خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Life Story دل عشقم

قسط_22″زرمینے کہاں ہے پھپھو ؟” وہ خود پر ضبط کے کڑے پہرے بٹھائے سنجیدگی سے کشور بیگم کے سامنے کھڑا تھا۔”مجھے کیا ہے کیا میں اس پر نظر رکھتی ہوں؟””آپ بتا رہی ہیں یا نہیں ؟””وہ پوری حویلی میں نہیں ہیں سائیں ” ملازم کی بات پر اس نے ایک قہر بار نگاہ وہاں موجود سبھی نفوس پر ڈالی تھی۔۔”جاذب شاہ یہ وقت اسے ڈھونڈنے کا ہے پلیز آپ اسے جا کر ڈھونڈیں” ساری ناراضگی ایک طرف کر وہ صرف زرمینے کی فکر میں مبتلا تھی۔۔”جلال میں زرمینے کو ڈھونڈنے جا رہا ہوں تمہیں کوئی خبر ملے تو فوراً مجھے اطلاع کرنا۔۔۔”اسے وہیں رہنے کا کہتا وہ تیزی سے باہر بڑھا تھا جبکہ جلال خود اسکے پیچھے ہی باہر آیا تھا۔”شریف لالہ،؟”پاس گزرتے آدمی کو دیکھ جلال نے اسے پکارا۔”کیا ہوا جلال؟””آپ نے زرمینے بی بی کو دیکھا ہے،؟””میں نے اسے شام میں دیکھا تھا جب بڑے سائیں نے انہیں اپنے کمرے میں بلایا تھا۔۔”اسکی بات پر جلال بری طرح چونکا تھا اسی وقت تو وہ سہیل شاہ کے کمرے میں تھا تو کیا زرمینے نے اسکی ساری بات سن لی تھی۔۔؟یہ خیال آتے ہی اسکا دل دھڑکا۔۔”ٹھیک ہے آپ جائیں” انہیں بھیجتا وہ خود تیزی سے باہر نکلا تھا اگر یہ سب اسکی وجہ سے ہوا تھا تو اسے کیسے بھی کر زرمینے کو ڈھونڈنا تھا۔۔۔_____________”یا اللہ میری عزت کی حفاظت کرنا” دل سے دعا کرتے وہ تیزی سے بھاگی تھی کہ اچانک اسکا پاؤں زمین پر پڑے پتھر پر پڑتا اسے منہ کے بل گرا گیا تھا ۔۔۔”یا اللّٰہ” درد سے اسکی کراہ نکلی تھی۔۔”ارے بچے تم ٹھیک ہو اٹھو “نسوانی آواز پر بمشکل اٹھ کر بیٹھتے زرمینے نے سامنے موجود امینہ بیگم کو دیکھا جو پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔”بیٹا تم ٹھیک ہو؟”اسکی سرخ آنکھیں دیکھ وہ پریشانی سے پوچھ رہی تھیں زرمینے سے آہستہ سے ہاں میں سر ہلایا۔۔،”ایسے کیسے بچے اپنا چہرہ دیکھو ہاتھ دیکھو اٹھو میرے ساتھ آؤ””نہیں۔۔۔ نہیں مجھے نہیں جانا ” اس نے خوفزدہ ہوتے دو قدم پیچھے لئے۔۔وہ کسی پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتی تھی..”ارے بچے ڈرو مت ادھر آؤ” امینہ بیگم نے محبت سے اسکا ہاتھ تھاما اسکے ننگے پاؤں زخمی بدحواس حالت دیکھ انہیں اس پر ترس آیا تھا۔”گھر کہاں ہے تمہارا ؟”،”آپ جائیں میں جاتی ہوں” وہ ان کو پریشان نہیں کر سکتی تھی اس لئے آہستہ سے اپنا ہاتھ چھڑاتے اپنے قدم واپس لئے۔۔امینہ بیگم اسے جاتے دیکھتی رہ گئیں۔۔”پتا نہیں کون بچی ہے کیا کروں ایسے ہی جانے دوں ؟” وہ سوچ میں الجھ گئیں تھیں یہاں رکنا بیکار تھا اس لئے سر جھٹکتے وہ اپنے گھر کی جانب بڑھی تبھی انہیں سامنے سے جلال آتا نظر آیا۔۔”ارے جلال تو یہاں کیا کر رہا ہے بچے؟””آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ؟” انہیں اس وقت باہر دیکھ اسے حیرت ہوئی تھی۔۔”تبسم کی طرف گئی تھی رکشہ خراب ہوگیا تو میں وہیں روڈ پر اتر گئی”.”اچھا چلیں میں آپ کو چھوڑ دوں “”نہیں میں چلی جاؤں گی”انہوں نے اسے صاف منع کردیا۔۔”اچھا سن جلال “”جی؟” اسے زرمینے کو ڈھونڈنے کی جلدی تھی۔۔”ابھی میں نے ایک لڑکی کو دیکھا جو بہت بری حالت میں تھی زرا دیکھ تو کون ہے اس نے مجھے تو صاف منع کردیا مدد کرنے سے ” ان کی بات پر وہ بری طرح چونکا تھا۔”کہاں تھی وہ؟””پیچھے حصے کی جانب” ان کے اشارے پر وہ وہاں سے گزرتے بچے کو امینہ بیگم کو لے جانے کا کہتا تیزی سے وہاں سے نکلا تھا اسے زرمینے کو ڈھونڈنا تھا رات ہونے سے پہلے۔۔تیزی سے روڈ پر آتے وہ مڑا تھا جب اسے روڈ کے کنارے وہ کھڑی نظر آئی۔”زرمینے؟” اسکی پکار پر زرمینے نے جھٹکے سے مڑ کر اسے دیکھا چہرے کا رنگ اڑا تھا۔قدم پیچھے لیتے وہ جلال کی نظروں سے دور جانا چاہتی تھی مگر وہ چند قدم کا فاصلہ عبور کرتے فوراً سے پہلے اس تک پہنچا تھا۔”آپ ٹھیک ہیں آپ کو سب حویلی میں ڈھونڈ رہے ہیں چلیں میرے ساتھ”اسکا بازو تھامے وہ آگے بڑھا مگر اسے رکنا پڑا کیونکہ زرمینے کے قدم چلنے سے انکاری تھے ۔”میں حویلی نہیں جاؤں گی آپ جاؤ پلیز””زرمینے آپ کا رات کے اس پہر یہاں اکیلے رہنا ٹھیک نہیں ہے میرے ساتھ چلیں, سائیں پریشان ہیں””مجھے نہیں جانا آپ کو سمجھ کیوں نہیں آرہا ۔۔۔ مجھے کسی پر بوجھ نہیں بننا پلیز ” وہ ایک بار پھر رو دی تھی۔،”زرمینے،””میں اس حویلی پر ایک داغ ہوں مجھے وہاں واپس نہیں جانا” ہچکیوں سے روتے وہ جانے سے انکاری تھی جلال کو خود پر غصہ آیا تھا اسکی وجہ سے وہ لڑکی اس حال پر پہنچی تھی۔۔”اچھا میری بات سنیں آپ حویلی نہیں جانا چاہتی نا ٹھیک ہے مگر میرے ساتھ میرے گھر تو جا سکتی ہیں نا،؟”اس کے سوال پر زرمینے کا سر نا میں ہلا تھا۔”میں آپ کے گھر کیوں جاؤں جب آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں” ہاتھ کی پشت سے بال رگڑتے اس نے ہچکی بھری ۔جلال نے تاسف سے اسے دیکھا اسکی حالت قابل رحم تھی۔اس سے پہلے وہ کچھ سوچتا اچانک ہونے والے فائر نے اسے الرٹ کیا تھا زرمینے کا ہاتھ تیزی سے تھامے وہ ایک سائیڈ ہوا تھا۔۔”یہ۔۔۔””شش۔۔۔ بس میرے پیچھے رہیئے گا زرمینے” اسے اپنے پیچھے کرتا وہ خود آگے ہوا تھا۔وہ اسکی حفاظت کر رہا تھا اسی لمحے زرمینے شاہ کے دل کے دروازے اپنے محافظ کے لئے کھلے تھے جو اسے اپنے پیچھے چھپائے خود کو ہر طرح سے کسی بھی حملے کے لئے تیار کئے ہوئے تھا۔۔۔۔”وہ لوگ یہی آس پاس ہیں ہمارا حویلی جانا ٹھیک ہے آپ میرے ساتھ میرے چلیں””نہیں میں””ضد مت کریں آپ کی جان کو خطرہ ہے” سختی سے کہتا وہ اسکا ہاتھ تھامے اسے اپنے ساتھ لئے ایک جانب بڑھا تھا۔زرمینے نے اسکے مضبوط ہاتھ میں اپنا دبا ہاتھ دیکھا اور اسکے ساتھ اسکے ہمقدم وہ اسکی آگے بڑھتی چلے گئی۔۔۔


وہ گہری نیند میں تھی جب کسی نے اسے جھنجوڑ کر اٹھایا تھا۔۔”لٹل گرل۔۔۔ اٹھو شہرے ۔۔ واک اپ””مجھے اور سونا ہے ڈیول ہے” اسے کہتے شہرے نے بلینکٹ میں اپنا چہرہ چھپایا ۔”سونا کا ٹائم نہیں ہے ہری اپ” بلینکٹ ایک طرف پھینکتے وہ اسے زبردستی بیڈ سے اٹھاتے اپنے مقابل کھڑا کر گیا۔۔”دس منٹ میں نیچے پہنچو””لیکن ہم جا کہاں رہے ہیں؟””پہلے ریڈی ہوجاؤ پھر بتاؤں گا” اسے زبردستی واشروم میں بند کرتا وہ خود نیچے آیا تھا۔تھوڑی دیر بعد شہرے تیار ہو کر نیچے آئی تو وہ پہلے سے ہی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا شہرے کو آگے دیکھ وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔شہرے کے گاڑی میں بیٹھتے ہی مامون نے گاڑی اسٹارٹ کی تھی۔۔۔”کیا اب آپ مجھے بتانا پسند کریں گے ہم کہاں جا رہے ہیں؟” اسکے سوال کو مامون نے نظر انداز کیا تھا جس پر شہرے کا موڈ خراب ہوا تھا یہ انسان اسکی سمجھ سے باہر تھا ۔”افففف مجھے اب غصہ آرہا آپ پتا کیوں نہیں رہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟””شش۔۔۔ اب کوئی سوال نہیں اب اگر سوال کیا تو انجام کی زمہ دار خود ہونگی “سائیڈ مسکراہٹ پاس کرتے وہ اسے وارننگ دینے کے انداز میں بولا۔۔”کیوں ؟ کیا کروں گے آپ ؟” اب کی بار مامون نے جواب نہیں دیا تھا بلکہ آہستہ سے جھکتے وہ اسکے ہونٹوں کو اپنی قید میں لیتا شہرے کو شاکڈ کر گیا ۔۔مامون کی اس حرکت سے وہ اپنی جگہ فریز ہوئی تھی۔۔”اب اگر تم چپ نہیں ہوئی تو میں اسی طرح سے کس کروں گا اور یہی تمہاری سزا ہوگی””یو۔۔۔ چھچھورے آدمی “اسکی حرکت سے شہرے کے گال سرخ ہوئے تھے مامون نے دلچسپی سے اسے دیکھا۔۔”لگتا ہے کوئی شرما رہا ہے””ایسا کچھ نہیں ہے چپ رہ کر گاڑی چلاؤ ” اپنی خفت مٹانے کو تیز لہجے میں کہتی وہ رخ کھڑکی کی جانب کر گئی۔۔تھوڑی دیر بعد ہی گاڑی ایک بڑے سے کالج کے سامنے آکر رکی تو مامون اسے لئے گاڑی سے باہر نکل کر کالج کے اندر بڑھا تھا۔۔۔وہ اسے لئے ایک آفس میں آیا جہاں ایک انگریز پہلے سے ان کا منتظر تھا مامون کو دیکھ وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا اس سے ملتے مامون ڈائلن کے سامنے بیٹھا۔۔”مسٹر ڈائلن ۔۔ شی از شہرے مسزز مامون یہ اب سے یہاں پڑھیں گی۔”اسکی بات پر ڈائلن نے سر ہلایا۔”اوکے سر آپ بس مجھے بتائیں کیا کرنا ہے؟””شہرے کل سے کالج جوائن کریں گی ان کے لئے سب ارینج کرنا آپ کی زمہ داری ہے اور اس بات کا خاص خیال رکھنا ہے کہ کوئی شہرے کو تنگ نا کرے۔۔ باقی شہرے کل سے کالج جوائن کرینگی۔۔۔”اسکی بات پر ڈائلن نے سر ہلایا۔شہرے ایک طرف خاموشی سے بیٹھی تھی مگر اسکا دل خوشی سے ناچ رہا تھا مختصر سی بات کے بعد وہ مامون کے ساتھ باہر آئی تھی ۔”کیا میں واقعی اپنی اسٹڈی اسٹارٹ کرنے والی ہوں “؟اس نے ایک بار تصدیق کرنی چاہی تھی۔۔”یس بے بی گرل۔۔۔۔ لیکن کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے کوئی آدمی تمہارے آس پاس نہیں آنا چاہیے اگر اس نے تمہیں ہاتھ لگانے کی کوشش کی میں اسے وہیں مار دوں گا””اوکے اوکے فائن میں بالکل تنگ نہیں کروں گی””آئی ایم سو۔۔۔ ہیپی ڈیول۔۔۔۔ تھینک یو سو مچ”اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔۔۔”گڈ۔۔ اب آپ میرے ساتھ میرے آفس آرہی ہیں اور سارا دن میرے ساتھ رہیں گی” اسے کہتے مامون نے اسکا ہاتھ تھاما اور اسے لئے وہاں سے اپنے آفس کی جانب نکلا تھا جہاں جا کر شہرے کی ساری خوشی ختم ہونے والی تھی۔۔۔________




گاڑی عالیشان آفس کے سامنے رکی تھی مامون گاڑی سے اترتے اسکی سائیڈ آتا اسکا ہاتھ تھامے اسے گاڑی سے اتارتا اندر بڑھا تھا اسکے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں شہرے کا ہاتھ قید تھا۔۔آفس کا اسٹاف حیرت سے مامون کو ایک لڑکی کے ساتھ دیکھ رہا تھا آج سے پہلے انہوں نے کبھی کسی لڑکی کو مامون کے اتنا قریب نہیں دیکھا تھا وہ سب آنکھیں پھاڑے شہرے کو دیکھ رہے تھے جو سب کی نظروں سے کنفیوز ہوتی مامون کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے اسکے ہمقدم ہوئی تھی ۔۔”یہ سب ہمیں ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟””دیکھنے دو جب تک دیکھ رہے ہیں دیکھنے دو اگر تم پریشان ہو تو میں ابھی ان سب کو فائر کر دوں گا” اسکی بات پر شہرے کا سر فوراً سے نفی میں ہلا ۔”نہیں نہیں پلیز کسی کو جاب سے نہیں نکالنا۔۔۔۔””اوکے بے بی گرل اب آپ میری بات سنیں یہاں بیٹھیں مجھے کچھ کام ہے وہ فنش کر کے گھر چلیں گے ” اسے صوفے پر بیٹھاتے اس نے کچھ بکس شہرے کے سامنے رکھی اور خود جا کر اپنی سیٹ پر بیٹھا تھا۔۔شہرے نے ان بکس کو دیکھا کو اسکے کورس کی بکس تھی کچھ گائیڈ لائنز تھیں۔۔ہولے سے مسکراتے اس نے مامون کو دیکھا جو اس وقت کافی مصروف تھے ایسے کام کرتے وہ شہرے کو ہینڈسم لگا تھا۔۔وہ مہبوت سی اسے دیکھ رہی تھی بنا پلکیں جھپکے ۔۔ احساس ہونے پر خود کو ڈپٹتے اس نے کتابوں میں سر جھکایا کہ اچانک جھٹکے سے آفس کا ڈوم اوپن ہوا تھا ۔۔شہرے نے حیرت سے اندر والی اس انگریز لڑکی کو دیکھا تھا جس کا لباس انتہائی نامناسب تھا۔۔”اوو ڈارلنگ ۔۔۔ ” مامون کو کہتے وہ تیزی سے اس تک پہنچتی مامون کے گلے لگی تھی۔۔اسکی اتنی بے باکی سے مامون کے قریب ہونے پر شہرے کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔”ڈارلنگ آئی مس یو سو مچ۔۔۔” مامون کی کمر پر اپنے ہاتھ کی گرفت مضبوط کرتے وہ اسکے سینے سے لگی شہرے کو غصے سے پاگل کر گئی تھی ایک ابال سا اپنے اپنے خون میں اٹھتا محسوس ہوا تھا۔۔مامون نے آہستہ سے اس لڑکی کو خود سے الگ کرنے کی کوشش کی۔۔”اپنی حد میں رہو اسٹیلا اور یہاں سے دفع ہوجاؤ” وہ نیچے آواز میں اسکے کان پر غرایا تھا مگر دوسری جانب وہ ڈھیٹ بنی مامون کے قریب ہوئی تھی۔۔_____________بیگ پر اپنی گرفت سخت کئے اس نے اپنے سامنے موجود بڑی سی عمارت کو دیکھا وہ یہاں تیسری بار آئی تھی اور اس بار اسکی حیثیت پہلے دو بار سے یکسر مختلف تھی۔۔گہرا سانس بھرتے اس نے اندر قدم رکھا اور بنا ریسیپشن پر رکے وہ سیدھا اوپر آئی تھی۔۔ضوریز صبح اسے آنے کا کہتا خود کب کا آفس آگیا تھا۔وہ زارون کو مونٹیسوری چھوڑ کر خود یہاں آگئی تھی۔ضوریز کے آفس کا ڈور ناک کرتے اس نے آہستہ سے ڈور ناب پر ہاتھ رکھا اجازت ملتے ہی وہ اندر داخل ہوئی تھی ضوریز اسی کی جانب دیکھ رہا تھا جو اس وقت سفید فراک پر کچن کا سفید دوپٹہ اوڑھے میک سب سے پاک چہرہ لئے اسکے سامنے کھڑی تھی۔زرا آگے ہوتے ضوریز نے اسکا سر سے پاؤں تک مکمل جائزہ لیا۔۔۔”اسلام وعلیکم””وعلیکم السلام” اسے بیٹھنے کا کہنے کے بجائے وہ خود اسکے مقابل آیا تھا۔عمائم نے حیرت سے اسے اٹھتے دیکھا۔”کیا آپ میریڈ ہیں مس عمائم؟”اسکا سوال عمائم کو سمجھ نہیں آیا مگر پھر بھی اسکا سر اثبات میں ہلا تھا۔۔”مجھے ایسا کیوں نہیں لگ رہا ؟””جی؟””کون سی شادی شدہ لڑکیاں ایسے پھیکے رنگ پہنتی ہیں؟” ماتھے پر بل ڈالے وہ اسکے روبرو آتا اسکے اپنے قدم پیچھے لینے پر مجبور کرگیا۔۔۔”وہ۔۔۔ “”شش”اسے چپ رہنے کا کہتا وہ اپنی ڈیسک پر جاتا ایک نمبر پر کال کرنے لگا عمائم حیرت سے اسکی یہ حرکت دیکھ رہی تھی جو آہستہ آواز میں ناجانے کس سے بات کر رہا تھا۔۔فون رکھتے اس نے ایک سرد نگاہ عمائم پر ڈالی جو اسکے ایسے رویے پر اپنی ساری ہمت کھو رہی تھی۔ضوریز نے اسے بیٹھنے کے لئے نہیں کہا تھا اور یہی بات اسکے دل کو لگی تھی ۔۔اگلے پندرہ منٹ بعد اسکے آفس کا ڈور ناک ہوا اور ڈرائیور دو بیگ لئے اندر داخل ہوا تھا بیڈ سائیڈ پر رکھتے وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی واپس پلٹ گئا۔۔”ایک بیگ اٹھائیں اور اندر میرے روم میں جا کر چینج کریں””ہیں؟” اسکی بات پر عمائم نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔”اتنی کوئی مشکل بات بھی نہیں کی میں نے جائیں اور چینج کریں” اسکے ہاتھ میں بیگ تھامتا وہ آرڈر دیتے بولا ناچار عمائم کو اندر جانا پڑا۔۔کچھ دیر بعد وہ واپس آئی تو گہرے نیلے رنگ کی فراک پہنے ہوئے تھی جس پر سفید دھاگے سے ہاتھ کی کڑاہی ہو رہی تھی۔۔”ادھر آئیں ” صوفے پر بیٹھے ضوریز نے اسے پکارااسکی پکار پر وہ آہستہ سے اسکے پاس آکر بیٹھی جب ضوریز نے اسکی کلائی تھامی۔۔”آپ یہ” اس سے پہلے وہ بات مکمل کرتی ضوریز نے اسکے ہاتھ میں چوڑیاں ڈالنا شروع کیں۔۔عمائم کی آنکھیں حیرت سچ پھیلی تھیں۔۔۔”یہ آپ کیا کر رہے ہیں ضوریز پلیز””آپ کو خود کو تو احساس نہیں ہے کہ شوہر کے سامنے کس طرح رہنا چاہیے مگر مجھے ہے” اسکو چوڑیاں پہناتا وہ اب کافی مطمئن انداز میں اسکی کلائیوں کو دیکھتا اسے دیکھنے لگا جو بری طرح نروس ہو رہی تھی۔۔”اب آپ کیوں ایسے دیکھ رہے ہیں””کچھ کمی لگ رہی ہے مجھے” اسکی بات پر عمائم نے ناسمجھی سے اسے دیکھا جو اچانک ہی اسکے چہرے پر جھکتا اسکے چہرے پر حیا کے کئی رنگ کھلا گیا۔حیرت سے آنکھیں پھیلائے وہ سختی سے ضوریز کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑ گئی۔۔”اب پرفیکٹ ہے” اسکے سرخ چہرے کو دیکھتے معنی خیزی سے کہتا وہ عمائم کو مزید سرخ کرگیا۔”کل سے آپ خود اپنا دھیان رکھیں گی تو مجھے اتنی حسین حرکت کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی٫” شرارت سے آنکھ ونک کرتا عمائم کو سٹپٹانے پر مجبور کرگیا۔”آجائیں اب کام کریں بالکل دھیان بھٹکا دیا آپ نے میرا” سارا الزام اس کے سر ڈالتا وہ شرارت سے مسکراتے اپنی سیٹ پر جا بیٹھا۔ عمائم نے گھور کر اسے نوازہ تھا۔۔۔___________





وہ مضطرب سی بیڈ پر بیٹھی تھی چل چل کر پیر دکھ گئے تھے زرمینے کا کوئی پتا نہیں تھا رات گہری ہوتی جا رہی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا اور جاذب اندر داخل ہوا۔۔”زرمینے کا کچھ پتا چلا ؟”اسکے اندر آتے ہی نورے فوراً سے اسکے پاس آئی تھی۔۔”شوہر گھر آتا ہے تو اسے کھانا پانی پوچھتے ہیں””تمہاری بہن غائب ہے اور تمہیں کھانا کھانا ہے؟”نور نے حیرت سے اسے دیکھا۔”تمہاری کیا ہوتا ہے آپ بولو””دیکھو جاذب شاہ مجھے تم سے الجھنا نہیں ہے اس لئے زرمینے کے بارے میں بتاؤ””میں مطمئن ہوں تو اسکا کیا مطلب ہے!”؟ آئی برو اچکاتے وہ بیڈ پر بیٹھ کر اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔”مطلب وہ مل گئی ہے؟””ظاہر سی بات ہے””تو تم سیدھے طریقے سے بھی پتا سکتے ہو نا فضول میں وقت ضائع کرنا ضروری ہے؟””تم جب تک مجھے آپ نہیں کہنا شروع کرتیں میں تمہاری کسی بات کا جواب نہیں دوں گا آج دے دیا یہ لاسٹ تھا۔۔۔””یہ تمہاری بھول ہے کہ میں تمہیں کبھی عزت بھی دوں گی” اسے کہتے وہ مڑی تھی جب اسکی کلائی جاذب شاہ کی گرفت میں آئی ایک جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچتے جازب نے اسے خود پر گرایا۔۔”یہ کیا بدتمیزی ہے”چھوڑو””عزت پر بات آگئی ہے اب معاملہ سنگین ہوگیا ہے”اسے بیڈ پر منتقل کرتا وہ اس پر حاوی ہوا تھا۔”دیکھو جازب شاہ مجھ سے دور رہ کر بات کیا کرو میں دشمن کی بیٹی ہوں “”دشمن کی بیٹی کے ساتھ بیوی بھی تو ہو نا بدقسمتی سے” اسکی گردن میں چہرہ چھپائے وہ مخمور لہجے کا کہتا نورے کو آگ لگا گیا۔۔”جاذب شاہ تم مجھے ہاتھ مت لگاؤ سمجھ آئی دور ہٹو” اسکے سینے پر ہاتھ مارے وہ غرائی مگر مقابل ڈھیٹ تھا۔”آج تو یہ ممکن۔ نہیں بہت وقت دے دیا اب وقت آگیا ہے تمہیں اپنی شدتوں سے روشناس کروایا جائے تمہیں بتایا جائے کہ جاذب شاہ کو جھیلنا کتنا مشکل ہے”اسکے گال پر گال سہلاتے وہ نورے کی سانیسیں بے ترتیب کر رہا تھا۔اسکے ارادے خطرناک تھے نور کو اس سے خوف محسوس ہوا تھا ۔۔
 
زبردست اب نور کے ساتھ حازب کیا کرتا ہے اپنی شدتیں نچھاور کرتا ہے یا اس حسین ماحول میں کوئی مخل ہوگا اور مامون اسٹیلا کو خود سے کیسے دور کرتا ہے انتظار ہے اگلی قسط کا
شکریہ
 
قسط_23مامون نے آہستہ سے اس لڑکی کو خود سے الگ کرنے کی کوشش کی۔۔”اپنی حد میں رہو اسٹیلا اور یہاں سے دفع ہوجاؤ” وہ نیچے آواز میں اسکے کان پر غرایا تھا مگر دوسری جانب وہ ڈھیٹ بنی مامون کے قریب ہوئی تھی۔۔۔”آئی مس یو سو مچ “”تم کس سے پوچھ کر میرے روم میں آئی ہو نکلو فوراً”اتنی بے عزتی پر اسٹیلا کا چہرہ سرخ پڑا تھا تبھی اسکی نظر صوفے پر بیٹھی شہرے کر پڑی۔۔”ہے یو کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہی ہو؟”شہرے کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا جواب دے ۔۔اوع اسکا یوں چپ رہنا اسٹیلا کو آگ لگا گیا۔۔”یو۔۔۔ میں مامون کی گرل فرینڈ ہوں نظر نہیں آرہا تمہیں نکلو یہاں سے””اسٹیلا جاؤ یہاں سے میں بعد میں بات کرتا ہوں تم سے” مامون ایک دم ان دونوں کے بیچ آیا تھا۔۔”اوکے ڈارلنگ آئی ایم ویٹنگ” مسکراتی نگاہوں سے مامون کو دیکھتے وہ اسکے روم سے نکلی تھی شہرے نے مامون کے دیکھنے سے پہلے اپنے گال پر بہتا آنسو صاف کیا۔۔”شہرے جسٹ ویٹ ہئیر ۔۔ میری ایک میٹنگ ہے اسکے بعد ہم گھر چلیں گے اوکے نا” اسکا گال سہلاتے وہ نرمی سے اس سے کہہ رہا تھا شہرے نے محض سر ہلانے کر اکتفا کیا۔۔”گڈ گرل” اسے کہتا وہ وہاں سے چلا گیا جبکہ شہرے اسکا سارا دھیان مامون اور اسٹیلا میں اٹک چکا تھا دل میں چبھن سی ہوئی تھی۔۔”کیا مامون کبھی مجھ سے پیار نہیں کرینگے ۔۔۔ ان کے لئے کیا میں ایک کھلوانہ ہوں؟”یہ سوچ سوچ کر اسکا دل دکھ رہا تھا یہی سوچتے سوچتے وہ کب سوئی اسے بالکل بھی احساس نہیں ہوا ۔۔کچھ گھنٹے بعد اپنی میٹنگ سے فارغ ہوکر مامون آفس میں آیا تو اسے سوتے پایا۔۔۔اپنی سیٹ پر جانے کے بجائے وہ اسکی جانب آیا۔۔گھٹنوں کے بل بیٹھتے وہ اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔۔”وائے دس گرل از سی انوسینٹ اینڈ کیوٹ لائک آ بے بی؟”(کیوں یہ لڑکی کسی بچے کی طرح معصوم اور کیوٹ ہے”)شہرے کے ماتھے پر بوسہ دیتا وہ آہستہ سے بولا تھا۔وہ گہری نیند میں تھی مامون اسے اٹھانے کا ارادہ ملتوی کرتا اسے یونہی بانہوں میں بھرے باہر آیا تھا اسے پیچھے سیٹ پر لیٹاتا خود ڈرائیونگ سیٹ پر آیا تھا۔۔ایک نظر شہرے پر ڈالتے وہ وہاں سے نکلا تھا۔۔۔____________




اسکی آنکھ کھلی تو خود کو بیڈ پر پایا ۔”گھر کب آئی میں” خود سے کہتے وہ اٹھی گھڑی شام کے چھ بجا رہی تھی مامون کہیں نہیں تھا۔۔دل میں عجیب سی اداسی چھائی ہوئی تھی فریش ہو کر وہ نیچے آگئی۔۔سب سے پہلے اس نے اپنے اور مامون کے لئے ڈنر ریڈی کیا تھا۔۔ہر چیز سے دل اچاٹ ہوگیا تھا وہ مسلسل اسٹیلا کے بارے میں سوچ رہی تھی ساری خوشی کہیں کھو سی گئی تھی ۔ڈنر کے دوران بھی وہ مکمل خاموش رہی تھی مامون کو لگا وہ شاید تھکی ہوئی ہے۔۔ڈنر کے بعد وہ بنا کچھ کہے اپنے کمرے میں آگئی جبکہ مامون سیدھا اسٹڈی روم میں آیا تھا۔نیند شہرے کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔ رہ رہ کر اسٹیلا کی باتیں اسکا سر دکھا رہی تھیں۔۔۔کروٹیں بدلتے وہ مضطرب تھی اسکا دل رونے کو کر رہا تھا۔”کیا مجھے ان سے محبت ہوگئی یے؟؟؟ نہیں نہیں میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں وہ ڈیول ہے مجھے ان سے محبت نہیں ہوسکتی۔۔ میں بس ایک کھلونہ ہوں وقت آنے پر وہ مجھے پھینک دیں گے مجھے خود کو کنٹرول کرنا ہوگا مجھے بس اپنی پڑھائی پر دھیان دینا ہے بس ۔”وہ خود کو بار بار یہی باور کروا رہی تھی۔۔لیکن سچ تو یہ تھا اسے مامون کے بغیر نیند نہیں آرہی تھی اتنے وقت میں وہ اسکی بری طرح عادی ہوگئی تھی۔۔اسکے بغیر نیند بھی نہیں آرہی تھی۔۔ تکیے میں چہرہ چھپائے وہ بمشکل سونے کی کوشش کر رہی تھی جب قدموں کی آواز پر اسکی ساری حساسیات الرٹ ہوئیں۔مامون نے ایک نظر اسے دیکھا جو کروٹ کے بل لیٹی تھی۔۔چینج کر کے وہ اپنی جگہ پر آیا اور کھینچ کر شہرے کو اپنے قریب کرتے اسکے گرد حصار مضبوط کیا۔۔اسکے ماتھے کر بوسہ دیتا وہ سکون محسوس کرتا آنکھیں موند گیا ۔۔_____________”جاذب شاہ تم مجھے ہاتھ مت لگاؤ سمجھ آئی دور ہٹو” اسکے سینے پر ہاتھ مارے وہ غرائی مگر مقابل ڈھیٹ تھا۔”آج تو یہ ممکن۔ نہیں بہت وقت دے دیا اب وقت آگیا ہے تمہیں اپنی شدتوں سے روشناس کروایا جائے تمہیں بتایا جائے کہ جاذب شاہ کو جھیلنا کتنا مشکل ہے”اسکے گال پر گال سہلاتے وہ نورے کی سانیسیں بے ترتیب کر رہا تھا۔اسکے ارادے خطرناک تھے نور کو اس سے خوف محسوس ہوا تھا ۔۔”نہیں پلیز نہیں “اسے خود سے دور کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی وہ ڈر گئی تھی وہ اس شخص سے محبت نہیں کر سکتی تھی وہ اسے خود کے قریب نہیں آنے دے سکتی تھی۔۔جاذب نے حیرت سے اسکے شدت بھرے انکار کو دیکھا تھا۔”تم بیوی ہو میری نور یزدانی۔ ۔””میں ایک بدلہ ہوں جاذب شاہ ۔۔۔ بیوی نہیں “اسکی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتی وہ تڑپ کر بولی تھی۔۔”مجھے اپنی ضروریات کے لئے تمہارے پاس ہی آنا ہے”اسکی بات نے نور کو لاجواب کیا تھا وہ اچھے سے ان دونوں کے بیچ کے تعلق کو جانتی تھی سمجھتی تھی مگر وہ اس شخص کے لئے اپنے دل کو پگھلا نہیں سکتی تھی۔۔”میں دوسری عورتوں کے پاس جانا گناہ سمجھتا ہوں مجھے میری ضروریات کے لئے اپنی ہی بیوی کے پاس آنا ہے،” اسے کہتا وہ واپس سے نور کی گردن میں چہرہ چھپا گیا جب ایک جھٹکے سے نور نے اسے خود سے دور دھکیلا تھا۔۔وہ جو اپنی گرفت ڈھیلی کر چکا تھا ایک جھٹکے سے سائیڈ ہوا تھا ۔۔”نہیں میں یہ نہیں کر سکتی میں مر سکتی ہوں مگر تمہارے قریب نہیں آ سکتی پلیز تم دوسری شادی کرلو ” بیڈ سے اٹھتے وہ اسکی پہنچ سے دور ہوئی تھی جاذب نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا جو اسکی انا پر وار کر گئی تھی وہ جازب شاہ جو دھتکار گئی تھی۔۔۔”دوسری شادی کرلوں ؟””ہاں میں تمہیں اجازت دے رہی ہوں ” دیوار کے سہارے کھڑی وہ بمشکل بول پائی تھی۔۔”تمہیں کیوں لگا نور یزدانی کہ مجھے دوسری شادی کے لئے تمہاری جازب درکار ہے؟”اسکے سوال پر نور اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔”میں وہ۔۔۔””تمہیں کیا لگتا ہے میں اتنا اچھا ہوں کہ اپنے حق سے دستبردار ہوجاؤں گا؟”ایک ایک قدم اسکی جانب بڑھاتا وہ اسے خوف میں مبتلا کر رہا تھا۔۔۔نور نے بے بسی سے اسے دیکھا۔۔وہ اسے کیسے سمجھائے وہ جب جب اسے چھوتا تھا اسکے دل کو کچھ ہوجاتا تھا وہ خود کو اس کی قربت سے نکالنا نہیں چاہتی تھی ۔۔ وہ اسکی بانہوں میں رہنا چاہتی تھی اسکا دل اسکے ساتھ بغاوت کرنے لگا تھا وہ اس شخص کو خود پر اختیار دے کر اپنی نفرت کا گلا نہیں گھونٹا چاہتی تھی۔۔”پلیز جازب” اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتی اسے اپنی جانب کھینچتا وہ اسکے ہونٹوں پر قفل لگا گیا۔اسکی کمر کے گرد اپنی گرفت مضبوط کئے وہ اسکی سانسوں کو خود میں قید کئے شدت پسند ہوا تھا۔۔۔آکسیجن کی کمی پر نور نے تڑپ کر اسکے کندھے پر ہاتھ مار اسے ہوش دلانا چاہا جو اسکے بالوں میں ہاتھ پھنساتے اسکے لبوں کو آزادی دیتا اسکی گردن میں جھکتا اسکا دوپٹہ دور ہوا میں اچھال گیا۔۔اسکے ارادے نور کو خوفزدہ کر رہے تھے اسکا نرم سلگتا لمس اسکے خون کی گردش بڑھا رہا تھا سانسوں کے سنگم پر وہ سختی سے جاذب کے بازو تھامتے اسکے سہارے پر کھڑی تھی جو پیچھے ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا اسکی بکھری سانسوں کو اپنے لمس سے مزید بکھیرتا وہ اسکے جھٹکے سے بانہوں میں بھرے بیڈ تک آیا تھا۔۔۔”جاذب نہیں” اس نے آخری بار اسے روکنا چاہا تھا جو اسکے ہونٹوں پر قفل لگاتا اسکی ساری مزاحمت کو پیچھے دھکیلتے اسے خود میں قید کرتے نور کو رونے پر مجبور کر گیا تھا۔اسکے سینے میں چہرہ چھپائے وہ سسکی تھی۔”ابھی سے ہمت ہار گئیں نور جازب شاہ؟ ابھی تو تمہیں اپنے لفظوں کا خمیازہ بھی بھگتنا ہے” اسکی انگلی کی پوروں کو لبوں سے چھوتا وہ شاطرانہ انداز میں مسکراتا نور کو چونکا گیا۔۔،اس سے پہلے وہ اس سے اس بات کا مطلب پوچھتی اسے خود میں قید کرتا وہ ہاتھ بڑھا کر لائٹس آف کرگیا۔۔”جاذب شاہ مجھے تم سے نفرت ہے”اسکی بانہوں میں قید وہ اس سے نفرت کا اظہار کر رہی تھی۔۔ جاذب شاہ کے چہرے پر تمسخرانہ مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا۔۔”اس نفرت کو جتنا بڑھاؤ گی اس کھیل میں مجھے اتنا ہی مزہ آئے گا ” اسکی گردن میں چہرہ چھپائے وہ اسے نفرت کا اظہار کر رہا تھا مگر کیا واقعی وہ نور فاطمہ سے نفرت کرتا تھا ؟اسکا شدت بھرا لمس داڑھی کی چبھن محسوس کر وہ اپنا رخ موڑ گئی اسکے گریز پر ہولے سے مسکراتے جاذب شاہ نے اسکے گال کو اپنے شدت بھرے لمس سے مہکایا۔۔”ایسے کرینگی تو محبت بھی ہوسکتی ہے آپ سے مسزز جاذب شاہ”اسکا چہرہ اپنا جانب کئے اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکائے وہ مخمور لہجے میں کہتا نورے کو خود کو دیکھنے پر مجبور کرگیا تھا۔۔کیا وہ اس سے محبت کرتا تھا ۔۔ ناجانے کیوں یہ خیال آتے ہی اسے اپنا وجود ہلکا پھلکا محسوس ہوا تھا اس شخص کے لمس میں نرمی تھی چاہت تھی نفرتوں بھرا لمس ایسے تو نہیں ہوتا ۔۔۔”یہ آنکھیں بہت حسین ہیں” اسکی آنکھوں پر بوسہ دیتا وہ اسے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر گیا۔۔اسکے ایک ایک نقوش کو لبوں سے سیراب کرتا وہ اسکی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھاتا مکمل طور پر اسے بے بس کر گیا تھا۔۔۔۔________________


“ارے بیٹا آجاؤ آجاؤ” امینہ بیگم نے جلال کے ساتھ اسے گھر میں آتے دیکھا تو فوراً سے اسکے پاس آکر اسکا ہاتھ تھامے اندر لائی تھیں۔،”بڑی اماں یہ جاذب سائیں کی بہن ہیں زرمینے” اسکے تعارف پر امینہ بیگم چونکی تھی مگر پھر فوراً سنبھلتے انہوں نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔”میں کچھ کھانے کو لاتی ہوں””نہیں مجھے بھوک نہیں لگ رہی” ان کے اٹھنے پر اس نے فوراً منع کیا تھا۔۔جلال کی نگاہیں اسکی ہتھیلی پر گئیں جو بری طرح چھلی ہوئی تھی۔۔”بڑی اماں آپ بیٹھیں میں خود کرلوں گا””نہیں مجھے کچھ نہیں کھانا بس مجھے جانا ہے”اسکی ایک ہی ضد تھی جلال نے گہرا سانس بھرے اسے دیکھا۔”زرمینے بی بی ضد بیکار ہے میں آپ کو اکیلے اس گھر سے نکلنے نہیں دوں گا صبح ہونے سے پہلے آپ یہاں سے نہیں جا سکتی اس لئے خاموشی سے بیٹھی رہیں”جلال کی سخت آواز پر اسکا سر جھکا تھا۔۔”میں آتی ہوں”امینہ بیگم جلال کو اشارہ کرتے اٹھ کر اندر بڑھی تو اس نے ایک سر اسکے جھکے سر کو دیکھا پھر اندر سے فرسٹ ایڈ باکس لے کر اسکے سامنے آ بیٹھا۔۔”ہاتھ دیکھائیں””پلیز مجھے جانے دیں مجھے یہاں نہیں رہنا” اسکی ایک ہی ضد تھی جلال نے غصے سے اسے دیکھا اسکی غصے بھری نظروں سے سہمتے وہ سر جھکا گئی۔۔۔”ہاتھ دیکھائیں مجھے” اسکا ہاتھ زبردستی اپنے سامنے کئے وہ اسکا زخم صاف کرنے لگا تکلیف سے زرمینے کی آنکھیں بھیگی تھیں ۔”ہاتھ منہ دھو لیں تاکہ میں اس پر دوائی لگاؤ” اسکا انداز اس قدر اٹل تھا کہ وہ سر ہلاتی آنگن میں بنے واش بیسن کے پاس چلے گئی۔۔اس شخص کی وجہ سے تو وہ دور جانا چاہتی تھی اور قسمت اسے اسکی شخص کے گھر لے آئی تھی۔۔۔پانی پڑتے ہی زخم جلنے لگے تھے ۔۔ کپڑے گیلے ہاتھوں سے صاف کرتے اس نے اپنا منہ اچھے سے دھویا۔۔۔جب تک وہ منہ دھو کر واپس آئی بڑی اماں کھانا کھا چکی تھیں۔۔وہ انکار کرنا چاہتی تھی مگر جلال کی نظروں سے خوفزدہ ہوتے وہ جلدی سے کھانا کھانے لگی۔۔بڑی امینہ کی نگاہوں سے اسکا یوں ڈرنا چھپا نہیں رہا تھا۔۔۔بمشکل چند نوالے زہر مار کھاتے وہ اپنے ہاتھ پیچھے کر گئی۔۔”آجاؤ بچے میں تمہیں کمرے میں لے جاؤں آرام کرو” اسکے دوا کھاتے ہی امینہ بیگم نے اسے اندر کمرے میں بھیجا اور خود جلال کو اشارہ کرتے اپنے کمرے میں آگئیں۔۔۔”یہ سب کیا ہے جلال؟ وہ بچی اتنی خوفزدہ کیوں ہے ؟””وہ سب سے ایسے ہی خوفزدہ رہتی ہیں نئی بات نہیں ہے””حویلی میں اسے مارا جاتا تھا نا ؟””ہمم اب بھی یہی ہوتا ہے””شریف آیا تھا آج میرے پاس ” ان کی بات پر وہ بری طرح چونکا تھا۔۔”کیا کہا انہوں نے آپ سے “؟”اس نے جو بھی کہا مجھے اس پر اعتراض نہیں ہے معصوم بچی ہے اسے اپنے نکاح میں لے لو جلال۔۔۔””میں کیسے بڑی اماں آپ سب کو کیا ہوگیا ہے؟””کیوں نہیں لے سکتے اتنا کیا مشکل ہے یہ؟””بڑی اماں میں ان سے کئی سال بڑا ہوں پہلے سے شادی شدہ ہوں اگر وہ نا مری ہوتی تو میں ایک بچے کا باپ ہوتا ۔۔۔ کہاں سے جوڑ بنتا ہے ہمارا؟”وہ زچ ہوا تھا یہ ساری باتیں وہ سہیل شاہ کے سامنے نہیں کہہ سکا تھا۔”یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے تم ابھی غیر شادی شدہ ہو تم اسے اپنا نام دے دوں جلال۔۔ اسے زندگی کی طرف لاؤ اسے خوشیاں دو وہ معصوم بچی اتنی تکلیفیں سہنے کے لئے پیدا نہیں ہوئی ہے۔۔۔””تو آپ کیا چاہتی ہیں؟””اس بچی کو اپنے نکاح میں لے کو مجبوراً نہیں دل سے اس رشتے کو قبول کرو اسکو اپنی زندگی میں شامل کرو تم دونوں ٹوٹے بکھرے ہوئے ہو تم دونوں ہی ایک دوسرے کو جوڑ سکتے ہو “ان کی بات پر اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔”جلال۔۔۔ مان جاؤ تاکہ ہم کل ہی نکاح کی رسم کر سکیں””آپ ہتھیلی پر سرسوں مت جمایا کریں بڑی اماں۔۔۔ ابھی میں جا رہا ہوں بہت سارے مسئلے میرے منتظر ہیں جلدی آجاؤں گا آپ سو جائیں ” انہیں کہتا وہ وہاں سے نکلا تھا۔۔۔_______________


ضوریز سے پہلے ہی گھر آ چکی تھی۔۔شائستہ بیگم نے حیرت سے اسے دیکھ چونکی۔۔کیونکہ جب وہ گئی تھی تو لباس کا رنگ الگ تھا اور اب۔۔”امی زارون کہاں ہے؟” ان کی نگاہوں کو رخ بدلنے کی خاطر وہ زارون کا پوچھ گئی۔۔،”کامران کے ساتھ باہر گیا ہے بس آتا ہی ہوگا””ٹھیک ہے میں زارون کے لئے اسکی پسند کا کیک بنا رہی ہوں آپ کچھ کھائیں گیں؟””سکون کا سانس لے لو بیٹا ابھی تو آئی ہو “”میں بالکل بھی نہیں تھکی امی ویسے بھی ابھی تو کام تھوڑا سا ہی تھا آج انہوں نے زیادہ کام نہیں کروایا میں فریش ہوں “”اچھا ٹھیک ہے میں تو اسی میں خوش جو تم بنا لو” مسکرا کر کہتے وہ ٹی وی دیکھنے لگی جبکہ وہ پہلی فرصت میں اوپر آئی تھی اور چینج کیا تھا اچھے سے ریڈی ہو کر اس نے سر پر ہاتھ مارا۔۔۔اب ریڈی ہو گئی تھی تو کیک کیسے بناتی ۔”اللہ عمائم۔۔۔ کیا حرکت ہے” اپنا حلیہ دیکھتے وہ چینج کرنے ارادہ ترک کرتی کچن میں آگئی۔۔۔”کیا ہو رہا ہے!” وہ انہماک سے کچن میں مصروف تھی جب عقب سے آتی ضوریز کی پکار کر خوف سے چونکی۔۔”یا اللّٰہ ضوریز آپ نے ڈرا دیا۔۔” دل پر ہاتھ رکھے اس نے آنکھیں پھیلائے ضوریز کو دیکھا۔۔”ابھی ڈرانے کی باری ہماری ہے اس لئے اگر آپ کا کام ہوگیا ہے تو چلیں آپ کے گھر جانا ہے وکیل صاحب وہاں پہنچ جائیں گے اپنے وقت پر””میرا جانا ضروری ہے کیا ؟”اسکے چہرے پر ڈر واضح تھا۔۔ضوریز نے آہستہ سے اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں تھاما ۔۔”میں ہوں ساتھ ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟””میں نہیں ڈر رہی” اسکی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالنے کی کوشش کرتے اس نے نروٹھے انداز میں کہا۔ضوریز نے مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔”پکا نہیں ڈرتی ؟””نہیں” صاف انکار۔”پھر روم میں چلیں ؟” اسکی بات کا مطلب سمجھتے عمائم کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔”کیا بدتمیزی ہے میں ایسا کچھ نہیں کر رہی””کیسا نہیں کر رہیں ؟” وہ شرارت پر آمادہ تھا۔۔عمائم نے بے بسی سے اسے دیکھا جو اسکی حالت پر قہقہ لگا اٹھا ۔۔”ریلکس ابھی تو کچھ نہیں کر رہا جلدی سے چائے فنش کریں پھر ہمیں نکلنا ہے اور بی بریو میرے ہوتے ہوئے آپ کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا”اسکے گال سہلاتا وہ اسکے چہرے پر جھکتا اسکی سانسوں کو اپنی گرفت میں قید کرگیا۔۔۔یوں کچن میں اسکی بے باک حرکت پر عمائم کی آنکھیں پھیلیں۔۔۔عمائم کی کمر کو مضبوطی سے تھامے ضوریز نے اسے اپنے قریب کیا تھا اتنا کہ ان کے بیچ ہوا کا گزر بھی نہیں تھا ۔۔وہ مدہوش سا اسکے ہونٹوں پر جھکا عمائم کی سانسیں خود میں اندیلتا اسے بے بس کر چکا تھا۔۔ضوریز کا گریبان سختی سے پکڑے وہ مکمل اسکے حصار میں تھی جب اچانک آہٹ پر وہ ایک دم سے گھبرائی وہی ضوریز نے نرمی سے اسے خود سے الگ کرتے اسکے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھنے لگا۔”آپ۔۔۔””حلیہ ٹھیک کرلیں ورنہ لوگوں کو غلط فہمی ہوسکتی ہے” شرارت سے کہتا وہ اسکے لبوں کو انگوٹھے سے صاف کرتا اسے کپکپانے پر مجبور کرگیا۔”آپ بہت بدتمیز ہیں” اسکا ہاتھ پیچھے کرتی وہ جلدی سے اسکی پہنچ سے دور ہوئی تھی۔۔”ابھی میں نے بدتمیزیاں کی ہی کہاں ہیں مسزز عمائم؟””آپ جائیں یہاں سے پلیز “”اچھا بابا ریلکس جا رہا ہوں اب جلدی سے اپنا کام کر کے باہر آئیں “اسے کہتا وہ وہاں سے نکلا تھا اسکے جاتے ہی عمائم نے سکون کا سانس بھرا تھا
 
قسط_24صبح اسکی آنکھ کھلی تو نگاہیں سیدھا مامون سے جا ٹکرائیں۔۔۔ وہ ابھی تک گہری نیند میں تھا وہ اسکا چہرہ دیکھنے لگی وہ سوتے میں بھی اتنا ہی ہینڈسم لگتا تھا مگر پھر آفس کا منظر یاد کر وہ نگاہیں پھیرتے اٹھ گئی۔جلدی سے فریش ہو کر وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔۔کچھ دیر بعد مامون کی آنکھ کھلی تو شہرے کو کمرے میں نا پاکر اسکا دل ڈوبا تھا تیزی سے بیڈ سے اٹھتا وہ واشروم میں آیا جہاں شہرے کہیں نہیں تھی۔۔دل انجانے خوف سے دھڑکا تھا کیا وہ اسے چھوڑ کر چلے گئی تھی یہ خیال آتے ہی وہ تیزی سے نیچے آیا مگر ڈائننگ ٹیبل کے پاس شہرے جو کھڑے دیکھ اسکی جان میں جان آئی تھی۔”گڈ مارننگ لٹل گرل۔۔۔ یہاں کیا کر رہی ہو ؟””آج کالج کا فرسٹ ڈے ہے میں لیٹ نہیں ہونا چاہتی “”اوکے میں بس جلدی سے ریڈی ہو کر آتا ہوں ” اسے کہتا وہ تیزی سے اوپر آیا تھا فریش ہو کر وہ نیچے آیا تو شہرے اپنا فریک فاسٹ کر رہی تھی۔مامون نوٹ کر رہا تھا وہ کل سے کافی خاموش خاموش ہے اس سے لڑ بھی نہیں رہی تھی۔۔اپنا بریک فاسٹ مکمل کر وہ بنا مامون کی جانب دیکھے اپنا بیگ اٹھاتے باہر نکل گئی۔مامون نے حیرت سے اسے جاتے دیکھا اور پھر اپنا ناشتہ فنش کرتا وہ اسکے پیچھے باہر تک آیا تھا جو گاڑی کے پاس کھڑی گاڑی کو گھور رہی تھی ۔”لٹل گرل کیا ہوگیا ہے ٹھیک سے بریک فاسٹ کیوں نہیں کیا؟””مجھے بس اتنی ہی بھوک تھی اب کالج جانا ہے میں فرسٹ ڈے لیٹ نہیں ہونا چاہتی ” اسکی بات پر مامون سر ہلاتا اسکے لئے گاڑی کا دروازہ کھولتے ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔۔پورا راستہ خاموشی سے کٹا تھا مامون کو اسکی خاموشی بالکل بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی۔۔”کل سے مجھے ڈراپ کرنے کی نیڈ نہیں ہے میں خود بس سے آجایا کروں گی””واٹ۔۔ آر یو میڈ یہ ملک یہ شہر تمہارے لئے نیا ہے تم کیسے اکیلے جاؤ گی اور ویسے میں آئی وانٹ ٹو ڈراپ مائے وومن”اسکی بات پر شہرے کے چہرے پر تمسخر بھری مسکراہٹ ابھری۔”مائے وومن ہونہہ””کچھ کہا ؟””نہیں پلیز جلدی گاڑی چلائیں”اسے کہتے وہ رخ موڑے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔۔کچھ ہی دیر میں گاڑی کالج کے باہر رکی تو شہرے سب سے پہلے باہر نکلی تھی۔۔اسکی پھرتی دیکھ مامون بھی خاموشی سے گاڑی سے اترتا اسکے پاس آیا تھا اسکے چہرے کے دونوں اطراف ہاتھ رکھے مامون نے ہولے سے اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے ۔۔”اپنا خیال رکھنا اور لڑکوں سے دور رہنا ساری توجہ پڑھائی پر ہونی چاہیے”اسکی بات پر شہرے نے محض سر ہلانے کر اکتفا کیا تھا۔۔”گڈ اب جاؤ””اوکے بائے” اسے کہتے وہ فوراً سے مامون کی نظروں سے اوجھل ہوئی تھی۔اس کے بدلے انداز مامون کو پریشان کر رہے تھے ۔۔لیکن اس معاملے میں وہ فلحال کچھ نہیں کرسکتا تھا اس لئے خاموشی سے وہاں سے چلا گیا جبکہ وہیں دوسری طرف شہرے نئے لوگوں کے درمیان موجود تھی پروفیسر نے اسکا تعارف پوری کلاس میں کروایا تھا۔”ہیلو شہر آئی ایم رچرڈ” اپنے پیچھے سے آتی آواز پر شہرے نے گردن موڑ کر رچرڈ کو دیکھا۔لمحے کو مامون کی باتیں اسکے دماغ میں آئی تھی مگر پھر سر جھٹکتے وہ رچرڈ سے باتیں کرنے لگی۔۔شہرے کو وہ کافی اچھا لگا تھا فنی سا۔۔ اسکے ساتھ کینٹین میں بیٹھے وہ رچرڈ کی باتوں پر ہنستی رہی تھی ۔”تم کہاں سے ہو ؟ ایشائن؟””یس فرام پاکستان ۔۔۔ میں یہاں اپنے انکل کے ساتھ رہتی ہوں” شہرے نے جان کر جھوٹ بولا تھا مگر وہ نہیں جانتی تھی یہ جھوٹ اسے کتنا بھاری پڑنے والا ہے۔۔۔۔۔




“اب میں چلتی ہوں””اوکے میں بھی ساتھ آتا ہوں”اسکی بات پر شہرے نے فوراً سے اسے منع کیا تھا۔۔”نو نو میرے انکل مجھے لینے آئیں گے اور وہ بہت اسٹرکٹ ہیں”رچرڑ کو منع کرتے وہ سیدھا باہر آئی جہاں مامون کی گاڑی پہلے سے وہاں موجود تھی کالج کے باہر موجود چند لڑکیاں مامون کو ندیدی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی انہیں اگنور کرتے شہرے سیدھا گاڑی میں آکر بیٹھی تھی ۔”سب خیریت کیا ہوا یے؟””کچھ نہیں ہوا۔۔ میں نے کہا تھا نا کہ مجھے لینے نہیں آنا سب لڑکیاں آپ کو دیکھ رہی ہیں””تو کیا تم جیلس ہو رہی ہو ؟”وہ اسے تنگ کرتے بولا مگر شہرے نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔”واٹ ہیپنڈ شہرے ؟ مجھے اگنور کیوں کر رہی ہو؟””کچھ نہیں ہوا میں بس گھر جانا چاہتی ہوں ” سنجیدگی سے کہتے وہ باہر کی جانب دیکھنے لگی۔مامون کا شدید غصہ آیا تھا مگر بنا کچھ کہے وہ خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا ۔گھر پہنچتے وہ سیدھی اپنے کمرے میں آئی تھی مامون بھی اسکے پیچھے کمرے میں آتا اسکا بازو تھام اسکا رخ اپنی جانب کر گیا۔۔”میں لاسٹ ٹائم پوچھ رہا ہوں شہرے کیا ہوا ہے۔۔۔ تم مجھے کیوں اگنور کر رہی ہو ؟””کچھ نہیں ہوا ” چڑ کر کہتے اس نے اپنا بازو مامون کی گرفت سے آزاد کروانا چاہا مگر مقابل کی گرفت مضبوط تھی۔۔”اوکے فائن تو تمہیں اس بات کی سزا ملے گی “اتنا کہتے مامون نے اسکے ہونٹوں کو قید کیا تھا۔۔وہ لمحے میں اسکی سانسیں بے ترتیب کرگیا تھا”یہ کیا بدتمیزی ہے میں نے کہا تو ہے کچھ نہیں ہوا میں بس تھک گئی ہوں شاور لوں گی تو ٹھیک ہوجاؤں گی””اوکے مان لیتا ہوں جلدی سے شاور لو پھر ہم ڈنر کرتے ہیں “اسے کہتا وہ باہر نکلا تھا۔۔۔ڈنر کے بعد بھی اسکا رویہ تبدیل نہیں ہوا تھا اس لئے خاموشی سے وہ اٹھ کر روم میں جا کر سو گئی۔مامون کا دل کیا اسکے پاس جا کر اسکا دماغ ٹھکانے پر لگا دے مگر عین وقت پر آنے والی کال اسے روک گئی۔۔کام ضروری تھی اسکے آفس میں نیو برینڈ لاؤنچ ہونے والا تھا کل شو تھا اس لئے کچھ دیر کو شہرے کو بھولتا وہ اپنے کام میں مصروف ہوا تھا جبکہ شہرے نے اسکے کمرے میں نا آنے پر سکون کا سانس لیا تھا مگر یہ سکون عارضی تھا۔۔۔۔______________

کمرے میں آتی روشنی جاذب کی نیند خراب کرنے کا باعث بنی تھی۔ کسلمندی سے ہاتھ پھیلاتے وہ تھما تھا نگاہیں بیڈ کے دوسری جانب گئیں جو خالی تھی۔۔رات کے مناظر اسکی آنکھوں کے سامنے لہرائے تو وہ جیسے ہوش کی دنیا میں لوٹا تھا۔ایک جھٹکے سے بلینکٹ خود پر سے دور پھینکتا وہ پاس پڑی اپنی شرٹ پہنتا بیڈ سے اٹھا تھا۔باتھ روم کا دروازہ کھلا تھا جس کا مطلب تھا نور اندر نہیں تھی۔۔”یہ کہاں گئیں”؟ خود سے بڑبڑاتے وہ باہر آیا نیچے بھی وہ کہیں نظر نہیں آئی اس سے پہلے اسکی پریشانی بڑھتی جاذب کی نگاہ ٹیرس کے کھلے دروازے پڑیں جہاں سے نظر آتے نور کے آنچل کو دیکھ اسکی جان میں جان آئی تھی۔۔۔گہرا سانس بھرتے وہ دروازہ لاک کرتے ٹیرس کی جانب آیا جہاں وہ زمین پر گھٹنوں میں منہ بیٹھی تھی۔۔”یہاں کیوں بیٹھی ہیں صبح صبح اٹھیں””,نورے میں آپ سے مخاطب ہوں” اسے ہنوز گھٹنوں میں منہ دئیے بیٹھے جاذب نے دوسری بار اسے پکارا جو اپنے کان بند کئے بیٹھی تھی۔۔۔گہرا سانس بھرتے اس نے خود کو ریلکس کیا اور پھر جھک کر وہ نورے کے سامنے بیٹھا تھا۔۔”ایسا بھی کچھ نہیں کیا میں نے جو آپ کو منہ چھپانا پڑ رہا ہے” دانتوں تلے لب دبائے وہ سنجیدگی سے بولا تھا مگر اسکی بات پر نورے نے جھٹکے سے سر اٹھائے اسے دیکھا اسکا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔۔”ایسا آپ جانتے ہیں نا آپ نے کیا کیا ہے آپ کیسے میرے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں”؟ وہ اسکی تھی جاذب کو اسکی آنکھوں میں آنسو برے لگے تھے آہستہ سے اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھرے وہ اپنے لبوں سے اسکے آنسو چنتا اسے ساکت کر گیا تھا۔۔”جتنا نرمی سے میں نے آپ کو سمیٹا ہے اسکے بعد یہ رونا بنتا نہیں تھا نورے جاذب شاہ”اسکی ناک سے اپنی ناک مس کرتا وہ زومعنی لہجے میں کہتا اسکے لال سرخ کر گیا تھا۔۔”دشمن کی بیٹی کے ساتھ جو کرتے ہیں تم نے بھی میرے ساتھ وہی کیا ہے جازب شاہ ” خود کو اس سے دور کرنے کی کوشش کرتی وہ ہلکان ہوئی تھی مگر مقابل کی گرفت مضبوط تھی۔۔۔وہ وہی سوچ رہی تھی جو جاذب نے اس سے کہا تھا۔۔ہولے سے مسکراتے وہ اچانک ہی اسے بازوؤں میں بھر گیا۔۔اس اچانک افتاد پر نورے کی آنکھیں پھیلی تھیں۔۔بھرپور ہاتھ پیر چلاتے مزاحمت کرتی وہ غصے سے جاذب کے کندھے پر دانت گاڑھ گئی۔۔”نورے شاہ۔۔۔”اسے بیڈ پر لیٹاتے وہ اس پر حاوی ہوتا اسکے گال پر دانت گاڑھ گیا۔۔۔”جاہل جنگلی انسان”جاذب کے سینے پر ہاتھ مارتے وہ غصے سے چلائی تھی یہ شخص آخر کس قسم کا تھا اسے سمجھ نہیں آتا تھا۔”ہاں جنگلی تو ہوں میں””ظاہر ہے جس کی بہن گھر سے باہر اور اسے اپنی پرواہ ہو وہ نارمل انسان نہیں ہوسکتا “”بیوی آپ میری فکر کریں وہ زیادہ بہتر ہے میری بہن کہاں ہے اور کیسی ہے میں اچھے سے جانتا ہوں”..جاذب کی بات پر اس نے مزاحمت ترک کرتے اسے حیرت سے دیکھا۔۔”کہاں ہے زرمینے؟””لگتا ہے نند سے کافی دوستی ہوگئی ہے””شٹ اپ ” اسکے نند بولنے پر وہ بے ساختہ اسے چپ رہنے کا کہتی اسکے ماتھے پر بل ڈال گئی۔”اتنی بدتمیزی کیوں کرتی ہیں نورے شاہ۔۔۔ کیا آپ کو اپنی جان پیاری نہیں ہے ؟””نہیں عزت پیاری تھی جو آپ “”شش۔۔۔ کوئی فضول بکواس نہیں” اس سے پہلے وہ کچھ الٹا بولتی جاذب اسے چپ کرواتا اسکی سانسوں کو اپنی سخت گرفت میں لے گیا۔۔۔نورے نے سختی سے آنکھیں بند کئے اسکے لمس کو محسوس کیا تھا۔۔۔”ہمارے درمیان بھلے دشمنی مگر سے تعلق میں نے ہوش و حواس میں بنایا تھا اور بیوی ہو بیوی رہو گی اگر اس ننھے سے دماغ میں کوئی خرافاتی بات آئی اور پھر وہ بات زبان پر آئی تو میں اچھے سے سبق سکھانا چاہتا ہوں نورے شاہ”اسکے منہ کو نرمی سے اپنی مٹھی میں دبوچے وہ اسکے کان میں سرگوشی کرتا اسکی جان نکال رہا تھا وہ اچھے سے اسکے ہاتھوں کی نرم گرفت محسوس کر رہی تھی یہ شخص عجیب تھا لفظوں کے مقابلے میں اسکا عمل ہمیشہ نرمی لئے رکھتا تھا۔۔”اب اٹھو اور تیار ہو ہمیں کچھ دیر بعد کہیں جانا ہے” اسے اپنی گرفت سے آزادی دیتے وہ اس کے اوپر سے اٹھتا ڈریسنگ میں بند ہوا تھااسکے جاتے ہی سکھ کا سانس لیتے نورے نے گھور کر ڈریسنگ روم کے چند دروازے کو دیکھا یہ شخص اسکا دشمن تھا بھی یا نہیں وہ سمجھ نہیں سکی تھی۔۔”مجھے ماضی کے بارے میں جاننا ہی ہوگا آخر کیوں کہ شخص نفرت نفرت کہتے ہوئے بھی ٹھیک سے نفرت نہیں کر رہا “خود سے کہتے وہ اپنا حلیہ درست کرتے الماری کی جانب بڑھی تھی۔۔۔تھوڑی دیر میں وہ دونوں باہر جانے کے لئے تیار تھے۔۔”اچھی لگ رہی ہیں میری بیوی بن کر” جاذب کی بات پر چادر پہنتے نورے کے ہاتھ تھمے تھے اس نے جاذب کو ایک گھوری سے نوازہ۔۔”شٹ یار” اچانک اسکی افسوس بھری آواز پر نور اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔۔”میں نے تو سنا تھا قربت کے لمحات کے بعد بیوہ شوہر سے شرماتی ہے گھبراتی ہے لال ٹماٹر جیسے۔۔۔مگر آپ تو شعلہ جوالہ ۔۔ کوئی بیوی والی ادائیں ہی نہیں ہیں”وہ سخت بدمزہ ہوا تھا نورے نے اسکی بات پر آنکھیں گھمائیں۔۔”آپ کی اطلاع کے لئے عرض کردوں کہ آپ کی بیوی نہیں ہوں بلکہ بدلہ ہوں اور جو کچھ آپ نے کل میرے ساتھ کیا وہ آپ نے غصے میں کیا محبت میں نہیں آئی سمجھ آپ کے؟” غصے سے کھولتے وہ جاذب کو آئینہ دیکھا گئی۔۔”نہیں سمجھ نہیں آئی مجھے” سینے پر ہاتھ باندھے وہ قریب ہوا تو نورے نے دو قدم پیچھے لئے تھے۔۔”جاذب شاہ تمہیں کیا لگتا تھا تم میرے ساتھ یہ سب کرو گے تو میں روؤں گی ٹوٹ جاؤں گی نہیں میں اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئی ہوں کیونکہ ایک عزت تھی میرے پاس جو اب نہیں رہی۔۔۔ اب میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہوں بہت جلد میں تم سے اور اس رشتے سے آزادی حاصل کرلوں گی اور تم کچھ نہیں کر سکو گے۔۔۔” اپنے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہتی وہ جازب کو چونکا گئی تھی۔۔۔”تم اس رشتے سے کبھی آزادی حاصل نہیں کرسکوں گی،٫ جازب نے اس سے زیادہ خود کو یقیں دلایا تھا۔۔”یہ وقت بتائے گا ابھی تو زرمینے کے پاس جانا ہے ” اسے کہتے وہ کمرے میں رکی نہیں تھی جبکہ جاذب حیرت سے اسے جاتے دیکھ رہا تھا کیا اس نے کچھ غلط کیا تھا کیا اپنا حق لے کر اس نے نور کو خود سے بہت دور کر دیا تھا اسے سمجھ نہیں آیا تھا۔۔۔______________



“بھائی” جاذب شاہ کے سینے سے لگی وہ سسکی تھی۔”یہ کیا حرکت تھی زرمینے ؟ پتا ہے میں کتنا پریشان ہوگیا تھا؟”جاذب کی بات پر نور نے تعجب سے اسے دیکھتے آنکھیں گھمائیں۔۔”مجھے معاف کردیں بھائی””تم اس گھر میں نہیں رہنا چاہتی تو ٹھیک ہے میں تمہیں فورس نہیں کروں گا مگر میں تمہیں اکیلے نہیں چھوڑ سکتا “اسکی بات پر زرمینے کے ساتھ نور بھی چونکی تھی۔۔”میں نے ایک فیصلہ لیا ہے امید کرتا ہوں تم اس میں میرا ساتھ دو گی”جاذب کی بات پر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔”کیسا فیصلہ بھائی؟””ابھی کچھ دیر میں تمہارا جلال سے نکاح ہو رہا ہے اور یہ نکاح کسی بھی طرح کی زور زبردستی سے نہیں ہوگا اگر تمہیں انکار ہے تو میں یہ نکاح نہیں کرواؤں گا””ہونہہ” نورے کے ہونہہ پر جاذب نے تنبہہی نگاہوں سے اسے گھورا۔۔”جلال۔۔۔ ان کے ساتھ زبردستی” زرمینے کے ٹوٹے پھوٹے جملے جاذب کو اچھے سے سمجھ گیا تھا۔۔”اسے کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ وہ خود میرے پاس آیا تھا آپ کا پروپوزل لے کر کیا اب بھی آپ کو اعتراض ہے؟”جاذب کی بات پر وہ سوچ میں پڑی تھی وہ حویلی واپس نہیں جانا چاہتی تھی جلال سے شادی کر کے وہ حویلی میں بار بار ذلیل ہونے سے بچ سکتی تھی اور پھر اس نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔جاذب نے محبت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا کچھ دیر میں اسکا نکاح ہونے والا تھا مگر خوشی۔۔ اسکا دل خالی تھا۔۔۔____________عمائم نے پریشان نظروں سے ضوریز کو دیکھا اور پھر اپنے سامنے موجود افتخار ماموں کے گھر کو۔عابدہ بیگم کو پہلے ہی ضوریز نے اپنے آنے کی اطلاع دے دی تھی۔”ضوریز مجھے ڈر لگ رہا ہے””کس بات کا ڈر ؟””پتا نہیں ” آہستہ سے کہتے اس نے اپنا سر جھکایا ضوریز نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اسکا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں قید کیا۔۔”میں ہوں آپ کے ساتھ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں اگر ابھی سے اتنا ڈریں گی تو آگے اپنا حق کیسے وصول کرینگی ؟”ضوریز کی بات پر اس نے ضوریز کو دیکھا جو اسکے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا دباؤ بڑھاتا اسے اپنے ساتھ لئے اندر بڑھا تھا۔”ارے آجائیں ضوریز صاحب” اسے اندر آتے دیکھ افتخار ماموں اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے۔۔”بیٹھیں رہیں ماموں صاحب ” انہیں بیٹھے رہنے کا اشارہ کرتے وہ خود عمائم کو لئے اپنے ساتھ بیٹھا تھا عابدہ بیگم ناسمجھی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔”خیریت آپ نے اچانک آنے کا کہا؟””ہممم۔۔ بس ابھی کچھ دیر میں ہی آپ کو پتا چل جائے گا وکیل صاحب آتے ہی ہونگے ارے یہ لیں آگئے” بولتے ساتھ اسکی نگاہ وکیل صاحب پر پڑی تو وہ فوراً اپنی جگہ سے کھڑا ہوا ۔افتخار ماموں نے حیرت سے وکیل صاحب کو دیکھا۔”وکیل صاحب کو کیوں بلایا ہے سب خیر ہے نا؟” افتخار ماموں حیرت سے انہیں دیکھ رہے تھے۔جو مسکراتا سر ہلاتے وکیل صاحب کو اشارہ کر گیا۔۔”میں یہاں منظور صاحب کی وصیت کی وجہ سے آیا ہوں” وکیل صاحب کی بات پر افتخار ماموں کے کان کھڑے ہوئے۔”اس حوالے سے ہماری بات ہو تو گئی تھی ۔۔””معاف کیجئے گا افتخار صاحب اس دن میں نے آپ کو غلط وصیت سنا دی تھی اور کسی اور کی معلومات آپ کو دے دی تھی دراصل “”ایک منٹ یہ کیسا پھدا مذاق کر رہے ہیں ” وہ ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھے تھے عمائم نے خوف سے ضوریز کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما۔۔”بیٹھ جائیں ماموں صاحب آپ جاری رکھیں وکیل صاحب”ضوریز کے کہنے پر وکیل صاحب نے کچھ کاغذات عمائم کے حوالے کئے۔۔وصیت کے مطابق آپ کے کاروبار کے پچھتر فی صد شئیرز عمائم منظور کو ان کی شادی کے بعد ملنے تھے””,پچھتر؟” عمائم نے حیرت سے وکیل صاحب کو دیکھا ایسا کچھ اسکے علم میں نہیں تھا اسے بس آدھے حصے کا پتا تھا۔”جی ہاں آپ کے والد صاحب نے بقیہ پچس فیصد اپنی بیگم کے نام کیا تھا اور آپ کی شادی تک پورا سو فیصد آپ کی والدہ کا تھا مگر اب ان کے پچس اور آپ کے پچھتر” وکیل اپنی بات سے افتخار ماموں اور رابعہ ممانی کے سر پر دھماکے کر رہا تھا۔۔”یہ ناممکن ہے ایسا کیسے ہوسکتا ہے تم غلط وصیت سمجھ رہے ہو یہ سب عابدہ کا تھا اور میں نے اس کاروبار میں محنت کی ہے یہ سب میرا ہے۔۔ یہ جعلی وصیت سے تم میرا کاروبار مجھ سے نہیں چھین سکتے” وہ غصے سے پاگل ہوئے تھے عابدہ بیگم تو پریشانی سے یہ سب دیکھ رہی تھیں ان کی سمجھ سے ہر چیز بالا تر تھی۔۔۔”آپ کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا عمائم کے سائن ہوچکے ہیں عابدہ بیگم آپ کے دستخط چاہیے””وہ سائن نہیں کرے گی” افتخار ماموں ایک دم سے بولے تھے۔”اس سے فرق نہیں پڑتا بنا دستخط کے بھی جائیداد عمائم کو منتقل ہو چکی ہے یہ بس فرضی کاروائی ہے” وکیل صاحب کی بات پر افتخار ماموں کا دماغ گھوما تھا یہ پل میں کیا سے کیا ہوگیا تھا۔عابدہ بیگم نے ایک نظر اپنے بھائی کو دیکھا اور خاموشی سے وکیل کی بتائی جگہ پر دستخط کر دئیے۔۔افتخار صاحب کو سارا کچھ اپنے ہاتھوں سے نکلتا محسوس ہوا تھا اور وہ کچھ نہیں کر سکے تھے کچھ بھی نہیں اتنے سالوں کے بعد بھی وہ خالی ہاتھ رہ گئے تھے۔۔”اوکے اب ہم چلتے ہیں” انہیں کہتا وہ عمائم کا ہاتھ تھامے باہر آیا تھا اسے گاڑی میں بیٹھاتے وہ گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہی تھا جب اچانک عمائم اسکے سینے سے لگی تھی ۔اسے اپنے سینے سے لگے دیکھ وہ شاکڈ ہوا تھا۔۔”تھینک یو سو مچ ضوریز۔۔۔ تھینک یو سو سو مچ۔۔۔۔۔ آپ کا یہ احسان میں کبھی نہیں چکا سکتی””چکا تو سکتی ہیں”ضوریز کی بات پر عمائم نے جھٹکے سے سر اٹھائے اسے دیکھا۔،”کیسے ؟””یہاں کس کر کے” اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے وہ فرمائش کرتا عمائم کو شرم سے لال سرخ کرگیا۔۔”آپ””بہت اچھا ہوں ہیں نا،؟”شرارت سے کہتے اسکا چہرہ اوپر کرتا وہ اسکی آنکھوں پر لب رکھ گیا۔۔۔”لفظی شکریہ نہیں چاہیے مجھے کچھ اچھا سا سوچیں” اسکے ماتھے پر لب رکھتا وہ پیچھے ہوتے گاڑی اسٹارٹ کر گیا۔۔۔
 
قسط_25″ماشاءاللہ میں صدقے جاؤں ” امینہ بیگم نے اسکے سر پر سرخ آنچل ڈالتے اسکا صدقہ دیا تھا۔۔”آخر کو میرے گھر بھی خوشیاں آئیں”کہتے ساتھ انہوں نے زرمینے کا ماتھا چوما تھا۔۔”نور بیٹا آپ یہاں بیٹھو میں زرا باہر دیکھ آؤ” نور کو کہتے وہ کمرے سے نکلیں تو نور فوراً زرمینے کی جانب متوجہ ہوئی۔۔”زرمینے اگر تم یہ نکاح نہیں کرنا چاہتیں تو مجھے بتاؤ میں جازب شاہ سے بات کروں گی ایسے خود کو کسی بھی رشتے میں زبردستی باندھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے””میں یہ نکاح اپنی مرضی سے کر رہی ہوں بھابھی ۔۔۔ میں اس حویلی میں واپس نہیں آنا چاہتی میں اتنی بہادر نہیں ہوں مجھے کسی کے سہارے کی ضرورت ہے بھائی نے اگر یہ فیصلہ لیا ہے تو میں جانتی ہوں اسکے پیچھے وجہ ہوگی “”لیکن “”میں اپنے بھائی پر یقین کرنا چاہتی ہوں بھابھی”اسکی بات پر نورے لاجواب ہوئی تھی۔۔گہرا سانس بھرتے وہ زرمینے کو تیار کرنے لگی یہ سامان جازب شاہ لایا تھا شاید اسکے کمرے سے یا کہاں سے وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔”بیٹا مولوی صاحب آئے ہیں” امینہ بیگم کی اطلاع پر سر پر دوپٹہ اوڑھتے نورے سائیڈ ہوئی تبھی جاذب کے ساتھ مولوی صاحب اندر آئے تھے۔۔”زرمینے عمر شاہ کیا آپ کو جلال اجمل کے ساتھ نکاح قبول ہے؟” مولوی صاحب کے پوچھنے پر زرمینے نے سختی سے اپنا دوپٹہ مٹھی میں جکڑا۔۔۔”قبول ہے” سر کو جنبش دیتے آہستہ سے کہتے وہ ایجاب وقبول کرتے خود کو ہمیشہ کے لئے جلال اجمل کے نام کر گئی تھی۔۔وہیں دوسری طرف جلال سے اسکی رضا مندی پوچھی گئی تھی اسکے اقرار کے بعد مبارک سلامت کا شور اٹھا تھا جاذب نے اسے ٹائٹ سے اپنے گلے لگایا تھا۔۔”شکریہ میرے بھائی””شکریہ کر کے آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں” جاذب کے شکریہ پر اس نے نفی میں سر ہلایا۔”یہ نکاح میں نے آپ کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنی مرضی سے کیا ہے اس شکریہ ادا کرنے کی آپ کو ضرورت نہیں ہے سائیں”اسکی بات پر جازب ہولے سے مسکرا دیا۔۔”رشتہ داری مبارک ہو”مسکرا کرتے کہتے وہ واپس سے اسکے گلے لگا تھا۔۔زرمینے سے مل کر وہ نور کو لے کر واپس حویلی آیا تھا جہاں اندر آتے ہی اسے آغا جان کا پیغام موصول ہوا تھا۔نور کو اوپر جانے کا کہتا وہ خود آغا جان کے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔مارے تجسس کے اپنے کمرے میں جانے کے بجائے نور نے آغا جان کے کمرے کا رخ کیا تھا__________”اتنا بڑا فیصلہ تم کیسے اکیلے لے سکتے ہو ؟” سہیل شاہ کی گرجدار آواز پر جاذب نے بغور انہیں دیکھا۔۔۔”آپ تو ایسے ظاہر کر رہے ہیں جیسے یہ آپ کے فیصلے کے خلاف جا کر میں نے کچھ کیا ہوا جبکہ آپ اچھے سے جانتے ہیں آپ بھی ہیں چاہتے تھے کیا کل آپ نے جلال سے بات نہیں کی تھی؟”جاذب کی بات پر سہیل شاہ سے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔۔”میں اپنی بہن کو جلال کو تو دے سکتا ہوں میں کشور پھپھو کے سسرال میں کہیں نہیں وہ بہن ہے میری “”وہ بہن نہیں ہے تمہاری وہ اس طوائف کا خون ہے جاذب شاہ۔۔۔ “وہ ایک دم چیخے تھے ان کی چیخ پر دروازے کے باہر کھڑی نورے نے سختی سے اپنا ہاتھ منہ پر جمایا تھا۔یہ کیسا انکشاف ہوا تھا۔۔۔”آپ شاید بھول رہے ہیں کہ وہ عمر شاہ کی بیٹی ہے اس کی رگوں میں میرے باپ کا خون ہے آغا جان اس خاندان کا خون””ایسا تمہیں لگتا ہے طوائف کی بیٹی طوائف ہی کہلاتی ہے جاذب شاہ اگر ہم نے اسے اتنے سال اس گھر میں برداشت کیا ہے تو تمہاری وجہ سے””تو اب کیا مسئلہ ہے آپ کو آپ چاہتے تھے نا وہ اس گھر سے چلی جائے تو وہ چلے گئی “”تم” وہ کچھ کہنے لگے تھے جب جاذب نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکا۔۔”میں اب سمجھا آغا جان۔۔۔ بہت اچھے سے سمجھ گیا۔۔۔ آپ کو طوائف بہو کے طور پر قبول نہیں تھی تو اسکی بیٹی بھی کبھی قبول نہیں کی آپ چاہتے تھے آپ اسے قبول بھی نا کریں اور اسکی زندگی کے سارے فیصلے بھی آپ کریں آپ کی انا کو یہ گوارا نہیں کہ وہ خوش رہ سکے ٹھیک کہہ رہا ہوں نا میں”؟ اسکا سوال جتنا تلخ تھا اتنا ہی حیران کن بھی۔۔نور کو بالکل امید نہیں تھی کہ وہ یوں اپنی بہن کے لئے ایسے کھڑا ہوگا وہ تو اسے وہی روایتی مرد لگا تھا مگر کیا وہ واقعی روایتی مرد تھا؟””ہاں ٹھیک کہا مگر کیا تم اپنی زمہ داریاں نبھا رہے ہو؟ خون بہا کے نام پر تم اس لڑکی کو بیوی کی حیثیت سے اس گھر میں رکھ رہے ہو میں پوچھ سکتا ہوں آخر اپنے باپ کے قاتل کی بیٹی پر اتنی مہربانی کس لئے ہو رہی ہے؟”ان کے سوال پر نورے کے کان کھڑے ہوئے تھے اسکا رواں رواں کان بن گیا تھا۔۔”آپ اچھے سے جانتے ہیں میں ایسی کسی رسم کو نہیں مانتا۔۔۔ وہ میرے نکاح میں تھی میری بیوی تھی اسے اسی گھر میں آنا تھا جلد یا بدیر””تو پھر کیوں اس سے کہتے ہو کہ وہ سزا کے لئے لائی گئی ہے””آپ کو کب سے میری شادی شدہ زندگی میں دلچسپی ہونے لگی آغا جان؟”وہ اب انہیں یہ نہیں کہہ سکتا تھا وہ ضدی شیرنی اسکے دل کی دنیا تہس نہس کر چکی ہے۔۔۔”میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں جاذب شاہ لوگوں کو ان کی اوقات کے مطابق رکھو تم جان نشین ہو یہاں کی بڑی زمہ داریاں ہیں تم پر””میں اچھے سے لوگوں کو ان کی اوقات میں رکھنا جانتا ہوں آغا جان جو میرے اپنے ہیں وہ میرے ساتھ ہیں اور جو نہیں ہیں وہ آج بھی میری توجہ کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آتے “”جاذب””میں جا رہا ہوں میری بیوی اکیلی ہوگی اور آغا جان ایک آخری بار۔۔۔ آپ اب کوئی ایسا کام نہیں کرینگے جو ہمیں ماضی جیسی تکلیف دے ” انہیں کہتا وہ رکا نہیں تھا مگر اس کے نکلنے سے پہلے ہی نور وہاں سے ہٹی تھی۔۔اسکا دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا آخر جاذب شاہ کے دل و دماغ میں چل کیا رہا تھا اس شخص کا کون سا روپ اصل تھا اسے یہ سمجھنے کے لئے کافی وقت درکار تھا۔۔۔___________


نیکسٹ ڈے وہ مامون کے اٹھنے سے پہلے ہی نیچے کچن میں موجود تھی وہ جتنا ہوسکتا تھا مامون کو اگنور کر رہی تھی۔ڈائننگ ٹیبل پر خاموشی سے ناشتہ کرتے مامون نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔”تمہارے کالج کے بعد ہمیں کہیں جانا ہے تیار رہنا”اسکی بات پر شہرے نے مامون کو دیکھا۔۔”کہا جانا ہے؟””میں تمہیں ہر بات بتانا ضروری نہیں سمجھتا ہوں جیسا کہہ رہا ہوں ویسا کرو”مامون کی بات پر شہرے نے بمشکل نوالہ حلق میں اتارا تھا یونہی ادھورا ناشتہ چھوڑ وہ اٹھ کر باہر آگئی اور یہی حرکت مامون شیرازی کا دماغ گھما گئی تھی۔غصے سے اپنی جگہ سے اٹھتا وہ تیزی سے باہر آتا شہرے کا بازو دبوچ گیا۔۔”تم میرا دماغ خراب کر رہی ہو شہرے مجھے کچھ کرنے پر مجبور مت کرو”اسکا بازو سختی سے دبوچے وہ غرایا تھا۔۔”اوو۔۔۔ اچھا کیا کریں گے پہلے ہی زبردستی مجھے اپنی بیوی بنایا ہوا ہے ابھی بھی کچھ باقی ہے ۔۔ آپ مجھے مارنا چاہتے ہیں اوکے ماریں مجھے کتنا مار سکتے ہیں ماریں”اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کرتی وہ غصے سے بولی تھی۔”واٹ۔۔ ویٹ میں تمہیں کیوں ماروں گا جب میں تمہاری فیملی کو تمھارے کئے کی سزا دے سکتا ہوں”مامون کی دھمکی پر اسکے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔۔”اگر تم اپنی فیملی کی حفاظت چاہتی ہو تو جیسے میں کہتا ہوں ویسے کرو” اسے کہتے وہ گاڑی میں جا بیٹھا جبکہ شہرے کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا شہرے کو کالج ڈراپ کر وہ سیدھا آفس آیا تھا۔۔”افففف یہ لڑکی مجھے پاگل کر رہی ہے آخر مسئلہ کیا ہوا ہے اسکے کیوں یہ سب بکواس حرکتیں کر رہی ہے”خود سے کہتے اس نے خود کو ریلکس کرتے کام میں دھیان تھا آج کا دن اسکے لئے بہت اہم تھا۔۔وہیں دوسری طرف شہرے کو موڈ بری طرح سے خراب تھا رچرڈ کا بات کرنا بھی اسے گرا لگ رہا تھا۔۔”کیا ہوا ہے شہر؟؟ یو لک اپ سیٹ؟””نتھنگ””کینٹن چلتے ہیں”وہ جانا نہیں چاہتی تھی مگر رچرڈ کی ضد کے آگے مجبور ہوکر اسے جانا پڑا آج اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا وجہ شاید مامون اور اسکے درمیان ہونے والی لڑائی تھی۔۔۔

لیکن رچرڑ کی باتوں نے اسکا موڈ ایک دم سے ٹھیک کیا تھا اسکے فضول جوکس پر بے تحاشہ ہنستے اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے اس سب کے دوران اسے وقت کا بالکل بھی احساس نہیں ہوا تھا۔۔باہر مامون اسکا ویٹ کرتے کرتے بالآخر اسے ڈھونڈھتے اندر آیا تھا مگر اسکی خالی کلاس دیکھ مامون کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔۔وہ سیدھا سکیورٹی روم میں آیا تھا جہاں سی سی ٹی وی فوٹیج سے اسے شہری رچرڈ کے ساتھ باتیں کرتی نظر آتی اسکا خون کھولا گئی۔چہرے پر چٹانوں کی سی سختی لئے وہ کینٹن آیا تھا شہرے کو رچرڈ کی بات پر ہنس رہی تھی مامون کو سامنے دیکھ اسکی ہنسی کو بریک لگا تھا چہرے کا رنگ سفید پڑا ۔”مامون۔۔۔ آپ یہاں؟”اسکا دل خوف سے سمٹا تھا۔۔”یس آئی ایم ہئیر ناؤ کم” اسکا بازو دبوچے وہ اسے ساتھ لئے آگے بڑھا جب رچرڈ ان کے سامنے آیا تھا۔”کون ہو تم اور اس طرح شہرے کو کیوں لے جا رہے ہو؟چھوڑو اسے”رچرڈ کی بات پر مامون نے ایک نظر گردن موڑے اسے دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ کا مکا بنائے وہ رچرڈ کے منہ پر مارتا بنا رکے شہرے کو گاڑی میں پھینکنے کے انداز میں اندر کرتا خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا تھا۔خوف سے شہرے کا دل کسی پتے کی طرح لرز رہا تھا۔۔”مامون آئی ایم سوری وہ بس میرا دوست ہے اور کچھ نہیں””میں نے تم سے کہا تھا کہ لڑکوں سے دور رہنا مگر تم نے نہیں سنی اب تم دیکھو بس”اسکی دھمکی پر شہرے کو اپنے رونگھٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوئے تھے۔”مامون پلیز سوری میں آج کے بعد ایسا نہیں کروں گی”وہ حد سے زیادہ رو رہی تھی جبکہ غصے سے مامون کے ماتھے کی رگیں تنی ہوئی تھی۔گاڑی ایک جھٹکے سے گھر کے پورچ میں روکتے وہ اسکا بازو دبوچے اسے سیدھا اوپر لاتا بیڈ پر پھینکتے اس پر حاوی ہوتا اسکی سانیسیں روک گیا۔۔مامون کے لمس میں شدت تھی تکلیف سے شہرے کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔۔وہ جانتی تھی اس نے غلطی کی ہے اس نے مامون کا بھروسہ توڑا ہے۔۔۔ مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتی جو اسٹیلا اور مامون کو یاد کر آگ میں جلتا تھا۔اپنے ہونٹوں پر مامون کے شدت بھرے لمس پر اسکا سانس رکنے لگا تھا۔۔شہرے مزاحمت کرتی اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی جو اسکی سانسوں پر قبضہ جمائے ہوئے تھا اسکے ہونٹوں کو آزادی دیتا وہ اسکی گردن میں جھکتا تھا۔۔اسکے لمس سے بے حال ہوتے شہرے نے اپنے دانت اسکے بازو میں گاڑھ اسے خود سے دور ہونے پر مجبور کیا تھا ۔”کیا کر رہے ہیں آپ ؟”بیڈ سے اٹھتے وہ مامون کی پہنچ سے دور ہوئی تھی اسکا پورا وجود کپکپا رہا تھا۔۔”یہی تو چاہتی تھی نا تم اب کیا مسئلہ ہے؟””مامون۔۔۔ اوکے میں ہوں ہی کون میری اوقات کیا ہے آپ نے مجھے ایک طوائف سمجھا ہوا ہے نا تو آئیں اور لے لیں اپنا حق ” اپنا اسکارف سائیڈ پھینکتے وہ مامون کے سامنے آئی جو اسکی اس حرکت پر ہوش کی دنیا میں واپس آیا تھا۔۔بالوں میں ہاتھ پھیرتے اس نے خود کو ریلکس کیا۔۔”جاؤ یہاں سے اور تیار ہو ہمیں تھوڑی دیر بعد نکلنا ہے” اسے کہتا وہ وہاں رکا نہیں تھا۔شہرے کو کسی اور لڑکے کے ساتھ دیکھا اسکا پورا وجود آگ میں جلنا لگا تھا وہ کیسے کسی اور لڑکے ساتھ بیٹھ سکتی تھی اسکے ساتھ ہنس سکتی تھی جب وہ اسکے ساتھ بات نہیں کر رہی اس سے لڑ نہیں رہی۔۔وہ چھوٹی سی لڑکی مامون شیرازی کو پاگل کر رہی تھی اور وہ پاگل ہو رہا تھا اس لڑکی کو پانے کی طلب شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔۔۔ٹھنڈے پانی کے نیچے کھڑے ہوتے اس نے اپنے اندر لگی آگ کو بجھانے کی ناکام کوشش کی تھی_____________



“بہت بہت مبارک ہو عمائم ” شائستہ بیگم نے محبت سے اسے گلے لگایا تھا۔”تھینک یو سو مچ امی””مما ” زارون کی پکار پر عمائم نے اسے گود میں بھرا تھا۔۔فائنلی اس نے اپنے بابا کی محنت ان لوگوں سے واپس لے لی تھی۔۔اس نے عابدہ بیگم کا حصہ افتخار ماموں کے پاس رہنے دیا تھا مگر اپنا حصہ وہ مفت میں انہیں دینے کے موڈ میں ہر گز نہیں تھی۔۔”چلو اب رات بہت ہوگئی ہے آرام کرو زارون چلو آپ بھی کل جانا ہے” شائستہ بیگم اسے کہتے زارون کو لئے اپنے کمرے کی جانب بڑھی تو عمائم نے گہرا سانس بھرے اوپر اپنے کمرے کی جانب دیکھا۔ضوریز نے اسکی بہت مدد کی تھی وہ جتنا اسکا شکریہ ادا کرتی کم تھا۔۔وہ اوپر کمرے میں آئی تو ضوریز صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر مصروف تھا۔”چائے پئیے گے؟””نہیں مجھے نیند آرہی ہے چائے پیوں گا تو نیند خراب ہوگی” اسکی بات کر عمائم نے سر ہلایا تھا۔۔”عمائم۔۔۔ “”جی؟””کم ہئیر”اسکے پکارنے پر وہ آہستہ سے چلتی اسکے پاس آ بیٹھی ضوریز نے اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا تھا۔۔”کل سے آپ پراپر طور پر میرا آفس جوائن کر رہی ہیں اس لئے خود کو ریڈی رکھیں””آفس جوائن کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے کیا ؟” اسکے سوال پر ضوریز نے مسکراہٹ دباتے اسے دیکھا۔”کام کرنا مشکل نہیں ہوتا مگر میرے ساتھ کام کرنا مشکل ہوتا ہے””وہ کیسے ؟””یہ آپ کل جان جائیں گی””آپ کیا کرنے والے ہیں ضوریز ؟” اس نے مشکوک نظروں سے ضوریز کو گھورا جس پر وہ قہقہ لگائے ہنس پڑا۔۔”آپ کے ساتھ کچھ بھی کرنے کا فلحال میرا کوئی ارادہ نہیں ہے میڈم۔۔۔ پہلے ہی بہت زمہ داریاں ہیں آپ پر میں اپنی بھی ڈال دوں گا تو تھک جائیں گی اس لئے ابھی چینج کر کے لیٹیں میں یہ فائل کمپلیٹ کرکے آتا ہوں آپ کے پاس”اسکے گال سہلاتا محبت سے کہتا وہ اسے مسکرانے پر مجبور کرگیا تھا۔__________اگلی صبح اسکی آنکھ اپنے وقت پر کھلی تھی مگر ضوریز کو تیار دیکھ اس نے حیرت سے اسے اور پھر گھڑی کی جانب دیکھا۔۔”میری اسسٹنٹ مجھ سے پہلے آفس پہنچ جاتی تھیں لیکن آپ تو ابھی تک آرام کر رہی ہیں لگتا ہے آپ کو اپنی جاب پیاری نہیں ہے” اسکی بات پر عمائم نے گھور کر اسے دیکھا۔”آپ شاید بھول رہے ہیں میں آپ کی اسسٹنٹ نہیں پارٹنر ہوں”سینے پر ہاتھ باندھے اس نے آئی برو اچکائی جس پر ضوریز مسکراتا اسکے قریب آیا تھا۔۔”میری جان اچھا پارٹنر بننے کے لئے آپ کو بزنس کرنا سیکھنا ہوگا جو میری مدد کے بغیر ممکن نہیں اس لئے میں خوش رہوں گا تو آپ بھی خوش رہیں گی ” اسکی ناک پر کب دھرتا وہ اسے ساکت چھوڑے کمرے سے نکلتا چلا گیا جبکہ اسکے جاتے ہی ہوش کی دنیا میں آتی عمائم تیزی سے واشروم میں بند ہوئی تھی۔۔
 
قسط_26وہ کمرے میں آ تو گئی تھی مگر اسکا دل ابھی بھی کانوں میں دھڑک رہا تھا ماضی جاننے کا تجسس بڑھتا ہی جا رہا تھا ۔۔۔۔”یا اللّٰہ میں کیسے ماضی کے بارے میں جانوں ضرور کوئی بہت بڑا راز ہے جو چھپا ہوا ہے یہ سیمپل دشمنی نہیں ہے”اسکا دماغ تیزی سے کام کررہا تھا۔”کیا سوچ رہی ہیں؟”جازب کی آواز پر اس نے چونک کر سر اٹھائے جاذب کو دیکھا جو دروازے کے بیچ استادہ تھا۔۔”کچھ نہیں” ناک سکیڑ کر جواب دیتے وہ اپنا رخ موڑ کر گئی جازب نے اسکا یہ روٹھا روٹھا انداز ملاحضہ فرمایا۔۔”یہ آنکھیں کسے دیکھ کر گھمائی ہیں مسزز جاذب شاہ ؟”قدم بہ قدم چلتے اسکے پاس آکر کھڑے ہوتے جازب نے سوال کیا جسے نورے نے بہت اچھے سے اگنور کیا تھا۔۔”میں کچھ پوچھ رہا ہوں مسزز جاذب” اسکی ٹھوڑی دبوچ کر اسکا چہرہ اوپر کئے جازب نے اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کیا ۔۔اسکے اتنے قریب آنے پر نورے کا دل سو کی اسپیڈ سے دھڑکا تھا ۔۔”یہ۔۔ یہ ۔۔ دور” اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتی جاذب نے جھک کر اسکی ٹھوڑی کو چھوا تھا۔۔”ویسے دل تو کر رہا ہے بہت اچھے سے سزا دوں مجھے اگنور کرنے کی مگر ابھی میرے پاس سزا دینے کا وقت نہیں ہے” اسکے خطرناک حرکت کے بعد اسکی بات نے نور کو پرسکون کیا تھا ۔ مگر متجسس بھی ۔۔”کہاں جا رہے ہو تم،؟”نور کے سوال جو جازب نے بہت اچھے سے نظر انداز کیا تھا۔”ہونہہ جاذب شاہ میں نے کچھ پوچھا ہے ؟” اسکے اگنور کرنے پر نورے نے اب کے تیز آواز میں اپنا سوال دہرایا تھا مگر اس بار بھی جواب ندارد۔۔مزے سے کھڑکی پر ہاتھ جمائے وہ باہر ہے کے نظارے دیکھنے میں مصروف تھا اور یہ بات نورے کو آگ لگا گئی تھی۔غصے سے اپنی جگہ سے اٹھتے وہ اس تک پہنچتے جاذب کا بازو سختی سے پکڑ اسکا رخ اپنی جانب کر گئی۔۔”میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں تم مجھے ایسے اگنور نہیں کر سکتے””میرا تم والا کان بند ہے ۔۔ جس بات میں تم لفظ ہوتا ہے وہ بات میرے کان میں نہیں آتی “”مجھے تمہیں آپ نہیں کہوں گی کبھی بھی”دانت پیس کر کہتے اس نے جاذب شاہ کو گھورا جو بڑی فرصت سے اسکے غصے سے لال ہوئے چہرے کو نگاہوں میں بھرے ہوئے تھا۔۔۔”ایسے کیا دیکھ رہے ہو کھانا ہے مجھے ؟””کھا تو میں چکا ہوں” اسکی بات کا جواب دیتے وہ نور کو شرم سے پانی پانی کر گیا۔۔”تم۔۔۔۔””آپ”اسکا بازو تھام اپنے قریب کرتا وہ اسکے چہرے پر جھکا تھا نورے نے فوراً سے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ جمایا ۔۔”خبردار جاذب شاہ جو کوئی فضول حرکت کرنے کی کوشش کی میرے ساتھ “”اسے فضول حرکت نہیں کس کہتے ہیں”اسکے ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش کرتا وہ اسے اطلاع فراہم کرگیا جس پر نورے نے آنکھیں گھمائیں۔۔”اسے کس نہیں چھچھوری حرکت کہتے ہیں جو تم میں کوٹ کوٹ کر بھری پڑی ہیں اس لئے مجھ سے زرا فاصلے پر رہو”اسکا ہاتھ دور کرتے وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی مگر ہائے اسکی قسمت کے اسکا پیر بری طرح سے مڑا تھا اس سے پہلے وہ گرتی جاذب نے اسے اپنی بانہوں نے حصار میں قید کیا تھا ۔”مجھے دور رہنا کا کہتی ہو مگر خود میری بانہوں میں آنے کے لئے بے چین۔۔۔ “”بدتمیزی نہیں کرو میں جان کر نہیں گری””اچھا آپ کہتی ہیں تو مان لیتا ہوں “”ماننا پڑے گا”اسے کہتے وہ جھٹکے سے سیدھی ہوئی تھی مگر ایک بار پھر سہارے کے لئے اس نے جاذب شاہ کا بازو دبوچا۔۔”اب دیکھ لیں آپ “”وہ” اس سے پہلے وہ اپنی بات کہتی اسکے بالوں میں ہاتھ پھنساتے وہ اسکے ہونٹوں پر جھکتا اسکے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لے گیا۔۔۔”چلتا ہوں رات میرا انتظار کرنا” اسکے ہونٹوں کو رہائی دیتا وہ آنکھ ونک کرتے کہتا وہاں سے نکلا تھا جبکہ نور کو تو لمحے کو سمجھ ہی نہیں آیا تھا کہ اسکے ساتھ ہوا کیا ہے۔۔۔۔____________

مامون بالکل تیار نیچے شہرے کا ویٹ کر رہا تھا تھوڑی دیر بعد قدموں کی آواز پر مامون نے سیڑھیوں کی جانب دیکھا تو دیکھتا رہ گیا جہاں شہرے موجود تھی۔بلیک کلر کے اسٹائلش فراک میں بالوں کو کرل کئے وہ لائٹ سے میک اپ کے ساتھ مامون شیرازی کی دھڑکنیں بے ترتیب کر گئی تھی۔۔وہیں شہرے کا حال بھی مختلف نہیں تھا بلیک ٹیکسڈو میں وہ کسی ریاست کا شہزادہ ہی تو لگ رہا تھا۔۔”چلو ہمیں لیٹ نہیں ہونا ہے” اسے کہتا وہ باہر بڑھا تھا کیونکہ ناراضگی کا اظہار کرنا بھی تو ضروری تھا نا۔۔۔اسکے یوں جانے پر شہرے خود پر ضبط کرتے خاموشی سے گاڑی میں آ بیٹھی۔۔پورا سفر خاموشی سے کٹا تھا۔۔مامون کے برینڈ کا شو تھا جس کے بعد ایک بڑی پارٹی تھی شو کے بعد وہ مامون کے ساتھ اس بڑی سی جگہ پر آئی تھی جسے نہایت خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا۔آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی روشنی سے وہ جگہ جگمگا رہی تھی۔۔۔مامون نے شہرے کا ہاتھ تھاما اور اندر بڑھا تھا ان کے جاتے جاتے ہی سب کی نگاہیں ان پر ٹکی تھیں خاص کر شہرے پر۔ اسے مامون کے ساتھ دیکھ کئی گناہوں میں رشک تھا تو کسی میں جلن لیکن ایک شخص کی آنکھوں میں صرف اور صرف نفرت تھی اور وہ کوئی اور نہیں اسٹیلا تھی۔۔جو ان دونوں کو دیکھ بری طرح جل کر راکھ ہوئی تھی۔۔۔پاس آتے ویٹر کو اشارے سے بلاتے اسے کچھ کہتی کچھ سوچتے وہ آگے بڑھی تھی اور جاتے ہی اس نے مامون کو ہگ گیا تھا۔۔اس نے شہرے کو ایسے نظر انداز کیا تھا جیسے اسکا یہاں کوئی وجود ہی نا ہو۔۔مامون کے گال پر اچانک سے پیار کرتی وہ شہرے کو غصے سے پاگل کر گئی۔۔اسکا دل اداس ہوا تھا”ہنی وائے آر یو سو لیٹ ؟ آئی مس یو سو مچ”اسٹیلا نے کہتے ساتھ اسکا بازو تھاما تھا۔۔مامون اسکا ہاتھ خود پر سے ہٹانا چاہتا تھا مگر شہرے کے چہرے پر چھائی جیلسی دیکھ وہ تھما تھا وہ اسے سزا دینا چاہتا تھا یہ خیال آتے ہی اس نے آہستہ سے اسٹیلا کا ہاتھ تھاما تھا۔”کم آن اسٹیلا کسی ایسی جگہ چلیں جہاں زیادہ رش نا ہو””اوکے ہنی” مامون کا خود کو توجہ دینا اسٹیلا کو ہواؤں میں اڑا گیا تھا۔۔حالانکہ مامون کو یہ سب پسند نہیں تھا مگر شہرے کے چہرے پر چھائے تاثرات دیکھ وہ جان کر ایسا کر رہا تھا۔اسٹیلا کا ہاتھ تھامے وہ وہاں سے ہٹا تھا۔۔شہرے کا دل ایک دم سے اداس ہوا تھا اسکا دل کیا وہ یہ پارٹی چھوڑ کر چلی جائے مگر۔۔۔ اسکی نگاہیں مامون اور اسٹیلا پر جا ٹکی تھیں۔۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کے بے حد قریب تھے مامون کی نگاہیں شہرے پر ٹکی تھیں جو شہرے کو مزید غصہ دلا رہی تھیں۔۔۔غصے سے کھولتے اس نے اپنا رخ موڑا تھا جب ایک ویٹر اسکے پاس آیا تھا اسکے ہاتھ میں جوس کا گلاس تھا۔بنا سوچے اس نے وہ گلاس ویٹر سے لئے ایک سانس میں پورا پیا تھا۔۔۔میوزک کی آواز پر شہرے ڈانس فلور پر آکر ڈانس کرنے لگی سب کی نگاہیں اس پر تھی خاص کر کے مردوں کی۔۔۔اسٹیلا نے اسکی ڈرنک میں کچھ ملوایا تھا جو سب ری ایکٹ کر رہا تھا۔اسے اکیلے ڈانس کرتے دیکھ کچھ آدمی اسکے پاس آئے تھے اور یہ دیکھ مامون کا دماغ گھوما تھا اسٹیلا کا ہاتھ جھٹکتے وہ تیزی سے شہرے کی جانب آتا اسے اپنے قریب کر گیا۔۔۔”واٹ آر یو ڈوئنگ۔۔۔ ڈونٹ پلے ود می””شہرے ہوش میں آؤ””میں ہوش میں ہی ہو تم کیوں آئے ہو ڈیول دور رہو” اسے کہتے شہرے نے اسے خود سے دور کرنا چاہا مگر وہ اسے خود میں سختی سے بھینچ گیا شہرے کا موڈ حد سے زیادہ خراب ہوچکا تھا۔۔۔مامون کو شہرے کے اتنے قریب دیکھ اسٹیلا کا دماغ خراب ہوا تھا۔اپنے ہاتھ میں موجود گلاس ٹیبل پر پٹختے وہ تیزی سے مامون اور شہرے کے پاس آئی تھی ۔”یو۔۔ بچ۔۔ تم میرے بوائے فرینڈ کو مجھ سے چھیننا چاہتی ہو آج میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں”اسٹیلا اس کے پاس آتے غرائی تھی شہرے نے ناگواری سے اسے دیکھا اور پھر وہ ہوا جس کی توقع وہاں موجود کسی انسان کو نہیں تھی۔۔۔۔پاس رکھی ٹرے سے گلاس اٹھاتے وہ پورا جوس کا گلاس اسٹیلا کے چہرے تہ انڈیل چکی تھی ۔۔اسکی حرکت نے مامون کو شاکڈ کیا تھا۔”یو بچ۔۔۔ یو آر بگ بچ۔۔۔ مرنا چاہتی ہے؟یو ٹرائے ٹو اسٹیل مائے مین ویٹ اینڈ واچ؟”کہتے ساتھ شہرے نے ایک زور دار تھپڑ اسٹیلا کے چہرے پر مارا تھا اس سے پہلے وہ اس تھپڑ سے سنبھلتی شہرے نے اسکے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑا تھا۔مامون شاکڈ کے اب خوشی سے شہرے کو دیکھا تھا وہ اسکے مائے مین کہنے پر شاکڈ کے ساتھ ساتھ خوش تھا بے تحاشہ خوش اس نے آج سے پہلے شہرے کا یہ روپ نہیں دیکھا تھا۔۔۔شہرے مکمل اسٹیلا کو بے بس کرتے اسے مار رہی تھی اور ان کی یہ لڑائی رپورٹرز کو اپنی جانب متوجہ کر گئی تھی مامون نے فوراً سے اسٹیلا کو شہرے سے الگ کرتے اسے اسے بانہوں میں بھرے وہاں سے نکلا تھا ۔۔”مامون مجھے چھوڑو میں اسے چھوڑوں گی نہیں قتل کردوں گی میں اسکا”اسکی بات پر مامون کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا شہرے اس طرح بھی کسی کو مار سکتی ہے اسکا غصہ دیکھ وہ خوشی سے پاگل ہو رہا تھا اسے شہرے پر فخر محسوس ہوا تھا اسے گاڑی میں زبردستی بیٹھاتے وہ گھر کے لئے نکلا تھا۔۔۔۔


تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے وہ بمشکل پھولی سانسوں کے ساتھ اوپر آئی تھی۔۔گھڑی میں ٹائم دیکھا ۔۔ بالکل فکس ٹائم پر وہ آفس پہنچی تھی۔بنا رکے وہ تیزی سے ضوریز کے آفس کے سامنے کھڑی ہوگی ڈور ناک کرتے اندر داخل ہوئی جہاں وہ عادتاً شرٹ کی آستین کہنیوں تک فولڈ کئے کام کرنے میں مصروف تھا۔۔”مارننگ سر””گڈ مارننگ مس عمائم۔۔ یہ دو فائلز ہیں انہیں ٹیلی کریں اور ری ٹائپ کر کے مجھے دیں””ری ٹائپ؟” اسے وہ فائلز بالکل ٹھیک ٹائپ ہوئی لگ رہی تھیں۔۔۔”یس ان میں کچھ اسپیلنگ مسٹیک ہیں ” اسے کہتا وہ واپس سے اپنے کام میں مصروف ہوا تھا عمائم نے فائل اٹھا کر اپنے کیبن کی طرف قدم بڑھائے تھے جو بالکل ضوریز کے آفس کے ساتھ جڑ کر بنا ہوا تھا مگر اسے رکنا پڑا۔۔”ٹھیک بارہ بجے میں بلیک کافی لیتا ہوں آپ میری پرانی اسسٹنٹ سے میری روٹین نوٹ کرلیں تو زیادہ بہتر ہے” بنا لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائے وہ اس سے کہتا عمائم کو شدید قسم کا غصہ دلا گیا تھا۔۔مگر سر ہلاتے وہ اپنی سیٹ پر آ بیٹھی۔۔بارہ بجے تک اس نے صرف ایک فائل ری ٹائپ کی تھی جس میں زرا سی بھی اسپیلنگ مسٹیک نہیں تھی۔۔۔فائل چھوڑ وہ اپنی جگہ سے اٹھتے نیچے کامن کچن میں آئی تھی جہاں اس نے ضوریز کے لئے بلیک کافی بنائی۔۔۔ اور پھر وہ واپس اوپر آتے اسکے سامنے بلیک کافی رکھتے مڑی تھی۔۔”چائے کہاں ہے؟””سر آپ نے مجھے بلیک کافی کہا تھا””اوو سوری میں بولنا بھول گیا کہ میرا چائے پینے کا موڈ ہے” اسکی بات پر عمائم نے گھور کر اسے دیکھا تھا مگر اس وقت وہ باس تھا وہ اسے کچھ بھی نہیں کہہ سکتی تھی اس لئے خاموشی سے واپس نیچے آتی وہ اسکے لئے چائے بنا کر اوپر لائی تو اسے ایک اور جھٹکا لگا۔۔ضوریز صاحب کافی پی چکے تھے۔۔”سر۔۔۔ آپ نے مجھ سے بائے بنوائی تھی””آپ نے آنے میں دیر کردی میرے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ میں اب چائے اور کافی پر اپنا ٹائم ضائع کروں “اسکے جواب پر عمائم نے خود کو غصہ کرنے سے روکا تھا۔۔”اب میں اس چائے کا کیا کروں سر؟””میں جانتا ہوں آپ کا دل تو اس چائے کو میرے سر پر پھینکنے کا ہے مگر سوری آپ کا یہ خواب میں پورا نہیں کر سکتا اس لئے یہ چائے آپ پی لیں اور واپس جا کر کام کریں””کام ہی کر رہی تھی میں سر” اسے جتاتے وہ واپس اپنی جگہ پر آ بیٹھی ضوریز نے اسے ٹھیک ٹھاک غصہ دلایا تھا مگر چائے کا ایک سپ لیتے ہی اسے سکون سا ملا تھا ۔”چلو کوئی نہیں مجھے اسکی بہت ضرورت تھی” خود سے کہتے وہ فریش سی اپنا کام کرتے چائے پینے لگی۔۔ضوریز نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائے اسے دیکھا ہولے سے مسکراتے وہ اپنے کام میں بزی ہوا تھا۔۔۔پورے دن کی محنت کے بعد فائلز ضوریز کے حوالے کرتے وہ اسے گھورنا نہیں بھولی تھی جو فائلز کو ایک طرف رکھے اسے نیا کام تھما گیا تھا۔”شٹ “”ہوا ہوا؟”ضوریز کے شٹ کہنے پر اس نے پلٹ کر اسے دیکھا۔”نتھنگ آپ جاؤ””آپ نہیں آرہے آف ٹائم ہوگیا ہے،”عمائم نے گھڑی میں ٹائم دیکھا جہاں پانچ بج چکے تھے ۔”مجھے ایک میٹنگ میں جانا ہے آپ جائیں گھر”اپنی جگہ سے اٹھتے وہ اسکے پاس آیا عمائم نے فوراً سے اپنے قدم پیچھے لئے مگر اسکی کمر میں ہاتھ ڈال اسے اپنے قریب کرتا وہ عمائم کی کوشش ناکام بنا گیا۔۔”سر””انہوں سر میں پانچ بجے تک ہوں پانچ بج کر ایک سیکنڈ ہوتے ہی میں آپ کا شوہر ہوں ” اسکے گال سے اپنا گال مس کرتا وہ عمائم کو حواس باختہ کرگیا اسکی بڑھتی جسارت اور گردن پر محسوس ہوتے ضوریز کے لمس سے پگھلتے وہ اسکا کندھا سختی سے تھام گئی۔۔”ضوریز مجھے جانا ہے”اسکے کندھے پر ہاتھ مار اس نے ضوریز کو ہوش دلانا چاہا۔۔”مجھ سے دور جانے کی کچھ زیادہ جلدی نہیں ہے آپ کو مسزز؟””ظاہر ہے میں تھک گئی ہوں بہت میرے باس نے آج مجھ پر اتنا ظلم کیا ہے پہلے سے پرفیکٹ فائلز ری ٹائپ کروائی ہیں” اسکی شکایت پر وہ دانتوں تلے لب دبا گیا۔۔”ویسے اس فائل میں ایک غلطی تھی ایک جگہ کیا پوائنٹ تھا وہ جو میجر۔۔۔” وہ کہتے کہتے اٹکا تھا۔۔”میجر نہیں تھا وہ میجرمنٹ تھا پیج نمبر 75 پر آپ نے غلط پڑھا تھا۔۔”واؤ آپ کو تو پیج نمبر بھی یاد ہے عمائم””میں ایک کوئک لرنر ہوں مسٹر ضوریز ” اسکے بٹن سے کھیلتے وہ اترائی..ضوریز نے جھک کر اسکے ماتھے کو اپنے لبوں سے چھوا تھا۔۔”اب آپ گھر جائیں اور اچھی بیویوں کی طرح میرا گھر پر انتظار کریں ڈنر ساتھ کریں گے اوکے؟””ہمم۔ اوکے” اسے کہتے وہ وہاں سے نکلی تھی جہاں ڈرائیور اسکا منتظر تھا۔۔_____________


جب سے جاذب اور نور گئے تھے وہ امینہ بیگم کے کمرے میں ہی موجود تھی ۔۔کچھ دیر پہلے ہی امینہ بیگم اس کے لئے کھانا لائی تھیں بھوک تو اڑ چکی تھی اس نے بمشکل چند نوالے حلق سے زبردستی اتارے تھے۔۔وہ صبح والے نور کے کپڑوں میں ہی موجود تھی اسکے پاس یہاں اپنا کچھ نہیں تھا۔۔”زرمینے بچے میں زرا کام سے جا رہی ہوں تھوڑی دیر میں آجاؤں گی””آپ کہاں جا رہی ہیں دادی ؟” ان کے جانے کا سن وہ فوراً سے خوفزدہ ہوئی تھی۔”ارے بچے ڈرنے کی کیا بات ہے اس میں بس زرا پڑوسن بیمار ہے اسکی خیریت معلوم کرکے آتی ہوں”وہ اب انہیں روک نہیں سکتی تھی اس لئے محض سر ہلا گئی۔۔ان کے جانے کے بعد اسے سمجھ نہیں آیا کیا کرے۔۔ حویلی میں بھی ایک کمرے میں بند اور اب بھی۔۔وہ امینہ بیگم کے کمرے سے نکل کر باہر صحن میں آگئی۔۔موسم اچھا تھا ٹھنڈی ہوائیں اسے سکون دے رہی تھیں کہ اچانک کوئی چیز اسکی گود میں آکر گری تھی۔خوف سے وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی تو وہ بڑی سی بال تھی جو مکمل کیچڑ میں لت پت تھی۔۔”یا اللّٰہ””دادی ہماری بڑی گیند آئی ہے گھر میں” وہ بچے تھے جن کی گود اسکے سارے کپڑے خراب کر گئی تھی۔۔گیند باہر پھینکتے وہ امینہ بیگم میں آتے اس نے اپنے کپڑے صاف کئے جو اچھے خاصے گندے ہو چکے تھے اسکے ہاتھ پر بھی گندگی لگ چکی تھی۔۔”کیا کروں اب نیا سوٹ کہاں سے لاؤں ؟” اسکا پہنا ہوا جوڑا تو کل خراب ہوچکا تھا امینہ بیگم کی الماری لاکڈ تھی کچھ سوچتے اس کی نگاہ رسی پر پڑی تھی جہاں جلال کے کپڑے سوکھ رہے تھے۔گھر میں کوئی نہیں تھا یہی سوچتے اس نے جلال کے کپڑے لئے اور خود واشروم میں بند ہوئی تھی تھوڑی دیر بعد وہ باہر آئی تو اسکے کپڑوں میں چھپی ہوئی تھی۔۔خود کو صاف کرتے اسنے اپنا سوٹ بھی صاف کر پنکھے کے نیچے رکھا تھا۔۔بیڈ پر بیٹھتے وہ اپنے کپڑے سکھانے لگی۔۔وہیں دوسری طرف اپنے کسی ضروری کام سے گھر کا لاک کھول کر اندر آتا جلال امینہ بیگم کے کمرے میں کسی آدمی کو بیٹھے دیکھ بری طرح چونکا تھا۔۔۔
 
قسط_27اسے گاڑی سے نکالے وہ گھر میں آیا تھا۔۔”چھوڑو ڈیول میں اسے چھوڑوں گی نہیں””,ریلکس شہرے ۔۔۔وہ اب یہاں نہیں ہے “”آئی ہیٹ ہ۔۔۔” اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتی اسکا جی متلایا۔۔۔اور پھر اس نے مامون کے کپڑوں پر الٹی کی تھی۔۔”شہرے کیا ضرورت تھی وہ ڈرنک پینے کی جب برادشت نہیں ہوتا” گہرا سانس بھرتا اسے اٹھائے اوپر کمرے میں لاتا بیڈ پر لٹاتے اس پر بلینکٹ برابر کرتا خود اپنے کپڑے لئے واشروم میں بند ہوا تھا۔۔فریش ہو کر وہ باہر آیا تھا شارٹ اور شرٹ میں وہ بھیگے بالوں کے ساتھ بیڈ پر آ بیٹھا اسکی نگاہیں شہرے پر تھیں کہ اچانک اس نے کروٹ لیتے مامون کے گرد بازو پھیلائے تھے۔۔”ڈیول۔۔۔ آئی وانٹ یو” نیم وا آنکھیں کھولے اس نے زرا سا اٹھ کر مامون کے گال پر پیار کیا تھا۔۔مامون نے حیرت سے اسکی حرکت دیکھی تھی جو گال سے ٹھوڑی اسکے ناک ۔۔ اسکے چہرے کے تمام نقوش چھوتی اسے جھٹکے پر جھٹکے دے رہی تھی۔۔۔”شہرے۔۔۔ اسٹاپ”اس سے پہلے وہ بات مکمل کرتا شہرے نے اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اسے چپ کروایا تھا۔۔مامون نے سختی سے اپنا ہاتھ شہرے کے پہلو میں جمایا۔۔ جو اسکے چہرے پر جھکی ہوئی تھی۔۔مامون یقین سے کہہ سکتا تھا اگر وہ ہوش میں ہوتی تو یہ حرکت کبھی نا کرتی۔ایک جھٹکے سے شہرے کو تکیے پر منتقل کرتے مامون اسکی سانسوں پر قابض ہوا تھا۔۔مامون کا نرم لمس پاتے ہی شہرے نے آنکھیں بند کر اسکی گردن کے گرد بازوں کا حصار کیا تھا۔۔حسین موسم۔۔ رومانوی رات اور من پسند شخص کا ساتھ۔۔۔مامون دنیا بھولے اسے اپنے لمس سے بھگوتا شہرے کی سخت گرفت پر چونکا۔اسے اپنے لمس کی قید سے رہائی دیتا وہ شہرے سے دور ہوا تھا۔۔”لٹل گرل سوجاؤ ورنہ صبح اٹھ کر تم نے میرا گلا دبا دینا ہے””ڈیول آئی وانٹ یو” دو بازو وا کئے وہ مامون کو بیچارگی سے دیکھتے کہہ رہی تھی جس پر اسکے ہاتھ پکڑ کر اسکے اوپر رکھتے مامون نے اسکے ماتھے پر بکھرے بال سمیٹ اسکے ماتھے پر مہر محبت ثبت کی تھی ۔”ابھی تو بالکل بھی نہیں مائے اینجل۔۔۔ ابھی آپ ہوش میں نہیں جب ہوش میں ہوتے ہی ڈیمانڈ کریں گی تو مامون شیرازی اپنا آپ اپنی اینجل ہر نچھاور کر دے گا” اسکی آنکھوں کو اپنے لبوں سے چھوتے وہ اسکے گال کھینچتے اس پر بلینکٹ ٹھیک کرنے لگا۔”یور آر ڈیول””یس آئی ایم ناؤ سلپ””آئی لو یو ڈیول” اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھرے شہرے نے اپنا چہرہ مامون کے چہرے کے قریب کیا تھا۔شہرے کی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کر مامون نے بمشکل اپنا دھیان اسکی جانب سے ہٹانا چاہا تھا جو پل پل اسکا امتحان لینے پر تلی تھی۔۔”گڈ نائٹ مائے اینجیل آئی نو کل صبح اٹھنے کے بعد آپ بہت پچھتانے والی ہیں” شرارت سے اسکی ناک پر دانت رکھتا وہ خود تکیے پر سر رکھتا اسے اپنے قریب کر گیا۔شہرے کا سر اپنے سینے پر رکھے وہ آہستہ سے اسکے بال سہلانے لگا۔۔آج اسے اپنے اندر خوشی کی لہر دوڑتی محسوس ہورہی تھی سرشاری سے مسکراتا وہ اسے خود میں بھینچے سختی سے آنکھیں موند گیا۔۔۔۔
گھر میں داخل ہوتے جلال کے قدم امینہ بیگم کی کے کمرے میں موجود آدمی کو دیکھے تھمے تھے۔۔”کون ہے اندر باہر آؤ” وہ صرف زرا سا حصہ دیکھ سکا تھا اگر آگے بڑھ کر زرمینے کے جوڑے میں بندھے بال دیکھ لیتا تو یوں نہیں پکارتا۔وہ کو اپنے کپڑے سکھا رہی تھی جلال کی تیز آواز پر بری طرح چونکتے فوراً سے اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی اس عجلت میں اسکے بال جوڑے سے کھلتے اسکے کندھے پر بکھرتے چلے گئے۔۔وہ جو کسی آدمی کی وجہ سے کمرے میں آیا تھا اس حسین منظر کو دیکھتا رہ گیا۔۔۔”آئی۔۔۔ آئی ایم سوری وہ۔۔۔۔”زرمینے کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کرے””آپ سوری کیوں بول رہی ہیں ؟” اسکے سوال پر زرمینے تھمی ۔۔ وہ سوری کیوں بول رہی تھی اسکا تو اسے بھی نہیں پتا تھا۔۔”پتا نہیں” معصومیت سے کہتے وہ اپنا سر جھکا گئی۔۔اسکے پتا نہیں پر جلال کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔”جب پتا ہی نہیں تو کیا سوری بولنے کا شوق ہے؟”سنجیدگی سے کہتا وہ بیڈ پر جگہ بنا کر بیٹھا اور اسکے بیٹھتے ہی زرمینے اسکی پہنچ سے دور ہوئی تھی۔وہ اس وقت بنا دوپٹے کے اسکے شلوار قمیض میں موجود تھی رہ رہ کر شرمندگی کا احساس اسے مارے ڈال رہا تھا۔”زرمینے آپ نے میرے کپڑے کیوں پہنے ہوئے ہیں؟””سوری۔۔۔ وہ۔۔۔۔””زرمینے بنا سوری کے بات کریں “”اوو۔۔ سوری وہ۔۔”اچانک کہتے اس نے دانتوں تلے لب دبایا تھا۔۔جلال کی نگاہوں کا مرکز خود کو پاتے وہ مزید کنفیوز ہو رہی تھی ۔وہ اسے اندر تک اترتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔”اب اگر آپ نے سوری بولا تو سزا کے لئے تیار رہیے گا”جلال کی دھمکی پر تھوک نگلتے اس نے پریشانی سے جلال کو دیکھا جو اسکے جواب کا منتظر تھا۔۔”میرے۔۔۔۔ کپڑے۔۔۔ گندے ہوگئے تھے دادی کی الماری بند۔۔۔ ۔۔” اس نے دانستہ بات ادھوری چھوڑی تھی اس شخص کے آگے اسکی زبان ناجانے کتنی بار اٹکی تھی۔۔”آپ کے کپڑے ہمارے کمرے میں رکھیں گے”اس کی بات پر زرمینے نے چونک کر اسے دیکھا۔۔”کک۔۔۔کہاں؟””میرے اور آپ کے کمرے میں وہ رہا سامنے کمرہ جائیں اپنے کپڑے پہن لیں” اسے کہتا وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔”یہ مجھے بول کر خود کیوں کمرے میں جا رہے ہیں؟” خود سے بڑبڑاتے وہ وہیں اپنی جگہ پر جمی رہی۔۔”زرمینے کیا آپ کو اب کمرے میں آنے کے لئے دعوت دوں “”جلال بھائی میں “”زرمینے۔۔۔ خدا کا خوف کریں بھائی نہیں ہوں میں اب آپ کا”اسکے ایک دم کہنے پر وہ خوف سے ہلی تھی۔۔۔اسکا یوں بات بات پر خوفزدہ ہونا جلال کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہا تھا۔۔”سوری” انگلیاں الجھاتا وہ بمشکل بولتی آہستہ سے اسکے پیچھے پیچھے آئی تھی۔۔جلال نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سر جھٹکتے وہ کمرے میں داخل ہوا تھا۔زرمینے پہلی بار اسکا کمرہ دیکھ رہی تھی سادہ سا کمرہ تھا کمرے کے وسط میں جہازی سائز بید تھا ایک طرف دیوار گیر الماری تھی اور دوسری طرف ڈریسنگ ٹیبل جس پر جلال کے پرفیوم رکھے تھے۔۔کھڑکی پر پردے پڑے تھے نفاست سے سجا صاف ستھرا کمرہ زرمینے کو بہت پسند آیا تھا۔۔”آپ کی بھابی کپڑے اندر رکھ کر گئی ہیں آپ چینج کرلیں وہ کونے میں باتھ روم ہے”اسے کہتا وہ ایک دراز کی طرف بڑھ گیا شاید وہ اسکے کام کی جگہ تھی۔۔۔زرمینے آہستہ سے اپنے کپڑے لئے اندر واشروم میں بند ہوئی تھی اسکے جاتے ہی جلال نے گردن موڑ واشروم کے بند دروازے کو دیکھ کر گہرا سانس بھرا تھا۔۔۔گھڑی میں ٹائم دیکھتے اس نے واشروم کے بند دروازے کو دیکھا وہ پچھلے پندرہ منٹ سے اندر بند تھی۔۔”زرمینے۔۔ آپ باہر آ رہی ہیں یا میں خود اندر آجاؤں ؟”وہ جو کب سے کھڑی جلال کے جانے کا انتظار کر رہی تھی اسکی دھمکی پر جلدی سے دروازہ کھول باہر نکلی۔۔”میں جا رہا ہوں دروازہ بند کرلیں دادی آئیں تو بتا دیجیے گا میں کسی کام سے جا رہا ہوں رات گھر نہیں آؤ گا کوئی کام ہو تو علیم کو بول دیں”اسے کہتا وہ کمرے سے باہر نکلا تو زرمینے بھی اسکے پیچھے آئی تھی۔”اور ایک بات” جاتے جاتے وہ ایک دم پلٹا تھا وہ جو بے دھیانی میں اسکے پیچھے ا رہی تھی جلال کے اچانک مڑنے پر سیدھا اسکے سینے سے ٹکرائی تھی۔۔جلال نے بے اختیار اسے تھام گرنے سے بچایا تھا۔۔”آرام سے زرمینے دھیان کہاں ہے””ائی۔۔۔ آئی ایم سوری۔۔۔وہ””اٹس اوکے۔۔۔ میری بات سنیں رات ہمارے کمرے میں سوئیے گا آپ کیونکہ دادی کو روم شئیر کرنے کی عادت نہیں ہے آپ کو وہ مروت میں کچھ نہیں کہیں گی اس لئے آپ کو بول رہا ہوں ” وہ تو پہلے ہی شرمندہ کھڑی تھی جلال کی بات پر محض سر ہلا گئی۔”اوکے اب آپ اندر جائیں میں جاتا ہوں” اسے کہتا وہ گھر سے نکلتا چلا گیا اور زرمینے گھر کے بند دروازے کون دیکھتی رہ گئی۔۔اس ایک شخص سے اس گھر میں کتنی رونق تھی اس نے آج جانا تھا۔۔۔_______________
پوری حویلی میں خاموشی کا راج تھا اتنے لوگ ہونے کے باوجود اتنی خاموشی اسے سمجھ نہیں آتی تھی۔۔”انابیہ ؟”اچانک اسکی نظریں انابیہ پر پڑیں جو شاید اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی اسکی پکار پر رک کر اسے دیکھنے لگی۔۔”کیا ہم تھوڑی دیر بات کرسکتے ہیں ؟””جی بھابھی کیوں نہیں ” مسکرا کر کہتے اس نے آس پاس دیکھ کر اپنی تسلی کی اور پھر فوراً سے کمرے میں آگئی۔”آپ بور ہو رہی ہیں؟””ہممم بہت تم لوگوں کا دل کیسے لگتا ہے اس حویلی میں یہاں تو ہر وقت خاموشی چھائی رہتی ہے””ہمیشہ نہیں چھائی رہتی بس آج کل کشور پھپھو کی وجہ سے بڑی امی اور امی جلدی سونے چلی جاتی اور زیادہ تر اپنے کمروں میں رہتی ہیں اس لئے ورنہ تو حویلی میں ہر وقت رونق ہوتی””کشور پھپھو اتنی خطرناک ہیں ؟””وہ کیسی ہیں یہ تو آپ دیکھ ہی چکی ہیں” انابیہ کی بات پر نورے کا حلق تک کڑوا ہوا تھا۔۔۔”موٹی بھینس” منہ ہی منہ بڑبڑاتے اس نے انابیہ کون دیکھا۔”کیا ہوا؟” اسے خود کو تکتا پاتے وہ سٹپٹائی تھی۔۔”آپ سے ایک بات پوچھوں بھابھی ؟””ہممم پوچھو””کیا زرمینے کی واقعی جلال بھائی سے شادی ہوگئی ؟”اس نے جب سنا تھا اسے یقین نہیں آیا تھا۔”ہاں ہوا تو ایسا ہی ہے””اچھا ہی ہوا ویسے بھی اس گھر میں اسکے ساتھ بالکل بھی اچھا نہیں ہوتا تھا۔۔””ہمم انابیہ۔۔ سب لوگ اس سے اتنا نفرت کیوں کرتے ہیں حالانکہ وہ تو بے زر سی ہے کسی کو کچھ نہیں کہتی””یہی اس کا قصور ہے اس نے کبھی اپنے لئے آواز اٹھائی ہی نہیں اور پھر لوگوں کو موقع مل گیا میری امی یا بڑی امی اسے کچھ نہیں کہتی مگر کشور پھپھو اسکے گھر آتے ہی گھر میں آجاتی اور اسکے ساتھ بہت برا رویہ رکھتیں””آخر کشور پھپھو کو اتنا مسئلہ کیوں ہے جب جاذب کی امی کو مسئلہ نہیں ہے”؟ وہ متجسس سی اس سے پوچھ رہی تھی۔۔”یہ تو بہت لمبی کہانی ہے اور آپ کو یہ کہانی میری امی ہی بتا سکتی ہیں””تمہیں نہیں پتا کچھ ؟””مجھے زیادہ کچھ نہیں پتا۔۔ “اس نے کہتے کندھے اچکائے۔۔”ہمم۔ ویسے تمہارے جازب لالہ سیاست میں کب سے ہیں؟””پہلے وہ بس آغا جان کا ساتھ دیتے تھے مگر اس بار وہ خود کھڑے ہوئے ہیں آغا جان نے ان کا نام دیا تھا اور اب انہیں لازمی یہ الیکشن جیتنا ہوگا ورنہ خانوں کو موقع مل جائے گا بھیا کو نیچا دیکھانے کا۔۔۔”ویسے تمہارے بھیا لیڈر کیسے ہیں؟””آپ کو جھوٹ لگے گا مگر سچ میں اچھے ہیں “”ہو ہی نا جائے “اسکے بڑبڑانے پر انابیہ ہنسی تھی”کیا ہوا؟””آپ کو پتا ہے خون بہا میں وانے والیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟”اسکی بات پر نورے نے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔”جس دن آپ جان گئیں نا اس دن آپ کو میرے بھائی سے محبت ہو جائے گی۔۔ انہوں نے آپ کو یہ مقام دے کر سب کے منہ بند کروائیں ہیں””کیا مطلب ؟” اسکے پوچھنے پر انابیہ نے بتانے کو منہ کھولا تھا مگر ردابہ کی آواز پر وہ فوراً سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔”بھابھی میں بعد میں بتاؤں گی ابھی آپی کو پتا چلا میں آپ کے پاس تھی میری جان لے لیں گی” اسے کہتے وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلی تھی۔”ہونہہ اسے بھی ابھی آواز دینی تھی اتنا مزہ آرہا تھا ماضی کا کچھ نا کچھ تو پتا چل ہی جاتا۔۔ کوئی بات نہیں جاذب شاہ۔۔۔ میں خود سے سب جان کر رہوں گی”خود سے کہتے وہ کھڑکی میں آ کھڑی ہوئی حویلی کے باہر لوگ کام کر رہے تھے۔نورے نے زرا سا آگے ہو کر دیکھا جہاں جاذب شاہ کے پوسٹر لگائے جا رہے تھے۔سیاہ لباس میں شال اوڑھے جاذب کی تصویر دیکھ وہ مہبوت ہوئی تھی۔۔۔وہ واقعی بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔”جانتا ہوں میں بہت ہینڈسم ہوں مگر ایسے منہ کھول رک ندیدوں کی طرح بھی مت دیکھو مسزز نورے” اپنے عقب سے آتی جاذب کی آواز پر وہ بری طرح ڈری تھی۔۔۔”جاذب شاہ یہ کیا طریقہ ہے کوئی ایسے آتا ہے اچانک “دل کے مقام پر ہاتھ رکھے وہ غصے سے تڑخی۔۔جازب نے مسکراہٹ دبائے اسے دیکھا۔۔”ارے بھئی اب مجھے کیا پتا تھا آپ یوں حسرت سے میری تصویر دیکھ رہی ہونگی ویسے وہ تصویر والا میں ہی ہوں آپ مجھے ساری رات اور پورا دن دیکھ سکتیں ہیں جانم”اسکے جانم کہنے پر نورے نے الٹی جیسا منہ بنایا۔۔”مجھے میرا دن اور رات خراب کرنے کا کوئی شوق نہیں اب ہٹیں سامنے سے”اسے کہتے نورے نے سائیڈ سے نکلنا چاہا جب جازب نے اسکی کمر پکڑ اسے اپنے سامنے کیا تھا ۔۔”دیکھیں مسزز آپ کی فوری میں نے پکڑ لی ہے اب یوں بھاگنے کا دائرہ نہیں””یا اللہ اس دو نمبری سیاستدان کو اتنی خوش فہمیاں کیوں ہیں آخر ؟”اسکے دو نمبری کہنے پر جازب کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔۔”کون دو نمبری آدمی””آپ آپ آپ” تیز آواز میں کہتے وہ تیزی سے اسکے پہلو سے نکلی تھی مگر برا ہو اسکی قسمت کا کہ وہ ایک بار پھر جازب کی سخت گرفت میں آئی تھی ۔
“, کیسا رہا دن؟” وہ فریش ہو کر نیچے آئی تو شائستہ بیگم نے چائے کا کپ اسے تھمایا۔۔”امی برا مت مانیے گا مگر آپ کے بیٹے ایک ظالم باس ہیں” اسکی بات اور انداز پر شائستہ بیگم ہنس پڑیں۔۔،،”ہائے اس ظالم باس نے کیا ظلم کیا میری بیٹی پر؟””دو دو ٹھیک فائل ری ٹائپ کروائیں چائے اور کافی کے چکر میں پاگل کیا۔۔۔””مگر ضوریز تو چائے شوق سے پیتا ہی نہیں ہے اوور آفس میں تو بالکل بھی نہیں” ان کی بات پر چونکی تھی ۔”مگر انہوں نے تو چائے منگوائی تھی۔۔”کیا واقعی اس نے کبھی آفس میں چائے نہیں پی””پی تو آج بھی نہیں تھی کافی ہی پی تھی”وہ الجھی تھی۔۔”پھر کس نے پی وہ چائے ؟””میں نے” جواب دیتے ساتھ وہ خود چونکی تھی۔۔”اففف یہ شخص “سمجھ کر اس نے سر پر ہاتھ مارا۔۔”کیا ہوا بچے ؟””کچھ نہیں امی آپ بتائیں زارون نے تنگ تو نہیں کیا نا ؟””بالکل بھی نہیں وہ تو بہت خوش اسکی مما خوش بابا خوش ” اسکے بتانے پر مسکراتے گھڑی دیکھنے لگی جو شام کے ساتھ بجا رہی تھی۔ ۔ضوریز ابھی تک نہیں آیا تھا۔۔”امی یہ ابھی تک نہیں آئے”اسکی فکر پر شائستہ بیگم نے اسکا ہاتھ تھاما ۔۔”آجائے گا۔۔۔ لو آگیا”کہتے ساتھ انہوں نے اندر داخل ہوتے ضوریز کو دیکھا۔۔”اسلام وعلیکم لیڈیز” شائستہ بیگم سے پیار لیتا وہ عمائم کے پاس آ بیٹھا۔”زارون کہاں ہے؟””ہوم ورک کر رہا ہے”عمائم کے بتانے پر وہ سر ہلا گیا۔۔”میں چینج کرلوں عمائم اسٹرانگ سی کافی پلیز””چائے لے آؤں مسٹر ہسبینڈ ؟” اسکے پوچھنے پر شرارتی مسکراہٹ ضوریز کے لبوں پر آئی۔۔”چائے چھوڑیں اپنی سانسیں مجھے دے دیں ” اسکے کان میں سرگوشی کرتا وہ عمائم کا چہرہ شرم سے لال کرگیا۔۔۔شائستہ بیگم کی موجودگی میں اسکی بےباک بات پر وہ محض اسے گھور ہی سکی۔۔۔”ضوریز آپ انسان بنیں””انسان ہونے کے ساتھ میں ایک شوہر بھی مائے لیڈی” اسکی سرگوشی پر عمائم اسے گھورتے اپنی جگہ سے اٹھی۔۔”امی بہت بھوک لگ رہی ہے آجائیں آپ اور میں ڈنر کرتے ہیں”ضوریز کو صاف اگنور کرتے وہ کچن کی جانب بڑی۔۔”, عمائم اپنے ڈنر کے بعد میری کافی پلیز”اس نے وہیں ہانک لگائی تھی۔۔سر ہلاتے وہ کچن میں آگئی۔ اچھے سے ڈنر کے بعد وہ اپنے سارے کام نبٹا کر وہ اوپر کمرے میں آئی جہاں ضوریز اپنی اسٹڈی ٹیبل پر کام کرنے میں مصروف تھا۔۔۔”یا اللّٰہ ضوریز آپ الریڈی اتنا لیٹ آئے ہیں اور اب یہ کام بس بھی کردیں جان چھوڑ دیں اسکی””اسکو چھوڑ کر آپ کو پکڑ لوں؟” اسکے شرارت سے کہنے پر عمائم نے پاس پڑا کشن اسے کھینچ کر مارا۔۔”انسان بن جائیں “”اوکے بن جاتا ہوں” کہتے ساتھ وہ اس تک پہنچتا اسے اپنے حصار میں کر گیا ۔۔
 


Epi ,28صبح شہرے کی آنکھ کھلی تو سر بری طرح سے بھاری ہو رہا تھا دکھتے سر کو تھامے وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اٹھ بیٹھی۔۔مامون کمرے میں نہیں تھا اس کی نگاہیں سائیڈ ٹیبل پر پڑی جہاں ناشتے کی ٹرے کے ساتھ اسکی میڈیسن تھی اور اسی کے ساتھ ایک نوٹ بھی تھا۔۔”ہیو سم بریک فاسٹ اینڈ پھر میڈیسن لینا۔۔ کالج جانے کی ضرورت نہیں ہے گھر پر آرام کرنا” نوٹ پڑھ وہ ایک دم چونکی رات کے سارے مناظر یاد آتے اسکا چہرہ شرمندگی سے لال ہوا تھا۔۔”یا اللّٰہ میں مامون کے ساتھ کیا کرنے والی تھی اوو خدا”شرمندگی ہی شرمندگی تھی سر ہاتھوں میں گرائے وہ شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی۔۔”یا اللّٰہ شہرے تم مامون کے ساتھ کیا کرنے والی تھیں وہ کیا سوچ رہا ہوگا میرے بارے میں میں کیسے اسکا سامنا کروں گی؟” اسکا بس چلتا تو زمین میں گڑ جاتی۔۔شرمندگی کو سائیڈ رکھتے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ابھی اسے سب سے پہلے اپنا حلیہ ٹھیک کرنا تھا ۔۔یہی سوچتے وہ اپنے کپڑے لئے واشروم میں بند ہوئی تھی وہیں دوسری طرف مامون اپنے آفس میں کام کر رہا تھا جب اسکی نگاہیں ایک نوٹیفیکیشن پر پڑی۔۔اس نے کلک کیا جہاں شہرے اور اسٹیلا کی لڑائی کی خبر سوشل میڈیا پر پھیلی ہوئی تھیں۔۔ماتھے پر بل ڈالے اس نے اسٹیو کو کال کی۔۔”ہیلو اسٹیو کیا تم نے نیوز دیکھی ؟ کیا کر رہے ہو تم ہاں یہ نیوز ابھی کے ابھی ریموو کرواؤں میں نہیں چاہتا میری لٹل اینجل کو کوئی بھی مسئلہ ہو۔۔۔ جتنی جلدی ہو سکے اس خبر کو ہٹاو””سوری سر میں ابھی دیکھتا ہوں “اسٹیو سے بات کر اسے شہرے کا خیال آیا وہ شہرے سے بات کرنا چاہتا تھا مگر اسے یاد آیا شہرے کے پاس فون نہیں ہے کچھ سوچتے اس نے لینڈ لائن پر کال کی تھی ۔شہرے کو کچن میں تھی فون کی آواز پر بھاگ کر باہر آئی تھی۔۔”ہیلو شہرے کیسی ہو ؟” فون کی دوسری جانب مامون کی آواز پر شہرے نے گھور کر فون کو دیکھا وہ رات جو کچھ ہوا اسکے بعد تو مامون سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔”میں ٹھیک ہوں کام کررہی ہوں بعد میں بات کرتی ہوں” فوراً سے کہتے وہ کال کٹ کر گئی۔اسکے یوں کال کٹ کرنے پر مامون دانتوں تلے لب دبائے مسکرایا تھا وہ شہرے کا گریز اچھے سے سمجھ رہا تھا۔۔وہیں شہرے فون رکھتے واپس کچن میں آگئی رات کا سوچ سوچ کر اسکا شرم سے برا حال ہو رہا تھا اپنے ہونٹوں کو چھوتے اس نے فوراً سے سر جھٹکا ۔”شہرے انسان بنو وہ ڈیول ہے تم اسکے بارے میں ایسے نہیں سوچ سکتیں”خود کو سرزنش کرتے وہ اپنا دھیان پر کام پر لگانا چاہتی تھی مگر تھوڑی دیر بعد ڈور بیل کی آواز پر وہ چونکی۔اسے لگا مامون ہوگا یہی سوچتے وہ باہر آتے دروازہ کھول گئی مگر سامنے مامون کی جگہ ادھیڑ عمر عورت کو دیکھ وہ چونکی۔۔”تو تم ہو وہ لڑکی جس نے اسٹیلا کے ساتھ لڑائی کی؟” ان کی کاٹ دار آواز پر شہرے کا سر خود بخود ہاں میں ہلا تھا۔۔”جی ہاں میں ہی ہوں وہ آپ کون ہیں؟””مامون کہاں ہے مجھے مامون سے بات کرنی ہے”.”وہ ابھی گھر پر نہیں ہیں وہ پلیز بعد میں آئیے گا “”تم کون ہوتی ہو مجھے یہاں سے جانے کا بولنے والی میں یہی رہوں گی اور مامون کا ویٹ کروں گی ” اس عورت کی عجیب ہی ضد تھی۔۔ان دونوں کی آواز سن کر ملازمہ فوراً سے باہر آئی تھی۔”مس شیرازی آپ پلیز آئیں نا” ملازمہ کی بات کر اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔”شہرے میڈم یہ مس سنبل ہیں مامون سر کی مدر””اوو۔۔ آئی ایم سوری مجھے پتا نہیں تھا” اسکی معافی اور اسے نظر انداز کرتے وہ پورے حق سے اندر بڑھی تھیں۔۔”مامون کہاں ہے اسے کال کرو بلاؤ اسے میں اس سے بات کرنا چاہتی ہوں”ان کی رعب دار آواز پر ملازمہ شہرے کو اندر جانے کا کہتی خود مامون کو کال کرنے لگی جو میٹنگ میں مصروف تھا شہرے کا سوچ اس نے کال ریسیو کی تھی مگر اپنی ماں کی اپنے گھر موجودگی کا سن وہ ادھوی میٹنگ چھوڑے وہاں سے نکلتا رش ڈرائیو کرتا اپنے گھر پہنچا تھا۔شہرے کو لاونج میں کھڑا دیکھ وہ اپنی ماں کا ہاتھ سختی سے پکڑتا اسٹڈی روم میں آیا تھا ۔”کیوں آئی ہیں آپ یہاں مسزز شیرازی ؟””میں کیوں نہیں آ سکتی میں تمہاری ماں ہوں مامون اور تم مجھ سے کیوں نہیں ملتے ؟””کیونکہ آپ میری ماں نہیں ہیں میں آپ کو اپنی ماں نہیں مانتا کیا میں نے آپ کو کہا نہیں تھا میرے گھر مت آئیے گا جائیں آپ یہاں سے “”تم میرے بیٹے ہو مامون میں تم سے ملنے آئی ہوں “”مل لیا نا اب جائیں آپ یہاں سے میں آپ کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا”اسکی تیز آواز پر شہرے پریشان ہوئی تھی وہ مامون کے پاس جانا چاہتی تھی مگر ملازمہ نے اسے روک دیا۔۔”وہ لڑکی کون ہے یہاں کیا کر رہی ہے؟””میں آپ کو جواب دہ نہیں ہوں””تم جوابدہ ہو مامون یہ ہماری فیملی کی ساکھ کا سوال ہے ہر جگہ کل رات کے بارے میں بات ہو رہی ہے “”تو ہونے دیں مجھے فرق نہیں پڑتا ” اس نے صاف کندھے اچکائے تھے۔۔”تم اس دو کوڑی کی گھٹیا لڑکی کے لئے مجھ سے لڑ رہے ہو میری بات سنو مامون اسٹیلا ہی میری بہو بنے گی سمجھ آئی ؟””اوو رئیلی آپ کون ہوتی ہیں یہ ڈیسائیڈ کرنے والی؟ میں شادی کر چکا ہوں اور باہر موجود لڑکی میری بیوی ہے”


“وہ لڑکی کلاس لیس اور گھٹیا ہے میں اسے قبول نہیں کروں گی””مجھے آپ کے قبول کرنے یا نا کرنے سے فرق نہیں پڑتا وہ رہا دروازہ اب آپ جا سکتی ہیں”انہوں نے غصے سے مامون کو دیکھا اور اسٹڈی سے باہر نکتے ان کی نگاہیں شہرے پر پڑیں۔۔غصے سے کھولتے وہ اسکے سامنے آ کھڑی ہوئیں ۔”تم دو ٹکے کی گھٹیا لڑکی تمہاری وجہ سے میرا بیٹا میرے سامنے کھڑا ہوگیا ہے ۔۔ ہمت کیسے ہوئی میرے بیٹے،””انف ” اس سے پہلے وہ اپنا جملہ مکمل کرتی مامون کی دھاڑ پر ان کی زبان کو بریک لگے تھے غصے سے کھولتے وہ ان کے سامنے آتا شہرے کو اپنے پیچھے چھپا گیا۔۔”ڈونٹ یو ڈئیر ٹو سے انیتھنگ ٹو شہرے میں اس دنیا کو آگ لگا دوں گا”اسکی دھمکی پر سنبل نے قہر بار نظروں سے شہرے کو دیکھا اور پھر وہ وہاں رکی نہیں تھیں ۔”مامون کیا ہوا ہے ؟” شہرے پریشان سی مامون کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پر چٹانوں کی سی سختی تھی۔۔”کچھ نہیں جاؤ چینج کرو ہمیں باہر جانا ہے””کیا وہ تمہاری مدر تھیں؟””شہرے ڈو از آئی سیڈ۔۔ ڈونٹ آسک می کیوسچن”اسکے سخت لہجے پر سر جھکاتے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی کچھ دیر بعد وہ گاڑی میں تھے۔گاڑی جیولری شاپ کے پاس رکتے دیکھ شہرے نے چونک کر مامون کو دیکھا تھا۔۔ ۔______________
“یا اللّٰہ ضوریز آپ الریڈی اتنا لیٹ آئے ہیں اور اب یہ کام بس بھی کردیں جان چھوڑ دیں اسکی””اسکو چھوڑ کر آپ کو پکڑ لوں؟” اسکے شرارت سے کہنے پر عمائم نے پاس پڑا کشن اسے کھینچ کر مارا۔۔”انسان بن جائیں “”اوکے بن جاتا ہوں” کہتے ساتھ وہ اس تک پہنچتا اسے اپنے حصار میں کر گیا۔۔”چھوڑیں کیا ہے آپ کو؟””کچھ نہیں ہے مجھے کیا ہونا ہے؟””آپ انسان بنیں اور چھوڑیں مجھے ابھی بہت کام کرنے ہیں””شوہر کو وقت دینا سارے کاموں میں سب سے اول نمبر پر آتا ہے””سوری شوہر جی مگر میرا جو باس ہے نا وہ ایک نمبر کا ہٹلر ہے اس نے ایک ہی دن میں مجھے میری مرحوم نانی کی یاد دلا دی ہے ” اسکے گرد بازو باندھتے وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے بولتی ضوریز کو مسکرانے پر مجبور کر گئی۔۔”میں نے دیکھا ہے آپ کا باس اتنا بھی برا نہیں ہے اچھا خاصا ہینڈسم ہے””ہینڈسم ہے تو کیا ہوا دل تو اسکا بہت ظالم ہے آپ کو پتا ہے اس نے جان کر مجھ سے اتنا سارا کام کروایا””واؤ کتنا اچھا ہے یار وہ کا باس عمائم آپ کو سارا کام سیکھا رہا ” اسکی بات پر عمائم نے گھور کر اسے دیکھا۔”ایسے باس کو الٹکا لٹکا کر مارنا چاہیے”اسکی بات پر ضوریز کی آنکھیں پھیلیں۔۔”یا اللّٰہ عمائم” اسکے لڑکیوں کی طرح یا اللّٰہ کہنے پر عمائم کا قہقہ گونجا تھا۔۔”ایسے لڑکیوں کی طرح کیوں کر رہے؟””لڑکیوں کی طرح سے کیا مطلب ہے۔۔۔ کیا یا اللّٰہ کہنا بس لڑکیوں کا حق ہے ہمارا کوئی حق نہیں؟””انسان بن جائیں آپ اور ہٹیں اپنا کام کریں مجھے بھی کام کرنا ہے””بیوی کے ساتھ رومانس سے ضروری بھی کوئی کام ہوتا ہے مسزز ضوریز ؟””ضوریز آپ ایک بات مجھے آج سچ سچ بتائیں ؟””ہمم پوچھیں ؟””آپ کو کہیں مجھ سے پہلی نظر میں محبت تو نہیں ہوگئی تھی؟ “”اور ایسا وہ کو کیوں لگا وائفی؟””سوچنے والی بات ہے نا پہلے آپ کو میں لڑائی کر چکے تھے آپ مجھے اس جاب سے بھی نکال رہے تھے مگر جب شادی کی بات آئی تو آپ فوراً سے راضی ہوگئے نا صرف راضی ہوئے بلکہ میرے عشق میں غوڈے غوڈے ڈوب بھی گئے “جتنی معصومیت سے وہ پوچھ رہی تھی نا ضوریز نے جھک کر اسکے گال پر دانت گاڑھے۔۔”اہہہ۔ ضوریز””اتنا دماغ اگر آپ صبح فائل میں لگاتی تو دو غلطیاں نہیں ہوتیں “”اب بات مت بدلیں بتائیں نا آپ کو کیا واقعی مجھ سے محبت “اس سے پہلے وہ اپنا جملہ مکمل کرتے اسکے چہرے پر جھکتے ضوریز نے اسکی بولتی بند کی تھی۔۔عمائم کی حیرت سے آنکھیں پھیلیں۔۔۔”ضوریز”سانسوں کو رہائی ملنے پر عمائم نے اسے پکارا کو ایک بار پھر اسکی بولتی بند کرگیا۔اس بار لمس میں پہلے سے زیادہ شدت تھی ۔”مما بابا”اس سے پہلے ضوریز مزید کوئی گستاخی کرتا اچانک روم کا ڈور ناک ہوتے ساتھ ہی کھلا تھا۔ضوریز کو پیچھے دھکیلتے عمائم فورآ سے ضوریز سے دور ہوتے اپنا رخ موڑ گئی۔ضوریز نے گھور کر زارون کو دیکھا۔”بابا آپ مما کو مار رہے تھے؟””اوئے میں کیوں ماروں گا آپ کی مما کو؟””مما آپ کو بابا نے مارا نا آپ مجھے بتائیں” ضوریز کو گھورتے وہ عمائم کے پاس آیا جو چہرے پر ہاتھ رکھے اپنی سانیسیں ہموار کر رہی تھی۔”بابا مما رو رہی ہیں””زارون مما رو نہیں رہیں مما شرما رہی ہیں”زارون کو گود میں بھرے وہ شرارت پر آمادہ ہوا تھا عمائم نے گھور کر اسے دیکھا اور پھر وہ پراسرار سا مسکرائی تھی۔”زارون بے بی آپ آج سے میرے پاس سونا ٹھیک ہے بابا تو اپنے کام میں بزی ہوتے آجاؤں ہم سوتے ہیں میں آپ کو اسٹوری بھی سناؤں گی” عمائم کی بات پر ضوریز نے اس دیکھ منع کیا تھا جو آنکھ ونک کرتے شرارت سے زارون کو گود میں بھر گئی اور ضوریز بس ان دونوں کو دیکھتا رہ گیا۔۔_____________”دو نمبری کسے کہا؟”اسکے اپنے حصار میں قید کئے جاذب نے اسکا چہرہ اوپر کیا۔”تمہیں کہا جاذب شاہ تم ایک دو نمبر آدمی ہو””اففف یہ زبان کبھی کبھی تو دل کرتا اس زبان کو کاٹ کر کوؤں کو کھلا دوں “”تو کریں عمل”وہ اس سے زرا نہیں ڈرتی تھی۔۔”لیکن میں نہیں کر پاتا مجھے خیال آجاتا ہے””کس کا خیال ؟” نورے نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔۔”بیچارے کوؤں کا۔۔۔ ان کے پیٹ کا یہ زہر جیسی زبان کھا کر مر گئے تو ان کی بیوہ مجھے بد دعا دیں گی” اسکی سیریں ٹون میں ایسی فضول بات پر نورے نے منہ سڑا کر آنکھیں گھمائیں..”یو نو جاذب شاہ بہت ہی گندا مذاق کیا تھا بالکل بھی ہنسی نہیں آئی””ہنسی اس لئے نہیں آئی کیونکہ میں سچ بول رہا ہوں””اچھا واقعی اتنی ہی زہر لگتی ہوں میں تو بار بار آکر کیوں کس۔” اسکی چلتی زبان کو جاذب کی نگاہوں نے بریک لگایا تھا سختی سے منہ پر ہاتھ رکھے وہ واقعی آج اپنی زبان کاٹ دینا چاہتی تھی۔۔۔”دیکھیں وہ غلطی”اسکے ارادے دیکھ وہ بس اب اس سے دور ہونا چاہتی تھی جو ایک جھٹکے سے اسے اپنے قریب کرگیا تھا۔۔”دیکھیں؟ ارے آپ تو دیکھو کہتی ہیں نا میڈم جی؟””یا اللّٰہ یہ شخص “”سیاستدانوں کو گھر نہیں بیٹھنا چاہئے جائیں اور لوگوں کے مسئلے معلوم کریں “اسکے ہاتھوں کی گستاخیوں پر خود میں سمیٹتے وہ جاذب کو دور کرنے کی خاطر کہتے دور ہوئی مگر وہ ایک جھٹکے سے اسے بانہوں میں اٹھاتا بیڈ پر ڈالتے خود اس پر حاوی ہوا تھا۔”جاذب “اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتی اسکے ہونٹوں پر قفل لگاتا وہ آگے بڑھ کر لائٹس آف کرگیا۔۔”پلیز””شش۔۔۔ نورے” اسکے ماتھے پر سلگتے لبوں کا لمس چھوڑتے وہ اسے خود میں سمیٹنے پر مجبور کرگیا تھا۔خود کو جاذب شاہ کے حوالے کرتے اس نے جاذب کی گردن میں چہرہ چھپایا تھا۔۔۔_____________
“ارے بچے کیا سوچ رہی ہو؟” امینہ بیگم کی بات پر زرمینے چونک کر انہیں دیکھنے لگی وہ دونوں صحن میں بیٹھے تھے۔۔”کچھ نہیں دادی””نیند آرہی ہے تو جا کر سو جاؤ بچے میں بس یہ نماز پڑھ لوں پھر سوؤں گی” ان کی بات پر وہ سر ہلا گئی۔امینہ بیگم نماز پڑھ کر اپنے کمرے میں چلے گئیں جبکہ وہ وہیں صحن میں بیٹھی رہی ٹھنڈی ہوا دل کو سکون دے رہی تھی ناجانے کتنے دنوں بعد وہ یوں بے فکر بیٹھی تھی نا کسی کا ڈر تھا نا کوئی پریشانی۔”کیا کروں ان کے کمرے میں جا کر سو جاؤں ؟” نیند بھی آرہی تھی خود سے کہتے وہ گہرا سانس بھرتے اپنی جگہ سے اٹھی اور جلال کے کمرے میں آئی۔وہاں ایسا کچھ نہیں تھا کہ وہ زمین پر ہی سو سکتی ۔نیند سے آنکھیں بند ہو رہی تھی۔بیڈ کے کنارے پر ٹکتے ہی وہ گہری نیند میں گم ہوئی تھی۔۔۔ناجانے کتنی دیر وہ سوئی تھی جب انجانے احساس نے اسکی نیند میں خلل پیدا کیا تھا کروٹ لیتے اس نے زرا سا آنکھیں کھولیں اور اسی لمحے اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا خوف سے آنکھیں پھیلی تھیں۔”دا”اس سے پہلے وہ چیختی جلال نے گھبرا کر اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ اسکی چیخ کا گلا گھونٹا۔۔۔”زرمینے میں ہوں جلال ۔۔”جلال کی آواز پر اسکی رکی سانسیں بحال ہوئی تھی جلال نے آہستہ سے اسکے ہونٹوں پر سے اپنا ہاتھ ہٹایا زرمینے فوراً سے سیدھی ہو کر بیٹھی تھی۔۔”,سوری وہ میں””زرمینے۔۔ جتنی دیر ہمارے نکاح کو نہیں ہوئی اس سے کئی گنا زیادہ دفعہ آپ مجھے سوری بول چکی ہیں اب بس”اسکی بات پر زرمینے کا سر جھکا تھا۔۔”سر جھکانے کی ضرورت نہیں ہے سوری بولنا غلط بات نہیں ہے مگر بنا غلطی کے سوری بولنا بھی غلط ہے آپ کو پتا ہونا چاہیے “”وہ میں “ناجانے کیوں وہ کسی سے بھی بات کرنے کی ہمت نہیں کر پاتی تھی۔۔”جاذب سائیں نے آپ کو شہر اس لئے بھیجا تھا تاکہ آپ بہادر بنیں مگر مجھے کوئی خاص فرق نہیں لگا ” اسکی بات پر وہ شرمندہ ہوئی تھی وہ اسے کیسے بتاتی بچپن کی محرومیاں اسکے دل میں گڑھ کر چکی ہیں وہ چاہ کر اپنے خول سے نہیں نکل سکتی تھی۔۔”میں کبھی نہیں بدل سکتی “پہلی بار اس نے آہستہ سے جلال کو جواب دیا تھا۔”بدلنے کی ضرورت بھی نہیں ہے بس ڈرنا چھوڑ دیں میں آپ کو کھا نہیں جاؤں گا جب جب مجھے دیکھتی ہیں خوفزدہ ہو جاتی ہیں مانا تھوڑی بڑی عمر کا ہوں مگر اتنا بھی بوڈھا نہیں ہوا “اسکی بات پر زرمینے سے کن انکھیوں سے اسے دیکھا وہ اس سے بڑا تھا کافی بڑا تھا۔۔۔”اب سو جائیں فضول میں میری وجہ سے آپ کی نیند خراب ہوگئی” اسے کہتے وہ سونے کے لئے لیٹا تھا جب زرمینے ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھی۔”آپ کے لئے کھانا لگاؤں ؟”اسکے سوال پر جلال نے گردن موڑے اسے دیکھا۔”کھانے کی تو نہیں مگر نیند کی طلب ہو رہی ہیں آپ بھی سوجائیں” اسے کہتا وہ واپس سے کروٹ کے بل لیٹ گیا۔زرمینے اسکی کمر کو گھورتی رہ گئی اسے سمجھ نہیں اب وہ اسے کیسے سمجھائے کہ اسکے ساتھ سونا مسئلہ تھا۔۔۔”کھڑے کھڑے سو نہیں سکتی آپ لیٹ جائیں زرمینے” جلال کی آواز پر بوکھلاتے وہ فوراً سے اسکے پہلو میں دراز ہوئی تھی دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو بیتاب تھا سختی سے آنکھیں میچے وہ سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top