظر عطا کرے۔“
وہ خلوص دل سے ”آمین۔ “بولا۔ میں بہ مشکل ہنسی روک پایا تھا۔
” یہ تمھاراپیشگی معاوضاہے۔“ میں نے دو بڑے نوٹ اس کی طرف بڑھائے۔ ”باقی رقم کام ہونے پردوں گا۔“
” آپ نے کافی سامان میرے لیے خریدا ہے مزید زیربار نہ کریں۔“ اس نے رسمی انکار کیا، مگر میرے اصرار پر پیسے رکھ لیے۔
الوداعی مصافحہ کر کے میں بیٹھک سے نکل آیا۔
l l l
” کس نے کہاتم یوسف ثانی ہو اور رضیہ دیکھتے ہی لٹو ہو جائے گی۔“ میری تجویز سنتے ہی امجد آپے سے باہر ہوگیاتھا۔ ”ہر لڑکی کو شیتل سمجھ رکھا ہے،بلکہ امید واثق ہے اب وہ بھی پشیمان ہو گی۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔” میری جگہ تم چلے جاﺅشہزادہ گلفام صاحب۔“
اس نے فخر سے گردن اکڑائی۔ ”ڈاکٹر شہلا جیسی تعلیم یافتہ وباشعور لڑکی بھی میں نے چند لمحوں میں پٹالی تو رضیہ کس کھیت کی مولی ہے۔“
”شاباش،ڈاکٹرشہلا کو پٹایا ہے اور اب رضیہ کوپھانسوگے،آج ہی ڈیرہ جاکر بھابی کی غلط فہمی تو دور کرتا ہوں ،باقی معاملات چلتے رہیں گے۔“
وہ برہم ہوا۔”بکواس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میرایہ مطلب نہیں تھا۔“
”تو وضاحت فرما دو۔“
”میرا مطلب تھا کہ میں رضیہ کو.... رضیہ کو....“اس سے بات نہ بن پائی۔
میں نے فقرہ مکمل کیا۔”پھانس لوںاور ڈاکٹر شہلا پہلے سے پھنسی ہے یوں چپڑیاں اور دو دو ہو جائیں گی۔ فکر نہ کروبھولی بھالی ڈاکٹر کو میں نے تمھاری جھوٹی محبت کا یقین دلایا تھااور میں ہی اسے غلط فہمی سے نکال سکتا ہوں۔“
وہ ہاتھ جوڑتا ہوا بولا۔”میرے باپ، تم خود ہی رضیہ بی بی کے ساتھ گل چھرے اڑا لو ۔ لیکن شہلا سے کچھ الٹا سیدھا کہا تو سر پھاڑ دوں گا۔“
میں نے قہقہ بلند کیا۔”اب آئے ہوجگہپر۔“
رضیہ سے ملنے میں اندیشہ تھا کہ پہچانے جانے پرمیں خطر ے میں پڑ جاتااور امجد خود یہ خطرہ مول لینا چاہتا تھا۔مجھے بھی تردد نہ ہوتا اگر اس کے بازو کا زخم مکمل ٹھیک ہوچکا ہوتا۔
اس نے تشویش ظاہر کی۔”بلاشبہ رضیہ جیسی آزاد خیال لڑکی وقتی عیاشی کوتمھیں لازماََخوش آمدید کہے گی۔ مگر خطرہ ہے تم پہچان نہ لیے جاﺅ۔ میر نیاز خان کاآدمی کرم شاہ تمھاری شکل سے واقف ہے ۔اور اکبر خان کی حویلی میں گھستے وقت گو ہم نے مفلر لپیٹے تھے مگر جسامت اور آواز سے ہماری شناخت اتنی مشکل بھی نہیں ہے۔“
” سانس کی نالی اور خوراک کی نالی کے درمیان ایک باریک ساپردہ حائل ہے، اگر کھانا کھاتے وقت خوراک کا ایک ذرہ بھی سانس کی نالی میں چلا جائے تو انسان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔مطلب نوالہ لیتے وقت بھی ہم موت کے خطرے سے دو چار ہوتے ہیں۔تو کیا کھانا کھانا چھوڑ دیں۔“
”فلسفہ بگھارنے کی ضرورت بالکل نہیں ہے خلیل جبران صاحب، صاف اور آسان حل یہ ہے، میرا زخم تقریباً ٹھیک ہو چکا ہے ،چند دن انتظار کرتے ہیںپھر براہ راستمیرنیاز خان پر ہاتھ ڈالیں گے،۔سالا فرفر سب کچھ پھوٹے گا۔“
میں ہنسا۔”سالا نہیں سسرا بولو،سالا تو تمھارا چوددھری اکبر بنے گا۔“
”میں سنجیدہ ہوں۔“
”تم نے میر نیاز خان کی حویلی نہیں دیکھی، پورا قلعہ ہے۔ وہاں گھسنے میں بہت خطرہ ہے۔“
اس نے ناک بھوں چڑھائی۔” کبھی باہر نہیں نکلتا؟“
”محافظوں کے جھرمٹ میں ہم اسے دور سے گولی ہی مار سکتے ہیں۔اور اسے قتل کرنامقصود نہیں ہے،جبکہ رضیہ کے ذریعے اس تک پہنچنا مشکل نہ ہوگا۔“
”منظور سے ملاقات کے بعد ہی طے کریں گے۔“بحث کا اختتام کرتے ہوئے وہ کروٹ بدل کر چادر میں چھپ گیا۔
l l l
منظور نے حویلی کے ایک جواری ملازم سے دوستی گانٹھ کربہت کچھ معلوم کر لیا تھا۔رضیہ ،سنیچر، سوموار، اور بدھ کو باقاعدگی سے شہر جاتی تھی ۔ اپنی کار وہ خود ڈرائیو کرتی اور ایک جیپ میں کبھی دو اور کبھی تین محافظ ساتھ ہوتے تھے۔ ہفتے کے باقی دن وہ حویلی ہی میں رہتی ۔اوروی سی آر پر انڈین و انگلش فلمیں دیکھتی یامیوزک سن کر وقت گزارتی۔لباس میں عموماََ شلوار قمیص استعمال کرتی، البتہ تقریبات میں کبھی کبھار پینٹ شرٹ بھی پہن لیتی تھی۔منظورنے رضیہ کے پسندیدہ کھانوں،رنگوں،خوشبوﺅں اور مشروبات وغیرہ کے بارے بھی معلومات مہیا کی تھیں۔ اور میں نے ایک سچے عاشق کا کردار اداکرتے ہوئے اسے بقیہ معاوضے ساتھ انعام سے بھی نوازاتھا۔
امجد بے چینی سے منتظر تھا۔تفصیلات سن کر بولا۔
”جانو، تم میں اچھے خاصے رشتہ کرانے والی ماسی کے جراثیم موجود ہیں،میرا مشورہ مانو تو یہی کام شروع کردو۔“
میں نے اسے جھاڑا۔”بکواس نہیں ،مطلب کی بات کرو۔“
” رضیہ بی بی ہفتے کوبہ نفس نفیس شہر تشریف لے جائے گی،لمبے چکروں میں پڑنے کے بجائے اسے اغواءکرتے ہیں اور رہائی کو اکبر خان کے پتے سے مشروط کر دیتے ہیں۔“
” یوں میر نیاز خان سے لڑائی ناگزیر ہوجائے گی۔وہ ایک بااثر اور طاقتور شخص ہے اس کی دشمنی ہماری مشکلات بڑھا دے گی۔ اوریادرہے گنڈہ پوروں کی دشمنیاں اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوا کرتیں ۔یہ نہ ہو چودھری اکبر کو ختم کرنے سے پہلے ایک نئے دشمن کو گلے سے لگا بیٹھیں۔اور وہ ہمیں اکبر خان کا فرضی پتا بتا کر ٹرخادے توساری تگ ودو ہی ناکام جائے گی۔جبکہ رضیہ سے تعلقات بڑھانے میں چند دن ضائع ہوں گے مگر معلومات حتمی ملیں گی۔“
امجدنے منہ بنایا۔”میرنیاز خان پہلے کون سا ہمارادوست ہے۔“
میں نے تجزیہ کیا۔”پہلے اس کی اپنی غلطی تھی،دوسری مرتبہ ہم نے جارحیت کی مگر مرنے والاخود قصور وار تھا۔لیکن بیٹی کے معاملے میں وہ پوری قوت سے سامنے آجائے گا۔“
امجد تلخی سے بولا۔”آنے دو، دیکھتے ہیں کتنے پانی میں ہے، ہم تو ساری کشتیاں جلا چکے ہیں۔“
”مگر مجھے خواہ مخواہ خون ریزی اور قتل و غارت بالکل پسند نہیں ہے۔“
وہ تپتے ہوئے بولا۔”تمھاری داستان عشق کی تکمیل میں جانے کتنا وقت ضائع ہو، یہ بھی ممکن ہے خان زادی پہلے ہی دن جناب کی وہ عزت افزائی کرے کہ منہ چھپانے کو جگہ نہ ملے۔اس لیے فضول مشوروں سے پرہیز کرو۔“
”سمجھنے کی کوشش کرو....“
اس نے قطع کلامی کی۔”چودھری اکبرکو ٹھکانے لگانے کی راہ میں میر نیازجیسے درجنوں خان بھی آئے تو تمام کی لاشوں کا پل بناتا ہوااس تک پہنچوں گا۔باقی میر نیاز خان جیسے مجرم اتنے غیرت مند نہیں ہوتےکہ بیٹی کے اغوا کوزیادہ اہمیت دیں،اس کی آزاد خیال بیٹی کتنی پارسا ہے یہ وہ ہم سے اچھا جانتا ہوگا۔ گی۔ اور ہم بھی رضیہ کو عزت و احترام سے رکھیں گے۔یوں کہ میر نیاز خا ن کو شکایت کا موقع نہ ملے۔“
میں کھسیانے انداز میں ہنسا۔”توتم نے میر نیاز خان کودشمن بنانے کاتہیہ کرلیاہے۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”یہ تمھیں اور رضیہ کو جدا کرنے کی کوشش ہے۔“
میں قہقہ لگا کر ہنس دیا۔
”شکر ہے کہ تمھارے سر سے اس پری وش کی محبت کا بھوت اترا۔“
میں نے کہا۔”بکواس کے بجائے اسے اغوا کرنے کا طریقہ سوچو۔“
اس کے بعد ہم دیر تک رضیہ کو اغوا کرنے کامنصوبہ بناتے رہے۔
l l l
ہفتے کوصبح نو بجے میں کالی وال اور رحمن خیل کو ملانے والے کچی اور پختہ سڑک کے ملاپ پر کھڑا تھا۔ منظور کے بہ قول رضیہ ٹھیک 9بجے گھر سے نکلتی تھی۔ میں نے پکی سڑک پرکالی وال سے مخالف جانب چلنا شروع کر دیا۔ میں نے قیمتیتھری پیس سوٹ پہنا تھا۔ یہ شیتل کا تحفہ تھا۔سوٹ پہنتے وقت وہ مخلص اور بے تحاشا محبت کرنے والی دوشیزہ مجھے شدت سے یاد آئی تھی۔پھولوںسے نازک،چاند سے روشن چہرے والی حسن کی دیوی جو سرتاپا میری محبت میں ڈوبی تھی۔دنیا کی شاید وہ واحد لڑکی تھی جسے میں سعدیہ کی جگہ دے سکتا تھا۔مگر حالات کے چکر میں یوں جکڑا تھا کہ اسے سوچنے کا وقت ہی نہیں مل پاتا تھا۔انتقام لینے کا جذبہ ہر احساس پر بھاری تھا۔
گو ہمارے ہاں ایسے لباس کو بہت برا تصورکیا جاتا ہے، مگر عام کپڑوں کی نسبت رضیہ اس لباس جلد متوجہ ہوتی۔ امجد دیہاتی حلیے میں سڑک سے 60,50گز دور رہتے ہوئے مجھ پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا،جلد ہی سفید رنگ کی کار اور اس کے پیچھے کالے رنگ کی جیپ نمودار ہوئی۔ میں سڑک کے کنارے کھڑا ہو کر ان کے قریب آنے کا انتظار کرنے لگا۔ جونھی کار نزدیک پہنچی میں نے انگوٹھا اٹھادیا۔ اس کی نظریں پہلے سے مجھ پرتھیں۔ اوروجہ میرا لباس تھا۔بریک لگاتے ہوئے اس نے دلچسپی سے مجھے گھورتے ہوئے پوچھا۔
”جی؟“
میں نے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائی۔”بڑی سڑک تک لفٹ مل جائے؟“
تب تک جیپ بھی پہنچ گئی تھی۔ دو کلاشن کوف بردار چھلانگ کر سرعت سے میرے دائیں بائیں آگئے۔ کچھ تو ان کی شکلیں کر یہہ تھیں اور کچھ انھوں نے موڈ یوں بنایا ہوا تھا کہ بندہ دیکھ کر ہی ڈر جائے۔ جسمانی لحاظ سے بھی خاصے مضبوط دکھائی دے رہے تھے۔
وہ اگلی نشست کا دروازہ اَن لاک کرتے ہوئے خوش دلی سے بولی ۔”بیٹھو۔“
”شکریہ ۔“ کہتے ہوئے میں بیٹھگیا۔ اس نے ہلکے گلابی رنگ کا شلوار سوٹ زیب تن کیاتھا۔ ”بوائے کٹ “بال دوپٹے سے بے نیاز تھے ۔ دوپٹا گلے میں مفلر کی طرح پڑا ہوا تھا۔ سفید کھلتا ہوا رنگ، ستواں ناک، بھوری آنکھیں ،کچھ خوب صورتی، کچھ امارت کا اثر اور اوپر سے جو بن کی بہار نے اسے کافی پُرکشش اور جاذب نظر بنا دیا تھا۔
میرے بیٹھتے ہی اس نے کار آگے بڑھادی اس کے محافظ خاموشی سے جیپ کی جانب مڑ گئے تھے۔ اس دوران امجدبھی سڑک پر آگیا تھا اس کا رخ بھی بڑی سڑک کی طرف تھا۔
کار جیسے ہی امجد کے قریب پہنچیمیں بو کھلائے ہوئے بولا۔
”ایک منٹ کار روکیں۔“ اس نے عجلت میں بریک لگائی ، میں نے بجلی کی سی سرعت سے عقبی دروازے کالاک کھولا۔ امجد زقند بھر کر نشست پر منتقل ہو گیا۔
”یہ کیا حرکت ہے؟“ وہ برہم ہوئی۔
”زندگی عزیز ہے توآرام سے چلتی جاﺅ۔“ میں نے پستول اس کی کنپٹی سے لگادیا۔
اس کے محافظ پھر جیپ سے اتر کر قریب آگئے تھے۔
ایک نے جھک کررضیہ سے کچھ پوچھناچاہاتبھی نظر پستول پر پڑی۔اس کا چہرہ غصے اور حیرانی سے مزید کریہہ ہو گیا۔
”اوئے خنزیر کا بچہ.... یہ کیا حرکت ہے۔“ اس کا لہجہ غیظ و غضب سے پُر تھا۔
میں نے پستول کی نال رضیہ کی گردن میں چبھوئی۔”انھیں واپس جیپ میں جانے کا کہو۔“
محافظ نے مجھے دھمکایا۔ ”تم نے ملک میر نیاز خان کی بیٹی پر پستول تانا ہوا ہے اگر انھیں معلوم ہوگیا تو تمھیں زمین میں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔“
”چلو۔“ میں نے رضیہ کو حکم دیا۔محافظ کو جواب دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی۔
” وہ آگے کھڑا ہے۔“ رضیہ نے دوسرے محافظ کی طرف اشارہ کیا۔ جو بونٹ کے سامنے کلاشن کوف تانے تھا۔
امجد نے کلاش کوف کاک کرتے ہوئے کھڑکی سے منرل نکالی۔
” پیچھے ہٹو ورنہ ....“ورنہ میں جو دھمکی پوشیدہ تھی اس سے وہ ناواقف نہیں تھے، مگر پیچھے ہٹنے میں بھی موت ہی تھی کہ انھیں میر نیاز خان کے عتاب کا سامنا کرنا پڑتا۔ جیپ کا ڈرائیور بھی اتر کر قریب آگیا تھا۔
”شایدتمھیں زندگی عزیز نہیں ہے۔“ امجد نے لبلبی دبائی،تڑتڑاہٹ کی آواز کے ساتھ گولیاں کھڑکی کے سامنے کھڑے شخص کی کھوپڑی سے چند انچ اوپر گزر گئی تھیں وہ بے اختیارچند قدم پیچھے ہٹ گئے۔ ایسوں کو گولی کی زبان جلدی سمجھ میں آجاتی ہے۔
”چلو۔“ میں نے رضیہ کی گردن میں پستول کی نال سے ٹہوکا دیا۔ اس نے ہونٹ بھنیچتے ہوئے کار آہستہ سے آگے بڑھا دی۔ اس کے محافظ جیپ کی طرف بھاگے،وہ تعاقب میں آنا چاہتے تھے،مگر یہ ارادہ حسرت بن گیا، کیوں کہ جیسے ہی وہ جیپ میں بیٹھے امجد نے نشانہ سادھ کر دومرتبہ لبلبی دبائی ،گولیوں کے دھماکے کے ساتھ جیپ کے اگلے ٹائروں کے دھماکے بھی شامل تھے۔
”رفتار بڑھاﺅ۔“ میں نے پستول جیب میں ڈال لیا تھا۔ مگر وہ جواب دیئے بغیر دھیمی رفتار سے چلتی رہی۔ میں نے پیچھے دیکھ کر اس کے محافظوں کو تاڑنے کی کوشش کی مگر اس وقت تک کار مڑ گئی تھی اور سڑک کنارے لگے درختوں کی گھنی قطار نے انھیں اوجھل کر دیا تھا۔
میں اسے مخاطب ہوا۔”کار روکو۔“ اس نے بریک دبا دی۔
میں پھرتی سے نیچے اترا اور گھوم کر دوسری جانب پہنچا۔
”ساتھ والی سیٹ پر ہو جاﺅ۔“
مجھے گہری نظروں گھوررتے ہوئے وہ ساتھ والی سیٹ پر کھسک گئی۔
میں امجد کو مخاطب ہوا۔”عبداﷲ یہ غلط حرکت کرے تو کھلی چھوٹ ہے سر میں روشندان بناتے ہو یا گردن میں۔“
وہ چہکا۔”فکر ہی نہ کریں عبدالرحمن بھائی۔“ اور میں گاڑی کی رفتار بڑھادی۔ چند منٹ بعد ہی ہم بڑی سڑک پر نکل آئے تھے۔میں شہر سےمخالف سمت چل پڑا۔بڑی سڑک پرمیں نے رفتار نارمل رکھی کہ تیز رفتاری ہمیں مشکوک بنا دیتی۔
پہلوان ہوٹل اور پھر تھانے سے گزر کر میں کچے میں اتر گیا۔ٹریکٹر ٹرالیوں کا راستہ بنا ہوا تھا۔ تھوڑی دور جاکے میں نے کچا رستہ بھی چھوڑ دیااورکار کھیتوں میں گھسیڑ دی۔ چنے و گندم کی کٹائی ہو چکی تھی۔جا بجا کٹی ہوئی فصل ڈھیرکی شکل میں پڑی تھی۔ کار ہچکولے لیتی بڑھتی رہی۔ جلد ہی ہم خشک نالے کے قریب جا نکلے جو ہمارے رخ کے مخالف سمت رحمن خیل کے قریب سے ہوکرگزرتا تھا۔
خاموشی کورضیہ کےاستفسار نے توڑا ۔” اگر تاوان کے لیے اغواءکیا ہے توبتاﺅ میں آپ کا مطالبہ پورا کر دیتی ہوں۔“
امجد چہکا۔”ہمارا مطالبہ تمھارا باپ ہی پورا کر سکتا ہے۔“
”مانگ کر تو دیکھیں، شاید جنجال میں پڑنے سے بچ جائیں۔“
امجد ذومعنی لہجے میں بولا۔”اور اگر ہمارا مطالبہ سن کر تم انکار کر دیا۔“
امجد کو گھورتے ہوئے وہ تیکھے لہجے میں بولی۔”میں پیسوں کی بات کر رہی ہوں۔“
امجد نے منہ بنایا۔”میں کون سا آلو ٹماٹر مانگ رہاہوں۔“
اس کا مترنم قہقہ بلند ہوا۔میں اس کا بے باک اور نڈر انداز دیکھ کر حیران رہ گیا۔ لگتا ہی نہیں تھا وہ مغویہ ہے۔دیکھنے والے اسے ہمارا کلاس فیلو سمجھتے۔ مجھے شیتل کی بات یاد آئی ۔ ” مردوں کو صرف جان کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ عورت کو اس کے ساتھ عزت لٹنے کا بھی خوف ہوتا ہے جو موت سے بھی بھیانک سزا ہے۔“
مگر رضیہ میں ایسا کچھ نظر نہ آیا شاید بہت زیادہ خود اعتمادی میں مبتلا تھی۔
اس کی گفتگو جاری رہی۔” آپ لوگوں نے کمال کردیا ہے، میر نیاز خان کی بیٹی کو اغوا کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔“
امجد شوخی سے بولا۔” ہم سے ایسے کمالات سر زد ہوتے رہتے ہیں۔“
”جناب کو ڈاکٹر نے منع کیا ہے بولنے سے۔“اس کا اشارہ میری جانب تھا۔
امجد نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں ، موصوف کو حسد کی بیماری ہے جب بھی خوب صورت لڑکی کو اپنے علاوہ کسی سے گھلتے ملتے دیکھتا ہے اس کے سینے پر سانپ لوٹنے لگتے ہیں اور چپ کا روزہ رکھ لیتا ہے۔“رضیہ کی کھنکھناتی ہنسی بلند ہوئی، میرے ہونٹوں پر بھی تبسم رینگ گیا تھا۔
وہ کار سے باہر دیکھتے ہوئے بولی۔ ”کہاںجا رہے ہیں،اس طرف تو کوئی خاص آبادی نہیں ہے۔“
امجد مزاحیہ لہجے میں بولا ۔” جنگل میں منگل منانے جارہے ہیں۔“ وہ پھر ہنس دی، لگا جیسے ہنسنے کے بہانے ڈھونڈ رہی ہو۔
ذہن میں مچلتا سوال بن کرہونٹوں پر آیا۔”مسماة رضیہ !تمھیں ڈر نہیں لگ رہا ،کہ اس ویرانے میں دو مردوں کے رحم و کرم پر ہو۔“
”ڈر کیسا،تمھاری غرضتاوان وصولناہے اورپاپاکے پاس کافی پیسہ ہے تمھیں منہ مانگی رقم ادا کردیں گے۔ میں تو سچ میں لطف اندوز ہورہی ہوں۔لگتا ہے پکنک پر جارہے ہیں۔“
امجد نے کہا۔”تم لطف اندوز ہوتی رہو،تمھارے محافظوں کے ساتھ ملک صاحب بہت برا کرنے والے ہیں۔“
اس نے مسرت ظاہر کی۔” کئی مرتبہ پاپا کوبتایا یہ ہڈحراموں مجھے اغواءہونے سے نہیں بچا سکتے۔ امید ہے اب پاپا کو یقین ہو جائے گا اور ان دم چھلوں سے میری جان چھوٹے گی۔“
امجد ہنسا۔”ممکن ہے تمھارے پاپامحافظوں کی تعداد میں اضافہ کردیں۔“
اس نے منہ بسورا۔”بد دعائیں تو نہ دیں۔ “
ہم مسکرا دیے۔ اس وقت ہم خشک نالے کے کنارے سے پچاس گز دور درختوں کے ایک بڑے جھنڈ میں داخل ہوئے۔درختوں کی وجہ سے رستہ کافی دشوار گذار ہو گیا تھا، مجھے ڈرائیونگ کرتے ہوئے کافی دقت ہورہی تھی۔ مزید دس پندرہ منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد ہم ایک پرانے مکان کے قریب پہنچے۔وہ جھنڈ رحمن خیل کی حدودہی میں تھا۔ پختہ اینٹوں سے بنے مکان کے بارے کافی کہانیاں مشہور تھیں۔ کچھ لوگ اسے پشاور کے ایک پٹھان سے منسوب کرتے تھے جو اپنے علاقے سے ایک نوجوان لڑکی کو بھگا کر لے آیا تھا۔ دونوں آپس میں محبت کرتے تھے مگران کے خاندانوں کی پرانی دشمنی تھی ۔لیکن محبت دشمنی و نفرت کو نہیں دیکھتی۔ وہ جانتے تھے بڑے انھیں کبھی یکجا نہیںہونے دیں گے اس لیے پشاور سے بھاگ کراس ویرانے میں آن بسے، لیکن افسوس جلد ہی لڑکی کے بھائی بھی ان کی سن گن لیتے ہوئے وہاں پہنچ گئے اور دونوں قتل کر کے واپس لوٹ گئے۔
کچھ لوگ کہتے وہ مکان ایک شکاری کا تھا جو نامعلوم علاقے سے اپنی بیوی کے ساتھ وہاں آن بسا تھااور میاں بیوی گرمیوں کی ایک رات بھوکے بھیڑیوں کا شکار ہو گئے تھے۔ جبکہ کچھ لوگ اسے ایک پہنچے ہوئے بزرگ اور اس کی مریدنی سے منسوب کرتے تھے جو سنسار تیاگ کروہاں آبسے تھے۔ بہ ہر حال حقیقت کچھ بھی ہو ہمارے بچپن میں لوگ اسے بھوت بنگلہ کہتے تھے اور آج تک وہ اسی نام سے مشہور ہے ۔اوراسی وجہ سے صحیح سلامت بھی کھڑا ہے ورنہ لوگ اس کی اینٹیں بھی اکھیڑ کرلے جاتے۔ دروازے مضبوط لوہے کے تھے تبھی دیمک سے محفوظ تھے۔ چھت میں بھی لوہے کے پتلے پتلے مضبوط گارڈر استعمال ہوئے تھے۔اس لیے چھت سلامت تھی۔
ہم نے رضیہ کو وہیں چھپانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ایک دن پہلے صفائی بھی کر گئے تھے۔اورکھانے پینے کا سامان اور لیٹنےکو چٹائی وغیرہ کاانتظام بھی کر گئے تھے۔ اب ہم لمبا چکر کاٹ کر وہاں پہنچے تھے ورنہ رحمن خیل سے اس کا فاصلہ اڑھائی، تین کلو میٹر سے زیادہ نہیں تھا۔
مکان کو پہلی نظر دیکھتے ہی عجیب سی ویرانی اور وحشت کا احساس ہوتا تھا ،مگر اس کے برعکس رضیہ نے ”ہاﺅو سوئیٹ“ کا نعرہ بلند کیا تھا۔
کارگھنی جھاڑی میں چھپاکرہم باہر آگئے۔ رضیہ کودیکھ کر لگ رہا تھادوستوں کے ساتھ سیر و تفریح کو آئی ہو۔
گاڑی قفل کر کے ہم مکان کی طرف بڑھ گئے۔ رضیہ ہم سے ایک قدم آگے تھی۔ چار دیواری بہ مشکل چھے ساڑھے چھے فٹ اونچی تھی۔ ایک کونے میں مکینوں کی دو بوسیدہ قبر یں نظر آرہی تھیں۔ نامعلوم وہ کون تھے سچے عاشق، شکاری یا اﷲ والے۔ مکان دو کمروں پر مشتمل تھا۔ ایک مختصر سا برآمد ہ بھی تھا۔ دونوں کمروں میں کاٹھ کباڑ بھرا تھا جسے ہم نے صحن میں پھینک دیا تھا۔ کمروں کے درمیان ایک چھوٹا سا دروازہ بھی تھا۔ اس کے کواڑ کڑی کے تھے جو دیمک کی خوراک بن گئے تھے۔ لوہے کی زنگ آلود چوکھٹ البتہ اب تک محفوظ تھی۔ اندر داخل ہوئے گھٹن و ناگوار بو محسوس ہوئی ۔امجد نے دیواروں میں اگر بتیاں لگا کرسلگادیں۔
” تھوڑی دیر صحن میں بیٹھ جاتے ہیں۔“ امجدنے ایک چٹائی اٹھاتے ہوئے مشورہ دیا۔ میں نے اثبات میں سر ہلادیا۔
صحن کے میں کیکر کے چھوٹے سے درخت کے نیچے چٹائی بچھا کر امجد رضیہ کو مخاطب ہوا۔ ”مادام! بیٹھنے سے پہلے تھوڑی سی زحمت کریں گی۔“
اس نے سوالیہ نظروں سے امجدکو گھورا۔
”اپنا پستول میرے حوالے کر کے ہمارے یقینی جھگڑے کو رکوا لیں۔“
”کیساجھگڑا؟“ اس نے حیرانی ظاہر کی۔
” تمھاری تلاشی لینے کوہمارا جھگڑا ناگزیر ہے ،کیوں کہ دونوں ہی خواہش مند ہیں اور یہ سعادت کسی ایک کو مل سکتی ہے۔“
میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگی، جبکہ رضیہ نے ہونٹ بھینچتے ہوئے گریبان میں ہاتھ ڈالا اور ایک چپٹا ساپستول نکال کر امجد کی طرف بڑھا دیا۔
وہ ہنستے ہوئے بولا۔ ”اب آپ تشریف رکھیں۔“
” ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ایک نہتی لڑکی کو دو مردوں نے اسلحہ کے زور پر قابو کیا ہوا ہے۔ اگر تم میں تھوڑی سی بھی مردانگی موجود ہے توکوئی ایک میرے ساتھ خالی ہاتھ مقابلہ کرے۔ اگر جیت گئی تو جانے دیناہار گئی تو ہر بات بے چوں چرا مان لوں گی۔“
امجدنے کانوں کو ہاتھ لگایا۔ ”ہم نے مرنا تھوڑی ہے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”ہتھیاروں کے سہارے بدمعاش بنے پھر تے ہو۔“
امجد لڑا کا عورتوں کی طرح ترکی بہ ترکی بولا۔”تم کون سا خالی ہاتھ ہو۔“
وہ تلخ ہوئی۔”میرے پاس فقط پستول تھا وہ تم نے لے لیا ہے ۔“
” نظروں کے تیر، اداﺅں کی تلواریں اورحسن کے شعلے تمھاری نگاہ میں کچھ نہیں ہیں۔“
” بزدل بندہ یونھی بہانے بناتا ہے۔“اس نے ہمیں لڑنے پر اکسایا۔
”صحیح کہا۔“ اطمینان سے کہتے ہوئے وہ تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ میں اس سے پہلے چٹائی کے ایک کونے پر ٹک گیا تھا، بادل نخواستہ رضیہ بھی دوسرے کو نے پر بیٹھ گئی۔ اس کا موڈ بگڑ گیا تھا،یقینا پہلے وہ پستول وجہ سے پرامید تھی کہ ہم پر قابو پانے کا کوئی موقع مل جائے،تبھی وہ ہماری تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی، مگر پستول ہاتھ سے نکلتے ہی شوخی ہوا ہو گئی تھی ۔
ہمیں مقابلے پر اکسا نا ظاہر کررہاتھا وہ خالی ہاتھ لڑنے سے واقف تھی، مگر ہمارے پاس ان چونچلوں کا وقت نہیں تھا۔ ہم کمزور وبزدل ہی بھلے تھے۔
” میرے خیال میںگھٹن و بدبو ختم ہو گئی ہوگی۔“میں نے امید ظاہر کی۔
”چلو۔“ امجد اٹھ گیا ہم رضیہ کو ساتھ لیے کمرے میں گھس گئے اگر بتی نے بو کو کافی حد تک کم کر دیا تھا۔
امجد نے پوچھا۔”کھانا کھاﺅ گی مسماة رضیہ میرنیاز خان۔“
وہ رکھائی سے بولی۔” شکریہ، بھوک نہیں ہے۔“
”توآرام فرمائیں خادم ساتھ والے کمرے میں ہیں۔“امجد مجھے اشارہ کر کے ساتھ والے کمرے میں آگیا۔
کمروں کے درمیان ایک چھوٹا سا دروازہ موجود تھا مگرپھر بھی رضیہ والے کمرے کا دروازہ ہم نے باہر سے بند کر دیا تھا۔
”اب بتاﺅ ملک صاحب؟“ امجد کلاشن کوف دیوار کے ساتھ کھڑی کر کے چٹائی پر لمباپڑگیا۔
” چھوٹی بی بی کا خیال رکھو میں چلتا ہوں تاکہ خان صاحب کے ساتھ بالمشافہ ملاقات کر سکوں۔“
اس نے منہ بگاڑا۔”کہتے ہیں لمبے آدمی احمق ہوتے ہیںاور تم ہر وقت یہی ثابت کرنے میں لگے ہوتے ہو۔“
”تم سے انچ ادھ کم ہی ہوں گا۔“
وہ زچ ہوا۔” دماغ میں بھوسے کے علاوہ بھی کچھ ہوتاتوجان جاتے کہ میر نیاز خان نے سب سے پہلے تمھیں حراست میں لے کر وہ سلوک کرنا ہے جو انڈین آرمی اور پاکستانی پولیس والے نہیں کر سکے ہیں۔ اس کے بعد وہ رضیہ خاتون کا اتا پتا پوچھے گا۔“
میں اعتماد سے بولا۔”اتنا خطرہ مول لینے کی جرّات نہیں کرے گا۔“
”اس کی بیٹی تمھاری قید میں ہے اور تم اس کی ،حساب برابر۔“
”مشورہ کیاہے؟“میں نے اس کی رائے جاننا چاہی۔
”اتنے بڑے خان کے گھر فون نہیں ہو گا، شہر جا کر پی سی او سے بات کر لو۔“
میں نے اثبات میں سرہلاکر اتفاق کیا تھا
”مسماة رضیہ سلطانہ بی بی.... اجی سنتی ہو۔“ امجد نے ہانک لگائی۔
وہ درمیانی دروازے پر نمودار ہوئی۔ ”کیوں گلا پھاڑ کر چلا رہے ہو۔“
امجد عاجزی سے گڑگڑایا۔ ”ای....ایک عرض کرنا تھی۔“
”فرمائیں۔“ وہ بہ مشکل اپنی ہنسی روک پائی تھی۔
”قبلہ بزرگوار میر نیاز خان ،ملک کالی وال المعروف پاپاجان کا فون نمبر چاہئے تھا تاکہ مزدور پسینہ خشک ہونے سے قبل مزدوری طلب کرسکیں۔“
اس نے دوفون نمبر بتائے جو میں نے لکھ لیے۔”شکریہ ،شہر جا رہاہوں،کچھ چاہیے ہوتوبتادو۔“
وہ نفی میں سرہلا کرمڑ گئی۔
”دھیان رکھنا۔“ اسے ہدایت کرتے ہوئے میں نے نشست چھوڑ دی۔ مگر باہر نکلنے سے پہلے میں نے جھانک کرباہر کی سن گن لی۔اوردو افراد کو داخلی دروازے سے اندر آتا دیکھ کر اچھل پڑا۔ان کے کندھوں پر کلاشن کوفیں لٹکی ہوئی تھیں۔
l l l
میں نے سرگوشی کی۔”دومسلح آدمی اندر آرہے ہیں۔“
وہ اچھل پڑا۔ ”کہیں میر نیاز خان کے آدمی نہ ہوں۔“
”نہیں۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔” اور تم یہیں رہومیں ان سے نبٹ لیتا ہوں۔“
دونوں کے ہتھیار کندھوں سے لٹکے تھے میں پستول کے بل پر ان کے ہتھیار رکھوا سکتا تھا،لیکن یوں بات بگڑنے کا اندیشہ تھا۔گنڈہ پوروں میں ہتھیار تاننے والا انجان ہمیشہ کے لیے دشمن سمجھا جاتا ہے،انھیں بے قصور مار نہیں سکتا تھا اور یونھی جانے دیتا تو دشمنی سے باز نہ آتے،تبھی میں بغیر ہتھیار نکالے ان کی طرف بڑھ گیا۔
مجھے دیکھ کر وہ ٹھٹک کر رک گئے تھے۔
”داچہ شیئے دی“( یہ کیا چیز ہے) ایک استہزائی لہجے میں بولاا۔میرا تھری پیس سوٹ دیکھ کر اس نے مسخرہ پن کیا تھا۔
”السلام علیکم“ ان کی بے ہودگی نظر انداز کرتے ہوئے میں نے مصافحے کو ہاتھ بڑھایا۔
”وعلیکم السلام“ کہہ کر انھوں نے بے دلی سے مصافحہ کیا۔مجھے دیکھ کر ان کے چہروں پر ایسے تاثرات ابھرے تھے جیسے قیمتی سامان کی دکان کا تالا غلطی سے کھلا رہ جانے کی صورت میں چور کے چہرے پر ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ ”فراری“ لگ رہے تھے۔ ”فراری“ ہمارے ہاں انھیں کہا جاتا ہے جو قتل کر کے مقتول کے ورثا اور پولیس سے چھپتے پھر رہے ہوں۔ ایسوںکے سامنے جوچڑھ جائے اسے نقدی اور قیمتی اشیاءسے نجات دلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اگر وہ رحمن خیل سے تعلق رکھتے تو ان کی صورت میرے لیے لازماً جانی پہچانی ہوتی مگر وہ بالکل اجنبی تھے۔
”دلتہ چہ کے ہلکا؟“(لڑکے یہاں کیا کر رہے ہو۔) بڑی عمر والا کلاشن کوف کندھے سے اتار کر ہاتھ میں پکڑتے ہوئے بولا۔ اس کے پاس روسی ساخت کی کلاشنکوف تھی جس کی منرل قلم کی طرح ترشی ہوتی ہے۔اس کی میگزین ذرا بڑی تھیجس میں40گولیاں آتی ہیں۔ کلاشن کوف کے ساتھ عموماً تیس گولیوں والی میگزین استعمال ہوتی ہے۔مگر 40 اور 75 گولیوں والی میگزینیں بھی عام دستیاب ہیں۔ 75گولیوں والی بناوٹ میں گول ہوتی ہے۔
اس نے کلاشن کوف کارخ میری جانب نہیں کیا تھاکہ بات چیت تعارف کے مرحلے میں تھی۔
میں اطمینان سے جھوٹ اگلا۔” پولیس انسپکٹر یم او چہ ملزمان پسے دلتہ راغلے یما“( تھانیدار ہوں اور کچھ ملزموں کے تعاقب میں یہاں آیا ہوا ہوں)
”گُُشی ائے؟“(اکیلے ہو) اس نے کلاشن کوف دوبارہ کندھے پر لٹکالی تھی۔
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”ملزمان پسے تھانیدارگُشی گرزی؟“ (مجرموں کے پیچھے تھانیدار اکیلا پھرتا ہے )
”تہ سو وردی نہ دی واچلے“( آپ نے وردی نہیں ڈالی ہے۔) اس کانوجوان ساتھی شکوک ہوا۔
میں نے ہلکی سی برہمی ظاہر کی۔” خفیہ پولیس وردی میں نہیں گھومتی۔“
”رورا، دروغ وائی“(بھائی یہ جھوٹ بول رہا ہے) رضیہ دروازے کے نزدیک ہوکر چلائی۔ ”یہ پولیس والا نہیں ،خود مجرم ہے۔“
دونوں کے ہاتھ اپنی گنوں کی طرف بڑھے مگر اس سے پہلے میں نے پستول نکال کر ان پر تان لیا۔
”محسوس نہ کرو تواپنی کلاشن کوفیں نیچے پھینک کر ہاتھ اوپراٹھا لیں۔“ شاید وہ میری پروا نہ کرتے، مگر اسی وقت امجد چھلاوے کی طرح برآمد ہوا،اس نے سرعت سے کاکنگ ہینڈل کھینچ کر چھوڑا تھا، یہ مخالف کو ڈرانے کا نفسیاتی طریقہ ہے ۔حالاں کہ کسی پر ہتھیار تاننے کامطلب بھی دھمکی ہوتاہے مگر خالی ہتھیارتاننے اور کاکنگ ہینڈل کھینچ کر چھوڑنے میں بڑا فرق ہے۔کلاشن کوف پہلے سے کاک تھی اس لیے چیمبر میں موجود پہلے والی گولی اڑتی ہوئی دور جاگری۔
گنیں پھینکتے ہوئے انھوں نے ہاتھ اٹھا لیے تھے۔
ایک نے دھمکی دی۔”تم اچھانہیں کر رہے ۔“
میں نے امجد کوکلاشن کوفیں اٹھانے کااشارہ کیا۔وہ ہتھیار اٹھا کر پیچھے ہوگیا۔
وہ کینہ توز نظروں سے مجھے گھورتے رہے۔
میں سخت لہجے میں بولا۔”اپنا تعارف کراﺅ۔“
بڑی عمر والارکھائی سے بولا۔” گنیں واپس کرو ہم نے کہیں جانا ہے۔“
میں امجد کو مخاطب ہوا۔” رسی لے آﺅ۔“انھیں یونھی نہیں چھوڑ سکتے تھے۔
رضیہ کو باندھنے کے لیے ہم نے رسی کا انتظام کیا تھا،امجد وہی اٹھالایا۔رسی لے کر میں نے پستول جیب میں ڈالااور ان کی مشکیں کسنے آگے بڑھا۔ دونوں آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کر کے جھپٹ پڑے انھیں یقین تھا کہ امجد فائر نہیں کرے گا،کیوں میں درمیان میں آگیا تھا۔میرا اپنا دل ان کی خاطر داری کرنے کا تھا۔تبھی موقع دیا تھا۔
جونھی قریب آئے،میرا دایاں گھٹنا اور بایاں مکہ ایک ہی رفتار سے ایک کے پیٹ اور دوسرے کی ٹھوڑی کی طرف بڑھے ،دونوں چیختے ہوئے دور جا گرے۔ دونوں کو چند ٹھوکریں رسید کرنے کے بعد میں نے پھر رسّی اٹھائی اور اس مرتبہ دونوں آرام سے ہاتھ بندھوا لیے تھے۔
نوجوان نے پھیکی لہجے میں دھمکی دی۔”ہم بدلہ ضرور لیں گے۔“
میں نے فراخ دلی سے پیش کش کی۔”چاہو تو ابھی موقع دے سکتا ہوں۔“
وہ بغلیں جھانکنے لگی۔ہتھیار کے سر پر بدمعاشی کرنے والوں کو پہلی بار پتا چلا تھا کہ خالی ہاتھ بھی خاطر تواضع ہو جاتی ہے۔
”اندر چلو۔“ میں نے انھیں کمرے کی طرف دھکیلا ۔وہ خاموشی سے چل پڑے۔رضیہ بھی دوبارہ نہیں بولی تھی۔
ان کی تلاشی لینے پر شناختی کارڈ ،تھوڑی سی نقدی اور نسوار کی پڑیاں ملی تھیں۔
نوجوان کا نام خوشمیر خان اور دوسرے کا فضل داد تھا۔
فضل دادنرم لہجے میں بولا۔”لڑکے تم خواہ مخواہ دشمنی بڑھارہے ہو۔“
” تمھیںجانے کا موقع دیا تھا،مگر لاتوں کے بھوت،باتوں سے کب بہلتے ہیں۔“بے نیازی سے کہہ ر میں نے امجد کو باہر آنے کا اشارہ کیا۔
وہ کلاشن کوفیں سنبھالے باہر نکل آیا۔”اپنے دوست نذر گل کو کہہ کر انھیں پولیس کے حوالے کر دیتا ہوں ،خواہ مخواہ کی قتل و غارت درست نہ ہوگی۔“
” یہ لازماً پولیس کو مطلوب ہوں گے، اپنے دوست نذر سے بات کروں گا۔ انھیں پولیس کے حوالے کرنے میں ہی بہتری ہے۔کیوں کہ ان کا قتل ضمیر گوارا نہیں کرتااورچھوڑ نے پر ان کی طرف سے شرارت کا اندیشہ ہے۔“
امجد نے اثبات میںسر ہلادیا۔
تھری پیس سوٹ اُتار کر میں نے شلوار قمیص پہنی اور پیدل ہی رحمن خیل کی جانب چل پڑا۔میں نے برساتی نالے کے درمیان سے گزرنے والا راستہ پسند کیا تھا۔ گھنٹے پون بعد میں اسلم بھائی کے گھر پہنچ گیا۔ سامان وہاں رکھ کر میں تھانے کی طرف بڑھ گیا
خوش قسمتی سے نذر گل مجھے تھانے کے باہر ہی مل گیاتھا۔رسمی گفتگو کے بعد میں نے اسے فضل داد اور خوشمیر خان کے شناختی کارڈز دکھائے۔
وہ جوش سے بولا۔”یہ تو شبیر شاہ کنڈی کے قاتل ہیں۔“
میں نے تصدیق چاہی ۔”ناظم شبیرشاہ۔“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔”انھی نے شبیر شاہ کنڈی کو گولی ماری تھی۔پولیس کب سے ان کی تلاش میں ہے۔اور شبیر شاہ کے چھوٹے بھائی، کبیر شاہ کنڈی نے توان کے سر کی قیمت بھی مقرر کی ہوئی ہے۔“
”کتنی؟“ میں نے پوچھا۔
”بیس ہزار“۔
میں ہنسا۔” مبارک ہو تمھیںبیس ہزارملنے والے ہیں ۔“
”کیسے؟“وہ حیران ہوا۔
”میری قید میں ہیں،انھیں کل یا پرسوں تک تمھارے حوالے کر دوں گا۔“
وہ للچایا۔”آج کیوں نہیں۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”ایک ادھ دن انتظار کرنا پڑے گا۔“
اس نے اثبات میں سرہلادیا۔
الوداعی مصافحہ کر کے میںپہلوان ہوٹل پر پہنچا اور بس پکڑ کر شہر روانہ ہوگیا۔
l l l
ریسیور سے ابھرنے والی بھاری آواز سن کر میںنے کہا۔”میر نیاز خان سے بات کرنا تھی۔“
جواب ملا۔”بول رہا ہوں۔“
”عمر جان بات کر رہا ہوں۔“
”کون عمر جان؟“اس نے نہیں پہچانا تھا۔
”چودھری اکبر کا دشمن۔“
”تو ۔“ وہ محتاط ہو گیاتھا۔
میں نے یاد دلایا۔” چند ہفتے پہلے تمھارے آدمیوں نے مجھے اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان کی لاشیں بعد میں پولیس ڈھوتی رہی۔“
وہ بیزاری سے بولا۔”مدعے پرآﺅوورنہ فون رکھ رہا ہوں۔“
” تمھاری بیٹی میرے قبضے میں ہے۔“
وہ برہم ہوا۔”شایدتمھیں نظر انداز کر نا میری غلطی تھی ،ازالہ کرنا پڑے گا۔“
”میرے پاس گنوانے کو کچھ نہیں رہااورتم نے اب تک کچھ نہیں کھویا۔“
وہ طیش میں آیا۔”دھمکیاں دے رہے ہو۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”خوش قسمت ہو کہ میرا گھر جلانے میں تم چودھری کے ساتھ نہیں تھے ورنہ دھمکیوں کے بجائے گولیوں کی تڑتڑاپٹ سنائی دیتی۔“
اس کا قہقہہ بلند ہوا۔ ”چودھری اکبر جیسا گھٹیا شخص تو تم سے سنبھالانہ گیااورچلے ہو میر نیاز خان سے ٹکر لینے۔“
”افسوس میں گاﺅں میں موجود نہیں تھا ورنہ تمھیں یہ گلہ نہ رہتا۔“
” اچھے بچوں کی طرح میری بیٹی کو واپس چھوڑ جاﺅ تاکہ تمھاری بھیانک غلطی معاف کرسکوں اور خیال رکھنا غلطی دہرانے والے کو میںمعاف نہیں کیا کرتا۔“
میں نے سودا بازی شروع کی۔”چودھری اکبر کو بل سے باہر نکالو اور اپنی بیٹی بہ حفاظت واپس لے لو۔“
وہ برہم ہوا۔”اسے میں نے نہیں چھپایا،بزدل علاقہ غیر کی طرف بھاگ گیا ہے۔“
”پتا بتاﺅ،تصدیق کرنے کے بعد رضیہ کو چھوڑدوں گا۔“
” میری بیٹی اسی مقصد کو اغوا کی ہے۔“
”تم نے مجھے اغواءکرانے کی کوشش کی تھی یہ اس کا جواب ہے۔ ثابت کرنا تھا جانواینٹ کا جواب پتھر سے دیناجانتا ہے۔“
”وقت آنے پر معلوم پڑے گا کتنی ہمت والے ہو، فی الحال رضیہ کو واپس بھیجو کیوں کہ میرا بیٹا، بہن کی تلاش میں نکل چکا ہے اس کے ہتھے چڑھ گئے تو تمھارے کسی نقصان کا ضامن نہیں بنوں گا۔“
میں بے نیازی سے بولا۔” میں دریا میں گھستے وقت گیلا ہونے کی فکر نہیں کرتا، تم چودھری اکبر کا پتا بتاﺅ تاکہ رضیہ کو آزاد کر سکوں ۔“
”یہاں سے و ہ میران شاہ کے ملک حاجی بہادر خان کے پاس جانے کے ارادے سے نکلا تھا۔“
میں زہر خندہوا۔”دوست کو بچانے کی کوشش کر رہے ہو۔“
” اکبر خان جیسے بزدل دوستی کے قابل نہیں ہوتے، جتنا معلوم تھابتا دیا۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔” کچھ عرصہ پہلے تواسے داماد بنارہے تھے۔“
”تب اس کی اصلیت سے بے خبر تھا۔“
” میری بلا سے رشتے سے وہ انکاری ہوا تھا یاڈاکٹر شہلا تیار نہیں تھی ، مجھے تواکبر خان تک پہنچنے کی رہنمائی مل گئی تھی۔اگر میرنیاز سچ بول رہا تھا تو میران شاہ جا کر اسے ڈھونڈنا مشکل نہ ہوتا۔“
”ٹھیک ہے خان صاحب! میں رضیہ بی بی کو باعزت طریقے سے واپس بھیج دیا ہوں۔مردوں کی لڑائی میں معصوم لڑکی کو گھسیٹناکسی طرح مناسب نہ تھا۔ شایداسے اغواءکرنا میری حماقت تھی۔امید ہے آپ بڑا ہونے کے ناتے درگزر کریں گے۔اور آپ کو یقین دلاتا ہوں اس کے ساتھ میں چھوٹی بہن کی طرح عزت و احترام سے پیش آیا ہوں۔اس کا اقرار خود رضیہ بی بی بھی کرے گی۔“
وہ خوش دلی سے بولا۔ ” تمھارے با ظرف اعتراف نے ساری کدورتیں ختم کردیں۔اور یقینا تمھارے معاملے میں مجھ سے بھی خطا ہوئی ہے،لیکن بڑا ہوں اس لیے معافی نہیں مانگوں گا۔ خدا حافظ۔“
جاری ہے
 

قسط نمبر21
ریاض عاقب کوہلر
کال کا بل چکا کے میں پی سی او سے نکل آیا۔ میر نیاز خان سے بات چیت بہت کامیاب رہی تھی۔ امید نہیں تھی کہ اتنی آسانی سے کام بن جائے گا۔ اختتامی کلمات سن کر تو مجھے یقین آگیا تھاکہ اس نے اکبر خان کا غلط سراغ نہیں دیا۔
چچا فاضل کے پاس جاکر اسےتفصیل بتائی اور رحمن خیل واپس آگیا۔ گاﺅں سے نکلتے ہی میں دوڑتے ہوئے کمین گاہ میں پہنچا مغرب ہو گئی تھی۔
وہاں صورتِ حال جوں کی توں نظر آرہی تھی۔ فضل داد اور خوشمیر خان دیوار سے ٹیک لگائے خاموش بیٹھے تھے، رضیہ دوسرے کمرے میں تھی۔
”کیا رہا۔“ امجد نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
میں خوشی سے چہکا”کامیابی۔“
”ان کاکیا ہوا؟“ امجد نے اشتہاریوں کی طرف اشارہ کیا۔
” ان کابندوبست بھی ہوگیاہے۔“
فضل داد نے دھمکایا۔”لڑکے ہمیں چھوڑ دو، اسی میں تمھاری بہتری ہے۔“
”بزرگو!میری فکر چھوڑو،اپنا غم کرو۔“میں نے دوسرے کمرے میں جھانکا۔”چلو بی بی تمھاری رہائی کا وقت ہو گیا ہے۔“
وہ دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے بیٹھے سو گئی تھی۔آواز دینے پر جمائیاں لیتے ہوئے باہر آگئی۔ایسی حالت میں مردوں کی نیند اُڑ جاتی ہے، عجیب نڈر اور بے پروا لڑکی تھی آرام سے سوگئی تھی۔
اس نے باہر آکر پوچھا۔”پاپا سے بات ہوئی؟ “
”خان صاحب نے مطالبہ پورا کر دیا ہے اس لیے تمھیں رہا کر رہے ہیں۔“میں نے امجدکو دروازے بند کرنے کا اشارہ کیا اور رضیہ کے ساتھ کار کی جانب بڑھ گیا۔
ادھ گھنٹے میں ہم پختہ سڑک پر نکل آئے تھے۔ تھانے کے قریب کار روک ہم اتر گئے۔
میں نے کہا۔”مہربانی رضیہ بی بی آپ جا سکتی ہیں۔“
”چلی جاﺅں۔“ اس کے لہجے میں بے یقینی تھی۔
امجد شوخی سے بولا۔”بالکل ،ایسے جائیں جیسے ایک دن بابل کا گھر چھوڑ کرپیا دیس سدھارنا ہے۔“
اس نے ہمیں حیرانی سے گھورتے ہوئے کار آگے بڑھا دی۔
ہم نے تھانے جاکر نذر سے ملے۔ اسے فضل داد اور خوشمیر کے قید ہونے کی جگہ بتلائی اورسختی سے تاکید کی کہ ہمارا نام نہ آئے۔
”بے فکر رہیں۔“اس نے مسرت بھرے انداز میں سرہلایا۔اور ہم تھانے سے نکل آئے۔
”اب تفصیل سناﺅ۔“ باہر آتے ہی امجد مستفسر ہوا اور میں نے سب کچھ بتا دیا۔
” خان صاحب کافی اصولی اور تعاون والے دکھائی دے رہے ہیں۔ شہلا کی زمین بھی آسانی سے واپس کر دی،اگر پہلے پتا ہوتا تو اتنے لمبے بکھیڑے میں نہ پڑتے۔“
میں نے تائید میں سرہلادیا۔
ٹہلتے ہوئے رحمن خیل کے قریب پہنچ گئے تھے۔ اچانک چند گاڑیاں رحمن خیل کی آتی نظر آئیں۔روشنیاں تین گاڑیوں کی تعداد بتا رہی تھیں۔
امجد نے خیال ظاہر کیا۔”شایدپولیس فضل داد اور خوش میر کولینے جارہی ہے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔’اس طرف سے رستہ وہاں نہیں جاتا۔“
مجھے رکا دیکھ کر وہ برہم ہوا۔”محترم چلو،اب تک کھانا بنانے کا مرحلہ باقی ہے،پہلوان ہوٹل پر کھالیتے تو بہتر تھا۔“
میں نے کندھے اچکاتے ہوئے قدم بڑھا دیئے۔گلی میں داخل ہونے سے پہلے ہم تیز روشنیوں میں نہا گئے تھے۔سڑک دائیں طرف مڑ رہی تھی،گاڑیاں سڑک سے اتر کر ہماری طرف بڑھنے لگیں۔
قدم روکتے ہوئے میں نے پیچھے دیکھا،سب سے آگے سفید کار تھی جو عقبی گاڑی کی روشنی میں صاف پہچانی جا رہی تھی۔مجھے رضیہ کی کار پہچاننے میں دقت نہ ہوئی۔
” خطرہ۔“ میں نے پستول نکالتے ہوئے امجد کو چوکنا کیا۔
امجد نے کلاشن کوف ہاتھ میں پکڑ لی تھی۔ گاڑیاں ہمارے گرد نصف دائرے میں کھڑی ہو گئیں ۔ ہیڈ لائیٹس جل رہی تھیں۔
دو جیپوں میں چار چار افراد سوار تھے،تمام مسلح تھے۔ کار کی اندرونی روشنی میں مجھے رضیہ کے ساتھ ایک مرد نظر آرہا تھا۔شاید وہ اس کا بھائی تھا۔
آٹھوں افراد نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔گھیرا مکمل ہوتے ہی گل ریز فلمی انداز میں باہر نکلااور ہماری طرف آنے لگا۔
”یہی تھے۔“ چند قدم دور رک کروہ رضیہ کو مخاطب ہوا۔
”جی بھائی۔“ رضیہ نے اثبات میں سرہلادیا۔
”تمھیں میری بہن کے پاﺅں چھو کرمعافی مانگنا ہو گی۔“اس نے چٹکی بجاتے ہوئے انگشتِ شہادت سیدھی کی۔
امجد اطمینان سے بولا۔’مگر ہم سے تو کوئی ایسی غلطی نہیں ہوئی کہ معافی کی ضرورت پڑے۔“
اسی وقت ایک اور گاڑی کی روشنی نظر آئی۔گاڑی کافی رفتار سے ہماری طرف آرہی تھی۔سبھی اس طرف متوجہ ہوگئے تھے۔گاڑی کے قریب آتے ہی گل ریز باآواز بلند بولا۔
”شٹ،ڈیڈ پہنچ گئے۔“
رضیہ خاموش رہی تھی۔
میر نیاز خان باہر آیا،سفید کپڑوں، کالی واسکٹ اورقراقلی ٹوپی کے ساتھ وہ کافی پُر رعب لگ رہا تھا۔
وہ بیٹے کو مخاطب ہوا۔”گلو کہا تھا ناں ،ان سے صلح ہو چکی ہے۔“
”ہاں ڈیڈ،مگر انھیں بے بی سے معافی مانگنا پڑے گی۔“
”بیٹا! جب ایک بار طے ہوگیا توجانے دو۔“ اس کے لہجے میں پدرانہ بے بسی چھپی تھی۔
وہ بگڑے ہوئے لہجے میں بولا۔”ٹکے ٹکے کے لوگ گل ریز خان کی بہن کو اغوا کرنے لگے تو تف ہے ہماری زندگی پر،ان کی خلاصی تبھی ہوگی جب بے بی کے پاﺅں چھو کرمعافی مانگیں گے۔“
میرنیاز خان نے بے بسی سے ہمیں گھورا۔”عمر جان کون ہے؟“
”جی خان صاحب۔“میں نے منہ کھولا۔
وہ بے بسی سے بولا۔”جوان اولاد شرمندہ کرا دیتی ہے۔“
میں نے جان چھڑائی۔”اگر ہم سے آپ کی شانِ خلاف کوئی بات ہوئی ہے تو سوری مس رضیہ۔“
امجد مجھے برہمی سے گھورنے لگا تھا۔
گل ریز کا حوصلہ بڑھا۔”یہی کچھ بے بی کے پاﺅںچھو کر کہو۔“
میرنیاز خان بولا۔”گلو،انھوں نے معافی مانگ لی ہے،اب چلیں۔“
اس نے بڑھک ماری۔”گل ریز خان کے الفاظ پتھر پر لکیر ہوتے ہیں۔“
”عمر جان !آپ ہی اسے کچھ سمجھاﺅ۔“میری نرمی کا میر نیاز خان نے غلط مطلب نکالا تھا۔
امجد زہر خند ہوا۔” ہمارے سمجھانے کا انداز کچھ اور ہے۔“
گل ریز غضب ناک ہوا۔ ”لڑکیوں کو ہتھیار کے زور پر ہیجڑے بھی اغواءکر لیں گے، اگر مرد ہو تو اب میری بہن کو ہاتھ لگاﺅ۔“
”تمھاری بہن کو تو ہم نے پہلے بھی نہیں چھوا۔“میرے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔”باقی ہتھیار کے زور پر کودنے والا نظر آرہا ہے۔“
وہ نخوت سے بولا۔“تبھی زندہ نظر آرہے ہو،ورنہ اب تک تمھاری ٹانگیں توڑ چکا ہوتا۔“
”ارے آپ لوگ تو لڑنے لگے۔“ میر نیاز خان نے ہمارے تیور دیکھ کر پریشانی ظاہر کی۔
” ہم نہیں ،آپ کابیٹالڑ رہا ہے۔“ امجدکے لہجے میں تلخی تھی۔
گل ریز نخوت سے بولا۔” کیوں کہ ہمت رکھتا ہوں،تم میں بھی ہمت ہے تو آجاﺅ میدان میں۔“
میں بیزاری سے بولا۔”ہم کم ہمت سہی ۔“اور امجد کو چلنے کا اشارہ کیا۔
اس نے شیخی بگھاری۔”بے بی کے پاﺅں کو ہاتھ لگاﺅ یا خالی ہاتھ اس کا مقابلہ کر کے جیت کر دکھاﺅ، اس کے علاوہ جانے کا سوچنا بھی مت ۔“
” تم خود کیوں نہیں لڑتے ۔“مجھے اس کی بڑھکوں پر ہنسی آئی۔وہ ہمیں بھی عام لوگوں کی طرح سمجھ رہا تھا۔یقینا بہن بھائی نے دو تین سال جوڈو کراٹے وغیرہ کی تربیت لی تھی تبھی باربار مینڈک کی طرح پھدک رہے تھے۔زیادہ فلم بینی بھی انسان کو حقائق سے دور لے جاتی ہے۔
اس کا استہزائی قہقہ گونجا۔”میرے مقابلے میں دونوں آجاﺅ۔“
”گل ریز خان، ہم تمھارے باپ سے معذرت کر چکے ہیں،رضیہ کے ساتھ بھی کوئی بدتمیزی نہیں لیکن اسے بھی سوری کہہ دیا۔اب بچکانہ مقابلے رہنے دو،ان فضولیات کا وقت ہمارے پاس نہیں ہے۔“
وہ نفرت سے تھوکتا ہوا بولا۔”بزدل زنخے بہانہ بازی میں ماہر ہوتے ہیں۔“
امجد نے کلاشن کوف میری طرف بڑھائی۔یقینا اس سے مزید ہتک برداشت نہیں ہوسکتی تھی۔
میں نے انکار میں سرہلادیا کہ اس کا بازو مکمل طور پر ٹھیک نہیں تھا۔گل ریز خان کے بارے بھی مجھے مکمل معلومات نہیں تھی کہ آیا وہ کتنا کچھ لڑائی کا ماہر تھا۔
گو امجد ہر لحاظ سے گل ریز پر بھاری تھا،وہ بے چارہ ٹوٹی پھوٹی جوڈو کراٹے ہی جانتا ہوگا،جبکہ ہم لڑائی کے ہر اس فن سے واقف تھے جو مقابل کو ناکارہ کرسکتاہے۔آج کل کراٹے بہ طور کھیل کے زیادہ مشہور ہورہا ہے۔مگرمقابلوں میں گولڈ میڈل لینے والے شاید اصلی لڑاکے کی دو چوٹیں بھی برداشت نہ کر سکیں۔
ایک اچھے لڑاکے کے لیے ضروری ہے کہ وہ سخت جان ہو،چست ہو،پہل پن ہاتھ میں رکھے، چوٹ برداشت کرناجانتاہو۔اور یہ تمام خوبیاں امجد میں موجود تھیں۔لیکن ایک اہم خاصیت اپنے دفاع سے ایک لحظے کو بھی غافل نہ ہونا ہے جو امجد میں مفقود تھی۔وہ جوش میں ہوش کھو دیتا تھا۔دوستانہ مقابلوں میں اکثر وہ اسی خامی کی وجہ سے ہار جاتا تھا۔
پستول میں نے اس کی طرف بڑھایا۔ ”تمھارے بازو کے بارے خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ باقی یہ تو جانتے ہی ہونا،ایسے دس لونڈوں کے لیے بھی جانو اکیلا کافی ہے۔“
اور امجد اس سے خوب واقف تھا، جیسے میں اچھی طرح جانتا تھااس کا نشانہ مجھ سے بہتر ہے ۔
گل ریز نے پوچھا۔ ”تم نکلے ہو بے بی کے مقابل۔“
میں چند قدم آگے لے کر اس کے سامنے پہنچا۔”گنڈہ پور عورتوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے۔اس لیے تمھیں ہی زحمت کرنا پڑے گی۔“
وہ اعتماد سے بولا۔ ”مگر میں نے دونوں کو دعوت دی تھی۔“
” مجھے تو ہرا لو،وہ بھی یہیں پر ہے۔“
”آپ تو سچ میں لڑنے لگے ہو۔“ میر نیاز خان نے پریشانی ظاہر کی۔ مگرمجھے لگا وہ خود یہی چاہ رہا تھا۔شاید ہمیں اپنی طاقت دکھانا چاہتا تھا۔ایسے لوگ سانپ مارکرلاٹھی بچانے کے ماہر ہوتے ہیں۔
گل ریز ملتجی ہوا۔”پلیزڈیڈ! آپ درمیان میں نہ آئیں۔“
میرنیاز خان مصنوعی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے پیچھے ہوگیا۔
گل ریز جینزا ور ٹی شرٹ میں تھا،جبکہ میں نے شلوار قمیص پہنی تھی ۔ گو خالی ہاتھ لڑائی میں لباس کی بڑی اہمیت ہوتی ہے مگرجب مقابلہ اُنیس بیس کا ہو۔ شیش ناگ واحد لڑا کا تھا جس نے مجھے متاثر کیا تھا۔اور لڑائی کے اختتام تک پتا نہیں چل رہا تھا کہ کس کا پلہ بھاری رہے گا۔ گل ریز تو اس کے مقابلے میں طفلِ مکتب تھا۔ مگر لڑائی کے بنیادی اصول کہ دشمن کو کبھی کمزور نہ سمجھو کے مصداق میں اسے ہلکا نہیں لے سکتا تھا۔
گاڑیوں کی ہیڈلائیٹس نے وہاںخوب روشنی کر رکھی تھی۔ گل ریز کراٹے کے مختلف پوز بناتے ہوئے مجھے متاثر کرنے لگا۔
میں دلچسپی سے اس کی اچھل کود دیکھتا رہا۔تین چار منٹ انگڑئیاں لے کر وہ مخصوص انداز میں چیختے ہوئے میری طرف بڑھا،قریب آتے ہی اس کی ٹانگ خطرناک انداز میں میرے چہرے کی طرف بڑھی،پیچھے ہٹے بغیر میں نے دائیں کہنی پر اس کا وار روکااور بائیں ہاتھ کادائروی مکا اس کی ٹھوڑی پر جڑ دیا۔یہ باکسنگ کا مخصوص وار تھا۔اس میں مخالف کا جبڑا اتر جاتا ہے اور وہ چند لمحوں کے لیے ہوش کھو بیٹھتاہے۔بہ ظاہر میرا مکااس کی ٹھوڑی کے بلکہ نیچے والے حصے سے مس ہواتھا،لیکن وہ ایک دم ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑتے ہوئے منہ کے بل نیچے گرگیا۔
میں اطمینان سے بولا۔”خان صاحب !اسے تو سمجھ آگئی ہے ،کسی اور کو سمجھانا ہے یا فدوی جاسکتے ہیں۔“
وہ جواب دیے بغیر گل ریز کی طرف بھاگا،رضیہ اس سے ایک قدم آگے تھی۔ محافظوں نے اضطراری اندازمیں کلاش کوفیں میری جانب سیدھی کر دیں۔ امجد نے بھی حفاظتی لیور اتارنے میں لمحہ نہیں لگایا تھا۔
”بھیا!“ کہتے ہوئے رضیہ اس کے قریب پہنچی ، میر نیاز خان نے فوراََ اس کا سر اٹھا کر گود میں رکھ لیاتھا۔
”تم و حشی، جنگلی،درندے۔“ بھائی کے سانس چلنے کا اطمینان کرتے ہی کرتے ہی رضیہ بپھری ہوئی شیرنی کے مانند میرے جانب بڑھی ،ایک تو اس کے حملے میں بڑی تیزی تھی دوسرا میرا گمان بھی نہیں تھا وہ حملہ کرے گی۔ بہ مشکل کلائیاں جوڑ کر میں نے اس کا وار روکا۔
”گڑیا نہیں۔“ وہ گل ریز کا سر زمین پر رکھ کر دوڑا بڑھا۔ اورحملے پر تیار رضیہ کو بازو سے تھام لیا۔
”تم سارے الو کے پٹھے تماشا دیکھنے کو کھڑے ہو۔“ رضیہ کو قابو کرتے ہی وہ غضب ناک آواز میں دھاڑا۔”گلو کو گاڑی میں ڈالو۔“
مجسموں کی طرح ایستادہ محافظوں میں زندگی کی لہر دوڑ گئی تھی ،سارے گل ریز کی طرف دوڑپڑے۔
”چلو گڑیا! ان لوگوں کاقصور نہیں ہے۔“ میر نیاز نے بیٹی کو کار کی طرف کھینچ لیا۔کار میں بیٹھ کر اس نے پھیکی مسکراہٹ سے کہا۔
” عمر جان، بچوں کی حماقت کو دل پر نہ لینا۔“
میں نے سرہلانے پر اکتفا کیا تھا۔
وہ کار موڑ کر واپس چل پڑا۔ تینوں گاڑیاں بھی اس کے پیچھے ہو لیں۔
میں نے گھڑی دیکھی۔”شاید ہماری قسمت میں پہلوان ہوٹل ہی کا کھانا لکھا ہے۔“
امجد نے منہ بسورا۔”رناں والے آں دے پکن پراٹھے تے چھڑیاں دی اگ نا جلے۔“
l l l
بستر سنبھالتے ہوئے امجد نے پوچھا۔”اب کیا ارادہ ہے ؟“
”چودھری کے پیچھے جانے سے پہلے تھانیدار طاہر کے وجود سے بھی دھرتی پاک کرنی ہے۔“
”میرا خیال ہے آج اس کا ٹنٹنا مکا کر ہی آرام کرتے ہیں۔“اس نے اتفاق کیا۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔۔”ان شاءاﷲ کل ۔“ اور اس نے بستر پر لیٹ کر آنکھیں بند کرلیں ۔
اگلے دن ہم کافی دیر سے اٹھے تھے ۔تازہ دم ہو کر ایک دوسرے کو باورچی خانے میں گھسیڑنے کی کوشش میں تھے۔
امجدنے صاف انکارکیا۔” مہمان کا کام صرف کھانا ہوتا ہے۔تیار کرنا میزبان کی سردردی ہوتی ہے۔“
”تم میرے منشی ہو۔اور نچلے درجے کے منشی کے لیے ملک صاحب کیسے ناشتا تیار کر سکتا ہے۔“
اس نے احتجاج کیا۔”منشی کی تقرری نہیں ہوئی۔“
میں اطمینان سے بولا۔”پیشگی تنخواہ بھی تمھارے گھر بھجوا دی ہے۔“
اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔ہماری سوایہ نظریں چار ہوئیں۔امجد نے کندھے اچکانے پر اکتفا کیا تھا۔
میںپستول اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔دستک گھر کے دروازے پر ہوئی تھی۔ مگر گھر اور بیٹھک کے دروازے ساتھ ساتھ تھے ،میں نے بیٹھک کا دروازہ کھول کر احتیاط سے باہر جھانکا۔اور خود کو بہ مشکل اچھلنے سے بچا سکا تھا۔دروازے پر میز نیاز خان کی بیٹی رضیہ کھڑی تھی۔
”آپ ؟“میں متعجب ہوا۔
اس نے خوب صورت مسکراہٹ اچھالی۔” میرا یہاں آنا منع ہے۔“
”ایسا تو نہیں کہا۔“ میں سنبھل گیا تھا۔
”اندر آنے کو نہیں کہو گے۔“
میں نے پیچھے ہٹ کر رستہ دیا۔
”تم لوگ جاﺅ،میں یہاں محفوظ ہوں۔“ اس نے محافظوں کو رخصت کیا۔
” چھوٹی بی بی....“ایک نے معترض ہونا چاہا۔
وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولی۔”پاپاپوچھیں تو بتا دینا کہ عمر جان مجھے چھوڑ جائیں گے۔“
محافظ چہروں پر بے بسی سجائے واپس مڑ گئے۔
”پریشان نہ ہوں ،اکیلی چلی جاﺅں گی۔“محافظوں کے لوٹتے ہی اس نے وضاحت کی۔
امجد نے موشگافی کی۔” اب توجانو ضرور پریشان ہوگا۔“ وہ مسکرادی، مسکراتے وقت اس کے گالوں میں بھی شیتل کی طرح گڑھے پڑ جاتے تھے، مگر خوب صورتی میں وہ شیتل کے عشر عشیر بھی نہیں تھی۔اُس جیسی حسین لڑکی میری نظروں سے نہیں گزری۔ رضیہ بھی خوب صورت تھی اچھے عمدہ لباس اور مہنگے سنگھار نے اس کی خوب صورتی میں اضافہ کردیا تھا۔
رضیہ نے آنکھیں نکالیں۔” جانو نہیں عبدالرحمن کہو۔“ اور ہم قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔
”امجد بھائی!میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ کوئی اتنا جھوٹا ہوسکتا ہے۔“
امجد نے منہ بنایا۔”مسماة رضیہ ، بھائی کے سابقے لاحقے کو صرف گل ریزخان کے لیے محفوظ رکھو۔“
وہ شرارتی لہجے میں بولی۔” میں امجد بھائی ہی بولوں گی،کیوں جانو صاحب؟“
میں نے تائید میں سرہلایا۔ ”میں خود اسے امجد بھائی کہتا ہوں۔بلکہ دوران تربیت جب کوئی لڑکا اسے بھائی نہ کہتا تو لڑنے لگتا تھا۔“
امجد نے دانت پیسے۔ ”تم جسے دوستوں کے ہوتے دشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔“
رضیہ مسکرائی۔”جانو،مجھے بھی یہ بہ طور بھائی بہت اچھا لگاہے۔“
امجد نے کہا۔” شادی سے پہلے سبھی لڑکیاں ہونے والے دولھاکو بھائی کہتی ہیں۔“
”ہمارے ہاں جسے بھائی کہہ دیا اسے ساری زندگی بھائی سمجھا جاتا ہے۔“ وہ تکیہ گود میں لے کر آرام سے چارپائی پر بیٹھ گئی تھی۔
” چائے لیں گی یا ٹھنڈا۔“ میںنے فضول موضوع تبدیل کیا۔“
” شکریہ ،میں ناشتا کر کے آرہی ہوں۔“
امجد نے طعنہ کسا۔”غریب بھی چائے میں چینی ڈالتے ہیں۔“
وہ متبسم ہوئی۔”ٹھیک ہے بھیا! آپ کی دعوت تو نہیں ٹھکرائی جاسکتی نا۔“
امجد شاکی ہوا۔”جانو کو بھی بھائی کہویا میںاکیلا ہی گناہ گار ہوں۔“
اس نے معنی خیز لہجے میں کہا۔”نہیں، یہ جانوبلکہ صرف جان ہی ٹھیک ہیں۔“
ایک دم میرے خیالوں میں شیتل در آئی۔وہ بھی مجھے جان کہا کرتی تھی۔پگلی دل کی گہرائیوں سے مجھے چاہنے لگی تھی۔سعدیہ کے بعد پہلی لڑکی تھی ،کہ میں کوشش کے باوجود دل کے دروازے بند نہیں رکھ پایاتھا۔نیک بخت دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے کے بجائے توڑ کر اندر گھسی تھی۔
”کہاں کھو گئے ہو بھئی!....مسماة رضیہ کہہ رہی ہیں کہ مجھے بھائی اور آپ کو بھائی جان کہیں گی۔“
”میں نے صرف جان کہا ہے۔“ رضیہ نے جلدی سے تردید کی۔
” چائے لے آﺅ۔“ میں سنجیدہ ہو گیا تھا۔
” اللہ پاک ،کم ظرف کی ملازمت سے بچائے۔“ امجد مجھے کوستا ہواباورچی خانے کی طرف بڑھ گیا۔
”گھر میں کوئی عورت موجود نہیں ہے ۔“ اس نے حیرانی ظاہرکی۔
امجد نے رکتے ہوئے رضیہ کی جانب اشارہ کیا۔”موجود ہے مگر اتنی ہمت و حوصلہ کہاں سے لائیں کہ اسے چائے بنانے کا کہیں۔“
رضیہ کھل کھلا کر ہنس پڑی۔
میں نرم لہجے میں مستفسر ہوا۔”برا نہ لگے تو تشریف آوری کا مقصد جان سکتا ہوں۔“
وہ خفیف ہوئی۔” معذرت کو حاضر ہوئی تھی، گزشتہ رات غصے میں گستاخی کر بیٹھی،آپ کا بڑا پن تھا کہ جوابی کارروائی سے گریز کیا۔“
میں نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”رات گئی،بات گئی۔“
اس کے لبوں پر خوب صورت تبسم ابھرا۔ یقینا وہ اپنی مسکراہٹ کی تباہ کاری سے اچھی طرف واقف تھی تبھی فرا خ دلی سے وہ دولت لٹا تی رہتی۔”شکریہ جان!اور آج حویلی میں چھوٹی سی تقریب کا اہتمام کیا ہے، آپ کی شرکت ضروری ہے۔پاپا نے بھی ضروری بات کرنا تھی اس لیے آ پ کو آنا پڑے گا۔“
میں نے چونکتے ہوئے پوچھا۔”خیر تو ہے؟“
وہ اطمینان سے بولی۔” انھی سے پوچھ لینا۔“
میں نے جاننا چاہا۔” تقریب کہیں آپ کی منگنی کی تو نہیں ہے۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”منگنی بھی ہو سکتی ہے اگرایک جوان جائے ۔ویسے تو مقدمہ جیتنے کی خوشی منائی جارہی ہے۔“
”کیسا مقدمہ؟“
اس نے وضاحت کی۔”کوہاٹ کے خوانین (خان)کے خلاف متنازعہ زمین مقدمہ ہم جیت گئے ہیں۔“
”مبارک ہو۔“
”خیر مبارک۔“
امجد چائے کے برتنوں کے ساتھ نمودار ہوا۔ ”اگرمیری زندگی عزیز ہے تو اپنی منگنی کی وحشت ناک خبر مجھے نہ سنانا۔“
وہ کھل کھلائی۔”چلیں نہیں سناتی۔“
”شکریہ اور چائے لیں تاکہ آپ کو میری خوبیوں کا اندازہ ہو فیصلے پر نظر ثانی کر سکیں۔“
”کون سا فیصلہ ؟“ وہ پیالی ہونٹوں سے لگاتے ہوئے پوچھنے لگی۔
”جو بھائی جیسے قاتلانہ نام سے پکارنا شروع کر دیا ہے۔“
اس نے پوچھا۔”بھائی قاتلانہ نام ہے؟“
وہ مسکنت سے بولا۔”ہاں نا، پیار، محبت،عشق کا قاتل ہی تو ہے۔“
چسکی لیتے ہوئے اس نے تعریف کی۔” بہت اچھی چائے بنائی ہے۔“
امجد نے شگوفہ چھوڑا۔”کھانا بھی بہت اچھا بناتا ہوں، خدا کی قسم عیش کروگی عیش۔“
اس کا قہقہ بلند ہوا۔ ہنستے ہوئے یقینا وہ زیادہ خوب صورت لگتی تھی۔”بھیا، مذاق چھوڑیں،میں دعوت دینے آئی تھی اور انکار نہیں سنوں گی۔“
”مگر آج رات تو....“ امجد نے مجھے گھورا۔
وہ برہم ہوئی۔”بہانے بازی نہیں چلے گی۔“
وہ امجد کی طرف متوجہ تھی،میں نے رضامندی کا اشارہ دیا۔امجد فوراََ بولا۔
”مگر ایک شرط پر۔“
”بتائیں۔“اس نے اشتیاق ظاہر کیا۔
”مجھے امجد کہو گی اور بھائی پیٹھ پیچھے بھی نہیں کہو گی۔“
وہ شرارتی لہجے میں بولی۔”اور اگر جانی کہوں۔“
امجد برجستہ بولا۔”آپ کے منہ میں گھی شکر۔“ ہم بے ساختہ ہنس دیئے تھے۔
اس نے اچانک پوچھا۔ ”فضل داد اور خوشمیرکو آپ نے پولیس کے حوالے کیا تھانا؟“
امجد متعجب ہوا۔”ہاں،مگر آپ کو کیسے پتا۔“میں بھی اسے سوالیہ نظروں سے گھورنے لگا۔
”اخبار میں پڑھا ہے، انسپکٹر طاہر نے سخت مقابلے کے بعد انھیں گرفتار کیا ہے۔ وہ شبیر شاہ کنڈی ے قاتل تھے اور پولیس کوکافی عرصے سے مطلوب تھے۔“
”کل رات کو پکڑااور صبح اخبار میں بھی آگیا ۔“میں نے حیرانی ظاہر کی۔
امجد بیزاری سے بولا۔”ایسی خبریں بلا تاخیر چھپتی ہیں۔“
” اب میں چلوں گی۔“اس نے نشست چھوڑ دی۔
” آپ کوچھوڑ دیتے ہیں۔“ ہم بھی کھڑے ہو گئے۔
وہ رسمی تکلف سے بولی۔” تکلیف نہ کریں میں چلی جاﺅں گی۔“
”کوئی بات نہیں آپ ہماری مہمان ہیں۔“ امجد خلوص سے بولا۔
l l l
شام کو سات بجے رضیہ ہمیں لینے پہنچ گئی۔ ہم نے طے کیا تھا کہ پارٹی کے اختتام پرانسپکٹر طاہر کی سرکوبی کونکلیں گے۔ دوپہرکو رضیہ کوگھر چھوڑ کر ہم نے واپسی پر اس کے مکان کی قراولی (دیکھ بھال) کر لی تھی۔ تقریب میں جانے کومیں کسی خصوصی اہتمام کے حق میں نہیں تھا،مگر امجد کے اصرار پر تھی پیس سوٹ پہننا پڑا۔
ایک سوٹ میں نے امجد کوبھی پہننے کودیا تھا۔ ہماری قامت میں نمایاں فرق نہیں تھا۔
رضیہ نے ہمیں ستائشی نظروں سے گھورا۔”شکریہ ،آپ نے تقریب کو رونق بخشنے کو اتنا اہتمام کیا۔“
امجدنے جواب دیا۔”یہ اہتمام صرف آپ کے لیے ہے۔“
”دونوں میرے لیے تیار ہوئے ہیں۔“اس نے چاہت بھری نگاہ مجھ پر ڈالی۔
میں رکھائی سے بولا۔”مجھے اس احمق کے ساتھ شامل نہ کیا کریں۔“
”چلیں۔“ مایوسی سے کہتے ہوئے وہ مڑگئی۔
امجد نے سرگوشی کی۔” سوچا تھا صرف شیتل ہی بے و قوف ہوگی۔“
”جتنی بھی ہوں، شہلا سے کم ہی ہوں گی۔“
امجد برہم ہوا۔”وہ ڈاکٹر ہے جناب۔“
رضیہ مڑی۔”مجھے کچھ کہا ؟“
”نہیں۔“ میں نے عقبی سیٹ پر نشست سنبھالی۔ امجد بھی میرے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔
امجد نے کہا۔” رضیہ جی!سچ تو یہ ہے آپ کی تعریف کر رہا تھا کہ ان کپڑوں میں آپ کسی اور ہی دنیا کی مخلوق لگتی ہیں۔“
”ہماری ایسی قسمت کہاں۔“ کار آگے بڑھاتے ہوئے اس نے حسرت ظاہر کی ۔ محافظوں کی جیب بھی پیچھے چل پڑی تھی۔
امجد شوخ ہوا۔”اس کے موڈ پر نہ جائیں، پہلے پہل یونھی بے نیازی دکھا کر لڑکیوں کو پھانستا ہے۔“
وہ متحیر ہوئی۔” اس کے تعلقات کسی اور لڑکی سے بھی ہیں۔“
امجد جلدی سے بولا۔”کوئی ایک ہو تو بتاﺅں۔“
رضیہ بیک مر ر میں تیکھی نگاہ سے مجھے گھورنے لگی۔مگر ناکافی روشنی میں میرا چہرہ اسے واضح نہیں دکھ سکتا تھا۔میںنے ٹیک لگا کرآنکھیں بند کر لیں۔
رضیہ کی نگاہیں اور اندازِ گفتگو جو پیغام سنارہا تھا وہ میرے لیے نیا نہیں تھا۔ مگر رضیہ جیسی لڑکی میری منزل نہیں تھی سعدیہ کے بعدشیتل ہی تھی جس نے دل کے نازک تاروں کو چھیڑا تھا۔
” اب تک اس نے شادی بھی کر لی ہوگی؟“ایک دکھ بھری سوچ نے مجھے لپیٹ میں لے لیا تھا۔ آخر کب تک انتظار کر سکتی تھی۔ انتظار بھی ایسا جولا حاصل تھا۔
میں نے سر جھٹک کر ان سوچوں سے پیچھا چھڑایا۔ رضیہ، شیتل یا کوئی تیسری چودھری کی موت کے بعد ہی میری زندگی میں شامل ہوسکتی تھی۔
کار لمحہ بھر کو حویلی کے داخلی دروازے پر رکی، چوکیدار نے گاڑی پہچا نتے ہی دروازہ کھول دیا تھا۔ پوری حویلی رنگ برنگی روشنیوں سے بقعہ¿ نور بنی تھی۔ وسیع صحن میں خوب صورت سٹیج بنایا گیا تھا،یقینا گانے بجانے کا پروگرام تھا۔
نیچے اترکر ہمیں ساتھ آنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گئی، حالاں کہ مہمانوں کے بیٹھنے کو ایک علیحدہ نشست گاہ بنائی گئی تھی۔
وہ جدید تراش کی شلوار قمیص میں ملبوس تھی، بدن کے نشیب و فراز چھپنے کی بجائے اجاگر ہو رہے تھے۔ میں نے اس کے چیختے شباب سے نگاہیں چرا کر امجد کو دیکھا، وہ بھی اس وقت اسی تگ و دو میں مصروف نظر آیا۔ ہماری آنکھیں چار ہوئیںاور لبوں پر مسکراہٹ کھل گئی۔
امجد نے سرگوشی کی۔” کم بخت ایسے چلتی ہے کہ جیسے رقص کر رہی ہو۔“ میں بے ساختہ ہنس پڑا۔
”کیا ہوا؟“ میری ہنسی سن کر وہ رک گئی۔
”کچھ نہیں۔“ امجدنے نفی میں سرہلایا اور وہ آگے بڑھ گئی۔ پرتعیش ڈرائینگ روم عبور کر کے وہ ہمیں لائبریری میں لے آئی۔ دیواروں کے ساتھ کتابوں کے ریک رکھے تھے کمرے کے درمیان میں قیمتی صوفہ سیٹ لگا تھا ۔اور میرنیاز خان وہیں بیٹھا مصروف مطالعہ نظر آیا۔
ہمیں دیکھتے ہی اس نے کتاب بند کر کے میز پر رکھی اور ”خوش آمدید ،ویلکم، پخیر راغلے۔“ کہتا ہوا بازو پھیلاکر کھڑا ہوگیا۔
فرداً فرداً معانقہ کر کے اس نے دعوت دی۔ ” تشریف رکھیں اور گڑیا تم جا سکتی ہو۔“
رضیہ منہ بناتے ہوئے واپس مڑ گئی۔ یقینا وہ ہماری گفتگو سننے کی خواہاں تھی۔
میرنیاز نے زبان کھولی۔”پہلے تو گل ریز خان کی حماقت پر معذرت کروں گا۔“
امجد سعادت مندی سے بولا۔” آپ کا معذرت کرنا ہمارے لیے تکلیف دہ ہے۔“
”شکریہ۔“وہ خوش دلی سے مسکرایا۔”میری پھیکی سی تقریب کو رونق بخشنے پر بھی تہہ دل سے ممنون ہوں۔“
ہم نے محجوب انداز میں سرہلادیا تھا۔
” زیادہ وقت نہیں لوں گامدعے پر آتاہوں ۔میرا کاروبار کافی پھیل گیا ہے،مخالفین کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے،جن میں کاروباری حریفوں کے علاوہ پرانے دشمن شامل ہیں۔ایسے حالات میں دوست احباب اور حلیفوں کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔آپ دونوں کی صلاحیتوں سے میں متاثر ہوا ہوں اور آپ کو اپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”شکریہ ملک صاحب!مگر فی الحال میرا مقصد صرف اور صرف چودھری اکبر سے بدلہ لینا ہے۔“
اس نے پیش کش کی۔”چودھری اکبر کو عبرت ناک انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری میں قبول کرتا ہوں۔“
میں رکھائی سے بولا۔”ایک گنڈہ پور کو میراجواب معلوم ہوناچاہیے۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”شاید آپ برا مان گئے ہیں۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”آپ میرا دشمن چھیننا چاہتے ہیں،گنڈہ پور دوستی چھوڑ سکتا ہے دشمنی نہیں۔“
اس نے صفائی دی۔”میں آپ کا وقت ضائع ہونے سے بچانا چاہتا تھا۔“
میں لگی لپٹی رکھے بغیر بولا۔”اگر چودھری اکبر کا کانٹا نہ بھی ہوتا تب بھی میں معذرت ہی کرتا ملک صاحب۔“
اس نے کوشش جاری رکھی۔”جلدبازی میں فیصلہ نہ کریں،تقریب سے لطف اندوز ہوں اور گھر جاکر ٹھنڈے دماغ سے میری پیش کش پر غور کرنا۔“
”ضرور۔“زبردستی کی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے ہم کھڑے ہوگئے۔اس نے بھی نشست چھوڑی اور ہمارے ساتھ چل پڑا۔
ڈرائینگ روم میں رضیہ منتظر بیٹھی تھی۔چیل کی طرح جھپٹی۔”پاپا،انھیں ساتھ لے جا سکتی ہوں۔“
میرنیاز خان بے بسی سے بولا۔”ہاں بھئی،نوجوان بوڑھوں کے ساتھ کہاں خوش رہ سکتے ہیں۔“
وہ خوشی سے چہکی۔”شکریہ پاپا۔“ اور میر نیاز سر ہلاتا ہوا باہر چلا گیا۔
وہ بچکانہ جوش سے بولی۔”آئیں آپ کو اپنا گھر دکھاو¿ں۔“
حویلی دکھا کر شاید وہ اپنی امارت سے متاثر کرناچاہ رہی تھی۔ ہم نے بھی اسے مایوس نہیں کیا اور خوش دلی سے اس کے ساتھ گھومتے رہے۔ تمام حویلی گھمانے کے بعد وہ ہمیں اپنے وسیع اور پُر تعیش خواب گاہ میں لے آئی۔
”بیٹھیں۔“اس نے جہازی حجم کے بیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ ”کیسا لگا میرا چھوٹا سا گھر۔“
امجد نے کہا۔” بہت اچھا ہے ،صرف ایک چیز کی کمی ہے۔“
”کس چیز کی؟“ اس نے حیرانی سے پوچھا۔
وہ مسمسے لہجے میں بولا۔”خوراک کی،صبح سے بھوکے پیا سے منتظر تھے۔ آپ نے بھی شاید حویلی دکھانے کی دعوت دی تھی۔“
”سوری ....سوری.... سوری۔“نادم انداز میں کہتے ہوئے بولی۔ ’ خیال ہی نہ رہا۔اور چلیں شاید کھانا شروع بھی ہو چکا ہو۔“
ہم باہر نکل آئے۔سبھی نے کھانے کی پُرتکلف سجی ہوئی میزوں کو گھیر رکھا تھا۔ ہم بھی ان میں شامل ہو گئے۔ کھانے کے دوران رضیہ مسلسل میرے ساتھ چمٹی رہی اورمختلف پکوان میرے آگے دھرتی رہی۔ گل ریز بھی نظر آیا مگر نگاہیں چرا کر نکل گیا۔ کھانے کے بعد ناچ گانے کی محفل تھی۔ مہمان سٹیج کے سامنے کرسیوں پر بیٹھ گئے جبکہ کچھ چہل قدمی کرنے لگے۔
میں رضیہ کو مخاطب ہوا۔” اب اگر ہمیں اجازت دیں۔“
”کیوں۔“وہ برہم ہوئی۔
”ضروری کام تھا۔“
وہ بے باکی سے بولی۔”سارے ضروری کام چھوڑ کر آج آپ نے میرے ساتھ ہی رہنا ہے۔ اگر پینے کا شوق ہے تو اس کا بھی بندوبست ہے۔اور ناچنے والیاں بھی آئی ہیں محفل کے اختتام پر اپنی پسند کے ساتھ بقیہ رات گزار سکتے ہیں۔“
وہ گھٹیا گفتگو سن کر میرا دماغ گھوم گیاتھا۔”افسوس ہے تمھاری تربیت و سوچ پر۔“امجد کو اشارہ کر کے میں چل پڑا۔ہم نے میز نیاز خان سے بھی اجازت نہیں لی تھی۔
وہ ہکا بکارہ گئی تھی ،
جونھی حویلی سے نکلے امجد مسکرایا۔”اب غصہ تھوک دو،غریب اپنے طبقے سے متعارف کرارہی تھی۔“
”بیٹی !زبردستی گلے پڑ رہی ہے اور باپ اسمگلر بننے کی دوعوت دے رہا ہے۔دماغ خراب ہو ا ہے سالے کا۔“
امجد نے قہقہ بلند کیا۔”سالے نہیں سسر کا۔“
میں بے ساختہ ہنس پڑا، ہم حویلی سے نکل کر تھوڑی دور ہی آئے تھے کہ حویلی سے ایک کار نکل کر آندھی وطوفان کی طرح ہماری طرف بڑھی ۔ قریب آتے ہی کار رک گئی ،برآمد ہونے والا چہرہ رضیہ کا تھا۔
وہ بجھے چہرے سے میرے پاس آئی۔ ”سس....سوری جان!....مم....میں مذاق کر رہی تھی۔“
” ایسا گھٹیا مذاق کرنے کو میں ہی ملا تھا۔“
اس نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔ ”پلیز،آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔“وہ امجد کو مخاطب ہوئی۔آپ بھی میری سفارش کریں نا۔“
امجد شرافت سے بولا۔” وقتی اشتعال ہے کل تک ٹھیک ہو جائے گا۔“
اس نے پریشانی سے کہا۔ ”پتا بھی ہے کل تک مجھ پر کیا گزرے گی۔“
میں رکھائی سے بولا۔” آپ کو پہلے سوچنا چاہئے تھا۔“میری کوشش تھی کہ اسے خفا کر کے واپس بھیج دوں،مگر اتنی آسانی سے ٹلنے والی نہیں تھی۔
” سوری کر تو دیا ہے اور کیا پاﺅں پڑ جاﺅں.... لویہ بھی کرلیتی ہوں۔“ وہ نیچے جھکی مگر میں جلدی سے پیچھے ہو گیا....
”کیا کررہی ہو بے وقوف۔“
وہ رنکھی ہوئی۔”جو آپ چاہتے ہیں۔“
”آئندہ خیال رکھنا اور اب اجازت دو۔“ میں نے جان چھڑانا چاہی۔
وہ کھل اٹھی تھی۔”شکر ہے آپ کی خفگی دور ہوئی ، بیٹھیں میں چھوڑ آتی ہوں۔“
میں نے انکار میں سرہلایا۔” ہم چلے جائیں گے۔“
” اب تک ناراض ہیں۔“
”چلو اس نے ویسے جان نہیں چھوڑنا۔“میں کا رمیں بیٹھ گیا۔
”بالکل صحیح کہا۔“قہقہ لگاتے ہوئے اس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔
راستے بھر اس کی زبان بغیر رکے چلتی رہی۔اپنی امارت کے قصے،فضول خرچیوں کی کہانیاں، آسائشوں کی فراوانی اور کافی خرافات کاذکر کر کے وہ مجھے متاثر کرنے کی کوشش میں لگی رہی۔
ہمیں گھر کے سامنے اتار کر وہ واپس مڑ گئی۔میں نے شکر کا سانس لیا ورنہ کوئی بعید نہ تھا کہ وہیں شب بسری پر مصر ہوتی۔
امجد نے پوچھا۔”اب کیا ارادہ ہے؟“
” لباس تبدیل کرکے چلتے ہیں۔“
جاری ہے
 

قسط نمبر2 2
ریاض عاقب کوہلر
تھوڑی دیر بعد ہم منہ پر مفلر لپیٹے انسپکٹر طاہر کے مکان کے پاس پہنچ چکے تھے۔اس کا مکان تھانے کے قریب ہی تھا۔ وہ شادی شدہ تھا اس کے بیوی بچے شہرمیں ہوتے تھے۔ وہ سنیچر کو گھر جاتا اور سوموار کی صبح لوٹ آتا۔ ہفتے کے باقی ایام وہ سرکاری مکان ہی میں گزارتا تھا۔ رشوت خور ہونے کے علاوہ وہ شراب نوش اور دوسرے بہت سے غلط کا موں میں بھی ملوث تھا۔ اس کے متعلق ساری معلومات مجھے نذر گل سے معلوم ہوئی تھیں۔جو مکان تک پہنچتے ہوئے میں امجد کے گوش گزار کر چکا تھا۔
مکان اچھا خاصا بڑا تھا۔ وہ بیوی بچوںکو ساتھ رکھ سکتا تھا، مگر یوں اس کی عیاشیوں پر پابندی لگ جاتی تبھی بچوں کی اچھی تربیت کا جھانسا دے کراس نے بیوی کومستقل شہر رکھاہواتھا۔
مکان کے بیرونی دروازے پر پولیس کا ایک سپاہی کرسی پر بیٹھا بے دلی سے پہرے داری کر رہا تھا۔
”اس مصیبت کا بھی کچھ کرنا پڑے گا۔“ امجد نے سنتری کی طرف اشارہ کیا۔
”ضرورت نہیں ہے۔“اسے لے کر میں مکان کی عقبی جانب بڑھ گیا۔
دیواروں کی بلندی سات فٹ کے بہ قدر تھی۔ جنھیں پھلانگنا چنداں دشوار نہیں تھا۔
ہم اندرگھسے اور چند منٹوں میں پورا مکان گھوم گئے ۔مگر کوئی ذی روح نظر نہ آیا۔باورچی خانے کے علاوہ چار کمرے تھے۔جن کے سامنے برآمدہ بنا تھا۔ برآمدے کے ساتھ لگی بانس کی سیڑھی کھڑی تھی۔ ہم بغیر مشورہ کیے مکان کی چھت پر چڑھ گئے۔کہ ان حالات میں سب سے اہم جگہ وہی تھی۔
پورا علاقہ صاف نظر آرہا تھا۔ ہم اوندھے لیٹ کراس کا انتظار کرنے لگے۔
امجد نے تشویش ظاہرکی۔”خبیث رات گزارنے کووہیں نہ ٹھہرجائے۔“
مجھے بھی فکر لاحق ہوئی، اگر تھانیدار نہ آتا تو ہمار ی محنت اکارت جاتی۔ مگر شاید تھانے دار کے سانس پورے ہو چکے تھے، کہ مجھے ایک گاڑی کی روشنیاں مکان کی جانب بڑھتی نظر آئیں۔اور ہم اس کے استقبال کو تیار ہو گئے ۔
l l l
پہرے دار نے گاڑی کی روشنیاں دیکھتے ہی دروازہ کھول دیا تھا۔ تھانے دار کو رکنا نہیں پرا تھا۔
گہرے سرخ رنگ کی سوز کی کار تھی جو بلاشبہ اس نے حرام کی کمائی سے خریدی ہوگی۔ ایک تھانیدار کی اتنی تنخواہ نہیں ہوتی کہ اپنے لیے کار خرید سکے ۔صرف تنخواہ پر گزاراکرنے والا تھانیدار تو بہ مشکل ہی بچوں کو دو وقت کی روکھی سوکھی کھلا سکتا ہے۔ کجا کار اور بنگلے کا مالک ہونا۔بہ ہر حال یہ پاکستان ہے اور یہاں ٹریفک کانسٹیبل بھی گاڑیوں بنگلوں کے مالک ہیں وہ تو پھر بھی تھانیدار تھا۔
کارصحن کے بیچ روک کروہ باہر نکلا اور ڈگمگاتا ہوا کمرے کی جانب بڑھ گیا۔صاف معلوم ہورہا تھاوہ شراب کے نشے میں دھت ہے۔
پہرے کے دروازہ بند کرنے پرہم احتیاط سے نیچے اترآئے۔ تمام کمروں میں اندھیرا چھایا تھا۔ پتا نہ چل سکا کہ وہ کس کمرے میں ہو گا۔ہم دبے پاﺅں چلتے ہوئے اسے ڈھونڈنے لگے۔
صحن میں بلب روشن تھااس ملگجی روشنی برامدے سے گزر کر کمروں کے اندر تک پہنچ رہی تھی۔وہ ہمیں دوسرے کمرے میں ملا۔چھوٹی ٹارچ روشن کر کے ہم اندر گھسے،وہ اوندھے منہ بستر پر پڑا تھا۔گہرے سانس اس کی مدہوشی کو ظاہر کر رہے تھے۔اچھی خاصی گرمی تھی مگر وہ پنکھا چلائے بغیر لیٹا تھا،نشے میں ہونے کی وجہ سے اسے پنکھا چلانے کا ہوش ہی نہیں رہا تھا۔
گردن کی مخصوص رگ دبا کر میں نے اس کی نیند کو گہری بے ہوشی میں تبدل کردیا۔ اب گھنٹا ڈیڑھ گھنٹا تک وہ ہوش میں نہیں آسکتا تھا۔ اسے کندھے پر اٹھا کر میں کمرے سے باہر آگیا۔ امجد چوکنے انداز میں سامنے چلنے لگا۔
ہم عقبی دیوار کے پاس پہنچے۔ امجد کلاشن کوف کندھے پر لٹکا کر دیوار پر چڑھا اور ٹانگیں دائیں بائیں لٹکا کر مضبوطی سے بیٹھ گیا۔ اسے تھانیدار پکڑا کر میں دیوار پھلانگ کر باہر نکلا اور تھانیدار کو کندھے پر اٹھا لیا۔
مکان آبادی سے ذراہٹ کر بنا تھا۔البتہ تھانہ قریب تھا۔عقبی طرف ڈیڑھ دو سو گز کی دوری پرچند مکانات بنے تھے۔ ہم مکانوںسے پچس ساٹھ قدم کی دور پرآگے بڑھ گئے۔ دوتین سو قدم چلنے کے بعد اڑھائی من کی بوری امجد نے اٹھا لی تھی۔اس کا بازو اب تک مکمل ٹھیک نہیں ہوا تھا لیکن جس طریقے سے ہم اسے اٹھا رہے تھے اس میں سارا وزن کندھوں پر پڑتا ہے۔
چند قدم چلتے ہی امجد نے دہائی دی۔” غلطی ہو گئی ہے، کسی سواری کا بندوبست کر نا چاہیے تھا۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔”بڑا جلدی خیال آیا ہے۔“
” کیا پتا تھا کہ یہ ہڈ حرام اتنا وزنی ہو گا۔“ اسے سانس چڑھ گیا تھا۔
”دو من کی تو اس کی توند ہوگی ،لگتا ہے دیگ باندھی ہوئی ہے۔“
”یہ حامل مرد ہے۔“
میں نے پوچھا۔”حامل کا کیا مطلب؟“
اس نے موشگافی کی۔”حاملہ کا مذکر۔“میں ہنس پڑا تھا۔
اسے باری باری اٹھا کرہم ناک کی سیدھ میں چلتے ہوگئے۔ گھنٹے، پون گھنٹے بعد ہم برساتی نالے میں پہنچ گئے تھے۔ ایک گہرے کھڈے میں اسے پھینک کر امجد گہرے سانس لینے لگا۔
تھانیدار کی بیلٹ اتار کر میں نے اس کے ہاتھ کمر پیچھے باندھ دیے تھے۔
امجد نے کہا۔”اسے ہوش میں لاﺅ۔“
میں نے اس کے چہرے کو تختہ مشق بنانا شروع کیا،چند تھپڑکھاتے ہی اس نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھول دیں۔
”کک.... کون .... کک....کیا ہے؟“ نشے نے اسے کچھ سوچنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔
”لعنتی انسان ہوش میں آﺅ،تمھارے کریا کرم کا وقت ہوا چاہتاہے ۔“ میں نے اسے بالوں سے پکڑ کر دو تین جھٹکے دیے۔
وہ ہکلایا۔” کک.... کیوں مار رہے ہو مجھے؟“
میری ٹھوکر ماتھے پر لگی،اس کا سر بڑی زور سے زمین سے ٹکرایاتھا۔” میں عمر جان ہوں، پہچانا۔“ میرے لہجے میں وحشت بھری تھی۔ٹھوکر کی تکلیف سے زیادہ تعارف نے اس کا نشہ ہرن کیا تھا۔
”عمر جان! تت.... تم ایک تھانیدار پرہاتھ اٹھا رہے ہو۔“
”یہ ہاتھ نہیں لات ہے۔“ میںنے ایک اور ٹھوکر رسید کی۔
”تم اچھا نہیں کررہے۔“
میں زہر خند ہوا۔”تم نے اچھا کیا تھا۔“
اس نے صفائی دی۔”میری مجبوری تھی،پولیس ملزم سے یونھی تفتیش کرتی ہے۔ضمانت ہونے کے بعد تمھیں کچھ کہا ہو تو بتاﺅ۔“
”خبیثانسان!بھول گیا ہے میرے گھروالوں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔“
وہ تھوک نگلتے ہوئے گڑگڑایا۔”مم.... مگر انھیں میں نے تو نہیں جلایا ۔“
” تم چودھری کے ساتھ شامل تھے ، شمشاد خاتون تمھارے کہنے پر راضی ہوئی تھی نا۔“
”وہ .... وہ، جھوٹ بولتی ہے۔“
”وہ یا تم....“ امجد کا بھر پور مکہ اس کے جبڑے پر لگا اور وہ ”ہائے....“ کی آواز کے لمبا لیٹ گیا۔ امجد نے گریبان سے پکڑ کر اسے بٹھا دیا۔
وہ خون تھوکتا ہوا خوفزدہ لہجے میں بولا۔ ” مم.... مجھے پتا نہیں تھا اکبر خان ایسا کام کرے گا۔“
” جب کر دیا پھر تم نے کیا کارروائی کی۔“میرے بائیں تھپڑ نے اس کا گال بجایا۔وہ پیچھے کو الٹ گیا۔
وہ گڑگڑایا۔”مم.... مجھے معاف کردو عمر جان۔ مم.... میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔“
” تمھیں تو عدنان ،فوزیہ، سلمیٰ ،بدر کوئی ننھا فرشتہ نظر نہ آیا۔ بوڑھوں پر رحم کھایا، عورتوں پر ترس آیااور نہ بچوں کو بخشا۔“
”مم.... مجھے معاف کردے عمر جان، مم.... مجھ سے خون بہالے لے۔ میں ....“ وہ مسلسل گڑگڑانے لگا میں نے کان دھرے بغیر اس کی جیبوں کی تلاشی لی اورسارا سامان نکال لیا ۔یہاں تک کہ گھڑی بھی اتار لی۔
”ایک گولی دائیں اور دوسری بائیں گھٹنے میں۔“پیچھے ہٹتے ہوئے میں اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔
کلاشن کوف دو مرتبہ گرجی ، تھانیدار چیختے ہوئے تڑپنے لگاتھا۔
”اسے زندہ دفنانا ہے۔“ میرے لہجے میں وحشت بھری تھی۔
”نن.... نہیں.... خدا کے لیے.... عمر جان رحم کرو۔“ طاہرخان چیخنا بھول گیا تھا۔ ” ایک بار معاف کر دو ....صرف ایک بار۔ میرے باپ کی توبہ اگر کبھی غلط کام کیا۔“
” معافی میرے باپ سے مانگو، اگر وہ معاف کر دیں تو چھوڑ دوں گا، کیوں کہ ان سے پوچھے بغیر میں کوئی کام نہیں کرتا۔ میں تو ویسے ہی ان سے بہت ڈرتا ہوں۔ حالاںکہ وہ مجھے مارتے نہیں ،نہ ڈانٹتے ہیں پھر بھی ڈرتا ہوں۔ ”ابو جان کو یاد کر کے میرے حلق میںتلخی گھل گئی تھی اور آنکھوں سے پانی کا سیلاب بہنے لگا۔ ”امی جان بھی کہتی ہیں کسی سے نہ لڑوں اور اگر کوئی کچھ کہتا ہے تب بھی خاموش رہوں ،معاف کرنا سیکھوں۔ مگر وہ بھی چپ ہیں۔ طاہر خان! مجھے روکنے ٹوکنے والے سارے چلے گئے، میں بے مہار ہو گیا ہوں۔ اب کوئی مرے جیے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا.... کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
”جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔“ امجد نے بازو سے پکڑ کر پیچھے کھینچا۔
ہم نے مٹی کے ڈھیلوں، پتھروں اور خشک مٹی سے گڑھاپاٹنا شروع کر دیا۔ تھانیدار کبھی رونے لگتا، کبھی چیخنے لگتا اور کبھی گڑگڑا کر معافی مانگنے لگتا، مگر ہم خاموشی سے لگے رہے۔ جلد ہی وہ مٹی اور ڈھیلوںکے ڈھیر میں چھپ گیا، اس کا تڑپنا مچلنا بیکار گیاتھا۔ گھنٹے ڈیڑھ کی مشقت کے بعد ہم نے گڑھا پاٹ دیاتھا۔
رات کا اندھیرا صبح کی ملگجی روشنی میں تبدیل ہو گیا تھا۔ ہم نے خشک ٹہنیاں اور پتے وغیرہ یوں بکھیردیے کہ غور سے دیکھنے پر بھی پتا نہیں چلتا تھا کوئی دفن ہے۔ یوں بھی وہ جگہ راستے سے ہٹ کر تھی۔
ہم واپس چل پڑے۔ سورج نکلنے تک گھر پہنچ گئے تھے۔ تھانیدار کا سامان مع نقدی کے میںنے بیت الخلاءکے گڑھے میں پھینک دیاتھا۔( ہمارے دیہاتوں میں نکاسی کا خا ص انتظام نہیں ہوتا، اس لیے ہم چار پانچ فٹ چوڑا اوربیس پچیس فٹ گہرا کھڈا کھود کر اس پر سیمنٹ کی چھٹ ڈال کر کموڈ لگا دیتے ہیں)
اس کے بعد نہا کرہم سو گئے تھے۔
میری آنکھ گیارہ بجے کے قریب کھلی، امجد سویا ہوا تھا۔تازہ دم ہوکر میں نے ناشتا تیار کیا۔تب تک امجد جاگ گیا تھا۔ دوران ناشتا اس نے پوچھا۔
”اب کیا ارادہ ہے ملک صاحب؟“
” چچا فاضل سے مل کر مشورہ لیتے ہیں۔“
” اس بہانے میں اپنا زخم بھی ڈاکٹر شہلا کو دکھلا دوں گا،پھر درد کر رہا ہے۔“
میں ہنسا۔”سچ کہوٹیسیں بازو سے اٹھ رہی ہیں یا دل سے ۔“
وہ جھینپتے ہوئے بولا۔”بکواس مت کرو۔“
l l l
چچا فاضل نے مشورہ دیا۔” جمیلہ بیٹی اور اسلم کو واپس لے آﺅ،پھر میران شاہ جانے کو تیار ہوجانا۔“
”باجی وہیں ٹھیک ہیں ،ان کا علاج بھی تو ہو رہا ہے۔“
چچا نے انکار میں سر ہلایا۔ ”اس کا علاج یہاں بھی ہو سکتا ہے ۔زمینوں کی دیکھ بھال بھی کرنی ہے۔ اور مجھے سنبھالنے والا بھی کوئی ہونا چاہیے۔کب تک ہسپتال میں پڑا رہوں گا۔“
میں فوراََ متفق ہوا۔”ان شاءاللہ ،کل ہم کراچی روانہ ہوں گے۔“
”ان شاءاﷲ۔“ چچا اور امجد بھی بیک زبان بولے تھے۔
امجد نے پوچھا۔” چچا جان آپ نے میران شاہ دیکھا ہوا ہے؟“
چچاجان نے اثبات میں سرہلادیا۔
”کچھ بتائیں ناں وہاں کے بارے۔“
”میران شاہ، بنوں سے 65سے 70کلو میٹر مغرب کی سمت واقع ہے ۔ شمالی وزیرستان کا حصہ ہے۔ آپس کے جھگڑے اور مختلف قسم کے مسائل میں علاقے کے سر کردہ افرادہ کا جرگہ ہی عدالت کا کام کرتا ہے۔ہمارے ہاںاسے علاقہ غیر کہتے ہیں۔ بنوں سے قریباً15سے 20کلو میٹر دور بکا خیل ہے اور وہاں سے علاقہ غیر کی حدود شروع ہو کر افغانستان کی سرحد تک چلی جاتی ہے۔ ان علاقوں میں داوڑ،محسود، وزیر وغیرہ قبائل آباد ہیں۔ علاقے کی زیادہ تر آبادی ناخوانداہ ہے بس اکا دکا پڑھے لکھے نظر آتے ہیں۔ ہر قسم کا نشہ اور اسلحہ کھلے عام دستیاب ہے۔ ہتھیاروں کے لیے لائسنس کی ضرورت نہیں سمجھتی جاتی۔ 12.7ایم ایم، راکٹ لانچر اور چھوٹی مارٹریں تک دستیاب ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر قبائل ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اتر آتے ہیں اور کئی کئی دن تک ان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ سب سے زیادہ AK47استعمال ہوتاہے جسے عرفِ عام میں کلاشن کوف کہتے ہیں۔ ایٹ ایم ایم، سیون ایم ایم، بارہ بور بندوق، تیس بور، بتیس بور پستول ، ریوالور، تھری ناٹ تھری وغیرہ بھی آسانی سے دستیاب ہو جاتے ہیں ۔ہینڈ گرینیڈ بھی مل جاتے ہیں۔“
چچا فاضل چونکہ خود آرمی سے حوالدار ریٹائر ہوئے تھے اس لیے اسلحے کے بارے ان کی معلومات کافی وسیع تھیں۔ وزیرستا ن بھی ان کا کئی مرتبہ جانا ہوا تھا، وہ تفصیل سے ضروری معلومات ہمارے گوش گزار کرتے رہے۔
”حکومت کے ساتھ ان علاقوں کا رابطہ پولٹیکل ایجنٹ کی وساطت سے ہوتاہے۔ حکومت ان کے کسی کام میں دخیل نہیں ہوتی۔ البتہ سڑک بنانے اور بجلی کے کھمبے لگانے کا کام حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اپنے میران شاہ کے ایک دوست کا پتا دوں گاجو تمھارے کام آسکتا ہے۔“
ہم کافی دیر اسی موضوع پر گفتگو کرتے رہے، یہاں تک کہ شام کے سائے گہرے ہونے لگے۔ایک نرس چچا جان کو دوائی دینے لگی۔ امجد نے میرے کان میں سرگوشی کی۔
” چلتا ہوں،اب آگئی ہو گی۔ کافی دن ہو گئے ہیں اسے دیکھے ہوئے۔“
” روکا کس نے ہے۔“ میں نے جھڑکا۔
اس نے چچا جان سے اجازت لی اور باہر نکل گیا جبکہ میں وہیں بیٹھا رہا۔ ابو جان کی حیات میں بھی ہم تمام بھائی چچاجان سے بہت مانوس تھے اب توان کے علاوہ میرا کوئی بچا ہی نہ تھا جس کی آغوش میں پناہ لیتا۔ایک بہن تھی وہ بھی ذہنی طور پر ٹھیک نہ تھی۔
” ہسپتال چھوڑنے کے فیصلے پر میں متفق نہیں ہوں۔“
وہ شفقت سے مسکرائے۔ ” رحمن خیل کی آ ب و ہوا میرے لیے تریاق کا کام کرے گی دیکھنا کتنی جلدپاﺅں پر کھڑا ہوتا ہوں۔ یہاں بالکل دل نہیں لگتااور نہ جلد ٹھیک ہوسکتا ہوں۔“
میں نے پوچھا۔”ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟“
وہ صاف گوئی سے بولے۔”انھیں فیس سے غرض ہے۔باقی مجھے کوئی ایسی بیماری نہیں کہ ڈاکٹروں کی نگرانی کی ضرورت پیش آئے۔“
میں نے پوچھا۔”کیا مصنوعی پاﺅں سے بندہ آسانی سے چل سکتا ہے؟“اور ان کی گھٹنے سے نیچے کٹی ہوئی ٹانگ دیکھنے لگا۔
”جب مصنوعی پاﺅں لگے گا تب تجربہ ہوگا۔“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”تو رحمن خیل لوٹنے کا پکا فیصلہ کر لیا ہے۔“اور انھوں نے اثبات میں سر ہلادیا۔
l l l
اگلے دن کراچی روانہ ہوئے، ہمارا ارادہ ایک دو دن گزار کر واپس لوٹنے کا تھا۔
اسلم بھائی، ممانی، جمیلہ اور امجد کے گھر والے ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے، جمیلہ کی حالت بہت بہتر تھی۔پہلے وہ ہر وقت گم صم رہتی، مگر اب کبھی کبھارہی دورہ پڑتا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی....
”میرا ویر!“ کہہ کر روتے ہوئے لپٹ گئی، میں بھی کوشش کے باوجود آنسو وں پر قابو نہیں پا سکا تھا۔
ممانی جان اور امجد کی امی بھی رونے لگی تھیں۔ سچ کہتے ہیں،جانے والوں کی یادیں پیچھا نہیں چھوڑتیںاور خوشی ، غمی کے موقع پر ان کی کمی کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔“
”عمر !امی چلی گئیں، ابو جان چلے گئے، لالہ حاکم بھی چلا گیا۔ سب چلے گئے۔ سب ہمیں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔ کبھی نہ آنے کو ہمیشہ ہمیشہ کو روٹھ گئے۔ ہائے میری پیاری امی ....“ اس نے بَین کرنے کے انداز میں امی ابو کوچندآوازیں دیں اور بے ہوش ہو کر میرے ہاتھوں میں جھول گئی۔ میں نے اسے بستر پر لٹا دیا۔ جانتا تھا ہوش میں آکر نارمل ہوجائے گی۔
ہم صحن میں بیٹھ گئے۔مکان گوچھوٹا تھا مگر گھر والوں کے دل وسیع تھے۔ امجد کے امی ابو بہت سادہ دل اور محبت کرنے والے تھے، امجد سے چھوٹی تین بہنیں تھیں سب سے چھوٹی کا نام فاطمہ تھا جس کی عمر دس سال اور وہ چوتھی کلاس تھی درمیانی زیتون جو بارہ سال کی تھی اور پانچویں میں پڑھتی تھی سب سے بڑی زینب تھی جو سترہ اٹھارہ سال کی تھی اور فسٹ ائیر کی طالبہ تھی۔ امجد کے والد کی کریانے کی دکان تھی، امجد کی تنخواہ اور دکان کی آمدن سے ان کی گزر بسر اچھے طریقے سے ہو رہی تھی۔
مختصراً حال احوال پوچھنے کے بعد امجد کے والدنے اسے بتایا۔
”بیٹے تمھارے پیچھے چٹھی آئی تھی کہ تُم چھٹی ختم ہونے کے بعد یونٹ میں حاضر نہیں ہوئے ہو۔“
وہ اطمینان سے بولا۔” میں نے نوکری چھوڑ دی ہے۔“
”مگر کیوں؟“ والد نے احتجاج کیا۔
اس نے جھوٹ اگلا۔” فوج کی تنخواہ اتنی کم تھی کہ گھر کا گزارہ بڑی مشکل سے چلتا تھااس لیے جانو کی زمینیں ٹھیکے پرلے لی ہیں۔“
”پہلے فوج سے استعفا تو دے دیتے۔ دو تین بار پولیس تمھاری تلاش میں گھر آئی ہے۔“
”فوج میں استعفا وغیرہ نہیں ہوتا، آپ کہتے ہیں تو درخواست بھجوا دوں گا۔“ (یہ بھی اس کی غلط بیانی تھی فوج میں جب تک بندہ خود حاضر نہ ہو اس کی درخواست کو نہ تو اہمیت دی جاتی ہے اور نہ اس پر عمل ہوتا ہے۔ بلکہ فوج میں اس کا کوئی تصور ہی نہیں ہے کہ بندہ گھر رہتے ہوئے نوکری نہ کرنے کی درخواست بھیجے)
جب وہ نوکری نہ کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا تو مجھے اس پر زور دینا نہیں جچتاتھا۔باقی میں نے حتمی فیصلہ کر لیا تھا کہ اپنی آدھی زمینیں اس کے نام کر دوں گا۔ اگر وہ میرے لیے اتنی قربانی دے سکتا تھا تو میں بھی اتنا کم ظرف نہیں تھا۔
”بیٹے جو بھی کرنا ہے جلداز جلد کر لو یہ نہ ہو پولیس والے تمھیں پکڑ کر لے جائیں۔“
امجد نے سعادت سے سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا۔
امجد کی امی بولیں۔”ختم بھی کریں ،آپ کی نصائع ختم نہیں ہوتیں۔“ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئیں۔ ”بیٹا کھانا کھانا ہے۔“
” کھا چکے ہیں،بس اچھی سی چائے پلا دیں۔“
”ابھی لائی پُتر!“ وہ کچن کی طرف بڑھ گئیں۔
رات کو ہم صحن میں لیٹ گئے ،کیوں کہ گھر میں تین ہی کمرے تھے ۔ایک میں امجد کے والدین،دوسرے میں جمیلہ باجی اور اسلم ،تیسرے میں امجد کی بہنیں،ہمارے لیے صحن ہی بچا تھا۔
” ماجے ،ایک مانو گے۔“
وہ اطمینان سے بولا۔ ”نہیں،لیکن سن لیتا ہوں۔“
” اگر اپنا ڈربا بیچ کر رحمن خیل آجاﺅتو کتنا مزہ آئے گا۔“
” ابو جان نہیں مانیں گے۔“اس کے لہجے میں مفاہمت کی بو تھی۔
”ہماری حویلی کافی وسیع ہے۔اور حویلی کے متصل تین کنال زمین فارغ بھی پڑی ہے،چاہو تو وہاں گھر بنا لینا۔زمینیں بھی کافی ہیں،اسلم بھائی کی اپنی اراضی بھی ہمارے جتنی ہو گی وہ اکیلے نہیں سنبھال پائیں گے،سرفراز چچا (امجد کے والد)کے ہوتے اسے سہار امل جائے گا۔“
”یہ سب ابو جان کو کون سمجھائے گا۔“
میں نے دھمکی دی۔”یہ تمھارامسئلہ ہے ،اگر چچا سرفراز تیار نہ ہوئے تو زمینوں کی دیکھ بھال کو خود تیار رہنا۔“
”کل دیکھیں گے فی الحال دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں۔“ اس نے کروٹ بدلی ،جو اعلان تھا کہ وہ میری مزیدبکواس سننے کے موڈ میں نہیں ہے۔
l l l
صبح ناشتے کے بعد ہم چچا سرفراز کی دکان پر چلے گئے۔
انھوں نے پرتپاک خیر مقدم کیا،چائے وغیرہ سے تواضع کی اور ہم گپ شپ کرنے لگے۔اس دوران وہ اکا دک اگاہک بھی نبٹاتے رہے۔
”چچا جان!کوئی اچھا سا کاروبار کیوں نہیں شروع کرتے۔“ میں نے غیر محسوس انداز میں مطلب کی طرف قدم بڑھائے کہ بات کی شروعات امجد نے میری ذمہ داری لگائی تھی۔
وہ معترض ہوئے۔” اس کے لیے سرمایہ اور طاقت چاہئے۔“
میں نے پیش کش کی۔”تو امجد کوساتھ ملا لیں۔ آپ کا تجربہ، امجد کی طاقت اور میرا سرمایہ۔“
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولے۔” امجد سے کون منوائے گا۔“
”ٹھیک ہے ،مگرکاروبار کسی اور شہر میں کریں گے۔“
”کراچی سے زیادہ موزوںکون سی جگہ ہوگی؟“
امجد نے منہ بنایا۔ ”مجھے شہر بالکل اچھا نہیں لگتا۔ چاہتا ہوں©؛گاﺅں کی کھلی فضا ہو، لہلہاتے کھیت ہوں، سر سبز نظارے ہوں، چہچہاتے پرندے ہوں۔ دھواں اگلتی فیکٹریاں، ٹریفک کا شور، تنگ گلیاں،سردیوں میں دھوپ گرمیوں میں تازہ ہوا کا فقدان یہ سب مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا۔“
سرفراز چچا نے حیرانی ظاہر کی۔”ہر شہر کی یہی حالت ہے۔“
” کسی دیہات میں بھی کام ہو سکتا ہے۔بلکہ اس ضمن میں جانوکا گاﺅں بہت موزوں ہے، لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورت کو شہر جانے پر مجبور ہیں۔ اگر انھیں گاﺅں ہی میں سب کچھ مل جائے تو شہر کون جانا چاہے گا۔“
سرفرازچچا کے ہونٹوں پر پھیکا تبسم نمودار ہوا۔ ” جوان اولاد من مانی کرنے سے نہیں ہٹتی ۔“
”ایسا نہیں ہے ابوجان!“امجد نے ندامت سے سر جھکا لیا تھا۔
”تم شاید ہمارے بغیر رہ لو،ہمارا گزارا نہیں ہو پائے گا۔“یہ کہتے ہوئے وہ گاہک کی جانب متوجہ ہو گئے۔
گاہک کے رخصت ہونے پر امجد نے کہا”میں نے صرف مشورہ دیا تھا ۔اگر پسند نہیں آیا منع کردیں بے عزتی کرنا ضروری تھا۔“
چچا سرفراز مسکرائے۔”یار! جو دل چاہے کرو، ہم تمھاری خوشی میں خوش ہیں۔“
”شکریہ ابو جان۔“ امجد خوش ہو گیا تھا۔
l l l
ہمارا ارادہ وہاں ایک دو دن رہنے کا تھا مگردکان و گھر بیچنے اور دوسرے انتظامات میں ہفتہ بھر لگ گیاتھا۔گھر کا سامان ٹرک میں بھجوا کر ہم خود بس میں روانہ ہوئے۔اگلے دن سہ پہر ڈھلے ہم ڈیرہ اسماعیل خان جا اترے ۔اوروہاںسے ٹیکسیوں میں رحمن خیل پہنچ گئے۔
اسلم بھائی کا گھرکافی کھلا اور کشادہ تھا۔ امجد کا خاندان آسانی سے سما گیا تھا۔
اگلے دن ہم چچا فاضل کوشہر سے لے آئے۔ چچا فاضل کے گھر داخل ہوتے ہی جمیلہ بے ساختہ ان کی چارپائی پر گر کر لپٹ گئی اور اس درد ناک انداز میں روئی کہ سب کو اشک بار کر دیا۔بڑی مشکل سے ممانی جان اور میںنے اسے سمجھا بجھا کر خاموش کر ایاتھا۔
l l l
چچا فاضل کو پوچھنے کو لوگوں کا تانتا بندھ گیا تھا، تبھی انھیں مستقل بیٹھک میں رکھناپڑا۔ہم دونوں نے بھی چارپائیاں وہیں لگا لی تھیں۔
”اب میران شاہ جانے کی تیاری کرو۔“ چچا جان کے سوتے ہی امجد مشورہ دینے لگا۔
”ایک دو دن میں نکلیں گے۔“
اس نے بے صبری ظاہر کی۔”کل ہی کیوں نہیں۔“
”چچا فاضل سے اجازت لینا ہے اور رہنمائی حاصل کرنہ ہے کہ ہتھیار لے جائیں یا وہاں سے خریدیں گے، چودھری اکبر لازماََکسی کی پناہ میں ہو گا اس بارے چچا سے مشورہ کرناہو گا،کتنی رقم کی ضرورت پڑے گی۔“
”جو مرضی ملک صاحب۔“
” ایسا ہے پھر بک بک نہ کرو،جب ضروری سمجھوں گا بتادوں گا۔“
”ایسی کی تیسی تمھارے حکم کی، پرسوں تم نہ جانا میں اکیلے بھی جا سکتا ہوں۔“
میں خاموش رہا۔
صبح اذان ہوتے ہی چچا فاضل نے آواز دے کر ہمیں جگا دیاتھا۔
ہم وضو کر کے نماز کو چل دیئے ۔ابو کی حیات میں جب میں چھٹی آتا تھا تو پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے پڑھنا پڑتی۔ اب بہت عرصے بعد مسجد جانے کا موقع ملا تھا۔چچا سرفراز ہم سے پہلے مسجد پہنچے ہوئے تھے۔ نماز پڑھ کر ہم انھیں ساتھ لیے کھیتوں کی جانب نکل پڑے ۔چچاسرفراز کو زمینیں دکھاتے دکھاتے ہم کہیں دوپہر کوواپس لوٹے تھے۔ بیٹھک میں گاﺅں کے تین چار بندے بیٹھے تھے۔ ان سے فرداً فرداً ہاتھ ملا کر ہم نے بھی نشست سنبھال لی۔
”تمھارا خط ہے پتر!“ چچا فاضل نے ہلکے زرورنگ کا لفافہ تکیے کے نیچے سے نکال کر میرے جانب بڑھادیا۔
”کب ملا؟“ میں نے خوشگوار حیرانی سے لفافہ تھام لیا تھا۔
فاضل چچا نے بتایا۔”چند منٹ پہلے ہی ڈاکیہ دے گیا ہے۔“ وہ مہمانوں کی طرف متوجہ ہو گئے۔ میں نے لفافے کو الٹ پلٹ کر کے دیکھنے لگا۔ پیچھے شیتل کا نام اور واپسی پتا انگلش میں لکھا ہوا تھا۔
امجد ہنسا۔”یہ انڈیا والی بھابی ہے نا؟“
”ہاں، مگرپنا تھو بڑا ،اُدھر کرو تاکہ میں پڑھ سکوں۔کیوں کہ کسی دوسرے کا خط پڑھنا نہایت غیر اخلاقی فعل ہے۔“
” تم نے خط کی تفصیلات سنا سنا کر میرے کانوں کا بیڑا غرق کر دینا ہے تو کیوں نا ابھی سے خود ہی پڑھ لوں۔“
اسے برہمی سے گھور کر میں نے لفافہ کھول دیا۔ شیتل نے رسمی گفتگو کے بعد اپنے والد کی موت کی اطلاع دی تھی۔ اس کے بعد گلے شکوﺅں کا طومار بندھا تھا۔ مجھے انڈیا آنے کی دعوت بھی دی تھی۔ کہ اب وہ بھی میری طرح تنہا رہ گئی تھی اور اکیلے دوکارخانے سنبھالنا اس کے بس سے باہر تھا۔ آخر میں اس نے مجھے وعدے وعید یاد دلا ئے تھے ۔“
” چلے جاﺅبے چاری تمھیں کتنا یاد کر رہی ہے، دو فیکٹریوں کی مالک اکیلی سیٹھ زادی۔“
میں نے خیال ظاہر کیا۔”شاید چودھری کے انجام کے بعدہمت کرلوں۔“
مہمانوں کے رخصت ہونے پر ہم نے چچا فاضل کو گھیر لیا تھا۔اور ساری صورت حال سامنے رکھ کر مشورہ مانگا۔امجد نے لقمہ دیا۔
”چچا جان ہمارے میران شاہ جانے کے بارے ابوجان کو پتا نہ چلے۔“
چچا جان حیرانی سے بولے۔”انھیں کیوں پتانہ چلے۔“
میں دھیرے سے بولا۔” امجد ان کی لاعلمی میں جارہا ہے ،کہیں وہ برا نہ مانیں۔“
چچا جان نے مشورہ دیا۔” تم اکیلے چلے جاﺅ۔“
امجد عزم سے بولا۔”رکوں گا تو نہیں ،ان کی لاعلمی میں جانے کا یہ فائدہ تھا کہ وہ خفا نہ ہوتے۔“
چچا جان نے سمجھایا۔ ”والدین سے پوچھے بغیر ایسا کرنا مناسب نہیں ہے پتر۔“
” میں نے چودھری اکبر سے بدلہ لینے کو فوج کی نوکری چھوڑ دی ہے، آپ مجھے ابو جان کی ناراضی کے بہانے منع نہ کریں۔“
” میں نہ بھی بتاﺅں، پتاتو انھیں چل جائے گا۔“
امجد نے نفی میں سرہلایا۔”ناممکن۔“
”ٹھیک ہے ،اس بارے میری زبان بھی بند رہے گی۔“
”شکریہ چچا۔“ ہم دونوں بیک زبان بولے۔
میں نے کہا۔”یہ بتائیں ہتھیار اپنے ساتھ لے جائیں یا ادھر سے خریدیں۔“
”یہ توایساہی ہوگا کہ بندہ دریا میں نہانے جائے اور پانی کی بالٹی گھر سے بھر کر لے جائے۔ اﷲ کے بندے وہاں دنیا جہان کا اسلحہ دستیاب ہے بس جیب میں پیسے ہونے چاہئیں۔“
”کتنی رقم کافی رہے گی؟“
”25,20ہزار روپے لے جاﺅ،اگر ضرورت پڑی تو میران شاہ میں وزیرستان ہوٹل کے مالک شاہ گل سے لے لینا وہ میرا دوست ہے ۔“
”چودھری اکبر میران شاہ کے ملک حاجی بہادر خان کے پاس پناہ گزیں ہے۔کیا وہ چودھری کو بچانے کو اس کا ساتھ دے گا۔“
چچا نے منہ بنایا۔”کوئی تمھارے مہمان کو قتل کرنے کی کوشش کرے تو کیاتُم چپکے بیٹھے رہو گے۔“
”مطلب، حاجی بہادر خان کی لاعلمی میں چودھری کے خلاف قدم اٹھانا ہو گا۔“
وہ اطمینان سے بولے۔”بے شک۔“
امجد نے پوچھا۔”کوئی ضروری ہدایت؟“
” وہاں ہر دوسرا بندہ چرس کا رسیا ہے ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہتھیار سونت لیناان لوگوں کی ثقافت ہے ،اپنی عورتوں کے بارے بہت حساس ہوتے ہیں محتاط رہنا،بس اپنے کام سے کام رکھنا۔“
”اگرکوئی پشتو نہ جانتا ہو ۔“
” وہاںکافی پنجابی و سرائیکی لوگ ملیں گے۔پاکستان بھرکے جتنے اشتہاری مجرم ہیں وہ وہیں ملیں گے۔“
اسی وقت نذر گل دروازہ کھٹکھٹا کر اندر آیا۔”السلام علیکم۔“
”وعلیکم السلام۔“ ہم استقبال کوکھڑے ہو ئے۔ تمام سے مصافحہ کر کے وہ چچا فاضل کی پائنتی کی طرف بیٹھ گیا۔
”چچا ،طبیعت کیسی ہے؟“
” اﷲ کا شکر ، بہت بہتر ہے بیٹا!.... تم سناﺅ ماں باپ کیسے ہیں اور نوکری کیسی جارہی ہے؟“
”ماں باپ تو بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں۔ البتہ نوکری کا مزا نہیں رہا۔“
”کیوں؟“ چچا نے حیرانی سے پوچھا۔
” دو ہفتے سے تھانیدار لاپتہ ہے، سرتوڑ کوشش کے باوجود اس کی تلاش میں ناکامی ہوئی۔نہ تو اس کے ورثاءسے کسی نے تاوان کے حصول کو رابطہ کیا ہے اور نہ پولیس سے مطالبہ منوانے کو بات چیت کی ۔ہم تو دن رات خوار ہو رہے ہیں ۔بہ مشکل گھنٹے ڈیڑھ کی چھٹی لے کے آپ کو ملنے آیا ہوں۔“
چچا فاضل نے مصنوعی حیرت ظاہر کی۔ ”تھانے دار سے کسی کی کیا دشمنی ہوسکتی ہے۔“
نذر ہماری جانب معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔”انسپکٹر صاحب نے شبیر شاہ کنڈی کے قاتلوں کو گرفتار کیا تھا،اس کے بعد ہی لاپتہ ہوا۔“
امجد نے پوچھا۔” کس بحث میں الجھے ہوئے ہو۔“ ہم پشتو میں بات کر رہے تھے اوروہ پشتو نہیں جانتا تھا۔
میں نے موضوع بحث بتا دیا۔
امجد نے منہ بنایا۔” فضول تکرار میں پڑے ہو،ہماری بلا سے وہ اغوا ہوا ہے یا خود کہیں گیا ہے۔“
نذر گل زیر لب مسکراتا ہوا اٹھا....” میںاجازت چاہوں گا۔“
” چچا بولے ۔” چائے آنے والی ہے ۔“
اس نے انکار میں سرہلایا۔” پھر کبھی سہی ۔“
میں اسے بیٹھک کے دروازے تک چھوڑنے ساتھ ہولیا۔رخصت کرتے وقت اسے یادہانی کرا دی تھی کہ شبیر شاہ کنڈی کے قاتلوں کو پکڑوانے میں ہمارا ہاتھ کسی کو معلوم نہیں ہونا چاہیے۔
اس نے مجھے بے فکر ہونے کا کہہ کر الوداعی مصافحہ کیا۔میں دروازہ بند کرنے لگا تھا کہ کار کا ہارن سنائی دیا۔
وہ رضیہ تھی، کار سے نکل کر بے صبری سے میری طرف بڑھی میں بھی دروازے سے باہر نکل آیا۔
”اتنا عرصے کہاں غائب تھے۔“ وہ بے تابی سے مستفسر ہوئی، اس کی بے تکلفی پر مجھے حیرانی ہوئی تھی ۔
”چچا کے پاس شہر گیا تھا۔“
” بتا کر تو جاتے،پتا نہیں کتنے چکر لگا چکی ہوں اس گلی کے۔“
”کیوں؟“
اس نے افسردگی ظاہر کی۔” اب تک خفا ہیں۔“
میں رکھائی سے بولا۔ ”خفگی کیسی۔“
اس نے پینترا بدلا۔”چائے کا بھی پوچھیں گے یادروازے سے چلتا کرنے کا ارادہ ہے۔“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”آئیں۔“اور بیٹھک کے بجائے اسے گھر لے گیا۔عورتوں کے ساتھ بٹھا کر میں خودچپکے سے کھسک لیا۔
چچا فاضل اور امجد میران شاہ کے موضوع پر مصروف ِ گفتگو تھے۔
میں مخل ہوا۔” وہ مصیبت پھر پہنچ گئی ہے۔“
امجد نے پوچھا۔”کون ؟“ چچا بھی سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔
”رضیہ میر نیاز خان۔“
”کدھر ہے؟“
” عورتوں کے پاس بٹھا آیا ہوں۔“
سرہلاتے ہوئے وہ چچا فاضل کی طرف متوجہ ہوا۔ ”چچا آپ بات جاری رکھیں۔“
” میران شاہ سے آگے بویا ہے اس کے بعد ایک بڑا گاﺅں ہے دیگان اسے عبور کرتے ہی خڑ کمر آتا ہے۔ خڑ کمر سے ایک سڑک بہرہ مند غرلامئی اور وچہ بی بی کی طرف چلی جاتی جبکہ دوسری منظر خیل، دتہ خیل، بابا زیارت اور ماما زیارت کی طرف مڑ جاتی ہے۔“ چچا فاضل تفصیل سے مختلف آبادیوں کے بارے بتانے لگے۔ ہم توجہ سے سنتے رہے۔
اچانک رضیہ بیٹھک میں داخل ہوئی۔” یہ خوب رہی، مجھے عورتوں میں بٹھا کر خود ادھر بھاگ آئے.... السلام علیکم چچا جان !کیسے ہیں آپ۔“ گلہ کرتے ہوئے اس نے ،چچا فاضل کے قریب جا کراپنا سر جھکا دیا۔
چچا نے ”جیتی رہو بیٹی!“کہہ کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
وہ بے تکلفی سے میرے نزدیک چارپائی پر آبیٹھی۔
میں نے کہا۔”ہمارے ہاں عورت، عورتوں کے ساتھ ہی بٹھائی جاتی ہے۔“
” اپنی بدتہذیبی کو رواجوں میں نہ چھپاﺅ۔“اس نے مجھے جھڑکا۔
” عمر ٹھیک کہہ رہا ہے بیٹی!“ چچا جان نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
وہ پٹری بدلتے ہوئے معصومیت سے بولی۔” چچا میں تو آپ کی صحت کا پوچھنے آئی تھی۔“
”جم جم آﺅ بیٹی!.... مگر آنا تو آپ کے والد صاحب یا بھائی کو چاہیے تھا۔ کل کسی عورت کی بیماری پُرسی کو آپ کے والد صاحب خود تشریف لے آئیں تو کیا یہ مناسب ہو گا۔ کم از کم مریض کے گھر والے متفق نہیں ہوں گے۔“
چرب زبان فوراََ بولی۔”کیا بھتیجی اپنے چچا کے پاس نہیں آسکتی ۔“
امجد نے لقمہ دیا۔” بھائی کو بھی زحمت کر لینا چاہئے۔“
اس نے آنکھیں نکالیں۔”آپ خاموش رہیں، یہ میرا اور چچا جان کا معاملہ ہے۔“
امجد نے پوچھا۔”آپ کے دم چھلے نظر نہیں آرہے۔“
” ان سے چوری نکل کر آئی ہوں۔“
امجد نے چوٹ کی۔”چوری کرنا اچھی عادت نہیں ہے۔“
وہ اسے گھورتے ہوئے کھڑی ہوئی۔”چچا جان میں اب چلوں گی۔“
”جیتی رہو بیٹی۔“ چچا نے اسے دعا دی۔
مجھے گھورتے ہوئے وہ ملتجی ہوئی۔”چھوڑنے نہیں آﺅ گے۔“
میں نے سوالیہ نظروں سے چچا فاضل کی طرف دیکھا۔
انھوں نے اثبات میں سرہلایا۔”اس کا اکیلا گھومنا ٹھیک نہیں ہے۔“
میں اٹھ کر امجد کو بولا۔ ”چلو ماجے۔“
وہ رکھائی سے بولا۔ ”آپ جائیں میں نے چچا جان سے ضروری باتیں کرناہیں۔“
امجد کا انکار سن کر رضیہ کھل اٹھی تھی۔ میں خون کے گھونٹ بھرتاطوہن و کرہن چل پڑا۔
کار میں بیٹھ کر ہم آگے بڑھ گئے ۔ گلی میں کار پیچھے نہیں مڑ سکتی تھی وہ سیدھا چلتی گئی اور دوسری گلی سے مڑ کرہم گاﺅں سے باہر جانے والے رستے پر چڑھ گئے۔
اس نے خاموشی توڑی۔”اب تک خفا ہو۔“
میں نے جان چھڑائی۔” خفگی کیسی ،بس مزاج ہی ایسا ہے۔“
وہ شاکی ہوئی۔ ”امجد سے تو کھل کر گپیں ہانکتے ہو۔“
میں بغیر لگی لپٹی رکھتے ہوئے بولا۔”امجد اورآپ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔“
وہ شوخی سے بولی۔”ہاں ، وہ مرد ہے اور میں لڑکی ، فرق تو ہو گا نا۔“
تکرارکرنا مجھے فضول لگا، خواہ مخواہ بے تکلف ہو رہی تھی ۔میں نے چپ سادھ لی۔
وہ بے تکلفی سے بولی۔ ”ویسے آپ ہیں بڑے ظالم ، کٹھور اور تھوڑے سے بے وقوف بھی۔“
مجھے غصہ آ گیا۔ ” بات کرنے کا سلیقہ سیکھو، غیر مردکو ان الفاظ سے مخاطب کرنابے ہودگی ہے۔“
وہ بے باکی سے بولی۔”پہلی بار دیکھتے ہی ، میں نے آپ کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا تھاتو اجنبیت کیسی؟“
میں تلخ ہوا۔”شاید میں آپ کامزارع نہیں۔“
”ہا ....ہا ....ہا۔“اس کا قہقہ بلند ہوا۔ عجیب ڈھیٹ لڑکی تھی نہ بے اعتنائی کو توجہ دے رہی تھی اور نہ غصے کو خاطر میں لا رہی تھی۔
”جانتی ہوں آپ کیوں شعلہ پا ہو رہے ہو۔ وجہ دیکھ کے آئی ہوں۔“
”کیا مطلب؟“ میں حیران ہوا۔
وہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”اتنے بھولے نہ بنیں۔جوانوں کو دل لگی اور وقت گزاری کو الٹی سیدھی حرکتیں کرناجائز سمجھتی ہوں ،لیکن شریک حیات کے چناﺅ عقل و سمجھ کو سامنے رکھنا چاہیے۔“
میں نے بیزاری ظاہر کی۔”بجھارتیں نہ بجھواﺅ۔“
”آپ زینب کے لیے مجھے نظر انداز کررہے ناں۔ وہ تازہ کھلا ہوا پھول سہی،لیکن ایسے پھول کی خوشبو چند دن سونگھنے کے لیے ہوتی ہے ،باسی پھول گل دان میں سجانا مناسب نہیں ہوتا۔“
میرا دماغ بھک سے اُڑ گیاتھا، وہ بے مہار طبقے سے تعلق رکھنے والی گھٹیالڑکی تھی۔”آخ تھو....“ میں نے سچ مچ اس پر تھوک دیا تھا۔”جانتا تھا تم گھٹیا و بے حیا ہولیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ میری بہن کے متعلق بکواس کر کے مجھے اپنی نظروں سے گرا دو گی۔“
”تت.... تم .... تمھاری یہ جرا¿ت۔“بریک دباکر اس نے شعلہ برساتی نگاہوں سے مجھے گھورا۔
”تمھاری خوش قسمتی کہ عورت ہوورنہ جرات بھی دکھا دیتا۔“میں نیچے اتر گیا۔
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے مجھے گھورتی رہی۔
جاری ہے
 

قسط نمبر23
ریاض عاقب کوہلر
”تم جیسی طوائف سے شادی کرنے سے بہتر ہے بندہ کنوارہ مر جائے۔“ جواب سنے بغیر میں لمبے ڈگ رکھتا دور ہونے لگا۔
مجھے خودپر افسوس ہو رہا تھا کہ ایسی ذہنیت والی عورت کو میں کیوں گھر لے گیا تھا۔ اب اس گھٹیا عورت سے محتاط رہنے کی ضرورت تھی۔ جہاں تک میرا اندازہ تھامیر نیاز خان گرم جگہ پر پاﺅں نہیں رکھتا تھا اور امید تھی کہ وہ رضیہ کو بھی غلط قدم اٹھانے کی اجازت نہیں دے گا۔
گھر جا کر میں شیتل کو خط لکھنے لگا۔ ٹیلی فون پر اس لیے بات نہ کی کہ اس کے بہت سے سوالات کا سامنا کرنے کی ہمت مفقود پاتا تھا۔ والد کی موت کی تعزیت کے بعد میں نے اس کا شکر یہ ادا کیا تھا کہ اس نے مجھے یاد رکھا تھا۔ اپنی مجبوریوں کا رونا رو کر میں نے اتنے عرصے تک رابطہ نہ کر نے کا جواز پیش کیا، آخر میں پیش آمدحالات کی تصویر کھینچ کر انڈیا جانے سے معذرت کا اظہار کیا اور اسے ایک بار پھر وہی مشورہ دیا تھا کہ اپنے کسی ہم مذہب کو اپنالے۔
l l l
اگلے روز طلوع آفتاب کے بعد ہم تمام گھر والوں سے مل کرڈی آئی خان روانہ ہوئے۔ صرف اسلم بھائی اور چچا فاضل کومعلوم تھا کہ ہماراکیا ارادہ تھا۔ بینک سے تیس ہزار نکلوا کر آدھی رقم امجد کے حوالے کرکے باقی میں پاس رکھ لی تھی ۔
امجد نے پوچھا۔”براہ راست میران شاہ کی گاڑی مل جائے گی۔“
میں نے اثبات میں سرہلادیا۔تھوڑی دیر بعد ہم فلائنگ کوچ میں بیٹھے میران شاہ کی جانب رواں دواں تھے ۔
اڑھائی تین گھنٹوں کے مسلسل سفر کے بعد ہم بنوں پہنچ گئے تھے۔ بنوں اڈ ے میں ڈرائیور پندرہ بیس منٹ رکا، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے ایک ایک کپ چائے کا اپنے معدے میں انڈیل لیا تھا۔
”بنوں کی کون سی چیزمشہور ہے؟“ بیرے کو چائے کے پیسے دیتے ہوئے امجد مستفسر ہوا۔
”نسوار اور سرخ مرچ مصالحہ۔“
”نسوار؟“ امجد نے حیرانی ظاہر کی۔
”جی نسوار، شک ہے تو کھا کر دیکھ لو۔“
” آپ خود ہی شوق فرمائیں۔“
”الحمد ﷲ مجھے تو یہ لت نہیں پڑی۔ البتہ جو ایک دفعہ عادی ہو جائے وہ عمر بھر اس سے جان نہیں چھڑا پاتا۔“
ڈرائیور نے ہارن بجایا اورمسافر کوچ میں بیٹھ گئے۔ بنوں سے آگے کے علاقے کے بارے میں میری واقفیت چچا فاضل سے سنی ہوئی معلومات تک محدود تھی۔
یقینایہاں حجام کے گھر میں تو فاقے ہی رہتے ہوں گے۔“ کوچ کے آگے بڑھتے ہی امجد نے میرے کان میں سرگوشی کی۔
میرے ہونٹوں پر ہنسی دوڑ گئی تھی۔ اس نے مسافروں کے عورتوں کی مانند لمبے بالوں کو دیکھ کرایسا کہا تھا۔اس بارے میں چچا فاضل ہمیں تفصیل سے بتا چکا تھا مگر سنے ہوئے اور خود دیکھنے میں بہت فرق ہے، بلکہ عموماً مشاہدہ ،سماعت سے مختلف ہوتا ہے۔
میران شاہ تک پختہ سڑک تھی،چاروں طرف صرف پہاڑ ہی پہاڑ دکھائی دے رہے تھے ،جن میں خشک اور سر سبز ہر دو قسم کے پہاڑ شامل تھے۔
دو گھنٹوں کے بعد ہم میران شاہ پہنچ گئے تھے۔ گاڑی سے اترتے ہی سب سے پہلےمیں نے ایک آدمی سے وزیرستان ہوٹل کے بارے پوچھا۔اس نے انگلی کے اشارے سے ہوٹل کی شناخت کرادی۔میران شاہ کا بازار چھوٹا ساتھا۔ہم ہوٹل کوبڑھ گئے۔
امجد نے تبصرہ کیا۔” عجیب قسم کی پشتو بولتے ہیں،تمھیں سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔“
میں مسکرایا۔”تھوڑی الجھن ہوئی ہے ،امید ہے چند دنوں سمجھ بہتر ہو جائے گی۔“
” غلطی ہو گئی، کلاشن کوف لاناچاہئے تھی۔“ امجد نے ہتھیار بندافراد کو دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا۔ ”یہاں تو بچوں تک نے ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں۔“
” چچا فاضل نے بتاےا تو تھا ، روٹی کے بغیر رہنا تو یہ برداشت کرلیں گے ،ہتھیار کے بغیر نہیں۔“
”گرمی دیکھو اور ان کی پگڑیاں دیکھو۔“
” انھیں تمھارے ننگے سر پر اعتراض نہیں ہے ،ان کی پگڑیوں پرکیوں ناک بھوں چڑھا رہے ہو۔“
وہ باز نہ آیا۔” کچھ نوجوانوں نے فقط ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔ سبھیکو یہی کرنا چاہیے۔اتنی لمبی لمبی زلفیں اوپر سے پگڑی اور پھر گرمی دیکھو۔“
مطلوبہ ہوٹل تک پہنچ گئے تھے۔میں خاموش رہا۔ ہوٹل عجیب طرز تعمیر کا نمونہ تھا۔میزوں، کرسیوںاور چارپائیوں کے بجائے مٹی گارے کے بڑے تھڑے بنائے گئے تھے۔ جن پر چٹائیاں اور ان کے اوپر سبز رنگ کی پلاسٹک بچھائی گئی تھی۔ گاہک جوتے اتار کر بڑی بے تکلفی سے براجمان تھے۔ استقبالیہ پر ایک جہازی حجم کی چارپائی رکھی تھی جس پر سرخ گھنی داڑھی والا بوڑھاتکیے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ دیکھتے ہی میں نے پہچان لیا کہ وہ شاہ گل عرف شاہ جی تھا۔ کیوں کہ اس کا حلیہ چچا فاضل نے ہمیں تفصیل سے بتلایا تھا۔
ہم قریب پہنچے۔”السلام علیکم۔“
”وعلیکم السلام۔“ ایک گاہک کو بقایا واپس کرتے ہوئے اس نے خوش دلی سے سلام کا جواب دیا۔
” شاہ گل خان سے ملنا تھا۔“
وہ مسکرایا۔”تو ملیں ۔“اورمصافحے کوہاتھ بڑھا دیا۔
میں اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔”ہم ڈیرہ اسماعیل خان سے آئے ہیں، فاضل جان نے آپ کے پاس بھیجا ہے۔“
جلدی سے کھڑے ہوکر اس نے معانقے کو بازو پھیلا دیئے۔ ”وہ تو میرا جگر ہے ۔“
مجھے خوب بھینچ کراس نے امجد کے ساتھ بھی یہی سلوک دہرادیا۔
اس نے چارپائی کے جانب اشارہ کیا۔ ”بیٹھیںاور سنائیں فاضل کیسا ہے اور آپ کا کیا لگتا ہے؟“
میں نے کہا۔”سگا چچا ہے میرا۔“
” آپ ہاشم جان کے بیٹے ہیں۔“ اس نے ابوجان مرحوم کا نام لیا۔
”جی۔“ میں نے اثبات میں سرہلادیا۔
”اور یہ۔“ اس نے امجد کی طرف اشارہ کیا۔
”میرا دوست ہے۔“
ا س نے بیرے کو پکارا۔ ” لڑکے ،مہمانوں کے لیے لسی لے آﺅ ۔“
”آیا شاہ جی۔“ اس نے ہانک لگائی۔
وہ ہمارے مختصر بیگوں کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔”یہی سامان ہے آپ کے پاس،یاباقی سامان اڈے میں چھوڑ آئے ہو۔“
”بس یہی سامان ہے۔“
”فاضل جان نے کافی عرصے سے چکر نہیں لگایا۔“
میں دھیرے سے بولا۔”مصروفیت کچھ بڑھ گئی تھی شاہ جی۔“
وہ امجد کی طرف متوجہ ہوا”آپ بھی رحمن خیل سے تعلق رکھتے ہیں۔“
امجد نے مسکراہٹ اچھال کر چپ سادھ لی۔
میں نے کہا۔”یہ پشتو نہیں جانتا۔“
لڑکا لسی کا جگ لے آیاتھا۔ سٹیل کے گلاسوں میں اس نے ہمیں ٹھنڈی میٹھی لسی پیش کی۔ دو دو گلاس لسی پی کر ہماری پیاس دور ہو گئی تھی۔
” گھر چلتے ہیں، آپ لوگ نہا کر تازہ دم ہو جائیں پھر کھانا کھائیں گے۔“اس نے چارپائی چھوڑ کر ہمارے سفری بیگ اٹھا لےے۔
”چچا جان،ہم خود اٹھالیں گے۔“ ہم نے بیگ لینے کی کوشش کی۔
اس نے جھڑک دیا ۔”آرام سے چلو، یہ نہ ہو تم دونوں کو بھی کندھوں پر اٹھالوں۔“
اس نے پشتو میں کہاتھاتبھی امجدسمجھ نہ سکااوراس کے ہاتھ سے بیگ لینے پر مصر تھا۔
وہ ٹوٹی پھوٹی اردو میں بولا۔”ہلکا (اے لڑکے) ہم کہتا ہوں۔ تم کو بھی اٹھالے گا۔“
” بیگ دیں ،میں خود ہی آپ کے کندھوں پر بیٹھ جاﺅں گا۔“ امجد نے مسکراکر کہا۔ مگر شاہ جی انکار میں سر ہلا کر آگے بڑھ گیا ۔
بازار سے نکل کر ہم گلیوں میں داخل ہوگئے۔ زیادہ تر مکانات کچے تھے ۔ اکا دکا پختہ اینٹوں سے بنے ہوئے بھی نظر آئے۔ شاہ جی ایک بڑے پختہ مکان کے سامنے پہنچا اور اس سے ملحق بیٹھک کا دروازہ کھول کر ہمیں اندر بلالیا۔ بیٹھک خود ایک چھوٹا سا مکان لگ رہی تھی۔ اس میں چھوٹا ساصحن اور غسل خانہ وغیرہ بنا ہوا تھا۔
”آپ لوگ نہا لیں میں گھر سے ہو آﺅں۔“ شاہ گل ذیلی دروازے سے اندر گھس گیا۔ میں جانتا تھا وہ کھانے کا بندوبست کرنے گیا ہے۔ سہ پہر ہو گئی تھی ۔ نہ دن کے کھانے کا تھا نہ رات کے، مگرمہمان نواز لوگ پوچھ تاچھ کو بد تہذیبی سمجھتے ہیں۔
ہم دن کاکھانا نہیں کھا سکے تھے اور اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی اس لیے میں نے بھی منع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
غسل خانے میں پانی کا بھرا ڈرم اور بالٹی رکھی تھی۔ جب تک ہم نہا کر تازہ دم ہوتے شاہ گل خان پُرتکلف کھانے کے ساتھ حاضر ہو گیاتھا۔ کھانا کھا کر ہم آرام کو لیٹ گئے۔ ارادہ تھا کہ رات کو شاہ گل خان سے تفصیلی بات کروں گا۔
l l l
بعد از نمازِ عشاءمیں نے شاہ گل کو اکبر خان سے دشمنی کی وجوہات اور نتائج تفصیل سے بتائے۔
اس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔”اللہ پاک آپ کو صبر دے، میں فاضل جان کو ملنے جاﺅں گا۔اب بتائیں میرے لائق کیا حکم ہے۔“
”ہم چودھری اکبر کے تعاقب میں یہاں پہنچے ہیں۔ اس کے بارے پتا چلا ہے وہ میران شاہ کے ملک حاجی بہادر خان کی پناہ میں ہے۔ آپ اس کاپتا ہمیں بتا دیں، باقی ہمارا کام ہے۔“
”میں حاجی بہادر خان نام کے دو ملکوں کو جانتا ہوں۔ ایک یہیں کا رہائشی ہے اور اس کے ساتھ میری کافی گپ شپ بھی ہے دوسرا دگن کا ملک ہے۔ دگن میران شاہ سے چند کلو میٹردور ہے اور وہ کافی اثر رسوخ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی ملک حاجی بہادر میرے علم میں نہیںہے۔باقی صبح میں ان شاءاللہ چودھری اکبر کے متعلق آپ کی مطلوبہ معلومات حاصل کرلوں گا۔ اگر وہ اس علاقے میں آیاہے تو ان شاءاﷲ اسے ڈھونڈنکالوں گا۔ “
” ہتھیار بھی ضرورت ہیں ۔“
”بندوبست ہو جائے گا۔اور کچھ؟“
” ہمارا ذکر کسی سے نہ کرنا،یہ نہ ہو چودھری کو بھنک ملے اور وہ پھر غائب ہو جائے۔“
شاہ جی نے اعتماد سے کہا۔”ایک بار مل گیا پھر تو ان شاءاﷲ غائب نہیں ہو سکے گا۔“
”ان شاءاﷲ۔“
”خوچے تم تنگ تو نہیں ہوتا امارا باتوں سے۔“ شاہ گل، امجد کی طرف متوجہ ہوا۔
”خان چچا ،تھوڑی بہت پشتوسمجھ لیتا ہوں۔“
میں نے کہا۔ ” بالفرض چودھری ،دگن کے ملک حاجی بہادرکے پاس مل جاتا ہے تو کیا وہ اسے بچانے کی کوشش نہیں کرے گا۔“
وہ ہنسا۔” اگر چودھری نے میری پناہ بھی لی ہوتی تو اسے بچانے کی پوری کوشش کرتا۔مہمان کی حفاظت کرنا ہماری روایات کا خاصہ ہے۔“
میں فکر مند ہوا۔” گویا ملک حاجی بہادر کی دشمنی مول لینا پڑے گی۔“
”چودھری ہمیشہ تو اس کا مہمان نہیں رہے گا، ہو سکتا ہے اب تک کوچ کر گیا ہو، ساری زندگی کون پرائے در سے چمٹا رہ سکتا ہے،خاص کر چودھری جیسا وڈیرا تو ایسا نہیں کر سکتا۔“
”ہو سکتا ہے وہ کسی ایسے علاقے کی جانب بڑھ گیاہوکہ حاجی بہادر بھی لاعلم ہو۔“
شاہ جی نے انکار میں سر ہلایا۔ ”وہ اسے لاعلم نہیں رکھے گا۔“
میں دعا گو ہوا۔”اﷲ کرے ایسے ہی ہو۔“
” ان شا ءاﷲ۔اوراب آپ آرام کریں۔ صبح میں شاہ زمان( شاہ زمان اس کے بڑے بیٹے کا نام تھا) کو دگن بھیجوں گا ہوشیار لڑکا ہے ،امیدہے چودھری کو ڈھونڈ نکالے گا۔“
اس کے جانے کے بعد امجد کا فی دیر سر کھاتا رہا اور جب تک شاہ جی سے ہونے والی ساری گفتگو حرف بہ حرف نہ سن لی میری جان نہ چھوڑی۔
امجد آرام سے سو گیا تھا۔ نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔میں ماضی ، حال اور مستقبل کے گورکھ دھندے میں پھنس کر رہ گیا تھا۔ جسم حال میں تھا تو دل ماضی میں اور دماغ مستقبل کے گھور اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا۔ پیارے ماضی بن گئے تھے، ان سے ملنے کی امید تھی نہ امکان ۔مگر بھلائے نہیں بھولتے تھے۔ اب زندگی کی سب سے بڑی خواہش ،مقصد اور خوشی چودھری اکبر کو عبرت ناک انجام سے دو چار کرنا تھا۔ شاید اس کے بعد میں خود بھی زندہ نہ رہ پاتا۔ جمیلہ باجی اور چچا فاضل کے علاوہ کوئی اپنا نہیں بچا تھا۔ امجد نے بہت ساتھ دیا تھااور حقیقی معنوںمیں سگا بھائی ثابت ہوا تھا۔ مگروہ حاکم جان، محمد جان اور احمد جان کی جگہ نہیں لے سکتا تھا۔ سعدیہ کا نعم البدل ملنا مشکل تھا۔ شیتل شاید اس خلا کو پُر کرلیتی مگر میری مسلسل بے اعتنائی شاید اسے بھی کوئی دوسرا ساتھی ڈھونڈنے پر مجبور کر دسکتی تھی ۔ممکن تھااس نے ڈھونڈ بھی لیا ہو۔دماغ میں شیتل سے سنی نظم گونجی....
تمھیں بھی تو خبر ہو گی کہ
دریا پاس بہتے ہوں تو پانی اچھا لگتا ہے
کناروں سے جڑی مٹی سے پوچھو روگ چاہت کے
کہ اس پانی کی چاہت میں
کناروں سے اکھڑکر
اجنبی دیسوں میں جانا کتنا مشکل ہے
کنارہ پھر نہیں ملتا
تمھیں بس اتنا کہنا ہے
یہاں جو بھی بچھڑ جائے
دوبار ہ پھر نہیں ملتا....
”ٹھیک کہتی تھی، بچھڑنے والے دوبارہ نہیں ملتے۔“ دماغ میں تلخ سوچ گونجی۔ نمکین قطرے کانوں کو بھگوتے ہوئے تکئے میں جذب ہونے لگے ....
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
l l l
ہم دن چڑھے جاگے روز مرہ کے معمولات سے فارغ ہوکرشاہ جی ہمیں ایک اسلحہ ڈیلر کے پاس لے گیا۔ اپنے بیٹے شاہ زمان کو وہ صبح سویرے دگن روانہ کر چکا تھا۔
اسلحہ ڈیلر شاہ جی کا گہرا دوست تھا اس کے کہنے پر وہ ہمیں دکان کی بجائے گھر سے ملحق سٹور میں لے آیا جہاں اعلا قسم کا دیسی و بدیسی اسلحہ موجود تھا۔
” ادھر تو راکٹ لانچر بھی پڑے ہیں۔“ سٹور کے اندر گھستے ہی امجد کی حیران ہو گیا۔
”یہاں آپ کو12.7ایم ایم اور اے جی ایس سیون ٹین بھی مل سکتی ہے۔“دوکاندار نے کہااور ہم سر ہلا کر رہ گئے تھے۔
وہ ہتھیار ہمارے کسی کام کے نہیں تھے۔ راکٹ لانچر کارکردگی کی نسبت وزن میں بہت ہلکا ہوتا ہے یعنی صرف 6کلو کے بہ قدر اس کا وزن ہوتا ہے مگر اس کے ایک گولے کا وزن اڑھائی کلو کے قریب ہوتا ہے اس طرح ایک صحت مند شخص صرف تین سے چار گولے ہی اپنے ساتھ آسانی سے لے جا سکتا ہے اور ان گولوں سے کسی بھی چھوٹے موٹے مکان کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن وہ ہمارے کام کا نہیں تھا۔
وہاں بارہ بور بندوقیں، سنائپر رایفلیں(دور مار رایفلیں) جن کے ساتھ ٹیلی سکوپ بھی فٹ تھیں اور مختلف بور کے پستول شامل تھے۔ ہمارے مطلب کی رایفل صرف AK-47اسالٹ رایفل تھی جسے عرف عام میں کلاشن کوف کہتے ہیں۔ ہم دونوں نے کلوزبٹ کی دو کلاشن کوفیں پسند کیں جن کی بیرلیں قلم کی طرح تراشی ہوئی تھیں۔ مجھے لکڑی کے دستے کا بریٹا پستول بھی پسند آیا مگر دکاندار نے بتایا کہ وہ درہ آدم خیل کا تیار کردہ تھا اور نقل بہ مطابق اصل تھا، اس کے بجائے اس نے جرمنی کا بنا ہوا گیرا گٹ مارک تھرٹین ایم ایم میرے سامنے رکھا جو وزن میں بریٹا سے ہلکا تھا اور رینج بھی کافی زیادہ تھی۔ میگزین میں چھ راﺅنڈ آتے تھے جو کہ عام پستولوں سے کافی موٹے تھے۔ دکاندار کی پسند پر میں نے وہی لے لیا۔
”پیسے کتنے ہوئے؟“ کلاشن کوف میں سلنگ ڈال کر کندھے سے لٹکاتے ہوئے میں مستفسر ہوا۔
دکاندار نے کہا۔”پیسوں کی ادائی شاہ جی نے کر دی ہے۔“
”کیا مطلب؟“ میں نے حیرانی سے شاہ جی کو گھورا۔
خان چچا نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں کہا۔”مطبل یہ کہ یہ امارا ترف سے تم لوگوں کا تحفہ ہے۔“
میں معترض ہوا۔”مگر خان چچا اتنے قیمتی تحفے۔“
کوئی قیمت نئیں اے۔ بس اب چلو۔“
دکاندار سے رخصتی مصافحہ کر کے باہر نکل آئے۔تب کلاشن کوف تقریباً 7ہزار کی مل جاتی تھی جبکہ آج کل اس کی قیمت۱یک لاکھ سے اوپر ہے۔ اور اس کی قیمت میں اتنا اضافہ پرویز مشرف کے دور حکومت میں ہوا ہے۔
ہم بیٹھک میں پہنچے۔شاہ جی نے کہا۔
”آپ لوگ گپ شپ کریں میں حاجی بہادر سے ہوآﺅں۔“ دگن والے حاجی بہادر کے پاس وہ اپنے بیٹے کو بھیج چکا تھا۔
امجد نے پوچھا۔”اگردونوں ملک، چودھری سے لاعلم ہوئے تب کیا کریں گے۔“
”تب میران شاہ کے مضافات میں کسی اور حاجی بہادر کوڈھونڈیں گے۔ ناکامی ہوئی تودوبارہ میر نیاز خان کو گھیرنا پڑے گا،بلکہ اسے اغواءکر کے ساتھ ہی لے آئیں گے۔“
”میں نے تب بھی یہی مشورہ دیا تھامگر تمھیں امن پسند بننے کا شوق چڑھا تھا۔“
”امن پسند میں اب بھی ہوں۔“
” دوغلی حرکتوں سے پرہیز کرو۔دو ہتھیار پاس رکھ کر امن پسندی کا دعویٰ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ہیروشیما و ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے والے کرتے ہیں۔“
میں نے منہ بنایا۔”کہا تھا، خواہ مخواہ کی قتل و غارت کوناپسند کرتا ہوں ۔“
وہ برہم ہوا۔”ہندولڑکی کو ہندوﺅں نے پکڑا ہواتھا،تمھیں کیا تکلیف تھی کہ اس کی خاطر اتنی لاشیں گرا دیں۔“ سوال گندم اور جواب چنا کے مصداق وہ بات کو کہیں سے کہیں لے گیا تھا۔میں اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ بس وقت گزاری کر رہا ہے۔
میں ترکی بہ ترکی بولا۔” شہلا بی بی کو جب کوئی مسلمان چھیڑے تو تم بھی خاموش رہنا۔“
” میں نے کب کہا کہ امن پسند ہوں۔ یوں بھی ڈاکٹر شہلا اور شیتل کا کیا جوڑ۔“
”واقعی شیتل اور شہلا کا واقعی کوئی جوڑ نہیں۔شیتل جیسی من موہنی آج تک نظر سے نہیں گزری۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔”اگر اتنی اچھی ہوتی تو اپنے ساتھ لے آتے۔“
مَیں سنجیدہ ہوگیا۔”سعدیہ زندہ تھی ، کیا اس پر سوکن لے آتا۔“
سعدیہ کے ذکر پر وہ سنبھل گیا تھا۔ ” مذاق کررہا تھایار۔“
”جانتا ہوں،لیکن میں سچ کہہ رہا ہوں ۔شیتل جیسی باکردار،خوب صورت اور مخلص کوئی نہیں دیکھی۔ “
”گویا چودھری کے خاتمے پر جناب ایک دفعہ پھر انڈیا جانے کا سوچ رہے ہیں۔“
میں نے انکار میں سر ہلایا۔ ” ایسی لڑکی کے چاہنے والے ہزاروںنہیں لاکھوں ہوں گے اور میری بناسپتی محبت کا خمار کسی لمحے بھی اس کے دل سے اتر سکتا ہے ۔پھر وہ ہندو ہے اور میں مسلمان۔“
”ان لاکھوں میں اسے جانو جیسا نہیں ملے گا۔باقی مسلمان ہونے کی پیش کش وہ خود کر چکی ہے۔“
”اچھا چھوڑو، پستول دیکھو کیسا ہے۔“ میں نے گیراگٹ مارک تھرٹین اس کی جانب بڑھایا۔
” کارکردگی تو فائر کرنے کے بعد ہی پتا چلے گی۔“
میں نے کہا۔”تو فائر کر لیتے ہیں۔“ہم بیٹھک سے نکل آئے۔میران شاہ چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھراہے مگر مغربی پہاڑی شاہ گل خان کے گھر کے نزدیک تھی ۔ ہم اسی طرف بڑھ گئے۔ پہاڑی کے دامن میں پہنچ کر چھوٹی جسامت کے پتھروں کو نشانہ بنا کر کلاشن کوفوں کی درستی کا یقین کیا۔ اور پھر پستول سے دودو گولیاں فائر کیں بلاشبہ وہ اعلیٰ پستول تھا اورکلاشنکوف سے کئی گنا قیمتی بھی تھا۔
فائر کر کے ہم واپس چل پڑے۔شاہ جی بے صبری سے منتظرتھا۔شاہ زمان بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھا تھا۔
وہ چھوٹتے ہی بولا۔”شاہ زمان اچھی خبرلایا ہے۔“
”یعنی چودھری اکبر کا پتا چل گیا ہے۔“ میں نے بے صبری ظاہر کی۔
شاہ جی نے انکار میں سر ہلایا۔ ” وہ دگن سے آگے بڑھ گیا ہے۔جگہ کے بارے حاجی بہادر یا اس کے دست راست طوفان خان کو معلوم ہوگا۔ حاجی بہادر کے باقی ملازمین سے شاہ زمان نے کافی سن گن لی ہے مگر انھیں معلوم نہیں تھا۔“
میں نے پوچھا۔”آپ کا اندازہ کیا کہتا ہے؟“
شاہ جی نے خیال ظاہر کیا۔”دگن سے آگے وزیرستان کا وسیع علاقہ موجود ہے۔ وہ تت نرائے، بہرہ مند، دتہ خیل، غرلامئی، خشک پہاڑی،وچہ بی بی ، جنگل خیل،لدھا،مکین،شکئی ،شوال وادی وغیرہ کہیں بھی جا سکتا ہے۔ افغانستان کی سرحد بھی نزدیک ہے ۔وہاں خانہ جنگی ہے لیکن تم سے زیادہ خطرہ ہواتو وہاں جانے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔“
”مسئلہ تو جوں کا توں رہا۔“
شاہ جی ہنسا۔”یہ تصدیق تو ہو گئی نا کہ ہم صحیح سمت روانہ ہیں۔“
میںمتفکر ہوا۔”اب پتا کیسے چلے گا وہ کہاں گیا؟“
” صرف طوفان خان اور حاجی بہادر ہی کوپتا ہے وہ کدھر گیاہے۔اور یہ معلوم کرنے کو ایک کو اغواءکرناناگزیر ہے۔“
”کیاطوفان خان محافظ ساتھ پھراتا ہے؟“
شاہ زمان بولا۔”وہ خود حاجی بہادر کا محافظ ہے ،بہت تند خواور بھڑکیلا شخص ہے۔علاقے بھر میں اس کا نام دہشت کی علامت سمجھا جاتا ہے،قدآور اورلحیم و جسیم،آپ دونوں تو اس کے سامنے بچے نظر آﺅ گے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”بندوق کی گولی طاقت دیکھتی ہے نہ قد۔“
شاہ زمان جلدی سے بولا۔”میرا مقصد آپ کو ڈرانا نہیں حقائق سے آگاہ کرنا ہے۔“
میں نے کہا۔”شاہ زمان ،کل ہمیں دگن تک چھوڑ آئے گا،باقی پاپڑ ہم بیل لیں گے۔“
”آپ علاقے سے ناواقف ہیں،اس لیے اکیلانہیں چھوڑ سکتا۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”آپ کو حاجی بہادر سے دشمنی کا مشورہ نہیں دے سکتا۔ ہم چپکے سے معلومات لے کر آگے بڑھ جائیں گے۔“
”شاہ زمان آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔“
میں نے کہا۔”یہ تو ساتھ جارہاہے نا،جب تک ضروری ہوا اسے واپس نہیں بھیجیں گے۔“
l l l
دگن میران شاہ کے قریب ہی واقع تھا۔ ویگن نے پندرہ بیس منٹ میں وہاں پہنچا دیا تھا۔
شاہ زمان کو میں نے پہلے سے تاکید کر دی تھی کہ ویگن سے اتر کر حاجی بہادر کی حویلی کی طرف چل پڑے۔ہمارا اکٹھے حرکت کرنا مناسب نہیں تھا۔اسے بس حاجی بہادر کی حویلی کی نشان دہی کرنا تھی۔
وزیرستان اس وقت مجرموں کی جنت کہلاتا تھا۔قاتل،ڈکیت،اشتہاری،اسمگلر ،دہشت گرد،ہر قسم کے مجرم وہاں جمع رہتے۔اجنبیوں کی فراوانی میں ہمیں کس نے اہمیت دینا تھی۔
اس کے پیچھے چلتے ہوئے ہم نے تعمیراتی علاقہ عبور کیااورمغربی نالے کے پاس پہنچے جس کے درمیان میں پانی بہہ رہا تھا۔وزیرستان کےپہاڑوں پر بھی برف باری ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے نالوں میں شفاف پانی کابہاﺅ نظر آتا ہے۔
نالے کی چوڑائی اچھی خاصی تھی مگر پانی اتنا زیادہ نہیں تھاکہ رکاوٹ بنتا۔ شاہ زمان نے مخالف کنارے کی طرف اشارہ کر کے حاجی بہادر کی حویلی کی نشان دہی کی۔
حویلی نالے سے کافی اونچائی پر بنی تھی شمالی جانب ایک راستہ حویلی کے داخلی دروازے تک جارہا تھا۔ دفاعی لحاظ سے حویلی بہت مضبوط دکھائی دے رہی تھی۔
میں نے کہا۔”آ پ میران شاہ واپس چلے جائیں۔جب ضرورت پڑی بلا لیں گے۔“
”ابو جان خفا ہوئیں گے۔“
میں ہنسا۔”خفگی کیسی،جب کہہ دیا ضرورت پڑی تو بلا لیں گے۔“
” جیسے آپ لوگوں کی مرضی۔“ اسے مجبوراََ راضی ہونا پڑا۔
الوداعی معانقہ کر کے اسے رخصت کیا اور نالے میں اتر گئے۔ وہاں پتھروں کی بہتات تھی ۔ جوتے اتار کر ہم نے شلواریں اوپر کیں اورنالاعبور کر لیا۔ پانی کا بہاﺅ کافی تیز تھا مگر پانی کی سطح ہمارے گھٹنوں تک بلند تھی۔
امجد جرابوں سے پاﺅں کی انگلیاں صاف کرتے ہوئے بولا۔”کافی ٹھنڈا پانی ہے۔“
میں نے کہا۔” پگھلی ہوئی برف ہے۔“
وہ بوٹ پہن کر کھڑا ہوا۔”یہ حویلی سر کرنے کو ہمیں انفنٹری بٹالین چاہیے ہو گی۔“
”حویلی پر ہلہ بولنے کے بجائے طوفان خان کو گھیرنابہتر رہے گا۔“
”اس جیسے آدمی سے کچھ اگلوانا بھی کافی مشکل ہوگا۔“
میں سفاکی سے بولا۔”انسان ایک حد تک ہی تشدد برداشت کر سکتا ہے ۔“
امجد فکر مند ہوا۔”اسے پہچانتے بھی نہیں ہیں۔“
میں بے پروائی سے بولا۔ ”فی الحال حویلی کا جائزہ لیتے ہیں۔شب باشی کا ٹھکانہ بھی ڈھونڈنا ہے۔ طوفا ن کی پہچان اتنی مشکل نہیں ہوگی۔“
گہرا سانس لے کر اس نے کندھے اچکائے اورر ہم ٹہلنے کے انداز میں آگے بڑھ گئے۔
حویلی سے نکلنے والا رستہ نالے میں اتر کر ختم ہو جاتا تھا۔ حویلی کے عقبی جانب کھڑی چڑھائی تھی ، وہاں سے حویلی میں گھسنا قریباََ ناممکن ہی تھا۔راستہحویلی کی شمالی سمت میں بنا تھا، جنوب سے بھی حویلی تک پہنچا جا سکتا تھا مگر راستہ کافی دشوار تھا۔ حویلی کے قریب دوسرا مکان بھی نہیں تھاکہ ہم بہانے سے قریب جا سکتے۔رستہ نالے سے سیدھا اوپر جا رہا تھا۔فرلانگ بھر بعد ایک رستہ دائیں جانب مڑ جاتا جو سیدھا حویلی تک جاتا اور دوسرا رستہ سیدھا آگے بڑھ جاتا۔کوئی شخص بھی حویلی کو جانے کے راستے پر قدم بڑھاتا تو دور ہی سے دیکھ لیا جاتا۔
امجد نے کہا۔”اتنی بلند کچی عمارتیں اور کہیں نہیں دیکھیں۔ہر گھر قلعہ نظر آتا ہے، مورچوں کو تو اتنا ہی ضروری سمجھتے ہیں جتناغسل خانہ یا باورچی خانہ ہوتاہے۔اور سمجھ میں نہیں آتااتنی بلندی تک میٹریل کی ترسیل کیسے کرتے ہوں گے جبکہ وہاں تک گاڑی کا رستہ ہی نہیں ہوتا۔“
میں نے ڈانٹا۔”تم یہاں سروے کرنے نہیں آئے ،تو بہتر ہو گاکام پر توجہ دو۔“
حویلی سے سرخ رنگ کی ڈبل کیبن ٹیوٹا نکلی ،ہم چونک گئے تھے۔اس وقت ہم دوراہے کے پاس پہنچنے والے تھے۔میں سڑک کے کنارے فطری تقاضا پورا کرنے کے انداز میں بیٹھااور امجد کی جانب دیکھے بغیر بولا۔
”گاڑی والے پر نظر رکھنی ہے، کار آمد لگا تو ہاتھ ڈال دیں گے۔“
”مگر بغیر منصوبہ بندی کے گڑبڑ نہ ہو جائے۔“ وہ میرا انتظار کرنے کے بہانے رک گیا تھا۔
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔” حضور،کشمیر فتح نہیں کرنا کہ طویل منصوبہ بندی کی جائے۔“
اس نے مطلع کیا۔”اب کھڑے ہو جاﺅ،گاڑی دوراہے پر پہنچنے والی ہے۔“
میں نے اٹھ کر شلوار باندھنے کی اداکاری کی اورامجد کی طرف مڑ گیا۔ کلاشن کوف کے دستے پر میری گرفت مضبوط ہو گئی تھی۔ گاڑی موڑ کے قریب پہنچ گئی تھی۔بالکل نئی گاڑی تھی اورایسی گاڑی عام ملازمین کے استعمال میں نہیں ہوتی۔
ہم موڑ کے قریب ہی تھے ۔کچے راستے کی وجہ سے گاڑی کی رفتار پہلے ہی کم تھی،جوموڑ کاٹنے کی وجہ سے مزید دھیمی ہو گئی۔ میری نظر ڈرائیور پر پڑی اور دل کی دھڑکن بے اختیار بڑھ گئی۔ اس کے جثے کو دیکھتے ہوئے میرے دماغ میں طوفان خان کا نام گونجا۔وہ اکیلا ہی تھا۔
”وہی ہے۔“ امجد کی سرگوشی نے میرے اندازے کی تصدیق کی تھی۔
گاڑی بہ مشکل موڑ کاٹ کے سیدھی ہوئی تھی کہ میں نے ہاتھ اٹھادیا۔
”سہ چل دے؟“ (کیا بات ہے) بریک لگاتے ہوئے وہ پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولا۔ اسے میرا روکنا ناگوار گزرا تھا۔اس کا چہرہ کافی ڈراﺅنا تھا ۔لمبے گھنگریالے بال چند دن کی بڑھی ہوئی داڑھی ، سرخ آنکھیں، دائیں گال پر زخم کا گہرا نشان جو ٹھوڑی تک جا کر چھوٹی داڑھی میں چھپ گیا تھا۔
مگر ہم ایسے حلیوں سے ڈرنے والے ہوتے تو اسے روکنے کی جرا¿ت ہی نہ کرتے۔
”طوفان خان سے ملنا تھا۔“ میں کھڑکی کے قریب جھکا۔ امجد دوسرے دروازے کے قریب پہنچ گیا تھا۔طوفان خان کی کلاشن کوف ساتھ والی نشست پر پڑی تھی۔
وہ مغرورانہ انداز میں بولا۔” میں ہی ہوں۔“
برقی کوندے کی طرح کلاشن کوف کندھے سے میرے ہاتھوں میں منتقل ہوئی اور اس کی قلم کی طرح ترشی ہوئی نال طوفان خان کی کنپٹی کے ساتھ لگ گئی۔
” غلط حرکت تمھیں ہمیشہ کو ساکن کر سکتی ہے۔“
وہ ششدر رہ گیا تھا۔”کیا چاہئے؟“ لہجہ خوف سے عاری تھا۔
میں نے مخالف دروازے کی جانب اشارہ کیا۔” دروازہ کھولو۔“
اس نے ہاتھ بڑھا کر دروازہ غیر قفل کیا۔امجد بگولے کی طرح اندر گھسا،اس کے ہتھیار پر قبضہ کر کے عقبی دروازہ غیر قفل کیا اور اس کے ہتھیار سمیت پچھلی نشست پر منتقل ہوگیا۔اس کے ہتھیار کی نال جونھی طوفان خان کی گردن سے لگی ،میں جلدی سے گھوم کر دوسری جانب پہنچااوراس کے ساتھ نشست سنبھال لی۔
ساری کارروائی لگے بندھے اصولو ںکے تحت ہوئی تھی۔ ہمیں ایک دوسرے کو کچھ کہنا ،سمجھانا نہیں پڑا تھا۔
ہمارے استاد میجر غوری کہا کرتے تھے ۔”کمانڈو کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے اگراپنے مشن سے اہم ہدف مل جائے تو اسے سوچنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔“ ان کی زبانی ،ان کے استاد کی حقیقی زندگی کا ایک واقعہ کئی بار سننے کا اتفاق ہواتھا۔ 1965ءکی جنگ میں وہ سیکشن کے ساتھ دشمن کے پڑاﺅ پر چھاپہ مارنے جارہے تھے ۔ہدف پر پہنچنے سے پہلے انھیں دشمن کی گن پوزیشن نظر آگئی ۔ انھوں نے گن پوزیشن کو تباہ کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔ گوبے جان گن انسان سے قیمتی نہیں ہو سکتی مگر جنگ کے میدان میں معیار بدل جایا کرتے ہیں اور ایک آرٹلری کی گن سپاہ سے کئی گنا قیمتی ہو جاتی ہے ۔ آرٹلری کی گن کبھی اکیلی دفاع میں نہیں لگتی۔ گنوں اور ان کے گولہ بارود کو تباہ کر کے جب وہ واپس پہنچے تو بٹالین کمانڈر نے اس کے فیصلے کی خوب تعریف و تحسین کی تھی۔
بہ ہر حال وہ تو مجاہدین تھے اور اﷲ تعالیٰ کی مددو نصرت ان کے ساتھ تھی۔ کہاں ہم جیسے دنیادار اور کہاں ملک و قوم اور اسلام کے محافظ۔ طوفان خان کے اتنے آسانی اور غیر یقینی انداز میں قابو آنے پر ایک واقعہ ذہن میں تازہ ہواسوچا قارئین تک بھی پہنچا دوں۔
”چلو ۔“ نشست سنبھالتے ہی میں نے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔
اس نے خاموشی سے گاڑی آگے بڑھا دی۔
رستہ ختم ہوتے ہی میں نے کہا۔”یہاں سے دائیں موڑ اور نالے میں سیدھا چلتے جاﺅ۔“
اس نے مطلوبہ سمت گاڑی موڑدی ۔ میں گردو پیش کا بہ غور جائز لے رہا تھا، مجھے ایسی جگہ کی تلاش تھی جہاں ہم بغیر کسی کی مداخلت کے اس سے پوچھ گچھ کر سکتے اور وزیرستان میں ایسی جگہ کا ملنا قطعاً مشکل نہیں تھا۔ امجدکی نظریں مسلسل اس پر گڑی تھیں۔
جلد ہی مجھے پہاڑی کے اندر کی طرف دبی ہوئی جگہ نظر آگئی تھی۔ فوجی زبان میں ایسی جگہ کو ”ری انٹرینٹ“ کہتے ہیں۔
” دائیں موڑ و۔“
گاڑی نالے کی تھوڑی سی چڑھائی چڑھ کر نسبتاً ہموار زمین پر بڑھ گئی۔ اسے بالکل ہموار کہنا تو غلط ہو گا کہ پہاڑی کی جڑ کی طرف زمین غیر محسوس انداز میں اٹھتی جاتی ہے مگر یہ چڑھائی زیادہ سخت نہیں ہوتی ۔
راستے میں جا بجا بکھرے بڑے بڑے پتھر اور روڑے اچھی خاصی رکاوٹ ڈال رہے تھے۔ جن سے بچنے کو اسٹیرنگ کو بار بار کاٹنا پڑتا۔
ایک مناسب جگہ دیکھ کر میں نے اسے گاڑی روکنے کا حکم دیاوہاں ہمیں صرف پہاڑ کی بلندی سے دیکھنا ہی ممکن تھا۔
” گاڑی بند کر کے نیچے آجاﺅ۔“ اس نے بے چوں و چراں میرے حکم پر عمل کیا تھا۔
”ہاتھ اوپر اٹھا لو۔“ میں نے اگلا حکم سنایا ۔ اس نے ہاتھ اٹھا لیے۔
امجد بھی اس کی کلاشن کوف گاڑی میں چھوڑ کر باہر نکل آیا تھا۔
میں نے کلاشن کوف سیدھی کی۔ ”طوفان خان کلمہ پڑھ لو میں گولی چلانے لگا ہوں۔“
تھوڑی بہت پشتو امجد بھی سمجھ لیتا تھاتبھی لقمہ دیا۔”آخری خواہش پوچھ لو۔“
میں نے اس کا فقرہ پشتو میں دہرا دیا۔ ”طوفان خان اپنی آخری خواہش بتا سکتے ہو۔“
سارا ڈراما اسے نفسیاتی طور پر ڈرانے کو کر رہا تھاتاکہ تشدد کے بغیر کچھ اگلوایا جا سکے تو ہمارا وقت بچ جاتا۔
”بس میرا جرم بتا دو۔“اس کا لہجہ خوف سے عاری تھا۔خاصا دلیر اور مضبوط اعصاب کا شخص تھا۔ اگر لوگ اس سے ڈرتے تھے تو غلط نہیں تھے۔ایسے افراد سخت اصول پسند اور زبان کے پابندہوتے ہیں۔
اچانک میرے دماغ میں ایک ترکیب آئی۔ ” ہمارا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے اور کرائے کے قاتل ہیں ۔ایک دوست نے گزشتہ دنوں ہمیں تت نرائے بلاکر تمھارے قتل کا معاوضا دیا ہے۔“
وہ پھیکے لہجے میں بولا۔”اس کا نام بتا کراپناکام پوراکرو۔“
میں نے انکشاف کیا۔” چودھری اکبر،وہ بھی ڈیرہ اسماعیل خان کا ہے مگر ان دنوں تت نرائے میں مقیم ہے ۔“
طوفان خان متعجب ہوا۔” اسے تو ہم نے جنگل خیل میں چھوڑا تھا۔اورفقط اتنا کہا تھا کہ دشمنوں کے ڈر سے علاقہ چھوڑ دینا بزدلی کی علامت ہے۔“
”شاید یہی بات ہو،بہ ہر حال تمھارا وقت پورا ہوا۔“ میں نے اس کے سر کا نشانہ لے کر لبلبی دبانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کے بے گناہ قتل پر ضمیر مطمئن نہیں ہو رہا تھا۔
” اسے گولی مار دو۔“ مجبور ہو کر گن جھکاتے ہوئے میں امجد کومخاطب ہوا۔
وہ رکھائی سے بولا۔” ثواب کا کام تمھیں ہی انجام دینا ہوگا۔“
میںنے دبے لہجے میں اسے جھڑکا۔”بے وقوف، زندہ چھوڑ نا باعث نقصان ہوگا۔“
”کس نے کہا ہے چھوڑ دو۔“
میں نے ہونٹ بھیجتے ہوئے پھر گن سونتی اور آنکھیں بند کرتے ہوئے لبلبی دبانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔
گن جھکاتے ہوئے میں زور سے بولا۔” اس کی تلاشی لو۔“
امجد سر ہلاتا ہوا اس کی طرف بڑھ گیا۔ یقینا اس کی سمجھ میں میری بات آگئی تھی ،تبھی کلاشن کوف کندھے سے لٹکا کر وہ طوفان خان کے قریب ہوا۔
طوفان خان ایک طاقتور شخص تھا۔ پہلے ہم نے اسے ذرا سا موقع بھی نہیں دیا تھا۔ اوراب امجد کو قریب بھیج کر اسے فرار کی کوشش کرنے کا موقع دینا چاہتا تھایوں ہمیں گولی چلانے کا بہانہ مل جاتا۔
مگر میری حیرانی کی انتہانہ رہی جب اس نے بڑے آرام سے تلاشی دے دی اس کی جیب سے ایک خنجر تھوڑی سی نقدی اور نسوار کی پڑیا نکلی تھی۔ امجد نے بڑی بے پروائی سے اسےحرکت کرنے کا مکمل موقع دیا تھا ۔مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔
”یہی کچھ ملا ہے۔“ امجد مایوسی سے لوٹ آیاتھا۔
میں طوفان خان کو گھور نے لگا جو اطمینان سے ہاتھ بلند کیے کھڑا تھا۔ وہ ہمارے لیے سانپ کے منہ میں چھچھوندر ثابت ہوا تھا۔ اسے مارنے کو ضمیر راضی نہیں ہو رہا تھا اور زندہ چھوڑ دینے کی مخالفت ہمارا دماغ ٹھوس دلائل سے کر رہا تھا۔ چند لمحے سوچنے کے بعد خطرہ مول لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے میں نے کہا۔
” اگر تمھیں زندہ چھوڑ دیں تو کیا زبان دے سکتے ہو کہ اس واقعے کو بھلا دوگے اور چودھری اکبر کے خلاف بھی کوئی قدم نہیں اٹھاو¿ گے۔“
”ایک شرط پر۔“ اس کے لہجے میں بلا کا اطمینان تھا،یوں جیسے مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہو۔
”بولو۔“ میں نے دلچسپی ظاہر کی۔
اس نے کہا۔”مجھے سچ جاننا ہے ۔“
”تمھارے اندازے میں ہم کیا ہیں۔“
وہ بلا جھجک بولا۔”چودھری اکبر کے دشمن۔“اس کا اندازہ غضب کا تھا۔
میں شکست خوردہ لہجے میں بولا۔”اچھا بھائی ہاتھ نیچے کرواور قریب آجاﺅتمھیں حقیقت بتا دیتے ہیں۔“
طوفان خان نے ہاتھ نیچے کرتے ہوئے امجد سے اپنا سامان واپس لے کر جیب میں ڈالا اور ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ لئے میرے قریب آبیٹھا۔ امجد بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔
میں نے سچ اگلا۔”ہم واقعی چودھری کے دشمن ہیں۔اور تمھیں اس کا پتا اگلوانے کو اغواءکیا ہے۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”اس کا پتا تو تمھیں معلوم ہو گیا ہے ،البتہ مجھے زندہ چھوڑنا تمھیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔“
میں بے بسی سے بولا۔” کسی بے گناہ کے خون سے ہاتھ رنگنا بہت مشکل ہو تا ہے۔“
وہ مسکرایا۔”مجھے گناہ گار کرنے کوتم نے ساتھی کو میری تلاشی لینے بھیجا تھا نا۔“ میں بھی ہنس پڑا۔بلا شبہ وہ ذہین شخص تھا۔
”اورتُم نے بھی شاید غلط حرکت نہ کرنے کی قسم کھائی ہوئی تھی۔“
اس نے پوچھا۔” نام بتا سکتے ہو۔“
”عمر جان اور یہ امجد۔“
” تمھارا پُراعتماد انداز اور خوف سے خالی چہروں نے مجھے الٹی سیدھی حرکت سے باز رکھا۔باقی جس انداز میں تم نے مجھے قابو کیاایسا عام شخص نہیں کر سکتا۔“
”کیا ہم مطمئن رہیںکہ تم اس واقعے کو انا کا مسئلہ نہیں بناﺅ گے۔“
وہ خلوص دل سے بولا۔”تمھارا احسان ہے کہ مجھے زندہ چھوڑ دیااور محسنوں سے بدلہ نہیں لیا جاتا۔“
میں مقصد کی گفتگو پر آیا۔”جنگل خیل چودھری اکبر کی منزل ہے یا عارضی پڑاﺅ۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”ارادہ تو مستقل پڑاﺅ کا کر کے گیا تھامگر مجھے مستقل مزاج نہیں لگا،اس لیے حتمی رائے نہیں دے سکتا۔“
”جنگل خیل کا رستہ ہی بتلادو۔“
”دگن سے دتہ خیل اورآگے بابازیارت اور مامازیارت تک بھی ویگن مل جائے گی۔ مامازیارت اور شیرانی کے درمیان شمال مغرب کی جانب پہاڑیوں میں طویل راستہ بنا ہوا ہے جو جنگل خیل تک جاتا ہے۔ جنگل خیل کسی گاﺅں نہیں بلکہ علاقے کا نام ہے ۔بیسیوں چھوٹے بڑے دیہات ہیں ۔تمام کو جنگل خیل کہتے ہیں۔ “
میں اجازت چاہتے ہوئے بولا۔”شکریہ طوفان خان!معذرت خواہ ہیں کہ تمھیں تکلیف اٹھانا پڑی۔ اب ہم چلیں گے۔“
وہ مسکرایا۔”ایسے تو نہیں جانے دوں گا۔“
میں نے مجبوی ظاہر کی۔” اگر جلدی نہ ہوتی تو مصر نہ ہوتے۔“
اس نے تجویز پیش کی۔”آج بہ مشکل دتہ خیل پہنچو گے،آگے کی گاڑی کل طلوع آفتاب کے بعد ہی ملے گی،وہاں ہوٹل وغیرہ بھی نہیں ہے ۔اتنا خوار ہونے کے بجائے اگر آج رات میزبانی کا موقع مجھے دو توکل جنگل خیل کے راستے تک چھوڑ آﺅں گا۔“
میں نے امجد کو اس کا مطمح نظر بتا کر رائے لی۔
”جو بہتر سمجھو۔“اس نے میری صواب دید پر چھوڑ دیا۔
میں ہنسا۔” گویا تمھارا دل بھی دم پخت کھانے کو کر رہا ہے۔“
”یہ ہوا ناخوش خبری۔“ طوفان خان نے نعرہ بلند کیا۔
تھوڑی دیر بعد ہم واپس گام زن تھے۔ایک دم مغوی سے مہمان کے درجے پر ترقی پانا ذرا عجیب لگ رہا تھا۔طوفان خان ہمارے بارے جاننے کا مشتاق تھا۔ حویلی تک اس کے سوالا ت جاری رہے۔
حاجی بہادر سے ہمارا تعارف طوفان خان نے اپنے قریبی دوستوں کے طور پر کرایا تھا۔تازہ دم ہو کر ہم اس کے ساتھ حویلی میں گھومنے لگے۔رات کو پرتکلف عشائیے کا بندوبست تھا۔دم پخت کے مزے لوٹ کر ہم صحن میں بچھی چارپائیوں پر آبیٹھے۔
ایک شخص رباب لیے نمودار ہوا، اس کے ہمراہ گھڑے والا بھی تھا۔چٹائی پر بیٹھ کراس نے رباب کی تاروں کو چھیڑا۔دوسرے نے رباب کے سُر کے ساتھ گھڑے کی تھاپ کو ملالیاتھا۔جادو بھری آواز سے ماحول گونج اٹھا تھا۔
رات گئے تک ہمیں پشتو موسیقی سے محظوظ ہونا پڑا۔گو مجھے موسیقی سننے کا ذرا بھر شوق نہیں لیکن میزبان کی تالیف قلب کو خاموش رہا۔البتہ وہ وقت میں نے ضائع نہ کیا اور دبی زبان میں طوفان خان سے جنگل خیل کے متعلق سوالات پوچھتا رہا ۔محفل موسیقی اختتام پذیر ہونے کے بعدتمام صحن ہی میں لیٹ گئے تھے۔ پُرتکلف غذا اور سارے دن کی تھکن کی وجہ سے لیٹتے ہی نیند نے آلیا تھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر24
ریاض عاقب کوہلر
دگن سے تین ساڑھے تین گھنٹے مسلسل سفر کے بعد ہم مطلوبہ مقام تک پہنچے تھے۔جنگل خیل کے راستے کی نشان دہی کرتے ہوئے طوفان خان نے پیش کش کی۔” چاہو توکچھ راستے تک ساتھ جاسکتا ہوں۔“
میں نے پوچھا۔”جنگل خیل تک گاڑی نہیں جاتی۔“
”جاتی ہے مگرلمبا چکر کاٹنا پڑے گا،یوں راستہ بہت طویل ہو جاتا ہے۔پیدل گاڑی سے پہلے پہنچ جاﺅ گے۔“
میں نے ملنے کو بازو پھیلائے۔ ” زندگی رہی تو ان شاءاﷲدوبارہ ملیں گے۔“
”ان شاءاﷲ۔“اس نے مجھے زورسے بھینچتا۔”چودھری اکبر سے مل کر گنڈہ پور قوم کے متعلق پیدا ہونے والا برا تاثر تم سے ملنے پر زائل ہو گیا۔“
میں ہنسا۔”وہ گنڈہ پور نہیں ہے۔“
امجد سے معانقہ کرتے ہوئے وہ خفیف لہجے میں بولا۔”غلط فہمی دور کرنے کا شکریہ۔“
ہم ہاتھ لہرا کر چل پڑے۔اس نے بھی گاڑی میں بیٹھ کر واپسی کی راہ لی۔
نامعلوم جنگل خیل میں کون سے ہنگامے ہمارے منتظر تھے۔
l l l
راستہ دشوار گزار تھا۔ چڑھائی بالکل سیدھی تھی اور تنگ راستے پر بہ مشکل ایک آدمی چل سکتا تھا۔ میں امجد سے چند قدم آگے تھا۔ چڑھائی چڑھنا کتنا مشکل اور تکلیف دہ ہے یہ تجربے ہی سے معلوم ہو سکتا ہے۔ بلندیاں سر کرتے ہوئے صرف ایک ہی کلیہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ....
”خود نہ تھکو بلکہ پہاڑوں تھکاﺅ۔“
یعنی اتنا آہستہ چلو کہ سانس نہ چڑھے ۔ہم اس مقولے پر عمل پیرا ہو کر آہستہ آہستہ بلندی کی منزلیں طے کر رہے تھے۔ چند میٹر ہموار سطح آنے کے بعد راستہ ہلکا سادائیں مڑااور پھر بلند ہونے لگا۔ دائیں جانب کھڑی چٹان تھی ،دیوار کی طرح سیدھی جسے فوجی زبان میں ”کلف“ کہتے ہیں۔وہ پچاس ساٹھ میٹر کا خطرناک رستہ عبور کر کے میں نسبتا ہموار جگہ پر پہنچا۔
امجد چند قدم پیچھے تھا ،اچانک اس کا پاﺅں پھسلا اور وہ ”افف....“ کی آواز کے ساتھ دائیں جانب گرا۔
میں چیخا۔”سنبھل کے ماجے۔“گویہ کہنے کی خاص ضرورت نہیں تھی، وہ بھی اچھی طرح جانتا تھا نیچے گرنے پر کیا ہو سکتاتھا، مگر حادثے کو نہیں روکا جا سکتا۔ سنبھلنے کی کوشش کے باوجودوہ لڑھک کرراستے سے نیچے ہوا اوراس کا جسم ہوا میں ہو گیا۔میری آنکھیں خوف سے بند ہو گئی تھیں۔لگا میں امجد کو کھو چکا ہوں....دوتین لمحے تک بھی جب اس کے گرنے کا دھماکا اور چیخ سنائی نہ دی تب جھجکتے ہوئے آنکھیں کھولیں....
امجد ایک جھاڑی سے لٹکا نظر آیا۔ خوش قسمتی سے وہ جھاڑی زمین کے متوازی اُگی ہوئی تھی۔ نیچے گرتے ہوئے بھی امجد نے حواس قابومیں رکھے تھے اور اس جھاڑی کو پکڑ کر خود کو سنبھال لیا تھا۔
ایسی جھاڑیوں کی جڑیں بہت مضبوطی سے پہاڑ میں پیوست ہوتی ہیں ۔ غیر اہم سی جھاڑی جو چند لمحے پہلے تک کسی اہمیت کی حامل نہیں تھی اب ہفت اقلیم کی دولت سے بھی قیمتی ہو گئی تھی۔
” شاباش ماجے !مضبوطی سے تھامے رہواور نیچے نہ دیکھنا۔ چند میٹر کا فاصلہ ہے ،تمھیں اوپرکھینچتا ہوں۔“
میں نے سرعت سے کلاشن کوف کی سلنگ نکالی مگر اس کی لمبائی اتنی زیادہ نہیں تھی کہ امجد تک پہنچ سکتی۔ امجد کی گن اور تھیلا نیچے گر چکے تھے۔ میں نے گرم چادر کو لمبائی میں تین برابر ٹکڑوں میں کاٹا۔ ان ٹکڑوں اور سلنگ کو مضبوطی سے ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔ تھوڑا سا نیچے ہو کر بیٹھنے کی جگہ منتخب کی، پاﺅں پتھروں پر ٹکا کر میں نے رسّی امجد کے جانب لٹکا دی۔ سلنگ کے سرے پر پھانسی کے پھندے کی طرح کا حلقہ بنا دیا تھا تاکہ امجد اپنا ہاتھ گزار کر پکڑے۔ یوں سلنگ ہاتھ سے پھسلنے کی صورت میں بھی وہ نیچے نہ گرتا۔
امجد کی نظر مجھ پر تھی۔جونھی رسی تک رسائی ممکن ہوئی اس نے بائیں ہاتھ سے جھاڑی تھام کردایاں ہاتھ رسّی کے حلقے کی جانب بڑھادیا۔ ایک ہاتھ سے اپنے پورے بدن کو سہارنا بہت مشکل کام ہے اور جب جان پر بنی ہو اور تو یہ کام اور بھی دشوار ہوجاتا ہے۔ مگر وہ امجد تھا اس نے بغیر جھجکے ایک ہاتھ سے اپناوزن سنبھال کر دوسرے ہاتھ سے سلنگ تھام لی اور پھر جھاڑی چھوڑ کر دونوں ہاتھوں سے سلنگ تھام لی۔
ایک دم اس کا بوجھ میرے بازوﺅں پر منتقل ہو گیا تھا۔ میں نے رسی پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے پیچھے لیٹ گیا۔ میری ذراسی لغزش اور کمزوری دونوں کو موت کے سفر پر روانہ کر سکتی تھی ۔ پیچھے لیٹنے کی وجہ سے امجد میری نظروں سے اوجھل تھا لیکن رسّی کو لگنے والے جھٹکے اس کی پیش قدمی ظاہر کر رہے تھے۔ چند میٹر کا فاصلہ طے کرنے میںچندمنٹ لگے تھے،مگر وہ لمحات صدیوں پر محیط لگ رہے تھے۔ اوپر پہنچتے ہی امجد لمبا پڑتے ہوئے گہرے سانس لینے لگا۔ اس کی قمیص پسینے سے بھیگ گئی تھی۔
”ڈاکٹرشہلا شادی سے پہلے بیوہ ہونے والی تھی۔“
میں اطمینان سے بولا۔”شادی کے بعد اس نے یہی دعائیں مانگنا تھی۔“
اس نے منہ بنایا۔ ” مجھے کچھ ہو جاتا تو وہ رو رو کر جان دے دیتی۔“
”سادہ الفاظ میں تم شادی¿ مرگ کہہ سکتے ہو۔“
”بکواس بند اور پانی پلاﺅ۔“
”سچ سننے کا حوصلہ پیدا کرو۔“ پانی کی بوتل اس کی جانب بڑھاتے ہوئے میں نے دانت نکوسے۔
”اسے شیتل نہ سمجھو۔“طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے اس نے بوتل منہ سے لگالی۔ آدھی بوتل معدے میں انڈیل کر میری طرف بڑھا دی۔بقیہ میں نے پی لی تھی۔ ہمیں سکھلایاگیا تھا کم پانی کو وقفے وقفے سے گھونٹ دو گھونٹ کے بجائے ایک ہی مرتبہ سیراب ہو کر پانی پیا جائے ۔
ذرا سستا کر ہم چل پڑے۔ چند منٹوں بعد نسبتاً ہموار جگہ پر پہنچ گئے تھے ۔آگے اترائی تھی۔اِکا دُکا درخت بھی نظر آرہے تھے۔ اترائی میں کم توانائی خرچ ہوتی ہے لیکن رستہ دشوار ہونے کی صورت میں گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے اترائی ہموار تھی اور نیچے لڑھکنے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ ہم تیز رفتاری سے نشیب میں اترنے لگے۔نیچے درخت زیادہ تھے۔ درختوں کے جھنڈ میں ہمیں صاف و شفاف پانی بھی نظر آگیا۔ ایک چھوٹا سا چشمہ تھا اور پانی پتھروں کے درمیان جمع ہو گیا تھا۔
امجد بے ساختہ بولا۔”کتنی خوب صورت جگہ ہے،شہلا ساتھ ہوتی تو لطف ہی آجاتا۔“
میں طنزیہ بولا۔”تو اس کی کوفت کا کیا؟“
”خوشی سے جھوم جھوم جاتی۔“وہ چشمے کے کنارے چوکڑی مار کر بیٹھ گیا تھا۔
”فضول باتوں سے بھوک چمک اٹھتی ہے۔“میں نے کھانے کی پوٹلی نکالی۔
امجد کا تھیلا گر گیا تھا۔وہ بھی میرے ساتھ جڑ گیا۔کھانا کھا کر ہم نے سیراب ہو کرٹھنڈاپانی پیا اور بوتل بھر کرآگے بڑھ گئے۔
میرے پاس پستول موجود تھا، میں نے کلاشن کوف امجدکی جانب بڑھادی۔جو اس نے کندھے پر لٹکا لی تھی۔
سامنے ایک وسیع وادی تھی جو کافی سرسبز تھی۔ گھنے درختوں کے بیچ اکا دکا گھر بھی نظر آرہے تھے۔
امجد نے پوچھا۔”اندازاََ کب تک وہاں پہنچیں گے۔“
”جنگل خیل تویہاں سے شروع ہو جاتا ہے۔“ میں نے سامنے وادی کی جانب اشارہ کیا۔
”اتنی جلد پہنچ گئے؟“اس نے حیرانی ظاہر کی۔
میں نے بتایا۔”جنگل خیل کوئی گاﺅں تو نہیں ہے کہ حیران ہو رہے ہو۔سارے علاقے کو جنگل خیل کہتے ہیں،جو اس وادی سے شروع ہو کر افغان سرحد تک چلا جاتا ہے،البتہ جنگل خیل نام کے دو گاﺅں بھی ہیں۔“
ہم نیچے اتر کر وادی میں محو سفر ہو گئے ، سورج کی حرکت زوال پذیر ہو گئی تھی۔
”ملک صاحب ، رات گزار نے کی جگہ ڈھونڈو، مجھے نہیں لگتا یہاں کی رات پنجاب جیسی ہو گی۔“
میں طنزیہ نداز میں بولا۔”یہ تمھیں لڑھکنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا۔ گرم چادروں کا بیڑہ غرق کر کے سردی یاد آرہی ہے۔“
” ملازمین کی شب بسری اور طعام مالک کے ذمہ ہوتی ہے۔“
”جو مالک کھائے گا تم بھی کھا لینا اور جہاںسوئے گا ،سوجانا۔“
”فلسفہ نہیں ملک صاحب۔“
”بکواس کے بجائے دائیں بائیں نظر رکھوشاید کوئی موزوں جگہ مل جائے۔“
”یہ تمھاری ذمہ داری ہے۔“اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔
اچانک جھاڑیوں کے جھنڈ سے چندبکریاں اور انھیں ہنکارتی ہوئی نوجوان لڑکی باہر نکلی، وہ مقامی لباس میں تھی۔ عورتوں کا مقامی لباس گھگرا، پاجامہ اور ایک بڑے دوپٹے پر مشتمل ہوتا ہے ۔ یہ لباس ستر پوستی کے شرعی تقاضے پورے کرتا ہے۔ سردیوں گرمیوں میں یہاں کی خواتین اس لباس میں نظر آتی ہیں۔
ہمیں دیکھ کر وہ ٹھٹک کر رکی اور دوپٹے سے چہرہ ڈھانپنے لگی۔
امجد نے مشورہ دیا۔”اسی سے رہائش کی بات نہ کرلیں۔“
” یہ لاہور نہیں وزیرستان، یہاں پرائی عورتوں کو مخاطب کرنا نہ صرف ناپسندیدہ اور معیوب ہے بلکہ کسی حادثے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔“
اس نے منہ بنایا۔”کبھی دل جوئی کی کوشش نہ کرنا۔“
اچانک لڑکی نے ہمیں آواز دی۔
”ورورا !....چہ تا سو مسافر یئے نوشیہ منگ کور کے اوکڑے“(بھائی اگر آپ لوگ مسافر ہو تو رات ہمارے گھر میں گزار لو۔)
امجد نے پوچھا۔” کیا کہہ رہی ہے؟“
”رات گزارنے کی دعوت دے رہی ہے۔“
وہ چہکا۔”اسے کہتے ہیں نیت صاف، منزل آسان۔“
میں ممنونیت سے بولا۔”مہربانی بہن!آپ کا گھر کس طرف ہے؟“
اس نے خوش دلی سے راستہ بتایا اور ہم اس جانب بڑھ گئے۔ وہ بھی بکریاں ہنکاتی ہمارے پیچھے چل پڑی۔ تھوڑی دیر بعد میں ہم گھر کے قریب پہنچ گئے تھے۔باہرایک صحت مند بوڑھا کلھاڑی سے خشک لکڑیوں کو ٹکڑے کر رہا تھا۔ ہمیںدیکھتے ہی اس نے کلھاڑی پھینکی اور پرانے شنا سا کی طرح گر م جوشی سے ”پخیر پخیر“ کہتا ہوا ہماری جانب بڑھا۔
میں نے کہا۔”السلام علیکم ماما۔“
”وعلیکم السلام۔“ اس نے پُرتپاک انداز میں سے معانقہ کیا۔ ”آپ لوگوں کو غالباً گل مکئی بیٹی لے کر آئی ہے۔“
”جی ابو جان۔“ گل مکئی ہمارے عقب میں نمودار ہوئی۔
وہ ہمیں بیٹھک میں لے گیا۔
”بیٹی !مہمانوں کے لیے غسل خانے میں پانی رکھ دو۔“ ہمیں چارپائی پر بٹھا کر وہ گل مکئی کو مخاطب ہو ا۔انداز میں اتنی بے تکلفی اور شفقت تھی کہ ہم خود کو بنِ بلایا سمجھنے کے بجائے اس کے خصوصی مہمان سمجھ رہے تھے۔
وہ گھر میں گھس گیا۔واپسی پر اس کے ہاتھ میں مٹی کی صراحی تھی۔ پانی پی کر میں غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔ گل مکئی نے غسل خانے میں پانی کی دوبالٹیاں رکھ دی تھیں۔
ہمارے نہا نے تم وہ خوشبو دار قہوہ لے آیا تھا۔ نہانے اور قہوہ پینے سے ہماری تھکن اتر گئی تھی۔ میزبان ہمیں برسوں پرانا واقف کار اور شناسا لگ رہا تھا۔
”بیٹا ایک منٹ میںوضو کرکے آتا ہوں پھر نماز پڑھتے ہیں۔“ ہمارے قہوہ پیتے ہی وہ اٹھ گیا۔
تھوڑی دیر بعد ہی وہ وضو کر کے آگیا۔ اس کی اقتدا میں ہم نے شام کی نماز باجماعت ادا کی نماز کے بعد وہ توکھانے کا بندوبست کرنے کے لیے گھر میں گھس گیا جبکہ ہم اس بے لوث شخص کی مہمان نوازی پر تبصرے کرنے لگے۔
کھانا ہم نے عشاءکی نماز پڑھ کر کھایا۔ مرغی کا سالن اور تندوری روٹیاں، ہم گنجائش سے زیادہ کھا گئے تھے۔ روٹی کے بعد قہوے کا دور چلا اس دوران ہم گپ شپ کرتے رہے۔ یہ جان کرکہ امجد پشتو نہیں جانتا بزرگ نے اردو کا سہارا لیا مگر اس کی اردو سے زیادہ پشتو امجد کو سمجھ میںآجاتی۔ اس کادل رکھنے کو امجد کو بز اخفش کی طرح سر ہلانا پڑا۔ مگر بزرگ کی اردو زیادہ دیر اس کا ساتھ نہ دے سکی اور امجد کی جان بخشی کرتے ہوئے وہ مجھے پشتو میں مخاطب ہوا۔
” برا نہ مناﺅ تو ایک بات پوچھوں؟“
میں نے سعادت مندی سے سر ہلا دیا۔
” جنگل خیل جانے کی وجہ صرف سیر و تفریح ہے تو بہرام شاہ وادی جنگل خیل سے بہتر ہے۔ میں آپ کو پوری وادی کی سیر کراﺅں گا۔“
” ماموں جان ، ہم ضروری کام کے سلسلے میں جارہے ہیں۔“
اس نے پیش کش کی۔”اگر اسلحہ یا نشہ وغیرہ چاہیے ہو تو میں بندوبست کرسکتا ہوں۔“
میں نے متبسم ہو کر نفی میں سرہلا دیا۔
وہ بے چینی سے بولا۔”میں نہیں چاہتا آپ جنگل خیل کا رخ کریں۔“
”کیوں ماما؟“ میں حیرانی رہ گیا تھا۔
”کیوں کہ وہاں نام کی مثل جنگل کا قانون چلتا ہے۔ بدمعاشی اور غنڈہ گردی کاراج ہے۔ پاکستان، وزیرستان، افغانستان، اور روس کی مختلف ریاستوں کے لچے لفنگے وہاں جمع رہتے ہیں۔ آئے روز فائرنگ کا تبادلہ ہوتا ہے۔ وہ جگہ شریفوں کے لائق نہیں ہے۔“
میں بے بسی سے بولا۔”وہاں جانا ہماری مجبوری ہے۔“
”وہی تو پوچھ رہا ہوں؟“
میں صاف گوئی سے بولا۔”گنڈہ پور سب کچھ بھلا سکتا ہے دشمنی نہیں ۔“
”کیا آپ کا دشمن وہیں پر چھپا ہے۔“
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”میں کیا خدمت کر سکتا ہوں؟“
”آپ کی دعاﺅں کی ضرورت رہے گی۔“
”آپ کے پاس ایک ہی کلاشن کوف ہے چاہوتو اپنی کلاشن کوف دے سکتا ہوں۔“
”پیسے ہیں ،ضرورت پڑی تو وہیں سے خرید لیں گے ۔“
” اب آپ آرام کریں، رات کو کسی چیز کی ضرورت پڑے تو طلب کر لینا۔“ وہ گھر کو بڑھ گیا۔
امجد کے سوالات شروع ہو گئے۔ اورمجھے بابا جی کی باتیں تفصیل سے دہرانا پڑیں۔
امجد نے خیال ظاہر کیا۔”چودھری اکبر نے چھپنے کو صحیح جگہ کا انتخاب کیا ہے۔“
میں زہر خند ہوا۔”جان ہر کسی کو پیاری ہوتی ہے۔“
امجد گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ میں نے بھی آنکھیں بند کر لیں دن بھر کی بے آرامی نے جلد ہی مجھے نیند کی آغوش میں دھکیل دیا تھا۔
l l l
صبح دم ناشتے کے بعد ہم جانے کو تیار ہو گئے۔ عبداللہ نے بہترینمیزبان تھا۔ حالاںکہ مکان اور کپڑے کی حالت چیخ چیخ کر اس کی غربت کا اعلان کر رہی تھی۔ دل چاہا اس کی مالی امداد کردوں مگر مجھے جانتا تھا اس نے کسی حالت میں یہ امداد قبول نہیں کرنا۔
امجد میری پریشانی بھانپ گیا تھا۔اس لےے پنجابی میں کہنے لگا۔ ”اس کی بیٹی کو کسی بہانے کچھ رقم دے دو۔“ مجھے امجد کی ترکیب بہت بہتر لگی۔
”اچھا ماما اب ہم چلتے ہیں.... لیکن ہماری چھوٹی بہن نظر نہیں آرہی جو ہمیں مہمان بنا کر لائی تھی۔“
”وہ گھر میں ہی ہو گی۔ ناشتا کر کے اپنی ماں کے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹائے گی اور پھر بکریاں لے کر وادی میں نکل جائے گی۔“ ہمیں یہ بتا کر وہ اپنی بیٹی کو آوازیں دینے لگا۔ ”گل مکئی۔ او پلوشے۔“
”جی ابو جان۔“ وہ سر پر دوپٹادرست کرتے گھر سے باہر آگئی۔
”گڑیا ادھر آﺅ۔“ میں نے اسے اپنی جانب بلایا اور وہ جھجکتے ہوئے ہمارے قریب آگئی۔
”بہن! آپ کی بڑی مہربانی۔ آپ کی وجہ سے ہمیں کافی راحت وآرام ملا۔ میران شاہ سے چلتے وقت ہمیں پتا نہیں تھا کہ راستے میں ہماری ملاقات ایک ننھی سی بہن سے ہو جائے گی ورنہ ہم ضرور اپنی گڑیا کے لیے تحفے تحائف لاتے۔ بہ ہر حال ابھی یہ تھوڑی سی رقم ہے اس سے اپنی مرضی کی کوئی چیز خرید لینا۔“ میں نے جب سے 5ہزار کی رقم نکال کر اس کے جانب بڑھائی۔ اس نے گھبرا کر اپنے والد کے جانب دیکھا تو وہ پریشانی سے بولا۔
”بالکل نہیں بیٹا.... آپ لوگوں کو آگے رقم کی بہت ضرورت پڑے گی۔ ہمارے پاس اﷲ کا دیا بہت کچھ ہے میں آپ دونوں کی جگہ پر اس کے لیے میران شاہ سے تحفے منگوا لوں گا۔“
”ماما جی!.... آپ ہمارے درمیان بالکل نہیں بولیں گے۔ یہ بھائی اور بہن کا معاملہ ہے اگر اس نے رقم نہ لی تو ہم سمجھیں گے کہ اس نے ہمیں بھائی نہیں سمجھا تھا۔“
”نن .... نہیں بھیا۔“ وہ گھبرا کر بولی۔”یہ بات نہیں ہے۔ اصل میں اصل میں۔“
”اصل نقل چھوڑو۔“ میںنے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ”بھائیوں سے تو بہنیں زبردستی رقم نکلوالیتی ہیں تم کیسی بہن ہو کہ بھائی کی دی ہوئی رقم کو ٹھکرا رہی ہو۔“
میری جذباتی دھمکی کا رگررہی اور اس نے جھجکتے ہوئے رقم لے لی۔
میری دیکھا دیکھی امجد نے بھی آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اتنی ہی رقم زبردستی اسے تھما دی۔
”اب ہم چلتے ہیں گڑیا، ہمارے لیے دعا کرنا۔“ یہ کہہ کر ہم دونوں عبداﷲ خان سے بغل گیر ہو کر جنگل خیل کی راہ ہو لیے۔ جب تک ہم نظر آتے رہے باپ بیٹی وہیں کھڑے ہمیں جاتا دیکھتے رہے یہاں تک کہ درختوں کے جھنڈنے ہمیں ایک دوسرے کی نظروں سے اوجھل کر دیا۔
”بہنیں بھی اﷲ تعالیٰ کی عجیب نعمت ہوتی ہیں۔“ امجد نے خاموشی کو توڑا۔
”ہاں یار.... عورت کا ہر روپ ہی نرالا ہے....ماں کے روپ میں قدموں تلے جنت رکھتی ہے تو بیوی کے روپ میں راحت وسکون ہے بیٹی کے روپ میں سراپا رحمت اور بہن کے روپ میں عزت و حرمت کا نشان ہے۔“
”ویسے تمھارے خیال میں ہم سامنے والی پہاڑی کس وقت تک عبور کر لیں گے۔“ اس نے موضوع بدلا۔ اسے پتا تھا کہ مزیداگر کچھ دیر اس موضوع پر بات ہوئی تو میں نے امی جان اور سعدیہ کی یادوں میں کھو جانا تھا۔
”حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے.... پہاڑی علاقہ ہے اور یہاں فاصلے دھوکا دیتے ہیں۔ اگر تجربے کی بات کروں تو تمھیں بھی یاد ہو گا کہ ہمارے انسٹریکٹرز کہتے تھے کہ سورج اگر آپ کی پشت پر چمک رہا ہو تو ہدف آپ کو اصل فاصلے سے دور نظر آئے گا اور ہدف اگر اردگرد کی چیزوں سے بڑا ہو تو نزدیک نظر آئے گا۔ ابھی اس ہدف میں متضاد باتیں پائی جارہی ہیں اس کا مطلب ہے یہ جتنی دور نظر آرہا ہے یہ اس کا درست فاصلہ ہے۔ اس لحاظ سے ہم تین چار گھنٹوں میں اس پہاڑی کے بیس میں پہنچ جائیں گے البتہ اس کی چڑھائی چڑھنے میں کتنا وقت خرچ ہو گا یہ نزدیک جاکر اوپر چڑھنے والے راستے کو دیکھ کر پتا چلے گا۔“
”میں تم سے متفق نہیں ہوں۔“ امجد نے نفی میں سر ہلایا۔ ”تمھاری پہلی بات گودرست ہے کہ سورج ہماری پشت پر چمک رہا ہے۔ مگر دوسری بات بالکل غلط ہے کیوں کہ ہدف بے شک بڑا ہے مگر اس کے اردگرد موجود پہاڑ بھی اسی نسبت سے بڑے ہیں، اس لحاظ سے یہ پہاڑی اپنے اصل فاصلے سے دور نظر آرہی ہے اور اگلے دو گھنٹوں میں ہم اس کے بیس میں ہوں گے“.... اور امجد کا تجزیہ درست نکلا۔ اگلے دو سوا دو گھنٹوں میں ہم پہاڑی کی بیس میں پہنچ چکے تھے۔ وہ کوئی اکیلی ٹیکری نما پہاڑی نہیں تھی بلکہ پہاڑیوں کا ایک مسلسل سلسلہ تھا اور اس سلسلے میں ہم خصوصی طور پر جس پہاڑی کی بات کر رہے تھے وہ اردگرد کے پہاڑوں سے اس لحاظ سے مختلف تھی کہ باقی پہاڑیوں کے مقابلے میں اس پرسبزے کی بہتات تھی اس کی یہ نشانی ہمیں طوفان خان نے بتلائی تھی اور بعد میں عبداﷲ خان نے اس کی تصدیق کی تھی۔
پہاڑی کے بیس میں پہنچ کر ہم آرام کے لیے چند لمحے بھی نہیں رکے تھے۔ ویسے بھی درختوں کے بیچ اوپرجانے کا راستہ صاف نظر آرہا تھا اس لیے ہم نے اپنا سفر جاری رکھا، رفتار البتہ پہلے کی نسبت کم ہو گئی تھی۔
”ارے اس جگہ سے اترنا تو ناممکن ہے۔“ اوپر پہنچتے ہی امجد اس پہاڑی کی نیچے اترتی سیدھی ڈھلان کو دیکھ کر واویلا کیا۔
”ادھر سے کس بے وقوف نے تمھیں اترنے کا کہا ہے۔“
”تو پھر؟“
”ابھی ہم نے سکائی لائن ہی پر حرکت کرناہے۔“
”تو اس سے بہتر نہیں تھا کہ ہم اوپر چڑھنے کی بجائے نیچے ہی نیچے سفر کرتے اور جس جگہ اب نیچے اتریں گے۔ اسی کی مخالف سمت اوپر چڑھ جاتے۔“
”اگر گدھوں کو اعتراض نہ ہوتا تو میں ضرور تمھیں گدھا کہتا۔ بے وقوف جو لوگ اس راستے کو استعمال کرتے رہے ہیں میں انھی کی رہنمائی کے مطابق چل رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے جس جگہ اترنے کا راستہ ٹھیک ہو اس جگہ کی چڑھائی ناقابل عبور ہو۔“
”شکریہ آپ نے اپنے ہم جنسوں کا اعتراض مجھ تک پہنچا دیا۔“
ہم کچھ دیر خاموشی سے چلتے رہے ....اس خاموشی کو امجد ہی نے توڑا۔
”جانو صاحب !بھوکا مارنے کا ارادہ ہے۔ کچھ کھانے پینے کے بارے بھی سوچو۔“
” کوئی موزوں جگہ نظر نہیں پڑ رہی۔ میرا ارادہ تھا کہ کسی چشمے کے کنارے بیٹھ کر کھائیں گے۔“
”چھوڑو چشمے کو.... بوتلوں میں پانی موجود تو ہے۔“ وہ راستے کے قریب ایک گھنے درخت کی طرف بڑھا۔ میں بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔ صبح سے ہم بغیر رکے چل رہے تھے لیکن کوئی خاص تھکن نہیں ہوئی تھی اور اس کی وجہ کمانڈو ٹریننگ تھی ورنہ ان علاقوں میں مسلسل اتنی دیر تک سفر کرنا بڑا جان جوکھوں کا کام تھا۔ ہم چند منٹ پاﺅں پسار کر پتھریلی زمین پر بیٹھ گئے۔ اس طرح بیٹھنے سے بڑا سکون مل رہا تھا۔تیز دھوپ اور کٹھن سفر کی وجہ سے جسموں سے نکلنے والا پسینہ چند لمحوں ہی میں خشک ہو گیا تھا۔ پنجاب کے لحاظ سے ہمیں مارچ کے اخیراور اپریل کے پہلے ہفتے کے موسم کی طرح کا موسم محسوس ہو رہا تھا۔ امجد نے کپڑے میں بند روٹی کھول کر درمیان میں رکھی۔ تندوری روٹی، جنگلی ساگ جس میں ممتا کی محبت اور ہمشیرہ کے پیار کی خوشبو رچی بسی تھی ہم چند لمحوں میں سب چٹ کر گئے۔
”جانو صاحب مجھے تو نیند آرہی ہے۔“ امجد پتھر پر سر ٹیک کر لیٹ گیا۔ ”اگر تُم نے جانا ہے تو بہ صدشوق تشریف لے جا سکتے ہو۔“
”ماجے !.... آگے راستہ خطرناک ہے۔ روشنی روشنی میں جتنا سفر طے ہو جائے بہتر ہے رات گزارنے کے لیے کوئی ٹھکانہ بھی ڈھونڈنا ہے ہر جگہ گل مکئی بہن نہیں ٹکراتی کہ جو زبردستی مہمان بنا کر ساتھ لے جائے۔“
”اﷲ کسی کو بھی تمھارے جیسا سخت مالک نہ دے....غضب خدا کا سارا دن خوار کرنے کے بعد بھی چند لمحوں کا آرام تمھیں برا لگ رہا ہے۔“
میں نے کہا۔”ساری رات آرام ہی تو کرنا ہے۔“ مگر وہ خاموش رہا تھا۔
اس مرتبہ ہماری رفتار پہلے کے مقابلے میں کچھ کم تھی۔ کھانا کھانے کے بعد جسم آرام کا طلب گار ہوتا ہے۔ مگر ہماری قسمت میں آرام نہیں تھا۔ سورج غروب ہونے میں تھوڑی ہی دیر باقی تھی کہ ہم اترنے کی جگہ پر پہنچ گئے۔ اس کی نشانی طوفان خان اور عبداﷲ خان کے مطابق پہاڑی سلسلے کا دو حصوں میں منقسم ہونا تھا۔ ایک شاخ اسی سیدھائی میں چلی گئی تھی جبکہ دوسری شاخ بائیں طرف مڑ گئی تھی۔ اس کے علاوہ پارکی پہاڑی اس جگہ آ کر ختم ہو گئی تھی اور وہاں ایک بڑا ساخشک نالہ دکھائی دے رہا تھا۔
”ماجے !....یہاں سے اتر کر اس نالے میں سفر کرنا ہے۔“
”ویسے آپ ٹھیک کہہ رہے تھے یار اس جگہ سے اوپر آنا ناممکن ہے۔“ اس نے آنے کی سمت کی چڑھائی کے جانب اشارہ کیا۔
”ہاں مگر اترائی بہت مناسب ہے۔“ میں نیچے اترنے میں پہل کی، وہ بھی سر ہلاتے ہوئے میرے پیچھے چل پڑا۔ ہم اب تک درمیان میں ہی تھے کہ سورج ڈوب گیا مگر اندھیرا نہیں چھایا تھا۔ نالے کے درمیان اور پہاڑی کی تقریباً چوتھائی بلندی تک کافی گھنے درخت تھے ہم ان درختوں کے جھنڈ سے کوئی پچاس ساتھ قدم دور تھے کہ اچانک وہاں سے تین افراد برآمد ہوئے ان کا رخ ہماری جانب ہی تھا، ہمیں دیکھ کر وہ ذرا سا ٹھٹکے گویا ہم پہ اسی وقت ان کی نظر پڑی تھی اور پھر ہماری طرف چل پڑے۔
”پہ دے لارہ تاسو سوک جینئی خونہ دہ لیدلے۔“(اس راستے پہ آپ نے کوئی لڑکی تو نہیں دیکھی) نسبتاً چھوٹے قد والے نے پوچھا۔ وہ تمام مضبوط بدن اورمیانہ قامت افراد تھے۔ تمام کے سر پر عورتوں کی مانند لمبے لمبے بال تھے۔ کلاشن کوفیں انھوں نے کندھوں سے لٹکانے کی بجائے ہاتھوں میں اٹھائی ہوئی تھیں۔ مگر ہم سے بات کرنے والے کا قد باقیوں کے مقابلے میں چھوٹا تھااور اس کے پوچھنے کے انداز سے ظاہر ہو ہا تھا کہ وہ حکم دینے کا عادی ہے۔ ہم سے بھی اس نے اسی طرح حکمیہ لہجے میں بات کی تھی۔
جواباََ میں نے نفی میں سرہلانے پر اکتفا کیا تھا۔
”مجھے جھوٹ بولنے سے سخت نفرت ہے۔“ وہ غصیلے لہجے میں بولااورکلاشن کوف میری طرف تان لی۔ امجد نے کلاشن کوف کندھے سے لٹکائی ہوئی تھی۔ مگر بدقسمتی سے مخالف نے بغیر کسی وجہ کے گن مجھ پر تان لی تھی۔ امجد نے بعد میں گن کندھے سے اتارنے کی کوشش کی۔ مگر وہ امجد کو ایسا موقع نہیں دے سکتے تھے۔گولی چلنے کا دھماکہ ہوا، گولی اس کے سر سے چند انچ ہی اوپر گزری ہو گی۔
”کلاشن کوف لاندے غزار کا“(کلاشن کوف نیچے پھینک دو) مخاطب امجد تھا۔ امجد نے ہونٹ بھنیچتے ہوئے گن اپنے پاﺅں میں گرا دی۔ اس کے ساتھیوں نے بھی کلاشن کوفیں ہماری طرف سیدھی کر لی تھیں۔
”میرا نام ہیبت خان ہے اور میں نے بڑے بڑے بگڑوں ہوﺅں کو سیدھا کیا ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ سچ سچ بتا دو لڑکی کو کہاں چھپایا ہے۔“ اس مرتبہ بھی پستہ قامت ہی بولا تھا۔ جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ باقی دونوں یا تو اس کے ملازم تھے یا کم از کم رتبے میں اس سے نیچے تھے۔
”آپ ہیبت خان ہیں یا وحشت خان ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ اگر ہم نے کسی عورت یا لڑکی کو دیکھا ہوتا تو ضرور آپ کو مطلع کرتے۔ اس لیے بات بڑھانے سے بہتر ہے کہ آپ اپنی راہ لیں اور ہمیں بھی جانے دیں۔“ میں نے بہ مشکل اپنا غصہ ضبط کیا تھا۔
”ہا ہا ہا....سن رہے ہو حکم داد!.... بات بڑھانے سے بہتر ہے ہم اپنی راہ لیں۔ کل کا لونڈا ہیبت خان کو نصیحت کر رہا ہے۔“ اس کے دونوں ساتھی بھی ہنس پڑے تھے۔
”حکم دادا ذرا ان کی تلاشی لو تاکہ پتا چلے یہ کتنے پانی میں ہیں۔ ایسے لونڈے کافی نقدی جیبوں میں لیے پھرتے ہیں۔“
ایک سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھا اس کا رخ میری جانب تھا سب سے پہلی غلطی جو اس سے سر زد ہوئی وہ اپنی گن کو کندھے سے لٹکانے کی تھی۔ دوسرے نمبر پر وہ آگے بڑھتے ہوئے اپنے دونوں ساتھیوں اور ہمارے درمیان حائل ہو گیا تھا۔ اس علاقے میں چونکہ اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو صرف گن فائیٹر ہوتے ہیں بچپن ہی سے ہتھیاروں کے ساتھ کھیلنے کی وجہ سے ان کانشانہ بہت اچھا اور ہتھیار پر کنٹرول وقابو بہت بہتر ہوتا ہے مگر بغیر ہتھیار کے وہ جسمانی طاقت کے بل پر کسی کو زیر کر لیں تو دوسری بات ہے۔ خالی ہاتھ لڑنے کے فن سے ناواقف ہوتے ہیں۔ وہ اینڈتا ہوا میرے قریب پہنچا۔ اس کا ارادہ میری تلاشی لینے کا تھا جبکہ میں نے اس کے لیے کوئی اورپروگرام سوچا ہوا تھا۔ اس نے شاید کبھی اتنی لمبی چھلانگ نہیں لگائی ہوگی جس طرح کہ اس وقت وہ اُڑ کر گیا تھا۔اس کے ساتھیوں میں سے ایک کی کلاشن کوف گرجی مگر یہ اضطراری فائر تھا جو اپنے ساتھی کو بچانے کے لیے اس نے گن کی نالی آسمان کی طرح کر کے کیا تھا۔
امجد کے لیے اتنی مہلت کافی تھی اس نے بجلی کی سی سرعت سے اپنے قدموں میں پڑی کلاشن کوف اٹھالی۔ حکم داد ہیبت خان اور اپنے دوسرے ساتھی کو ساتھ لیے نیچے گر گیا تھا۔
ان کے سنبھلنے سے پہلے امجد دھاڑا....
”خبر دار کوئی حرکت نہ کرے۔“ امجد کی اردو شاید انھیں سمجھ نہیں آئی تھی کہ ہیبت خان نے لیٹے لیٹے ہی اپنی کلاشن کوف کارخ ہماری طرف کرنا چاہا مگر امجد تیار تھا اس کی گن سے نکلنے والی گولی ہیبت خان کے بازو میں پیوست ہو گئی تھی۔
”اگر زندگی عزیز ہے تو ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہو جاﺅ۔“ اس مرتبہ میں نے انھیں پشتو میں خبر دار کیا۔
لیکن شاید انھیں زندگی عزیز نہیں تھی انھوں نے میری دھمکی کی قطعاً پرواہ نہ کی اور اس کی وجہ غالباً ان کا وہ جاہلی غرور وتکبر تھا جس کی بہ دولت وہ کسی کی دھمکی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، اور یہ غرور انھیں لے ڈوبا۔اس مرتبہ امجد نے سنگل شاٹ کی بجائے سلیکٹو لیور کو برسٹ پر سیٹ کرتے ہوئے لبلبیپریس کیا، شام کے سناٹے میں کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ گونجی اور تینوں ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگے۔
” غلط تو نہیں کیا؟“ اس نے فائر کرنے کے بعد پوچھا۔
”نہیں ٹھیک ہوا ہے۔ اگر ان میں سے ایک بھی بچ جاتا تو ہمارے لیے ایک نیا محاذ کھل جاتا۔“
” اب ان کا کیا کریں؟“
”ان کے پاس موجود ایمونیشن حاصل کرو اور چلتے ہیں یہاں زیادہ دیر رکنا ٹھیک نہیں، گو فائرنگ یہاں آئے روز کا معمول ہے لیکن پھر بھی برے وقت کا کوئی پتا نہیں چلتا یہ نہ ہو کوئی ہمیں یہاں دیکھ لے اور ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کی شروعات ہو جائے۔“
ہم نے جلدی سے ان کی سرسری تلاشی لی نقدی اور ایمونیشن کو اپنے قبضے میں کرتے ہوئے ہم وہاں سے روانہ ہو گئے لیکن اس سے پہلے ان کی لاشیں راستے سے تھوڑا ہٹ کر موجود ایک گڑھے میں دھکیلنا نہیں بھولے تھے۔ کلاش کوفیں بھی ان کے ساتھ ہی گڑھے میںپھینک دی تھیں۔ یہ ایک وقتی احتیاط پسندی تھی ورنہ راستے میں کافی مقدار میں ان کا خون پھیلا ہوا تھا۔ جس سے آسانی سے ان کی لاشوں کی نشاندھی ہو جانا تھی۔ لیکن رات کے وقت کسی کو بھی راستے میں پڑا خون نظر نہیں آسکتا تھا، صبح تک ہم نے یوں بھی اس جگہ سے کافی دور نکل جانا تھا۔
”ماجے !....اب راستے سے ہٹ کر چلنا پڑے گا۔“
” ٹھیک ہے، مگر آسمان کو دیکھ رہے ہو۔“
”کیا مطلب ؟“ میں نے اوپر دیکھا۔
”بادل دیکھو کس تیزی سے اکٹھے ہو رہے ہیں اگر بارش شروع ہو گئی تو ہم اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکیں گے۔“
”یہ تو ہے۔“ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ ہلکی ہلکی ہوا چلنا شروع ہو گئی تھی اور شام کا ملگجا اندھیرا بادلوں کے باعث گہرا ہو گیا تھا۔ہم دونوں راستے سے آہستہ آہستہ دائیں ہٹتے جارہے تھے۔
”رات گزارنے کے لیے کوئی موزوں جگہ بھی دھیان میں رہے۔“
”اس اندھیرے میں موزوں جگہ خاک ملے گی۔“ مگر میں اس کی بات کا جواب دئےے بغیر دائیں بائیں کسی مناسب جگہ کی تلاش میںنگائیں دوڑاتا رہا۔
”جانو!....اگر ہم کسی کے مہمان بن جائیں تو کیا مضائقہ ہے۔“
”میں نے تو سوچا تھا کہ ڈاکٹر شہلا جیسی پڑھی لکھی لڑکی کا ساتھ تم پر کچھ اثر ڈالے گا مگر اس کے آثار نظر نہیںآرہے تیرا گدھا پن پہلے کی طرح روز افزوں ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔“
”اس میں گدھے پن کی کیا بات ہے؟“
”بے وقوف !.... ہم تین آدمیوں کو قتل کر چکے ہیں۔ اور ان کے گھر یا قبیلے کے لوگ قاتل کی تلاش اردگردکے علاقے ہی سے شروع کریں گے اور اس کے بعد ہمارا منظرِ عام پر آنا کچھ مشکل نہیں ہو گا۔“
”ہم نے کون سا ہفتا گزارنا ہے۔ صبح ہوتے ہی نکل چلیں گے۔“
”اگر ہم اپنے دشمن کی تلاش میں اتنی دور کا سفر کر سکتے ہیں تو ان لوگوں کے لیے جنگل خیل تک ہمارا پیچھا کرنا کوئی اتنا مشکل نہیں ہو گا۔“
”اچھا ٹھیک ہے یار!.... نہیں ٹھہرتے کسی کے گھر میں؟“ اس نے کلاشن کوف کو کندھے سے الٹا لٹکالیاکیوں کہ ہلکی ہلکی بوندیں گرنا شروع ہو گئی تھیں اوربیرل میں پانی کے قطرے چلے جانے کی صورت میں بیرل کے زنگ پکڑنے کا خدشہ تھا۔ بارش کی رفتار میں آہستہ آہستہ تیزی آتی گئی۔ ہم مزید کچھ دیر اسی طرح بغیر آڑ کے رہتے تو مکمل بھیگ جاتے مگر خوش قسمتی سے آسمانی بجلی کی چمک میں میری نظر دائیں طرف چند قدم کے فاصلے پر موجود ایک کھوہ پر پڑی۔ یہ غیبی امداد تھی کیوں کہ میرا غار کے دھانے کی جانب دیکھنا اور بجلی کا چمکنا ایک ہی لمحے میں وقوع پذیر ہوا تھا۔غار کے دھانے کے ساتھ ایک جھاڑی نما درخت بھی موجود تھا جس نے کافی حد تک اس کے منہ کو ڈھانپا ہوا تھا۔
”ماجے اس طرف۔“ میں پہاڑی کھوہ کی طرف بڑھ گیا۔ امجد بھی بغیر کچھ کہے میرے پیچھے چل پڑا۔
اچانک بارش کی رفتار میں اضافہ ہوا لیکن بارش کی تیزی بھی مجھے حفاظتی قدم اٹھانے سے بازنہ رکھ سکی۔ میں نے بائیں ہاتھ میں پستول تھامتے ہوئے دائیں ہاتھ سے جیب سے پنسل ٹارچ نکالی اور اسے جلا کر کھوہ کے اندر گھس گیا۔ کسی بھی نقصان پہنچانے والے درندے سے نمٹنے کے لیے میں ذہنی طور پر تیار تھا۔ اس چند گز لمبی غار میں کسی درندے کو دیکھ کر مجھے اتنی حیرانی نہ ہوتی جتنی اس نوجوان لڑکی کو دیکھ کر ہوئی تھی جو ہمارے اندر داخل ہوتے ہی گھبرا کر کھڑی ہو گئی۔ ٹارچ کی روشنی میں اس کا ہراساں چہرہ اس خوف زدہ چوہیاکی مانند لگا جس نے بلی کو دیکھ لیا ہو اور اس کے لیے کوئی راہ ِفراربھی نہ ہو۔
”جانو یہ کون ہے‘؟‘۔ امجد نے اسے دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا تھا۔
”اﷲ کی مخلوق ہے بھائی۔“
”تت ....تا....سو.... سوک یئی۔“(آپ کون لوگ ہو) وہ ہکلاتے ہوئے بولی۔
”گھبراﺅ مت ہم مسافر ہیں۔“ میںنے اسے تسلی دی۔
یہ سن کر اس کے چہرے کی رنگت بحال ہونے لگی۔ چہرے کے نقوش سے وہ کافی دلکش اور خوب صورت دکھائی د ے رہی تھی۔ میں نے ٹارچ آف کر دی روشنی میں خواہ مخواہ وہ جھجک محسوس کرتی۔
”آپ ....آپ....کہاں سے آرہے ہیں.... اور کہاں جانے کا ارادہ ہے؟“
”ہم میران شاہ سے آرہے ہیں، جنگل خیل میں کام تھا۔“
”راستے میں آپ کو بہرام شاہ وادی کی طرف کوئی جاتے ہوئے ملا تھا۔“
”نہیں۔“ میں دانستہ جھوٹ بولا۔
” تھوڑی دیر پہلے فائرنگ کی آوازیں آرہی تھیں۔ وہ آپ لوگوں نے کی تھی؟“
”نہیں۔“ ایک مرتبہ پھر میرا جواب نفی میں تھا۔
”ہوں۔“ کہہ کر وہ خاموش رہی۔
” آپ کیوں پوچھ رہی ہیں کہیں.... آپ یہاں کسی کے ڈر سے تو نہیں چھپیں؟“
”نن.... نہیں تو۔“ وہ گڑبڑاگئی۔
”مینوں تاں اے اوہا کڑی لگ رہی ہیے جدے بارے او منحوس پچھ رہیاسی۔“ (مجھے تو یہ وہی لڑکی لگ رہی ہے جس کے بارے وہ منحوس(ہیبت خان) پوچھ رہا تھا۔“ امجد نیچے بیٹھتے ہوئے پنجابی میں بولا۔ تاکہ وہ لڑکی ہماری بات چیت نہ سمجھ سکے۔
”ٹھیک پہچانا۔“ میںنے اس کی تائید کی۔ ”ویسے کیا خیال ہے ا س کی مدد نہ کی جائے مجھے تو یہ مظلوم لگ رہی ہے ؟“
”پنگا لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔“اس نے مجھے جھڑکا۔ ”یہاں ہر دوسرا بندہ مظلوم ہے ہم کس کس کی مدد کرتے پھریں گے۔“
”خواہ مخواہ کی پنگا بازی کے حق میں تو میں بھی نہیں ہوں۔ میرا مقصد فقط اتنا تھا کہ اسے گھر والوں تک پہنچا دیا جائے ....اور بس۔“
”ایک تو ہرخوب صورت لڑکی کو دیکھتے ہی نہ جانے کیوں مردوں میں ہمدردی کے جذبات اتنی شدت سے ابھرتے ہیں کہ انھیں مقصد سے بھی غافل کر دیتے ہیں ؟“
”آ.... آپ لوگ کس زبان میں باتیں کر رہے ہیں۔“ اس سے پہلے کہ میں امجد کو کرارا سا جواب دیتا وہ لڑکی درمیان میں بول پڑی۔ لہجے میں موجود پریشانی اس سے نہ چھپائی گئی تھی۔
” ہماری آپس کی بات ہے، تمھارا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔“ میرے لہجے میں چھپی بے رخی نے اسے چپ سادھنے پر مجبور کر دیا تھا۔ عورت تو نام ہی مجبوری کا ہے۔ رات کے اندھیرے اور اتنے خراب موسم میں دو اجنبی مردوں کے درمیان ایک ایسی لڑکی کا پھنس جانا جو خوب صورت بھی ہو کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔
”تمھیں شاید میری بات بری لگی ہے....لیکن اگر ہمدردی کو ایک جانب رکھ کر سوچو تو تمھیںیہ غلط نہیں لگے گا۔ ضروری نہیں کہ یہ لڑکی وہی ہو جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے تھے۔“ امجد دانستہ ہیبت خان کا نام گول کر گیا۔ ”اور اس کا گھبرانا یا جھجکنا اس وجہ سے بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اس وقت میں دو اجنبی مردوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ دوسرا اگر ہم رسک لیتے ہوئے اسے ان مردار ہونے والوں کا بتا دیں تو یہ مطلوبہ لڑکی ہوتے ہوئے بھی اس راز کو راز نہ رکھ سکے گی جب ہم اسے گھر والوں تک پہنچائیں گے تو اس بات کا لازمی چرچا ہو گا اور ہم منظر عام پر آجائیں گے۔ ان کے دشمن ہمیں بھی اپنے دشمنوں کی فہرست میں شامل کرلیں گے۔ ٹھیک ہے زندگی اﷲ کے ہاتھ میں ہے لیکن خواہ مخواہ اپنی توانائیوں کو ضائع کرنا کہاں کی عقلمندی ہے، بے شک ایسی سرگرمیاںہمیں اپنے مقصد سے غافل نہ کر سکیں گی ....مگر دورضرورکر دیں گی اور ہماری مشکلات میں اضافے کا باعث بنیں گی۔ باقی مرضی تمھاری اپنی ہے۔ اپنے ہر کام اور ارادے میں مجھے شانہ بہ شانہ پاو¿گے۔“
اس کی کھری کھری باتیوں نے مجھے خاموش کر دیا تھا۔میں غار کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ امجد نے بھی میری خاموشی دیکھتے ہوئے مزید کچھ کہنے سے گریز کیا تھا۔میں اسی حالت میں بیٹھا کافی دیر تک مختلف سوچوںمیں گم رہا یہاں تک کہ امجد کے بھاری سانسوں کی آواز میرے کانوں میں آنے لگی۔ اسے پتا تھا کہ میرے لیے سونا مشکل ہو گا اس لیے وہ بے دھڑک سو گیا تھا۔ غار سے باہر بارش اسی تسلسل سے جاری تھی مگر غار کے اندر ماحول کافی خوشگوار تھا۔ ہلکی خنکی محسوس ہونے کے باوجود اگر ایک کمانڈو سونے کی کوشش کرتا تو وہ آسانی سے کامیاب ہو سکتا تھا۔ جس طرح کہ امجد اپنی کوشش میں کامیاب رہا تھا۔ اچانک مجھے لگا وہ لڑکی رو ر ہی ہے۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا میں بے ساختہ پوچھ بیٹھا....
”کیا ہوا.... کیوں رو رہی ہو؟“
”ک.... کک کچھ نہیں۔ میں رو تو نہیں رہی۔“ وہ گڑبڑا گئی۔
”تمھارا نام کیا ہے۔“ میں نے سلسلہ گفتگو دراز کیا۔ ہزار قسم کے دلائل دینے کے باوجود میں خود کو اس سے لا تعلق نہیں رکھ سکا تھا۔
”سعدیہ۔“
”کیا؟“ میرے لہجے میں حیرانی کا عنصر نمایاں تھا۔
”جی سعدیہ۔“اس نے اپنا نام دہرایا۔
” اس غار میں کیسے پھنس گئی ہو؟۔“ میں نے اس سے وہ سوال پوچھا جو مجھے شروع میں پوچھنا چاہئے تھا۔
”مم.... مم میں.... اپنی بکری کو تلاش کررہی تھی کہ بارش شروع ہو گئی مجبوراً مجھے یہاں پناہ لینا پڑی۔ میرا گھر یہاں سے تھوڑی ہی دور ہے۔ بارش رکتے ہی چلی جاﺅں گی۔“اس کا لہجہ اور انداز واضح طور پر اس کے جھوٹا ہونے پر چغلی کھا رہا تھا۔
”اب تو کافی دیر ہو گئی ہے۔ یہ نہ ہو گھر والے تمھارے لےے پریشان ہوں۔“
”ن....نن نہیں میں انھیں بتا کر آئی تھی کہ اگر لیٹ ہو جاﺅں تو پریشان نہیں ہونا میں بکری تلاش کر کے ہی واپس آﺅں گی۔ یوں بھی ہماری کسی سے دشمنی تھوڑی ہے کہ انھیں پریشانی ہو؟“
”ہیبت خان سے بھی کوئی دشمنی نہیں۔“ میں نے ایسا سوال کیا کہ اس کی سٹی گم ہو گئی اور چند لمحوں تک وہ کچھ نہ بول سکی مگر جب بولی تو الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
”ی.... یہ ہے.... بت....ک.... کک.... کون ہے۔“
”ہے نہیں تھا۔ ہمارے ہاتھوں جہنم واصل ہو چکا ہے۔ راستے میں ملا تھا کسی لڑکی کے بارے پوچھ رہا تھا۔ اظہارِ لاعلمی پر ہمارے ساتھ بھڑ گیا نتیجے میں اپنی اوردو ساتھیوں کی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اورجہاںتک میرا اندازہ ہے وہ لڑکی تم ہو۔“
”کک ....کون سی لڑکی۔“ وہ گھبراگئی۔ ”یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیںمم مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی۔“
”سعدیہ گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں۔ میں نے تمھارے سامنے کوئی غلط بیانی نہیں کی یہ تمام باتیں بالکل سچ ہیں۔ تھوڑی دیر پہلے میری ساتھی سے بھی اسی موضوع پر بحث ہو رہی تھی کہ تمھاری مدد کی جائے یا نہ کی جائے مگر تمھارا نام سننے کے بعد میں اتنا کر سکتا ہوں کہ تمھیں گھروالوں تک بہ خیریت پہنچا دوں۔ کیوں کہ تم میری ایک عزیز ہستی کی ہم نام ہو جو ایک حادثے میں مجھ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئی ہے۔ البتہ اس سے زیادہ کی توقع مجھ سے نہ رکھنا۔“
”گھر، کون سا....گھر۔“ وہ گہری سوچ میں ڈوب گئی۔ ”جب ایک مرتبہ لڑکی گھر سے باہر نکلتی ہے تو گھروالوں کا اعتبارا س سے اٹھ جاتا ہے ہمارے ہاں لڑکی گھر سے ایک مرتبہ ہی رخصت ہو تی ہے۔ چاہے گھر والوں کی مرضی سے ہو، اپنی مرضی سے ہو یا اس کا سبب کوئی اور ہو۔ اس کی واپسی بہ ہر حال ممکن نہیں رہتی۔“
”کیا مجھے اپنی کہانی سنا سکتی ہو؟۔“ میں اس کے لہجے میں چھپے دکھ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔
”میری کہانی بڑی مختصر سی ہے۔“ اس کے لہجے میں دنیا جہاں کا دکھ سمٹ آیا۔ ”میں ہیبت خان جیسے شقی القلب کے ظلم کا شکار ہوئی ہوں۔ ہیبت خان اور اس کا بھائی باسمت خان دونوں لڑکیوں کی خریدو فروخت کا کاروبار کرتے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں جا کر شادی کے بہانے کمسن لڑکیوں کو ان کے والدین سے خرید کرلے آنا اور پھر انھیں عرب کی مختلف ریاستوں کے رئیسوں کو بیچنا، اگر کسی دور دراز گاﺅں میں کوئی اکیلی خوب صورت لڑکی انھیں مل جائے تو اسے یہ اغوا کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ ایسی لڑکیوں کو یہ بہت سنبھال کررکھتے ہیں کہ ان کا معاوضا انھیں بہت اچھا ملتا ہے۔ میں باسمت خان کی منکوحہ ہوں، مگر شادی کے بعد پورا ہفتا گزر جانے کے بعد بھی اس نے مجھے چھوا تک نہیں تھا،ایک دن بدقسمتی یا خوش قسمتی سے وہ شراب کے نشے میں دھت گھر میں داخل ہوا اور پھر اپنے آپ کو مجھ سے باز نہ رکھ سکا۔ جب ہیبت خان کو اس بات کا پتا چلا تو اس نے اپنے چھوٹے بھائی کی خوب بے عزتی کی۔ وہ دونوں اس وقت بیٹھک میں مصروف گفتگو تھے۔ ہیبت خان میرے شوہر کو کہہ رہاتھا۔
” تمھاری بے غیرتی کی وجہ سے اب کوئی رئیس بھی اسے خریدنے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ وہ ان چھوا مال مانگتے ہیں اور منہ مانگے دام ادا کرتے ہیں۔“
”بھائی جان کوئی بات نہیں۔“ باسمت خان دبے لہجے میں بولا تھا۔ ”عرب رئیس نہ سہی لاہور کے کئی کاروباری اچھے داموں اسے خرید لیں گے۔ پہلے بھی تو اس طرح کئی دانے ہم نکال چکے ہیں۔“
”لاہوربیوپاریوں اور عرب شیخوں کے معاوضے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے سمجھے۔“ ہیبت خان نے کہا اور پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد بولا۔”بہ ہر حال جو کچھ ہونا تھا وہ تو ہو چکا تم اس طرح کرنا آج رات یہیں بیٹھک میں سو جانا غلطی تو تم سے ہو گئی ہے اب کچھ اپنے بارے بھی سوچ لیں کافی وقت گزر گیا ہے اس طرح کے کسی پیس سے لطف اندوز نہیں ہو سکا ہوں۔ آج میری باری ہے۔“ان کی باتیں سن کر میرے پاﺅں تلے زمین نکل گئی ،ان کی گفتگو سے کچھ تو میں سمجھ گئی تھی باقی ملازما نے بتا ان کے کرتوتوں کے بارے آگاہ کر دیا اور میں اسی وقت ان کے گھر سے نکل بھاگی۔ اپنے تئیں وہ اس بات سے مطمئن تھے کہ میں ان کے کردار سے لاعلم ہوں اور ان کی اسی بے خبری کی سے میں نے فائدہ اٹھا یا، لیکن بدقسمتی سے میں تھوڑی دور ہی آئی ہوں گی کہ ہیبت خان کی نظر مجھ پر پڑ گئی اس وقت وہ اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ کہیں سے آرہا تھا اس نے میرا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ میرا ارادہ سیدھے راستے پر سفر کرنے کا تھا مگر بعد میں مَیں نے راستے کو چھوڑ دینا مناسب سمجھا۔ اس کے بعد کے واقعات آپ کے علم میںہیں۔“
”تمھارا شوہر بے غیرت نکلا....ہیبت خان کی دسترس سے اﷲ تعالیٰ نے تمھیں محفوظ رکھا اور وہ جہنم واصل ہو چکا ہے۔ اب ان شاءاﷲہم تمھیں خیریت سے والدین تک پہنچا دیں گے اس کے باوجود تم اتنی پریشان اور غمگین دکھائی دے رہی ہو۔ گھر والوں کو جب تم اپنی کہانی سناﺅ گی تو یقینا وہ تمھیں قبول کرنے میں پس و پیش سے کام نہیں لیں گے۔“
”یہ بات اتنی بھی آسان نہیں ہے جتنی آپ سمجھ رہے ہیں۔ میں ابھی تک باسمت خان کے نکاح میں ہوں۔ اس نے قیمت چکائی ہوئی ہے میری....پھر میرے والد نہایت غریب آدمی ہیں اور ہم جنگل خیل کے باسی ہیں جس میں ہر شخص اپنا جو ابدہ خود ہوتا ہے جبکہ باسمت خان کی پشت پر اس کا پورا گاﺅں ہے۔ اگر اس کا گاﺅں بھی اس کے ساتھ نہ ہو تب بھی ہمارا گھرانہ ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور اس بار اگر میں اس کے ہتھے چڑھ گئی تو بہت برا سلوک کرے گا میرے ساتھ.... میری وجہ سے اس کا بڑا بھائی بھی مارا جا چکا ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ لوگ اپنی راہ لیں اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔ یہ نہ ہو میری نحوست آپ لوگوں پر بھی پڑ جائے اور آپ لوگوں کو باسمت خان یا اس کے آدمیوں سے کسی قسم کا نقصان پہنچ جائے۔“
”اس بات کی فکر تم مت کرو۔“ میں اٹھ کر غار کے دھانے کی طرف بڑھ گیاتاکہ باہر بارش کا جائزہ لے سکوں۔ بارش بالکل رک چکی تھی لیکن آسمان ابھی تک بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ میں اندر آ کر بیٹھ گیا۔ امجد کے ہلکے ہلکے خراٹوں کی آواز تواترسے آرہی تھی۔ سعدیہ خاموش ہو گئی تھی۔ میں نے بھی آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کی۔ گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کی نیند مجھے تازہ دم کر سکتی تھی۔ سونے کی کوشش کامیاب رہی اور چند لمحوں میں مَیں گہری نیند سو گیا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر25
ریاض عاقب کوہلر
آنکھ کھلی تو امجددیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا نظر آیا جبکہ سعدیہ غار کے کونے میں بے سدھ پڑی تھی اس کا مطلب تھا کہ وہ ذہنی طور پر ہم سے مطمئن ہو گئی تھی۔ غار کے اندر ہلکی ہلکی ملگجی سے روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
”ماجے.... کیا خیال ہے، چلیں۔“
”اس مصیبت کا کیا کریں گے۔“ اس کا اشارہ سعدیہ کے جانب تھا۔
”یہ بہت بد قسمت لڑکی ہے ماجے۔ اس کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ میرا خیال ہے اسے گھر تک پہنچا دیتے ہیں۔ یہ ویسے بھی جنگل خیل کی باسی ہے اور ہماری منزل بھی جنگل خیل ہی ہے۔“
”مجھے پہلے سے پتا تھا رابن ہڈ صاحب کہ تمھاری رگ ہمدردی جب تک اپنی مرضی نہ منوالے، پھڑکتی رہے گی۔“
”اس کی ایک دوسری وجہ بھی ہے ماجے!....“
”ہاں وہ ہے اس کی خوب صورتی.... اور وہ دوسری نہیں پہلی وجہ ہے۔“
”اس کا نام سعدیہ ہے۔“ میں نے اس کے مذاق کو درخور اعتناءنہ سمجھااور مختصر الفاظ میں اس کی کہانی دہرا دی۔
”اچھا اس کو جگاﺅ تاکہ چلیں۔“
”سعدیہ۔“ میں نے اسے زور سے پکارا مگر وہ اسی طرح پڑی رہی۔
میں نے تھوڑا سا آگے ہوااور اس کے ہاتھ کو پکڑ کر آہستہ سے ہلایا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔
”کک ....کیا بات ہے؟“
”سورج طلوع ہونے والا ہے۔ چلنے کی تیاری کرو۔“
”میں تیار ہوں۔“ وہ سنبھل گئی۔
اس کے ننگے پاﺅں کو دیکھ کر میں نے پوچھا۔”تمھاری چپل کدھر ہے؟۔“
”چپل ،مَیںساتھ نہیں لا سکتی تھی۔ بہ ہر حال آپ پریشان نہ ہوں.... مَیں ننگے پاﺅں پھرنے کی عادی ہوں۔“
میں سر ہلاکر غار کے دھانے کی طرف بڑھ گیا۔ میرے پیچھے امجد اور اس کے پیچھے سعدیہ تھی۔ میں نے غار کے دھانے پر کھڑے ہو کر باہرجھانکا مگر کوئی ذی روح نظر نہ آیا۔ آسمان بھی بالکل صاف تھا۔
”کوئی نظر آرہا ہے؟۔“ امجد نے پوچھا۔
”نظر خاک آئے چاروںطرف جھاڑیوں کے اتنے گھنے جھنڈ ہیں....سامنے کاعلاقہ البتہ صاف ہے۔“
” پھر بسم اﷲ پڑھو.... یہاں سے جتنی جلدی ہو سکے نکلنے کی کوشش کریں۔“
”سعدیہ!.... تمھارے خیال میں جنگل خیل کی طرف جانے کے لیے کون ساراستہ اختیار کیا جائے؟“مجھے اس کا نام لیتے ہوئے سکون سا ملا تھا۔اپنی سعدیہ کو تو جانے میں کن کن ناموں سے پکارا کرتا تھا۔
”اگر اصل راستہ اختیار کیا جائے تو وہ ڈابیر میں سے ہو کر گزرتا ہے اور ڈابیر باسمت خان کا گاﺅں ہے۔ اور وہ اپنے بھائی کی تلاش میں پاگل کتے کی طرح سرگرداں ہوگا۔ دوسرا راستہ تھوڑا طویل ہے اور اس پہاڑی کے پیچھے سے ہو کر گزرتا ہے۔“ اس نے دائیں ہاتھ پر موجود ایک اکیلی پہاڑی کی طرف اشارہ کیا۔
”ٹھیک ہے.... پہاڑی والا رستہ اختیار کرتے ہیں۔“ میں غار سے باہر آگیا۔ سعدیہ میرے پیچھے ہولی جبکہ امجد اس سے پیچھے محتاط انداز میں دائیں بائیں کا جائزہ لیتے ہوئے چل پڑا۔
جلد ہی ہم نیچے اتر گئے۔ اترائی ایک بہت وسیع نالے میں ختم ہو رہی تھی.... خوش قسمتی سے اس میں جا بجا درختوں اور جھاڑیوں کے جھنڈ تھے جس کی وجہ سے ہمارے دور سے نظر آنے کا خطرہ کم تھا۔ بائیں ہاتھ ڈھلانوں پر نظر آنے والے گھر اس جگہ آبادی کا پتا دے رہے تھے۔ ہم تینوں بغیر کوئی بات چیت کئے خاموشی سے اپنے راستے پر روانہ تھے۔ سعدیہ نے گھونگٹ کے انداز میں دوپٹا چہرے پر ڈالا ہوا تھا۔
”ویسے آپ نے راستہ کیوں تبدیل کرلیا ہے۔“ امجدنے پوچھا۔اورمیں نے اسے سعدیہ سے ہونے والی گفتگو تفصیل سے بتادی۔
”تو کیا جس راستے کے بارے میں سعدیہ جانتی ہے اس سے باسمت خان لاعلم ہو گا؟“
”تمھاراکیا خیال ہے .... اصل راستہ اختیار کریں؟“
”میرے خیال کی تمھیں ضرورت ہوتی تو کوئی بھی رستہ اختیار کرنے سے قبل مجھ سے پوچھ لیتے۔“
”سوری یار۔“ میں نادم ہو کر بولا۔ ”میرا خیال تھا تُم مجھ سے متفق ہو گے۔“
”میں تمھاری صرف ایک بات سے اتفاق کر سکتا ہوں اس کے علاوہ بالکل نہیں۔“
”کس بات سے؟“
”یہی کہ تم کہو اﷲ ایک ہے۔ اس کے علاوہ تمھاری کوئی بات میرے نزدیک قابل تسلیم نہیںہے “
”اچھا فضول باتیں چھوڑو اور اپنا نقطہ نظر بیان کرو تاکہ میں اس کے متضاد اپنی کارروائی جاری رکھ سکوں۔“ اس بات چیت کے دوران بھی ہمارا سفر جاری رہا۔
”اب اسی رستے پر چلتے رہو.... نامعلوم باسمت خان اپنے بھائی کی موت سے باخبر ہے بھی یا نہیں.... اور اگر اسے پتا چل گیا ہے ....تو ہو سکتا ہے قاتلوں کی تلاش میں اس کا رخ بہرام شاہ کی طرف ہو۔“
مگر یہ امجد کی خام خیالی تھی، کیوں کہ درختوں کے ایک جھنڈ سے جیسے ہی ہم باہر آئے دائیں ہاتھ موجود ڈھلان پہ ایک پتھر کے پیچھے کلاشن کوف گرجی۔ ساتھ ہی کوئی بلند آواز سے دھاڑا ہتھیار پھینک کر ہاتھ اوپر اٹھا لو۔“ یہ بات گو پشتو میں کہی گئی تھی لیکن ہمارے ہاتھ اٹھتے دیکھ کر امجد نے بھی گن نیچے رکھ کر ہاتھ اوپر اٹھا لئے۔
بڑے پتھر کے پیچھے سے چار افراد برآمد ہوئے۔
” آگے والا باسمت خان ہے۔“میرے پہلو میں کھڑی سعدیہ آہستہ سے بولی۔ باسمت خان اپنے بھائی کے برعکس کافی لمبا تھا۔ وہ تیزی سے ڈھلان سے اتر کر ہمارے سامنے آگئے۔
”تیرا کیا خیا ل تھا، تُو باسمت خان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنے یار کے ساتھ نکل بھاگے گی؟“باسمت خان نے سعدیہ کے سامنے رک کر طنزیہ لہجے میں پوچھا۔ وہ اس وقت اپنے چہرے کو چھپائے کھڑی تھی، مگر کپڑوں اور جسمانی ساخت کی بدولت باسمت خان نے آسانی سے اسے پہچان لیا تھا۔
”کیسی باتیں کر رہے ہو بھائی۔ یہ میری بیوی ہے اور اس کا تمھارے ساتھ کیا تعلق۔“ میں اسے جا نچنے کی خاطر بولا تاکہ پتا چل سکے کہ اس نے کس حد تک سعدیہ کو پہچانا تھا۔
”تمھاری تو یہ بہن ہے سالے۔“ ا س نے مجھے تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ گھمایا، لیکن مجھے چھونے کی حسرت اس کے دل میں ہی رہی۔ میں اپنے گھٹنوں میں خم دے کر تھوڑا سا نیچے ہوا اس کا ہاتھ میرے سر کے اوپر سے گزر گیا اور وہ اپنی جھونک میں مڑ گیا اسی موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے میں بجلی کی سی سرعت سے آگے بڑھا اور اگلے لمحے وہ میرے بازوﺅں کے شکنجے میں تھا۔ اس کی پیٹھ میری چھاتی سے لگی ہوئی تھی جبکہ گیراکٹ مارک تھرٹین کی خوفناک منرل اس کی کنپٹی سے لگ چکی تھی۔
”اپنے کتوں سے کہو رایفلیں نیچے پھینک دیں۔“ میں بڑی بے رحمی سے اپنے بازو کی گرفت اس گردن پر سخت کی۔ اس کے تینوں آدمی شاک کی سی کیفیت میں ساکن کھڑے رہ گئے تھے جبکہ امجد نے میرے ایکشن لیتے ہی اپنے پاﺅں میں پڑی گن اپنے ہاتھوں میں سنبھال لی تھی۔
”تت تمھیں یہ بہت مہنگا پڑے گا۔“ وہ خرخرایا۔
”دھمکی نہیں۔“ میں اپنی گرفت کومزید سخت کیا۔ ”جو کہا ہے وہ کرو۔“ اس کی حلقوں سے ابلتی آنکھیں دیکھ کر اس کے تینوں ساتھیوں نے اضطراب میں اپنے ہتھیاروں کا رخ میرے جانب کیا مگر مجھ سے پہلے گولی ان کے ساتھی کو لگتی اس لیے پہلو بدل کر رہ گئے۔
”تمھاری بہتری اسی میں ہے کہ سردار کو چھوڑ دو۔“ ان میں سے ایک غصے سے دھاڑا۔
”میں کہہ رہا ہوں ہتھیار پھینک دو۔“ میں نے اپنی بات دہرائی مگر ہتھیار پھینکنے میں وہ متذبذب نظر آرہے تھے۔
”تمھیں میری بات کی زبان سمجھ نہیں آرہی؟ میں تین تک گنوں گا اگر اس دوران تم لوگوں نے ہتھیار نہ پھینکے تو....“ میں نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی لیکن معنی کے لحاظ سے میری بات مکمل تھی.... تو کے بعد میں کیا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اس بات سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ انھوں نے میری جانب تانے ہتھیاروں کی بیرل آہستہ آہستہ زمین کی طرف جھکا دی مگر ہتھیار پھینکنے میں وہ ابھی تذبذب کا شکار تھے اور ان کی یہ مشکل امجد نے حل کر دی کہ جیسے ہی ان کی کلاشن کوفوں کی بیر لیں زمین کی جانب ہوئیں امجد نے یکدم کلاشن کوف کالبلبی پر یس کر دیا، برسٹ پر سیٹ ہو ئی گن سے گولیوں کی بوچھاڑ نکلی اور وہ تینوں چیختے ہوئے نیچے گر گئے۔ امجد کی انگلی نے اس وقت تک لبلبی پریس رکھا جب تک میگزین خالی نہ ہو گئی اور اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں تھی کہ امجد انھیں سنبھلنے کاموقع نہیں دینا چاہتا تھا۔ ہو سکتا تھا کہ ان میں سے کوئی مرتے مرتے بھی ہم تینوں کو نشانہ بنا لیتا۔
”تت.... تت.... تم نے یہ اچھا نہیں کیا۔“ باسمت خان کے لہجے میں غصہ بھرا تھا۔مگر یہ اس کی زبان سے ادا ہونے والے آخری الفاظ تھے۔ اپنے بائیں بازو کی گرفت میں پھنسی اس کی گردن میں نے مخصوص جھٹکے سے توڑتے ہوئے اسے نیچے پھینک دیا۔ امجد نے اپنی خالی میگزین پھینک کر باسمت خان کی گن سے بھری ہوئی میگزین اتار کر اپنی گن میں لگالی۔
میں نے باسمت خان کی سرسری سے تلاشی لی تو اس کی جیبوں سے نسوار، چرس کے بھرے ہوئے سگریٹ اور ایک لمبے پھل کا پتلا سا خنجر بر آمد ہوا۔ ان میں صرف خنجر ہی میرے کام کا تھا جو میں نے اپنی جیب میں ڈال لیا۔ باقی آدمیوں کی تلاشی لینے کی ضرورت ہم نے محسوس نہیں کی تھی اور اس کی وجہ ان کے جسموں سے نکلنے والاخون تھا۔ جس نے ان کے لباس کو ررنگ دار کر دیا تھا۔ ایک صاف سی کلاشن کوف البتہ میں نے اٹھا کر اپنے کندھے سے لٹکا لی تھی۔ سعدیہ ابھی تک شاک کی کیفیت میں اپنی جگہ پر منجمد کھڑی تھی۔
”چلو۔“ میں نے اسے بازو سے پکڑ کر آہستہ سے ہلایا تو وہ جیسے چونک پڑی۔
”ی.... یہ.... یہ.... تت.... تمام.... مم مر گئے۔“
”ہاں.... اور اب چلویہ نہ ہو ان کے ساتھی اکٹھے ہو جائیں۔“
ہم تینوں وہاں سے تیز قدموں سے روانہ ہو گئے۔ سعدیہ کے پاﺅں میں جوتے نہیں تھے مگر اس کے باوجود وہ بڑی ہمت سے ہمارے ساتھ قدم ملا کر چل رہی تھی۔
” جانو....! لاشوں کو اگر راستے سے دائیں بائیں پھینک دیتے تو اچھا تھا۔“
”اب دن کا وقت ہے اور ان کے جسموں سے نکلنے والا خون ہم کیسے چھپاتے پھریں گے۔ دفع کرو ایک دفعہ ہم جنگل خیل پہنچ گئے پھر کسی نے ہمیں نہیں پہچاننا۔ ان دونوں بھائیوں کے ساتھ ہماری کون سی دشمنی تھی کہ کوئی ہم پر شک کرے گا؟“
”اور یہ مصیبت جو ہم ساتھ لیے پھر رہے ہیں۔“ وہ شاکی لہجے میںبولا۔
”اس کو پہچاننے والے ہیبت خان اور باسمت خان مردار ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ میرا نہیں خیال کہ کوئی اسے شکل سے پہچانتا ہو گا۔“
”پھر بھی یار ان سات مرنے والوں کے ورثاً آخر چپکے تو بیٹھے نہیں رہیںگے۔ گو ان کو قتل کرتے وقت مجھے ذرا بھر بھی جھجک نہیں ہوئی اور نہ ابھی کوئی افسوس ہے کہ ان کے کرتوت ہی ایسے تھے، نامعلوم کتنے بے گناہوں کے قاتل ہوں گے اور پتا نہیں کتنی عورتوں کی عزت یہ لوگ خراب کر چکے ہوں گے۔ ان کا زمین کے اوپر چلنے کی بجائے زمین کے نیچے لیٹنا مخلوق خدا کے لیے بہتر ہے۔ لیکن ان کے پسماندگان تو یہ بات نہیں سوچیں گے نا۔ انھیں تو ان کے قاتل کی تلاش ہو گی اور اگر وہ ایک مرتبہ ہمارے ساتھ چلنے والی بی بی تک پہنچ گئے تو یہ شاید ہمارا راز نہ رکھ سکے۔“ امجد دانستہ اس کا نام لینے سے گریز کررہا تھا تاکہ اسے یہ پتا نہ چل سکے کہ ہم اس کے متعلق محو گفتگو ہیں۔
”انھیں کیا پتا چلے گا کہ یہ گھر پہنچ گئی ہے؟“
”جناب جس راستے پر گامزن ہے یہ جنگل خیل کی طرف ہی جاتا ہے۔“
”ٹھیک ہے لیکن کسی کو یہ پتا تو نہیں ناکہ یہ قتل اس لڑکی کی ایما پر ہوئے ہیں اور ویسے بھی اس کے فرار کے متعلق چند لوگوں ہی کو خبر ہو گی۔ ان لوگوں کی تو دشمنیاں بھی اتنی زیادہ ہو ں گی کہ شاید انھیں اپنے دشمنوں کے نام بھی یاد نہ ہوں اور یہ کارستانی بھی کسی ایسے ہی مضبوط اور ان کی ٹکر کے دشمن کے کھاتے میں جائے گی، اس مظلوم کی جانب تو کسی کا گمان بھی نہیں جائے گا۔“
”بہ ہر حال یہ اندازہ ہے معاملہ اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔ باسمت خان جس طرح ہماری گھات میں بیٹھا تھا اس طرح اس نے ،علاقے سے نکلنے والے باقی راستوں کی بھی ناکہ بندی کروائی ہو گی۔ اس بات سے یہ پتا بھی چلتا ہے کہ انھوں نے کل رات ہی ہیب خان پارٹی کی لاشیں تلاش کرلی تھیں اور یہ اندازہ انھوں نے فائر کی ڈائریکشن سے لگایا ہو گا اور اگر میرا اندازہ صحیح ہے تو ابھی ہمارا تعاقب شروع ہو چکا ہو گا۔ باقی راستوںپر متعین ان کے آدمی لازمی طور پر ہماری فائرنگ سے اس جانب متوجہ ہو گئے ہوں گے اور اب شاید وہ جائے حادثہ پر پہنچے والے ہوں۔“ امجد کا تجزیہ مجھے زیادہ حقیقت کے قریب محسوس ہوا۔
” تو....اب کیا کرنا چاہئے؟“
امجد نے جواب دیا۔”پھر یہ راستہ ہمارے لیے موزوں نہیں ہے۔“
” کیوں نا، کچھ دیر ادھر چھپ کر انتظار کیا جائے اگر تمھارا اندازہ صحیح ثابت ہوا تو وہ ادھر سے ہی گزریں گے۔“
”ہاں.... یونھی کرنا پڑے گا۔“ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور ہم راستے کے بائیں جانب موجود ڈھلان پر پڑے بڑے بڑے پتھروں کے درمیان چھپ کر بیٹھ گئے ،اس طرح کہ راستہ ہمیں آسانی سے دکھائی دیتا رہے۔
سعدیہ مستفسر ہوئی۔”ادھر کس لیے چھپ رہے ہو؟“
”ہمیں شک ہے کہ فائرنگ کی آواز سن کر دشمن اس طرح متوجہ ہوگا اور ابھی شاید وہ اسی راستے پر آگے آئے....ویسے کیا ان دو راستوں کے علاوہ کوئی اور راستہ جنگل خیل کی طرف جاتا ہے۔“
”اگر جاتا بھی ہے تو میں اس سے لاعلم ہوں۔“ اس نے نفی میں سر ہلایا۔ اسی وقت مجھے دور درختوں کے جھنڈ سے ایک ڈبل کیبن ٹویوٹا نکلتی دکھائی دی اور پھر اس سے چند سیکنڈ بعد ایک اور گاڑی برآمد ہوئی۔ امجدکا اندازہ صحیح ثابت ہوا تھا اور ہم نے بروقت فیصلہ کرتے ہوئے چھپنے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ ہمارے حق میں بہتر ثابت ہواتھا ورنہ راستے پر گامزن ہونے کی وجہ سے اب تک ہم ان کی نظروں میں آگئے ہوتے۔
دونوں گاڑیاں لاشوں کے پاس آ کر رک گئیں۔ دونوں گاڑیوں میں پانچ پانچ افراد سوار تھے۔ چند منٹ بعد ایک گاڑی تو تیز رفتاری سے ہماری جانب روانہ ہو گئی جبکہ دوسری گاڑی میں وہ لوگ لاشیں رکھنے لگے۔ ہمارے سامنے آ کر گاڑی کی رفتار قدرے آہستہ ہوئی اور پھر ہمارے چھپنے کی جگہ سے چند سوگز مزید آگے جا کروہ گاڑی رک گئی اور تمام نیچے اتر کر ہتھیار سونتے دائیں بائیں کے علاقے کو غور سے دیکھتے آگے بڑھنے لگے۔ لاشیں اٹھانے والی گاڑی واپس ڈابیر کی طرف چل پڑی تھی۔
”اب کیا کریں؟“ امجد مستفسر ہوا۔
”اب جو بھی کرنا ہے جلدی کرنا پڑے گا ورنہ لاشیں لے جانے والے جلد ہی واپسی کا قصد کریں گے۔
”اگر ہم ان کی گاڑی قبضے میں کر لیں تو تیز رفتاری سے یہاں سے نکل سکتے ہیں۔“
”اس میں ایک قباحت ہے....۔“امجد کا سوالیہ چہرہ دیکھ کر میں نے وضاحت کی۔ ”اور وہ یہ کہ اگر ہم نے سیدھے نکلنے کی کوشش کی تو ان کی گولیوں کی زد میں آنے کا خطرہ ہے۔ اور واپس جانے کی صورت میںدوسری گاڑی والوں سے ٹکراﺅ کا اندیشہ ہے۔“
”ویسے انھوں نے جس طرح اس پہاڑی کو نظر انداز کر دیا ہے اس سے یہی پتا چلتا ہے کہ اس جانب سے جنگل خیل تک پہنچنا ناممکن ہو گا۔“
” اگر ایک ٹرائی اس پہاڑی کو عبور کرنے کی کرلیں تو....“
”کوئی ضرورت نہیں....خواہ مخواہ اپنی توانائیوں کو ضائع کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔“
”توپھر....؟“
”تلاشی لینے والے جس انداز میں آگے جارہے ہیں اس سے تو یہی لگ رہا ہے جیسے انھیں ہمارے آگے بڑھ جانے کا یقین ہو ا س لیے میرا مشورہ یہی ہے کہ تھوڑی دیر انتظار کر لیتے ہیں دوسری گاڑی آنے کے بعد جب وہ تلاشی لینے والوں کے ساتھ مل جائیں گے تو ہم اس گاڑی پر قبضہ کر کے ڈابیر کے راستے سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔“
”اور اگر انھوں نے دوسری گاڑی پر ہمارا تعاقب شروع کر دیا ؟“
”دوسری گاڑی کو ناکارہ کر کے ہی جائیں گے۔“
”خیال رہے ان کے پاس محدود رینج کے واکی ٹاکی بھی ہوتے ہیں۔ یہ نہ ہو اس کی مدد سے یہ ہماری ناکہ بندی کروالیں۔“
”اتنا رسک بہر حال لینا ہی پڑے گا۔ “
”چلو ایسا ہی کرلیتے ہیں۔“ میںنے ڈابیر کے راستے پر نظریں جمالیں ....جلد ہی لاشیں لے جانے والی گاڑی واپس آتی دکھائی دی اس مرتبہ اس میں چند بندوں کا اضافہ ہو گیا تھا۔ یہ لوگ لاشوں کی جگہ پر گاڑی روک کر نیچے اترے۔ ایک بندہ گاڑی کے ساتھ کھڑا کر کے باقی تمام اردگرد کے علاقے میں پھیل گئے اور تلاشی لینے کے انداز میں آگے چل پڑے۔ ان میں سے دو آدمی ڈھلان پر چڑھ گئے اور دائیں بائیں پتھروںمیں نظریں دوڑاتے ہماری جانب چل پڑے۔ سعدیہ کا رنگ خوف سے سفید پڑ گیا تھا امجد کے چہرے پر بھی گہری سنجیدگی چھا گئی۔ حالات ہماری توقع سے بھی بڑھ کر خطرناک ہو گئے تھے۔ ہم دونوں کلاشن کوفیں ہاتھ میں تھام کر ان کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہو گئے مگر ان کی تعداد کافی زیادہ تھی ان کے کچھ ساتھی پہلے سے بھی موجود تھے۔ دو تین کو تو ہم پہلے ہلے میں مار گراتے مگر اس کے بعد انھوں نے بھی کسی آڑ کے پیچھے ہو جانا تھا اورپھر ان کے پیچھے گاﺅں سے بھی کمک پہنچ جاتی۔ ہمیں سخت مر حلے کا سامنا تھا لیکن اس کے باوجود ہم گرفتاری دینے یا ہارماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔
l l l
وہ آہستہ آہستہ ہمارے قریب ہوتے جارہے تھے یہاں تک کہ ان کا فاصلہ گھٹتے گھٹتے 100گز رہ گیا۔ امجد نے میری آنکھوں میں جھانکا۔ اس کے کھلنڈرے چہرے پر اس وقت بلا کی سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ اس کا یوں گھورنا فائر کرنے کی اجازت طلب کرنے کے لیے تھا۔ مگر میں نے اس کی امیدوں کے برخلاف نفی میں سر ہلا دیا۔ میر ے خیال میں ان کے زیادہ قریب ہونے کی صورت میں فائر کھولنے پر ان کا زیادہ نقصان ہونے کی امید تھی۔
امجد نے نالے کے درمیان چلنے والوں پر شست باندھی ہوئی تھی جبکہ میری نظر ڈھلان کے اوپر ہماری طرف چل کر آنے والوں پر تھی اور پھر چند لمحوں بعد ہی وہ میری مطلوبہ رینج میں پہنچ گئے۔ میں نے آگے والے بندے پر شست لیتے ہوئے لبلبیکی آزادنہ حرکت کو پورا کیا، اور اس کے ساتھ ہی میں امجد کو فائر کرنے کا کہنے لگا تھا کہ اچانک ماحول تڑتڑاہٹ کی آواز سے گونج اٹھا۔ یہ فائر یہاں سے پہلے گزر جانے والی پارٹی نے کیا تھا۔ یہ آواز گویا ہمارے لیے صوتِ رحمت ثابت ہوئی تھی۔ ہماری سیدھ میں آنے والے دونوں اشخاص بھاگتے ہوئے ڈھلان اترتے چلے گئے ڈبل کیبن ٹویوٹا کا ڈرائیور گاڑی کو آہستہ آہستہ چلاتے ہوئے تلاش لینے والوں کے متوازی ہی چل رہا تھا۔ تمام پارٹی نالے میں اکٹھے ہو کر گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی تیر رفتاری سے آگے بڑھ گئی۔
”بال بال بچ گئے۔“ امجدنے گہرا سانس لیا۔
”ہاں یار اﷲ نے بچا لیا۔“ میں نے اس کی تائیدکی۔ ”لیکن اب اٹھو تاکہ ان کی افراتفری سے فائدہ اٹھا کر کوئی پناہ ڈھونڈیں۔“
”کس طرف چلیں“۔ وہ اٹھتے ہوئے بولا۔ سعدیہ بھی ہمارے ساتھ کھڑی ہو گئی تھی اس کے زرد پڑتے چہرے کی رنگت خطرہ ٹلتے ہی بحال ہو گئی تھی۔
”میرے خیال میں انھی کے پیچھے چلتے ہیں۔“
”پاگل ہو گئے ہو کیا۔“بہ ظاہر میری مخالفت کرنے کے باوجوداس نے میرے ساتھ قدم بڑھائے تھے۔سعدیہ تو ویسے ہی بے زبان جانور کس طرح ہمارے پیچھے پیچھے تھی۔
”عقل استعمال کرو ماجے صاحب....!۔“ میں نے اسے جھڑکا۔ ”یہ سارا علاقہ انھوں نے سرچ(تلاش) کر لیا ہے اب ان کی توجہ یا تو اس علاقے سے آگے رہے گی یا وہ پیچھے ہٹے تو گاﺅں کی سمت تلاش کا آغاز کریں گے اور اس وقت سب سے محفوظ جگہ یہی درمیانی علاقہ ہے جس کو دونوں پارٹیاں سرچ کر چکی ہیں۔“
”ٹھیک ہے زیرو زیروسیون صاحب۔“ وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔ ”لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ کہ وہ دوبارہ نئے سرے سے اس علاقے کی تلاشی شروع کر دیں۔“
”کیوں یہ ایک کلو میٹر کا رقبہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ وہ دوبارہ اسی جگہ کی تلاشی لیں گے؟“
”ویسے ہی .... دشمن کی عقل سے کیا بعید ہے۔“
”ماجے صاحب ....!ہرکام یونہی نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے کوئی سوچ کار فرما ہوتی ہے۔“
”مگر تمھارے تو سارے کام تکے سے ہوتے ہیں۔ اس لیے میں نے سوچا شاید سارے پٹھان ہی ایسے ہوتے ہوں۔“
”اچھا اپنی چونچ بند رکھو اور مجھے سوچنے دو۔“
”ہونہہ.... یہ بھی نئی کہی کہ سوچنے دو۔ یہ سوچ کہیں اس پٹھان کی طرح نہ ہو جو ساری عمر یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوتا رہا کہ اس کی بہن کے تین بھائی ہیں تو اس کے دو کیوں ہیں۔“
مجھے پتا تھا کہ یہ ساری بکواس وہ اس ٹینشن کو زائل کرنے کے لیے کر رہا ہے جس کا شکار تھوڑی دیر پہلے ہم دونوں ہوئے تھے۔ اس کو نظر انداز کرتے ہوئے میں سعدیہ سے مخاطب ہوا۔
”سامنے نظر آنے والا درختوں کا جھنڈ کتنے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔“ میرا اشارہ نالے کے درمیان موجود جھنڈ سے تھا جس کے اندر دشمنوں کی دونوں گاڑیاں غائب ہوئی تھیں اور اس وقت ہمارا رخ بھی اسی جانب تھا۔
”اس جگہ تو درخت اتنے زیادہ نہیں ہیں۔ البتہ اس کے بعد جو جنگل آتا ہے وہ کافی علاقے میں پھیلا ہوا ہے اور اس جھنڈ اور جنگل کے درمیان تقریباً کلو میٹر بھر علاقہ بغیر درختوں کے ہے۔“
”ہوں.... اس کا مطلب ہے فائرنگ کی آواز اسی جنگل کے جانب سے آئی تھی۔ شاید وہاں پر انھوں نے غلط فہمی سے کسی جانور پر فائر کر دیا ہو۔ کیوں کہ اس ایک برسٹ کے بعد دوبارہ فائرنگ کی آواز نہیں آئی ہے۔“
”شاید۔“ سعدیہ نے ہولے سے میری تائید کی۔ اس دوران ہم جھنڈ میں داخل ہو گئے تھے۔ راستے سے ہٹ کر ہم دبے قدموں آگے بڑھنے لگے۔ میرا اندازہ تھا کہ اس جھنڈ کی تلاشی وہ تفصیلاً کر چکے تھے۔ ہم درختوں اور جھاڑیوں کی آڑ لے کر آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگے۔ سب سے آگے امجد تھا اس کے پیچھے میں اور میرے پیچھے سعدیہ چل رہی تھی۔ چلتے چلتے امجد نے رک کر ہاتھ کھڑا کر دیا اور اس کا مطلب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا کہ اسے کوئی سرگرمی نظر آگئی تھی۔ اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھ کر اس سے مستفسر ہوتا یا خود سن گن لینے کی کوشش کرتا وائریس سیٹ پر کسی کی تیز آواز گونجی۔ بولنے والا پشتو میں محو گفتگو تھا اور وہ چند گز ہی دور تھا۔ ہم تینوں وہیں دبک گئے۔
”ورتہ اووایہ.... اخوا لار باندے سو مرہ کسان ناست دی ٹول دے خواراولیگا۔“ (اسے بتاﺅ اس راستے پر جتنے بندے موجود ہیں تمام ادھر بھیج دو)
”دامیے ورتہ ویلی دی.... ھغہ تپوس کیی زہ اخپل درشم یا پاتے شم۔“(یہ میں نے اسے بتا دیا ہے۔ وہ پوچھ رہا ہے وہ خود بھی ساتھ آجائے یاوہیں رہ جائے)
”ھغہ پہ یوازے ھغلتہ سہ¿ کوی۔“(وہ اکیلا وہاں کیا کرے گا)۔ ”ھغہ دے ہم راشی“ (وہ بھی آجائے)
”گل ھان الدین.... وہ کہہ رہا ہے تم بھی ساتھ آجاﺅ۔“ اس مرتبہ اس کا مخاطب کوئی دوسرا تھا۔
ہم سے چند گز دوری پر موجود شخص انھوں نے اپنا رابطہ بحال رکھنے کے لیے وہاں چھوڑا ہوا تھا۔ چونکہ ان کے پاس موجود سیٹوں کا ملاپ لمبے فاصلے تک نہیں ہو سکتا تھا اس لیے درمیانی شخص دونوں گروپوں کا پیغام ایک دوسرے تک پہنچا رہا تھا۔ اصولی طور پر تو اسے کسی اونچی جگہ پر ہونا چاہئے تھا مگر شاید دھوپ سے بچنے کے لیے وہ نیچے سائے میں اتر آیا تھا۔ ویسے بھی وہاں اسے رابطے میں کوئی پرابلم پیش نہیں آرہی تھی اس لیے وہیں ٹکا ہوا تھا۔ اس کی گفتگو سے میں نے جو اندازلگایا وہ یہی تھا کہ آگے جانے والے تمام جنگل کو سرچ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور اس مقصدکے لیے وہ دوسرے راستے کی ناکہ بندی کرنے والے تمام آدمیوں کو اپنے پاس ہی بلا رہے تھے۔
”دوبارہ کوئی نظر نہیں آیا؟“ اس مرتبہ وہ آگے والوں سے مستفسر ہوا تھا۔
”نہیں.... لیکن کب تک چھپیں گے۔ ہم بھوسے کے ڈھیر سے سوئی نکال لیتے ہیں یہ تو پھر میں جیتے جاگتے آدمی ہیں۔“
”لڑکی نظر آئی تھی یا....“
”نہیں.... مگر وہ حرام زادی بھی ان کے ساتھ ہی ہو گی۔“
ان کی گفتگو سے مجھے ساری کہانی پتا چل گئی تھی۔ انھیں جنگل میں کچھ لوگوں کی جھلک نظر آئی تھی جن پر انھوں نے فائر کھولا مگر وہ وہیں جنگل میں کہیں غائب ہو گئے تھے اور وہ غلط فہمی سے انھیں اپنے مطلوبہ دشمن سمجھ رہے تھے۔
”اس سے پوچھو۔ ہم بھی گل ہان الدین پارٹی کے ساتھ آجائیں۔ یا یہیں ٹکے رہیں۔“ اس مرتبہ میرے کانوں میں ایک دوسری آواز گونجی۔
”اس کا مطلب ہے یہاں پر ایک نہیں بلکہ دو افراد موجود ہیں۔“ میں نے دل ہی دل میں سوچا۔
پہلے والا یہی بات واکی ٹاکی پر اپنے سردار سے پوچھنے لگا اور اسے جواب ملا۔
”تم دونوں وہیں رہو۔ اگر ضرورت پڑی تو میںآگے بلوا لوں گا۔“
ہم تینوں اس گھنی جھاڑی میں دبکے ہوئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد ہی جھنڈکے سرے پر گاڑیوں کی آواز آئی۔ گاڑیاں جھنڈ کے درمیان گزرنے والے راستے پر روانہ تھیں۔
میں نے احتیاط سے جھاڑی سے سرنکال کر دیکھا۔ مجھے آگے پیچھے تین ڈبل کیبن ٹویوٹا نظر آئیں، تینوں میں آٹھ نو، نو بندے سوار تھے۔ یہاں پر پہلے سے موجود دشمن کے بندوں نے بھی گاڑیوں کی آواز سن لی تھی اس لیے وہ راستے کے جانب بڑھے اور ہمیں نظر آگئے۔ دونوں میں ایک نوجوان اور دوسرا پختہ عمر کا تھااور حلیہ ویسا ہی تھا جیسا کہ عموماً اس علاقے کے مردوں کا ہوتا ہے لمبے لمبے بال چھوٹی چھوٹی داڑھی اور کھردرے موٹے کپڑے کا لباس جسے دھلے شاید ہفتوں بیت چکے تھے۔
”افضل خان گاڑی لشکی سائیڈتاکاچے منگ تیر شو۔“(افضل خان گاڑی تھوڑی سائیڈ پہ کرو تاکہ ہم گزر جائیں) سب سے آگے والی گاڑی سے ایک شخص چیخ کر بولا تھا۔
جواباً پختہ عمر کا شخص بولا۔ ”لگ صبر کوا.... در روان یو۔“ (تھوڑا صبر کرو آرہے ہیں۔)
ان دونوں نے شاید اپنے لیے گاڑی وہیں کھڑی ہوئی تھی۔ افضل خان اور اس کا ساتھی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسے اسٹارٹ کر کے درختوں کے بیچ لے آئے اور آنے والا گروپ آگے بڑھتا گیا۔
”ماجے کچھ سمجھ آرہی ہے؟“ میںنے سرگوشی میںپوچھا۔
”کچھ کچھ۔“
”آگے جانے والوں کو شک ہے کہ ہم اس جھنڈکے بعد موجود ایک جنگل میں چھپے ہوئے ہیں....اور اس جنگل کی تفصیلی تلاشی لینے کے لیے انھوں نے مزید افراد کو طلب کر لیا ہے۔ میرے خیال میں ہمیں یہاں موجود دونوں آدمیوں پر قابو پاکر گاﺅں والے راستے سے نکلنے کی کوشش کرنی چاہےے ....جب تک ان لوگوں کو خبر ہو گی ہم گاﺅں کراس کر چکے ہوں گے۔“
”زندگی میں پہلی بار تُم نے کوئی عقل کی بات سوچی ہے۔“
اس کو متفق دیکھ کر میں سعدیہ کی طرف متوجہ ہوا۔ ”ہم دونوں ان کی سرکوبی کے لیے جارہے ہیں تم یہیں لیٹی رہو۔“
”ٹھیک ہے۔“ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ جھاڑی میں وہ مجھ سے جڑ کرلیٹی ہوئی تھی عام حالت میں شاید کسی غیر مرد کے اتنا نزدیک لیٹنے کا وہ سوچ بھی نہ سکتی ہو مگر اس وقت حالات نے اسے مجبورکیا ہوا تھا۔ میرے احساسات بھی اس کے جوان بدن کی حدت اور گداز پن سے غافل تھے۔
وہ دونوں گل ہان الدین پارٹی کے گزرتے ہی واپس اپنی جگہ پہنچ گئے تھے۔ میں اور امجد آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کر کے اپنی جگہ سے رینگتے ہوئے نکلے اور کرالنگ کرتے ہوئے ان دونوں کی طرف بڑھنے لگے۔ مگر تھوڑا سا آگے بڑھ کر ہی ہمیں رکنا پڑا کہ ایک تو سخت پتھریلی زمین پر کرالنگ کرنا مشکل تھا دوسرا زمین پر پڑے کنکروں سے ہمارے حرکت کرنے کی وجہ سے ہلکی ہلکی آواز پیدا ہو رہی تھی پتھروں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف تو ہم برداشت کر لیتے مگر ان کا ہلکا سا شور بھی ہمارے لیے صوراسرافیل ثابت ہو سکتا تھا۔ ہم ایک مرتبہ پھر آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کر کے اٹھ بیٹھے۔ اس دفعہ ہم دونوں بیٹھی حالت میں ان کی طرف بڑھنے لگے۔ کمانڈو سروس ہو یا عام فوجی زندگی ہر دو میں دشمن تک اس کی بے خبری میں پہنچنے کے لیے کچھ چالیں سکھائی جاتی ہیں جن میں عام طور پر چیتا چال، بندر چال ،بلی کے بچے کی چال اور بھوت چال بہت معروف ہیں۔ان میں سے ہر چال موقع محل کی مناسبت سے اپنائی جاتی ہے۔ اس وقت ہمیں سب سے بہتر بندر چال لگی۔ بڑے درختوں کے درمیان اُگی چھوٹی جھاڑیاں ہمارے بیٹھے ہونے کی صورت میں نظری آڑ مہیا کر رہی تھیں اور بیٹھ کر آگے بڑھنے کی صورت میں نہ تو ہمارے قدموں کی آواز آرہی تھی اور نہ ہی رینگنے والی حالت کی طرح کنکروں سے کوئی شور اٹھ رہا تھا۔ ہم تھوڑا سا آگے ہی بڑھے تھے کہ ایک مرتبہ پھر ان کا وائرلیس سیٹ بول اٹھا۔
”جانان خان ہم پہنچ گئے ہیں۔“ یہ آواز اسی شخص کی تھی جو اس سے پہلے افضل خان کی وساطت سے اپنے سردار سے بات چیت کررہا تھا۔ اب چونکہ وہ خود ان کے نزدیک پہنچ چکا تھا اس لیے براہِ راست ان سے مخاطب تھا۔
”گل ہان الدین ہم جنگل کے دوسرے سرے پر جمع ہیں۔ تم اسی طرف سے پھیل کر اندر داخل ہو جاﺅ اس سمت سے ہم تمھاری طرف بڑھیں گے۔ راستے میں ہر جھاڑی اور درخت کو کھنگالتے آنا میں دیکھتا ہوں یہ سالے کیسے بچتے ہیں؟“
”ٹھیک ہے۔ میں ایسے ہی کر رہا ہوں۔“ گل ہان الدین کی موّدبانہ آواز سنائی دی اور ماحول میں ایک پھر صرف پرندوں کی آواز باقی رہ گئی۔ اس دوران ہم ان کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے وہ دونوں جس جگہ کھڑے تھے وہاں سے جنگل واضح نظر آرہا تھا ان دونوں کا رخ بھی اسی جانب تھا۔ امجد نے میری جانب دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ کو خنجر کی طرح اپنے گلے پر پھیرا۔ مگر میں نے نفی میں سر ہلا دیا وہ انھیں ہلاک کرنے کے بارے پوچھ رہا تھا مگر میں نے نفی میں سر ہلا کر اسے خواہ مخواہ کی خون ریزی سے منع کر دیا۔ اگر ان کی زندگی ہمارے لیے کسی نقصان کا باعث بنتی تو میں کبھی بھی انھیں زندہ چھوڑنے کا مشورہ نہ دیتا۔ ہم دونوں نے ایک ہی لَے میں ان پر چھلانگ لگائی دونوں کا ہدف اس کے سامنے والا بندہ تھا۔ا س اچانک افتاد سے وہ حواس باختہ ہو گئے تھے مگر ان کے منہ سے کوئی آواز نہ نکل سکی تھی کہ ہمارا ایک ایک ہاتھ سختی سے ان کے ہونٹوں پر جم گیا تھا۔ دوسرے ہاتھ سے ہم نے ان کی کنپٹیوں پر مخصوص انداز میں دباﺅ ڈالا اور وہ ہمارے ہاتھوں میں جھول گئے۔ اس عمل کے دوران ہم اپنے چہرے ان سے چھپانے میں کامیاب رہے تھے۔ ان کے بے ہوش ہوتے ہی ہم نے ان کی چادروں سے ان کے ہاتھ پاﺅں باندھے اور سعدیہ کو آواز دیتے ہوئے گاڑی کی جانب بڑھ گئے۔ امجد ان کے ہتھیار بھی سمیٹ لایا تھا۔
میری آواز سنتے ہی سعدیہ جھجکتی ہوئی جھاڑی سے نکل آئی تھی۔
ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے میں نے ان دونوں کو پیچھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور ان کے بیٹھتے ہی گاڑی آگے بڑھا دی۔
”اس کو اپنے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بٹھا دیتے تاکہ یہ تمھیں راستہ بتاتی جاتی۔“
”نہیں۔“ میں نے نفی میں سرہلایا۔ ”اس علاقے میں عورتوں کو فرنٹ سیٹ پر بٹھانے کا رواج نہیں ہے۔“
”کوئی کام رسم ورواج سے ہٹ کر بھی کر لیا کرو۔“
مگر میں اس کی بات کا جواب دینے کی بجائے سعدیہ سے مخاطب ہو ا۔
” راستے کے بارے میری رہنمائی کرتی جانا۔“
اور وہ ”جی اچھا“ کہ کر خاموش ہو گئی۔
”ویسے آپ کا علاقہ تو جنگل خیل ہے۔ آپ کو ان راستوں کے بارے کیونکراتنی معلومات حاصل ہیں۔“
”میں اپنے والد کے ساتھ تین چار مرتبہ میرن شاہ تک جا چکی ہوں اور اس دوران ہمارا گزر انھی راستوں سے ہوا ہے۔ اس کے علاوہ وادی بہرام شاہ میں بھی میں کئی دفعہ حا چکی ہوں۔“
میں نے اثبات میںسر ہلایااور گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی۔ پتھریلے راستے پر گاڑی اچھلتی کودتی تیزی سے رواں دواں تھی۔ دس پندرہ منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد ہم ڈابیر کے قریب پہنچ چکے تھے۔ راستے میں اکا دکا بندے ہمیں نظر آئے مگر انھوں نے گاڑی کی طرف کوئی توجہ نہیں دی تھی۔
سعدیہ نے دائیں ہاتھ پر موجود ایک تنگ سے راستے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ”یہ سیدھا راستہ ڈابیر بازار سے گزر کر جنگل خیل کی طرف جاتا ہے جبکہ دائیں طرف کے راستے سے ہم بغیر بازار سے گزرے جنگل خیل کی طرف جا سکتے ہیں۔ البتہ بازار والے راستے کی نسبت یہ راستہ زیادہ خراب ہے۔“
میں نے پوچھا۔”یہ جنگل خیل تک دوسرے راستے سے جدا ہی رہتا ہے؟“
”نہیں۔“ یہ چھوٹا سا ٹکڑا ہے آگے جا کریہ دوبارہ ڈابیر اور جنگل کو ملانے والے بڑے راستے سے مل جاتا۔ اس میں اور دوسرے راستے میں بس اتنا فرق ہے کہ اس پر سفر کرتے ہوئے ہم بازار کو بائی پاس کر سکتے ہیں۔ عموماً اس راستے کو پیدل چلنے والے استعمال کرتے ہیں کیوں کہ یہ دوسرے راستے سے چھوٹا پڑتا ہے۔“
”پھر تو یہی راستہ ٹھیک رہے گا۔“ میں نے اس سے مشورہ لینے کے دوران گاڑی اس راستے کے سرے پر روکی ہوئی تھی۔ اس کی بات ختم ہوتے ہی میں نے گاڑی اس راستے کی طرف موڑدی۔وہ کلومیٹر بھر کا فاصلہ تھا جو سعدیہ کے کہنے کے مطابق واقعی دشوار گزار تھا۔ آگے جا کر وہ ٹکڑا ڈابیر اور جنگل خیل کو ملانے والے بڑے رستے سے مل گیا تھا۔ جنگل خیل سے آتے ہوئے بازار دائیں طرف اور یہ شارٹ کٹ بائیں طرف پڑتا تھا۔ ان دنوں کے درمیان ایک بڑی ٹیکری حدبندی کا کام کر رہی تھی۔
بڑے رستے پر سفر کرتے ہمیں تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ مجھے سامنے سے ایک گاڑی آتی دیکھائی دی۔
”ماجے خطرہ ہے۔“ میں نے گاڑی روک دی۔ ”اور یہاں سے گاڑی موڑنا بھی مشکل ہے۔ کیا خیال ہے ریورس چلیں یا گاڑی چھوڑ دیں۔“
امجد نے بھی سامنے سے آنے والی گاڑی کو دیکھ لیا تھا اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی مشورہ دیتا سعدیہ بولی۔
”یہ تو مسافر بردار گاڑی ہے۔“ اس کے پلے غالبا صرف خطرے کا لفظ پڑا تھا اور اس نے ہماری پریشانی بھانپ لی تھی۔
”مسافر بردار گاڑی؟“ میں حیرت انگیز شرمندگی سے بولا۔
”ہاں۔“ ڈابیر اور جنگل خیل کے درمیان لوگوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے اور آمدورفت کا بڑا ذریعہ یہی گاڑیاں ہیں۔“
میں نے سر ہلاتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی اور اس کے ساتھ امجد کو بھی صورت حال سے آگاہ کرنے لگا جس نے گن کاک کر کے سیفٹی لیور فائر کی پوزیشن پر سیٹ کر لیا تھا۔
”تمھارا کام بھی بس ٹینشن پیدا کرنا ہے۔“ اس نے سیفٹی لیور کو دوبارہ سیف پر کرلیا، گن البتہ اس نے کاک رہنے دی تھی۔
اس مسافر بردار گاڑی کے علاوہ ہمیں راستے میں چند اور گاڑیاں بھی ملیں۔ مزید ڈیڑھ دو گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد ہم جنگل خیل کی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔
میں نے سعدیہ سے پوچھا۔”دوسرا جنگل خیل کس سمت میں واقع ہے؟“
”دوسرا جنگل خیل؟“ اس کے لہجے میں حیرانی تھی۔
”ہاں دوسرا جنگل خیل ،میں نے سنا ہے کہ اس علاقے میں جنگل خیل نام کے دو گاﺅں ہیں۔“
”ہو سکتا ہے.... مگر میں اس بارے لاعلم ہوں۔“
”تمھارا گھر کس طرف ہے؟“
”میرا گھر پیچھے رہ گیا ہے۔“ وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی۔
”تُم نے بتایا نہیں؟“
”کیا فائدہ.... میں نے کون سا وہاں اترنا تھا۔“
”کیوں؟“
”وہاں اترنے کا مطلب تھا خود کو اور اپنے والدین کو درد ناک موت کے حوالے کرنا۔“ میں نے اور امجد نے پہلے سے مشورہ کیا ہوا تھا کہ اسے اس کے گھر کی بجائے کسی اور محفوظ مقام تک پہنچائیں گے اور جو بات ہمارے ذہنوں میں آئی تھی وہی سعدیہ کے دماغ میں بھی موجود تھی۔
”اب ہم آپ کہ کہاں اتار دیں۔“ میں نے اس کی رائے جاننا چاہی۔
”اگر میری زندگی عزیز ہے تو مجھے اپنے ساتھ ہی رکھو۔“
”دماغ جگہ پر ہے۔“ میں حیرانی سے بولا۔ ”ہم یہاں اپنے دشمن کی تلاش میں آئے ہیں تمھیں کہاں سنبھالتے پھریں گے۔ ویسے بھی تمھاری وجہ سے ہم ڈابیر والوں کی نظر میں آسکتے ہیں اور اس پردیس میں ہم پورے گاﺅں کے ساتھ دشمنی نہیں مول سکتے۔ بہتر یہی ہے کہ تم ہم سے علاحدہ ہو جاﺅ۔ تم یوں بھی عورت ہو کسی چار دیواری میں چھپ کر رہ سکتی ہو اور برقع پہن کر آزادانہ گھوم پھر بھی سکتی ہو۔“
”یہ جنگل خیل ہے جناب....یہاں اکیلی عورت بالکل محفوظ نہیں اور میرا تو ماں باپ کے سوا اس دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیں جسے اپنا کہہ سکوں اور بدقسمتی سے ماں باپ کے پاس جانا بھی میرے لیے ممکن نہیں رہا۔ ان کے علاوہ اس جہاں میں آپ دونوں کی ذات ایسی ہے جس پر میں اعتماد کر سکتی ہوں اور ایسا کرنے میں میں حق بجانب ہوں کہ جو مرد رات کے اندھیرے اورغار کی تنہائی میں ایک جوان عورت کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھتے ان جیسا بااعتماد اور کون ہو سکتا ہے۔“
باقاعدہ عمارتی علاقہ شروع ہونے سے پہلے میں نے گاڑی درختوں کے گھنے جھند کی طرف موڑی اور سعدیہ کو کہا۔
”سعدیہ بی بی! .... میں معافی چاہتا ہوں کہ ہم تمھیں اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے البتہ اتنی رقم دے سکتے ہیں کہ تم یہاں سے کسی پرامن پسند علاقے تک چلی جاﺅ۔ شکل و صورت اﷲ تعالیٰ نے اچھی دی ہے دوسرے علاقے میں جا کر کوئی بھی شریف آدمی تمھیں قبول کرنے میں تامل نہیں کرے گا۔“
”اپنے بارے کیا خیال ہے۔ آپ بھی تو شریف انسان ہیں۔“ وہ بے باکی سے بولی اور میں حیرت سے اس کی جانب تکتا رہ گیا۔ مگر اس نے مجھ سے نظریں چرانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”یہ کیا بحث تم لوگوں نے شروع کی ہوئی ہے۔ گاڑی سے تو باہر نکل آﺅ۔“ امجد جو میرے گاڑی روکنے پر باہر نکل گیا تھا مجھے مخاطب ہو ا۔
”اسے کچھ مت بتانا۔“ سعدیہ جلدی سے بولی۔
”تمھیں کیا پتا یہ کیا پوچھ رہا ہے۔“ میں حیرانی بولا۔
وہ ہنسی۔”گزار ے لائق اردو میں بھی سمجھ لیتی ہوں۔“
”وہ کیسے؟“
”سکول تو جنگل خیل میں نہیں ہے البتہ ایک امام مسجد اور اس کی بیوی نے اپنا ذاتی مدرسہ بنایا ہوا ہے جس میں امام صاحب لڑکوں کو قرآن اور مذہبی کتابوں کا درس دیتے ہیں جبکہ اس کی اہلیہ چھوٹی بچیوں اور لڑکیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتی ہے۔ میں بھی انھی سے پانچ چھے سال تک پڑھتی رہی ہوں۔“
” اس کا مطلب ہے تم شروع سے ہمارے درمیان ہونے والی گفتگو کو سمجھتی آرہی ہو۔“
”ہاں.... جو بات چیت آپ اردو میں کرتے تھے وہ آسانی سے سمجھ لیتی تھی۔ البتہ کبھی کبھی دوسری زبان بولنا شروع کر دیتے تھے تو میرے پلے کچھ نہیں پڑتا تھا۔“
”جانو صاحب۔ میں عرض کر رہا ہوں باہر تشریف لے آئیں۔
ع اور بھی غم میں زمانے میں محبت کے سوا
اس کی بات پر سعدیہ کا چہرہ شرم سے گلنار ہو گیا تھا۔
”گدھے اسے اردو مکمل سمجھ میں آتی ہے۔“ میں نے گاڑی سے باہر آتے ہوئے اسے جھڑکا۔
”مم مگر تُم نے پہلے نہیںبتایا ....اور اگر ایسی بات تھی تو تمھیں آپس میں اردو بولنا چاہیے تھی تاکہ مجھے بھی سمجھ آتی رہتی۔“
”مجھے بھی اس بات کا ابھی پتا چلا ہے۔“
”بھائی.... اصل میں ہم پورا بول نہیں سکتانا۔“ سعدیہ نے امجد کے سامنے صفائی پیش کی۔ ”البتہ سمجھ لیتا ہے۔“
”ہن آرام ای۔“وہ میری طرف دیکھ کر طنزیہ لہجے میں بولا اور میں فقط مسکرا دیا۔
”یہاں سے اب پیدل چلیں گے۔“ میں نے ان دونوں کو آگاہ کیا۔ ”کیوں کہ اس گاڑی کی وجہ سے ہم پھنس سکتے ہیں۔“
”تے اینداکے کریسوں“(تواس کا کیا کریں گے) اس کا اشارہ واضح طور پر سعدیہ کی طرف تھا اور اس کے اردو سمجھ لینے کے خیال سے اس نے سرائیکی میں بات کی تھی۔
”اے کمبل ہیے بھرا، اے نی جان چھوڑن لگا۔“ (یہ کمبل ہے بھائی یہ جان چھوڑنے والا نہیںہے)
”اسی مارے آدھا ہم جو ہر کھڈ چ انگل نہ ڈتی کر۔“(اسی لیے کہتا تھا کہ ہر سوراخ میں انگلی مت دیا کرو) اور میں نے صفائی پیش کرنے کی بجائے خاموش رہنا پسند کیا۔ جھنڈ سے نکل کر ہم جنگل خیل کی سمت بڑھ گئے۔ سعدیہ نے ایک بار پھر ایسے گھونگھٹ نکال لیا تھا کہ اس کا چہرہ بالکل نظرنہیں آرہا تھا۔
”اب کیا ارادہ ہے۔ کوئی لائحہ عمل سوچا ہے یا ویسے ہی جھک مارنے چل پڑے ہو۔“
”لائحہ عمل تو یہ ہے کہ سب سے پہلے رہائش کا بندوبست کریں گے تاکہ آرام سے چودھری کی تلاش کا آغاز کیا جا سکے۔“
”رہائش کے لیے ہوٹل تو ملنے سے رہے اور بالفرض کوئی ہوٹل مل بھی جائے تب اس میں ہم سعدیہ کو تو ہمراہ نہیں رکھ سکیں گے۔“
” یہ تو ہے۔“ میں تائید میں سر ہلایا۔ ”یہاں پر سرائے سسٹم رائج ہے ایک بڑے سے ہال میں تمام مسافروں کو چارپائی بستر وغیرہ مل جاتا ہے اور تمام وہیں پڑے رہتے ہیں۔“
”عورتیں بھی تو مسافر ہوتی ہوںگی اور اس علاقے میں تو پردے کا رواج بھی ہے۔“
سعدیہ جو ہمارے پیچھے پیچھے آرہی تھی ہماری غلط فہمی دور کرتے ہوئے بولی۔
”پردے کی پابندی صرف مقامی خواتین ہی کرتی ہیں۔ افغانستان سے سیر و سیاحت کے لیے آنے والی خواتین عموماً بہت واہیات لباس میں نظر آتی ہیں(قارئین کی معلومات کے لیے درج کرتاچلوں کہ اس وقت افغانستان پر روس کا تسلط تھا) اور جہاں تک تعلق ہے رہائش کا تو اس کے لیے چھوٹے چھوٹے کوارٹروں سے لے کر بڑے بڑے مکان تک دستیاب ہیں۔ بات صرف پیسے کی ہے کہ آپ کی جیب کتنی اجازت دیتی ہے۔“
”اچھا....“ میں حیرانی بولا۔ ”اس کا مطلب ہے رہائش کی یہاں کوئی پرابلم نہیں ہے۔“
”بالکل ہی نہیں۔“ سعدیہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
”یاروہ کون سی باتیں ہیں جو مجھ سے پوشیدہ رکھنے کے لیے آپ کو پشتو میں بات کرنا پڑ رہی ہے۔“ امجد ہماری پشتو سے تنگ آ گیا تھا۔
”گدھے تمھیں پتا ہے کہ یہ اردو صحیح طور پر نہیں بول سکتی۔ پھر بکواس کرنے کا فائدہ؟“
”تو آپ ساتھ ساتھ مجھے بتاتے رہا کریں نا؟ میں ہونّقوں کی طرح تمھارے چہروں کو تکتا رہتا ہوں۔“
”اچھا سنو....۔“ میں نے اس کے سامنے سعدیہ سے سنی معلومات دہرا دی۔
”ویسے کڑی سانوں گائیڈ تے بڑا اچھا کر رہی ہے۔“ وہ تعریفی لہجے میں بولا۔
”لازمی بات ہے اس علاقے کی رہائشی ہے اسے یہ بنیادی معلومات پتا نہیں ہوں گی تو کس کو ہوں گی۔“
اس دوران ہم جنگل خیل کی وادی میں داخل ہو گئے تھے۔ پہاڑوں کے درمیان کافی وسیع قطعہ زمین تھا جس میں ہر جانب سبزہ ہی سبزہ نظر آرہاتھا۔ عمارتی سلسلے میں زیادہ تر مکانات پختہ اینٹوں اورپتھروں سے تعمیر کے گئے تھے البتہ خال خال کچی مٹی کے بلاکوں کے بنے ہوئے مکان بھی نظر آرہے تھے۔ راستے میں کافی خواتین ہمیں مردوں کے ساتھ ٹہلتی نظر آئیں تمام کا لباس ناکافی اور واہیات قسم کا تھا۔ سعدیہ کے کہنے کے مطابق ان میں بڑی تعداد ازبک اور تاجک خواتین کی تھی۔(ازبکستان اور تاجکستان روس کی ریاستیں تھیں جو بعد میں روس کے ٹوٹنے پر علاحدہ مملکتیں بن گئیں تھیں۔) اس کے علاوہ دوسرے علاقوں کے بھی کافی لوگ وہاں گھومتے نظر آرہے تھے۔ جنگل خیل رقبے کے لحاظ اتنا وسیع نہیں تھا جتنا کہ وہاں آبادی کی کثرت تھی۔
سعدیہ کے کہنے پر ہم ایک ہوٹل میں داخل ہو گئے استقبالیہ پر ایک جوان العمرشخص براجمان تھا۔
پہلے موجود دو گاہکوں کو نمٹانے کے بعداس نے ہماری طرف متوجہ ہوکر شستہ اردو میں پوچھا....
”جی....آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟“
”ہمیں چند دنوں کے لیے دو کمروں کا کوارٹر چاہیے تھا۔“
”500روپیہ ایڈوانس جمع کرادیں 100روپیہ کوارٹر کا یومیہ کرایہ ہے، پانچ دنوں سے زیادہ رہنے کی صورت میں پانچوں دن آپ کو مزید ایڈوانس جمع کرانا ہوگا۔“
”یہ لو ہزار روپیہ۔“ میں نے سو سو کے دس نوٹ اس کے جانب بڑھائے۔ ”باقی حساب دسویں دن کریں گے۔“
”پلیز نام پتا لکھادیں۔“ اس نے رجسٹر کھولا....
”لکھو عبداﷲ ولد عبدالرحمن سکنہ ٹھٹھہ اور یہ عبدالرحمن ولد عبداﷲ سکنہ جلال پور جٹان۔“
اس نے مسکراتے ہوئے دونوں نام درج کر لیے اسے معلوم تھا کہ میں نے دونوں نام فرضی بتلائے تھے مگر یہ ایک رسمی خانہ پُری تھی جس کی وجہ سے اس نے اصرار نہیں کیا تھا۔
”خاتون بھی آپ کے ساتھ ہیں نا؟“ اس نے پیچھے کھڑی سعدیہ کی طرف اشارہ کیا۔
”ہاں لیکن آج کے لیے۔“ میں معنی خیز انداز میں آنکھ دبا ئی۔
”سر اگر کوئی کمی پاﺅ تو ہمیں بھی خدمت کا موقع دینا۔“ خوش اخلاق چہرے کے پیچھے اس کی مکروہ صورت جھلکی۔ ”ہمارے پاس روس افغانستان، پاکستان کے مختلف شہروں اور مقامی ہر عمر اور ہر نسل کا مال وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ ریٹ بھی بہت مناسب ہیں۔“
”شکریہ.... اگرضرورت پڑی تو ضرور آپ کی پیش کش سے فائدہ اٹھائیں گے؟“
جاری ہے
 

قسط نمبر26
ریاض عاقب کوہلر
”بالکل جی.... آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔“ اس نے اپنی پشت پر لٹکے چابی بکس سے رنگ میں بند چند چابیاں ہمارے جانب بڑھا دیں۔ ”یہ آپ کے کوارٹر کی چابیاں ہیں۔“
” کوارٹر تک رہنمائی کے لیے....۔“
”ہاں سر یہ تو لازمی ہے۔“اس نے قطع کلامی کی۔ ”بس آپ دو منٹ انتظار کریں بلکہ بیٹھیں.... اصل میں کوارٹروں کو ہینڈل کرنے والے دونوں آدمی مہمانوں کو پہنچانے کے لیے گئے ہوئے ہیں جیسے ہی ان میں سے کوئی آتا ہے۔ بلکہ وہ آگیا ہے.... منظور ان صاحبان کو سات نمبر کوارٹر میں چھوڑ آﺅ۔“ ایک ادھیڑ عمر آدمی کو ہوٹل میں داخل ہوتے دیکھ کر اس نے ہانک لگائی۔
اور منظور نامی شخص۔ ”آئیں جی“ کہہ کر ہمیں ساتھ لیے ہوٹل سے نکل آیا ہوٹل سے سو، ڈیڑھ سو گز کے فاصلے پر چھوٹے چھوٹے مکان ایک سیدھی لائن میں تعمیر کیے گئے تھے منظور ہمیں ایک مکان میں لے گیا۔
”یہ ہے جی آپ کا7نمبرکوارٹر۔“
”شکریہ۔“ میں نے 10روپے کا نوٹ بطور ٹپ اسے پکڑایا اور وہ سلام کر کے چلتا بنا۔ کوارٹر کا دروازہ کھول کر ہم تینوں اندر داخل ہوگئے۔ وہ کوارٹر دو کمروں ایک باتھ روم اور ایک کچن پرمشتمل تھا۔ چھوٹاسا صاف ستھرا صحن۔ صحن میں کچن کی دیوار کے ساتھ خشک لکڑیاں ترتیب سے پڑی تھیں جو لازمی کچن میں جلانے کے کام آتی ہوں گی۔ کچن کو کھول کر دیکھا تو اس میں کھانا پکانے کے برتن اور تھوڑا بہت مصالہ رکھا ہواتھا۔
”ماجے یہ چابیاں رکھو میں ذرا بازار سے کچھ پکانے کے لیے لے آﺅں، ہوٹل میں کھانا کھانے سے بہتر ہے ہم خود کچھ پکالیا کریں۔“
امجد نے سر ہلاتے ہوئے چابیاں میرے ہاتھ لے لیں۔بازار تک جانے کے لیے مجھے اس ہوٹل سے گزر کرجانا پڑا جس سے ہم نے کوارٹر کرائے پر لیا تھا۔ میں ہوٹل کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ تین ڈبل کیبن ٹویوٹا”زن“ سے میرے پاس سے گزر گئیں ان کے اندر بیٹھے ہوئے بندوں کو دیکھتے ہی میں چونک پڑا۔ وہ باسمت خان کے آدمی تھے۔ وہ بڑی جلدی ہمارے پیچھے پہنچ گئے تھے اتنی جلدی ان کی آمد کی توقع کم از کم میرے گمان میں بھی نہیں تھی اچانک ایک خیال بجلی کی سی سرعت سے میری دماغ میں در آیا اور اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مجھے ایک بار پھر ہوٹل میں گھسنا پڑا، خوش قسمتی سے بکنگ والا شخص اس وقت تنہا تھا۔
”السلام علیکم۔“ اس کے قریب پہنچا۔
”وعلیکم السلام۔ سناﺅ عبداﷲ بھائی کیا ضرورت پیش آگئی ہے۔ کہیں اس گنوار لڑکی نے تو مزہ کر کرہ نہیں کر دیا۔“ اس نے مکروہ انداز میں اپنی آنکھ میچی۔
”نہیں جناب.... اصل میں ایک اور مسئلہ تھا۔“
”حکم کرو.... ہمارے ہوتے ہوئے مسئلہ کیسے باقی رہ سکتا ہے۔“ وہ چاپلو سی سے بولا۔ میں اس کے سامنے کاونٹر پر جھک گیا۔ ”ہم نے کوارٹرکب کرائے پر لیا تھا؟“
”یہی کوئی گھنٹا بھر پہلے۔“
”نہیں....“ میں نے سو کا نوٹ اس کی طرف بڑھایا۔ ”ہم نے پرسوں کو ارٹر کرائے پر لیا تھا اور ہمارے ساتھ کوئی عورت بھی نہیں تھی۔“
”اوہ سوری....“ اس نے نوٹ جھپٹ کر جیب میں ڈالا۔ ”واقعی آپ لوگ تو پرسوں صبح آئے تھے، میں رجسٹر بھی ٹھیک کرلوں، یہ تو حقیقتاً بہت بڑی غلطی ہے۔“ اس نے میرے سامنے رجسٹر کھولا اور 15کو 13تاریخ سے بدل کر رجسٹر بند کر دیا۔
”شکریہ“ میں اس سے ہاتھ ملا کر واپسی کے لیے مڑا۔
”ایکسکیو زی سر۔“ اس نے مجھے آواز دی۔
”جی؟“ میں نے رک کر پوچھا۔
”سر آپ نے دس دنوں کا ایڈوانس جمع کرایا تھا اور رجسٹر کے مطابق آپ کا عرصہ پرسوں سے شروع ہے۔ اس لیے اب آپ آٹھ دن مزید کو ارٹر استعمال کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ....“
”میں سمجھ گیا یار.... وضاحت کی ضرورت نہیں۔“ میں نے اس کی بات مکمل نہیں ہونے دی تھی۔
”تھینک یو سر۔“ وہ مطمئن ہوگیا اور میں سر ہلاتے ہوئے ہوٹل کے بیرونی دروازے کے جانب چل دیا۔ یہ احتیاطی تدبیر ڈابیر والوں کو دیکھتے ہی میرے ذہن میں آئی تھی اور میں بغیر کسی تاخیر کے اس پر عمل کر گزرا تھا۔ میرا اندازہ تھا کہ جنگل خیل میں سرسری سا چکر لگاتے ہی انھوں نے ہوٹلوں وغیرہ کی چیکنگ شروع کر دینی تھی، اور بازار سے ضروری سامان کی خریداری کے بعد جب میں واپس آرہا تھا تو میں نے ان کی ایک گاڑی ہوٹل کے دروازے پر کھڑی دیکھی، میری بروقت احتیاط کا م آگئی تھی ، لیکن اس کے باوجود میرے دل میں بکنگ کرنے والے آدمی کے جانب ایک ہلکا ساخدشہ موجود تھا جس کا تدارک میرے بس سے باہر تھا۔
میری سہولت کی خاطر امجد نے دروازے کی اندر سے کنڈی نہیں لگائی تھی۔ سامان کچن میں رکھ کر میں اس کمرے کی طرف بڑھ گیا جہاں سے باتوں کی آواز آرہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ دونوں خاموش ہو گئے۔
”چل بھئی ماجے!.... بہت دنوں سے تمھارے ہاتھ کا بنا ہوا لذیذ کھانا نہیں کھایا، ذرا اپنی قابلیت کے جوہر دکھاﺅ تاکہ سعدیہ کو پتا چلے کہ تُو بھی کوئی سلیقے کا کام کر سکتا ہے۔“
”ملک صاحب پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں کھانا پکانے کا مشورہ آپ نے دیا تھا اس لیے یہ زحمت بھی آپ خود کرنا پڑے گی۔ دوسرے میں آپ کا منشی ہوں باورچی نہیں۔“
”بھائی نہیں ہے؟“ میں نے اسے جذباتی طور پر بلیک میل کرنا چاہا۔
” یہ بہنوں کا کام ہوتا ہے۔“ اس نے میرا حملہ پسپا کیا۔
”یار سودا سلف بھی میں اتنی دور سے جا کر لے آیا ہوں اب کچھ غیرت تم بھی کر لو۔“
”اس معاملے میں مَیں سخت بے غیرت ہوں۔“ وہ کہاں ہار مانے والا تھا، لیکن اس سے پہلے کہ میں اسے کھانا پکانے پر راضی کرنے کے لیے مزید کوئی دلیل دیتا سعدیہ بولی۔
”اگر اجازت دوتو میں پکالوں؟۔“ گو یہ بات وہ پشتو میں بولی تھی۔ مگر امجد کو سمجھ آگئی اوراس نے جلدی سے لقمہ دیتا۔
”دیکھونا!.... میری بہن کی موجود ی میں تم مجھے مجبور کررہے تھے۔“
”مگر سعد یہ تم ہماری مہمان ہو۔“ میں نے امجد کی بات پر توجہ دیئے بغیر رسمی سا انکار مناسب سمجھا۔
”آپ کا کون سا اپنا گھر ہے۔“ وہ اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ گئی اور میں خاموش ہو گیا۔
”کچھ گھریلو سا ماحول نہیں بن گیا ملک صاحب۔“ امجد نے ہنستے ہوئے کہا۔
”چلو اس کے ہونے سے کچھ سہولت تو مل گئی۔“
”ویسے اس کو کب تک اپنے ساتھ لیے پھریں گے؟“
”اب اسے کون سا ساتھ لیے پھرنا ہے؟ کوارٹر میں پڑی رہے گی۔غریب جب تک ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو جاتے اس کو یہیں رہنے دو یہاں سے واپسی پر اس کے بارے کوئی مناسب حل سوچیں گے۔“
”چودھری کی تلاش سے متعلق کوئی لائحہ عمل سوچا ہے۔“
”جنگل خیل کا ماحول دیکھتے ہوئے یہ کام کافی دشوار گزار دکھائی دے رہا ہے۔“
”میرا خیال ہے کھانا کھا کر نکلتے ہیں ، حرکت میں برکت ہے شاید اس کا کوئی سراغ مل جائے۔“
امجد کا مشورہ کافی معقول تھا میں نے کہا۔ ”کھانا کھا کر تھوڑا آرام کرتے ہیں رات کو نکلیں گے۔ یوں بھی میرے اندازے کے مطابق یہاں دن سے زیادہ رات کو رش ہونا چاہئے۔“
”ٹھیک ہے اسی طرح کر لیتے ہیں۔“ وہ مجھ سے متفق ہوگیا۔
”اور ہاں ایک اہم بات۔“ مجھے اچانک ڈابیر والوں کو آمد یاد آئی اور میں امجد کو ان کی آمد اور اپنی احتیاطی تدبیر کے متعلق بتانے لگا۔
”کیا چکر ہے آج کل تمھارا دماغ کچھ زیادہ ہی تیز نہیں ہو گیا۔ ”
میں نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔ اس کے بعد کھانا آنے تک ہم چودھری کی تلاش کے لیے کوئی متفقہ لائحہ عمل سوچتے رہے سعدیہ نے کھانا بہت اچھا بنایا تھا بالکل گھر کی یاد تازہوگئی تھی کھانے کے بعد وہ چائے لے کر آگئی چائے پی کر میں نے کہا۔
”ہم دونوں اسی کمرے میں رہیں گے۔ تم اپنے لیے ساتھ والا کمرہ سیٹ کرلینا۔ باقی فی الحال ہم سو رہے ہیں۔ اٹھ کر تھوڑی دیر بعدگھومنے کے لیے نکلیں گے تم نے اپنے کمرے کی کنڈی بند رکھنی ہے۔ البتہ بیرونی دروازہ ہم باہر سے بند کرتے جائیں گے۔ اگر ہمیں دیر ہو جاتی ہے تو گھبرانا نہیں۔“
”رات کے لیے کیا پکا لوں؟“ میں چونکہ سبزی، گوشت اور دالیں وغیرہ اکٹھی لے آیا تھا اس لیے اس نے میرا مشورہ لینا ضروری سمجھا۔
”رات کے لیے ؟ اﷲ کی بندی اب کون سا دن ہے۔“ میں نے غروب ہوتے ہوئے سورج کی طرف اشارہ کرتے کیا۔وہ مسکرا دی تھی۔
”پھر آپ لوگوں کو کس وقت جگا دوں؟“
”ہمیں جگانے کی ضرورت نہیں۔ اپنے کمرے تک محدود رہو، جب تک کوئی کام نہ ہو ہمارے پاس آنے کی بالکل زحمت نہ کرنا۔“ آخری الفاظ کہتے ہوئے میرا لہجہ ہلکا ساخشک ہو گیا تھا۔
”جی اچھا۔“ وہ دھیمے لہجے میں بولتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
” کیوں اتنے کڑوے لہجے میں بات کر رہے تھے؟“
” جوان لڑکی ہے ماجے صاحب ....! اور اس کے ساتھ بے آسرا بھی، ہمارا نرم لہجہ اس کے دل میں غلط فہمی کا بیج بھی بو سکتا ہے جو بعد میں ہمارے لیے لاینحل مسئلہ ثابت ہو گا اس لیے بہتر یہی ہے کہ ابھی سے اسے غیر ہونے کا احساس دلایا جائے تاکہ بعد میں ہمارے لیے پرابلم نہ بنے۔“
”ٹھیک ہے بقراط صاحب۔ اب سو جاﺅ۔“ وہ لکڑی کی بنی ہوئی چارپائی پر ڈھیر ہوگیا
چارپائیوں کی بناوٹ ہو بہو ہمارے علاقے کی چارپائیوں جیسی تھی، لکڑی کا فریم جس کی بنائی کھجور کے پتوں سے بنے ہوئے بان سے کی گئی تھی۔ سونے سے پہلے مجھے واش روم جانے کی حاجت ہوئی اور میں کمرے سے باہر نکل آیا۔ سعدیہ کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا کچن میں برتنوں کی کھنکھناہٹ سنائی دے رہی تھی جس کا مطلب یہی تھا کہ وہ برتن دھونے میں مصروف ہے۔ واش روم سے باہر آنے پر بھی وہ مجھے کچن میں ہی مشغول دکھائی دی۔ میں آرام کا ارادہ کیے کمرے کے جانب بڑھا مگر آرام شاید ہماری قسمت میں نہیں تھا اور اس کا سبب دروازے پرہونے والی زور دار دستک تھی۔ میں انھی قدموں پر بیرونی دروازے کی طرف بڑھا سعدیہ بھی دستک کی آواز سن کر کچن سے نکل آئی تھی میں نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور دبے قدموں آگے بڑھ کر دروازے کی جھری سے آنکھ لگا دی میرے بدترین اندیشوں نے حقیقت کا روپ دھارلیا تھا۔ دروازے پر جانان خان کے آدمی کھڑے نظر آئے میں جلدی سے مڑ کر کمرے کے جانب بڑھا میری تیز ی دیکھتے ہوئے سعدیہ بھی پریشان ہو گئی تھی۔
”ماجے....! تیار ہو جاﺅ خطرہ ہے۔“ میں اپنی کلاشن کوف سنبھال لی۔ امجد پر غنودگی طاری ہونے لگی تھی مگر وہ کمانڈو تھا جو امن کے دنوں میں بھی ایک آنکھ کھول کر سوتے ہیں اس وقت تو یوں بھی ہم خطرناک حالات سے دو چار تھے۔ میں جب تک دروازے سے نکلتا وہ میرے پیچھے پہنچ گیا تھا۔ اس وقت ایک مرتبہ پھر دروازہ زور سے دھڑ دھڑایا گیا۔
”ایک منٹ بھائی کپڑے تو پہننے دو۔“ میں نے انھیں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گویا میں باتھ روم میں ہوں۔
”ماجے ....! میرا خیال ہے دائیں جانب کے کوارٹر کی دیوار پھلانگ کر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں پچھلی سائیڈ پر تو انھوں نے لازماً بندے بٹھائے ہوں گے۔“
اس نے اثبات میں سر ہلا کر اپنی رضا مندی کا عندیہ دے دیا۔ وہ تمام کوارٹر ایک سیدھی لائن میں تھے، کوارٹروں کے سامنے اور پشت پر تو ہر صورت خطرہ موجود تھا البتہ دوسرے کوارٹروں کا سہارا لے کر ہم وہاں سے نکلنے کی کوشش کر سکتے تھے۔ امجد کو ارٹر کی درمیانی دیوار پر چڑھا اور آہستگی سے دوسرے جانب اتر گیا۔ میں نے سہارا دے کر سعدیہ کو بھی دیوار پرچڑھایا اور اس کے پیچھے خود بھی اوپر چڑھ گیا۔ امجد اگلے کوارٹر کی دیوار کے قریب پہنچ گیا تھا۔ کوارٹر کے اندر چھائی خاموشی اس کے خالی ہونے کا اعلان کر رہی تھی۔ سعدیہ بغیر کسی سہارے کے دوسرے جانب اتر گئی۔ اگلے کوارٹر میں کمرے کے اندر باتوں کی آواز سنائی دی مگر ہم دبے قدموں تیسرے کوارٹر کی دیوار پا ر کر گئے۔ اس کوارٹر میں بھی بندے موجود ہونے کے باوجود ہمارا سا منا کسی سے نہ ہوا۔ البتہ چوتھے کوارٹر کے صحن میں کرسیاں ڈالے ایک مرد اور دو جوان سال عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ہمیں دیکھتے ہی وہ گھبرا کرکھڑے ہو گئے تھے۔
کک ....کیا بات ہے۔“ مرد نے ہمت مجتمع کرتے ہوئے پوچھا۔
”گھبرائیں نہیں ہم دشمنوں سے بچنے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔“ میں نے انھیں تسلی دی۔وہ کوارٹر اس لائن کا آخری کوارٹر تھا۔ اس کے بعد نسبتاً بڑے مکانوں کا سلسلہ شروع ہو رہا تھا، لیکن اس کو ارٹر اور پہلے مکان کے درمیان ایک پتلی سی گلی گزر رہی تھی۔ امجد نے دیوار سے اچک کر گلی میں جھانکا اور بولا۔
”خالی پڑی ہے۔“
” نکلوپھر۔“ ہم تینوں دیوار سے گزر کر گلی میں آگئے۔ میں نے تھوڑا سا آگے بڑھ کر بڑی گلی میں جھانکا تو اپنے کوارٹر کے سامنے مجھے چند بندے کھڑے نظر آئے۔ وہ سارے ہمارے کواٹر کی طرف متوجہ تھے میرے دیکھتے ہی دیکھتے ان میں سے ایک بندہ کوارٹر کی سامنے والی دیوار سے اچک کر کوارٹر کے اندر داخل ہو گیا؟ ان کے صبر کا پیمانہ شاید لبریز ہو چکا تھا۔ چند سیکنڈ کے بعد ہی دیوار سے کودنے والے نے کوارٹر کا دروازہ اندر سے کھول دیا اور وہ تمام تیزی سے اندر داخل ہو گئے۔
”آجاﺅ۔“ میں ان سے بولا اور ہم نے دوڑ کر وہ چوڑی گلی عبور کرلی۔ وہ پتلی گلی کافی طویل تھی ہم تیز قدموں سے چلتے ہوئے وہاں سے نکلتے چلے گئے۔ سعدیہ کو ہمارا ساتھ دینے کے لیے تقریباً دوڑنا پڑ رہا تھا۔ وہ غریب ابھی تک ننگے پاﺅں تھی۔
”جانو صاحب !....اس کا مطلب ہے تمھاری احتیاط پسندی کام نہیں آسکی ہے۔“
”ہاں یار.... اسی لیے تو اسے جنگل خیل کہتے ہیں۔ اور اب بکنگ والے کا صفایا کرنا پڑے گا کیوں کہ وہ ہمیں شکل سے پہچانتا ہے۔“
”وہ توخیر ہو ہی جائے گا، پہلے سرچھپانے کے لیے کوئی جگہ ڈھونڈو۔“
”میرا تو خیال ہے کسی خالی کوارٹر یا مکان میں گھس کے رات گزارتے ہیں۔“
”بالکل ٹھیک ہے۔“ اس نے میری تائید کی اور ہم چلتے چلتے گھروں کے بیرونی دروازوں کو غور سے دیکھنے لگے، سورج غروب ہو چکا تھا مگر اب تک اتنی روشنی باقی تھی کہ ہم گلی کے وسط سے تالوں کو دیکھ سکتے تھے۔ ہماری محنت رنگ لائی اور جلد ہی ایک بڑے مکان کے باہر ہمیں تالا لٹکتا نظر آگیا۔
”یہ کیسا رہے گا جانو؟“ امجد مستفسر ہوا۔
”اچھا ہے.... اندر گھس کر دروازہ کھولو۔“ مکان کی دیواریں کافی اونچی تھیں دائیں بائیں کا جائزہ لے کر امجد اچھلا اور دیوار کے اوپر اپنی انگلیاں پھنسا کر اوپر چڑھ گیا۔ دیوارپر اس نے زیادہ دیر نہیں گزاری تھی ایک سرسری نظر صحن میں دوڑا کر وہ نیچے کود گیا۔ منٹ ڈیرھ منٹ کے بعد اس نے چھوٹی کھڑکی کھول دی میں اور سعدیہ جلدی سے اندر گھس گئے۔
”ایک دفعہ تسلی کرلیں یہ نہ ہو کوئی عارضی طور پر باہر گیا ہوا ہو اور لینے کے دینے پڑ جائیں۔“ میں نے کہا اور ہم دونوں نے کمروں کے تالے توڑ کر دیکھنے شروع کر دیئے، پہلے دو کمروں میں گرد کی ہلکی ہلکی تہہ دیکھنے کے بعد ہمیں یقین ہو گیا تھا کہ چند دنوں سے ان کی کمروں کو کسی نے بھی استعمال نہیں کیا تھا۔ باقی کمروں کے تالے توڑنے کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوئے ہم نے انھیں بندر رہنے دیا تھا۔
”آپ دونوں آرام کرو۔ میں ذرا بکنگ والے کی خبرلے لوں۔“
”دونوں چلے جاتے ہیں۔“ امجد نے مشورہ دیا۔
”نہیں۔“میں نفی میں سر ہلایا۔ ”ایک بندے کا سعد یہ کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔“
”پھر آپ بھی آرام کریں.... اس سے بعد میں نبٹ لیں گے۔“
”دماغ ٹھیک ہے ماجے صاحب....! اس موذی نے ہماری مبارک شکلیںبہت اچھی طرح سے دیکھی ہوئی ہیں۔ اس کا زندہ رہنا ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا“
ا س دفعہ اس نے خاموش رہتے ہوئے اپنی رضامندی ظاہر کر دی تھی۔ میں نے ایک پرانی چادر اٹھا کر پگڑی کے انداز میں سر پر لپیٹی اور اس کا ایک پلو منہ کے گرد لپیٹ کر اپنے چہرے کو کسی حد تک ڈھانپ دیا۔
میں نے سعدیہ سے پوچھا۔”تمھیں ہتھیار چلانا آتا ہے؟“
”جی۔“ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”یہ پستول اپنے پاس رکھو شاید تمھیں اس کی ضرورت پڑ جائے۔“ میں نے جیب سے پستول نکال کر اس کے جانب بڑھا دیا، ہم دونوں کے پاس یوں بھی کلاشن کوفیں موجود تھیں۔ تین کلاشن کوفیں ہم نے ڈابیر والوں سے اپنے قبضے میں کی تھیں۔ جس میں سے ایک میرے پاس موجود تھی جبکہ دو گنیں ہم گاڑی میں بھول آئے تھے۔ ان دونوں کو وہیں چھوڑ کر میں باہر نکل آیا۔ رات کا اندھیرا آہستہ آہستہ گہرا ہو رہا تھا۔ میں ہوٹل کی سمت چل پڑا لوگوں کی آمدورفت میں کوئی خاص کمی نہیں ہوئی تھی اور یہ چہل پہل اس بات کا اشارہ تھا کہ جنگل خیل کی راتیں بھی جاگتی ہیں۔ جلد ہی میں ہوٹل کے قریب پہنچ گیا ، لیکن اندر داخل ہونے کی بجائے میں ناک کی سیدھ میں نکلتاچلتا گیا البتہ ہوٹل کے گیٹ کے سامنے سے گزرتے ہوئے میں نے ایک نظر اندر دیکھ کر بکنگ والے کی موجودی کا یقین کر لیا تھا۔ کافی آگے جاکر میں پیچھے مڑا اور ٹہلنے کے انداز میں واپس آنے لگا۔ دروازے کے سامنے مزید ڈیڑھ گھنٹے تک میری مٹرگشت جاری رہی۔
جس وقت بکنگ والے نے اپنی جگہ چھوڑی اس وقت رات کا اندھیرا خوب گہرا ہو چکا تھا، مگر ہوٹل کے اندر روشنی کا خاطر خواہ بندوبست کیا گیا تھا جو جنریٹر کی مرہون منت تھاکیوں کہ ادھر سرکاری بجلی کا کوئی بندوبست نہیں تھا، اور ہوتا بھی کیسے جب یہ علاقہ کسی بھی حکومت کے زیر اثر نہیں تھا۔
اس کے باہر آتے ہی میں نے غیر محسوس انداز میں اس کا تعاقب شروع کر دیا۔ گلیوں کے اندر اکا دکا آدمیوں کی موجودی جہاں میرے کام میں مانع ثابت ہوئی وہیں اسے بھی میرے تعاقب کی سرگرمی سے بے خبر رکھا۔ دو تین گلیاں مڑنے کے بعد آخر وہ ایک چھوٹے سے مکان کے سامنے رک کر اس کا تالا کھولنے لگا اور یہ دیکھ کر میں نے اطمنان کا گہرا سانس لیا گویا وہ اس کا مکان میں اکیلا تھا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ، گلی سنسان نظر آئی البتہ مجھے، آگے دو بندے جاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے جب تک وہ کواڑ کھول کر اندر داخل ہوتا میں اس کے سرپر پہنچ گیا تھا۔ اس نے گھر میں داخل ہو کر دروازہ بند کرنے کی کوشش کی اور اس کی یہ کوشش ناکام بناتے ہوئے میں دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہو گیا۔
”کک کیا بات ہے کون ہوتم۔“
”خاکسار کو عبداﷲ ولد عبدالرحمن کہتے ہیں۔“
”آ.... آ.... عبداﷲ بھائی آپ“۔ وہ ہکلایا۔
”جی میں....تم نے کہا تھا ناںکہ اگر تمھارے لائق کوئی خدمت ہو تو میں بے جھجک بتا سکتا ہوں۔“
”ک، کک۔ کیوں نہیں۔“ وہ تھوک نگلتے ہوئے بولا۔ ”مگر اس کے لیے آپ کو ہوٹل میں تشریف لانا چاہیے تھا۔“
”نہیں اس خدمت کے لیے یہی جگہ مناسب رہے گی۔“ میں سرد لہجے بولا۔ ”تم آگے بڑھ کر کمرے کا دروازہ کھولو۔“
”آ.... آپ مجھے کسی غلط فہمی کا شکار لگ رہے ہیں۔“ وہ اپنے دل کے اندیشے زبان پر لے آیا۔
”شاید.... مگر آپ کوشش کر کے میری غلط فہمی دور کر سکتے ہیں۔“
”بب ....بالکل سر.... کیوں نہیں۔“
”تو چلو پھر دروازہ کھولو تاکہ غلط فہمی دور کی جائے۔“ میں اسے کلاشن کوف سے آگے دھکیلا۔
اور وہ مرے مرے قدموں سے اندر کی طرف چل پڑا۔ بیرونی دروازے کو اندر سے کنڈی لگا کر میں نے جیب سے پنسل ٹارچ نکالی اور جلا کر اس کے پیچھے چل پڑا۔ اس کی حرکت وسکنات پر میں نے گہری نظر رکھی ہوئی تھی۔ اس کی طرف سے ذراسی بے قاعدگی پر میں اسے آڑے ہاتھوں لینے کے لیے تیار تھا اور اسی مقصد کے لیے میں نے ٹارچ جلائی تھی تاکہ وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر کوئی غلط حرکت نہ کر گزرے مگر ابھی تک وہ میرے خطرناک عزائم سے بے خبر تھا اس لیے اس نے کسی بھی قسم کی الٹی سیدھی حرکت سے گریز کیا تھا یا شاید وہ میرے ہاتھ میں موجودگن سے ڈراہوا تھا۔ اس نے اندرونی کمرے کا دروازہ کھولا اور ہم اکٹھے کمرے میں داخل ہو گئے چارپائی کے ساتھ پڑی لکڑی کی تپائی پر ایک چھوٹا سا گیس سلنڈر رکھا ہوتھا۔ اس نے تیلی جلا کر منٹل کو آگ لگائی اور کمرے میں تیز روشنی پھیل گئی۔
”بیٹھیںعبداﷲ صاحب۔“ وہ گیس سلنڈر جلا کر بولا۔
”بیٹھنے کو چھوڑو.... مجھے صرف اتنا بتا دو کہ میرے متعلق جانا ن خان کے آدمیوں کو معلومات پہنچانے کے عوض کتنی رقم وصول کی ہے؟“
”کک کون جانان خان.... اور کیسی رقم آ.... آپ نے کیسی باتیںشروع کر دی ہیں؟“
”جانان خان فرام ڈابیر مسٹر وعدہ خلاف.... اگر تمھیں زیادہ رقم چاہیے تھی تو مجھے بتلاتے میں کوئی غریب تو نہیں تھا۔ تمھیں منہ مانگی رقم ادا کر سکتا تھا۔ بہ ہر حال اب تمھاری سزا یہی ہے کہ میری دی ہوئی تمام رقم بہ شمول ایڈوانس کرائے کے اور جانان خان سے حاصل کی ہوئی رقم میرے حوالے کر دو۔“
میری بات ختم ہوتے ہی اس کے چہرے پر چمک سی لہرائی تھی اور یہ چمک اتنی آسانی سے جان چھوٹنے کی تھی اس نے بغیر کوئی بحث کئے جلدی سے جیب میں ہاتھ ڈالا اور سوسو کے نوٹوں کی ایک چھوٹی سی گڈی میرے جانب بڑھا دی۔
”یہ اکتیس سو روپے ہیں۔“
”اس کا مطلب ہے انھوں نے تمھیں دو ہزار کی ہڈی ڈالی تھی۔“ میں زہر خند لہجے میں بولا اور اس نے مجرمانہ خاموشی سے سر جھکا لیا۔
”تمھارا نام؟“
”شاکر خان۔“ وہ آہستہ سے بولا۔
”شاکر خان.... تم نے انھیں میرا اور میرے ساتھی کا حلیہ بتایا تھا؟“
”نن نہیں۔“ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
”سچ بتاﺅ؟“
”صحیح کہہ رہا ہوں۔“ وہ جلدی سے بولا۔ ”انھوں نے مجھ سے اس وقت سے دو تین گھنٹوں کے دوران آنے والے بندوں کے متعلق معلومات پوچھیں تھیںاور میں نے فقط یہ بتایا تھا کہ دو مرد کلاشن کوفوں سے مسلح تھے اور ان کے ساتھ ایک عورت تھی۔“
”چلو مان لیتا ہوں.... لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں تمھیں زندہ نہیں چھوڑ سکتا کیوں کہ اب اگر وہ جلدی میں میرے حلیے کے متعلق نہیں پوچھ سکے ہیں تو دوبارہ آ کر شاید انھیں یہ استفسار نہ بھولے۔“
”م.... مم میں اب انھیں کچھ بھی نہیں بتاﺅں گا۔“ میرے لہجے میں پائی جانے والی سنجیدگی نے اسے لرزا دیا تھا۔
”اگر تُو آرام سے نہیں بتانا چاہے گا تو پوچھنے کے اور بھی کئی طریقے ان کے پاس موجود ہوں گے۔“
”م....مم میں ق....ق....قیں۔“ الفاظ اس کے منہ میں ادھورے رہ گئے تھے۔ میں نے بجلی کی سی سرعت سے اس کی گردن کو بائیں بازو کی گرفت میں لیا اور مخصوص جھٹکے کے ساتھ اسے دنیا کے غموں سے نجات دلا دی۔
اسے مار کر پھینکنے کے بعد میں نے تمام کمرے کی تفصیلی تلاشی لی مجھے امید تھی کہ اپنی ساری رقم اس نے گھر میں ہی کہیں چھپا کر رکھی ہو گی کہ جنگل خیل میں بینک نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ مگر اس کی خواب گاہ باقی دوکمرے اور کچن جو کہ استعمال نہیں ہوتا تھا ان سب کو اچھی طرح کھنگالنے کے بعد بھی مجھے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ گھر سے نکلنے سے پہلے میں نے ایک گہری نگاہ اس کی خواب گاہ میں دوڑائی مگر ایسی کوئی چیز مجھے نظر نہ آئی۔ جسے میں نے چیک نہ کیا ہو یہاں تک کہ چارپائیوں تک کے نیچے میں نے اچھی طرح تلاشی لے لی تھی۔ صرف اس کے سرہانے لگی ہوئی تصویر جو تجریدی آرٹ کا نمونہ تھی مجھ سے رہ گئی تھی۔ میں نے آگے بڑھ کر اسے ہلایا تو وہ سختی کے ساتھ دیوار میں گڑی نظر آئی۔ میں نے پنڈلی کے ساتھ بندھا ہوا خنجر نکال کر کینوس اور اس کے نیچے موجود گتے کو چوکور شکل میں کاٹ دیا۔ اس ٹکڑے کے ہٹتے ہی تصویرکے پیچھے دیوار میں نصب چھوٹا سا سیف ظاہر ہو گیا۔ شاکر خان نے بلاشبہ بڑے سلیقے سے اسے چھپا یا تھا۔
میرے پاس سیف کے تالے کے ساتھ متھا مارنے کا وقت نہیں تھا اس کے ساتھ زور آزمائی کرنا وقت کا ضیاع تھا۔ میں نے کلاشن کوف کو سنگل راﺅنڈ فائر پر سیٹ کرتے ہوئے اس کی بیرل کو تالے کے سوراخ سے لگایا اور مسلسل دو دفعہ لبلبی پریس کیا۔ زور دار دھماکے کے ساتھ سیف کا تالا ٹوٹ گیا تھا۔ میں نے دروازہ کھولا، وہ چھوٹا سا سیف رقم سے بھرا نظر آیا۔ اس کے ایک خانے میں سونے کی چنداینٹیں اور کوئی دستاویزات پڑی تھیں۔ دستاویزات کو چھیڑے بغیر میں نے جلدی جلدی رقم اور سونے کی اینٹوں کو سمیٹا اور انھیں ایک کپڑے میں گھڑی کی طرح باندھ کر وہاں سے چل پڑا۔ گو یہاں پر فائر روزمرہ کا معمول تھے لیکن پھر بھی احتیاط لازمی تھی کوئی بھی پڑوسی اس فائرکی حقیقت جاننے کے لیے شاکر خان کے گھر جھانک کر دیکھ سکتا تھا اور اس کی وجہ سے خواہ مخواہ مجھے ایک اور جان لینا پڑتی۔ ڈابیر والوں سے اپنا آپ چھپانے کے لیے مجھے بڑی تگ و دو کرنا پڑ رہی تھی کیوں کہ ہماری شناخت ظاہر ہو جانے کی صورت میں ایک لمبی دشمنی کا سلسلہ شروع ہو جانا تھا اور پورے گاﺅں یا کم از کم ڈابیر کے مخصوص گروپ سے لڑائی مول لینا ہم دو بندوں کے لیے ناممکن ہو جاتا۔ یوں بھی ہتھیار کازمانہ تھا اور لبلبی دبا کر ایک بچہ بھی چھے فٹ کے جوان کو زندگی کی قید سے نجات دلا سکتا تھا۔
شاکر خان کے گھر سے نکل کر میں اسی مکان کے جانب روانہ ہو گیا جہاں امجد اور سعدیہ چھپے ہوئے تھے، واپسی کے لیے میں چاہنے کے باوجودرستہ تبدیل نہ سکا کہ دوسرے راستے سے میں شاید اس مکان تک نہ پہنچ سکتا۔ اس بار بھی میں بغیر کسی حادثہ کے اپنی کمین گاہ میں پہنچ گیا۔امجد بیرونی دروازے پر ہلکا سا کھٹکا سن کر باہر آگیا تھا۔ وہ کسی بھی ناگہانی صورتِ حال کے لیے تیار تھا۔
”کون؟“
”عمر۔“ میں مختصراً بولا۔
”کیا رہا۔“
”کامیابی۔“
”گڈ۔“
”سعدیہ کدھر ہے؟“ میں نے کمرے میں داخل ہو کر ٹارچ روشن کرتے ہوئے پوچھا۔
”ساتھ والے کمرے میں ہے۔“ امجد نے موم بتی روشن کرتے ہوئے کہا۔ اس سے پہلے بھی اس نے موم بتی جلائی ہوئی تھی مگر دروازے پر ہونے والی آہٹ اس کے بجھانے کا باعث بنی تھی۔
”یہ کیا ہے؟“ موم بتی کی روشنی میں اس کی نظر رقم کی گٹھڑی پہ پڑی۔
”کھول کر دیکھ لو۔“ میں نے پوٹلی اس کے جانب بڑھائی۔
”بھئی واہ.... کہیں ڈاکا ڈالاہے شاید؟“
”یہ شاکر خان کا وہ خزانہ ہے جو اس نے پتا نہیں کون کون سے ناجائز طریقوں کے ذریعے اکٹھا کیا ہو گا؟“
”شاکرخان؟“
” اسی بکنگ والے کا نام ہے۔ ویسے تو اس کی حرام کی کمائی سے مجھے بالکل غرض نہیں تھی مگر حالات کو دیکھ کر مجھے یہ گھٹیا کام کرنا پڑا۔“
”اچھا کیا ہے۔“ امجد پانچ سو کے نوٹوں کی گڈی اپنی جیب میں ٹھونستے ہوئے بولا۔جو یقینا پچاس ہزار کے بہ قدر رقم ہو گی اس سے زیادہ رقم ابھی تک گٹھڑی میں پڑی تھی۔
”یہ بھی رکھو۔“ میں نے سوسو کے نوٹوں کی گڈی اس کی طرف بڑھائی اور بقایا رقم سمیٹ کر اپنی جیبوں میں بھر لی۔ سونے کی اینٹیں ہم نے کپڑے میں لپٹی رہنے دیں تھیں۔
”یار جیبیں کچھ وزنی نہیں ہو گئیں۔“
”اس کا انتظام کل کرلیں گے۔ ایک دکان میں مجھے کمر سے باندھنے والے بیلٹ نظر آئے تھے بڑی رقم کو آسانی سے اپنے ساتھ گھمانے کا اس سے اچھا بندوبست اور کوئی نہیں ہو سکتا۔“
”اب کیا ارادہ ہے۔“
”موم بتی بجھاﺅ تھوڑا آرام کرتے ہیں۔“ میں بستر پر لیٹ گیا۔ ”مجھے امید ہے کہ یہ مکان فی الحال محفوظ رہے گا۔“
”صحیح کہا۔“ امجدنے پھونک مار کرموم بتی بجھا دی اورہم دونوں سونے کے لیے لیٹ گئے۔
l l l
میری آنکھ امجد کی آواز سن کر کھلی وہ کہہ رہا تھا....
”ملک صاحب اٹھ جاﺅ کافی دیر ہو گئی ہے۔“
میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھا بیٹھا۔ کمرے میں پھیلی روشنی سے اندازہ ہواکہ سورج کافی اوپر آ گیا تھا۔
” ساتھ باتھ روم ہے اس کے بیچ پانی کا بھرا ہوا ڈرم رکھا ہوا ہے۔ نہالو۔“
میں کمرے کے ساتھ بنے ہوئے باتھ روم میں گھس گیا۔ نہا کر باہر نکلا تو کمرے میں سعدیہ کا اضافہ ہو چکا تھا۔ وہ چھابے میں گرم گرم پراٹھے اور کیتلی قہوے کی بھر لائی تھی۔
”یہ بندوبست کہاں سے کیا؟“
”کچن میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔“
”یہ کام تمھیں اندھرے میں کرناچاہئے تھا۔ اس وقت تو دھواں دیکھ کر کوئی بھی اس جانب متوجہ ہو سکتا ہے۔“
”م ....مم مجھے خیال نہیں رہا تھا۔“ وہ پریشان ہو گئی۔
” آئندہ خیال رکھنا.... اور ناشتا کر لیا ہے؟“
” کچن میں جا کر،کر لیتی ہوں۔“ وہ کمرے سے نکل گئی۔
”اب کیا ارادہ ہے؟“ ناشتے سے فارغ ہو کر امجد مستفسر ہوا۔
”اب چلتے ہیں ذرا آوارہ گردی کے لیے۔“
”مِس مصیبت کا کیا کریں گے ؟“
”شرم کرو یار وہ تمھاری اتنی خدمت کر رہی ہے اور تم اسے مصیبت کہہ رہے ہو۔“
”میں نے جو پوچھا ہے اس کا جواب دو تقریر سننے کے موڈ میں مَیں بالکل نہیں ہوں۔“
”یہ ادھر ہی رہے گی۔“
”اگر مکان کے مالک واپس آگئے تب؟“
”تب یہ کہیں چھپ جائے گی۔ اتنا بڑا مکان ہے، لیکن امید یہی ہے کہ کوئی آئے گا نہیں۔“
”چلو پھر نکلیں۔“ ہم دونوں سعدیہ کو ضروری ہدایات دیتے ہوئے اس مکان سے باہر نکل آئے۔ باہر نکلنے سے پہلے ہم نے گلی کے خالی ہونے کا یقین کر لیا تھا۔ ہم سیدھے بازار پہنچے اور وہاں سے کمر سے باندھنے والے پرس خریدے کہ رقم کی وجہ سے ہماری جیبیں کافی بوجھل ہو رہی تھیں اس کام سے فارغ ہوتے ہی ہم نے اپنے لیے رہائش کی تلاش شروع کر دی۔ اس مرتبہ ہم نے ہوٹلوں سے دور رہنے کی ٹھانی تھی، پھرتے پھراتے ہم جنگل خیل کے مضافات میںنکل آئے۔ افغانستان کی طرف جانے والے راستے پر چائے کا کھوکھا دیکھ کر ہم چائے پینے بیٹھ گئے۔ کھو کھے کامالک پختہ عمر کاقبول صورت مردتھا۔ وہ خود چائے بنا کر اپنے گاہکوں کو سرو کر رہا تھا۔
”بھائی صاحب دودھ والی چائے مل جائے گی۔“ پہلے بیٹھے ہوئے دو گاہکوں کو قہوہ پیتے دیکھ کر میں نے اس سے پوچھنا مناسب سمجھا۔
”چائے کیا دودھ پتی ملے گی صاحب۔“
”اچھا دو کپ لے آﺅ۔“
چائے تیار ہونے تک پہلے والے گاہک رخصت ہو گئے تھے۔ چائے پیتے ہوئے میں نے امجد سے پوچھا۔
”ماجے کیا خیال ہے اسی سے رہائش کے متعلق بات نہ کرلی جائے؟“
”بسم اﷲ کرو.... نیکی اور پوچھ پوچھ۔“
”چائے پی کر میں نے اسے کہا۔ ”بھائی جی ہم مسافر ہیں آپ کی نظر میں کوئی ایسا شخص ہو جو اپنا گھر کرائے یہ دینا چاہتا ہو؟“
”صاحب جی جنگل خیل میں تو کئی ہوٹل والے یہی کاروبار کرتے ہیں۔ ہوٹل کے اندر کمروں کے علاوہ ان کے پاس کرائے کے کوارٹر اور بڑے مکان بھی دستیاب ہیں۔“
”نہیں وہ کرایہ زیادہ لیتے ہیں اور ہم نے کافی عرصہ یہاں پر گزارنا ہے، ہمیں تو کوئی ایسی جگہ چاہئے جہاں کرایہ بھی کم ہو اور گھر کی بنی ہوئی روٹی بھی مل سکے البتہ کھانے کی ہم علاحدہ سے قیمت ادا کریں گے۔“
وہ چند لمحے سوچنے کے لیے بعد بولا۔ ”صاحب جی میری نظر میں تو کوئی ایسا شخص یا گھر نہیں ہے۔“
”اپنے بارے کیا خیال ہے تمھارا؟“
وہ عجیب انداز میں ہنسا۔ ”صاحب جی میرے پاس چھوٹا سا گھر تو موجود ہے۔ کھانا پکانے والا کوئی نہیں۔“
”کیا مطلب ؟“
”مطلب یہ ہے کہ ماں باپ مر چکے ہیں۔ بہن بھائی کوئی نہیں ہیں اور شادی ابھی تک ہوئی نہیں ہے، اس لیے کبھی خود پکا لیتا ہوں کبھی ہوٹل سے لے کر کھا لیتا ہوں۔“
”شادی کر لونا؟“
”شادی....؟ کرلیں گے صاحب.... جب لڑکی کے باپ کا مطالبہ پورا کرنے کے قابل ہو ا شادی ضروری کروں گا۔“ اس کی آنکھوں میں گویا اَن دیکھی دولھن کے خواب اتر آئے تھے۔
”تمھارانام؟“
”عبدالمجید....۔“
”عبدالمجید بھائی بات یہ ہے کہ ہم نے تمھارے ہی گھر کو اپنے لیے پسند کر لیا ہے، کھانا پکانے کی فکر نہ کرو اس کی ذمہ داری ہم قبول کرتے ہیں۔“
”مم.... مگر میرے گھر میں تو ایک ہی چارپائی ہے۔“ وہ گڑبڑا کر بولا۔
”تمھارا گھر یہاں سے کتنی دور ہے؟“ میں نے اس کی الجھن نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔
”اس درختوں کے جھنڈ کے پرلی سمت ہے۔“ اس نے تقریباً تین سو گز کی دوری پر نظر آنے والے درختوں کے چھوٹے سے جھنڈ کی طرف اشارہ کیا۔
”اچھا پھر یوں کرو بازار سے جا کر تین نئی چارپائیاں لے کر آجاﺅ۔“ میں نے ایک ہزار روپیہ اس کی جانب بڑھایا۔ ”لیکن خیال رہے کسی کے سامنے ہمارا ذکر نہ کرنا۔“
”مم.... مگر صاحب جی؟“
”چھوڑو اگر مگر یار۔ جاﺅ ہم یہیں تیرا انتظار کریں گے۔“ اور وہ متذبذب سا بازار کے جانب روانہ ہو گیا۔ اس کے جاتے ہی میں نے امجد کو اس سے ہونے والی گفتگو تفصیل سے بتا دی۔ گھنٹے بھر بعد ہی عبدالمجید ایک گدھا گاڑی پر تین نئی چارپائیاں لا دے بازار کی سمت سے آتا دکھائی دیا اور پھر وہ ہمارے قریب رکے بغیر اپنے گھر کے جانب نکلتا چلا گیا۔ اس کے پیچھے خوش قسمتی سے چائے پینے کے لیے کوئی گاہک نہیں آیا تھا اس کی واپسی تک ہم اس کے متعلق ہی مصروف ِ گفتگو رہے تھے۔
”یہ لیں صاحب۔“ واپس پہنچتے ہی اس نے پانچ سو کا نوٹ اور کچھ ریز گاری میرے جانب بڑھائی۔
”چارپائیوں کی قیمت اور کرائے سے یہ رقم بچ گئی ہے۔“
”انھیں فی الحال اپنے پاس رکھو اور چلو ہمیں اپنا گھر دکھاﺅ۔“ کھوکھا بند کر کے وہ ہمارے ساتھ چل پڑا۔ اس کے گھر کی لوکیشن ہمیں کافی پسند آئی تھی۔ اس کے ساتھ بقیہ معاملات طے کر کے اور رات کے وقت اپنی آمد کا بتلا کر ہم رخصت ہو گئے۔ وہاں سے سیدھے ہم مکان میں واپس آئے لیکن بازار سے گزرتے وقت میں سعدیہ کے لیے زنانہ جوتی لینا نہ بھولا تھا۔ سعدیہ بڑی بے چینی سے ہماری منتظر تھی۔ دن کا بقیہ حصہ ہم نے اسی مکان میں گزارا۔رات کا اندھیرا چھاتے ہی ہم وہاں سے نکل آئے تھے۔ عبدالمجید کے گھر تک ہم بغیر کسی حادثہ کے پہنچ گئے۔
اس کا چھوٹا سا مکان تین کمروں پر مشتمل تھا۔ کچن کے نام پر صحن کے کونے میں چھوٹے چھوٹے دو چولہے بنے ہوئے تھے۔ سارا مکان مٹی کے کچے بلاکوں سے بنایا گیا تھا۔ کمروں کی نسبت صحن کافی بڑا تھا۔ صحن کے اندر دوتین پیٹر بھی موجود تھے۔ ہمارے لیے کھانا اس نے تیار کر کے رکھا ہوا تھا، سعدیہ کا تعارف ہم نے اپنی قریبی عزیزہ کے طور پرکرایاتھا۔ کھانا کھا کر ہم تھوڑی دیر گپ شپ کرتے رہے اور اس کے بعد سو گئے۔ رہائش کا مسئلہ تقریباً حل ہو گیا تھا۔ اب ہم یکسو ہو کر چودھری کی تلاش کا آغاز کر سکتے تھے۔
عبدالمجیدچہرے مہرے سے اچھے کردار کا شخص دکھائی دیتا تھا۔ اس کے ساتھ غربت نے اس کے اندر ایک عجیب سی تواضع اور انکساری پیدا کر دی تھی، اگلی صبح جبکہ وہ اپنے کھوکھے پر جا چکا تھا ہم دونوں سعدیہ کو گھر میں چھوڑ کر باہر نکل آئے۔
”ملک صاحب مِس مصیبتے کا مسئلہ تو حل ہو گیا اب چودھری کی تلاش کا باضابطہ آغاز کر دینا چاہئے۔“
”سعدیہ کا مسئلہ کیسے حل ہو گیا؟“
”بھئی عبدالمجیدغیر شادی شدہ ہے دوسری جانب سعدیہ ٹھہری بیوہ اب ان دونوں کی شادی کر دی جائے تو دونوں کا فائدہ ہو گا۔“
”بات تو تمھاری معقول ہے مگر پہلے سعدیہ سے پوچھنا پڑے گا۔ آیا اسے بھی یہ رشتا قبول ہے یا....“
”یا وہ جانو کا انتظار کرے گی۔“ وہ میری بات مکمل کرتے ہوئے بولا۔ ”ملک صاحب کسی ایک کو تو بخش دو ایک انڈیا میں جناب کی منتظر ہے، دوسری رحمن خیل میں چشم براہ ہے اور تیسری یہاں ڈھونڈلی۔“
”بکواس مت کرو۔“ میں چڑ گیا۔ ”میں نے کب رضیہ یا سعدیہ سے اظہار محبت کیا ہے۔ البتہ شیتل کو میں نے جھوٹی تسلی دینے کے لیے کہا تھا کہ اپنے مسائل سے نبٹنے کے بعد اس کے پاس انڈیا آنے کی کوشش کروں گا۔“
”تمھارا سب سے بڑا مسئلہ تو لڑکیوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آنا ہے جو کبھی ختم نہیں ہو گا۔“
” بڑی مہربانی ہو گی اگر تُم اس موضوع کو ختم کر دو۔“ میں نے جھلا کر کہا۔
”چل پھر بازار چلتے ہیں تاکہ مختلف ہوٹلوں کے بکنگ والوں سے چودھری کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
”اب کی ہے نہ کام کی بات۔“ میں نے اسے شاباش دی۔اور وہاں سے بازار کی طرف چل پڑے۔
جنگل خیل میں ٹوٹل پانچ چھے ہوٹل تھے۔ تمام ہم نے شام تک چھان مارے مگر وہ چودھری کے نام یا اس کے حلئے سے ناواقف تھے اس دن ہم ناکام و نامراد واپس لوٹ آئے۔
عبدالمجیدہمارا منتظر تھا ہمیں دیکھتے ہی مستفسر ہوا۔
”آپ نے دن کا کھانا کہاں کھایا ہے؟“
”شکرکرو رات کے کھانے پر آ پہنچے ہیں۔“
”کیا مطلب؟“ اس کے لہجے میں حیرانی تھی۔
”مطلب یہ کہ جنگل خیل میں ہماری آمد کا مقصد اپنے دشمن کی تلاش ہے جس کا نام چودھری اکبر ہے۔ پہلے ہمیں سعدیہ کی فکر رہتی تھی اب چونکہ اس کی طرف سے اطمینان حاصل ہو گیا ہے تو ہم نے بھی باقاعدگی سے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ تم سے بھی یہ درخواست ہے کہ اگر تمھیں چودھری اکبر کے متعلق کوئی خبر پتا چلتی ہے تو بغیر کسی تاخیر کے ہمیں بتا دینا اس کا حلیہ....۔“ اس کے ساتھ ہی میں نے چودھری اکبر کا حلیہ تفصیل سے اسے بتا دیا۔
”ٹھیک ہے عبداﷲ بھائی مجھے جیسے ہی اس کے بارے کچھ معلوم ہوا میں ضرور آپ کو باخبر کر دوں گا۔“
اسی وقت سعدیہ کھانا لے کر آگئی۔ ہمارے آگے کھانا رکھنے کے بعد و ہ خود کمرے میں گھس گئی وہ ہمارے درمیان بیٹھنے سے احتراز برتتی تھی اور اس کی وجہ اس کی شرم و حیا تھی۔ غیر مردوں کے ساتھ رہنا اس کی مجبوری تھی ورنہ شاید وہ کب کی ہم سے علاحدہ ہو گئی ہوتی۔ دوسری طرف ہم دونوں بھی انسان ہمدردی کی بنا پر اسے ساتھ لیے پھرتے رہے ورنہ ہمیں بھی اسے ساتھ رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
”آپ دونوں کھانا کھاﺅ میں آتا ہوں۔“ میں سعدیہ کے کمرے کے جانب بڑھ گیا۔
”السلام علیکم۔“ میں دروازہ ہلکے سے کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوا۔
”آ.... آپ۔“ وہ بے ساختہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
”سلام کا جواب تو دے دو۔“
”وعلیکم السلام.... آئیں بیٹھیں۔“
”شکریہ۔“ میں کمرے میں پڑی اکلوتی چارپائی پر بیٹھ گیا۔ وہ بھی چارپائی کے ایک کنارے پرٹک گئی۔
”سعدیہ مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنا تھی اس لیے تمھیں زحمت دی۔“ میںنے گفتگو کا آغاز کیا۔
”جی.... حکم کرو؟“
”اس دن جنگل خیل میں داخل ہوتے وقت میں نے تمھیں ایک بات کہی تھی کہ کسی بھی پُرامن علاقے میں چلی جاﺅ اور کسی شریف آدمی سے شادی کر لو مگر تم نے میری بات کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا تھا۔ اب میں تھوڑے فرق کے ساتھ دوبارہ وہی بات کرنے کے لیے آیا ہوں کہ عبدالمجیدبہت اچھا نیک خصلت اور شریف جوان ہے۔ اس کے ساتھ شادی کر کے تمھاری کافی مشکلیں حل ہو جائیں گی۔ اسے بھی ایک اچھی شریک حیات کی ضرورت ہے۔ اگر تم مناسب سمجھو تو میں تمھاری نسبت اس سے طے کردوں؟“
میں نے نپے تلے الفاظ کے ساتھ اپنی بات اس تک پہنچانے کی کوشش کی تھی میری بات ختم ہوتے ہی اس نے عجیب سی نظروں سے میری جانب دیکھا اس کی نگاہ میں ہزاروں شکوے پنہاں تھے مگر زبان سے اس نے کسی گلے شکوے کا اظہار کرنے کی بجائے صرف اتنا کہا۔
”آپ میرے لیے بھلا ہی سوچیں گے میں آپ کی کسی بات سے انحراف نہیں کر سکتی۔“
”سعدیہ میں تمھارے جذبات سمجھتا ہوں، مگر افسوس کہ تم میرے حالات سے ناواقف ہو۔ تمھارے لیے مختصراً اتنا ہی کافی ہے کہ میں شادی شدہ ہوں تمھارے جیسی شریف اور خوب صورت لڑکی کسی خوش نصیب کے حصے میں ہی آتی ہے۔ باسمت خان ناشکرا تھا اس لیے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ باقی میں تمھیں دھوکے میں رکھ کر تمھاری معصومیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تمھیں محفوظ ہاتھوں کے حوالے کر کے ہم اپنے اس مقصد کی تکمیل کے لیے فارغ ہو جائیں کہ جس کے لیے ہم جنگل خیل آئے تھے۔“
”میں نے کوئی شکوہ تو نہیں کیا۔“ اس کے لہجے میں اداسی تھی۔
”کچھ شکوے ایسے ہوتے ہیں جو بے کہے مخالف تک پہنچ جاتے ہیں۔ بہ ہر حال ہم دونوں دوستوں کی کسی بات سے تمھاری دل آزاری ہوئی ہو تو درگزر کرنا اور یہ کچھ رقم رکھ لو۔“ میں نے پانچ سو والے نوٹوں کی ایک گڈی اس کی سمت بڑھائی۔ ”یہ تمھیں اور تمھارے ہونے والے شوہر کو نئی زندگی کی شروعات میں مدد فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ بھی اگر کوئی چیز چاہئے ہو تو بے تکلف بتا دینا۔“
”اتنی زیادہ رقم.... مم میں....“وہ گڑ بڑا سی گئی۔
”کوئی بڑی رقم نہیں ہے۔ بھائی اس سے بھی بہت بڑھ کر بہنوں کے لیے کرتے ہیں، یہ تو ہماری مجبوری ہے کہ ہم پردیس میں ہیں۔“
”خدا ہر بہن کو آپ جیسے بھائی دے۔“ وہ جذبات سے رندھی ہوئی آواز میں بولی اور پھر اپنے آنسو چھپانے کے لیے میری جانب سے رخ پھیر لیا۔ وہ آنسو شاید اپنے محبوب سے ہمیشہ ہمیشہ کی جدائی کی وجہ سے نکلے تھے یا بھائی ملنے کی خوشی میں باہر آئے تھے میں اس بات سے بے خبر تھا۔ میں نے اس کے جذبات کو نارمل کرنے کے لیے کہا۔
”اب یوں کرو کہ فٹافٹ کھانے کا بندوبست کرو میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ہے۔“
وہ جلدی سے بولی....
”اوہ معافی چاہتی ہوں، مجھے تو خیال ہی نہیں رہا کہ آپ ان کے ساتھ کھانا نہیں کھا سکے ہیں۔میں ابھی لائی۔“ وہ باہر نکل گئی اور تھوڑی دیر بعد ہی کھانا لے کر آگئی۔ کھانا ہم دونوں نے اکٹھے کھایا۔ کھانے کے دوران میں نے ایک دفعہ پھر اس کا عندیہ لینا چاہا۔
”سعدیہ یہ نہ سمجھ لینا کہ تم ہم پر بوجھ تھیں اور موقع ملتے ہی ہم نے تم سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔ میں نے ابھی تک عبدالمجیدسے تمھارے بارے کوئی بات نہیں کی اگر تمھیں وہ ناپسند ہو تو بے جھجک بتا دو۔“
”اگر میں عبدالمجیدکو ٹھکرا بھی دوں تو کون سا مجھے کسی نے مل جانا ہے۔ اگر آپ نہیں تو پھر کوئی بھی شریف آدمی سہی جو اس پہاڑ سی زندگی کو گزارنے میں مدد دے۔“
”گڈ۔“ میں نے تعریفی لہجے میں کہا۔ ”اس کو کہتے ہیں سمجھ داری۔“
جاری ہے
 

قسط نمبر27
ریاض عاقب کوہلر
کھانا کھا کر میں نے اس سے اجازت لی اور باہر آگیا۔ امجد اور عبدالمجیدگپیں ہانکنے میں مصروف تھے۔عبدالمجیدکی اردو سننے کے لائق تھی۔ مجھے دیکھتے ہی امجد چہکا۔
”کیا رہا؟“
”وہ تیار ہے، اب جناب کی مرضی معلوم کرنی ہے۔“ میرا اشارہ عبدالمجیدکے جانب تھا۔
”اسے بھی آپ ہی سمجھائیں۔ میری تو آدھی باتیں اس کے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں۔“
میں عبدالمجیدکی طرف متوجہ ہو گیا۔ ”عبدالمجیدہیبت خان اور باسمت خان کو جانتے ہو؟“
”جی ہاں،آپ غالبا ڈابیر والے ہیبت خان اور باسمت خان کی بات کر رہے ہیں؟“
”بالکل۔“
”ان کے بارے تو مجھے آج پتا چلا ہے کہ دونوں قتل ہو گئے ہیں۔“
”کب ؟“
”دو تین دن پہلے۔“
”کیسے آدمی تھے؟“
”ٹھیک ہی تھے۔“ وہ مبہم لہجے میں بولا۔
”ان کے قتل کی وجوہات سے واقف ہو۔“
”لوگ مختلف قسم کی کہانیاں سنا رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے ان کے قتل کے پیچھے ان کے چچا زاد بھائی جانان خان کا ہاتھ ہے؟ کوئی ان کے دشمنوں کی کارستانی بتلاتا ہے۔ کسی کی نظرمیں باسمت خان کی بیوی کے آشنا کا کام ہے الغرض جتنے منہ اتنی باتیں۔“
”اچھا یہ بات ہے تو پھر اصل کہانی سنو۔“ یہ کہہ کر میں نے اسے سعدیہ کی کہانی سنا دی۔ اس کے ساتھ مختصراً اپنے بارے میں بتا دیا۔ وہ حیرت سے منہ پھاڑے میری گفتگو سنتا رہا۔
”اب تمھیں پتا چل گیا ہو گا کہ ہمیں کیوں اس قسم کے مکان کی تلاش تھی۔“
”جج.... جی جی۔“ وہ پوری طرح میری کہانی میں کھویا ہوا تھا اس یکدم استفسار پر بوکھلا سا گیا۔
”باسمت خان کی بیوی اب ہم دونوں کی منہ بولی بہن ہے۔ بہت شریف اور صاحب کردار لڑکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی عزت بچانے کے لیے وہ اپنی جان پر کھیل گئی۔ اﷲ تعالیٰ کو اس کی زندگی منظور تھی ورنہ اب تک شاید اس کی بوٹیاں بھی چیل کوے کھا گئے ہوتے۔ بہ ہر حال منہ بولی بہن ہونے کے ناطے اس کی ذمہ داری ہم دونوں پر عائد ہوتی ہے اور بہنیں اپنے شوہر کے گھر ہی اچھی لگتی ہیں، اس وجہ سے ہم اس کی شادی کرنا چاہ رہے ہیں، تمھاری نظر میں کوئی اچھا سا رشتا ہو؟“
”م .... مم میں کیا کہہ سکتا ہوں۔“ وہ ایک بار پھر گڑبڑا گیا تھا۔
”اپنے بارے کیا خیال ہے۔“
”م.... مم .... میں۔“ چند لمحے تو اس کا منہ حیرانی سے کھلا رہا اور پھر جیسے ہی اس کی سمجھ میں میری بات آئی۔ وہ جلدی سے چار پائی سے اٹھ کر میرے قدموں میں آبیٹھا۔
”عبداﷲبھائی....! خدا کی قسم شہزادیوں کی طرح رکھوں گا۔“ وہ میرے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے لجاجت بھرے لہجے میں بولا۔
”ارے کیا کررہے ہو۔“ اس کے ردِ عمل پر میں خفیف سا ہو گیا تھا۔ مگر وہ میری بات ان سنی کرتا ہوا اپنی لے میں شروع رہا۔
”اگر ذرا سا بھی شکایت کا موقع دوں تو میرا سر اور آپ کا جوتا۔ گردن بھی کاٹ دو تو اُف نہیں کروں گا۔“
”اچھا ٹھیک ہے بھئی۔ میرے گھٹنے تو چھوڑدو۔“ میں ہنستے ہوئے بولا۔
”نہیں پہلے مجھے یقین دلاﺅ کہ میں خواب نہیں دیکھ رہا ہوں۔“
میں نے اسے کان سے پکڑ کر زور سے کھینچا تووہ ”ہائے‘ کے ساتھ اٹھ گیا۔
”اب یقین آیا۔“
”کچھ کچھ۔“ وہ چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولا۔
”باقی شادی ہونے کے بعد آجائے گا۔“ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
”تو عبداﷲ بھائی پھر کب؟“
”چار مہینے دس دن بعد ؟“
”ک .... کک کیا مطلب ؟“
”بے وقوف وہ بیوہ ہے۔ عدت گزار کر ہی تم سے بیاہ کر سکتی ہے۔“
”میرے تو ذہن سے نکل گیا تھا۔“ وہ شرمندگی سے بولا۔
”اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس نے بھی تمھیں قبول کرنے کی رضا مندی دے دی ہے اور اس سے یہی پوچھنے کے لیے میں تھوڑی دیر پہلے اس کے پاس گیا تھا۔“
”اچھا....؟“ اس کے لہجے میں خوشگوار سے حیرت تھی۔ ”یااﷲ تیر ا شکر ہے۔“ اس کی بات پر مجھے ہنسی آگئی اور وہ بھی جھینپے جھینپے انداز میں ہنس پڑا۔ اس کے بعد میں نے امجد کو بھی شامل گفتگو کرتے ہوئے عبدالمجیدسے ہونے والی گفتگو سنا دی اور پھر رات گئے تک ہم اسی موضوع پر مصروف گفتگو رہے۔عبدالمجیدکا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہماری کس طرح خاطر داری کرے۔ سعدیہ جیسی خوب صورت لڑکی سے شادی اس نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا تھا۔
لیٹنے کے بعد بھی جب تک مجھے نیند نہ آگئی عبدالمجیدبستر پر کروٹیں لیتا نظر آتا رہا۔ صبح بھی وہ ہم سے بہت پہلے اٹھ گیا تھا یا شاید اسے رات بھر نیند ہی نہیں آئی تھی۔
اگلے دو تین دن ہم نے چودھری کی تلاش میں گزارے، مگر اس کے بارے ہمیں کوئی سراغ نہ مل سکا اور پھر چند دن مزید جنگل خیل میں گزارنے کے بعد ہم نے عبدالمجیدسے دوسرے جنگل خیل کے بارے معلومات حاصل کیں اور عارضی طور پر اس سے الوداع ہو کر دوسرے جنگل خیل کی طرف چل پڑے، رقبے کے لحاظ سے وہ پہلے والے جنگل خیل کے برابر ہی تھا البتہ اس کی آبادی اس سے کم تھی۔ اس کے قرب وجوار میں کافی چھوٹے چھوٹے گاﺅں پھیلے ہوئے تھے۔ اس تمام علاقے کو چھاننے میں ہمارے دو ہفتے گزر گئے مگر ہم ہنوز پہلے دن کی طرح چودھری کے متعلق چھوٹی سے چھوٹی اطلاع پانے میں بھی ناکام رہے تھے۔ وہاں سے واپس ہم عبدالمجیدکے پاس آگئے۔ ہمارے بعد وہ بھی اپنے طور پر چودھری کی تلاش میں سرگرداں رہا تھا مگر وہ بھی ہمیں کوئی خوشخبری نہ سنا سکا تھا دو دن اس کے پاس ٹھہرنے کے بعد ہم افغانستان کی سرحد پار کر گئے اور سرحدی علاقوں کو اچھی طرح چھان پھٹک کر مہینے بھر کے بعد جنگل خیل واپس آگئے ان دونوں سفروں میں خوش قسمتی سے ہمارے ساتھ کوئی ایسا حادثہ پیش نہ آیا جو قارئین کے گوش گزار کیا جائے۔
اس دن صبح کو اٹھ کر ہم سعدیہ کے ہاتھ کے بنے ہوئے پراٹھوں کے ساتھ انصاف کرنے میں مشغول تھے۔ امجد چائے کے گھونٹ کے ساتھ نولا نگلتے ہوئے بولا....
”جانو صاحب !....میری مان لو طوفان خان نے ہمیں ڈبل کراس کیا ہے۔“ یہ بات وہ اس سے پہلے بھی چند مرتبہ کر چکا تھا۔
”یار ماجے!.... وہ اس قسم کا بندہ لگتا تو نہیں تھا۔“
”یار!.... لگنے کو چھوڑود اگر اس بات پر جائیں تو تُم بھی شکل اور باتوں سے کافی شریف نظر آتے ہو تو کیا یہ حقیقت ہے؟“ اور اس سے پہلے کہ میں اس کی بات کا کوئی کرارا سا جواب دیتا عبدالمجیدایک جھٹکے سے گھر کا بیرونی دروازہ کھول کر اندر آیا اس کے سانس چڑھے ہوئے تھے وہ شاید اپنے کھو کے سے بھاگ کروہاں آیا تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر ہم بے اختیار کھڑے ہو گئے تھے۔
”عبداﷲبھائی۔“ وہ بہ مشکل میرا نام لے پایاتھا۔
”ہاں ہاں بولو کیا بات ہے۔“
”عبداﷲ بھائی۔ چو.... چودھری میرے کھوکے پر بیٹھا چائے پی رہا ہے۔“ اس نے اٹک اٹک کر اپنی بات مکمل کی۔
”کیا؟“ مجھے لگا جیسے آسمان پھٹ کر میرے سر پر آن گرا ہو اور پھر پہلے جھٹکے سے سنبھلنے کے بعد ہم دونوں اپنی پوری رفتار سے عبدالمجیدکے کھوکے کی طرف بھاگے جارہے تھے۔ وہ چند سو میٹر کا فاصلہ ہمیں کافی طویل محسوس ہو رہا تھا۔
l l l
ہم دونوں پوری طاقت سے عبدالمجید کے کھوکے کی جانب دوڑتے ہوئے جارہے تھے۔ جونھی ہم نے درختوں کے جھنڈ کو عبور کیا۔دو ڈبل کیبن ٹویوٹا گاڑیاں نظر آئیں، دونوں سفید کلر کی تھیں اور دونوں کا رخ ڈابیر کی طرف تھا۔ جس وقت ہم نے درختوں کا جھنڈ عبور کیا اس وقت وہ سٹارٹ ہو کر چل پڑی تھیں، ان کا فاصلہ ہم سے ٹوٹل اڑھائی تین سو گز تھا اور وہاں سے انھیں نشانہ بنانا اتنا مشکل بھی نہیں تھا مگر ہم ایسا نہ کر سکے کہ تیزی میں ہم درستی بھول چکے تھے۔ عبدالمجید سے چودھری کے متعلق سن کر ہم اتنے بدحواس ہوئے تھے کہ ہتھیار لانا ہی بھول گئے تھے۔ اب گاڑیوں کے پیچھے دوڑنا وقت کو ضائع کرنا اور اپنے آپ کو تھکانا تھا۔
”اسے کہتے ہیں بچہ بغل میں اور ڈھنڈورا شہر میں۔“ میں نے قدموں کی رفتار آہستہ کرتے ہوئے کہا۔ ”ہم نے سارے جنگل خیل کو چھان مارا ہے مگر ڈابیر کے متعلق ہمارا گمان ہی نہیں ہوا ہے کہ وہ یہاں چھپا ہو گا؟“
”ڈابیر کی سمت گاڑیوں کے رخ کو دیکھ کر تم یہ بات اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو کہ وہ ڈابیر میں ہی رہائش پذیر ہے۔“
”اس سمت میں اور کوئی قابلِ رہائش جگہ ہی نہیں ڈابیر کے علاوہ۔“ اسی وقت مجید خان بھی ہم سے آن ملا۔
”بھاگ گئے؟“ اس نے آتے ہی افسوس کا اظہار کیا۔
’یہ کس وقت تمھارے کھوکے پر پہنچے تھے؟“
”یہی کوئی آدھ پون گھنٹا ہوا ہو گا....کھوکے پر آتے ہی انھوں نے دودھ پتی کا آرڈر دیا اور بیٹھ گئے۔ میرے پاس وہاں سے نکلنے کا کوئی بہانہ نہیں تھا مجبوراً میں دودھ پتی بنا کر انھیں پیش کرنے کے بعد ہی وہاں سے رفع حاجت کے بہانے نکل سکا۔“
”تُم نے کیسے پہچاناکہ وہ ہمارا مطلوبہ آدمی ہے۔“
”ایک تو آپ نے تفصیلاً اس کا حلیہ بتا دیا تھا دوسرے اس کے ساتھی بار بار اسے چودھری صاحب.... چودھری صاحب کہہ کر پکار رہے تھے اور یہ تو آپ کو بھی پتا ہو گا کہ اس علاقے میں چودھری نہیں ہوتے۔ سب سے بڑھ کر ان تمام کے پشتو بولنے کا لہجہ بالکل آپ ساتھا چونکہ ہمارے علاقے کی پشتو اور آپ کے علاقے کی پشتو میں واضح فرق ہے۔ اس لیے میں نے آسانی سے اسے پہچان لیا۔“
اس دوران ہم کھو کے پر پہنچ گئے تھے۔ وہاں چائے کے کپ کے نیچے پڑا ہوا پچاس روپے کا نوٹ ہمارا منہ چڑا رہاتھا۔ وہ لازمی عجلت میں تھے یا کسی اور وجہ کی بنیاد پر انھوں نے مجید کا انتظار کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا اور بل کی رقم کپ کے نیچے رکھ کر چلتے بنے تھے اور یہ اتفاق چودھری اکبر کی زندگی میں اضافے کا باعث بن گیا تھا۔
”ویسے جانو تمھیں شرم کرنا چاہئے۔“ امجد ایک چارپائی پر بیٹھ کر تکیہ گود میں لیتے ہوئے بولا۔ ”اتنے بڑے کمانڈو بنے پھرتے ہواور دشمن کے پیچھے جاتے وقت ہتھیار گھر چھوڑ آئے۔“
” تُم کون سا ساتھ لے آئے تھے۔“
”میں نے تو تمھیں خالی ہاتھ بھاگتے دیکھ کر سوچا کہ شاید خالی ہاتھ جانا ہے۔“
”کیوں تم ننھے بچے ہونا جو میرے نقش قدم پر چلو گے۔“
”تم ملک ہو یار.... اور تمھار احکم ماننا میرا فرض ہے۔“
”میں نے کب حکم دیا تھا کہ ہتھیار چھوڑ آﺅ۔“
”ہر حکم دیا تو نہیں جاتا.... ملازم تو بس آقا کو دیکھ کر چلتا ہے۔“
”اچھا اب یہ فضول بکواس چھوڑو اور ڈابیر جا نے کا سوچو۔“
”تو ڈابیر جانا کون سا مشکل ہے؟“ وہ سنجیدہ ہوگیا۔ ”ویسے بھی باسمت خان کے آدمی کون سا ہمیں شکل سے پہچانتے ہیں کہ اپنے آدمیوں کا بدلہ لیں گے۔“
”نہیں ان سے تو خیر کوئی خطر ہ نہیں۔ یوں بھی اس بات کو مہینے سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے اور اب تو ہیبت خان اور باسمت خان کا قائم مقام شاید ان کے قاتلوں کی تلاش پر مٹی ڈال چکا ہو۔“
”شاید ایسا نہ ہو۔“ امجد نے کہا۔ ”ہو سکتا ہے وہ اب تک ان کے قاتلوں کی تلاش میں ہوں بہ ہر حال یہ ان کا دردِ سر ہے۔“
”تو پھر؟ کیا خیال ہے آج ہی چلیں۔“
”نیکی اور پوچھ پوچھ۔“ اس نے میری تائید کی۔
”چلو اٹھو پھر۔“ میں نے کھڑا ہوگیا۔
”کہاں چل دیئے؟۔“ مجید ہاتھوں میں چائے پکڑے ہماری جانب آرہاتھا پوچھنے لگا۔ ”چائے تو پیتے جاﺅ۔“
”چائے کا وقت نہیں ہے۔“ ہم لمبے قدموں سے گھر کی جانب چل پڑے اور پھر تھوڑی دیر بعد ہم ٹویوٹا ہائی ایس میں بیٹھے ڈابیر کی جانب رواں دواں تھے۔ مجید خان نے ہمارے ساتھ آنے کی بہت کوشش کی تھی مگر اسے ہم سعدیہ کی حفاظت اور خیال رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے وہیں چھوڑ آئے تھے۔ گاڑی نے ڈابیر بازار میں ہمیں اتار دیا اور ہم چہل قدمی کے انداز میں بازار کے اندرونی جانب بڑھ گئے۔ دوپہر کا وقت تھا اور بازار میں کوئی خاص رش نہیں تھا۔
”اب کس سے اس موذی کا پوچھیں؟“
”صبر کرو پوچھ لیتے ہیں۔“ میں نے اسے تسلی دی، لیکن میں اس کے اضطراب کو سمجھ رہا تھا اور خود بھی اس کش مکش میں مبتلا تھا کہ آیا ہم حقیقتاً چودھری کے قریب پہنچ چکے تھے یا مجید کو کوئی غلط فہمی ہوئی تھی یہ بھی ہو سکتا تھا کہ وہ ڈابیر کی بجائے کسی غیر معروف مقام پر چھپا ہوا ہو۔ آخر اس کے ذہن میں بھی تو ہماری آمد کا خطرہ پوشیدہ ہو سکتا تھا اور اسی اندیشے سے میں اس کے بارے کسی سے پوچھ نہیں پارہا تھا، مگر زیادہ دیر میری یہ کیفیت برقرار نہ رہ سکی اور خود پر قابو پاتے ہوئے میں ایک چھپر ہوٹل کی طرف بڑھ گیا۔
”دوا چائے جوڑ کا ماما۔“(دو چائے بناو¿ ماما)ہوٹل کے بوڑھے سے مالک سے مخاطب ہو میں نے کہا اور اس نے سر ہلاتے ہوئے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، ہم دونوں سڑک کے کنارے پڑی چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد ہی وہ ایک چھوٹی سی کیتلی میں چائے اور دو خالی کپ لے آیا۔ چائے کے برتن اس نے ہمارے سامنے پڑی لکڑی کی ٹیبل پررکھ دیئے اور واپسی کے لیے مڑنے ہی لگا تھا کہ میں نے اسے آواز دی۔
”خبر واورا ماما۔“( ماما بات سنو)
”جی۔“ وہ رک گیا۔
”ہم نے چودھری اکبر سے ملنا تھا کیا آپ اس کی حویلی کا پتا بتا سکتے ہیں؟“
”چودھری اکبر؟“ اس کے لہجے میں حیرانی تھی۔ ” اس نام کے کسی بندے سے تو میں واقف نہیں ہوں۔“
”اس کو یہاں آئے ہوئے چند مہینے ہی ہوئے ہیں۔ اگرآپ ڈابیر میں رہائش پذیر ہونے والے کسی نئے آدمی سے واقف ہوں تو اس کا پتا بتا دیں شاید اس سے ہمیں چودھری کا ایڈریس معلوم ہو جائے۔“
”آپ کا مطلب میں سمجھ گیا۔ آپ اس طرح کریں کہ ملک جانان خان سے مل لیں اس سے آپ کو اپنے مطلوبہ بندے کے متعلق تمام معلومات مل جائے گی۔“
”اس کا گھر کس طرف سے؟“ میں مستفسر ہو ا اور ہوٹل والے نے وہیں کھڑے کھڑے مجھے جانان خان کے گھر کی لوکیشن سمجھا دی۔
چائے پی کر ہم ہوٹل والے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چل پڑے۔ میں نے امجد کو ہوٹل والے سے ہونے والی تمام گفتگو تفصیل سے سنا دی۔
”یہ جانان خان ....یہ وہی نہیں ہے باسمت خان کا آدمی۔“
”صحیح پہچانا۔“ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”تو پھر کیا خیال ہے چلیں اس کے پاس؟“
”کس بہانے سے اسے ملیں گے؟“
”میرا خیال ہے، چرس یا اسلحے کے خریدار بن کے اس سے ملتے ہیں اس جیسے بندے ان قبیح کاموں میں ملوث ہوتے ہیں۔“ امجد نے ایک قابل قبول مشورہ دیا۔
”گڈ.... بالکل ٹھیک ہے۔“ میں نے اسے شاباش دی۔
”لیکن جانو صاحب !.... پہلے اپنی کلاشن کوف سے جان چھڑالیں....یہ ہم نے جانان خان کے آدمیوں سے ہی چھینی تھی۔“
”واقعی یار!.... صحیح یاد دلایا میرے تو ذہن سے ہی یہ بات نکل گئی تھی۔ چلو پہلے اسے ٹھکانے لگاتے ہیں۔“ بازار سے نکل کر ہم سیدھا گاﺅں سے باہر جانے والے راستے پر چل پڑے۔ مگر ہمیں گاﺅں سے باہر نہ نکلنا پڑا راستے ہی میں گن کو ٹھکانے لگانے والی ایک مناسب جگہ نظر آگئی۔ وہ ایک کافی بڑا گڑھا تھا جس سے غالباً گھر بنانے کے لیے لوگ مٹی اٹھاتے رہے تھے۔ اس وسیع گڑھے کے اندر بنے ہوئے چھوٹے گڑھوں میں دو دن پہلے ہونے والی بارش کا پانی جمع کھڑا تھا۔ دائیں بائیں نگاہ دوڑاتے ہوئے میں نے اسی پانی سے بھرے ہوئے گڑھے میں گن کو پھینکااور ہم واپس مڑ گئے۔ جانان خان کی حویلی ڈھونڈنے میں ہمیں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی اس کی حویلی تک پہنچتے پہنچتے ہم نے اس سے ملاقات کا لائحہ عمل طے کر لیا تھا۔
”جی کس سے ملنا ہے؟“ بڑی مونچھوں اور لمبے بالوں والے چوکیدار نے ہمیں حویلی کے دروازے پر رکتے دیکھ کر استفسار کیا۔
”ملک جانان خان سے۔“
”وہ آپ کو جانتا ہے؟“
”نہیں۔“ میں نے انکار میں سرہلایا۔ ”لیکن ہمارا اس کے ساتھ بہت ضروری کام ہے۔“
”کام کی نوعیت؟“ وہ ہمارا انٹرویو لینے یہ تلا ہوا تھا۔
”کوئی چیز خریدنا ہے۔“
”ہوں۔“ اس نے معنی خیز انداز میں سرہلاتے ہوئے کہا۔ ”تم یہیں ٹھہرو میں پوچھ کر آتا ہوں۔“
اس کے آنے تک ہم خاموش کھڑے رہے۔
”آجاﺅ۔“ تھوڑی دیر بعد ہی وہ نمودار ہوتا ہوا بولا اور ہم سرہلاتے ہوئے اس کے پیچھے ہو لئے حویلی کے اندر ایک دیوارا ٹھا کر زنانہ اور مردانہ حصے تشکیل دیئے گئے تھے چوکیدار ہمیں لیے ایک کمرے میں جا گھسا جس کے اندر ترتیب کے ساتھ تین چارپائیاں پڑئی ہوئی تھیں مگر وہ وہاں رکنے کی بجائے ایک بغلی دروازہ کھول کر اندر چلا گیا۔ اس کمرے میں چارپائیوں کی بجائے فرشی قالین بچھا ہوا تھا اور اس کے اوپر گاﺅ تکئے پڑے ہوئے تھے۔ جوتوں کے لیے تھوڑی سی جگہ چھوڑ کر باقی سارے کمرے کے فرش کو قالین نے ڈھانپ رکھا تھا۔ دیواروں کے اوپر سفید پینٹ کیا گیا تھا جبکہ فرش سے تین فٹ بلندی تک سبز پینٹ سے حاشیہ لگایا گیا تھا۔
”آپ بیٹھیں خان صاحب آرہے ہیں۔“ چوکیدار نے ہمیں قالین پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ہم جوتے اتار کر قالین پر بیٹھ گئے۔ وہ باہر نکل گیا۔ہمیں زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا جلد ہی تین آدمی کمرے میںداخل ہوئے سب سے آگے درمیانی قامت کا سرخ رُو شخص تھا اس کے انداز سے ہم سمجھ گئے کہ وہ ملک جانان خان تھااس کے پیچھے دوخوفناک صورت کے گرانڈیل افراد تھے جو لا محالہ اس کے باڈی گاڈ تھے۔ ہم دونوں انھیں دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے تھے جانان خان نے ہم سے مصافحہ کرکے کہا۔....
”تشریف رکھیں۔“ اور ہمارے بیٹھنے کے ساتھ وہ خود بھی بیٹھ گیا البتہ اس کے باڈی گارڈ کھڑے رہے۔ ابھی میں گفتگو کرنے کے لیے اپنے ذہن میں الفاظ ترتیب دے ہی رہا تھا کہ ایک شخص چائے کے برتن اٹھائے اندر داخل ہوا، مہمان نوازی تو ویسے بھی اس کے علاقے کے لوگوں کا خاصا ہے۔
”ہاں برادر اب بتائیں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟“ چائے کاگھونٹ بھرتے ہوئے جانان خان مستفسر ہوا۔
”ملک صاحب !ہمیں ایک من چرس چاہئے.... کیا آپ مہیا کر سکیں گے؟ لیکن شرط یہ ہے کہ مال خالص ہونا چاہئے اور کچا مال بھی نہیں چاہئے پکی ہوئی چرس ہونا چاہئے۔“
مجھے چرس کے متعلق کوئی خاص معلومات نہیں تھیں بس اتنا پتا تھا کہ چرس کچی بھی ہوتی ہے جو پینے والے کو تیلی سے جلا کر پینے کے قابل بنانا پڑتی ہے اورپکی ہوئی بھی ہوتی ہے۔ کچی چرس کی شکل بالکل ایسی ہوتی ہے جیسے نسوار خشک ہو جائے اور پکنے کے بعد اس کی شکل تارکول جیسی ہو جاتی ہے۔ اپنی اسی ادھوری معلومات کی بنیاد پر میں نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا تھا۔
”مل جائے گی مگر چند دن انتظار کرنا پڑے گا۔“
”چند دن نہیں بلکہ آپ کے پاس دو ہفتے ہیں۔ ابھی ہمیں صرف نمونے کے لیے تھوڑی سی چرس چاہئے ہو گی جو ہم اپنے بڑے کے پاس دکھانے کے لیے لے جائیں باقی مال ہم اس کی اجازت سے لینے آئیں گے۔“
”اس کا مطلب ہے آپ لوگوں نے دوسری جگہ سے بھی نمونے کے لیے چرس لینا ہو گی اور جو آپ کے خان کو پسند آئے گی وہی آپ خریدیں گے؟“
”آپ ٹھیک سمجھے ہیں۔“ میں اثبات میں سرہلایا۔
”اگر آپ کے خان کو ہمارا مال پسند نہ آیا تومیں اس ایک من چرس کا کیا کروں گا؟“ اس نے ایک جائز بات کی۔
اس کی بات سن کر میں نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھرکہا....
”ملک صاحب ....!پھر ایسے کریں کے کہ آپ ہمیں نمونے کے لیے چرس دے دیں وہ ہم اپنے خان کے پاس لے جاتے ہیں اگر اسے پسند آگئی تو ہم دوبارہ آ کر آپ کو بتائیں گے اس کے بعد آپ ہمارے مطالبے کے مطابق منگوا لینا۔“
”ہاں یہ ٹھیک ہے۔“ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”آپ کو نمونے کے لیے کتنی چرس چاہئے ہو گی؟“
”پاﺅ ادھ پاﺅ ہو جائے تو کافی ہے اور اس مقدار کی پے منٹ ہم ابھی کریں گے۔“
”جاگیر دار خان۔“ وہ اپنے ایک باڈی گارڈ کو مخاطب ہوا۔ ”جاﺅ منشی سے ایک پاﺅ خالص چرس لے آﺅ۔ اسے کہنا کہ وہ مال دے جو بعد میں ہم ایک من کی مقدار میں مہیا بھی کر سکیں۔“
ایک باڈی گارڈ۔”جی خان جی۔“ کہہ کر کمرے سے نکل گیا۔
”ہمارے علاوہ آپ نے کس کس کے پاس جانا ہے۔“ جاگیردار کے کمرے سے نکلتے ہی وہ مستفسر ہوا .... اس کے اس سوال کا میں کافی دیر سے منتظر تھا۔
”آپ کے علاوہ ڈابیر میں تو صرف چودھری اکبر کے پاس یہ مال مل سکتا ہے، اس کے علاوہ بھی اگر کوئی آدمی ایسا ہے یہاں تو اس کے متعلق آپ ہماری رہنمائی کر دیں بڑی مہربانی ہو گی۔“
”ڈیرہ اسماعیل خان والا چودھری اکبر؟“ وہ حیرانی سے مستفسر ہوا۔
”جی اس کے علاقے کا تو پتا نہیں ہے۔ صرف اس کا نام اور شہرت سنی ہے۔“
”غلط سنا ہے۔“اس نے منہ بنایا۔ ”اس پرچون فروش کے پاس تمھیں10,5کلو سے زیادہ چرس نہیں مل سکتی۔“
”مگر بازار میں تو ایک بندہ اس کی بڑی تعریف کر رہا تھا۔“میں نے دل میں بے ساختہ اٹھنے والی خوشی کی لہر کو دباتے ہوئے اپنی بات کا جواز پیش کیا۔ چودھری کے بارے یہ کنفرم ہو جانے کے بعد کہ وہ یہیں ڈابیر میں موجود تھا میرا جانان خان کے پاس آنے کا مقصد پورا ہو گیا تھا۔ اب کسی ترکیب سے اس سے چودھری کی رہائش کی لوکیشن معلوم کرنا رہ گئی تھی۔
جانان خان نے جواب دیا۔”اس طرح کے بندے اسی طرح اپنی شہرت کراتے ہیں۔“
اس کے جواب میں مَیں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ چوکیدار اجازت مانگ کر اندر داخل ہوا۔
”خان جی.... چودھری اکبر نام کا بندہ آپ سے ملنا چاہتا ہے اس کے ساتھ چار باڈی گارڈ بھی ہیں۔“ اس کی بات نے مجھے بے ساختہ پہلوبدلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ امجد کے پلے بھی یہ بات پڑ گئی تھی اس لیے وہ بھی چو کناہو گیا تھا۔
”چودھری اکبر؟“ جانان خان کے لہجے میں حیرانی تھی۔ ایک لمحہ سوچ کر وہ بولا۔ ”اسے بلا کر ساتھ والے کمرے میں بٹھاﺅ میں آتا ہوں۔“
چوکیدار ”جی خان جی۔“ کہہ کر کمرے سے نکل گیا اور اس کے باہر جاتے ہی جانان خان نے کمرے میں موجود باڈی گارڈ کو کہا۔
”دروازہ اندر سے بند کر دو۔“ اور اس نے سرہلا کر دروازے کو اندر سے کنڈی لگا دی۔
”معاف کرنا برادر آپ سے کاروبار کے متعلق گفتگو تو تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ مگر ابھی تک میں آپ کا نام نہیں جان سکا ہوں۔“ ا س مرتبہ اس کے مخاطب ہم دونوں تھے۔
”جی میرا نام عبداﷲ اور اس کا نام عبدالرحمن ہے۔“ میںنے اپنا تعارف کرایا۔ ”عبدالرحمن بھائی پشتو بولنا نہیں جانتا اس لیے یہ ہماری گفتگو میں شریک نہیں ہو سکا ہے۔ میرا تعلق لکی مروت سے ہے اور عبدالرحمن کا ہری پور سے لیکن ہم رہتے میرن شاہ میں ہیں۔“
”اچھا میں چودھری کورخصت کر دوں، پتا نہیں یہ کس مقصد کے لیے آیا ہے اس کے بعد آپ سے بات چیت ہو گی۔“ وہ کھڑاہو گیا۔ ”اور اگر آپ لوگ بھی اس سے ملنا چاہتے ہو تو میرے ساتھ آجاﺅ۔“
”مہربانی خان صاحب ہم بعد میں مل لیں گے....اب نہ جانے وہ کس مسئلے کے سلسلے میں آپ کے پاس آیا ہے“ اور جانان خان سر ہلاتا ہوا دروازے کی جانب بڑھ گیا۔کمرے میں موجود اکلوتے باڈی گاڈ نے اس کے لیے دروازہ کھولا اور وہ دونوں ساتھ والے کمرے میں چلے گئے۔ چونکہ چودھری کو اس نے اسی کمرے میں بلایا تھا اس لیے دروازہ کھلتے وقت ہم دونوں نے دروازے کی طرف پیٹھ کرلی تھی۔
”وہ موذی کہیں ہمارے تعاقب میں یہاں نہ پہنچا ہو۔“ دروازہ بندے ہوتے ہی امجد تشویش بھرے لہجے میں پوچھا۔
”ابھی پتا چل جاتا ہے۔“ میں اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے اٹھ کر دروازے کے قریب پہنچا۔ بات رسمی تعارف سے گزر چکی تھی اور اس وقت چودھری اکبر احتجاجی انداز میں جانان خان سے مخاطب تھا۔
”ملک صاحب یہ اچھی بات تو نہیں ہے نا؟ اور اس طرح دوسری مرتبہ ہو رہا ہے کہ آپ کے آدمیوں نے میرے سو دے کوخراب کرنے کی کوشش کی ہے۔“
”چودھری صاحب میں تمھاری بات نہیں سمجھا؟“ جانان خان نرم لہجے میں مستفسر ہوا۔
” آج جنگل خیل میں ایک آدمی کو ہم نے مال ڈیلیور کرنا تھا، زبانی کلامی بات ہو چکی تھی، لیکن جب ہم پہنچے تو آپ کے آدمی ہم سے پہلے جا کر اسے مال دے کر رقم وصول کر چکے تھے۔“
”تو اس میں تو سراسر اس بندے کی غلطی ظاہر ہو رہی ہے جس کے ساتھ آپ کی بات پکی ہو چکی تھی۔ وہ آپ ہی سے مال وصول کرتا۔ میرے آدمیوں کا اس میں کیا قصور ہے۔ وہ تو بہ طور دکاندار اپنا مال ہر اس شخص کو بیچیں گے جو ان سے خریدنے آئے گا۔“
”مجھے اس بندے نے بتایا کہ آپ کے آدمیوں نے اسے میرے بارے یہ کہا کہ میں ملاوٹ والا مال بیچتا ہوں اور اس کے علاوہ بھی چند الٹی سیدھی باتیں میرے بارے میں کی ہیں۔“
”چودھری صاحب !آپ نے اسے کہنا تھا کہ اس طرح کسی کی باتوں میں آ کر سودے منسوخ نہیں ہوا کرتے۔ وہ آپ کے مال کا معائنہ کر کے پھر ہم سے سودا کرتا۔“
”ملک صاحب!.... آپ ساری بات خریدار کے اوپر ڈال رہے ہیں، حالانکہ آپ کے آدمی بھی اس کے جرم میں برابر کے شریک ہیں۔“ چودھری کا لہجہ خاصا کڑوا تھا۔ ”بہ ہر حال یہ دو دفعہ ہو چکا ہے اس کے بعد میں بھی آپ کے آدمیوں والا طریقہ کار اپناﺅں گا۔ بعد میں گلہ نہ کرنا۔“
جانان خان نے جواب دیا۔”چودھری مرد گلہ شکوہ نہیں کیا کرتے۔“
”چلو یہ بھی دیکھ لیں گے۔“ چودھری کی آواز سے مجھے محسوس ہوا کہ اس نے بات مکمل کرلی تھی میں جلدی سے آ کر امجد کے ساتھ بیٹھ گیا اس جگہ دروازہ بند ہونے کی وجہ سے آواز واضح سنائی نہیں دے رہی تھی۔
”کیا بات چیت ہو رہی تھی؟“ امجد نے اشتیاق سے پوچھا۔
” کوئی کاروباری معاملہ تھا بعد میں تفصیل سے بتاﺅں گا۔“
”ویسے جانو۔ ابھی موقع تھا کہ ہم ہلابول کر چودھری کو قابو کر لیتے۔“
”بے وقوف وہ جانان خان کے گھر آیا ہوا ہے اور تمھیں پتا ہونا چاہئے کہ اپنے گھر آئے دشمن کی بھی حفاظت میں یہ لوگ جان تک قربان کر دیتے ہیں۔ تم خواہ مخواہ جانان خان کے ساتھ دشمنی کی داغ بیل کیوں ڈالنا چاہتے ہو؟“
” سوری.... مجھے خیال نہیں رہا تھا۔“
میں جواباً کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ جانان خان دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور میں نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا۔ اس کے پیچھے اس کے دونوں باڈی گاڈ بھی اندر داخل ہو ئے۔
جانان خان اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔
”جاگیردار!.... بھائی صاحب کو مال چیک کراو۔“
جاگیردار نے ہاتھ میں پکڑا ہوا شاپر میری جانب بڑھا دیا۔ شاپر لے کر میں نے اپنے پاس رکھ لیا۔
”ملک صاحب یہ ہمارا خان خود ہی چیک کرے گا۔“
”آپ تھوڑی سی پی کر دیکھیں۔“ جانان خان نے ہلکا سا اصرار کیا۔
”ہم اس سے آج تک مستفید نہیں ہو سکے ہیں۔“ میں مسکرا یا۔ میری بات سن کر جانان خان کے چہرے پرحیرانی کے اثرات نمودار ہوئے اور جب وہ بولا تو یہ حیرانی اس کے لہجے میں بھی ہویدا تھی۔
” عجیب بات ہے کاروبار کرتے ہو اور خود استعمال نہیں کرتے؟“
”بس ملک صاحب نئے نئے وارد ہوئے ہیں نا اس میدان میں۔“
”اب آپ یہ مال میرن شاہ لے کے جائیں گے؟“ وہ مستفسر ہوا۔
”جی۔“ میں مختصراً
”آپ کے خان کا نام کیا ہے؟“
”ملک حاجی بہادر خان۔“
”کیا ....؟....تم حاجی بہادر کے بندے ہو۔“ اس کے لہجے میں حیرانی تھی۔
”جی۔“
”مگر وہ تو دگن میں رہتا تھا اور جہاں تک میرا خیال ہے وہ اس قسم کے کسی کام میں ملوث نہیں۔“ جانان خان کے لہجے میں شکوک کی پرچھائیاں لہرا رہی تھیں۔
”وہ اب بھی دگن ہی میں رہتا ہے لیکن آپ کی آسانی کے لیے میں نے میران شاہ بتلا دیا کیوں کہ دگن اتنا معروف نہیں۔ دوسرے وہ واقعی اس کا روبار میں ملوث نہیں ہے یہ کام اس کا دست راست طوفان خان سرانجام دیتا ہے۔“
”اچھا اچھا۔“اس نے اطمینان سے سرہلایا۔ ”بہ ہر حال آپ لوگوں نے اور جس سے مال کے نمونے حاصل کرنے ہیں وہ کر لیں اور جتنے دن آپ ڈابیر میں ہیں میرے گھر میں مہمان رہیں گے۔“
”مگر ہم یہاں کسی سے واقف نہیں۔“
”آپ کی رہنمائی جاگیردار کر دے گا ہمارے علاوہ چودھری اکبر، ملک دل شاد خان اور سبز علی خان اس کا روبار میں ملوث ہیں۔“
”آپ نے اس کی قیمت نہیں بتلائی۔“ میں نے ہاتھ میں موجود چرس کے شاپر کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔
”اس کا ریٹ اور یکمشت ایک من لینے کا ریٹ بھی جاگیر دار بتا دے گا۔ فی الحال آپ لوگ آرام کرو۔ میں بھی تھوڑا مصروف ہوں بعد میں گپ شپ ہو گی۔“ یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور ہم سے مصافحہ کر کے رخصت ہو گیا۔ اس کے جاتے ہی جاگیردار ہمیں وہاں سے ایک دوسرے کمرے میں لے گیا جہاں چارپائیوں پر صاف ستھرے بستر بچھے ہوئے تھے۔ وہ کمرہ یقینا مہمانوں کے ٹھہرانے کے کام آتا تھا۔
جاگیردار ہمیں چرس کے ریٹ وغیرہ سے آگاہ کرنے کے بعد آرام کا مشورہ دیتے ہوئے رخصت ہو گیا۔ اس پاﺅ بھر چرس کی پے منٹ کرنا میں نہیں بھولا تھا۔
اس کے کمرے سے نکلتے ہی امجد نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی، جواباًمیں نے اسے ساری صورتِ حال سے آگاہ کر دیا۔
” یہاں تک تو ٹھیک ہو گیا۔ آگے کیا کریںگے؟“ تفصیل جان کر وہ مستفسر ہوا۔
”پہلے چودھری کی رہائش کا جائزہ لے لیں، اس کے بعد کوئی لائحہ عمل طے کریں گے۔“
”تو اس وقت آرام کرنے کی کیا ضرورت تھی، جاگیردار کو ساتھ لے کر چلے جاتے یا ویسے ہی اس سے حویلی کا محلِ وقوع پوچھ لیتے، تاکہ آج رات ہی اس کام کو نمٹا دیتے، ڈیڑھ مہینے سے اسے تلاش کر رہے ہیں اور اب اس کا پتا چلا ہے تو جناب کو آرام کی سوجھ گئی ہے۔“
”آرام سے ماجے، اب اس کا پتا تو چل گیا ہے خواہ مخواہ بے صبری کا مظاہرہ اچھا نہیں۔ گھنٹا ڈیڑھ آرام کرو عصر کو چلے چلیں گے۔“ یہ الفاظ میرے ہونٹوں پر تھے کہ ایک شخص چھابے میں روٹیاں اور ترکاری کا ڈونگہ لیے حاضر ہوا۔ دن کے کھانے کا وقت قریباً گزر گیا تھا مگر اس کے باوجود انھوں نے کھانا بھجوا دیا تھا اور ایسا شاید انھوں نے احتیاط کے طور پر کیا تھا۔ اتفاق سے ہم دونوں اس وقت تک کھانا نہیں کھا سکے تھے اس لیے اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ ترکاری پلیٹوں میں ڈالنے کا تکلف کیے بغیر ہم ڈونگے میں ہی جڑ گئے۔ کھانے کے بعد وہی آدمی قہوہ لے آیا اور ہمارے قہوہ پیتے ہی برتن سمیٹ کر باہر نکل گیا۔ روٹی کھانے کے دوران میرا ارادہ تھا کہ کھانے کے بعد جاگیردار سے چودھری اکبر کا پتا پوچھ کر اس کی حویلی کے جانب چلیں گے۔ مگر کھانا کھاتے ہی ایک عجیب قسم کی غنودگی میرے حواس پر چھا گئی۔ بند ہوتی آنکھوں سے میں نے امجد کی جانب دیکھا تو اس کی حالت بھی مجھے خود سے مختلف نہ لگی۔ بے انتہا کوشش کے باوجود میں اپنے حواس قائم نہ رکھ سکا اور چند لمحوں میں ہی دنیا و مافیہاسے بے خبر ہو گیا۔
l l l
حواس میں آنے پر مجھے اپنے سر پر بہت بوجھ محسوس ہو رہا تھا۔ سر جھٹک کر میں نے دائیں بائیں دیکھا۔ امجد مجھے اپنے بائیں جانب زمین پر پڑا نظر آیا۔ ہم دونوں کی قمیصیں اتارلی گئی تھیں اور دونوں کے ہاتھ پشت کی طرف رسّی سے باندھ دیئے گئے تھے۔ اپنے علاوہ مجھے اس کمرے میں ذی روح تو کیا بے جان چیز بھی نظر نہ آئی۔ تھوڑی دیر بعد ہی امجد کے جسم میں بھی حرکت پیدا ہوئی اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔
”یہ کیا جانو صاحب؟“
”وہی جو تم دیکھ رہے ہو۔“ میں اطمینان سے بولا۔
وہ طنزیہ انداز میںبولا۔”یہی ان کی مہمان نوازی ہے جس کے تم گن گا رہے تھے؟“
”پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ماجے۔ ہر قوم میں چودھری اکبر جیسے گھٹیا افراد موجود ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر شخص اپنے علاقے کی روایات کا پاس رکھے۔ ویسے بھی کسی علاقے کے رواج کوہم وہاں کے لوگوں کی اکثریت کے مزاج سے پہچانتے ہیں۔ اگر انفرادی طور پر کوئی بد خصلت ہو تو اس کی بری عادات کو ہم پورے علاقے یا پوری قوم پر منطبق نہیں کر سکتے۔“
”اب مجھے فلسفے سے قائل کرنے کی کوشش نہ کرو بقراط صاحب۔“
”اچھا چھوڑو اس بحث کو اور میری رسّی کھولنے کی کوشش کرو۔“ میں کہنیاں ٹیک کر اٹھتے ہوئے بولا۔ ایک کمانڈوکے مزاج کے مطابق ہم پریشان ہونے کی بجائے حفاظتی اقدامات میں جڑ گئے، میں نے اپنی پیٹھ امجد کے جانب موڑی اور وہ دانتوں سے میرے ہاتھوں سے بندھی رسّی کھولنے لگا۔ تھوڑی محنت کے بعد ہی وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوگیا اور میرے ہاتھوں پر رسّی کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ اس کے بعد امجد کی رسّی کھولنے میں مجھے کوئی دشواری پیش نہ آئی۔ رسّی کھولنے کے بعد ہم نے وہ رسّی اس طرح اپنے ہاتھوں پر لپیٹ لی کہ ضرورت پڑنے پر ہم ایک جھٹکے سے اپنے ہاتھ آزاد کرا سکتے تھے
”یار!.... ہم جتنا ان سے لڑنے سے گریز کر رہے ہیں اتنا ہی ان سے لڑائی ناگز یر ہوتی جارہی ہے۔“ امجد دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
”ان سے لڑنا کوئی مشکل نہیں ہے ماجے....! مگر یہ فالتو پنگا ہو گا اور خواہ مخواہ ہمارا وقت ضائع ہو گا۔ دوسرے اگر اس لڑائی میں ہم دونوں سے کوئی ایک بھی وقتی طور پر ناکارہ ہو گیا تو چودھری کے خلاف ہماری طاقت آدھی رہ جائے گی۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ہماری پوری طاقت چودھری کے خلاف استعمال ہو۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے اور دوسرے رخ کے مطابق ہم دونوں ملک جانان خان کے آدمیوں سے لڑتے ہوئے یہاں سے عدم آباد بھی روانہ ہو سکتے ہیں ، گولی یہ نہیں دیکھتی کہ سامنے کمانڈو ہے یا کوئی عام بندہ اور اس علاقے کے لوگ زبانی کلامی جمع خرچ کی بجائے بندوق کی زبان میں گفتگو کرتے ہیں۔“
”بس اپنی بزدلی کو کسی نہ کسی مصلحت کا نام دیئے رکھنا۔“
”چلو .... یونھی سہی۔“ میں نے بحث کرنا مناسب نہ سمجھا۔
”ویسے جانو.... یہ ایک دم ان کو کیا سوجھی؟ اچھا کھلا پلا کر اس حال میں لے آئے۔“
” ان کے آنے کی دیر ہے پتا چل جائے گا۔“
”وقت کیا ہو گا۔ اب تک اچھی خاصی روشنی محسوس رہی ہے ؟“امجد نے کہا۔ ”جہاں تک میرا اندازہ ہے تو ہم کافی دیر بے ہوش رہے ہیں۔“
”میرا خیال ہے دوسرا دن طلوع ہو چکا ہے۔“
”ایسا ہی ہو گا۔“ اس نے اثبات میں سرہلایا۔
میں نے پوچھا۔”اچھا ان کے آتے ہی ہلا بول دینا چاہئے یا.... ان کو پوچھ گچھ کا موقع دینا چاہئے۔“
”کمانڈو ٹریننگ کا تضاضا تو یہی ہے کہ انھیں سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر چھاپ لیا جائے....مگر پھر ان سے پوچھ گچھ میں دشواری پیش آئے گی اور ہمارے قابو آنے کے بعد وہ ہم سے جھوٹ بھی بول سکتے ہیں، دوسری صورت میں ہو سکتا ہے ان سے بات چیت کرنے کے دوران کوئی افہام و تفہیم کا پہلو بھی نکل آئے۔“
”اور یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ حملہ کرتے ہوئے ہم خود ہی پار ہو جائیں۔“ میں نے تاریک پہلو کی طرف اشارہ کیا۔
”یہ توپھر قسمت کی بات ہے،موت کے ڈر سے ہم اپنے ارادے تو موّخر نہیں کر سکتے وہ تو بستر پر لیٹے ہوئے بھی آ سکتی ہے، تو نے سنا ہو گا کہ اس دنیا میں آنے کی ترتیب تو موجود ہے یعنی حمل ہو گا اس کے آٹھ، نو، دس ماہ بعد بچہ پیدا ہو گا .... لیکن جانے کی کوئی ترتیب موجود نہیں۔ ہوسکتا ہے پوتا دادا سے پہلے مر جائے، بیٹا باپ سے پہلے فوت ہو جائے یہ تو مالک الملک کی منشا ہے، اس کی مرضی ہے۔ بندہ غریب تو اس ضمن میں بے بس اور لاچار ہے اور یہ وہ واحد حقیقت ہے جس کا منکر کوئی نہیں، چاہے کوئی دیندار ہو چاہے دنیا دار، چاہے کوئی مسلم ہو چاہے بے دین، یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کے وجود کے منکر بھی اس کو چیلنج کرنے کی جرا¿ت نہیں کر سکتے۔“
”آج تو بڑے فلسفے بگھارے جا رہے ہیں۔“ میں ہنسا، وہ بھی ہنس پڑا تھا۔ہم کافی دیرگپ شپ میں مشغول رہے یہاں تک کہ کمرے کے باہر قدموں کی چاپ ابھری اور ہم خاموش ہو گئے۔ دروازہ کھول کر ایک ملازم سرکنڈوں سے بنا ہوا اسٹول اٹھائے اندر داخل ہوا جس کو ہمار ی زبان میں موڑھا کہتے ہیں۔ موڑھا کمرے کے وسط میں رکھ کر وہ باہر نکل گیا جبکہ اس کے پیچھے اندر داخل ہونے والوں میں ایک جاگیردار خان اور دوسرا، باڈی گارڈ تھا دونوں دروازے کے دائیں بائیںکھڑے ہو گئے۔ چند لمحوں بعد جانان خان اندر داخل ہوا اور آ کر موڑھے پر بیٹھ گیا۔
”ہاں بھئی جوانو کیا حال ہے۔“ اس کا لہجہ استہزائی تھا۔ دونوں باڈی گاڈ اس کے دائیں بائیں آ کر کھڑے ہو گئے تھے۔ جواباً ہم دونوں خاموش ہی رہے۔
”آپ لوگ خفا خفا سے لگ رہے ہو۔“
”ملک صاحب.... آپ کے ہاں مہمانوں کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا ہے۔“ میں نے شکوہ کیا۔
”نہیں۔“ اس نے انکارمیں سر ہلایا۔ ”اس بات پر مجھے خفت بھی ہو رہی ہے مگر کیاکیاجائے کہ مہمانوں کی شکل میں ہماری جان کے دشمن قریب آنے کوشش کرتے ہیں تو پھر ایسا کرنا ہماری مجبوری بن جاتی ہے۔“
”میں سمجھا نہیں؟“ میں حیرانی سے بولا۔ ”آپ کی جان کے دشمن ہم کیسے ہو گئے؟“
”بچکانہ باتیں مت کرو عبداﷲ خان یا جو بھی نام ہے۔ تمھارا کیا خیال ہے جانان خان سویا ہوا ہے۔ ہیبت خان اور باسمت خان کے قتل کے بعد ہم نے جو تفتیش کی اس کے مطابق ان دونوں کو قتل کرنے والے دو لمبے تڑنگے نوجوان ہیں۔ جن کی عمر24سے 28سال کے درمیان ہے۔گندمی رنگت سیاہ آنکھیں ایک کے بال ہلکے بھورے جبکہ دوسرے کے سیاہ، ایک پشتو بول سکتا ہے اور دوسرا پشتو نہیں جانتا وغیرہ وغیرہ۔“
ایک لمحے کے لیے رک کر اس کی بات جاری رہی۔ ”تم شاید سوچ رہے ہو کہ میں یہ اپنی طرف سے گھڑ رہا ہوں۔ اگر ایسا ہے تو یہ تمھاری بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ تمھارا حلیہ ہمیں اس کوارٹربکنگ کرنے والے سے پتا چلا تھا جو بعد میں قتل ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ جو بندہ تمھیں کوارٹر تک چھوڑنے گیا تھا اس نے بھی اس کی تائید کی تھی، سب سے بڑھ کر وادی بہرام شاہ کے عبداﷲ خان سے ہم نے ہیرا پھیری سے تمھارا حلیہ اگلوا لیا تھا جس کے ہاں تم لوگوں نے رات گزاری تھی۔ اب تم سوچو گے ہم عبداﷲ خان تک کیسے پہنچے تو یہ بھی میں بتائے دیتا ہوں میران شاہ سے ڈابیر آتے ہوئے اتفاقاً عبداﷲ خان کا گھر ہی راستے میں پڑتا ہے اور وہ حددرجہ کا مہمان نواز ہے یہ بات ممکن ہی نہیں کہ کوئی اس جانب سے جنگل خیل کی طرف آئے اور عبداﷲ خان کی مہمان نوازی سے مستفید نہ ہو سکے۔ بہ ہر حال اس سب کے باوجود میں تمھیں نہ تو باسمت خان اور ہیبت خان کا قاتل گردانتا ہوں اور نہ اس ضمن میں کوئی سزا دینے کا ارادہ رکھتا ہوں کیوں کہ نادانستگی میں سہی تمھاری وجہ سے مجھے ڈابیر کی سرداری ملی اور اسی وجہ سے تمھارے بارے تمام معلومات حاصل ہو جانے کے باوجود میں نے تمھیں تلاش کرنے یا کرانے کی بالکل کوشش نہیں کی یہ معلومات بھی مجھے ہیبت خان اور باسمت خان کے مرنے کے دو تین دن بعد مل گئی تھیں۔ رہی بات باسمت خان کی بیوی کی تو میرا خیال تھا شاید اسی کے چکر میں تم لوگوں نے باسمت خان اور ہیبت خان کا کام تما م کیا تھا مگر اب جبکہ تم اس واقعے کے ڈیڑھ دو مہینے بعد ہی میرے پاس آ پہنچے ہو اور وہ بھی بوگس قسم کے سمگلربن کر۔ بے وقوف تم لوگ حاجی بہادر اور طوفان خان کا نام لے رہے ہو جن سے ہم خود چرس وافیون وغیرہ منگواتے ہیں۔ حاجی بہادر اس علاقے کا سب سے بڑا چرس وافیون سپلائیر ہے۔ بہر حال اب تمھاری بہتری اسی میں ہے کہ تم چپ چاپ بغیر اپنی ہڈیاں تڑوائے یہ بتا دو کہ تم دونوں کس کے لے کام کرتے ہو ؟اور مجھے قتل کرنے میں تمھارا کون سا مفاد پوشیدہ ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ تمھیں کم سے کم سزا دی جائے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم مجھے اصل حقائق سے آگاہ کرد و باسمت خان ہیبت خان کو قتل کرنے اور مجھے قتل کرنے کا ارادہ کرنے کی وجوہات سے پردہ اٹھا دو تو شاید میں تمھاری جان بخشی کردوں ورنہ تو میرے آدمی باسمت خان اور ہیبت خان کے قاتلوں کے خون کے پیاسے ہو رہے ہیں۔ اگر انھیں پتا چل جائے کہ میں ان کے سرداروں کے قاتلوں سے مذاکرات کر رہا ہوں تو شاید وہ مجھے بھی معاف نہ کریں۔ البتہ جاگیردار خان اور صاحب گل کی بات اور ہے۔“ اس نے اپنے باڈی گارڈز کی طرف اشارہ کیا۔ ”یہ میرے باڈی گارڈ نہیں بلکہ بھائیوں کی طرح ہیں۔ خیر یہ ایک ضمنی بات تھی اب تم بغیر کوئی بات چھپائے سب کچھ بیان کردو۔“
جاری ہے
 

قسط نمبر28
ریاض عاقب کوہلر
”ہمارے پاس آپ کو بتانے کے لیے کوئی ایسی کہانی نہیں ہے جس سے ہم آپ کے نام نہاد اندیشوں کی تصدیق کر سکیں۔“
”ہوں۔“ اس نے ایک گہری سانس لی۔ ”اس کا مطلب ہے میری ساری بکواس رایگاں گئی۔ تم لوگ لاتوں کے بھوت ہو.... باتوں سے نہیں مانوگے۔....خیر تمھاری مرضی۔“وہ جاگیردار کی طرف متوجہ ہوا۔ ”اسے تفتیش کے دوسرے طریقے سے آگاہ کرو۔“
”جی خان جی۔“ کہہ کر اس نے کلاشن کوف اپنے ساتھی صاحب گل کو پکڑائی اور میری طرف خطرناک ارادے سے بڑھا۔ اس کے بڑھنے کا انداز اس بات کا مظہر تھا کہ اسے میری جانب سے کوئی خطرہ نہیں۔ کیوں کہ ایک تو میں بندھا ہوا تھا۔ دوسرے وہ مجھ سے ناواقف تھا۔
جانان خان کی بات ختم ہوتے ہی میں نے اپنے ہاتھ رسّی سے آزاد کرالیے تھے۔ امجد بھی لازمی طور پر میرے انداز کو دیکھتے ہوئے ایکشن کے لیے تیار ہو گیا تھا۔ جانان خان دلچسپ نظروں مجھے گھور رہا تھا کہ سب سے پہلے مجھے ہی پھینٹی لگنا تھی اس کے بعد کہیں امجد کا نمبر آتا۔
قریب آ کر جیسے ہی جاگیردار جارحانہ انداز میں جھکا اور اس کا ہاتھ میرے گریبان کے جانب بڑھا میں ایک دم اوپر کو اچھلا میرے سر کی بھرپورا ٹکر اس کی ٹھوڑی پر لگی وہ لڑکھڑاتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہٹا اور اس پہلے کہ وہ سنبھلتا میں نے بجلی کی سی تیزی سے اس کے دائیں ہاتھ کو پکڑ کر جھٹکے سے گھمایا اور اس کے ساتھی صاحب گل کی طرف دھکیل دیا۔ اس میں طاقت کے ساتھ ٹیکنیک کا گہرا عمل دخل تھا کہ پہلے میں نے اس کے قدموں کو ان بیلنس کیا اور پھر ایک چکر دے کر اس کی سوچوں کو وقتی طور پر درہم برہم کرتے ہوئے اسے اس کے ساتھی پر پھینک دیا۔اس کے بجائے اسے یرغمال بنا لینا میرے لیے زیادہ آسان تھا مگر اس میں یہ قباحت تھی کہ اس کا کمانڈر بچ کر نکل جاتا اور ہم ایک مرتبہ پھر پھنس جاتے اور دوبارہ ان کے قابو میں آنے کا مطلب صریحاً موت تھی۔ اسے دھکیلنے کے بعد میں رکانہیں تھا بلکہ اسی تسلسل میں میں موڑھے پر ہکا بکا بیٹھے جانان خان پر جا پڑا اور اگلے ہی لمحے پشت کے جانب اس کا دایاں بازو مروڑ کر اپنا بایاں ہاتھ میں اس کے گلے میں حمایل کرچکا تھا۔
دوسری جانب امجد بھی حرکت میں آچکا تھا۔ جاگیردار صاحب گل سے ٹکرایا اور دونوںنیچے گر گئے اس سے پہلے وہ سنبھلتے امجد ان کی کلاشن کوفوں پر قبضہ کر چکا تھا۔ ایک کلاشن کوف سلنگ اپ کر کے دوسری فائرنگ پوزیشن میں پکڑتے ہوئے وہ اُلٹے قدموں دروازے کی طرف بڑھا اور اندر سے کنڈی چڑھا دی۔ اس کی جگہ اگر میں ہوتا تو میرا ردِ عمل بھی یہی ہوتا کیوں کہ ہم دونوں کمانڈو کے تربیت یافتہ تھے اور ایسی صورتِ حال میں کمانڈوزکا دماغ ایک ہی دائرے میں کام کرتا ہے۔ وہ ساری کارروائی ہم نے بغیر کسی منصوبے کے سرانجام دی اور ہر دونے بہ خوبی اپنا کردار ادا کر دیا تھا۔
امجد کے پوزیشن سنبھالتے ہی میں نے جانان خان کا بازو آزاد کرتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ سے ماہرانہ انداز اس کی جیبوں کو ٹٹولا اور اس کی جیب میں پڑا پستول نکال کر اسے آہستہ سے سامنے کی طرف دھکیلا اور وہ لڑکھڑاتے ہوئے سامنے دوڑتا چلا گیا۔
”اب بتاﺅ ملک جانان خان تمھیں بے بس لوگوں سے تفتیش کرنے کے اور کتنے طریقے آتے ہیں۔“
”تت ....تم بچ کر نہیں جاسکتے۔ حویلی میں چاروں جانب میرے آدمی بکھرے ہوئے ہیں۔“ اس نے اپنے تئیں مجھے دھمکی دینے کی کوشش کی مگر اس کی ہکلاتی اور متوحش آواز اس کی دھمکی کے کھوکھلا ہونے کی مظہر تھی۔
”بھول ہے تمھاری جانان خان .... جب تک کسی کو تمھاری ہلاکت کا پتا چلے گا ہم اس علاقے سے بہت دور جا چکے ہو ں گے۔ کیوں، میں غلط کہہ رہا ہوں جاگیردار خان؟“جانان خان سے بات کرتے کرتے میں جاگیردار کو مخاطب ہوا جو شعلہ بار نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔ میری بات کا ان دونوں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
”ماجے ....!کیاخیال ہے انھیں گولی سے ماریں یاکوئی اور طریقہ اختیار کریں۔“ ں ان کی خاموشی دیکھتے ہوئے میں امجد سے مستفسر ہوا۔
”نہیں بھئی!.... میں تو بے گناہوں کا خون بہانے کے حق میں نہیں ہوں۔“وہ اطمینان سے بولا۔
”صحیح کہا۔“ میں جانان خان کو مخاطب ہوا۔ ”ملک صاحب بیٹھیں میں آپ کو اصل بات بتا دوں۔“ مگر اس بار بھی جانان خان خاموشی سے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر رہ گیا۔ شاید اسے بچنے کے امکانات صفر سے بھی کم دکھائی دے رہے تھے۔
” ملک صاحب !....آپ پریشان نہ ہوں ،ہم نہ پہلے آپ کے دشمن تھے اور نہ اب ہیں۔ یہ اقدام ہمیں اس لیے اٹھانا پڑا تاکہ آپ کو احساس دلائیں کہ اگر ہم آپ کو قتل کرنے کے ارادے سے آئے ہوتے تو کب کا ایسا کر چکے ہوتے اور ماجے انھیں گنیں واپس کر دو۔“ اس سے بات کرتے کرتے میں امجدکو مخاطب ہوا۔
اس نے سر ہلاتے ہوئے دونوں کلاشن کوفیں جاگیرداراور صاحب گل کی طرف بڑھا دیں۔ میں نے بھی اپنے ہاتھ میں موجود پستول جانان خان کی طرف بڑھا دیا جو اس نے میکانکی انداز میں لے لیا۔ جاگیردار اور صاحب گل کے چہروں پر بھی حددرجہ حیرت چھا گئی تھی۔
”اب بیٹھ جائیں ملک صاحب.... تاکہ میں آپ کواصل کہانی سنا سکوں۔“
”نہیں یہاں نہیں۔“ وہ جیسے ہوش میں آگیا۔ ”چلو میری آرام گاہ میں۔“
”چلیں۔“ میں نے اس کی تائید کی۔
”جاگیردار.... مہمانوں کے کپڑے اور سامان وہیں پر لے آﺅ، اس کے علاوہ اچھے سے کھانے کا بندوبست بھی کرو کہ 25,24گھنٹوں سے انھوں کچھ نہیں کھایا۔“
”ٹھیک ہے خان جی۔“
”صاحب گل تم بھی جاگیر کے ساتھ چلے جاﺅ۔“
”آپ چلیں میرے ساتھ۔“ جانان خان کے لہجے سے شہد ٹپک رہا تھا۔ موت کو اتنا قریب آ کر پلٹتے دیکھ کر اس کا رویہ عجیب سا ہو گیا تھا۔ ہم دونوں انھیں ختم کر کے آسانی سے نکل سکتے تھے مگر ایک تو یہ خواہ مخواہ کی خون ریزی ہوتی دوسرا اس کے بعد ہم اطمینان سے چودھری کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتے تھے۔ جبکہ یہ چال چل کے ایک تو ہم نے جانان خان کی نظروں میں اپنی پوزیشن صاف کرلی تھی دوسرے اس سے ہمارا ضمیر بھی مطمئن تھا۔
جانان خان کے ساتھ چلتے ہوئے ہم اس کی آرام گاہ میں پہنچے وہ کشادہ کمرہ کافی پُر تکلف انداز میں سجایا گیا تھا۔ ہلکے آسمانی کلر کی دیواریں، اسی رنگ کے کھڑکیوں پر لٹکتے ہوئے پردے، خوب صورت صوفہ سیٹ۔ فرش پر بچھا ہوا نرم ایرانی قالین۔ دیواروں سے لٹکتی ہوئی خوب صورت تصاویر۔ وہ کمرہ واقعی ایک ملک کے شایانِ شان تھا۔
”آپ لوگ پہلے نہا دھو کر تازہ دم ہو جائیں، کھانا کھائیں اس کے بعد اطمینان سے بیٹھ کر بات چیت کریں گے۔“اور میں نے سر ہلاتے ہوئے اس سے اتفاق کیا تھا۔
l l l
پُرتکلف کھانے سے فارغ ہو کر ہم خوشبودار قہوے کی چسکیاں لیتے ہوئے جانان خان کو اپنی کہانی سنا رہے تھے۔ جاگیر دار اور صاحب گل بھی وہیں وجود تھے....
”باسمت خان اور ہیبت خان اپنی غلطی سے مارے گئے۔پہل ہماری طرف سے نہیں ہوئی تھی، ہمارا آپ کے پاس آنے کا مقصد فقط چودھری اکبر کا پتا معلوم کرنا تھا۔ باقی چرس خریدنے کی کہانی بلاشبہ جھوٹی تھی مگر یہ بات بلاشبہ صحیح ہے کہ ہمارے طوفان خان سے تعلقات ہیں۔ اگر آپ کو ہماری بات میں کسی قسم کا شبہ ہو تو آپ بے شک اپنا کوئی بندہ طوفان خان کے پاس تصدیق کے لیے بھیج دیں اسے چودھری کے ساتھ ہماری دشمنی اور ہمارا چودھری کی تلاش میں جنگل خیل کی طرف آنے کی بارے سب معلوم ہے۔“
”مجھے آپ کی بات میں بالکل بھی شک نہیں ہے، باقی چودھری اکبر نے جو ظلم کیا ہے اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ اب اگر میرے لائق کوئی کام ہو تو حکم کرو میں اپنے بندوں کے ساتھ مل کر چودھری کے خلاف جنگ میں تمھاری مدد کر سکتا ہوں۔“جانان خان نے پُرخلوص آفر کی۔
”مہربانی ملک صاحب.... اگر آپ کی مدد کی ضرورت پڑی تو ہم ضرور آپ کو زحمت دیں گے اب آپ صر ف اتنی مہربانی کریں کہ ہمیں چودھری کے گھر کا پتا سمجھا دیں۔“
”میں جاگیردار خان کو آپ کے ہمراہ بھیج دیتا ہوں۔ یہ آپ کو اس کا مکان دکھلا کر واپس آجائے گا۔“
”ٹھیک ہے۔“ میں نے مطمئن ہو کر سرہلایا۔ ”اب ہم چلتے ہیں، چند دن اس کے گھر کی نگرانی کریں گے اور موقع ملتے ہی اس پروار کرنے کی کوشش کریں گے۔“ یہ کہہ کر میں جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا، میری تقلید میں باقی تمام بھی کھڑے ہو گئے۔ جانان خان سے رخصتی مصافحہ کر کے ہم اس کی حویلی سے باہر نکل آئے۔ جاگیر دار خان بھی ہمارے ساتھ تھا، اس کے باوجود کہ میں نے اسے اچھی خاصی چوٹ لگائی تھی اس کا رویہ میرے ساتھ خوشگوار ہی تھا۔
”عمر جان صیب!.... ایک بات پوچھوں ؟“ حویلی سے نکل کر ہم تھوڑا ہی چلے ہوں گے کہ جاگیر دار مجھ سے مخاطب ہوا۔ کہانی سناتے وقت میں انھیں اپنے اصلی نام بتا چکا تھا۔
”پوچھو؟“
”کل چودھری، خان جی سے ملنے آیا تھا اور آپ دونوں بھی خان جی کے پاس موجود تھے۔ اس وقت آپ لوگوں نے کیوں چودھری پر حملہ نہیں کیا؟ حالانکہ اس وقت وہ آپ کی موجودی سے لا علم تھا آپ بڑی آسانی سے اسے ٹھکانے لگا سکتے تھے۔“
”اس کی دو وجوہات ہیں....پہلی .... وہ ملک صاحب کے گھر آیا تھا اور ہمیں اندیشہ تھا کہ اس کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی پر ملک صاحب خفا ہو جائے گا۔دوسراہم نے اسے گولی مار کر قتل نہیں کرنا بلکہ اذیت ناک موت کے حوالے کرنا ہے۔“
”اس کا مطلب ہے آپ اسے زندہ پکڑنے کی کوشش کروگے؟“
”ارادہ تو یہی ہے۔“ میں اثبات میں بولا۔
”میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں، اگر میری کسی بھی قسم کی مدد چاہےے ہو تو ضرور حکم کرنا۔“
”شکر یہ جاگیردار بھائی! آپ کی دعاﺅں سے زیادہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔“
انھی باتوں کے دوران ہم ایک زیرِتعمیر عمارت کے قریب سے گزرے۔جاگیر نے ہمیں بتایا....
” یہ حویلی چودھری اکبر کی ہے،لیکن اس کی تعمیر ابھی تک مکمل نہیں ہوئی۔ اس لےے وہ ملک امجد خان کے مکان میں رہائش پذیر ہے۔“
”ملک امجد خان خود بھی اسی مکان میں رہتا ہے؟“
”نہیں،ملک امجد کی اپنی حویلی ڈابیر کے اندر ہی واقع ہے۔ یہ مکان تو اس نے بہت پہلے پہاڑی ڈھلوان پر بنایا تھا۔ اس وقت ڈابیر کی آبادی بہت کم تھی۔ بعد میں جب یہ شہر پھیلا تو اس نے بھی شہر کے وسط میں جگہ لے کر اپنی حویلی بنائی اور اپنے خاندان سمیت اس میں منتقل ہو گیا البتہ وہ مکان بھی جوں کا توں موجود رہا اور وقتاً فوقتاً امجد خان اسے مختلف سرگرمیوں میں استعمال کرتا رہا آج کل اس مکان میں چودھری اکبر ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے۔“
انھی باتوں کے دوراں ہم ڈابیر کے مضافات میں نکل آئے تھے۔
”وہ سامنے نظر آنے والا مکان ملک امجد خان کا ہے جس میں چودھری رہائش پذیر ہے۔“
جاگیر دار خان نے درمیانے فاصلے پر نظر آنے والے مکان کی طرف اشارہ کیا جوکافی بلندی پر واقع تھا۔“
”ٹھیک ہے جاگیردار بھائی!.... اب آپ جا سکتے ہیں۔“ میں رک گیا۔”اب ہم جانیں اور ہمارا کام۔“
”مگر میری مددکی ضرورت پڑ سکتی ہے۔“
”فی الحال تو کوئی ضرورت نہیں ،کیوں کہ ہم نے دور دور سے اس مکان کا جائزہ لینا ہے۔“
” جیسے آپ کی مرضی۔“ وہ ہم سے مصافحہ کر کے رخصت ہو گیا اور ہم ٹہلنے کے انداز میں مکان کی سمت بڑھنے لگے۔ اکا دکا مکانات چودھری کے گھر کے قرب و جوار میں بھی نظر آرہے تھے اس لیے ہمیں اس طرف آتے دیکھ کر چودھری یا اس کے آدمی چوکنا نہیں ہو سکتے تھے۔ اپنے چہرے چھپانے کے لیے ہم نے چادر کی پگڑی باندھ کر اس کے لٹکنے والے پلو مقامی انداز میں اپنے چہرے کے گرد اس طرح لپیٹ لیے تھے کہ صرف آنکھیں ہی نظر آرہی تھیں۔ چودھری کے مکان تک ایک کچا ٹریک جارہا تھا اور یہ ٹریک گاڑیوں کے مسلسل آنے جانے کی وجہ سے بنا تھا۔
ہم دونوںمکان والی ٹیکری کے گرد گھوم کر اس کی پشت پر موجود پہاڑی پر چڑھنے لگے اور پھر ایک مناسب بلندی پر پہنچ کرہم دونوں بیٹھ گئے، مگر مکان کی بناوٹ اس طرح تھی کہ اس کا اندرونی حصہ ہماری نظروں سے اوجھل رہا۔ مکان کے سامنے کے دائیں اور پشت کی طرف بائیں کونے میں دو مورچے بنے ہوئے تھے۔ گویا دونوں مورچے کراس میں تھے اور انھی دونوں مورچوں سے مکان کے چاروں اطراف کی نگرانی کی جا سکتی تھی۔ مٹی کے بلاکوں سے بنی ہوئی دیواریں جنھیں لپائی کیا گیا تھا اچھی خاصی بلند تھیں۔ ہم وہاں تھوڑی دیر بیٹھ کر مکان کے اندر گھسنے کے منصوبے پر بات چیت کرتے رہے۔ مگر بہ ظاہر اندر داخل ہونا مشکل نظر آرہا تھا۔
مزید تھوڑی دیر وہیں گزار کر ہم نیچے اترنے لگے۔ اس نگرانی کا مجھے کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آیا تھا۔ہم رات کو وہاں آنے کا فیصلہ کیا اور نیچے اتر آئے۔عصر کا وقت ہو گیا تھا ہم ٹہلنے کے انداز میں چلتے ہوئے واپس آبادی میں پہنچ گئے۔ پگڑیاں کھول کر ہم نے چادروں کو کندھوں پر رکھ لیا کہ مسلسل پگڑی باندھے رکھنا ہمارے بس سے باہر تھا۔
بازار سے گزرتے ہوئے، جینز پہنے ہوئے ایک لڑکی ہماری طرف بڑھی، اورقریب آ کر نامانوس زبان میں کچھ بولنے لگی۔ وہ زبان مجھے فارسی کے مشابہ لگی، لڑکی کی عمر25,24سال تھی اور وہ خاصی خوب صورت لڑکی تھی مگر اس کے چہرے پر عجیب سی بے رونقی چھائی تھی۔ اس قبیل کی کافی لڑکیاں ہم نے جنگل خیل میں بھی دیکھی تھیں ان کے ساتھ انھی کی طرح کے لڑکے بھی ہوتے تھے اور یہ عموماً گروپ کی شکل میں پھرتے نظر آتے۔ مگر ہمارے ساتھ یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی ایسی لڑکی ہمیں مخاطب ہوئی تھی۔
میں انگلش میں بولا۔
"We cant under stand What are you Saying?"
(آپ کیا کہہ رہی ہیں ہم نہیں سمجھ سکے ہیں)
"I said you can get me on a hash cigrate"
(میں نے کہا چرس کے ایک سگریٹ کے بدلے آپ مجھے حاصل کر سکتے ہیں)
”اب کیا خیال ہے؟“ اس کی بات سنتے ہی امجد نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
”اس کا قصور نہیں ہے ماجے....اس کے زندگی گزارنے کے فلسفے نے اسے اتنا ہی سمجھایا ہے۔ بچپن ہی سے بُری سوسائٹی اور پھر مادر پدر آزاد معاشرے نے ان کے اندر اخلاقیات کے نام پر کچھ نہیں چھوڑا ہوتا۔“
وہ لڑکی ہماری آپس کی باتوں سے یہ سمجھ رہی تھی کہ شایدہم اس کی آفر پرغور کر رہے تھے۔ میں نے اس کی ملتجی نظروں کو دیکھتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈالا میرا ارادہ اسے چند روپے دے کر اپنی جان چھڑانے کا تھا۔ مگر جیب میں پڑی ہوئی پاﺅ بھر چرس سے میرا ہاتھ ٹکرایا۔ یہ چرس میں نے ضائع کرنے کے بہانے اپنی جیب میں رکھ چھوڑی تھی مگر بعد میں میرے ذہن سے نکل گیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے میں نے سوچا کہ یہ اس کے حوالے نہ کروں، لیکن پھر خیال آیا کہ میرے نہ دینے سے اس نے کون سا توبہ کر لینا ہے میں نے تو ویسے ہی ضائع کرنی ہے، وقتی طور پر سہی اس کا دل خوش ہو جائے گا۔ میں نے چرس کا پیکٹ نکال کر اس کی جانب بڑھا دیا۔
"What is this?" وہ مستفسر ہوئی۔
"Hash" میں مختصراً بولا۔
”آپ میرے ساتھ مذاق کررہے ہیں۔“ وہ بے یقینی سے بولی۔
”نہیں.... یہ حقیقت ہے آپ کھول کر دیکھیں۔“ اس نے پیکٹ لے کر کھولا اور حیرانی سے اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ چرس کی عادی تھی اور اسے خوب پہچان تھی۔ وہ میرے ساتھ لپٹتے ہوئے بولی۔
”اوہ.... اتنی چرس کے لیے تو میں پوری زندگی آپ کی خدمت کر سکتی ہوں۔“
”کیا کر رہی ہو۔“ میں نے خفت سے اسے پرے دھکیلا۔
”کک ....کیوں میں نے کیا غلط کر لیا۔“ وہ پریشان سے بولی۔
”غلط صحیح چھوڑو اور یہاں سے پھوٹنے کی بات کرو۔“ امجد جو کافی دیر سے خونی نظروں سے مجھے گھور رہا تھا، غصیلے لہجے میں بولا۔
”مگر .... یہ .... چرس.... پیسے....“وہ گڑبڑاسی گئی شاید اس کا خیال تھا کہ ہم اس سے چرس کے پیسنے لینا چاہ رہے تھے، ورنہ اتنی مقدار میں چرس بغیر کسی وجہ کے کوئی پاگل ہی کسی کے حوالے کر سکتا تھا۔
”چلو اسے سمجھانا مشکل ہے۔“ میں نے امجد کو بازو سے پکڑ کر کھینچا اور ہم دونوں اسے ہکا بکا چھوڑ کر جانان خان کی حویلی کی جانب روانہ ہو گئے۔
”بس کوئی خوب صورت لڑکی نظر آجائے تو رال ٹپک پڑتی ہے جناب کی۔ اب کیا ضرورت تھی پنگا بازی کی۔ اس کی زبان سے ہم ناواقف تھے تُم نے ضرور انگلش جھاڑنا تھی....اور دوسرا تُم نے اتنی زیادہ چرس اس کے حوالے کر دی، وہ اُلّو کی پٹھی ساری کی ساری آج ہی پھونکنے کی کوشش کرے گی اور جائے گی جان سے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے اس کے پاس یہ چرس کوئی آوارہ گروپ دیکھ لے۔ وہ اسے ذبح کرنے سے بھی نہیں چوکیں گے۔“
میں نے اسے جواب دینے کی کوشش نہ کی اور خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہا۔ موڑ مڑتے وقت میں نے پیچھے دیکھا تو وہ لڑکی اسی طرح اپنی جگہ پر کھڑی ہمیں دیکھ رہی تھی۔
جانان خان کی حویلی تک امجد کے کوسنے جاری رہے۔ چوکیدار نے ہمیں دیکھتے ہی سلام کہتے ہوئے دروازہ کھول دیا۔ ہم دونوں اس کمرے کی طرف بڑھ گئے جس میں ہمیں بے ہوشی کی دوا ملا قہوہ پلایا گیا تھا۔ شام کا وقت ہو گیا تھا۔ ہم آمنے سامنے چارئیوں پر بیٹھ گئے۔
”میرے ذہن میں تو ایک اور پلان آیا ہے۔ جانو۔“
”کیا؟“ میں مستفسر ہوا۔
”کیوں نا.... ہم چودھری اکبر کو راستے میں روک کو اغوا کرنے کی کوشش کریں جس طرح دگن میں طوفان خان کو اغوا کیا تھا۔“
”ماجے میاں پہلی بات تو یہ ہے کہ طوفان خان آخرتک یہ نہیں سمجھ سکا تھا کہ ہم اس کے خلاف کیا کرنے والے ہیں کیوں کہ بہ طور دشمن وہ ہم سے ناواقف تھا ورنہ اتنی آسانی سے کبھی بھی قابو نہ آتا۔ دوسرے وہ اکیلا تھا اور اس بزدل نے تو پانچ چھے باڈی گارڈ ہر وقت اپنے ساتھ لگائے ہوتے ہیں اور اسے راستے میں روکنے کا نتیجہ صرف مقابلے کی صورت میں نکلے گا۔ جس میں اسے زندہ پکڑنا کار ِمحال ہو گا.... اور سب سے بڑی بات یہ کہ چودھری ہماری صورتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس وجہ سے تمھارا یہ پلان بالکل ناقابل قبول ہے۔“
”تو پھر حویلی میں گھسنے کی کوشش کرنا پڑے گی ورنہ اس کے علاوہ تو کوئی طریقہ نہیں ہے۔“
”ہاں اب تم نے صحیح کہا۔“میں اس کی تائید کی۔ ”اس کے علاوہ اور کوئی بھی صورت ان حالات میں قابلِ عمل نہیں ہے۔“
”مگر حویلی میں گھسنا بھی تو کافی مشکل نظر آرہا ہے اور اگر ہم اچانک پن حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے تو شاید چودھری بھاگ جائے۔ یوں بھی وہ قلعہ بند ہوں گے اور اپنے گھر کے چپے چپے سے واقف۔ جبکہ ہمیں تو یہ بھی پتا نہیں کہ اس کے گھر میں کمرے کتنے ہیں۔“
” اس بارے جانان خان سے مشورہ کرتے ہیں شاید کوئی مناسب صورت نکل آئے۔“
میں نے کہا اور وہ کھڑا ہو گیا....
” پھر ابھی چلیں۔ کیوں کہ میں چاہتا ہوں ہمیں آج رات ہی اپنا کام ختم کر لینا چاہئے۔“
”ماجے !....میں تم سے بھی زیادہ بے چین ہوں مگر میں نہیں چاہتا کہ ہم تیزی میں درستی بھول جائیں۔ اس مرتبہ اگر چودھری ہم سے بھاگ گیا تو شاید زندگی بھر نہ ملے۔“ مگر امجد خاموش رہا ہم جانا ن خان کے کرے کی طرف بڑھ گئے۔
جانان خان کمرے میں جاگیردار خان سے گپ شپ کرتا ہوا ملا۔ ہمارے اندر داخل ہوتے ہی وہ ”پخیر“ کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
ہم مصافحہ کرکے بیٹھ گئے۔
اس نے بیٹھتے ہی پوچھا۔”سنا ﺅ بھئی کیا رہا؟“
”حویلی دیکھ لی ہے۔ اب آپ سے مشورہ کرنے آئے ہیں تاکہ کوئی حتمی لائحہ عمل طے کر سکیں۔“
”ضرور ضرور ، کیوں نہیں۔ آپ صورتِ حال کی وضاحت کریں تاکہ مجھے مشورہ دینے میں آسانی رہے۔“
”ملک صاحب....!بات صرف اتنی ہے کہ ہم چودھری کو زندہ پکڑ نا چاہتے ہیں۔ جبکہ اس کی حویلی میں ہمیں کافی سخت پہرہ نظر آیا ہے اور اندر گھسنے کی صورت میں اندیشہ ہے کہ دو بدو مقابلہ کی نوبت آجائے گی۔ جس کے نتیجے میں چودھری کا زندہ ہمارے ہاتھ آنا کچھ مشکل سا لکتا ہے۔ بلکہ ایسی صورت پیش آنے پر ان پر قابو پالینے کے چانس بھی پچاس فیصد ہیں۔ دوسرا اگر ہم اسے راستے میں روک کر پکڑنے کی کوشش کریں تب بھی بات نہیں بنے گی کہ ایک تو وہ ہمیں شکل سے پہچانتا ہے اور اس کے علاوہ اس کے ساتھ چار پانچ باڈی گارڈز بھی ہوتے ہیں تو یہاں بھی وہی صورتِ حال در پیش ہونے کا خطرہ ہے۔ کافی دیر مغز ماری کرنے کے بعد ہم نے آپ سے رہنمائی لینے کی بابت سوچا ہے،اس ضمن میں آپ کہیں اس سوچ میں نہ پڑ جانا کہ ہمیں آپ کی جسمانی طور پر کوئی مدد چاہئے۔ ہمیں تو بس کسی مناسب مشورے کی احتیاج ہے۔“
”برادر!.... اپنی مدد کی پیش کش میں اس سے پہلے بھی کر چکا ہوں اور دوبارہ بھی یہی کہوں گا کہ میں اور میرے بندے بالکل حاضر ہیں، لیکن اس میں صرف اتنی قباحت ہے کہ چودھری کے خلاف آپ ہمیں صرف رات کو استعمال کر سکتے ہیں۔کھلم کھلا اس کے خلاف کسی بھی کارروائی میں آپ کے شانہ بشانہ نہیں لڑسکتے کیوں کہ ایسا کرنے کی صورت میں ملک دلشاد خان اور سبز علی خان جن کے ساتھ چودھری کے اچھے تعلقات ہیں ہمارے خلاف میدان میں اتر آئیں گے۔ ان کے نزدیک چودھری سے میری دشمنی کی وجہ کاروباری رقابت ہو گی۔ وہ دونوں بھی اسی کاروبار میں ملوث ہیں اور آج اگر میں چودھری کو راستے سے ہٹانے کا اقدام کر سکتا ہوں تو کل کلاں ان کے خلاف بھی اس قسم کی کوئی کارروائی کر سکتا ہوں حالانکہ میں ان سے ڈرتا نہیں ہوںلیکن پھر بھی ان کی مخالفت میرے لیے چھوٹے موٹے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔“
”ملک صاحب .... آپ موضوع سے ہٹ گئے ہیں۔“ میںنے کہا۔” یہ ساری بحث ہم کر چکے ہیں اور ہمیں آپ کی مجبوریوں کا بھی احساس ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر ہمیں آپ کی ضرورت ہوتی تو ہم قطعاً نہ کتراتے مگر آپ کی مدد حاصل کر کے بھی ہم اسے صرف قتل کرنے میں ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جبکہ ہمارا ارادہ اسے زندہ پکڑنے کا ہے۔ آپ کوئی مناسب ترکیب بتائیں، کوئی اچھا سا مشورہ دیں اور بس۔ باقی ان شاءاﷲ ہم خود اس سے نبٹ لیں گے۔“
وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ چند لمحے کمرے میں خاموشی چھائی رہی اور پھر اس خاموشی کو جانان خان کی آواز نے ہی توڑا۔
”جہاں تک میرا اندازہ ہے چودھری کے تقریباً سات یا آٹھ بندے ہیں۔ گھر سے باہر نکلتے وقت اس کے ساتھ پانچ چھے بندے موجود رہتے ہیں اس کا مطلب ہے اس کی غیر موجودی میں اس کی حویلی میں زیادہ سے زیادہ دو بندے حاضر ہوتے ہیں اور ان سے آنکھ بچا کر اگر آپ لوگ حویلی میں گھس جاﺅ اور چودھری کے کمرے میں چھپ کر بیٹھ جاﺅ تو اس پر قابو پانا قطعاً مشکل ثابت نہیں ہو گا۔ اب اس کی غیر موجودی میں آپ اس کے گھر میں اس کے ملازمین کی نظر بچا کر کیسے داخل ہوتے ہیں یہ آپ کی اپنی صوابدید ہے۔“
”بات تو پھر بھی وہیں کی وہیں رہی.... آخر بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔ ہم اگر اس کے بندوں کو ہلاک کر کے اندر چھپتے ہیں تو چودھری واپسی پران کی گمشدگی کو محسوس کرتے ہی چوکنا ہو جائے گا۔“
”اس کا بھی ایک طریقہ ہے“۔ وہ کسی کہنہ مشق استاد کی طرح بولا۔ ”مگر اس میں اخلاقی قدروں کی قربانی دینی پڑے گی۔“
”میں سمجھا نہیں؟“
”دیکھو عمر جان.... عورت ہمیشہ مردوں کی کمزوری رہی ہے۔ بڑے بڑے عقلمندوں کو یہ ہوش و خرد سے بیگانہ کر دیتی ہے۔ اگر تم کوئی ایسی عورت تلاش کر سکتے ہو جو چودھری کے ملازمین کو چند لمحوں کے لیے ڈیوٹی سے غافل کر دے تو تمھارا کام آسان ہو جائے گا۔“
”اوہ .... ویری گڈ۔“ میری زبان سے بے ساختہ نکلا۔ ”واقعی آپ سرداری کے لائق ہیں۔ بہت خوب یہ ایسی تجویز ہے کہ ہمارا دماغ کبھی بھی اس تک رسائی حاصل نہ کر سکتا۔“
میرے تعریفی جملے سنتے ہوئے جانان خان کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ جاگیر دار کہنے لگا۔
”پرسوں ملک امجد خان کے بیٹے کی شادی ہے اور چودھری لامحالہ اس میں شرکت کے لیے جائے گا تم پرسوں تک کوئی عورت تلاش کر لواور اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو۔“
”گڈ ....۔“ میں کھڑا ہوگیا۔ ”ہم اب چلتے ہیں، چلو امجد۔“
”کھانا کھا کر چلے جاتے۔“ جانان خان نے مشورہ دیا۔
”نہیں.... کھانا ان شاءاﷲ واپسی پرکھائیں گے۔“ میں نے باہر کی طرف قدم بڑھا دیئے امجد نے میرا ساتھ دیا تھا۔
”کچھ مجھے بھی تو پتا چلے کہاں چل دیئے؟“ کمرے سے نکلتے ہی امجد مستفسر ہوا اورمیں نے مختصر لفظوں میں اسے ساری بات بتا دی۔
”یار.... مشورہ تو اچھا ہے مگر بات کچھ معیوب ہے۔“
”ہم شریف زادی تھوڑی ان کے پاس بھیجیں گے؟“
”مگر ایسی لڑکی آئے گی کہاں سے؟“
”یار میرا ارادہ اسی لڑکی کو استعمال کرنے کا ہے ....جسے تھوڑی دیر پہلے میں نے پاﺅ بھر چرس دی تھی۔“
”اب تک وہ تمھارے ذہن سے نہیں نکلی۔“
”اچھا دفع کرو اسے .... تم بتاﺅ کس کو بھیجیں۔“
”اس کردار کی کئی مل جائیں گی۔“
” شاید وہ ہمارے ساتھ مخلص نہ ہوں۔ جبکہ اِس پر ہمارا بہت بڑا احسان ہے۔ امید ہے و ہ ہمیں دھوکا نہیں دے گی۔“
”اچھا ملک صاحب !....وہی سہی مگر سوچ لو مجھے اچھا نہیں لگ رہا اور دوسرا وہ ملے گی کہاں؟“
”بازارکا چکر لگاتے ہیں شاید مل جائے۔“ میں امید بھرے لہجے میں بولا اور امجد سرہلا کر رہ گیا۔ ہم اسی راستے پر چل پڑے جہاں ہمیں وہ لڑکی ملی تھی۔
” ویسے یہ وقت مناسب نہیں ہے۔ اس اندھیرے میں ہم اسے کہاں ڈھونڈتے پھریں گے۔ لاہور یا کراچی کا بازار تو ہے نہیں کہ روشنی ہو۔“
” بازار میں اچھی خاصی روشنی ہوتی ہے۔ پیٹرومیکس کے جلنے اور جنریٹروں سے جلائی گئی ٹیوب لائیٹوں کی روشنی میں ہم اسے پہچان لیں گے۔“
”تم تو خیر اسے اندھیرے میں بھی پہچان لو گے۔ آخرجناب کو اس سے گلے ملنے کا شرف حاصل ہو چکا ہے۔“ اس نے مجھے چھیڑا۔
”بکواس کرنا کوئی تم سے سیکھے۔“
”کیوں غلط کہا ہے؟“وہ مسکرایا۔ مگر اسے جواب دینے کی بجائے میںارد گرد نگاہ دوڑانے لگا ہم بعینہ اسی جگہ پہنچ چکے تھے جہاں وہ ہمیں ملی تھی۔ اس جگہ روشنی کا کوئی بندوبست نہیں تھا اور ہم شاید اسی رو میں آگے بڑھ جاتے مگر اچانک راستے کے بائیں جانب ایک سرخ نقطہ چمکتا ہوا نظر آیا۔
”ماجے !....اس طرف کوئی سگریٹ نوشی میں مصروف ہے۔“
”چلو۔“وہ اسی طرف مڑ گیا۔ سگریٹ پینے والا جو بھی تھا اس نے ہماری آواز سن کر کسی قسم کے ردِعمل کا اظہار نہیں کیا تھا۔ میں نے جیب سے پنسل ٹارچ نکال کر اس سمت جلائی تو خوشی کے ساتھ ہمیں حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ وہی لڑکی درخت کے تنے سے ٹیک لگائے سگریٹ نوشی میں مصروف تھی اور یہ کہنے کی تو غالباً ضرورت نہیں کہ وہ سگریٹ چرس کے بھرے ہوئے تھے۔ اپنی پسندیدہ چیز ملنے کے بعد اس نے مزید دائیں بائیں پھرنا پسند نہیں کیا تھا اور وہیں بیٹھ کر اپنی حسرتیں پوری کرنے لگی تھی۔ ہمارے قریب پہنچنے کا بھی اس نے کوئی نوٹس نہیں لیا تھا اور اسی انداز میںبیٹھی رہی تھی۔
”ہیلو گڈ گرل۔“ میں نے گفتگو کی ابتداءکی۔
”کون؟“ اس نے نشے سے بوجھل آنکھیں اٹھائیں۔
”یہ ہم ہیں۔“ میں نے ٹارچ کا رخ اپنے چہرے کی طرف کیا۔
’یو ....سویٹ بوائے۔“ وہ کھڑے ہو کر مجھ سے لپٹ گئی۔ ”مجھے پتا تھا تم ضرور واپس آﺅ گے۔“
میں نے نری سے اس کی گرفت سے آزاد ہو کر کہا۔
”اچھا.... وہ کیسے۔“
”بس میرا دل کہہ رہا تھا۔“ اس نے ایک دفعہ پھر مجھ سے لپٹنے کی کامیاب کوشش کی۔
”اچھا اب اس سے ملو۔“ میں نے اسے دوبارہ خود سے علاحدہ کر کے امجد کی طرف متوجہ کیا۔
”اوہ.... سوری۔“ اس نے امجد کی طرف مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔”ان پر تو میری نظر ہی نہیں پڑی تھی۔“
”ہاں جانو کی موجودی میں مَیں خاک نظر آتا۔“ امجد اردو میں بولا۔
”کیا کہا؟“ وہ مستفسر ہوئی۔
”میں نے کہا۔ ”تھینک یو۔“ امجد مسکرایا۔
”آپ کا بھی بہت بہت شکریہ۔“ اس نے بھی جوابی مسکراہٹ اچھالی۔
وہ لہجے اور انداز سے بالکل نارمل دکھائی دے رہی تھی۔ یوں بھی چرس کا نشہ پینے والے کی عقل کو افیون، ہیروئن یا کو کین کی طرح خبط نہیں کرتا۔ بلکہ کہنے والوں سے تو یہاں تک سنا ہے کہ شراب اور بھنگ کا نشہ بھی چرس سے زیادہ ہوتا ہے۔ بہ ہر حال ان خرافات سے ا ﷲ تعالیٰ کی ذات نے آج تک محفوظ رکھا ہے اس لیے اس بارے میری معلومات واجبی سی ہیں۔ البتہ اس وقت اس لڑکی کی عادات واطوار میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جس سے پتا چلتا کہ وہ نشے میں ہے۔
”اچھا ہم تمھیں لینے آئے ہیں۔“
”ہاں چلو۔“ میرا ہاتھ تھام کر اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ یا جھجک کے میرے ساتھ قدم بڑھادئےے۔ اس کے پُراعتماد انداز نے مجھے حیرت زدہ کر دیا تھا۔ مگر بعد میں سوچنے پر مجھے اس کا یہ عمل اتنا حیران کن نہ لگاکیوں کہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کے چھننے کا اسے کوئی افسوس ہوتا۔ وہ کوئی مشرقی لڑکی تو تھی نہیں کہ اپنی عزت و عصمت کا خوف کرتی۔ دولت سے وہ قبیل ویسے تہی دامن ہوتی ہے۔ لے دے کے ایک چرس ایسی چیز تھی جو اس کے نزدیک قیمتی تھی مگر وہ ہم خود اس کے حوالے کر چکے تھے تو چھین لیے جانے کا ڈر کیسا؟
تھوڑی دیر بعد ہم جانان خان کی حویلی میں پہنچ گئے تھے۔ دربان نے اسے دیکھتے ہوئے معنی خیز انداز میں سرہلاتے ہوئے دروازہ کھول دیا۔
”جانان خان کو بتلا دینا کہ ہم واپس پہنچ گئے ہیں۔“ میں نے دربان کو بتلادیا اور اس نے اثبات میں سرہلانے پر اکتفا کیا۔
لڑکی کو لیے ہم سیدھے مہمان خانے میں پہنچے کمرے کے اندر ٹیوب لائٹ جل رہی تھی جو جنریٹر کی مرہون منت تھی۔جنریٹر کے چلنے کی ہلکی ہلکی آواز ہمارے کانوں میں آرہی تھی وہ اس وسیع وعریض حویلی کے کسی کونے میں رکھا گیا تھا۔ ورنہ نزدیک ہونے کی صورت میں جنریٹر کی آواز کانوں کو خاصی ناگوار گزرتی ہے۔
”بیٹھو۔“ میںنے چارپائی کی طرف اشارہ کیا اور وہ آہستہ سے بیٹھ گئی۔ اب تک اس نے ہمارے مقصد کے متعلق استفسار نہیں کیا تھا کہ ہم کیوں اسے ساتھ لے آئے تھے اور اس کا مطلب یہی تھا کہ اس نے اپنے طور پر کوئی مطلب اخذ کیاہوا تھا۔ وہ جینز کی پتلون اور ہلکے سرخ رنگ کی شرٹ میں ملبوس تھی۔ اس کے لباس کی حالت دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا تھا کہ اسے پانی کی صورت دیکھے عرصہ بیت چکا ہے اور یہی وجہ تھی کہ اس لڑکی کے بدن سے کافی ناگوار سی بواٹھ رہی تھی۔
”میرا نام جان ،اوراس کا امجد ہے۔ آپ کا نام ؟“
”آپ مجھے لزا کہہ سکتے ہیں۔“
”اچھا مس لزا سب سے پہلے تو آپ ایسا کریں کے نہا لیں اس کے بعد کھانا کھائیں گے۔“
”مم.... میں ایسے ہی ٹھیک ہی ہوں۔“ وہ گھبرا گئی۔
”ٹھیک کدھر ہو، آئینہ دیکھا ہے.... بھوت نظر آرہی ہو۔“
”مم.... مگر نہا کر.... پہنوں گی کیا؟“ اس نے جان چھڑانا چاہی۔
”کپڑوں کا بندوبست ہو جائے گا۔“میں نے اسے بازو سے پکڑ کر باتھ روم کی طرف دھکیلا اور وہ مرے مرے قدموں سے باتھ روم کی طرف بڑ ھ گئی۔ اس کے باتھ روم میں گھستے ہی میں نے امجد کو کہا۔
”تم بیٹھو میں ابھی آیا۔“
”کہاں جارہے ہو؟“
”لزا کے لیے کپڑوں کا بندوبست کرنے۔“
”بازار جاﺅ گے؟“
”نہیں .... جانان خان سے کہتا ہوں۔“ میں باہر کی طرف چل پڑا مگر اس سے پہلے کہ میں کمرے سے نکلتا جانان خان ”السلام علیکم“ کہتے ہوئے جاگیردار کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوا۔
”وعلیکم السلام.... آئیں ملک صاحب میں آپ کی طرف ہی جارہا تھا۔“
”حکم کرو۔“ وہ بشاشت سے بولا۔
”زنانہ شلوار قمیص چاہیے تھی۔“
”خیر تو ہے۔“ وہ معنی خیز مسکراہٹ سے بولا۔
”ہاں بس ایک لڑکی تو ہم پکڑ لائے ہیں مگر وہ ہے غیر ملکی اب اسے اپنے علاقے کی عورت کا روپ دینا ہے۔“
”شلوار قمیص تو مشکل ہے۔ البتہ میں مقامی لباس لے آتا ہوں۔“ وہ کمرے سے نکل گیا۔
”عمر جان صاحب!.... یہ عورت کدھر سے مل گئی؟۔“ جاگیردار امجد کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گیااور میں نے مسکراتے ہوئے اسے لزا کے ملنے کی کہانی سنا دی۔
”اسی لیے ملک صاحب کی تجویز سنتے ہی آپ عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی تلاش میں چل پڑے تھے؟“
ملک جانان خان جلد ہی کپڑوں کے بنڈل کے ساتھ لوٹ آیا۔ گلابی رنگ کا گھگرا جس پر سبز اور سفید کشیدہ کاری کی گئی تھی اس کے ساتھ اسی رنگ کی شلوار اور دوپٹا مجھے کافی خوب صورت لگا۔
کپڑوں کا بنڈل اس سے لے کر میں باتھ روم کے د روازے کی طرف بڑھ گیا۔
”لزا یہ کپڑے لے لو۔“ میں نے دروازے پر دستک دے کر اسے آواز دی اور خود دروازے سے تھوڑا ساہٹ کر کھڑہوا گیا کیوں کہ مجھے پتا تھا کہ اس نے دروازہ کھول دینا ہے اور وہی ہوا جس کی مجھے امید تھی۔
”دے دو۔“ اس نے مکمل دروازہ کھول دیا۔
میں نے اس کی طرف دیکھنے سے گریز کرتے ہوئے اندازے سے کپڑے اس کی جانب بڑھا دیئے اور پھر واپس امجد پارٹی کے پاس آبیٹھا۔
جاگیردار جانان خان کو لزا کی بابت تفصیل بتلا رہا تھا جبکہ امجد نے ا س موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے گن کی صفائی کرنی شروع کر دی تھی۔ وہ اس منصوبے کے حق میں نہیں تھا مگر میری طرح اس کے ذہن میں بھی اس کا متبادل حل نہیں آرہا تھااس لیے خاموش تھا، البتہ خاموش تائید کے باوجود اس منصوبے پر عمل پیرا ہونے کے لیے اس نے کوئی خاص سرگرمی نہیں دکھائی تھی۔
چند لمحے بعد ہی لزا باتھ روم سے برآمد ہوئی۔ دوپٹے کو اس نے سکارف کی طرح گلے میں لپیٹ لیا تھا۔ اسے دیکھ کر جانان خان اور جاگیردار حیران رہ گئے تھے بلکہ وہ کیا خود ہمیں بھی حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔ ان کپڑوں میں وہ اتنی دلکش پیاری اور پُرکشش لگ رہی تھی کہ اگر ہم اس کا دوسرا روپ نہ دیکھ چکے ہوتے تو کبھی بھی اسے اس منصوبے میں استعمال کرنے کی کوشش نہ کرتے۔
”او ہلک دا خوڈیراخکلی دے۔“(او لڑکے یہ تو بہت خوب صورت ہے)جانان خان کے منہ سے بے ساختہ نکلا اور میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی وہ خراماں خراماں چلتے ہوئے میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئی اور ہولے سے بولی۔
” میں کیسی لگ رہی ہوں جان؟“
”بہت اچھی اور بہت خوب صورت۔“ میںنے صاف گوئی سے کہا۔
”شکریہ۔“ کہتے ہوئے اس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی۔
”کھانا منگواﺅں....؟ بھوک لگی ہے یا نہیں؟۔“ میں مستفسر ہوا۔
”کل صبح چائے کے ساتھ ایک ڈبل روٹی کھائی تھی۔“ اس نے پیٹ پر ہاتھ پھیرا۔
”ملک صاحب کھانا تومنگوالو۔“ میں جانان خان ے مخاطب ہو ا۔
”جاگیردار .... کھانا لے آﺅ....میں بھی یہیں کھاو¿ں گا۔“ مخاطب وہ جاگیر دارکو تھا مگر اس کی نظریں لزا کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔
جاگیر۔ ”جی خان جی۔“ کہہ کر چلا گیا۔
”اس سے آپ نے بات کرلی ہے۔“ اس کا اشارہ لزا کی جانب تھا۔
”نہیں۔“ میں نے نفی میں سرہلایا۔ ”مگر یہ آسانی سے مان جائے گی۔“
”ہوں۔“ کہہ کر وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ امجد بڑے انہماک سے کلاشن کوف کی صفائی میں مصروف تھا۔ میں بھی خاموشی سے جاگیردار کی واپسی کا انتظار کرنے لگا۔
لزا زیادہ دیر خاموش نہ رہ سکی اور ہولے سے بولی۔
”آپ کتنے آدمی ہو....؟“
”کیا مطلب ؟“ میرے لہجے میں حیرانی تھی۔
” مطلب .... آپ یہی چار مرد ہو.... یا اوربھی ہیں؟“
ً”میں اب بھی آپ کی بات نہیں سمجھ سکا ہوں کہ ہماری تعداد سے آپ کا کیا تعلق۔“
”وہ .... وہ دراصل ....میں آپ کے ساتھ اس لیے آئی تھی کہ میں نے سمجھا آپ صرف دو آدمی ہو ،جبکہ یہاں لگتا ہے لوگوں کی کافی تعداد ہے اور میں اکیلی۔ کیسے....؟“ اس نے بات ادھوری چھوڑدی مگر میں اس کے مفہوم سے پوری طرح آگاہ ہو گیا تھا اور یہ آگاہی نامہ میرے لیے فقط شرمندگی کا باعث ہی بن سکا تھا امجد نے بھی عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھا۔
میں جلدی سے بولا۔”نہیں نہیں لزا ایسی کوئی بات بھی نہیں ہے۔“
مگر اسے یہ باور کرانا بہت مشکل تھا کہ ہم اسے کسی مذموم مقصد کے لیے اپنے ساتھ نہیں لائے تھے۔ اس نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی تھی اور جس تہذیب کی وہ پرورُدہ تھی اس تہذیب میں عورت اور مرد کا صرف ایک ہی رشتا تھا اور وہ تھا جسمانی تعلق کا رشتا۔ جبکہ ہمارا معاشرہ عورت کو کئی پاکیزہ رشتوں کی صورت میں ہمارے سامنے لاتا تھا۔ جس کی ہر صورت ہمارے لیے قابل احترام، مقدس اور قابل عزت تھی۔ اس نے جس خدشے کا اظہارد بے الفاظ میں کیا تھا وہ اس بات کا مظہر تھا کہ اس کم عمری میں اسے کافی تلخ تجربات ہو چکے تھے۔
”کیا مطلب.... ایسی کوئی بات نہیں ؟“ اب حیرانی ہونے کی باری اس کی تھی۔
”پہلے کھانا کھالیں.... پھر بتاتا ہوں۔“ جاگیردار کو کھانے والے برتنوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر میں بولا ،وہ اثبات میں سرہلا کر رہ گئی تھی۔ ایک دوسرا ملازم بھی جاگیردار کے ہمراہ تھا۔ کھانے والے برتن ٹیبل پر رکھ کر وہ دونوں باہر نکل گئے تھے، جاگیر دارخا ن بھی جانان خان کے احترام میں ہمارے ساتھ کھانے میں شریک نہیں ہواتھا۔
کھانے کے دوران جانان خان مستفسر ہوا۔
”یہ لڑکی آپ سے کیا پوچھ رہی تھی؟“
لزا چونکہ انگریزی میں بات کرتی رہی تھی اس لیے جانان خان کے پلے کچھ نہیں پڑا تھا۔ امجد اور میں بھی کوئی اتنی اچھی انگلش نہیں بول سکتے تھے بس گزارے لائق سمجھ بول لیتے تھے۔ اسی طرح لزا کو بھی انگلش پر اتنا عبور نہیں تھا، نامعلوم اس کی مادری زبان کون سی تھی، لیکن جانان خان تو اس معاملے میں بالکل کورا تھا۔
”یہ پوچھ رہی تھی کہ ہم اس سے کیا کام لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔“ میں بات کو گول مول کیا۔
”تو پھر آپ نے کیا بتلایا؟“ اس نے اشتیاق سے پوچھا۔
”فی الحال تو کچھ نہیں بتلایا۔ کھانے کے بعد یا پھر کل صبح اس سے تفصیل سے گفتگو کریں گے۔“کھانا کھانے کے بعد ملازم چائے لے آیا چائے پی کر میں نے لزا سے پوچھا....
”تمھیں مزید کوئی چیز درکار ہے؟“
”اگر سگریٹ مل جاتے؟....اس کے ساتھ تھوڑی سی چرس بھی۔“
”کیا؟“ اس کی بات نے مجھے حیران کر دیا تھا۔ ” پاﺅ بھر چرس کا کیاہوئی ؟ “
”وہ میںساتھ لیے تھوڑی پھر سکتی ہوں....؟وہ تو میں نے اسی درخت کے ساتھ ایک مناسب جگہ پر چھپا دی تھی۔“
”ملک صاحب !....سگریٹ اور چرس مل جائے گی۔“
”کیوں نہیں.... یہ لو۔“ اس نے گولڈ لیف کی ڈبی میری جانب بڑھائی اس میں چرس سے بھرے سگریٹ موجود ہیں۔“
ڈبی لے کر میں نے لزا کی طرف بڑھا دی ....
”اس میں چرس سے بھرے سگریٹ موجود ہیں۔ اب تم آرام کرو صبح کام سے متعلق بات چیت کریں گے۔“ اسے کہہ کرمیں جانان خان سے مخاطب ہوا۔
”چلیں ملک صاحب تاکہ یہ آرام کرسکے۔“
”ہاں.... ہاں کیوں نہیں۔“ وہ اٹھ گیا۔ جبکہ امجد میری بات سن کر اس سے پہلے کھڑا ہو گیا تھا۔
”جان!.... تم تو میرے ساتھ رہ جاﺅ نا۔“ لزالجاجت سے بولی۔
”نہیں لزا !....میں فی الحال آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتا اور کیوں نہیں رہ سکتا اس بارے پھر کبھی بات کریں گے۔ اب تم ہمیں اجازت دو اور خود بھی آرام کرو۔“
اسے ہکا بکا چھوڑ کر ہم باہر نکل آئے۔
جانان خان نے پوچھا۔”اب یہ کیا کہہ رہی تھی؟“
میرا جی چاہا کہ اس سے پوچھوں کہ وہ لزا میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے مگر پھر مصلحت آڑے آگئی۔میں نے بات کو گول مول کر دیا۔
”اب بھی وہ اس کام کے متعلق استفسار کررہی تھی جو ہم اس سے لینا چاہتے ہیں؟“
”تو بتاد ینا تھا ناں اسے۔“
”نہیں صبح بتلائیں گے تفصیل کے ساتھ۔“
وہ بولا۔ ”چلو جیسے تمھاری مرضی۔“ اس دوران ہم آرام گاہ میں پہنچ چکے تھے۔
میں نے کہا۔ ”ملک صاحب ہمیں بھی کوئی کمرہ دکھا دیں تاکہ تھوڑا آرام کرلیں۔“
”تھوڑی گپ شپ کر تے ہیں.... پھر سو جانا۔“ وہ مصر ہوا۔
” صبح گپ شپ ہو گی ان شا ءاللہ لگائیں گے۔ فی الحال ہم تھکن محسوس کررہے ہیں۔“ میں نے جان چھڑائی۔
” ٹھیک ہے ....آپ آرام کریں۔“ خلاف توقع وہ راضی ہوگیا۔”یہ ساتھ والا کمرہ خالی پڑا ہے۔“ اس نے اپنی آرام گاہ سے متصل کمرے کی جانب اشارہ کیا۔
ہم مصافحہ کر کے کمرے سے نکل آئے۔ دوسرے کمرے میں بھی لکڑی کی دو رنگین چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ بلکہ اس حویلی کے ہر کمرے میں مجھے اس طرح کی چارپائیاں اور ان کے اوپر بچھے ہوئے بستر دکھائی دیئے تھے۔ شاید جانان خان کے ہاں مہمانوں کی آمدورفت لگی رہتی تھی۔ ہم کمرے میں گھستے ہی چارپائیوں پر لیٹ گئے۔ امجد خلافِ توقع چپ تھا۔ پہلے تو میں نے سمجھا شاید جانان خان کی وجہ سے خاموش ہے مگر اکیلے ہونے کے بعد بھی اس نے کوئی بات نہیں کی تھی۔
”ماجے خیر تو ہے؟“ میں نے اس کی طرف کروٹ بدلی۔ ”کافی دیر سے چپ ہو؟“
”جانو!....میں اس ترکیب کے حق میں نہیں ہوں۔ میرا ضمیر اس پر بالکل راضی نہیں.... ایک معصوم لڑکی کو استعمال کرنا کہاں کی مردانگی ہے۔“
”اس کے علاوہ چارہ بھی تو کوئی نہیں۔ دوسرے ہم اسے کون سا موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ اسے صرف ایک خطرہ ہے جو اس کی نظرمیں شاید خطرے کی بجائے انجوائے منٹ ہو، وہ کوئی پارسا لڑکی تو ہے نہیں۔ سنا نہیں تھا کتنی بے باکی سے اس موضوع پر محو گفتگو تھی۔“
”کچھ بھی ہے.... اگر تم نے اسے استعمال کیا تو میں تمھارا ساتھ نہیں دے سکوں گا۔“امجد نے حتمی لہجے میں کہا اور میں حیرانی سے اس کے چہرے کی جانب تکتا رہ گیا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر29
ریاض عاقب کوہلر
”ماجے کیا ہو گیا ہے تمھیں؟....لزا کو یہاں لانے سے پہلے میں تمھیں یہ سب کچھ بتا چکا ہوں، اس وقت تو تُم نے اس قسم کی کوئی بات نہیں کی تھی۔“
”اس وقت بھی میں اس کے حق میں نہیں تھا، لیکن بعد میں غور کرنے پر تو یہ بات مجھے نہایت معیوب لگی۔“
”اس میں کون سی قباحت کی بات ہے۔ لزا کوئی باعصمت اور پردہ دار لڑکی تو ہے نہیں۔“
”یار!.... تم نے تو گنڈہ پوروں والی خو ہی بدل ڈالی ہے۔ چودھری کے غلیظ کتوں کے سامنے ایک لڑکی کو چارہ بنا کر پیش کر رہے ہو اور اس میں تمھیں قباحت نظر نہیں آرہی، تمھارے نقطہ نظر سے تو ہیرا منڈی کے سارے دلال بے قصور اور بر حق ہیں کیوں کہ وہ بھی تو آبروباختہ عورتیں ہی گاہکوں کو پیش کرتے ہیں۔“
”بکواس بند کرو۔“ میں چڑگیا۔ ”تمھیں ہمیشہ الٹی سوجھتی ہے۔“
” یہ بکواس نہیں ہے۔ تم سوچوتو سہی آخر ہم کیا کرنے جارہے ہیں۔ اپنی دشمنی میں ایک بے قصور لڑکی کواستعمال کرنا کہاں کی بہادری ہے۔ اب ہم اتنے عاجز ہو گئے ہیں کہ چودھری کے خلاف عورتوں کا سہارا لیں گے۔ کبھی نہیں میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔“وہ اپنی بات پر ڈٹا رہا۔
”تو.... کیا کریں؟“
”کچھ بھی کرو.... لیکن اصولوں پر سودے بازی نہیں ہو گی۔ چودھری کو ہم نے ڈھونڈ نکالا ہے، اس کی نگرانی کرتے رہیں گے۔ کبھی تو ایسا موقع ہاتھ آئے گا جب اس پر ہاتھ ڈال سکیں۔“
”اور اگر اس سے پہلے وہ غائب ہو گیا پھر؟“
”ہونہہ .... ایسے ہی غائب ہو جائے گا، کوئی جن بھوت ہے کیا ؟....اور بالفرض ایسا ہو بھی گیا تو پھر ڈھونڈ لیں گے۔ پہلے بھی تو وہ ہم سے چھپ کر ادھر آیا ہوا ہے۔“
”مگر مجھ سے مزید صبر نہیں ہو سکتا۔ میں چاہتا ہوں جلد سے جلد اس کے گندے وجود سے دھرتی کو پاک کردوں۔“
”میں تم سے بھی زیادہ بے چین ہوں.... لیکن بے صبری میں کام بگاڑ نا نہیں چاہتا۔ یاد ہے ناچچا فاضل نے کیا کہا تھا کہ ”اوباہلی کتی اندھے کو نگرے جیندی ہیے۔“(جلد باز کتیا اندھے بچے پیدا کرتی ہے) امجد نے سرائیکی کی مشہور کہاوت بیان کی۔
”پھر لزا کاکیا کریں؟“
”کرنا کیا ہے۔ صبح اس کاشکریہ ادا کر کے رخصت کر دیتے ہیں اور میں اس سے نکاح پڑھانے سے تورہا۔ شہیلا بی بی کافی بے چینی سے میری منتظر ہو گی، البتہ تم چاہو تو شیتل کا بہتر نعم البدل ہے وہ بھی کافرہ ہے یہ بھی مسلمان نہیں ہے اور نشے بازی کی لت بونس میں۔“
”بک بک اچھی کر لیتے ہو۔“ میںخفت سے ہنسا۔ ”تُم نے شیتل کو دیکھا نہیں ورنہ ایسا کہنے کی جرا¿ت کبھی نہ کرتے۔ ہندو ہونے کے باوجود اس نے اپنی عصمت پر کبھی حرف نہیں آنے دیا۔“
”اس کی برائی کے لیے اس کا ہندو ہونا کافی ہے۔“
”بالکل غلط ہے۔“ میں نے نفی میں سرہلایا۔ ”تُو نے سنا نہیں کہ کسی کافر سے نہیں بلکہ اس کے کفر سے نفرت کرو۔“
اس نے قہقہہ لگایا۔”اور اگر وہ کافر کی بجائے کافرہ ہو تو اسے گلے سے لگانے میں بھی کوئی قباحت نہیں۔“
”اس فالتو گفتگو کے بجائے اگر چودھری اکبر پہ قابو پانے کے لیے کوئی پروگرام تشکیل دیائے تو مناسب نہیں ہو گا۔“ میں نے اس فضول بحث سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔
”درست کہا، لیکن اس سے بھی مناسب یہ ہے کہ میں سو رہا ہوں اور تم بہ طور مالک کوئی اچھا سا منصوبہ سوچو۔“ یہ کہہ کر وہ بڑے آرام سے لیٹ گیا۔ میں نے بھی اس کی تقلید میں آنکھیں بند کر لیں، لیکن نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی لزا کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کا پروگرام میں نے ترک کرنا مناسب سمجھا شاید امجد نہ ہوتاتو میری نظر اس پہلو کی طرف نہ جاتی۔ چودھری کی دشمنی میں مَیں ایسا کام کرنے جارہا تھا کہ جس کے نتائج غلط نکلنے کی صورت میں مجھے پچھتانے کا موقع بھی نہ ملتا اور ہو سکتا ہے میرا ضمیرساری عمر مجھے ملامت کرتا رہتا۔ چودھری کو زندہ پکڑنے کے لیے میں رات گئے تک مختلف منصوبے بنا بنا کر انھیں رد کرتا رہا اور آخر میں ملک جانان خان سے دوبارہ اس موضوع پر بات چیت کرنے کا پروگرام بنا کر مطمئن ہو گیا وہ جہاں دیدہ شخص لازمی طور پر کوئی مناسب قسم کا مشورہ دے سکتا تھا۔
l l l
صبح ہم بہ مشکل حوائج ضرور یہ سے فارغ ہوئے تھے کہ جانان خان کی طرف سے بلاوا آگیا۔
”خان جی ناشتے پر آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔“ ملازم ہمیں یہ بتا کرباہر نکل گیا۔
”جانان خان کی مہربانیاں کچھ زیادہ نہیں بڑھ رہی ہیں۔“ امجد ملازم کی پشتو سمجھ گیا تھا۔
”صحیح کہا۔“ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”کل سے میں بھی اس کے انداز میں واضح تبدیلی محسوس کر رہا ہوں اور اس کی وجہ شاید لزا ہے۔“
”کیا مطلب ہے؟“ امجد کے لہجے میں حیرانی تھی۔
” بار بار لزا کے متعلق استفسار کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اسے لزاکی ذات میں کافی دلچسپی ہے۔“
”وہ تو خیر تمھیں بھی کافی ہے۔“ امجد مجھ پر چوٹ کرنے سے باز نہ آیا۔ اس دوران ہم جانان خان کے کمرے تک پہنچ گئے تھے اس لیے میں امجد کی بات کا جواب نہ دے سکا۔
جانان خان بے چینی سے ہمارا منتظر تھا۔ ہمارے سلام کا جواب خوش دلی سے دیتے ہوئے اس نے اٹھ کر ہم دونوں سے مصافحہ کیا اور ہمیں ساتھ لیے بیٹھ گیا۔
”عمر بھائی!.... رات کیسی گزری؟“
”اﷲ کا شکر ہے ملک صاحب.... بہت اچھی.... آپ سنائیں۔“
”اور امجد بھائی آپ کا۔“
”الحمد ﷲ.... دعا ہے آپ کی۔“
” عمر بھائی آپ کو ناشتے پر بلانے کا مقصد یہ ہے کہ ایک تو آپ چند دن کے مہمان ہیں۔ پھر چلے جائیں گے اور میں چاہتا ہوں آپ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارا جائے دوسرے ایک چھوٹی سی غرض بھی تھی میرا ارادہ تو گزشتہ رات ہی آپ کو یہ سب کچھ بتلانے کا تھا، مگر رات آپ تھکے ہوئے تھے اس لیے میں نے زحمت دینا مناسب نہ سمجھا۔ اب جو کچھ میں کہنے لگا ہوں آپ امجد بھائی کو بتا کر مشورہ کرلیں اور پھر مجھے دوپہر کے کھانے تک جواب دے دینا۔“
”ملک صاحب !....آپ حکم کریں ہمارے بس میں جو کچھ ہوا ہم ضرورکریں گے۔“
”اس لڑکی کو آپ صرف اسی کام کے سلسلے میں ہی لائے تھے نا؟ جس کا مشورہ میں نے دیا تھا۔“
”جی ہاں۔“ میں نہ سمجھنے والے انداز میں بولا۔
”اگر میں کہوں کہ اسے اس مقصد کے لیے استعمال نہ کریں تو کیاآپ میری بات مان لیں گے۔“
”کیوں نہیں۔“ میں نے جلدی سے کہا۔ ”مگر اس کا نعم البدل کیا ہو گا.... ہمارے پاس آج کا دن ہے اور اتنے قلیل عرصے میں ہم کوئی ایسی لڑکی نہیں ڈھونڈ سکتے جو ہمارے ساتھ لزا کی طرح مخلص ہو۔“
لزاکے متعلق اس کی دلچسپی کل سے صاف نظر آرہی تھی اور اس کے تمہید باندھنے سے ہی مجھے انداز ہو گیا تھا کہ وہ کیا کہنے والا ہے۔ مگر میں اس کے منہ سے یہ سب کچھ سننا چاہ رہا تھا۔
”ضروری تو نہیں کہ اس کے لیے کوئی لڑکی استعمال کی جائے۔ لڑکی کے بغیر بھی یہ کام ہو سکتا ہے۔“
”کیسے؟....یہی تومیں جاننا چاہ رہا ہوں“ میں نے اس کی بات میں دلچسپی لی۔
”کل شادی میں شرکت کی غرض سے چودھری لازماً جائے گا اور شادی کا ہنگامہ رات گئے ہی ختم ہو گا۔ دوسرے چودھری کا کھانا شادی والے گھر میں ہی ہو گا کیوں کہ مجھے اور میرے آدمیوں کوبھی کھانے کا دعوت نامہ ملا ہوا ہے۔ کل شام کو جب چودھری شادی کی تقریب میں الجھا ہوگا اگرہم گاڑی میں کھانا لے کر چودھری کے گھر جائیں اور اس کے گھر میں موجود محافظوں کو یہ تاثر دیں کہ یہ کھانا شادی کے گھرسے آیا ہے اور اس دوران ان محافظوں کی نظر بچا کر آپ دونوں وہیں چھپ جاﺅ تو کیسا رہے گا؟“
اس کا منصوبہ سن کر میں حقیقتاً خوشی سے اچھل پڑا ....
”اگر یوں ہو جائے تو کیا کہنے۔“
”اس کا مطلب ہے آپ میری تجویز سے متفق ہیں۔“ وہ جیسے خوشی سے کھل اٹھا۔
”بالکل.... اس سے اچھی تجویز ہو ہی نہیں سکتی۔“
”یعنی لزا اس منصوبے سے خارج ہو گئی، اب اس کا کیا کرو گے؟“ اس نے لزا کے متعلق میری رائے جاننی چاہی۔ مگر میں نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں میں اس کی بات لوٹائی۔
”آپ ہی بتائیں اس کاکیا کرنا چاہےے؟۔“
چند لمحے سوچنے کے بعدوہ بولا۔”عمر بھائی حقیقت یہ ہے کہ لزا مجھے پسند آگئی ہے اور میں مستقل اسے اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں اور یہ تو آپ کو پتا ہی ہو گا کہ میں کتنی آسانی سے اس کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہوں۔“
”ملک صاحب آپ کی بات بجا سہی مگر اس کا فیصلہ تو لزا خود کر سکتی ہے کہ آیا وہ آپ کے پاس رہنا چاہتی ہے یا نہیں رہنا چاہتی۔“
”اگر آپ مہربانی کریں تو اس سے یہ سب کچھ پوچھ کر مجھے بتلا سکتے ہیں کیوں کہ میں انگریزی نہیں جانتا۔ دوسرے آپ اسے میرے ساتھ رہنے کے فوائد بھی صحیح طریقے سے سمجھا سکتے ہیں۔“
”اتنا تو خیر ہم کر دیں گے اور شاید وہ مان بھی جائے۔ مگر آپ کو یہ پتا ہونا چاہیے کہ ایک تو وہ نشے کی عادی ہے دوسرے اس کا ماضی بھی کوئی اتنا صاف نہیں ہے۔ آگے آپ کی مرضی۔“
”مجھے وہ اپنی ہر خامی سمیت قبول ہے۔“
”جیسے تمھاری مرضی.... لزا کو جاگنے دو ہم اس سے بات کر لیتے ہیں۔“
”امجد سے تو مشورہ کر لو۔“
”اسے چھوڑیںآپ۔“
”چلو پھر لزا کے پاس چلتے ہیں شاید وہ جاگ گئی ہو۔“ جانان خان نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
”نہیں فی الحال آپ رہنے دیں ہم اکیلے میںاس سے بات کر لیتے ہیں۔“
”یہ بھی ٹھیک ہے لیکن مجھے اس کے فیصلے سے جلدی آگاہ کرنا۔“اور میں سرہلاتا امجد کو ساتھ لیے باہر آگیا۔
”یہ کیا آپ لوگ مسلسل لزا کے پیچھے پڑے تھے۔“ کمرے سے نکل کر امجد مستفسر ہوا اور میں ہنستے ہوئے بولا
عشق نے غالب نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
”کیا مطلب؟“ امجد کچھ نہ سمجھتے ہوئے بولا اور میں نے مختصراً اسے جانان خان سے ہونے والی گفتگو بتا دی۔
”ہاں یہ تجویز ٹھیک ہے۔“ وہ بھی جانان خان کے منصوبے سے متفق ہوگیا۔ ”کامیابی اور ناکامی تو اﷲ کے ہاتھ میں ہے مگر ہمارے ضمیر پر تو کوئی بوجھ نہیں پڑے گا ناں؟“
اور لزا کو جانان خان کے حوالے کر دینے کے بارے تمھاری کیا رائے ہے۔“
”اس بات کو لزا کی مرضی پر چھوڑ دو....ہم نے کوئی ٹھیکہ نہیں لیا بچھڑے ہوﺅں کو ملانے کا۔“اس دوران ہم لزا کے کمرے کے قریب پہنچ چکے تھے یوں تو جانان خان کی آرام گاہ سے اس کمرے کا فاصلہ اتنا زیادہ نہیں تھا مگرہم نہایت سُست روی سے چلتے ہوئے وہاں پہنچے تھے اس لیے میں نے امجد کو تمام تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے مستقبل کی منصوبہ بندی کرلی تھی۔
کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا، ہلکے سے دروازہ کھٹکھٹا کرہم اندر داخل ہوگئے امجد مجھ سے ایک قدم پیچھے تھا وہ تکیہ موڑ کر کمرے کے پیچھے رکھے دونوں ہاتھ گردن سے لپیٹے جانے کن خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔ ہمارے کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ جلدی سے اٹھ کر میری جانب بڑھی۔
”جان !....تم کہاں تھے۔ دیکھو کتنی دیر سے تمھاری منتظر ہوں؟“
اس کی پیش قدمی سے ہی مجھے اس کے ارادے کا پتا چل گیا اور حفظ ماتقدم کے طور پر میں نے جلدی سے مصافحے کے لیے ہاتھ اس کی سمت بڑھا دیا۔ میری اس حرکت پر ایک لمحے کے لیے اس کے چہرے کا رنگ متغیر سا ہوا مگر پھر خود پر قابو پاتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ تھام لیا۔
”رات کیسی گزری۔“ میں نے نارمل لہجے میں پوچھا۔
”بہت اچھی گزرتی اگر آپ میرے ساتھ ہی رہتے۔“ اس نے اپنا ہاتھ امجد کی طرف بڑھایا۔
میں اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔ ”بیٹھوتم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔“
”بولو۔“ وہ میرے ساتھ بیٹھ گئی۔
”لزا!.... ہم تمھیں جس مقصد کے لیے لائے تھے وہ پورا ہو گیا ہے۔ اب آپ ہماری طرف سے فارغ ہیں اگر جانا چاہتی ہیں تو جا سکتی ہیں۔ البتہ جس بندے کی یہ حویلی ہے اس کی خواہش ہے کہ آپ اس کے ساتھ ہی رہیں وہ آپ کی تمام ضروریات کو پورا کرتا رہے گا۔ ہم دونوں تو چونکہ خود اس کے مہمان ہیں اور شاید کل پرسوں تک یہاں سے چلے جائیں اس لیے آپ سے الوداع ہونے آئے ہیں۔ اگر ہمارے لائق کوئی خدمت ہو یا کسی چیز کی ضرورت ہو تو آپ بے تکلف بتا سکتی ہیں۔“
”حویلی کا مالک کون ہے؟“
”وہی .... جس نے کل ہمارے ساتھ بیٹھ کے کھانا کھایا تھا۔“
”آپ لوگوں نے کہاں جانا ہے اور اگر میں آپ کے ساتھ جانا چاہوں تو....؟“
”بہت مشکل ہے۔ کیوں کہ ہم دشمن دار لوگ ہیں اور ہمارے ساتھ رہنے سے آپ کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔“
”مجھے پتا ہے آپ مجھ سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔“ وہ مایوسی سے بولی۔ ”بہ ہر حال میں کچھ عرصہ تک یہیں رہنا چاہوں گی اگر اس کا رویہ میرے ساتھ اچھا رہا تو ٹھیک ہے ورنہ یہ زمین کافی وسیع ہے۔“
”او کے پھر ہمیں اجازت دو۔“ میں کھڑا ہوگیا۔ ”ہم نے اب کسی کام سے جانا ہے۔“ امجد نے بھی میری تقلید کی تھی اس کے تاثرات ظاہر کر رہے تھے کہ وہ میری باتوں سے متفق ہے۔
لزا نے بے دلی سے ہمیں الوداع کہا وہ ہمارے انداز کو دیکھتے ہوئے سمجھ گئی تھی کہ ہم اس سے جان چھڑانا چاہ رہے ہیں۔
وہاں سے ہم سیدھے جانان خان کے پاس پہنچے جو بے چینی سے ہمارا منتظر تھا۔ اسے لزا کے اثبات کی خوش خبری سنا کرہم اپنے کمرے میں آگئے اور اپنے منصوبے کو آخری شکل دینے لگے۔
l l l
سرخ رنگ کی ڈبل کیبن درمیانی رفتار سے چودھری اکبر کے مکان کی طرف بڑھ رہی تھی۔ جاگیردار ڈرائیو کر رہا تھا اور اس کے ساتھ شمع گل بیٹھا ہوا تھا۔ ہم دونوں چہروں پر ڈھاٹے لپیٹے گاڑی کے کیبن بیٹھے تھے۔ جبکہ عقبی حصے میں بھی دو ملازم سوار تھے ان کے ساتھ روٹیوں کا چھابہ اور تین دیگچے بھی پڑے ہوئے تھے چھابے پر بڑی سی چادر پڑی ہوئی تھی تاکہ روٹیاں گرد آلود نہ ہوں۔ تینوں دیگچوں میں نمکین ، میٹھے چاول اور دنبے کا روسٹ گوشت موجود تھا اور یہی مینو آج شادی والے گھر میں مہمانوں کو پیش کیا جانا تھا۔
گزشتہ رات ہم اکٹھے بیٹھ کر اس منصوبے پر تفصیلاً بحث کر چکے تھے۔ اس لیے ہر آدمی کو اپنا کام ازبر تھا۔
گاڑی چودھری کی حویلی کے سامنے رک گئی فرنٹ سیٹ پر جا گیردار کے ساتھ بیٹھے ہوئے شمع گل نے گاڑی سے باہر آ کر گیٹ کھٹکھٹانے کے لیے قدم بڑھائے مگر اس سے پہلے دروازے کی چھوٹی کھڑ کی کھلی اور ایک پہلوان نما شخص بر آمد ہوا اسے دیکھتے ہی میں نے پہچان لیا۔ یہ وہی موصوف تھا کہ جس وقت سب سے پہلے چودھری اکبر سے میری ہاتھا پائی ہوئی تھی تو یہ اس کے ساتھ موجود تھا اس کے علاوہ ایک اور پہلوان بھی اس وقت چودھری کے ساتھ تھا اور ان دونوں کو میں نے مار مار کر لمبا کر دیا تھا اور اسی خدشے سے کہ ان کا سامنانہ ہو جائے میں نے اورامجد نے اپنے چہروں کے گرد کپڑے لپیٹے ہوئے تھے۔
پروگرام کے مطابق شمع گل اس سے مستفسر ہوا۔
”گھر میں کتنے آدمی موجود ہو۔ ہم کھانا لے کر آئے ہیں۔“
پہلوان نے حیرانی سے پوچھا۔”کہاں سے؟“
”امجد خان کے گھر سے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ جو لوگ بارات میں کسی مجبوری کے باعث شرکت نہیں کر سکے ہیں ان کے گھروں تک کھانا پہنچایا جائے۔ اب جلدی سے بتاﺅ کہ یہاں کتنے افراد ہیں ہم نے اور جگہوں پر بھی جانا ہے۔“
”یہاں تو ہم دو آدمی موجود ہیں۔“
”دوسرا کدھر ہے۔“ شمع خان کے اچانک سوال پہ پہلوان بے ساختہ بولا۔
”وہ پچھلے مورچے میں کھڑا ہے۔“
”اچھا آپ برتن لے آئیں۔ لیکن خیال رہے میٹھے چاول، نمکین چاول اور روسٹ کے لیے علاحدہ علاحدہ برتن لانے ہیں۔“
پہلوان سرہلاتے ہوئے واپس مڑ گیا، تھوڑی دیر بعد ہی وہ تین مختلف برتن اور روٹیوںکے چھابے کے ساتھ لوٹ آیا۔گاڑی میں پیچھے بیٹھے ہوئے دونوں ملازموں نے جلدی جلدی اس کے برتن چاولوں اور روسٹ وغیرہ سے بھر دیئے۔
شمع گل نے ان دونوں ملازموں کوکہا۔ ”یہ کھانا بھائی صاحب کے ساتھ گھر کے اندر تک چھوڑ آﺅ کیوں کہ تمام برتن اکیلے لے جانااس کے لیے مشکل ہو جائے گا۔“
اور چونکہ یہ سب کچھ پہلے سے طے تھا اس لیے وہ بغیر کسی حجت کے ”جی اچھا“ کہہ کر گاڑی سے اترے اور پہلوان کے ساتھ چل پڑے۔ پہلوان رسماً بھی انکارنہ کر سکا۔ ان کے حویلی میں داخل ہوتے ہی ہم دونوں پھرتی سے گاڑی سے باہر آئے اور جاگیر دار کی سمت الوداعی ہاتھ ہلا کر دروازے کی جانب بڑھ گئے۔ حویلی کے اندر گھس کر ہم نے سامنے نگاہ دوڑائی پہلوان ہمیں ایک چھوٹے سے کمرے کی طرف بڑھتا دکھائی دیا جو شایدان کا کچن تھا۔ اگر ہم دوڑ کر اصل عمارت میں چھپنے کی کوشش کرتے تب بھی عمارت تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ کیوں کہ پہلوان کچن کے دروازے تک پہنچنے والا تھا اور اس کے علاوہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ دوڑنے سے ہمارے پاﺅں سے ہونے والی آہٹ سن کروہ پیچھے مڑ کر دیکھتا اور ہمارا سارا پلان فیل ہو جاتا اور ہمارے وہاں چھپنے کے لیے کوئی گنجائش بھی باقی نہ رہتی۔ ہم بجلی کی سی سرعت سے ایک فیصلے پر پہنچے اور گیٹ کے ساتھ موجود چھوٹے سے کمرے میں گھس گئے۔ یہ کمرہ چوکیدار کے لیے بنایا گیا تھالیکن عام کمرے کے برعکس یہ اونچا تھا اس کے دو پورشن اوپر نیچے بنائے گئے تھے گویا اندر سے یہ دو منزلہ تھا۔ اوپر والے پورشن پر چڑھنے کے لیے لکڑی کی ایک سیڑھی لگائی گئی تھی۔ نیچے ایک چارپائی پڑی تھی جس پر کھجور کے پتوں سے بنی ایک چٹائی بچھی ہوئی تھی اور ایک میلی سی چادر بھی پڑی ہوئی تھی۔ اس مختصر سے کمرے میں ہمیں کوئی ایسی جگہ نظر نہ آئی جہاں ہم کمرے میں گھسنے والے کسی شخص کی نگاہ سے چھپ سکتے۔ اوپر والا پورشن بھی اس لحاظ سے موزوں نہیں تھا۔ کمرے میں گھسنے والے نے لازماً ڈیوٹی کے لیے اوپر چڑھناتھا۔ لے دے کے دروازے کے کواڑ تھے جن کے پیچھے خود کو چھپانے کی کوشش کی جا سکتی تھی مگروہ کوشش بھی اس صورت میں کامیاب ہوتی کہ کمرے میں داخل ہونے والا بغیر دائیں بائیں غور کیے دوسری منزل پر چڑھ جاتا۔ اگر چارپائی کے اوپر ایسی چادر بچھی ہوتی جس کی وجہ سے کمرے میں داخل ہونے والے کو اس کے نیچے چھپا ہوا بندہ نظر نہ آ سکتا تو وہ ایک بہترین جگہ تھی لیکن بدقسمتی سے اس کے اوپر چٹائی بچھی تھی اور اس کے نیچے چھپنے والا بغیر کسی تردد کے نظر آسکتا تھا۔
میں نے دروازے کی درز سے جھانکا جانان خان کے دونوں ملازم پہلوان سے الوداعی مصافحہ کر کے رخصت ہو رہے تھے۔ ان کے دروازے سے باہر نکلنے تک پہلوان صحن میں کھڑا رہا۔ اس کے بعد یقینی طور پر اس نے اپنی ڈیوٹی پر پہنچنا تھا، گو اس پر قابو پانا ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں تھا مگر اس صورت میںہمارا پلان فیل ہو جاتا اور چودھری اپنے ملازموں کی غیر موجودی سے بدک بھی سکتا تھا۔
لیکن اس دن شاید ہماری قسمت عروج پر تھی کہ جونھی گاڑی کے سٹارٹ ہو کر چلنے کی آواز آئی پہلوان نے گیٹ میں موجود کھڑکی کی کنڈی اندر سے لگائی اور عمارت کے عقبی حصے کی جانب چل پڑا۔
وہ جیسے ہی میری نگاہ سے اوجھل ہوا میں نے آہستگی سے دروازے کا کواڑ کھول کر باہر جھانکا وہ حویلی کی پشت کی جانب مڑتا دکھائی دیا، میرے اندازے میں وہ اپنے ساتھی کو کھانے کی اطلاع دینے جارہا تھا۔ یہ چند لمحے ہمارے لیے غنیمت تھے ورنہ بعد میں ہم چوہے کی طرح اس کمرے میں پھنس جاتے۔
”امجد چلو۔“ اس کے عمارت کے پیچھے غائب ہوتے ہی میں نے تیز لہجے میں کہا اور ہم دونوں تیزی سے اندرونی عمارت کی طرف بڑھے۔ ہماری حتی الوسع کوشش یہی تھی کہ ہمارے پاﺅں کی آواز نہ نکلے اور ہم اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ ہم اندرونی عمارت کے قریب پہنچنے والے تھے کہ میرے کانوں میں پہلوان کی آواز آئی جو ساتھی کو کھانے کے لیے بلا رہا تھا۔ اس نے شاید مورچے کے اوپر چڑھنے کی زحمت گوارانھیں کی تھی کہ اس کی زور دار آواز ہمارے کانوں تک پہنچ رہی تھی حویلی کا طرزتعمیر مقامی تھا۔ چھوٹا سا برآمدہ عبورکر کے ہم اندر داخل ہوئے، ایک مختصرسی گیلری تھی جس کے دونوں جانب اور سامنے کی طرف کمروں کے دروازے نظر آرہے تھے۔ مجھے پتا تھا کہ ان کے سامنے والے کمروں کے ساتھ ملحق اور بھی بہت سارے کمرے موجود ہوں گے کیوں کہ مقامی لوگ کمرہ در کمرہ تعمیر کے عادی تھے۔ اس کی وجہ شاید اس سردی کی شدت کو کم کرنا ہو جو اس علاقے میں ریکارڈ پڑتی ہے۔
”اس منحوس کا کمرہ کون سا ہو سکتا ہے؟“ امجد نے برآمدے کے مین دروازے کے کواڑ بند کر دئےے۔
”جو کمرہ سب سے زیادہ پُر تعیش اور سجا ہوا ہو گا وہی اس کا ہو گا.... آخر چودھری ہے“۔ میںنے جیب سے پنسل ٹارچ نکال کر آگے بڑھ گیا۔ گو جس وقت ہم اندر داخل ہوئے تھے اس وقت ابھی تک سورج غروب نہیں ہوا تھا مگر عمارت کے اندر روشنی کا کوئی خاطرہ خواہ بندوبست نہیں کیا گیا تھا اس لیے گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔برآمدے کے مین دروازے کے ساتھ دوکھڑکیاں موجود تھیں جو بند تھیں ان کو کھولنے سے گیلری میں خاطر خواہ روشنی پھیل سکتی تھی مگرہم اس قسم کا کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔
تھوڑی دیر اندرونی عمارت میں گھومنے کے بعد ہی ہم نے چودھری کی خواب گاہ تلاش کرلی تھی لکڑی کا جہازی سائز بیڈ اور فرش پر بچھا ہوا ایرانی قالین دیکھتے ہی ہمیں یقین ہو گیاکہ وہ چودھری کی خواب گاہ تھی۔ وہاں چھپنے کے لیے سب سے بہترین جگہ بیڈ لگا، ہم اس کے نیچے گھس کر آرام سے لیٹ گئے تھے۔
”یہاں تک تو ڈن ہو گیا اب آگے کیا کرنا ہے؟“ امجد چارپائی کے نیچے لیٹتے ہی پوچھا۔
”ماجے اس کتے کے ساتھ جتنے بندے موجود ہیں یہ رحمن خیل کے ہیں اور میرے گھر کو جلانے میں یہ بھی برابر کے شریک ہیں۔چودھری کو گرفتار کرنے کے بعد ان میں سے ایک بھی نہیں بچنا چاہےے“۔
”میرخیال ہے ایک ادھ ہی پہرہ دیتا ہو گاباقی سو جاتے ہوں گے، کیوں کہ چودھری کو یہاں کسی سے خطرہ نہیں ہے۔“
” کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی ....ہو سکتا ہے تمام سو جاتے ہوں یہ بھی ممکن ہے تین چار آدمی بیک وقت جاگتے ہوں۔“
” ایک دفعہ چودھری پر قابو پالیں پھر دیکھا جائے گا۔“ امجد نے کہا اور ہم دونوں نے خاموشی سادھ لی۔ وقت تھم سا گیا تھا۔ سکینڈوں والی سوائی کی حرکت بھی اتنی سُست ہو گئی تھی گویا کوئی چیز اسے حرکت سے روک رہی ہو۔ میرا دماغ اس وقت عجیب و غریب خیالات کی آما جگاہ بنا ہواتھا۔ وہ وقت قریب آگیا تھا جس کا میں کافی عرصے سے منتظر تھا اپنے پیاروں کی صورتیںمیری میری نگاہوں میں گھومنے لگیں، سعدیہ ، عدنان، امی ابو، حاکم ، احمد، محمد جان، بھابی بھتیجے تمام کے ہنستے مسکراتے چہرے میری آنکھوںمیں پانی بھرتے گئے میں ان میں کسی کو بھی چودھری کے ظلم سے نہیں بچا سکا تھا، لیکن چودھری کو عبرت ناک انجام سے دو چار کر کے میں اپنے دکھتے ہوئے زخموں پر مرہم رکھ سکتا تھا۔
ہمیں اس بیڈ کے نیچے بہت سا وقت گزارنا پڑا وہ رات میری زندگی کی طویل ترین رات تھی اور پھر خدا خدا کر کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں چودھری کے کمرے سے باہر ہمیںبہت سے بندوں کی ملی جلی آوازیں سنائی دیں ہم نے بے ساختہ چھو کرایک دوسرے کے جاگنے کو یقینی بنایا۔
دروازہ کھلا اور چودھری کی منحوس آواز میرے کانوں میں پڑی۔
”شادی خان ....کرم شاہ کو بولو جرنیٹر جلدی آن کرے۔“
”جی چودھری صاحب۔“ ایک دوسرے بندے کی آواز آئی مگر اس کے جانے سے پہلے جرنیٹر سٹارٹ ہونے کی ہلکی سی گڑگڑاہٹ سنائی دی اور کمرے میں ٹیوب لائیٹ کی دودھیا روشنی پھیل گئی۔ چارپائی کے نیچے سے مجھے چودھری کے جوتے نظر آرہے تھے۔ وہ آہستہ قدموں سے چلتا ہوا آیا اور چارپائی پر بیٹھ گیا۔
”تم لوگ آرام کرو صبح جنگل خیل مال لے کر جانا ہے۔ شادی خان۔ کرم شاہ اور میر علی تینوں صبح سویرے نکل جانا۔ مجھے جگانے کی ضرورت نہیں۔“
”کتنا مال لے جائیں؟“ شادی خان مستفسر ہوا۔
”ان کی ڈیمانڈ کتنی تھی؟“
”دس کلو۔“
”15کلو لے جانا۔ شاید زیادہ ضرورت پڑ جائے۔“
”ٹھیک ہے چودھری صاحب۔“ اس مرتبہ بھی شادی خان بولا شاید وہ کوئی منشی ٹائپ چیز تھا۔ ”اور کچھ؟“
”نہیں شکریہ۔ آپ لوگ آرام کریں۔“ اور تمام بندے سلام کہتے ہوئے چودھری کے کمرے سے نکل گئے۔
ان کے جانے کے بعد چند لمحے چودھری اپنی جگہ پر بیٹھا رہااور پھر اٹھ کر کمرے کا درازہ اندر سے بند کرکے باتھ روم میں گھس گیا۔ اس دوران ہم چپ چاپ خاموشی سے لیٹے رہے۔ یوں بھی اس قسم کی سچوئیشن میں ہم بغیر بولے ایک دوسرے کے ارادے کو سمجھ لیتے تھے۔ باتھ روم سے باہر آ کر وہ بیڈ کے نزدیک آیا اور جھک کر کوئی چیز اٹھانے لگا اور پھر ہلکی سے کھنکھناہٹ سن کر میں نے اندازہ لگایاکہ وہ چابیاں تھیں۔ چابیاں اٹھا کر وہ مڑا اس کے قدم مجھے بیڈ کی پائنتی کی طرف بڑھتے نظر آئے میں نے بیڈ کے نیچے سے سر نکال کر دیکھا وہ دیوار کے ساتھ لٹکی ایک بڑی سی تصویر کو اتارکر نیچے رکھ رہا تھا۔ تصویر کے پیچھے ایک سیف کا دروازہ نظر آرہا تھا۔ اسی طرح کا سیف میں نے بکنگ کلرک کے گھر بھی دیکھا تھاجو بعد میں میرے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ میں چارپائی کے نیچے سے نکل آیا، امجد نے بھی میری تقلید کی تھی، چودھری سیف کا دروازہ کھول کر اس میں منہمک تھا۔
”چودھری!“ میں نے آہستہ سے پکارا۔
وہ بدک کر پیچھے مڑا۔ ”ت ....تت.... تم.... تم.... عم.... عمر۔“اس آنکھیں حیرت و خوف کے ملے جلے تاثرات سے پھیل گئیں تھیں۔
”بڑی تیز یادداشت ہے چودھری....میں تو سمجھ رہا تھا تُومجھے بھول گیا ہوگا؟“
اس نے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے چور نظروں سے دروازے کی جانب دیکھا مگر اس کے دیکھنے سے پہلے امجد آہستہ قدموں سے دروازے کی طرف چل پڑا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس نے کیا کرنا تھا۔
”عمر جان۔ مم میں تمھارے ساتھ سس سودا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ پیسے لے لو۔“ اس نے سیف کی طرف اشارہ کیا۔ ”اس کے علاوہ میرے اکاﺅنٹ میں کافی رقم موجود ہے۔ تمام تمھارے حوالے کر دوں گا۔“
”چودھری رقم تو نہیں البتہ دوسری شرط پر سودا ہو سکتا ہے۔“
”کک.... کون سی۔“وہ ہکلایا۔” مجھے تمھاری تمام شرائط منظور ہیں۔“
”بڑی آسان سی شرط ہے.... میرے گھر والے واپس کرو۔“
”عمر جان کک کوئی مم.... ممکن شرط بتلاﺅ۔“
”بتا دوں گا۔“ میں سرد لہجے میں بولا اور دوسرے لمحے میرا بایاں مکہ پوری قوت سے اس کی کنپٹی پہ لگا وہ اچھل کر سیف کے دروازے سے ٹکراتے ہوئے نیچے گر پڑا۔ اس کے منہ سے ایک بلند کراہ خارج ہوئی تھی مگر اس کے بعد وہ بے حس و حرکت ہو گیا۔
”ماجے !....اسے باندھنے کے لےے کوئی رسی دیکھو۔“ میں اس کے متعلق کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔ حالانکہ مجھے امید تھی کہ وہ گھنٹے دو گھنٹے کے لیے بے ہوش ہو گیا تھا۔
”سلنگ سے باندھ لیتے ہیں۔“ وہ اپنی کلاش کوف سے سلنگ نکالنے لگا۔
”نہیں بستر کی چادر سے پٹیاں پھاڑ لو۔“ اور وہ سر ہلاتا ہوا بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔ بیڈ کی چادر سے اس نے خنجر کی مدد سے دو پٹیاں لمبائی کے رخ پھاڑیں اور ان سے چودھری کے ہاتھ پاﺅں مضبوطی سے باندھ دیئے۔
”اس کے منہ پر بھی پٹی باندھ دو۔“ میں نے چادر سے مزید ایک پٹی پھاڑ کر امجد کی جانب بڑھائی ، اس نے سر ہلاتے ہوئے پٹی لے کر اس کے منہ پر باندھ دی۔
” تم اس کا خیال رکھو۔ میں ذرا باہر والے سور ماﺅں سے نمٹ لوں۔“
”نہیں....“اس نے نفی میں سرہلایا۔ ” یہ ادھر محفوظ ہے دونوں چلتے ہیں۔ تمھارا اکیلا جانا مناسب نہیں۔ البتہ اسے بیڈ کے نیچے چھپا دیتے ہیں۔“
اس نے چودھری کو بیڈ کے نیچے گھسیٹر دیا۔ایک لمحے کے لیے سوچ کر میں اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کمرے کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ کنڈی کھول کر میں نے احتیاط سے باہر جھانکا ، کوئی بھی نظر نہ آیا دوسرے کمرے کو عبور کر کے ہم گیلری میں آگئے گیلری خالی پڑی تھی اور اس میں ایک ٹیوب لائیٹ جل رہی تھی۔ برآمدے والا دروازہ اور کھڑکیاں بند تھیں اس لیے ہمارے باہر سے دیکھے جانے کا خطرہ موجود نہیں تھا البتہ گیلری کے ساتھ موجود کمروں سے کوئی باہر جھانکتا تو ہم آسانی سے نظر آجاتے۔
”پہلے کمرے یا باہر۔“ امجد دھیمی آواز میں مستفسر ہوا۔
”تم کمرے سنبھالو.... میں باہر جاتا ہوں۔“
”اس سے بہتر یہ ہو گا کہ تم برآمدے کے دروازے کے ساتھ چھپ کر مجھے پروٹیکشن مہیا کرو اور میں کوشش کرتاہوں کہ بغیر شور شرابے کے انھیں مردار کردوں، لیکن اس کے برعکس ہونے کی صورت میں تم اندر باہر دونوں سائیڈ وں کو با آسانی کور کر لو گے۔“
مجھے اس کی تجویرمناسب لگی اور میں اثبات میں سرہلاتے ہوئے برآمدے کے دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
دروازے کے ساتھ میں اس طرح چھپ کر کھڑا ہو گیا کہ اندر باہر دونوں طرف نظر ڈال سکوں، امجد نے میری پوزیشن دیکھ کر اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا اور دبے قدموں نزدیکی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ دروازے پر آہستہ سے دباﺅ ڈال کر اس نے میری جانب دروازے کے بند ہونے کا اشارہ کیا اور دستک دینے کی اجازت مانگی۔
میں اثبات میں سر ہلانے ہی والا تھا کہ بجلی کی سی سرعت سے ایک سوچ میرے دماغ میں ابھری اور میں نے اشارے سے اسے روک کر اس کی جانب قدم بڑھائے۔ وہ بھی میری طرف چل پڑا۔
” کیا بات ہے؟“
” اندر سے کچھ پوچھاگیا تو تمھارے لیے پشتو میں جواب دینا مشکل ہو گا اس لیے تم میری جگہ چلے جاﺅ اوریہ کام مجھ پہ چھوڑ دو۔“
امجد سر ہلاتا ہوا برآمدے والے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔اس کے پوزیشن میں ہوتے ہی میں نے دروازے کو ہلکے سے کھٹکھٹا یا۔
”سہ چل دے ھلکہ؟“(کیا بات ہے لڑکے)کمرے میں موجود آدمی نے چارپائی سے اٹھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی تھی(پشتو میں ھلک لڑکے کو کہتے ہیں مگر اکثر لوگ اسے بطور تکیہ کلام بھی استعمال کرتے ہیں اور ایسے آدمی بعض دفعہ تو اپنے سے بڑی عمر والے کو بھی لڑکا کہہ دیتے ہیں۔ اس وقت بھی کمرے میں موجودآدمی نے اسی معنی میں مجھے لڑکا کہا تھا)
”ور خوکو لاﺅ کہ“(دروازہ تو کھولو) میں نے اپنی آواز پہلوان کی طرح بھاری اور کرخت بنانے کی کوشش کی لیکن اس میں مجھے کوئی خاص کامیابی نہ ہوئی ،خوش قسمتی سے اندرموجود آدمی بغیر میری آواز پر توجہ دیئے کسی اورکو مخاطب ہوا۔
”ھلکہ نور تاج ور کولاﺅ کہ“(اولڑکے نور تاج اٹھو دروازہ کھولو)
”اس کا مطلب ہے کمرے میں کم از کم دو آدمی تو لازماً موجود ہیں۔“ میرے دماغ میں سوچ ابھری مگر مزید کچھ سوچنے سے پہلے دروازے کے اندرونی جانب پاﺅں کی آہٹ ابھری اور میں ہمہ تن گوش دروازے کی جانب متوجہ ہو گیا۔ کنڈی کھلنے کی آواز سنتے ہی میں دروازے کے سامنے سے ہٹ گیا تاکہ دروازہ کھلتے ہی اس کی نظر مجھ پہ نہ پڑے اور میری تدبیر کارگررہی دروازہ کھولنے والے کو جب کوئی سامنے نظر نہ آیا تو وہ بڑبڑاتے ہوئے باہر نکلا میںاس کے استقبال کے لیے تیار تھا ، کلاشن کوف میں نے دیوار کے ساتھ کھڑی کر دی تھی کیوں کہ میں چاہتا تھا کہ حتی الوسع فائر کی نوبت نہ آئے۔
وہ قریباً میرا ہم عمر ہی تھا مجھے دیکھ کر اس کا منہ حیرت سے کھلا مگر چیل کی طرح اس پر جھپٹتے ہوئے میں نے ایک ہاتھ اس کے منہ پر اس طرح رکھا کہ آواز اس کے گلے ہی میں گھٹ گئی۔ دوسرا بازو اس کے گلے میں ڈالتے ہوئے میں نے بھر پور جھٹکا دیا اور کھٹک کی آواز سے اس کا منکا ٹوٹ گیاتھا۔ اس کے تڑپتے جسم کو آہستہ سے زمین پر لٹا کر میں تیزی سے کمرے میں گھس گیا اندر ہلکی پاور کا بلب روشن تھا۔ اس روشنی میں ایک بندہ ہلکی چادر اوڑھے چارپائی پر لیٹا نظر آیا دوسری چارپائی خالی پڑی تھی ،اس پر سونے والا ہمیشہ کے لیے سو گیا تھا۔
میں نے سونے والے کی چادر کھینچ کر اتاری۔
”کک....کیا.... ہے۔“وہ گڑبڑاتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔
”بات یہ ہے مسٹر کہ عمر جان گنڈہ پور ولد ہاشم جان گنڈہ پور اپنا بدلہ لینے پہنچ گیا ہے۔“ اسے سفرِ آخرت پرروانہ کرنے سے پہلے میں نے اسے اپنا تعارف کرانا ضروری سمجھا۔
”عم....مر....تت تم.... مم میں.... یہاں“ اس سے کوئی بات نہ بن پڑی۔ مگر میرے پاس اس سے ڈائیلاگ بازی کا وقت نہیں تھا اور اس کی گردن توڑتے ہوئے اسے بھی میں نے ساتھی کے پاس پہنچا دیا۔ گیلری میں پڑے بندے کو اندر گھسیٹ کر میں دروازے کو بند کر کے باہر نکل آیا۔
دیوار کے ساتھ کھڑی کلاشن کوف اٹھا کر میں نے امجد کو دوانگلیاں کھڑی کر کے بتلا دیا کہ کمرے میں صرف دوآدمی تھے۔ اگلا دروازہ مجھے کھلا ہوا ملا۔کواڑ کو آہستہ سے دھکیلتے ہوئے میں نے اندر جھانکا مگر اندر گھپ اندھیرا تھا۔ جیب سے پنسل ٹارچ نکال کر جلائی۔اس کی باریک روشنی میں مجھے کمرہ خالی نظر آیا۔اس کے بعد والا کمرہ بھی مجھے خالی ملا اس کمرے کے اندر دو مزید اندرونی کمرے بنے ہوئے تھے۔ اندرونی کمرے میں چارپائیوں پربستر تو بچھے ہوئے تھے مگر سونے والا کوئی نہیں تھا۔ اب گیلری کی اس لائن میں آخری کمرہ رہ گیا تھا۔ البتہ مخالف سمت کے کمرے میں اب تک نہیں دیکھ سکا تھا۔
آخری کمرے میں جھانکنے پر بھی مجھے خالی کمرہ ہی نظر آیا البتہ اس کمرے کے ساتھ موجود اندرونی کمرے میں مجھے بند دروازے کی درزوں سے روشنی نکلتی ہوئی نظر آئی۔ میں دبے قدموں اس جانب بڑھ گیا۔ دروازے کی کھلی درزوں سے جھانکنے پر اندر چار آدمی تاش کے پتے پکڑے خاموشی سے اس میں منہک نظر آئے۔ ان کے انداز سے مجھے پتا چل گیا کہ وہ جوا کھیل رہے ہیں۔ ورنہ گپ شپ کی گیم میں ان کے درمیان ہلڑ بازی مچی ہوتی۔
میں نے دروازے پر آہستہ سے دباﺅ ڈالا اور یہ محسوس کرتے ہی کہ دروازہ کھلا ہے میں ایک جھٹکے سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ اس خاموش ماحول میں دروازہ کھلنے کی آواز کسی دھماکے سے کم نہ تھی۔ چاروں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔
”کون ہو تم؟“ سوال پوچھنے والے کی آواز سے میں پہچان گیا۔ وہ شادی خان تھا۔
”نہیں پہچانا۔“
”تم عمر جان ہو نا؟“ اس مرتبہ کرم شاہ پہلوان بولا۔
”صحیح پہچانا.... میں ہی وہ بدنصیب عمر جان ہوں جسے تم لوگوں کے ظلم نے کہیں کا نہ رکھا۔“
”مم مگرہم نے کیا کیا ہے۔ تمھاری دشمنی تو چودھری صاحب کے ساتھ تھی ہم تو اس کے ملازم ہیں۔“ میرے لہجے میں ابلتے ہوئے غم و غصے کی شدت نے پہلوان کو لرزا دیا تھا۔
”افسوس صرف اس بات کا ہے کہ میرے پاس تمھیں تڑپا تڑپا کر مارنے کا وقت نہیں ہے۔ خیر تمھاری قسمت۔“یہ کہتے ہی میں نے سیفٹی لیور کو برسٹ پر سیٹ کرکے لبلبی پریس کر دیا۔ ”تڑڑڑ“ کی آواز میں ان کی کرب ناک چیخیں گونجیں اور وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگے۔ میں چند لمحے وہیں پر کھڑا ان کے تڑپنے کا نظارا کرتا رہا۔ انھیں مارتے ہوئے مجھے عجیب سی تسکین محسوس ہوئی تھی۔ یوں لگا جسے کسی سختی سے مطالبہ کرنے والے قرض خواہ کو میں نے اس کے قرض کی ادائی کر دی ہو۔ میری محویت فائرنگ کی آواز سے ٹوٹی۔میں جلدی سے باہر نکلا میرے اندازے کے مطابق فائر کرنے والا امجد تھا۔ باہر نکلنے پر اس کی تصدیق بھی ہو گئی۔
”جانو صاحب دو تھے۔“ میں جیسے ہی اس کے قریب پہنچا وہ آہستہ سے بولا۔
”چھے کو میں نے بھی جہنم کا ٹکٹ پکڑا دیا ہے۔“
”میرا خیال ہے یہ اتنے ہی تھے مگر احتیاطاً میں صحن میں چکر لگا آتا ہوں تم بقایا کمرے دیکھ لو۔“ امجد نے مشورہ دیا اور میں سر ہلاتے ہوئے اندر کی جانب بڑھ گیا جبکہ امجدکا رخ صحن کی طرف تھا۔
تھوڑی دیر بعدہم دونوں چودھری کے بیڈ روم میں اکٹھے ہو گئے تھے امجد کا خیال درست نکلا کہ چودھری کے علاوہ اس گھر میں کوئی نہیں بچا تھا۔
”اب اس کا کیا کرنا ہے۔“ امجد نے چودھری کو چارپائی کے نیچے سے گھسیٹا
” اسے ساتھ لے کرجانا ہے۔ میں اسے آسان موت کے حوالے نہیں کرنا چاہتا۔ اس نے میری ذات کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی ناممکن ہے۔ میں بھی اسے ایسا ہی نقصان پہنچانا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں یہ زندہ رہے مگر اس کی زندگی موت سے بدتر ہو۔ یہ موت مانگے مگر موت نہ ملے اور اس کی زندگی کی خوشیاں اور راحتیں میں چھین لوں اور یہ جیتی جاگتی حسرت بن جائے یہ....۔“ میں شاید کچھ اور بھی کہتا مگر امجد نے میری بات کاٹی....
”ٹھیک ہے جانو.... اب چلو کیوں کہ یہاں رکنامناسب نہیں ہے۔ یہ نہ ہو فائرنگ کی آواز اس کے کسی ہمدرد کو اس جانب متوجہ کر دے اور ہمارے لیے خواہ مخواہ ایک لاحاصل مشغلہ شروع ہو جائے۔“
”ٹھیک ہے چلو۔“ میں نے اس کی تائید کی۔
”اس رقم کا کیا کریں۔“ امجد نے سیف کے کھلے دروازے سے جھلکتی رقم کی طرف میری توجہ دلائی۔
”یہ بھی ساتھ لے چلتے ہیں.... راستے میں کام آئے گی۔“
اور امجد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ایک تکیے کا کور اتار کر اس میں وہ ساری دولت بھر لی۔ اس کے علاوہ سونے کی کچھ اینٹیں بھی وہاں پڑی تھیں وہ سمیٹ کر امجد نے اسی تھیلے میں ڈال دیں۔
”یہ پکڑو میں اسے سنبھالتا ہوں۔“ اس نے تھیلا میری جانب بڑھایا۔
امجدنے چودھری کے سر کے بالوں سے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے باہر کے جانب چل پڑا۔ اس کی اس حرکت سے چودھری کے خلاف اس کے دل میں موجود نفرت کا اظہار ہو رہا تھا۔
چودھری نے ہوش میں آ کر غوں غاں شروع کر دی مگر منہ پر پٹی بندھے ہونے کی وجہ سے وہ کوئی بات نہ کر سکا۔ ہم دونوں بھی اس کی تکلیف پر توجہ دیئے بغیرچلتے رہے بلکہ ہمارا تو مقصد ہی اسے اذیت دینا تھا۔صحن کے ایک کونے میں چھپر نما گیراج بنا ہوا تھا جس میں تین گاڑیاں کھڑی تھیں۔ایک ڈبل کیبن کی عقبی نشستوں کے درمیان چودھری کو پٹخ کے امجد خود بھی پیچھے ہی بیٹھ گیا تھا۔ میں نے سٹیرنگ سنبھالی اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ گیٹ پرپہنچ کر میں نے گاڑی روکی امجد نے گیٹ کھولا اور ہم ایک مرتبہ پھر چل پڑے۔
”جانان خان سے ملو گے؟“
”ہاں۔“ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”اس نے ہماری مدد کی ہے اس کا شکریہ ادا کر نا ہے۔ اس کے علاوہ راستے کے بارے میں بھی اس سے معلومات لینا ہیں، جس راستے سے ہم چل کر آئے ہیں اس راستے سے اس منحوس کو ساتھ لے جانا مشکل ہو گا، اس ڈھائی من کی لاش کو کون کندھوں پر اٹھائے گا۔ جبکہ افغانستان کے راستے سے ہم لاعلم ہیں البتہ جانان کو ضرور اس راستے کے بارے معلوم ہو گا۔“
”چلے گا تو خیر یہ اپنے پاﺅں پر۔ البتہ تم افغانستان والے رستے کو بہتر سمجھتے ہو تو یونھی سہی۔“
ہم جس وقت جانان خان کی حویلی میں پہنچے وہ جاگ رہا تھا کیوں کہ اطلاع دینے والے ملازم کے ساتھ ہی وہ باہر آگیا تھا اب وہ جاگنا ہماری وجہ سے تھا یا لزا کی قربت نے اسے سونے نہیں دیا تھا اس بات سے میں لاعلم تھا۔
”آپ لوگ اندرکیوں نہیں آرہے اور کیا بنا آپ کے کام کا؟“ وہ ایک ہی سانس میں دو سوال کر گیا۔
”ملک صاحب ہم کامیاب ہوئے ہیں اور اس وقت ہم سفر کی تیاری میں ہیں ادھر رکنا ہم موزوںنہیں سمجھتے۔ آ پ کے پاس آنے کا مقصد ایک تو آپ کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ آپ کے تعاون سے ہمیں اپنے مقصد میں کامیابی ہوئی ہے۔ دوسرا ہمیں افغانستان کے راستے سے چودھری کو اپنے ساتھ لے جانا ہے اور راستے کے بارے آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔“
”آپ لوگ اندر تو چلیں نا؟کچھ چائے پانی ہو جائے۔ صبح چلے جانا ابھی تو یوں بھی صبح ہونے میں دو تین گھنٹے ہی باقی ہیں۔“
”شکریہ ملک صاحب۔ مگر ہم اندرجانے سے معذرت کریں گے۔“
” جیسے آپ کی مرضی....اور راستہ اتنا مشکل نہیں ہے آپ لوگ جنگل خیل سے سیدھا آگے نکلو گے تو....۔“ جانا ن خان نے راستے کے بارے میں مختصر الفاظ میں کافی کار آمد باتیں بتلا دیں۔ آخر میں بولا۔ ”عمر جان !....اگر رقم یا کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجک مجھے کہہ سکتے ہو؟“
”بہت مہربانی ملک صاحب اب اجازت۔ یار زندہ صحبت باقی۔“ میں نے معانقے کے لیے بازو پھیلا دیئے، اس سے مل کرہم گاڑی میں بیٹھے اور الوداعی انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے وہاں سے رخصت ہوئے۔ تیز رفتاری سے سفر کرتے ہوئے ہم بہ مشکل صبح کی اذانوں کے وقت جنگل خیل پہنچ گئے۔ گاڑی کا رخ عبدالمجید کے گھرکی طرف موڑتے ہوئے میں نے کہا۔
”میرا خیال ہے آج کا دن سعدیہ کے ہاں گزاریں۔ ایک تو کچھ آرام کرلیں گے کہ آگے ہمیں بہت لمبا سفر در پیش ہو گا اس کے علاوہ دونوں سے الوداعی ملاقات بھی ہو جائے گی۔“
امجد نے فقط سرہلانے پر اکتفا کیاتھا۔
دوسری دستک ہی پرعبدا لمجیدنے دروازہ کھول دیا۔ ہمیں دیکھتے ہی اس کے خوابیدہ چہرے پر خوشی کی چمک لہرائی جو اس بات کا مظہر تھی کہ وہ ہمیں دل سے پسند کرتا تھا۔ ہم دونوں سے مل کر اس نے گاڑی کے لیے مکمل دروازہ کھول دیا۔ گاڑی صحن میں روک کر ہم نے چودھری کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور ایک خالی کمرے میں منتقل کر کے باہر سے دروازہ بند کر دیا۔ ہماری باتوں کی آواز سے سعدیہ بھی جاگ گئی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ بے ساختہ مجھ سے لپٹ گئی۔
” بھیا !....بڑی دیر لگا دی۔“
”ہاں بہنا!....“ میں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ”مگر تمھاری دعا سے کامیاب ہوئے ہیں۔“
”شکر ہے اﷲ کا۔“ اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
”اچھا تم فٹا فٹ تگڑا سا ناشتا تیار کرو تاکہ ہم کھاپی کر آرام کرنے کے لیے لیٹیں۔ سخت تھکے ہوئے ہیں۔“
”ابھی لو بھائی۔“ وہ سرعت سے باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی۔
تھوڑی دیر بعد ہی ایک پُر تکلف ناشتے سے فارغ ہو کر ہم دونوں آرام کے لیے لیٹ گئے تھے مگر اس سے پہلے مجید کو چودھری کا خیال رکھنے کی تاکید کرنا نہیں بھولے تھے۔
جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top