خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Life Story دل عشقم

قسط_22″زرمینے کہاں ہے پھپھو ؟” وہ خود پر ضبط کے کڑے پہرے بٹھائے سنجیدگی سے کشور بیگم کے سامنے کھڑا تھا۔”مجھے کیا ہے کیا میں اس پر نظر رکھتی ہوں؟””آپ بتا رہی ہیں یا نہیں ؟””وہ پوری حویلی میں نہیں ہیں سائیں ” ملازم کی بات پر اس نے ایک قہر بار نگاہ وہاں موجود سبھی نفوس پر ڈالی تھی۔۔”جاذب شاہ یہ وقت اسے ڈھونڈنے کا ہے پلیز آپ اسے جا کر ڈھونڈیں” ساری ناراضگی ایک طرف کر وہ صرف زرمینے کی فکر میں مبتلا تھی۔۔”جلال میں زرمینے کو ڈھونڈنے جا رہا ہوں تمہیں کوئی خبر ملے تو فوراً مجھے اطلاع کرنا۔۔۔”اسے وہیں رہنے کا کہتا وہ تیزی سے باہر بڑھا تھا جبکہ جلال خود اسکے پیچھے ہی باہر آیا تھا۔”شریف لالہ،؟”پاس گزرتے آدمی کو دیکھ جلال نے اسے پکارا۔”کیا ہوا جلال؟””آپ نے زرمینے بی بی کو دیکھا ہے،؟””میں نے اسے شام میں دیکھا تھا جب بڑے سائیں نے انہیں اپنے کمرے میں بلایا تھا۔۔”اسکی بات پر جلال بری طرح چونکا تھا اسی وقت تو وہ سہیل شاہ کے کمرے میں تھا تو کیا زرمینے نے اسکی ساری بات سن لی تھی۔۔؟یہ خیال آتے ہی اسکا دل دھڑکا۔۔”ٹھیک ہے آپ جائیں” انہیں بھیجتا وہ خود تیزی سے باہر نکلا تھا اگر یہ سب اسکی وجہ سے ہوا تھا تو اسے کیسے بھی کر زرمینے کو ڈھونڈنا تھا۔۔۔_____________”یا اللہ میری عزت کی حفاظت کرنا” دل سے دعا کرتے وہ تیزی سے بھاگی تھی کہ اچانک اسکا پاؤں زمین پر پڑے پتھر پر پڑتا اسے منہ کے بل گرا گیا تھا ۔۔۔”یا اللّٰہ” درد سے اسکی کراہ نکلی تھی۔۔”ارے بچے تم ٹھیک ہو اٹھو “نسوانی آواز پر بمشکل اٹھ کر بیٹھتے زرمینے نے سامنے موجود امینہ بیگم کو دیکھا جو پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔”بیٹا تم ٹھیک ہو؟”اسکی سرخ آنکھیں دیکھ وہ پریشانی سے پوچھ رہی تھیں زرمینے سے آہستہ سے ہاں میں سر ہلایا۔۔،”ایسے کیسے بچے اپنا چہرہ دیکھو ہاتھ دیکھو اٹھو میرے ساتھ آؤ””نہیں۔۔۔ نہیں مجھے نہیں جانا ” اس نے خوفزدہ ہوتے دو قدم پیچھے لئے۔۔وہ کسی پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتی تھی..”ارے بچے ڈرو مت ادھر آؤ” امینہ بیگم نے محبت سے اسکا ہاتھ تھاما اسکے ننگے پاؤں زخمی بدحواس حالت دیکھ انہیں اس پر ترس آیا تھا۔”گھر کہاں ہے تمہارا ؟”،”آپ جائیں میں جاتی ہوں” وہ ان کو پریشان نہیں کر سکتی تھی اس لئے آہستہ سے اپنا ہاتھ چھڑاتے اپنے قدم واپس لئے۔۔امینہ بیگم اسے جاتے دیکھتی رہ گئیں۔۔”پتا نہیں کون بچی ہے کیا کروں ایسے ہی جانے دوں ؟” وہ سوچ میں الجھ گئیں تھیں یہاں رکنا بیکار تھا اس لئے سر جھٹکتے وہ اپنے گھر کی جانب بڑھی تبھی انہیں سامنے سے جلال آتا نظر آیا۔۔”ارے جلال تو یہاں کیا کر رہا ہے بچے؟””آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ؟” انہیں اس وقت باہر دیکھ اسے حیرت ہوئی تھی۔۔”تبسم کی طرف گئی تھی رکشہ خراب ہوگیا تو میں وہیں روڈ پر اتر گئی”.”اچھا چلیں میں آپ کو چھوڑ دوں “”نہیں میں چلی جاؤں گی”انہوں نے اسے صاف منع کردیا۔۔”اچھا سن جلال “”جی؟” اسے زرمینے کو ڈھونڈنے کی جلدی تھی۔۔”ابھی میں نے ایک لڑکی کو دیکھا جو بہت بری حالت میں تھی زرا دیکھ تو کون ہے اس نے مجھے تو صاف منع کردیا مدد کرنے سے ” ان کی بات پر وہ بری طرح چونکا تھا۔”کہاں تھی وہ؟””پیچھے حصے کی جانب” ان کے اشارے پر وہ وہاں سے گزرتے بچے کو امینہ بیگم کو لے جانے کا کہتا تیزی سے وہاں سے نکلا تھا اسے زرمینے کو ڈھونڈنا تھا رات ہونے سے پہلے۔۔تیزی سے روڈ پر آتے وہ مڑا تھا جب اسے روڈ کے کنارے وہ کھڑی نظر آئی۔”زرمینے؟” اسکی پکار پر زرمینے نے جھٹکے سے مڑ کر اسے دیکھا چہرے کا رنگ اڑا تھا۔قدم پیچھے لیتے وہ جلال کی نظروں سے دور جانا چاہتی تھی مگر وہ چند قدم کا فاصلہ عبور کرتے فوراً سے پہلے اس تک پہنچا تھا۔”آپ ٹھیک ہیں آپ کو سب حویلی میں ڈھونڈ رہے ہیں چلیں میرے ساتھ”اسکا بازو تھامے وہ آگے بڑھا مگر اسے رکنا پڑا کیونکہ زرمینے کے قدم چلنے سے انکاری تھے ۔”میں حویلی نہیں جاؤں گی آپ جاؤ پلیز””زرمینے آپ کا رات کے اس پہر یہاں اکیلے رہنا ٹھیک نہیں ہے میرے ساتھ چلیں, سائیں پریشان ہیں””مجھے نہیں جانا آپ کو سمجھ کیوں نہیں آرہا ۔۔۔ مجھے کسی پر بوجھ نہیں بننا پلیز ” وہ ایک بار پھر رو دی تھی۔،”زرمینے،””میں اس حویلی پر ایک داغ ہوں مجھے وہاں واپس نہیں جانا” ہچکیوں سے روتے وہ جانے سے انکاری تھی جلال کو خود پر غصہ آیا تھا اسکی وجہ سے وہ لڑکی اس حال پر پہنچی تھی۔۔”اچھا میری بات سنیں آپ حویلی نہیں جانا چاہتی نا ٹھیک ہے مگر میرے ساتھ میرے گھر تو جا سکتی ہیں نا،؟”اس کے سوال پر زرمینے کا سر نا میں ہلا تھا۔”میں آپ کے گھر کیوں جاؤں جب آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں” ہاتھ کی پشت سے بال رگڑتے اس نے ہچکی بھری ۔جلال نے تاسف سے اسے دیکھا اسکی حالت قابل رحم تھی۔اس سے پہلے وہ کچھ سوچتا اچانک ہونے والے فائر نے اسے الرٹ کیا تھا زرمینے کا ہاتھ تیزی سے تھامے وہ ایک سائیڈ ہوا تھا۔۔”یہ۔۔۔””شش۔۔۔ بس میرے پیچھے رہیئے گا زرمینے” اسے اپنے پیچھے کرتا وہ خود آگے ہوا تھا۔وہ اسکی حفاظت کر رہا تھا اسی لمحے زرمینے شاہ کے دل کے دروازے اپنے محافظ کے لئے کھلے تھے جو اسے اپنے پیچھے چھپائے خود کو ہر طرح سے کسی بھی حملے کے لئے تیار کئے ہوئے تھا۔۔۔۔”وہ لوگ یہی آس پاس ہیں ہمارا حویلی جانا ٹھیک ہے آپ میرے ساتھ میرے چلیں””نہیں میں””ضد مت کریں آپ کی جان کو خطرہ ہے” سختی سے کہتا وہ اسکا ہاتھ تھامے اسے اپنے ساتھ لئے ایک جانب بڑھا تھا۔زرمینے نے اسکے مضبوط ہاتھ میں اپنا دبا ہاتھ دیکھا اور اسکے ساتھ اسکے ہمقدم وہ اسکی آگے بڑھتی چلے گئی۔۔۔


وہ گہری نیند میں تھی جب کسی نے اسے جھنجوڑ کر اٹھایا تھا۔۔”لٹل گرل۔۔۔ اٹھو شہرے ۔۔ واک اپ””مجھے اور سونا ہے ڈیول ہے” اسے کہتے شہرے نے بلینکٹ میں اپنا چہرہ چھپایا ۔”سونا کا ٹائم نہیں ہے ہری اپ” بلینکٹ ایک طرف پھینکتے وہ اسے زبردستی بیڈ سے اٹھاتے اپنے مقابل کھڑا کر گیا۔۔”دس منٹ میں نیچے پہنچو””لیکن ہم جا کہاں رہے ہیں؟””پہلے ریڈی ہوجاؤ پھر بتاؤں گا” اسے زبردستی واشروم میں بند کرتا وہ خود نیچے آیا تھا۔تھوڑی دیر بعد شہرے تیار ہو کر نیچے آئی تو وہ پہلے سے ہی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا شہرے کو آگے دیکھ وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔شہرے کے گاڑی میں بیٹھتے ہی مامون نے گاڑی اسٹارٹ کی تھی۔۔۔”کیا اب آپ مجھے بتانا پسند کریں گے ہم کہاں جا رہے ہیں؟” اسکے سوال کو مامون نے نظر انداز کیا تھا جس پر شہرے کا موڈ خراب ہوا تھا یہ انسان اسکی سمجھ سے باہر تھا ۔”افففف مجھے اب غصہ آرہا آپ پتا کیوں نہیں رہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟””شش۔۔۔ اب کوئی سوال نہیں اب اگر سوال کیا تو انجام کی زمہ دار خود ہونگی “سائیڈ مسکراہٹ پاس کرتے وہ اسے وارننگ دینے کے انداز میں بولا۔۔”کیوں ؟ کیا کروں گے آپ ؟” اب کی بار مامون نے جواب نہیں دیا تھا بلکہ آہستہ سے جھکتے وہ اسکے ہونٹوں کو اپنی قید میں لیتا شہرے کو شاکڈ کر گیا ۔۔مامون کی اس حرکت سے وہ اپنی جگہ فریز ہوئی تھی۔۔”اب اگر تم چپ نہیں ہوئی تو میں اسی طرح سے کس کروں گا اور یہی تمہاری سزا ہوگی””یو۔۔۔ چھچھورے آدمی “اسکی حرکت سے شہرے کے گال سرخ ہوئے تھے مامون نے دلچسپی سے اسے دیکھا۔۔”لگتا ہے کوئی شرما رہا ہے””ایسا کچھ نہیں ہے چپ رہ کر گاڑی چلاؤ ” اپنی خفت مٹانے کو تیز لہجے میں کہتی وہ رخ کھڑکی کی جانب کر گئی۔۔تھوڑی دیر بعد ہی گاڑی ایک بڑے سے کالج کے سامنے آکر رکی تو مامون اسے لئے گاڑی سے باہر نکل کر کالج کے اندر بڑھا تھا۔۔۔وہ اسے لئے ایک آفس میں آیا جہاں ایک انگریز پہلے سے ان کا منتظر تھا مامون کو دیکھ وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا اس سے ملتے مامون ڈائلن کے سامنے بیٹھا۔۔”مسٹر ڈائلن ۔۔ شی از شہرے مسزز مامون یہ اب سے یہاں پڑھیں گی۔”اسکی بات پر ڈائلن نے سر ہلایا۔”اوکے سر آپ بس مجھے بتائیں کیا کرنا ہے؟””شہرے کل سے کالج جوائن کریں گی ان کے لئے سب ارینج کرنا آپ کی زمہ داری ہے اور اس بات کا خاص خیال رکھنا ہے کہ کوئی شہرے کو تنگ نا کرے۔۔ باقی شہرے کل سے کالج جوائن کرینگی۔۔۔”اسکی بات پر ڈائلن نے سر ہلایا۔شہرے ایک طرف خاموشی سے بیٹھی تھی مگر اسکا دل خوشی سے ناچ رہا تھا مختصر سی بات کے بعد وہ مامون کے ساتھ باہر آئی تھی ۔”کیا میں واقعی اپنی اسٹڈی اسٹارٹ کرنے والی ہوں “؟اس نے ایک بار تصدیق کرنی چاہی تھی۔۔”یس بے بی گرل۔۔۔۔ لیکن کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے کوئی آدمی تمہارے آس پاس نہیں آنا چاہیے اگر اس نے تمہیں ہاتھ لگانے کی کوشش کی میں اسے وہیں مار دوں گا””اوکے اوکے فائن میں بالکل تنگ نہیں کروں گی””آئی ایم سو۔۔۔ ہیپی ڈیول۔۔۔۔ تھینک یو سو مچ”اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔۔۔”گڈ۔۔ اب آپ میرے ساتھ میرے آفس آرہی ہیں اور سارا دن میرے ساتھ رہیں گی” اسے کہتے مامون نے اسکا ہاتھ تھاما اور اسے لئے وہاں سے اپنے آفس کی جانب نکلا تھا جہاں جا کر شہرے کی ساری خوشی ختم ہونے والی تھی۔۔۔________




گاڑی عالیشان آفس کے سامنے رکی تھی مامون گاڑی سے اترتے اسکی سائیڈ آتا اسکا ہاتھ تھامے اسے گاڑی سے اتارتا اندر بڑھا تھا اسکے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں شہرے کا ہاتھ قید تھا۔۔آفس کا اسٹاف حیرت سے مامون کو ایک لڑکی کے ساتھ دیکھ رہا تھا آج سے پہلے انہوں نے کبھی کسی لڑکی کو مامون کے اتنا قریب نہیں دیکھا تھا وہ سب آنکھیں پھاڑے شہرے کو دیکھ رہے تھے جو سب کی نظروں سے کنفیوز ہوتی مامون کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے اسکے ہمقدم ہوئی تھی ۔۔”یہ سب ہمیں ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟””دیکھنے دو جب تک دیکھ رہے ہیں دیکھنے دو اگر تم پریشان ہو تو میں ابھی ان سب کو فائر کر دوں گا” اسکی بات پر شہرے کا سر فوراً سے نفی میں ہلا ۔”نہیں نہیں پلیز کسی کو جاب سے نہیں نکالنا۔۔۔۔””اوکے بے بی گرل اب آپ میری بات سنیں یہاں بیٹھیں مجھے کچھ کام ہے وہ فنش کر کے گھر چلیں گے ” اسے صوفے پر بیٹھاتے اس نے کچھ بکس شہرے کے سامنے رکھی اور خود جا کر اپنی سیٹ پر بیٹھا تھا۔۔شہرے نے ان بکس کو دیکھا کو اسکے کورس کی بکس تھی کچھ گائیڈ لائنز تھیں۔۔ہولے سے مسکراتے اس نے مامون کو دیکھا جو اس وقت کافی مصروف تھے ایسے کام کرتے وہ شہرے کو ہینڈسم لگا تھا۔۔وہ مہبوت سی اسے دیکھ رہی تھی بنا پلکیں جھپکے ۔۔ احساس ہونے پر خود کو ڈپٹتے اس نے کتابوں میں سر جھکایا کہ اچانک جھٹکے سے آفس کا ڈوم اوپن ہوا تھا ۔۔شہرے نے حیرت سے اندر والی اس انگریز لڑکی کو دیکھا تھا جس کا لباس انتہائی نامناسب تھا۔۔”اوو ڈارلنگ ۔۔۔ ” مامون کو کہتے وہ تیزی سے اس تک پہنچتی مامون کے گلے لگی تھی۔۔اسکی اتنی بے باکی سے مامون کے قریب ہونے پر شہرے کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔”ڈارلنگ آئی مس یو سو مچ۔۔۔” مامون کی کمر پر اپنے ہاتھ کی گرفت مضبوط کرتے وہ اسکے سینے سے لگی شہرے کو غصے سے پاگل کر گئی تھی ایک ابال سا اپنے اپنے خون میں اٹھتا محسوس ہوا تھا۔۔مامون نے آہستہ سے اس لڑکی کو خود سے الگ کرنے کی کوشش کی۔۔”اپنی حد میں رہو اسٹیلا اور یہاں سے دفع ہوجاؤ” وہ نیچے آواز میں اسکے کان پر غرایا تھا مگر دوسری جانب وہ ڈھیٹ بنی مامون کے قریب ہوئی تھی۔۔_____________بیگ پر اپنی گرفت سخت کئے اس نے اپنے سامنے موجود بڑی سی عمارت کو دیکھا وہ یہاں تیسری بار آئی تھی اور اس بار اسکی حیثیت پہلے دو بار سے یکسر مختلف تھی۔۔گہرا سانس بھرتے اس نے اندر قدم رکھا اور بنا ریسیپشن پر رکے وہ سیدھا اوپر آئی تھی۔۔ضوریز صبح اسے آنے کا کہتا خود کب کا آفس آگیا تھا۔وہ زارون کو مونٹیسوری چھوڑ کر خود یہاں آگئی تھی۔ضوریز کے آفس کا ڈور ناک کرتے اس نے آہستہ سے ڈور ناب پر ہاتھ رکھا اجازت ملتے ہی وہ اندر داخل ہوئی تھی ضوریز اسی کی جانب دیکھ رہا تھا جو اس وقت سفید فراک پر کچن کا سفید دوپٹہ اوڑھے میک سب سے پاک چہرہ لئے اسکے سامنے کھڑی تھی۔زرا آگے ہوتے ضوریز نے اسکا سر سے پاؤں تک مکمل جائزہ لیا۔۔۔”اسلام وعلیکم””وعلیکم السلام” اسے بیٹھنے کا کہنے کے بجائے وہ خود اسکے مقابل آیا تھا۔عمائم نے حیرت سے اسے اٹھتے دیکھا۔”کیا آپ میریڈ ہیں مس عمائم؟”اسکا سوال عمائم کو سمجھ نہیں آیا مگر پھر بھی اسکا سر اثبات میں ہلا تھا۔۔”مجھے ایسا کیوں نہیں لگ رہا ؟””جی؟””کون سی شادی شدہ لڑکیاں ایسے پھیکے رنگ پہنتی ہیں؟” ماتھے پر بل ڈالے وہ اسکے روبرو آتا اسکے اپنے قدم پیچھے لینے پر مجبور کرگیا۔۔۔”وہ۔۔۔ “”شش”اسے چپ رہنے کا کہتا وہ اپنی ڈیسک پر جاتا ایک نمبر پر کال کرنے لگا عمائم حیرت سے اسکی یہ حرکت دیکھ رہی تھی جو آہستہ آواز میں ناجانے کس سے بات کر رہا تھا۔۔فون رکھتے اس نے ایک سرد نگاہ عمائم پر ڈالی جو اسکے ایسے رویے پر اپنی ساری ہمت کھو رہی تھی۔ضوریز نے اسے بیٹھنے کے لئے نہیں کہا تھا اور یہی بات اسکے دل کو لگی تھی ۔۔اگلے پندرہ منٹ بعد اسکے آفس کا ڈور ناک ہوا اور ڈرائیور دو بیگ لئے اندر داخل ہوا تھا بیڈ سائیڈ پر رکھتے وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی واپس پلٹ گئا۔۔”ایک بیگ اٹھائیں اور اندر میرے روم میں جا کر چینج کریں””ہیں؟” اسکی بات پر عمائم نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔”اتنی کوئی مشکل بات بھی نہیں کی میں نے جائیں اور چینج کریں” اسکے ہاتھ میں بیگ تھامتا وہ آرڈر دیتے بولا ناچار عمائم کو اندر جانا پڑا۔۔کچھ دیر بعد وہ واپس آئی تو گہرے نیلے رنگ کی فراک پہنے ہوئے تھی جس پر سفید دھاگے سے ہاتھ کی کڑاہی ہو رہی تھی۔۔”ادھر آئیں ” صوفے پر بیٹھے ضوریز نے اسے پکارااسکی پکار پر وہ آہستہ سے اسکے پاس آکر بیٹھی جب ضوریز نے اسکی کلائی تھامی۔۔”آپ یہ” اس سے پہلے وہ بات مکمل کرتی ضوریز نے اسکے ہاتھ میں چوڑیاں ڈالنا شروع کیں۔۔عمائم کی آنکھیں حیرت سچ پھیلی تھیں۔۔۔”یہ آپ کیا کر رہے ہیں ضوریز پلیز””آپ کو خود کو تو احساس نہیں ہے کہ شوہر کے سامنے کس طرح رہنا چاہیے مگر مجھے ہے” اسکو چوڑیاں پہناتا وہ اب کافی مطمئن انداز میں اسکی کلائیوں کو دیکھتا اسے دیکھنے لگا جو بری طرح نروس ہو رہی تھی۔۔”اب آپ کیوں ایسے دیکھ رہے ہیں””کچھ کمی لگ رہی ہے مجھے” اسکی بات پر عمائم نے ناسمجھی سے اسے دیکھا جو اچانک ہی اسکے چہرے پر جھکتا اسکے چہرے پر حیا کے کئی رنگ کھلا گیا۔حیرت سے آنکھیں پھیلائے وہ سختی سے ضوریز کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑ گئی۔۔”اب پرفیکٹ ہے” اسکے سرخ چہرے کو دیکھتے معنی خیزی سے کہتا وہ عمائم کو مزید سرخ کرگیا۔”کل سے آپ خود اپنا دھیان رکھیں گی تو مجھے اتنی حسین حرکت کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی٫” شرارت سے آنکھ ونک کرتا عمائم کو سٹپٹانے پر مجبور کرگیا۔”آجائیں اب کام کریں بالکل دھیان بھٹکا دیا آپ نے میرا” سارا الزام اس کے سر ڈالتا وہ شرارت سے مسکراتے اپنی سیٹ پر جا بیٹھا۔ عمائم نے گھور کر اسے نوازہ تھا۔۔۔___________





وہ مضطرب سی بیڈ پر بیٹھی تھی چل چل کر پیر دکھ گئے تھے زرمینے کا کوئی پتا نہیں تھا رات گہری ہوتی جا رہی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا اور جاذب اندر داخل ہوا۔۔”زرمینے کا کچھ پتا چلا ؟”اسکے اندر آتے ہی نورے فوراً سے اسکے پاس آئی تھی۔۔”شوہر گھر آتا ہے تو اسے کھانا پانی پوچھتے ہیں””تمہاری بہن غائب ہے اور تمہیں کھانا کھانا ہے؟”نور نے حیرت سے اسے دیکھا۔”تمہاری کیا ہوتا ہے آپ بولو””دیکھو جاذب شاہ مجھے تم سے الجھنا نہیں ہے اس لئے زرمینے کے بارے میں بتاؤ””میں مطمئن ہوں تو اسکا کیا مطلب ہے!”؟ آئی برو اچکاتے وہ بیڈ پر بیٹھ کر اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔”مطلب وہ مل گئی ہے؟””ظاہر سی بات ہے””تو تم سیدھے طریقے سے بھی پتا سکتے ہو نا فضول میں وقت ضائع کرنا ضروری ہے؟””تم جب تک مجھے آپ نہیں کہنا شروع کرتیں میں تمہاری کسی بات کا جواب نہیں دوں گا آج دے دیا یہ لاسٹ تھا۔۔۔””یہ تمہاری بھول ہے کہ میں تمہیں کبھی عزت بھی دوں گی” اسے کہتے وہ مڑی تھی جب اسکی کلائی جاذب شاہ کی گرفت میں آئی ایک جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچتے جازب نے اسے خود پر گرایا۔۔”یہ کیا بدتمیزی ہے”چھوڑو””عزت پر بات آگئی ہے اب معاملہ سنگین ہوگیا ہے”اسے بیڈ پر منتقل کرتا وہ اس پر حاوی ہوا تھا۔”دیکھو جازب شاہ مجھ سے دور رہ کر بات کیا کرو میں دشمن کی بیٹی ہوں “”دشمن کی بیٹی کے ساتھ بیوی بھی تو ہو نا بدقسمتی سے” اسکی گردن میں چہرہ چھپائے وہ مخمور لہجے کا کہتا نورے کو آگ لگا گیا۔۔”جاذب شاہ تم مجھے ہاتھ مت لگاؤ سمجھ آئی دور ہٹو” اسکے سینے پر ہاتھ مارے وہ غرائی مگر مقابل ڈھیٹ تھا۔”آج تو یہ ممکن۔ نہیں بہت وقت دے دیا اب وقت آگیا ہے تمہیں اپنی شدتوں سے روشناس کروایا جائے تمہیں بتایا جائے کہ جاذب شاہ کو جھیلنا کتنا مشکل ہے”اسکے گال پر گال سہلاتے وہ نورے کی سانیسیں بے ترتیب کر رہا تھا۔اسکے ارادے خطرناک تھے نور کو اس سے خوف محسوس ہوا تھا ۔۔
 
زبردست اب نور کے ساتھ حازب کیا کرتا ہے اپنی شدتیں نچھاور کرتا ہے یا اس حسین ماحول میں کوئی مخل ہوگا اور مامون اسٹیلا کو خود سے کیسے دور کرتا ہے انتظار ہے اگلی قسط کا
شکریہ
 
قسط_23مامون نے آہستہ سے اس لڑکی کو خود سے الگ کرنے کی کوشش کی۔۔”اپنی حد میں رہو اسٹیلا اور یہاں سے دفع ہوجاؤ” وہ نیچے آواز میں اسکے کان پر غرایا تھا مگر دوسری جانب وہ ڈھیٹ بنی مامون کے قریب ہوئی تھی۔۔۔”آئی مس یو سو مچ “”تم کس سے پوچھ کر میرے روم میں آئی ہو نکلو فوراً”اتنی بے عزتی پر اسٹیلا کا چہرہ سرخ پڑا تھا تبھی اسکی نظر صوفے پر بیٹھی شہرے کر پڑی۔۔”ہے یو کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہی ہو؟”شہرے کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا جواب دے ۔۔اوع اسکا یوں چپ رہنا اسٹیلا کو آگ لگا گیا۔۔”یو۔۔۔ میں مامون کی گرل فرینڈ ہوں نظر نہیں آرہا تمہیں نکلو یہاں سے””اسٹیلا جاؤ یہاں سے میں بعد میں بات کرتا ہوں تم سے” مامون ایک دم ان دونوں کے بیچ آیا تھا۔۔”اوکے ڈارلنگ آئی ایم ویٹنگ” مسکراتی نگاہوں سے مامون کو دیکھتے وہ اسکے روم سے نکلی تھی شہرے نے مامون کے دیکھنے سے پہلے اپنے گال پر بہتا آنسو صاف کیا۔۔”شہرے جسٹ ویٹ ہئیر ۔۔ میری ایک میٹنگ ہے اسکے بعد ہم گھر چلیں گے اوکے نا” اسکا گال سہلاتے وہ نرمی سے اس سے کہہ رہا تھا شہرے نے محض سر ہلانے کر اکتفا کیا۔۔”گڈ گرل” اسے کہتا وہ وہاں سے چلا گیا جبکہ شہرے اسکا سارا دھیان مامون اور اسٹیلا میں اٹک چکا تھا دل میں چبھن سی ہوئی تھی۔۔”کیا مامون کبھی مجھ سے پیار نہیں کرینگے ۔۔۔ ان کے لئے کیا میں ایک کھلوانہ ہوں؟”یہ سوچ سوچ کر اسکا دل دکھ رہا تھا یہی سوچتے سوچتے وہ کب سوئی اسے بالکل بھی احساس نہیں ہوا ۔۔کچھ گھنٹے بعد اپنی میٹنگ سے فارغ ہوکر مامون آفس میں آیا تو اسے سوتے پایا۔۔۔اپنی سیٹ پر جانے کے بجائے وہ اسکی جانب آیا۔۔گھٹنوں کے بل بیٹھتے وہ اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔۔”وائے دس گرل از سی انوسینٹ اینڈ کیوٹ لائک آ بے بی؟”(کیوں یہ لڑکی کسی بچے کی طرح معصوم اور کیوٹ ہے”)شہرے کے ماتھے پر بوسہ دیتا وہ آہستہ سے بولا تھا۔وہ گہری نیند میں تھی مامون اسے اٹھانے کا ارادہ ملتوی کرتا اسے یونہی بانہوں میں بھرے باہر آیا تھا اسے پیچھے سیٹ پر لیٹاتا خود ڈرائیونگ سیٹ پر آیا تھا۔۔ایک نظر شہرے پر ڈالتے وہ وہاں سے نکلا تھا۔۔۔____________




اسکی آنکھ کھلی تو خود کو بیڈ پر پایا ۔”گھر کب آئی میں” خود سے کہتے وہ اٹھی گھڑی شام کے چھ بجا رہی تھی مامون کہیں نہیں تھا۔۔دل میں عجیب سی اداسی چھائی ہوئی تھی فریش ہو کر وہ نیچے آگئی۔۔سب سے پہلے اس نے اپنے اور مامون کے لئے ڈنر ریڈی کیا تھا۔۔ہر چیز سے دل اچاٹ ہوگیا تھا وہ مسلسل اسٹیلا کے بارے میں سوچ رہی تھی ساری خوشی کہیں کھو سی گئی تھی ۔ڈنر کے دوران بھی وہ مکمل خاموش رہی تھی مامون کو لگا وہ شاید تھکی ہوئی ہے۔۔ڈنر کے بعد وہ بنا کچھ کہے اپنے کمرے میں آگئی جبکہ مامون سیدھا اسٹڈی روم میں آیا تھا۔نیند شہرے کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔ رہ رہ کر اسٹیلا کی باتیں اسکا سر دکھا رہی تھیں۔۔۔کروٹیں بدلتے وہ مضطرب تھی اسکا دل رونے کو کر رہا تھا۔”کیا مجھے ان سے محبت ہوگئی یے؟؟؟ نہیں نہیں میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں وہ ڈیول ہے مجھے ان سے محبت نہیں ہوسکتی۔۔ میں بس ایک کھلونہ ہوں وقت آنے پر وہ مجھے پھینک دیں گے مجھے خود کو کنٹرول کرنا ہوگا مجھے بس اپنی پڑھائی پر دھیان دینا ہے بس ۔”وہ خود کو بار بار یہی باور کروا رہی تھی۔۔لیکن سچ تو یہ تھا اسے مامون کے بغیر نیند نہیں آرہی تھی اتنے وقت میں وہ اسکی بری طرح عادی ہوگئی تھی۔۔اسکے بغیر نیند بھی نہیں آرہی تھی۔۔ تکیے میں چہرہ چھپائے وہ بمشکل سونے کی کوشش کر رہی تھی جب قدموں کی آواز پر اسکی ساری حساسیات الرٹ ہوئیں۔مامون نے ایک نظر اسے دیکھا جو کروٹ کے بل لیٹی تھی۔۔چینج کر کے وہ اپنی جگہ پر آیا اور کھینچ کر شہرے کو اپنے قریب کرتے اسکے گرد حصار مضبوط کیا۔۔اسکے ماتھے کر بوسہ دیتا وہ سکون محسوس کرتا آنکھیں موند گیا ۔۔_____________”جاذب شاہ تم مجھے ہاتھ مت لگاؤ سمجھ آئی دور ہٹو” اسکے سینے پر ہاتھ مارے وہ غرائی مگر مقابل ڈھیٹ تھا۔”آج تو یہ ممکن۔ نہیں بہت وقت دے دیا اب وقت آگیا ہے تمہیں اپنی شدتوں سے روشناس کروایا جائے تمہیں بتایا جائے کہ جاذب شاہ کو جھیلنا کتنا مشکل ہے”اسکے گال پر گال سہلاتے وہ نورے کی سانیسیں بے ترتیب کر رہا تھا۔اسکے ارادے خطرناک تھے نور کو اس سے خوف محسوس ہوا تھا ۔۔”نہیں پلیز نہیں “اسے خود سے دور کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی وہ ڈر گئی تھی وہ اس شخص سے محبت نہیں کر سکتی تھی وہ اسے خود کے قریب نہیں آنے دے سکتی تھی۔۔جاذب نے حیرت سے اسکے شدت بھرے انکار کو دیکھا تھا۔”تم بیوی ہو میری نور یزدانی۔ ۔””میں ایک بدلہ ہوں جاذب شاہ ۔۔۔ بیوی نہیں “اسکی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتی وہ تڑپ کر بولی تھی۔۔”مجھے اپنی ضروریات کے لئے تمہارے پاس ہی آنا ہے”اسکی بات نے نور کو لاجواب کیا تھا وہ اچھے سے ان دونوں کے بیچ کے تعلق کو جانتی تھی سمجھتی تھی مگر وہ اس شخص کے لئے اپنے دل کو پگھلا نہیں سکتی تھی۔۔”میں دوسری عورتوں کے پاس جانا گناہ سمجھتا ہوں مجھے میری ضروریات کے لئے اپنی ہی بیوی کے پاس آنا ہے،” اسے کہتا وہ واپس سے نور کی گردن میں چہرہ چھپا گیا جب ایک جھٹکے سے نور نے اسے خود سے دور دھکیلا تھا۔۔وہ جو اپنی گرفت ڈھیلی کر چکا تھا ایک جھٹکے سے سائیڈ ہوا تھا ۔۔”نہیں میں یہ نہیں کر سکتی میں مر سکتی ہوں مگر تمہارے قریب نہیں آ سکتی پلیز تم دوسری شادی کرلو ” بیڈ سے اٹھتے وہ اسکی پہنچ سے دور ہوئی تھی جاذب نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا جو اسکی انا پر وار کر گئی تھی وہ جازب شاہ جو دھتکار گئی تھی۔۔۔”دوسری شادی کرلوں ؟””ہاں میں تمہیں اجازت دے رہی ہوں ” دیوار کے سہارے کھڑی وہ بمشکل بول پائی تھی۔۔”تمہیں کیوں لگا نور یزدانی کہ مجھے دوسری شادی کے لئے تمہاری جازب درکار ہے؟”اسکے سوال پر نور اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔”میں وہ۔۔۔””تمہیں کیا لگتا ہے میں اتنا اچھا ہوں کہ اپنے حق سے دستبردار ہوجاؤں گا؟”ایک ایک قدم اسکی جانب بڑھاتا وہ اسے خوف میں مبتلا کر رہا تھا۔۔۔نور نے بے بسی سے اسے دیکھا۔۔وہ اسے کیسے سمجھائے وہ جب جب اسے چھوتا تھا اسکے دل کو کچھ ہوجاتا تھا وہ خود کو اس کی قربت سے نکالنا نہیں چاہتی تھی ۔۔ وہ اسکی بانہوں میں رہنا چاہتی تھی اسکا دل اسکے ساتھ بغاوت کرنے لگا تھا وہ اس شخص کو خود پر اختیار دے کر اپنی نفرت کا گلا نہیں گھونٹا چاہتی تھی۔۔”پلیز جازب” اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتی اسے اپنی جانب کھینچتا وہ اسکے ہونٹوں پر قفل لگا گیا۔اسکی کمر کے گرد اپنی گرفت مضبوط کئے وہ اسکی سانسوں کو خود میں قید کئے شدت پسند ہوا تھا۔۔۔آکسیجن کی کمی پر نور نے تڑپ کر اسکے کندھے پر ہاتھ مار اسے ہوش دلانا چاہا جو اسکے بالوں میں ہاتھ پھنساتے اسکے لبوں کو آزادی دیتا اسکی گردن میں جھکتا اسکا دوپٹہ دور ہوا میں اچھال گیا۔۔اسکے ارادے نور کو خوفزدہ کر رہے تھے اسکا نرم سلگتا لمس اسکے خون کی گردش بڑھا رہا تھا سانسوں کے سنگم پر وہ سختی سے جاذب کے بازو تھامتے اسکے سہارے پر کھڑی تھی جو پیچھے ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا اسکی بکھری سانسوں کو اپنے لمس سے مزید بکھیرتا وہ اسکے جھٹکے سے بانہوں میں بھرے بیڈ تک آیا تھا۔۔۔”جاذب نہیں” اس نے آخری بار اسے روکنا چاہا تھا جو اسکے ہونٹوں پر قفل لگاتا اسکی ساری مزاحمت کو پیچھے دھکیلتے اسے خود میں قید کرتے نور کو رونے پر مجبور کر گیا تھا۔اسکے سینے میں چہرہ چھپائے وہ سسکی تھی۔”ابھی سے ہمت ہار گئیں نور جازب شاہ؟ ابھی تو تمہیں اپنے لفظوں کا خمیازہ بھی بھگتنا ہے” اسکی انگلی کی پوروں کو لبوں سے چھوتا وہ شاطرانہ انداز میں مسکراتا نور کو چونکا گیا۔۔،اس سے پہلے وہ اس سے اس بات کا مطلب پوچھتی اسے خود میں قید کرتا وہ ہاتھ بڑھا کر لائٹس آف کرگیا۔۔”جاذب شاہ مجھے تم سے نفرت ہے”اسکی بانہوں میں قید وہ اس سے نفرت کا اظہار کر رہی تھی۔۔ جاذب شاہ کے چہرے پر تمسخرانہ مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا۔۔”اس نفرت کو جتنا بڑھاؤ گی اس کھیل میں مجھے اتنا ہی مزہ آئے گا ” اسکی گردن میں چہرہ چھپائے وہ اسے نفرت کا اظہار کر رہا تھا مگر کیا واقعی وہ نور فاطمہ سے نفرت کرتا تھا ؟اسکا شدت بھرا لمس داڑھی کی چبھن محسوس کر وہ اپنا رخ موڑ گئی اسکے گریز پر ہولے سے مسکراتے جاذب شاہ نے اسکے گال کو اپنے شدت بھرے لمس سے مہکایا۔۔”ایسے کرینگی تو محبت بھی ہوسکتی ہے آپ سے مسزز جاذب شاہ”اسکا چہرہ اپنا جانب کئے اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکائے وہ مخمور لہجے میں کہتا نورے کو خود کو دیکھنے پر مجبور کرگیا تھا۔۔کیا وہ اس سے محبت کرتا تھا ۔۔ ناجانے کیوں یہ خیال آتے ہی اسے اپنا وجود ہلکا پھلکا محسوس ہوا تھا اس شخص کے لمس میں نرمی تھی چاہت تھی نفرتوں بھرا لمس ایسے تو نہیں ہوتا ۔۔۔”یہ آنکھیں بہت حسین ہیں” اسکی آنکھوں پر بوسہ دیتا وہ اسے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر گیا۔۔اسکے ایک ایک نقوش کو لبوں سے سیراب کرتا وہ اسکی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھاتا مکمل طور پر اسے بے بس کر گیا تھا۔۔۔۔________________


“ارے بیٹا آجاؤ آجاؤ” امینہ بیگم نے جلال کے ساتھ اسے گھر میں آتے دیکھا تو فوراً سے اسکے پاس آکر اسکا ہاتھ تھامے اندر لائی تھیں۔،”بڑی اماں یہ جاذب سائیں کی بہن ہیں زرمینے” اسکے تعارف پر امینہ بیگم چونکی تھی مگر پھر فوراً سنبھلتے انہوں نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔”میں کچھ کھانے کو لاتی ہوں””نہیں مجھے بھوک نہیں لگ رہی” ان کے اٹھنے پر اس نے فوراً منع کیا تھا۔۔جلال کی نگاہیں اسکی ہتھیلی پر گئیں جو بری طرح چھلی ہوئی تھی۔۔”بڑی اماں آپ بیٹھیں میں خود کرلوں گا””نہیں مجھے کچھ نہیں کھانا بس مجھے جانا ہے”اسکی ایک ہی ضد تھی جلال نے گہرا سانس بھرے اسے دیکھا۔”زرمینے بی بی ضد بیکار ہے میں آپ کو اکیلے اس گھر سے نکلنے نہیں دوں گا صبح ہونے سے پہلے آپ یہاں سے نہیں جا سکتی اس لئے خاموشی سے بیٹھی رہیں”جلال کی سخت آواز پر اسکا سر جھکا تھا۔۔”میں آتی ہوں”امینہ بیگم جلال کو اشارہ کرتے اٹھ کر اندر بڑھی تو اس نے ایک سر اسکے جھکے سر کو دیکھا پھر اندر سے فرسٹ ایڈ باکس لے کر اسکے سامنے آ بیٹھا۔۔”ہاتھ دیکھائیں””پلیز مجھے جانے دیں مجھے یہاں نہیں رہنا” اسکی ایک ہی ضد تھی جلال نے غصے سے اسے دیکھا اسکی غصے بھری نظروں سے سہمتے وہ سر جھکا گئی۔۔۔”ہاتھ دیکھائیں مجھے” اسکا ہاتھ زبردستی اپنے سامنے کئے وہ اسکا زخم صاف کرنے لگا تکلیف سے زرمینے کی آنکھیں بھیگی تھیں ۔”ہاتھ منہ دھو لیں تاکہ میں اس پر دوائی لگاؤ” اسکا انداز اس قدر اٹل تھا کہ وہ سر ہلاتی آنگن میں بنے واش بیسن کے پاس چلے گئی۔۔اس شخص کی وجہ سے تو وہ دور جانا چاہتی تھی اور قسمت اسے اسکی شخص کے گھر لے آئی تھی۔۔۔پانی پڑتے ہی زخم جلنے لگے تھے ۔۔ کپڑے گیلے ہاتھوں سے صاف کرتے اس نے اپنا منہ اچھے سے دھویا۔۔۔جب تک وہ منہ دھو کر واپس آئی بڑی اماں کھانا کھا چکی تھیں۔۔وہ انکار کرنا چاہتی تھی مگر جلال کی نظروں سے خوفزدہ ہوتے وہ جلدی سے کھانا کھانے لگی۔۔بڑی امینہ کی نگاہوں سے اسکا یوں ڈرنا چھپا نہیں رہا تھا۔۔۔بمشکل چند نوالے زہر مار کھاتے وہ اپنے ہاتھ پیچھے کر گئی۔۔”آجاؤ بچے میں تمہیں کمرے میں لے جاؤں آرام کرو” اسکے دوا کھاتے ہی امینہ بیگم نے اسے اندر کمرے میں بھیجا اور خود جلال کو اشارہ کرتے اپنے کمرے میں آگئیں۔۔۔”یہ سب کیا ہے جلال؟ وہ بچی اتنی خوفزدہ کیوں ہے ؟””وہ سب سے ایسے ہی خوفزدہ رہتی ہیں نئی بات نہیں ہے””حویلی میں اسے مارا جاتا تھا نا ؟””ہمم اب بھی یہی ہوتا ہے””شریف آیا تھا آج میرے پاس ” ان کی بات پر وہ بری طرح چونکا تھا۔۔”کیا کہا انہوں نے آپ سے “؟”اس نے جو بھی کہا مجھے اس پر اعتراض نہیں ہے معصوم بچی ہے اسے اپنے نکاح میں لے لو جلال۔۔۔””میں کیسے بڑی اماں آپ سب کو کیا ہوگیا ہے؟””کیوں نہیں لے سکتے اتنا کیا مشکل ہے یہ؟””بڑی اماں میں ان سے کئی سال بڑا ہوں پہلے سے شادی شدہ ہوں اگر وہ نا مری ہوتی تو میں ایک بچے کا باپ ہوتا ۔۔۔ کہاں سے جوڑ بنتا ہے ہمارا؟”وہ زچ ہوا تھا یہ ساری باتیں وہ سہیل شاہ کے سامنے نہیں کہہ سکا تھا۔”یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے تم ابھی غیر شادی شدہ ہو تم اسے اپنا نام دے دوں جلال۔۔ اسے زندگی کی طرف لاؤ اسے خوشیاں دو وہ معصوم بچی اتنی تکلیفیں سہنے کے لئے پیدا نہیں ہوئی ہے۔۔۔””تو آپ کیا چاہتی ہیں؟””اس بچی کو اپنے نکاح میں لے کو مجبوراً نہیں دل سے اس رشتے کو قبول کرو اسکو اپنی زندگی میں شامل کرو تم دونوں ٹوٹے بکھرے ہوئے ہو تم دونوں ہی ایک دوسرے کو جوڑ سکتے ہو “ان کی بات پر اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔”جلال۔۔۔ مان جاؤ تاکہ ہم کل ہی نکاح کی رسم کر سکیں””آپ ہتھیلی پر سرسوں مت جمایا کریں بڑی اماں۔۔۔ ابھی میں جا رہا ہوں بہت سارے مسئلے میرے منتظر ہیں جلدی آجاؤں گا آپ سو جائیں ” انہیں کہتا وہ وہاں سے نکلا تھا۔۔۔_______________


ضوریز سے پہلے ہی گھر آ چکی تھی۔۔شائستہ بیگم نے حیرت سے اسے دیکھ چونکی۔۔کیونکہ جب وہ گئی تھی تو لباس کا رنگ الگ تھا اور اب۔۔”امی زارون کہاں ہے؟” ان کی نگاہوں کو رخ بدلنے کی خاطر وہ زارون کا پوچھ گئی۔۔،”کامران کے ساتھ باہر گیا ہے بس آتا ہی ہوگا””ٹھیک ہے میں زارون کے لئے اسکی پسند کا کیک بنا رہی ہوں آپ کچھ کھائیں گیں؟””سکون کا سانس لے لو بیٹا ابھی تو آئی ہو “”میں بالکل بھی نہیں تھکی امی ویسے بھی ابھی تو کام تھوڑا سا ہی تھا آج انہوں نے زیادہ کام نہیں کروایا میں فریش ہوں “”اچھا ٹھیک ہے میں تو اسی میں خوش جو تم بنا لو” مسکرا کر کہتے وہ ٹی وی دیکھنے لگی جبکہ وہ پہلی فرصت میں اوپر آئی تھی اور چینج کیا تھا اچھے سے ریڈی ہو کر اس نے سر پر ہاتھ مارا۔۔۔اب ریڈی ہو گئی تھی تو کیک کیسے بناتی ۔”اللہ عمائم۔۔۔ کیا حرکت ہے” اپنا حلیہ دیکھتے وہ چینج کرنے ارادہ ترک کرتی کچن میں آگئی۔۔۔”کیا ہو رہا ہے!” وہ انہماک سے کچن میں مصروف تھی جب عقب سے آتی ضوریز کی پکار کر خوف سے چونکی۔۔”یا اللّٰہ ضوریز آپ نے ڈرا دیا۔۔” دل پر ہاتھ رکھے اس نے آنکھیں پھیلائے ضوریز کو دیکھا۔۔”ابھی ڈرانے کی باری ہماری ہے اس لئے اگر آپ کا کام ہوگیا ہے تو چلیں آپ کے گھر جانا ہے وکیل صاحب وہاں پہنچ جائیں گے اپنے وقت پر””میرا جانا ضروری ہے کیا ؟”اسکے چہرے پر ڈر واضح تھا۔۔ضوریز نے آہستہ سے اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں تھاما ۔۔”میں ہوں ساتھ ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟””میں نہیں ڈر رہی” اسکی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالنے کی کوشش کرتے اس نے نروٹھے انداز میں کہا۔ضوریز نے مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔”پکا نہیں ڈرتی ؟””نہیں” صاف انکار۔”پھر روم میں چلیں ؟” اسکی بات کا مطلب سمجھتے عمائم کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔”کیا بدتمیزی ہے میں ایسا کچھ نہیں کر رہی””کیسا نہیں کر رہیں ؟” وہ شرارت پر آمادہ تھا۔۔عمائم نے بے بسی سے اسے دیکھا جو اسکی حالت پر قہقہ لگا اٹھا ۔۔”ریلکس ابھی تو کچھ نہیں کر رہا جلدی سے چائے فنش کریں پھر ہمیں نکلنا ہے اور بی بریو میرے ہوتے ہوئے آپ کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا”اسکے گال سہلاتا وہ اسکے چہرے پر جھکتا اسکی سانسوں کو اپنی گرفت میں قید کرگیا۔۔۔یوں کچن میں اسکی بے باک حرکت پر عمائم کی آنکھیں پھیلیں۔۔۔عمائم کی کمر کو مضبوطی سے تھامے ضوریز نے اسے اپنے قریب کیا تھا اتنا کہ ان کے بیچ ہوا کا گزر بھی نہیں تھا ۔۔وہ مدہوش سا اسکے ہونٹوں پر جھکا عمائم کی سانسیں خود میں اندیلتا اسے بے بس کر چکا تھا۔۔ضوریز کا گریبان سختی سے پکڑے وہ مکمل اسکے حصار میں تھی جب اچانک آہٹ پر وہ ایک دم سے گھبرائی وہی ضوریز نے نرمی سے اسے خود سے الگ کرتے اسکے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھنے لگا۔”آپ۔۔۔””حلیہ ٹھیک کرلیں ورنہ لوگوں کو غلط فہمی ہوسکتی ہے” شرارت سے کہتا وہ اسکے لبوں کو انگوٹھے سے صاف کرتا اسے کپکپانے پر مجبور کرگیا۔”آپ بہت بدتمیز ہیں” اسکا ہاتھ پیچھے کرتی وہ جلدی سے اسکی پہنچ سے دور ہوئی تھی۔۔”ابھی میں نے بدتمیزیاں کی ہی کہاں ہیں مسزز عمائم؟””آپ جائیں یہاں سے پلیز “”اچھا بابا ریلکس جا رہا ہوں اب جلدی سے اپنا کام کر کے باہر آئیں “اسے کہتا وہ وہاں سے نکلا تھا اسکے جاتے ہی عمائم نے سکون کا سانس بھرا تھا
 
قسط_24صبح اسکی آنکھ کھلی تو نگاہیں سیدھا مامون سے جا ٹکرائیں۔۔۔ وہ ابھی تک گہری نیند میں تھا وہ اسکا چہرہ دیکھنے لگی وہ سوتے میں بھی اتنا ہی ہینڈسم لگتا تھا مگر پھر آفس کا منظر یاد کر وہ نگاہیں پھیرتے اٹھ گئی۔جلدی سے فریش ہو کر وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔۔کچھ دیر بعد مامون کی آنکھ کھلی تو شہرے کو کمرے میں نا پاکر اسکا دل ڈوبا تھا تیزی سے بیڈ سے اٹھتا وہ واشروم میں آیا جہاں شہرے کہیں نہیں تھی۔۔دل انجانے خوف سے دھڑکا تھا کیا وہ اسے چھوڑ کر چلے گئی تھی یہ خیال آتے ہی وہ تیزی سے نیچے آیا مگر ڈائننگ ٹیبل کے پاس شہرے جو کھڑے دیکھ اسکی جان میں جان آئی تھی۔”گڈ مارننگ لٹل گرل۔۔۔ یہاں کیا کر رہی ہو ؟””آج کالج کا فرسٹ ڈے ہے میں لیٹ نہیں ہونا چاہتی “”اوکے میں بس جلدی سے ریڈی ہو کر آتا ہوں ” اسے کہتا وہ تیزی سے اوپر آیا تھا فریش ہو کر وہ نیچے آیا تو شہرے اپنا فریک فاسٹ کر رہی تھی۔مامون نوٹ کر رہا تھا وہ کل سے کافی خاموش خاموش ہے اس سے لڑ بھی نہیں رہی تھی۔۔اپنا بریک فاسٹ مکمل کر وہ بنا مامون کی جانب دیکھے اپنا بیگ اٹھاتے باہر نکل گئی۔مامون نے حیرت سے اسے جاتے دیکھا اور پھر اپنا ناشتہ فنش کرتا وہ اسکے پیچھے باہر تک آیا تھا جو گاڑی کے پاس کھڑی گاڑی کو گھور رہی تھی ۔”لٹل گرل کیا ہوگیا ہے ٹھیک سے بریک فاسٹ کیوں نہیں کیا؟””مجھے بس اتنی ہی بھوک تھی اب کالج جانا ہے میں فرسٹ ڈے لیٹ نہیں ہونا چاہتی ” اسکی بات پر مامون سر ہلاتا اسکے لئے گاڑی کا دروازہ کھولتے ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔۔پورا راستہ خاموشی سے کٹا تھا مامون کو اسکی خاموشی بالکل بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی۔۔”کل سے مجھے ڈراپ کرنے کی نیڈ نہیں ہے میں خود بس سے آجایا کروں گی””واٹ۔۔ آر یو میڈ یہ ملک یہ شہر تمہارے لئے نیا ہے تم کیسے اکیلے جاؤ گی اور ویسے میں آئی وانٹ ٹو ڈراپ مائے وومن”اسکی بات پر شہرے کے چہرے پر تمسخر بھری مسکراہٹ ابھری۔”مائے وومن ہونہہ””کچھ کہا ؟””نہیں پلیز جلدی گاڑی چلائیں”اسے کہتے وہ رخ موڑے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔۔کچھ ہی دیر میں گاڑی کالج کے باہر رکی تو شہرے سب سے پہلے باہر نکلی تھی۔۔اسکی پھرتی دیکھ مامون بھی خاموشی سے گاڑی سے اترتا اسکے پاس آیا تھا اسکے چہرے کے دونوں اطراف ہاتھ رکھے مامون نے ہولے سے اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے ۔۔”اپنا خیال رکھنا اور لڑکوں سے دور رہنا ساری توجہ پڑھائی پر ہونی چاہیے”اسکی بات پر شہرے نے محض سر ہلانے کر اکتفا کیا تھا۔۔”گڈ اب جاؤ””اوکے بائے” اسے کہتے وہ فوراً سے مامون کی نظروں سے اوجھل ہوئی تھی۔اس کے بدلے انداز مامون کو پریشان کر رہے تھے ۔۔لیکن اس معاملے میں وہ فلحال کچھ نہیں کرسکتا تھا اس لئے خاموشی سے وہاں سے چلا گیا جبکہ وہیں دوسری طرف شہرے نئے لوگوں کے درمیان موجود تھی پروفیسر نے اسکا تعارف پوری کلاس میں کروایا تھا۔”ہیلو شہر آئی ایم رچرڈ” اپنے پیچھے سے آتی آواز پر شہرے نے گردن موڑ کر رچرڈ کو دیکھا۔لمحے کو مامون کی باتیں اسکے دماغ میں آئی تھی مگر پھر سر جھٹکتے وہ رچرڈ سے باتیں کرنے لگی۔۔شہرے کو وہ کافی اچھا لگا تھا فنی سا۔۔ اسکے ساتھ کینٹین میں بیٹھے وہ رچرڈ کی باتوں پر ہنستی رہی تھی ۔”تم کہاں سے ہو ؟ ایشائن؟””یس فرام پاکستان ۔۔۔ میں یہاں اپنے انکل کے ساتھ رہتی ہوں” شہرے نے جان کر جھوٹ بولا تھا مگر وہ نہیں جانتی تھی یہ جھوٹ اسے کتنا بھاری پڑنے والا ہے۔۔۔۔۔




“اب میں چلتی ہوں””اوکے میں بھی ساتھ آتا ہوں”اسکی بات پر شہرے نے فوراً سے اسے منع کیا تھا۔۔”نو نو میرے انکل مجھے لینے آئیں گے اور وہ بہت اسٹرکٹ ہیں”رچرڑ کو منع کرتے وہ سیدھا باہر آئی جہاں مامون کی گاڑی پہلے سے وہاں موجود تھی کالج کے باہر موجود چند لڑکیاں مامون کو ندیدی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی انہیں اگنور کرتے شہرے سیدھا گاڑی میں آکر بیٹھی تھی ۔”سب خیریت کیا ہوا یے؟””کچھ نہیں ہوا۔۔ میں نے کہا تھا نا کہ مجھے لینے نہیں آنا سب لڑکیاں آپ کو دیکھ رہی ہیں””تو کیا تم جیلس ہو رہی ہو ؟”وہ اسے تنگ کرتے بولا مگر شہرے نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔”واٹ ہیپنڈ شہرے ؟ مجھے اگنور کیوں کر رہی ہو؟””کچھ نہیں ہوا میں بس گھر جانا چاہتی ہوں ” سنجیدگی سے کہتے وہ باہر کی جانب دیکھنے لگی۔مامون کا شدید غصہ آیا تھا مگر بنا کچھ کہے وہ خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا ۔گھر پہنچتے وہ سیدھی اپنے کمرے میں آئی تھی مامون بھی اسکے پیچھے کمرے میں آتا اسکا بازو تھام اسکا رخ اپنی جانب کر گیا۔۔”میں لاسٹ ٹائم پوچھ رہا ہوں شہرے کیا ہوا ہے۔۔۔ تم مجھے کیوں اگنور کر رہی ہو ؟””کچھ نہیں ہوا ” چڑ کر کہتے اس نے اپنا بازو مامون کی گرفت سے آزاد کروانا چاہا مگر مقابل کی گرفت مضبوط تھی۔۔”اوکے فائن تو تمہیں اس بات کی سزا ملے گی “اتنا کہتے مامون نے اسکے ہونٹوں کو قید کیا تھا۔۔وہ لمحے میں اسکی سانسیں بے ترتیب کرگیا تھا”یہ کیا بدتمیزی ہے میں نے کہا تو ہے کچھ نہیں ہوا میں بس تھک گئی ہوں شاور لوں گی تو ٹھیک ہوجاؤں گی””اوکے مان لیتا ہوں جلدی سے شاور لو پھر ہم ڈنر کرتے ہیں “اسے کہتا وہ باہر نکلا تھا۔۔۔ڈنر کے بعد بھی اسکا رویہ تبدیل نہیں ہوا تھا اس لئے خاموشی سے وہ اٹھ کر روم میں جا کر سو گئی۔مامون کا دل کیا اسکے پاس جا کر اسکا دماغ ٹھکانے پر لگا دے مگر عین وقت پر آنے والی کال اسے روک گئی۔۔کام ضروری تھی اسکے آفس میں نیو برینڈ لاؤنچ ہونے والا تھا کل شو تھا اس لئے کچھ دیر کو شہرے کو بھولتا وہ اپنے کام میں مصروف ہوا تھا جبکہ شہرے نے اسکے کمرے میں نا آنے پر سکون کا سانس لیا تھا مگر یہ سکون عارضی تھا۔۔۔۔______________

کمرے میں آتی روشنی جاذب کی نیند خراب کرنے کا باعث بنی تھی۔ کسلمندی سے ہاتھ پھیلاتے وہ تھما تھا نگاہیں بیڈ کے دوسری جانب گئیں جو خالی تھی۔۔رات کے مناظر اسکی آنکھوں کے سامنے لہرائے تو وہ جیسے ہوش کی دنیا میں لوٹا تھا۔ایک جھٹکے سے بلینکٹ خود پر سے دور پھینکتا وہ پاس پڑی اپنی شرٹ پہنتا بیڈ سے اٹھا تھا۔باتھ روم کا دروازہ کھلا تھا جس کا مطلب تھا نور اندر نہیں تھی۔۔”یہ کہاں گئیں”؟ خود سے بڑبڑاتے وہ باہر آیا نیچے بھی وہ کہیں نظر نہیں آئی اس سے پہلے اسکی پریشانی بڑھتی جاذب کی نگاہ ٹیرس کے کھلے دروازے پڑیں جہاں سے نظر آتے نور کے آنچل کو دیکھ اسکی جان میں جان آئی تھی۔۔۔گہرا سانس بھرتے وہ دروازہ لاک کرتے ٹیرس کی جانب آیا جہاں وہ زمین پر گھٹنوں میں منہ بیٹھی تھی۔۔”یہاں کیوں بیٹھی ہیں صبح صبح اٹھیں””,نورے میں آپ سے مخاطب ہوں” اسے ہنوز گھٹنوں میں منہ دئیے بیٹھے جاذب نے دوسری بار اسے پکارا جو اپنے کان بند کئے بیٹھی تھی۔۔۔گہرا سانس بھرتے اس نے خود کو ریلکس کیا اور پھر جھک کر وہ نورے کے سامنے بیٹھا تھا۔۔”ایسا بھی کچھ نہیں کیا میں نے جو آپ کو منہ چھپانا پڑ رہا ہے” دانتوں تلے لب دبائے وہ سنجیدگی سے بولا تھا مگر اسکی بات پر نورے نے جھٹکے سے سر اٹھائے اسے دیکھا اسکا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔۔”ایسا آپ جانتے ہیں نا آپ نے کیا کیا ہے آپ کیسے میرے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں”؟ وہ اسکی تھی جاذب کو اسکی آنکھوں میں آنسو برے لگے تھے آہستہ سے اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھرے وہ اپنے لبوں سے اسکے آنسو چنتا اسے ساکت کر گیا تھا۔۔”جتنا نرمی سے میں نے آپ کو سمیٹا ہے اسکے بعد یہ رونا بنتا نہیں تھا نورے جاذب شاہ”اسکی ناک سے اپنی ناک مس کرتا وہ زومعنی لہجے میں کہتا اسکے لال سرخ کر گیا تھا۔۔”دشمن کی بیٹی کے ساتھ جو کرتے ہیں تم نے بھی میرے ساتھ وہی کیا ہے جازب شاہ ” خود کو اس سے دور کرنے کی کوشش کرتی وہ ہلکان ہوئی تھی مگر مقابل کی گرفت مضبوط تھی۔۔۔وہ وہی سوچ رہی تھی جو جاذب نے اس سے کہا تھا۔۔ہولے سے مسکراتے وہ اچانک ہی اسے بازوؤں میں بھر گیا۔۔اس اچانک افتاد پر نورے کی آنکھیں پھیلی تھیں۔۔بھرپور ہاتھ پیر چلاتے مزاحمت کرتی وہ غصے سے جاذب کے کندھے پر دانت گاڑھ گئی۔۔”نورے شاہ۔۔۔”اسے بیڈ پر لیٹاتے وہ اس پر حاوی ہوتا اسکے گال پر دانت گاڑھ گیا۔۔۔”جاہل جنگلی انسان”جاذب کے سینے پر ہاتھ مارتے وہ غصے سے چلائی تھی یہ شخص آخر کس قسم کا تھا اسے سمجھ نہیں آتا تھا۔”ہاں جنگلی تو ہوں میں””ظاہر ہے جس کی بہن گھر سے باہر اور اسے اپنی پرواہ ہو وہ نارمل انسان نہیں ہوسکتا “”بیوی آپ میری فکر کریں وہ زیادہ بہتر ہے میری بہن کہاں ہے اور کیسی ہے میں اچھے سے جانتا ہوں”..جاذب کی بات پر اس نے مزاحمت ترک کرتے اسے حیرت سے دیکھا۔۔”کہاں ہے زرمینے؟””لگتا ہے نند سے کافی دوستی ہوگئی ہے””شٹ اپ ” اسکے نند بولنے پر وہ بے ساختہ اسے چپ رہنے کا کہتی اسکے ماتھے پر بل ڈال گئی۔”اتنی بدتمیزی کیوں کرتی ہیں نورے شاہ۔۔۔ کیا آپ کو اپنی جان پیاری نہیں ہے ؟””نہیں عزت پیاری تھی جو آپ “”شش۔۔۔ کوئی فضول بکواس نہیں” اس سے پہلے وہ کچھ الٹا بولتی جاذب اسے چپ کرواتا اسکی سانسوں کو اپنی سخت گرفت میں لے گیا۔۔۔نورے نے سختی سے آنکھیں بند کئے اسکے لمس کو محسوس کیا تھا۔۔۔”ہمارے درمیان بھلے دشمنی مگر سے تعلق میں نے ہوش و حواس میں بنایا تھا اور بیوی ہو بیوی رہو گی اگر اس ننھے سے دماغ میں کوئی خرافاتی بات آئی اور پھر وہ بات زبان پر آئی تو میں اچھے سے سبق سکھانا چاہتا ہوں نورے شاہ”اسکے منہ کو نرمی سے اپنی مٹھی میں دبوچے وہ اسکے کان میں سرگوشی کرتا اسکی جان نکال رہا تھا وہ اچھے سے اسکے ہاتھوں کی نرم گرفت محسوس کر رہی تھی یہ شخص عجیب تھا لفظوں کے مقابلے میں اسکا عمل ہمیشہ نرمی لئے رکھتا تھا۔۔”اب اٹھو اور تیار ہو ہمیں کچھ دیر بعد کہیں جانا ہے” اسے اپنی گرفت سے آزادی دیتے وہ اس کے اوپر سے اٹھتا ڈریسنگ میں بند ہوا تھااسکے جاتے ہی سکھ کا سانس لیتے نورے نے گھور کر ڈریسنگ روم کے چند دروازے کو دیکھا یہ شخص اسکا دشمن تھا بھی یا نہیں وہ سمجھ نہیں سکی تھی۔۔”مجھے ماضی کے بارے میں جاننا ہی ہوگا آخر کیوں کہ شخص نفرت نفرت کہتے ہوئے بھی ٹھیک سے نفرت نہیں کر رہا “خود سے کہتے وہ اپنا حلیہ درست کرتے الماری کی جانب بڑھی تھی۔۔۔تھوڑی دیر میں وہ دونوں باہر جانے کے لئے تیار تھے۔۔”اچھی لگ رہی ہیں میری بیوی بن کر” جاذب کی بات پر چادر پہنتے نورے کے ہاتھ تھمے تھے اس نے جاذب کو ایک گھوری سے نوازہ۔۔”شٹ یار” اچانک اسکی افسوس بھری آواز پر نور اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔۔”میں نے تو سنا تھا قربت کے لمحات کے بعد بیوہ شوہر سے شرماتی ہے گھبراتی ہے لال ٹماٹر جیسے۔۔۔مگر آپ تو شعلہ جوالہ ۔۔ کوئی بیوی والی ادائیں ہی نہیں ہیں”وہ سخت بدمزہ ہوا تھا نورے نے اسکی بات پر آنکھیں گھمائیں۔۔”آپ کی اطلاع کے لئے عرض کردوں کہ آپ کی بیوی نہیں ہوں بلکہ بدلہ ہوں اور جو کچھ آپ نے کل میرے ساتھ کیا وہ آپ نے غصے میں کیا محبت میں نہیں آئی سمجھ آپ کے؟” غصے سے کھولتے وہ جاذب کو آئینہ دیکھا گئی۔۔”نہیں سمجھ نہیں آئی مجھے” سینے پر ہاتھ باندھے وہ قریب ہوا تو نورے نے دو قدم پیچھے لئے تھے۔۔”جاذب شاہ تمہیں کیا لگتا تھا تم میرے ساتھ یہ سب کرو گے تو میں روؤں گی ٹوٹ جاؤں گی نہیں میں اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئی ہوں کیونکہ ایک عزت تھی میرے پاس جو اب نہیں رہی۔۔۔ اب میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہوں بہت جلد میں تم سے اور اس رشتے سے آزادی حاصل کرلوں گی اور تم کچھ نہیں کر سکو گے۔۔۔” اپنے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہتی وہ جازب کو چونکا گئی تھی۔۔۔”تم اس رشتے سے کبھی آزادی حاصل نہیں کرسکوں گی،٫ جازب نے اس سے زیادہ خود کو یقیں دلایا تھا۔۔”یہ وقت بتائے گا ابھی تو زرمینے کے پاس جانا ہے ” اسے کہتے وہ کمرے میں رکی نہیں تھی جبکہ جاذب حیرت سے اسے جاتے دیکھ رہا تھا کیا اس نے کچھ غلط کیا تھا کیا اپنا حق لے کر اس نے نور کو خود سے بہت دور کر دیا تھا اسے سمجھ نہیں آیا تھا۔۔۔______________



“بھائی” جاذب شاہ کے سینے سے لگی وہ سسکی تھی۔”یہ کیا حرکت تھی زرمینے ؟ پتا ہے میں کتنا پریشان ہوگیا تھا؟”جاذب کی بات پر نور نے تعجب سے اسے دیکھتے آنکھیں گھمائیں۔۔”مجھے معاف کردیں بھائی””تم اس گھر میں نہیں رہنا چاہتی تو ٹھیک ہے میں تمہیں فورس نہیں کروں گا مگر میں تمہیں اکیلے نہیں چھوڑ سکتا “اسکی بات پر زرمینے کے ساتھ نور بھی چونکی تھی۔۔”میں نے ایک فیصلہ لیا ہے امید کرتا ہوں تم اس میں میرا ساتھ دو گی”جاذب کی بات پر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔”کیسا فیصلہ بھائی؟””ابھی کچھ دیر میں تمہارا جلال سے نکاح ہو رہا ہے اور یہ نکاح کسی بھی طرح کی زور زبردستی سے نہیں ہوگا اگر تمہیں انکار ہے تو میں یہ نکاح نہیں کرواؤں گا””ہونہہ” نورے کے ہونہہ پر جاذب نے تنبہہی نگاہوں سے اسے گھورا۔۔”جلال۔۔۔ ان کے ساتھ زبردستی” زرمینے کے ٹوٹے پھوٹے جملے جاذب کو اچھے سے سمجھ گیا تھا۔۔”اسے کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ وہ خود میرے پاس آیا تھا آپ کا پروپوزل لے کر کیا اب بھی آپ کو اعتراض ہے؟”جاذب کی بات پر وہ سوچ میں پڑی تھی وہ حویلی واپس نہیں جانا چاہتی تھی جلال سے شادی کر کے وہ حویلی میں بار بار ذلیل ہونے سے بچ سکتی تھی اور پھر اس نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔جاذب نے محبت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا کچھ دیر میں اسکا نکاح ہونے والا تھا مگر خوشی۔۔ اسکا دل خالی تھا۔۔۔____________عمائم نے پریشان نظروں سے ضوریز کو دیکھا اور پھر اپنے سامنے موجود افتخار ماموں کے گھر کو۔عابدہ بیگم کو پہلے ہی ضوریز نے اپنے آنے کی اطلاع دے دی تھی۔”ضوریز مجھے ڈر لگ رہا ہے””کس بات کا ڈر ؟””پتا نہیں ” آہستہ سے کہتے اس نے اپنا سر جھکایا ضوریز نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اسکا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں قید کیا۔۔”میں ہوں آپ کے ساتھ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں اگر ابھی سے اتنا ڈریں گی تو آگے اپنا حق کیسے وصول کرینگی ؟”ضوریز کی بات پر اس نے ضوریز کو دیکھا جو اسکے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا دباؤ بڑھاتا اسے اپنے ساتھ لئے اندر بڑھا تھا۔”ارے آجائیں ضوریز صاحب” اسے اندر آتے دیکھ افتخار ماموں اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے۔۔”بیٹھیں رہیں ماموں صاحب ” انہیں بیٹھے رہنے کا اشارہ کرتے وہ خود عمائم کو لئے اپنے ساتھ بیٹھا تھا عابدہ بیگم ناسمجھی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔”خیریت آپ نے اچانک آنے کا کہا؟””ہممم۔۔ بس ابھی کچھ دیر میں ہی آپ کو پتا چل جائے گا وکیل صاحب آتے ہی ہونگے ارے یہ لیں آگئے” بولتے ساتھ اسکی نگاہ وکیل صاحب پر پڑی تو وہ فوراً اپنی جگہ سے کھڑا ہوا ۔افتخار ماموں نے حیرت سے وکیل صاحب کو دیکھا۔”وکیل صاحب کو کیوں بلایا ہے سب خیر ہے نا؟” افتخار ماموں حیرت سے انہیں دیکھ رہے تھے۔جو مسکراتا سر ہلاتے وکیل صاحب کو اشارہ کر گیا۔۔”میں یہاں منظور صاحب کی وصیت کی وجہ سے آیا ہوں” وکیل صاحب کی بات پر افتخار ماموں کے کان کھڑے ہوئے۔”اس حوالے سے ہماری بات ہو تو گئی تھی ۔۔””معاف کیجئے گا افتخار صاحب اس دن میں نے آپ کو غلط وصیت سنا دی تھی اور کسی اور کی معلومات آپ کو دے دی تھی دراصل “”ایک منٹ یہ کیسا پھدا مذاق کر رہے ہیں ” وہ ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھے تھے عمائم نے خوف سے ضوریز کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما۔۔”بیٹھ جائیں ماموں صاحب آپ جاری رکھیں وکیل صاحب”ضوریز کے کہنے پر وکیل صاحب نے کچھ کاغذات عمائم کے حوالے کئے۔۔وصیت کے مطابق آپ کے کاروبار کے پچھتر فی صد شئیرز عمائم منظور کو ان کی شادی کے بعد ملنے تھے””,پچھتر؟” عمائم نے حیرت سے وکیل صاحب کو دیکھا ایسا کچھ اسکے علم میں نہیں تھا اسے بس آدھے حصے کا پتا تھا۔”جی ہاں آپ کے والد صاحب نے بقیہ پچس فیصد اپنی بیگم کے نام کیا تھا اور آپ کی شادی تک پورا سو فیصد آپ کی والدہ کا تھا مگر اب ان کے پچس اور آپ کے پچھتر” وکیل اپنی بات سے افتخار ماموں اور رابعہ ممانی کے سر پر دھماکے کر رہا تھا۔۔”یہ ناممکن ہے ایسا کیسے ہوسکتا ہے تم غلط وصیت سمجھ رہے ہو یہ سب عابدہ کا تھا اور میں نے اس کاروبار میں محنت کی ہے یہ سب میرا ہے۔۔ یہ جعلی وصیت سے تم میرا کاروبار مجھ سے نہیں چھین سکتے” وہ غصے سے پاگل ہوئے تھے عابدہ بیگم تو پریشانی سے یہ سب دیکھ رہی تھیں ان کی سمجھ سے ہر چیز بالا تر تھی۔۔۔”آپ کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا عمائم کے سائن ہوچکے ہیں عابدہ بیگم آپ کے دستخط چاہیے””وہ سائن نہیں کرے گی” افتخار ماموں ایک دم سے بولے تھے۔”اس سے فرق نہیں پڑتا بنا دستخط کے بھی جائیداد عمائم کو منتقل ہو چکی ہے یہ بس فرضی کاروائی ہے” وکیل صاحب کی بات پر افتخار ماموں کا دماغ گھوما تھا یہ پل میں کیا سے کیا ہوگیا تھا۔عابدہ بیگم نے ایک نظر اپنے بھائی کو دیکھا اور خاموشی سے وکیل کی بتائی جگہ پر دستخط کر دئیے۔۔افتخار صاحب کو سارا کچھ اپنے ہاتھوں سے نکلتا محسوس ہوا تھا اور وہ کچھ نہیں کر سکے تھے کچھ بھی نہیں اتنے سالوں کے بعد بھی وہ خالی ہاتھ رہ گئے تھے۔۔”اوکے اب ہم چلتے ہیں” انہیں کہتا وہ عمائم کا ہاتھ تھامے باہر آیا تھا اسے گاڑی میں بیٹھاتے وہ گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہی تھا جب اچانک عمائم اسکے سینے سے لگی تھی ۔اسے اپنے سینے سے لگے دیکھ وہ شاکڈ ہوا تھا۔۔”تھینک یو سو مچ ضوریز۔۔۔ تھینک یو سو سو مچ۔۔۔۔۔ آپ کا یہ احسان میں کبھی نہیں چکا سکتی””چکا تو سکتی ہیں”ضوریز کی بات پر عمائم نے جھٹکے سے سر اٹھائے اسے دیکھا۔،”کیسے ؟””یہاں کس کر کے” اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے وہ فرمائش کرتا عمائم کو شرم سے لال سرخ کرگیا۔۔”آپ””بہت اچھا ہوں ہیں نا،؟”شرارت سے کہتے اسکا چہرہ اوپر کرتا وہ اسکی آنکھوں پر لب رکھ گیا۔۔۔”لفظی شکریہ نہیں چاہیے مجھے کچھ اچھا سا سوچیں” اسکے ماتھے پر لب رکھتا وہ پیچھے ہوتے گاڑی اسٹارٹ کر گیا۔۔۔
 
قسط_25″ماشاءاللہ میں صدقے جاؤں ” امینہ بیگم نے اسکے سر پر سرخ آنچل ڈالتے اسکا صدقہ دیا تھا۔۔”آخر کو میرے گھر بھی خوشیاں آئیں”کہتے ساتھ انہوں نے زرمینے کا ماتھا چوما تھا۔۔”نور بیٹا آپ یہاں بیٹھو میں زرا باہر دیکھ آؤ” نور کو کہتے وہ کمرے سے نکلیں تو نور فوراً زرمینے کی جانب متوجہ ہوئی۔۔”زرمینے اگر تم یہ نکاح نہیں کرنا چاہتیں تو مجھے بتاؤ میں جازب شاہ سے بات کروں گی ایسے خود کو کسی بھی رشتے میں زبردستی باندھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے””میں یہ نکاح اپنی مرضی سے کر رہی ہوں بھابھی ۔۔۔ میں اس حویلی میں واپس نہیں آنا چاہتی میں اتنی بہادر نہیں ہوں مجھے کسی کے سہارے کی ضرورت ہے بھائی نے اگر یہ فیصلہ لیا ہے تو میں جانتی ہوں اسکے پیچھے وجہ ہوگی “”لیکن “”میں اپنے بھائی پر یقین کرنا چاہتی ہوں بھابھی”اسکی بات پر نورے لاجواب ہوئی تھی۔۔گہرا سانس بھرتے وہ زرمینے کو تیار کرنے لگی یہ سامان جازب شاہ لایا تھا شاید اسکے کمرے سے یا کہاں سے وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔”بیٹا مولوی صاحب آئے ہیں” امینہ بیگم کی اطلاع پر سر پر دوپٹہ اوڑھتے نورے سائیڈ ہوئی تبھی جاذب کے ساتھ مولوی صاحب اندر آئے تھے۔۔”زرمینے عمر شاہ کیا آپ کو جلال اجمل کے ساتھ نکاح قبول ہے؟” مولوی صاحب کے پوچھنے پر زرمینے نے سختی سے اپنا دوپٹہ مٹھی میں جکڑا۔۔۔”قبول ہے” سر کو جنبش دیتے آہستہ سے کہتے وہ ایجاب وقبول کرتے خود کو ہمیشہ کے لئے جلال اجمل کے نام کر گئی تھی۔۔وہیں دوسری طرف جلال سے اسکی رضا مندی پوچھی گئی تھی اسکے اقرار کے بعد مبارک سلامت کا شور اٹھا تھا جاذب نے اسے ٹائٹ سے اپنے گلے لگایا تھا۔۔”شکریہ میرے بھائی””شکریہ کر کے آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں” جاذب کے شکریہ پر اس نے نفی میں سر ہلایا۔”یہ نکاح میں نے آپ کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنی مرضی سے کیا ہے اس شکریہ ادا کرنے کی آپ کو ضرورت نہیں ہے سائیں”اسکی بات پر جازب ہولے سے مسکرا دیا۔۔”رشتہ داری مبارک ہو”مسکرا کرتے کہتے وہ واپس سے اسکے گلے لگا تھا۔۔زرمینے سے مل کر وہ نور کو لے کر واپس حویلی آیا تھا جہاں اندر آتے ہی اسے آغا جان کا پیغام موصول ہوا تھا۔نور کو اوپر جانے کا کہتا وہ خود آغا جان کے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔مارے تجسس کے اپنے کمرے میں جانے کے بجائے نور نے آغا جان کے کمرے کا رخ کیا تھا__________”اتنا بڑا فیصلہ تم کیسے اکیلے لے سکتے ہو ؟” سہیل شاہ کی گرجدار آواز پر جاذب نے بغور انہیں دیکھا۔۔۔”آپ تو ایسے ظاہر کر رہے ہیں جیسے یہ آپ کے فیصلے کے خلاف جا کر میں نے کچھ کیا ہوا جبکہ آپ اچھے سے جانتے ہیں آپ بھی ہیں چاہتے تھے کیا کل آپ نے جلال سے بات نہیں کی تھی؟”جاذب کی بات پر سہیل شاہ سے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔۔”میں اپنی بہن کو جلال کو تو دے سکتا ہوں میں کشور پھپھو کے سسرال میں کہیں نہیں وہ بہن ہے میری “”وہ بہن نہیں ہے تمہاری وہ اس طوائف کا خون ہے جاذب شاہ۔۔۔ “وہ ایک دم چیخے تھے ان کی چیخ پر دروازے کے باہر کھڑی نورے نے سختی سے اپنا ہاتھ منہ پر جمایا تھا۔یہ کیسا انکشاف ہوا تھا۔۔۔”آپ شاید بھول رہے ہیں کہ وہ عمر شاہ کی بیٹی ہے اس کی رگوں میں میرے باپ کا خون ہے آغا جان اس خاندان کا خون””ایسا تمہیں لگتا ہے طوائف کی بیٹی طوائف ہی کہلاتی ہے جاذب شاہ اگر ہم نے اسے اتنے سال اس گھر میں برداشت کیا ہے تو تمہاری وجہ سے””تو اب کیا مسئلہ ہے آپ کو آپ چاہتے تھے نا وہ اس گھر سے چلی جائے تو وہ چلے گئی “”تم” وہ کچھ کہنے لگے تھے جب جاذب نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکا۔۔”میں اب سمجھا آغا جان۔۔۔ بہت اچھے سے سمجھ گیا۔۔۔ آپ کو طوائف بہو کے طور پر قبول نہیں تھی تو اسکی بیٹی بھی کبھی قبول نہیں کی آپ چاہتے تھے آپ اسے قبول بھی نا کریں اور اسکی زندگی کے سارے فیصلے بھی آپ کریں آپ کی انا کو یہ گوارا نہیں کہ وہ خوش رہ سکے ٹھیک کہہ رہا ہوں نا میں”؟ اسکا سوال جتنا تلخ تھا اتنا ہی حیران کن بھی۔۔نور کو بالکل امید نہیں تھی کہ وہ یوں اپنی بہن کے لئے ایسے کھڑا ہوگا وہ تو اسے وہی روایتی مرد لگا تھا مگر کیا وہ واقعی روایتی مرد تھا؟””ہاں ٹھیک کہا مگر کیا تم اپنی زمہ داریاں نبھا رہے ہو؟ خون بہا کے نام پر تم اس لڑکی کو بیوی کی حیثیت سے اس گھر میں رکھ رہے ہو میں پوچھ سکتا ہوں آخر اپنے باپ کے قاتل کی بیٹی پر اتنی مہربانی کس لئے ہو رہی ہے؟”ان کے سوال پر نورے کے کان کھڑے ہوئے تھے اسکا رواں رواں کان بن گیا تھا۔۔”آپ اچھے سے جانتے ہیں میں ایسی کسی رسم کو نہیں مانتا۔۔۔ وہ میرے نکاح میں تھی میری بیوی تھی اسے اسی گھر میں آنا تھا جلد یا بدیر””تو پھر کیوں اس سے کہتے ہو کہ وہ سزا کے لئے لائی گئی ہے””آپ کو کب سے میری شادی شدہ زندگی میں دلچسپی ہونے لگی آغا جان؟”وہ اب انہیں یہ نہیں کہہ سکتا تھا وہ ضدی شیرنی اسکے دل کی دنیا تہس نہس کر چکی ہے۔۔۔”میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں جاذب شاہ لوگوں کو ان کی اوقات کے مطابق رکھو تم جان نشین ہو یہاں کی بڑی زمہ داریاں ہیں تم پر””میں اچھے سے لوگوں کو ان کی اوقات میں رکھنا جانتا ہوں آغا جان جو میرے اپنے ہیں وہ میرے ساتھ ہیں اور جو نہیں ہیں وہ آج بھی میری توجہ کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آتے “”جاذب””میں جا رہا ہوں میری بیوی اکیلی ہوگی اور آغا جان ایک آخری بار۔۔۔ آپ اب کوئی ایسا کام نہیں کرینگے جو ہمیں ماضی جیسی تکلیف دے ” انہیں کہتا وہ رکا نہیں تھا مگر اس کے نکلنے سے پہلے ہی نور وہاں سے ہٹی تھی۔۔اسکا دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا آخر جاذب شاہ کے دل و دماغ میں چل کیا رہا تھا اس شخص کا کون سا روپ اصل تھا اسے یہ سمجھنے کے لئے کافی وقت درکار تھا۔۔۔___________


نیکسٹ ڈے وہ مامون کے اٹھنے سے پہلے ہی نیچے کچن میں موجود تھی وہ جتنا ہوسکتا تھا مامون کو اگنور کر رہی تھی۔ڈائننگ ٹیبل پر خاموشی سے ناشتہ کرتے مامون نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔”تمہارے کالج کے بعد ہمیں کہیں جانا ہے تیار رہنا”اسکی بات پر شہرے نے مامون کو دیکھا۔۔”کہا جانا ہے؟””میں تمہیں ہر بات بتانا ضروری نہیں سمجھتا ہوں جیسا کہہ رہا ہوں ویسا کرو”مامون کی بات پر شہرے نے بمشکل نوالہ حلق میں اتارا تھا یونہی ادھورا ناشتہ چھوڑ وہ اٹھ کر باہر آگئی اور یہی حرکت مامون شیرازی کا دماغ گھما گئی تھی۔غصے سے اپنی جگہ سے اٹھتا وہ تیزی سے باہر آتا شہرے کا بازو دبوچ گیا۔۔”تم میرا دماغ خراب کر رہی ہو شہرے مجھے کچھ کرنے پر مجبور مت کرو”اسکا بازو سختی سے دبوچے وہ غرایا تھا۔۔”اوو۔۔۔ اچھا کیا کریں گے پہلے ہی زبردستی مجھے اپنی بیوی بنایا ہوا ہے ابھی بھی کچھ باقی ہے ۔۔ آپ مجھے مارنا چاہتے ہیں اوکے ماریں مجھے کتنا مار سکتے ہیں ماریں”اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کرتی وہ غصے سے بولی تھی۔”واٹ۔۔ ویٹ میں تمہیں کیوں ماروں گا جب میں تمہاری فیملی کو تمھارے کئے کی سزا دے سکتا ہوں”مامون کی دھمکی پر اسکے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔۔”اگر تم اپنی فیملی کی حفاظت چاہتی ہو تو جیسے میں کہتا ہوں ویسے کرو” اسے کہتے وہ گاڑی میں جا بیٹھا جبکہ شہرے کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا شہرے کو کالج ڈراپ کر وہ سیدھا آفس آیا تھا۔۔”افففف یہ لڑکی مجھے پاگل کر رہی ہے آخر مسئلہ کیا ہوا ہے اسکے کیوں یہ سب بکواس حرکتیں کر رہی ہے”خود سے کہتے اس نے خود کو ریلکس کرتے کام میں دھیان تھا آج کا دن اسکے لئے بہت اہم تھا۔۔وہیں دوسری طرف شہرے کو موڈ بری طرح سے خراب تھا رچرڈ کا بات کرنا بھی اسے گرا لگ رہا تھا۔۔”کیا ہوا ہے شہر؟؟ یو لک اپ سیٹ؟””نتھنگ””کینٹن چلتے ہیں”وہ جانا نہیں چاہتی تھی مگر رچرڈ کی ضد کے آگے مجبور ہوکر اسے جانا پڑا آج اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا وجہ شاید مامون اور اسکے درمیان ہونے والی لڑائی تھی۔۔۔

لیکن رچرڑ کی باتوں نے اسکا موڈ ایک دم سے ٹھیک کیا تھا اسکے فضول جوکس پر بے تحاشہ ہنستے اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے اس سب کے دوران اسے وقت کا بالکل بھی احساس نہیں ہوا تھا۔۔باہر مامون اسکا ویٹ کرتے کرتے بالآخر اسے ڈھونڈھتے اندر آیا تھا مگر اسکی خالی کلاس دیکھ مامون کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔۔وہ سیدھا سکیورٹی روم میں آیا تھا جہاں سی سی ٹی وی فوٹیج سے اسے شہری رچرڈ کے ساتھ باتیں کرتی نظر آتی اسکا خون کھولا گئی۔چہرے پر چٹانوں کی سی سختی لئے وہ کینٹن آیا تھا شہرے کو رچرڈ کی بات پر ہنس رہی تھی مامون کو سامنے دیکھ اسکی ہنسی کو بریک لگا تھا چہرے کا رنگ سفید پڑا ۔”مامون۔۔۔ آپ یہاں؟”اسکا دل خوف سے سمٹا تھا۔۔”یس آئی ایم ہئیر ناؤ کم” اسکا بازو دبوچے وہ اسے ساتھ لئے آگے بڑھا جب رچرڈ ان کے سامنے آیا تھا۔”کون ہو تم اور اس طرح شہرے کو کیوں لے جا رہے ہو؟چھوڑو اسے”رچرڈ کی بات پر مامون نے ایک نظر گردن موڑے اسے دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ کا مکا بنائے وہ رچرڈ کے منہ پر مارتا بنا رکے شہرے کو گاڑی میں پھینکنے کے انداز میں اندر کرتا خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا تھا۔خوف سے شہرے کا دل کسی پتے کی طرح لرز رہا تھا۔۔”مامون آئی ایم سوری وہ بس میرا دوست ہے اور کچھ نہیں””میں نے تم سے کہا تھا کہ لڑکوں سے دور رہنا مگر تم نے نہیں سنی اب تم دیکھو بس”اسکی دھمکی پر شہرے کو اپنے رونگھٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوئے تھے۔”مامون پلیز سوری میں آج کے بعد ایسا نہیں کروں گی”وہ حد سے زیادہ رو رہی تھی جبکہ غصے سے مامون کے ماتھے کی رگیں تنی ہوئی تھی۔گاڑی ایک جھٹکے سے گھر کے پورچ میں روکتے وہ اسکا بازو دبوچے اسے سیدھا اوپر لاتا بیڈ پر پھینکتے اس پر حاوی ہوتا اسکی سانیسیں روک گیا۔۔مامون کے لمس میں شدت تھی تکلیف سے شہرے کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔۔وہ جانتی تھی اس نے غلطی کی ہے اس نے مامون کا بھروسہ توڑا ہے۔۔۔ مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتی جو اسٹیلا اور مامون کو یاد کر آگ میں جلتا تھا۔اپنے ہونٹوں پر مامون کے شدت بھرے لمس پر اسکا سانس رکنے لگا تھا۔۔شہرے مزاحمت کرتی اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی جو اسکی سانسوں پر قبضہ جمائے ہوئے تھا اسکے ہونٹوں کو آزادی دیتا وہ اسکی گردن میں جھکتا تھا۔۔اسکے لمس سے بے حال ہوتے شہرے نے اپنے دانت اسکے بازو میں گاڑھ اسے خود سے دور ہونے پر مجبور کیا تھا ۔”کیا کر رہے ہیں آپ ؟”بیڈ سے اٹھتے وہ مامون کی پہنچ سے دور ہوئی تھی اسکا پورا وجود کپکپا رہا تھا۔۔”یہی تو چاہتی تھی نا تم اب کیا مسئلہ ہے؟””مامون۔۔۔ اوکے میں ہوں ہی کون میری اوقات کیا ہے آپ نے مجھے ایک طوائف سمجھا ہوا ہے نا تو آئیں اور لے لیں اپنا حق ” اپنا اسکارف سائیڈ پھینکتے وہ مامون کے سامنے آئی جو اسکی اس حرکت پر ہوش کی دنیا میں واپس آیا تھا۔۔بالوں میں ہاتھ پھیرتے اس نے خود کو ریلکس کیا۔۔”جاؤ یہاں سے اور تیار ہو ہمیں تھوڑی دیر بعد نکلنا ہے” اسے کہتا وہ وہاں رکا نہیں تھا۔شہرے کو کسی اور لڑکے کے ساتھ دیکھا اسکا پورا وجود آگ میں جلنا لگا تھا وہ کیسے کسی اور لڑکے ساتھ بیٹھ سکتی تھی اسکے ساتھ ہنس سکتی تھی جب وہ اسکے ساتھ بات نہیں کر رہی اس سے لڑ نہیں رہی۔۔وہ چھوٹی سی لڑکی مامون شیرازی کو پاگل کر رہی تھی اور وہ پاگل ہو رہا تھا اس لڑکی کو پانے کی طلب شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔۔۔ٹھنڈے پانی کے نیچے کھڑے ہوتے اس نے اپنے اندر لگی آگ کو بجھانے کی ناکام کوشش کی تھی_____________

http://twitter.com/share?url=https:...-episode-25/&text=Dil Ishqam By FN Episode 25

“بہت بہت مبارک ہو عمائم ” شائستہ بیگم نے محبت سے اسے گلے لگایا تھا۔”تھینک یو سو مچ امی””مما ” زارون کی پکار پر عمائم نے اسے گود میں بھرا تھا۔۔فائنلی اس نے اپنے بابا کی محنت ان لوگوں سے واپس لے لی تھی۔۔اس نے عابدہ بیگم کا حصہ افتخار ماموں کے پاس رہنے دیا تھا مگر اپنا حصہ وہ مفت میں انہیں دینے کے موڈ میں ہر گز نہیں تھی۔۔”چلو اب رات بہت ہوگئی ہے آرام کرو زارون چلو آپ بھی کل جانا ہے” شائستہ بیگم اسے کہتے زارون کو لئے اپنے کمرے کی جانب بڑھی تو عمائم نے گہرا سانس بھرے اوپر اپنے کمرے کی جانب دیکھا۔ضوریز نے اسکی بہت مدد کی تھی وہ جتنا اسکا شکریہ ادا کرتی کم تھا۔۔وہ اوپر کمرے میں آئی تو ضوریز صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر مصروف تھا۔”چائے پئیے گے؟””نہیں مجھے نیند آرہی ہے چائے پیوں گا تو نیند خراب ہوگی” اسکی بات کر عمائم نے سر ہلایا تھا۔۔”عمائم۔۔۔ “”جی؟””کم ہئیر”اسکے پکارنے پر وہ آہستہ سے چلتی اسکے پاس آ بیٹھی ضوریز نے اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا تھا۔۔”کل سے آپ پراپر طور پر میرا آفس جوائن کر رہی ہیں اس لئے خود کو ریڈی رکھیں””آفس جوائن کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے کیا ؟” اسکے سوال پر ضوریز نے مسکراہٹ دباتے اسے دیکھا۔”کام کرنا مشکل نہیں ہوتا مگر میرے ساتھ کام کرنا مشکل ہوتا ہے””وہ کیسے ؟””یہ آپ کل جان جائیں گی””آپ کیا کرنے والے ہیں ضوریز ؟” اس نے مشکوک نظروں سے ضوریز کو گھورا جس پر وہ قہقہ لگائے ہنس پڑا۔۔”آپ کے ساتھ کچھ بھی کرنے کا فلحال میرا کوئی ارادہ نہیں ہے میڈم۔۔۔ پہلے ہی بہت زمہ داریاں ہیں آپ پر میں اپنی بھی ڈال دوں گا تو تھک جائیں گی اس لئے ابھی چینج کر کے لیٹیں میں یہ فائل کمپلیٹ کرکے آتا ہوں آپ کے پاس”اسکے گال سہلاتا محبت سے کہتا وہ اسے مسکرانے پر مجبور کرگیا تھا۔__________اگلی صبح اسکی آنکھ اپنے وقت پر کھلی تھی مگر ضوریز کو تیار دیکھ اس نے حیرت سے اسے اور پھر گھڑی کی جانب دیکھا۔۔”میری اسسٹنٹ مجھ سے پہلے آفس پہنچ جاتی تھیں لیکن آپ تو ابھی تک آرام کر رہی ہیں لگتا ہے آپ کو اپنی جاب پیاری نہیں ہے” اسکی بات پر عمائم نے گھور کر اسے دیکھا۔”آپ شاید بھول رہے ہیں میں آپ کی اسسٹنٹ نہیں پارٹنر ہوں”سینے پر ہاتھ باندھے اس نے آئی برو اچکائی جس پر ضوریز مسکراتا اسکے قریب آیا تھا۔۔”میری جان اچھا پارٹنر بننے کے لئے آپ کو بزنس کرنا سیکھنا ہوگا جو میری مدد کے بغیر ممکن نہیں اس لئے میں خوش رہوں گا تو آپ بھی خوش رہیں گی ” اسکی ناک پر کب دھرتا وہ اسے ساکت چھوڑے کمرے سے نکلتا چلا گیا جبکہ اسکے جاتے ہی ہوش کی دنیا میں آتی عمائم تیزی سے واشروم میں بند ہوئی تھی۔۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top