Background image: Header

خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller سنائپر۔۔۔۔از قلم ۔۔۔۔ریاض عاقب کوہلر


”کلاشن کوف کی تین میگزین ہیں بھری ہوئی ہیں اور تیس بور کی بھی شاید تیس گولیاں موجود ہوں گی۔“
”کافی ہیں ۔ڈریگنووکے بھی قریباََنوے راﺅنڈ موجود ہیں ،تیئس گولیاں بیرٹ ایم 107کی ہیں ۔ گلاک کی بھی ساٹھ سے زیادہ گولیاں موجود ہیں ۔“
”ان کی تعداد بھی تو دیکھو ۔“سردار نے پریشانی بھرے لہجے میں کہا تھا ۔
”وہ گہرائی میں بھی تو ہیں ۔تم یوں کرو کہ ڈریگنوو ساتھ لے جاﺅ اور عقبی جانب مورچہ لگا ﺅ ۔ میں یہیں سے سنبھالتا ہوں ۔آئی کام پر چینل پانچ پر بات ہو گی ۔اور یاد رہے ایک گولی ضائع نہ جائے ۔“
”یس باس !“زندہ دل پٹھان مزاحیہ انداز میں کہتے ہوئے کھڑا ہوگیا ۔وہ ان آدمیوں میں سے تھا جن کے دل مرنے کا بس اتنا ہی خوف ہوتا ہے جتنا کسی کو کانٹا چبھنے کا ۔میں نے ٹیلی سکوپ سائیٹ پر لگی ایلی ویشن میں مناسب تبدیلی کی اور گہرائی میں دیکھنے لگا ۔جلد ہی درختوں کے ایک جھنڈ سے نکل کر دو آدمی دبے قدموں اوپر کی جانب بڑھتے نظر آئے ۔وہ چونکہ سامنے کی طرف بڑھتے آرہے تھے اس لیے مجھے حرکتی ہدف کے لیے لی جانے والی لیڈ لینے کی ضرورت نہیں پڑی تھی ۔ٹریگر دباتے ہی ۔”ٹھک۔“ کی آواز کے ساتھ دائیں جانب والا آدمی اچھل کر پیچھے گرا تھا ۔بیرٹ کی طاقتور گولی نے اسے کسی طاقتور آدمی کے دھکے کی طرح پیچھے اچھال دیا تھا ۔اس کا ساتھی ایک لمحے کے لیے حیران رہ گیا تھا ۔بغیر گولی کا دھماکا ہوئے اس کا ساتھی گرا تھا ۔اور اس کی یہ حیرانی میرے لیے غنیمت ثابت ہوئی تھی ۔سرعت سے رائفل کاک کرتے ہوئے میں نے اس کی کھوپڑی پر بھی گولی داغ دی تھی ۔ اپنے ساتھی کے پیچھے گرنے کی وجہ سے وہ اس کی جانب رخ کر کے کھڑا تھا ۔میری جانب اس کی پشت تھی۔ کھوپڑی کے عقبی حصے میں لگنے والی گولی سے وہ اوندھے منہ اپنے ساتھی پر گر گیا تھا ۔
”شیر خان اور رضا کو گولی لگ ہے کمانڈر!“میرے سامنے آن پڑے آئی کام سے کسی نے روشن خان کو پکار کر کہا تھا ۔
”بتا یا تھا احتیاط سے چلو ۔“ جواباََروشن خان غصے سے چلایا ۔
اچانک مجھے خیال آیا کہ ای بلاک کو تو اطلاع کر دیں تاکہ میجر اورنگ زیب خٹک تک ہمارے محاصرے میں پھنسنے کی خبر تو پہنچ جائے ۔یامرنے سے پہلے کم از کم انھیں دوسرے سنائپر کے مرنے کی اطلاع ہی پہنچا دیں ۔میں نے فوراََ مطلوبہ چینل لگا کر ای بلاک کو کال کرنا شروع کر دیا ۔
”ایس ایس فار ای بلاک اوور !“
فوراََ جواب آیا۔”ای بلاک سینڈ یور میسج اوور!“
”الفا کو بتا دو کہ ذخیرہ پر موجود دوسرا سنائپر بھی جہنم واصل کر دیا ہے ،لیکن اس کے ساتھ ہم خود دہشت گردوں کے نرغے میں آ گئے ہیں ۔وچہ نرائے کو پچاس ساٹھ آدمیوں نے گھیرے میں لیا ہوا ہے اوور۔“
”اگلے دومنٹ میں پیغام پہنچ جائے گا اوور۔“
”شکریہ ۔اووراینڈ آل۔“کہہ کر میں نے ایک بار چینل پانچ لگا کر سردار کی خبر لی ۔کہ اس کی جانب سے مجھے ڈریگنوو کی گولی چلنے کی آواز آئی تھی ۔
”ایک دشمن کم ہو گیا ہے ۔“سردار کی اطمینان بھری آواز آئی تھی ۔
”ایک نہیں تین خان صاحب !“
”جانتا ہوں ۔“اس نے مجھے چڑانے والے انداز میں کہا اور میں نے فوراََ روشن خان والا چینل لگا دیا ۔اس کے ساتھ ہی میں ٹیلی سکوپ سائیٹ میں سامنے پھیلے درختوں کا جائزہ لینے لگا ۔ایک اور بات بھی ہمارے فائدے میں جاتی تھی کہ وچہ نرائے ٹاپ کے چاروں طرف تقریباََ ڈیڑھ سو میٹر کے علاقے میں درخت موجود نہیں تھے ۔یوں کم از کم وہ چھپ کر ہم تک نہیں پہنچ سکتے تھے ۔
نیچے ایک درخت کے تنے کے ساتھ مجھے سفید لباس کی جھلک نظر آئی میں نے اپنی شست اسی پر مرکوز کر دی ۔وہ اپنا سر باہر نکال کر جھانکتا اور پھر سر چھپا لیتا ۔میرے دیکھنے کے بعد بھی اس نے دو دفعہ اسی طرف سر باہر نکال کر دیکھا ۔ تیسری بار بھی اس نے سر باہر تو نکال لیا تھا لیکن بیرٹ کی ظالم گولی نے اسے سر واپس لے جانے کا موقع نہیں دیا تھا ۔اسی وقت دو تین کلاشن کوفیں مسلسل گرجنے لگیں ۔لیکن ابھی تک میں کلاشن کوف کی رینج سے دور تھا ۔
روشن خان سیٹ پر اپنے آدمیوں کو فائر نہ کرنے کا حکم دے رہا تھا ۔
”روشن خان !....کیا حال ہے ۔“میں نے اسے غصہ دلانے کے لیے پکارا ۔
”کون ؟“فوراََ اس کا جواب موصول ہوا تھا ۔
”روشن خان !....میں تمھیں لکھ کر دیتا ہوں کہ میں تیری دونوں آنکھوں کے درمیان میں گولی ماروں گا ۔بس کوشش یہ کرنا کہ زنانیوں کی طرح سب سے پیچھے نہ چھپے رہنا ۔“
”تمھارے لیے بہتر یہی ہے کہ خود کو ہمارے حوالے کر دو ۔ورنہ اس وقت تمھیں پچاس آدمیوں نے گھیرے میں لیا ہوا ہے ۔“
”ان میں مرنے والے چار شامل ہیں یا وہ کم کر کے بتا رہے ہو ۔“میں نے اسے سلگانے کی کامیاب کوشش کی ۔
”تم ........“وہ گالیاں بکنے لگا ۔
اس کی لغویات ختم ہوتے ہی میں نے کہا ۔”روشن خان !....تمھارے پاس تھوڑا وقت موجود ہے ،بہتر ہو گا کہ اپنی وصیت لکھ لے ۔کم از کم اپنی ہونے والی بیوہ ہی کو وصٰت کرتا جا کہ وہ تمھارے بعد کس سے شادی کرے۔“
”تم دیکھنا میں تیرے ساتھ کرتا کیا ہوں تم ....“اس نے ایک بار پھر بکواس شروع کر دی تھی۔اور یہی میں چاہتا تھا کہ اسے اتنا غصہ دلا دوں کہ وہ کچھ بہتر سوچنے کے قابل نہ رہے ۔
”درختوں کی آڑ لے کر تیزی سے اوپر چڑھو ۔دو آدمی کتنوں کو روکیں گے ۔“اس نے فوراََ اپنے آدمیوں کو حکم دیا ۔
کمانڈر کا حکم ملتے ہی ان کی حرکت میں تیزی آ گئی تھی ۔اس کے ساتھ ہی مجھے اور سردار کوبھی گولی چلانے کے زیادہ مواقع ملنے لگے تھے ۔میں نے مزید پانچ بار ٹریگر دبایا ۔اور میری ایک گولی بھی ضائع نہیں گئی تھی ۔سردار کی جانب سے بھی مجھے چھے سات فائر سنائی دے چکے تھے ۔اس جانب پیش قدمی میں کمی آتے دیکھ کر میں نے بیرٹ اٹھائی اور جھکے جھکے انداز میں اس جگہ سے پندرہ بیس گز مغرب کی جانب لیٹ گیا ۔وہاں سے مجھے پتھر کے پیچھے چھپا سردار بھی نظر آ رہا تھا ۔اچانک ایک ساتھ کئی کلاشن کوفیں گرجنے لگیں شاید وہ تیز فائر کر کے ہمیں مرعوب کرنا چاہ رہے تھے ۔
”سردار !....مشرق کی جانب کو بھی سنبھالو۔“آئی کام کے بغیر بتانا مجھے آسان لگا تھا ۔
سردار ۔”ٹھیک ہے ۔“کہہ کر جھکے جھکے انداز میں وہاں سے دور ہٹنے لگا ۔دو منٹ بعد میرے کانوں میں اس کی آواز پڑی ۔وہ وچہ نرائے کی بلند ترین جگہ سے مجھے آواز دے رہا تھا ۔
”راجے !....یہاں آجاﺅ ۔“
”یار !....وہاں ہم بالکل کھلے میں ہو جائیں گے ۔“
”تم آﺅ تو سہی ۔“وہ مصر ہوا ۔اور میں رائفل اٹھا کر جھکے جھکے انداز میں چلتا ہوا اس کے قریب پہنچ گیا ۔اوپر جاتے ہی میں خوشی سے اچھل پڑا تھا۔ لگتا تھا کسی نے لائیٹ مشین گن کامورچہ بنانے کے لیے کھدائی کی ہے ۔کیونکہ وہاں انگریزی کے حرف وی کی صورت میں زمین کھدائی ہوئی تھی ۔
”بے وقوفوں کے سینگ تو نہیں ہوتے نا ۔“میں نے اس گڑھے میں اترتے ہوئے خود کو کوسا۔
”پھر بھی کہتے ہو پٹھانوں ذہن نہیں ہوتے ۔“سردار نے فخر سے چھاتی چوڑی کی ۔
اس جگہ سے ہم چاروں طرف دیکھ بھال کر سکتے تھے ۔”میرا خیال ہے ڈریگنوو میرے حوالے کرو اور تم کلاشن کوف سے فائر کرو۔“
”کیا بیرٹ کا ایمونیشن ختم ہو چکا ہے ؟“یہ پوچھتے ہوئے اس نے ڈریگنوو میری جان بڑھا دی تھی ۔
”نہیں ....لیکن ا ب وہ نزدیک پہنچ گئے ہیں اور اب آٹومیٹک ہتھیار زیادہ مفید رہے گا ۔“میں نے بیرٹ ایم 107کو گڑھے کی دیوار کے ساتھ کھڑا کر دیا ۔
میرا رخ شمال کی جانب تھا اور سردار کا جنوب کی طرف ۔ہم دونوں اپنے سامنے اور دائیں بائیں نظر رکھے ہوئے تھے ۔اس طرح کہ ہم دونوں کی گردنیں مسلسل گردش میں تھیں ۔روشن پارٹی سے لڑائی شروع ہوئے گھنٹے سے زیادہ وقت بیت گیا تھا ۔میں نے گھڑی دیکھی اڑھائی بج چکے تھے ۔انھیں ہماری پوزیشن بھی نظر آ گئی تھی ۔اب پیش قدمی کرتے ہوئے وہ بہت احتیاط کا مظاہرہ کر رہے تھے ۔ سردار نے ایک گولی فائر کی اور اس کے ساتھ ہی اعلان کیا ۔”گولی ضائع ہو گئی ۔“
درختوں کے جھنڈ سے نکل کر ایک آدمی نے دوڑ کر اگلے جھنڈ کے قریب آنا چاہا ۔ٹریگر دباتے ہی میں نے کہا ۔”گولی ضائع نہیں ہوئی ۔“
سردار نے پوچھا ۔”طعنہ دے رہے ہو ۔“
میں ہنسا ۔”ہتھیار بردار پٹھان کو طعنہ دینا بے وقوفی ہی کہلائے گا ۔“
”اچھا یہ لو ۔“اس نے مسلسل تین گولیان فائر کرتے ہوئے کہا ۔”تینوں ہی ضائع چلی گئیں ۔“
”خان صاحب !....ایک ایک کر کے ضائع کرو ۔تین تین گولیان ضائع کرنے کا وقت ابھی تک دور پڑا ہے ۔“یہ کہتے ہوئے میں آئی کام کا چینل تبدیل کرنے لگا کہ کافی دیر سے کوئی آواز نہیں آ رہی تھی ۔جلد ہی روشن خان کی منحوس آواز میرے کانوں میں پڑ گئی ۔
”جونھی ہے درختوں کے آخری لائن تک تمام آدمی پہنچتے ہیں مجھے اطلاع دو ۔“
”ہم مشرقی جانب سے درختوں کی آخری حد تک پہنچ گئے ہیں ۔“ایک بھاری آواز نے اپنی کامیابی کی اطلاع دی ۔
”ہم مغرب کی جانب سے بھی بس پہنچنے ہی والے ہیں ۔“ایک دوسری آواز ابھری ۔
روشن خان نے پوچھا ۔”برمن خان !....تمھاری آدمی کتنی دور ہیں ؟“
برمن خان نے جواب دیا ۔”ہم درختوں کی لائن سے سو گز دور ہوں گے ۔ہمارے کافی آدمی ضائع ہو چکے ہیں ۔“یقینا وہ شمال کی جانب موجود تھا ۔اور اسی جانب کافی آدمی میری گولیوں کا شکار ہوئے تھے ۔گویا وہ خود جنوب کی جانب موجود تھا ۔
”تم اس جانب کو سنبھالو۔“میں نے سردار کے حوالے شمال کی سمت کی اور خود جنوبی طرف ہو گیا ۔اس جانب پتھر زیادہ تھے اس وجہ سے انھیں درختوں کے ساتھ پتھروں کی آڑ بھی دستیاب تھی ۔مشرقی جانب سے ایک دم چھے ساتھ کلاشن کوفیں گرجیں ،گولیوں کی بوچھاڑ اس مورچے کے دائیں بائیں ٹکرانے لگی ۔ہم اپنی جگہ پر دبک گئے تھے ۔سردار نے اپنی کلاشن کوف کی بیرل اس جانب موڑ کر چار پانچ گولیاں فائر کر دیں ۔ہم بالکل بھی فائر نہ کرتے تو وہ دلیر ہو کر ہم پر چڑھ دوڑتے ۔ہمیں سب سے زیادہ سہولت بلندی کی وجہ سے تھی۔ہموار زمین پر ہم انھیں اتنی دیر نہیں روک سکتے تھے۔اب بھی ہماری پوری کوشش یہی تھی کہ وہ اپنے نقصان کی وجہ سے پیچھے ہٹ جائیں ۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت تھی کہ رات کے وقت ان کی یلغار کو روکنا ناممکن ہو جاتا ۔وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر آسانی سے نزدیک پہنچ سکتے تھے ۔ بلکہ تیس پینتیس گز دور سے ہینڈ گرنیڈ پھینک کر بھی وہ آسانی سے ہمیں شہادت کے مرتبے پر فائز کر سکتے تھے ۔
فائر کے تھمتے ہی میں نے ایک دم سامنے دیکھا ۔دو آدمی دوڑ کر ایک پتھر کی آڑ سے نکل کر دوسرے پتھر کی جانب بڑھ رہے تھے ۔ان میں صرف ایک ہی کامیاب ہو پایا تھا ۔دوسرے کو ڈریگنوو کی گولی نے اتنی مہلت نہیں دی تھی ۔اپنے ساتھ کو پشت کے بل گرتے دیکھ کر وہ فوراََ اپنی جگہ پر دبک گیا تھا۔نیچے لیٹتے ہی اس نے اپنے کلاشن کوف کی بیرل کا رخ ہمارے مورچے کی طرف کر کے ٹریگر دبا دیا ۔اور جب تک میگزین خالی نہیں ہو گئی اس نے ٹریگر دبائے رکھا تھا ۔ایک چیختی ہوئی غصیلی آواز نے اسے فائر کرنے سے منع کیا تھا ۔وہ آواز روشن خان کی تھی ۔وہ کافی نیچے سے آواز دے رہا تھا ۔
میں نے آئی کام کا بٹن دا کر کہا ۔”روشن خان !....کیوں عورتوں کی طرح چلا رہے ہو ۔“
”میں تمھیں کتے کی موت ماروں گا ۔میں ....“وہ غصے میں چلاتے ہوئے واہی تباہی بکنے لگا۔
”خان صاحب !.... سن لیا ۔بس پٹھانوں میں اتنی برداشت ہوتی ہے ۔“میں نے سردار کو روشن خان کی بکواس کی طرف متوجہ کیا ۔
اس نے فوراََ کہا ۔”سارے پٹھان ایک جیسے نہیں ہوتے ۔یہ کتے کا ........“اس آگے اس نے بھی ناقابل اشاعت الفاظ منہ سے نکالنے شروع کر دیے ۔میں قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا ۔
”خان صاحب !....یقینا سارے پٹھان ایک جیسے نہیں ہوتے ۔“میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔
”تم سے بات کرنا ہی فضول ہے ۔“سردار ناراضی بھرے لہجے میں کہہ کر مسلسل فائر کرنے لگا۔
”کوئی نشانہ بھی سادھا ہوا ہے یا خالی ٹخ ٹخ سن کر خوش کو رہے ہو ۔“اسے ساتھ آٹھ گولیاں ضائع کرتے دیکھ کر میں پوچھے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔
”دوآدمی درختوں کی حد سے آگے بڑھنے کی کوشش میں تھے۔ایک کو زخمی کر دیا ہے دوسرا اسی جگہ دبک گیا ہے ۔“
درختوں کی حد کے پاس آ کر تمام پارٹیاں رک گئی تھیں ۔اس سے آگے بڑھنے کی کوشش میں تین بندے ہر حد سے گزر کر اپنے مالک کے حضور پہنچ گئے ۔اس کے بعد وہ وہیں سے اکا دکا فائر کرنے لگے ۔کھی کبھی وہ ایک دم تیز فائر کھول دیتے اور اس سے فائدہ اٹھا کر کوئی نہ کوئی چند قدم آ گے آجاتا۔اسی طرح کے طوفانی فائر میں ایک پتھر اڑتا ہوا سردار کے سر سے ٹکرایا اوراس کا خون بہنے لگا ۔میںنے فوراََ اپنا مفلر اس کے زخم پر کس کر لپیٹ دیا تھا ۔
وقت آگے سرکتا جا رہا تھا۔گھڑی پر نگاہ دوڑانے پرہندسے پانچ بجنے کا اعلان کرتے نظر آئے۔ میں نے کہا ۔
”پانچ بج چکے ہیں اور ساڑھے چھے سورج غروب ہوتا ہے ،یقینااس کے بعد ہم ان کے ہاتھ میں ہوں گے ۔“
سردار عزم سے بولا۔”وہ مجھے زندہ تو نہیں پکڑ سکتے ۔“
میں نے افسردگی سے کہا ۔”تو کیا ،بعد میں بھی تو انھوں نے ہمیں ہلاک ہی کرنا ہے ۔“
”ہاں لیکن زندہ ان کے ہاتھ لگنے کا مطلب مرنے سے پہلے درد ناک اذیتیں جھیلنا ہے ۔“
”صحیح کہا ۔“میں نے تائیدی انداز میں کہا۔
”یار راجا !....میں مرنے سے پہلے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں ۔“
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”یہی نا کہ تم مرنا نہیں چاہتے ؟“
”نہیں ....میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے لی زونا چنارے سے زیادہ پیاری لگتی تھی ۔“اس نے اپنی زندگی کا گویا اہم راز منکشف کیا ۔
میں نے پھیکے لہجے میں کہا ۔”اب یہ بات بتانے کا کیا فائدہ ،نہ تو میں چنارے بہن کو شکایت لگا کرتمھاری پٹائی کرا سکتا ہوں اور نہ لی زونا کو یہ خوش خبری سنا سکتا ہوں ۔“
”میں بہت پچھتا رہا ہوں ۔“میرے مزاح پر توجہ دیے بغیر اس نے حسرت بھرے لہجے میں کہا۔اسی وقت کلاشن کوف مخصوص آواز میں گرجنے لگی تھی ۔لیکن اس کی تڑتڑاہٹ بھی سردار کی بات میرے کانوں تک پہنچنے سے نہیں روک سکی تھی ۔
میں نے جھڑکنے کے انداز میں پوچھا۔”کیا محبت کر کے پچھتا رہے ہو ؟“
”راجے !....وہ مسلمان ہونے پر تیار ہو گئی تھی ۔اسے میری دوسری بیوی بننے پر بھی اعتراض نہیں تھا ۔لیکن میں نے سختی سے منع کر دیا اور وہ اصرار کیے بغیر چپ ہو گئی تھی ۔اس کے تیئں میں اس سے محبت نہیں کرتا تھا اور سچ کہوں تو مجھے بھی اس وقت یہی لگتا تھا ۔“
”تم بعد میں بھی تو اس سے رابطہ کر سکتے تھے ۔“
”میں نے گھر آتے ہی اس کا فون نمبر جلا دیا تھا کیونکہ میں اسے بھلانا چاہتا تھا ۔“یہ کہتے ہی اس نے دو تین برسٹ فائر کیے ۔تیسرے برسٹ کے خاتمے پر ۔”ٹرنچ“ کی آواز نے میگزین کے خالی ہونے کا اعلان کیا اور وہ دوسری میگزین چڑھانے لگا ۔اس نے شاید اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے آدھی کے قریب میگزین یونھی پھونک دی تھی ۔
”ہونہہ!....مطلب تم نے اس سے رابطے کا رستا ہی بند کر دیا ۔“
”تقریباََ ایسا ہی سمجھو۔“
میں مستفسر ہوا ۔”تقریباََکا کیا مطلب ؟“
”اس نے جو پتا بتایا تھا وہ مجھے یاد ہے ۔امریکہ سے واپسی کے دو ماہ بعد میں اس کے پاس جانے کے لیے سخت بے تاب ہو گیا تھا لیکن افسوس کہ غربت نے اس کی اجاز ت ہی نہ دی ۔“
”یعنی تمھارے پاس جاپان جانے کا کرایہ ہی موجود نہیں تھا ۔“
”ہا ں۔“سردار نے اعتراف کرنے میں ذرا بھر بھی جھجک محسوس نہیں کی تھی ۔
”تو مجھ سے مانگ لیتے ۔“
”کیا کہتا کہ مجھے اپنی محبوبہ کے پاس جانا ہے جاپان کا کرایہ دے دو ۔“اس نے غمزدہ ہنسی سے کہا ۔
”دوست سے مدد مانگتے وقت اپنا مسئلہ نہیں بتایا جاتا ۔“اس حالت میں بھی میں اسے مطعون کیے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔
”اب اس وقت تو میرے پچھتاوں میں اضافہ نہ کرو ۔“
”سردار !....تم خوش قسمت ہو کہ تمھیں دو عورتوں کی محبت حاصل رہی ۔مجھے دیکھو تین عورتوں کی مکاریاں بھگت چکا ہوں ۔“
”یہ تیسری کون سی ہے ؟“وہ گولیوں کی بوچھاڑ سے چنے کے لیے نیچے دبکا۔
”رومانہ ....تمھیں اگر وہ کشمیری چرواہن یاد ہو تو ۔“میں نے بھی اپنا سر نیچے کرتے ہوئے جواب دیا ۔
کچھ کہنے سے پہلے اس نے کلاشن کوف کی بیرل دشمن کی جانب کر کے ایک لمبا برسٹ فائر کیا اور اس کے ساتھ ہی بیرل کو نیم دائرے میں گھما دیا تھا ۔میں نے بھی ڈریگنوو کی نال باہر کر کے چھے سات مرتبہ مسلسل ٹریگر دبا دیا ۔ہم نہیں چاہتے تھے کہ تیز فائرنگ کی آڑ میں وہ ہمارے قریب پہنچ جائیں ۔لیکن اس طرح ہم انھیں زیادہ دیر نہیں روک سکتے تھے ۔طلوع آفتاب میں گھنٹا ایک رہ گیا تھا ۔اسی طرح ہمارے پاس ایمونشن بھی زیادہ نہیں تھا ۔خاص کر ایسی حالت میں کلاشن کوف جیسے آٹومیٹک ہتھیار کی ضرورت پڑتی ہے ۔
اچانک میرے کانوں میں ایک مخصوص گن کے فائر کی آواز آئی ۔
”سردار !....ان کے پاس ایل ایم جی کہاں سے آ گئی ۔“میرے دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہو گئی تھی ۔
سردار نے منہ بنایا۔”اس علاقے میں راکٹ لانچر ،12.7ایم ایم اور مارٹر تک دستیاب ہیں ، تم ایل ایم جی کا رونا رو رہے ہو ۔“
اسی وقت کئی کلاشن کوفیں ایک دم گرجنے لگیں ۔مجھے محسوس ہوا گولیوں کا رخ کسی اور جانب ہے ۔ہم دونوں ایک دم سر اٹھا کر دیکھنے لگے ۔
”راجے !....غلطی ہو گئی مجھے لی زونا والا راز نہیں کھولنا چاہیے تھا ۔“سردار کی آواز میں مجھے زندگی کی رونق نظر آ رہی تھی ۔
”کیا ہو گیا ؟“میں نے بے صبری سے پوچھتے ہوئے پیچھے مڑ کر اس کے قریب ہوا ۔اس کے کچھ کہنے سے پہلے مجھے شمال کی جانب وچہ نرائے کے دامن میں پانچ چھے ڈبل کیبن ٹویوٹا نظر آئیں ۔ چاق و چوبندفوجی دستہ ہماری مدد کو پہنچ گیا تھا ۔وہ کیو آر ایف (Quick Reaction Force) تھی۔
”اب یہ بھاگیں گے سردار !....“میں جلدی سے اپنی جگہ پر ہو گیا ۔وہ کیوآر ایف کے جوانوں سے فائر کا تبادلہ کر رہے تھے ۔گو انھیں بلندی کا فائدہ حاصل تھا لیکن اس کے ساتھ یہ مسئلہ بھی موجود تھا کہ ان کے عقب میں بھی پاک آرمی کے جوان موجود تھے ۔اور کوئی بھی آدمی ایک طرف سے آڑ حاصل کر سکتا دونوں جگہ آڑ کا دستیاب ہونا کافی مشکل ہوتا ہے ۔
سردار مسلسل فائر کر رہا تھا ۔چھے ساتھ گولیاں فائر کرتے ہی وہ مجھے مخاطب ہوا ۔
”راجا صاحب !....اگر ڈریگنوو مل جاتی تو کیا ہی بات تھی ۔“
”یہ لو ۔“ڈریگنوو اس کے حوالے کرتے ہوئے میں نے دوبارہ بیرٹ اٹھا لی کیونکہ اب وہ دوبارہ پیچھے بھاگ رہے تھے اور بیرٹ کی دس گیارہ گولیاں اب تک موجود تھیں ۔تھیلے سے گولیوں کا پیکٹ نکال کر میں نے بیرٹ کی میگزین بھری اور دوبارہ پوزیشن سنبھال لی ۔ہماری طرف سے فائر نہ ہوتا دیکھ کر دو آدمی بھاگتے ہوئے نیچے کی طرف جا رہے تھے ۔ایک کو دنیاوی فکروں سے آزاد کر کے میں نے دوبارہ رائفل کاک کی اس دوران دوسرا ایک پتھر کے پیچھے لیٹ گیا تھا ۔
میں نے آئی کام پر چینل نو لگا یا کہ ہمارا رابطہ ہمیشہ اسی چینل پر ہوتا تھا ۔گو اس کے بعد گفتگو کے لیے ہم چینل تبدیل کر لیا کرتے تھے ۔
”ایس ایس فارون الفا اوور!“مجھے امید تو نہیں تھی کہ اورنگ زیب صاحب وہاں آیا ہو گا لیکن اتنا یقین تھا کہ جو بھی وہاں آیا ہو گا اسے اورنگ زیب صاحب نے لازماََ چینل اور میرا کوڈ نام بتا دیا ہو گا ۔
”ون الفا فا رایس ایس،سینڈ یور میسج اوور۔“میجر اورنگ زیب کی اطمینان بھری آواز سن کر مجھے خوشگوار حیرانی ہوئی تھی ۔
”شکریہ سر !....فی الحال میں بھگوڑوں سے نبٹ لوں اوور اینڈ آل۔“میں نے چونکہ اس تک اپنی خیریت پہنچانی تھی اس لیے لمبی بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے میں نے سردار کو کہا ۔
”سردار اپنے آئی کام پر چینل نو لگا دو میں ذرا روشن خان اسٹیشن پر کوئی کام کی بات سن لوں ۔“
اس نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”راجر (سمجھ گیا )باس !“
میں نے فوراََ چینل تبدیل کر کے آئی کام نیچے رکھا اور رائفل سنبھال لی ۔ایک آدمی درخت کی آڑ میں بیٹھے ہوئے شمال کی جانب فائر کر رہا تھا کیونکہ اسی جانب سے کیو آر ایف کے جوان پیش قدمی کر رہے تھے ۔فائر کرتے ہوئے اس کا دایاں کندھا درخت کی آڑ سے باہر تھا ۔میں نے فوراََ اس کے کندھے پر شست سادھی ،اگلے ہی لمحے کلاشن کوف اس کے ہاتھ گری اور وہ اپنے کندھے کو تھامتے ہوئے دہرا ہو گیا تھا ۔اس حالت میں اس کا سر آڑ سے باہر آیا اور میں نے دوسری گولی فائر کرتے ہوئے اسے دنیاوی تکالیف سے چھٹکار ادے دیا تھا ۔
”اندھوں کی طرح مت بھاگو ....آڑ لے کر فائر کا جواب دیتے ہوئے نیچے اترو ۔“روشن خان کی چنگھاڑتی ہوئی آواز آئی کام سے برآمد ہوئی ۔میرے پاس اسے چھیڑنے کا وقت موجود نہیں تھا کیونکہ میں چاہتا تھااس کے زیادہ سے زیادہ آدمی ہلاک کر سکوں ۔میری ہدف کی تلاش میں بھٹکتی نظروں کو پتھر کی آڑ میں لیٹے ایک شخص کا پاﺅں نظر آیا ۔وہ ظالم دو پتھروں کے درمیان میں لیٹا تھا ۔نسبتاََ بڑا پتھر گہرائی کے جانب تھا ۔میری طرف موجود پتھر کی آڑ میں لیٹنے کی وجہ سے وہ چھپ گیا تھا ۔میں نے فوراََ اس کے پاﺅں پر شست باندھی ۔ٹریگر دباتے ہی میں نے اسے تڑپ کر سیدھا ہوتے دیکھا یقینا اس کا آدھا پاﺅں قربان ہو چکا تھا ۔تین سو گز کے فاصلے پر بیرٹ ایم 107کی گولی جتنی تباہی مچاتی ہے اس کا اندازہ ایک تربیت یافتہ سنائپر ہی کر سکتا ہے ۔
میرے رائفل کو دوبارہ کاک کرنے سے پہلے وہ اسی پتھر کے پیچھے دبک گیا تھا ۔لیکن اب وہ وہاں سے حرکت نہیں کر سکتا تھا ۔میں بھی انتظار میں تھا کہ وہ کہیں کھسکے اور میں اسے اس کے مرنے والے ساتھیوں کے پاس پہنچاﺅ ں۔
”ناصر خان !....کمانڈر روشن خان کو پاﺅں میں گولی لگ گئی ہے ۔“آئی کام سے ابھرنے والی آواز نے مجھے خوشی سے اچھلنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
”اس کے پاﺅں پر پگڑی لپیٹ کر اسے نیچے پہنچاﺅ ۔“ناصر خان نے فوراََ حکم پاس کیا ۔یقینا روشن خان کے بعد وہی کمانڈر تھا ۔
”روشن خان !....میں نے کہا تھا نا کہ میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا ۔“میں نے فوراََ آئی کام اٹھا کر روشن خان کو پکارا ۔
”تم جیسے کتے میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔“روشن خان کی آواز میں شامل تکلیف اور غصہ مجھے یہ باور کرانے کے لیے کافی تھا کہ وہ کتنی اذیت سے گزر رہا تھا ۔
”روشن خان !....تم اپنے بدن کے جس حصے کو حرکت دو گے وہ عضو تمھارے بدن کا حصہ نہیں رہے گا ،اگر شک ہے تو اپنا ایک ہاتھ پتھر کی آڑ سے نکال کر دکھاﺅ ۔“یہ بات کرتے ہوئے بھی میں نے اپنی شست اسی پتھر پر برقرار رکھی ہوئی تھی ۔اسی وقت ایک آدمی جھکے جھکے انداز میں اس پتھر کے قریب پہنچا یقینا وہ روشن خان کی مدد کے لیے آیا تھا۔اس کی بدقسمتی کہ میری ساری توجہ ہی اس پتھر پر مرکوز تھی ۔وہ بہ مشکل بڑے پتھر کی آڑ سے نکل کر روشن خان تک پہنچ سکا تھا کہ میں نے ٹریگر پریس کر دیا ۔اور تین سو گز کے فاصلے پر بیرٹ ایم 107کی گولی کا ضائع جانے کا مطلب یہی ہوتا کہ میں فائر ابجد سے بھی واقف نہیں ہوں ۔وہ روشن خان کے اوپر ہی گرا تھا ۔
رائفل کاک کر کے میں نے آئی کام اٹھا لیا۔”روشن خان !....اب تو یقین آ گیا ہو گا ۔“
جواباََ اس کی کوئی آواز نہیں آئی تھی ۔اسی وقت اس نے لاش کو دور جھٹک دیا ۔
”ویسے تم معافی مانگ کر اپنی جان بچا سکتے ہو ۔“میں نے اسے غصہ دلایا ۔
”تمھارا نام کیا ہے جوان؟“روشن خان کی آواز میں شامل بے بسی نے مجھے سکون پہنچایا تھا ۔
”تم مجھے ایس ایس کہہ سکتے ہو ۔“ میں آئی کام سیٹ پر اسی نام سے گفتگو کرتا تھا اور یقینا یہ اسے بھی معلوم تھا ۔
”ایس ایس !....میںمعذرت خواہ ہوں مجھے معاف کر دو ۔“روشن خان کی تھکی ہاری آواز سن کر مجھے جھٹکا لگا تھا لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔میں نے خود ہی تو معافی کی شرط پیش کی تھی ۔مجھ سے کوئی جواب نہیں بن پڑا تھا ۔اسی وقت میں نے روشن خان کو پتھر کے عقب سے اٹھتے ہوئے دیکھا وہ کلاشن کوف کو ڈنڈے کی طرح زمین پر ٹیکتے ہوئے اٹھا اور ایک بار اس نے میری جانب نگاہیں اٹھائیں چند لمحے اسی طرف دیکھتا رہا اورپھر مڑ کر جانے لگا۔ وہ میرے نشانے پر تھا ۔کوشش کے باوجود میں ٹریگر نہیں دبا سکا تھا ۔وہ دو قدم ہی چلا ہوگا کہ بڑے پتھر کے پیچھے سے ایک آدمی نکل کر سہارا دینے کے لیے اس کے قریب ہوا ۔روشن خان کے بچ کر نکل جانے کا غصہ میں نے نئے ظاہر ہونے والے ہدف کی کھوپڑی میں روشن دان کھول کر نکالا تھا ۔
”معافی صرف تمھیں دی ہے روشن خان !“میں نے آئی کام کا بٹن دبا کر غصے بھرے لہجے میں کہا ۔
”جانتا ہوں ۔“روشن خان کی جھلائی ہوئی آواز برآمد ہوئی اور وہ لنگڑاتا ہوا نیچے جانے لگا دس پندرہ گز نیچے ہی درختوں کا جھنڈ تھا ۔کیو آر ایف کے جوان شمال کی جانب سے کافی اوپر آ چکے تھے ۔ چاروں جانب سے دہشت گرد غائب ہو چکے تھے اس کے باوجود ہم مورچے میں دبکے رہے ۔
سورج زرد ہوکرپہاڑوں کے پیچھے غائب ہو رہا تھا ۔اس حالت میں دہشت گردو ںکا تعاقب کرنے سے بھی کیو آر ایف کے جوانوں کو کچھ حاصل ہونے والا نہیں تھا ۔جلد ہی کیو آر ایف کے جوان ہمارے مورچے کے قریب پہنچ چکے تھے ۔سب سے آگے میجر اورنگ زیب خٹک کو دیکھ کر مجھے اس کی دلیری پر یقین آ گیا تھا ۔
خطرہ ٹل گیا تھا ۔میں مورچے سے باہر آ کر میجر اورنگ زیب کی طرف بڑھ گیا ۔
”کیسے ہو جوان ؟“مجھے چھاتی کے ساتھ بھینچتے ہوئے اس نے شفقت بھرے لہجے میں پوچھا۔
”ہماری حالت آپ کو رستے میں ملنے والی لاشوں سے معلوم ہو چکی ہو گی ۔“
”مجھے تم دونوں پر فخر ہے ۔“اس نے میری پیٹھ تھپتھپاکر تحسین آمیز لہجے میں کہتے ہوئے وہ سردار کی جانب بڑھ گیا ۔
٭٭٭
کیو آر ایف کے تین جوان زخمی ہوئے تھے ۔دشمن اپنی پچیس لاشیں چھوڑ کر بھاگا تھا ۔اس میں انیس آدمی ہمارا شکار بنے تھے ۔
”اب کیا ارادہ ہے ؟“صبح کے نو بجے پر تکلف ناشتے کے بعد چاے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے میجر اورنگ زیب خٹک نے پوچھا ۔ہم اس وقت ڈی بلاک پر موجود تھے
سردار کندھے اچکاتے ہوئے بولا ۔”آپ کو پتا ہو گا سر !“
”میرا مطلب تھا کہ اگر قبیل خان پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے چھٹی وغیرہ کاٹنے کا ارادہ ہے تو بتا دو ۔یہاں تم دونوں کا تعلق براہ راست مجھ سے ہے ۔“
میں نے جواب دیا ۔”نہیں سر !....پہلے ہم قبیل خان پر ہاتھ ڈال لیں ۔اگر مشکل ہدف ہوا تو پھر دیکھیں گے۔“
”ہدف تو وہ کافی مشکل ہے ۔اور تم دونوں تو آتے ساتھ ہی اس سے ٹکرا گئے ہو ۔ویسے اس کے خاص آدمی کو چھوڑ کر تم نے اچھا نہیں کیا ۔“آخری فقرہ میجر اورنگ زیب نے ہنستے ہوئے ادا کیا تھا ۔
”آپ نے وہ گفتگو سن لی تھی ۔“میں نے خفیف انداز میں سر جھکا لیا تھا ۔
”تم آئی کام پر بات کر رہے تھے بھائی ،موبائل فون پر نہیں ۔“
”سر !....بس غلطی یہ ہو گئی کہ میں جلد بازی میں زبان دے بیٹھا تھا ۔“میں نے ندامت کا اظہار ضروری سمجھا ۔
”ویسے مجھے خوشی ہوئی کہ تم نے زبان کا پاس رکھا ۔“
سردار نے فوراََ لقمہ دیا ۔”ورنہ زبان کا پاس صرف پٹھان رکھتے ہیں ۔“اس کی بات پر میجر اورنگ زیب نے قہقہہ لگایا ۔
میں نے پوچھا ۔”ہم قبیل خان مشن پر کب روانہ ہوں گے سر !“
وہ فیصلے کا بوجھ ہمارے کندھوں پر منتقل کرتے ہوئے بولا ۔”جب تمھاری مرضی ہو چلے جاﺅ ۔“
”بیرٹ ایم 107کے ایمونیشن کے بارے پہلے بتا دیا تھا ،اب ڈریگنوو کا ایمونیشن بھی چاہیے ہو گا ۔“
وہ پوچھنے لگا ۔”ویسے دو سنائپر رائفلیں ساتھ پھرانے کی کیا ضرورت ہے ؟“
سر!.... بیرٹ ایم 107کو ہم ہر وقت ساتھ نہیں پھرا سکتے جب بھی کہیں خصوصی ہدف کو نشانہ بنانا ہوتا ہے تب ہمیں اس کی ضرورت پڑتی ہے اور ڈریگنوو چونکہ ہلکی پھلکی رائفل ہے اس لیے عام طور پر ہم اسی سے کام چلا لیتے ہیں ۔“
میجر اورنگ زیب نے پوچھا ۔”تمھارے پاس ڈریگنوو کا کتنا ایمونیشن موجود ہے ؟“
”بیس پچیس گولیاں باقی بچی ہوں گی ۔“
”تو ایسا ہے تم بیرٹ ایم 107کو یہیں ڈی بلاک پر چھوڑ جاﺅ ۔اگلے قافلے میں بیرٹ کی گولیاں آ جائیں گی جب موقع ملے تم وادی شوال سے یہاں آکر اپنی رائفل لے جانا ۔یہاں سے چند گھنٹوں ہی کے فاصلے پر قبیل خان کا علاقہ موجود ہے ۔“
”ہونہہ!....صحیح ہے ۔“میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے تصدیق چاہی ۔”ویسے قبیل خان کے گاﺅں کا نام علام خیل بتایا تھا نا آپ نے ؟“
”بالکل، لیکن ضروری نہیں کہ وہ تمھیں وہیں ملے ۔اس کے کئی ٹھکانے ہیں ۔افغانستان میں بھی اس کے ٹھکانے موجود ہیں ۔مجاہدین کے ساتھ اس نے معاہدہ کیا ہوا ہے ۔ وہ آپس میں نہیں لڑتے ۔ مجاہدین امریکن آرمی اور افغان فوج کے خلاف برسرِ پیکار ہیں جبکہ قبیل خان جیسے بے غیرت پاکستان آرمی کے خلاف مختلف ایجنسیوں کی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں ۔“
میں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا ۔”تو ٹھیک ہے سر !....ہم کل یہاں سے نکلیں گے ۔“
”وادی شوال کے مغری جانب موجود پہاڑوں کے بعد افغانستان کی سرحد شروع ہو جاتی ہے اور یاد رہے ان پہاڑوں پر افغانستان کی موبائل فون سروس جیسے AWCC (افغانستان وائرلیس کیمونی کیشن)ADIAاور روشن وغیرہ کام کرتی ہیں ۔کیونکہ شوال وادی کے پہاڑوں کو عبور کرتے ہی افغانستان کے شہر غزنی ،خوست،لمن وغیرہ آتے ہیں ........“وہ ہمیں اس علاقے کے بارے تفصیل سے بتانے لگا ۔اور ہم ضروری باتیں ذہن نشین کرتے گئے ۔
٭٭٭
ہم اس وقت تقریباََشمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پرموجود تھے ۔وادی شوال کا علاقہ شمالی وزیرستان میں آتا ہے ۔اگر ڈیرہ اسماعیل خان سے وزیرستان کی حدود میں داخل ہوں تو کوڑ قلعہ کے بعد جو پہاڑی سلسلہ شروع ہوتا ہے وہ افغانستان کی حدود میں داخل ہوجاتا ہے ۔رستے میں جہاں کہیں آبادیاں ہیں یا تو وہ پہاڑی ڈھلانوں پر بنی ہوئی ہیں یا پہاڑیوں میں گھری ہوئی وادیاں ہیں ۔شوال وادی بھی شمالاََ جنوباََ پھیلی ہوئی کافی وسیع وادی ہے ۔جس میں چھوٹی بڑی کافی آبادیاں موجود ہیں ۔جیسے گربز،ڈابر میانی ،دیر زوال،سرے خاورے ،درے نشتر وغیرہ اسی میں ایک بڑی آبادی علام خیل کی بھی تھی جس کا مشر یا سردار قبیل خان تھا ۔لیکن وہ وہاں کم ہی ملتا تھا ۔وزیرستان کے ہر سردار کے پاس اپنی ذاتی فوج ہوتی ہے جسے لشکر کہتے ہیں ۔جس کے پاس جتنا بڑا لشکر ہو وہ اتنا بڑا سردار ہوتا ہے ۔اور دشمن ممالک کی جو ایجنسیاں اس علاقے میں مصروف عمل ہیں وہ بھی عمومی طور پر بڑے سرداروں ہی کو اپنا آلہ کار بنانے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ قبیل خان پربیک وقت انڈین ،اسرائیلی اور امریکی ایجنسیاں خاصی مہربان تھیں ۔اس کی کارروائیوں کا دائرہ کار شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاوہ پاکستان کے پرامن شہروں تک پھیلا ہوا تھا ۔ اور یہ تو اصول ہے کہ جتنا بڑا مجرم ہو وہ اتنا زیادہ ہی اپنی حفاظت کا بندوبست کرتا ہے ۔شروع میں وہ پاک فوج کے خلاف درپردہ کام کرتا رہا ،لیکن چند ماہ سے وہ کھلم کھلا سامنے آ گیا تھا ۔ اس کا تعلق وزیر قوم سے تھا ۔اس لیے وزیر قوم کے کافی سرداروں نے اس کے ساتھ الحاق کیا ہوا تھا ۔مگر اس کے لشکر کا حصہ صرف وزیر قوم کے جوان نہیں تھے ۔غربت ،جہالت اور معاشرے میں پھیلی ناانصافی کے ڈسے ہوئے کئی جوان اور ادھیڑ عمر کے افراد جو پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے اس کے لشکر کا حصہ تھے ۔یوں بھی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی بڑی قومیں ،جن میں وزیر ،محسود اور داوڑ شامل ہیں سارے دہشت گرد نہیں ہیں ۔ان اقوام کے بہت سے لوگ تو پاک فوج ،ایف سی اور رینجرمیں شامل ہو کر ملک و قوم کی خدمت میں پیش پیش ہیں ۔اس کے علاوہ بھی اکثریت ایسوں کی ہے جو امن پسند اور محب وطن ہیں اور پاک فوج کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کو غلط سمجھتے ہیں ۔اس لیے یہ سوچ کہ وزیرستان کے تمام لوگ ہی پاک فوج اور پاکستان خلاف ہیں ،نہایت غلط اور عدل و انصاف کے منافی سوچ ہے ۔دیکھا جائے تو دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔آج دجالی میڈیا نے دہشت گردی کو فقط اسلام کے ساتھ نتھی کیا ہوا ہے ۔ حالانکہ یہ بات شواہد اور دلائل کے بالکل خلاف ہے ۔البتہ ایسے شواہد کو نہ تو میڈیا پر پیش کیا جاتا ہے اور نہ ایسے دلائل کو کوئی لبرل اور مغربی سوچ رکھنے والا پسند کرتا ہے ۔میں (راوی)بہ ذات خود دہشت گردوں سے کئی بار روبہ رومقابلہ کر چکا ہوں ،ان سے مل چکا ہوںور ان کے خیالات بڑی باریک بینی سے جان چکا ہوں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو اسلام کی محبت میں ایسا کر رہا ہو۔بیرون ملک بیٹھے ہوئے تھنک ٹینک اپنے زر خرید لوگوں کو استعمال ہی اس انداز میں کر رہے ہیں کہ خواہ وہ کسی بھی مذہب ،مسلک سے تعلق رکھتے ہوں خودکو مسلمان ہی ظاہر کریں گے ۔آج کل جہاد اور مجاہد کا تو تصور ہی ختم کر دیا گیا ہے ،حالانکہ آج بھی مجاہدین کا ایک بڑا گروہ ایسا موجود ہے جو انڈیا اور افغانستان میں کفر سے برسرِ پیکار ہے ۔لیکن دشمن زرخرید لوگوں کے ہاتھوں ملک دشمن اور اسلام دشمن کارروائیاں کروا کر مجاہدین بن کر اس کی ذمہ داری قبول کر لیں گے، جسے ہمارا دجالی میڈیاچیخ چیخ کر کچے ذہنوں اور کم علم لوگوں کے دماغ میں ٹھونستا رہے گا ۔ورنہ مساجد میں دھماکے کرانا ،امام بارگاہوں کو نشانہ بنانا ،درباروں میں دھماکے کرانا یہ کسی بھی مسلک یا فرقے کی رو سے جائز نہیں ۔اور حیرانی ہوتی ہے کہ ایسا کرنے والے خود کو مسلمان کہہ کر اقرار کرتے ہیں اور ہم مان لیتے ہیں ۔اگر مسلمانوں ہی نے یہ سب کرنا ہوتا تو کیا سینما گھر ،کلب،کنجر خانے اور اس طرح کی دوسری جگہیں کم تھیں بم پھینکنے کے لیے ۔گو اسلام ایسی جگہوں پر بھی دھماکے کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔اسلام فیصلے کا اختیار صرف حکومت وقت کو دیتا ہے۔ ایک اسلامی مملکت کا سربراہ ہی بے راہ روی اور فحاشی کے اڈوں کو قانون کی رو سے بند کرنے کا حکم دے سکتا ہے ۔انفرادی طور پر افراد کے پاس صرف تبلیغ کا حق ہے کہ ایک آدمی دوسرے کو وعظ و نصیحت کے ذریعے غلط کام سے منع کرے ۔ طاقت کا اطلاق صرف خونی رشتوں تک ہی محدود ہوتا ہے ۔وہ بھی اس وقت تک جب تک کہ وہ بچپن یا لڑکپن کی عمر میں ہوں ۔ اس کے بعد زبردستی کااختیار تو وہاں بھی چھن جاتا ہے ۔یعنی ایک مسلمان باپ اس بات کا حق نہیں رکھتا کہ بیٹے کے اسلام قبول کرنے پر اسے قتل کر دے ۔وہ بس اس سے قطع تعلق کا حق ہی رکھتا ہے ۔لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے سادے عوام اسلام ہی کا شعور نہیں رکھتے بیرونی طاقتوں کے ہتھکنڈے کیا سمجھیں گے ۔یہاں تو ایک ایسا شخص جس کی شکل ہی مسلمانوں کی طرح نہیں ہوتی ہے ، جو نماز پڑھنا ہی نہیں جانتا ،دوسرے کلمے کو پڑھتے ہوئے دس غلطیاں کرتا ہے وہ پیر بن کر لوگوں کو بچے بھی عطا کرتا ہے ان کی بگڑی بھی بناتا ہے اور انھیں جنت کے ٹکٹ بھی فراہم کرتا ہے ۔اس کے نام پر کٹ مرنے والے سیکڑوں ہزاروں میدان میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ہم ایسے جاہل ہیں کہ ایک آدمی کا کوئی عمل اسلام کے مطابق نہیں پھر بھی ہمارا رہبر اور قائد ہے ۔خیر کہاں تک رویا پیٹا جائے ہدایت دینا تو اللہ پاک ہی کے ہاتھ میں ہے ۔
٭٭٭
ہم صبح سویرے ہی ڈی بلاک سے رخصت ہو گئے تھے ۔بیرٹ ایم 107ہم نے وہیں پر چھوڑ دی تھی ۔سردار کو کلاشن کے لیے ضرورت کے مطابق گولیاں وہیں سے مل گئی تھیں ۔پستول کی گولیاں پہلے ہی سے ہمارے پاس ضرورت کے مطابق موجود تھیں ۔
ڈی بلاک کے جنوب کی سمت سے ایک نالہ گزر رہا تھا جس کے بہاﺅ کا رخ مشرق سے مغرب کی جانب تھا ۔سفر کے لیے ہم نے اسی نالے کارستا اختیار کیا ۔ہمیں کہیں پہنچنے کی جلدی تو تھی نہیں اس لیے ہم درمیانی رفتار سے چلتے رہے ۔ڈی بلاک سے نالے کی تہہ تک چڑھائی کافی دشوار گزار تھی اس کے بعد مغرب کی سمت میں غیر محسوس ڈھلان تھی ۔نالے کی تہہ میں ہلکی مقدار میں پانی بہہ رہا تھا ۔نہایت صاف و شفاف اور ٹھنڈا میٹھا پانی تھا ۔ہم نے اپنے پاس موجود پانی کی بوتلوں میں تازہ پانی بھر لیا کیونکہ کچھ معلوم نہیں تھا کہ کس جگہ پر جا کر پانی ہمارا ساتھ چھوڑ جائے ۔کلومیٹر ڈیڑھ چلنے کے بعد ایک رستا دائیں جانب نکلتا ہوا نظر آیا ۔دائیں جانب ہی ایک چھوٹی پہاڑی موجود تھی جس پر دو تین گھر بنے نظر آئے ۔یہ رستا بھی دائیں جانب موجود پہاڑی کے دائیں ہاتھ آگے بڑھ کر دوبارہ اسی نالے سے آ ن ملتا تھا جس میں ہم سفر کر رہے تھے ۔ہم آبادی کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے ۔
”راجا صاحب!.... رات گزارنے کے لیے کوئی جگہ بھی نظر میں رکھنی ہے کہ آگے کسی آبادی میں رہائشی ہوٹل موجود نہیں ہے ۔“
میں نے طنزیہ انداز میں پوچھا ۔”خان صاحب !....سورج طلوع ہوئے گھنٹا نہیں گزرا کہ تمھیں رات گزارنے کی فکر پڑ گئی؟“
اس نے کندھے اچکاتے ہوئے اپنی لانس نائیکی کا رعب جھاڑا۔”لازمی بات ہے سینئر ہونے کے ناتے یہ میرا فرض بنتا ہے کہ انتظام و انصرام کا خیال رکھوں ۔“
”اتنا خیال اگر تم نے لی زونا کارکھا ہوتا تو آج دو بیویوں کے خاوند ہوتے ۔“
وہ برا سا منہ بناتے ہوئے بولا ۔”مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے جو تمھیں اپنا راز دار بنا لیا۔“
”ویسے خان صاحب !....ایک بات میں نہایت سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں ،اس بار چھٹی جاتے ہوئے مجھ سے اے ٹی ایم کارڈ لیتے جانا ۔میں تمھیں پانچ ہزار ڈالر دے سکتا ہوں اور پانچ ہزار ڈالر کا مطلب ہے پانچ لاکھ روپے۔جاتے ہی جاپان جانے کے لیے ویزے کی درخواست دے دینا ۔ سیاحتی ویزہ یقینا چند دنوں میں مل جائے گا ۔پاسپورٹ تمھارا یوں بھی بنا ہوا ہے ۔بعد کے پچھتاوں سے بہتر ہے ابھی کچھ کر لو ۔“
اس نے افسردہ لہجے میں کہا ۔”پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا پتا لی زونا مجھے بھول بھی چکی ہو ۔اتنی خوب صورت لڑکی کو کئی محبوب مل جائیں گے ۔اور دوسری بات یہ کہ ....“وہ ایک لمحے کے لیے رکا اور پھر اپنی بات مکمل کرتا ہوا بولا ۔”شاید چند دنوں تک میں باپ بھی بن جاﺅں ۔“
”باپ بننے کی پیشگی مبارک ہو باقی رہی بات لی زونا کی ،اگر اسے تم سے محبت تھی تو پھر تمھارے علاوہ اسے کسی کی بھی ضرورت نہیں ہو گی ۔ابھی اتنا وقت نہیں گزرا کے وہ تم سے مایوس ہو چکی ہو۔ محبت کرنے والے اتنی جلدی ہمت نہیں ہارتے ۔وہ اپنا فون نمبر اور پتا تمھارے حوالے کر چکی ہے یقینا سال ڈیڑھ تو تمھاری فون کال یا خط کا انتظار کرے گی ۔اور بالفرض وہ کسی اور کو اپنا بھی چکی ہے تب بھی تمھار اکیا بگڑے گا ،کم از کم تمھارے پچھتاوں کا تو خاتمہ ہو جائے گا ۔باقی پیسے تو یوں بھی میرے خرچ ہو رہے ہیں ۔“
اس نے فوراََ میرے آخری فقرے پر اعتراض جڑا ۔ ”ابھی سے پیسوں کے طعنے دینا شروع کر دیے ۔“
”طعنے نہیں دے رہا ،ترغیب دے رہا ہوں ۔میں نہیں چاہتا کل کلاں کو تم مزید پچھتاوں کا شکار ہو جاﺅ کہ اب تو رقم کی غیر موجودی کا بہانہ بھی نہیں رہا ۔“
”تم نے مجھے کشمیری چرواہن کی مکمل بات نہیں سنائی تھی ۔“
”دکھوں کو کریدنے سے کرب ہی حاصل ہوتے ہیں دوست!“
”جان چھڑانے کی کوشش نہ کرو راجا صاحب !....میں نے یہ سوال اس وقت کیا تھا جب موت ہم سے چند قدم کے فاصلے پر موجود تھی اور اس وقت اگر تم جواب ہیں دے پائے تو اب تو جواب دینا بنتا ہے نا ؟“
اس کے اصرار کو دیکھتے ہوئے میں نے رومانہ کی کہانی اس کے سامنے دہرا دی تھی ۔
”اس میں رومانہ نے کس جگہ پر تمھیں دھوکا دیا ہے ذرا یہ وضاحت بھی کر دو ۔“میری بار مکمل ہوتے ہی اس نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔
”کسی کی بیوی ہو کر مجھ سے محبت کا دعوا کرنا کہاں کا انصاف ہے ۔کیا یہ اس شریف آدمی سے سراسر دھوکا نہیں ہے جو اس کا شوہر ہے ۔“
”بات تمھاری ہو رہی ہے حضرت۔کسی شریف آدمی کو نہ گھسیٹو درمیان میں ۔“
”یار !....میرے اس کی جانب مائل ہونے کی وجہ یہ تھی کہ میری نظر میں وہ کنواری تھی ۔اگر وہ کسی اور کے ساتھ بندھی ہوئی تھی تو اس کو محبت کا کھیل کھیلنے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔کیوں اس نے میرا جذباتی استحصال کیا ۔ایک شادی شدہ لڑکی کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ کسی دوسرے مرد سے محبت جتلائے ؟“
”تو کیاایک شادی شدہ مرد کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ کسی دوسری لڑکی سے محبت جتلائے ،خاص کر اس موقع پر جب وہ باپ بھی بننے والا ہو ؟“وہ فوراََ بات کو اپنی ذات کی جانب موڑ گیا تھا ۔
”ہاں ....اگر اس نے دوسری لڑکی کواپنی پہلی شادی کی اطلاع دے دی ہے تو وہ اسے بغیر کسی جھجک کے اپنا سکتا ہے ۔مرد کو دوسری شادی کی اجازت شریعت دیتی ہے ،پھر اس میں شبے کی گنجائش کہاں رہی ۔“
”ہو سکتا ہے چنارے بیگم اسے قبول نہ کرے ؟“سردار نے اندیشہ ظاہر کیا ۔”اب تو یوں بھی ہمارے پیار کی نشانی بیٹے یا بیٹی کی صورت اس دنیا میں آنے والی ہے ۔“
”اس بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں ۔مجھے تو بس اتنا معلوم ہے کہ تم لی زونا کو بہت زیادہ چاہتے ہو ،اتنا کہ موت کو قریب پا کر بھی تمھیں لی زونا کو نہ پانے کا دکھ نہ بھول سکا ۔اور دوسری شادی میں رکاوٹ پہلی بیوی کی وجہ سے پڑتی ہے اولاد کی وجہ سے نہیں ۔“
”اچھا تم کب چوتھا دھوکا کھانے کا ارادہ رکھتے ہو ۔“اس نے شرارتی انداز میں مشورہ دیتے ہوئے کہا ۔”بہتر تو یہی ہو گا کہ کیپٹن جینیفر کے پاس امریکا چلے جاﺅ۔اور اجرتی قاتل کے طور پر امریکہ میں اپنی دھاک بٹھا دو ۔یوں بھی انھوں نے تم سے امریکی ہی مروانے ہوں گے تو مارتے جاﺅ ۔میرا تو خیال ہے امریکیوں کو مارنے پر تمھیں اجر ہی ملے گا ۔“
”یہ فتوے اپنے پاس رکھو حضرت ،کسی بھی بے گناہ انسان کو قتل کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔“
وہ مسکرایا ۔”یونھی گپ کر رہا تھا یار!....تم تو محسوس ہی کر گئے ۔“
”اچھا اس فضول گفتگو کو چھوڑو اور آگے کا لائحہ عمل طے کرو ۔“میں نے اس بے مقصد بحث سے جان چھڑائی ۔
اس نے منہ بنا کر کہا ۔”قبیل خان کو ڈھونڈ کر کیفر کردار تک پہنچانا ہے اور لائحہ عمل کیا ہونا ہے۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں جواب دیا ۔”قبیل خان تو گویا تمھارے لیے محو انتظار ہے نا ۔“
”میرا خیال ہے تو یہی ہے کہ سیدھا علام خیل کا رخ کرتے ہیں ۔وہاں اگر وہ نہ بھی ہوا تو اس کے کسی کمانڈر کے سامنے جا کر قبیل خان کے لشکر میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کریں گے ،اس طرح اس کے قریب جانے کا موقع مل جائے گا ۔“
”محترم جناب سردار صاحب !....کیا وہ ہماری شناخت نہیں پوچھیں گے ؟“
”تو پوچھ لیں ۔“وہ بے پرواہی سے بولا ۔”ہمارے پاس شناختی کارڈ موجود ہیں دکھا دیں گے ۔“
”اور جب وہ اپنے کسی آدمی کو ہمارے گھر کا پتا بتا کر ہمارے بارے معلومات لینے کی کوشش کریں گے تو یہ جان کر انھیں ازحد خوشی ہو گی کہ سردار صاحب کا تعلق پاک آرمی سے ہے ۔اور اسی خوشی میں وہ خان صاحب کو عزت و احترام کے ساتھ لکڑی کے تابوت میں لٹا کر مرادن بھیج دیں گے جس پر خوب صورت لکھائی میں درج ہو گا ۔
ع عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے ۔“
وہ فوراََ اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوا بولا ۔”اوہ ....اس طرف تو میرا دماغ ہی نہیں گیا تھا ۔“
”دماغ ہوتا تو جاتا نا ....پٹھانوں کے پاس صرف دل ہوتا ہے اور تمھارے پاس تو وہ بھی نہیں ہے ۔کیونکہ وہ مس لی زونا اپنے ساتھ جاپان لے کے گئی ہوئی ہے ۔“
”ویسے لی زونا کا اسلامی نام کیا رکھناچاہیے ؟“اس کی ذہنی رو پھر لی زونا کی جانب مڑ گئی تھی۔
”ہزاروں لاکھوں نام ہیں کوئی بھی اچھا سا نام رکھ لینا مثلاََ ،اللہ وسائی ،جنت بی بی ،فتح بی بی ، بیگماں ،بخت سوائی ، کرماں بھلی وغیرہ وغیرہ ۔“
مجھے کڑے تیوروں سے دیکھتے ہوئے اس نے دانت پیسے ۔”لی زونا ہی ٹھیک ہے ۔“
”تو تمھاری پہلی بیوی کا نام کون سا اتنا اعلا ہے ۔بھلاچنارے بھی کوئی نام ہوتا ہے ۔اور اب بیٹاہو تواس کا نام کیکر خان رکھ لینااور بیٹی ہو توٹاہلی بیگم ۔“
وہ جلدی سے بولا۔”ہم قبیل خان کو ڈھونڈنے کا لائحہ عمل طے کر رہے تھے ۔“
میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے تائیدی انداز میں سرہلایا۔”بالکل ۔“
”اگر سبیل خان ،میر امطلب ہے الفا ٹو سے رابطہ کرلیں ۔“
”نہیں ،میجر صاحب نے بتایا تو تھا کہ وہ صرف رابطے کا ذریعہ ہیں ،اس کے علاوہ اس سے کوئی امید رکھنا بھی نہیں چاہیے ۔“
سردار نے ہار مانتے ہوئے کہا ۔”تو پھر تمھی کچھ پھوٹو۔“
”میرا خیال ہے کہ علام خیل جاتے ہیں وہاں کسی غیر متعلق شخص سے قبیل خان کے متعلق معلومات لینے کی کوشش کر یں گے ۔اور اس کے سامنے ہم خود کو قبیل خان کے لشکر میں شامل ہونے کا خواہش مند بتائیں گے ۔لیکن قبیل خان کے کسی کمانڈر یا خود اس کو ملنے کی کوشش نہیں کریں گے ۔اگر قبیل خان کے کسی آدمی سے ٹاکرا ہو گیا تو خود کو مجاہدین کا آدمی بتائیں گے اور کہہ دیں گے کہ پہلی بار افغان بارڈر عبور کرنے جا رہے ہیں ۔“
”ہونہہ!....لگتا ہے میری صحبت کا تم پر اثر پڑتا جا رہا ہے اور اب تم بھی کچھ بہتر سوچنے لگ گئے ہو ۔“
”تمھاری سوچ تو ........“الفاظ میرے گلے میں گھٹ گئے تھے ۔اس جگہ نالہ شمال کی جانب مڑ رہا تھا ۔موڑ کاٹ کر میری نظریں جونھی سیدھی ہوئیں مجھے سامنے ایک پتھر کے ساتھ پانچ آدمی بیٹھے نظر آئے ۔تین کے پاس کلاشن کوف موجود تھی البتہ دو آدمی خالی ہاتھ تھے ۔
جاری ہے
 

ہمیں دیکھ کر انھوں نے کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا ۔
”اسلام علیکم !“ان کے قریب پہنچنے پر نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے سلام کہنا پڑا ۔
”وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاة ۔“انھوں نے خلوص بھرے لہجے میں جواب دیا تھا ۔قریب سے ان کے چہرے دیکھتے ہوئے مجھے ایک خاص قسم کی چمک نظر آئی تھی ۔وہ دہشت گرد نہیں لگتے تھے ۔ میں نے دہشت گردوں کے چہروں پر ایک عجیب سی وحشت اور ویرانی دیکھی تھی ۔اس کے برعکس ان کے چہروں پر بلا کا سکون اور اطمینا ن پھیلا تھا ۔
”بیٹھو بھائی جان قہوہ پیو ۔“ان کے ہاتھوں میں اس وقت قہوے ہی کی پیالیاں تھیں ۔انھوں نے قہوے کی دعوت دیتے ہوئے دیر نہیں لگائی تھی ۔
”جزاک اللہ ،کہہ کر میں نے سردار کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
”بڑی پیاری رائفل رکھی ہوئی ہے ۔“ہمیں قہوہ پینے کی دعوت دینے والے نے ڈریگنوو کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا ۔
میں رائفل اس کی جانب بڑھاتے ہوئے جواب دیا ۔”جی بس شوق تھا ڈریگنوورائفل لینے کا، کچھ رقم جمع ہوئی تو پورا کیے بنا رہا نہ گیا ۔“
”خالی شوق ہی ہے یا اس کے استعمال سے بھی واقف ہو ۔“وہ خوب صورت مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاتے ہوئے مستفر ہوا ۔
”شوق تو شوق ہوتا ہے امیر صاحب !....“میں بھی جواباََ بھرپور مسکراہٹ سے اس کی جانب اچھالی ۔”اور میرا خیال ہے جب بات شوق کی آ جائے تو سب سوال بے کار چلے جاتے ہیں۔“
”ہونہہ!....بات تو صحیح ہے ۔“ٹیلی سکوپ سائیٹ کے حفاظتی کو ر اتارکر اس نے کہنیوں کو اپنے گھٹنوں پر ٹیکا اور دور پہاڑی کی چوٹی پر شست سادھنے لگا ۔
”آپ غالباََ قبیل خان کے لشکر سے تعلق رکھتے ہیں ۔“ایک جوان نے قہوے کی بھری پیالیاں ہماری جانب بڑھاتے ہوئے سوال کیا ۔
میں نے گول مول انداز میں کہا ۔”بس یہی سمجھ لو ۔“
”جھوٹ نہ بولو جوان !“ادھیڑ عمر کے آدمی نے جسے میں نے امیر صاحب کہا تھا ۔ڈریگنوو رائفل میری جانب بڑھاتے ہوئے ناصحانہ لہجے میں کہا ۔
”آپ کو کیسے معلوم کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں ۔“میں سوال کرنے سے باز نہیں آیا تھا ۔
اس نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے جواب دیا ۔”یہ میرا مشاہدہ ہے ۔“
”اگر ہم قبیل خان کے لشکر میں شامل ہونے کے ارادہ سے جا رہے ہوں تو کیا پھر بھی میرے بولے گئے الفاظ کو جھوٹ پر محمول کیا جائے گا ؟“
”قہوہ ٹھنڈا ہو رہا ہے ۔“اس نے میری بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تھا ۔
”کیا آپ بھی قبیل خان کے لشکر سے تعلق رکھتے ہیں ؟“خاموش بیٹھے سردار نے پوچھا ۔
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سرہلادیا۔
اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک اور جوان نے کہا ۔”ہم مجاہدین کے خدمت گار ہیں ۔“
مجاہدین کے بارے مجھے معلوم ہوا تھا کہ وہ بالکل بھی جھوٹ نہیں بولتے ۔اس کے بتانے سے پہلے ہی میں ان کے بارے یہ اندازہ لگا چکا تھا لیکن اس کے جواب سے تو تصدیق بھی ہو گئی تھی ۔
”آپ کے نام جان سکتا ہوں ۔“گفتگو کی ابتدا کرنے والے نے پوچھا ۔
”میں ذیشان حیدر ہوں اور یہ سردار خان ہے ۔“میں نے اصل نام بتانے میں کوئی قباحت نہیں سمجھی تھی ۔
”میرا نام عبدالحق ،یہ احمد ۔“اس نے ہمیں قہوہ دینے والے کی طرف اشارہ کیا۔”اور یہ قاسم۔“اس نے خود کو مجاہدین کا خادم کہنے والے کی طرف اشارہ کیا ۔” یہ سبحان اورعبدالمالک ہیں ۔“
”قہوے کے لیے شکریہ عبدالحق بھائی ۔“میں نے گویا جانے کی اجازت چاہی ۔
”ویسے میرا مشورہ مانو تو قبیل خان کے لشکر میں شامل ہونے کے بجائے واپس چلے جاﺅ تو بہتر ہوگا ۔“عبدالحق نصیحت کرنے سے باز نہیں آیا تھا ۔
”میں کھڑا ہونے کا ارادہ موّخر کرتے ہوئے بولا ۔”عبدالحق بھائی !....اگر ہم سے کوئی رستے میں تعارف پوچھے تو کیا ہم انھیں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم مجاہدین کے خادم ہیں ۔“
وہ گہری نگاہوں سے میرا جائزہ لیتے ہوئے کہنے لگا ۔”میں جھوٹ بولنے کی تائید کیسے کر سکتا ہوں ۔“
”میرا خیال ہے حالت جنگ میں دشمن کو غلط فہمی میں مبتلا کرنا جھوٹ کے زمرے میں نہیں آتا۔“
”ہمارے کمانڈر کا نام حبیب اللہ یوسف زئی ہے ۔کارروائی کا علاقہ جلال آبا د ہے ۔ذیلی گروپوں میں ایک احتشام الحق محسود،عبداللہ خان جھنگوی اور اسداللہ بابر گروپ شامل ہیں ۔“اس نے اپنا مفصل تعارف کروا کر گویا ہمیں اجازت دے تھی کہ ہم ان کا نام استعمال کر سکتے تھے ۔
میں نے پوچھا ۔”عبدالحق بھائی !....کیا دہشت گردوں سے چھینا ہوا اسلحہ جہاد میں استعمال ہو سکتا ہے ؟“
”بلاشبہ استعمال ہو سکتا ہے ۔“اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جوا ب دیا ۔
”اگر آپ زیڑہ کیل اور لگی نرائے پہاڑی کے دامن تک جانے کی زحمت کر سکیں تو وہاں چھے کلاشن کوفیں ہم نے چھپائی ہوئی ہیں ۔“
” سامنے نالے میں پتھر کی بڑی چٹان کے اوپر پڑا چھوٹا پتھر نظر آ رہا ہے ۔“اس نے دوسو گز دور ایک پتھر کی جانب اشارہ کیا ۔صاف نظر آہا تھا کسی نے نشانہ بازی کے لیے وہ پتھر وہاں رکھا ہے ۔
”یہ پتھر ہمی نے رکھا ہے اور اب قہوہ پینے کے بعد ہم اسے نشانہ بنانے والے تھے ۔“اس نے میری معلومات میں اضافہ کیا ۔
”ٹھیک ہے لیکن آپ گفتگو کو اس رخ کیوں موڑ لائے ہیں میری سمجھ میں یہ نہیں آ رہا ۔“میں نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”کیا آپ ایک ہی گولی سے اس پتھر کو نشانہ بنا سکتے ہیں ؟جھوٹ نہ بولنا ۔“اس نے گہری نظر سے میرا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا ۔
سردار نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا ۔”عبدالحق بھائی سچ تو یہ ہے کہ اگر یہ پتھر موجودہ فاصلے سے تین گنا فاصلے پر بھی پڑا ہو تو ذیشان بھائی اسے پہلی گولی میں نشانہ بنا لے گا ۔“
”چلو ایک گولی ضائع کر ہی دو ۔“عبدالمالک نے سردار کی بات کی حقیقت جاننے کی کوشش کی ۔
رائفل کاک کر کے میں نے دوسو رینج لگائی اور اس پتھر کا نشانہ سادھتے ہوئے فوراََ گولی چلا دی ۔میں نے دو تین سیکنڈ سے زیادہ شست نہیں لی تھی ۔اور نہ مجھے دوسو میٹر کے فاصلے پر اتنا وقت خرچ کرنے کی ضرورت تھی ۔پتھر کی چٹان پر رکھا وہ چھوٹا پتھر جانے اڑ کر کہاں غائب ہو گیا تھا ۔
”توگویاپرسوں قبیل خان کے آدمیوں سے آپ کی جھڑپ ہوئی تھی ۔“عبدالحق نے فوراََ پوچھا۔
میں مسکرایا۔”کیا اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے ۔“
”اور آپ خود کو ایس ایس کہہ رہے تھے ہے نا ؟“
”کیا کہہ سکتا ہوں میں نے اس کی تائید یا تردید کی کوشش نہیں کی تھی ۔”ویسے آپ کو کیسے معلوم ہوا ۔“
”مخابرہ(وہ آئی کام کو مخابرہ کہتے ہیں ) ہمارے پاس بھی موجود ہے ۔اور اتفاق سے اس وقت ہم لگرائے میں موجود تھے ۔فائرنگ کی شدید آواز سن کر میں نے ایک قریبی ٹیکری پر چڑھ کر مخابرہ آن کیا وہیں پر ساری گفتگو سنی ہے ۔مجھے روشن خان سے اس بزدلی کی توقع نہیں تھی ۔“
سردار نے کہا ۔”موت کو سامنے پا کر بڑے بڑے ہمت ہار جاتے ہیں ۔“
”ویسے تم نے اسے پھنسا کیسے لیا تھا ۔“احمد نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا ۔
جواباََ میں نے روشن خان کے پھنسنے کی جگہ کے بارے تھوڑی سی وضاحت کر دی ۔
”چند دن پہلے ان سے تمھاری زیڑہ کیل پربھی ایک جھڑپ ہوئی ہے ۔اس کے بارے مجھے لگرائے کے ایک دوست سے معلوم ہوا ہے ۔“
سردار نے جواب دیا ۔”ہاں ....پر انھوں نے ہمیں رات کے وقت گھیر لیا تھا ۔“
”آپ لوگوں نے وہ ہتھیار کس جگہ پر چھپائے ہیں ؟“عبدالحق اصل موضوع کی طرف پلٹا ۔
جواباََ سردار نے انھیں دونوں جگہوں کے بارے مفصل طور پر سمجھا دیا ۔
”ویسے اب آپ لوگ یہ کہنے میں حق بہ جانب ہو کہ آپ مجاہدین کے خدمت گار ہو ۔“احمد نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ہم دونوں کے ساتھ باقی سب بھی مسکرا پڑے تھے ۔
”ویسے میں اتنی زیادہ باتوں کے بعدانکشاف کے بعد پشیمانی محسوس کر رہا ہوں ۔“میں نے صاف گوئی سے کہا ۔
عبدالحق نے دھیمی مسکراہٹ سے جواب دیا ۔”جوان !....سمجھو تمھاری ہم سے کوئی بات چیت ہوئی ہی نہیں ہے ۔یہ باتیں یہیں دفن ہو گئی ہیں ۔ہم صرف اتنی ہی بات کسی دوسرے کو کریں گے جتنی کا ہمیں خود سے پتا تھا ۔“
میں نے فوراََ کہا ۔”ہمیں آپ کی زبان پر مکمل اعتبار ہے ۔“
اس نے تائیدی انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”ہاں مسلمان کی ایک ہی زبان ہوتی ہے ۔“
”ویسے عبدالحق بھائی !....اگر برا نہ مانوتو ایک سوال پوچھوں ؟“
”میرے دوست !....کسی بات کا برا ماننا ایک غیر ارادی فعل ہے اور ایسا فعل جس پر میرا اختیار نہ ہو اس کا وعدہ میں کیسے کر سکتا ہوں ؟البتہ خفا نہ ہونے کا وعدہ کر سکتا ہوں ۔“
میں نے جلدی سے کہا ۔”ہاں بس میرا بھی یہی مطلب تھا کہ آپ خفا نہ ہونا ۔“
”پوچھو ۔“اس نے اجازت دیتے ہوئے کہا ۔
”جب آپ قبیل خان کو برا سمجھتے ہو تو اس کے ساتھ معاہدہ کیوں کیا ہوا ہے ؟....مجاہدین کو اس کے خلاف بھی تو جہاد کرناچاہیے ۔“
وہ مسکرایا۔”ہونہہ!....اچھا سوال ہے ۔“
”تو جواب بھی دیں نا ۔“سردار مصر ہوا ۔
”دوستو ،سیدھی بات یہ ہے کہ ہماری تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے کہ ہم امریکہ اس کے اتحادیوں اور افغان فوج کے ساتھ ساتھ وزیرستان کے ان دہشت گردسرداروں سے بھی نبرد آزما ہو سکیں ۔ان کے ساتھ لڑائی کرنے کی وجہ سے ہمیں سرحد عبور کرنے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس وجہ سے ان کے ساتھ معاہدہ کرنا ہماری مجبوری ہے ۔“
میں نے تلخی سے کہا ۔”تو کیا مجبوری میں دین اور وطن کے دشمنوں سے معاہدہ کر لینا جائز ہے؟“
”نبی پاک ﷺ نے مدینہ جا کر وہاں موجود یہود قبائل سے معاہدہ کیا تھا تاکہ مسلمان یک سو ہو کر مشرکین مکہ کا مقابلہ کر سکیں ۔گو اس میں اور بھی کئی حکمتیں تھیں کہ وہ ایک نبی ﷺ کا فیصلہ تھا ۔بہ ہرحال آپ کو اپنے سوال کا جواب مل گیا ہو گا ۔“
عبدالحق کی دلیل ایسی نہیں تھی کہ اس کا جواب دیاجا سکتا ۔میں نے خاموشی سے سر جھکا لیا۔
عبدالحق نے مجھے خاموش پا کر کہا ۔”علام خیل میں آپ کمانڈر عبدالرشید بیٹنی کے گھر قیام کر سکتے ہو ،انھیں صرف میرا حوالہ دینا کافی ہو گا ۔ہم فی الحال زیڑہ کیل جا رہے ہیں، کل ہی لوٹیں گے ۔“
اس کی بات پر ہم دونوں کے چہرے کھل اٹھے تھے ۔اس کے باوجود میں نے اندیشہ ظاہر کیا ۔ ”کہیں ہماری وجہ سے آپ لوگوں پر کوئی آنچ نہ آجائے ۔“
عبدالحق خلوص سے بولا۔”ہمارا تعلق بھی پاکستان سے ہے بھائی!....باقی اپنے طریقہ کار میں اختلاف سہی مقصد تو اپنا ایک ہی ہے نا ۔“
”ہمیں واقعی ایک ٹھکانے کی ضرورت تھی جہاں سر چھپا کر ہم قبیل خان کے خلاف کام کر سکتے۔“سردار نے صاف گوئی سے اعتراف کیا ۔
”ٹھکانوں کی فکر نہ کرو ،البتہ اس کے خلاف ہم آپ کی جسمانی مدد نہیں کر سکیں گے ۔معاہدے کی رو سے ہم اس بات کے پابند ہیں کہ اس کے کسی آدمی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے ۔اور آپ دونوں کا ہم سے تعلق فقط مہمان کا ہے ۔البتہ انھیں اس بارے معلوم ہو گیا کہ ان کے دشمنوں نے کس جگہ پناہ لے رکھی ہے تو پھر آپ کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔ہمارے ٹھکانے پر وہ بے شک حملہ نہیں کریں گے لیکن باہر نکلنے پر تو وہ آپ کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کرسکتے ہیں ۔“‘
”ہمیں اس کے علاوہ کوئی مدد بھی نہیں چاہیے عبدالحق بھائی !“سردار کے لہجے میں ممنونیت کا عنصر نمایاں تھا ۔
”میرا خیال ہے اب رخصت لی جائے ۔“قاسم نے مشورہ دیا ۔اور تمام اپنا اپنا سامان سنبھالتے ہوئے کھڑے ہوکر ایک دوسرے سے الوداعی معانقہ کرنے لگے ۔
سب سے آخر میں عبدالحق سے ملا۔ اس نے میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا ۔”مجھے آپ کا نشانہ پسند آیا ۔“
”شکریہ عبدالحق بھائی !“
”اللہ پاک آپ لوگوں کو کامیابی سے ہمکنار کرے ۔“دعا دیتے ہوئے وہ رخصت ہو گئے ۔
”آپ لوگوں کو بھی فتح مبین نصیب ہو۔“جواباََ کہہ کر ہم بھی اپنے رستے ہو لیے ۔
”ویسے یہ کوئی غائبانہ سی مدد نہیں مل گئی ہمیں ۔“ان سے تھوڑا دور آتے ہی سردار نے گفتگو کی ابتدا کی ۔
”اللہ پاک ہر قدم پر اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے خان صاحب!....چاہے وہ بندہ تمھاری طرح لفنگا ہو جو کافر لڑکی سے محبت کرتا ہو یا میری طرح مظلوم جسے مسلمان لڑکی بھی میسر نہ ہو ۔“
”یار راجے !....خدا کا خوف کرو اب یہاں لی زونا کا ذکر کہاں سے نکل آیا ۔“سردار کا لہجہ رو دینے والا تھا ۔
”یونھی تمھارے کرتوت دیکھ کر میں بولے بنا نہیں رہ پاتا ۔“میں نے بے پرواہی سے کندھے اچکائے ۔
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔”اپنے کرتوت بھول گئے ہو جب ایک شادی شدہ لڑکی کے لیے انڈیا کی مارکیٹوں میں خریدار ی کر تے پھر رہے تھے ۔“
”تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں اسے غیر شادی سمجھا تھا ۔“
وہ کہاں پیچھے رہنے والا تھافوراََ بولا۔”اور تم بھی اچھی طرح جانتے ہو کہ وہ مسلمان ہونے کو تیار ہے ۔“
”مسلمان ہوئی تو نہیں نا ۔“
”وہ بھی غیر شادی شدہ تو نہیں تھی نا ۔“اسی طرح کی نوک جھوک میں ہم اس نالے سے نکل کر ایک آبادی میں داخل ہوئے ۔نالے کا پانی جنوب کی طرف سے آنے والے نالے کے پانی میں شامل ہو کر شمال کی جانب بہنے لگا تھا ۔نالے کے پار جانے کے لیے ہمیں لازماََ جوتے اتارنے پڑتے اگر درمیان میں بڑے بڑے پتھر رکھ کر رستا نہ بنا ہوتا ۔
آبادی سے باہر ایک بوڑھے آدمی سے علام خیل کا رستا معلوم کرنے پر اس نے دوتین سو گز دور ایک سڑک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔”اس سڑک پر سیدھا چلتے جاﺅ ۔“
اس کا شکریہ ادا کر کے ہم اس چھوٹی سی آبادی میں داخل ہوئے بغیر سڑک کی جانب بڑھ گئے۔ہمیں سڑک پر روانہ ہوئے آدھا گھنٹا گزرا ہو گا کہ ایک ڈبل کیبن دھول اڑاتی ہمارے قریب سے گزر گئی ۔اس کی باڈی میں بھی چند ہتھیار بردار موجود تھے ۔نہ جانے وہ مجاہدین تھے یا قبیل خان جسے کسی دہشت گرد کے لشکری ۔اسی وجہ سے ہم نے ان سے لفٹ بھی نہیں مانگی تھی ۔اس کے بعد بھی دو گاڑیاں ہمارے قریب سے گزریں مگر ہم گپ شپ کرتے پیدل ہی چلتے رہے ۔ڈی بلاک سے ہم مسلسل اترائی میں چلتے ہوئے آئے تھے ۔لیکن نالے کے اختتام پر ہم جونھی اس شوال وادی میں داخل ہوئے تھے ہمیں اونچائی چڑھنا پڑ گیا تھا ۔گو یہ چڑھائی کہیں ہموار زمین کی صورت اور کہیں چھوٹی موٹی ٹیکریوں کی بلندی کی صورت لیے ہوئے تھی ۔بیچ میں مغربی پہاڑوں سے آئے ہوئے نالے بھی کہیں کہیں سے گزر رہے تھے ۔کچھ بالکل خشک تھے ،کچھ میں پانی کی ہلکی مقدار بہہ رہی تھی اور ایک دو نالہ ایسا بھی آیا جس میں پانی کی مقدار نسبتاََ زیادہ تھی ۔
ہم کہیں سہ پہر ڈھلے ہی علام خیل پہنچ پائے تھے ۔وہاں کی آبادی کم از کم تین چار سو گھرانوں پر مشتمل ہو گی ۔کمانڈر عبدالرشید بیٹنی کا گھر ڈھونڈنے میں ہمیں کوئی دشواری پیش نہیں آئی تھی ۔اس کا گھر کافی بڑاتھا ۔گھر کے ساتھ چھوٹی چاردیواری والا وسیع مدرسہ بنا ہوا تھا ۔گھر کے دروازے پر دستک دینے پر ایک اٹھارہ انیس سال کی عمر کے لڑکے نے دروازہ کھولا۔
اس کی استفہامیہ نظروں کو دیکھتے ہوئے سردار نے پوچھا ۔”کمانڈر عبدالرشید بیٹنی سے ملاقات ہو جائے گی ۔“
”آجائیں ۔“اس نے ایک طرف ہو کر ہمیں اندر آنے کا رستا دیا ۔
”پردہ ....“سردار نے عورتوں کی موجودی کے خیال سے کہنے لگا تھا ۔مگر اس کی بات شروع ہوتے ہی اس نوجوان نے جلدی سے کہا ۔
”یہاں خواتین نہیں ہوتیں ۔“اور ہم سر ہلاتے ہوئے اس کی معیت میں چل پڑے ۔وہ گھر بھی مقامی طرزِ تعمیر کا نمونہ تھا ۔اونچی اونچی اور موٹی مٹی کی بالکل ہموار اور سیدھی دیواریں ۔شمال مشرقی اور جنوب مغربی کونے میں بنے ہوئے دو مورچے جن میں اس وقت بھی ایک ایک ہتھیار بردارآدمی موجود تھا ۔اور چاردیواری کے اندر نیچی چھت کے بنے ہوئے بے شمار کمرے۔جن میں زیادہ تر پٹکتہ بلاکوں کے بنے ہوئے تھے ۔داخلی دروازے سے ساتھ قطار میں بنے ہوئے بیت الخلا اور غسل خانے واضح کر رہے تھے کہ وہ بس نام کا گھر تھا ۔ورنہ اس کی حیثیت ایک ٹریننگ کیمپ جیسی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد ہم عبدالرشید بیٹنی کے سامنے موجود تھے ۔اس کی عمر چالیس اور پچاس کے درمیان نظر آئی ۔
کمرے میں پلاسٹک کی بچھی چٹائی پر دس بارہ افراد موجود تھے ۔ہمارے سلام کا جواب دے کر اس نے استفہامیہ نظروں سے ہماری جانب دیکھتے ہوئے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
”ہم عبدالحق صاحب کے مہمان ہیں ۔“گفتگو کی ابتداءسردار نے کی تھی ۔
”انوار !....مہمانوں کے لیے پانی لے آﺅ۔“اس نے ہمیں ساتھ لانے والے نوجوان کو کہا اور ہماری طرف متوجہ ہوتے ہوئے پوچھا ۔”کھانا ابھی کھانا پسند کریں گے یا شام کی نماز کے بعد ؟“
سورج غروب ہونے کو تھا ۔میں نے جواب دیا ۔”کھانا نماز کے بعد ہی کھائیں گے ۔“
اسی وقت انوار نامی نوجوان پانی کا جگ اور گلاس لیے آ پہنچا ۔ہمارے پانی پیتے ہی عبدالرشید بیٹنی نے ایک اور نوجوان کو کہا ۔
”ابرار !....انھیں مہمان خانے کے چھوٹے کمرے میں لے جاﺅ تاکہ یہ تازہ دم ہو کر نماز کی تیاری کر سکیں ۔“
انوار ہی کی عمر کے ایک لڑکے نے آگے بڑھ کر ہماری سفری تھیلے اٹھائے اور ہمارے آگے آگے چل پڑا ۔اس کے پیچھے چلتے ہوئے ہم ایک چھوٹے سے کمرے میں پہنچے جہاں دو چارپائیاں متوازی رکھی تھیں ۔ان کے درمیان سرہانے کی طرف ایک میز پڑی تھی جسے دونوں چارپائیوں پر لیٹنے والے یکساں استعمال کر سکتے تھے ۔میزپر پانی کا جگ اور گلاس رکھا ہوا تھا ۔چارپائیوں کی پائینتی کی طرف مٹی کا ایک تھڑا جیسا بنا ہوا تھا جس پر کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی چٹائی رکھی تھی ۔مٹی کا وہ تھڑا سامان رکھنے کے لیے تھا۔ہمارے تھیلے اس تھڑے پر رکھ کر ابرار نے کہا ۔
”چلیں آپ کو غسل خانہ دکھا دوں ۔“
اپنے ہتھیار بھی اسی تھڑے پر رکھ کر ہم دوبارہ اس کی معیت میں چل پڑے ۔
٭٭٭
شام کا کھانا تمام لوگوں نے دستر خوان بچھا کر ایک ہی جگہ بیٹھ کر کھایا تھا ۔کھانے کے بعد ہم نے کمانڈرعبدالرشید بیٹنی کے کمرے میں بیٹھ کر گرما گرم قہوہ پیا اور عشاءکی نماز تک وہیں بیٹھے ان کی گفتگو سنتے رہے ۔کمانڈر نے ہمیں کریدنے کی بالکل بھی کوشش نہیں کی تھی ۔عشاءکی نماز کے بعد کمانڈر نے ہمیں خود ہی آرام کا مشورہ دے کر پوچھنے کی زحمت سے بچا لیا تھا ۔ہم سارے دن کے تھکے ہوئے تھے اس لیے آپس میں گپ شپ کیے بغیر ہی سو گئے ۔وہاں نماز چھوڑںے کا کوئی تصور ہی نہیں تھا اس لیے منہ اندھیرے ہم بھی اٹھ کر غسل خانوں کی طرف بڑھ گئے تھے ۔طلوع آفتاب کے بعد ایک بار پھر دستر خوان بچھا کر ناشتا کیا گیا جس میں رات کی بچی ہوئی دال کا سالن باسی و تازہ روٹیاں شامل تھیں ۔ہمارے علاوہ سب قہوے ہی سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔البتہ ہماری مرضی معلوم کر کے انھوں نے ہمارے لیے دودھ والی چاے بنا دی تھی ۔وہ دن بھی ہم نے وہیں آرام کرتے گزارا ۔عبدالحق کی آمد سے پہلے میں میں کوئی کام نہیں کرنا چاہتا تھا ۔عبدالحق اور اس کے ساتھی کہیں شام کے وقت ہی پہنچ پائے تھے ۔ہم اس وقت شام کی نماز کے لیے روانہ ہو رہے تھے جب وہ گھر میں داخل ہوئے ۔عبدالحق کے علاوہ ہر آدمی نے دو کلاشن کوفیں اٹھائی ہوئی تھیں ۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی تھی کہ انھیں ہماری چھپائی ہوئی کلاشن کوفیں مل گئی تھیں ۔وہ پانچوں ہمیں بڑی محبت سے ملے تھے ۔گفتگو کا وقت نہیں تھا اس لیے ہم مسجد کی طرف بڑھ گئے۔رات کو عبدالحق ہمارے کمرے ہی میں گپ شپ کے لیے آ گیا تھا ۔اس کی گفتگو کا لب لباب یہی تھا کہ ہم وہاں جب تک چاہے رہ سکتے تھے اور جو روکھی سوکھی وہ کھا رہے تھے وہ ہمارے لیے بھی حاضر تھی ۔ اس کے ساتھ وہ ہمیں قبیل خان کے آدمیوں سے محتاط رہنے کی بابت بھی زور دیتا رہا ۔ہماری اصلیت فقط انھی پانچ آدمیوں کو معلوم تھی جو ہمیں رستے میں ملے تھے ۔البتہ عبدالرشید بیٹنی کو ہماری اصلیت سے آگاہ کرنے کی اجازت عبدالحق نے خود مانگی اور بغیر کسی رد و قدح کے میں نے اثبات میں سر ہلادیا تھا ۔گزشتا رات اور پورا دن ہم نے آرام ہی میں گزارا تھا اس لیے عبدالحق کے جانے کے بعد بھی ہم کافی دیر تک گپ شپ کرتے رہے ۔دھیمی آواز میں ہم قبیل خان تک پہنچنے کا منصوبہ بھی تشکیل دیتے رہے ۔
٭٭٭
اگلی صبح ناشتے کے بعد ہم فقط پستول اپنے ہمراہ رکھتے ہوئے وہاں سے نکل آئے ۔کلاشن کوف اور ڈریگنوو کو ساتھ لیے پھرنے کی ضرورت فی الحال نہیں تھی ۔سب سے پہلے ہم نے قبیل خان کا قلعہ نما گھر دیکھا ۔اور پھر علام خیل کا چپہ چپہ دیکھ ڈالا ۔دوپہر کو ہم گاﺅں کے مضافات میں نکل گئے ۔پہاڑی کے دامن میں لکڑیاں کاٹتے ایک بوڑھے کے ساتھ بیٹھ کر ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا ۔باتوں باتوں میں اس نے ہمیں کافی مفید معلومات پہنچائی تھی ۔قبیل خان کا خاص آدمی روشن خان وہیں موجود تھا ۔اس کے علاج معالجے کے لیے مکین سے ایک ڈاکٹر کو بلایا گیا تھا ۔فائر لگنے سے اس کے پاﺅں کا پورا پنجہ ہی غائب ہو گیا تھا ۔میری نشانہ بازی کے افسانے بھی نہ جانے کیسے اس بوڑھے تک پہنچ گئے تھے ۔معلوم یہی ہوا تھا کہ وہاں سے بچ کر نکل آنے والوں نے میری نشانہ بازی کو کچھ زیادہ ہی بڑحا چڑھا کر بیان کر دیا تھا ۔اور یہ تو انسان کی فطرت ہے کہ جس چیز سے متاثر ہو جائے وہ ہر ملنے والے کو اس سے متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کوشش میں مبالغہ آرائی سے بھی باز نہیں آتا ۔اپنی نشانہ بازی کی صلاحیت کا خود مجھے بھی ادراک تھا لیکن جو کارنامے مجھ سے اس بوڑھے نے منسوب کیے تھے اس طرح ہونے کا میں بس خواب ہی دیکھ سکتا تھا ۔
بوڑھے بابانے لکڑیاں تو کاٹی ہوئی تھیں البتہ لکڑیوں کو باندھنے اور گدھے پر لادنے میں ہم نے اس کی پوری پوی مدد کی تھی ۔اس کے جاتے ہی سردار نے قہقہہ لگا کر کہا۔
”لو راجاصاحب!....تمھاری شہرت تم سے پہلے ہی قبیل خان کیا اس کے پورے گاﺅں تک پہنچ گئی ہے ۔ویسے مجھے یہ بتاﺅ تمھاری گولی گھوم کر پتھر کے عقب میں چھپے آدمی کو کسیے لگتی ہے اس فن کا مظاہرہ کبھی تم نے میرے سامنے نہیں کیا ۔“
میں نے جوابی مسکراہٹ اچھالتے ہوئے کہا ۔”سنتے رہو خان صاحب !....یہی دنیا کی ریت ہے ۔اب پچاس کے قریب آ دمی دو آدمیوں کو پکڑ کر نہ لا سکے تو آخر انھیں کوئی بہانہ تو گھڑنا تھا ۔“
”ویسے ایک بات کا تو میں شاہد ہوں ،سوائے روشن خان کے تم نے ہر آدمی کے سر ہی میں گولی ماری ہے ،اورنگ زیب صاحب بھی یہی بتا رہے تھے کہ شمال کی جانب موجود تمام لاشوں کے چہرے سر میں گولی لگنے کی وجہ سے ناقابلِ شناخت ہوئے پڑے تھے ۔یوں بھی بیرٹ ایم 107کی ظالم گولی سر کو تربوز کی طرح ٹکڑوں میں تبدیل کر دیتی ہے ۔“
”اب تو سر پر نشانہ سادھنے کی عادت سی ہو گئی ہے ۔نہ جانے کیوں مجھے یہ لگتا ہے کہ میری گولی خطا نہیں جائے گی ۔“
”اچھا زیڑ گل بابا نے کافی مفید معلومات بتائی ہیں اب آگے کا کیا سوچا ہے ۔“
”میرا تو خیال ہے خائستہ گل پر ہاتھ ڈالتے ہیں ۔“خائستہ گل ،قبیل خان کی حویلی کا منتظم تھا اور اس کی غیر موجودی میں حویلی کا کرتا دھرتا وہی تھا ۔رشتے میں وہ قبیل خان کا سالا لگتا تھا ۔قبیل خان نے دو شادیاں کی تھیں اور خائستہ گل اس کی چھوٹی بیوی کا بڑا بھائی تھا ۔یہ ساری معلومات ہمیں لکڑیوں والے زیڑ گل خان سے ملی تھیں۔اس کے کہنے کے مطابق خائستہ گل سوموار اور جمعرات کو سامان وغیرہ کی خریداری کے لیے انگور اڈے جاتا ہے اوراس وقت اس کے ہمراہ صرف دو محافظ ہوتے ہیں۔
”کیا خائستہ گل ،قبیل خان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے بارے جانتا ہوگا ؟“سردار پوچھنے لگا ۔
میں نے حیرانی بھرے لہجے میں کہا ۔”اس کی دہشت گردی جب عام لوگوں سے نہیں چھپی تو خائستہ گل کو کیوں نہیں پتا ہوگا ۔“
”نہیں میرا مطلب اس کے خفیہ منصوبوں اورچھپنے کی جگہ وغیرہ سے تھا ۔“سردار نے جلدی سے وضاحت کی ۔
”بہ ظاہر تو یہی لگتا ہے کہ اسے پتا ہو گا ،کیونکہ اتنے قریبی آدمی کو تو راز دار ہونا چاہیے ۔ یوں بھی بابا زیڑ گل یہی بتا رہا تھا کہ خائستہ گل ،قبیل خان کا بہت چہتا ہے ۔“
”آج بدھ ہے ۔“بے صبرے سردار نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔
”چلو پھر رستے کا جائزہ لے لیتے ہیں ،اگر کوئی مناسب جگہ مل گئی تو کل ہی چھاپ لیتے ہیں۔“
”بالکل ٹھیک ہے ۔“سردار نے جوش بھرے لہجے میں کہا ۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔”تمھیں شاید جاپان جانے کی کچھ زیادہ ہی جلدی ہے ۔“
”اس میں شبہ ہی کیاہے ۔“سردار خان نے صاف گوئی سے اعتراف کر کے مجھے حیران کر دیا تھا ۔
”اب کی ہے نا مردوں والی بات ۔“میں نے جانے کی سمت قدم بڑھا دیے ۔
دو اڑھائی گھنٹے سڑک ناپنے کے بعد ہمیں ایسی جگہ مل گئی تھی جہاں ہم خائستہ گل کی گاڑی پر گھات لگا سکتے تھے ۔
جب ہم اپنے میزبان کے گھر واپس پہنچے تو شام کی آذان کیا نماز بھی ہو چکی تھی ۔عشاءکی نماز کے بعد ہم کمانڈرعبدالحق کے کمرے میں چلے گئے ۔وہ زمین پر بچھی پلاسٹک کی چٹائی کے اوپر اس نے اپنا بستر لگا یا ہوا تھا ۔بلکہ مہمانوں کے دو کمروں کے علاوہ ہم نے وہاں چارپائی نہیں دیکھی تھی ۔تمام زمین ہی پر بستر لگا کر سوتے تھے ۔
”آجائیں بھائی !“ اجازت مانگنے پر اس نے فوراََ ہمیں اندر بلا لیا ۔اس کے ہمرہ ایک اور آدمی بھی موجود تھا جسے ہم نہیں جانتے تھے ۔
”اسلام علیکم !....اندر داخل ہوتے ہی ہم سلام کہہ کر نیچے چٹائی پر بیٹھ گئے ۔
”ٹھیک ہے طارق !....آپ فی الحال جائیں بعد میں بات کرتے ہیں میں فی الحال مہمانوں سے تھوڑٰ گپ شپ کرنا چاہتا ہوں ۔“
اور طارق نامی آدمی سر ہلاتا ہوا رخصت ہو گیا ۔
وہ میری طرف متوجہ ہوا۔”سنائیں ذیشان صاحب !....آپ کا کام کہاں تک پہنچا ؟“
میں نے جواباََ کہا ۔”ابھی تو شروع بھی نہیں کیا ۔“
”میرے لائق کوئی ہو تو حکم کرو ؟“اس نے خلوص بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”آپ سے تھوڑی معلومات لینا تھی ۔“میں نے اپنے مطمح نظر کی طرف قدم بڑھائے۔
اس نے کہا ۔”بے جھجک ہو کر پوچھیں ۔“
”قبیل خان کے سالے ،خائستہ گل کو جانتے ہیں آپ َ۔“
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”ہاں دیکھا ہوا ہے ،ایک بار ملاقات بھی ہو چکی ہے ۔کافی چلتا پرزہ ہے ۔“
”دکھنے میں کیسا ہے ؟“میں نے اگلا سوال پوچھا ۔
”چھوٹی داڑھی ،باریک مونچھیں ،لمبے گھنگریالے بال ،گندمی رنگت،درمیانی قامت ،نیلی آنکھیں ،تنگ پیشانی ،سڈول جسم ،اونچی ناک ....“
”کافی ہے ۔“میں نے ہنستے ہوئے اسے روکا ۔”میں نے رشتا نہیں کرانا بس اتنا ہو کہ دو تین آد میوں میں اس کی پہچان کر سکوں ۔“
عبدالحق نے پوچھا ۔”ویسے اس کے بارے معلومات کی ضرورت کیوں پڑ گئی ؟“
میں نے جواب دیا ۔”سنا ہے اسے قبیل خان کے بارے مکمل ہوتی ہیں ۔“
”کچھ کہہ نہیں سکتا ۔اصل میں ہمیں قبیل خان کے بارے جاننے کی کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی ۔وہ کیا کہتے ہیں کہ جس گاﺅں نہ جانا ہو اس کا رستا پوچھنے سے کیا حاصل ۔“
”صحیح کہا ۔“خاموش بیٹھے سردار نے پر زور انداز میں اس کی تائید کی تھی ۔
ہم گھنٹا بھر مزید کمانڈر عبدالحق سے گپ کرنے کے بعد اس سے اجازت لے کر اپنے کمرے میں آ گئے ۔
صبح ناشتے کرتے ہی ہم ہتھیاروں سمیت گھات لگانے کی جگہ کی طرف بڑھ گئے ۔ہم عبدالرشید بیٹنی کے گھر سے ہم پہلے تو قبیل خان کی حویلی کا رخ کیا کیونکہ وہیں حویلی کے ساتھ بنے ہوئے ایک کھلے احاطے میں اس کی کالے رنگ کی ڈبل کیبن کھڑی ہوتی تھی ۔ہم پہلے بھی اس گاڑی کو دیکھ چکے تھے لیکن آج مزید ایک نظر ڈال کر پہچان یقینی بنانا چاہتے تھے ۔خائستہ گل کے بارے ہمیں یہی معلوم ہوا تھا کہ وہ دس گیارہ بجے کے بعد ہی کہیں انگور اڈے کی طرف روانہ ہوتا تھا ۔ ہم نے جو جگہ منتخب کی تھی ،علام خیل گاﺅں سے وہاں تک پیدل تقریباََ دو گھنٹے لگ جاتے تھے ۔ایک نظر کالی ڈبل کیبن کا جائزہ لے کر ہم گاﺅں سے باہر نکل گئے ۔جاتے ہوئے ہم نے مغرب کی طرف موجود پہاڑی کا رخ کیا اور پھر پہاڑی کے دامن سے مطلوبہ مقام تک اس طرح گئے کہ کسی کو ہمارے اس جانب جانے کے بارے پتا نہ چلے ۔ اس مقصد کے لیے ہم سڑک سے ہٹ کر چلتے رہے ۔اسی وجہ سے ہمیں دو گھنٹوں سے زیادہ وقت لگ گیا تھا ۔وہاں پہنچتے ہوئے میں گھڑی پر نگاہ دوڑائی دس ہونے کو تھے ۔
اگر خائستہ گل دس بجے بھی گھر سے نکلتا تب بھی اسے وہاں تک آدھا گھنٹا تو لگ جانا تھا ۔ جبکہ ہمیں تیاری کے لیے دس پندرہ منٹ سے زیادہ وقت درکار نہیں تھا ۔ہم نے گھا ت کے لیے جو جگہ منتخب می تھی وہاں ایک خطرناک موڑ موجود تھا ۔ اس لیے گاڑی کی رفتار بغیر کسی شک کے وہاں بالکل آہستہ ہو جانا تھی ۔اپنے لیے میں نے روڈ کی دائیں جانب موجود ایک ٹیکری پسند کی تھی جہاں سے اس موڑ کا فاصلہ سو گز سے زیادہ نہیں بنتا تھا ۔سردار بائیں طرف کی ڈھلان پر موجود تھا ۔اس کا بھی موڑ سے فاصلہ تقریباََ میرے جتنا ہی بنتا تھا ۔میرا کام گاڑی کے ٹائر کو نشانہ بنانا تھا ۔اس کے بعد وہ تینوں ہمارے نشانے پر ہوتے ۔ہم نے روڈ کی دونوں جانب مورچہ سنبھالا ہوا تھا اس لیے ان کے بھاگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔رابطے کے لیے ہمارے پاس آئی کام موجود تھا ۔باقی خائستہ گل کے بارے یہی معلوم ہوا تھا کہ گاڑی وہ خود ہی ڈرائیو کیا کرتا ہے اور دو محافظ گاڑی کی باڈی میں بیٹھے ہوتے ہیں ،اس لیے خائستہ گل کو پہچاننا ہمارے لیے مشکل نہیں تھا ۔یوں بھی ہم عبدالحق سے ہم مفصّل طور پر اس کا حلیہ معلوم کر چکے تھے ۔
خائستہ گل کی کالی ڈبل کیبن قریباََگیارہ بجے نمودار ہوئی تھی ۔لیکن اس کے ہمراہ دو اور گاڑیاں دیکھ کر ہمیں اپنا منصوبہ چوپٹ ہوتا نظر آیا ۔تینوں گاڑیاں بڑے آرام سے وہاں سے گزر گئیں ۔خائستہ گل کی ڈبل کیبن سب سے آگے تھی اور اس میں زیڑ گل کے کہنے کے مطابق اس کے علاوہ دو ہی آدمی تھے جو ڈل کیبن کی باڈی میں بیٹھے تھے ۔اس کے پیچھے بھی دو ڈبل کیبن ہی تھیں اور دونوں گاڑیوں میں کم از کم دس دس افراد ضرور موجود تھے ۔ان گاڑیوں کے گزرتے ہی سردار اپنی جگہ چھوڑ کر میری طرف چل پڑا ۔
”میرا خیال ہے واپس چلتے ہیں ۔“میرے قریب بیٹھ کر اس نے بھی میری طرح چٹان نما پتھر سے ٹیک لگا لی تھی ۔
”واپس کس لیے ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔”تھوڑا انتظار کرو بھیا !....شاید واپسی پر وہ اپنے روزمرہ کے مطابق فقط دو محافظوں کے ساتھ ہی لوٹے ۔“
”جب وہ یہاں سے گئے تین گاڑیوں میں ہیں تو اکیلا کیسے لوٹے گا ؟“
میں نے کہا ۔”ضروری تو نہیں کہ باقی دو گاڑیاں واپس بھی لوٹیں ۔ہو سکتا انھوں نے بھی انگور اڈے جانا ہو اور یہاں سے جاتے ہوئے بس اتفاقی طور پر اکٹھے ہو گئے ہوں ۔“
”چلو دیکھ لیتے ہیں ۔“تھوڑا آگے کو کھسک کر وہ لمبا لیٹ گیا ۔سڑک کی جانب سے ہم آڑ میں تھے ۔اپنے ساتھ ہم سفری تھیلے نہیں لا سکے تھے ورنہ وقت گزاری کے لیے چاے ضرور بناتے ۔رات کی بھرپور نیند کے بعد اس وقت سونے کی حاجت بھی معلوم نہیں ہو رہی تھی ورنہ دو تین گھنٹے سو ہی جاتے ۔ ہم بس سر کے نیچے پتھر رکھ کر لیٹ گئے ۔سردار کے پاس لی زونا کا خوش گوار تذکرہ موجود تھا وہ امریکہ میں لی زونا کی معیت میں بیتے خوب صورت لمحوں کو دہراتا رہا ۔امریکہ میں میں بھی کسی کی نظر کا مرکز رہا تھا مگر اس کی محبت فقط اپنے مقصد کے حصول کی خاطر تھی ۔کیپٹن جینیفر ہنڈسلے جو ہزاروں نہیں لاکھوں میں ایک تھی ۔لی زونا کا معصومانہ چہرہ بھی اس کے سامنے ماند پڑ جاتا تھا ۔میں اس کے ساتھ گزارے لمحوں کو یاد کرنے لگا ۔سردار کی باتیں بس میرے کانوں تک ہی رسائی پا رہی تھیں میرے دماغ میں جینیفر کے خیالات گھوم رہے تھے ۔اور عجیب بات یہ ہے کہ جب کبھی میں اس کے بارے سوچتا میں کسی منطقی نتیجے تک نہ پہنچ پاتا ۔وہ پہلے ہی دن میری جانب متوجہ ہو گئی تھی ۔اور پھر میری ایک بات پر خفا ہو کر وہ مجھ سے چند دن کھنچی کھنچی رہی تھی لیکن اس دوران بھی اس کا رویہ کسی روٹھی ہوئی محبوبہ کا سا رہا تھا ۔مجھے جلانے کے لیے ہندو سنائپرز کے ساتھ گھومنا ۔میری توجہ حاصل کرنے کے لیے اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنا ۔اور پھر صلح کرنے کے لیے بھی اس نے خود ہی میری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا ۔لیکن اس کا دوبارہ میری طرف متوجہ ہونا کسی کی ہدایت کے مرہون منت تھا ۔کیونکہ اس کے بعد وہ مجھے رات کے کھانے پر لے جا کر ایک غیر قانونی کام پرمجبور کرنے لگی ۔اور اس کی آخری رات کی اداکاری تو بہت ہی لاجواب تھی اگر لی زونا نے مجھے اس کی کسی سے کی ہوئی باتیں نہ بتا دی ہوتیں تو یقینا میں اب بھی اسے مخلص سمجھتا رہتا ۔”کیا وہ مطلب پرست اور خود غرض تھی ....؟“یہ ایسا سوال تھا جس کا جواب میرے دماغ نے ہمیشہ اثبات میں دیا تھا لیکن دل ہمیشہ اس بات کی مخالفت کرتا رہتا ۔
”تم میری باتیں نہیں سن رہے ؟“سردار نے میری غائب دماغی محسوس کر لی تھی ۔
میں نے بیزاری سے کہا ۔”پار !.... تمھاری یہ باتیں میں سو مرتبہ پہلے بھی سن چکا ہوں۔“
”کوئی بات نہیں ایک مرتبہ اور سن لو ؟“ بے پرواہی سے کہتے ہوئے اس نے اپنی بات جاری رکھی ۔”اس نے کافی کا مگ میری جانب بڑھایا........“
”مگ لیتے ہوئے میں اس کی جانب دیکھ رہا تھا اور وہ میری طرف اس لیے میرے مگ تھامنے سے پہلے اس نے مگ چھوڑ دیا ۔گرم کافی کے چھینٹے میری پینٹ اور جرابوں کو داغ دار کر گئے ،ہم دونوں ہنس پڑے اور پھر ہم نے ایک مگ سے اکٹھی کافی پی ،ایک گھونٹ وہ بھرتی اور ایک میں ۔“قطع کلامی کرتے ہوئے میں پوری بات دہرا دی ۔
وہ بگڑتے ہوئے بولا ۔”دوبارہ قطع کلامی کی تو خائستہ گل سے پہلے تمھارا نمبر آئے گا ۔تو میں کہہ رہا تھا اس نے کافی کا مگ میری طرف بڑھایا............“اور میں خاموشی سے اس کی زبانی وہی باتیں سننے لگا جو اس سے پہلے کئی مرتبہ سن چکا تھا ۔
دو بجے کے قریب میں نے سردار کو دوبارہ اپنی جگہ لوٹنے کو کہا جب وہ چنارے اور لی زونا کے مزاج اور عادت میں موجود مماثلت کو اجاگر کرنے کی تگ و دو میں مصروف تھا ۔
”ٹھیک ہے ،باقی باتیں دوبارہ ملنے پر ہوں گی ۔“اس نے اس انداز میں کہا گویا میں اس بکواس کو سننے کے لیے مرا جا رہا تھا ۔
میں بھی الٹا لیٹ کر انگور اڈے سے آنے والے رستے کو دوربین میں دیکھنے لگا ۔عمدہ اور اعلا دوربین کے باجود میں زیادہ دور تک نہیں دیکھ سکتا تھا کہ اونچی نیچی پہاڑیاں دکھاﺅ کو محدود کر رہی تھیں ۔ چار بجنے میں چند ہی منٹ رہتے تھے جب مجھے خائستہ گل کی کالی ڈبل کیبن پہاڑیوں کے درمیان سے نمودار ہوتی دکھائی دی ۔اکیلی ڈل کیبن نے میرے دل کی دھڑکن تیز کر دی تھی ۔میں چوکنا ہو گیا ۔اگلے دس منٹ میں وہ اس موڑ کے قریب ہو گئی تھی جہاں ہم موت کے فرشتے کے روپ میں ان کے لیے کافی دیر سے لیٹے ہوئے تھے ۔گو ہم میں دو تین دن تک بھوکے پیاسے ایک محدود جگہ میں چھپ کر بیٹھے رہنے کی صلاحیت موجود تھی اس کے باوجود انتظار انسان کو کوفت میں مبتلا کر دیتاہے ۔اور پھر میری شہادت کی انگلی نے ٹریگر دبا کر اس انتظار کا اختتام کیا ۔حرکتی ہدف کو نشانہ بنانا بہت مشکل اور دشوار گزار ہے ،لیکن جب آدمی کو لیڈ لینے کا طریقہ معلوم ہو اور اس نے اس کی کافی مشق بھی کر رکھی ہو تو پھر یہ دشوار گزار کام روزمرہ جیسا ہی لگتا ہے ۔گاڑی کی رفتار موڑ کی وجہ سے یوں بھی بالکل آہستہ ہو گئی تھی اس لیے ڈرائیور کو گاڑی سنبھالنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی تھی ۔البتہ ٹائر کے دھماکے سے پہلے ڈریگنوو کے فائر کی آواز انھیں چونکا ضرور دیا تھا ۔باڈی میں بیٹھے دونوں محافظوں نے ہڑبڑاتے ہوئے اپنے ہتھیار سنبھالے مگر ان کے نیچے اترنے سے پہلے ایک سر سے ڈریگنوو کی گولی پار ہو چکی تھی ۔دوسرے نے جلدی جلدی کلاشن کوف کاک کی لیکن فائر کرنے کی حسرت اس کے دل ہی میں رہی وہ عقی پائیدان کی طرف قدم بڑھا چکا تھا ۔ سر میں لگنے والی گولی نے اسے منہ کے بل گرادیا ،چونکہ گرتے وقت اس کا بالائی دھڑ گاڑی کے ٹیل بورڈ سے اوپر گزر گیا تھا اس لیے وہ سر کے بل نیچے گرا ۔خائستہ گل کوباہر نکلنے کا موقع مل گیا تھا ۔چونکہ اس کے اور میرے درمیان ڈبل کیبن حائل تھی اس لیے وہ میری رینج سے دور تھا ۔اور اسی وجہ سے میں نے مخالف جانب سردار کو بٹھایا ہوا تھا ۔خائستہ گل نے گاڑی کی آڑ لے کر میری جانب اندازے سے فائر کیا ۔لیکن پہلے برسٹ کے بعد سردار نے اسے دوسری مرتبہ ٹریگر دبانے کا موقع نہیں دیا تھا ۔سردار کی فائر کی ہوئی گولی اسے نامعلوم کہاں لگی تھی ۔لیکن اس کے بعد مجھے ٹیلی سکوپ سائیٹ میں خائستہ گل کے اٹھے ہوئے ہاتھ نظر آگئے تھے ۔سردار پتھر کے پیچھے سے نکل کر تیزی سے نیچے آنے لگا ۔اس کے گاڑی کے قریب پہنچنے تک میں اپنی جگہ سے نہ ہلا جونھی وہ گاڑی سے چند قدم کے فاصلے پر پہنچا میں بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر قریباََ بھاگتے ہوئے اس طرف جانے لگا ۔میرے قریب پہنچنے تک سردار اس کی زخمی ٹانگ پر اسی کا مفلر لپیٹ چکا تھا ۔ایک نظر ڈال کر ہی میں نے عبدالحق کے بتائے ہوئے حلیے کی تصدیق کر لی تھی ۔میں نے فوراََ ٹیل بوڑد کے ساتھ گری ہوئی لاش کو اٹھا کر گاڑی کی باڈی میں پھینکا اورباڈی میں پڑا فالتو ٹائر نکال کرخائستہ گل سے پوچھا ۔
”ٹائر تبدیل کرنے کے اوزار کہاں ہیں ۔“
درد سے کراہتے ہوئے اس نے عقبی نشست کی طرف اشارہ کر دیا ۔میں فوراََ وہ سامان نکال کر ٹائر تبدیل کرنے لگا ۔اس دوران سردار خائستہ گل پر نظر رکھنے کے ساتھ دائیں بائیں کا بھی جائزہ لے رہا تھا ۔
جاری ہے
 

ٹائر تبدیل کرنے میں مجھے دس منٹ سے زیادہ نہیں لگے تھے ۔اس دوران خائستہ گل نے ایک دوبار سردار کو کوئی صفائی دینے کی کوشش کی مگر سردار نے غصیلے لہجے میں کہا ۔
”اگر اس کے بعد تمھارے منہ سے بات نکلی تو بدلے میں کلاشن کوف کی مزل سے بھی گولی نکلے گی اور وہ لگتی کہاں ہے اس بارے مجھے بھی نہیں معلوم ۔“اس کے بعد ٹائر کے تبدیل ہونے تک میں نے خائستہ گل کی آواز نہیں سنی تھی ۔
ٹائر تبدیل کرتے ہی میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔ ہمارارستے کے بیچوں بیچ ٹھہرنا گو بالکل ٹھیک نہیں تھا ۔لیکن وہاں قریب میں کوئی ایسی جگہ موجود نہیں تھی جہاں خائستہ گل سے پوچھ گچھ کر سکتے ۔ اس کے علاوہ وہاں ٹریفک بھی اتنی نہیں چلتی تھی کہ ہمیں زیادہ تردد کرنے کی ضرورت پڑتی ۔دن بھر میں چند گاڑیاں ہی نظر پڑ جاتی تھیں ۔لیکن اس کے باوجود رستا تو رستا تھا ۔میرے اسٹیئرنگ پر بیٹھتے ہی سردار بھی خائستہ گل کی کلاشن کوف کو فرنٹ سیٹ پر پھینک کر خود اس کے ساتھ عقبی جانب گھس گیا ۔
”میرا یقین کریں بھائی صاحب!....مشرزرولی خان کو غلط فہمی ہوئی ہے،اس کا مال سردار قبیل خان نے نہیں لوٹا ۔“ہمیں روانہ ہوتے دیکھ کر اس نے ایک بار پھر صفائی پیش کرنے کی کوشش کی اور اس مرتبہ سردار نے نہ تو اسے ٹوکا اور نہ اس کی غلط فہمی ہی دور کرنے کی کوشش کی ۔
”تمھیں کیسے پتا کہ یہ قبیل خان کا کام نہیں ہے ۔“
”آپ جانتے ہی ہوں گے کہ سردار قبیل خان کا کوئی کام مجھ سے چھپا نہیں ہے ۔“اس کے لہجے میں ہلکا سا تفاخر در آیا تھا ۔
”تو پھر یہ کس کا کام ہے ،مشر زرولی خان کو تو اپنا مال واپس چاہیے ۔“
”مجھے تو بادشاہ خان محسود پر شک ہے ۔وہ اسی طرح کے کام کرتا رہتا ہے ۔“خائستہ گل نے ہولے ہولے کراہتے ہوئے صفائی دینے کی کوشش جاری رکھی۔
اس دوران میں نے موڑ کاٹ کر ڈبل کیبن رستے سے نیچے اتار کر نالے میں کر لی تھی ۔اور پھر اسی طرح نالے اندر ہی گاڑی کو آگے لے جاتے ہوئے کسی مناسب جگہ کی تلاش میں نظریں گھمانے لگا ۔ میرا رخ اس وقت علام خیل سے مخالف جانب تھا ۔جلد ہی مجھے شرقی جانب سے ایک نالہ اس نالے میں شامل ہوتا نظر آیا ۔میں نالے کی مغربی سمت میں تھا اور اس وقت جنوب مغرب کی طرف رواں دواں تھا ۔ گاڑی کونالے کے چھوٹے پانی سے گزار کرمیں شرقی نالے میں گھس گیا ۔ان دونوں کی گفتگو جاری تھی ۔
”بے شک بادشاہ خان محسود اس طرح کے کام کرتا رہتا ہے لیکن اس سے مشر زرولی کی بات ہو چکی ہے وہ واضح انکار کر رہا ہے بلکہ ہر قسم کا اعتبار دینے کے لیے تیار ہے ۔“
وہ کراہتے ہوئے بولا ۔”میں حتمی طور پر تو نہیں کہہ سکتا کہ یہ کس کا کام ہے البتہ سردار قبیل خان کی طرف سے میںہر ضمانت دینے کو تیار ہوں ۔سردار اتنے چھوٹے کام کے لیے اپنی ساکھ اور عزت کو داﺅ پر نہیں لگاتا ۔“وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے درد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔
”تو تمھاری نظر میں یہ چھوٹا کام ہے ؟“سردار نے تیکھے لہجے میں پوچھا ۔
”دیکھیں بھائی !....مجھے تو یہی معلوم ہوا ہے کہ بیس پچیس کلاشن کوفیں ،تین چار ہزار کلاشن کوف کی گولیاں اور تھوڑا سا ہائی ایکسپلوزیو بارود تھا ۔اب آپ خود انصاف کریں کیا سردار قبیل خان اس کے لیے مشرزرولی خان سے دشمنی کا بیج بو سکتا ہے ۔“
سردار نے فوراََ پوچھا ۔”تمھیں یہ تفصیل کہاں سے معلوم ہوئی ؟“
”ہم سوئے تو نہیں ہیں بھائی جان !....یوں بھی اس طرح کی باتیں کہاں چھپی رہ سکتی ہیں۔“
میں نے گاڑی درختوں کے ایک جھنڈ کی طرف موڑ دی ۔یوں بھی اس علاقے میں نالوں اور درختوں کی پہاڑوں ہی طرح بہتات ہے ۔درخت بھی ایسے جو سدا بہار ہیں ۔سارا سال سرسبز ہی رہتے ہیں ۔
گاڑی روک کر میں باہر نکلا اور پہلی بار زبان کھولتے ہوئے خائستہ گل کو مخاطب ہوا۔ ”تمھارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تمھیں قبیل خان کی ہر چھوٹی بڑی بات کے بارے معلوم ہے ۔“
”بالکل ۔“اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”ہونہہ!....“کہہ کر میں نے سردار کو اسے باہر نکالنے کا اشارہ کیا ۔وہ دونوں ہاتھ اپنی مضروب ٹانگ پر رکھے بیٹھا تھا ۔سردار نے دروازہ کھول کر اسے بازو سے پکڑا اور بے رحمی سے باہر گھسیٹ لیا ۔
”آہ ....کک....کیا کر رہے ہیں آپ ؟“تکلیف کی شدت سے اس کا چہرہ مسخ ہونے لگا تھا۔نیچے گرتے ہوئے اس کی ٹانگ میں یقینا غضب کا درد اٹھا ہو گا تبھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے ۔
”اب زرولی کے ذکر کو بھاڑ میں ڈال کر ہم کام کی بات کرلیں ۔“میں اس کے ساتھ اکڑوں بیٹھ گیا تھا ۔
”افف....“ہونٹ بھینچتے ہوئے اس نے ٹانگ میں اٹھنے والے شدید دد کو برداشت کرنے کی کوشش کی ۔مگر ہمارے دل میں اس کے لیے رحم کی رمق بھی موجود نہیں تھی ۔وہ وطن دشمنوں کا آلہ کار ہونے کے ساتھ معصوم لوگوں کے قتل میں بھی ملوث تھا ۔ایسے لوگ کسی رحم اور کسی ہمدردی کے حق دار نہیں ہوتے ۔یہی وجہ تھی کہ ایسوں کو مارتے وقت میری ٹریگر کو دبانے والی انگلی کبھی نہیں کانپی تھی ۔
”ویسے خان صاحب!....تمھارا کیا خیال ہے اگر میں اس کے زخم پر زور دار مکا رسید کروں تو کیا یہ برداشت کر لے گا ؟“میں سردار کی طرف متوجہ ہوا ۔
سردار نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”کیوں نہیں ....جوان آدمی ہے ۔اسے مکوں اور لاتوں کی کیا پروا۔“
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”مجھے تو نہیں یقین۔“
”چلو مار کر اپنا شک دور کر لو۔“سردار نے مجھے دعوت دی ۔
وہ منت بھرے لہجے میں ہکلایا۔”خخ....خدا لیے ....مم....مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے ۔“
”اگر تکلیف ہو رہی ہے اور تم مزید تکلیف سے بچنا چاہتے ہو تو ہائے وائے کو چھوڑو اور میرے چند سوالوں کے جواب دو ۔شاید ہماری ایک اور گولی ضائع ہونے سے بچ جائے ۔“
”مم....میں قسم کھاتا ہوں کہ مشر زرولی ....“
”بھاڑ میں گیا تمھارا زرولی یار !....تمھاری سوئی پھر اسی زرولی پرآن اٹکی ہے ۔“
”تت....تو تم مشر زرولی ....“وہ ہکلاتے ہوئے پوچھنے لگا تھا اور اس کے ہونٹوں سے مشر زرولی کے الفاظ نکلتے ہی میں نے ایک ہلکا سا مکا اس کے زخم پر جڑ دیا ۔
”آہ ....ہائے ....افف....“وہ تڑپ اٹھا تھا ۔
”اب اگر تمھارے منہ سے کسی مشر وشر کا نام نکلا تو تو اگلا مکا اتنا آہستہ نہیں ماروں گا ۔“میں نے سخت الفاظ میں اسے تنبیہہ کی ۔
اس مرتبہ وہ چہرے پر اذیت بھرے تاثرات سجائے کوئی جواب دیے بغیر خاموش رہا تھا ۔
”اب یہ بتاﺅ کہ قبیل خان سے کہاں ملاقات ہو سکے گی ؟“میں نے سوالوں کی ابتداءکی ۔
”آپ کو سردار سے کیا کام ہے ؟“میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس نے اپنی راگنی الاپی ۔اس مرتبہ میں نے اس کی مضروب ٹانگ پرپہلے سے بھی تھوڑا زیادہ زورسے مکا جڑ دیا ۔
”ہائے مر گیا ۔“اس کے منہ سے زور دار چیخ خارج ہوئی تھی ۔”خخ....خدا کے واسطے میری ٹانگ میں بہت تکلیف ہو رہی ہے ۔“
”خائستہ گل یہ آخری تنبیہ تھی ،اس کے بعد جو پوچھا جائے اس کا جواب دو ۔کیوں ،کیا ،کیسے کو چھوڑ دو ۔بس میرے سوالوں کے جواب دو ورنہ پوچھ گچھ چھوڑ کر مجھے تمھارا دماغ جگہ پر لانا پڑے گا ۔ سمجھ میں آ گئی میری بات ۔“
منہ سے کچھ کہے بنا اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”تو جو پوچھا ہے اس بارے کچھ پھوٹو نا ؟“
وہ جلدی سے بولا۔”سردار اس وقت انگور اڈے میں اپنے خاص ٹھکانے پر ہے ،شاید دو تین دن مزید بھی وہیں رہے۔“
”ایک اور بات بھی یاد رکھنا خائستہ گل !....“میں نے ٹھوس لہجے میں اسے دھمکی دی ۔”ہم تمھیں اس وقت آزاد کریں گے جب تمھاری باتوں کی تصدیق ہو جائے گی ۔اس لیے اگر غلط بیانی کا ارادہ ہے بھی تو اسے ذہن سے نکال دو ۔اگر غلط بیانی کی ........“میں نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا کہ اسے بھی معلوم تھا ایک بے بس آدمی کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے ۔
وہ گڑگڑایا۔”مم....میں غلط بیانی نہیں کروں گا ۔“
”اسی میں تمھاری بہتری ہے ۔“کہہ کر میں نے پوچھا ۔”اب اس خاص اڈے کا محل وقوع بھی بتا دو ۔“
”انگور اڈے سے جنوب مشرق کی جانب سڑک پرقریباََ آٹھ کلومیٹر کے بعد ایک چھوٹی سی آبادی خڑ کلے آتی ہے ۔خڑ کلے سے مشرق کی جانب ایک کچی سڑک جا رہی ہے جس کی طوالت پانچ کلومیٹر کے بہ قدر ہو گی۔رستے میں ایک نالہ اور ایک چھوٹی پہاڑی بھی آتی ہے ۔سڑک کے اختتام پر ایک جنگل ہے وہاں سردار کی ایک بڑی حویلی موجود ہے ۔عام دنوں میں وہاں دو تین محافظ موجود رہتے ہیں ۔لیکن جب سردار وہاں پرموجودہو تب محافظوں کی تعداد کسی بھی طرح پندرہ بیس افراد سے کم نہیں ہوتی ۔“
”تو قبیل خان وہاں کیا خاص کام کرتا ہے ؟“میں نے اگلا سوال کیا ۔
”وہاں وہ اپنے کاروباری دوستوں کے ساتھ شغل میلے کے لیے اکٹھا ہوتا ہے ۔“
”مطلب ،شراب ،شباب،گانا بجانا ....وغیرہ وغیرہ ۔“
میری بات پروہ شرمندگی ظاہر کیے بغیر بولا ۔”یہ سرداروں کے شوق ہیں بھائی صاحب !“
”تو وہ وہاں سے کب تک لوٹے گا ؟“میں نے سوالات کا سلسلہ جاری رکھا ۔
”یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ،کیونکہ ان کا ارادہ وہاں سے سیدھا افغانستان جانے کا تھا ۔ اب یہ نہیں معلوم کہ وہاں وہ کتنا عرصہ گزاریں گے ۔“
”اگر اسے تمھارے غائب ہونے کی بابت معلوم ہو جائے تب بھی وہ نہیں لوٹے گا ؟“
”اس نے کون سا خود میری تلاش میں بھٹکنا ہے ۔اس کے پاس اتنا بڑا لشکر موجود ہے وہ اپنے آدمیوں کو انگور اڈے سے بھی حکم صادر کر سکتا ہے اور افغانستان سے بھی، اس کے لیے اسے علام خیل آنے کیا ضرورت ہے ۔“
”اب ذرا اس خاص اڈے کی بناوٹ وغیرہ پر بھی روشنی ڈال لو ۔“
وہ اس وسیع اور پختہ حویلی کے بارے تفصیل سے بتانے لگا ۔وہ حویلی چلغوزوں کے جنگل میں واقع تھی ۔اور وہ جنگل قبیل خان ہی کی ملکیت تھا ۔حویلی کا عقبی حصہ پہاڑی کے ساتھ جڑا تھا ۔سامنے مضبوط لکڑی کا ایک بڑا گیٹ تھا جو مشرقی جانب پڑتا تھا۔دیواروں کی اونچائی دس گیارہ فٹ تھی ۔حویلی کے سامنے والی دیوار جہاں شمالی اور جنوبی سمت کی دیوار سے مل رہی تھی وہاں دو مورچے اس طرح بنے ہوئے تھے کہ ان کی چاروں دیواروں میں فائرنگ کرنے کے لیے ہول موجودتھے ۔اس نے کافی تفصیل سے حویلی کا نقشہ کھینچا تھا ۔مجھے لگا وہ ہمیں حویلی کے حفاظتی انتظامات سے مرعوب کر نا چاہ رہا تھا ۔
اس سے کچھ مزید معلومات پوچھنے کے بعد میں سردار کی طرف متوجہ ہوا ۔
”خان صاحب !....آپ نے کچھ پوچھنا ہے ؟“
”ہونہہ....“اثبات میں سر ہلاتے وہ خائستہ گل کو مخاطب ہوا ۔”محترم جناب سردار قبل خان کے چہیتے سالے صاحب !....کیا وہ تمھاری موت کی خبر سن کر بھی یہاں نہیں پہنچے گا ؟“
وہ تھوک نگلتا ہوا بولا ۔”مگر آپ لوگوں نے وعدہ کیا ہے کہ اگر میں نے تمام معلومات آپ کو دے دی تو مجھے گولی نہیں ماریں گے ۔“
ہم نے جو وعدہ کیا تھا اس پر ہم قائم ہیں دوست ۔“میں نے اطمینان بھرے انداز میں کہا ۔
وہ مایوسی بھرے لہجے میں بولا ۔”وہ سب سے پہلے اپنے اغراض و مقاصد مد نظر رکھتا ہے ۔میں بھی سالا ہونے کی وجہ سے اس کا منظور نظر نہیں ہوں ۔میری اپنی ذات میں بھی ایسی کئی باتیں موجود ہیں جن کی وجہ سے اس نے مجھے یہ مقام دیا ہوا ۔یہ علاحدہ بات کہ لوگ اس کی وجہ میں رشتا داری کو لے آتے ہیں ۔“
”ویسے تم نے ہمیں پہچان لیا ہے یا اب تک ہمیں زر ولی کا آدمی سمجھ رہے ہو ۔“
”مجھے شک ہے کہ تم وہی ہو جس نے روشن خان کو لنگڑا کیا ہے ۔وہ تمھارا تذکرہ ایس ایس کے نام سے کر رہا تھا ۔“
میں مسکرایا ۔”شک کی وجہ ؟“
”چلتی گاڑی کے ٹائر کو پہلی گولی سے نشانہ بنانااور پھر اتنی سرعت سے میرے دونوں محافظوں کے سر میں گولی اتارنا یہ کام ہر آدمی نہیں کر سکتا ۔“
میں نے اشتیاق امیز لہجے میں پوچھا ۔”تو پھر تم ہمیں کسی مشر زرولی سے کیوں منسوب کر رہے تھے ۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”کیونکہ میں چاہتا تھا تم یہ سمجھو میں نے تمھیں نہیں پہچانا اور حقیقت تو یہ ہے کہ مشر زرولی نام کا کوئی سردار اس علاقے میں موجود ہی نہیں ہے ۔“
میں نے فوراََ پوچھا۔”تو اب کیوں اعتراف کر رہے ہو ؟“
”کیونکہ اب تم میری جان بخشی کا وعدہ کر چکے ہو ۔اور روشن خان کہہ رہا تھا کہ ایس ایس اپنے الفاظ سے نہیں پھرتا ۔“
”مگر میں نے تم سے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا ۔میں نے کہا تھا کہ تمھیں گولی نہیں ماروں گااور اس بات پر میں قائم ہوں ۔“
”نن....نہیں ....تم نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے قتل نہیں کرو گے ۔“میری بات سن کر اس کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا ۔
میں صاف گوئی سے بولا۔”یار !....سیدھی بات یہ ہے کہ تمھیں زندہ چھوڑنے سے ہماری سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی ۔“
”میں ہر قسم کی ضمانت دینے کو تیار ہوں ،میں اس حملے کو ....“مگر اس کی بات درمیان میں رہ گئی تھی کیونکہ ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھتے ہوئے میں نے دوسرا ہاتھ اس کے سرپر رکھا اور دونوں ہاتھوں کو مخالف جانب زور دار جھٹکا دیتے ہوئے اسے زندگی کی قید سے آزاد کر دیا ۔ایک ملک دشمن شخص سے وعدے وعید لینے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں تھی ۔اور نہ ہمیں اس سے کوئی ہمدردی تھی ۔
سردار نے کہا ۔”بندے کو مارنے کا یہ طریقہ مجھے بھی سکھا دو ۔“
میں ہنسا ۔”اب زندہ بندہ تو کوئی یہاں موجود نہیں ،مجھے تمھاری گردن کے ساتھ یہ کر کے ہی تمھیں سکھانا پڑے گا ۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔”نہیں تم مجھے زبانی بتادو اور میں تمھاری گردن پر پریکٹس کر لیتا ہوں ۔“
”تمھیں تو نہیں البتہ اپنی چنارے بہن کو میں یہ طریقہ ضرور سکھاﺅں گا ۔امید ہے لی زونا کی آمد کے بعد وہ اس طریقے کو کسی نہ کسی پر ضرور استعمال کرنا چاہے گی ۔“
وہ مجھے مطعون کرتا ہوا بولا ۔”اگر میں بھی کمانڈو والوں کے زیر نگرانی سنائپر کورس کر لیتا تو تمھاری منت کی ضرورت نہ پڑتی ۔“
”اچھا اتنا وقت نہیں ہے کہ ہم گپیں ہانکیں یہ سیکھنا سکھلانا بعد میں بھی چلتا رہے گا ۔“میں نے باڈی میں پڑی لاشوں کی تلاشی لی ان کی نقدی اور ہتھیار اٹھا کر میں نے لاشوں کو وہیں پڑا رہنے دیا تھا۔اس کے بعد خائستہ گل کی بھی تلاشی لے کر اسے ڈبل کیبن کی باڈی میں پھینک دیا ۔گاڑی کی تلاشی لینے پر مجھے ڈیش بورڈ سے بریٹا پسٹل ہاتھ لگا ۔پستول سردار کی جانب بڑھا کر میں نے کہا۔
” تھوڑی خشک لکڑیاں اکٹھی کرنا پڑیں گی ۔“
”خشک لکڑیوں کی کون سی کمی ہے ۔“سردارنے بریٹا پسٹل نیفے میں اڑس کر دائیں بائیں بکھری لکڑیاں اکٹھی کرنے لگا ۔میں بھی اس کا ہاتھ بٹانے لگا ۔چھوٹا سا ڈھیراکٹھا کر کے میں نے ڈل کیبن کے آئل ٹینک کے نیچے رکھا اور لکڑیوں کو آگ لگا دی ۔
”چلو ۔“سردار کو کہہ کر میں وہاں سے دور ہٹتا چلا گیا ۔گاڑی سے ساٹھ ستر گز دور آکر میں نے ایک گولی گاڑی کے آئل ٹینک پر فائر کر دی ۔اگر یہ پٹرول والی گاڑی ہوتی تو مجھے لکڑیاں اکٹھا کرنے کی تگ و دو نہ کرنا پڑتی ۔یہ ڈیزل والی گاڑی تھی اور ڈیزل کو آگ پکڑنے کے لیے آگ چاہیے ہوتی ہے ۔
ڈیزل ٹینک میں سوراخ ہوا اور ڈیزل سیدھا جلتی ہوئی لکڑیوں پر گرا ۔آگ کے شعلوں نے بلند ہوکر ٹینکی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔
مطمئن انداز میں سر ہلاتے ہم وہاں سے دور ہٹتے گئے ۔ہم چند قدم ہی لے پائے ہوں گے کہ ایک کان پھاڑ دینے والا دھماکا ہوا ۔جو آئل ٹینک کے پھٹنے کا تھا ۔نالے تک جاتے ہوئے وقفے وقفے سے ٹائر پھٹنے کے دھماکے بھی سنائی دیتے رہے ۔ہم نے تیز رفتاری سے چلتے ہوئے نالا عبور کیا اور پھر مغرب ہی کی سمت بڑھتے رہے ۔شام کا ملگجا سا اندھیرا پھیل رہا تھا ۔نالے سے اوپر چڑھائی کافی سخت تھی ۔لیکن اتنی زیادہ نہیں تھی ۔وہ چڑھائی چڑھ کر ہم سڑک پر پہنچے ۔اس کے بعد بھی چڑحائی تھی لیکن اتنی زیادہ نہیں تھی تھوڑا آگے بڑھنے کے بعد ہم دائیں ہاتھ موجود نالے میں اتر گئے وہ نالا مغربی پہاڑوں کی طرف سے آرہا تھا ۔لیکن آگے جا کر یہ شمال کی سمت مڑ کر علام خیل کی طرف جا نکلتا اور وہاں سے اس نالے میں شامل ہو جاتا جس نالے کو ہم عبور کر کے آ رہے تھے ۔لیکن اس وقت ہمارا رخ مغربی پہاڑی کی طرف تھا۔نالے میں چڑھائی نسبتاََ آسان تھی ۔پہاڑی کی جڑ میں جا کر یہ نالے ایک دم اوپر کو اٹھ جاتے ہیں ورنہ نیچے ان کی چڑھائی قریباََ غیر محسوس ہی ہوتی ہے ۔ہم اس وقت تک اسی نالے میں چلتے رہے جب تک کہ چڑھائی دشوار گزار نہ ہو گئی ۔اس کے بعد ہم دائیں طرف کی ہلکی ڈھلان سر کرنے لگے ۔اور پھر پہاڑی کے متوازی ہوکر شمال کی جانب بڑھتے گئے ۔سیدھے رستے کے جائے یہ دشوار گزار رستا ہم نے اس لیے اختیار کیا تھا تاکہ علام خیل سے کوئی آدمی خائستہ گل وغیرہ کا پتا کرنے آئے تو اسے رستے میں ہم نہ ملیں ۔گو گاڑی کے آئل ٹینک اور ٹائروں کے پھٹنے کی آواز با آسانی علام خیل میں سنائی گئی ہو گی لیکن اس طرح کے دھماکے چونکہ یہاں کا روزمرہ ہیں اس لیے کوئی زیادہ توجہ نہیں دیتا ۔ مختلف قبائل کی لڑائیاں ،پاک آرمی اور دہشت گردوں کے ٹاکرے ،دہشت گردوں کی آپس میں فائرنگ ،مجاہدین کا کفار سے دو دو ہاتھ کرنا اور ذاتی دشمنی کے باعث ایک دوسرے پر ہتھیاروں کا استعمال آئے روز کا معمول ہے ۔اس کے باوجود کوئی بعید نہیں تھا کہ ان دھماکوں کو سن کر قبیل خان کے آدمی اپنے بندوں کا پتا کرنے کے لیے اس طرف کا رخ کرتے ۔
سردار بریٹا پستول کو پا کر کافی خوش تھا ۔ان تینوں کی کلاشن کوفیں بھی ہم ساتھ ہی اٹھا لائے تھے ۔کمانڈر سعید پہلے والی کلاشن کوفوں کو پا کر کافی خوش ہوا تھا ۔میں چاہتا تھا کم از کم ہم وہاں صبح شام جو کھانا کھا رہے تھے اس کا معاوضا ہی دہشت گردوں کے ہتھیاروں کے ساتھ ادا ہو جاتا ۔
ہم گپ شپ کرتے عشاءکی نماز کے بعد ہی کمانڈر عبدالرشید کے گھر پہنچ پائے تھے ۔دونوں کمانڈر عبدالحق کے کمرے میں بیٹھے کسی خاص بات چیت میں مصروف تھے ۔کمرے کا دروازہ چونکہ کھلا تھا اس لیے ہم کھٹکھٹانے کی زحمت سے بچ گئے تھے ۔
”آﺅ دوستو !....آج تو سارا دن ہی غائب رہے ہو ۔“ہمیں دیکھتے ہی عبدالحق خوش دلی سے مسکرایا ۔
”ہاں بھیا !....تھوڑا کام تھا ۔“ہم تینوں کلاشن کوفیں چٹائی پر رکھتے ہوئے ان سے مصافحہ کرنے لگے ۔
عبدالحق نے کہا ۔”شام کی نماز سے ذرا پہلے دھماکے کی آواز سنائی دی تھی ۔“
میں نے جواباََ کہا ۔”ہاں ہم نے بھی سنی تھی ۔میرا خیال ہے کسی نے خائستہ گل اور اس کے دو محافظوں کو قتل کر کے ان کی گاڑی کو آگ دی ہے ،یقینا آپ نے اس گاڑی کے پٹرول ٹینک کے پھٹنے کا دھماکا سنا ہوگا ۔“
عبدالحق نے ہمیں مخلصانہ مشورے سے نوازتے ہوئے کہا ۔”دوست کچھ زیادہ ہی تیز رفتاری کا مظاہرہ کر رہے ہو ۔احتیاط بہ ہر حال بہت اچھی ہوتی ہے اور جہاں تک میرے ناقص علم اور تجربے کی بات ہے تو قبیل خان نہایت چالاک ،مکار اور خطرناک شخص ہے ۔اور یہ غالباََ تیسرا چوتھا نقصان ہے جو اسے مسلسل تم لوگوں کی طرف سے پہنچ رہا ہے ۔“
میں نے ممنونیت بھرے لہجے میں کہا ۔”آپ کے مخلصانہ مشوروں کی ضرورت ہمیں ہمیشہ رہے گی عبدالحق بھائی !....باقی فی الحال تو ہم نے اپنے پیچھے کوئی سراغ نہیں چھوڑا ۔ہمارے پاس ان کی یہ کلاشن کوفیں ہیں جو ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں یقینا آپ کو ان کلاشن کوفوں کی ہیئت تبدیل کرنے میں کوئی دقت نہیں ہو گی ۔“
”شکریہ جوان !“خاموش بیٹھا کمانڈر عبدالرشید خوش دلی سے بولا ۔”اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہتھیار ہمارے لیے ایک بہترین تحفہ ہیں ۔“یہ کہہ کر وہ تینوں کلاشن کوفوں کا جائزہ لینے لگا ۔
”سردار!.... اپنا تیس بور پستول عبدالحق بھائی کو دے دو ۔“
سردار نے سر ہلاتے ہوئے تیس بور پستوں اور اس کی فالتو گولیاں کمانڈر عبدالحق کی طرف بڑھا تے ہوئے کہا۔”عبدالحق بھائی !....یہ ہم نے وانہ سے خریدا تھا ۔“
”جزاک اللہ ۔“عبدالحق نے شکرگزاری کے کلمات کے ساتھ پستول تھام لیا ۔
میں نے کہا ۔”عبدالحق بھائی !....ایک چھوٹی سی درخواست تھی ۔“
”حکم کرو بھائی !....اگر ہمارے بس میں ہوا تو انکار نہیں کریں گے ۔“
”شاید ایک دو دنوں تک ہم انگور اڈے کا رخ کریں ،کیا وہاں بھی ہمیں مجاہدین کے لیے بنی ہوئی دال روٹی کھانے کو مل سکے گی ۔“
عبدالحق تفصیل بتاتا ہوا بولا۔”انگور اڈے میں ہمارا بہت بڑا تربیتی سنٹر موجود ہے لیکن میں آپ کو وہاں جانے کے بجائے نصراللہ خان خوجل خیل کے گھر جانے کا مشورہ دوں گا ۔وہ میرا دوست بلکہ استاد ہے ۔وہ خود بھی تربیتی سنٹر جاتا رہتا ہے ۔بہتر یہی ہو گا کہ آپ یہ دال روٹی اس کی بیٹھک میں رہ کر کھائیں ۔باقی انگور اڈے سے پہلے خم رنگ اور رغزئی نام کی دو آبادیاں آتی ہیں ۔خم رنگ میں مولوی عبداللہ اصغر اور رغزئی میں قاری غلام محمد کے گھر آپ کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ بس وہاں یہ کہہ دینا کافی ہوگاکہ آپ کمانڈر عبدالرشید اور عبدالحق کے مہمان ہیں ۔باقی تصدیق وغیرہ وہ خود کرتے رہیں گے ۔“
میں شکر گزاری کے گہرے احساس کے زیر اثر بولا۔”یقینا آپ کا یہ احسان ہم کبھی نہیں اتار سکتے ۔“
”یہ کوئی احسان نہیں ہے میرے دوست !....پاکستان صرف تمھارا نہیں ہمارا بھی ملک ہے ۔ بلکہ سچ کہوں تو اسلام کا قلعہ ہے اور یہ سب ہم اپنے ملک کی خاطر کر رہے ہیں ۔اور کہتے ہیں نہ کہ نیت صاف ہو تو منزل آسان رہتی ہے ،اب یہی دیکھ لو کہ بہ ظاہر تو ہم احسان کر رہے ہیں مگر ہم سے کئی گنا زیادہ آپ لوگ ہمارے کام آ رہے ہو ۔نو عدد کلاشن کوفوں کی کافی زیادہ قیمت بنتی ہے اورایک کلاشن کوف بیچ کر ہی آپ لوگ پانچ چھے ماہ تک ایسی دال روٹی سے مستفید ہو سکتے ہو۔“
”صرف دال روٹی نہیں ہے عبدالحق بھائی !....چاردیواری کا تحفظ بھی بہت معنی رکھتا ہے ۔“
”اچھا کھانا کھالیا ہے کہ نہیں۔“اس نے خوب صورتی سے موضوع تبدیل کیا ۔
”یہ جو میں صبح سے دال کی تعریف پر تعریف کیے جا رہا ہوں اس سے بھی آپ کو اندازہ نہیں ہوا۔بھائی جان !....بھوکا آدمی ہی دال کی اتنی تعریف کر سکتا ہے ۔“میری بات پر وہ دونوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے تھے ۔سردار کے ہونٹ بھی مسکرانے کے انداز میں کھل گئے ۔عبدالحق نے فوراََ ایک آدمی کو لا کر ہمارے لیے کھانا لانے کا حکم دیا ۔
سردار نے پوچھا ۔”ویسے آپ نے ہمیں تربیتی سنٹر جانے سے کیوں منع کر دیا ہے ؟“
عبدالحق نے جواب دیا ۔”کیوں کہ وہاں مجاہدین ہر وقت تربیت میں شروع رہتے ہیں ۔اور آپ لوگوں کا تربیت میں حصہ نہ لینا کافی سوالات کو جنم دے گا ۔ہر کسی کے سامنے شاید آپ وضاحت نہ کرسکیں کہ آپ وہاں کیا کر رہے ہیں ۔البتہ یہ صرف میرا اپنا خیال ہے اگر آپ کی خواہش تربیتی سنٹر جانے ہی کی ہے تو وہاں بھی آپ کو رہائش اور کھانا پینا ضرور ملے گا ۔“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔”ہمارے لیے نصراللہ صاحب کی بیٹھک ہی مناسب رہے گی ۔
اسی وقت کھانے کے برتنوں کے ساتھ ایک آدمی اندر داخل ہوا ۔کھانا کھا کر ہم خوشبو دار قہوے سے لطف اندوز ہوئے اور دونوں کمانڈروں سے اجازت لے کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے ۔
٭٭٭
ان تینوں کی لاشیں اسی رات دریافت کر لی گئی تھیں ۔تینوں کا آبائی علاقہ بھی علام خیل ہی تھا ۔ ظہر کی نماز کے بعد ان کا جنازہ تھا ۔ہم نے بڑے اہتمام سے ان کے جنازے میں شرکت کی لیکن قبیل خان کا دیدار نہ ہو سکا ۔خائستہ گل کے بہ قول وہ ایک خود غرض اور مطلب پرست شخص ہی نکلا تھا ۔ اپنے سالے کے جنازے میں شرکت نہ کر کے اس نے خائستہ گل کی اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی تھی۔ ورنہ انگور اڈے سے وہاں تک گاڑی میں کتنا کچھ وقت لگنا تھا۔اور پھر اسی روز مجاہدین کی ایک گاڑی انگور اڈے جا رہی تھی۔ ہم عبدالحق سے اجازت لے کر اسی گاڑی میں انگور اڈے روانہ ہو گئے ۔پہلے ہم نے سوچا تھا شاید قبیل خان اپنے سالے کی موت پر وہاں آجائے ۔لیکن اسے کوئی زیادہ ہی خوب صورت مصروفیت ملی ہوئی تھی کہ اس نے علام خیل آنے کی زحمت نہیں کی تھی ۔
شام کی آذان کے وقت مجاہدین ہمیں نصراللہ خان خوجل خیل کے گھر کے سامنے اتار کر آگے بڑھ گئے ۔جانے سے پہلے وہ نصراللہ خوجل خیل سے ہمارا تعارف کرانا نہیں بھولے تھے ۔وہ سفید ریش مجاہد ،عمر کی اس منزل میں تھا جہاں انسان کے قویٰ آرام کے طلب گار ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی آخرت سنوارنے میں لگا ہوا تھا ۔اس نے ہمیں خوش دلی سے خوش آمدید کہا ۔اور اپنے گھر سے ملحق ایک خوب صورت سے بیٹھک میں ہمیں لے جا کر بٹھا دیا ۔ہماری ضروریات وغیرہ کا پوچھنے کے بعد وہ شام کی نماز کے لیے چلا گیا ۔ہم نے بیٹھک ہی میں نماز پڑھ لی تھی ۔رات کا کھانا عشاءکی نماز کے بعد ہی کھا سکے تھے ۔کھانا کافی پر تکلف بنا تھا ۔کھانے کے بعد اس نے چند منٹ ہم سے گپ شپ کی اور پھر ہمیں آرام کی تاکید کرتا ہوا چلا گیا ۔صبح ناشتے کے بعد ہم بیٹھک سے تو نکل آئے لیکن قبیل خان کے مخصوص اڈے کا رخ نہ کرسکے ، کیونکہ ہم بازار کھلنے کے منتظر تھے اور ہمیں زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا ۔اسلحے کی دکانیں کھلتے ہی ہم ڈریگنوورائفل کے سائیلنسر کاپوچھنے کے لیے ایک دکان میں گھس گئے ۔دکان دار کے نفی میں سر ہلانے پر ہم اگلی دکان کی طرف بڑھ گئے ۔ اسلحے کی تیسری دکان میں ہمیں مطلوبہ چیز مل گئی ۔اس کی خریداری میں خائستہ گل کی جیب سے ملنے والی نقدی کام آئی تھی ۔ہمارے پاس جو بڑی رقم موجود تھی وہ ہم ڈی بلاک پر چھوڑ کر آئے تھے کیونکہ اتنی زیادہ رقم کو ساتھ پھرانا کسی طرح مناسب نہیں تھا ۔سائیلنسر خرید کر ہم جنوب مشرق کی سمت روانہ ہو گئے ۔وزیرستان کے لحاظ سے انگور اڈہ خاصا بڑا شہر ہے اور یہ بالکل پاکستان افغان بارڈر پر واقع ہے ۔ افغان وہاں سے مغرب کی جانب پڑتا ہے ۔ یہ پاکستان کا آخری شہر ہے ۔
گھنٹا ڈیڑھ پیدل چلنے کے بعد ہم خڑ کلے کے قریب پہنچ گئے تھے ۔مشرق کی جانب جانے والی سڑک خڑکلے میں داخل ہونے سے پہلے ہی نظر آ گئی تھی۔ہم اس سڑک سے تھوڑا فاصلہ رکھ کر چلنے لگے تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ ہم قبیل خان کی حویلی کی جانب جا رہے ہیں ۔آگے چونکہ چڑھائی تھی اس لیے ہمیں گھنٹے سے زیادہ وقت آگے بھی لگ گیا تھا ۔اس طرف درخت کافی گھنے تھے اس لیے ہمیں چھپ کر جانے میں آسانی ہورہی تھی ۔پہاڑی عبور کرتے ہی ہمیں وہ وسیع و عریض پختہ حویلی نظر آ گئی تھی ۔اس کے قریب جانے کے بجائے ہم سامنے پھیلے جنگل میں گھس گئے ۔درختوں کی بہتات نے حویلی کو ہماری نظروں سے اوجھل کر دیا تھا ۔ہمارے قدم سامنے والی پہاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے جس کی بلندی پر جا کر ہم حویلی کا اچھی طرح جائزہ لے سکتے تھے ۔اس پہاڑی کا زمینی فاصلہ تو اڑھائی تین کلومیٹر سے زیادہ تھا لیکن ہوائی فاصلہ کلو میٹر سے زیادہ نہیں تھا ۔پہاڑی کی بلندی پر جاتے ہی ہم ایک چٹان کی اوٹ میں لیٹ کر حویلی کا جائزہ لینے لگے ۔وہاں سے وہ وسیع و عریض حویلی بالکل واضح نظر آ رہی تھی ۔خائستہ گل نے حویلی کے بارے بالکل صحیح تفصیل بتلائی تھی ۔ابھی ہم حویلی کا مکمل جائزہ نہیں لے پائے تھے کہ ہمیں حویلی کا داخلی دروازہ کھلتا نظر آیا ۔دروازہ کھلتے ہی چار ڈبل کیبن باہر نکلیں اور درختوں میں غائب ہو گئیں۔ چند منٹ بعد وہ ہمیں اس پہاڑی رستے پر دکھائی دینے لگیں جس طرف سے ہم چل کر آئے تھے۔ بلندی سے نیچے اتر کر چاروں گاڑیاں ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گئی تھیں ۔
”خاں صاحب !....مجھے تو لگتا ہے وہ کمینہ یہاں سے نکل گیا ہے ۔“
”میں بھی تمھارے ساتھ متفق ہوں ۔“سردار نے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔
میں نے منہ بنا کر کہا ۔”گویا یہاں آنا بے کار گیا ؟“
”نہیں ....حویلی کا جائزہ تو لے لیا نا ....بلکہ میرا تو مشورہ ہے اندر گھس کر بھی دیکھ لیتے ہیں ۔ خائستہ گل کے کہنے کے مطاق قبیل خان کے جانے کے بعد یہاں دو تین آدمی رہ جاتے ہیں ۔اگر یہ اطلاع درست ہے تو ایک وقت میں ایک آدمی کو ڈیوٹی پر ہونا چاہیے باقی دو آرام کرتے ہوں گے ۔اور ایک آدمی کو لاعلم رکھ کر اندر گھسنا تمھارے جیسے چور کے لیے مشکل نہیں ہو گا ۔“
”میں کیسے چور ہوا ۔لی زوناکا دل تم نے چرایا ہوا ہے اور چور میں ٹھہرا ۔“
”تمھیں کمانڈو والوں نے اتنے طریقے تو سکھائے ہی ہوں گے ۔“
”انھوں نے یقینا بہت کچھ سکھایا ہے لیکن اس سے زیادہ مجھے اپنی یونٹ کے استادوں نے تربیت دی ہے ۔“
وہ ہنسا ۔”مذاق کر رہا تھا یار !....تم تو سنجیدہ ہی ہو گئے ۔“
”اللہ کی شان اب پٹھا ن بھی مذاق کرنے لگ گئے ۔“
”اچھا بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اب مورچوں کے ہولوں کا جائزہ لو کیا کوئی حرکت نظر آ رہی ہے ۔“
میں سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔”میں کافی دیر سے ہولوں کا جائزہ لے رہا ہوں لیکن کوئی حرکت نظر نہیں آ رہی ۔“
”میرا خیال ہے اپنا سامان اور ہتھیار یہیں چھوڑ کر حویلی کے قریب جا کر دیکھتے ہیں شاید اندر جانے کی کوئی صورت نکل آئے ۔یوں بھی ہمارے پاس پستول موجود ہیں اور میرا خیال ہے گلاک اور بریٹا کی موجودی میں ہمیں کسی رائفل وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔“
”پہلے سامان کے لیے کوئی مناسب جگہ ڈھونڈ لیں ۔“میں اس سے اتفاق کرتے ہوئے اٹھ گیا ۔
ادھ پون گھنٹا کی تلاش کے بعد ہمیں ایک غار مل گیا تھا ۔وہ غار اتنا اونچا ضرور تھا کہ اس میں ہم سر جھکا کر کھڑے ہو سکتے تھے ۔وہاں پتھروں سے بنا عارضی چولھا اور اس میں پڑی راکھ ہمیں یہ باور کرانے کے لیے کافی تھی کہ اس غار کو پہلے بھی کوئی انسان استعمال کر چکا ہے ۔لیکن وہ راکھ کافی پرانی تھی گویا یہ مہینوں پہلے کسی نے آگ جلائی تھی۔
اپنے سفری تھیلے اور ہتھیار وہاں چھوڑ کر ہم غار سے باہر نکل آئے ۔صرف پستول ہم نے اپنے پاس رہنے دیے تھے ۔البتہ میںنے چھوٹی سی طاقتور دوربین بھی تھیلے سے نکال کر جیب میں ڈال لی تھی ۔ ایک ہلکی چادر ہم نے مقامی لوگوں کے انداز میں سر پر پگڑی کے طور پرباندھی اوراس کا ایک طرف سے لٹکتا ہوا پلو ہم نے اپنے چہروں کے گرد اس طرح لپیٹا ،کہ پلو نے نقاب کی طرح ہمارا چہرہ چھپا لیا تھا ۔حویلی کے قریب پہنچ کر ہم نے درختوں کی آڑ میں رہتے ہوئے داخلی دروازے کا جائزہ لیا ۔مضبوط لکڑی کا دروازہ جس پر سرخ اور سبز رنگ کا پینٹ کیا گیا تھا ۔کسی قسم کی حرکت نہ ہوتی دیکھ کر میں نے دونوں مورچوں کا جائزہ لیا مگر وہا ں بھی سکون نظر آیا ۔
ہم جنوب کی جانب سے ایک چکر کاٹ کر حویلی کی عقبی جانب پہنچے عقبی جانب کی دیوار تو باقی تینوں دیواروں سے کم بلند تھی لیکن اس پر کانٹا دار تار اس انداز میں لگی ہوئی تھی اس کو کاٹے بغیر اندر جانا ممکن نہیں تھا ۔ہم نے پہاڑی ڈھلان پر چڑھ کر دوربین سے سامنے کی دیوار میں موجود مورچوں کا جائزہ لیا لیکن مورچوں میں سنتری موجود نہیں تھا ۔دونوں مورچوں کے نیچے پختہ کمرہ بنا ہوا تھا ۔اور کمرے کی چھت پر چڑھنے کے لیے لوہے کی ایک مضبوط سیڑھی بھی دکھائی دے رہی تھی ۔مورچوں کا دروازہ مغربی دیوار میں بنا ہوا تھا ۔ان دروازں میں کواڑ موجود نہیں تھے ۔اگر ان مورچوں میں کوئی ایک آدمی بھی موجود ہوتا تو ہم اس ڈھلان پر بیٹھے ہوئے آسانی سے نظر آ گئے ہوتے ۔
میں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ۔”میرا خیال ہے اندر داخل ہونے کے لیے جنوبی دیوار مناسب رہے گی ۔“
”انتظار کس بات کا ہے ۔“سردار فوراََ جنوبی دیوار کی جانب بڑھ گیا ۔
”میں اندر جاﺅں گا اور تم اسی دیوار کے مشرقی کونے پر میرے اشارے کا انتظار کرنا۔اگر مجھے تمھاری ضرورت محسوس ہوئی تو میں تمھیں اندر بلا لوںگا ورنہ تم باہر نگرانی کرتے رہنا ۔“
”میرا خیال ہے سینئر ہونے کے ناتے یہ فیصلہ کرنا میرا حق بنتا ہے کہ اندر کون جائے گااور باہر نگرانی کا کام کون سر انجام دے گا۔“ سردار فوراََ معترض ہوتا ہوا بولا۔
میں نے پوچھا۔”پتا ہے پٹھانوں کی سب سے بری عادت کون سی ہوتی ہے؟“
وہ منہ بناتے ہوئے بولا۔”تمھارے بہ قول تو پٹھانوں کی ساری عادات ہی بری ہوتی ہیں ۔“
”ہاں ،مگر اب میں سب سے بری عادت کا پوچھ رہا ہوں ۔“
”میں تو یہ کہتا ہوں اپنے ساتھی کو خطرے کا سامنا کرنے دینے کے بجائے اپنی ذات کو پیش کرنا اچھی عاد ت ہے ۔“
”بالکل درست جواب .... اسے کہتے ہیں پٹھانی مزاج ۔ا ب ذرا یہ بتاﺅ کیا تمھارا نشانہ مجھ سے بہتر ہے ؟“
”نہیں ....“اس نے نفی میں سر ہلایا۔
”کیا تمھارے پاس سائیلنسر لگا پستول موجود ہے ؟“
”نہیں ۔“اس نے اس مرتبہ بھی اپنا سر دائیں بائیں ہلادیا تھا ۔
”کیا تم جسمانی لڑائی بھڑائی میں مجھ سے بہتر ہو ؟“
اس نے حسب توقع کہا ”نہیں ۔“
”کیا تمھیں معلوم ہے کہ اندر جا کر کرنا کیا ہے ؟“
وہ سوچتے ہوئے بولا ۔”اس بارے تو ہم نے مشورہ ہی کوئی نہیں کیا ۔“
میں نے آخری سوال پوچھا ۔”اب بتاﺅ ....اندر کسے جانا چاہیے ؟“
”تمھی ہی مرو۔“منہ بناتے ہوئے اس نے دیوار سے پیٹھ ٹیکی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا کر دونوں ہاتھ اپنے سامنے پکڑ لیے ۔
میں نے ہنستے ہوئے اس کے دونوں ہاتھوں پر ایک پاﺅں رکھا اور دوسرا پاﺅں اس کے کندھے پر رکھ کر میں نے دیوار کا اوپری کنارہ پکڑ ا اور اچک کر دیوار پر چڑھ گیا۔اس چوڑی دیوار پر الٹا لیٹ کر مجھے تمام حویلی کا اندرونی منظر نظر آرہا تھا ۔داخلی گیٹ کے دائیں بائیں دو چھوٹے کمرے بنے ہوئے تھے۔کمروں کے ساتھ ہی سامنے کے رخ یعنی مشرقی دیوار کے ساتھ دونوں جانب گاڑیوں کی پارکنگ بنی ہوئی تھی ۔پختہ اینٹوں کے ستونوں پر لوہے کی چادروں کی چھت تھی ۔اس وقت وقت بھی جنونی طرف کی پارکنگ میں سفید رنگ کی ایک سنگل کیبن ٹویوٹا کھڑی تھی اور اس کے ساتھ ہی ایک بڑا ٹینکر کھڑا تھا جس میں یقینا حویلی کی ضروریات کا پانی لایا جاتا ہوگا۔سامنے کی دیوار کے دونوں کونوں میں بھی ایک کمرہ بنا ہوا تھا جس کی چھت پر دونوں مورچے بنے ہوئے تھے ۔شمالی دیوار میں مورچے والے کمرے کے ساتھ دو غسل خانے اوردو بیت الخلا ءبنے نظر آ رہے تھے ۔یقینا یہ ملازموں کے لیے بنائے گئے تھے ۔ جبکہ جنوی دیوار میں ایک باورچی خانہ بنا ہوا تھا ۔اس کے ساتھ حویلی کاوسیع صحن تھا ۔جس میں کسی بھی قسم کے شغل میلے کے لیے کافی گنجائش موجود تھی ۔خائستہ گل کے بہ قول وہ جو ناچ گانے وغیرہ کی محفل سجاتے تھے اس کے لیے یہ صحن بہت مناسب تھا۔اس کے بعد شمال مغربی دیوار میں ایک انیکسی جیسی بنی نظر آ رہی تھی ۔اس حویلی کے اندر ہوتے ہوئے بھی وہ باقی حویلی سے علاحدہ تھی ۔اس کی دو تین فٹ اونچی چاردیواری بھی بنائی گئی تھی جو بانس کی لکڑی کو چیر کر اس کے ٹکڑوں سے بنائی گئی تھی ۔معلوم یہی ہوتا تھا کہ وہ خصوصی مہمانوں کے لیے تھی ۔یا یہ بھی ممکن تھا کہ وہ صرف سردار قبیل خان کے استعمال کے لیے ہو ۔اس انیکسی اور جنوب مغربی طرف بنی ہوئی حویلی کی اصل عمارت کو ایک برآمدہ آپس میں ملحق کرتا تھا ۔میں دو تین منٹ دیوار پر لیٹ کر حویلی کا جائزہ لیتا رہا ۔ملازموں کے شمالی کمرے کا دروازہ مجھے کھلا ہوا نظر آرہا تھا۔ باورچی خانے سے اٹھتا ہوا دھواں اس بات کا مظہر تھا کہ کوئی کھانا وغیرہ بنا رہاہے ۔داخلی دروازے کے پاس ایک کرسی رکھی ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ہی دیوار کے سہارے ایک کلاشن کوف کھڑی تھی ۔میں جس دیوار پر لیٹا تھا اس کے دو فٹ نیچے کمرے کی چھت بنی ہوئی تھی ۔میں آہستہ سے کمرے کی چھت پر اتر گیا۔ گو اس کمرے میں کسی کی موجودی بعید از قیاس تھی اس کے باوجود احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا مجھے گوارا نہیں تھا ۔دیوار کے ساتھ لگ کر چلتا ہوا میں اس جگہ پہنچا جہاں سے نیچے اتر کر ملازموں کے لیے بنے ہوئے باورچی خانے کا فاصلہ مجھ سے پندرہ بیس گز سے زیادہ نہ ہوتا ۔نیچے اترتے وقت میں چھت کی منڈیر پکڑ کر نیچے لٹکا اور پنجوں کے بل کود گیا ۔نیچے کودتے ہی میں اسی کونے میں دبک گیا اور اس کے ساتھ کمر سے بندھے ہولسٹر میں رکھا گلاک نائینٹن میرے ہاتھ میں آگیا ۔اس کی نال میں سائیلنسر فٹ کر کے میں آہستہ سے اٹھا میراارادہ اندرونی عمارت کا جائزہ لینے کا تھا لیکن میری یا اس ملازم کی بدقسمتی جو اس وقت باورچی خانے سے روٹیوں کا چھابہ اور سالن کا ڈونگا اٹھائے باہر نکلا ۔اگر وہ سامنے دیکھتا ہو ا ملازموں کے بنے ہوئے کمرے کا رخ کرتا تو یقینازندہ بچ گیا ہوتا ۔لیکن اس وقت اس نے بغیر کسی وجہ کے ٹھیک اس طرف نگاہ دوڑائی جہاں میں موجود تھا ۔
اس کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا تھا ۔لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا ۔”ٹھک “کی آواز کے ساتھ گلاک کی مزل نے گولی اگلی اور وہ ماتھے میں لگنے والی گولی کی وجہ سے پیچھے کی طرف گرا تھا ۔اس کے نیچے گرنے کے شور سے زیادہ اس کے ہاتھ میں تھامے ڈونگے کے گرنے کا شور ہوا تھا ۔
”ہلکا ہمایونا!....بیا دے سہ غل اوکو۔“(اوے ہمایون پھر کیا گند کر دیا ہے )یقینا ڈونگے کے گرنے کی آواز اس کمرے تک پہنچ گئی تھی ۔آنجہانی ہمایون نے واقعی گند کیا تھا کہ اپنے ساتھ اپنے ساتھیوں کی موت کابھی سبب بن گیا تھا ۔اب اگر میں انھیں زندہ چھوڑ دیتا تو خود میری میری سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ۔میں تیز رفتاری سے اس کمرے کی طرف بڑھا جہاں سے آواز آئی تھی ۔مرنے والے کی طرف سے کوئی جواب نہ پاکر انھوں نے کمرے باہر جھانکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
دروازے پر رکے بغیر میں اندر داخل ہوا ،ایک آدمی کانوں میں ایئر فون لگائے موبائل فون پر گانابجانا یا اسی قسم کی کوئی اور چیز سن رہا تھا ۔جبکہ دوسرا کلاشن کوف کی بیرل میں راڈ مار کر صفائی کر رہا تھا۔پہلی گولی میں نے اسی کی کھوپڑی میں اتاری ۔جبکہ موبائل فون کے ساتھ مشغول آدمی کی تو آنکھیں بند تھیں اس لیے اسے گولی لگنے کے بعد بھی معلوم نہ ہو سکا کہ اس کے ساتھ کیا ہو گیا ہے۔یہ موبائل فون بھی عجیب ایجاد ہے کہ جہاں کال کے لیے سگنل موجود نہ ہوں وہاں بھی لوگ اسے استعمال کیے بنا نہیں رہ سکتے۔ایک چھوٹی سی مشین جس میں درجنوں سسٹم موجود ہیں ۔وزیرستان میں جہاں موبائل فون کی سروس نہیں ملتی وہاں بھی میں نے زیادہ تر نوجوانوں کے ہاتھ میں موبائل فون دیکھے ہیں۔
خائستہ گل کے کہنے کے مطابق قبیل خان کی غیر موجودی میںوہاں دو سے تین محافظ موجود ہوتے ہیں۔ اور تین آدمیوں کو میں ختم کرچکا تھا ۔میں وہاں سے نکل کر اس علاحدہ عمارت کی طرف بڑھ گیا جس کی چاردیواری میں بانس کی لکڑیاں استعمال کی گئی تھیں ۔وہی جگہ مجھے اس حویلی میں سب سے اہم نظر آ رہی تھی ۔ایک بار تو میرا ارادہ ہوا کہ سردار کو بھی بلالوں مگر پھر یہ سوچ کر کہ وہ باہر کی نگرانی کر رہا ہے میں نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا ۔
اپنے تیئں میں تمام محافظوں کا خاتمہ کر چکا تھا اس لیے پستول میں نے بے پرواہی کے انداز میں پکڑا ہوا تھا ۔بانسوں کی لکڑیوں کی بنائی ہوئی چار دیواری کے بیچوں بیچ ایک رستا اندر کی طرف جا رہا تھا جس کے ساتھ ساتھ پھولوں کی کیاریاں بنی ہوئی تھیں ۔اس رستے کے اختتام پر ایک چھوٹا سا برآمدہ تھا اس کے ساتھ ہی لکڑی کا بھورے رنگ کا منقش دروازہ تھا۔
دروازے کے ہنڈل کو ہاتھ سے نیچے کرتے ہوئے میں نے دروازے کو دھکیلا دروازہ بے آواز کھلتا چلا گیا ۔اندر خوب صورت ایرنی قالین بچھا ہوا تھا ۔اس کے اوپر چاروں اطراف میں صوفہ سیٹ رکھے ہوئے تھے ۔ہر صوفہ سیٹ کے سامنے شیشے کی ٹیبل پڑی تھی ۔جبکہ صوفوں کے دائیں بائیں شیشے کی تپائیاں رکھی ہوئی تھیں ۔وہ سٹنگ روم کافی وسیع تھا ۔تین اطراف کی دیواروں میں شیشے کی کھڑکیاں تھیں جن پر دبیز اور خوش رنگ پردے لٹکے ہوئے تھے ،جبکہ مغربی دیوار میں ایک گیلری کا رستا نظر آ رہا تھا ۔ صوفوں کے پیچھے بھی کافی جگہ خالی پڑی تھی۔میں اسی گیلری کی طرف بڑھا ۔گیلری کے دونوں جانب دو کمروں کے دروازے تھے ۔اس عمارت کے تمام دروازے بھورے رنگ کے تھے جن پر دیدہ زیب نقش نگاری کی گئی تھی ۔ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ کس دروازے کو کھولوں، کہ اچانک شمالی جانب موجود کمرے کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔وہاں سے برآمد ہونے والا چہرہ ایک خوب صورت اور دلکش لڑکے کا تھا اس کی عمر سولہ سترہ سال کے قریب ہو گی ،اس نے ہاتھ میں کلاشن کوف پکڑی ہوئی تھی، ہم دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر اچھل پڑے تھے ۔
میں نے ایک دم اپنا پستول والا ہاتھ سیدھا کرنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی اس نے ہاتھ میں پکڑی کلاشن کوف کی بیرل ڈنڈے کی طرح میرے ہاتھ پر دے ماری ، پستول میرے ہاتھ چھوٹ کر دبیز قالین پر جاگرا ۔میں نے پستول سنبھالنے کے بجائے فوراََ اس کے کلاشن کوف والے ہاتھ پر زور دار ٹھوکر رسید کی ،کلاشن کوف بھی پستول کے پاس پہنچ گئی تھی ۔اس نے ایک دم جھک کر میرے پیٹ میں ٹکر ماری میں کولہوں کے بل نیچے گرااور مجھے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا، لیکن اس وقت ہلکی سی سستی بھی مجھے موت سے ہم کنار کر سکتی تھی ۔میرے گرتے ہی وہ کلاشن کوف اٹھا نے کے لیے جھکا اور میں نے لیٹے لیٹے ہی اس کے دائیں پہلو پر زور دارلات رسید کردی۔وہ کلاشن کوف کو پکڑ چکا تھا ۔میری لات کھاتے ہی دیوار سے ٹکرایا ۔اس کے سنبھلنے تک میں اگلی ٹھوکر میں اس کی کلاشن کوف پر مار چکا تھا ۔گن ایک مرتبہ پھر اس کے ہاتھ سے گر گئی ۔کلاشن کوف اٹھانے کا خیال ترک کرتے ہوئے اس نے خالی ہاتھ ہی مجھ پر حملہ کر دیا ۔اپنا بایاں بازو گھماتے ہوئے اس نے میرے چہرے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔میں نے اپنا سر ذرا سا پیچھے ہٹایا اس کا زوردار مکا میری چھاتی میں پڑامیں بے ساختہ دو قدم پیچھے ہو گیا تھا ۔ایک مکا مار کر وہ رکا نہیں تھا بلکہ مسلسل میرے چہرے کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے ہاتھ چلا رہا تھا ۔اس کے مشینی انداز میں چلتے ہوئے ہاتھ مجھے یہ باور کرانے کے لیے کافی تھے کہ وہ لڑائی کی اچھی خاصی شد بد رکھتا ہے ۔
ایک دو قدم پیچھے لیتے ہوئے میںگیلری سے نکل کر ڈرائینگ روم میں آگیا ۔وہ بھی مکے مارتا ہوا میرے ساتھ ہی چلا آیا تھا ۔ڈرائینگ روم میں آتے میں نے جھکائی دے کر اس کا مکا خطا کیا اور اس کے ساتھ میری زور دار لات اس کے پیٹ میں لگی ۔وہ کولہوں کے بل نیچے گرا ،اس کے خوب صورت اور دلکش چہرے پر اذیت بھرے اثرات نمودار ہوئے جن پر قابو پانے میں اسے دیر نہیں لگی تھی ۔ نیچے گرتے ہی وہ فوراََ اٹھا اسی وقت میں نے دائروی مکا گھما کر اس کی ٹھوڑی پر دے مارا ۔اگر وہ اسی جگہ پر لگ جاتا تو یقینا اسے بے ہوش ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا ۔لیکن ایک قدم پیچھے لیتے ہوئے اس نے میرے حملے کو ناکام بنایا اور اس کے ساتھ ہی ایک زور دار لات میرے پیٹ میں رسید کر دی ،ٹھیک اسی جگہ جہاں اس نے سر کی ٹکر رسید کی تھی ۔میرے نیچے گرتے ہی اس نے چھلانگ لگا کر اپنی بائیں کہنی سے میری چھاتی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اگر اس کی کوشش کامیاب ہو جاتی تو آج شاید میں کہانی سنانے کے لیے زندہ نہ بچا ہوتا ۔سرعت سے کروٹ بدلتے ہوئے میں نے اس کی کہنی کے ضرب سے خود کو بچایا ۔اس کی کہنی دبیز قالین پر لگی تھی ۔جس شدت سے اس نے مجھے کہنی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی اگر نیچے قالین نہ ہوتا تو اس کی کہنی کی ہڈی ٹوٹ گئی ہوتی ۔لیکن قالین کی وجہ سے اسے زیادہ ضرب نہیں آئی تھی ۔اس کے سنبھلنے سے پہلے میں نے دوبارہ کروٹ بدلتے ہوئے اسے چھاپنے کی کوشش کی مگر اس نے فوراََ سیدھا ہوتے ہوئے اپنی دونوں ٹانگیں اکٹھی کرکے میرے پیٹ میں ٹیکیں اور مجھے دیوار کی طرف اچھال دیا ۔ میری پیٹھ زوردار انداز میں دیوار سے ٹکرائی لیکن اپنا سر میں دیوارسے ٹکرانے سے بچا گیا تھا ۔میرے سنبھلنے تک وہ اچھل کر کھڑا ہو گیا ،ہم ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے تھے ۔اس ہلکی نیلی آنکھوں میں غیظ و غضب ہلکورے لے رہا تھا ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اتنا خوب صورت لڑکا اس سے پہلے میری نظر سے نہیں گزرا تھا۔یقینا وہ قبیل خان کا کوئی خاص پرزہ تھا ۔اس علاقے میں ایک بڑی بیماری خوب صورت اور بے ریش لڑکوں کا شوق رکھنا بھی ہے ۔شاید قبیل خان کو بھی کوئی ایسا ہی مرض لاحق تھا ۔
اس نے زیادہ دیر انتظار نہیں کیا اور ایک بار پھر مجھ پر حملہ آور ہوا ،لیکن اب میں سنبھل چکا تھا ۔ اس سے پہلے میں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا ۔اس کے سرعت سے چلائے گئے مکوں سے خود کو بچاتے ہوئے میں نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی ،لیکن تیزی میں اس کے بازو کے بجائے اس کی قمیص کا گریبان میرے ہاتھ میں آگیا ۔گریبان پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے میں نے اسے زور سے گھما کر دیوار پر مارنے کے لیے اپنی جانب کھینچا۔اسے بھی میرے داﺅ کے بارے معلوم ہو گیا تھا ۔ اپنے پاﺅں زمین پر جماتے ہوئے اس نے اپنا گریبان میرے ہاتھوں سے چھوڑانے کی تگ و دو کی اور اس کے ساتھ ہی ۔”چر۔“کی آواز کے ساتھ اس کی قمیص سامنے سے پھٹتی چلی گئی ۔گریبان پر میری گرفت ڈھیلی ہوتے ہی وہ لڑکھڑا گیا تھا اور اس کے سنبھلنے سے پہلے ایک قدم آگے لیتے ہوئے میں نے اس کی ٹھوڑی پر دائروی مکا جڑ دیا ۔وہ لہرا کر منہ کے بل قالین پر گر گیا ۔
میں گہرے سانس لے کر اپنے غصے اور پھولتی سانسوں کوقابو کرنے لگا ۔اس وقت مجھے سختی سے یہ خیال آ رہا تھا کہ میں نے صرف ہتھیار پر انحصار کرنا شروع کر دیا تھا ،حالانکہ میں جسمانی لڑائی کی باقاعدہ تربیت لے چکا تھا ۔بلکہ یہ تربیت تو ہر سنائپر کو دی جاتی ہے یہ اور بات کہ نشانہ بازی کی طرح جسمانی داﺅ پیچ میں بھی کوئی زیادہ اچھا ہوتا ہے اور کوئی بس گزارا کرتا ہے ۔میں الحمداللہ اپنے تمام ساتھیوں پر اس لحاظ سے بھی فائق تھا ۔میں نے ارادہ کر لیا کہ فارغ اوقات میں سردار کے ساتھ اس کی مشق کیا کروں گا ۔
سانس بحال ہوتے ہی میں اس کی طرف متوجہ ہوا ۔وہ مجھے قبیل خان کے بارے کافی قیمتی معلومات پہنچا سکتا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ اس کی وجہ سے میں قبیل خان کو بلیک میل کر سکتا ۔
کمروں کی تلاشی لینے سے پہلے میں نے ضروری سمجھا کہ اسے باندھ دوں ۔اور اس کے باندھنے کے لیے اس کی پھٹی ہوئی قمیص سے بہتر کوئی چیز نہیں تھی ۔
اس کے پاس اکڑوں بیٹھتے ہوئے میں نے اسے کندھے سے پکڑ کر سیدھا کیا اور اس کے ساتھ ہی مجھے لگا کسی نے میرے سر پر بم پھوڑ ڈالا ہو۔اس کے عریاں بالائی جسم پر نظر پڑتے ہی میرا سانس رکنے لگا تھا ۔وہ لڑکا نہیں بلکہ ایک نوجوان لڑکی تھی ۔لڑکوں والے کپڑے ،لڑکوں ہی طرح چھوٹے بال ،حالانکہ اس علاقے میں تو مرد بھی عورتوں کی طرح لمبے بال رکھنے کے عادی ہوتے ہیں ۔سب سے بڑھ کر اس کی ناک اور کان میں زیور وغیرہ ڈالنے کے لیے کوئی چھید موجود نہیں تھا ۔
جاری ہے
 

میں زیادہ دیر اس نظارے کی تاب نہ لا سکا اور فوراََ اسے اوندھے منہ لٹادیا ۔اس کے ہاتھ ہی اس کی قمیص کو تین چار ٹکڑوں میں تبدیل کر کے ان لمبی پٹیوں سے اس کے ہاتھ اور پاﺅں باندھ دیے ۔اس طرف سے فارغ ہو کر میں نے گردن کی ایک مخصوص رگ کو دبا کر اس کی عارضی بے ہوشی کی طوالت کو بڑھا دیا تھا۔
اب تو مجھے سو فیصد یقین ہو گیا تھا کہ وہ قبیل خان کی رکھیل تھی ۔اور اسی کے حکم پر مردانہ حلیہ بنایا ہوا تھا ۔یہ بھی ہو سکتا تھا کہ مردانہ حلیے میں گھومنا اس کا اپنا شوق ہو ۔اسی وجہ سے اس نے لڑائی بھڑائی میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل کر لی تھی ۔ایک گمان مجھے یہ بھی ہوا کہ وہ اس کی دوسری بیوی نہ ہو ،لیکن پھر میں نے سختی سے اس گمان کو رد کر دیا ۔کیونکہ ایک تو وہ بہت کم سن تھی، دوسرا بیویوں کو گھر میں رکھا جاتا ہے عیش و آرام کے اڈے پر نہیں ،تیسرااس کے نقوش خائستہ گل سے بالکل نہیں ملتے تھے جس کے بارے سنا تھا کہ وہ قبیل خان کی دوسری بیوی کا بھائی ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے بھائی کی موت پر اس کے یہاں رہنے کی کوئی تُک نظر نہیں آ رہی تھی ۔ اسے تو علام خیل میں ہونا چاہیے تھا ۔
بہ ہرحال اس بارے سوچنے کا بہت وقت ملنا تھا فی الحال میں نے وہاں کی تلاشی لینا تھا ۔اس گیلری کے دائیں بائیں صرف دو کمرے تھے ۔میں اسی کمرے میں گھس گیا جہاں سے وہ باہر نکلی تھی ۔
وہ ایک پر تعیش خواب گاہ تھی ۔کمرے کے وسط میں لکڑی کا ڈبل بیڈ پڑا تھا جو بھوری پالش سے چمک رہا تھا ۔اس پر تہہ کیا ہوا گہرے نیلے رنگ کا خوب صورت کورین کمبل رکھا تھا ۔گہرے نیلے رنگ ہی کی بیڈ شیٹ اور تکیوں کے غلاف تھے ۔کھڑکیوں کے پردے بھی اسی رنگ کے تھے ۔البتہ کمرے کی چاروں دیواروں میں ہر دیوار مختلف رنگ کے ڈسٹمبر میں رنگی ہوئی تھی ۔میں جلدی جلدی کمرے کی تلاشی لینے لگا ۔لیکن وہاں کوئی کام کی چیز مجھے نہ مل سکی ۔بس عیاشی کا مختلف سامان بھرا تھا ۔ایک مکمل الماری تو مختلف قسم کی شراب کی بوتلوں سے بھری ہوئی تھی ۔بیڈ سائیڈ ٹیبل کے دراز وغیرہ کھنگالنے کے بعد میں دوسرے کمرے میں گھس گیا وہ بھی ایک خواب گاہ ہی تھی ۔وہاں ایک الماری میں مردانہ لباس ٹنگے ہوئے دیکھ کر میں نے ایک قمیص اتار کر اپنے پاس رکھ لی تھی ،کیونکہ اس لڑکی کا کردار کیسا ہی کیوں نہیں تھا مجھے میرا اخلاق یہ اجازت نہیں دیتا تھا کہ اس پر قابو پانے کے بعد میں اسے برہنہ حالت میں پھراتا رہتا۔
دوسرے کمرے نکل کر میں نے گیلری کے آخری کونے تک جا کر دیکھا ۔وہاں بھی ایک کھڑکی بنی ہوتی تھی ۔قریب پہنچنے پر مجھے کھڑکی کا ٹوٹا ہوا شیشیہ دکھائی دیا ۔دبیز پردے کی وجہ سے ٹوٹا ہوا شیشیہ دور سے نظر نہیں آ رہا تھا ۔واپس ڈرائینگ روم میں آکر میں نے اس لڑکی کی ہاتھ کی بندشیں کھولیں اور اسے قمیص پہنا کر دوبارہ اس کے ہاتھ پشت پر باندھ دیے۔وہاں سے نکل کر میں نے دوسری عمارت کا بھی سرسری جائزہ لیا لیکن کام کی کوئی چیز نظر نہ آئی ۔دوسرے کمروں کا جائزہ لیتے ہوئے میں نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا ۔پہلے بھی بڑی مشکل سے بچ پایا تھاکہ سترہ اٹھارہ سال کی لڑکی نے مجھے ناکوں چنے چبوا دیے تھے ۔ممکن تھا کہ کسی اور کمرے اس سے بھی بڑی آفت متھے لگ جاتی ۔
عمارت کے باقی کمروں میں بھی بس ضرورت ہی کا سامان رکھا ہوا تھا ۔کمروں کا جائزہ لیتے ہی میں نے داخلی دروازے کی ذیلی کھڑکی کھول کر سردار کو اندر بلالیا۔
”سردار !....اس کمرے میں سنگل کیبن کی چابی یا تو دیوار سے لٹکی ہو گی یا کسی لاش کی جیب میں ہوگی ۔وہ چابی اور وہاں رکھے ہتھیار اٹھا کر سنگل کین میں رکھو میں آتا ہوں ۔“مذکورہ کمرے کی طرف اشارہ کرکے میں اس لڑکی کو اٹھانے چل پڑا ۔
میری واپسی تک سرداربھی ٹویوٹا کی چابی اور تین کلاشن کوفیں اٹھا کر باہر نکل آیا تھا ۔
”یہ کون ہے ؟“اس نے میرے کندھے پراٹھائی لڑکی کی طرف اشارہ کیا ۔
اس لڑکی کو ٹویوٹا کی باڈی میں رکھتے ہوئے میں نے جواب دیا۔”یہ بہت خاص پرزہ ہے ، یوں سمجھو قبیل خان تک پہنچنے کی چابی ہے ۔“
اس پر نظر پڑتے ہی بے ساختہ سردار کے منہ سے نکلا ۔”یارا!....دا خو ڈیر اخلی ہلک دے ۔“ (یار،یہ تو بہت خوب صورت لڑکا ہے )
میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔”ویلے خو مے دی چہ دا اسپیشل شیے دے ۔“ (کہا تو ہے کہ یہ خاص چیز ہے )
”اس کا مطلب ہے قبیل خان بھی لونڈوں کا شوقین ہے ۔“سردار نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا۔
”خان صاحب !....پٹھانوں والی بات نہ کرو،یہ لڑکی ہے ۔“
”کیا ؟“اس نے حیرانی سے ایک مرتبہ پھر اس لڑکی کا جائزہ لیا ۔”لیکن اس نے حلیہ تو بالکل لڑکوں والا بنایا ہوا ہے ۔“
میں نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے کہا ۔”حلیے کو چھوڑو، چہرے کے نقوش پر غور کرو ۔“
”تو اب اسے لے کر کہاں جا رہے ہیں ؟“میرے ساتھ بیٹھنے کے لیے اس نے دروازہ کھولنا چاہا ۔
اس کی بات کا جواب دیے بغیر میں نے پوچھا ۔”دروازہ کون کھولے گا ؟“
”دروازہ واپس بند کرتے ہوئے وہ منہ بناتے ہوئے بولا۔”جونیئر ہونے کے ناتے دروازہ کھولنا تو تمھیں چاہیے تھا ۔لیکن کیا کریں آج کل تو سینئر جونیئر کی تمیز ہی نہیں رہی ۔“
میں زیر لب مسکراتے ہوئے گاڑی سلف گھمانے لگا ۔گاڑی سٹارٹ کر کے میں نے پیچھے لے جا کر داخلی دروازے کی سیدھ میں کی اس وقت تک وہ دروازہ کھول چکا تھا ۔میں نے جونھی گاڑی باہر نکالی وہ دروازہ بند کر کے میرے پاس آن بیٹھا ۔
”اب بتاﺅ اس مصیبت کو کہاں لے جانا ہے ۔“
”جہاں اپنا سامان رکھا ہے وہاں لے جا کر پوچھ گچھ کرتے ہیں اگر مناسب لگا تو اس کے ذریعے قبیل خان کو بلیک میل بھی کیا جا سکتا ہے ۔“
سردار نے تائیدی انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”ویسے اس کی شکل و صورت کو دیکھ کر تو یہی اندازہ ہو رہا ہے کہ ہم قبیل خان کو ٹھیک ٹھاک دھچکا پہنچا چکے ہیں ۔“
میں نے کہا ۔”یہ تو اس سے بات چیت کرنے پر معلوم ہو گا ۔“
درختوں سے بچنے کے لیے مجھے مسلسل اسٹیئرنگ گھمانا پڑ رہا تھا ۔رستا بھی نا ہموار تھا کہ گاڑی کو مسلسل جھٹکے لگ رہے تھے ۔گاڑی کو غار کے دہانے تک لے جانا ممکن نہیں تھا کیونکہ غار ڈھلان پر بنی ہو ئی تھی ۔غار کے دہانے کے متوازی گاڑی روک کر میںنے سردار کو کہا ۔
”گاڑی واپس لے جاﺅ اور دونوں گاڑیوں کے آئل ٹینک میں سوراخ کر کے تیل نکال کر وہاں موجود تمام سامان اور گاڑیوں کو آگ لگا دو اب جبکہ اس کے محافظوں کی موت کے بعد یہ بات کھل گئی کہ اس عمارت تک ہم پہنچ گئے ہیں توقبیل خان کا کچھ نقصان کرنا تو بنتا ہے ۔“
”یہ کام مجھے واقعی پسند ہے ۔“سردار خوشی سے چہکتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔
گاڑی سے اتر کر میں نے لڑکی کوکھینچ کر نیچے اتارا اور لڑکی والی اور باقی تین محافظوں والے ہتھیار بھی گاڑی سے اتار کر نیچے رکھ دیے۔سردار گاڑی کو موڑ کر دوبارہ قبیل خان کی حویلی کی جان بڑھ گیا جبکہ میں اس لڑکی کو کندھے پر اٹھا کر اوپر چڑھنے لگا ۔غار کے دہانے کے سامنے کافی درخت موجود تھے جن کے عقب میں دہانہ بالکل چھپا ہوا تھا ۔لڑکی کو غار میں لٹا کر میں دوبارہ نیچے پہنچا اور تمام ہتھیار بھی وہاں اٹھا لایا۔ لڑکی کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا ۔اسے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بٹھا کر میں نے تھیلے سے پانی کی بوتل نکال لی۔آدھی بوتل اپنے معدے میں اتار کر میں نے باقی پانی اس کے منہ پر انڈیل دیا تھا ۔ اس نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھول دیں ۔ہوش میں آتے ہی وہ ایک طرف لڑھک گئی ۔اسے دوبارہ بازو سے پکڑ کر میں نے دیوار کے ساتھ بٹھا دیا ۔گہرے سانس لیتے ہوئے اس نے نفرت بھری نگاہیں میرے چہرے پر ڈالیں ۔اس وقت میری آنکھوں سے پھوٹنے والی نفرت بھی کچھ کم درجے کی نہیں تھی ،نا معلوم کیوں مجھے اس پر حد سے زیادہ غصہ آ رہا تھا ۔
”تمھارا نام ؟“میں نے اس کی شعلہ بار آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پہلا سوال کیا ،مگر وہ ہونٹ بھینچے اسی انداز میں مجھے گھورتی رہی ۔
میرا ہاتھ بجلی کی سی سرعت سے گھوما ۔”چٹاخ ۔“کی آواز کے ساتھ اس کا بایاں گال سفید سے سرخ ہو گیا تھا ۔وہ دائیں طرف لڑھک گئی تھی ۔اس کے بوائے کٹ بالوں کو بے دردی سے پکڑ کر میں نے دوبارہ سیدھا بٹھایا ۔
”تم سے نام پوچھا ہے ۔“میں نے زہر خند لہجے میں اپنا سوال دہرایا ۔لیکن وہ اسی طرح شعلہ بار نظروں سے مجھے گھرتی رہی اس کی آنکھوں میں موجود نفرت دو چند ہو گئی تھی ۔اس کے چہرے پر مجھے ذرہ بھر بھی خوف کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے ۔
اسے خاموش پا کر میرا دایاں ہاتھ دوبارہ گھوما ۔اور پھر میں اسی پر اکتفا نہیں کیا تھا ،تین چار تھپڑ میں نے ایک تسلسل سے اس کے گالوں پر جڑ دیے تھے ۔لیکن اس مرتبہ اس نے خود کو لڑھکنے سے بچائے رکھا ۔میرے تھپڑوں کا تسلسل رکتے ہی اس نے منہ میں جمع خون ایک جانب تھوکا اور آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئی ۔
مجھے اس کی دلیری پر حیرانی ہو رہی تھی ۔ایسی فاحشہ عورتیں تو حد درجہ کی بزدل اور ڈرپوک ہوتی ہیں ذرا سی دھمکی پر تھر تھر کانپنے لگ جاتی ہیں مگر اسے میرے اتنی شدت سے مارے گئے تھپڑوں کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا تھا ۔
میں نے اس کے بالوں سے پکڑ کر زور دار جھٹکا دیتے ہوئے بولا ۔
”شاید تمھیں عزت راس نہیں ہے ۔تمھاری بہتری اسی میں ہے کہ میرے ہر سوال کا بے چوں و چراں جواب دے دو ۔“
اس نے آنکھیں کھول کر حقارت بھری نظر مجھ پر ڈالی اور غار کے کھلے دہانے کی جانب دیکھنے لگی ۔
مجھ پر جیسے دورہ سا پڑ گیا تھا ۔میں نے اس پر تھپڑوں کی بارش کر دی ۔”چٹاخ چٹاخ ۔“کی آواز سے غار کی اندرونی فضا گونج اٹھی تھی ۔یقینا اس کے چہرے کو کافی پزیرائی ملتی رہی ہو گی لیکن اس وقت وہ اس آدمی کے سامنے تھی جو عورت ذات سے نفرت کا دعوے دار تھا ۔ماہین کی بے راہ روی کے بعد اس طرح کی آبرو باختہ عورتیں تو مجھے اور بھی بری لگنے لگی تھیں ۔اور اس لڑکی پر مجھے جو غصہ آ رہا تھا وہ خود میرے لیے حیرانی کا باعث تھا ۔شاید ایسی معصوم اور پاکیزہ شکل و صورت والی کی بے راہ روی مجھے طیش میں ڈالے ہوئی تھی ۔مسلسل تھپڑ کھا کر وہ خود کو سنبھال نہ سکی اور ایک جانب لڑھک گئی اس کے بالوں سے پکڑ کر میں گھسیٹ کر غار کی دوسری دیوار کی طرف پھینکا اور اس کے جسم کو ٹھوکروں پر رکھ لیا ۔ہاتھ پاﺅں بندھے ہونے کی وجہ سے وہ مجھ سے دور لڑھک کر بھی نہیں جا سکتی تھی ۔
”نام پوچھا ہے میں نے ،نام پوچھا ہے ،فاحشہ !“چند ٹھوکر یں کھانے کے بعد ہی اس کی آنکھیں بند ہو گئی تھیں ۔پانی کی دوسری بوتل نکال کر میں نے پانی کے دو تین چھینٹے اس کے چہرے پر مارے ۔اور اس نے کراہتے ہوئے دوبارہ آنکھیں کھول دیں ۔ایک زور دار تھپڑ کر ساتھ اس کا استقبال کرتے ہوئے میں غرایا ۔”جواب دو ۔میں کہہ رہاہوں جواب دو ۔“اس کا بدن تکلیف کی شدت سے آہستہ آہستہ کانپنے لگ گیا تھا ۔اسے خاموش پا کر میں نے دوبارہ اس کے بالوں سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے مخالف دیوار پر دے مارا ۔
اذیت بھری آہ منہ سے نکالتے ہوئے وہ اوندھے منہ لیٹ گئی تھی ۔اس کی پیٹھ پر دو تین لاتیں رسید کر کے میں نے اس کے بالوں سے پکڑ کر دوبارہ غار کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بٹھا دیا ۔
”میرا خیال ہے تمھیں اذیت ناک موت کو گلے لگانے کا شوق ہے ۔“
”اگر اتنے ہی مرد ہو تو ایک بار مجھے آزاد کر کے دیکھو ۔“اس کی آواز میں نفرت ،حقارت غصہ ،غیض و غضب اور جانے کیا کیا شامل تھا ۔
”تو میں نے تمھیں سوتے ہوئے تو گرفتار نہیں کیا ۔ہاتھاپائی کرتے ہوئے تم بے ہوش ہوئی تھیں ۔“یہ کہتے ہی میرا بایاں مکا پوری قوت سے اس کے دائیں جبڑے پر لگا ۔وہ بے اختیار خون تھوکنے لگی ۔
”نام کیا ہے تمھارا ۔“میں نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا۔
وہ حسبِ سابق خاموش رہی تھی ۔میں اس کے پاس سے اٹھ غار کے دہانے کے پاس پڑی کلاشن کوف کے قریب پہنچا ۔اس کی میگزین اتار کر میں نے تین گولیاں نکالیں اور واپس اس کے قریب پہنچ کر میں نے تینوں گولیاں اس کی پشت پر بندھے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے درمیان میں رکھ کر اس کی انگلیوں کی پوروں کو آپس میں ملادیا۔اپنے ہونٹ سختی سے آپس میں بھینچتے ہوئے اس نے اس درد کو سہنے کی کوشش کی لیکن کب تک بے اختیار اس کے منہ سے سسکیاں نکلنے لگیں ۔
”نام پوچھا ہے ؟“مجھے اس کی سخت جانی دیکھ کر جیسے مزید تپ چڑھ رہی تھی ۔
”پپ....پلو خان!“اس کے منہ سے گویا بے اختیاری میں پھسلا تھا ۔
”بالکل تیرے کردارہی کی طرح ہی گھٹیا ہے تمھارا نام بھی ۔“کلاشن کوف کی گولیاں اس کی انگلیوں سے نکال میں نے نیچے پھینکیں ۔
”علاقہ کون سا ہے تمھارا ؟“
”علام خیل ۔“اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے جواب دیا ۔
”اب اپنے متعلق تمام تفصیل بتاﺅ ۔“میں اگلا سوال کیا لیکن وہ ایک مرتبہ پھر خاموش ہو گئی تھی۔
”سنا نہیں ۔“میرے ہاتھ نے ایک مرتبہ پھر اس کے گال کا مزاج پوچھا ۔مگر وہ خاموش رہی تھی ۔میں نے دوبارہ اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے غار کے فرش پر پٹخا اور منہ ناک کا خیال کیے بغیر اس پر ٹھوکروں کی بارش کر دی ۔
”میں کیا پوچھ رہا ہوں غلیظ فاحشہ عورت ........“ہذیان بکتے ہوئے میں نے اسے زدو کوب کرناجاری رکھا ۔عجیب ڈھیٹ لڑکی تھی ،گھٹی گھٹی آواز میں کراہ رہی تھی لیکن میرے سوال کا جواب دینا اسے گوارا نہیں تھا ۔
”راجا !....کیا ہو گیا ہے تمھیں ۔“اسی وقت سردار غار میں داخل ہوا۔ اس نے ہاتھ میں کچھ سامان بھی اٹھایا ہوا تھا ،مجھے غصے کی شدت سے کف اڑاتے دیکھ کراس نے ہاتھ میں پکڑا سامان نیچے رکھا اور فوراََ مجھے کھینچ کر اس سے دور لے گیا ۔
میں گہرے گہرے سانس لے رہا تھا ۔
”کیا ہوا ہے ؟....بتاﺅ نا تمھیں ہو کیا گیا ہے ۔“سردار کے لہجے میں تشویش تھی ۔
”کچھ نہیں ہوا ....وہ فاحشہ کچھ بتانے کو تیار نہیں ۔“میں غضب ناک لہجے میں چلایا ۔
”تو عورتوں سے پوچھ گچھ کا یہ کون سا طریقہ ہے ؟“سردار نے افسوس بھرے انداز میں سر ہلایا۔
”یہ عورت ہے ؟....“میں غصے میں چلایا ۔”یہ ایک فاحشہ ہے ،عورت کے نام پر دھبا ہے ،کلنک کا ٹیکا ہے ، یہ ....یہ ....اس قابل ہے کہ اس کے ساتھ اس سے بھی برا سلوک کیا جائے ۔“
”کسی عورت کی بے راہ روی اس بات کی متقاضی نہیں ہوتی کہ اس کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے ۔اور یہ تو معصوم لڑکی ہے ،جانے کس بات نے اسے اس غلیظ مرد کی جھولی میں لا پھینکا ہے ۔“سردار کو پلو خان کے ساتھ میرے ناروا سلوک پر بہت دکھ ہوا تھا ۔”یار راجے !....مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی ، یقینا تم اپنے حواس میں نہیں ہو ۔کسی دوسری عورت کی بے وفائی کا بدلہ تم نے ایک معصوم اور بے گنا ہ لڑکی سے لینے پر تل گئے ۔“
میں نے بپھرتے ہوئے کہا ۔”یہ ایک دہشت گرد کی رکھیل ہے ۔یہ بے گناہ اور معصوم کیسے ہو گئی ۔“
”دہشت گرد وہ ہے یہ نہیں ۔اور اس کی عمر دیکھو کیا تمھیں نہیں لگتا کہ اس اڈے پر یہ کسی مجبوری کی وجہ سے پھنسی ہوئی تھی ۔ہو سکتا ہے اس کے کسی سر پرست نے قبیل خان سے رقم لے کر اسے اس کے حوالے کیا ہو ؟اس ضمن میں اور بھی کئی توجیحات کی جا سکتی ہیں ۔اور پوچھ گچھ کا کوئی طریقہ کار ہوتا ہے۔ یقین مانو اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم اس کے ساتھ یہ سلوک کرو گے تو میں یہاں سے کبھی نہ جاتا ۔“
”چلو تم ہی پوچھ لو ۔“غصے بھرے لہجے میں کہتے ہوئے میں نے پانی کی بوتل اٹھائی اور غٹاغٹ آدھی بوتل پی گیا ۔
میرے بوتل کو ایک طرف رکھتے ہی سردار نے پانی کی بوتل اٹھائی اور اوندھے منہ پڑی لڑکی کی طرف بڑھا۔سب سے پہلے اس نے اسے بازووں سے پکڑ کر اٹھایا اور دیوار کے سہارے بٹھاتے ہوئے پانی کی بوتل اس کے منہ سے لگا دی ۔میں اس منظر سے نگاہیں چرا کر پاﺅں پسارے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔
”مجھے افسوس ہے بہن !....اور اپنے ساتھی کے ناروا سلوک کی میں معافی چاہتا ہوں ۔“ سردار کا نرم اور نادم لہجہ مجھے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا ۔
اسی وقت میں نے لڑکی کی تیز سسکی سنی میں نے نظریں گھما کر اس کی جانب دیکھا ۔اس کی آنکھوں سے پانی کا سیلاب رواں تھا ۔
سردار نے جیب سے چاقو نکال کر اس کے ہاتھوں اور پاﺅں کی بندشیں کاٹ دیں ۔میں اسے کہنے لگا تھا کہ وہ لڑکی کتنی خطرناک لڑاکا ہے لیکن پھر خاموش ہو گیا ۔اسے روتے دیکھ کر مجھے بھی ندامت محسوس ہوئی مگر پھر اس کے کردار کا خیال آتے ہی مجھے لگا کہ میں نے ٹھیک کیا تھا ۔
”اچھا روﺅ مت ،اب کوئی بھی تمھیں کچھ نہیں کہے گا ۔اگر تم کچھ بھی نہیں بتا نا چاہتیں تب بھی خیر ہے ۔“اس کے رونے پر سردار کا دل پسیج گیا تھا ۔دشمن کے لیے رحم کی رمق نہ رکھنے والے پٹھان سے ایک لڑکی کے دوتین آنسوﺅ ں ہی برداشت نہیں ہوئے تھے ۔
”وہ میری بہن کا قاتل ہے۔مہینا بھر اپنے پاس قید رکھ کر وہ میری بہن کو زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ،جب اس کا دل بھر گیا تو اسے اپنے کتوں کے سامنے ڈال دیا ۔اس وقت اس کی عمر سترہ سال تھی ، وہ معصوم اتنے وحشیوں کی زیادتی برداشت نہ کرسکی اور جان کی بازی ہار گئی ،کیا اب بھی تمھارے لعنتی سردار کو قتل کرنا غلط اور ناجائز ہے ۔“
”ہمارا سردار !....کون ہمارا سردار ؟“سردار نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”تمھارا ایک ہی تو سردار ہے قبیل خان ۔“اس نے رندھی ہوئی آواز میں جواب دیا ۔ اس کا جواب سن کر سردار کے ساتھ میں بھی اچھل پڑا تھا ۔مجھے لگا وہ سردار کو الو بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔
سردار نے حیرانی بھرے لہجے میں کہا ۔”مگر قبیل خان تو ہمارا دشمن ہے اور میرا ساتھی تم سے قبیل خان ہی کے تو متعلق پوچھ رہا تھا ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے میری جانب دیکھا ۔
میں نے فوراََ کہا ۔”بکواس کر رہی ہے یہ ،ہمیں الو بنانا چاہتی ہے ۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”بکواس تم کر رہے ہو گھٹیا انسان !....ایک بندھی ہوئی عورت کو زدو کوب کر کے تم خود کو بڑا تیس مار خان سمجھ رہے ہو نا ۔“
”سردار !....اس کے منہ میں لگا م دو ورنہ یہ نہ ہو اس مرتبہ اسے میرے ہاتھوں سے پٹنے سے تم بھی نہ بچا پاﺅ۔“
”اسے چھوڑو ،مجھ سے بات کرو ۔“سردار نے میری بات در خور اعتنا ءنہ جانتے ہوئے اسے اپنی جانب متوجہ کیا ۔”تمھارے کہنے کا مطلب ہے قبیل خان تمھاری بہن کا قاتل ہے اور تم اسے قتل کرنے کے لیے حویلی میں گئی تھیں ؟“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا تھا ۔
کیا تم اپنی بات کی وضاحت کر سکتی ہو ؟“
”مجھے اس کے بارے اطلاع ملی کہ وہ اپنے عیاشی کے اڈے پر موجود ہے ۔میں فوراََ یہاں پہنچی لیکن اس کے گرد حفاظتی انتظام بہت سخت تھے ۔اس کے قریب پہنچنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔میں اسی جنگل میں چھپی رہی ۔جب وہ چلا گیا تو میں اس حویلی کے شمال مغربی کونے سے اندر داخل ہوئی اس حویلی کا نقشہ مجھے ایک ہمدرد نے ہاتھ بنا کر دیا تھا ۔میں اس کی خواب گاہ کا جائزہ لینا چاہتی تھی تاکہ اگلی مرتبہ جب وہ وہاں آرہا ہو تو اس کی آمد سے پہلے وہاں چھپ جاﺅں ۔سامنے والے محافظوں سے بچنے کے لیے میں گیلری کی کھڑکی کا شیشہ توڑ کر اندر داخل ہوئی اور وہاں تمھارے سورما ساتھی سے ہاتھا پائی ہو گئی ۔ میں اسے قبیل خان کا آدمی سمجھ رہی تھی ۔ہاتھا پائی کے دوران اسے غالباََ کچھ زیادہ ہی چوٹیں لگ گئیں جن کا بدلہ یہ مجھے باندھ کر لیتا رہا ۔“
اس کی تفصیل ختم ہوتے ہی سردار مشکوک لہجے میں مستفسر ہوا ۔”کیا میرے ساتھی نے تم سے قبیل خان کے متعلق کچھ نہیں پوچھا ۔“
نفی میں سرہلاتے ہوئے اس نے کہا ۔”اس نے تو بس میرا نام پوچھا ہے اور مجھے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
سردار نے ملامتی نظروں سے مجھے گھورا ۔
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”یہ اپنا نام بتانے پر ہی راضی نہیں تھی تو میں قبیل خان کے متعلق کیا پوچھتا ۔“
”اچھا جو کچھ ہوا ہے غلط فہمی میں ہوا ہے ۔میرا ساتھی تمھیں قبیل خان کی ساتھی سمجھ کر تشدد کرتا رہا۔اس نے سمجھ شاید تم بھی اس کی طرح دہشت گرد ہو ۔“
”تمھارے ساتھی سے بڑا دہشت گرد کون ہو سکتا ہے ۔“وہ مجھ پر تپی ہوئی تھی اور دیکھا جاتا تو اس کا غصہ بھی بجا تھا ۔
میں نے کہا ۔”خان صاحب !....یہ تمھیں الو بنا رہی ہے ۔یہ قبیل خان ہی کی ساتھی ہے ۔“
وہ تنک کر بولی ۔”چلو، میں اس کی ساتھی ہوں ،تم میرا کیا بگاڑ لو گے۔“
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”تھوڑی دیر پہلے والی ماربھول گئی ہو کیا ؟“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”اس وقت میرے ہاتھ پاﺅں بندھے تھے ،اب ہاتھ لگا کر دیکھو ۔“
میں غصیلے لہجے میں سردار کو مخاطب ہوا ۔”خان صاحب !....اگر تم اسے لگام نہیں دے سکتے تو پھر مجھ سے گلہ نہ کرنا ۔“
سردارنے خفگی بھرے لہجے میں کہا ۔”یار راجا!....کیا بچوں جیسی باتیں کر رہے ہو ۔“
میں اس کی بات کا جواب دیے بغیر غار سے باہر نکل گیا ۔دل ہی دل میں ندامت محسوس کرنے کے باوجود میں نہ تو پلو خان سے معذرت کہنے کو تیا رتھا اور نہ اپنی غلطی ہی کا اعتراف کرنا مجھے گوارا تھا۔اس کا نام بھی عجیب سا تھا پلو خان ۔پتا نہیں اس نے مجھے اپنا نام صحیح بتایا بھی تھا یا نہیں ۔سر جھٹک کر میں قبیل خان کی حویلی کی جانب دیکھنے لگا ۔لیکن اس جانب سے مجھے دھواں وغیرہ اٹھتا ہوا دکھائی نہیں دیا حالانکہ میں نے سردار کو واضح طور پر کہا تھا کہ حویلی کو آگ لگا دے ۔ایک دفعہ تو میرا دل چاہا کہ اس طرف خود جا کر آگ لگا آﺅں مگر پھر میں نے یہ ارادہ ترک کردیا کیونکہ ہمارے کام کا اصول یہی تھا کہ جب تک میں سردار سے مکمل تفصیل معلوم نہ کر لیتا میرا اس طرف جانا نہیں بنتا تھا ۔
سردار نے غار کے دروازے پر نمودار ہو کر کہا ۔”راجے !....کھانا کھا لو۔“
”کھانا ؟“میں نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”قبیل خان کے آدمیوں نے جو اپنے لیے جو کھانا بنایا تھا میں ساتھ لے آیا ہوں کہ ضائع نہ ہو جائے ۔“
”ٹھیک ہے ،تم لوگ کھاﺅ مجھے بھوک نہیں ہے ۔“
”بے وقوفی کی باتیں نہ کرو سمجھے ۔“اس نے قریب آ کر مجھے بازو سے پکڑکر کھینچا۔”وہ ایک مظلوم لڑکی ہے ۔“
”یار !....کہہ دیا نا کہ بھوک نہیں ہے ۔“
”اچھا کھانا نہ کھاﺅ لیکن ہمارے ساتھ بیٹھ تو جاﺅ نا ۔“ زبردستی مجھے اندردھکیل کروہ خود باہر سے خشک لکڑیاں اٹھانے لگا ۔
وہ دیوار سے ٹیک لگائے پتھریلی چھت میں کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی ۔اس کے ہونٹوں سے ابھی تک خون رس رہا تھا ۔سفید چہرہ میرے مارے ہوئے تھپڑوں کی وجہ سے گہرا سرخ ہو گیا تھا ۔اس کے چہرے پر چھائے غم کے بادل دیکھ کر میرے دل میں مستور ندامت کے اثرات اور گہرے ہو گئے تھے ۔
سردار نے پہلے سے بنے ہوئے پتھروں کے چولھے کے درمیان میں لکڑیاں رکھ کر انھیں آگ لگائی اور اپنے تھیلے سے سٹیل کا کٹورا نکال کر شاپر میں موجود سالن انڈیلنے لگا ۔ دوسرے شاپر میں روٹیاں بند تھیں ۔سالن کا کٹوار آگ پر رکھ کر اس نے پانی کی بھری ہوئی بوتل اور سٹیل کا گلاس بھی تھیلے سے نکال لیا ۔سالن گرم ہوتے ہی اس نے درمیان میں سالن رکھ کر کہا ۔
”پلوشہ !....آﺅ کھانا کھا لو ۔“
میں نے سوچا۔”تو گویا اس کا نام پلوشہ خان ہے ۔شاید مردانہ حلیے کی وجہ سے یہ لوگوں کو اپنا نام پلو خان بتاتی ہو ،اسی وجہ سے اس کے منہ سے غیر ارادی طور پر بھی پلو خان ہی پھسلا تھا ۔“
منہ سے کچھ کہے بنا وہ قریب ہو گئی ۔صبح ناشتے کے بعد سے میں نے بھی کچھ نہیں کھایا تھا ،پورا دن یونھی بھاگ دو ڑ میں گزرگیا تھا ۔اوراس وقت سورج غروب ہونے کی تیاری میں تھا ۔ مجھے اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی ۔
وہ کھانا بنانے والے کے نصیب میں نہیں تھا ۔اور کھانا بناتے وقت اس نے یہ سوچا بھی نہیں ہو گا کہ یہ کھانا وہ اپنے قاتلوں کے لیے بنا رہا ہے ۔واقعی انسان بہت بے خبر، انجان اور ناواقف ہے ۔ سالوں بعد کے منصوبے بنانے والے کو اگلے پل کا پتا نہیں ہوتا ۔
اگر کھانا لذیز نہیں بھی تھا تو اس وقت بھوک کی شدت نے اسے مزیدار بنا دیا تھا ۔
پلوشہ جبڑوں پرلگنے والے مکوں کی وجہ سے نوالہ صحیح طور پر چبا نہیں پا رہی تھی ۔اسی وجہ سے دو تین نوالے لے کر وہ پیچھے ہو گئی ۔
سردار نے فوراََپوچھا۔ ”ولے سہ چل دے خورے؟“(کیوں ،کیا بات ہے بہن)
اس نے غصے بھری نگاہ مجھ پر ڈال کرکہا ۔”کچھ نہیں بھائی !“
میں اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”تم بغیر بتائے سب کچھ اگل دیتیں ،تو ابھی پیٹ بھر کر کھانا بھی کھا لیتیں،یہ سب تمھاری ضد بازی ہی کا نتیجہ ہے ۔“
”تم فکر نہ کرو ....قبیل خان کے بعد تمھارا ہی نمبر ہے ۔اسے قتل کر کے میں تمھیں اپنے ہاتھوں سے گولی ماروں گی ۔“
میں نے بے پرواہی سے کندھے اچکائے ۔”ہاں اس خواہش میں پہلے بھی کافی منوں مٹی تلے آرام کر رہے ہیں ان میں ایک کا اضافہ ہو جائے گا ۔“
وہ طنزیہ انداز میں ہنسی ۔”اتنے تیس مار خان ہوتے تو ایک لڑکی کے ہاتھ پاﺅں باندھ کر اس پر تشدد نہ کرتے ۔“
”عجیب بات ہے کہ تم خود کو لڑکی سمجھتی ہو ۔“میں نے اس کے حلیے پر پھبتی کسی ۔
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی ۔”تم جیسوں کے لیے میں یقینا لڑکی نہیں ہوں ۔“
”تم لوگوں کو لڑنے کے علاوہ بھی کچھ سوجھتا ہے ۔جب دونوں جانتے ہو کہ یہ لڑائی غلط فہمی کا نتیجہ تھی تو ا ب پرانی بات کو بھول جانا چاہیے ۔یوں بھی معافی تلافی ہونے کے بعد گزری باتوں کی اہمیت ختم ہو جایا کرتی ہے ۔“
”سردار بھائی !....معافی تلافی کب ہوئی ؟“وہ حیرانی بھرے لہجے میں سردار کو مخاطب ہوئی۔”معاف تو میں اسے تب کرتی، جب یہ معذرت کرتا ،اپنی غلطی اور زیادتی کا اعتراف کرتا ۔اور یقین کرو میں اس کے بعد بھی اسے معاف کرنے پر تیار نہیں ہوں ۔ہاں اس کے بعد اتنا ہوتا کہ قبیل خان کو قتل کرنے کے بعد جب اس کی باری آتی تو میں اسے درد ناک طریقے سے قتل نہ کرتی ،بس سر میں گولی مار کر جلد از جلد اس کی جان نکال دیتی ۔“
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”ویسے تمھیں کسی نے یہ نہیں بتایا کہ تمھاری زبان کچھ زیادہ ہی تیز چلتی ہے ۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”وقت آنے پر پتا چل جائے گا کہ میری زبان تیز چلتی ہے یا ہاتھ پاﺅں۔“
سردار زچ ہوتے ہوئے بولا۔”یار راجے !....تمھی چپ کر جاﺅ ۔“
میں کھانے سے ہاتھ کھینچتے ہوئے بولا۔”کس وقت چلیں گے ؟“
سردار نے کہا ۔”آج رات تو مشکل ہے ۔“
”کیوں ،مروانے کا ارادہ ہے کیا ۔“
”نہیں ،پلوشہ کو اکیلا چھوڑ کر تو نہیں جا سکتے ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔
”ہم نے اس کا ٹھیکا تو نہیں لے رکھا ۔یہ شکر کرے کہ اسے قتل کیے بغیر جانے کی اجازت دے رہے ہیں ۔“
”شکر تم کرو کہ سردار بھائی کی وجہ سے تمھاری جان عارضی طور پر بچ گئی ہے ۔کہ اب قبیل خان کی موت کے بعد ہی تمھارا نمبر آئے گا ۔“
سردار پلوشہ کی بات پر توجہ دیے بغیر بولا۔”یہ اکیلی کیسے رہ پائے گی ۔اور یہ بھی تو سوچو اس کی حالت کے ذمہ دار ہم دونوں ہیں ۔“
میں نے غیض بھری حیرانی سے پوچھا ۔”تو کیا جب تک یہ ٹھیک نہیں ہوجاتی ہم اس کی تیمار داری کرتے رہیں گے ۔“
”تمھاری گھٹیا تیمارداری کی مجھے بالکل بھی ضرورت نہیں ہے ،البتہ سردار نے مجھے بہن کہا ہے اور بہنوں کا خیال بھائیوں کو رکھنا پڑتا ہے ۔“اس کی ہر بات اور ہر جملے میں میری ذات سے نفرت کا اظہار بھرا ہوا تھا ۔لیکن اس کے باوجود نہ جانے کیوں مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ یہ سب دل کی گہرائی سے نہیں کہہ رہی ۔
”سردار خان !....میں نے تمھیں کہا تھا کہ حویلی کی ہر اس چیز کو تیلی دکھا دو جو آگ پکڑ سکتی ہے ،لیکن تم نے ایسا نہیں کیا ۔اگر یہ کام تم کرتے تو یقینا اتنی جلدی لوٹ کر واپس نہ آتے ۔شاید اس وقت تک میں اس کی یہ لمبی زبان بھی کاٹ چکا ہوتا ۔اور اس کی یہ گیدڑ بھبکیاں سننے سے بچ جاتا۔“
”راجا صاحب !....وہاں ایک تہہ خانہ بھی موجود ہے جس میں دنیا جہاں کی آئی ای ڈیز اور بارود جمع ہے ۔ٹائم بم اور مختلف بارودی پھندے بھی پڑے تھے ۔پس میں نے دو ٹائم بم تہہ خانے میں لگا دیے اور دونوں گاڑیوں کے آئل ٹینک کے ساتھ بھی ایک ایک ٹائم بم لگا دیا ۔تمام پر میں نے چوبیس گھنٹے کا وقت سیٹ کر دیا ہے ۔تہہ خانے کے دروازے کے ساتھ میں نے سوئچ نمبر 4پل مارک ون لگا دیا ہے ۔کہ اگر کوئی چوبیس گھنٹوں سے پہلے وہاں آجائے تو ان ٹائم بموں کو پھٹنے سے نہ روک سکے۔“
”ویسے ایک پٹھان سے مجھے قطعاََ اس عقل مندی کی توقع نہیں تھی ۔“میں نے ہنستے ہوئے اردو میں کہا تاکہ پلوشہ کی سمجھ میں میری بات نہ آسکے۔ویسے ممکن تھا کہ وہ ارود جانتی ہو ۔لیکن اس علاقے کی عمومی خواتین اردو زبان سے نابلد ہیں ۔اور پلوشہ کے بارے بھی میرا اندازہ یہی تھا کہ وہ اردوزبان نہیں جانتی ۔میری بات پر اس نے کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا تھا ۔ یہ دیکھ کر تو میرا گمان یقین میں بدل گیاتھا۔ورنہ سردار کے تسلی دینے اور معذرت کرنے کے بعد سے تو وہ ہر فقرے میں مجھے مطعون کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
”ہاں میں جانتا ہوں کہ تم کتنے ایک عقل مند ہو ۔اس کا ثبوت ایک بے قصور لڑکی کے زخمی جسم کی صورت میری آنکھوں کے سامنے دھرا ہے ۔“سردار نے بھی جواب دینے کے لیے اردو زبان ہی کا سہارا لیا تھا ۔
”بہتر ہو گا کہ تم تھوڑی دیر آرام کر لو ۔اور میں اس وقت کوئی بد مزگی نہیں چاہتا ۔“میں اٹھ کر غار سے باہر آگیا ۔ سورج پہاڑی کے پیچھے غائب ہو گیا تھا ۔ملگجے اجالے میں میں نے دائیں بائیں نظر دوڑائی لیکن کوئی ایسی حرکت نظر نہ آئی جو مجھے کسی حفاظتی انتظام کی ترغیب دیتی ۔یوں بھی حویلی میں آنے والوں کادھیان اس طرف نہیں آ سکتا تھا ۔دشمن کس کو نقصان پہنچا کر وہیں بیٹھا نہیں رہتا ۔
اندھیرا گہرا ہونے تک میں غار کے باہر ہی پھرتا رہا اس دوران میں نے کافی لکڑیاں اکٹھی کر لی تھیں۔گو موسم خوشگوار تھا ،لیکن رات کے دو تین بجے سردی بڑھ جاتی تھی اس وجہ سے میں نے لکڑیاں اکٹھی کرنا ضروری سمجھا تھا ۔
میں لکڑیاں اندر لے جانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ سردار غار کے دہانے پر نمودار ہوا ۔”راجا صاحب !....اگر چاے پینا ہے تو آجاﺅ ۔“
میں نے اکٹھی کی ہوئی لکڑیوں کے ڈھیر سے آدھی لکڑیاں اٹھا کر کہا ۔”ہاں چاے تو ضرور پیوں گا ،تم ذرا لکڑیاں غار کے اندر لے جانے میں میری مدد کرو ۔“
سردار نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باقی لکڑیاں اٹھا لیں ۔چولھے میں پہلے والی لکڑیاں ابھی تک جل رہی تھیں ۔ان کی روشنی میں مجھے پلوشہ سلپنگ بیگ میں گم نظر آئی ۔
”یہ مصیبت سو گئی ہے ۔“میں سٹیل کے کٹورے سے کپ میں چاے انڈیلنے لگا ۔
”ہاں ،میں نے اسے دردکش گولیاں کھلاکر سلا دیا ہے ۔“
”کہیں اسے میرے والے سلپنگ بیگ میں تو نہیں سلا دیا ۔“
”مجبوری تھی یارا !....تمھارا سلپنگ بیگ تھوڑا آرام دہ ہے ۔میں نے سوچا اس کی حیثیت ہمارے پاس مہمان کی سی ہے اور پھر یہ لڑکی بھی ہے تو ........“
”شکریہ ۔“میںتلخ انداز میں قطع کلامی کرتا ہوا غار کی سنگلاخ دیوار سے ٹیک لگا کربیٹھتے ہوئے گرم چاے سے لطف اندوز ہونے لگا۔پلوشہ کی گہری سانسیں اس بات کا اعلان کر رہی تھیں کہ اسے نیند آ گئی تھی ۔
”ویسے راجے یار !....تم ایسے چڑچڑے ،بد اخلاق اور ظالم تو نہیں تھے ۔“سردار میرے ساتھ لگ کر بیٹھتا ہوا دکھی لہجے میں پوچھنے لگا ۔
”سردار خان !....جانتے ہو میں نے اپنی بیوی کو طلاق کیوں دی تھی ۔“پلوشہ کے نیند میں ہونے کے باوجود میں نے اردو زبان ہی کوذریعہ اظہار بنایا تھا ۔
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔مجھے اردو میں بات کرتے دیکھ کر اس نے بھی پشتو بولنے سے احتراز برتا تھا ۔
”یاد ہے جس دن امریکہ سے لوٹے تھے ،ہم کتنے خوش تھے ۔تمھیں چنارے بیگم کے پاس جانے کی جلدی تھی اور میں ماہین کے پاس جانے کو بے تا ب تھا ۔اور اپنے دکھ سکھ کے ساتھی سے ملنے کی لگن ایسی تھی کہ ہم نے گھر وںکا رخ کرنے میں کوئی دیر نہیں لگائی تھی ۔“
”ایسے لمحات بھولتے تو نہیں ہیں نا یار !“
”سردار شہر سے میں نے اسپیشل ٹیکسی کروا کر گاﺅں کا رخ کیا ۔اور پھر ابو جان کی نیند خراب نہ کرنے کے خیال سے میں دروازے پر دستک دینے کے بجائے دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوا اور جب لا تعداد خواہشوں ،امنگوں اور محبت سے لبریز دل کے ساتھ اپنی خواب کے دروازے پر پہنچا تو خواب گاہ کی لائیٹ جل رہی تھی اور میری بیوی اکیلی نہیں تھی ۔میری شریک حیات ،میری لاڈلی بیوی ،مجھ سے محبت کی دعوے دار ،ہزاروں وعدے اور قسمیں کھانے والی ایک اور مرد کی آغوش میں پڑی تھی ۔سردار تم اندازہ کر سکتے ہو کہ اس وقت مجھ پر کیا بیتی ہو گی ۔میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں ؟اس مرد کو قتل کروں ، بیوی کی گردن اتاروں ،دونوں کوزندہ زمین میں دفن کردوں یا خودکشی کر نا بہتر ہوگا ۔لیکن پھر میں نے ان میں سے کوئی کام نہ کیا اور ان دونوں کو اسی وقت گھر سے نکال کر بیوی کو طلاق دے دی ۔جینیفر کے بارے تم جانتے ہو کہ آخری دن تک وہ مجھ سے محبت کا ڈراما رچاتی رہی ۔کس لیے ؟....فقط اس لیے کہ میں ایک اچھا نشانے باز تھا اور اس کے سینئرز کو میری ضرورت تھی ۔یقین مانو اس کے بعد مجھے عورت ذات سے نفرت ہو گئی ،گھن آنے لگی اس ذات کی مکاریوں اور چالبازیوں سے ۔بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک تھا لیکن ابھی پچھلے دنوں رومانہ نے اس نفرت کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا ۔شادی شدہ ہونے کے باوجود وہ مجھے شادی پر اکساتی رہی ۔آخر کسی کی بیوی تو تھی نا وہ ۔یہ ساری باتیں میرے ذہن میں ہر وقت گردش کرتی رہتی ہیں ۔درحقیقت پلوشہ کے چہرے میں مجھے ان تینوں خواتین کی جھلک نظر آئی ،وہ تینوں جو مجھے پسند ہونے کے باوجود میرے لیے قابل نفرت ہیں ۔پلوشہ ان تینوں سے خوب صورت ہے اور اتنی خوب صورت لڑکی کا یوں بے راہ رو ہونا ،قبیل خان جیسے شخص کی داشتہ ہونا میرے لیے اتنا تکلیف دہ اور افسوس ناک تھا کہ میں اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکا ۔اس نے بھی تو مجھے حقیقت نہیں بتائی چپ چاپ مار کھاتی رہی ۔بعد میں میرا ندامت ظاہر کرنا یا معذرت کرنا کس کام آتا ۔تم نہیں جانتے اس معصوم لڑکی کو میں نے کس قدر زدوکوب کیا ہے ۔اس کے پھول سے گالوں پر کتنے تھپڑ مارے ہیں ،اس کے ریشمی بالوں کو کس بے دردی سے کھینچا ہے ۔“میں ایک لحظے کے لیے رکا اور پھر گہرا سانس لیتے ہوئے گویا ہوا ۔”ان تینوں خواتین کا بدلہ میں نے اسی سے لے لیا ہے ۔اس سلوک کی حق دار وہ تینوں تھیں لیکن اس کا نشانہ ایک معصوم بن گئی جو پہلے سے قبیل خان جیسے غلیظ کی ڈسی ہوئی تھی ۔“
سردار نے غمگین لہجے میں کہا ۔”مجھے تمھارے دکھ کا ادراک ہے راجے !....یقینا ایک مرد کے لیے سب سے افسوس ناک اور دکھ دینے والی بات اس کی بیوی کی بے وفائی ہوتی ہے ۔یہاں تک کہ دنیا بھر کی عورتوں کے ساتھ غلط تعلق رکھنے والا مرد بھی اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اس کی بیوی کسی غیر کی طرف التفات رکھے ۔اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آج تم نے جو کچھ کیا جذبات سے مغلوب ہو کر کیا ہے ۔ لیکن بعد میں اس معصوم لڑکی کی دل جوئی ہی کے لیے سہی ،اس سے معذرت توکر لینا تھی ۔“
”نہیں کر سکتا ،کسی عورت سے بھی معذرت نہیں کروں گا ۔اب تو اس صنف سے میری نفرت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔میری طرف سے بھاڑ میں جائے ۔اس کا کام بنتا تھا کہ مجھے حقیقت بتا دیتی۔“میری ذہنی رو پھر بھٹک گئی تھی ۔ایک لمحے پہلے میں اسے معصوم گردان رہا تھا لیکن جب سردار نے معذرت کی بات کی تو میرے اندر وہی عورت بیزار ذیشان جاگ اٹھا ۔
”اچھا چھوڑو اس موضوع کو ۔“وہ اصرار ترک کرتا ہوا بولا۔”یوں بھی اس نے صبح چلے جانا ہے ۔بعد میں یہ جانے اور قبیل خان جانے۔ہو سکتا ہم سے پہلے وہ اسی کے ہاتھوں نشانہ بن جائے ۔“
”تہہ خانے میں بارود کے علاوہ کچھ نہیں تھا ؟“میں نے فوراََ اس کی با ت پر عمل کرتے ہوئے موضوع تبدیل کر دیا ۔
”تھوڑا بہت ایمونیشن بھی پڑا تھا ۔البتہ مجھے اپنے کام کی کوئی چیز نظر نہ آئی ۔اور بارود تو اتنا زیادہ تھا کہ اس حویلی کی کوئی اینٹ بھی سلامت نہیں رہے گی ۔“
”اپنی منہ بولی بھائی نما بہن کو بھی اچھی طرح سمجھا دینا تھا ،یہ نہ ہو ہم سے علاحدہ ہوتے ہی پھر اس حویلی میں گھس جائے ۔“
” تمھیں بتاتے وقت وہ بھی تو یہ تفصیل سن رہی تھی ۔مجھے نہیں امید کہ وہ ایسی غلطی کر سکتی ہے۔“
”ممکن ہے وہ ہمیں دھوکا دے رہی ہو ۔یقین مانو میں نے تو عورت کے ایسے ایسے روپ دیکھے ہیں کہ اب کسی عورت پر اعتبار کرنے کو دل نہیں چاہتا ۔“
”نہیں اس کی باتوں میں حقیقت ہے ،یوں بھی یہ جس شیشے کو توڑ کر قبیل خان کی خواب گاہ میں گھسی ہے وہ میں دیکھ کر آیا ہوں ،صاف نظر آ رہا تھاکہ کوئی شخص وہ شیشہ توڑ کر اندر داخل ہوا ہے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی تو دیکھو کہ بہ قول تمھارے جب اس کا اور تمھارا سامنا ہوا اس وقت تم دونوں ایک دوسرے کے وجود سے بے خبر تھے ۔تو ایسی حالت میں اسے اپنے ہاتھوں میں کلاشن کوف لے کر گھومنے کی کیا ضرورت تھی ۔دو اور دو چار کی طرح یہ بات واضح ہے کہ وہ خود تمھاری طر ح حویلی والوں کی دشمن تھی ۔اور سب بڑھ کر یہ بات کہ تم نے اس سے قبیل خان کی ذات کے متعلق کوئی سوال ہی نہیں کیا ۔“
”اچھا زیادہ طرف داری کی ضرورت نہیں مجھے یقین آ گیا کہ وہ تمھاری منہ بولی بہن ہے ۔ اب جاﺅ آرام کرو مجھے یوں بھی نیند نہیں آ رہی ۔“
”ٹھیک ہے یار !....جب نیند آنے لگے تومجھے جگا دینا ۔“وہ اٹھ کر اپنے تھیلے سے سلپنگ بیگ نکالنے لگا ۔
سردار لیٹنے کے چند لمحوں بعد ہی سو گیا تھا۔دن بھر کی بھا گ دوڑ کے باوجودنیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔بیٹھے ہوئے جانے کون کون سے خیالات میرے دماغ میں گردش کر رہے تھے۔ ماہین کی بے وفائی ،جینیفر کا دوغلا پن ،رومانہ کی بے وقوفی ،ابو جان کی بہو اور بچے کی خواہش ،پھوپھو جان ، اپنے موجودہ حالات ،اپنی جان کی قربانی دے کر مجھے بچانے والا استاد صادق ،مجھے سنائپر اور ہتھیاروں کی سمجھ بوجھ عطا کرنے والا راﺅ تصور،استاد عمر دراز اپنا یار اویس اور پھر عجیب و و غریب کردار کی مالک پلوشہ ۔میں انھی خیالات میں کھویا رہا ۔یہاں تک کہ فضاﺅں کا سینہ چیرتی ہوئی آذان کی پر نور آواز میرے کانوں تک پہنچی ۔
گرم چادر اپنے بدن کے گرد لپیٹتا ہوا میں غار سے باہر نکل آیا ۔پانی کی چاروں خالی بوتلیں بھی میں نے ہاتھ میں پکڑ لی تھیں ۔چھے سات سو گز کے فاصلے پر چشمہ موجود تھا ۔ٹھنڈے پانی سے وضو کر کے میں نے بوتلیں بھریں اور غار میں واپس لوٹ آیا ۔
آگ کب کی بجھ چکی تھی ،سردار کے لیٹنے کے بعد میں نے آغ جلانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی ۔اس وقت اچھی خاصی خنکی محسوس ہو رہی تھی ۔چولھے میں لکڑیاں رکھ کر میں نے لائیٹر سے آگ جلائی اور چادر بچھا کر نماز ادا کرنے لگا۔نماز بھی عجیب شان والی عبادت ہے لگتا ہے انسان نے اپنے رب سے ملاقات کرلی ہو ۔ساری دنیا سے اپنے دکھ درد چھپانے والا انسان اپنا ایک ایک غم ،کمی ، پریشانی اپنے رب کی بارگاہ میں یان کرتے ہوئے کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا ۔میں نے بھی دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہوئے اپنی ساری پریشانیاں ،سارے دکھ ،ساری مصیبتیں اپنے مالک کے حضور رکھ دیں ۔
چادر جھاڑ کر میں نے تھیلے پر رکھی اور چاے بنانے لگا ۔اسی وقت سردار کی نیند سے بوجھل آواز میرے کانوں میں پڑی ۔
”کیا ٹائم ہوا ہے ؟“
”اگر کوشش کرو تو نماز پڑھ سکتے ہو ۔“
”مجھے جگایا کیوں نہیں ؟“سلپنگ بیگ کی زنجیر کھول کر وہ باہر نکل آیا ۔
”نیند ہی نہیں آ رہی تھی ۔“
”اچھا میں نماز پڑھ لوں ۔“کہتے ہوئے وہ غار سے نکل گیا ۔اس کی واپسی تک میں چاے بنا کر پی بھی چکا تھا ۔وہ نماز چشمے کے کنارے ہی پڑھ کر لوٹا تھا ۔
اپنے لیے گلاس میں چاے ڈال کر اس نے تھیلے سے بسکٹ نکالے اور ناشتا کرنے لگا ۔
”اب کیا اراد ہ ہے ؟“بسکٹ کو دانتوں سے کاٹ کر اس نے اس نے چاے کا بڑا سا گھونٹ لیا۔
”چاے پی کر نکلتے ہیں ،تاکہ دھماکے ہونے کے بعد ہم اس علاقے سے کافی دور جا چکے ہوں۔“
”ٹھیک ہے ۔“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس نے سوئی ہوئی پلوشہ کو آواز دی ۔” پلوشے !“
”جی بھائی !“سلپنگ بیگ سے برآمد ہوتے ہوئے اس نے توبہ شکن انگڑائی لی ۔میں اس کے بدن سے نظر چرا کر غار سے باہر دیکھنے لگا جہان سورج طلوع ہو رہا تھا ۔
سردار نے پانی کی بوتل اس کی جانب بڑھا کر کہا ۔”منہ ہاتھ دھو لو ۔“
پانی کی بوتل لے کر وہ لنگڑاتے ہوئے غار سے باہر نکل گئی ۔اس لنگڑاہٹ میں بھی ایک خاص قسم کی روانی نظر آ رہی تھی ۔مردانہ قمیص اس پر کافی کھلی تھی لیکن وہ بے ڈھنگا لباس بھی اس کی خوب صورتی کو نہیں گہنا سکا تھا ۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ وہ لباس کسی بھی فیشن ایبل لباس سے سے زیادہ اس پر جچ رہا تھا۔
ہاتھ منہ دھو کر وہ اندر آئی اور میری چادر اٹھا کر چہرہ خشک کرنے لگی ۔
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”ویسے اتنا اخلاق انسان میں ہونا چاہیے کہ کسی چیز استعمال کرنے سے پہلے مالک سے اجازت مانگ لے ۔“
”ہاں یہ ہے نا ریشم و کمخواب کی چادر کہ یوں پھبتیاں کس رہے ہو ۔اور بالفرض میں نے یہ گندی چادر استعمال کر بھی لی تھی تو تمھیں ہی اخلاق کا مظاہرہ کر لینا چاہیے تھا ۔“یہ کہتے ہوئے وہ سردار کو مخاطب ہوئی ۔”سردار بھائی !....اگر پانی کی اور بوتل موجود ہے تو میں دوبارہ ہاتھ منہ دھونا چاہوں گی ۔“
”پلوشے !....بے وقوفوں کی سی بات نہ کرو اور چاے پیو ۔“
”اگر چاے اس نے بنائی ہے تو مجھے نہ بتانا ورنہ میں پی نہیں سکوں گی ۔“یہ کہہ کر وہ چوکی کے قریب آ کر بیٹھ گئی ۔اس نے چپ رہنا تو سیکھا ہی نہیں تھا ۔عجیب بد مزاج ،جھگڑالواور باتونی لڑکی تھی ۔ مجھے معلوم تھا کہ اگر میں یہ کہہ بھی دیتا کہ وہ چاے میں نے بنائی ہے تب بھی وہ چاے پینے کا کوئی نہ کوئی رستا نکال لیتی ۔
سردار نے چاے کا گلاس بھر کر اس کی جانب بڑھایا اور ساتھ تین چار بسکٹ بھی اس کے ہاتھ میں پکڑا دیے ۔ عام بسکٹوں کے برعکس یہ کافی موٹے اور لمبے بسکٹ تھے ۔تین چار بسکٹ کھا کر آدمی پورا دن مزید کچھ کھائے بغیر آرام سے گزار سکتا تھا ۔
چاے میں ڈبو کر بسکٹ کھاتے ہوئے اس کے جبڑوں پر کوئی زور نہیں پڑ رہا تھا وہ آرام سے سارے بسکٹ کھاگئی ۔اس کے چاے پینے تک ہم اپنا سامان سمیٹ کر سفری تھیلوں میں ڈال چکے تھے ۔ قبیل خان کے آدمیوں سے چھینی ہوئی فولڈنگ بٹ کی کلاشن کوفیں بھی ہم نے تھیلوں ہی میں ڈال لی تھیں۔
پلوشہ کی کلاشن کوف اس کی جانب بڑھاتے ہوئے سردار نے پوچھا ۔”تم نے کہاں جانا ہے؟“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی ۔”فی الحال تو تمھاری مہمان ہوں ۔“
میں نے بپھر کر کہا ۔”ایسا سوچنا بھی مت ۔“
”میں سوچنے میں وقت ضائع نہیں کیا کرتی ۔جوکرنا ہو کر گزرتی ہوں ۔ویسے بھی میں نے تم سے نہیں پوچھا ،میں اپنے بھائی کو بتا رہی ہوں ۔“
”ٹھیک ہے ،جاﺅ اپنے بھائی کے ساتھ ۔“میں ڈریگنوو رائفل کندھے پر اٹھا کر چل پڑا۔
سراد نے لجاجت بھرے لہجے میں مجھے آواز دی ۔”یار راجے !....بات تو سنو ۔“
میں نے رک کر اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا ۔”جی خان صاحب!“
وہ ملتجی ہوا ۔”انگور اڈے تک تو یہ ہمارے ساتھ جا سکتی ہے نا ؟“
اس نے اردو میں بات کی تھی اس لیے میں بھی اردو ہی میں جواب دیا ۔”ہم انگور اڈے نہیں جا رہے ۔“
”تو کہاں جا رہے ہیں ؟“اس کے لہجے میں حیرانی در آئی ۔
”رغزئی ۔“
سردار نے کہا ۔”تو یہ وہاں تک چلی جائے گی ۔“
میں نے پوچھا ۔”اس کے بعد کیا ہوگا ؟“
”وہاں سے اس کی مرضی جہاں جانا چاہے ۔“
”تم کسی مستند ڈاکٹر سے میرا علاج کراﺅ گے ،مجھے نیا لباس خرید کر دو گے اس کے بعد شایدمیں تمھاری جان چھوڑ دوں ۔“
جاری ہے
 

اس کی بات سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ اردو زبان زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت جانتی ہے ۔
میں نے کڑے تیوروں سے اسے گھورا۔لیکن اس نے نظریں چرانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ بہت ہی نڈر ،بے باک اور بے پرواہانہ انداز کی مالک تھی وہ ۔اس کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ کر بالکل بھی یہ اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ سترہ اٹھارہ سال کی دوشیزہ ہے ۔اس کے برعکس وہ پر اعتماداور حوصلہ مند مرد لگتی ۔یقینا کم عمری ہی میں اس نے حالات سے مقابلہ کرنا سیکھ لیا تھا ۔
میں اس کی بات کا جواب دیے بغیر چل پڑا۔
”ایک مشورہ تھا سردار بھائی !“غار سے نکلتے ہوئے وہ سردار کو مخاطب ہوئی ۔اس کی آواز بہہر حال اتنی اونچی ضرور تھی کہ میرے کانوں تک پہنچ گئی ۔
سردار نے کہا ۔”بولو۔“
”یہاں سے رغزئی کا فاصلہ قریباََ بیس ،بائیس کلومیٹر ہو گا ۔اور تمام رستا پہاڑی ہے ۔شاید شام کی آزان ہمیں رستے ہی میں ہو جائے ۔اس کے برعکس انگور اڈے کا فاصلہ پانچ چھے کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہوگا اور وہاں سے رغزئی کے لیے ویگن وغیرہ بھی مل جائے گی ۔“
اس کا مشورہ رد کرنے کے قابل نہیں تھا ۔یوں بھی وہاں سے رغزئی جانے کا ارادہ میں نے اس لیے کیا تھا کہ میری نظر میں انگور اڈے کے مقابل رغزئی نزدیک تھا ۔
”انگور اڈہ پانچ چھے کلومیٹر کے فاصلے پر کیسے ہو سکتا ہے ،جبکہ آتے وقت ہمیں تیرہ چودہ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑا تھا ۔ “پلوشہ کے بجائے میں سردار کو مخاطب ہوا۔ پلوشہ سے بات کرتے ہوئے مجھے جھجک محسوس ہو رہی تھی ۔
وہ جواب دینے کے بجائے پلوشہ کی جانب دیکھنے لگا ۔
”تم لوگ خڑ کلے والی سڑک پر چل کر آئے ہو گے ۔وہ گاڑی کا رستا ہے ،ورنہ پیدل جانے کے لیے پانچ چھے کلو میٹر سے زیادہ فاصلہ نہیں ہوگا ۔“
”کس طرف جانا ہوگا ؟“اس مرتبہ بھی میں سردارہی کو مخاطب ہوا تھا ۔
وہ سردار کے پوچھنے کا انتظار کیے بغیر گھوڑے کی زین نما ایک پہاڑی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔”ہمیں اس پہاڑی کے دائیں کنارے کی سیدھ لینا ہوگی ۔“
میں کوئی تبصرہ کیے بغیر مطلوبہ جانب مڑ گیا ۔وہاں تک ہمیں پون گھنٹا لگ گیا تھا ۔
پہاڑی کے قریب پہنچتے ہی اس نے کہا ۔”پہاڑی کی دائیں ڈھلان پر ہو کر آگے بڑھتے جائے ،پہاڑی کے اوپر چڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔“
وہ ڈھلان عبور کر کے ہم ایک نالے میں اتر گئے ۔بیس پچیس منٹ اس نالے میں چلنے کے بعد وہ نالہ انگریزی کے حرف ”وائی“ کی طرح دو شاخوں میں بٹ گیا تھا ۔
”بائیں جانب ۔“نالے کے سنگم پر مجھے رکتے دیکھ کر اس نے با آواز بلند پکارا۔اس وقت سردار میرے ساتھ چل رہا تھا ۔وہ ہم سے چند قدم پیچھے چلتے ہوئے شاید کچھ گنگنا بھی رہی تھی ۔
ہم جونھی بائیں جانب مڑے اس نے دوبارہ آواز دی ۔”سردار بھائی !“سردار کے ساتھ بے اختیار میں بھی مڑ کر اس کی جانب دیکھنے لگا ۔
اس نے شہادت کی انگلی اٹھاتے ہوئے کہا ۔”مجھے دو تین منٹ لگیں گے ۔“یہ کہتے ہوئے وہ ایک پتھر کی چٹان کے پیچھے غائب ہو گئی ۔
ہم چند قدم آگے چل کر دو صاف پتھروں پر بیٹھ گئے ۔
”راجے !....ایک بات کہوں ۔“سردار نے موضوعِ گفتگو تبدیل کیا ۔اس سے پہلے ہم ڈٰ بلاک جا کر وہاں سے بیرٹ ایم 107کو لانے کی بات کر رہے تھے ۔ہمیں امید تھی کہ میجر اورنگ زیب نے اب تک اس کا ایمونیشن منگوا لیا ہو گا ۔
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”میرے نہ کہنے سے تم نے کون سا باز آ جانا ہے ۔“
”مجھے لگتا ہے پلوشہ تمھاری ذات میں خاصی دلچسپی لے رہی ہے ۔“
”خان صاحب !....پہلی بات، یہ تمھارا ذہنی خلجان ہے ۔اور دوسرا اس کے بعد میں تمھارے منہ سے اس موضوع پر کوئی گفتگو نہ سنوں ۔“
”اس میں مرچیں چبانے کی کیاضرورت ہے میں نے یہ تو نہیں کہا کہ اسے اپنا لو ۔“سردار کو میری بات خاصی محسوس ہوئی تھی ۔
”عورت ذات میرے لیے کتنی قابلِ نفرت ہے اس کا اندازہ تمھیں اب تک نہیں ہوا ۔“
”اچھا ٹھیک ہے یار چھوڑو اس موضوع کو ،یوں بھی تم میں پہلے والے ہنس مکھ ،اخلاقی اور ٹھنڈے مزاج والے ذیشان کی کوئی بات ہی باقی نہیں رہی ۔“
”میں جا رہا ہوں ،اپنی باجی صاحب کو ساتھ لیتے آنا ۔“اخلاق سے عاری لہجے میں کہتے ہوئے میں آگے بڑھ گیا ۔
اس کے بعد انگور اڈے تک میرے قریب نہیں آیا تھا ۔وہ اور پلوشہ بیس چپیس قدم کا فاصؒہ رکھ کر میرے پیچھے پیچھے چلتے رہے ۔وہ نالہ بتدریج گہرائی میں اترتا چلا گیا ۔نالے کے اختتام پر پہاڑی ختم ہو رہی تھی ۔اورکلومیٹر بھر کے فاصلے پر انگور اڈے کی آبادی نظرآرہی تھی ۔بلاشبہ پلوشہ ہمیں نہایت مختصر رستے سے وہاں تک لے آئی تھی ۔گھڑی پر نگاہ دوڑائی تو دس بجتے دکھائی دیے ۔
آبادی شروع ہوتے ہی وہ دوونوں تیز قدموں سے چلتے ہوئے میرے قریب آ گئے ۔مسلسل چلنے کی وجہ سے پلوشہ کی چال میں بھی لنگڑاہٹ کم ہو گئی تھی ۔
”کمانڈر نصراللہ خان خوجل خیل کی بیٹھک میں جائیں گے ؟“سردار نے میرے قریب آتے ہی پوچھا ۔
”جی ہاں ،اور محترمہ کو اب خدا حافظ کہہ دو ۔“
”اگر میں سفارش کروں کہ صبح تک یہ ہمارے ساتھ ہی رہے گی ۔“
”کوئی ضرورت نہیں ۔“میں بپھر گیا تھا ۔
سردار نے دکھ بھرے لہجے میں کہا ۔”یار !....میرا اتنا حق نہیں بنتا کہ کہ منہ بولی بہن کو ایک دو راتیں اپنے ساتھ رکھ لوں ۔“
مجھے احساس ہوا کہ پلوشہ کے بارے میں نے کچھ زیادہ ہی سخت رویہ رکھ لیا تھاکہ اس کی دشمنی میں سردار کی دوستی کو بھی پس ڈال رہا تھا ۔
”ٹھیک ہے ،اگر تم مصر ہو تو صبح آخری حد ہے اس کے بعد اگر تم نے اصرار کیا تو میں خود چلا جاﺅں گا ۔“
”میں جانتا ہوں ۔“وہ ممنونیت بھرے لہجے میں بولا ۔
وہ ہماری گفتگو سے انجان بنی دائیں بائیں کا جائزہ لے رہی تھی ۔ کمانڈر نصراللہ خان خوجل خیل کی بیٹھک کی طرف جاتے ہوئے اس نے سردار سے چادر لے کر مفلر کی طرح اپنے چہرے کے گرد لپیٹ لی تھی ۔مجھے لگا وہ کسی سے اپنی شکل چھپانا چاہ رہی ہے ۔اس کا انداز مجھے کافی مشکوک لگا تھا لیکن میں نے کچھ کہنے سے گریز کیا تھا ۔بیٹھک کو تالا لگا تھا جس ایک چابی ہمارے پاس بھی تھی ۔تالا کھول کر ہم اندر داخل ہوئے ۔دروازہ کنڈی کرتے ہی اس نے چہرے کے گرد لپیٹی چادر کھول لی ۔
”سردار نے کہا ۔”میرا خیال ہے کمانڈر نصراللہ کو تکلیف دینے کے بجائے بازار سے کھانا منگوا لیتے ہیں ۔
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”اگر اسے معلوم ہو گیا تو بہت برا منائے گا ۔“
”تو ....؟“اس نے سوالیہ انداز میں کہا ۔
تو یہ کہ اسے بلالیتے ہیں ۔“یہ کہہ کر میں نے بیٹھک سے باہر نکل کر اس کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹانے لگا ۔دروازہ کھولنے والا وہ خود تھا ۔پرتپاک معانقے کے بعد اس نے میری خیر خیریت پوچھی ۔
”الحمداللہ محترم !....ہم دونوں بالکل ٹھیک ہیں ۔“
”میرا خیال ہے کھانا لے آﺅں ۔“
”جی ہاں ،اگر تیار ہے تو ....“
”بالکل تیار ہے ۔“اس نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا ۔
”اچھا ہمارے ساتھ ایک مہمان بھی موجود ہے ۔“
”خوش آمدید ،میری خوش قسمتی ۔“اس نے خوشی کا اظہار کیا ۔
بیٹھک میں آ کر میں نے سردار کو کمانڈرنصراللہ خان کی آمد کا بتایا ۔پلوشہ نے ایک مرتبہ پھر چہرے کے گرد چادر لپیٹ لی ۔میری طرح سردار کو بھی اس کا یہ فعل عجیب لگا تھا ۔وہ پوچھے بنا نہیں رہ پایا تھا۔
”چہرہ چھپانے کی کیا ضرورت آن پڑی ؟“
وہ اطمینان بھرے انداز میں بولی۔”کیونکہ کمانڈر نصراللہ خان میرا استاد ہے ۔اور میں نہیں چاہتی کہ وہ مجھے پہچان لے ۔“
”استاد ....“سردار کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”لمبی کہانی ہے ۔“پلوشہ نے جواب دینے سے گریز کیا تھا ۔
اسی وقت کمانڈر کھانے کے برتن لیے نمودار ہوا ۔پلوشہ نظر جھکا کر نیچے دیکھنے لگی ۔
سردار سے ہاتھ ملا کر کمانڈر نصراللہ نے اس کی جانب بھی ہاتھ بڑھا دیا تھا ۔اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے بھی پلوشہ نے اپنی نظریں جھکائے رکھی تھیں ۔لیکن کمانڈر نصراللہ نے اس بات پر دھیان دیے بغیر کہنے لگا۔
”آپ لوگ کھانا کھائیں ،میں قہوہ لے کرآتا ہوں ۔“
میں نے کہا ۔”آپ بھی ہمارے ساتھ شامل ہوں نا ۔“
”نہیں ،میں کھا چکا ہوں ۔دن کا کھانا میں دس بجے تک کھالیتا ہوں ۔“کہہ کر وہ باہر نکل گیا ۔
پلوشہ کے جبڑوں میں ابھی تک درد ہو رہا تھا ۔وہ بہ مشکل آدھی روٹی چبا کر پیچھے ہو گئی ۔سردار کو بھی معلوم تھا کہ اس نے کھانے سے کیوں ہاتھ کھینچے ہیں ،خواہ مخواہ کی بد مزگی سے بچنے کے لیے اس نے پلوشہ سے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
ہمارے کھانا کھانے تک کمانڈر نصراللہ قہوہ لے آیا تھا ۔ہمارے لیے پیالیوں میں قہوہ انڈیل کر اس نے برتن سمیٹے اور دوبارہ باہر نکل گیا ۔اس کے واپس آنے تک ہم قہوے کی پیالیاں خالی کر چکے تھے ۔
اس نے پوچھا ۔”کچھ اور چاہیے ہو ؟“اس کے انداز سے جانے کیوں مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ پلوشہ کو پہچان گیا ہے اسی لیے وہ اس کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہا تھا ۔اب یہ بات مجھے واضح نہیں تھی کہ آیا وہ پلوشہ کو بہ طور ِ پلوخان پہچانتا ہے یا وہ اس کی پلوشہ والی اصلیت سے واقف ہے ۔اگر وہ موّ خر الذکر اصلیت سے واقف ہوتا تو کبھی بھی اس سے ہاتھ نہ ملاتا ۔
”نہیں کچھ چاہیے تو نہیں ،البتہ یہ اپنے ساتھ لیتے جائیں ۔“میں نے اپنے اور سردار کے تھیلوں سے کلاشن کوفیں نکال کر اس کی جانب بڑھا دیں ۔
وہ مستفسر ہوا ۔”ان کا کیا کرنا ہے ؟“
”یہ مالِ غنیمت ہے ۔ہم نے قبیل خان کے آدمیوں سے چھینا ہے ۔مزید کمانڈر عبدالحق سے پوچھ لینا ۔“
”سمجھ گیا ۔“تینوں ہتھیاراور قہوے کے برتن اٹھا کر وہ بیٹھک سے نکل گیا ۔
”مجھے تو سخت نیند آ رہی ہے ۔“چارپائی پر لمبا ہوتے ہوئے میں نے سردار کو کہا ۔”اگر تم نے بھی لیٹنا ہے تو دروازہ اندر سے کنڈی کر دینا ۔“
سردار نے کہا ۔”نہیں ہم ذرا بازار تک جا رہے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے ۔“کہہ کر میں نے آنکھیں بند کر لیں ۔چند لمحوں میں میں گہری نیند سو گیا تھا ۔
میری آنکھیں دروازہ کھلنے کی وجہ سے ہوئی تھی ۔اس سے پہلے کہ میں اٹھ کر آنے والے کا جائزہ لیتا میرے کانوں میں سردار کی آواز پڑی ،وہ پلوشہ کو کوئی بات کہہ رہا تھا ۔اٹھنے کا ارادہ ترک کر کے میں نے پھر سے آنکھیں بند کر لیں ۔
”آپ کا دوست تو ابھی تک نہیں جاگا ۔“چارپائی کی چرچراہٹ کے ساتھ پلوشہ کی آواز ابھری ۔
”ساری رات جاگتا رہا ہے پانچ ،چھے گھنٹے تو سوئے گا نا۔“
”ساری رات کیوں جاگتا رہا ہے ؟“پلوشہ کی آواز میں حیرانی تھی ۔
”معلوم نہیں ۔“سردار نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا ۔
”اچھا بھائی !....میری درخواست پر غور کیا کہ نہیں ؟“
”دیکھو پلوشے !....میں اپنی مجبوری تمھیں بتا چکا ہوں ،اگر یہ ممکن ہوتا تو مجھے بھلا کیا مسئلہ تھا۔“
”اس میں ناممکن کی کیا بات ہے ،اگر آپ کہیں تو میں آپ کے دوست سے بات کر لیتی ہوں، بلکہ میں قبیل خان کی موت کے بعد اسے قتل کرنے کا ارادہ بھی ملتوی کرنے کر دوں گی ۔“
سردار نے اسے جھڑکا ۔”تمھاری انھی باتوں سے وہ چڑتا ہے ۔“
”بھائی.... یقین کرو میری وجہ سے آپ لوگوں کو سہولت ہی ملے گی ۔میں اس علاقے سے اچھی طرح واقف ہوں ،آپ کی بہت اچھی رہنمائی کروں گی ۔“
”اچھا تم نے یہ نہیںبتایاکہ کمانڈر نصراللہ تمھارا استاد کیسے ہو گیا ؟“سردار نے اس کے اصرار سے تنگ آ کر موضوع تبدیل کرنے کی کوشش کی ۔
”بھائی کہا تو تھا کہ لمبی کہانی ہے ۔“پلوشہ نے اس موضوع سے پہلو تہی کرنا چاہی ۔
”تو مختصر کر کے سنا دو ۔“سردار مصر ہوا ۔
”ابو جان ،قیل خان کا لشکری تھا ۔اس وقت قبیل خان اسلحے اور منشیات کی سمگلنگ کرتا تھا ۔ ایک دن اس خبیث کی نظر میری بڑی بہن پر پڑی ۔وہ اس وقت سترہ سال کی تھی اور خود سے چار سال چھوٹے بھائی کے ساتھ بکریاں چرا رہی تھی ۔اس پر نظر پر پڑتے ہی قبیل خان نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ میری بہن کو پکڑ کر گاڑی میں ڈال لیں ۔دو آدمیوں نے میری معصوم باجی کو پکڑ کر زبردستی گاڑٰ میں گھسیڑ دیا ۔بھائی اس وقت تھوڑی دور کھڑا تھا ۔باجی کو بچانے کے لیے وہ دیوانہ وار بھاگا ۔اس کے قریب پہنچنے تک گاڑی آگے بڑھ گئی تھی ۔اس نے چلتی گاڑی پر چڑھنے کی کوشش کی مگر ایک ظالم نے اسے لات مار کر نیچے گرا دیا ۔ہماری بدقسمتی کہ نیچے گرتے ہوئے بھائی کا سر ایک پتھر سے ٹکرایا اور وہ بے ہوش کر گر پڑا ۔اسے س سے پہلے ایک موٹر سوار نے دیکھا جو ہمارے گاﺅں سے گزر کر انگور اڈے کی طرف جا رہا تھا ۔بھائی کا لہولہان جسم دیکھتے ہی وہ لوگوں کو اطلاع دینے کے لیے واپس پلٹا مگر جب تک لوگ اس کے پاس پہنچتے وہ باقی نہیں رہا تھا ۔ابو جان اس وقت پنجاب گئے ہوئے تھے ۔گھر میں ،میں اور امی جان اکیلی تھیں ۔لوگ جب بھائی کی لاش اٹھا کر لائے تو گھر پر گویا قیامت ٹوٹ پڑی ۔بھائی کے موت کے ساتھ ہمیں باجی کے غائب ہونے کی فکر کھائے جا رہی تھی ۔اور یہ فکر ابو جان کی واپسی سے پہلے ایک اور قیامت کی صورت میں ظاہر ہوئی ۔بھائی کے موت کے چوتھے دن ہمیں باجی کی لاش بھی مل گئی ،اس طرح کہ مرنے سے پہلے وہ کئی افراد کی درندگی کا شکار ہو ئی تھی ۔ابو جان واپس آئے تو کئی دن تک تو اس صدمے سے باہر نہ آسکے ۔اس کے بعد انھوں نے قاتل کی تلاش کی کوششیں شروع کردی ۔قبیل خان کے محافظوں میں ابو جان کا ایک دوست شامل تھا ۔اس نے ابوجان کو اصل واقعے کی اطلاع دے دی ۔یوں بھی ابوجان کو پہلے پہلے سے قبیل خان پر شک تھا کیونکہ اس کی درندگی کا شکار ہونے والی باجی پہلی لڑکی نہیں تھی ۔اس سے پہلے بھی کئی لڑکیاں اس کی ہوس کی بھینٹ چڑھ چکی تھیں ۔جوان بیٹے کی موت اور معصوم بیٹی کے ساتھ ہونے والے درندگی بھرے سلوک نے ابو جان کو کچھ سوچنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔ وہ کلاشن کوف اٹھا کر قبیل خان کے خلاف چڑھ دوڑے۔مگر وہ خبیث تیار تھا ۔اس کے محافظوں نے ابوجان کو اس تک پہنچنے کے لیے زندہ نہ چھوڑا ۔اور یوں ہمارا بھرا پرا گھر ایک ظالم کی ہوس کا شکار ہو گیا ۔ میں اس وقت نو سال کی تھی ۔مجھ سے دو چھوٹے بھائی پیدا ہونے کے ساتھ ہی فوت ہو گئے تھے ۔گویا ابو جان کی واحد وارث میں تھی ۔جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت بھی امی جان امید سے تھیں ۔ہم علام خیل چھوڑ کر اپنے رشتے کے ماموں کے پاس چلے گئے ۔ان کا تعلق تحریک طالبان سے تھا ۔تحریک طالبان سے میری مراد مجاہدین طالبان سے ہے ،اس وقت تک نقلی اور دہشت گرد طالبان ابھی تک پیدا نہیں ہوئے تھے ۔ماموں جان جو امی جان کے چچا زاد بھائی تھے لیکن انھوں نے ہمارا بہت زیادہ خیال رکھا ۔امی جان نے ماموں جان سے درخواست کی کہ مجھے اس قابل بنا دیں تاکہ میں اپنے باپ ،بھائی اور باجی کے قتل کا بدلہ لے سکوں ۔امی جان کی واحد امید میں ہی تھی ۔گو چند ماہ بعد اللہ پاک نے مجھے ایک اور بھائی کے تحفے سے بھی نوازا تھا ،مگر وہ ابھی تک آٹھ سال کا بچہ ہے ۔ماموں جان نے صاف انکار کر دیا کہ مجاہدین کے کیمپ میں کسی لڑکی کو تربیت نہیں دی جاتی ۔تب امی جان نے التجا کی کہ وہ مجھے لڑکے کے روپ میں ساتھ لے جائیں ۔۔ہمارے ساتھ ہونے والا ظلم ایسا نہیں تھا کہ ماموں جان امی جان کی التجا ٹال سکتے ۔وہ مجھے لڑکا بنا کر ساتھ لے گئے ۔ابو جان ،باجی اور بھائی کی موت نے مجھے بھی سراپا انتقام بنا دیا تھا ۔میں لڑکا بن کر تربیت حاصل کرتی رہی ۔وہاں ہمیں دینوی اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ لڑنے بھڑنے کی تربیت بھی دی گئی ۔کمانڈر نصراللہ صاحب بھی میرے اساتذہ میں سے ہیں ۔آپ نے ہمیں مختلف قسم کے ہتھیاروں کی تربیت دیتے تھے ۔پچھلے دو،تین سال سے میرے اندر بتدریج ایسی جسمانی تبدیلیاں وقوع پذیر ہونے لگیں کہ میرا مردوں کے درمیان رہنا مشکل ہو گیا تھا ۔اپنے جسمانی خطوط چھپانے کے لیے مجھے کھلے لباس کا سہارا لینا پڑتا تھا ۔ہاتھا پائی کی تربیت سے بھی میں احتراز برتنے لگی تھی ۔اور اب تین ماہ ہو گئے ہیں کہ میں نے مجاہدین کا کیمپ چھوڑ کر گھر آ گئی ہوں ۔وہ خبیث اب پہلے سے بھی زیادہ طاقتور ہو گیا ہے ،جبکہ میں اس کے خلا ف اکیلی ہوں ۔لڑکے کے روپ میں ،میں نے اس کے دوتین قریبی محافظوں سے دوستی گانٹھ لی ہے ۔انھی کی وساطت سے مجھے اس خبیث کے بارے تھوڑی بہت معلومات مل جاتی ہیں ۔مجاہدین کے پاس سے آنے کے بعد سے میں مسلسل کسی موقع کی تلاش میں ہوں ۔اور یہی وجہ ہے ایک مضبوط سہارا سمجھتے ہوئے میں آپ سے درخواست کر رہی ہوں کہ مجھے اپنے ساتھ رہنے دو ۔ کم از کم قبیل خان کی دشمنی کی مضبوط وجہ ہمارے درمیان مشترک ہے ۔“مکمل تفصیل بتاتے ہوئے آخر میں وہ اپنی پرانی درکواست دہرانا نہیں بھولی تھی ۔
سردار نے معنی خیز لہجے میں پوچھا ۔”ہماری قبیل خان سے دشمنی کی وجہ معلوم ہے ؟“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں کہا ۔”یوں بھی میں وجوہات کی تلاش میں وقت برباد نہیں کرتی ۔“
سردار نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ۔”ہمارا تعلق پاک آرمی سے ہے اور قبیل خان ایک دہشت گرد ہے ۔اس کے تعلقات ملک دشمن عناصر سے بھی ہیں ۔ہماری اور اس کی دشمنی کی واحد وجہ یہی ہے ۔“
”کیا ....؟“اس کے لہجے میں حد درجہ کی حیرانی بھری تھی ۔”کہیں آپ دونوں وہی تو نہیں ہو جنھوں نے پچھلے دنوں قبیل خان کے دو درجن سے بھی زیادہ آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور اس کے ساتھ اس کے سب سے اہم کمانڈر روشن خان کو بھی لنگڑا کر دیا ۔“
”تمھیں یہ سب کیسے معلوم ؟“
”بتایا تو ہے اس کے چند قریبی آدمیوں سے بھی تھوڑی بہت دوستی گانٹھ رکھی ہے ۔گو وہ بھی میری شکل و صورت کی وجہ سے نرم رویہ رکھتے ہیں ،لیکن پھر بھی میں ان سے کچھ نہ کچھ اگلوا لیتی ہوں اور جہاں تک قبیل خان کی حالیہ ہزیمت کا تعلق ہے تو اس سے تو عام لوگ بھی واقف ہیں ۔خاص کر ایس ایس نے جو روشن خان کو زندگی کی بھیک دی تھی اس کا تو بہت چرچا ہوا ہے ۔یقینا ایس ایس آپ ہی ہوں گے؟“اس نے آخری فقرہ اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”نہیں ۔میرا دوست ایس ایس ہے ۔“ایسا کہتے ہوئے سردار کے لہجے میں شامل فخر کا مادہ اس کے مخلص ہونے کی نشان دہی کر رہا تھا ،کہ اسے اپنے دوست پر فخر تھا ۔
”آپ اب بھی اپنے فیصلے پر قائم ہیں ۔“وہ دوبارہ اسی موضوع پر لوٹ آئی تھی ۔
”پلوشے !....میں نے تمھیں بہن کہا ہے ،مجھ سے جتنا ہو سکا میں نے کر دیا ہے ۔یقین مانو اس سے زیادہ میرے بس میں نہیں ہے ۔میں ذیشان کو خفا نہیں کر سکتا ۔یوں بھی اگر وہ اس بارے کسی سینئر کو مطلع کر دے تو میری نوکری تو جائے گی ہی ساتھ میں حوالات کی بھی ہوا کھانا پڑے گی ۔
”پتا نہیں تمھارے دوست کو مجھ سے کیا چڑ ہے ،عجیب احمق انسان ہے مجھے بے گناہ پیٹا بھی ہے اور اب موڈ بھی وہی بنا رہا ہے ۔“
”اس موضوع کو رہنے دو ۔“سردار کو یقینا اس کا انداز پسند نہیں آیا تھا ۔
”بھائی !....خفا نہ ہوں تو ایک بات پوچھوں ؟“
سردار نے بغیر تردد کے کہا ۔”پوچھو ۔“
اس نے معصومیت بھرے لہجے میں پوچھا ۔”کیا ساری لڑکیاں ماہین کی طرح ہوتی ہیں ؟“
”کک....کیا ....تم ماہین کو کیسے جانتی ہو ؟“سردار ہکلا گیا تھا ۔خود میں بھی حیرانی میں ڈوب گیا تھا ۔
”کل آپ دونوں مجھے سویا ہوا سمجھ کر جو باتیں کر رہے تھے میں نے ساری سن لی تھیں ۔آئندہ اردو میں بات کرتے وقت یہ یاد رکھنا کہ میں اردو زبان مکمل طور پر جانتی ہوں ۔“
”اچھا اب اس متعلق زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکالنا ،تم نے صبح چلے جانا ہے اور میں نے ذٰشان کے ساتھ اکٹھا رہنا ہے ،میں نہیں چاہتا میرا دوست کسی غلط فہمی کا شکار ہو جائے ۔“
”صبح نہیں بھائی !....میں ابھی رخصت ہو رہی ہوں ،میں نے سوچا تھا کہ شاید ہم مل کر قبیل خان کو فنا کر دیں گے لیکن آپ لوگوں کو میرا ساتھ ہی قبول نہیں تو زبردستی تو میں نہیں کر سکتی ۔“اس کے لہجے میں مایوسی کوٹ کوٹ کر بھری تھی ۔
سردار نے کہا ۔”بہن اگر بات صرف میری ہوتی تو میں تمھیں دوسری بار کہنے کا موقع نہ دیتا ۔“
”ٹھیک ہے بھائی !....اپنا خیال رکھنا ۔“
”سردار کو کہہ کر وہ مجھے مخاطب ہوئی ۔”راجا ذیشان حیدر صاحب !....خوش ہو جاﺅ میں جا رہی ہوں ۔“مگر میں اس سوتا بنا رہا ۔
سردار نے کہا ۔”پلوشے !....اسے جگانے کی ضرورت نہیں ۔“
وہ مصر ہوئی ۔”نہیں بھائی !....میں دیکھنا چاہتی ہوں آخر اسے میرے جانے کی کتنی خوشی ہوتی ہے ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے میرے پاﺅں کو پکڑ کر ہلایا۔مجبوراََ مجھے اٹھنے کی اداکاری کرنا پڑی ۔ چہرے پرسے چادر اٹھاتے ہوئے اس کی جانب دیکھا ۔وہ کلاشن کوف کندھے سے لٹکائے کھڑی تھی ۔ اس کے بدن پر نیا لباس نظر آرہا تھا ۔غالباََوہ کپڑے اسے سردار نے خرید کر دیے تھے ۔
”محترم خوش ہو جائیں ،میں وعدے کے مطابق جا رہی ہوں ۔سردار بھائی نے مجھے نئے کپڑے بھی دلا دیے ہیں اور ڈاکٹر سے دوائی بھی لے دی ہے ۔“
میں جمائی لیتا ہوا بولا۔”میری خوشی دگنی ہو جاتی اگر سردار مجھے جگا کر یہ خوش خبری سناتا کہ آپ تشریف لے جا چکی ہیں ۔“
”مجھے روکو گے نہیں ۔“اس نے میری آنکھو ں میں جھانکتے ہوئے شرارتی لہجے میں کہا ۔لیکن یہ شرارت اس کے لہجے تک محدود تھی ،اس کی آنکھوں کی گہرائی میں کوئی اور جذبہ پوشیدہ تھا جس کی توجیہ سے میں قاصر تھا ۔شاید یہ التجا تھی ،امید تھی ،بھروسا تھا یا کوئی شدت بھری خواہش تھی ۔
”کیا ،میرے روکنے سے رک جاﺅں گی ؟“
”کہہ کر دیکھ لو ۔“اس مرتبہ میں نے اس کی آنکھوں میں چھپی التجا نما حکم صاف پڑھ لیا تھا ۔
میں نے کہا ۔”ٹھیک ہے نہ جاﺅ ۔“
اس کے چہرے پر مسرت بھرے آثار نمودار ہوئے ۔”لیکن یہ نہ سمجھنا کہ اس طرح میں تمھیں قتل کرنے کا ارادہ ترک کر دوں گی ۔“کلاشن کوف کندھے سے اتار کر وہ چارپائی پر بیٹھ گئی ۔
سردار نے خفگی بھرے لہجے میں کہا ۔”میرے کہنے پر تو ایک رات کے لیے راضی نہیںہو رہے تھے اور پلوشہ کے کہنے پر مستقل ساتھ رکھ لیا ۔“
میں نے احسان جھاڑتے ہوئے فوراِِ کہا ۔”ہاں ،کیونکہ تم یہی چاہتے تھے اور میں تمھیں خفا نہیں کر سکتا تھا۔“
سردار نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”بڑی جلدی خیال آگیا میری خفگی کا ۔“اور میں نے اسے جواب دیے بغیر دوبارہ اپنے اوپر چادر لے لی ۔
پلوشہ ،سردار کو اپنی جانب متوجہ کر کے دوبارہ چہکنے لگی ۔سردار بھی میرے فیصلے سے خوش ہو گیا تھا ۔یقینا وہ اس مظلوم لڑکی مدد کرنا چاہ رہا تھا ۔اچانک میرے کانوں میں زور دار دھماکے کی آواز آئی ،میں بے اختیار اٹھ بیٹھا تھا ۔
سردار نے فوراََ کہا ۔”لیں جی قبیل خان کی بربادی کا آغاز ہو گیا ہے ۔“
”ویسے کافی زور دار دھماکا تھا کہ آواز یہاں تک پہنچ گئی ۔“
سردار نے کہا ۔”بارود ہی اتنا زیادہ تھا دھماکا تو ہونا تھا ۔“
”مجھے تو بہت سکون محسوس ہو رہا ہے ۔“پلوشہ نے خوشی کا اظہار کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
انھیں باتیں کرتا چھوڑ کر میں ایک بار پھر لیٹ گیا ۔اور ان کی باتیں سنتے سنتے ہی مجھے نیند آ گئی تھی ۔
شام کی آذان ہو رہی تھی جب سردار نے مجھے جگایا ۔”راجے !....اٹھ جاﺅ یا ر ،شام کی آذان ہو رہی ہے ۔“اور میں انگڑائی لیتے ہوئے اٹھ بیٹھا ۔
رات کا کھانا ہم نے لالٹین کی روشنی میں کھایا اور خوشبو دار قہوہ پی کر دوبارہ لیٹ گئے ۔سردار اور پلوشہ تو چند منٹ گپ شپ کر کے سو گئے تھے لیکن مجھے رات گئے تک نیند نہ آ سکی ۔میں موجودہ حالات پر غور کرتا رہا ۔پلوشہ زور زبردستی سے ہمارے ساتھ شامل ہو گئی تھی ۔اس کی دکھ بھری کہانی سن کر مجھے مجبوراََ اسے ساتھ رہنے کی اجازت دینا پڑ گئی تھی ۔یوں بھی وہ اسی علاقے کی تھی اور مجھے امید تھی کہ اس کا ساتھ ہمارے لیے فائدہ مند ہی ہونا تھا ۔یونھی پلوشہ کے بارے سوچتے سوچتے میں نیند کی وادیوں میں کھو گیا ۔
صبح ناشتے کے بعد ہم ڈی بلاک جانے کے لیے تیار تھے ۔ناشتے کے برتن سمیٹتے ہوئے کمانڈر نصراللہ نے کہا ۔
”پلو خان !....کوشش کرنا کہ ان لوگوں کا ساتھ نہ چھوڑنا ۔“
”جج....جی ....استاد جی ۔“پلوشہ نے گھبرا کر کہا ۔اس کا چہرے کے گرد چادر لپیٹنا کام نہیں آ سکا تھا ۔کمانڈر نصراللہ نے اسے آسانی سے پہچان لیا تھا ۔
”بیٹے !....میں تم سے مجاہدین کا ساتھ چھوڑنے کی وجہ تو نہیں پوچھنا چاہتا لیکن اتنا یاد رکھنا ذاتی لڑائی سے زیادہ اللہ پاک کے رستے میں لڑنے کی اہمیت ہو تی ہے ۔“
”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں استاد جی !....“اس مرتبہ بھی اس نے اثبات میں سر ہلادیا تھا ۔ لیکن بعض اوقات انسان کسی کے ظلم و زیادتی کا ایسا ڈسا ہوا ہوتا ہے کہ وہ انتقام کے علاوہ کسی کام کے قابل نہیں رہتا ۔“
”اللہ پاک تمھارے لیے آسانیاں پیدا کرے ۔“پلوشہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ باہر نکل گیا ۔اس کے ساتھ بات کرتے وقت پلوشہ کا لہجہ کافی بھاری اور مردانہ سا محسوس ہوا تھا ۔یقینا وہ اپنی آواز کو بھاری بنا کر بات کر رہی تھی ۔نو دس سال کی عمر سے وہ لڑکا بن کر رہتی آرہی تھی اتنی مشق تو اس کی ہو گئی تھی کہ کوئی اسے آواز سے نہیں پہچان سکتا تھا ۔البتہ اس کے نین نقش کسی کے دل میں بھی شک کا بیج بو سکتے تھے ۔
سردار نے کمانڈر نصراللہ کے بیٹھک سے نکلتے ہی کہا ۔”تمھارا چہرہ چھپانا تو کسی کام نہیں آ سکا۔“
”بھائی !....میں اپنی سی کوشش تو کی تھی لیکن استاد آخر استاد ہی ہوتا ہے ۔اور میرا خیال ہے انھوں نے مجھے کل ہی پہچان لیا تھا ۔“
”کیا انھیں یہ معلوم نہیں کہ تم لڑکی ہو ۔“
”نہیں ۔“پلوشہ نے نفی میں سر ہلایا۔
سردار مجھے مخاطب ہو کر بولا ۔”پلوشہ بہن نے مجاہدین کے ساتھ لڑکا بن کر تربیت حاصل کی ہے اورکمانڈر نصراللہ اس کا استاد ہے ۔“
میں نے خشک لہجے میں کہا ۔”مجھے اس عورت کے بارے جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔“
وہ کہاں خاموش رہنے والی تھی ۔فوراََ بول اٹھی ۔”میں عورت نہیں لڑکی ہوں ۔بلکہ تم جیسوں کے لیے تو لڑکا ہوں ۔“
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”ہاں لڑکیاں تمھاری طرح بد شکل ہوتی بھی نہیں ہیں ۔“
”اچھا ....پرسوں غارمیں تو تم کچھ اور فرما رہے تھے کہ میرے چہرے پر تمھیں اپنی تینوں پسندیدہ ترین خواتین کی جھلک نظر آرہی تھی بلکہ ان سے بھی زیادہ خوب صورت لگ رہی تھی ۔“بغیر لگی لپٹی رکھے وہ اس دن کی بات اگلتے ہوئے سردار کی طرف مڑی ۔”بھائی !....اس نے کچھ ایسا ہی کہا تھا نا ؟“
سردار قہقہہ لگا کر ہنسا ۔”ہاں کچھ ایسا ہی تھا ۔“
”چلو ۔“کھسیاتے ہوئے میں نے اپنا سفری تھیلا کندھوں سے لٹکایااور باہر کی جانب قدم بڑھا دیے ۔ اس بے باک اور چالاک لڑکی کی باتوں کا جواب دینا مشکل ہو جاتا تھا ۔لحاظ رکھنا تو اسے آتا ہی نہیں تھا ۔
”ویسے سچ سچ بتاﺅ راجا صاحب !....اس وقت جھوٹ بول رہے تھے یا ابھی ؟“میرے پیچھے قدم بڑھاتے ہوئے اس نے شوخی بھرے لہجے میں پوچھا ۔
مگر میں اس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے چلتا رہا ۔
سردار نے موضوع تبدیل کرتے ہوئے پوچھا ۔”ویسے یہاں سے علام خیل کے لیے گاڑی تو مل جاتی ہو گی ؟“یقینا وہ نہیں چاہتا تھا کہ میں پلوشہ کی باتوں پر غصہ کھا کر کوئی الٹا سیدھا بول دوں یا اسے ساتھ رکھنے کے فیصلے میں ترمیم کر دوں ۔
”جی بھائی !....نہ صرف علام خیل کے لیے بلکہ وانہ ،ڈابر میانی ،دیر زوال،سرے خاورے،درے نشتر،واخدالائی،رغزی،شالوم وغیرہ کے لیے آسانی سے گاڑی مل جاتی ہے ۔“
انگور اڈے سے ویگن میں بیٹھ کر ہم علام خیل روانہ ہوئے ۔میرا ارادہ تھا کہ اسے کھڑکی والی طرف بٹھا کر اس کے ساتھ سردار کو بیٹھنے کا کہوں گا مگر میرے کہنے کے باوجود اس نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا۔” پہلے تم بیٹھو ۔“
اور میرے کھڑکی کے پاس بیٹھتے ہی وہ سردار سے پہلے اندر گھس کر میرے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی ۔ میرے ذہن میں سردار کی کہی ہوئی بات تازہ ہوئی کہ۔”مجھے لگتا ہے پلوشہ تمھاری ذات میں خاصی دلچسپی لے رہی ہے ۔“اور میں نے یہ سن کر اسے جھڑک دیا تھا ۔لیکن اب اس کا میرے ساتھ بیٹھنے میں دلچسپی لینے نے مجھے سردار کی کہی ہوئی بات پر سوچنے پر مجبور کر دیا تھا ۔گاڑی چلنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ وہ میرے ساتھ بالکل چپکی جا رہی تھی ۔لیکن میں نے اس بارے منہ کھولنے کے بجائے باہر کے نظارے دیکھنے لگا ۔اس علاقے کو زیادہ سے زیادہ پہچانا ضروری تھا ۔
علام خیل پہنچنے سے کلومیٹر ،ڈیڑھ کلو میٹر پہلے وہ سردار کو دبے لہجے میں مخاطب ہوئی ۔”یہ وہ جگہ ہے بھائی ! ....جہاں وہ واقع پیش آیا تھا ۔“
”ہونہہ!....“کر کے سردار نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا تھا ۔
علام خیل میں اتر تے ہی میں نے سردار کو کہا ۔”ویسے بہتر تو یہی ہو گا کہ یہ یہیں رک کر ہماری واپسی کا انتظار کرئے ۔“
”بالکل بھی نہیں ۔“سردار کے کچھ کہنے سے پہلے اس نے کہا ۔”مجھے تم پر ذرا بھر بھی اعتماد نہیں ہے ۔اپنی کہی ہوئی بات سے پھرنے کے لیے تم ذرا بھی دیر نہیں لگاتے ۔کیا پتا واپس آتے ہوئے تم مجھ سے چھپ کر نکل جاﺅ ۔“
میں نے بگڑتے ہوئے کہا ۔”میرا خیال ہے ہم نے تمھیں ساتھ رکھنے کا نہ تو معاوضا لیا ہے اور نہ وعدہ کیا ہے پھر اس طرح دھونس جمانے کا مطلب؟“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”تو یہ معاضا کم ہے کہ ایک خوب صورت لڑکی تم جیسے سڑیل کے ساتھ رہ رہی ہے ۔“
”پلوشے !“سردار نے اسے کڑے تیوروں سے گھورا ،مگر اس نے بے پرواہی سے کندھے اچکا دیے۔
”تمھیں مظلوم سمجھنا ہی میری غلطی تھی ۔“کہہ کر میں نے مطلوبہ سمت قدم بڑھا دیے ۔
”چلو اپنی کوئی غلطی تو تم نے تسلیم کر لی ہے ۔“کہتے ہوئے اس نے میرے پیچھے قدم بڑھا دیے ۔
ڈی بلاک سے وہاں آتے ہوئے ہمیں کوئی دشواری پیش نہیں آئی تھی کیونکہ ہم مسلسل نشیب میں چلتے آئے تھے ۔اب وہاں تک جاتے ہوئے بلندی کا سفر طے کرنا تھاجو بلا شبہ مشکل تھا ۔پلوشہ مقامی تھی اور پہاڑی علاقے میں چلنے پھرنے کا اس کا تجربہ ہم سے کہیں زیادہ تھا ۔اس کے اٹھتے قدم دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ چڑھائی پر چڑھ رہی ہے ۔وہ ہم سے چند قدم آگے تھی اور ہمارے لیے اسے کئی بار اپنے قدموں کی رفتار کم کرنا پڑی ۔سردار کا سفری تھیلا اس نے زبردستی اس سے لے کر اپنے کندھوں میں ڈال لیا تھا ۔ڈی بلاک کے نیچے سے گزرنے والے نالے میں پہنچ کر ہم نے ہاتھ لہرا کر ڈیوٹی پر موجود سنتری کو اپنی جانب متوجہ کیا اور پھر آخری چڑھائی چڑھنے لگے ۔درمیان تک تو پلوشہ ہم سے آگے آگے رہی لیکن اس کے بعد جان بوجھ کر ہمارے عقب میں چلنے لگی ۔سنتری کے پوسٹ سے تھوڑا دور ہی ہمیں روک دیا تھا ۔تھوڑی دیر بعد ہم شناخت کا مرحلہ طے کرکے پوسٹ کمانڈر کے بینکر میں بیٹھے تھے ۔اب تک وہی پچھلا پوسٹ کمانڈر ہی وہاں موجود تھا اس لیے ہم تعارف وغیرہ کی زحمت سے بچ گئے تھے ۔رسمی گفتگو کے بعد وہ مطلب کی بات پر آ گیا ۔
”آپ کی رائفل کا ایمونیشن پہنچ گیا ہے اور اورنگ زیب صاحب نے کہا ہے کہ آپ جیسے ہی یہاں پہنچتے ہیں ذیشان کو کہنا مجھ سے بات کر لے ۔“
میں مستفسر ہوا ۔”فون پر ؟“
پوسٹ کمانڈر نے کہا ۔”جی ہاں ،آئی کام کی رینج سے تو وہ باہر ہیں ۔“
میرے ”بات کراﺅ ۔“کہنے پر اس نے فون کا رسیور اٹھایا اور اور صفر ڈائل کر کے کہنے لگا ۔ ”میجر اورنگ زیب کو لائن پر لے آﺅ۔انھیں کہو ذیشان نے بات کرنا ہے ۔“یہ کہہ کر اس نے رسیور رکھ دیا۔ چندلمحوں بعد ہی فون کی گھنٹی بجنے لگی ۔اس نے رسیور اٹھا کر کان سے لگایا اور پھر رسیور میری جانب بڑھا دیا ۔
میں نے رسیور لیتے ہی کہا ۔”اسلام علیکم سر !....ذیشان بات کر رہا ہوں ۔“
”وعلیکم اسلام !....کیسے ہو جوان !“اورنگ زیب صاحب کی آواز میں مجھے پریشانی کی جھلک نظر آئی تھی ۔
”ٹھیک ہو ں سر !“میں نے ہشاش بشاش لہجے میں جواب دیا ۔
”اور سردار ۔“
”وہ بھی ٹھیک ٹھاک ہے ۔“
”تم لوگوں نے الفا ٹو سے رابطہ کیوںنہیں کیا تھا ۔“
’ضرورت ہی پیش نہیں آئی ،بلکہ صاف کہوں تو ہمیں خیال ہی نہیں آیا تھا ۔“
”دیکھو ذیشان !....اگر میں نے تمھیں رابطہ نمبر دیا تھا تو اس کا کوئی مقصد بھی تھا ۔تمھیں روزانہ کم از کم ایک بار تو اسے اپنی خیریت سے آگاہ کرنا چاہیے تھا ۔“
اورنگ زیب صاحب کے لہجے میں شامل پریشانی سے میرا دل ہولنے لگا تھا ۔میں نے ہونٹ کاٹتے ہوئے کہا ۔”سر !....میں معذرت خواہ ہوں آئندہ خیال رکھیں گے ۔“
”سردار کی بیوی وضع حمل میں جانبر نہیں رہ سکی ۔آج اسے گزرے ہوئے تیسرا دن ہے ۔البتہ نومولود ٹھیک ٹھاک ہے ۔“
”کک....کیا ....ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟“میری آواز لڑکھڑانے لگی تھی ۔
”مجھے پرسوں ہی تمھارے کمانڈنگ آفیسر نے فون پر یہ افسوس ناک خبر سنائی اور میں نے اسی وقت الفا ٹو کو یہ پیغام دے دیا کہ تمھیں واپسی کا حکم سنا دے ۔بہ ہر حال جو ہو نا ہو اسے کسی صورت روکا نہیں جا سکتا ۔تم بس یہ خیال رکھنا کہ اسے گھر جانے سے پہلے یہ بات پتا نہیں چلنا چاہیے اور اسے وانہ تک بھی چھوڑ آﺅ۔“
”ٹھیک ہے سر !“اس کے علاوہ میرے پاس کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں ۔
”ذیشان !....مجھے افسوس ہے ،لیکن ایک دن سب کو جانا ہے ۔“
”جی سر !....“
”اگر تم بھی چھٹی جانا چاہو تو ....“
”فی الحال تو نہیں جانا سر !“میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے انکار کر دیا ۔
”ٹھیک ہے مزید باتوں کا وقت نہیں ،میں اس وقت وانہ میں ہوں باقی باتیں اکٹھے بیٹھ کر کریں گے فی امان اللہ ۔“
میں نے رسیور رکھ کر ایک گہرا سانس لیا اور پھر ہونٹوں پر زبردستی مسکراہٹ بکھیرتا ہوا بولا ۔ ”خان صاحب !....مبارک ہو بیٹا ہوا ہے ۔“
”کیا ....سچ ....“وہ خوشی سے اچھل پڑا تھا ۔
”ہاں یار !....اوردوسری خوش خبری یہ ہے کہ تمھاری چھٹی بھی ہو گئی ہے ۔“
”شکریہ یار !....“اس نے مسرت بھرے انداز میں کہا ۔”لیکن تم فون پر تو یوں بات کر رہے تھے جیسے کوئی افسوس ناک واقعہ ہو گیا ہو ۔“
”اس سے بڑی افسوس ناک بات کیا ہو گی کہ ایک اور پٹھان دنیا میں آگیا ہے ۔“میں نے مزاحیہ انداز اپنا نے کی کوشش کی ،مگر میرے دل کی جو حالت تھی اس کے بارے صرف میرا ربّ ہی جانتا تھا ۔وہ عورت جسے میں نے آج تک دیکھانہیں تھا لیکن اسے اپنی بہن کی طرح سمجھتا تھا ۔یقینا اس کی قسمت میں اپنے محبوب شوہر کی بے وفائی دیکھنا نہیں لکھا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ لی زونا کی آمد سے پہلے ہی اپنے شوہر سے دور چلی گئی تھی ۔
سردار نے بے صبری سے کہا ۔”میرا خیال ہے ہمیں ابھی نکلنا چاہیے ۔“
”یہاں سے شکئی تک کافی دیر لگ جائے گی ۔“میں نے خیال ظاہر کیا ۔
”شکئی کیوں ؟“پلوشہ نے فوراََ پوچھا۔
میں نے تلخ لہجے میں جوا ب دیا ۔”تو یہ وانہ ہیلی کاپٹر میں اڑ کر جائے گا کیا ۔“
وہ محسوس کیے بغیر بولی ۔”معلوم ہے کتنی چڑھائیاں طے کر کے وہاں تک جانا پڑے گا ۔اس طرف سے جاتے ہوئے دو دن رستے میں لگ جائیں گے ۔“
”تو پھر کیا کریں ؟“سردار نے پریشانی ظاہر کی ۔
”اگر کوشش کریں تو ہم آج ہی انگور اڈے پہنچ کر وانہ کی گاڑی پکڑ سکتے ہیں ۔“
اس کا مشورہ نہایت ہی مناسب تھا ۔”چلو نکلیں ۔“میں نے اثبات میں سرہلا کر اس کی تائید کی۔
بیرٹ ایم 107میں نے وہیں چھوڑ دی تھی ۔میرا ارادہ اسے واپسی پر وہاں سے لینے کا تھا ۔ پوسٹ کمانڈر سے اجازت لے کر ہم وہاں سے نکل آئے ۔پلوشہ ہمارے آگے آگے تھی ۔وہاں سے علام خیل تک مسلسل اترائی تھی اس لیے ہماری رفتا ر کافی تیز رہی ۔سردار بہت خوش تھا ۔
”یار راجے !....بس لی زونا کا باب بند ہی کرتا ہوں ،وہ مجھے بہت پیاری ہے لیکن اب تو چنارے نے مجھے ایک بیٹے کا تحفہ دے دیا ہے ایسے موقع پر میں دوسری شادی کی بات کرتا اچھا تو نہیں لگوں گا نا ۔مجھے معلوم ہے چنارے بہت خوش ہو گی اور بہت بے صبری سے میرا انتظار کر رہی ہو ۔“
میں نے رندھی ہوئی آواز میں مشورہ دیا ۔”ضروری تو نہیں کہ تم جاتے ہی شادی کی بات چھیڑ دو ۔اگر اس چھٹی پر نہیں تو اگلی چھٹی پر کوئی اچھا سا موقع دیکھ کر بات کر لینا۔“
”نہیں یار !....چنارے مجھے بہت زیادہ پیار کرتی ہے اورلی زونا بھی ۔مجھے لگتا ہے کہ میں ان دونوں کے درمیان پھنس کر رہ جاﺅں گا ۔لی زونا کے آنے سے چنارے ضرور واویلا کرئے گی ۔ ممکن ہے شادی کے بعد لی زونا کو بھی چنارے کی ذات کھٹکنے لگے وہ تو یوں بھی ایک علاحدہ معاشرے کی عادی ہے ۔اوریہ نہ ہو دونوں کو پانے کے لالچ میں دونوں کے پیار سے محروم ہو جاﺅں ۔“
”اللہ پاک بہت زیادہ حکمت والا ہے دوست!....وہ جو کرتا ہے انسان کی بہتری کے لیے کرتا ہے کافی دفعہ ایسے حادثے انسان کی زندگی میں آ جاتے ہیں جنھیں برداشت کرنے کی ہمت انسان اپنے اندر مفقود پاتا ہے ،بس میری یہ بات یاد رکھنا کہ صبر اور حوصلے کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا ۔“
”یعنی تم بھی میرے ساتھ متفق ہو کہ مجھے لی زونا کا خیال دل سے نکال دینا چاہیے ؟“اس نے میری گول مول گفتگو سے یہی اندازہ لگایا تھا ۔
”اس بارے بعد میں بات کریں گے فی الحال تھوڑا تیز چلنے کی کوشش کرو تمھاری باجی صاحبہ تو بے عزت کرنے کے چکر میں پڑ ی ہے ۔یوں جا رہی ہے جیسے میرا تھن میں حصہ لے رہی ہو ۔“مجھے اس موضوع سے وحشت ہو رہی تھی ۔میں نہیں چاہتا تھا کہ بار بار چنارے بہن کا ذکر آئے ۔ایک بار تو جی میں آیا کہ سردار کو حقیقت بتا دوں مگر پھر اورنگ زیب صاحب کی نصیحت یاد آ گئی ۔اس نے سختی سے منع کیا تھا کہ سردار کو اس کی بیوی کی وفات کے بارے نہ بتایا جائے ۔یوں بھی آرمی میں حتی الوسع یہی کوشش کی جاتی ہے کہ کسی کے بھی قریبی رشتا دار کی ناگہانی موت کی اطلاع متاثرہ شخص کونہیں دی جاتی کہ کہیں وہ سفر کے قابل ہی نہ رہے ۔ گھر جا کر بھی وہ صدمہ اتنا ہی گہرا ہوتا ہے لیکن وہاں دوسرے رشتا دار اسے سنبھالنے کے لیے موجود ہوتے ہیں ۔
سردار نے تحسین آمیز لہجے میں کہا ۔”ماننا پڑے گا کہ پلوشہ بہن کا سٹمنا ہم سے زیادہ ہے ۔“
جواباََ میں خاموش رہا ۔پانچ گھنٹے کا رستا ہم نے دو گھنٹے میں طے کر لیا تھا ۔علام خیل میں پہنچ کر ہم سڑک پر کسی گاڑی کا انتظار کرنے لگے ۔دس پندرہ منٹ کے انتظار کے بعد بھی کوئی گاڑی نہ ملی ۔پلوشہ ہمیں انتظار کرنے کا کہہ کر گاﺅں کے اندر گھس گئی ۔تھوڑی دیر بعد ہی وہ ایک ہنڈا 125لیے نمودار ہوئی ۔ اسے موٹر سائیکل چلاتے دیکھ کر مجھے کوئی خاص حیرت نہیں ہوئی تھی ۔
میرے قریب موٹر سائیکل روکتے ہوئے اس نے کہا ۔”موٹر سائیکل کون چلائے گا؟“
میں نے کہا ۔”میرا خیال ہے یہ ذمہ داری مجھے سنبھالنا پڑے گی ۔“
”میں تم سے اچھی موٹر سائیکل چلا سکتا ہوں ۔“سردار نے مجھ سے پہلے پلوشہ کے ہاتھ سے ہینڈل تھام لیا ۔
میں نے اپنا تھیلا موٹر سائیکل کے کیرئر پر رکھ کر اس کے پیچھے بیٹھ گیا ۔میرے عقب میں وہی مصیبت بیٹھ گئی جس سے میں مسلسل جان چھڑانے کی کوشش میں مصروف تھا ۔مجھے یہ بھی علم تھا کہ سردار اسی لیے موٹر سائیکل چلانے کی ذمہ داری سنبھالی تھی تاکہ پلوشہ کو میرے ساتھ بیٹھنا پڑے۔
پلوشہ کے بیٹھتے ہی میں نے سردار کو چلنے کو کہا اور اس نے سرہلاتے ہوئے موٹرسائیکل آگے بڑھا دی ۔
تھوڑا آگے جاتے ہی اس نے پلوشہ سے پوچھا ۔”یہ موٹر سائیکل کہاں سے اٹھا لائی ہو ؟“
”اپنے استادکمانڈر عبدالحق سے مانگا ہے ۔“وہ پہلے بھی مجھ سے چپک کر بیٹھی تھی سردار کو جواب دینے کے لیے مزید آگے جھکی ۔
”کمانڈر نصراللہ سے منہ چھپا رہی تھیں اور عبدالحق کے پاس خود بھاگ کر پہنچ گئی ہو ۔“
”مجبوری تھی اس لیے جانا پڑا۔باقی چھپ ندامت کی وجہ سے رہی تھی ڈرنے کی وجہ سے نہیں۔مجاہدین زبردستی تھوڑی کرتے ہیں کسی کے ساتھ ۔“
”کیا بات کرنے کے لیے آگے ہونا ضروری ہے ۔“میں نے اسے جھڑکا ۔
”ٹھیک ہے اگر تمھیں تکلیف ہو رہی ہے تو پیچھے بیٹھ جاﺅ ،میں نے تو اپنے بھائی سے بات کرنا ہے اور جب تک آگے کی طرف ہو کر بات نہ کروں اسے سنائی نہیں دے گا۔“
اس کی بات پر میں خون کے گھونٹ بھرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکا تھا ۔اور میرے چڑنے کی وجہ سے تھوڑا اور آگے کو کھسک آئی تھی ۔اس کے ساتھ متھا مارنا دیوار سے سر ٹکرانے کے مترادف تھا ۔مجبوراََ میں خاموش ہو گیا ۔
انگور اڈے تک آتے ہمیں ڈیڑھ گھنٹا لگا تھا ۔سورج غروب ہونے کو تھا۔
انگور اڈے کی آبادی شروع ہوتے ہی اس نے سردار کو کہا ۔”موٹر سائیکل ،کمانڈر نصراللہ کے گھر کھڑی کرنا پڑے گی سیدھا وہیں چلو ۔“
میں نے کہا ۔”ہمیں اڈے میں اتار کر تم لے جانا ۔“
وہ جواباََ بولی ۔”جب پوچھا نہ جائے تو مشورہ نہیں دینا چاہیے ۔“
”یہ مشورہ نہیں ہے ۔“میں نے حتمی لہجے میں کہا ۔”ہم تمھیں اپنے ساتھ وانہ تو نہیں لے جا سکتے ۔“
”تمھارے ساتھ کون احمق جا رہا ہے۔“
سردار نے موٹر سائیکل کا رخ کمانڈر نصراللہ کے گھر کی طرف موڑ دیا تھا ۔
”یار !....اڈے کی طرف چلو ۔“مین چیخا مگر سردار سنی ان سنی کرتا ہوا کمانڈر نصراللہ کے گھر کی جانب بڑھتا رہا ۔
کمانڈر نصراللہ کا گھر قریب ہی تھا ۔وہ ہمیں گھر کے باہر ہی مل گیا،وہ شام کی نماز کے لیے مسجد کی طرف جا رہا تھا ۔
سردار نے اس کے قریب موٹر سائیکل روک کر ۔”اسلام علیکم !“کہا ۔
”وعلیکم اسلام ۔“کہہ کر اس نے فرداََ فرداََ ہم تینوں سے ہاتھ ملایا ۔
پلوشہ نے کہا ۔”استاد جی یہ موٹر سائیکل کمانڈر عبدالحق سے مانگ کر لائی ہے ،اگر آپ ان تک پہنچا دیں تو مہربانی ہو گی ۔“
”ٹھیک ہے بیٹا !....“اس نے خوش دلی سے کہتے ہوئے موٹر سائیکل تھام لی ۔”آپ لوگ کھانا تو شام کی نماز پڑھ کر ہی کھاﺅ گے نا ؟“
”نہیں ،ہم وانہ جا رہے ہیں ۔“پلوشہ نے ہم سے پہلے جواب دیا ۔اور وہ سر ہلاتا ہوا موٹر سائیکل کو ہینڈل سے پکڑ کر گھر کی جانب بڑھ گیا ۔سوائے پستولوں اور ایک عدد آئی کام کے ہم نے اپناباقی سامان اور ہتھیار اس کے حوالے کر دیے تھے ۔
ویگن اڈے کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے میں فیصلہ کن لہجے میں کہا ۔”سردار تمھارے جانے کے بعد میں اسے ایک سیکنڈ بھی اپنے قریب نہیںپھٹکنے دوں گا ۔“
سردار کے کچھ کہنے سے پہلے وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”میرا دماغ خراب ہے کہ تم جیسے بے اعتبارشخص کے ساتھ اکیلی رہوں ۔“
”احسان ہو گا تمھارا ۔“تلخی سے کہتے ہوئے میں قدموں کی رفتار تیز کرتے ہوئے ان دونوں سے آگے نکل گیا ۔ہماری خوش قسمتی کہ ہمیں ویگن اڈے میں داخل ہوتے ہی ایک تیار ویگن مل گئی ۔ سواریاں نماز کی ادائی کے بعد اندر بیٹھ رہی تھیں ۔عقبی نشست خالی پڑی تھی ۔کنڈیکٹر نے ہمیں دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا تھا ۔ہمارے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے ویگن آگے بڑھا دی ۔کوشش کے باوجود ہم ڈیرہ اسماعیل خان جانے والی گاڑی نہیں پکڑ سکے تھے مجبوراََ ہمیں ہوٹل میں رات گزارنا پڑی ۔
”تم نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ چھٹی کتنی ہوئی ہے ۔“بستر پر لیٹتے ہی سردار نے پوچھا ۔
میںنے فوراََ کہا ۔”مہینا ۔“
”گویا ایک ماہ میں سلطان خان کے ساتھ رہ سکتا ہوں ۔“
میں نے سوالیہ لہجے میں کہا ۔”سلطان ....؟“
”ہاں سلطان خان ولد سردار خان اور معلوم ہے میں نے اور چنارے نے پہلے سے یہ طے کیا تھا کہ بیٹا ہوا تو چنارے نام رکھے گی اور بیٹی ہوئی تو میں ۔اور اس نیک بخت نے بیٹے کے لیے سلطان نام چن رکھا ہے ۔“
”ہونہہ!“میں نے دکھ کی لہر کوسینے میں دباتے ہوئے دھیرے گہرا سانس لیا ۔
”قسم سے میرا دل چاہتا ہے اڑ کر گھر پہنچ جاﺅں ۔“
”بھائی یہ آپ کا پہلا بیٹا ہے نا ؟“پلوشہ نے زبان کھولی ۔
”ہاں پلوشے !....یہ تمھارا پہلا بھتیجا ہے ۔“
”میری باجی کو میری طرف سے بہت بہت مبارک باد کہنا ۔“
”ضرور ۔“سردار نے اثبات میں سر ہلایا۔
”قبیل خان کوہلاک کرنے کے بعد میں ان شاءاللہ سلطان سے ملنے آﺅں گی ۔“یہ کہتے ہوئے وہ ایک لمحے کے لیے رکی اور پھر شرارتی لہجے میں بولی ۔”نہیں بلکہ قبیل خان کی ہلاکت کے بعد میں نے ایک اور قتل بھی کرنا ہے اس کے بعد آﺅں گی ۔
سردار نے زوردارقہقہہ لگایا ،لیکن میں دکھ کی وجہ سے کوئی جواب نہیں دے سکا تھا ۔
”ویسے یار!.... مجھے پشیمانی ہورہی کہ میں نے چنارے کو موبائل فون کیوں نہیں لے کر دیا ۔ اگر اس کے پاس موبائل فون ہوتا تو ابھی پی سی او سے گھر بات کر کے کم از کم اس کی آواز ہی سن لیتا ۔“
”اچھا میرا اے ٹی ایم اپنے پاس رکھ لو ،شادی تمھیں رقم کی ضرورت پڑے ۔“میں نے اپنا اے ٹی ایم اس کی طرف بڑھایا۔
اس نے انکار کرتے ہوئے کہا۔”نہیں اب اس کی ضرورت نہیں پڑے گی ،بتایاتو ہے کہ لی زونا کا باب بند ۔“
”پانچ ہزار ڈالر تمھیں دینے کا وعدہ کیا تھا ،چاہے وہ لی زونا کے حصول کے لیے استعمال کرو چاہے ....کسی اور مقصد کے لیے ۔“میری آواز بھرا گئی تھی ۔
”نہیں راجے !....اتنی زیادہ رقم ........“
”مجھ سے غلطی ہو گئی تھی یار !....یہ رقم مجھے بہت پہلے تمھارے حوالے کر دینا چاہیے تھی ،تم بھی امریکا میں میرے ساتھ تھے ۔پچاس ہزار میں سے پانچ ہزار تو تمھارا حق بنتا ہے ۔“
”وہ تمھارا انعام تھا ۔“سردار نے نفی میں سر ہلایا۔
”تم نے لینے ہیں کہ مجھ سے بے عزت ہونا ہے ۔“میں نے سخت لہجے میں کہا اور اس نے خاموشی سے اے ٹی ایم کارڈ میرے ہاتھ سے لے لیا ۔اے ٹی ایم کا پاس ورڈ بتا کر میں نے سونے کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔
صبح سویرے اٹھ کر ہم بغیر ناشتا کیے ہوٹل سے نکل آئے ۔ویگن اڈے پہنچ کر بھی ناشتے کا موقع نہ مل سکا کہ ویگن جانے کے لیے تیار تھی ۔سردار نے اپنا پستول میرے حوالے کرتے ہوئے مجھ سے معانقہ کیا اور کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا ۔”میری چھوٹی سی بہن کا خیال رکھنا ۔“
میں اسے جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں تھا ۔مجھ سے علاحدہ ہوتے ہوئے اس نے پلوشہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور ویگن میں بیٹھ گیا ۔
ویگن چلنے تک ہم وہیں کھڑے رہے ۔ویگن کے اڈے سے نکلتے ہی وہ مجھے مخاطب ہوئی ۔ ”اب مجھے اصل بات بتاﺅ ۔“
”میں سمجھا نہیں ۔“میں نے حیرانی سے اسے گھورا ۔
”سردار بھائی کے گھر میں کیا مسئلہ ہے ؟“
”تمھیں کیسے معلوم کہ اس کے گھر میں کوئی مسئلہ ہے ۔“میری حیرانی برقرار تھی ۔
”اس سوال کو رہنے دو جو پوچھا ہے وہ بتاﺅ ۔“
”اپنا لہجہ درست کرو اور چلتی پھرتی نظر آﺅ۔“سختی سے کہتے ہوئے میں اسی ہوٹل کی طرف بڑھ گیا جہاں رات گزاری تھی ۔
ویگن اڈے سے باہر نکلتے ہوئے میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔وہ مجھ سے دو تین قدم پیچھے اطمینان سے چلی آ رہی تھی ۔
”تمھاری سمجھ میں میری بات نہیں آئی ۔“میں اسے جھڑکنے کے انداز میں بولا۔
وہ شوخی سے ہنسی ۔”کیوں بلاوجہ توانائی ضائع کر رہے ہو ۔“
میں اپنے ہونٹ کاٹتے ہوئے اسے گھورنے لگا ۔اس نے نظریں چرانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اپنی موٹی موٹی سیاہ آنکھیں میری آنکھوں میں ڈالے وہ بھی للکارنے کے انداز میں مجھے گھورتی رہی۔
”اگر میں یونھی تمھارے پیچھے پیچھے چلتی رہی تو تم میرا کیا بگاڑ لو گے ۔“مجھے خاموش کھڑا دیکھ کر اس نے دوبارہ زبان کھولی ۔
تمھیں شاید اپنی عزت پیاری نہیں ہے ۔“مجھے اس پر حقیقت میں غصہ آنے لگا تھا ۔پیر تسمہ پا کی طرح ہی وہ مجھ سے چمٹ گئی تھی ۔
اس کے لبوں پر خوب صورت مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”مجھے نہ سہی تمھیں تو میری عزت پیاری ہے نا ،بس اتنا ہی کافی ہے ۔“
میں نے بہ مشکل اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا۔”دیکھو جب سردار آئے گا تو تم بھی واپس آجانا۔“
مجھے آگے بڑھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ بے پرواہی سے بولی ۔”چھوڑو مذاق کو اور چلو ، ناشتا بھی کرنا ہے ۔“
”میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اسے کیسے منع کروں ،نہ تو وہ میرے غصے کی پرواہ کر رہی تھی اور نہ نرم لہجہ اس پر اثر کر رہا تھا ۔
سر جھٹک کر ایک بار پھر چل پڑا ۔وہ میرے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے بولی ۔”بندے کو اتنا خڑسوس بھی نہیں ہونا چاہیے ۔“
”تمھیں کسی نے بھی بات کرنے کی تمیز نہیں سکھائی ۔“
وہ اطمینان سے بولی ۔”تم سکھا دو ۔“
مجھے خاموشی ہی میں عافیت نظر آئی ۔مجھے خاموش دیکھ کر وہ کہنے لگی ۔”چلو نا ناشتا کرتے ہیں قسم سے سخت بھوک لگی ہے ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔”پیسے ہیں جیب میں۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی ۔”اگر ہوتے تو تم جیسے کنجوس کی منتیں کر رہی ہوتی ۔“
اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے میں نے سنجیدگی سے پوچھا ۔”اچھا میری جان چھوڑنے کے کتنے پیسے لو گی ؟“
اس نے وضاحت چاہی ۔”تمھارا مطلب ہے قبیل خان کو مارنے کے بعد تمھاری جان بخش دوں ۔“
”نہیں ابھی کہیں دفع ہو جاﺅ ۔“
”ہونہہ!....اس کے لیے رقم کے ساتھ کچھ اور بھی چاہیے ہو گا ۔“
جاری ہے
 

”کیا ؟“
”ایک لاکھ ،گلاک پستول مع سائیلنسراور مخابرہ(آئی کام سیٹ)“
”مجھے پہلے صرف شک تھا کہ تمھارا دماغ خراب ہے ۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”تم ساری زندگی شک ہی میں پڑے رہنا ۔“
میں اس کی بات کا جواب دیے بغیر آئی کام سیٹ نکال کر ون الفا کو پکارنے لگا ۔یوں تو وہ شام کے وقت آئی کام سیٹ آن کر تا تھا لیکن آج چونکہ اسے ہماری آمد کے بارے معلوم تھا اس لیے مجھے امید تھی کہ وہ میرا انتظار کر رہا ہوں گا ۔میرے اندازے کے مطابق جلد ہی اس کا جواب آنے لگا ۔رسمی گفتگو میں پڑنے کے بجائے اس نے فوراََ میری جگہ کے بارے پوچھا اور میں نے بس اڈے کے قریب موجود اس ہوٹل کا نام بتا دیا جس کے سامنے ہم اس وقت کھڑے تھے ۔
اس نے کہا ۔”ٹھیک ہے وہیں رکو میں آ رہا ہوں ۔“ہمیں بہ مشکل پندرہ بیس منٹ انتظار کرنا پڑا ہو گا ۔ سفید رنگ کی ڈبل ڈور ہمارے ساتھ آکر رکی ۔وہ گاڑی میں اکیلا تھا ۔مجھے بیٹھنے کا اشارہ کر کے اس نے اگلی نشست کا دروازہ کھول دیا۔اس کے ساتھ بیٹھتے ہی میں نے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا ۔
”چلیں سر !“پلوشہ نے عقبی دروازے کا ہینڈل پکڑ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کی تھی لیکن دروازہ بند تھا ۔
اس نے پوچھا ۔”یہ لڑکا تمھارے ساتھ ہے ؟“
”اسے چھوڑیں سر!.... اور چلیں ۔“میں نے جلدی سے کہا ۔نہ جانے کیوں میں پلوشہ سے بھاگنا چاہ رہا تھا ۔اورنگ زیب صاحب نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی ۔وہ وہیں کھڑی رہ گئی تھی ۔تھوڑی دور آتے ہی میں نے مڑ کر دیکھا وہ وہیں کھڑی تھی ۔
”ویسے کون تھا یہ لڑکا ؟“اورنگ زیب صاحب نے اشتیاق سے پوچھا ۔
”سر !....گاڑی روکیں ۔“میرے منہ سے بے ساختہ پھسلا ۔
”کیا ہوگیا ؟“بریک پر پاﺅں رکھتے ہوئے اس نے پریشانی سے پوچھا ۔
”سر !....اس لڑکے کو ساتھ لے کے چلنا ہے ۔“میں نے خفت بھرے لہجے میں کہا ۔
”یار !....کیا اوٹ پٹانگ کام کر رہے ہو ۔“ اس کے لہجے میں حیرانی تھی لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے گاڑی موڑ لی تھی ۔
میں نے میجر صاحب کی بات کا جواب نہیں دیا تھا ۔
وہ ابھی تک وہیں کھڑی تھی ۔میجر صاحب نے اس کے قریب جا کر گاڑی روک دی ۔میں نے ہاتھ بڑھا کر عقبی دروازہ ان لاک کیا ۔وہ اطمینان سے اندر گھس آئی ۔
”پہلے بھول گئے تھے یا یہ دکھانا چاہتے تھے کہ تم آسانی سے مجھ سے جان چھڑا سکتے ہو ۔“ میجر صاحب کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔
”نہیں میں نے سوچا اس طرح شاید تم غیرت کا مظاہرہ کرو اور میرا پیچھا چھوڑ دو ۔“میں نے اسے شرمندہ کرنے کی کوشش کی ۔لیکن ایسی باتیں وہ خاطر میں نہیں لاتی تھی فوراََ بولی ۔
”نہیں مجھے ڈر ہے ،اگرمیں نے تم پر نظر نہ رکھی تو تم کہیں چھپ جاﺅ گے۔آخر ایک ضروری کام کے بعد میں نے تمھیں قتل تو کرنا ہے نا ۔اس وقت کہاں ڈھونڈتا رہوں گا ۔“
پیچھے مڑ کر میں نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور دوبارہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔میں نہیں چاہتا تھا کہ اورنگ زیب صاحب اس کی بکواس سنے ۔
”کیا بات کر سکتا ہوں ۔“اورنگ زیب صاحب نے پلوشہ کی وجہ سے پوچھنا ضروری سمجھا تھا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”ہاں ،انگریزی زبان میں کر سکتے ہو۔“
”واہ ،تم انگریزی سمجھ بول لیتے ہو۔“اس نے تعریفی لہجے میں کہا ۔
اور اس سے پہلے کہ میں جواب دے پاتا عقبی نشست پر بیٹھی پلوشہ کی اطمینان بھری آواز نے میرے سر پر بم پھوڑ ڈالا۔ وہ میجر اورنگ زیب کو مخاطب تھی ۔”تو انگریزی بولنا اتنا مشکل تو نہیں ہے کہ آپ اس کی اتنی تعریف کر رہے ہیں ۔“اور مزے کی بات کہ اس نے یہ فقرہ انگریزی زبان ہی میں ادا کیا تھا ۔
”جی ذیشان!....اب تمھارا کیا خیال ہے ۔“ اورنگ زیب صاحب نے طنزیہ انداز میں پوچھا ۔
”کہیے سر !....اس کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔“
”کیا مطلب؟“وہ حیران رہ گیا تھا ۔
میں اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔ ”مطلب یہ کہ آپ نے جو پوچھنا یا کہنا ہے جاری رکھیں۔“
”سردار کو اس کی بیوی کی موت کا بتایا تھا ؟“
”نہیں سر !....بس بچے کی پیدائش کی خوش خبری سنا کر بھیج دیا ہے۔“
”مشن کہاں تک پہنچا ہے ۔“
جواباََ میں نے خائستہ گل سے لے کر قبیل خان کی حویلی کی تباہی تک کا احوال مختصراََ سنا دیا ۔
”ہونہہ!....“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس نے کہا ۔”ویسے یہ خبریں مجھ تک پہنچ گئی تھیں۔اور حویلی تباہ کرنے کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی ۔“
”جب اس کے ملازموں کو بہ حالت مجبور ی قتل کرنا پڑ گیا تو ہم نے دونوں نے یہی سوچا کہ جب ہمارا وہاں آنا ثابت ہو ہی گیا ہے تو اس کا کچھ نقصان ہی کر دیا جائے ۔“
”اس لڑکے کو کہاں سے ڈھونڈا ہے ۔“اس نے عقبی سیٹ پر بیٹھی پلوشہ کی جانب اشارہ کیا ۔
”یہ مجاہدین کا ساتھی ہے ۔آپ کو کمانڈر عبدالحق کا بتایا ہے نا ،یہ اسی کا شاگرد ہے اور فی الحال تو رہنمائی کے لیے ساتھ رکھا ہوا ہے کہ اس کا تعلق اسی علاقے سے ہے۔“
”ہونہہ....“کہتے ہوئے اس نے ایک درمیانی مگر پختہ عمارت کے گیٹ پر گاڑی روک دی۔ ہارن دینے سے پہلے ہی دروازہ کھل گیا تھا ۔وہ گاڑی اندر لیتا گیا ۔گیراج میں گاڑی روک کر ہم نیچے اتر آئے ۔اس عمارت میں چہل پہل دیکھ کر مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ اورنگ زیب صاحب کا گھر نہیں تھا ۔ہمیں ساتھ لے کر وہ ایک کمرے میں داخل ہوا ۔کمرہ کافی بڑا تھا ۔کمرے کے ایک کونے میں میز لگی تھی ۔میز کے عقب میں گھومنے والی لکڑی کی کرسی رکھی تھی جبکہ سامنے تین فوم کی کرسیاں پڑی تھیں ۔کمرے کے دوسرے کونے میں لکڑی کا سنگل بیڈ لگا ہوا تھا ۔گویا وہ کمرہ دفتر ہونے کے ساتھ اس کی خوب گاہ کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا ۔
”شاید آپ لوگ ناشتا کر چکے ہوں گے ۔“ میز کے عقب میں پڑی کرسی سنبھالتے ہوئے اس نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
”بالکل بھی نہیں کیا ہے ۔“میرے کچھ کہنے سے پہلے پلوشہ نے منہ کھول دیا ۔
میجر اورنگ زیب نے مسکراتے ہوئے گھنٹی بجائی اور دروازہ کھول ایک آدمی اندر داخل ہوا ۔ یقینا میجر صاحب کے وہاں آتے ہی وہ دروازے پر پہنچ گیا تھا ۔
”اس لڑکے کو ساتھ لے جا کر اچھا سا ناشتا کرا دو ۔اور ہمارے لیے دو پیالی چاے لے آﺅ۔“
”تم نے ناشتا نہیں کرنا ۔“پلوشہ مجھے مخاطب ہوئی ۔
”مجھے چھوڑو اور اپنی فکر کرو ۔“
وہ مزید کچھ کہے نووارد کے ساتھ باہر نکل گئی ۔
”اب بتاﺅ اس لڑکے کا کیا چکر ہے ۔“ میجر اورنگ زیب نے پلوشہ کے وہاں سے نکلتے ہی پوچھا ۔
”تمام کہانی آپ کو سنا دی ہے سر!....بس اتنا اضافہ کر لیجیے کہ قبیل خان نے اس کی بہن کو زیادتی کا نشانہ بنایا ،اس کے بھائی اور باپ کو قتل کیا اور اب یہ ان کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے بے تاب ہے ۔“
”مجھے تو یہ قابل بھرسا نہیں لگ رہا ۔“اورنگ زیب صاحب کے لہجے میں ہلکی سی تشویش تھی ۔
”میں مطمئن ہوں ۔“میں نے دل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کی طرف داری کی ۔
”ایسا نازک اندام لڑکا آپ لوگوں کی کیا مدد کرے گا ۔مجھے تو لگتا ہے کسی کے ذرا سا جھڑکنے پر آپ لوگوں کا سارا کٹھا چٹھا کھول دے گا ۔“
میرے چہرے پر دھیمی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”سر !....اس کا نام پلوشہ ہے اور یہ لڑکا نہیں لڑکی ہے ۔اور یقین کرو میں اس کے ہاتھوں مرتے مرتے بچا ہوں ،بس تکا ہی لگ گیا تھا کہ میں اسے بے ہوش کرنے میں کامیاب ہوگیا ورنہ اس نے میرا کام کر دیا تھا ۔اور اس کے بعد میں نے اس کی حقیقت اگلوانے کے لیے اس پر اتنا تشدد کیا کہ اتنا تشدد کوئی عادی مجرم بھی برداشت نہ کرتا اور اس کا نام بھی اس کے منہ سے نہیں اگلوا سکا ۔“
اورنگ زیب صاحب کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا ۔”یہ لڑکی ہے ....“عجیب سے انداز میں کہتے ہوئے وہ معنی خیز انداز میں مسکرایا۔”میں بھی کہوں اس لڑکے میں ایسی کیا بات ہے کہ بار بار اسے دیکھنے کو دل چاہتا ہے ۔اور شاید اسی لیے اس نے گاڑی میں داخل ہوتے ہی تمھیں قتل کرنے کی دھمکی دی کہ تم نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا تھا ۔“
”جی سر !....“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔اسی وقت ایک آدمی چاے کے برتن لیے اندر داخل ہوا ۔چاے کی پیالیاں ہمارے سامنے رکھ کر وہ جس خاموشی سے اندر داخل ہوا تھا اسی طرح باہر نکل گیا ۔
چاے پیتے ہوئے ہم آگے کا لائحہ عمل طے کرنے لگے ۔ہماری باتوں کے درمیان ہی پلوشہ لوٹ آئی تھی ۔میرے دائیں طرف پڑی کرسی پر بیٹھ کر وہ ہماری باتیں سننے لگی ۔مزید گھنٹا بھر وہیں گزار کر میں نے میجر صاحب سے اجازت لی اور ہم وہا ں سے نکل لائے ۔پلوشہ کی حقیقت معلوم ہونے کے باوجود میجر اورنگ زیب نے اسے لڑکے کے طور پر ہی مخاطب کیا تھا۔ویگن اڈے تک ہم میجر صاحب کی گاڑی میں آئے تھے ۔ویگن اڈے میں انگور اڈے کی ویگن تیار کھڑی تھی ۔ہمارے پہنچنے کے پندرہ بیس منٹ بعد ویگن اڈے سے نکل آئی ۔پلوشہ خامو ش خامو ش سی تھی ۔انگور اڈے پہنچ کر ویگن سے اترتے ہی وہ کہنے لگی ۔
”کچھ رقم دے سکتے ہو ؟“
”رقم ....کس لیے ؟“میرے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”دے سکتے ہو تو دے دو ،نہیں تو سوالات کی کوئی ضرورت نہیں ۔“
”کتنے چاہئیں؟“
”اگر ہو سکے تو دس پندرہ ہزار دے دو ۔“
ایک لمحہ سوچنے کے بعد میں نے جیب سے چار بڑے نوٹ نکال کر اس کی جان بڑھا دیے۔ ”یہ بیس ہزار ہیں ۔“
بغیر کسی تکلف کے وہ میرے ہاتھ سے پیسے لیتے ہوئے بولی ۔”واپس نہیں ملیں گے ۔“
”لیکن میں نے اس کی بات کا جواب دینے کی ضرورت نہ سمجھی ،یوں بھی یہ رقم میں نے خائستہ گل کی جیب سے نکالی تھی ۔
کمانڈر نصراللہ کے دروازے کے سامنے پہنچ کر وہ بولی ۔”میں نے کہیں جانا ہے ،کل تک لوٹوں گی ۔تم یہیں پر میرا انتظار کرنا ۔“
”کہاں جانا ہے ۔“
”اگر بتانا ہوتا تو میں کہیں کے بجائے اس جگہ کانام لے لیتی ۔“
میں نے تلخی سے کہا ۔”اتنا بتانے کی بھی کیا ضرورت تھی ،جاﺅ جہاں دفع ہونا ہے ۔“
وہ برا منائے بغیر بولی ۔”اگر گلاک نہیں دے سکتے تومجھے سردار بھائی والا پستول ہی دے دو۔“
”یہ لو ....“اس مرتبہ بھی بغیر کسی حجت کے میں نے گلاک مع سائیلنسر کے ہولسٹر سے نکال کر اس کی جانب بڑھا دیا ۔
اس کے چہرے پر حیرت کے آثار نمودار ہوئے مگر اس کے ہونٹوں سے شکریہ وغیرہ کا کلمہ ادا نہیں ہوا تھا ۔
پسٹل نیفے میں اڑستے ہوئے وہ کمانڈرنصراللہ کے دروازے پر دستک دینے لگی جبکہ میں بیٹھک کے دروازے پر لگا تالا کھولنے لگا ۔میرا دماغ اسی کو سوچ رہا تھا ۔پہلے میں شد و مد سے اس سے جان چھڑانا چاہ رہا تھا لیکن میجر اورنگ زیب تک اس کا حال پہنچانے کے بعد نہ جانے کیوں ایک دم میں ذہنی طور پر اس کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہو گیا تھا ۔پہلے میں اس کی خوب صورتی سے ڈرا ہوا تھا ،لیکن پھر بہت سوچنے کے بعد میرے دماغ میں یہی بات آئی تھی، کہ اسی طرح اگر میں ہر خوب صورت لڑکی کا سامنا کرنے سے ڈرتا رہا تو زندگی گزارنا بہت مشکل ہو جائے گا ۔یوں بھی اس جیسی خطرناک لڑکی سے محبت کوئی بےوقوف ہی کر سکتا تھا ۔اور سب بڑھ کروہاں اس سے بہتر رہنمائی کرنے والا ہمیں نہیں مل سکتا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد موٹر سائیکل اسٹارٹ ہونے کی آواز سن کر مجھے معلوم ہو گیا کہ وہ موٹر سائیکل ہی پرکہیں روانہ ہوئی ہے ۔
اس کی تصدیق کمانڈر نصراللہ کی آمد سے ہوئی ۔وہ میرے لیے دن کا کھانا لایا تھا ۔اس نے خود بھی میرے ساتھ ہی کھانا کھانا پسند کیا تھا ۔اسی دوران اس نے پلوشہ کے بارے بھی پوچھ لیا کہ ۔ ”پلوخان موٹر سائیکل پر بیٹھ کر کہاں گیا ہے ۔“
میں نے نفی میں سر ہلا کر لاعلمی کا اظہار کیا اور اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
٭٭٭
”اگلے دن دوپہر کو وہ واپس پہنچی ۔کافی خو ش دکھائی دے رہی تھی ۔
”ویسے مجھے امید تو نہیں تھی کہ تم مجھے واپسی پر یہیں ملو گے ۔“خالی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے اس نے بغیر لگی لپٹی کہا ۔
میں خاموشی سے لیٹا رہا ۔
وہ فوراََ مطلب کی بات پر آ گئی ۔ ”پرسوں اپنا کام شروع ہو گا ۔“
”کیا مطلب ؟“میں پوچھے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔
”پرسوں ثقلین خان کے بیٹے کی شادی ہے ،اورثقلین خان ،قبیل خان کا حلیف ہے ۔“
”تمھار امطلب ہے وہاں قبیل خان آئے گا ۔“
اس نے وثوق سے کہا ۔”بالکل آئے گا ۔“
”پھر تو وہاں جانا پڑے گا ۔“میں فوراََ تیار ہو گیا تھا ۔
”لیکن یہ یاد رکھنا کہ وہ خبیث ہر وقت محافظوں کے نرغے میں ہوتا ہے ۔“
”ویسے یہاں اس کے مخالف بھی تو موجود ہوں گے ،میرا مطلب وہ اکیلا ہی سمگلر اور دہشت گرد تو نہیں ہے نا ۔“
”بالکل ہیں ،لیکن ان میں ایک بھی ایسا نہیں ہے کہ کھل کر اس کا سامنا کر سکے ۔ثقلین خان کافی با رسوخ شخص ہے لیکن اس کے قبیل خان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں ۔البتہ سنگدل خان محسود کے آدمیوں کا اس کے آدمیوں کے ساتھ دو تین بار فائرنگ کا تبادلہ ہوچکا ہے پر بعد میں صلح وغیرہ ہو گئی ۔ گو یہ صلح بھی بس خانہ پری ہی کے لیے تھی لیکن وہ کسی اورکے لیے قبیل خان کے خلاف میدان میں نہیں اتر سکتا۔“
”تم وزیر ہو کہ محسود؟“
و ہ معنی خیز لہجے میں بولی ۔”تمھیں اس سے کیا لینا کہ میں وزیر ہوں یا محسود۔“
میں جل کر بولا ۔”بھاڑ میں جاﺅ تم اور تمھاری قوم ۔“
وہ کھل کھلا کر ہنس پڑی ۔”ویسے کسی لڑکی کا قوم قبیلہ تب معلوم کیا جاتا ہے جب وہاں رشتا بھیجنے کا ارادہ ہواور ہمارے ہاں تو لڑکی کے والدین بہت زیادہ رقم مانگتے ہیں ۔امی جان تومیرا رشتا دینے کے لیے پچاس لاکھ سے ایک روپیا بھی کم نہیں کریں گی ۔اور سب سے بڑی بات یہ کہ تم اگر مجھ سے شادی کر لو تب بھی قبیل خان کی موت کے بعد میں تمھیں زندہ نہیں چھوڑ سکتی ۔“
میں منہ بناتے ہوئے بولا ۔”تم سے شادی کرنے سے بہتر ہے کہ میں خود کشی کر لوں ۔“
وہ شوخ لہجے میں بولی ۔”خود کشی کی زحمت نہ کرنا ۔اپنی موت کا کام مجھ پر چھوڑ دو ۔“
”ہم سنگدل خان محسود کے بارے بات کر رہے تھے ۔“میں نے گفتگو کا رخ اصل موضوع کی جانب موڑا ۔
”اس کی بات مکمل ہو چکی ہے اور اب قبیل خان کو ٹھکانے لگانے کا لائحہ عمل سوچو۔“
”اس بارے تم نے کافی کچھ سوچ رکھاہو گا ۔“
”ہاں ....اگر وہ سامنے آ گیا تو یقین کرو میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر اسے ٹھکانے لگانے کی کوشش کروں گی ۔“
میرے منہ سے بے اختیار پھسلا ۔”کوئی بے وقوفی نہ کرنا ۔“میرے لہجے میں شامل فکر مندی اس سے زیادہ خود مجھے حیران کر گئی تھی ۔
اس نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”اس بارے مجھے کسی کے مشورے کی کوئی ضرورت نہیں ۔“
مجھے خود بھی احساس ہو گیا تھا کہ میں نے خوامخواہ فالتو کی بات کر دی ہے ۔اس کا خشک لہجہ سن کر میری خفت میں اضافہ ہو گیا تھا ۔
مجھے خاموش پا کر وہ بولی ۔”شادی پرسوں ہے اس لیے کل ہی نکل چلیں گے ۔“
میں اس مرتبہ بھی خاموش لیٹا چھت میں لگے شہتیروں کو گھورتا رہا ۔
” تم شاید اس لیے پریشان ہو کہ میری وجہ سے تم پر کوئی مصیبت نہ آجائے ہے نا ؟“میری خاموشی بھی اسے چپ پر آمادہ نہیں کر پا رہی تھی ۔
”اگر تمھیں زبان پر قابو رکھنا آتا تو یقینا تمھیں ساتھ رکھنے کے فیصلے پر مجھے پچھتانا نہ پڑتا ۔“
وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولی ۔”اسی لیے تو کہتی ہوں ،مستقبل کے پچھتاوں سے بچنے کے لیے تمھیں امی جان سے بات کر لینا چاہیے ۔میرے کہنے پر وہ پچاس لاکھ سے چند ہزار کم کرنے پر راضی ہو جائیں گی ۔اور میرے لیے بھی آسانی رہے گی کہ قبیل خان کی موت کے بعد تمھیں ڈھونڈنے کی زحمت سے بچ جاﺅں گی ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”ویسے تمھیں ،کس بے وقوف نے یہ کہا ہے کہ تم خوب صورت ہو۔“
”اتنی جلدی اپنے کہے الفاظ تمھیں بھول گئے ہیں ۔“اس نے میری سردار سے کی گئی گفتگو یاد دلائی ۔
”سوائے بکواس کرنے کے تمھیں کچھ نہیں آتا ۔“کروٹ بدل کر میں نے سر پرچادر رکھ لی ۔
وہ جلدی سے بولی ۔”بات سنو ۔“
لیکن نے اسے جواب دینا ضروری نہ سمجھا ۔
وہ دوبارہ بولی ۔”راجا ذیشان حیدر صاحب !....اٹھ جاﺅ بازار تک جانا ہے ۔“
میں نے چہرے سے کپڑا ہٹانے کی زحمت کیے بغیر کہا ۔”تو منع کس نے کیا ہے ،جاﺅ نا ۔“
وہ مصر ہوئی ۔”نہیں تمھارا ساتھ جانا ضروری ہے ۔“
”فضول گوئی سے پرہیز کرو یہ نہ ہو میں سچ مچ تمھیں یہاں سے دفع ہو جانے کا کہہ دوں ۔“
”یعنی پہلے تم مذاق میں مجھے چلے جانے کا کہہ رہے تھے ۔اس کا مطلب ہوا میرا اندازہ صحیح ہے کہ تم شروع سے مجھ پر بری نظر رکھے ہوئے ہو ۔“
”پلوشہ !....فضول گوئی کی کوئی حد ہوتی ہے ۔“میں چڑ گیا تھا ۔
”تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میرا نام پلوشہ خان وزیر ہے ۔باقی بازار تک تو تمھیں جانا پڑے گا ۔“
میں بگڑ کر بولا۔”زبردستی ہے کیا ؟“
وہ بے تکلفی سے میری چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولی ۔”چلو نا ۔“
میں اٹھ کر اس سے ذرا سافاصلہ پیدا کرتے ہوئے بولا ۔”تم میں لڑکیوں والی تو کوئی بات ہی نہیں ہے۔“
وہ اطمینان سے بولی ۔”تومیں نے کب کہا ہے کہ میں لڑکی ہوں ۔“
”کیا تمھارے بال چھوٹے کروانے ،زیور نہ پہننے یا مردانہ لباس استعمال کرنے سے تم لڑکا بن جاﺅ گی ۔“
”راجا صاحب !....یہ اخلاق سدھارنے کا کام میرے بڑوں کے لیے چھوڑ دو اور اٹھو میرے ساتھ بازار تک چلو ۔“
”کل سے تم جانے کہاں کہاں سے گھوم پھر کر آ رہی ہو ،بازار تک اکیلے جانے میں کیا قباحت ہے ۔“
”تم نے چلنا ہے کہ نہیں ۔“میرے سوال کا جواب وہ گول کر گئی تھی ۔
”اگر میں نہ کہوں پھر ۔“
”تو پھر میں اس وقت تک کہتی رہوں گی جب تک تم میرے ساتھ چل نہیں پڑتے ۔“
”سنا تھا عورتیں مصیبت اور پریشانی کا دوسرا نام ہیں ۔“میں نے پاﺅں میں چپل ڈالتے ہوئے تلخ لہجے میں کہا ۔
وہ منہ بنا کر بولی ۔”یہ بات بیویوں کے متعلق کہی گئی ہے اور میں تمھاری بیوی نہیں ہوں سمجھے۔“
”عورت تو ہو نا ۔“
”نہیں ،تمھارے لیے عورت بھی نہیں ہوں ،مرد ہوں ۔اگر شک ہے تو آ جاﺅ میدان میں ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”یقینا تمھارے جبڑے ٹھیک ہو گئے ہوں گے ۔“
”بڑا طنز کر رہے ہو،بندھی ہوئی لڑکی پر تشددکرنا یقینا ایک کارنامہ ہی تو ہے ۔“
”اچھا ا ب اپنی ٹیں ٹیں بند کرو اور چلو ۔“میں بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔
اس نے خاموشی سے میری تقلید میں قدم بڑھا دیے تھے ۔میری تلخ اور طنزیہ باتوں کا اس ڈھیٹ پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا ۔
میں نے بیٹھک کا دروازہ تالا کرتے ہوئے پوچھا ۔”تم نے میرا پستول واپس نہیں کیا ۔“
وہ بے پرواہی سے بولی ۔”تم دوسرا خرید لینا ۔“
میں نے اسے شرمندہ کرنے کی کوشش کی ۔”جانتی بھی ہو اس کی قیمت کتنی ہے؟“
”جانتی ہوں تو واپس نہیں کر رہی نا ۔“اس کے لہجے میں شامل اطمینان مجھے تپا گیا تھا ۔
”پھر تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ اتنا قیمتی پستول میں تمھارے حوالے کردوں گا ۔“
اس نے انکشاف کیا ۔”یہ میرا معاوضا ہے ۔“
”کیا ۔“میں حیرانی سے اچھل پڑا تھا ۔”تمھاری منتیں سن کر تمھیں ساتھ رکھا اور اب تمھیں معاوضا چاہیے ،واہ کیا انداز ہے ۔“
”تو میرے کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے ،ہر آدمی نوکری کے حصول کے لیے نوکری دینے والے کی منتیں کرتا ہے ۔“
میں گہرا سانس لیتے ہوئے خاموش ہو گیا ۔بازار میں گھستے ہی اس نے ایک حجام کی دکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
”میں نے بال چھوٹے کروانے ہیں ۔“
”اب کون سے اتنے بڑے ہیں ۔“
”نہیں ،اگر میرے بال تھوڑے سے بھی لمبے ہو گئے تو میں بالکل لڑکی لگنے لگوں گی ۔“
”تو کیا ....؟“
”اس سوال کے جواب کا وقت میرے پاس نہیں ہے ۔“وہ حجام کی دکان کی طرف بڑھ گئی ۔
بوڑھے حجام کو اس نے بال چھوٹے کرنے کا کہا ۔میں خاموشی سے ایک جانب بیٹھ گیا ۔بال بنواتے ہی وہ مجھے مخاطب ہوئی ۔
”حجام چاچا کو پیسے دے دو ۔“
کڑی نظروں سے اسے گھورتے ہوئے میں نے پچاس کا نوٹ حجام کی طرف بڑھا دیا ۔
دکا ن سے باہر آتے ہی وہ کہنے لگی ۔ ”مجھے شادی کے لیے نئے کپڑے لے کے دو ۔“
میں جانتا تھا کہ اسے مطعون کرنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونا تھا اس کے باوجود خاموش نہیں رہ سکا تھا ۔
”تمھیں کل بیس ہزار دیے تھے وہ کہاں گئے ؟“
”جانتے ہو تمھاری مثال بالکل اس بکری کی سی ہے جو دودھ تو دیتی ہے مگر مینگنیاں ڈال کر سارا مزہ کرکرا کر دیتی ہے ۔“
”تمھاری زبان کچھ زیادہ ہی لمبی ہوتی جا رہی ہے ۔جاﺅ نہیں خرید کر دیتا ۔“
ٹھیک ہے واپس چلو ۔وہ بیٹھک کی جانب مڑ گئی ،مجھے ہلکی سی ندامت تو ہوئی مگر میں نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔رستے میں ہم خاموشی سے چلتے رہے ۔بیٹھک میں داخل ہو تے ہی وہ تو غسل خانے میں گھس کر نہانے لگی اور میں چارپائی پر جا کر لیٹ گیا ۔
غسل خانے سے برآمد ہو کر وہ بھی خاموشی سے چارپائی پر آ کر لیٹ گئی چند لمحوں کے بعد میرا نام لیے بغیر اس کی دکھ بھری آواز ابھری ۔
”امی جان اور میرا چھوٹا بھائی ، پچھلے آٹھ نو سال سے رشتے کے ایک ماموں کے گھر پر رہ رہے ہیں ۔ماموں خود بھی غریب آدمی ہیں ۔امی جان عیدالفطر پر کپڑوں کا ایک جوڑا خریدتی ہیں اور پورا سال اسی میں گزارتی ہیں ،چھوٹے بھائی نے شاید ہی کبھی کھلونے کا منہ دیکھا ہو۔تم سے اسی لیے بے غیرت ہو کر پیسے مانگے حالانکہ تم جیسے آدمی سے پیسے مانگنا اپنی انا کے گلے پر چھری چلانے کے مترادف ہے ۔اور اب نئے کپڑوں کا بھی اس لیے کہہ رہی تھی کل ثقلین خان کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں کم از کم حلیہ تو باراتیوں کا بنا کر جائیں ۔“
اس کی بات سن کر مجھے شدید ندامت محسوس ہوئی مگر ندامت ظاہر کیے بغیر میں نے غصے سے کہا۔”تو یہ بکواس پہلے بھی کی جا سکتی تھی ۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”تو اب کر دی ہے نا ۔“
”اچھا چلو اٹھو ۔“میں دوبارہ اٹھ بیٹھا ۔گو مجھے امید نہیں تھی کہ وہ اب میرے ساتھ چلنے پر تیار ہو گی ۔مگر وہ بغیر کچھ کہے میرے ساتھ جانے پر تیار ہو گئی ۔وہ ایسی ہی تھی فضول ناراضی میں وقت ضائع نہیں کرتی تھی ۔یا شاید اسے اپنی اہمیت ہی کا اندازہ نہیں تھا ۔
٭٭٭
ثقلین خان کے بیٹے کی شادی میں جانے کے لیے کمانڈر عبدالحق کی موٹر سائیکل ہمارے کام آئی تھی ۔ وہاں تک جانے کے لیے ہمیں علام خیل سے گزر کر جانا پڑا ۔اس کے گاﺅں کا نام ڈمبریانی تھا ۔ اس کی بیٹھک کسی وسیع و عریض حویلی سے بھی زیادہ رقبے میں پھیلی ہوئی تھی ۔شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں ۔بھاری بھرکم تن و توش کا مالک ثقلین خان ہمیں بیٹھک ہی میں اپنے آدمیوں کے جھرمٹ میں نظر آیا ۔
ہمیں خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہتے ہوئے اس نے ایک ملازم کو کھانا لانے کا حکم دیا ۔ دوپہر کا وقت ہونے کی وجہ سے اس نے ہم سے پوچھنے کی زحمت ہی نہیں کی تھی اور نہ یہ پوچھا تھا کہ ہم آئے کہاں سے ہیں ۔اس علاقے کی خوبیوں میں ایک بڑی خوبی مہمان نوازی ہے ۔ملازم ہمیں ایک کمرے میں لے گیا جہاں کچھ اور لوگ بھی کھانا کھانے میں مشغول تھے ۔کھانا کھا کر ہم باہر آئے اور ثقلین خان کی سجائی ہوئی محفل میں بیٹھ گئے ۔وہاں اس کے محافظوں کے علاوہ اور بھی کافی لوگ موجود تھے ۔ اس وقت زور و شور سے یہ بحث ہو رہی تھی کہ کل کس گویے کو بلایا جائے ۔اس میں قریباََ تمام آدمی اپنی اپنی رائے پیش کر رہے تھے ۔ثقلین خان نے ہم دونوں سے بھی پوچھا ،جواباََپلوشہ نے ایک خاتون گلوکارہ کا نام لے دیا تھا ۔
رات کا کھانا وغیرہ کھا کر جب مقامی لوگ گھروں کو لوٹنے لگے تبھی ثقلین خان نے سرسری انداز میں ہم سے پوچھ لیا تھا کہ ہم کہاں سے تشریف لائے ہیں ۔
”ہم شامون سے آئے ہیں ۔حاجی ارسلان گل میرے چچا جان ہیں ۔ان کی طبیعت ناساز تھی اس لیے اس نے میرے ہاتھ اپنی معذرت بھجوائی ہے ۔اور یہ میرے دوست ہیں ان کا تعلق مردان سے ہے ۔“پلوشہ نے فوراََ اپنا اور میراتعارف کرادیا ۔
”حاجی ارسلان ....“ثقلین خان کے چہرے پر سوچ کے آثار نمودار ہوئے اور پھر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہنے لگا ۔”اچھا اچھا شامون والے حاجی ارسلان گل صاحب !....ویسے کیا ہوا انھیں ،طبیعت زیادہ خراب تو نہیں ہے ۔“
”نہیں چچا جان !....اب کافی بہتر ہے ،لیکن سفر کرنے قابل نہیں تھے ۔“
”چلو واپسی پر میری جانب سے پوچھ لینا ،شادی کے ہنگامے نمٹا کر شاید میں شامون کا چکر لگا لوں ۔“
”ضرور چچا جان !“وہ خوش دلی سے مسکرائی ۔”آپ کو ہمیشہ خوش آمدید کہا جائے گا ۔“
”ٹھیک ہے آپ لوگ آرام کرو ۔“وہ اٹھ کر بیٹھک کے داخلی دروازے کی جانب بڑھ گیا ۔ محافظوں نے اس کو تین اطراف سے گھر لیا تھا ۔
اس کے دور جاتے ہی میں نے پلوشہ سے پوچھا ۔”یہ حاجی ارسلان گل کون ہے ؟“
وہ مسکرائی ۔”پتا نہیں ۔“
”کیا مطلب ؟....پتا نہیں کا۔“میں نے حیرانی سے پوچھا ۔
”مطلب یہ کہ میں نے فرضی نام لیا ہے اور ثقلین خان جیسے بڑے سرداروں کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ چھوٹے چھوٹے لوگوں کو ان کے نام سے یاد کرتے پھریں ۔“
میں نے پریشان ہو کر کہا ۔”مروا نہ دینا ۔“
وہ شوخی سے بولی ۔”نہیں تمھیں میرے علاوہ کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا اور میں بھی قبیل خان کی ہلاکت کے بعد تم سے نبٹوں گی ۔“
میں چڑ کر بولا ۔”بکواس کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دینا ۔“
”تمھیں یہ بکواس لگ رہی ہے ،اس خبیث کو مرنے دو پھر پتا چل جائے گا ۔“
”فضول عورت ۔“کہہ کر میں سونے کے کمرے کی طرف چل دیا ،وہاں ہر کمرے میں پانچ چھے چھے آدمی سوئے تھے ہم دونوں بھی ایک کمرے میں گھس کر سو گئے ۔
٭٭٭
اگلے روز سورج ابھرتے ہی شادی کے ہنگامے شروع ہو گئے تھے ۔ثقلین خان کا بیٹا دلدار خان ،اونچے لمبے قد کا پر رعب جوان تھا ۔چھوٹی داڑھی اور کندھوں پر بکھری ہوئی گھنی زلفیں اس وجاہت میں اضافہ کر رہی تھیں ۔گویے نے رات کو آنا تھا ۔رات بارہ بجے کے بعد ناچنے گانے والی طوائفیں کا پروگرام تھا ۔لیکن یہ محفل چیدہ چیدہ مخصوص افراد کے لیے تھی ۔ہم دونوں کی کوشش یہی تھی کہ اس محفل میں بیٹھنے کی اجازت حاصل کر سکیں ۔نو دس بجے پشتو کے خوب صورت ساز ساﺅنڈ سسٹم پر بجنے لگے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے منچلے نوجوان ان خوب صورت دھنوں پر ناچنے لگے ۔پلوشہ میرے ساتھ ہی بیٹھی تھی اس وقت میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب میں نے اسے ناچتے ہوئے نوجوانوں کا رخ کرتے دیکھا۔پستول وہ میری گود میں پھینک گئی تھی ۔ اگلے ہی لمحے وہ تھرکتے ہوئے ان میں شامل ہو گئی ۔اس کے بدن کی لچک ،ہاتھ پاﺅں کی ہم آہنگی خوب صورت انداز میں دائرے میں چکر کاٹنا ایک عجیب خوش کن منظر تھا ۔دیکھنے والے اسے ایک نو خیز لڑکا ہی سمجھ رہے تھے یہ تو صرف میں جانتا تھا کہ وہ لڑکی ہے اور اس وجہ سے مجھ پر اس کا نا چنا کچھ زیادہ ہی اثر انداز ہو رہا تھا ۔کئی بار میں نے اس کے بدن سے نظریں چرا کر دائیں بائیں دیکھنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا ۔تھوڑی ہی دیر میں تمام لڑکوں نے پلوشہ کے لیے میدان خالی کر دیا تھا ۔اس کے مسحور کن ڈانس نے جلد ہی تمام کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی تھی ۔وہ کافی دیر ناچتی رہی ۔شوقین حضرات نے بے تحاشا پیسے پھینکنے شروع کر دیے جنھیں سمیٹنے کے لیے مقامی میراثی موجود تھا ۔وقت جیسے تھم گیا تھا ۔ دھن بدلتے ہی اس کے ہاتھ پاﺅں اور درمیانی بدن کی حرکت بھی تبدیل ہو جاتی تھی ۔کافی دیر گزر گئی شاید وہ تھکنا جانتی ہی نہیں تھی ۔یہ بات تو مجھے اس سے لڑتے وقت بھی معلوم ہو گئی تھی کہ اس میں بلا کی جان ہے۔گھنٹا ڈیڑھ مسلسل ناچنا کتنا مشکل ہے اس بارے وہی جانتے ہیں جن کا یہ پیشہ ہے ۔میں تو بس اندازہ ہی لگا سکتا تھا ۔اس کا ڈانس ختم ہوتے ہی ”ہاہو ۔“کا شور مچ گیا تھا ۔وہ سیدھا میرے پاس پہنچی پسینہ دھاروں کی صورت میں اس کے چہرے اور گردن پر بہہ رہا تھا لیکن اس کا سانس بالکل ہموار تھا ۔ دلدار خان بھی اس کا ڈانس بڑے شوق سے دیکھتا رہا تھا ۔اسے واپس آتے دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور جیب سے کئی بڑے نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھاتا ہوا بولا ۔
”شاباش جوان!....دل خوش کر دیا ۔“
پلوشہ نے اطمینان سے اس کے ہاتھ سے تمام نوٹ لے کر اپنی جیب میں ڈال لیے تھے ۔
”ویسے یہی کاروبار کرو کافی کمائی کر لو گی ۔“چارپائی پر وہ میرے ساتھ اکیلی ہی بیٹھی تھی ۔اس لیے میں نے اسے مطعون کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا ۔
”اچھا مشورہ ہے ،لیکن پہلے قبیل خان اور تمھیں قتل کر دوں پھر اس بارے بھی کچھ سوچوں گی۔“
”بے حیا ۔“نہ جانے کیوں مجھے اس کی اس حرکت پر غصہ آ رہا تھا ۔
”یہ جو فوجی ہوتے ہیں نا ،نوکری پر آتے ہوئے عقل گھر چھوڑ آتے ہیں ۔بے وقوف انسان رات کی خصوصی محفل میں شمولیت کے لیے زمین ہموار کر رہی تھی ۔اب دولھے میاں کو میرا ناچنا پسند آ گیا ہے یقینا وہ مجھے اور میرے دوست کو خصوصی محفل میں شمولیت کا پروانہ عطا کر دے گا ۔“ میری ناگواری اور غصہ اسے بھی محسوس ہو گیا تھا اور عجیب بات یہ کہ اپنے عمل کی توجیہ میں اس نے ایک منٹ کی دیر بھی نہیں لگائی تھی ۔
”سچ کہو تم اسی لیے ناچنے گئیں تھیں ۔“مجھے اس کی بات پر یقین تھا لیکن اس کے باوجود میں حجت کرنے سے باز نہیں آیا تھا ۔
”ہاں ،مجھے معلوم تھا کہ تمام میری جانب متوجہ ہو جائیں گے ۔خوب صورت لڑکے یہاں کسی بھی طرح لڑکیوں سے کم اہمیت نہیں رکھتے ۔“
”بڑی آئی خوب صورت ۔“میں نے طنزیہ انداز میں کہا لیکن یہ طنز میرے حلق سے نیچے نہیں اتر سکا تھا ۔اس کا موہنا چہرہ کسی کی تعریف کا محتاج نہیں تھا ۔
”وہ کیا کہتے ہیں کھسیانی بلی کھمبا نوچے ۔“وہ شوخ لہجے میں بولی ۔”ویسے تم یوں آنکھیں پھا ڑ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے گویا اس سے پہلے کسی لڑکی کو ناچتے ہوئے نہیں دیکھا ۔“
”یہ تو سچ ہے کہ میں نے کبھی کسی لڑکی کو ناچتے نہیں دیکھا مگر تم لڑکی کب ہو ؟“
”صحیح کہا ۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے اس نے میری گود میں پڑی چادر اٹھائی اور اپنا پسینہ پونچھنے لگی ۔
میں تلخ ہوتا ہوا بولا ۔”کتنی بار منع کیا ہے کہ میری چیز کو بغیر پوچھے استعمال نہ کیا کرو ۔“
”جس دن دل سے کہو گے نہیں کروں گی ۔“
اور میں افسوس بھرے انداز میں سر ہلاتا ہوا دوسری جانب متوجہ ہو گیا ۔یوں بھی وہ انتہائی درجے کی ڈھیٹ تھی ۔
”میرا پستول ادھر کرو ۔“پسینہ صاف کر کے اس نے میری جانب ہاتھ بڑھایا۔اور میں نے خاموشی سے گلاک اس کی طرف بڑھا دیا ۔میرے پاس اس وقت پلوشہ کی ایس ایم جی موجود تھی ۔ چائنہ کی بنی ہوئی فلوڈنگ بٹ والی گن تھی ۔سردار والا بریٹا میں کمانڈر نصراللہ کی بیٹھک ہی میں چھوڑ آیا تھا ۔
دوپہر کے کھانے کے وقت ڈھول باجے کو خاموشی نصیب ہوئی ۔نماز ظہر کے بعد ایک بار پھر تیاریاں ہونے لگیں ۔یوں بھی دھوپ سے بچنے کے لیے بہت بڑا شامیانہ لگایا گیا تھا ۔
پلوشہ کھانا کھا کر کہیں غائب ہو گئی تھی ۔نہ میں نے پوچھا تھا کہ کہاں جا رہی ہو نہ اس نے بتانے کی زحمت کی تھی ۔میں وہیں کمرے میں تکیے سے ٹیک لگا کر چارپائی پر ڈھیر ہو گیا ۔شادی کا اصل ہنگامہ نماز عصر کے بعد ہی شروع ہو نا تھا ۔گھنٹے ڈیڑھ بعد ہی مجھے پلوشہ کی صورت نظر آئی ۔اس نے کمرے کے دروازے سے جھانک کر اندر نگاہ دوڑائی اور مجھے تکیے سے ٹیک لگائے دیکھ کر اندر گھس آئی ،یقینا میری تلاش میں اس نے دوسرے کمروں میں بھی جھانکا ہوگا ۔
میرے ساتھ چارپائی پر بیٹھتے ہوئے وہ سنجیدہ لہجے میں بولی ۔”ایک بری خبر ہے ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ”تمھارے منہ سے پہلے بھی کبھی اچھی خبر نہیں سنی اورکمرے میں تمام چارپائیاں خالی پڑی ہیں میرے ساتھ بیٹھنا ضروری تھا کیا ۔“
”تمھیں خوش کرنے کے لیے بیٹھتی ہوں ۔“
”تم جتنی دور ہوتی ہو میں اتنا خوش ہوتا ہوں ۔“
”جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا ۔“اس نے منہ بنایا ۔
”تمھیں تو آتا ہے نا ؟اور یہی کافی ہے ۔“
”اچھا جو میں خبر لائی ہوں وہ سنو ۔“اس نے ڈانٹنے کے انداز میں کہا ۔ میرے پاس سے اٹھنے کی کوشش اس نے نہیں کی تھی ۔
”فرماﺅ ۔“
”وہ خبیث شادی میں شرکت کے لیے نہیں آ رہا ۔“
”کیا ۔“میں نے بد مزگی سے پوچھا ۔
”صحیح کہہ رہی ہوں ۔میں مکمل چھان بین کر کے آئی ہوں وہ اس وقت افغانستان میں ہے ۔“
”پھر تو واپس چلنا چاہیے ۔“
وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی ۔”نہیں میرے ذہن میں ایک اور تجویز ہے ۔“
”کیا ؟“
”ثقلین خان ایک تگڑی آسامی ہے اور میں چاہتی ہوں کہ قبیل خان اورثقلین خان کے درمیان تھوڑی بہت چپلقش پیدا کی جائے جسے بعد میں ہم بڑھاوادے دیں ۔“
”اور اس سے ہمیں کیا ملے گا ؟“
”بہت کچھ ،اس کا ایک طاقت ور حلیف اگر حریف بن جائے تو کتنا اچھا ہو جائے گا ۔“
”تو یہ چپلقش پیدا کیسے ہوگی ؟“
”ایک طریقہ ہے تو سہی ، اگر تم ہمت کر سکو ۔“
”بولتی رہو ۔“
اس نے بے باک لہجے میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا ۔”قبیل خان کے لشکر کا ایک اہم کمانڈر انار گل یہاں آیا ہوا ہے اور یہ انتہائی درجے کا بدکردار شخص ہے ۔ کمینہ عورتوں سے زیادہ کم سن لڑکوں میں دلچسپی رکھتا ہے ۔اگر میں دوپہر کی طرح ناچتے ہوئے خود کو سستا بنا کر پیش کروں تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ مجھے چھیڑنے سے باز رہ سکے ۔ وہ لا محالہ مجھے چھیڑنے کی کوشش کرے گا اس وقت میں ہنگامہ کھڑا کر دوں گی اور تم فوراََ غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے سر میں گولی اتار دینا ۔کیونکہ میں تمھارا دوست ہوں۔ اور اس طرح غیرت کھا کر گولی چلانا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے اس لیے ہنگامہ توہو گا لیکن اس کا نتیجہ ہمارے حق میں نکلے گا ۔سب سے بڑھ کر ہم ثقلین خان کے مہمان ہیں اور اپنے مہمانوں کو وہ کسی صورت قبیل خان کے آدمیوں کے حوالے نہیں کرے گا ۔انار گل بھی ان معاملات میں شیطان کی طرح بدنام ہے ۔“
میں گہرے طنز سے بولا ۔”گویا اب تم نے قبیل خان کے قتل سے پہلے مجھے مروانے کا منصوبہ سوچ لیا ہے ۔“
وہ مجھے حوصلہ دیتے ہوئے بولی ۔ ”راجا !....کچھ بھی نہیں ہو گا تم ہمت تو کرو ۔“
”اور تم اتنی حور پری کب سے ہو گئی ہو کہ تمھیں دیکھ کر انار گل جیسی گندی ذہنیت کا آدمی آپے سے باہر ہو جائے گا ۔“
وہ اعتماد سے بولی ۔”جس بات میں تمھیں شک نہیں اس پر سوال مت اٹھاﺅ ۔“
”اچھا اگر میرے گولی چلانے کے بعد اس کے آدمیوں نے بھی فائر کھول دیا تب ثقلین خان کس جادو سے میری جان بچائے گا ۔اور تمھاری آنکھوں میں تو میں یوں بھی کھٹک رہا ہوں ۔“
”انار گل ،قبیل خان نہیں ہے کہ اس کے دائیں بائیں محافظ موجود ہوتے ہوں ۔باقی قبیل خان کے جو آدمی شادی میں شرکت کے لیے آئے ہوئے ہیں ان میں سے کوئی کس وجہ سے انار گل کی اتنی طرف داری کرے گا کہ تم پر گولی چلا دے ۔البتہ قبیل خان ضرور اس بات کو بنیاد بنا کر ثقلین خان سے ہمارا مطالبہ کرے گا ۔اور اس وقت ثقلین چاہ کر بھی ہمیں قبیل خان کے حوالے نہیں کرے گا ،کیونکہ ہم اس کے پاس نہیں ہوں گے ۔جبکہ قبیل خان یہی سمجھے گا کہ ثقلین خان نے اس کے مجرموں کو پناہ دے رکھی ہے یا انھیں کہیں دور بھجوا دیا ہے ۔“
میں لگی لپٹی رکھے بغیر بولا۔”ویسے اب تک میں یہی سمجھتا آرہاتھا کہ خیالی پلاﺅ صرف شیخ چلی ہی پکاتا رہا ہے ۔آج یہ غلط فہمی بھی دور ہو گئی ہے ۔بے وقوف !....قبیل خان جیسے لوگوں کے نزدیک اپنے آدمیوں کی اہمیت اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ زندہ ہوں ۔ان کے لیے وہ ثقلین خان جیسے سردار سے نہیں جھگڑ سکتا ۔دوسرا یہ فلمی طریقے اپنے پاس رکھو فی الحال میرا مرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔“
وہ عزم سے بولی ۔”میں نے آج انار گل کو ٹھکانے لگانا ہے اور یہ میں طے کر چکی ہوں ۔“
”وجہ ....؟“
”میرے بھائی نے جب باجی کو بچانے کے لیے گاڑی کی میں سوار ہونے کی کوشش کی تھی تب یہی کمینہ تھا جس نے بھائی کو لات مار کر گاڑی سے نیچے گرایا تھا ۔اور نیچے گرتے ہی پتھر اس کے سر میں لگنے سے وہ زندگی کی بازی ہار گیا تھا ۔“
”تو کیا یہ کام بعد میں نہیں ہو سکتا ۔“
”نہیں ،میں اس غلیظ کو گندہ کر کے ہلاک کروں گی ۔میں چاہتی ہوں جب لوگوں تک اس کی ہلاکت کی وجہ پہنچے تو وہ اس پر تھو تھو کریں ۔اور جب یہ ایک نوخیز لڑکے کو اتنے ہجوم میں چھیڑے گا اور اس لڑکے کا دوست اس کے بھیجے میں گولی اتارے گا ۔یقینا یہ ایک گندی اور قابل ملامت موت ہو گی ۔“
”ٹھیک ہے ،اپنے کسی دوست کو بلا لو ....میں یوں بھی تم سے دوستی کا دعوے دار نہیں ہوں ۔“
”دیکھ لو راجا !....ہم دشمن سہی پر قبیل خان کی موت تک ساتھی ہیں ۔کسی وقت تمھیں بھی مجھ سے کام پڑ سکتا ہے ۔“
”تمھیں کام بتانے سے پہلے میں خود کشی کرنا پسند کروں گا۔“
”خیر تمھارے مرنے کی خواہش کوتو میں جلد پورا کر دوں گا ۔بہ ہرحال اتنا تو کرسکتے ہو نا کہ یہیں موجود رہو ۔“
”موجود ہوں ،لیکن مجھ سے کسی مدد کی توقع کرنا فضول ہی ہوگا ۔تم جیسی لڑکی کے لیے میں اپنی زندگی داﺅ پر نہیں لگا سکتا ۔“
”دیکھو ،مجھے بہ طور لڑکی مخاطب نہ کیا کرو ۔جب تمھیں کئی بار کہہ چکی ہوں کہ میں تمھارے لیے فقط ایک لڑکا ہوں تو براہ مہربانی مجھے پلو خان ہی کہا کرو ۔“
”تم خود مجھ سے باتیں کرتے وقت لڑکی کے انداز میں بات کرتی ہو اس میں میرا کیا قصور ۔“
”اب نہیں کروں گا ۔“اس نے گویا کونین چباتے ہوئے کہا تھا ۔
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”تو مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے محترم۔“
ڈھول اور شہنائی کی آواز بلند ہوتے ہی اس نے کہا ۔”چلو باہر چل کر بیٹھتے ہیں ،شادی کا ہنگامہ شروع ہو گیا ہے ۔“
اور میں اس کے ہمراہ کمرے سے باہر نکل آیا ۔بیٹھک کے کھلے صحن میں سیکڑوں لوگ موجود تھے اور مزید لوگوں کی آمد جاری تھی ۔ایک بڑی چارپائی پر ثقلین خان تکیوں سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔اس چارپائی پر خوب صورت چادر بھی بچھی ہوئی تھی ۔دو تین اور چارپائیاں بھی اسی انداز میں سجا کر رکھی گئی تھیں اور ان پر صاحب حیثیت لوگ بیٹھے تھے ۔ایک چارپائی پر ثقلین کا بیٹا دلدار خان اپنے تین دوستوں کے ساتھ بیٹھا مونچھوں کو تاﺅ دے رہا تھا ۔میں اور پلوشہ بیٹھنے کے لیے جگہ دیکھنے لگے ۔ایک چارپائی پر تھوڑی سی جگہ خالی تھی ۔میں اسی کی طرف بڑھ گیا ۔مجھے محسوس ہوا کہ وہ میرے ساتھ نہیں آ رہی ۔پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ ایک مرد کے ساتھ کھڑی کوئی بات کر رہی تھی ۔
میں چارپائی پر بیٹھ گیا ۔دو تین منٹ اس کے ساتھ بات کرنے کے بعد وہ میری طرف بڑھ آئی ۔میرے بائیں ہاتھ چارپائی پر ایک ادھیڑ عمر کا باریش مرد بیٹھا تھا۔ ہمارے درمیان بہ ہرحال اتنا خلا موجود تھا جس میں وہ آسانی سے سما سکتی تھی ۔لیکن وہاں بیٹھنے کے بجائے ،مجھے اس مرد کی طرف دھکیلتے ہوئے وہ میرے دائیں جانب بیٹھ گئی ۔
ایک بات میں نے بڑی شدت سے محسوس کی تھی کہ وہ بیٹھتے وقت کوشش کرتی کہ میرے علاوہ کسی سے اس کا بدن مس نہ ہو ۔شاید اس کی وجہ یہی تھی کہ مجھے تو معلوم تھا کہ وہ عورت ہے اور کسی دوسرے کو اس کے بدن کے گداز سے معلوم ہو جاتا کہ وہ لڑکا نہیں ہے ۔لیکن پھر مجھے اپنی اس بات میں وزن نظر نہ آیا ، کیونکہ سردار کی موجودی میں بھی اس کی کوشش یہی ہوتی تھی ۔حالانکہ وہ اسے دل سے اپنی بہن سمجھتا تھا ۔کبھی کبھی مجھے سردار کی بات پر یقین آنے لگتا تھا کہ پلوشہ مجھ میں دلچسپی لے رہی ہے ۔بہ ہرحال کچھ بھی تھا میں اب اس راہ ِ خار زار پر اپنے قدم نہیں بڑھا سکتا تھا ۔یوں بھی پلوشہ لڑکی سے زیادہ لڑکا تھی اور ایسی لڑکیاں مجھے بالکل پسند نہیں ہیں جو لڑکی ہوتے ہوئے لڑکوں کا بھیس بنائے پھریں ۔گو پلوشہ اس ضمن میں مجبور تھی ،لیکن مجھے پھر بھی اس کی اس عادات سے چڑ تھی ۔
”وہ لال ٹوپی والا آدمی نظر آ رہا ہے ۔“بیٹھتے ساتھ اس نے مجھے کہنی سے ٹہوکا دیتے ہوئے ہمارے بائیں جانب دو چارپائیاں چھوڑ کر بیٹھے ہوئے ایک عام سی شکل کے پختہ عمر مرد کی طرف متوجہ کیا جس کی شکل پر پھٹکار برس رہی تھی ۔ہمارا رخ اس وقت جنوب کی طرف تھا جبکہ انارگل جس چارپائی پر بیٹھا تھا اس کا رخ مغرب کی جانب ہو رہا تھا ۔
میں پوچھنے لگا ۔”یہی انار گل ہے ۔“
”ہاں ....اور دیکھو کس طرح سفید کپڑوں والے نوعمر لڑکے کو ہوس ناک نظروں سے گھور رہا ہے ۔“اس نے ڈھول کی تھاپ پر ناچنے والے ایک لڑکے کی جانب اشارہ کیا ۔جو وہاں ناچنے والے باقی لڑکوں اور مردوں میں نمایاں نظر آ رہا تھا ۔
اس سے پہلے کہ میں اس کی بات کا جواب دے پاتا ایک آدمی ہمارے قریب پہنچا ۔اور پلوشہ کو مخاطب کر کے کہا ۔
”وڑکیہ !....سردارزادہ دلدار خان دے غواڑی ۔“(چھوٹے ،سردارزادہ دلدار خان بلا رہا ہے)
”آتا ہوں ۔“اسے کہہ کر وہ میری جان متوجہ ہوئی ۔”لگتا ہے سردارزادے کو میرا ناچ کچھ زیادہ ہی پسند آ گیا ہے ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”چلے جاﺅ ،کچھ خرچا پانی ہی بن جائے گا ۔“
”میرا خرچا پانی تو خیر تمھارے ذمہ ہے ،البتہ اس کام کے لیے میں خود اٹھنے والا تھا ۔اب تو بہانہ مل گیا ہے ۔“یہ کہہ کر وہ سردارزادے دلدارخان کی جانب بڑھ گیا جو اپنے تین چار دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھا ۔
پلوشہ کے قریب جانے پر سردار زادہ دلدار خان نے کھڑے ہو کر اس سے ہاتھ ملایا ۔اور اس کی پیٹھ پر تھپکی دے کر کچھ کہنے لگا ۔ پلوشہ کا سر اوپر نیچے ہلا اور جواباََ سردار زادے کو کوئی بات کہہ کر میرے جانب پلٹ آئی ۔
”سردار زادہ مجھے ناچنے کا کہہ رہا ہے ،میں نے کہہ دیا کہ اپنے دوست سے بھی پوچھ لوں اور یہ کہ میں اس مقامی ڈھول پر نہیں ناچوں گا ۔“یہ کہہ کروہ کھلی جگہ کی طرف بڑھ گئی ۔اسی وقت ڈھول بجانے والے نے اپنے ہاتھ روک لیے ۔ایک لمحے کے لیے ماحول میں سکوت چھا گیا تھا ۔صرف لوگوں کے باتیں کرنے کی ہلکی ہلکی آواز سنائی دے رہی تھی ۔اگلے ہی لمحے بہترین ساﺅنڈ سسٹم پر پشتو کی بھڑکیلی سی دھن سنائی دینے لگی ۔اور اس کے ساتھ ہی پلوشہ کالچک دار بدن اس دھن سے ہم آہنگ ہو گیا ۔چند منچلوں نے پہلے تو اس کا ساتھ دینا چاہا مگر اس کی مہارت دیکھتے ہوئے وہ خود بہ خود پیچھے ہٹ گئے تھے ۔ وہ اپنے ہاتھ پاﺅں اور درمیانی جسم کا استعمال اس خو ب صورتی سے کر رہی تھی گویا اس کی ساری زندگی اسی شغل میں گزری ہو ۔اس خوش کن نظارے سے نظریں ہٹانا کافی دشوار تھا لیکن میں نے کوشش کر کے انار گل کی جانب نگاہیں گھمائیں ۔ اس کے چہرے پر جو تاثرات نظر آ رہے تھے انھیں دیکھ کر مجھے پلوشہ کی بات میں کوئی شک نہیں رہا تھا ۔اس وقت اس کی آنکھیں کسی گدھ کی طرح پلوشہ کے بدن پر گڑی تھیں ۔ بدلتی دھنوں کے ساتھ اس کے ہاتھ پاﺅں اور جسم کی حرکات بھی تبدیل ہو جاتی تھیں ۔جوں جوں وقت گزر رہا تھا اس کی حرکات میں سستی کے بجائے تیزی آتی جا رہی تھی ۔اور اس کے ساتھ ہی لوگوں کی جیبوں کے منہ بھی کھل گئے تھے ۔ڈھول بجانے والے کو پچھلے دو تین دن ڈھول پیٹنے پر اتنی رقم ہاتھ نہیں آئی ہو گی جو ان لمحات میں اکٹھی ہو رہی تھی ۔یوں بھی اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کہ پلوشہ کوئی پیشہ ور ناچنے والا نہیں تھا جو اس کے ساتھ رقم میں حصہ داری کا دعوا کرتا ۔اور پھر میں نے دیکھا کہ وہ پیسے پھینکنے والوں کے ساتھ ناچتے ہوئے اٹھکیلیاں کرنے لگی ۔اس کا انداز بالکل کسی بازاری لڑکے کا ساتھا ۔کچھ لوگ جو اسے نہیں جانتے تھے انھوں نے اپنے کسی دوست اور ساتھی وغیرہ کے سر پر بڑا نوٹ رکھ کر پکڑا ،ڈھول اور شہنائی بجانے والوں نے جب وہ نوٹ پکڑنا چاہا تو انھوں نے پلوشہ کی جانب اشارہ کیا،کہ وہ خود آ کر نوٹ پکڑے ۔پلوشہ کو پیشہ ور تو نہیں تھی کہ ادھر جاتی ،مگر اس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ اس بندے کی طرف بڑھ گئی جس نے ایک بڑا نوٹ نکال کر اپنے ساتھی کے سر پر پکڑا ہوا تھا ۔اس کے سامنے چکر کاٹتے ہوئے پلوشہ نے دو تین نوٹ اس کے ہاتھ سے جھپٹے ۔اس دوران اس نے دو تین بار پلوشہ کی کلائی پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ صفائی سے اپنی کلائی بچا گئی ۔اسی وقت ایک آدمی نے میرے سر پر دس روپے کا نوٹ پکڑا ۔میں حیرانی سے اس کی جانب دیکھا،وہ وہی جوان تھا جس سے تھوڑی دیر پہلے پلوشہ کوئی بات کر رہی تھی ۔
پلوشہ بھی شاید اسی لمحے کی منتظر تھی ۔وہ باقی آدمیوں کے بڑے نوٹوں کو نظر انداز کرتی ہوئی چکر کاٹتے ہوئے وہاں پہنچی اور آتے ساتھ میری گود میں بیٹھتے ہوئے وہ نوٹ اٹھانے لگی ۔میں تو بالکل سن ہو گیا تھا ۔
”یہ کیا مذاق ہے ۔“میرے منہ سے پھنسی پھنسی آواز نکلی ۔میں اس سے اتنی زیادہ بے باکی کی امید نہیں کر رہا تھا ۔
”خاموش بیٹھے رہو ،اٹھنے کی کوشش نہ کرنا ۔“اس نے مسکراتے ہوئے مجھے جھڑکا۔
مجھے محسوس ہوا کہ یہ سب وہ ایک منصوبے کے تحت کر رہی تھی ۔اس آدمی نے میرے سر پر پانچ چھے نوٹ پکڑے اور پھر آخری نوٹ پلوشہ کے گال کے ساتھ لگا کراس کے ہاتھ میں پکڑایا اور پیچھے ہٹ گیا ۔اس کی اس حرکت کا برا منائے بغیر وہ اٹھ کر دوبارہ اٹھ کر ناچتے ہوئے مجھ سے دور جانے لگی ۔
اسی وقت میں نے انار گل کو جیب سے پانچ سو کا نوٹ نکال کر اپنے ساتھ بیٹھے آدمی کے سر پر پکڑتے دیکھا ۔پلوشہ ناچتے ہوئے اس کے قریب پہنچی اور اس کے ہاتھ سے پیسے پکڑ لیے ۔چار نوٹ مسلسل پلوشہ کو پکڑوانے کے بعد انار گل نے اس کی کلائی سے پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ چابک دستی سے اپنی کلائی اس کے ہاتھ میں آنے سے بچا گئی تھی۔
انار گل چہرے پر ہوس بھرے تاثرات سجائے جیب سے مزید نوٹ نکال کر پاس بیٹھے آدمی کے سر پر رکھنے لگا ۔مزیددو تین نوٹ قربان کرنے کے بعد اس نے ایک دم جھپٹ کر پلوشہ کو پکڑا اور گود میں بٹھانے کی کوشش کرنے لگا ۔اسی وقت پلوشہ نے جھٹکے سے خود کو اس کی گرفت سے چھڑایا اور اس کے چہرے پر تھپڑ جڑ دیا۔
انار گل کے چہرے پر طیش بھرے آثار نمودار ہوئے اور اس نے دوبارہ کھڑے ہو کر پلوشہ پر ہاتھ ڈالے ۔اس وقت ایک دم مجھے اتنا غصہ آیا جو خود میری سمجھ سے باہر تھا ۔میں نے اضطراری انداز میں گود میں پڑی کلاشن کوف ہاتھ میں پکڑ لی تھی ۔لیکن میرے کچھ کرنے سے پہلے پلوشہ نے اپنا گھٹنا زور دار انداز میں انارگل کی ٹانگوں کے بیچ میں دے مار ا۔
اس کے منہ سے کافی بلند کراہ خارج ہوئی تھی اگلے ہی لمحے جیسے بجلی چمکتی ہے ،پلوشہ نے نیچے جھک کر اپنی پنڈلی سے بندھا خنجر نکالااور اس کی گردن پر بھرپور انداز میں چلا دیا ۔
لوگ ابھی تک اس معاملے کو مذاق میں لے رہے تھے ۔انارگل کے نیچے گر کر تڑپنے کے منظر سے ایک دم چیخ و پکار شورع ہو گئی تھی ۔اسی وقت میری نظروں نے انار گل کے ایک ساتھی کو کلاشن کوف کندھے سے اتار کر کاک کرتے دیکھا ۔پلوشہ کی نظر بھی اس پر پڑ گئی تھی ۔لیکن جونھی اس نے کلاشن کوف اس کی جانب سیدھی کی ۔میں نے ایک لمحے میں کلاشن کوف کندھے سے لگائی اور ٹریگر دباتے ہوئے اس کے گولی چلانے کی خواہش کو حسرت میں تبدیل کر دیا ۔ماتھے پر لگنے والی گولی سے وہ منہ کے بل گرا تھا۔ میں بھاگ کر پلوشہ کے قریب پہنچا اور بغیر کسی تاخیر کے اسے اپنی آڑ میں کر لیا ۔انار گل کا جسم ابھی تک جھٹکے لے رہا تھا لیکن اس کے ساتھی کا جسم ساکت ہو گیا تھا ۔ساﺅنڈ سسٹم پرگویے کی خوب صورت آواز ۔”شنہ بنگڑی دے مات شہ پہ دا سپنو لیچو باندھے....“گونج رہی تھی ۔
جاری ہے
 

اسی وقت کسی کو خیال آیا اور اس نے ساﺅنڈ سسٹم بند کر دیا ۔پانچ چھے آدمی میرے اور انار گل کے ساتھیوں کے درمیان میں آ گئے تھے ۔وہاں پر اس کے چار ساتھی اور بھی موجود تھے ۔
ثقلین خان نزدیک آ کر تشویش بھری نظروں سے لاشوں کو دیکھنے لگا ۔
”یہ کیا کر دیا تم لوگوں نے ۔“اس کی آواز میں غم وغصہ ابل رہا تھا ۔
میں اکھڑ پن سے بولا ۔”بالکل وہی کیا ہے جو کرنا چاہیے تھا۔میرا دوست پیشہ ور ناچنے والا نہیں ہے ۔وہ تو بس سردارزادہ دلدار کے کہنے پر ناچ رہا تھا ۔اور اس گھٹیا انسان نے سب کے سامنے اسے بے عزت کرنے کی کوشش کی ۔“
”انار گل کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔“میرے دائیں جان کھڑے جوان نے واضح انداز میں میری تائید کی ۔میں نے اس کی جانب دیکھا۔وہ وہی تھا جو میرے سر پر پیسے پکڑ رہا تھا ۔
”چلو انار گل کی تو خیر ہے ،شمس کو تو نہیں مارنا چاہیے تھا ۔“ایک آدمی نے میری گولی سے مرنے والے کا نام لیا ۔
میں نے کہا ۔”پہل اس نے کی تھی ،کیا میں چپ چاپ تماشاد یکھتا رہتا ۔“
میری بات کے جواب میں تین چار آدمی مسلسل بولنے لگے ۔انار گل کے ساتھی بھی تمتمائے ہوئے چہرے کے ساتھ ہمیں خطرناک نتائج کی دھمکیاں دے رہے تھے ۔
اچانک مجھے اپنے بازو پر کسی کا لمس محسوس ہوا ۔میں اس کی طرف دیکھا، وہ پلوشہ تھی ۔میرے متوجہ ہوتے ہی وہ دبی زبان میں بولی ۔
”We need to run away from here“
”اتنا آسان ہے نا ؟“میں نے بھی انگریزی ہی میں جواب دیا تھا ۔
”میں جا رہی ہوں مجھے روکنے کے بہانے تم بھی پیچھے آ جانا ،اگر موٹر سائیکل تک پہنچ گئے تو پھر نکلنا مشکل نہیں ہوگا ۔“اس کے تیز دماغ نے ایک منٹ میں تجویز سوچ لی تھی ۔
”ٹھیک ہے ۔“میں نے فوراََ اثبات میں سر ہلادیا ۔
اس وقت ثقلین خان لوگوں کو لاشوں سے دور ہٹنے کا کہہ رہا تھا ۔انار گل کے ساتھی شور کر رہے تھے کہ وہ اسی وقت بدلہ لیں گے ۔
دلدار خان اور اس کے دو تین دوست انھیں ٹھنڈا کرنے کی تگ و دو میں تھے ۔
ثقلین خان پلوشہ کو مخاطب ہوا ۔”لڑکے تمھیں اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا ۔بلا شبہ غلطی انار گل کی بھی تھی لیکن تمھیں انتہائی قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا ۔“
”چچا جان آپ بھی اس خبیث کی طرف داری کر رہے ہیں ،ٹھہرو میں اپنے حاجی چچا کو بلاکر لاتا ہوں ۔“پلوشہ نے بہانہ گھڑنے میں دیر نہیں کی تھی ۔یہ کہتے ہوئے وہ تیز قدموں سے بیرونی دروازے کی طرف چل پڑی ۔
”نہیں پلو خان !....حاجی صاحب کو کچھ نہ بتا نا ....رک جاﺅ ....ہم خود اس معاملے سے نبٹ لیں گے ۔“میں نے با آواز بلند اسے پکارا ۔مگر وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھتی رہی ۔
”پلو خان !....واپس آ جاﺅ ۔“میں نے ایک بار پھر اسے پکارا ۔اس وقت وہ دروازے کے پاس پہنچ چکی تھی ۔
ثقلین خان مجھے مخاطب ہوا ۔”جوان اسے جانے نہ دو ۔جب تک فیصلہ نہیں ہوجاتا یہ کہیں نہیں جا سکتا ۔“
”ٹھیک ہے سردار !....میں اسے پکڑ کر لاتا ہوں ۔بچہ ہے نا ڈر گیا ہے اور چاہتا کہ اس کا کوئی سر پرست یہاں موجود ہو ۔“ثقلین خان کو یہ کہہ کر میں نے ساتھ کھڑے آدمی کی طرف اپنی کلاشن کوف بڑھاتے ہوئے کہا ۔”بھائی جان !....ایک منٹ یہ گن پکڑو میں اس بے وقوف کو پکڑ لاﺅں ۔“
اس آدمی نے بے اختیار میرے ہاتھ سے گن تھامی اور میں جلدی سے دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔
”یہ کہاں جا رہا ہے ۔“دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے میرے کانوں میں انار گل کے ایک ساتھی کی آواز گونجی ،مگر میں دھیان دیے بغیر تیز قدموں سے چلتا رہا ۔
”وہ اپنے دوست کو پکڑنے جا رہا ہے ۔“جس آدمی کو میں نے گن پکڑائی تھی غالباََ اسی نے جواب دیا تھا ۔دروازے سے نکلتے ہی میں نے دیکھا پلوشہ موٹر سائیکل اسٹارٹ کر چکی تھی ۔
”پلو خان !....رک جاﺅ ۔“میں نے چیخ کر زوردار انداز میں کہا اور اس کی جانب اس طرح بھاگنے لگا گویا اسے روکنا چاہتا ہوں ۔قریب پہنچتے ہی میں نے بغیر کسی تاخیر کے اس کے پیچھے نشست سنبھال لی ۔وہ میری ہی منتظر تھی ۔میرے بیٹھتے ہی اس نے کلچ چھوڑتے ہوئے موٹر سائیکل بھگا دی ۔
”وہ بھاگ رہے ہیں ۔“میں نے اپنے عقب میں ایک چیختی ہوئی آواز سنی ۔پلوشہ نے گیئر تبدیل کرتے ہوئے رفتا کچھ اور بڑھا دی تھی ۔اس حویلی تک آنے کے لیے سو دو سو گز کا رستا بنا ہوا تھا اس کے بعد پختہ سڑک تھی ۔ پلوشہ چند سیکنڈز میں سڑک تک پہنچ گئی تھی ۔دائیں جانب موٹر سائیکل موڑتے ہوئے اس نے رفتار کم کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی ۔میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا دروازے سے چند آدمی دوڑتے ہوئے نکلے اوردیوار کے قریب کھڑی ڈبل کیبن کی طرف بڑھ گئے ۔
اس کے ساتھ ہی کلاشن کوف کے فائر کی تڑتڑ میرے کانوں میں پڑی ۔دروازے کے قریب کھڑے ہو کر ایک آدمی ہمیں نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا ،مگر اس کا کوئی فائدہ اس لیے بھی نہیں تھا کہ کلاشن کوف سے تین سو میٹر کے فاصلے تک نشانہ لے کر فائر کیا جا سکتا ہے اور ہم اس سے زیادہ فاصلے پر آچکے تھے ۔پلوشہ جس طرح موٹر سائیکل چلا رہی تھی شاید اس مہارت سے میں بھی نہ چلا سکتا ۔ہنڈا ایک سو پچیس گولی کی سی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی ۔گلاک نائنٹین میں نے ہاتھ میں پکڑ لیا تھا ۔پلوشہ والی کلاشن کوف میں یوں بھی وہیں چھوڑ آیا تھا ۔اس کلاشن کوف کی وجہ ہی سے انھیں میرے لوٹنے کی امید تھی ورنہ وہ مجھے اتنی آسانی سے پلوشہ کے پیچھے نہ جانے دیتے ۔ڈبل کیبن کے روڈ پر چڑھنے تک ہم کافی دور نکل گئے تھے ۔وہ اس رفتار سے موٹر سائیکل دوڑا رہی تھی کہ مجھے اچھا خاصا خوف محسوس ہو رہا تھا ۔لیکن اس کی جگہ میں ہوتا تب بھی شاید موٹر سائیکل اسی رفتار ہی سے دوڑاتا ۔
اس کے کان کے نزدیک منہ لے جا کر میں نے پوچھا ۔”کہاں جائیں گے ؟“
”پتا نہیں ....“
”وہ ہمارے تعاقب میں آرہے ہیں اور ان کے پاس ڈبل کیبن ہے ۔یقینا وہ جلد ہی ہمیں آ لیں گے ۔“
”علام خیل تک تو سڑک ہی پر جانا پڑے گا ۔یہاں کوئی ایسا رستا موجود نہیں ہے جس پر موٹر سائیکل دوڑ سکے ،البتہ کہتے ہو تو موٹر سائیکل چھوڑ کر پیدل بھاگتے ہیں ۔“اس نے قریباََ چیختے ہوئے میری بات کا جواب دیا تھا ۔
”جو مناسب سمجھو کرو ۔“میں نے ساری ذمہ داری اسی کے سر پھینکتے ہوئے جان چھڑائی ۔
وہ جواب دیے بغیر اسی رفتار میں موٹر سائیکل بھگائے چلی گئی ۔سڑک کے بائیں ہاتھ نالہ تھا اور دائیں ہاتھ پہاڑیاں ۔اگر ہم دائیں طرف موٹر سائیکل اتارتے تو سو ڈیڑھ سو گز سے زیادہ آگے نہیں جا سکتے تھے جبکہ دائیں ہاتھ یوں بھی ڈھلان تھی ۔
ایک خطرناک موڑ کے قریب آتے ہوئے پلوشہ نے موٹر سائیکل کی رفتار ذرا سی کم کی اسی وقت ہمیں اپنے عقب میں کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ سنائی دی ،لیکن ابھی تک وہ چند سو میٹر دور تھے ۔موڑ کاٹ کر پلوشہ نے دوبارہ رفتار بڑھا دی ۔موٹر سائیکل کی رفتار زیادہ ہونے کے باوجود ڈبل کیبن آہستہ آہستہ ہمارے قریب آتی جارہی تھی ۔علام خیل عبور کر کے نالے کی کھڑی چڑھائی ڈھلان میں تبدیل ہو جاتی تھی وہاں ہم انھیں جل دے کر نکل سکتے تھے ۔یقینا یہی بات پلوشہ کے ذہن میں بھی تھی اسی لیے اس نے سڑک ہی پر جانے کا خطرہ مول لیا ہوا تھا ۔علام خیل کی آبادی کے آثار نظر آتے ہی میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ،ڈبل کیبن تین چار سو گز دور ہی تھی ۔مجھے اطمینان سا محسوس ہوا کہ اب ہمارے بچنے کی امید پیدا ہو گئی تھی ۔مگر میرا یہ اطمینان اس وقت گہری پریشانی میں ڈھل گیا جب میں نے سامنے سے ایک ڈبل کیبن کو آتے دیکھا ۔وہ ڈبل کیبن علام خیل سے نکل کرآندھی و طوفان کی طرح ہماری طرف بڑھنے لگی ۔یقینا انھوں نے اپنے ساتھیوں کو وائرلیس سیٹ پر اطلاع دے دی تھی ۔اور ہم دونوں ایسے بے عقل تھے کہ یہ خیال بھی ہمارے ذہنوں میں نہ آیا کہ علام خیل تو قبیل خان کا علاقہ ہے ۔
”مارے گئے ۔“میرے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔پلوشہ دوسری ڈبل کیبن کو دیکھتے ہی موٹر سائیکل کی رفتار کم کرنے لگی ۔ہم دائیں بائیں پیدل بھاگ کر نکل سکتے تھے لیکن اس وقت یہ کوشش کرنا خود کشی کے مترادف تھا ۔سامنے والی گاڑی ہمارے قریب پہنچ چکی تھی ۔
ہم سے دس پندرہ قدم کے فاصلے پر گاڑی روک کر چار مسلح آدمی باہر نکل آئے ،اسی وقت عقبی گاڑی بھی قریب آ کر رک گئی ۔اس میں انار گل کے چاروں ساتھی سوار تھے ۔
ہمارے تعاقب میں آنے والوں میں سے ایک نے آتے ہی میرے منہ پر تھپڑ رسید کیا ۔
”خییث کا بچہ ،تمھارا کیا خیال تھا بھاگ جاﺅ گے ۔“
اس وقت منہ کھولنے کا مطلب اپنی کم بختی کو دعوت دینے کے مترادف تھا ۔مجھے ایک اور تھپڑ سے نواز کر وہ پلوشہ کو گندی گالی بکتے ہوئے بولا۔
”تمھارے ساتھ تو میں وہ کروں گا کہ کسی کو بتا بھی نہیں سکو گے ۔“پلوشہ بھی خاموش رہی تھی ۔ علام خیل سے آنے والی گاڑی سے اترنے والے ایک شخص نے مجھے تھپڑ مارنے والے کو کہا ۔
”فیروز خان!....کمانڈر روشن خان نے کہا کہ انھیں وہیں حویلی میں لے آئیں ۔“
”اسے حویلی میں لے جانے کی کیا ضرورت ہے ۔“فیروز خان نے میرے جانب اشارہ کرتے ہوئے معنی خیز لہجے میں کہا ۔”حویلی کے لیے ”قراراراشہ “ کافی ہے ۔“اس کا گھٹیا اشارہ پلوشہ کی جانب تھا ۔
”نہیں روشن خان نے دونوں کو زندہ لانے کا حکم دیا ہے ۔“
”چلو چند منٹ اور سانس لے لو ۔“مجھے کہہ کر وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔
”چلو ۔“فیروز خان سے بات کرنے والے نے مجھے کلاشن کوف کی نال سے گاڑی کی طرف چلنے کا اشار ہ کیا ۔
”عصمت خان !....اس مجنوں کے پاس پستول اور چھوکرے کے پاس تیز دھار خنجر موجود ہے ۔“گاڑی کے قریب پہنچتے ہوئے اچانک فیروز خان کو یاد آیا اور اس نے اپنے ساتھی تک یہ بات پہنچانے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگایا تھا ۔
”ادھر دو ۔“کہتے ہوئے عصمت خان نے فوراََ ان ہتھیاروں کا مطالبہ کرتے میری جانب ہاتھ بڑھایا ۔میں نے نیفے میں اڑسا پستول نکال کر اس کی جانب بڑھادیا جبکہ پلوشہ نے فرماں برداری سے پنڈلی کے ساتھ بندھا خنجر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا ۔ہمارے ہاتھ پشت پر باندھ کر انھوں نے ہمیں گاڑی کی باڈی میں بٹھایااور آگے بڑھ گئے ۔
پچھلی گاڑی کا ایک آدمی ہماری موٹر سائیکل پر بیٹھ دونوں گاڑیوں کے درمیان چلنے لگا ۔گاڑی کی باڈی میں ہمارے ساتھ دو آدمی بیٹھ گئے تھے ۔پانچ دس منٹ کے اندر ہم قبیل خان کی وسیع و عریض حویلی کے پاس پہنچ گئے تھے ۔اس کی حویلی اور بیٹھک کی دیوارملی ہوئی تھی ۔بیٹھک کا رقبہ حویلی سے زیادہ تھا ۔بلکہ قبیل خان کی بیٹھک رقبے میں ثقلین خان کی بیٹھک سے بھی بڑی تھی ۔
دونوں گاڑیاں آگے پیچھے دوڑتی ہوئی بیٹھک کے دروازے پر پہنچیں ۔دروازے پر کھڑے ہتھیار بردار چوکیدار نے سرعت سے دروازہ کھول دیا ۔گاڑیوں کے اندر گھستے ہی اس نے جس تیزی سے دروازہ کھولا تھا اسی رفتار سے دروازہ بند کر دیا۔
بیٹھک کے صحن میں کمروں کی قطار کے بالکل سامنے ایک جہازی سائز چارپائی پر ٹانگیں پسارے روشن خان لیٹا تھا ۔اس کے زخمی پاﺅں پر مجھے سفید پٹیاں لپٹی نظر آئیں ۔یہ وہی پاﺅں تھا جو میری گولی کا نشانہ بنا تھا ۔
ہمیں گاڑی سے اتار کر اس کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ۔
”ہونہہ!....تو یہ ہیں وہ سورما ۔“اس نے منہ بگاڑ کر طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔
”جی کمانڈر ۔“فیروز خان نے جواب میں سر ہلایا۔
وہ فیروز کی طرف متوجہ ہوا ۔”مجھے ذرا تفصیل سے پوری بات بتاﺅ ۔“
جواباََ فیروز خان نے تمام تفصیل دہرا دی ۔
”اس چھوکرے نے انارگل کو قتل کیا ہے ۔“روشن کے لہجے میں بلا کی حیرانی تھی ۔جواباََ فیروز خان نے منہ سے کچھ کہنے کے بجائے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”اورتم نے شمس خان کو گولی ماری ہے ۔“وہ براہ راست مجھے مخاطب ہوا ۔
”پہل اس کی طرف سے ہوئی تھی ۔اس نے میرے ساتھی کو گولی مارنے کی کوشش کی اور اپنے بچاﺅ کے لیے ہر آدمی گولی چلانے کا حق رکھتا ہے ۔“
میں نے جونھی زبان کھولی اس کے چہرے پر حیرت بھرے تاثرات اجاگر ہوئے ۔
”تمھارا نام کیا ہے ؟“دونوں ہاتھوں کو ٹیک کر اس نے اپنا اوپری دھڑ سیدھا کیا ۔اسی وقت وہاں کھڑے ایک آدمی نے جلدی سے دو بڑے تکیے اس کی کمر کے ساتھ لگا دیے ۔
”ذیشان۔“میں محتاط انداز میں بولا۔
”تمھاری آواز سنی سنائی لگتی ہے ۔کیا ہم اسے پہلے مل چکے ہیں ۔“
”یقینا نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔
”فیروز خان !.... تھوڑی دورلے جا کر اس کی میرے ساتھ مخابرے(وائرلیس) پر بات کراﺅ۔“
”میں سمجھا نہیں کمانڈر ۔“فیروز خان حیران رہ گیا تھا ۔
وہ وضاحت کرتا ہوا بولا۔”میں بس اپنا شک دور کرنا چاہتا ہوں ۔اسے دروازے کے قریب لے جا کر اس کی میرے ساتھ مخابرے پر بات کراﺅ۔“
مجھے پتا چل گیا تھا کہ اس نے مجھے پہچان لیا ہے ۔یقینا اپنی زندگی کے سب سے بڑے دشمن کی آواز کیسے اس کی سماعتوں کو بھول سکتی تھی ۔
”میرا خیال ہے اس کی ضرورت نہیں ہے روشن خان ۔“میں نے اس ڈرامے سے جان چھڑانے کے لیے اعتراف کرنا مناسب سمجھا تھا ۔
”شمس خان کو گولی کس جگہ پر لگی ہے ۔“وہ فیروز کان کی طرف متوجہ ہو کر مستفسر ہوا ۔
”ماتھے پر ۔“فیروز خان اب تک گومگو کی کیفیت میں تھا ۔
”ہونہہ!....“اوپر نیچے سر ہلاتے ہوئے روشن خان نے گہری نگاہ مجھ پر ڈالی ۔”تو تم ایس ایس ہو ۔“
”ہاں ،مگر انار گل کو ہم نے کسی منصوبے سے قتل نہیں کیا ۔اس نے میرے دوست کے ساتھ غلط حرکت کرنے کی کوشش کی اور نتیجہ اسے بھگتنا پڑا ۔“
”اور شمس کا کیا قصور تھا ؟“
”پہل اس نے کی تھی ۔اگر میں اسے گولی نہ مارتا تو اس نے میرے دوست کو قتل کر دینا تھا ۔“
”بہت پیار ہے اپنے دوست سے ۔“قبیل خان نے معنی خیز لہجے میںپوچھا ۔
”روشن خان !....جب بات دوستی کی آجائے تو پھر پیار محبت ثانوی چیز رہ جاتی ہے ۔“
روشن خان نے منہ بناتے ہوئے جواب دیا ۔”فلسفے بیان نہ کرو جوان !....اس لڑکے کی شکل دیکھ کر پتا چل رہا ہے کہ تمھاری کتنی کچھ دوستی ہے ۔بہ ہر حال یہ میرا درد سر نہیں ہے ۔میرا مسئلہ یہ ہے کہ تمھارے دوست یا معشوق نے میرے ایک اہم آدمی کو چھوٹی سی بات پر قتل کر دیا ہے اور تم نے بدلہ لینے کی کوشش کرنے والے آدمی کو گولی مار دی ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں بدلہ لینے کا حق ہے یا نہیں ہے ؟ اور جواب یہ ہے کہ بالکل ہے ۔“ایک لمحہ کی خاموشی کے بعد اس نے مسکرا کرمیری طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔”ویسے تم اپنے دل جانی کو گولی مار کر جان بچا سکتے ہو ۔“
جواباََ میں ہونٹ کاٹ کر رہ گیا تھا ۔پلوشہ سے کوئی جذباتی لگاﺅ نہ ہونے کے باوجود میں ایسی بے غیرتی نہیں کر سکتا تھا ۔
مجھے خاموش پا کر وہ اعتماد بھرے لہجے میں بولا۔”مجھے معلوم تھا کہ تم ایسا کچھ نہیں کرو گے ۔ اور یقینا جس کے لیے تم ایسا کر رہے ہواگر اسے موقع ملا تو وہ پیچھے نہیں ہٹے گا ۔“یہ کہتے ہوئے وہ پلوشہ کی جانب متوجہ ہوا ۔”لڑکے !....تمھارا کیا خیال ہے ۔کیا اسے گولی مار کر اپنی جان بچانا چاہو گے ؟“
”ہاں ۔“پلوشہ نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلاد یا ۔
مجھے سخت قسم کی توہین اور خفت محسوس ہوئی لیکن میں خاموش رہا ۔
”دیکھ لیا ۔“اپنے اندازے کی درستی پر وہ مسکرایا۔”خیرگھبراﺅنہیں میں نے تمھارے لیے کچھ اور سوچ رکھا ہے ۔“یہ کہہ کر وہ میرے ساتھ کھڑے فیروز کو مخاطب ہوا ۔”اپنی کلاشن کوف مجھے دو اور اپنے سارے آدمیوں کو کہو کہ کہ جناب ایس ایس کو اپنے ہتھیاروں کے نشانے پر رکھ لیں ۔“
فیروز خان نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنی کلاشن کوف اس کی جانب بڑھائی اور اپنے آدمیوں کی طرف متوجہ ہوگیا ۔تمام نے اپنے کلاشن کوفیں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے مجھ پر نشانہ سادھ لیا تھا ۔اتنی کلاشن کوف کی گولیاں لگنے کے بعد میں صرف اسی صورت میں زندہ بچ سکتا تھا کہ میں پنجابی فلموںکا ہیرو ہوتا ۔میں زیر لب کلمہ شہادت دہرانے لگا کہ یہی ایک مسلمان کا شیوہ ہے ۔مگر روشن خان کی اگلی بات نے میرے دل کی دھڑکن تیز کر دی تھی ۔وہ فیروز خان کو مخاطب تھا ۔
”اخکلی جانان دیوال سرا اودروااو دے پہ سر یو گلاس کیکدا۔“(خوب صورت محبوب کو دیوار کے ساتھ کھڑا کرو اور اس کے سر پر ایک گلاس رکھ دو )
فیروز خان کے چہرے پر ایک منحوس مسکراہٹ نمودار ہوئی یقینا اسے پتا چل گیا تھا کہ روشن خان کا مطمح نظر کیا ہے ۔اس نے پلوشہ کو دیوار کی طرف چلنے کا کہا اور اور روشن خان کی چارپائی کے ساتھ لکڑی کی میز پر پڑا گلاس اٹھا لیا ۔وہ ایک وسیع بیٹھک تھی ۔صحن کے درمیان سے دیوار تک اچھا خاصا فاصلہ بن رہا تھا ۔پلوشہ فیروز خان کے کہنے پر خاموشی سے دیوار کی طرف مڑ گئی تھی ،دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے فیروز خان نے اس کے سر پر گلاس رکھ دیا ۔
روشن خان نے فیروز خان کی کلاشن کوف کاک کر کے میری جانب بڑھا دی ۔ ”یہ لو ایس ایس اب تمھاری اور تمھارے دوست کی زندگی کا دارومدار تمھاری نشانے بازی کی مہارت پر ہے ۔اگر تم نے ایک گولی سے اپنے دوست کے سر پر رکھے گلاس کو نشانہ بنا دیا تو میں وعدہ کرتا ہوں تمھیںمع موٹر سائیکل اور دوسرے سامان کے یہاں سے جانے کی اجازت دے دوں گا ۔اور تمھارے یہاں سے نکلنے کے ادھ گھنٹا تک کوئی بھی تمھارا پیچھا نہیں کرے گا ۔البتہ اس کے بعد فیروز خان کے آدمیوں نے تمھیں پکڑ لیا تو میری ذمہ داری ختم ۔اور اگر تم نشانہ نہ بنا سکے تو میں فیروز خان کے آدمیوں کو نشانہ آزمانے کا موقع دوں گا۔“
روشن خان نے مجھے عجیب مخمصے میں ڈال دیا تھا ۔مجھے اپنے نشانے پر بھروسا اور اعتماد تھا لیکن ایسا موقع اس سے پہلے میری زندگی میں کبھی نہیں آیا تھا کہ کسی کی زندگی کا دارومدار اس بات پر ہوتا کہ میرے گولے نشانے پر لگنے کی صورت میں اس کی زندگی بچ جائے گی ۔
”کس سوچ میں ڈوبے ہو ایس ایس !....“روشن خان استہزائی انداز میں پوچھا ۔”یاد ہے تم نے اڑھائی تین سو میٹر کی دوری سے مجھے کہا تھا کہ اگر میں نے آڑ سے ایک ہاتھ بھی باہر نکالا تو وہ ہاتھ میرے جسم کا حصہ نہیں رہے گا ۔یہ فاصلہ تو اس کے آدھے سے بھی کم ہے اور گلاس بھی اچھا خاصا حجم رکھتا ہے ۔“
”مجھے تین گولیاں چاہئیں تاکہ میں ہتھیار کو جانچ سکوں ۔“ایک لمحہ سوچنے کے بعد میرے منہ سے پھنسی پھنسی آواز نکلی ۔
”ٹھیک تین لے لو مگر تیسری گولی اس لیے ہو گی کہ دو میں نشانہ نہ بنا سکے تو تیسری گولی اپنے دل میں مارنا جہاں تمھارا محبوب بسا ہے ۔“ یہ کہہ کر اس نے بلند بانگ قہقہہ لگا یا تھا ۔اور چارپائی پر پڑی میگزین سے دو گولیاں نکال کر میری طرف بڑھا دیں ۔”یہ لو ،لیکن ایک گولی فائر کرنے کے بعد ہی تمھیں دوسری گولی لوڈ کرنے کا حق ہو گا ۔
میں نے گولیاں اس کے ہاتھ سے لے کر جیب میں ڈالیں اور زمین پر بیٹھ کر پلوشہ کے دائیں جانب مگر اس سے دس پندرہ گز کے فاصلے پر زمین پر پڑے اینٹ کے ایک ٹکرے پر نشانہ سادھنے لگا ۔ کلاشن کوف پر میں نے سو میٹر کی رینج لگا لی تھی ۔ایک سنائپر کے لیے کسی بھی چیز کو نشانہ بنانے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت اس ہتھیار کی ہوتی ہے جو اس کے ہاتھوں میں ہوتا ہے ۔اسی وجہ سے سنائپر ز اپنے ہتھیار کی حفاظت اور دیکھ بھال اپنی جان سے بھی بڑھ کر کرتے ہیں ۔لیکن اس وقت میرے ہاتھوں میں ذاتی ہتھیار نہیں تھا ۔اور پھر اتنی باریک بینی سے فائر کرنے کے لیے ضروری تھا کہ کوئی سنائپر رائفل ہوتی۔ کلاشن کوف اور وہ بھی کسی دوسرے کی ....اس سے کسی آدمی کے سر پر رکھے گلاس کو نشانہ بنانا ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور تھا ۔سب سے بڑھ کر اگر نشانہ خطا جاتا تو فیروز خان کے آدمی اپنا نشانہ آزماتے گویا پلوشہ کی موت یقینی ہو جاتی اور اس کے بعد لازماََ میرا نمبر آجاتا ۔
سورج پہاڑیوں کے پیچھے گم ہو چکا تھا لیکن اس کے غروب ہونے میں ابھی بیس پچیس منٹ باقی تھے ۔ روشنی کی صورت حال ایسی تھی جو ایک فائرر کے لیے پسندیدہ ہوتی ہے ۔میں نے زیادہ دیر نشانہ سادھنے پر نہیں لگائی تھی ۔ٹریگر دباتے ہی کلاشن کی گولی اس اینٹ کے ٹکڑے کی تھوڑا سا دائیں اور نیچے کی طرف لگی تھی ۔اب میرے پاس دو گولیاں باقی تھیں ۔استاد عمردراز کے بہ قول اچھے سنائپر کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ایک گولی چلا کر ہتھیار کا نشانہ جانچ لے ۔اسی طرح راﺅ تصور صاحب کہا کرتے تھے کہ جو سنائپرکسی ہتھیار سے ایک گولی چلا کر یہ اندازہ نہیں کر پاتا کہ ہتھیار کس جگہ گولی مار رہا ہے اسے سنائپنگ چھوڑ کر گڈریا بن جانا چاہیے ۔اپنے دو نوں استادوں کے اقوال میرے دماغ میں گونج کر رہ گئے تھے ۔
اگر میں دوسری گولی بھی ہتھیار کا نشانہ جانچنے پر استعمال کر لیتا تو پلوشہ کے سر پر رکھے گلاس کو نشانہ بنانے کے لیے میری پاس ایک گولی بچتی ۔یوں بھی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ کلاشن کوف کی گولی دائیں اور نیچے کی طرف لگ رہی ہے ۔
میں نے کلاشن کوف کی بیرل پلوشہ کے سر کی جانب موڑی ۔اور ایک دم میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔اس کے چہرے پر مجھے بے فکری اور بے خوفی کے تاثرات صاف نظر آ رہے تھے ۔اس کے بہادر اور نڈر ہونے کا مجھے پہلے سے معلوم تھا، لیکن اس حالت میں کم از کم تھوڑی بہت پریشانی کے آثار تو اس کے چہرے پر نمودار ہونے چاہیے تھے ۔نامعلوم اسے میرے نشانے پر اعتماد تھا یا پھر موت کا کوئی خوف اس کے دل میں موجود نہیں تھا ۔میں نے گلاس کے اوپری اور بائیں کنارے کا نشانہ سادھا تھا کیونکہ کلاشن کوف دائیں اور نیچے مار کر رہی تھی ۔پسینے سے میری ہتھیلیاں گیلی ہو گئی تھیں ۔فائر کرتے ہوئے اتنی زیادہ گھبراہٹ مجھے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی ۔نہ جانے کیوں ایک دم پلوشہ کی اہمیت میرے دل میں بڑھ گئی اور اس کی موت کا سوچ کر میرے ہاتھ پاﺅں گویا بے جان سے ہونے لگے تھے ۔ حالانکہ میری سوچ کے مطابق تو اس کا میری زندگی میں کوئی کردار نہیں تھا ۔ بہ قول اس کے وہ میری جان کے درپے تھی۔بلکہ چند منٹ پہلے ہی روشن خان کے پوچھنے پر اطمینان بھرے انداز میں مجھے گولی مارنے پر تیار ہو گئی تھی ۔لیکن اس سب کے باوجود میرے دل کو کچھ ہو رہا تھا ۔یوں جیسے وہ میرے لیے بہت اہم ہو ،یوں جیسے وہ حقیقت میں میرا قریبی دوست ہو ،یوں جیسے اس کے نہ ہونے سے میری زندگی میں کوئی بہت بڑا خلا پیدا ہو جائے گا ،یوں جیسے ماہین ،جینیفر اور رومانہ بھی میرے لیے اتنی اہم نہیں رہی تھیں جتنا وہ تھی ۔
میرے ساتھی سنائپر مجھے بہت تیز رفتار فائرر سمجھا کرتے تھے ۔اور اس میں شک بھی نہیں تھا کیونکہ میں شست لینے میں چند سیکنڈ سے زیادہ وقت نہیں لیا کرتا تھا ۔لیکن اس وقت میری انگلی ٹریگر کو دبا ہی نہیں پا رہی تھی ۔اسی وقت میرے کانوں میں روشن خان کی طنزیہ آواز پڑی ۔
”ایس ایس !....سو تو نہیں گئے ہو ۔بہترہو گا کہ تمھی اس گلاس کو نشانہ بنا لو ورنہ یقین مانو فیروز خان کے آدمیوں کا نشانہ بہت برا ہے ۔ان کی سر پر چلائی گئی گولی پیٹ میں لگتی ہے ۔“تمام روشن خان کی بات پر زور زور سے ہنسنے لگے تھے ۔
میری نظریں گلاس سے پھسل کر پلوشہ کے چہرے پر گردش کرنے لگیں وہ یوں بے فکری سے کھڑی تھی گویا کسی ڈرامے یا فلم کی شوٹنگ میں حصہ لے رہی ہو ۔میں نے ایک گہرا سانس لیا اور دوبارہ گلاس پر نظریں گاڑ لیں ۔میرے اساتذہ کہا کرتے تھے کہ زیادہ دیر شست لینے سے گولی کے دائیں بائیں نکل جانے کا خطرہ ہوتا ہے ۔لیکن اس وقت نہ تو میں راﺅ تصور صاحب کی نصیحت پر کان دھرنے پر تیار تھا ، نہ استاد عمر دراز کی ماننے پر راضی اور نہ کسی اور استاد کی سننے کو تیار ۔
”میں دس تک گنوں گا اگر اس دوران تم نے گولی نہ چلائی تو مجبوراََ مجھے کسی اور کو موقع دینا پڑے گا ۔“روشن خان نے دھمکی دینے والے انداز میں کہا اور با آواز بلند گنتی گننے لگا ۔
”ایک ....دو....تین ....چار....پانچ ....چھے ....سات........“
مجھے لگا کہ میرے ہاتھوں میں ہلکی ہلکی لرزش ہو رہی ہے ۔میں نے آخری بار اپنی شست کے صحیح ہونے کا اندازہ کیا اور اس کے نو کہتے ہی ٹریگر دبا دیا ۔
اس کے ساتھ ہی میں نے آنکھیں بند کر لی تھیں لیکن میری سماعتوں میں سٹیل کے گلاس سے گولی کے ٹکرانے کی آواز اور پھر گلاس کے دیوار سے ٹکرا کر نیچے کی گرنے کی آواز پہنچ گئی تھی ۔اس آواز نے میری بے ربط ہوئی دھڑکنوں کو سنبھالا دیا اور میں نے آنکھیں کھول دیں ۔
پلوشہ کے چہرے پر ویسے ہی اطمینان بھرے تاثرات چھائے تھے ۔روشن خان تعریفی لہجے میں بولا ۔
”ایس ایس مجھے معلوم تھا کہ تم آسانی سے اپنے معشوق کو بچا لو گے ،بہ ہر حال تمھارے پاس آدھا گھنٹا ہے اس کے بعد میری ذمہ داری ختم سمجھو ۔“مجھے کہتے ہوئے وہ فیروز خان کی طرف متوجہ ہوا ۔ ”فیروز خان !.... سامان اس کے حوالے کر دو ۔“
”جی کمانڈر ۔“کہہ کر اس نے گلاک پستول اور موٹر سائیکل کی چابی میرے حوالے کر دی ۔
”شکریہ روشن خان ۔“پستول نیفے میں اڑستے ہوئے میں نے موٹر سائیکل چابی ہاتھ میں پکڑتے ہوئے پلوشہ کو چلنے کا اشارہ کیا ۔مجھے لگ رہا تھا کہ میں کسی بہت بڑی آزمائش سے باہر نکلا ہوں ۔
روشن خان نے ایک دم میرے سر پر بم پھوڑا۔”ایس ایس !....جانے کی اجازت تمھیں دی ہے اس لڑکے کو نہیں ۔“میں اس کی طرف مڑا ۔”روشن خان !....تم اپنے الفاظ سے پھر رہے ہو ۔“
”نہیں ،بالکل بھی نہیں ۔“وہ اطمینان سے بولا ۔”تم نے میری جان بخشی کی تھی ،میں بھی تمھیں جان کی معافی دے رہا ہوں۔“
”مگر تم نے پہلے کچھ اور کہا تھا ۔“غصے سے میری آواز تبدیل ہو گئی تھی ۔
”میں نے کہا تھا کہ تمھیں جانے دوں گا اور تمھیں سے مراد تم دونوں نہیں صرف تم ہو ۔“
ہم دونوں بحث میں پڑے تھے مجھ پر کلاشن کوفیں تاننے والے بھی ہم دونوں کی طرف متوجہ تھے ۔پلوشہ اس وقت فیروز خان کے قریب کھڑی تھی ۔اچانک میرے کانوں میں فیروز خان کی زور دار کراہ پڑی ۔میں نے اس طرف دیکھا وہ گھٹنوں کے بل گر گیا تھا اور اس کی کلاشن کوف تھامتے ہوئے پلوشہ اس کے عقب میں ہو گئی تھی ۔دائیں بائیں کھڑے آدمیوں نے اپنی کلاشن کوفیں اس کی طرف سیدھی کیں لیکن اگر وہ گولی چلاتے تو ان کی گولی پہلے فیروز خان کو لگتی ۔میرے پاس سوچنے کا وقت نہیں تھا۔میں نے فوراََچھلانگ لگائی اور ایک ہاتھ حیران و پریشان روشن خان دائیں کندھے سے نیچے گزار کر دوسراہاتھ اس کی گردن سے لپیٹ کر اسے پیچھے گھسیٹ لیا ۔
تکلیف بھری آواز اس کے منہ سے خارج ہوئی لیکن میں اسے گھسیٹ کرقریبی دیوار کے قریب ہو گیا ۔گلاک پستول اس کے سر سے لگا کر میں دھاڑا” اگر کسی نے حرکت کرنے کی کوشش کی تو اس کا سراس کے جسم کا حصہ نہیں رہے گا ۔“
”تم بچ نہیں سکتے ۔“روشن خان خرخرایا۔
میں اطمینان سے بولا ۔”مگر اس سے پہلے تمھارا نمبر آئے گا ۔“
پلوشہ کلاشن کوف کی نال فیروز کان کے سر سے لگا کر خود اس کے عقب میں کھڑی تھی ۔
”ٹھیک ہے تم دونوں جا سکتے ہو ۔“روشن کان تکلیف سے کراہتا ہوا بولا ۔یہ الفاظ اس کے منہ میں تھے کہ فیروز خان کے ایک ساتھی نے پلوشہ کی طرف کلاشن کوف تان کر دو تین گولیاں فائر کیں ۔لیکن یہ ایک اضطراری حرکت تھی گولیاں فیروز خان اور پلوشہ کے سر کے اوپر سے گزر گئی تھیں ۔اس کے ساتھ ہی وہ غرایا۔
”ہتھیار پھینک دو ورنہ ....“مگر ورنہ سے آگے وہ کچھ بولنے کے قابل نہیں رہا تھا ۔روشن خان کی گردن سے پستول ہٹا کر میں نے اس کی طرف گولی داغ دی تھی ۔وہ ترچھا میرے سامنے کھڑا تھا۔ گولی اس کے بائیں کان سے دو انچ اوپر کھوپڑی میں پیوست ہو ئی تھی ۔اس کے دوسرے ساتھی نے ایک دم کلاشن کوف کا رخ میری جانب موڑ کر فائر کھول دیا ۔تین چار گولیاں روشن خان کی چھاتی میں لگی تھیں ۔میں نے فوراََ روشن خان کے موٹے جسم کی پناہ میں ہو گیا ۔اس کے ساتھ ہی میرے کانوں میں کلاشن کوف کی مسلسل تڑتڑاہٹ کی آواز گونجی ۔وہ پلوشہ تھی اس نے مزید انتظار کیے بغیر ہاتھ میں پکڑٰ کلاشن کوف کو برسٹ پر سیٹ کرتے ہوئے بیرل گھما دی تھی ۔تین بندے نیچے گرے اور چار آڑ کی تلاش میں بھاگے ۔میں نے ایک دم پستول سیدھا کرتے ہوئے دو تین دفعہ ٹریگر دبایا ۔دو آدمی مزید گر گئے تھے۔اسی وقت بھاگتے ہوئے دونوں آدمی ایک کمرے میں گھس گئے تھے ۔دوسرے کمرے سے ایک آدمی بھگا کر باہر نکلا اور پلوشہ کی گولی کا شکار ہو کر نیچے گر گیا ۔ہمیں وہاں موجود آدمیوں کی صحیح تعداد کا اندازہ نہیں تھا ۔میں بھاگتا ہوا موٹر سائیکل کی طرف بڑھ گیا ۔پلوشہ نے مسلسل فائرکرتے ہوئے میگزین خالی کی اور پھر ہاتھوں میں موجو دکلاشن کوف نیچے پھینک کر اس نے ایک مرے ہوئے آدمی کی کلاشن کوف اٹھا لی ۔میں موٹر سائیکل اسٹارٹ کر کے داخلی دروازے کے قری پہنچا اور دروازہ کھولنے لگا ۔پلوشہ گھٹنا ٹیک کر مسلسل اس دروازے کی جانب فائر کر رہی تھی جس میں وہ دونوں غائب ہوئے تھے ۔بغیر کسی شک و شبہ کے وہ ایک تریت یافتہ کمانڈو کی طرح میرا ساتھ دے رہی تھی ۔جب تک میں نے دروزاہ کھول کر موٹر سائیکل باہر نہ نکال لی وہ زمین پرلیٹ کر کمرے کی جانب مسلسل فائر کرتی رہی ۔وہ کمرے میں جانے والوں کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتی تھی کہ وہ ہماری جانب فائر کر سکے ۔موٹر سائیکل باہر نکالتے ہی میں نے ہارن بجایا ۔وہ زمین سے اٹھ کر الٹے قدموں پیچھے آنے لگی ۔قریب آتے ہی میرے پیچھے نشست سنبھالتے ہوئے وہ بولی ۔”چلو ۔“وہ موٹر سائیکل کے کیریئر کی جانب منہ کر کے بیٹھی تھی ۔میری پیٹھ کے ساتھ اس نے پیٹھ جوڑ دی تھی ۔یقینا وہ اپنے عقب کو غیر محفوظ نہیں چھوڑنا چاہتی تھی ۔
اس کے کہنے سے پہلے ہی میں کلچ چھوڑ کر ریس گھما دی تھی ۔موٹر سائیکل آگے بڑھی اور اس کے ساتھ اس نے فائر کھول دیا۔میں نے اپنی توجہ موٹر سائیکل چلانے پر مبذول رکھی ۔
سڑک پر چڑھتے ہی میں نے پوچھا ۔
”کہاں جانا ہے ؟“
”انگور اڈے تک تو نہیں پہنچ پائیں گے ،بہتر یہی ہے کہ موٹر سائیکل کمانڈر عبدالحق کے حوالے کر کے پیدل ہی کہیں نکلنے کی کوشش کریں گے ۔“یہ کہتے ہی وہ گھوم کر سیدھی بیٹھ گئی کیونکہ قبیل خان کے آدمی ابھی تک باہر نہیں نکل پائے تھے ۔
”دماغ تو ٹھیک ہے ۔“میں نے موٹر سائیکل کی رفتار بڑھاتے ہوئے پوچھا ۔
”ٹھیک ہوتا، تو تمھارے ساتھ ہوتی ۔“
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”بڑا احسان ہے تمھار ا۔یہ جو ابھی بھگت کر آرہے ہیں اس کی وجہ میں ہی تو ہوں ۔“
”اگر وجہ میں ہوں تو تمھارے جیسے اناڑی نشانہ باز کا سامنا بھی تو مجھے ہی کرنا پڑا ۔“
”ہا....ہا....ہاصحیح کہا ۔“اس مرتبہ میں نے کھلے دل سے قہقہہ لگاتے ہوئے اس کی تائید کی تھی ۔
”ہی ....ہی ....ہی ۔“ نقل اتارے ہوئے اس نے مجھے چڑایا ۔
مجھے معلوم تھا کہ قبیل خان کے آدمی ہماری تلاش میں سڑک ہی پر حرکت کریں گے لیکن اس کے باوجود میں اس وقت تک سڑک نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔جب تک کسی محفوظ جگہ پر نہ پہنچ جاتا۔ اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ ان کے جو آدمی انگور اڈہ میں موجود تھے وہ ہمیں پکڑنے میں اپنے آدمیوں کی مدد کر سکتے تھے۔جیسے انھوں نے ہمیں علام خیل میں گھیر لیا تھا ۔یہ سوچتے ہی میں ایک دم رک گیا ۔
”اب کیا ہوا ؟“
”کہیں ان کے آدمی رستے ہی پر ہمارے منتظر نہ ہوں ۔“میں نے دل میں پلنے والا اندیشہ اس کے سامنے بیان کر دیا ۔
وہ فوراََ بولی ۔”اسی لیے تو پہلے سے منع کر دیاتھا، مگر تم نے پہلے بھی کسی کی سنی ہے ۔“
ایک لمحہ سوچنے کے بعد میں نے موٹر سائیکل اس جانب موڑ دی جس طرف میں اور سردار قبیل خان کے سالے خائستہ گل کو لے گئے تھے ۔
”اب کس طرف چل پڑے ؟“
” فی الحال اپنی جان بچانے کے لیے ہمیںکسی ایسی جگہ چھپنا پڑے گا جہاں قبیل خان کے آدمی ہمیں ڈھونڈ نہ سکیں ۔“
”بڑے عقل مند ہو گئے ہو ۔“میرے پیٹ میں انگلی چبھوتے ہوئے وہ مسکرائی ۔
میں نے بر ا مناتے ہوئے کہا ۔”تمھیں کتنی بار منع کیا ہے کہ میرے ساتھ بے تکلف ہونے کی کوشش نہ کیا کرو ۔“
”افف،قسم سے کتنا دکھاوا کرتے ہو ،ورنہ گلاس پر گولی چلاتے وقت تمھارا سانس نکلا جا رہا تھا۔“
میں نے دانت پیستے ہوئے کہا ۔”وہ اس وجہ سے کہ میں نہیں چاہتا تھا کوئی بے گناہ میرے ہاتھوں جہنم رسید ہو ۔“
”بس کرو یا ر!....میں جانتا ہوں ۔“
میں اس کی فضول بات کا جواب دیے بغیر موٹر سائیکل آگے بڑھاتا گیا۔اندھیرا آہستہ آہستہ گہرا ہوتا جا رہا تھا ۔
”اگر موٹر سائیکل مجھے چلانے دو تو شاید ہمیں کسی محفوظ جگہ پہنچنے میں آسانی ہو ۔“
”آرام سے بیٹھی رہو ۔“اسے جھڑکتے ہوئے میں نے رفتار بڑھا دی ۔تمام رستا پتھریلا تھا موٹر سائیکل اچھلتی ہوئی آگے بڑھتی رہی ۔ ہیڈ لائیٹ جلانا میری مجبوری بن گئی تھی ۔ورنہ روشنی کے دور سے نظر آنے کا خطرہ بہت زیادہ تھا ۔اس وقت ہم ایک نالے میں سفر کر رہے تھے ۔آگے جا کر یہ اس نالے کے ساتھ بھی مل رہا تھا جس میں ہم نے خائستہ گل کو قتل کیا تھا ۔لیکن میں نے اس طرف نہیں مڑا تھا کیونکہ اس نالے میں دو تین سو میٹر آگے جا کر چڑھائی اتنی سخت ہو جاتی تھی کہ موٹر سائیکل پر سفر کرنا ممکن نہیں رہنا تھا ۔
نالہ پہلے تو سڑک کے ساتھ متوازی چلتا رہا آگے جا کر آہستہ آہستہ سڑک سے دور ہٹنے لگا ۔ سڑک ہمارے دائیں ہاتھ رہ گئی تھی ۔اندھیرا مزید گہرا ہونے لگا تھا ۔
”کیا تم بتا سکتی ہو کہ یہ نالہ آگے کس جگہ جا کر نکلے گا ؟“
وہ بے پرواہی سے بولی ۔”جب تم نے اپنی مرضی ہی کرنی ہے تو ،ضرورت کیا ہے پوچھنے کی ۔“
”جتنا پوچھا جائے اتنا جواب دیا کرو،کیونکہ تم میرے ساتھ کام کرنے کا معاوضا وصول کر کے خرچ بھی کر چکی ہو ۔“میرے لہجے میں طنز کے بہ جائے مزاح کا عنصر نمایاں تھا ۔جانے کیوں اس سے بے تکلف ہونے کو دل کرنے لگ گیا تھا ۔یا شاید پہلے ہی سے دل کر رہا تھا مگرجبر کرکے خود پر سنجیدگی اور بے زاری طاری کر رکھی تھی ۔
”ہونہہ!....بہت باتیں کرنا آ گیا ہے ۔“اس نے طنزیہ انداز اپنانے کی کوشش کی مگر لہجے میں شامل خوشی نہیں چھپا سکی تھی ۔
” محترما !.... اس بار دشمن کے ہاتھ چڑھ گئے توپوچھ گچھ میں وقت ضائع نہیں کریں گے ۔“
”پہلی بات تو یہ کہ میں محترما نہیں ہوں اورتم بار بار مجھے اسی طرح مخاطب کررہے ہو ، دوسرا پہلے ہم بے خبری میں مار کھا گئے تھے ۔“
”اب کون سی توپ ہے تمھارے پاس ۔ایک کلاشن کوف اور پستول سے کب تک مقابلہ کریں گے ۔“
وہ زور دار انداز میںبولی ۔”ڈرپوک....“
اور پھر میرے جواب دینے سے پہلے موٹرسائیکل جھرجھرا کر خاموش ہو گئی ۔
”یک نہ شد دو شد ....“خود کلامی کے انداز میں بڑبڑاتے ہوئے میں نیچے اتر گیا ۔وہ بھی خاموشی سے نیچے اتر گئی تھی۔قریب موجوددرختوں کے ایک چھوٹے سے جھنڈ میں موٹر سائیکل چھپا کر میں اس کی طرف متوجہ ہوا ۔اس کے ہیولے کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ وہ بھی میری ہی جانب متوجہ تھی ۔
”اب کیا کریں ؟“
”مجھے کیا معلوم ؟....“وہ ہنسی ۔”میں تو یوں بھی بہ قول تمھارے ملازم ہوں ۔“
”اس میں شک ہی کیا ہے ۔“کہہ کر میں نالے ہی میں آگے بڑھ گیا ۔
”تو پھر پوچھتے کیوں ہو ؟“
”مالک کا پوچھنا اور ملازم کا جواب دینا فرض بنتا ہے ۔“
”چلو وہ تو بعد کا معاملہ ہے پہلے تم پستول میرے حوالے کر و۔“
”کس خوشی میں ؟“
”کیونکہ وہ تم میرے حوالے کر چکے تھے۔“
”یاد کرو ،عارضی طور پر دیا تھا ۔“
”نہیں ،کوئی عارضی نہیں تھا اور اس بارے میں پہلے بتا چکا تھا ۔“قریب پہنچ کر اس نے میرے بازو سے پکڑ کر مجھے رکنے پر مجبور کیا ۔”اور تم یہ کلاشن کوف اپنے پاس رکھو ۔“
پستول اس کے حوالے کر کے میں نے کلاشن کوف تھامی اور منہ بناتے ہوئے کہا ۔”جانتی ہو یہ پستول تمھاری کلاشن کوف سے چھے گنا زیادہ قیمتی ہے ۔“
وہ اطمینان سے بولی ۔”یہ تو یوں بھی میرا معاوضا ہے۔“
میں نے بگڑے ہوئے لہجے میں کہا ۔”مار کھانے کے لیے کوئی موقع محل بھی دیکھ لیا کرو ۔“
”میرا خیال ہے آج دو دو ہاتھ ہو جانے چاہئیں ،تاکہ تمھاری یہ غلط فہمی تو دور ہو جائے ۔“اس نے پیچھے سے میری قمیص کو پکڑ کر کھینچا۔
”ہر وقت بکواس کے موڈ میں نہ رہا کرو۔“ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے قمیص چھڑاکر میں آگے بڑھ گیا ۔
”ہونہہ بزدل ....صرف باتیں کرنا آتی ہیں ۔“چڑانے والے انداز میں کہتے ہوئے وہ مجھ سے آگے بڑھ گئی ۔چڑھائی شروع ہو گئی تھی اور چڑھائی چڑھنے میں پوری کوشش کے باوجود میں اس سے مقابلہ نہیں کر پاتا تھا ۔اس لیے میں اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے کے بجائے اس کے عقب میں چلتا رہا ۔آکسیجن کی سطح اس علاقے میں بہت کم ہے اس وجہ سے تھوڑی سی مشقت ہی سے بہت زیادہ سانس چڑھ جاتا ہے ۔
تھوڑا سا چلتے ہی پلوشہ نے اپنا رخ تبدیل کر لیا تھا لیکن میں نے اس سے کچھ پوچھنے کی ضرورت اس لیے بھی محسوس نہیں کی کہ وہ مجھ سے کئی گنا زیادہ اس علاقے سے واقف تھی ۔
سولہ سترہ کا چاند نکل آیا تھا لیکن ابھی تک وہ مشرقی جانب موجود بلندپہاڑ کی اوٹ میں تھا ۔ اس کے باوجود اچھی خاصی روشنی ہو گئی تھی ۔
چڑھائی چڑھتے ہی ہمیں سڑک نظر آنے لگی تھی ۔تین گاڑیاں انگور اڈے کی طرف جا رہی تھیں۔میرے اندازے کے مطابق وہ گاڑیاں قبیل خان کے آدمیوں ہی کی تھیں۔لیکن یہ یقینی بات نہیں تھی ۔ہو سکتا تھا کہ وہ کوئی اورلوگ ہوں ۔پلوشہ تیز رفتاری سے اپنے رستے پر بڑھی جا رہی تھی میں بڑی مشکل سے اس کا ساتھ دے پا رہا تھا ۔وہ پہاڑی کی بلندی ہی پر آگے بڑھتی رہی ۔گھنٹا بھر اسی طرح چلنے کے بعد وہ ایک نالے میں اترنے لگی ۔چاند کی روشنی میں ہمیں رستا واضح نظر آ رہا تھا ۔نالے میں اتر کر وہ اسی نالے میں آگے بڑھنے لگی ۔میں بھی خاموشی سے اس کی معیت میں چل رہا تھا ۔ وہ پہاڑی علاقے میں چلنے کی ماہر تھی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ پہاڑوں ہی میں پلی بڑھی تھی ۔اس کے ساتھ مجاہدین کے ماہر لڑاکوں سے لڑائی بھڑائی کی تربیت بھی حاصل کر چکی تھی ۔ایک تربیت یافتہ سنائپر ہونے کے باوجود مجھے لگتا تھا کہ وہ مجھ سے زیادہ سخت جان ہے ۔اس کا تجربہ مجھے تب ہوا تھا جب میں اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے باوجوداس سے فقط نام ہی نہیں اگلوا سکا تھا ۔
”تھک تو نہیں گئے ۔“اس نے کافی دیر سے چھائی خاموشی کو توڑا۔
”چلتے رہو ۔“
اس نے رکتے ہوئے پوچھا ۔”اگر چاہو تو چند منٹ آرام کر لیتے ہیں ۔“
”ضرورت نہیں ۔“کہہ کر میں اس سے آگے بڑھ گیا ۔
”اچھا میں تھک گئی ہوں ۔چند منٹ آرام کر لیتے ہیں ۔“اس مرتبہ اس نے اپنا نام لیا لیکن اتنا تو میں جانتا تھا کہ وہ بالکل بھی نہیں تھکی تھی ۔
”تھک گئی ہو یا تھک گئے ہو ؟“میں ایک قریبی پتھر پر بیٹھتے ہوئے مسکرایا۔
”میری مرضی جو کہوں ،البتہ تم مجھے لڑکا ہی سمجھاکرو۔“وہ میرے ساتھ پڑے پتھر پر بیٹھ گئی ۔
”کتنی دیر میں پہنچ جائیں گے ۔“
”چار پانچ گھنٹے لگ جائیں گے ۔“
”اس کا مطلب ہے رات چلتے ہوئے بیتے گی ۔“
اس نے سنجیدہ لہجے میں مشورہ دیا ۔”اگر چاہو تو کوئی مناسب جگہ دیکھ کر آرام کر لیتے ہیں ۔“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلاد یا۔
”تو پھر چلو ۔“وہ اٹھ کر چل پڑی ۔ہمارا سفر دوبارہ شروع ہوا ۔نالہ در نالہ ہم تیز رفتاری سے چلتے رہے ۔رستے میں دو تین دفعہ پانی پینے کے لیے رکنے کے علاوہ ہم نہ رکے ۔رات کوئی ایک بجے کا عمل ہو گا جب ہم کمانڈر نصراللہ کی بیٹھک کے سامنے پہنچے ۔چابی میری جیب میں موجود تھی ۔
”سخت بھوک لگی ہے ۔“چارپائی پر ڈھیر ہوتے ہوئے وہ پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی ۔
بھوک مجھے بھی لگی تھی لیکن اس وقت کھانے کا بندوبست ہونا ممکن نہیں تھا اس لیے میں خاموشی سے ایک کونے میں لٹکی لالٹین جلانے لگا ۔
اس نے کہا ۔” ہمیں چند دن تک چھپ کر رہنا پڑے گا ۔اور بہتر ہو گا تم اس بیٹھک سے نہ نکلنا۔ جبکہ میں کچھ دن اپنے گھر گزاروں گا ۔“
”ہونہہ!“میں گہرا سانس لیتے ہوئے چارپائی پر بیٹھ گیا ۔
”ایسا کرو ایک مخابرہ مجھے دے دو میں روزانہ رات کو آٹھ بجے سے نو بجے کے درمیان مخابرہ آن رکھوں گا اگر کوئی ضروری بات ہو تو مجھے بلا لینا ورنہ ہفتے کے بعد میں آجاﺅں گا اور اکٹھے بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل بنا لیں گے ۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”میرا خیال ہے یہ طے کرنا میرا کام ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے ۔“
اس نے سنجیدہ لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا ۔”راجے صاحب !....ان حالات میں اس سے بہتر تم کچھ سوچ ہی نہیں سکتے ۔چند دن تک قبیل خان کے آدمی شکاری کتوں کی طرح ہماری تلاش میں سرگرداں رہیں گے ۔ اور ان میں کم از کم دو آدمی ایسے ضرور ہیں جو ہمیں شکل سے جانتے ہیں ۔بلکہ ثقلین خان کے بیٹے کی شادی میں شرکت کرنے والے تمام افراد ہمیں شکل و صورت سے پہچانتے ہیں ۔گو وہ قبیل خان کے آدمی تو نہیں ہیں مگر ان میں کئی ایک ایسے ضرور ہوں گے جن کے قبیل خان کے مختلف آدمیوں سے اچھے تعلقات ہوں ۔ اس لیے ہماراچند دن تک منظر عام سے ہٹ جانا بہتر رہے گا ۔“
”تو کیا چند دن کے بعد وہ ہماری تلاش ترک کر دیں گے ؟“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔”لیکن تلاش میں ایسی تندی نہیں رہے گی ۔“
”میرے سفری تھیلے سے ایک آئی کام اور اس کی فالتو بیٹری نکال لو ۔“میں نے میز پر پڑے اپنے تھیلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے گویا اس کے ساتھ متفق ہونے کا اعلان کیا تھا ۔
میرا تھیلا کھولتے ہوئے اس نے آئی کام سیٹ اور اس کی بیٹری نکال کر کہا ۔”یاد رکھنا چینل نمبر گیارہ پر رات آٹھ سے نو بجے کے درمیان میں مخابرہ آن کیاکروں گا۔“
”تو کیا تم ابھی جا رہے ہو ۔“اسے جانے پر آمادہ دیکھ کر میں نے حیرانی سے پوچھا ۔
”ہاں ....“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ شرارت سے مسکرائی ۔”مجھے تم پر بالکل اعتبار نہیں ہے ۔اور پھر میں نے شادی میں ڈانس کر کے کچھ رقم بھی اکٹھی کی ہے ۔اس سے پہلے کہ تم یہ رقم چوری کر لو میں یہ بھی امی جان کے حوالے کر آﺅں ۔“
میں نے سر جھٹکتے ہوئے کہا ۔”فضول گو۔“
”ویسے یاد آیا ،تم میری کلاشن کوف کہاں پھینک آئے ؟“
”بڑی جلدیاد آگیا۔“
”نہیں یاد تو کافی دیر سے تھا پوچھنے کا موقع نہ مل سکا ۔“
”ثقلین خان کی بیٹھک سے نکلتے وقت میں نے پاس کھڑے آدمی کے حوالے کر دی تھی تاکہ کسی کو شک نہ ہو کہ میں بھی بھاگنے کے چکر میں ہوں ۔“
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس نے گہری نگاہ مجھ پر ڈالی چند لمحے مجھے گھورنے کے بعد وہ عجیب سے لہجے میں بولی ۔”اپنا خیال رکھنا اور دروازہ یاد سے کنڈی کر دینا ۔“ یہ کہہ کر وہ باہر نکل گئی ۔
جاری ہے
 

دروازہ کنڈی کرنے سے پہلے میں نے باہر جھانکا وہ تیز قدموںسے وہاں سے دور جا رہی تھی دروازہ کنڈی کر کے میں اندر آگیا ۔
میری آنکھ دروازے پر ہونے والی دستک سے کھلی ۔دروازہ کھولنے سے پہلے میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ دوڑائی صبح کے سات بج رہے تھے ۔دروازہ کھولنے پر سفید ریش کمانڈر نصراللہ کا مسکراتا چہرہ نظر آیا ۔
”اسلام علیکم !“کہتے ہوئے وہ اندرداخل ہوا ۔
”وعلیکم اسلام ۔“کہہ کر میں نے اس کا مصافحے کے لیے بڑھایا ہوا ہاتھ تھام لیا ۔
”میرا خیال ہے پہلے میں ناشتا لے آﺅں ؟“اس نے پر شفقت مسکراہٹ سے پوچھا ۔
”بہت اچھا خیال ہے ۔“میں نے تائید میں سر ہلایا۔
”اکیلے ہو یا پلو خان بھی ساتھ ہے ؟“
”اکیلا ہوں ،لیکن ناشتا آپ دو بندوں ہی کا لائیں ۔کل رات کا کھانا نہیں کھا سکا تھا ۔“
میری بات پر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گیا ۔
اس نے بھی میرے ساتھ ہی ناشتا کیا ۔ناشتے کے دوران ہی میں اسے کل کے واقعے کے بارے تفصیل سے بتا دیا ۔
تمام تفصیل خاموشی سے سن کر اس نے مجھ سے موٹر سائیکل چھپانے کی جگہ کے بارے پوچھا۔ اور کہنے لگا ۔
”موٹر سائیکل کی فکر نہ کرو میں منگوا لیتا ہوں ۔“
”کہیں موٹر سائیکل کی وجہ سے آپ لوگوں پر تو کوئی بات نہیں آئے گی ۔“
”بالکل بھی نہیں ،موٹر سائیکل کے اندر تبدیلیاں کرنا کون سا مشکل کام ہے ۔یوں بھی یہاں گاڑیوں اورموٹر سائیکلوں کے کاغذات اور نمبر پلیٹ وغیرہ نہیں ہوتی ۔“
اور میں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلادیا ۔ناشتے کے بعد وہ برتن سمیٹ کر بیٹھک سے نکل گیا جبکہ میں ایک بار پھر آرام کرنے کے لیے لیٹ گیا ۔اگلے دو دن میں نے بیٹھک میں آرام کرتے گزارے ۔
تیسرے دن کمانڈر نصراللہ ناشتالے کر آیا تو بیٹھتے ساتھ قبیل خان کا ذکر چھیڑ دیا ۔
”قبیل خان افغانستان سے واپس پہنچ گیا ہے اور کل اپنی تباہ شدہ حویلی کا جائزہ لینے گیا تھا ۔ سنا ہے وہ جلد از جلداپنی حویلی دوبارہ تعمیر کرانا چاہتا ہے ۔ “
”لازمی بات ہے اس کی عیاشی کا اڈہ جو تھا۔“اورناشتے کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے پوچھا۔ ”ویسے آپ کو کیسے پتا چلا ۔یقینا مجاہدین اس کی نقل و حرکت پر تو نظر نہیں رکھتے ۔“
”صحیح کہا ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔”بس گزشتہ رات اتفاقاََاس کے ایک آدمی سے ملاقات ہو گئی ،میرا پرانا شناسا ہے ۔گپ شپ کے دوران ہی یہ سب پتا چلا ۔“
”ہونہہ!....“
”شاید وہ آج بھی وہاں جائے ۔“کمانڈر نصراللہ نے ایک اور انکشاف کیا ۔
میں حیرانی سے اس کی جانب متوجہ ہوا ۔” کیا یہ یقینی بات ہے ۔“
”ایک خبر ملی تھی بھائی، جو آپ کے سامنے دہرا دی ۔“معنی خیز لہجے میں کہتے ہوئے وہ برتن سمیٹنے لگا ۔
”شکریہ جناب ۔“میں نے ممنونیت بھرے لہجے میں کہا ۔میں جانتا تھا کہ وہ یہ خبر مجھ تک کیوں پہنچا رہا تھا ۔
اس کے جانے کے بعد میں تھوڑی دیر تو شش و پنج میں ڈوبا رہا کہ وہاں جاﺅں یا نہ جاﺅں ،آخر میں جانے کا ارادہ غالب آ گیا ۔ دن کے دس ساڑھے دس ہونے کو تھے میں تیار ہو کربیٹھک سے نکل آیا ۔ اگر رات کو یہ بات معلوم ہوئی ہوتی تو شاید میں پلوشہ کو بھی بلوا لیتا ۔گو وہ نرا سر درد ہی تھی لیکن قبیل خان کے خلاف کام کرتے وقت اس کا ساتھ ہونا ضروری تھا ۔البتہ اس وقت اس سے رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں تھااس لیے میں اکیلا ہی چل پڑا۔
تباہ شدہ حویلی تک جانے کا جو رستا پلوشہ نے ہمیں دکھایا تھا وہ آسان ہونے کے ساتھ مختصر بھی تھا ۔دو اڑھائی بجے تک میں وہاں پہنچ تھا ۔گھنے درختوں اور گنجان جھاڑیوں کے درمیان رستا بناتے ہوئے میں چکر کاٹ کر حویلی کے عقب میں موجود پہاڑی کے قریب پہنچا وہاں بلندی سے میں حویلی کی جگہ کا آسانی سے جائزہ لے سکتا تھا ۔
میں درختوں کے جھنڈ سے نکل کر آگے بڑھا ہی تھا کہ اچانک دھماکا ہوا ،جھٹکا سالگا اور مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی گرم انگارہ میرے بائیں کندھے میں گھس گیا ہو۔میں کولہوں کے بل نیچے گرا اورجلدی سے جھاڑیوں میں رینگ گیا ۔یقینا اس پہاڑی پر قبیل خان کے آدمی موجود تھے ۔میں کچھ زیادہ ہی بے احتیاطی کا مظاہرہ کر بیٹھا تھا ۔میرے ہاتھ میں تھامی ہوئی ڈریگنوو کو دیکھ کر انھوں نے للکارنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی اس کا مطلب یہی تھا کہ قبیل خان وہاں پہنچا ہوا تھا اور اس کے محافظ چوکس تھے ۔
ایک اور برسٹ فائر ہوا گولیاں اسی جھاڑی کی طرف ہی آئی تھیں ۔میں جھک ہر وہاں سے دور ہٹنے لگا ۔پندرہ بیس گز دور آکر میں بھل بھل کرتے خون کو روکنے کے لیے زخم پر اپنی چادر باندھنے لگا۔ گولی گوشت کے اندر ہی رہ گئی تھی ۔یہ پہلا موقع تھا کہ میں کسی کی گولی کا شکار بنا تھا ۔شروع میں گولی لگنے کی تکلیف بالکل نہیں ہوئی تھی ،مگراس کے بعد لمحہ بہ لمحہ درد بڑھتا جا رہا تھا ۔دور مجھے کسی کے چلاکر کچھ کہنے کی آواز آ رہی تھی ۔یقینا ان کی تعداد کافی زیادہ تھی اور میرے لیے ان کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں تھا ۔ خاص کر اس حالت میں تو میںرائفل چلانے کے قابل بھی نہیں رہا تھا ۔
زخم پر کپڑا لپیٹ کر میں وہاں رکا نہیں تھا ،کیونکہ زخم سے ٹپکتے خون کے قطرے میرے چھپنے کی جگہ کو افشا کر سکتے تھے ۔اور اس وقت میرا دماغ کندھے کی تکلیف کو بھلا کر جان بچانے کی تجویز سوچنے میں سر گرداں تھا۔ چادر لپیٹنے کے بعد خون بہنا تقریباََ رک گیا تھا ۔جو تھوڑا بہت نکل رہا تھا وہ بھی چادر میں جذب ہوتا جا رہا تھا ۔میں تیز قدموں سے وہاں سے دور ہٹنے لگا ۔عقبی جانب مجھے دو تین برسٹ سنائی دیے ۔یقینا وہ خواہ مخواہ گولیاں ضائع کر رہے تھے ۔درختوں کی بہتات اور جھاڑیوں کے گھنے جھنڈ میرے لیے بہترین پناہ گاہ تھے ،وہ اتنی آسانی سے مجھے نہیں ڈھونڈ سکتے تھے ۔ اور جہاں تک میرا اندازہ تھا قبیل خان کے ذاتی محافظ میری تلاش میں زیادہ دیر سر نہیں کھپا سکتے تھے ۔
میرے کندھے کا درد مسلسل بڑھتا جا رہا تھا ۔رائفل سے سلنگ نکال کر میں نے گلے میں ڈالی اور مضروب بازو کواس میں لٹکا لیا ۔کیونکہ کسی سہارے کے نہ ہونے کی وجہ سے زخم میں درد مزید بڑھ رہا تھا۔ اس وقت میرا رخ اسی غار کی طرف تھا جہاں میں نے پلوشہ کو زدوکوب کرکے اس سے پوچھ گچھ کی تھی۔ لیکن زیادہ خون بہنے کی وجہ سے میری رفتار میں کمی آ گئی تھی مجھے سخت قسم کی نقاہت محسوس ہونے لگی، لیکن میں آہستہ روی سے چلتا رہا ۔کلاشن کوف کی گولی میرے کندھے میں موجود تھی ۔اگر وہ جلد باہر نہ نکالی جاتی تو یقینا گولی کازہر پھیل کر میرے کندھے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا تھا ۔اس وقت مجھے کسی ساتھی کی اشد ضرورت محسوس ہورہی تھی۔اگر پلوشہ بھی میرے ساتھ موجود ہوتی، پھر بھی مجھے کافی آسرا ہوتا ۔پتا نہیں وہاں سے پلوشہ کے ساتھ رابطہ ممکن تھا یا نہیں اس بارے مجھے کچھ اندازہ نہیں تھا البتہ کسی بلند جگہ پر جا کر میں اس تک اپنی آواز پہنچانے میں کامیاب ہو سکتا تھا اور اس وقت مجھے اس کی اشد ضرورت تھی ۔اس سے مدد لینے کا خیال آتے ہی میرے ذہن میں تین چار دن پہلے اپنے کہے ہوئے الفاظ گونجے ۔جب اس نے مجھ سے مدد مانگتے وقت کہا تھا ۔
”دیکھ لو راجا !....ہم دشمن سہی پر قبیل خان کی موت تک ساتھی ہیں ۔کسی وقت تمھیں بھی مجھ سے کام پڑ سکتا ہے ۔“اور جواباََ میں نے ”تمھیں کام بتانے سے پہلے میں خود کشی کرنا پسند کروں گا۔“کہ کر اس کی توہین میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔
”لیکن اس کے باوجود میں نے اس کامکمل ساتھ دیا تھا ۔“میں خود کو تسلی دینے لگا۔وقفے وقفے سے کلاشن کوف کے فائر آواز میرے کانوں میں پڑ رہی تھی ۔
پلوشہ نے جاتے وقت کہا تھا کہ وہ رات کے آٹھ اور نو بجے کے درمیان آئی کام آن کرے گی اور اب مجھے آٹھ بجنے کا انتظار کرنا تھا ۔ میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ دوڑائی چار بجنے والے تھے ۔ آٹھ بجنے سے چار گھنٹے اب بھی بقایا تھے ۔اس وقت میں اس غار سے جہاں میں نے اور سردار نے بسیرا کیا تھا،ڈیڑھ دو کلومیٹر ہی دور ہوں گا مگر اپنی حالت کے پیش نظر وہ ذرا سا فاصلہ مجھے بہت زیادہ محسوس ہو رہا تھا ۔لمحہ بہ لمحہ میری حالت بگڑتی جا رہی تھی۔ کچھ دیر دم لینے کے لیے میں نے نیچے بیٹھ کر درخت کے تنے سے ٹیک لگا لی اسی وقت مجھے عقب کی طرف سے کسی کے بولنے کی آواز آئی ۔
”ہلکانوواپس زو ،ھغہ بہ منڈا کڑے ای۔“(لڑکو واپس چلو وہ بھاگ گیا ہوگا)وہ میرے کافی قریب پہنچ گئے تھے ۔ اپنی نقاہت اور درد کو پس پشت ڈال کرمیں فوراََ قریبی جھاڑی میں رینگ گیا ۔وہ سرسری انداز میں دائیں بائیں دیکھتے آرہے تھے ورنہ وہاں جھاڑیوں کے اتنے جھنڈ تھے کہ انھیں کھنگالنے کی صورت میں وہ ابھی تک دس پندرہ گز بھی آگے نہ بڑھ سکے ہوتے ۔
”ویسے اسے گولی تو لگی ہوئی ہے شاید زیادہ دور تک نہ جا سکے ۔“ایک اور آدمی نے خیال ظاہر کیا ۔
”یار !....شاہ زیب کہہ رہا تھا کہ اسے گولی بازو میں لگی ہے اس کی ٹانگیں تو سلامت ہیں اور وہ یہ بھی جانتا ہو گا کہ یہاں رکنے کی صورت میں اس کی موت یقینی ہے ۔“یہ بات پہلے والے آدمی نے کہی تھی ۔
”ویسے شاہ زیب خان کو جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے تھا ۔اسے کچھ قریب آنے دیتا تو با آسانی زندہ پکڑا جا سکتا تھا ۔“یہ چوتھی آواز تھی ۔چاروں تھوڑا سا پھیل کر ایک قطار میں آگے بڑھتے آ رہے تھے ۔میں دم سادھے اسی جگہ دبکا رہا ۔چلتے چلتے وہ کسی گھنے جھنڈ میں ایک دو چھوٹے چھوٹے برسٹ فائر کر دیتے ۔گویا دائیں بائیں پھیلے درختوں کے گھنے جھنڈو ں کی وہ فائر ہی کے ذریعے چھان بین کرتے آرہے تھے ۔وہ مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر گزرتے چلے گئے ۔لیکن وہاں سے وہ زیادہ آگے نہیں گئے اور پچاس ساٹھ گز آگے جا کر پیچھے مڑ آئے ۔واپسی پر ان میں سے ایک تو بالکل میرے پاس سے گزرا تھا لیکن ان کا دھیان ایک دوسرے کی باتوں کی طرف تھا ۔ان کا تلاشی لینے کا انداز کسی نا پسندیدہ کام کو سر انجا دینے جیسا تھا ۔لگتا تھاوہ کسی ناگوار حکم کی بجا آوری کے لیے اس طرف آئے ہوں ۔
ان کے گزر جانے کے تھوڑی دیر بعد تک میں لیٹا رہا اور پھر جھاڑی سے باہرنکل آیا۔میرے جسم کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھتا جا رہا تھا اور صحیح طریقے سے چلنا بھی دشوار ہو رہا تھا ۔اس وقت ضروری تھا کہ میں کسی قریبی آبادی کا رخ کرتا ،مگر اس حالت میں وہاں سے انگور اڈے تک چل کر جانا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔سب سے بہتر پلوشہ ہی سے رابطہ کرنا تھا ۔لیکن ایک تو اس سے بات کرنے کے لیے مجھے رات آٹھ بجے کا انتظار کرنا پڑتا دوسراوہاں جنگل میں مشکل تھا کہ اس سے بات ہوپاتی ۔اس سے با ت کرنے کے لیے میرا کسی بلند ی پر پہنچنا ضروری تھا ۔اور اس وقت بدقسمتی سے میں ہموار زمین پر بہ مشکل چل پا رہا تھا تو بلندی پر کیسے چڑھتا مگر اس کے علاوہ کوئی چارہ کار بھی نہیں تھا ۔میں آہستہ روی سے قریبی پہاڑی کی طرف بڑھتا رہا ۔سب سے مناسب غار والی پہاڑی تھی ۔دو اڑھائی کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے میں مجھے دو تین گھنٹے لگ گئے تھے ۔جب میں غارسے پچاس ساٹھ گز کے فاصلے پر پہنچا اس وقت شام کے ساڑھے چھے بج رہے تھے ۔میرے پاس اس پہاڑٰ پر چڑھنے کے لیے ڈیڑھ گھنٹے کا وقت موجود تھا لیکن اس وقت میری جو حالت ہو رہی تھی اس سے میں یا میراکریم ربّ ہی واقف تھا ۔نقاہت ،کمزوری، بخاراور درد کی شدت نے مجھے بے حال کردیا تھا ۔یوں لگ رہا تھا کہ میں زیادہ دیر درد کا مقابلہ نہیں کر پاﺅں گا ۔صرف جان بچانے کی جبلت مجھے تحریک دیے ہوئے تھی ۔میں رینگنے کی رفتار سے بلندی کا سفر طے کرنے لگا ۔پہاڑی کی اونچائی پر چڑھتے وقت صحت مند شخص کا سانس بھی پھول جاتا ہے ، میں تو گھایل تھا۔وہاں آکسیجن بھی بہت کم تھی اور اس کے ساتھ بخار بھی مجھے اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ گویاایک ساتھ کئی مصیتوں مجھ پر ٹوٹ پڑی تھیں ۔اس وقت اگر میں اپنا پچھلا قدم اٹھا کر آگے کی طرف رکھ رہا تو اس میں صرف میری قوت ارادی کا عمل دخل تھا ۔ورنہ میری حالت ایسی نہیں تھی کہ خالی سفرہی کر سکتا کجا چڑھائی چڑھنا ۔غار کے دہانے کے قریب پہنچ کر میں نے اپنی رائفل اور جھولا وہیں پھینکا اور صرف آئی کام سیٹ جھولے سے نکال کر اوپر کی جانب بڑھ گیا ۔
زخم سے بہنے والا گاڑھاخون زخم کے منہ پر جم چکا تھا ۔زخم پر باندھی گئی چادر بھی اکڑ کر کندھے ہی کا حصہ بن چکی تھی ۔ میں چیونٹی کی رفتار سے حرکت کرتا رہا ۔ہر دس بارہ قدم کے بعد مجھے سانس لینے کے لیے بیٹھنا پڑتا ۔سورج پہاڑ کے پیچھے غائب ہو گیاتھا ۔تیز ہوا چلنے لگی تھی جو اس موسم میں بھی مجھ پر کپکپی طاری کر رہی تھی ۔یہ ایک نئی اذیت تھی ۔سردی ،درد ،بخار ،تھکن ،دشمنوں کا خوف ،ناامیدی اور موت کی آہٹ۔اس وقت جانے میں کس کس کیفیت سے گزر رہا تھا ۔پلوشہ جس سے بات کرنے کے لیے میں بلندی کا اذیت ناک سفر طے کر رہا تھا اس کی ذات سے بھی مجھے کوئی خاص امید نہیں تھی ۔یہ بھی ممکن تھا کہ بلندی سے رابطہ نہ ہو پاتا اور یہ بھی ممکن تھا کہ وہ کوئی بہانہ کر دیتی بلکہ یہ کہہ کر جان چھڑا لیتی کہ....
”اچھا ہے قبیل خان کے بعد میں نے تمھیں یوں بھی قتل کرنا تھا ۔“
اگر دیکھا جاتا تو رات کے وقت اس کا اکیلا سفر کرنا بھی تو کافی مشکل کام تھا ۔گو وہ ایک بہادر لڑکی تھی ۔مگر اس وقت وہ اکیلی میری تلاش میں تو اپنی پناہ گاہ سے نہیں نکل سکتی تھی ۔ اور پھر اس کی ماں کیا پڑی تھی کہ کسی غیر کے لیے اسے اتنی رات گئے کہیں جانے کی اجازت دیتی ۔لیکن کہتے ہیں ڈوبتے کو تنکے کا سہار اہوتا ہے ۔ رات کو نہ سہی وہ صبح سویرے تو مجھے ڈھونڈتے ہوئے آ سکتی تھی ۔اور اگر میں اذیت بھری رات گزار لیتا تو شاید اگلی صبح مجھے کوئی نہ کوئی مدد مل جاتی ۔میرے ذہن پر آہستہ آہستہ اندھیروں کی یلغار ہونے لگی تھی ۔ زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے میری حالت ناگفتہ بہ ہورہی تھی ۔ان ساری تکلیفات کا مقابلہ کرتے آخر میں اونچائی پر پہنچ ہی گیا ۔اس علاقے میں ہوا عموماََ مغرب سے مشرق کی جانب چلتی ہے ۔اس وقت میں پہاڑ کی جنوب مغربی جانب موجود تھا اور اسی وجہ سے میں براہ راست ہوا کی زد میں بھی تھا ۔پہاڑی کی چوٹی پر پہنچ کر میں دوسری سمت دو تین گز نیچے ہو کر ایک بڑی چٹان کی آڑ میں ہو گیا ۔ وہاں ہوا کی براہ راست زد میں آنے بچ گیا تھا ۔پانچ دس منٹ مجھے اپنا سانس بحال کرنے میں لگے ۔ اس کے بعد میں نے گھڑی کی اندرونی لائیٹ جلا کر وقت دیکھا ۔ سوا آٹھ ہو رہے تھے ۔
مجھے ڈر ہوا کہیں پلوشہ نے آٹھ بجے آئی کام سیٹ آن کرنے کے بعد کوئی کال نہ آتی دیکھ کرآئی کام کو بند ہی نہ کر دیا ہو ۔یوں بھی جب سے وہ گئی تھی میں نے ایک بار بھی اس سے رابطہ نہیں کیا تھا۔میرے دماغ میں آہستہ آہستہ اندھیرا پھیل رہا تھا ۔ مجھے آنکھیں کھلی رکھنا مشکل ہو رہا تھا ۔لیکن میں کسی نہ کسی طرح سر جھٹکتے خود کو ہوش میں رکھتے ہوئے آئی کام سیٹ آن کرکے پلوشہ کو پکارنے لگا ۔ ”پلوشہ ....پلوشہ ....پلوشہ ....“میں نے بٹن پریس کر کے چند بار پکارا مگر کوئی جواب نہ آیا ۔فقط وائرلیس کا اپنا شور سنائی دیتا رہا ۔
میری آنکھیں بند ہونے لگی تھیں اور اسی غنودگی میں میرے دماغ میں ۔”راجا ....راجا ....راجا “کی آوازیں گونجیں کوئی بہت دور سے مجھے پکار رہا تھا ۔میری پلکیں بہ مشکل وا ہوئیں ۔وہ پلوشہ ہی کی آواز تھی ۔
”پلوشہ !“میں نے بٹن پریس کر کے بہ مشکل جواب دیا ۔
”ہاں راجاکیا بات ہے ؟....سب ٹھیک ہے نا ؟“
”مم....مجھے گولی لگ گئی ہے۔“
”کیا کہہ رہے ہو ؟“اس کی آواز میں تشویش تھی ۔”اور تم اس وقت کہاں پر ہو؟“
”میں ....میں اس وقت اسی غارکی مغربی سمت میں واقع بلند چوٹی پر موجود ہوں ، جہاں تم پہلی بار مم....مل....ملی تھیں ۔“ یہ کہتے ہی میری آنکھیں پھر بند ہونے لگیں ۔
”کون سی بلند چوٹی ؟“اس کی آوازمجھے کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی ۔
”کک....کندھے میں گولی لگی ....خخ....خون ،بب....بہت .... بہہ گیا ........“ میں جیسے خود کلامی کے انداز میں بڑبڑا رہا تھا ۔
”اپنی جگہ کے بارے بتاﺅ ....راجا ....راجا....راجا۔“اس کے مسلسل پکارنے پر میں نے دوبارہ کوشش کی ۔مجھ سے وائرلیس کا بٹن بھی بڑی مشکل سے دبا یا جا رہا تھا ۔
”غغ....غا....ر....غار....جج....جہاں ....رے ....رات ....گزاری تھی .... اکٹھے ....پہاڑ،مغرب میں سس.... سب ....سب ....سے اونچی جج جگہ ۔جج....جا....جس کے دد....دامن....مم....میںچچ....چل....غو....زوںکا....جج....جنگل.... جنگل....ہوں....“ اور میرے دماغ میں غنودگی چھا گئی ۔اس کے بعد اس نے کیا کہا تھا یہ میری سماعتیں نہیں سن پائیں تھیں ۔
اور پھر نہ جانے رات کا کون سا پہر تھا ۔کسی نے مجھے جھنجوڑا اس کے ساتھ ہی میرے چہرے پر گیلا ہاتھ پھیراگیا ۔”راجا .... راجا ۔“میرے کانوں بہت دور سے پلوشہ کی آواز آرہی تھی شاید ابھی تک وائرلیس سیٹ آن تھا ۔
”ہاں پلوشہ !....میں پہاڑ کی چوٹی ....“
”راجا!.... ہوش میں آﺅ۔“مجھے اپنے گالوں پر پھر گیلے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا ۔اس کے ساتھ ہی اس نے میرے منہ کے ساتھ پانی کی بوتل لگا دی ۔مجھے سخت پیاس محسوس ہو رہی تھی ۔دوتین گھونٹ لیتے ہی مجھے کچھ ہوش آیا اور میں نے آنکھیں کھول دیں ۔اپنے چہرے پر مجھے ٹارچ کی روشنی محسوس ہوئی۔
”پلوشہ !....؟“میں نے سوالیہ انداز میں پکارا ۔
”ہاں میں پلوشہ ہوں ۔اور اٹھو یہاں سے چلنا ہو گا ۔“
”مم....میں بہت تھک گیا ہوں ۔“میں نے جیسے خود کلامی کی تھی ۔
”ہاں جانتی ہوں ۔“اس کی نرم آواز میری سماعتوں میں گونجی ۔”مگر یہ جگہ مناسب نہیں ہے نیچے غار میں جانا ہوگا ۔اٹھو میں تمھیں سہارا دیتی ہوں ۔“
طوعن و کرہن میں کراہتے ہوئے اٹھا ۔بایاں کندھا بالکل شل ہو چکا تھا ۔اس نے میرا دایاں ہاتھ اپنے کندھے پر رکھ لیا ۔اس کا بدن بہت مضبوط اور توانا تھا ۔وہ عام لڑکیوں سے بالکل مختلف تھی ۔ لیکن اس کے باوجود اس حالت میں بھی میں اس کے بدن کا گداز پن محسوس کیے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔
مجھے سہار ا دے کر وہ آہستہ آہستہ نیچے اترنے لگی ۔اپنا بایاں ہاتھ اس نے میری کمر سے لپیٹا ہوا تھا ۔آدھے گھنٹے کی کوشش کے بعد ہم کافی نیچے اتر آئے تھے ۔ایک چھوٹی ٹارچ جلا کر اس نے دائیں ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی ۔ہوا تو جیسے ہم دونوں کو اڑا رہی تھی ۔مزید پندرہ منٹ حرکت کرنے کے بعد وہ جھاڑیوں کے جھنڈ میں رستا بناتی ہوئی اندر داخل ہوئی اس کے ساتھ ہی مجھے ٹارچ کی روشنی میں غار کا کھلا دہانہ نظر آنے لگا ۔نیچے جھک کر ہم اندر داخل ہوئے ۔ دہانے سے آگے غار اچھی خاصی اونچی تھی ۔یہ وہی غار تھی جس میں میں نے بڑی بے دردی سے اسے تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور آج میں مکمل طور پر اس کے رحم و کرم پر تھا ۔مجھے بٹھا کروہ غار کے دہانے پر پڑا اپنا اور میرا سامان سمیٹ کر اندر لے آئی ۔میں گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھ گیا تھا ۔میرا تھیلا میرے سر کے جانب رکھتے ہوئے وہ مجھے لیٹنے میں مدد دینے لگی۔
مجھے نیچے لٹاکر۔”میں آتی ہوں ۔“ کہہ کر وہ باہر نکل گئی ۔تھوڑی دیر بعد وہ خشک لکڑیوں کا گٹھا لے کر اندر گھسی ۔چھوٹی چھوٹی لکڑیاں ترتیب سے رکھ کر اس نے لکڑیوں کو آگ لگا دی ۔چند لمحوں میں غار کے اندرآگ کی روشنی کے ساتھ خوشگوار حدّت پھیل گئی تھی ۔گو وہ موسم آگ جلانے والا نہیں تھا ،لیکن مجھ پر طاری کپکی دیکھ کر اس نے آگ جلانا ضروری سمجھا تھا ۔
”گولی بازو کے اندر ہے یا نکل گئی ہے ۔“آگ جلا کر وہ میرے جانب متوجہ ہوئی ۔
”اندر ہی ہے ۔“میں بے بسی سے بولا۔
”ہونہہ!....یہ تو اچھی بات نہیں ہے ۔بہ ہرحال تمھیں تھوڑی تکلیف برداشت کرنا پڑے گی۔“عام سے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے اپنا جھولا کھول کر باریک دھار کا ایک خنجر نکالااور ایک درمیانی جسامت کا پتھر آ گ کے قریب رکھ کر اس پر وہ خنجر اس طرح رکھا کہ اس کی دھار کو آگ کے شعلے چھونے لگے ۔اس کا ارادہ جانتے ہی میرے بدن میں چیونٹیاں رینگنے لگی تھیں ۔
”پہلے بھی کبھی یہ کیا ہے ؟“میں نے تھوک نگلتے ہوئے پوچھا ۔
”کیا نہیں ہے ،دیکھا تو ہے نا ....اور میرے خیال میں اتنا کافی ہے ۔“
”مم....مگر دیکھنے اور کرنے میں بہت فرق ہے ۔“میں ہکلایا۔
وہ ہلکے سے مسکرائی ۔”اگر تمھارے پاس کوئی دوسری تجویز ہے تو میں رہنے دیتی ہوں ۔“
”نہیں ۔تجویز تو کوئی نہیں ہے ۔“
”اگر تجویز کوئی نہیں ہے تو پھر ہمت کرو ....صرف بندھی ہوئی لڑکیوں کی پٹائی کرنا ہی بہادری نہیںہوتی ۔درد اور تکلیف برداشت کرنے کا حوصلہ بھی ایک مرد میں ہونا چاہیے ۔“اس نے بے رحمی سے میری ماضی کی زیادتی کو یاد کیا تھا۔
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”ویسے تمھارے لیے اچھا موقع ہے ۔تم اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا بدلہ لے سکتی ہو ۔“
”میں مرے ہوئے کو نہیں مارا کرتی ۔باقی تمھیں میں نے قبیل خان کی ہلاکت کے بعد قتل کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے اور اپنے ارادے کے خلاف میں کبھی قدم نہیں اٹھاتی ۔“یہ کہتے ہی وہ میرے قریب ہوئی اور میرے کندھے سے بندھی چادر کو کھولنے لگی ۔اس کے چہرے پر چھائے بے پرواہی کے تاثرات اس کے بلند حوصلے کو ظاہر کر رہے تھے ۔اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ ایک بہادر ،دلیر ،جرّات مند اوربا حوصلہ لڑکی تھی ۔حالانکہ اس کی عمر کی لڑکیاں تو بہ مشکل گڑیوں سے کھیلنے سے فارغ ہوتی ہیں ۔اور وہ میرے کندھے سے گولی نکالنے کی تیاری کر رہی تھی ۔
چادر کھول کر میرے زخم کا جائزہ لیتے ہوئے اس نے اپنے جھولے سے سٹیل کا بڑا سا مگ نکالا اور اس میں پانی بھرکر آگ پر رکھ دیا ۔میں خالی خالی نظروں سے اس کی کارروائی دیکھ رہا تھا ۔میرا دل آنے والے جاں گسل لمحات کا سوچ کر دھڑک رہا تھا ۔وہ جو طریقہ اپنا کر میرے کندھے سے گولی نکالنے والی تھی اس درد کو برداشت کرنے کی ہمت میں اپنے اندر مفقود پاتا تھا ۔لیکن اس وقت ایک لڑکی کے سامنے اپنی بزدلی ظاہر کرنے کا حوصلہ بھی مجھ میں نہیں تھا ۔اس کے ساتھ یہ بھی مسئلہ تھا کہ اسے منع کرنے کی صورت میں میرے پاس کوئی متبادل حل بھی موجود نہیں تھا ۔نہ تو وہاں ہسپتال موجود تھا اور نہ کوئی ڈاکٹر۔ گولی زیادہ دیر کندھے میں رہتی تو کندھے کو ناقابل تلافی نقصا ن بھی پہنچ سکتا تھا ۔خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا فیصلہ کر کے میں خاموش پڑا پلوشہ کی کارروائی دیکھتا رہا ۔پانی گرم کر کے اس نے میری قمیص کندھے سے پھاڑکر زخم کوبالکل ننگا کر دیا ۔پھر اپنے جھولے سے ایک صاف چادر نکال کر اس میں سے ایک ٹکڑا پھاڑا اور گرم پانی میں وہ کپڑا بھگو کر زخم کا منہ صاف کرنے لگی ۔گرم پانی کے لگتے ہی زخم سے پھر خون رسنے لگا تھا ۔اس کے ساتھ ہی درد میں اضافہ ہو گیا ۔میں دانت بھینچے خاموش پڑا رہا ۔رہ رہ کر میرے دماغ میں پلوشہ کا طعنہ گونج رہا تھا ۔
”صرف بندھی ہوئی لڑکیوں کی پٹائی کرنا ہی بہادری نہیںہوتی ۔درد اور تکلیف برداشت کرنے کا حوصلہ بھی ایک مرد میں ہونا چاہیے ۔“
میرے اپنے خیال کے مطابق مجھ میں برداشت کا مادہ وافر مقدار میں موجود تھا ۔مگر اس وقت جو مرحلہ درپیش تھا اس بارے سوچ کر ہی میری ہمت جواب دیتی جا رہی تھی ۔اگر کوئی تجربہ کار شخص ہوتا تب بھی مجھے اتنا خوف نہ ہوتا ،لیکن وہاں تو ایک نا تجربہ کار لڑکی تھی ۔
میرے خیا لات سے بے خبروہ اطمینان سے میرے زخم کو گرم پانی سے دھوتی رہی ۔زخم کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد اس نے اپنے جھولے سے ایک اور بوتل نکالی ۔اس کا ڈھکن کھلتے ہی میری ناک میں سپرٹ کی ناگوار بو داخل ہوئی ،یقینا وہ اپنی جگہ سے مکمل تیاری کر کے چلی تھی ۔بوتل کا ڈھکن کھول کر وہ میرے زخم پر سپرٹ ڈالنے لگی ۔زخم میں شدید جلن شروع ہو گئی تھی ۔میرے ہونٹوں سے بے اختیار سسکی برآمد ہوئی ۔ تھوڑی سی مزید سپرٹ میرے زخم پر انڈیل کر اس نے بوتل بند کر کے ایک طرف رکھ دی ۔
”تیار ہو ۔“اس نے عام سے لہجے میں پوچھا ۔میرا دل کر رہا تھا کہ انکار کر دوں ایک اناڑی کے ہاتھوں اپنے کندھے کا بیڑا غرق کرانا کہاں کی دانش مندی تھی ۔مگر میں چاہتے ہوئے بھی انکار نہ کر سکا اور آنکھیں بند کرتے ہوئے میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
اچانک مجھے اپنے گالوں پر اس کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا ۔میں نے ایک دم آنکھیں کھول دیں ۔وہ ٹکٹکی باندھے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے مجھے گھور رہی تھی ۔آگ کے بھڑکتے شعلوں کی روشنی میں اس کا چہرہ عجیب مگر بہت دلکش لگ رہا تھا ۔چند لمحے مجھے گھورنے کے بعد وہ نرم لہجے میں بولی ۔
”گھبرانا نہیں ....درجن سے زیادہ مرتبہ یہ کام کر چکی ہوں ۔اتنی زیادہ تکلیف نہیں ہونے دوں گی تمھیں ....بلکہ قبیل خان کی ہلاکت کے بعد جب تمھیں قتل کروں گی اس وقت بھی ڈائریکٹ تمھارے دل میں گولی اتاروں گی تاکہ تمھارا سانس جلدی نکلے ۔“یہ کہتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر دل آویز مسکراہٹ ابھری ۔
اس کی اول الذکر بات نے مجھے بہت حوصلہ دیا تھا ۔اگر واقعی میں وہ درجن بھر سے زیادہ مرتبہ یہ کام کر چکی تھی تو اسے کافی ماہر ہونا چاہیے تھا ۔صاف کپڑے کا ایک ٹکڑا کاٹ کر اس نے گولا سا بنا کر میرے منہ میں دیا تاکہ میں چیخ روک سکوں ۔
اس کے بعد خنجر آگ سے اٹھا کراس نے ٹارچ جلا کر اپنے منہ میں پکڑلی۔بائیں ہاتھ سے میرا کندھا تھام کر اس نے خنجر کی گرم نوک زخم پر رکھی درد کی شدید لہر سے میں کانپ سا گیا تھا ۔دانت سختی سے بھینچ کر میں نے آنکھیں بند کر لی تھیں ۔اس نے ماہرانہ انداز میں خنجر کی نوک زخم میں گھمائی اور کندھے کے گوشت میں گھسے بُلٹ کو محسوس کیا ۔میرا ہاتھ کانپنے لگ گیا تھا ۔اور پھر ایک دم اس نے مخصوص انداز میں جھٹکا دیا۔ درد کی شدید لہر سے میں اچھل پڑا تھا ۔میرا بایاں ہاتھ مسلسل کانپ رہا تھا ۔پتا نہیں گولی باہر نکلی تھی کہ نہیں لیکن درد کی شدت سے میرا برا حال تھا ۔میں نیم بے ہوش سا ہو گیاتھا ۔اور خود کو اس کی دوسری کوشش کے قابل نہیں سمجھ رہا تھا ۔اچانک مجھے اپنے گالوں پر اس کی ہتھیلیوں کا لمس محسوس ہوا ۔
”بس ....بس ....ہو گیا ۔نکل گئی گولی باہر ۔“میں نے گہرا سانس لے کر آنکھیں کھول دیں۔
میرے منہ سے کپڑے کا گولا نکال کر وہ ہلکے سے مسکرائی ۔”اتنی سی بات تھی ،تم یونھی گھبرا رہے تھے ۔یقین مانو یہ کام کسی بے بس لڑکی کی پٹائی کرنے سے بھی زیادہ آسان ہے ۔“
واقعی اس نے بہت سرعت اور تیزی سے یہ کام کیا تھا ۔منٹ سے بھی کم وقت میں اس نے گولی نکال لی تھی ۔اس کی موخّر الذکر بات سن کر میرے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ ظاہر ہوگئی تھی۔
میرے بگڑے ہوئے چہرے کو اعتدال پذیر ہوتے دیکھ کر وہ زخم کی طرف متوجہ ہو گئی ۔ زخم کو ایک مرتبہ پھر سپرٹ سے دھو کر اس نے نرم کپڑے کی چادر سے دو تین لمبی لمبی پٹیاں پھاڑیں اور اپنے جھولے سے ایک مومی لفافہ نکال لیا جس میں کوئی سفوف بھرا تھا ۔مٹھی بھر سفوف زخم پر ڈال کر اس نے ایک پٹی تہہ کر کے زخم پر رکھی اور پھر اس پر پٹی باندھنے لگی ۔زخم پر پٹی باندھ کر دوسری پٹی میرے گلے میں ڈالی اور میرا ہاتھ احتیاط سے دہرا کر کے پٹی سے گزار کر میرے پیٹ پر رکھ دیا ۔
سفوف سے میرے زخم میںہونے والی جلن کم ہونے لگی ۔وہ دوبارہ اپنے جھولے کی طرف متوجہ ہوئی ۔اس مرتبہ اس نے جھولے سے ڈیڑھ لیٹر کی کولڈ ڈرنک والی بوتل نکالی جو دودھ سے بھری ہوئی تھی ۔سٹیل کے مگ میں موجود پانی گرا کر اس نے تھوڑا سا مزید پانی ڈال کر مگ کو صاف کیا اور اس میں گلاس کے بہ قدر دودھ ڈال کر گرم کرنے لگی ۔اس دوران اس نے دودھ میں کچھ شامل بھی کیا تھاشاید وہ ہلدی وغیرہ تھی ۔دودھ کوہلکا سا گرم کر کے وہ میرے قریب آئی اور میری پیٹھ پیچھے بیٹھ اس نے آہستگی سے مجھے سہارا دے کر اٹھایااور میرے دائیں ہاتھ میں دودھ کا مگ پکڑا کر وہ مجھے پیچھے سے تھام کر بیٹھ گئی ۔
میں ہلکے ہلکے گھونٹ لے کر دودھ پینے لگا ۔دودھ پی کر میں نے اپنا سر تھکے تھکے انداز میں پیچھے ٹیکا لیکن اگلے ہی لمحے میں نے اپنا سر اوپر اٹھا لیا کہ اس جانے پہچانے گداز پن کو محسوس کرتے ہوئے میں اس حالت میں بھی گھبرا گیا تھا ۔
اسے بھی شاید میرے احساسات کی خبر ہو گئی تھی ۔اس نے آہستہ سے میرا سر دوبارہ تھیلے پر منتقل کر دیا ۔
”اچھا اب تم آرام کرو مجھے واپس جانا ہے ۔“
”تو آنے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔“نہ چاہتے ہوئے بھی میرے لہجے میں تلخی کا عنصر نمایاں تھا۔
میری بات سن کر وہ ہولے سے مسکرائی ۔”اگر نہ آتی تو تمھیں موت کے منہ سے کون واپس لاتا ۔اور نہ گئی تو تمھارے لیے مناسب خوراک اور دوائیوں وغیرہ کا بندوبست کیسے کروں گی ؟“
”معذرت خواہ ہوں ۔میں نے سوچا شایدتم پکی واپس جا رہی ہو ۔“میں نے خفیف ہوتے ہوئے کہا ۔
”ویسے تمھارے چہرے پر ظاہر ہونے والا ندامت کا اثر مجھے بہت برا لگتا ہے ۔تمھاری عادتوں سے بھی برا ۔“
”اب تم نے طعنے تو دینے ہیں غلطی سے میرے کام جو آ گئی ہو ۔“میں نے اسے مطعون کرنے کی کوشش کی ۔
وہ میری کوشش کو ناکام کرتے ہوئے بولی ۔”اس میں شک ہی کیا ہے ....ایک ایسا شخص جسے میں قتل کرنے کا تہیہ کر چکی ہوں اس کی جان بچانے کے لیے رات کے وقت گھر سے نکلنا اور اتنے دشوار گزار رستے پر بغیر آرام کیے اس کے پاس پہنچنا ....مطلب اس کے بعد بھی اگر میں طعنے نہ دوں تو کون دے گا ۔“یہ سب کچھ اس نے سنجیدہ انداز میں کہا تھا ۔لیکن میرا وجدان کہہ رہا تھا کہ وہ یہ سب بہ طور مذاق کر رہی ہے ۔اسے میری فکر ہے ۔اگر فکر نہ ہوتی تو کیا یوں میری حفاظت کرنے پہنچتی ۔
”اگر طعنے ہی دینے ہیں تو براہ مہربانی تشریف لے جائیں ،مجھے تمھاری مدد کی کوئی ضرورت نہیں ۔“
”جا تو میں رہی ہوں ۔اور میرا دل بھی نہیں چاہ رہا کہ تم جیسے آدمی کی مدد کروں ۔ بس یہ چیز مجھے مجبور کر رہی ہے کہ تم میرے دشمن کے دشمن ہواس لیے تمھیں فی الحال مرنے کے لیے نہ چھوڑوںاور بعد میں ویسے بھی تم نے میری گولی کا نشانہ بننا ہے ۔“
اس مرتبہ میں اس کی بات کا جواب دیے بغیر خاموش رہا تھا ۔وہ اپنے تھیلے سے ایک چھوٹا سا سلپنگ بیگ نکال کر مجھے اوڑھانے لگی ۔
میں اسے مطلع کرتے ہوئے بولا۔”میرے تھیلے میں بھی ایک سلپنگ بیگ موجود ہے ۔“
”چلو پھر یہ نیچے بچھا دیتی ہوں ۔“اپنا سلپنگ بیگ نیچے بچھا کر اس نے مجھے اس پر لیٹنے میں مدد دی اور میرا سلپنگ بیگ مجھے اوڑھا دیا ۔ڈریگنوو رائفل اور بریٹا پستول میرے قریب رکھ وہ جانے کے لیے تیا رہو گئی ۔
”بہتر ہو گا کہ تم صبح جاﺅ ۔“
وہ مسکرائی ۔”کیوں اکیلے ڈر لگ رہا ہے ۔“
”نہیں ....لیکن اتنی رات گئے تمھیں دوائیں وغیرہ تو کہیں سے نہیں ملیں گی ۔اور تین چار گھنٹے آرام کے بعد ہم دونوں نکل چلیں گے ۔اب یہاں کتنے دن گزارے جا سکتے ہیں ۔میرا خیال ہے کمانڈر نصراللہ کی بیٹھک میرے لیے زیادہ آرام دہ رہے گی ۔“
”چل پاﺅ گے ؟“
”امید تو ہے ....یوں بھی مجھے تم پر بالکل اعتبار نہیں ہے ۔کیا پتا قبیل خان سے پہلے ہی میرا نمبر لگا دو ۔“
”ہاہاہا۔“اس کا سریلا قہقہہ بلند ہوا ۔”اب کی ہے عقل مندی کی بات ۔“
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”تمھیں تو موقع مل گیاہے نا بدلہ لینے کا ۔“
”ہونہہ....“کہہ کر اس نے پر خیال انداز میں سر ہلایااور پھر جانے کا ارادہ موّخر کر کے میرے ساتھ ہی بیٹھ کر میرا سر دبانے لگی ۔
اس وقت میرے سر میں کافی درد ہو رہا تھا اور ایسی حالت میں آدمی کا جی چاہتا ہے کہ کوئی اس کا سر دبائے لیکن پلوشہ کا سر دبانا مجھے کافی عجیب لگا تھا ۔میں نے سر اس کے ہاتھ سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔”اس کی ضرورت نہیں ۔“
”آرام سے لیٹے رہو ۔“مجھے جھڑکتے ہوئے اس نے اپنا کام جاری رکھا ۔
میں نے بھی زیادہ اکڑ خانی دکھانے کے بجائے خاموشی میں عافیت سمجھی ۔جب وہ ڈھیٹ پن سے ہر کام مجھے کہہ سکتی تھی تو مجھے بھی اس سے سر دبوانے میں کوئی جھجک نہیں ہونا چاہیے تھی ۔ میں نے آنکھیں بندکر لیں ۔اس کے سر دبانے سے مجھے سکون محسوس ہونے لگا تھا ۔اور پھر اس کا دوسرا ہاتھ میرے بالوں میں سرسرانے لگا ۔ماہین بھی میرا سر دباتے ہوئے یونھی میرے بالوں میں انگلیاں پھیرا کرتی ۔اس کی یاد آتے ہی میرے منہ میں تلخی گھل گئی تھی ۔میں نے فوراََ آنکھیں کھول دیں ۔وہ اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے میرے چہرے ہی کو گھو ررہی تھی ۔میں نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں ۔اسی وقت اس کی نرم آواز نے میری سماعتوں پر دستک دی ۔
”ویسے تم یہاں کیا کرنے آئے تھے ۔“
میں آنکھیں کھولے بغیر بولا۔”مجھے پتا چلا تھا کہ قبیل خان اپنی تباہ شدہ حویلی کو دوبارہ تعمیر کروا رہا ہے اور اس سلسلے میں وہ یہاں مسلسل پھیرے لگا رہاہے ۔بس میں اسی بات کی تصدیق کے لیے آیا تھا۔“
”مجھے کیوں نہیں بلایا۔“اس کے لہجے میں بلا کی خفگی پوشیدہ تھی ۔
”کہا تو ہے میں بس تصدیق کرنے لیے آیا تھا ۔“میں نے صفائی پیش کی ۔
اس نے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا ۔”تو پھر کیا رہا ؟“
”کچھ معلوم کرنے سے پہلے ہی میں اس کے ایک محافظ کی نظروں میں آگیا ۔کم بخت نے دیر کیے بغیر گولی چلا دی ۔قسمت اچھی تھی جو کندھے میں لگی ۔ورنہ گولی سر میں لگنے کی صورت میں شاید تمھیں معلوم بھی نہ ہوتا کہ تمھارا دشمن ،قبیل خان کے محافظ کے ہاتھوں پورا ہو گیا ۔“
”بکواس نہ کیا کرو ۔“اس کے ہونٹوں سے بے ساختہ پھسلا۔میں نے ایک دم آنکھوں کھول کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔وہ نظریں چرا کر آگ کے مدھم پڑتے شعلوں کو دیکھنے لگی ۔
”اس میں بکواس کی کیا بات ہے ۔“میں پوچھے بنا نہیں رہ پایا تھا ۔
”کیونکہ تمھیں صرف میں ہی قتل کروں گی ۔“اس نے گڑبڑاتے ہوئے بات بنانے کی کوشش کی ۔
میں نے موضوع تبدیل کرتے ہوئے کہا ۔”اچھا تم نے یہ نہیں بتایا کہ شادی میں ڈانس کر کے کتنی رقم اکٹھی ہوئی ۔“
وہ بگڑتے ہوئے بولی ۔”تمھیں کیا، جتنی رقم بھی اکٹھی ہوئی ہے ۔“نا معلوم اسے کیوں میر ی بات پر غصہ آ گیا تھا ۔یا شاید وہ لمحہ بھر پہلے مجھ سے چاہت ظاہر کرنے والی بات کا ردعمل ظاہر کر رہی تھی ۔
میں دھیمی آواز میں ہنسا ۔”اچھا ایک بات پوچھوں ؟“
”کوئی ضرورت نہیں ۔“اس کا لہجہ اسی طرح بگڑا ہوا تھا ۔
میں نے کچھ کہے بنا متبسم ہو کر آنکھیں بند کر لیں ۔
”پوچھو....“دو تین منٹ کی خاموشی کے بعد وہ گویا بادل نخواستہ بولی تھی ۔
”ملک ثقلین خان کے بیٹے کی شادی میں میرے سر پر پیسے پکڑنے والا کون تھا ؟“میں نے کئی دنوں سے ذہن میں مچلنے والا سوال اگل ڈالا ۔
”مجھے اندازہ تھا کہ تم کچھ ایسا ہی پوچھو گے ۔“
”واہ ....بھلا وہ کیسے ؟“میں نے حیرانی ظاہر کی ۔
وہ شرارتی لہجے میں بولی ۔”کیونکہ مرد ہوتے ہی شکی مزاج ہیں ۔ابھی تک شادی کا پیغام نہیں بھیجا اور پہلے ہی سے مجھ پر شک کرنا شروع کر دیا ۔“
میں جھلاتے ہوئے بولا ۔”بکواس کرنا تو کوئی تم سے سیکھے ۔“
”ہا....ہا....ہا۔“اس کا سریلا قہقہہ بلند ہوا ۔”قسم سے بکواس نہیں کر رہی ۔ایمان سے بتاﺅ کیا تم اس لیے یہ نہیں پوچھ رہے کہ اس دن میں نے اس سے اکیلے میں بات کی اور بعد میں تمھارے سر پر پیسے رکھتے وقت اس نے آخری نوٹ میرے گال سے لگایا جس پر میں نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا اور یہی بات تمھیں تپائے ہوئے ہے ۔“
میں نے منہ بنات ے ہوئے کہا ۔”تم میں لڑکیوں والی کوئی بات ہے ہی نہیں ہے۔میری گود میں بھی تم بے شرموں کی طرح بیٹھ گئی تھیں تو کسی اور کے تمھارے گال چھونا تواس سے بہت چھوٹی بات ہے ۔“
”تمھاری بات تو خیر اور ہے ۔تم نے تو یوں بھی مجھ سے شادی کرنا ہے چاہے میں تمھیں قتل کرنے کے ارادے سے باز نہ بھی آﺅں ۔“
”پلوشہ ہر وقت بکواس نہ کیا کرو سمجھیں ....کبھی سنجیدہ گفتگو بھی کر لیا کرو ۔“
”اچھا تم قسم کھا کر بتاﺅ کیا تم نے اس آدمی کے بارے اسی لیے نہیں پوچھا کہ اس کی حرکت پر میں معترض نہیں ہوئی تھی ،حالانکہ اس کے علاوہ میں نے کسی کو بھی اس قسم کی حرکت کی اجازت نہیں دی تھی۔“
اس کی بات پر میں نے اپنے دل میں جھانک کر دیکھا تو مجھے اس کی بات میں کوئی شک محسوس نہ ہوا ۔اس کا اندازہ بالکل ٹھیک تھا لیکن یہ بات ظاہر کر کے میں اپنا مذاق نہیں بنا سکتا تھا اس لیے کچھ کہنے کے بہ بجائے میں نے خاموشی ہی میں عافیت سمجھی ۔
”اچھا زیادہ پریشانی ہونے کی ضرورت نہیں وہ میرا بھائی ہے ۔“
”کیا ....؟“میں نے حیرانی اور غصے سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ۔”جھوٹ بولنے کی کوئی حد ہوتی ہے پلوشہ ۔پہلے تم نے کہا کہ تمھارا ایک چھوٹا بھائی اور ماں ہے ۔اب یہ نیا بھائی کہاں سے نکال لیا ۔“
”یہ میرے رشتے کے ماموں کا بیٹا ہے اور یہ چند ماہ کا تھا جب اس کی ماں فوت ہو گئی تھی ۔ اسے امی جان نے دودھ پلایا تھا ۔اب تمھاری سمجھ میں آگیا ہو گا کہ یہ کیسے میرا بھائی ہے ۔“
”تمھارا ماموں تو مجاہدہے نا ۔“
”ہاں ،لیکن یہ سمگلر ہے ۔قبیل خان کے لیے بھی کام کرتا ہے اور ملک ثقلین کے لیے بھی ۔ ان کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں تو حصہ نہیں لیتا لیکن اسلحے اور نشہ آوراشیاءکی اسمگلنگ میں ضرورملوث ہے اور اس سے مجھے قبیل خان کے متعلق بھی کافی مفید معلومات مل جاتی ہیں ۔“
”تو کیا قبیل خان اس کے اور تمھارے رشتے سے ناواقف ہے ۔“
”کیا احمقوں جیسی بات کر رہے ہو ،قبیل خان مجھے کہاں جانتا ہے ۔سپوگمائے بھی اسے یاد نہیں ہو گی ۔اس کی ہوس کا شکار ہونے والی میری بہن اکیلی تو نہیں تھی نا۔یوں بھی اپنے تیئں قبیل خان ہمارے پورے خاندان کو ختم کر چکا ہے ۔اور میرا خیال ہے سردار بھائی تمھیں میری پوری کہانی بتا چکا ہو گا۔“
میں نے اس کی بات کی تصدیق یا تردید کیے بغیر پوچھا ۔”سپوگمائے تمھاری بہن کا نام ہے؟“
منہ سے کچھ کہے بنا اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”اچھا اس دن روشن خان کے پوچھنے پر کیوں کہا تھا کہ تم مجھے گولی مارنے پر تیار ہو ۔“
وہ شرارتی لہجے میں بولی ۔”اگر تمھیں قتل کرنے سے میری جان بچ رہی تھی تو اس میں کیا قباحت تھی۔“
”صحیح کہا ۔“گو مجھے معلوم تھا کہ وہ جھوٹ بول رہی اس کے باوجود میں ہونٹ بھینچتے ہوئے خاموش ہو گیا ۔
وہ اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے بولی ۔”میں نے سنا تھا کہ فوجی دماغ سے نہیں دل سے سوچتے ہیں اور اب دیکھ بھی لیا ۔“
”اس میں دل سے سوچنے کی کیا بات ہوئی ۔“
وہ قہقہہ لگا کر ہنسی ۔”فوجی صاحب !....مجھے دل دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ میں تمھارے ساتھ ماہین ،رومانہ اور وہ کیا نام تھافرنگن کا ....“وہ سوچنے کی اداکاری کرتے ہوئے ایک لمحہ کے لیے خاموش ہوئی اور پھر بولی ۔”ہاں جینیفر بی بی ....ان تمام سے زیادہ برا سلوک کروں گی۔“
میں چڑتے ہوئے بولا۔”پلوشہ !....کتنی بار کہا ہے مجھے تمھاری فضول گوئی سے سخت قسم کی کوفت ہوتی ہے ۔“
”مذاق کر رہا تھا یار!....تم تو محسوس ہی کر گئے ۔“
”میں تمھارا یار نہیں ہوں ۔“میں سچ مچ جھلا گیا تھا ۔
وہ کہاں باز آنے والی تھی فوراََ بولی ۔”ہاں جانتا ہوں ....کیونکہ تم تو مجھے بیوی بنانے کے چکروں میں ہو ۔لیکن یاد رکھنا کہ امی جان پچاس لاکھ سے ایک روپیا بھی کم نہیں لیں گی اور قبیل خان کی موت کے بعد ....“
”بکواس بند کرو پلوشہ !....اور جاﺅ میں صبح خود آ جاﺅں گا ۔“
مگر اس ڈھیٹ پر میرے غصے کا کوئی اثر نہیں ہواتھا ۔اس نے میرا سر دبانے جاری رکھا ۔اس کے ساتھ اس کا ایک ہاتھ برابر میرے بالوں میں سرسرا رہا تھا ۔
”چاے پیو گے ۔“اس نے ایک لمحہ کی خاموشی کے بعد موضوع تبدیل کیا ۔
مجھے سچ مچ اس وقت چاے کی اچھی خاصی طلب ہو رہی تھی ۔اس کی دعوت ٹھکرانا مجھے مناسب نہ لگا لیکن چونکہ میں نے خود پر غصہ طاری کیا ہوا تھا اس لیے جواباََ ہاں نہ کہہ سکا۔
”میرا خیال ہے ہاں کہتے ہوئے جھجک رہے ہو کہ مجھے زحمت نہ ہو ۔“یہ کہہ کر وہ اپنے تھیلے کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولی ۔”ویسے زحمت تو مجھے ہو گی ،دشمن کی خدمت کرتے ہوئے کسے خوشی ہوتی ہے۔ بہ ہرحال پھر بھی بنا لیتی ہوں کہ مجھے خود بھی چاے کی طلب ہو رہی ہے ۔تمھاری فضول باتوں نے سر میں درد کر دیا ہے ۔“
میرا دل کر رہا تھا کہ اپنا سر پیٹ لوں ۔اس ڈھیٹ لڑکی کو باتوں میں ہرانا شاید ممکن ہی نہیں تھا۔پٹر پٹر باتیںکیے جاتی ۔نہ شرم و حیا نہ جھجک ،نہ کوئی لگی لپٹی رکھنا اور نہ اگلے کے احساسات کے بارے ہی کچھ سوچنا ۔
میری سوچوں سے بے خبر اپنے تھیلے سے دودھ کی بوتل اور میرے تھیلے سے پتی چینی نکال کر وہ سٹیل کے کٹورے میں چاے بنانے لگی ۔میرے ذہن میں رومانہ در آئی ۔کشمیری چرواہن جس کے چہرے پر سرخ گلابوں کی جھلک دکھائی دیتی تھی ۔جس کی سیاہ آنکھیں شب دیجور کا منظر پیش کرتیں، باتیں کرتی تو یاقوتی ہونٹوں سے پھول جھڑتے تھے اور گھنی زلفیں دیکھنے والے کو یوں اپنی گرفت میں لیتیں کہ ناظر کا مقدرہمیشہ ہمیشہ کی اسیری ہی بنتا ۔مگر وہ کسی اور کی امانت تھی ۔شاید وہ میرے دل پر گھاﺅ لگانے ہی کے لیے ملی تھی ۔اور اب پلوشہ ۔رومانہ کو یاد کرتے کرتے سامنے بیٹھی پلوشہ نے دل کے کسی کونے سے سر ابھارا ۔ایک انوکھی ،بہادر ،جرّات مند اور دلیر لڑکی ۔جو رات کے وقت بھی بغیر کسی خوف و ڈر کے میری مدد کرنے کے لیے اپنے گھر سے نکل پڑی تھی ۔جو کسی دشمن پر گولی چلاتے یا اس کے گلے پر خنجر پھیرتے وقت ذرا سی بھی جھجک محسوس نہیں کرتی تھی ۔جوخالی ہاتھ لڑتے ہوئے کسی بھی اچھے لڑاکے کو ناکوں چنے چبوا سکتی تھی ۔اور پھر شکل و صورت کے لحاظ سے بھی وہ رومانہ سے زیادہ خوب صورت نہیں تھی تو کم بھی نہیں تھی ۔گو لڑکوں والے کپڑے اور حلیہ بنانے کی وجہ سے اس کی صورت تھوڑی پس منظر میں چلی گئی تھی لیکن حلیہ تبدیل کرنا اتنا مشکل تو نہیں تھا ۔
”لیکن مجھے کیا وہ حلیہ تبدیل کرتی ہے یا ساری زندگی اسی حال میں گزارتی ہے ؟“میں نے خود سے سوال کیا اور میری سوچیں گڑبڑا گئیں ۔بے اختیار میرے منہ سے گہرا سانس خارج ہوا ۔اسی وقت پلوشہ نے چاے کی پیالی میرے قریب رکھی اور مجھے اٹھنے کے لیے سہارا دینے لگی ۔ایک دم میرے ذہن میں چند لمحے پہلے نادانستگی میں حاصل ہونے والا اس کے بدن کے لمس کا ذائقہ جاگا اور میں اس ڈر سے ذرا آگے کو جھک کر بیٹھ گیا کہ کہیں وہ دوبارہ میرے پیچھے نہ بیٹھ جائے ۔مگر اس نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی تھی ۔اپنے لیے وہ گلاس میں چاے ڈال کر دوبارہ میرے قریب آ بیٹھی ۔کہ چاے کی پیالی ایک ہی تھی ۔
تازہ دودھ کی بنی ہوئی چاے بہت اچھی بنی تھی ۔میرے پیالی خالی کرتے ہی اس نے دوبارہ پیالی بھر دی ۔
”اچھا ایک بات پوچھوں ؟“چاے کا گلاس خالی کرتے ہوئے اس نے ایک جانب رکھتے ہوئے پوچھا ۔میں نے استفہامیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”اس دن تم نے سردار بھائی کو اس کی بیوی کی موت کا کیوں نہیں بتایا تھا ۔“
”کیونکہ وہ اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہے اور ہو سکتا ہے پردیس میں یہ بری خبر معلوم ہونے کے بعد اسے کچھ ہو جاتا ۔یا ذہنی پریشانی کی وجہ سے وہ رستے میں کچھ الٹا سیدھا کر دیتا ۔گھر میں تو بہت سے رشتا دار بھی سنبھالنے والے ہوتے ہیں ۔اور یہی ہمارے فوجیوں کا طریقہ کار ہے ۔“
”اچھا تھوڑی دیر آرام کر لو ۔“آگ پر چند لکڑیاں ڈال کر اس نے اپنا تھیلا سر کے نیچے رکھا اور میرے قریب ہی لیٹ گئی ۔
”ویسے تھوڑا سا دور بھی لیٹا جا سکتا ہے ۔“اس کے یوں لیٹنے پر میں نے ناک بھوں چڑھائی ۔
”میں دور ہی لیٹا ہوں اور مزید بکواس سننے کا میرا بالکل ارادہ نہیں ہے ۔اگر اور کچھ کہا تو سلپنگ بیگ کے اندر بھی گھس سکتا ہوں “اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا اور میں منہ بناتے ہوئے خاموش ہو گیا ۔موسم نہایت خوش گوار تھا ۔اس لیے اسے رضائی چادر وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑی تھی ۔مجھے البتہ سلپنگ بیگ کی ضرورت تھی کہ بخار کی وجہ سے مجھے سردی محسوس ہورہی تھی ۔غار سے باہر تیز ہوا چل رہی تھی ،لیکن غار کے اندر ہوا کا گزر ناممکن تھا ۔
تھوڑی دیر بعد ہی اس کے بھاری ہوتے سانسوں کی آواز میری سماعتوں میں پڑنے لگی ۔وہ اتنی بے فکری سے سو گئی تھی گویا گھر میں موجود ہو ۔ایک لڑکی کا غیر مرد کے ساتھ اتنی بے پرواہی سے سو جانا اس کی بہادری ،دلیری اور اپنی ذات پر اعتماد کو ظاہر کر رہا تھا ۔ہم فوجی تو خیر اس بات کے عادی ہوتے ہیں کہ جہاں رات آئی یا چند لمحے آرام کے ملے وہاں آرام کر لیا ۔لیکن وہ لڑکی ہوتے ہوئے تربیت یافتہ کمانڈو کی طرح کی عادات کی مالک تھی ۔میں گردن موڑ کر اس کے چہرے کو دیکھنے لگا ۔آگ کے بلند ہوتے شعلوں میں اس کے چہرے پر چھائی معصومیت مجھے متاثر کرنے لگی ۔میں نے جلدی سے آنکھیں بند کر لیں ۔جتنے زخم کھا چکا تھا اتنے کافی تھے عورت ذات پر اعتبار کرنا اپنے پاﺅں پر کلھاڑی مارنے کے مترادف تھا ۔وہ صرف اس لیے مجھ میں دلچسپی ظاہر کر رہی تھی کہ قبیل خان سے بدلہ لینے کے لیے اسے میری مدد کی ضرورت تھی اور بس ۔بدلہ لیتے ہی شایداس نے مجھے پہچاننے ہی سے انکار کر دینا تھا ۔
”اگر ایسی بات ہوتی تو وہ رات کو اس وقت اکیلے میری مدد کرنے کے لیے نہ آتی ۔“میرے دل کے کسی گوشے سے اس کے حق میں مدہم سی آواز اٹھی ۔
”احسان نہیں کیا اس نے ،آخر میں نے بھی تو اس کے بھائی کے قاتل کو ٹھکانے لگانے کے لیے اس کی مدد کی تھی ۔“میں نے اس کی حمایت کرنے والی سوچ کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی مگر احمق دل کی اس کی طرف داری میں لگا رہا ۔
”تمھارے اتنے زیادہ تشدد کے باوجود ابھی وہ تمھاری تیمارداری کسی بہت زیادہ قریبی کی طرح کر رہی ہے ۔اور خلوص کسے کہتے ہیں ۔“
”وہ صرف قبیل خان سے بدلہ لینے کے لیے میری تیمارداری کر رہی ہے ۔“دماغ، دل کی حماقتوں پر اس کا ساتھ دینے کے لیے بالکل تیار نہیں تھا ۔
”بدلہ لینے کے لیے وہ میری محتاج تو نہیں ہے نا ۔“دل ایک نئی دلیل کے ساتھ میدان میں اترا۔
”اگر محتاج نہ ہوتی تو زبردستی میرے ساتھ نہ جڑی ہوتی ۔“دماغ نے دل کو آئینہ دکھایا۔
”یہ میں کس الٹی بحث میں پڑ گیا ہوں ۔“خود کلامی کے انداز میں بڑبڑاتے ہوئے میں نے آنکھیں بند کر لیں یہ سارے الٹے سیدھے خیالات اس کے چہرے کو دیکھنے کی وجہ سے میرے دل و دماغ میں پیدا ہو رہے تھے ۔
زخم میں پیدا ہونے والے درد میں بہت زیادہ افاقہ ہو گیا تھا ۔ہلدی ملے گرم دودھ اور پھر چاے نے مجھے کافی تقویت دی تھی ۔لیکن نیند میری آنکھوں سے بہت دور تھی ۔
گولی میرے بائیں کندھے میں لگی تھی اور پلوشہ میرے دائیں طرف سوئی ہوئی تھی ۔وہ نیند میں بڑبڑائی ،میں نے آنکھیں کھولتے ہوئے اس کی جانب دیکھا وہ دائیں کروٹ لے کر مجھ سے تھوڑا دور ہو گئی تھی ۔گو اس سے پہلے بھی وہ بالکل میرے ساتھ لگ کر نہیں لیٹی تھی لیکن اس کے باوجود اس کی قربت مجھے گراں گزر رہی تھی ۔اب اس کا رخ تبدیل ہوتے ہی مجھے زیادہ اطمینان محسوس ہونے لگا تھا ۔
میں نے ایک بار پھر آنکھیں بند کر کے اپنے حالات پر غور کرنے لگا ۔اسی طرح مختلف سوچوں میں ڈوبے جانے کتنا وقت گزر گیا تھا ۔یہاں تک کہ کہیں دور سے ہوا کے دوش پر تیرتی صبح کی آواز نے اللہ پاک کی کبریائی کا اعلان کیا ۔میں نے پلوشہ کی جانب نگاہ اٹھائی وہ دوبارہ میری جانب کروٹ تبدیل کر کے میرے بہت قریب آ گئی تھی ۔لیکن میں اتنی گہری سوچوں میں ڈوبا تھا کہ مجھے اس کا احساس ہی نہیں ہو سکا تھا ۔
اس نے صبح سویرے جانے کی بات کی تھی لیکن اسے جگانے کو میرا جی نہ چاہا ۔اور میں اس کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا ۔مجھے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا تھا ۔سورج نکلنے سے پہلے اس نے کسمساتے ہوئے آنکھیں کھول دی تھیں ۔توبہ شکن انگڑائی لیتے ہوئے وہ اٹھ بیٹھی ۔
”اچھا خاصا اجالا ہو گیا ہے تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں ۔“جمائی لیتے ہوئے وہ میری جانب متوجہ ہوئی ۔
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”تم نے اندھیرے میں ضرور ٹھوکریں کھانا تھیں ؟“
”اچھا اب تیار ہو چلنے کے لیے ۔“میرے طنز کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ مستفسر ہوئی ۔
”امید تو ہے ۔“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”چلو پھر اٹھ جاﺅ ۔“اس نے میرے بازو کو تھا م کر مجھے بیٹھنے میں مد دی ۔میرے بستر سے اٹھتے ہی اس نے دونوں سلپنگ بیگ میرے سفری تھیلے میں ٹھونسے کہ وہ اس میں اتنی گنجائش موجود تھی ۔ باقی سامان بھی سمیٹ کر سفری تھیلا اپنی پشت پر لادا اور ڈریگنو و رائفل ہاتھ میں پکڑ کر جانے کے لیے تیار ہو گئی ۔
غار سے باہر آکر وہ میرے قریب ہوتے ہوئے بولی ۔”اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کرسہارا لیتے ہوئے ڈھلان سے اترو ۔“
”شکریہ ،مجھے تمھارے سہارے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ۔“آہستہ روی سے اترائی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے میں نے اس کی پر خلوص دعوت کو بے دردی سے ٹھکرا دیا تھا ۔
وہ بگڑتے ہوئے بولی ۔”اگر اتنی ہی غیرت تھی تو بلایا کیوں تھا ۔“خود مجھے بھی احساس ہو گیا تھا کہ میں نے کافی سخت بات کہہ دی ہے ۔لیکن اس وقت میں ڈھٹائی سے بولا ۔
”میری مرضی میں جس وقت بلاﺅں آخر تنخواہ دیتا ہوں اور تم میرے ملازم ہو ۔“
”بڑا آیا سیٹھ ۔“کہہ کر وہ تیز قدموں سے چلتے ہوئے مجھ سے آگے نکل گئی تھی ۔اس علاقے میں میں صحت مند ہوتے ہوئے اس کا مقابلہ نہیں کر پاتا تھا ،ا ب تو یوں بھی میری صحت ٹھیک نہیں تھی ۔
جاری ہے
 

میں آہستہ قدموں سے اس کے پیچھے چلتا رہا۔ڈھلان اتر کر وہ درختوں کے جھنڈ میں غائب ہو گئی تھی۔ جونھی میں جھنڈ کے قریب پہنچا وہ وہیں میری منتظر کھڑی تھی۔ قریب جاتے ہی وہ دوبارہ چل پڑی۔گھنے درختوں کی وجہ سے اس نے اپنی رفتار بڑھانے کی کوشش نہیں کی تھی تاکہ میری نظروں سے اوجھل نہ ہو سکے۔پلوشہ کے سفوف سے میرے زخم کی تکلیف میں اسی وقت کافی افاقہ ہوگیا تھا اور اب رات گزرنے کے بعد تکلیف کی شدت میں مزید کمی آگئی تھی ،لیکن اس کے باوجود میں کافی نقاہت محسوس کر رہا تھا۔آہستہ چلنے کی وجہ سے ہمیں جنگل سے نکلنے میں گھنٹا بھر لگ گیا تھا۔درختوں کے اختتام پر ہلکی سی ڈھلان تھی۔مجھے اچھی خاصی تھکن محسوس ہونے لگی تھی۔
ڈھلان چڑھنے سے پہلے میں سانس لینے کے لیے ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔مجھے دیکھ کر وہ بھی رک گئی تھی۔لیکن اس نے بیٹھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔چند منٹ آرام کرنے بعد میں دوبارہ چل پڑا۔ ڈھلان پر چڑھ کر ہم پہاڑی کی دائیں جانب آگے بڑھتے چلے گئے۔ ڈھلان عبور کر کے ہم ایک نالے میں اترے۔گھنٹا بھر مزید چلنے کے بعد وہ نالہ انگریزی کے حرف ”وائی“ کی طرح دو شاخوں میں بٹ گیا تھا۔اس رستے پر میں ایک بار پلوشہ اور سردار کے ساتھ اور دوسری مرتبہ اکیلا سفر کر چکا تھا۔ہمیں اس وائی ملاپ سے بائیں جانب مڑنا تھا۔ہم موڑ سے چند قدم دور تھے کہ اچانک میرے کانوں میں کسی کی کرخت آواز گونجی۔
”سیدھا چلتے رہو ورنہ سر میں گولی اتار دوں گا۔“پلوشہ ٹھٹک کر رکی۔وہ مجھ سے چند قدم آگے چل رہی تھی یقینا اس نے بھی وہ آواز سن لی تھی۔وہ جلدی سے میرے قریب آئی اور میرے ٹھیک بازو سے پکڑ کر مجھے کھینچتے ہوئے ایک پتھر کے عقب میں ہو گئی۔یہ کافی بڑا پتھر تھا۔میں اس پتھر اور پہاڑی کے درمیان میں بننے والی ایک دراڑ میں ہو گیا تھا۔وہ پتھر کی ایک جانب سے نالے موڑ کی طرف جھانکنے لگی۔ درمیان میں پتھر حائل ہونے کی وجہ سے مجھے کوئی منظر تو دکھائی نہیں دے رہا تھا البتہ ان کی آوازیں میرے کانوں میں ضرور پڑ رہی تھیں۔تین چار مختلف آوازیں اور قدموں کی چاپ میرے کانوں میں تواتر سے پڑنے لگی۔وہ ہمارے پتھر کے پاس سے گزر کر آگے بڑھ گئے۔پلوشہ نے فوراََ میرے قریب ہوکر سرگوشی کی۔
”قبیل خان کے تین آدمی کسی غریب کو پکڑ کر لے جا رہے ہیں ....تو کیا خیال ہے ؟“
”اڑا دو ....قبیل خان کا کوئی بھی دشمن ہمارا دوست ہی ہوگا۔“
”صحیح کہا ،میں یہی کرنے لگی ہوں۔“پشت سے تھیلا اتار کر زمین پر رکھتے ہوئے اس نے کندھے سے لٹکتی ڈریگنوو ہاتھ میں پکڑی اور پتھر کے بائیں کونے کی آڑ لے کر نشانہ سادھنے لگی۔
”بہتر ہو گا ،بیٹھنے کے بجائے لیٹ کر فائر کرو۔“اس کے ٹریگر دبانے سے پہلے میں نے دھیمی آواز میں مشورہ دیا۔کیونکہ بیٹھ کر فائر کرنے کی نسبت لیٹ کر فائر کرنا زیادہ آسان بھی ہوتا ہے۔جوابی فائر کرنے پر دشمن کو کم ہدف ملتا ہے اور اس طرح صحیح طرح سے نشانہ بھی سادھا جا سکتا ہے۔
میری بات پر عمل کرتے ہوئے وہ فوراََ لیٹ گئی تھی۔وہ تینوں تیس چالیس گز سے زیادہ دوری پر نہیں تھے۔اس کے باوجود وہ چاربار سے زیادہ ٹریگر دبا چکی تھی۔
”ایک کمینہ بچ گیا ہے۔“وہ پانچواں فائر کرتے ہوئے مجھے مخاطب ہوئی لیکن متوجہ دشمن کی جانب رہی۔اسی وقت کلاشن کوف گرجنے کی آواز آئی لیکن صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ فائر نشانہ سادھے بغیر کیا گیا تھا۔
پلوشہ نے دو تین گولیاں مزید ضائع کیں۔جوابی فائر بھی سنائی دیتا رہا۔
تھوڑا پیچھے کو کھسک کر اس نے پتھر کی آڑ لی اور میگزین اتار کر تھیلے سے ڈریگنوو کی فالتو گولیاں نکال کر میگزین دوبارہ بھرنے لگی۔ڈریگنوو کی میگزین میں دس گولیاں آتی ہیں اور اس نے دو گولیاں نشانے پر مار کر باقی ضائع کر دی تھیں۔کلاشن کوف کے دو تین برسٹ آئے تمام گولیاں اسی پتھر لگی تھیں جس کے پیچھے ہم نے پناہ لے رکھی تھی۔
”ایک بھاگ کر پتھر کے عقب میں چھپ گیا ہے۔“میگزین رائفل کے ساتھ لگاتے ہوئے اس نے مجھے مطلع کیا۔
میں نے پوچھا۔”اور قیدی کا کیا بنا ؟“
”وہ دو تین پتھروں کے درمیان میں لیٹا ہوا ہے۔اب یہ معلوم نہیں کہ وہ زخمی ہے یا بچ گیا ہے۔“یہ کہہ کر اس نے ایک بار پھر نشانہ سادھ کر دو تین گولیاں اس طرف داغ دیں۔
”اس طرح گولیاں ضائع مت کرو۔تم سے چند گز کے فاصلے پر تین آدمی نہ مارے گئے۔“
”گولی کی آواز سنتے ہی وہ آڑا ترچھا بھاگ کر ایک پتھر کے پیچھے چھپ گیا ،اب میں کیا کرتا۔“
”اب گولیوں کی آواز سن کر اگر قبیل خان کے اور آدمی اس طرف آ گئے پھر ....؟“
”تو کیا ....الحمداللہ میرے ہاتھ پاﺅں سلامت ہیں۔میں آسانی سے فرار ہو سکتا ہوں اور تمھاری مجھے یوں بھی کوئی پروا نہیں ہے۔“یہ کہتے ہی اس نے تین چار مزید فائر اس جانب جھونک دیے۔
میں نے جھلا کر کہا۔”یار!.... کیوں گولیاں ضائع کر رہے ہو۔“
”تو کیا کروں ....اس کا سر تھوڑ ا سا نظر آتا ہے اور پھر وہ سر کو پیچھے کھینچ لیتا ہے۔“
”سنائپر رائفل کی ایک گولی سے ایک بندہ مارا جاتا ہے اورتم نے ایک بندے کو مارنے کو لیے پندرہ گولیاں فائر کر لی ہیں۔“
”پندرہ نہیں ....اٹھارہ۔“ میگزین میں موجود آخری تین گولیاں بھی فائر کرکے وہ میری جانب متوجہ ہوئی۔
میں جھک کر اس کے نزدیک پہنچا اور پتھر سے تھوڑا سا سر نکال کر دیکھا اسی وقت کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ میرے کانوں میں پڑی اور میں نے اپنا سر پیچھے کھینچ لیا۔وہ قریبا دو سو گز دور ایک بڑے پتھر کے پیچھے چھپا تھا۔ہماری طرف فائر کرنے کے لیے وہ اپنے سر کو پتھر کے ایک جانب سے ذرا سا باہر نکال کر پھر آڑ میں کر لیتا۔
پلوشہ نے دوبارہ میگزین بھر کر رائفل سے لگائی اور فائر کرنے کے لیے لیٹ گئی۔
”میرا خیال ہے مجھے رائفل سنبھالنا پڑے گی ورنہ ان کو کمک ملنے کی صورت میں بے موت مارے جائیں گے۔“
”رائفل پکڑنہیں سکتے اور فائر کرو گے۔“گردن میری جانب موڑتے ہوئے اس نے منھ بنایا اور دوبارہ فائر کرنے لگی۔
”ایک منٹ پلوشہ !“اس کے دو تین گولیاں چلانے کے بعد مجبواََ مجھے آواز دینا پڑی۔
”اب کیا ہے ؟“پیچھے کی جانب کھسک کر وہ اٹھ بیٹھی۔
”مجھے ایک موقع دو۔“میںنے ہاتھ کے اشارے سے اس سے رائفل مانگی۔
وہ غصے بھرے لہجے میں بولی۔”دماغ تو ٹھیک ہے نا۔“
”ہاں ٹھیک ہے دماغ۔اور جو میں کہہ رہا ہوں اس پر عمل کرو۔“
”فرماﺅ۔“رائفل میری جانب بڑھاتے ہوئے اس نے منھ بنایا۔”ایک ہاتھ سے تو تم رائفل تھام بھی نہیںپاﺅ گے۔“
”اب یہاں آکر بیٹھو۔“میں نے اسے اپنے سامنے بیٹھنے کا کہا۔”منھ دشمن کی طرف رکھو میں نے تمھارے کاندھے پر رائفل کی نال رکھنی ہے۔“
مجھے تیز نظروں سے گھورتے ہوئے وہ پتھر کے دائیں کونے کے ساتھ بیٹھ گئی۔اس کے دائیں کندھے پر ڈریگنوو رائفل کی بیرل رکھ کر میں نے اپنے رائفل کا بٹ اپنے دائیں کندھے میں درست کیا۔ گو رائفل سے درست فائر کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے دائیں ہاتھ سے پسٹل گرپ کو تھام کر بائیں ہاتھ سے فرنٹ ہینڈ گارڈ کو مضبوطی سے پکڑا جاتا ہے۔لیکن اس وقت میرا بایاں ہاتھ ناکارہ ہوگیا تھا اور اکیلے دائیں ہاتھ سے رائفل کو سنبھال کر درست فائر کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور تھا۔
اپنے بائیں ہاتھ کا کام میں پلوشہ کے کندھے اور ہاتھ سے لے رہا تھا۔ٹیلی سکوپ سائیٹ پر رینج دیکھنے پر ایلیویشن ڈرم پانچ سو پر نظر آیا۔ایلیویشن کو دو سو گز کے فاصلے پر لگا کر میں نے پسٹل گرپ کو مضبوطی سے تھاما۔دائیں کندھے میں رائفل کا بٹ پھنسا کر میں نے رائفل کوحتی الوسع پیچھے کی طرف کھینچا۔ پلوشہ نے میرے کہے بغیر رائفل کے فرنٹ ہینڈ گارڈ کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا۔اس حالت میں ، مجھ سے زیادہ پلوشہ کو خطرہ تھا پروہ ڈرنے والوں میں سے نہیں تھی۔زیادہ حرکت دینے سے بائیں کندھے میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں لیکن وہ وقت دردمحسوس کرنے کا نہیں تھا۔
بایاں گھٹنا نالے میں بکھرے پتھروں پر ٹیک کر میں نے دوسرا پاﺅں سمیٹ کر اسی پر نشست بنا کر بیٹھ گیا۔ڈریگنوو کی ٹیلی سکوپ سائیٹ سے ہدف کا فاصلہ مزید سمٹ کر قریب آ گیا تھا۔بائیں آنکھ بند کرتے ہوئے میں نے دائیں آنکھ سائیٹ کے شیشے سے مخصوص فاصلے پر رکھتے ہوئے دایاں گال ڈریگنوو رائفل کے بٹ کے اوپر ٹیک دیا۔دشمن جس پتھر کے عقب سے جھانک کر فائر کر رہا تھا اس پر شست باندھ کر اس کے جھانکنے کا انتظار کرنے لگا۔ہماری طرف سے دو تین منٹ سے فائر نہیں ہو ا تھا، جس کی وجہ سے وہ بھی محتاط انداز میں فائر کر رہا تھا۔اس کی احتیاط کی وجہ سے مجھے مزید ایک ڈیڑھ منٹ انتظار کرنا پڑا۔اور پھر اس نے پہلے کی طرح فائر کرنے کے لیے پتھر کی اوٹ سے تھوڑا سا سر باہر نکالا۔مگر اس مرتبہ اسے سر واپس لے جانے میں کامیابی نہیں ہو سکی تھی۔ البتہ اضطراری انداز میں اس سے ٹریگر ضرور دب گیا تھا۔اس کی کلاشن کوف ایک لمبا برسٹ فائر کر کے خاموش ہوئی۔سر میں لگنے والی گولی زیادہ دیر پھڑکنے بھی نہیں دیتی۔اسے گرتے دیکھ کر وہ خوشی سے دمکتے چہرے کا ساتھ میری جانب مڑی۔
”بس تمھاری یہی خصوصیت دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ قبیل خان کے بعد تمھیں مارنے کے ارادے میں تھوڑی سی ترمیم کر لوں۔“
میں اسے کوئی جواب نہ دے سکا کیونکہ فائر سے ہونے والے ہلکے سے جھٹکے نے میرے زخم میں ہونے والی تکلیف میں اضافہ کر دیا تھا۔میرے چہرے پر ہویدا اذیت بھرے تاثرات دیکھ کروہ بے چینی سے بولی۔
”کیا ہوا۔“یہ کہتے ہوئے وہ بے ساختہ میرا زخمی کندھا سہلانے لگی تھی۔
”میرا خیال ہے نکلتے ہیں۔“تکلیف ضبط کرتے ہوئے میں اٹھ کھڑا ہوا۔
”ہونہہ!....چلو۔“میری تائید کرتے ہوئے وہ بھی کھڑی ہو گئی۔
ہم لاشوں کی جانب بڑھ گئے دو آدمی اوندھے منھ پڑے تھے جبکہ ایک ادھیڑ عمر کا مرد لاشوں سے ایک جانب ہو کر پتھروں کے درمیان سکڑا سمٹا چھپا ہوا تھا۔اس کے دونوں ہاتھ پشت کی جانب ایک مضبوط رسی سے بندھے تھے۔پلوشہ ایک تیز دھار خنجر ہر وقت اپنی پنڈلی سے باندھے رکھتی تھی۔اس مرد کے قریب جا کر اس نے اپنی پنڈلی سے بندھا خنجر نکال کر اس کی بندشیں کاٹ ڈالیں۔
”کون ہو تم اور کیا نام ہے تمھارا۔؟“بندشیں کاٹتے ہی پلوشہ اسے مخاطب ہوئی۔
وہ محتاط لہجے میں بولا۔”قابل خان محسود....اور میں ایک تاجر ہوں۔“میں ان کے قریب جا کر خاموشی سے کھڑا ہو گیا تھا۔
”ان کی تمھارے ساتھ کیا دشمنی ہے۔“پلوشہ نے اگلا سوال پوچھا۔
” ان کی دشمنی میرے ساتھ نہیں ،ملک خوشحال خان محسود کے ساتھ ہے ،بلکہ ان کے مشر قبیل خان کی دشمنی ہے خوشحال خان کے ساتھ اور میں ملک خوشحال خان کا ماموں زاد بھائی ہوں۔“
اس کی وضاحت سن کر معاملہ سمجھنا آسان ہو گیا تھا لیکن پلوشہ کے سوال جاری رہے۔
”انھوں نے تمھیں کہاں سے پکڑا ،میرا خیال ہے دشمنی کے باوجود یوں خواہ مخواہ کسی پر ہاتھ ڈالنا لڑائی کو کھلی دعوت دینا ہے۔“
وہ تفصیل بتلاتا ہوا بولا۔”خوشحال خان محسودکے آدمیوں کے لیے انگور اڈے کے رستے افغان سرحد عبور کرنا منع ہے اس بارے خوشحال خان اور قبیل خان میں باقاعدہ معاہدہ ہوا ہوا ہے۔اور مجھ سے یہ غلطی ہو گئی ہے۔گو میں کوئی چیز سمگل نہیں کر رہا تھا اور میرا مقصد صرف افغانستان جا کر کسی سے ملاقات کرنا تھا۔اسی وجہ سے میں نے اس رستے پر جانے کی ہمت کی تھی اور صبح سویرے انگور اڈے سے آگے روانہ ہوا۔ لیکن میری بد قسمتی کہ اس وقت بھی میرا ٹکراﺅ ان آدمیوں سے ہو گیا اور اب یہ مجھے پکڑ کر یہاں اپنے کسی مخصوص اڈے پر لا رہے تھے۔“
”یہاں پر موجود قبیل خان کی حویلی تو غالباََ تباہ ہو چکی ہے۔“پلوشہ نے یقینی بات کو گمان کے انداز میں بیان کیا۔
”ہاں حویلی کی تباہی کی خبر ہم تک بھی پہنچ چکی ہے۔اور اب مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس حویلی کے علاوہ بھی یہاں قبیل خان کے آدمیوں کا کوئی ٹھکانہ ہے یا نہیں ،البتہ علام خیل یہ اس لیے نہیں لے کر گئے کہ عوامی گاڑی میں جاتے ہوئے ملک خوشحال خان تک میری گرفتاری کی خبر پہنچ جاتی۔اور فی الحال یہ اس خبر کو راز رکھنا چاہتے تھے۔“
”ہونہہ!....“کہہ کر پلوشہ نے اثبات میں سر ہلادیا۔
” آپ کے متعلق کچھ جان سکتا ہوں۔“اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
”ہمیں تم قبیل خان کے دشمن سمجھو۔“یہ کہتے ہی وہ لاشوں کی تلاشی لینے لگی۔ان کی جیبوں سے نکلنے والی نقدی اس نے اپنی جیب میں منتقل کی اور غیر ضروری چیزیں ان کے قریب ہی پھینک کر وہ تیسری لاش کی طرف بڑھ گئی۔ڈریگنوو کی گولی اس کے ماتھے کی بائیں جانب لگی تھی۔اس کی جیب سے بھی نقدی اور ایک موبائل فون نکال کر اپنی جیب میں ڈالتے ہوئے اس نے مرنے والے کی کلاشن کوف اٹھائی اور میری طرف بڑھ آئی۔ان دو لاشوں کے پاس تین کلاشن کوفیں پڑی تھیں۔
”یہ کلاشن کوف میری ہے۔“پلوشہ کو کلاشن کوفیں سمیٹتے دیکھ کر قابل خان نے ایک روسی ساخت کی کلاشن کوف کی جانب اشارہ کیا جس کی بیرل قلم نما ترشی ہوئی تھی۔
”اٹھا لو۔“باقی دونوں کلاشن کوفیں اٹھا کرپلوشہ نے قابل خان کو اپنی کلاشن اٹھانے کا اشارہ کیا۔
”شکریہ۔“کلاشن کوف اٹھا کر وہ ممنونیت بھرے لہجے میں بولا۔
”اب یہاں سے بھاگنے کی کرو۔یہ نہ فائرنگ کی آواز سن کر اس خبیث کے مزید آدمی یہاں پہنچ جائیں۔“
”آپ دونوں کے نام جان سکتا ہوں۔“اپنی کلاشن کوف کندھے سے لٹکاتے ہوئے اس نے سوال کیا۔
پلوشہ اسے جواب دینے کے بجائے میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
”میرا نام ذیشان اور میرے ساتھی کا پلو خان ہے۔“اس کا استفسار سمجھتے ہوئے میں نے براہ راست قابل خان کو جواب دیا۔
”آپ دونوں کا ایک بار پھر شکریہ۔اگر کبھی میرے لائق کوئی خدمت ہو تو میرا علاقہ وشلام ہے۔“ہم سے الوداعی مصافحہ کرکے وہ چل پڑا اس کا رخ دائیں جانب نکلنے والے نالے کی طرف تھا۔ہم بھی اپنے رستے پر چل پڑے تھے۔تھوڑا سا چلتے ہی وہ کہنے لگی میرا خیال ہے یہ کلاشن کوفیں یہیں چھپا دیتے ہیں۔“
میں بے پروائی سے بولا۔”جو مرضی آئے کرو۔“
اور وہ سر ہلاتے ہوئے ایک طرف بڑھ گئی۔میں وہیں ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔میرے زخم سے رہ رہ کر درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔چار پانچ منٹ بعد وہ کلاشن کوفیں چھپا کر لوٹ آئی۔یقینا تین کلاشن کوفیں ایک ڈریگنوو رائفل ،اپنا اور میرا سامان یہ سب کچھ اٹھا کر ان پہاڑوں میں چلنا کافی دشوار تھا۔ اس نے بھی اسی وجہ سے کلاشن کوفیں وہیں چھپانے کا مشورہ دیا تھا۔
اس کے قریب آتے ہی میں دوبارہ اٹھ کر چل پڑا۔چار پانچ گھنٹوں کے بعد ہم کمانڈر نصراللہ کی بیٹھک میں پہنچ گئے تھے۔میرے لیے یہ سفر کافی تکلیف دہ اور مشکل ثابت ہوا تھا۔بیٹھک میں داخل ہو کر اس نے جلدی سے بستر جھاڑ کر مجھے لیٹنے میں مدد دی۔
”تم آرام کرو میں کسی ڈاکٹر کو یہاں لانے کی کوشش کرتا ہوں۔“وہ جب بھی سنجیدہ ہوتی لڑکے کے انداز میں بات کیا کرتی تھی۔
میں نے اسے جواب دیے بغیر آنکھیں بند کر لیں اوروہ باہر نکل گئی۔اس کی واپسی سے پہلے کمانڈر نصراللہ آگیا وہ عمر کی اس سطح پر تھا کہ اب وہ ٹریننگ یا عملی طور پر کسی سرگرمی میں حصہ لینے کے قابل نہیں تھا۔بس کبھی کبھار اہم امور کی مشاورت کے اسے بلالیا جاتا۔باقی وقت وہ گھر ہی میں گزارا کرتا۔ اس وقت بھی بیٹھک کا تالا کھلا دیکھ کر وہ اس طرف چلا آیا تھا۔
”اسلام علیکم !....ارے یہ کیا ہوا ؟“سلام کہتے ہی اس کی نظر میرے زخمی کندھے پر پڑی اور اس نے پوچھنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔
”وعلیکم اسلام۔“کہہ کر میں اسے زخمی ہونے کی وجہ بتانے لگا۔
”ہونہہ!....اب پلو خان کہاں گیا ہے ؟“
”وہ ڈاکٹر کو بلانے گیا ہے۔“یہ الفاظ میرے ہونٹوں پر تھے کہ بیٹھک کا بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔
”شاید پلو خان ڈاکٹر کو لے آیا ہے۔“کمانڈر نصراللہ نے کہا۔اس کی بات کی تصدیق اگلے ہی لمحے ہو گئی جب پلوشہ۔”اسلام علیکم۔“کہتے ہوئے ایک باریش شخص کے ہمراہ نمودار ہوئی۔عمومی طور پر ڈاکٹر حضرات کلین شیو ہوتے ہیں۔مگر اس کے چہرے پر بہت خوب صورت گھنی داڑھی تھی۔
سلام کا جواب دے کر کمانڈر نصراللہ ڈاکٹر اور پلوشہ سے ہاتھ ملانے لگا۔
پلوشہ نے ڈاکٹر کا دوائیوں والا بکس اٹھایا ہوا تھا۔ڈاکٹر کمانڈر نصراللہ سے ہاتھ ملا کر میرے زخمی بازو کی طرف متوجہ ہو گیا۔سب سے پہلے اس نے پلوشہ کی باندھی ہو ئی پٹیاں تیز دھار قینچی سے کاٹ کر زخم سے علاحدہ کیں اور پھر زخم کو احتیاط سے صاف کرنے لگا۔
زخم صاف کر کے اس نے چند ٹانکے لگائے کیونکہ پلوشہ کے تیز دھار خنجر نے زخم کے منھ کو کھول دیا تھا۔اور پھر دوبارہ سے تازہ پٹی باندھنے لگا۔پٹی باندھ کر اس نے درد کش انجیکشن لگایا اورمختلف گولیاں نکال کر پلوشہ کو کھانے کی ترتیب بتانے لگا۔
پلوشہ اسے دروازے تک چھوڑنے گئی اور پھر واپس آگئی۔
کمانڈر نصراللہ نے پوچھا۔”آپ لوگوں کے لیے کھانا لاﺅں ؟“
”بھوک تو بہت سخت لگی ہے۔“پلوشہ نے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔اور کمانڈر نصراللہ مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔
٭٭٭
رات کو میں نے آئی کام پر الفا ٹو سے رابطہ کیا۔میں پہلی بار اس سے رابطہ کر رہا تھا۔اسے کوڈ میں تازہ صورت حال بتا کر میں نے رابطہ منقطع کر دیا۔میجر اورنگ زیب تک اپنے زخمی ہونے کی خبر پہنچانا لازمی تھا کیونکہ میں کم از کم مہینے بھر کے لیے تو ناکارہ ہو گیا تھا۔
الفا ٹو سے ہونے والی تمام گفتگو پلوشہ نے بھی سنی تھی لیکن اس نے یہ الفا ٹو کے بارے جاننے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔گفتگو کے اختتام پر وہ مجھے دوائی کھلانے لگی۔گولیاں کھلا کر اس نے نیم گرم دودھ کا گلاس مجھے پکڑا دیا۔
”میرا خیال ہے تم چند دن اپنے گھر میں آرام کر لو۔“دودھ پی کی میں نے خیال ظاہر کیا۔
”شاید تم چھپنے کا ارادہ کیے بیٹھے ہو۔مگر میں تمھاری یہ ترکیب کامیا ب نہیں ہونے دے سکتی۔“
”تمھیں مشورہ دینا ہی فضول ہے۔“
”ہاہاہا۔“اس نے بلند بانگ قہقہہ لگایا۔
میں نے لیٹنے کے لیے اپنے تکیے کو ہاتھ لگایا اور وہ جلدی سے آگے بڑھ کر مجھے لیٹنے میں مدد دینے لگی۔
لیٹتے ساتھ ہی میری آنکھیں بند ہونے لگی تھیں یقینا میری دوائی میں خوب آور گولی بھی شامل تھی۔میری آنکھ پیاس لگنے کی وجہ سے کھلی تھی۔پلوشہ مجھے ساتھ والی چارپائی پر تکیے سے ٹیک لگائے اونگھتی نظر آئی۔میں نے اٹھنے کی کوشش کی اور ہلکی سی آواز سن کر وہ جاگ گئی۔
”کہاں جا رہے ہو ؟“جمائی لیتے ہوئے وہ مستفسر ہوئی۔
”پانی پینا تھا۔“اسے جاگتے دیکھ کر میں نے اٹھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
”تو مجھے آواز دے لی ہوتی۔“چارپائی سے اٹھ کر وہ کونے میں پڑے گھڑے کی جانب بڑھ گئی۔پانی کا بھرا گلاس پکڑا کر اس نے مجھے سہارا دے کر اٹھایا اور پانی پلا کر دوبارہ لٹا دیا۔میری آنکھیں ایک بار پھر بند ہونے لگیں۔
اگلے دو ہفتے میں میرے کندھے کا زخم کافی حد تک ٹھیک ہو گیا تھا۔اس دوران پلوشہ نے میری تیمارداری میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔میں نے کئی بار اسے گھر جانے کو کہا مگر وہ مزاحیہ اندازا پنا کر ٹال گئی۔ کبھی کبھا ر جاتی بھی تھی تو شام تک لوٹ آتی تھی۔میں بازو کو ہلاجلاکر بیٹھک کے اندر ہی ورزش وغیرہ کر لیتا تھا۔اب میرا بازو ٹھیک ٹھاک کام کرنے لگا تھا ایک رات کو الفا ٹو سے بات چیت ہوئی تو پتا چلا کہ سردار خان نے ایک ماہ کی اور چھٹی مانگ لی ہے۔
پلوشہ بھی ساری گفتگو سن رہی تھی۔جونھی میں نے آئی کام آف کیا فوراََ بولی۔”اس کا مطلب ہے قبیل خان کے خلاف ہم دونوں کو ہمت کرنا پڑے گی ،سردار بھائی کا انتظار فضول ہے۔“
”ہونہہ!....“میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس کی تائید کی۔
”تو پھر کیا سوچا۔“ مزید انتظار اس کے لیے مشکل ہو رہا تھا۔”وہ خبیث تو کسی جگہ ٹکتا ہی نہیں۔“
”افغانستان جانے کے بارے کیا خیال ہے ؟“میں نے مشورہ مانگنے والے انداز میں پوچھا۔
وہ اعتماد سے بولی۔”چلے جاتے ہیں لیکن اس سے پہلے ایک چکر اس کی حویلی کا لگا لیں آج کل وہاں زور و شور سے کام شروع ہے۔“
”ہاں اس کی عیاشی کا اڈہ جو تھا۔“
کافی دیر تک ہم منصوبہ بناتے رہے آخر میں طے کیا کہ کل صبح ہم ڈی بلاک پر جا کر وہاں سے بیرٹ ایم 107لے کر آئیں گے اور اس کے بعد قبیل خان کے خلاف کوئی ایکشن لیں گے۔
صبح سویر ے ناشتے کے بعد ہم ویگن میں بیٹھ کر علام خیل پہنچے اور وہاں سے ڈی بلاک کی طرف چل پڑے۔یہ احتیاط ہم نے ضرور کی تھی کہ علام خیل سے ایک کلومیٹر پہلے اتر کر نالے میں ہو گئے تھے۔ڈی بلاک کے سامنے والے سنتری کو اپنا تعارف کرا کے ہم پوسٹ کمانڈر کو ملے۔پہلے والا کمانڈر وہاں موجود نہیں تھا لیکن وہ اسے ہمارے بارے مکمل طور پر بتا گیا تھا۔دوپہر کا کھانا ہم نے وہیں کھایا اور بیرٹ ایم 107اٹھا کر وہاں سے نکل آئے۔
”تم مجھے سنائپر رائفل چلانا کیوں نہیں سکھاتے۔“ڈی بلاک کی اترائی پر وہ مجھے مخاطب ہوئی۔
”یہ بھی تو کلاشنکوف اور دوسرے ہتھیاروں کی طرح چلائی جاتی ہے۔بلکہ تم نے اس دن ڈریگنوو سے دو بندے مارے توتھے اور کیا سیکھنا ہوتا ہے۔“
”جی نہیں وہ تو تیس پینتیس گز دور تھے۔اتنے فاصلے سے تو انھیں پستول سے بھی نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔بعد میں ایک آدمی کے لیے میں نے بیس سے زیادہ گولیاں فائر کیں مگر ناکام رہی اور تم نے زخمی ہوتے ہوئے بھی فقط ایک گولی چلا کر اس کا خاتمہ کر دیا۔“
میںنے مسکراتے ہوئے کہا۔”تو اس میں کمال سنائپر رائفل کا تو نہ ہوا نا ،یہ کام تو میں کلاشن کوف یا کسی اور رائفل سے بھی کر سکتا تھا۔بھول گئی ہو جب تمھارے سر پر رکھے گلاس کو نشانہ بنایا تھا۔“
”اس دن تو تمھارے ہاتھ کانپ رہے تھے۔“یہ کہتے ہوئے اس نے قہقہہ لگایا اور پھر مسلسل ہنستی چلی گئی۔
”اچھا ہی ہی بند کرو اور قبیل خان کے بارے کچھ سوچو آج سنا تھا پوسٹ کمانڈر کیا کہہ رہا تھا کہ ذخیرہ پوسٹ اور زیارت کیل کے ساتھ موجود چند اور چوٹیوں پر دہشت گردوں نے مورچہ بندی کی ہوئی ہے اور پاک آرمی کے ساتھ آئے روز فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے۔“
”تو اس میں قبیل خان کہاں سے آن ٹپکا۔اور تم نے پاکستان آرمی کا ٹھیکا تو نہیں لے رکھا۔“
”بکواس بند کرو ....یہ آرمی کا نہیں ملک کا کام ہے۔ملک دشمن اور دین دشمن عناصر کی سرکوبی کرنا ہر پاکستانی کا کام ہے۔“
وہ جلدی سے بولی۔”مذاق کر رہا تھا تم تو سنجیدہ ہی ہو گئے۔“
”مجھے اس قسم کا مذاق پسند نہیں ہے ،بلکہ تم تو کسی بھی قسم کا مذاق نہ کیا کرو۔“
”واہ جی واہ....وہ کیوں۔اور میںتمھیں اتنی بری کب سے لگنے لگی ہوں؟....جب لیٹی ہوتی ہوں تو چھپ چھپ کر مجھے پہروں گھورتے رہتے ہو اور سامنے یوں بے پروائی ظاہر کرتے ہو گویا میں تمھیں سچ مچ اچھی نہیں لگتی۔“
”کب گھورا ہے تمھیں۔“میں نے زچ ہوتے ہوئے پوچھا۔
وہ شوخی سے بولی۔”اب بھی گھور رہے ہو۔قسم سے فوجی جوان تو اس طرح نہیں ہوتے۔“
”میرا خیال ہے مجھے یہیں سے اپنا رستا جدا کر لینا چاہیے۔سردا خان خود تو چھٹیاں کاٹ رہا ہے اور تم جیسا سر درد میرے حوالے کر گیا ہے۔“یہ کہتے ہوئے میں رک گیا تھا۔
”اچھا ٹھیک ہے اب کچھ نہیں کہتی۔“میرے چہرے پر چھائے سنجیدگی بھرے تاثرات دیکھتے ہوئے اس نے ہتھیار ڈالنے میں دیر نہیں کی تھی۔
”آخری بار متنبہ کر رہا ہوں اس کے بعد اگر تم نے ذرا سی بھی بکواس کی تو ........“
”اب بس بھی کرو یار !“اس نے بیزاری بھرے لہجے میں قطع کلامی کی۔”تم بڑے یوسف ثانی ہو نا کہ ہر وقت تمھارا دماغ ساتویں آسمان پر رہتا ہے۔“
”میں جیسا بھی ہوں اپنی ذات کے لیے ہوں ،باقی ہم دونوں کسی خاص مقصد کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں ورنہ اس کے بعد ہم نے علاحدہ ہو جانا ہے اور یہ بات تم بھی اچھی طرح سے جانتی ہو۔“
”تم ایک بات بھول رہے ہو۔“اس کے لہجے میں کوٹ کوٹ کر سنجیدگی بھری ہوئی تھی۔
”وہ کیا ؟“اس کے لہجے نے مجھے پوچھنے پر مجبور کیا تھا۔
”یہی کہ قبیل خان کے بعد میں تمھیں قتل کر دوں گی۔“یہ کہتے ہوئے اس نے جاندار قہقہہ لگایا اور میں افسوس بھرے انداز میں دائیں بائیں سر ہلانے لگا۔اس کا سدھرنا شاید ناممکن تھا۔
”ویسے سچ کہوں تو اب میرا ارادہ تھوڑا تھوڑا تبدیل ہونے لگا ہے۔جب سے تم نے میرے سر پر رکھے ہوئے گلاس کو نشانہ بنایا ہے ،میرا جی چاہ رہا ہے کہ تم سے کچھ سیکھوں لیکن ....اس بات کو حتمی نہ سمجھنا ہو سکتا ہے میں اپنے پہلے ارادے ہی پر عمل کرنا پسند کروں۔“
”اور اگر اس سے پہلے میں نے تمھیں اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیا پھر ؟“
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔”ایسا ہونا بہت مشکل ہے۔
میں نے پوچھا۔”کیوں ؟“
وہ شوخی سے بولی۔”کیونکہ میں تمھیں بہت پیاری لگتی ہوں۔“
میں طنزیہ انداز میں ہنسا۔”دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔“
”ہائے رے خوش فہمیاں۔“میری طنزیہ ہنسی پر بھی وہ کھل اٹھی تھی۔
”ایک بات تو بتاﺅ ؟“اسے خوش ہوتے دیکھ کر میں نے کہا۔
ایک لحظہ کے لیے اپنے پاﺅں روکتے ہوئے اس نے بیرٹ ایم 107کے تھیلے کو کندھے پر درست کیا اور پھر قدم میرے ساتھ ملاتے ہوئے بولی۔”پوچھو۔“
”کیا میں تمھیں اتنا گدھا نظر آتا ہوں کہ تم پر مر مٹوں کیا دنیا میں اور عورتیں مر گئی ہیں۔“
وہ کہاں ہار ماننے والی تھی فوراََ بولی۔”یہی بات تو میری سمجھ میں نہیں آ رہی ،کہ آخر تم ایک ایسی لڑکی کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو جو تمھیں قتل کرنے کا ارادہ کیے ہوئے ہے۔اگر تمھارا یہ خیال ہے کہ اس طرح میں تمھیں قتل کرنے کا ارادہ ترک کر دوں گی تو یہ تمھاری غلط فہمی ہے۔“
”یہ بھی خو ب رہی ،ہر وقت اپنی قیمت بتانے کا شوق تمھیں چرایا ہوا ہے اور پیچھے میں پڑا ہوں۔“
”اس میں شک ہی کیا ہے۔اور قیمت تو اس لیے بتائی ہے تاکہ تمھیں معلوم ہو میں کوئی عام لڑکی نہیں ہوں اور یہ کہ میرے ساتھ شادی کرنے کے لیے تمھیں کتنی کچھ رقم اکھٹا کرناپڑے گی۔“
”تمھارے لیے پچاس روپے خرچ کرنے والا میری نظر میں مہا بے وقوف ہو گا کجا پچاس لاکھ۔“
”یار!.... کہا تو ہے تم پچاس لاکھ سے چند ہزار کم کر لینا۔“اس ڈھیٹ پر میری طنزیہ باتوں کا ذرا بھی اثر نہیں ہوہا تھا۔
”اچھا اس فضول بحث کو چھوڑو اور کوئی کام کی بات کرو۔“
”کام کی بات یہی ہے کہ جب تک اس خبیث کو جہنم واصل نہیں کر دیتے آرام نہیں کریں گے۔“
میں نے پوچھا۔”کوئی منصوبہ بھی ہے یا بس ارادے ہی سے سب کام ہو جائے گا۔“
”تو بناﺅ نا منصوبہ ،منع کس نے کیا ہے۔میرا توکوئی بھی مشورہ تمھیں قبول نہیں ہوتا اور یوں بھی تم باس ہو سوچنا تمھار ا کام ہے۔“
”اچھا تمھیں مختلف ہتھیاروں کے بارے کمانڈر نصراللہ نے سکھایاہے ،جسمانی داﺅ پیچ کی تربیت بھی کسی استاد نے دی ہو گی ،مختلف زبانیں پڑھانے والا بھی کوئی استاد ہو گا ....“
”ہاں تو پھر ؟“مجھے بات ادھوری چھوڑتا دیکھ کر وہ مستفسر ہوئی۔
”تو یہ کہ کیا بکواس کرنے کی بھی کوئی کلاس لی ہے یا قدرتی طورہی پر فضول گو ہو۔“
”ہاہاہا....اس میں تمھارا کوئی قصور نہیں ہے پورے پاکستان کے ساتھ یہی مسئلہ ہے کہ جن باتوں کا جواب نہ بن پڑے وہ بکواس ہی تو کہلاتی ہیں۔عوام کہتی ہے مہنگائی کم کرو حکمران کہتے ہیں بکواس بند کرو۔لوگ کہتے ہیں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کرو واپڈا کا ادارہ کہتا ہے بکواس بند کرو ،مزدور کہتا ہے چار پانچ سو کی دیہاڑی سے میرے گھر کا چولھا کیسے جلے گا سیٹھ کہتا ہے بکواس بند کرو ........“
”بکواس بند کرو یار۔“اس کی لمبی ہوتی تقریر دیکھ کر میں نے قطع کلامی کی۔
اور وہ زور زور سے ہنسنے لگی۔انھی باتوں کے دوران ہم علام خیل کے نالے کے قریب پہنچ گئے تھے۔شام کا ملگجا اندھیرا چھانے لگا تھا۔
پلوشہ نے سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا۔”آج شب یہیں قیام کرتے ہیں اور میں قبیل خان کی سن گن لینے کی کوشش کرتا ہوں۔“
”قبیل خان کے آدمیوں میں کم از کم دو تین بندے ایسے موجود ہیں جو تمھیں شکل و صورت سے جانتے ہیں۔“میں نے اسے خبردار کیا۔
”ایک تو تمھیں ہر وقت میری فکر لگی رہتی ہے۔“اس کے لہجے میں شوخی بھری تھی۔
اور میں کچھ کہے بنا وہاں بیٹھنے کی جگہ تلاش کرنے لگا۔ایک مناسب جگہ دیکھ کر میں نے اپنی پشت پر لدا سفری تھیلا اتارااور اسی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔اس نے بھی بیٹھنے کے لیے میرے پہلو ہی میں جگہ پسند کی تھی۔میں نے اعتراض کرنے کی ضرورت اس لیے بھی محسوس نہ کی کہ اس نے جواباََ الٹی سیدھی گفتگو شروع کر دینا تھی۔
”میں نے کہا تھا کہ مجھے سنائپر رائفل سے فائر کرنا سیکھا دو۔“گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے دوبارہ پرانی راگنی الاپی۔
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا۔”اچھا قبیل خان کی موت کے بعد سکھا دوں گا۔“
”بڑے چالاک ہو۔“معنی خیز انداز میں کہتے ہوئے وہ مسکرا پڑی۔
اندھیرا گہرا ہوتے ہی ہم وہاں سے چل پڑے کمانڈر عبدالحق تو ہمیں اپنے بیٹھک میں نہ ملا البتہ کمانڈر عبدالرشید بیٹنی وہاں موجود تھا۔وہ مجھے اچھی طرح پہچانتا تھا ،جبکہ پلوشہ تو ان کے ساتھ رہ چکی تھی۔ہمیں پرتپاک انداز میں خوش آمدید کہا گیا۔
رات کا کھانا کھا کر پلوشہ مجھے اشارہ کر کے وہاں سے نکل گئی اس کی واپسی دو تین گھنٹوں بعد ہوئی تھی۔اسے تین دن ہوئے ہیں افغانستان سے لوٹے ہوئے اور پرسوں وہ ڈمبر یانی سے آگے واخدائی جا رہا ہے۔
”سچ۔“میں نے پرجوش لہجے میں پوچھا۔
”ہاں بالکل صحیح اطلاع ہے مگر تم کس بات پر خوش ہونے لگے۔“اس نے حیرانی سے پوچھا۔
”ایک منٹ۔“میں اٹھ کر کمانڈر عبدالرشید بیٹنی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔عشاءکی نماز کے بعد وہ گھنٹا ڈیڑھ مشاورت کرتے تھے اور میرے اندازے کے مطابق وہ ابھی تک جاگ رہا تھا باقی آدمی دو تین منٹ پہلے ہی اس کے کمرے سے رخصت ہوئے تھے۔
”میں اندر آ سکتا ہوں۔“اس وقت کمانڈر عبدالرشید بیٹنی سونے کے لیے اپنا بستر ٹھیک کر رہا تھا جب میں نے اندر جانے کی اجازت مانگی۔
”آ جائیں۔“اس نے خوش اخلاقی سے اثبات میں سر ہلایا۔
”زحمت دینے پر معذرت خواہ ہوں کمانڈر۔“اندر داخل ہوتے ہوئے میں معذرت کا اظہار ضروری سمجھا تھا۔
”زحمت کی کوئی بات نہیں ،آئیں بیٹھیں ....اور قہوہ یا چاے پینا پسند فرمائیں گے۔“
”نہیں جناب !....شکریہ۔“میں زمین پر بچھی چٹائی پر بیٹھ گیا۔
”حکم کرو۔“وہ اپنے بستر پر بیٹھ گیا۔
اس مرتبہ میں نے اپنی ضرورت اس کے سامنے دہرا دی۔
”ہاں یہ سب کچھ مل جائے گا لیکن اس کا مالک میں نہیں ہوں اس لیے معاوضا ادا کرنا پڑے گا۔“اس نے بے تکلفانہ دل کی بات واضح کر دی۔
”ٹھیک ہے جناب رقم جتنی کہیں مل جائے گی۔“میں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلادیا۔
”یہ سامان کس وقت چاہیے ہو گا۔“
”صبح۔“یہ کہہ میں اس سے اجازت لے کر وہاں سے نکل آیا۔ پلوشہ بے چینی سے میری منتظر تھی۔
”تم کمانڈر عبدالرشید بیٹنی کے پاس کس لیے گئے تھے۔“میرے واپس پہنچتے ہی اس نے پوچھا۔
”اگر وہ اطلاع سچ ہے جو تم مجھ تک پہنچا چکی ہو تو پرسوں قبیل خان کے خلاف کارروائی کرنے کا منصوبہ میں نے سوچ لیا ہے۔“
”بھلا وہ کیسے ؟“اس نے اشتیاق آمیز بے تابی ظاہر کی۔
”پہلے تم یہ بتاﺅ کہ تم قبیل خان کے ساتھ محافظوں کی کتنی گاڑیاں ہوتی ہیں ؟“
”چار گاڑیاں محافظوں کی اور پانچویں اس کی اپنی ہوتی ہے۔پانچوں گاڑیاں ڈبل کیبن ہیں اور ہر گاڑی میں پانچ یا چھے آدمی ہوتے ہیں۔“
”مطلب مجموعی طور پر پچیس تیس بندے ہوتے ہیں۔“
”ہاں۔“اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے پوچھا۔”اب تم یہ بتاﺅ کہ ہم دو آدمی ان پچیس تیس آدمیوں پر کیسے قابو پائیں گے ؟“
اور میں اسے اپنا منصوبہ بتانے لگا۔
”اس میں کافی خطرہ ہے۔“منصوبہ سنتے ہی اس نے خیال ظاہر کیا۔
میں نے اس کی تردید کیے بغیر کہا۔”قبیل خان جیسے خبیث کو جہنم واصل کرنے کے لیے خطرے تو مول لینا پڑتے ہیں۔“
”ہونہہ !....“کر کے وہ فقط سر ہلا کر رہ گئی تھی۔اس کے بعد ہم منصوبے کی جزئیات پر گفتگو کرنے لگے۔پلوشہ نے کئی بہترین مشورے دیے تھے۔وہ عملی زندگی میں بھی گھات چھاپے کی کارروائیوں میں حصہ لے چکی تھی۔
صبح رقم ادا کر کے ہم نے مجاہدین کے ٹھکانے سے بارود، ڈیٹونیٹر ،راکٹ لانچر اور اس کے چار راکٹ لے کر منصوبے میں طے کی ہوئی جگہ کی طرف چل پڑے۔راکٹ لانچر ہم نے مستعار لیا تھا جوکارروائی کے بعد کمانڈر عبدالرشید بیٹنی کو واپس کرنا تھا البتہ بارود اور راکٹ ہمیں معاوضا دے کر لینے پڑے تھے۔
دو عدد کلاشن کوفیں ،بیرٹ ایم 107اور دو عدد پسٹل بھی ہمارے پاس موجود تھے۔چار پانچ گھنٹے مسلسل سفر کے بعد ہم مخصوص مقام پر پہنچ گئے تھے۔ملک ثقلین خان کے بیٹے کی شادی میں جاتے ہوئے یہ جگہ میری نظر میں آئی تھی۔اب جب قبیل خان کے جانے کی بابت معلوم ہوا تو میں نے فوراََ ایک خطرہ مول لینے کا فیصلہ کر لیا۔اگر سردار ہمارے ساتھ ہوتا تو یہ منصوبہ اور زیادہ کامیاب ہو سکتا تھا۔ہم تین مل کر زیادہ بہتر طریقے سے یہ گھات لگا سکتے تھے۔لیکن اس کی غیر موجودی مجھے اپنے ارادے سے باز نہ رکھ سکی۔یوں بھی پلوشہ ایک بہترین ساتھی تھی۔
اس جگہ پر ایک جانب کھڑی چٹانوں کا سلسلہ تھا جسے نقشہ بینی میں اسکارپمنٹ پڑھاتے ہیں، دوسری جانب نالہ تھا اور خوش قسمتی سے نالے کی ڈھلان بھی بالکل سیدھی ہی تھی۔نالہ عبور کر کے جو پہاڑی موجود تھی اس کا فضائی فاصلہ بھی دو اڑھائی سو گز سے زیادہ نہیں تھا۔ میں نے پلوشہ کے ساتھ اسی جگہ پر مورچہ بندی کا منصوبہ بنایا تھا۔دن کی روشنی میں ہم نے پتھروں کی مدد سے اپنے لیے دو تین مورچے بنائے اور شام ہوتے ہی میں سڑک کے اوپر مخصوص جگہوں پر بارود لگانے لگا۔اپنے مورچوں سے اس جگہ کا فاصلہ وغیرہ میں نے لیزر رینج فائینڈر کی مدد سے ناپ لیا تھا۔بارود لگاتے وقت پلوشہ نے بھی مدد کی تھی۔وہ ان کاموں کی اچھی خاصی ماہر تھی۔اس نے کسی بھی قدم پر مجھے سردار کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی۔
پلوشہ سے پتا چلا تھا کہ قبیل خان کی گاڑی کے آگے اور پیچھے محافظوں کی دو دو گاڑیاں ہوتی تھیں اور اس کی گاڑی درمیان میں ہوتی تھی۔چونکہ تمام گاڑیوں کا رنگ کالا تھا اس لیے ہم گاڑیوں کی ترتیب ہی سے اس کی گاڑی کو پہچان سکتے تھے۔خود میں نے قبیل خان کی فقط تصویر ہی دیکھی تھی ،براہ راست اس کی منحوس صورت دیکھنے کا اتفاق اب تک نہیں ہو سکا تھا۔اندھیرا چھانے تک ہم تمام کاموں سے فارغ ہو گئے تھے۔وہ رات ہم نے وہیں گزاری اورصبح دم چاے وغیرہ پی کر ہم تیار ہو کر بیٹھ گئے۔ قبیل خان کی گاڑیوں سے پہلے پانچ چھے گاڑیاں گزر چکی تھیں۔اور پھر دو ر سے گرد کا طوفان اٹھا اور پانچ کالے رنگ کی گاڑیاں ایک قطار میں چلتی ہوئی اس جانب آتی دکھائی دیں۔ہم دونوں مکمل طور پر تیار تھے۔پلوشہ دوربین آنکھوں سے لگائے اسی طرف نگران تھی۔
”اسی خبیث کا قافلہ ہے۔“وہ بڑبڑانے کے انداز میں بولی۔اسے ریموٹ کنٹرول تھما کر میں نے راکٹ لانچر کندھے پر رکھ لیا تھا۔اگر ہمارا لگائی ہوئی IED ریموٹ کنٹرول سے نہ پھٹتی تو میں نے راکٹ لانچر کے ذریعے پہلی گاڑی کو اڑانا تھا۔وہ جگہ اتنی تنگ تھی کہ گاڑی موڑ نہیں کاٹ سکتی تھی۔اور اگلی گاڑی کے تباہ ہونے کے بعد وہ آگے بھی نہیں جا سکتے تھے۔جس جگہ ہم نےIED (Improvised Explosive Device)لگائی تھی اس کے بعد ایک خطرناک موڑ تھا اس لیے اس جگہ گاڑیوں کی رفتار لامحالہ آہستہ ہونا تھی۔یوں بھی وہ سڑک کچی تھی اوراس پر بہت زیادہ رفتار سے گاڑی نہیں چلائی جا سکتی تھی۔تمام گاڑیاں ایک قطار میں چل رہی تھیں۔موڑ آنے سے پہلے ہی ڈرائیور نے رفتار کم کرنا شروع کر دی تھی۔دوربین آنکھوں سے لگائے پلوشہ کا ایک ہاتھ آئی ای ڈی کو پھٹانے والے بٹن پر تھا۔جونھی ہی اگلی گاڑی مخصوص جگہ پر پہنچی اس نے بٹن دبا دیا۔حفظ ماتقدم کے طور پر میں نے بھی راکٹ لانچر کی ٹیلی سکوپ سائیٹ میں پہلی گاڑی پر نشانہ سادھ لیا تھا۔لیکن مجھے فائر کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔
کان پھاڑ دینے والا دھماکاہوا اور اگلی گاڑی چند فٹ ہوا میں اچھل کر الٹی ہو گئی۔پیچھے والی گاڑیاں فوراََ رک گئی تھیں۔پلوشہ نے فوراََ آخر میں لگائی جانے والی آئی ای ڈی کو پھاڑنے والا بٹن دبا دیا اس مرتبہ زور دار دھماکے کے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود گاڑی تباہ ہوئی تھی۔آخری گاڑی چند گز پیچھے تھی۔ میں نے فوراََ راکٹ لانچر کا رخ اس جانب کرتے ہوئے راکٹ داغ دیا۔اڑھائی سو میٹر سے ایک ساکن ہدف کو نشانہ بنانا اتنا مشکل بھی نہیں تھا کہ میرا نشانہ خطا جاتا۔گاڑی اچھل کر کھڑی چٹانوں سے ٹکرائی اور دوبارہ سڑک پر گر گئی تین گاڑیاں اور ان میں موجود افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔دو سری اور تیسری گاڑی میں موجود قبیل خان کے آدمیوں نے فوراََ گاڑیوں کے عقب میں مورچے سنبھال لیے تھے۔انھیں ہمارے چھپنے کی جگہ معلوم ہوگئی تھی کلاشن کوفو ں کی گولیاں ہمارے سامنے پڑے پتھروں سے ٹکرانے لگی تھیں۔
”قبیل خان دوسری گاڑی کے عقب میں چھپا ہے۔“پلوشہ نے بغیر کسی تاخیر کے مجھے مطلع کرنا ضروری سمجھا تھا۔
میں نے اپنی شست تیسری گاڑی پر مرکوز کرتے ہوئے اسے کہا۔”راکٹ لوڈ کرو۔“
اس نے فوراََ پہلے سے تیار کیا ہوا راکٹ اٹھا کرآگے سے راکٹ لانچر کی مزل میں دھکیل دیا۔ اور میں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر سانس روکتے ہوئے راکٹ داغ دیا۔تیسرے نمبر پر موجود گاڑی کا حشر بھی پہلے والی گاڑی جیسا ہوا تھا اور اس کے عقب میں چھپے آدمی قبیل خان کی مدد کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔
اسی وقت دوسری گاڑی کے عقب میں موجود آدمی گاڑی کے عقب سے نکل کر موڑ کی جانب بھاگے۔مجھے اندازہ تھا کہ وہ کچھ ایسا ہی کریں گے اور میں اس کے لیے تیار تھا۔اس کے لیے بیرٹ ایم 107تیار رکھی تھی۔
”سفید کپڑوں والا قبیل خان ہے۔اسے مرنا نہیں چاہیے۔“مجھے سنائپر رائفل سے شست لیتے دیکھ کر وہ پکار اٹھی تھی۔
ان کی تعداد چھے تھی اور موڑ تک اتنا فاصلہ نہیں تھا کہ میں تمام کو نشانہ بنا سکتا۔اگر وہ موڑ مڑنے میں کامیاب ہو جاتے تو یقینا خود بھی بچ جاتے اور ہمارے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتے تھے۔ ان تمام میں قبیل خان اہم تھا اسی وجہ سے انھوں بھاگتے ہوئے اسے اپنے سامنے رکھا تھا۔میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا بس چند سیکنڈ ہی تھے۔سب سے پہلے میں نے قبیل خان کی پشت پر دوڑنے والے بندے کی پیٹھ پر گولی ماری۔سر کو نشانہ میں نے جان بوجھ کر نہیں بنایا تھا کہ وہ بھاگ رہے تھے اور اس حالت میں سر پر گولی مارنا مشکل ہو جاتا ہے۔جبکہ میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ گولی کے خطا جانے کا خطرہ مول لے سکتا۔اڑھائی سو گز کے فاصلے پر بیرٹ ایم 107کے خطا جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔مقتول منھ کے بل گرا تھا۔اس کے ساتھ ہی میں نے دوبارہ رائفل کاک کی اور اگلی گولی قبیل خان کے کولہے میں جھونک دی۔ دو تین سیکنڈکی دیر ہونے پر اس نے موڑ مڑ جانا تھا۔وہ نیچے گرا اور اس کے ساتھ بھاگنے والے چاروں اسے سنبھالنے کے لیے نیچے جھک گئے۔اسی وقت میں نے اگلی گولی فائر کی اور ان کی تعداد میں ایک کی کمی ہو گئی۔دو آدمیوں نے قبیل خان کی بغل میں ہاتھ ڈال کر اسے موڑ کی جانب گھسیٹا اور ایک نے گھٹنا زمین پر ٹیک کر کلاشن کوف کی بیرل کا رخ ہماری جانب کرتے ہوئے ٹریگر دبا دیا تھا۔کلاشن کوف تڑتڑاتے ہوئے آگ اگلنے لگی مگر یہ ایک اضطراری حرکت تھی۔اس نے مسلس ٹریگر دبائے رکھا۔گھٹنا زمین پر ٹیک کر بیٹھنے کی وجہ سے وہ ایک آسان ہدف ثابت ہوا تھا۔بیرٹ ایم 107کی گولی اسے ماتھے میں لگی۔پشت کے بل گرتے ہوئے بھی اس کی کلاشن کوف گولیاں اگل رہی تھی۔میرے دوبارہ رائفل کاک کرنے تک قبیل خان کے آدمی اسے گھسیٹ کر موڑ مڑ گئے تھے۔موڑ مڑ کر ایک بہت بڑے پتھر کے عقب میں لیٹ کر انھوں نے ہمارے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ شروع کر دیا۔
اس صورت حال میں مجھے خطرہ محسوس ہونے لگاتھا،کہ یہ نہ ہو ایک آدمی ہمارے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرتا رہے اور دوسراقبیل خان کو سہارا دے کر وہاں سے نکل جائے۔
”پلوشے !....مجھے خطرہ ہے قبیل خان ایک آدمی کے ساتھ فرار نہ ہو جائے اور دوسرا آدمی ہمارے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرتا رہے۔“سردار خان اسے پیار سے پلوشے کہا کرتا تھا۔نہ جانے اس وقت کیوں میں نے بھی اسے اتنی بے تکلفی سے پکار دیا تھا۔مگر وہ صورت حال اس طرح کی نہیں تھی کہ وہ میرے ایسا کہنے پر غور کر سکتی۔اور اگر اس نے غور کیا بھی تھا تو وہ اس پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں بہ ہر حال بالکل بھی نہیں تھی۔
”صحیح کہا۔“اس نے فوراََ میری تائید میں سر ہلاد یا تھا۔
”تم یہاں سے سنائپر رائفل کے ذریعے انھیں فائرنگ کا جواب دیتی رہو میں پیچھے سے جا کر انھیں قابو کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔“
”نہیں ....“اس نے نفی میں سر ہلادیا۔”تم سنائپر رائفل پرمجھ سے بہتر فائر کر سکتے ہو اور میں تم سے زیادہ تیز رفتاری سے حرکت کر سکتی ہوں۔“
”مگر ....“
”کوئی اگر مگر نہیں ،میرا عتبار کرو۔“اس نے میرا ہاتھ تھامتے ہوئے میری آنکھوں میں جھانکا۔ وہ ہمیشہ کی طرح با اعتماد نظر آ رہی تھی۔
 

پلوشہ دوربین آنکھوں سے لگائے اسی طرف نگران تھی ۔
”اسی خبیث کا قافلہ ہے ۔“وہ بڑبڑانے کے انداز میں بولی ۔اسے ریموٹ کنٹرول تھما کر میں نے راکٹ لانچر کندھے پر رکھ لیا تھا ۔اگر ہمارا لگائی ہوئی IED ریموٹ کنٹرول سے نہ پھٹتی تو میں نے راکٹ لانچر کے ذریعے پہلی گاڑی کو اڑانا تھا ۔وہ جگہ اتنی تنگ تھی کہ گاڑی موڑ نہیں کاٹ سکتی تھی ۔اور اگلی گاڑی کے تباہ ہونے کے بعد وہ آگے بھی نہیں جا سکتے تھے ۔جس جگہ ہم نےIED (Improvised Explosive Device)لگائی تھی اس کے بعد ایک خطرناک موڑ تھا اس لیے اس جگہ گاڑیوں کی رفتار لامحالہ آہستہ ہونا تھی ۔یوں بھی وہ سڑک کچی تھی اوراس پر بہت زیادہ رفتار سے گاڑی نہیں چلائی جا سکتی تھی ۔تمام گاڑیاں ایک قطار میں چل رہی تھیں موڑ آنے سے پہلے ہی ڈرائیور نے رفتار کم کرنا شروع کر دی تھی ۔دوربین آنکھوں سے لگائے پلوشہ کا ایک ہاتھ آئی ای ڈی کو پھٹانے والے بٹن پر تھا ۔جونھی ہی اگلی گاڑی مخصوص جگہ پر پہنچی اس نے بٹن دبا دیا ۔حفظ ماتقدم کے طور پر میں نے بھی راکٹ لانچر کی ٹیلی سکوپ سائیٹ میں پہلی گاڑی پر نشانہ سادھ لیا تھا ۔لیکن مجھے فائر کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی ۔
کان پھاڑ دینے والا دھماکاہوا اور اگلی گاڑی چند فٹ ہوا میں اچھل کر الٹی ہو گئی ۔پیچھے والی گاڑیاں فوراََ رک گئی تھیں ۔پلوشہ نے فوراََ آخر میں لگائی جانے والی آئی ای ڈی کو پھاڑنے والا بٹن دبا دیا اس مرتبہ زور دار دھماکے کے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود گاڑی تباہ ہوئی تھی ۔آخری گاڑی چند گز پیچھے تھی ۔ میں نے فوراََ راکٹ لانچر کا رخ اس جانب کرتے ہوئے راکٹ داغ دیا ۔اڑھائی سو میٹر سے ایک ساکن ہدف کو نشانہ بنانا اتنا مشکل بھی نہیں تھا کہ میرا نشانہ خطا جاتا ۔گاڑی اچھل کر کھڑی چٹانوں سے ٹکرائی اور دوبارہ سڑک پر گر گئی تین گاڑیاں اور ان میں موجود افراد لقمہ اجل بن گئے تھے ۔دو سری اور تیسری گاڑی میں موجود قبیل خان کے آدمیوں نے فوراََ گاڑیوں کے عقب میں مورچے سنبھال لیے تھے ۔انھیں ہمارے چھپنے کی جگہ معلوم ہوگئی تھی کلاشن کوفو ں کی گولیاں ہمارے سامنے پڑے پتھروں سے ٹکرانے لگی تھیں ۔
”قبیل خان دوسری گاڑی کے عقب میں چھپا ہے ۔“پلوشہ نے بغیر کسی تاخیر کے مجھے مطلع کرنا ضروری سمجھا تھا۔
میں نے اپنی شست تیسری گاڑی پر مرکوز کرتے ہوئے اسے کہا ۔”راکٹ لوڈ کرو ۔“
اس نے فوراََ پہلے سے تیار کیا ہوا راکٹ اٹھا کرآگے سے راکٹ لانچر کی مزل میں دھکیل دیا ۔ اور میں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر سانس روکتے ہوئے راکٹ داغ دیا ۔تیسرے نمبر پر موجود گاڑی کا حشر بھی پہلے والی گاڑی جیسا ہوا تھا اور اس کے عقب میں چھپے آدمی قبیل خان کی مدد کرنے کے قابل نہیں رہے تھے ۔
اسی وقت دوسری گاڑی کے عقب میں موجود آدمی گاڑی کے عقب سے نکل کر موڑ کی جانب بھاگے ۔مجھے اندازہ تھا کہ وہ کچھ ایسا ہی کریں گے اور میں اس کے لیے تیار تھا ۔اس کے لیے بیرٹ ایم 107تیار رکھی تھی ۔
”سفید کپڑوں والا قبیل خان ہے ۔اسے مرنا نہیں چاہیے ۔“مجھے سنائپر رائفل پر شست لیتے دیکھ کر وہ پکار اٹھی تھی ۔
ان کی تعداد چھے تھی اور موڑ تک اتنا فاصلہ نہیں تھا کہ میں تمام کو نشانہ بنا سکتا ۔اگر وہ موڑ مڑنے میں کامیاب ہو جاتے تو یقینا خود بھی بچ جاتے اور ہمارے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتے تھے۔ ان تمام میں قبیل خان اہم تھا اسی وجہ سے انھوں بھاگتے ہوئے اسے اپنے سامنے رکھا تھا ۔میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا بس چند سیکنڈ ہی تھے ۔سب سے پہلے میں نے قبیل خان کی پشت پر دوڑنے والے بندے کی پیٹھ پر گولی ماری ۔سر کو نشانہ میں نے جان بوجھ کر نہیں بنایا تھا کہ وہ بھاگ رہے تھے اور اس حالت میں سر پر گولی مارنا مشکل ہو جاتا ہے ۔اور میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ گولی کے خطا جانے کا خطرہ مول لے سکتا ۔اڑھائی سو گز کے فاصلے پر بیرٹ ایم 107کے خطا جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔مقتول منہ کے بل گرا تھا ۔اس کے ساتھ ہی میں نے دوبارہ رائفل کاک کی اور اگلی گولی قبیل خان کے کولہے میں جھونک دی ۔ دو تین سیکنڈکی دیر ہونے پر اس نے موڑ مڑ جانا تھا ۔وہ نیچے گرا اور اس کے ساتھ بھاگنے والے چاروں اسے سنبھالنے کے لیے نیچے جھک گئے۔اسی وقت میں نے اگلی گولی فائر کی اور ان کی تعداد میں ایک کی کمی ہو گئی ۔دو آدمیوں نے قبیل خان کی بغل میں ہاتھ ڈال کر اسے موڑ کی جانب گھسیٹا اور ایک نے گھٹنا زمین پر ٹیک کر کلاشن کوف کی بیرل کا رخ ہماری جانب کرتے ہوئے ٹریگر دبا دیا تھا ۔کلاشن کوف تڑتڑاتے ہوئے آگ اگلنے لگی مگر یہ ایک اضطراری حرکت تھی ۔اس نے مسلس ٹریگر دبائے رکھا ۔گھٹنا زمین پر ٹیک کر بیٹھنے کی وجہ سے وہ ایک آسان ہدف ثابت ہوا تھا ۔بیرٹ ایم 107کی گولی اسے ماتھے میں لگی ۔پشت کے بل گرتے ہوئے بھی اس کی کلاشن کوف گولیاں اگل رہی تھی ۔میرے دوبارہ رائفل کاک کرنے تک قبیل خان کے آدمی اسے گھسیٹ کر موڑ مڑ گئے تھے ۔موڑ مڑ کر ایک بہت بڑے پتھر کے عقب میں لیٹ کر انھوں نے ہمارے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ شروع کر دیا ۔
اس صورت حال میں مجھے خطرہ محسوس ہونے لگاتھا،کہ یہ نہ ہو ایک آدمی ہمارے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرتا رہے اور دوسراقبیل خان کو سہارا دے کر وہاں سے نکل جائے ۔
”پلوشے !....مجھے خطرہ ہے قبیل خان ایک آدمی کے ساتھ فرار نہ ہو جائے اور دوسرا آدمی ہمارے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرتا رہے ۔“سردار خان اسے پیار سے پلوشے کہا کرتا تھا ۔نہ جانے اس وقت کیوں میں نے بھی اسے اتنی بے تکلفی سے پکار دیا تھا ۔مگر وہ صورت حال اس طرح کی نہیں تھی کہ وہ میرے ایسا کہنے پر غور کر سکتی ۔اور اگر اس نے غور کیا بھی تھا تو وہ اس پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں بہ ہر حال بالکل بھی نہیں تھی ۔
”صحیح کہا ۔“اس نے فوراََ میری تائید میں سر ہلاد یا تھا ۔
”تم یہاں سے سنائپر رائفل کے ذریعے انھیں فائرنگ کا جواب دیتی رہو میں پیچھے سے جا کر انھیں قابو کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔“
”نہیں ....“اس نے نفی میں سر ہلادیا۔”تم سنائپر رائفل پرمجھ سے بہتر فائر کر سکتے ہو اور میں تم سے زیادہ تیز رفتاری سے حرکت کر سکتی ہوں ۔“
”مگر ....“
”کوئی اگر مگر نہیں ،میرا عتبار کرو ۔“اس نے میرا ہاتھ تھامتے ہوئے میری آنکھوں میں جھانکا۔ وہ ہمیشہ کی طرح با اعتماد نظر آ رہی تھی ۔
”میری بات سمجھنے کی کوشش کرو ۔“میں نے ایک بار پھر اسے روکنے کی کوشش کی ۔میرا ضمیر اسے خطرے میں جھونکنے پر آمادہ نہیں ہو رہا تھا ۔
”پریشان نہ ہوں مجھے کچھ نہیں ہوتا ۔“اس نے ایک آئی کام جیب میں ڈالا او رکلاشن کوف ہاتھ میں پکڑتے ہوئے بولی ۔”آئی کام آن کر لینا ،چینل نمبر گیارہ ۔“یہ کہتے ہوئے وہ مورچے سے نکل کر بھاگتے ہوئے ایک نزدیکی چٹان کے عقب میں چھپ گئی ۔وہاں ایک لمحہ ٹھہر کر وہ بھاگتے ہوئے چند گز دور ایک دوسرے پتھر کے پیچھے لیٹ گئی ۔اس دوران دشمنوں کی طرف سے اکا دکا فائر کی آواز آتی رہی۔مگر وہ پتھر سے سر نکالے بغیر فائر کر رہا تھا ۔میرا اندازہ تھا کہ اسے پلوشہ کی حرکت کے بارے معلوم ہی نہیں ہوا ہو گا ۔پتھر کی وہ چٹان اتنی بڑی تھی کہ اس پر راکٹ کا بھی کوئی اثر نہ ہوتا ۔میں نے سنائپر رائفل کی ٹیلی سکوپ سائیٹ میں سے دیکھتے ہوئے اس پتھر پر اپنی شست مرکوز کر دی ۔مگر لگتا یہی تھا کہ قبیل خا ن وہاں سے فرار ہونے کی کوششوں میں تھا اور ایک آدمی اس نے پتھر کے عقب میں صرف اپنے عقب کو محفوظ رکھنے کے لیے چھوڑ دیا تھا ۔اور شاید اس آدمی کو بھی اچھی طرح یہ بھی سمجھا دیا تھا کہ اس کا کوئی عضو نظر آنے کی صورت میں وہ جسم کا حصہ نہیں رہے گا ۔ایسا یقینا اس وجہ سے ہوا ہو گا کہ ان دنوں میں قبیل خان کے ایک ایسے دشمن کے روپ میں سامنے آ رہا تھا جو مسلسل اس پر حملے کر رہا تھا ۔اور میری نشانہ بازی مبالغہ آمیز واقعات کے ساتھ پیش کی جا رہی تھی ۔یہ سارا اندازہ میں اس بنا پر لگا رہا تھا کہ چٹان کے عقب میں چھپا ہوا دشمن اپنے ہاتھ تک کو پتھر کے عقب سے نہیں نکال رہا تھا ۔
پلوشہ بھاگتے ہوئے نالے کے دوسرے سرے پر پہنچ گئی تھی ۔قبیل خان اور اس کے دونوں آدمی اس جانب چھپے تھے جس طرف ان کی گاڑیوں کا رخ تھا ۔جبکہ پلوشہ کا رخ علام خیل کی جانب تھا ۔ کیونکہ اس جانب سے اوپر چڑھا جا سکتا تھا ورنہ تو نالے کے کھڑے کناروں کے اوپر چڑھنا بہت مشکل تھا۔
سڑک کے اوپر پہنچ کر وہ بائیں جانب سے چکر کاٹ کر مزیداوپر چڑھنے لگی ۔یقینا وہ وہاں سے ہوتے ہوئے قبیل خان کے آدمیوں کے عقب میں پہنچنا چاہ رہی تھی ۔
سڑک پر چکر کاٹتے ہی وہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئی ۔میں دوبارہ قبیل خان کے آدمیوں کی جانب متوجہ ہو گیا ۔گو وہ مکمل طور پر پتھر کی چٹان کے عقب میں تھے اس کے باوجود میں نے راکٹ لانچر استعمال کرتے ہوئے بچے ہوئے دو راکٹ اس جانب داغ دیے ۔ تاکہ وہ میرے جانب متوجہ رہیں۔ ان کی طرف سے صرف ایک کلاشن کوف وقفے وقفے سے چند گولیاں اگل دیتی ۔راکٹوں نے اس بڑی چٹان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا ۔اور چٹان کے عقب میں چھپے ہوئے دشمن لامحالہ محفوظ تھے ۔مجھے اپنے اندیشے سچ ہوتے دکھائی دے رہے تھے ۔لیکن اس کے ساتھ یہ اطمینان بھی تھا کہ پلوشہ وہاں پہنچنے ہی والی تھی ۔
اور پھر مجھے ایک نئی کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ سنائی دی ۔دو تین منٹ بعد پلوشہ کی آواز ابھری۔ ”حالات قابو میں ہیں ....اگر قبیل خان کا دیدار کرنا ہے تو نالے میں اتر آﺅ میں اسے وہیں لا رہی ہوں ۔“
اپنے پاس پستول کے ہونے کا یقین کرکے میں نیچے اترنے لگا ۔پلوشہ نے حالات قابو میں ہونے کا مژدہ سنا دیا تھا اس کے باوجود میں بے پرواہی نہیں برت سکتا تھا نیچے اترتے ہوئے مجھے وہ نظر آنے لگی تھی ۔قبیل خان لنگڑاتا ہوا اس کے آگے چل رہا تھا ۔اس موڑ کے آگے چونکہ نالے کے کنارے اس قابل تھے کہ وہاں سے پیدل آدمی نیچے اتر سکتا تھا اس لیے وہ اسے اسی جانب سے نیچے لا رہی تھی ۔
میرے قریب پہنچنے تک اس نے اپنی کارروائی شروع کر دی تھی ۔
قبیل خان کو پہلی مرتبہ میں اس طرح روبرو دیکھ رہا تھا لیکن اس بری حالت میں کہ اس کاکوئی قریبی عزیز بھی اسے نہ پہچان سکتا ۔پلوشہ جنوبہ کیفیت میں اس پر ٹھوکریں برسا رہی تھی ۔قبیل خا ن کا تمام جسم یوں کانپ رہا تھا گویا وہ رعشہ کا مریض ہو ۔وہ بے تحاشااس کی مضروب ٹانگ اور جسم کے نازک حصوں کو اپنی ضربات کا نشانہ بنا رہی تھی ۔
قبیل خان ایک بے رحم ظالم اور غدار شخص تھا لیکن اس وقت مظلومیت کی تصویر بنا نظر آ رہا تھا ۔
”لڑکے !....تم بہت زیادتی کر رہے ہو ،یاد رکھنا میرے آدمی بدلہ ضرور لیں گے ۔“پلوشہ کے ذرا سے دم لینے پر وہ ایک جانب خون تھوکتے ہوئے دھمکی دینے لگا ۔
”پہلے میں اپنا بدلہ تو لے لوں ۔تیرے آدمیوں کو اگر موقع ملا تو یقینا میں منع نہیں کروں گا۔“یہ کہہ کر اس نے دو تین ٹھوکریں اس کے پہلو میں جڑ دیں ۔
”میرا قصور تو بتا دو ۔“اس کے لہجے میں عجیب قسم کی بے بسی اور غصہ ابل رہا تھا ۔
”اگر تو مجھے پہچان لیتا توتجھے یہ سوال کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی ۔“اس کے ساتھ اکڑوں بیٹھتے ہوئے وہ اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی ۔
”تو کرا دو پہچان تاکہ میں معافی مانگنے کے بارے سوچ سکوں ۔“قبیل خان نے جائز بات کہی تھی ۔
”سپوگمائے کو جانتے ہو؟“پلوشہ نے اپنی بڑی بہن کا نام لیا ۔
قبیل خان کا سر نفی میں ہل گیا تھا ۔
”جانو گے بھی کیسے ،کوئی ایک سپوگمائے تو تیری ہوس کی بھینٹ نہیں چڑھی نا ۔“پلوشہ نے زہر خند لہجے میں کہتے ہوئے اس کے سر کے بالوں سے پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے اس کا سر زمین سے ٹکریا ۔
”آہ ....“اس کے منہ سے زوردار کراہ خارج ہوئی ۔
وہ دوبارہ اس کے بالوں سے پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے بولی ۔”قبیل خان !....یاد کرو ایک لڑکی کو تیرے آدمیوں نے لبِ سڑک علام خیل کے مضافات سے اٹھایا تھا ، اس کے چھوٹے بھائی کی مداخلت پر تیرے آدمی نے اس معصوم لڑکے کو لات مار کر چلتی گاڑی سے نیچے پھینک دیا تھا اور بعد میں اس کا والد بھی تیرے درندے محافظ کی گولی کا نشانہ بن گیا تھا۔“
قبیل خان نے ہکلاتے ہوئے پوچھا ۔”تت....تم یامین خان کے کیا لگتے ہو ؟“
”شکر ہے ،اباجان کا نام تو تجھے یاد ہے ۔“
”مم....مگر اس کا تو کوئی بیٹا نہیں تھا ۔“قبیل خان کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”صحیح کہا ۔لیکن بیٹی تو تھی نا ۔“کھڑے ہو کر پلوشہ نے کندھے سے لٹکائی کلاشن کوف ہاتھ میں تھام لی تھی ۔
”بیٹی ....تو کیا ؟“
”ہاں ذلیل انسان میں یامین خان کی بیٹی اور سپوگمائے کی بہن پلوشہ ہوں ۔تیرے مردود ساتھی انار گل کو میں نے ہی واصل جہنم کیا ہے،تیری حویلی میرے ہی ہاتھوں تباہ ہوئی ہے ، روشن خان اور اس کے ساتھیوں کو بھی میں نے انجام تک پہنچایا ہے ۔اب تیری باری ہے ۔“
”تو وہ تم تھیں ۔میں کسی اورکو مورد الزام ٹھہراتا رہا ۔“
”تو تجھے کس پر شک تھا ۔“
”مجھے تو کسی ایس ایس نامی شخص کے بارے خبر ملی تھی ۔“اس نے خیال ظاہر کیا ۔
”فکر نہ کرو ،جسے موردِالزام ٹھہراتے رہے وہ بھی اس کے ساتھ ہی ہے ۔“میں نے پہلی بار زبان کھولی ۔
”ویسے بڑے خوش قسمت ہو مرنے سے پہلے تونے ایس ایس کا دیدار بھی کرلیاہے۔“پلوشہ نے میری جانب اشارہ کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا ۔
”تو میرا اندازہ درست تھا ۔“مجھ پر ایک نظر ڈال کر وہ دوبارہ پلوشہ کی جانب متوجہ ہوا ۔ ”پلوشہ ....دیکھو تم نے اپنا بدلہ لے لیا ،ا ب ہم صلح کر کے اس دشمنی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتے ہیں۔ تم جتنا جرمانہ کہو میں بھرنے کو تیار ہوں ۔“
”ذلیل خان !....تجھے قتل کرنے کے لیے صرف میری بہن کے اوپر بری نگاہ ڈالنے کی وجہ کافی تھی ۔تو نے تو میرا پورا گھرانہ اجاڑ دیا ۔اور جہاں تک دشمنی ختم کرنے کا تعلق ہے تو دشمنی ختم کرنے کا آسان طریقہ دشمن کو قتل کرنا ہوتا ہے نا کہ اس سے مذاکرات کرنا ۔“
”پلوشہ !....میرا خیال ہے ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ اس تماشے کو طول دے سکیں ۔“ ان کی بات چیت لمبی ہوتے دیکھ کر میں لقمہ دیے بغیر نہیں رہ سکا تھا ۔
مجھے تیکھی نظروں سے گھور کر وہ دوبارہ قبیل خان کی طرف متوجہ ہو گئی ۔
”قبیل خان!.... افسوس کہ میں تجھے اتنی اذیتیں نہ پہنچا سکی جتنی میں نے جھیلی ہیں ۔بہ ہرحال تیرے ساتھی کافی بے چینی سے جہنم میں تیرا انتظار کر رہے ہوں گے اس لیے وہاں پہنچنے کی کرو۔“یہ کہتے ہی اس نے کلاشن کوف کی بیرل کا رخ اس کی ٹانگوں کی طرف کر کے دو تین گولیاں داغ دیں ۔وہ کراہتے ہوئے تڑپنے لگا ۔اگلی دفعہ اس نے قبیل خان کے دونوں بازووں کو نشانہ بنایا ۔اور پھر جھک کر کلاشن کوف کی مزل اس کی ٹھوڑی سے لگاتے ہوئے ٹریگر کو مکمل دبا دیا ۔
گولیوں کے برسٹ نے اس کی کھوپڑی کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا تھا ۔فائر رکتے ہی اس نے گھٹنے زمین پر ٹیکے اور دو زانو ہو کر بیٹھ گئی۔ کلاشن کوف اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی تھی ۔وہ یک ٹک قبیل خان کی لاش کو گھور رہی تھی ۔دوتین منٹ انتظار کے بعد میں نے گلا کھنکارتے ہوئے اسے آواز دی۔
”پلوشہ !....میرے خیال میں چلنا چاہیے ۔“
”آں ....“وہ گہرے خیالات سے باہر آکر چونکتے ہوئے مجھے گھورنے لگی ۔اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر خوشی سے بھرپور ہنسی نمودار ہوئی اور کھڑے ہو کر وہ مجھ سے بری طرح لپٹ گئی ۔
”شکریہ راجے !....یہ سب تمھاری وجہ سے ممکن ہوا ۔“
”اچھا ....اچھا ٹھیک ہے ۔“اس کے گداز جسم کا لمس مجھے بوکھلانے کے لیے کافی تھا۔ زبردستی اس کی گرفت سے خود کو آزاد کراتے ہوئے میں نے کہا ۔”یہ شکریہ زبانی کلامی بھی ادا کیا جا سکتا تھا۔ کم از کم اتنا خیال تو کر لیا کرو کہ تم لڑکی ہو ۔“
میری باتوں کا برا منائے بغیر وہ شوخی بھری مسکراہٹ سے بولی ۔”کیا یاد کرو گے آج میں اتنی خوش ہوں کہ قبیل خان کے بعد تمھیں قتل کرنے کے فیصلے کو بھی ترک کرتی ہوں ۔“
”بہت بہت شکریہ ۔“طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے میں نے پوچھا ۔”اب چلیں ؟“
”اگر چاہو تو میں ایک بار اور بھی گلے لگ سکتی ہوں ۔“
”بے حیا ۔“اپنی بے ربط ہوتی دھڑکنوں کو قابو میں کرتے ہوئے میں مورچے کی جانب مڑ گیا۔
”ہا....ہا....ہا۔“اس کا سریلاقہقہہ بلند ہوا ۔مگر میں خاموشی سے چلتا رہا ۔اس تیز طرار لڑکی کا مقابلہ کرنا میرے بس سے باہر تھا ۔
میرے ساتھ قدم ملاتے اس نے کہا ۔”اچھا بات تو سنو ۔“
”جی فرماﺅ۔“میں نے سوالیہ نظروں سے اسے گھورا۔
”قبیل خان کی جیب سے کافی بڑی رقم میرے ہاتھ آئی ہے ۔یہ پسٹل بھی ہاتھ لگا ہے ۔“اس نے گلاک سے اچھا پستول میری نظروں کے سامنے لہرایا ۔”میرا تو خیال ہے باقی تمام کی تلاشی بھی لے لیتے ہیں ۔یقینا کافی رقم ہاتھ لگے گی ان کی کلاشن کوفیں بھی سمیٹ کر کہیں چھپا دیتے ہیں ۔“
”نہیں، ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے ۔اگر گھات میں آتے ہی قبیل خان نے اپنے آدمیوں کو آئی کام پر بتا دیا ہوا تو وہ آتے ہی ہوں گے ۔“
اس نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”اگر ایسا ہوتا تو اب تک اس کے آدمی پہنچ گئے ہوتے ۔“
”اگر اس کے آدمی نہیں تو کوئی اور تو پہنچ سکتا ہے ۔بلکہ پہنچ گیا ہے ۔“ سفید رنگ کی کار موڑ مڑ کر تباہ شدہ گاڑیوں کے قریب رک رہی تھی ۔
”تو اس سے ہمیں کیا فرق پڑے گا ۔“وہ مصر ہوئی ۔
اس سے پہلے کہ میں اس کی بات کا جواب دیتا مجھے علام خیل کی طرف سے تین چار ڈبل کیبن اس طرف آتی دکھائی دیں ۔
”وہ نظر آرہی ہیں ۔“میں نے قدموں کی رفتار میں تیزی لاتے ہوئے اسے گرد کا طوفان اڑاتی گاڑیوں کی جانب متوجہ کیا ۔
”اگر یہ اس کے آدمی ہوتے تو انھیں کچھ دیر پہلے پہنچنا چاہیے تھا ۔“
”ہو سکتا ہے اس نے گولی لگنے کے بعد فرارہوتے وقت انھیں مدد کو پکارا ہو ۔“میں اپنے مورچے والی جگہ پر پہنچ گیا تھا ۔بیرٹ ایم 107کو کندھے پر رکھتے ہوئے میں نے خیال ظاہر کیا ۔
اس نے سامان کا تھیلا پشت پر لادا راکٹ لانچر کندھے پر رکھا اوردائیں ہاتھ میں کلاشن کوف تھامتے ہوئے چڑھائی چڑھنے لگی ۔میں نے اس کے پیچھے قدم بڑھا دیے تھے ۔ہماری چڑھائی چڑھنے سے پہلے تینوں گاڑیاں وہاں پہنچ گئی تھیں ۔ہر گاڑی میں چار پانچ مسلح آدمی سوار تھے ۔اگلی گاڑی سے اترنے والے دو آدمی سفید کار کی جانب بڑھ گئے ۔ان کی باتوں کے دوران ہم بلندی پر پہنچنے والے تھے ۔ میں مسلسل انھی کی جانب متوجہ تھا ۔سفید کار والے نے ہاتھ اٹھا کر ہماری جانب اشارہ کیا تھا شاید اس نے ہمیں نالے سے بلندی کی جانب حرکت کرتے دیکھ لیا تھا ۔سفید کار والے سے بات چیت کرنے والے دونوں آدمیوں نے ہاتھ میں پکڑی کلاشن کوفوں کا رخ ہماری جانب کرتے ہوئے فائر کھول دیا ۔
بلندی کے آخری چند قدم ہم نے دوڑ کر طے کیے اور اوپر پہنچتے ہی ایک چٹان کی آڑ لے کر خود کو اس اندھا دھند فائرنگ سے محفوظ کر لیا ۔
”یہ یقینا پیچھا کریں گے ۔“پلوشہ نے خیال ظاہر کیا ۔اس کے لہجے میں ذرا بھر تشویش شامل نہیں تھی ۔میں نے بارہا جانچا تھا کہ وہ بہت دلیر اور بہادر تھی ۔
”چلو پھر ان کے تعاقب میں ذرا رکاوٹ پیدا کر دیں ۔“بیرٹ ایم 107کی دوپائی کھول کر میں نے نیچے رکھ دی ۔
اس نے اب تک خالی میگزین ہی چڑھائی ہوئی تھی ۔پشت پر لدا تھیلا اتار کر وہ اس میں سے بھری ہوئی میگزین نکال کر کلاشن کوف پر چڑھانے لگی ۔اس دوران میں ٹیلی سکوپ سائیٹ کے شیشوں کی حفاظت کرنے والے کور اتار کر نالے میں اترنے کے لیے مناسب جگہ تلاش کرنے والے مسلح افراد کا نشانہ لے چکا تھا ۔پہلی بار میں نے اس آدمی کو نشانہ بنایا جو جھک کر نالے کے سیدھے کنارے سے نیچے کے لیے پر تول رہا تھا ۔اپنے ہتھیار سمیت وہ دس پندرہ گز کی اونچائی سے نیچے گرا تھا ۔باقیوں کے چونکنے اور سنبھلنے تک اور ایک آدمی بھی اپنے سردار قبیل خان کے پاس پہنچ چکا تھا ۔وہ سرپٹ دائیں بائیں بھاگے اور میرے تیسرے فائر سے پہلے انھوں نے خود کو گاڑیوں اور پتھروں کی آڑ میں کر لیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی کئی کلاشن کوفیں گولیاں اگلنے لگیں ۔سفید کار کے ساتھ موجود آدمی بھی ایک دم زمین پر لیٹ گیا تھا ۔
آدمیوں کے غائب ہوتے ہی میں گاڑیوں کے ٹائروں کو نشانہ بنانے لگا ۔تینوں گاڑیوں کے اپنی طرف والے چھے ٹائروں کو بے کا رکر کے میں نے ٹیلی سکوپ سائیٹ کے شیشوں پر دوبارہ کور چڑھائے اور پلوشہ کو کہا ۔
”کیا خیال ہے چلیں ۔“
”چلو ۔“وہ فوراََ میرے ساتھ متفق ہو گئی تھی ۔
اسی طرح زمین پر لیٹے لیٹے ہم پیچھے کی طرف کھسکے اور جونھی ایسی جگہ پر پہنچے جہاں کھڑے ہو کر بھی ہم ان کی نظروں میں نہیں آ سکتے تھے وہاں سے اٹھ کر عقبی جانب موجود ڈھلان میں اترنے لگے ۔ دشمنوں کی طرف سے مسلسل فائر کی آواز متواترہمارے کانوں میں پہنچ رہی تھی ۔ہم تیز رفتاری سے وہاں سے دور ہٹنے لگے ۔گو وہ پندرہ بیس آدمی ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے لیکن مقابلہ طول کھینچتا تو ان کی مدد کو مزید آدمی بھی پہنچ سکتے تھے یوں بھی قبیل خان کے پاس بہت بڑا لشکر موجود تھا ۔
تھوڑی دیر بعد فائرنگ کی آواز میں وقفہ آنے لگا اور پھر فائرنگ بالکل ہی رک گئی ۔یقینا انھیں بھی محسوس ہو گیا تھا کہ وہ یک طرفہ فائرنگ کر رہے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود مجھے امید یہی تھی کہ وہ اتنی جلدی آڑ سے باہر نکل کر ہمارا پیچھا نہیں کر سکتے تھے ۔شاید قبیل خان آئی کام پر انھیں میرے بارے بھی بتا چکا ہو کیونکہ اس کی آخری گفتگو سے یہی اندازہ ہو رہا تھا کہ اس نے اپنے آدمیوں کو بلاتے ہوئے کچھ نہ کچھ ضرور بتایا ہوگا۔اسی بات کا ذکر اس نے اپنی آخری گفتگو میں بھی کیا تھا ۔اگر قبیل خان نے نہیں بتایا تھا تب بھی اپنے مرنے والے آدمیوں اور گاڑیوں کے پھٹنے والے ٹائر ان کے سامنے تھے ۔
اس پہاڑی کے عقب میں موجود نالے میں اترتے ہی وہ نالے ہی میں آگے بڑھنے لگی ۔میں اس کے ساتھ قدم ملا کر چل رہا تھا ۔وہاں سے تھوڑی دور آتے ہی اس نے ایک مناسب جگہ پر راکٹ لانچر کو چھپا دیا کہ بغیر راکٹوں کے وہ ہمارے لیے فالتو وزن ہی تھا ۔
راکٹ لانچر سے جان چھڑا کرہمارا سفر دوبارہ شروع ہو گیا ۔ودتین گھنٹوں بعد ہم وہاں سے کافی دور نکل آئے تھے ۔اس دوران ہم نے ایک اور بلندی سر کے اس کی دوسری جانب ڈھلوان میں نیچے اتر گئے تھے ۔سورج پہاڑوں کے عقب میں چھپ گیا تھا ۔روشنی آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی تھی ۔دور سے نظر آنے والے چند گھروں کو دیکھ کر پلوشہ نے اپنی سمت تبدیل کی اور بائیں ہاتھ موجود پہاڑی پر چڑھنے لگی ۔اسی وقت جھاڑیوں کے عقب سے گدھے پر لکڑیاں لادے ایک ادھیڑ عمر شخص نمودار ہوا ۔اس کا رخ چند سو گز دور نظر آنے والے گھروں کی جانب تھا ۔اس نے ہمیں دیکھ لیا تھا ۔ہمیں اسے نظر انداز کیے ڈھلوان پر چڑھتے رہے۔پہاڑی پر پہنچتے ہی وہ دوسری جانب اترے بغیر اوپر ہی اوپر چلنے لگی ۔مسلسل چلنے کی وجہ سے ہمارا پسینہ بہنے لگا تھا ۔مجھے سخت پیاس محسوس ہو رہی تھی ۔
”پانی تو دے دو ۔“میں نے نام لیے بغیراسے آواز دی۔
سفری تھیلے سے پانی کی بھری بوتل نکال کر اس نے میری جانب بڑھائی اور ایک پتھر پر بیٹھ گئی۔میں بھی ایک ہموار پتھر دیکھ کرنیچے بیٹھ گیا ۔شام کا ملگجا اندھیراتاریکی میں تبدیل ہونے لگا تھا ۔
پانی پی کر میں نے بوتل اس کی جانب بڑھادی ۔بوتل لے کر اس نے منہ سے لگا لی ۔
چند منٹ آرام کرنے کے بعد وہ کھڑی ہو گئی ۔
میں نے اٹھتے ہوئے پوچھا ۔”ویسے ہم کہاں جا رہے ہیں ؟“
”ابھی ہم جس طرف نکل آئے ہیں یہ علاقہ میرا بھی دیکھا بھالا نہیں ہے ۔صبح کی روشنی ہی میں اندازہ لگا سکوں گی کہ ہمارا رخ کس جانب ہے ۔“
”تو کیا ساری رات ہم یونھی ٹامک ٹائیاں مارتے رہیں گے ۔“
کوئی مناسب جگہ دیکھ کر رات گزار لیتے ہیں ۔“وہ بھی میری طرح آرام کرنے کے حق میں تھی ۔ہم اسی طرح بلندی پر سفر کرتے رہے ۔دس پندرہ منٹ بعد وہ پہاڑی دائیں جانب ایک دوسری پہاڑی کی طرف مڑ گئی لیکن دونوں پہاڑیوں کے بیچ گہری جگہ موجود تھی ا ب اندھیرے میں یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ دبی ہوئی جگہ کتنی گہری تھی ۔اندھیرا کافی گہرا ہو گیا تھا ۔مجھے ٹھوکر لگی اور میں نے بہ مشکل خود کو گرنے سے بچایا ۔
میں نے فوراََ کہا ۔”ٹارچ تو جلا لو ۔“
تھیلے سے ٹارچ نکال کر اس نے میری جانب بڑھا دی ۔وہ اترائی اتنی زیادہ نہیں تھی ۔اس دبی ہوئی جگہ کے بعد ہمارے سامنے ایک پہاڑی کی بلندی شروع ہو رہی تھی جبکہ دائیں بائیں دو نالوں کی اترائی تھی ۔بجائے اوپر جانے کے وہ بائیں نالے میں اترنے لگی ۔نالہ کافی تنگ تھا ۔ٹارچ کی روشنی دائیں بائیں پھینک کر میری نظریں کسی مناسب جگہ کی تلاش میں بھی بھٹک رہی تھیں ۔ساری دن کی بھاگ دوڑ کے بعد میں کافی تھکن محسوس کر رہا تھا ۔کوشش کے باوجود کوئی مناسب جگہ نظر نہیں آ رہی تھی ۔
”پستول تیار حالت میں رکھو یہاں کسی جنگلی جانور سے بھی مڈبھیڑ ہو سکتی ہے ۔“کافی دیر کی خاموشی کے بعد اس کی آواز ابھری تھی ۔
”ہونہہ !....“کرتے ہوئے میں نے ٹارچ بائیں ہاتھ میں تھامتے ہوئے دائیں ہاتھ میں بریٹا تھام لیا تھا ۔بیرٹ ایم 107یوں بھی میں نے پیٹھ پر لادی ہوئی تھی ۔
نالے کا اختتام ایک چوڑے نالے میں ہوا تھا ۔اگلے دو گھنٹے ہم اسی نالے میں چلتے رہے اس دوران دو تین آبادیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا ۔ہمارے سفر کا اختتام درختوں کے جھنڈ میں چھپے ہوئے اکیلے مکان پر ہوا جو کہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔دروازے پر جھولتے تالے نے ہمیں مکان کے خالی ہونے کا مژدہ سنایا ۔
پلوشہ نے کہا ۔”میرا خیال ہے یہی جگہ مناسب ہے ۔“
”صحیح کہا ۔“میں نے پستول کو نال سے پکڑ کر دستے سے تالے کو ضرب لگائی ۔چھوٹا سا تالا فوراََ کھل گیا ۔اندر داخل ہو کر ہم نے دروازہ اندر سے کنڈی کیا ۔ٹارچ کی روشنی پھینک کر میں نے جائزہ لیا۔ وہ ایک چھوٹا سا مکان تھا ۔داخلی دروازے والی جانب چھوڑ کر مکان کے تین اطراف میں دو دو کمرے بنے ہوئے تھے ۔مقامی طرز تعمیر کے مطابق چھت پر دو مورچے بھی بنے ہوئے تھے ۔کمروں کے سامنے برآمدہ موجود نہیں تھا ۔سامنے والے دو کمروں کے دروازوں کو تالے لگے ہوئے تھے جکہ باقی کمروں کے دروازے باہر سے کنڈی تھے ان میں تالے لگے ہوئے نہیں تھے ۔پلوشہ نے ایک کمرے کا تالا توڑ کر دروازہ کھولا میں نے قریب ہو کر اندر ٹارچ کی روشنی پھینکی ۔کمرے میں بان کی بنی ہوئی تین چارپائیاں دیواروں کے ساتھ ترتیب سے پڑی تھیں ۔ایک کونے میں لوہے کی بڑی پیٹی رکھی تھی اور اس پر دو ٹرنک رکھے ہوئے تھے ۔تینوں چارپائیوں پر ایک ایک تکیہ رکھا ہوا تھا ۔کھجور کے پتوں سے بنی دوتین چٹائیاں لپیٹی ہوئی لوہے کی پیٹی پر رکھی تھیں ۔چند استعمال کے برتن بھی ایک کونے میں دھرے تھے ۔ کمرے کا جائزہ لے کر ہم نے دوسرے کمرے کا تالا توڑنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔لوہے کی بڑی پیٹی میں ہمیں بستر رکھے ہوئے بھی مل گئے تھے ۔پیٹی کے اوپر رکھے ٹرنکوں میں زنانہ و مردانہ ملبوسات بھرے تھے ۔یوں لگتا تھا جیسے گھر والے عارضی طور پر کہیں گئے ہوں ۔ا س کمرے کا دروازہ بھی اندر سے کنڈی کر کے ہم نے دو بستر چارپائیوں پر بچھائے اور لیٹ گئے بریٹا پستول میں نے تکیے کے نیچے ہی رکھ دیا تھا ۔یوں بھی رات کے وقت کسی کے وہاں آنے کا امکان نہ ہونے کے برابرتھا ۔قبیل خان کے آدمی بھی اتنی سرعت سے ہمارے پیچھے وہاں نہیں پہنچ سکتے تھے ۔میں نے سوچ لیا تھا کہ اگلی صبح ڈی بلاک کر پہنچنے کی کوشش کروں گا ۔پلوشہ کا کام اب ختم ہو چکا تھا یقینا وہ خدا حافظ کرنے میں تاخیر نہ کرتی ۔اس کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا تھا ۔
موسم ایسا نہیں تھا کہ ہمیں رضائی لپیٹنے کی ضرورت پڑتی ۔تھکن کی وجہ سے میں زیادہ دیر تک سوچوں کا کھیل جاری نہیں رکھ سکا تھا ۔صبح میری آنکھ پلوشہ کے چارپائی سے اٹھنے پر ہوئی وہ شاید بیت الخلا کی تلاش میں باہر جا رہی تھی ۔میں لیٹا رہا ۔اس کی واپسی کافی دیر بعد ہوئی تھی ۔لیکن اس کے ایک ہاتھ میں پراٹھوں کا چھابہ اور دوسرے ہاتھ میں پکڑی کیتلی نے مجھے حیران کر دیا تھا ۔
”یہاں باورچی خانہ موجود ہے تھوڑا بہت سامان بھی پڑا تھا بس ایک دو تالے توڑنے پڑے۔“میری آنکھوں میں سوالیہ حیرانی دیکھتے ہوئے اس نے فوراََ وضاحت کر دی تھی ۔
میں نے پسندیدگی کے انداز میں سر ہلاتے ہوئے تھیلے سے پانی کی بوتل نکالی اورکمرے سے باہر جا کر پانی کے چھینٹے منہ پر مارنے لگا۔منہ دھوکر میں اندر آ گیا ۔وہ میری ہی منتظر تھی ۔ہم خاموشی سے ناشتا کرنے لگے ۔پلوشہ خاموش خاموش سی تھی۔ اس کی خاموشی میرے لیے حیران کن تھی لیکن میں نے اسے چھیڑنے کی کوشش نہ کی ۔
دودھ نہ ہونے وجہ سے اس نے قہوہ بنایا تھا ۔قہوہ پی کر اس نے میری جانب دیکھے بغیر آہستہ سے پوچھا ۔”تو اب کیا ارادہ ہے ؟“
”ارادہ کیا ہونا ہے ۔یہاں سے میں ڈی بلاک کا رخ کرتا ہوں اور تم پہنچو انگور اڈے ۔اب یوں بھی اپنا کام مکمل ہو گیا ہے ۔“
”کیا ....؟“مجھے اس کے چہرے پر غیظ و غضب کے آ ثار ابھرتے نظر آئے ۔
اس کا غصہ میرے لیے حیران کن تھا ۔”اس میں حیران ہونے یا غصہ ہونے کی کیا بات ہے؟“میں پوچھے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔
”تم ایک بزدل ،کم ہمت اور بے وقوف شخص ہو ۔مجھے تمھیں قتل کرنے کا ارادہ تبدیل نہیں کر نا چاہیے تھا ۔یقینا ماہین نے بالکل ٹھیک کیا تھا تمھارے ساتھ، تم ہو ہی اس قابل ۔“ وہ بپھرتے ہوئے بولی۔
” دماغ تو ٹھیک ہے؟“میں نے ہکلاتے ہوئے پوچھا۔ گواس کی گفتگو کا سر پیر نظر نہیں آ رہا تھا ۔مگر ایک دم مجھے اس کی بے سروپا باتوں میں چھپا مکمل شکوہ نظر آنے لگا ۔وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی ۔اور اس کی یہ بھی خواہش تھی کہ میں اسے خود روکوں ۔مگر اب میں کوئی نیا زخم کھانے پر تیار نہیں تھا ۔وہ جتنی بھی با صلاحیت ہوتی ،جتنی بھی خوب صورت ، چنچل اور شوخ ہوتی میرے لیے عورت ذات تھی ۔ایک ایسی صنف جس سے مجھے ہمیشہ دکھ ،درد اور دھوکا ہی ملا تھا ۔
”اب ٹھیک ہو گیا ہے ۔بزدل، احمق ۔سڑتے رہو اکیلے ،بھاڑ میں جاﺅ ،میں تھوکتی بھی نہیں ہوں تم پر ،اتنے یوسف ثانی نہیں ہو کہ میں تمھارے پیچھے بھاگتی پھروں ۔“ایک ایک لفظ چبا کر کہتے ہوئے وہ مڑی چارپائی پر پڑی اپنی کلاشن کوف اٹھائی اور دروازے کی جانب بڑھ گئی ۔دروازے کے قریب پہنچ کر وہ رکی اور میرے جانب مڑتے ہوئے نیفے میں اڑسا گلاک نکال کر زہر خند لہجے میں بولی ۔
”اپنا کھلونا بھی پاس رکھو اور یہ پیسے بھی لے لو کہیں بعد میں پچھتاتے نہ رہو ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے جیب سے پانچ پانچ ہزار والے چند نوٹ اور گلاک نائینٹین میری جانب اچھا ل دیے ۔
میں خالی خالی نظروں سے اسے جاتے دیکھتا رہا ۔میں جانتا تھا وہ جانا نہیں چاہتی تھی۔وہ میرے ساتھ رہنا چاہتی تھی ، میرے زخموں پر مرہم رکھنا چاہتی تھی ، مجھے سمیٹنا چاہتی تھی ،عورت ذات کے بارے میرے دل میں جو بغض اور کینہ بھرا تھا اسے ختم کرنا چاہتی تھی ۔لیکن مجھ میں اب اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ دل پر کوئی تازہ گھاﺅ برداشت کر سکتا ۔حالانکہ وہ کئی بارپہلے بھی اشارے ،کنائے میں مجھے اپنی پسندیدگی باور کرا چکی تھی ،لیکن آج تو اس نے سب کچھ کھل کر کہہ دیا تھا ۔
کمرے سے نکلتے ہی وہ میری نگاہ سے اوجھل ہو گئی تھی کہ داخلی دروازہ اس کمرے سے نظر نہیں آتا تھا ۔اس کے باہر جاتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے کمرے میں اندھیرا چھا گیا ہو ۔صبح کے آٹھ نو بجے تاریکی محسوس ہونے لگی تھی ۔اچانک مجھے اپنی سرگوشی سنائی دی ۔
”اب بھی وقت ہے اسے روک لو ۔“مگر میں اس تنبیہہ پر عمل نہ کر سکا اور بیٹھا رہا ۔ لمحے گھڑیوں میں بیتے اور میں اسے نہ روکنے کے فیصلے پر پچھتانے لگا ۔یہ سوچتے ہوئے کہ پلوشہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلی گئی ہے مجھے سانس لینا دشوار لگنے لگاتھا ۔
” اب بھی اس کے پیچھے جا کر اسے واپس لا سکتا ہوں ۔“میں نے خود کو تسلی دی ۔لیکن ساتھ ہی یہ روح فرسا خیال میرے دماغ میں گونجا کہ وہ نہ جانے کس سمت کو گئی تھی اور پھر میرے پاس اس کے گھر کا پتا موجود نہیں تھا۔انگور اڈے میں وہ اپنے ماموں کے پاس رہتی تھی،لیکن نہ تو مجھے اس کے ماموں کا نام معلوم تھا اور نہ اس کے گھر کا پتا معلوم تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ وہ اب وہاں سے بھی کہیں چلی جاتی اور پھر وزیرستان میں ایک لڑکی کو تلاش کرنا بھوسے کے ڈھیر سے سوئی تلاشنے سے بھی مشکل تھا۔ یوں بھی عورتیں عموماََ گھر میں رہتی ہیں ۔پردے کی بھی اچھی خاصی پابندی کی جاتی ہے ۔اس نے اپنے دشمن کو ٹھکانے لگا دیا تھا اب یقینا اس کی والدہ اور ماموں وغیرہ اس کے لڑکوں کی طرح گھومنے پر پابندی عائد کر دیتے ۔وہ خود بھی اپنی صنف سے بھاگ تو نہیں سکتی تھی ۔پہلے تو مجبوری کی وجہ سے اس نے لڑکے کا بھیس بھرا تھا اب تواسے ایسا کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔سب سے بڑھ کر وہ عورت کے روپ میں قبیل خان کے آدمیوں سے چھپ سکتی تھی ۔پلو خان کو تلاش کرنے والے کب کسی پلوشہ کا برقع الٹنے کا سوچ سکتے تھے ۔ مجھے لگا میں موقع گنوا چکا ہوں بہ قول شاعر
میں خود تھا اپنی جان کے پیچھے پڑا ہوا
میرا شمار بھی تو میرے دشمنوں میں تھا
”اس کے پاس آئی کام بھی تو تھا ۔“اچانک میرے ذہن میں خیال آیا اور میں اچھل پڑا ۔میں فوراََ چارپائی پر پڑے تھیلے کی جانب لپکا اور تھیلے کو چارپائی پر الٹ دیا ۔اندر سے برآمد ہونے والے دونوں آئی کام میرا منہ چڑا رہے تھے ۔
اسی وقت میری نظر اس کے فالتو لباس پر پڑی جو وہ اپنے ساتھ لائی تھی ۔ اگلے ہی لمحے اس کی کالی قمیص میرے ہاتھوں میں تھی ۔اسے چہرے سے لگاتے ہوئے میں نے ایک گہرا سانس لیا پلوشہ کے بدن کی مہک میرے رگ و پے میں اتر تی چلی گئی۔ قمیص کو بازوﺅں میں بھینچتے ہوئے میں اپنی چارپائی کے پاس آیا اور نڈھال انداز میں لیٹتے ہوئے میں نے وہ قمیص ہونٹوں سے لگا کرچہرے پر رکھ لی تھی ۔
”تم ایک بزدل ،کم ہمت اور بے وقوف شخص ہو۔“میرے دماغ میں اس کا غیظ و غضب سے پر لہجہ گونجا ۔اور مجھے اس کے الفاظ پر یقین آ گیا ۔واقعی میں ایسا ہی تو تھا ۔اگر کم ہمت نہ ہوتا تو اسے کیوں کر جانے دیتا ۔خاص کر جب اس نے اتنے غصے کا اظہا رکر ہی دیا تھا اس کے بعد تو اسے روکنا میرا حق بنتا تھا ۔لیکن میں خود میں حوصلہ پیدا نہیں کر سکا تھا ۔میری یہ سوچ ہی غلط تھی کہ ہر عورت دھوکے باز ہوتی ہے ۔مجھے دھوکا تو صرف ماہین نے دیا تھا رومانہ بے چاری نے تو فقط اپنی شادی کی بات مجھ سے چھپائی تھی اور ایسا اس نے میری محبت میں ڈوب کر کیا تھا نہ کہ مجھے دھوکا دینے کی غرض سے ۔باقی جینفر تھی تو اس کا مسئلہ ہی علاحدہ تھا ۔اپنے ملک کے لیے اسے اتنا جھوٹ تو بولنا ہی چاہیے تھا ۔جانے میں کتنی دیر خود کو کوستا رہا ۔میرے سارے نظریات اور سوچوں پر پلوشہ کے جانے سے پانی پھیر گیا تھا۔دل کی ایک ہی رٹ تھی ”وہ مجھے چاہیے اور بس چاہیے ۔“
مجھے وہاں سے واپس جانا چاہیے تھا ۔اب وہاں رہنا مناسب نہیں تھا لیکن مجھ میں طاقت ہی ختم ہو گئی تھی ۔یوں لگ رہا تھا جیسے پلوشہ نہ گئی ہو میرے جسم کی طاقت کہیں چلی گئی ہو ۔
جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Background image: Footer
Back
Top