خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • If you are unable to access the site, please try accessing it via a VPN.
    Try these VPN apps — CLICK HERE
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller شوٹر۔۔۔۔سنائپر ۔۔۔تیسرا پارٹ۔۔۔۔ریاض عاقب کوہلر

شوٹر(سنائپر 3)
قسط نمبر38
ریاض عاقب کوہلر
مہیش بابو کے آدمی ایک لمحے کو تو سن ہو گئے تھے۔ان کے وہم و گمان میں بھی یہ صورت حال نہیں تھی۔اور پھر اچانک ہوش میں آتے ہوئے وہ ہڑبڑا کر اٹھے اور مہیش کے تڑپتے وجود کو سنبھالنے لگے۔
پاسکل کی اطمینان بھری آواز گونجی۔”شاید تمھیں لگ رہا ہے کہ تم محفوظ ہو مگر ایسا بالکل نہیں ہے۔“
”مسٹر پاسکل!میں نے کوشش کی تھی کہ معاملہ افہام و تفہیم سے نبٹ جائے،مگر مثل مشہور ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے مان جائیں تو انھیں بھوت کون کہے۔،وہ سو چھتربھی کھاتے ہیں اور سو پیاز بھی تب جا کر ان کی سمجھ میں آتا ہے کہ پنگا نہیں لینا چاہیے تھا۔“
وہ دانت پیستے ہوئے بولا۔”مانتا ہوں تمھیں ڈھیل دے کر غلطی کی ہے،مگر اب تم پاسکل کا اصل روپ دیکھو گے۔“
”اگر غلطی تسلیم کرتے ہو تو پھر بھگتو۔“تند لہجے میں کہتے ہوئے میں نے رابطہ منقطع کر کے موبائل فون جیب میں ڈال لیا تھا۔اس کے ساتھ ہی میرا دماغ اس الجھی ہوئی پہیلی کو سلجھانے لگا کہ آخر وہ کس طرح میرے ہر ٹھکانے پر پہنچ جاتا تھا۔
اچانک مہیش بابو کو سنبھالنے والے افراد میں سے ایک اچھل کر پیچھے گرا اور ایڑیاں رگڑنے لگا۔
میں چیخا۔”سبھی آڑ میں ہو جاﺅ....آڑ میں ہو جاﺅ۔“
وہ چونک کر سنبھلے مگر اسی دم وکرم کی کھوپڑی سے سرخ فوارا ابل پڑا تھا۔بچ جانے والے دونوں چھلانگ لگا کر میرے قریب لیٹ گئے تھے۔ان کی ہٹ دھرمی نے دو اور جانیں لی تھیں اگر وہ پہلے میری ہدایت پر عمل کر لیتے تو مہیش کے علاوہ کسی کو کچھ نہ ہوتا۔
میرے قریب لیٹے ہوئے افراد میں سے ایک غیظ و غضب بھرے انداز میں غرایا۔”کیا تم گولیاں چلانے والے سے واقف ہو۔“
میں نے انکشاف کیا۔”پاسکل نام کا ایک اسرائیلی سنائپر ہے ،بس اتنا ہی جانتا ہوں۔“
دوسرا دانت پیستے ہوئے بولا۔”اور تمھاری دشمنی کی بھینٹ ہمارے تین ساتھی چڑھ گئے ہیں۔“
میں رکھائی سے بولا۔”بہتر ہو گا یہ جواب قاتل سے مانگو۔“
اسی دم چوکیدار بھاگتا ہوا وہاں پہنچا۔اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔میں نے چلا کر تنبیہ کی ۔”آڑ میں ہوجاﺅ........“
”یہ کیا ہوگیا........“بے چارہ صرف اتنا ہی بول پایا تھا کہ پاسکل کی مہارت کا ایک اور ثبوت سامنے آیا،گولی اس کی کھوپڑی کے دائیں جانب گھس کر پورے ماتھے کو اڑا لے گئی تھی۔ اس کے پاس بڑے قطر کی لمبے فاصلے پر مار کرنے والی سنائپر رائفل تھی۔وہ بیرٹ ایم ون او سیون،رینج ماسٹر، چیٹیک ایم ۰۰۲،ٹیک ففٹی،آرٹیک وارفیئر،اے ایس ففٹی وغیرہ کوئی بھی ہو سکتی تھی۔چھوٹے قطر کی رائفلیں صرف آدمیوں کے خلاف (اینٹی پرسنل رول) پر استعمال ہوتی ہیں۔ان میں عموماََسات اعشاریہ چھے پانچ ایم ایم قطر کا ایمونیشن استعمال ہوتا ہے۔جبکہ بڑے قطر کی رائفلیں آدمیوں کے ساتھ سازو سامان کی تباہی (اینٹی مٹیریل رول)کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں۔ان میں عموماََ بارہ اعشاریہ سات ایم ایم (اعشاریہ پچاس)قطر کی گولیاں استعمال ہوتی ہیں اور ایک ایسی گولی کا ہدف جب انسانی جسم ہو تو مضروب عضو میں گہرا اور چوڑا شگاف ڈال دیتی ہے۔
چوکیدار کے گرتے مہیش بابو کے ناراض ساتھی نے لیٹے لیٹے میرے گریبان میں ہاتھ ڈالا۔ ”تم اسی وقت دفع ہو جاﺅ ورنہ میں خود تمھیں قتل کر دوں گا۔“
میں نرم لہجے میں بولا۔”ہوش کے ناخن لو دوست!ہمارا دشمن ایک ہی ہے۔“
اس نے دوسرا ہاتھ بھی میرے گریبان میں ڈالا اور ایسا کرتے ہوئے اس کا سر چبوترے کی آڑ سے اتنا اوپر اٹھ گیا تھا کہ پاسکل جیسے سنائپر کو لبلبی دبانے کا موقع مل گیاتھا۔وہ طیش بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا۔”تمھاری کوئی بکواس نہیں سننا،فوراََ سے پہلے ........“اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہیں رہی تھی۔اسے زور دار جھٹکا لگا اور وہ پیٹھ کے بل زمین پر جا پڑا۔
آخری بچ جانے والاسہم کر زمین سے چمٹ گیا تھا۔اس کی رنکھی آواز میری سماعتوں میں گونجی۔ ”یی....یہ کیا بلا ہے؟“
”اس بلا کو سنائپر کہتے ہیں دوست!“
اس نے پوچھا۔”کہاں سے فائر کر رہا ہے؟“
میں نے کہا۔”سامنے اونچے ٹیلے کی بلندی پر لیٹا ہے۔“
”اب کیا کریں گے؟“مجھے کوسنے کے بجائے اسے جان کے لالے پڑ گئے تھے۔
میں فلسفیانہ انداز میں بولا۔”یہی سوال تمھارے مرنے والا ساتھی کرتا تو شاید اتنی جلدی اس کا نامہ¿ اعمال نہ لپیٹا جاتا۔“
”کک ....کیا مطلب؟“یقینا نامہ¿ اعمال کی اصطلاح اس کے لیے ناقابل فہم تھی۔
”وضاحت کو رہنے دو،مختصر یہ سمجھ لو کہ تمھیں کیا کرنا ہے۔“
”بتائیں مہاراج.... بالکل وہی کروں گا جو تم کہو گے۔“
میں نے حل بتایا۔”یہیں لیٹے رہو اور کوشش کرو کہ تمھارے جسم کا کوئی حصہ آڑ سے باہر نہ جھلکے۔پہلے میں رینگتا ہوا گیراج تک جاﺅں گا،بعد میں تم بھی میرے انداز میں وہاں پہنچ جانا۔“
”سمجھ گیا۔“اس نے اثبات میں سرہلا دیا تھا۔
لیٹے لیٹے ایس آر ون کا بیگ کندھوں میں ڈال کر میں چبوترے کی آڑ میں رہتے ہوئے برآمدے نما گیراج کی طرف رینگنے لگا۔زمین کے مطابق حرکت کرنے کے طریقے کو میدان کاری یا فیلڈ کرافٹ کہتے ہیں اور پاک آرمی کے جوانوں کو دشمن کی نظروں سے بچنے کو حرکت کے مختلف طریقے سکھائے جاتے ہیں جن میں چیتا چال،بندر چال،بلی کے بچے کی چال،بھوت چال،سنائپر چال وغیرہ کافی مشہور ہیں۔یہ تمام چالیں جن اسموں سے مُعَن±وَن ہیں بعینہ اسی جانور کی مخصوص چال کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔سنائپر چال میں حرکت بالکل سنٹی میٹروں کے حساب سے ہوتی ہے اور یہ طریقہ اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب بندہ دشمن کے بالکل قریب ہو۔گو خطرہ اس وقت بھی زیادہ تھا اور ایک منجھا ہوا سنائپر میری تاک میں تھا،لیکن مجھے چبوترے کی آڑ میسر تھی۔اس لیے میں چیتا چال چل سکتا تھا۔میں تیزی سے حرکت کرتا ہوابرآمدے میں پہنچ گیاتھا۔ایک جیپ کی آڑ میں بیٹھ کر میں نے سرعت سے بیگ سے ایس آر ون نکالی اوراسے جوڑ کر ایک ستو ن کی آڑ میں لیٹ گیا۔
میں نے سب سے پہلے فاصلہ ناپا جو تیرہ سو میٹر تھااور ایلی ویشن ناب کی مدد سے مطلوبہ کلک لگا دیے۔ چونکہ ہوا بالکل رکی ہوئی تھی اس لیے میں نے ڈیفلیکشن ناب کو چھیڑنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ایلی ویشن ناب سے فاصلہ منتخب کیا جاتا ہے اس لیے ہر نئے فاصلے پر ہتھیار لے کرتے وقت کلکس کے اندر مطلوبہ تبدیلی لازماََ کرنا ہوتی ہے، جبکہ ڈیفلکیشن ناب سے دائیں بائیں کی غلطی دور کی جاتی ہے، اس لیے اسے اسی وقت چھیڑا جاتا ہے جب دائیں یا بائیں سے ہوا چل رہی ہو،ورنہ اسے درمیان میں رہنے دیا جاتا ہے۔
ٹیلے کے اوپر مجھے ریت کی چھوٹی سی ڈھیری نظر آرہی تھی،یقینا سنائپر اسی کے عقب میں پوشیدہ تھا۔ہلکا سا غور کرنے پر مجھے اتنا اندازہ ہو گیا تھاکہ کس جگہ شست سادھ کر میں کارگر فائر کر سکتا تھا۔
رائفل کاک کر کے میں نے سانس روکا اور لبلبی دبا دی۔میری شست داخلی دروازے کے ستون کے چند انچ دائیں سے گزر رہی تھی اور اس وقت میرے سر پر گویا بم پھٹا تھا جب گولی سیمنٹ کے ستون سے ٹکرائی اورکنارے میں ہلکا سا شگاف ڈال دیا۔
گولی کے ناکام جانے کی وجہ میری نالائقی نہیں تھی، بلکہ کسی نے ڈیفلیکشن ناب کو مکمل چکر دے کر رائفل کی صفرنگ خراب کر دی تھی۔ایس آر ون کو بیگ میں رکھتے وقت میں ٹیلی اسکوپ سائیٹ کو ماﺅنٹ سے نہیں اتارا کرتا تھا تاکہ بار بار صفر کرنے کی ضرورت نہ پڑے،کیوں ٹیلی اسکوپ سائیٹ کو اگر رائفل سے اتار دیا جائے تو رائفل کی صفرنگ باقی نہیں رہتی۔ اور رائفل کو میرے علاوہ کسی نے نہیں چھوا تھا اس لیے میںنے ڈیفلکشن ناب کو چھیڑنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی۔یہ دھوکا میرے ساتھ امریکہ میں سنائپر کورس کرتے وقت دوران مقابلہ بھی ہوا تھا۔ تب یہ کام انڈین سنائپرز شری کانت اور راج پال میں سے کسی نے کیا تھا۔ راج پال تو بعد میں سردار خان کے ہاتھوں مارا گیا تھا،البتہ شری کانت اب تک زندہ تھااور پچھلی بار جب میں انڈیا آیا تھا تب اسی نے کرن چاولہ کو میرے بارے معلومات دی تھی۔ البتہ اس سے سامنا نہیں ہو پایا تھا اور مجھے لگ رہا تھا پاسکل میرے جس شناسا کا ذکر کر رہا تھا وہ شری کانت ہی تھا۔اس خبر کے ساتھ مجھ پر ایک اور انکشاف ہوا تھا اور وہ یہ کہ دشمن کیسے کامیابی سے میرا پیچھا کر رہا تھا۔
میں نے سر جھٹکتے ہوئے عارضی طور پر ان سوچوں سے پیچھا چھڑایا اور ڈیفلیکشن ناب کو صفر کرنے لگا۔ڈیفلکشن درست کرتے ہی میں نے دوبارہ شست سادھی مگر دشمن غائب ہو چکے تھے۔ رائفل کی بیرل اب نظر نہیں آرہی تھی۔
میں نے ٹیلے کے دائیں بائیں کوئی نقل و حرکت تلاش کرنے کی کوشش کی مگر مجھے ناکامی ہوئی تھی۔ اس دوران میں مہیش بابو کا اکیلا بچ جانے والا ساتھی رینگتے ہوئے وہاں پہنچ گیا تھا۔
میرے قریب پہنچتے کر اس نے حیرانی بھری نظروں سے ایس آر ون کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ”تم بھی سنائپر ہو۔“
”لوگ ایسا ہی سمجھتے ہیں۔“کہہ کر میں رائفل کو بیگ میں منتقل کرنے لگا۔
وہ متعجب ہوا۔”واپس کیوں رکھ رہے ہو۔“
”کیوں کہ دشمن نے مورچہ چھوڑ دیا ہے۔“
”اب کیا کریں گے؟“
میں نے مشورہ دیا۔”اب لاشوں کے کریا کرم کا بندوبست کرو۔“
اسی وقت مہیش بابو کے موبائل فون کی گھنٹی بجنے لگی تھی۔اسکرین پر نظریں دوڑائیں تو وہی نمبر نظر آیا جس پر پاسکل بات کر رہا تھا۔کال وصول کرتے ہوئے میں نے موبائل فون کان کو لگا لیا۔
پاسکل کی چہکتی ہوئی آواز برآمد ہوئی۔”بڑے چرچے سنے تھے بر خوردار!اب چھپتے کیوں پھر رہے ہو۔“
میں پرسکون لہجے میں بولا۔”میں نے کبھی اپنی توانائیاں فضول لڑائی پر ضائع نہیں کیں، آخری حد تک یہی کوشش ہوتی ہے کہ معاملہ افہام و تفہیم سے سلجھ جائے۔تم سے بھی کوئی دشمنی نہیں ہے،لیکن لگتا یہی ہے تمھیں شرافت کی زبان کسی نے نہیں سکھائی۔“
وہ استہزائی لہجے میں بولا۔”دشمنی تو میں نے بھی نہیں کی ،تمھیں تین بار زندگی کی بھیک دی ہے اور کیا چاہیے۔“
”میرا مشورہ ہے اپنی جان بچا کر واپس چلے جاﺅ۔“
اس نے دھمکی دی۔”میں چاہوں تو اگلے پانچ سیکنڈ میں تمھارے بھیجے میں گولی اتار سکتا ہوں۔“
میں نے قہقہ لگایا۔”اگر ایسا کرنے کو میری اجازت درکار ہے تودیر نہ کرو۔“
وہ نخوت سے بولا۔”شاید تمھیں اب تک پاسکل کی صلاحیتوں پر شبہ ہے۔“
”دشمنی کرتے وقت میں دشمن کی صلاحیت یا کمزوری پر دھیان دینے کے بجائے اپنی کارکردگی پرانحصار کرنا پسند کرتا ہوں۔“
”کال اس لیے کی ہے تاکہ بتادوں تمھارے پاس مہلت ختم ہو چکی ہے۔تم سرحد پار جانے کے چکروں میں ہو اور میں جلد ہی تمھیں افق پار پہنچانے والا ہوں۔“یہ کہتے ہی اس نے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔
میں نے سپاٹر سکوپ سے علاقے کا اچھی طرح جائزہ لیا مگر کوئی ہلچل نظر نہیں آرہی تھی۔
سپاٹر اسکوپ بیگ میں رکھتے ہوئے میں نے مہیش کے بچ جانے والے آدمی سے پوچھا۔ ”تمھارا نام کیا ہے؟“
وہ ہولے سے بولا۔”شیام راﺅ۔“
”تو شیام میاں !کام خراب ہو گیا ہے۔دشمن کافی خطرناک ہے اور اس سے مقابلے کو مجھے تمھاری مدد کی ضرورت پڑے گی۔“
شیام نے سرعت سے کہا۔”اپنے ساتھیوں کے قاتل سے بدلہ لینے کو میں ہر ممکن مدد کروں گا۔“
میں نے کہا۔”پھر ہمیں ابھی نکلنا ہوگا۔“
”اور لاشوں کا کیا ہوگا۔“
میں نے کہا۔”یہ کام اپنے باقی ساتھیوں کے لیے چھوڑ دو،ورنہ تمھارا خاتمہ بھی یہیں ہو گا۔“
اس نے پوچھا۔”کہاں جائیں گے؟“
میں اطمینان سے بولا۔”ادھر ہی جس راستے سے ہمیں سرحد عبور کرنا تھی۔“
وہ بگڑ کر بولا۔”تو یوں کہونا تم بھاگنے کے چکر میں ہو۔“
میں خلوص دل سے بولا۔” وچن دیتا ہوں دشمن کو ختم کیے بغیر نہیں لوٹوں گا۔باقی مجھے سرحد پار تو تمھی نے کروانا ہے نا۔“
وہ مشکوک انداز میں بولا۔” لائحہ عمل کیا ہوگا؟“
میں نے اطمینان بھرے انداز میں کہا۔”وہ مجھ پر چھوڑ دو۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے اثبات میں سرہلایا۔”ٹھیک ہے تم اپنا کام کرو۔“
اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔”کیا میں اندورنی عمارت کی طرف جا سکتا ہوں۔“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”فی الحال تو جاسکتے ہو،بعد کا میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔“
اس نے دعوت دی۔”تم بھی چلو۔“
میں پھیکے تبسم سے بولا۔”میں یہاں سے جا رہا ہوں۔“
وہ مشکوک انداز میں بولا۔”شاید مجھے بھیج کر تم تصدیق کرنا چاہتے ہو کہ وہ سنائپر چلا گیا یا موجود ہے۔“
میں کھڑا ہوتے ہوئے بولا۔”ایسا بالکل نہیں ہے،میں نے علاقے کا جائزہ لے لیا ہے۔“ یہ کہہ کر میں چل پڑا۔اب وہاں رہنا مناسب نہیں تھا۔
شیام نے لاشوں کارخ کیا۔
میں داخلی دروازے کی طرف بڑھااورچند منٹوں بعد عمارت سے باہر آگیا تھا۔ اطراف کا جائزہ لیتے ہوئے میں لائحہ عمل سوچنے میں مصروف تھا۔دشمن کا بغیر تعاقب کیے میری جگہ کو بار بار ڈھونڈلینابغیر کسی کے وسیلے کے نہیں تھا۔ میرا اس طرف دھیان ہی نہیں گیا تھا۔پہلے حملے کو میں نے اتفاق پر محمو ل کیا تھااور ایسا ہونا ناممکن نہیں ہوسکتا،دوسری مرتبہ میں نے پاسکل کے دیے ہوئے موبائل فون کو وجہ ٹھہرایا،لیکن اس بار پاسکل لوگوں کا مجھے ڈھونڈ لینا میرے دماغ کو جھنجو ڑ گیا تھا۔جب دال میں کچھ کالا نظر آتا ہے تبھی دال کی صفائی کی طرف توجہ جاتی ہے۔تھوڑا آگے جاتے ہی مجھے شہر کی طرف جاتی بس مل گئی تھی۔بس اڈے کی طرف جاتے ہوئے مجھے پور ایقین تھا کہ میں ان کی نظروں میں ہوں۔البتہ مجھے نشانہ بنانے کو انھیں تھوڑی مہلت کی ضرورت ہوتی کیوں کہ میری حرکت رکنے کے بعد ہی وہ کوئی منصوبہ بندی کر سکتے تھے۔ویسے بھی جب دشمن کا ٹھکانہ معلوم ہو تو حملے کی منصوبہ بندی کرنا بھی آسان ہوتا ہے اور دشمن کو ٹھکانے لگانا بھی مشکل نہیں ہوتا۔
بس اڈے پر اتر کر میں رکشے میں ہوٹل پر پہنچا اور کمرہ لے کر اندر گھس گیا۔میری کوشش تھی کہ دشمن کو اسی غلط فہمی میں مبتلا رکھوں کہ میں ان کی چال سے ناواقف ہوں۔
کمرے کو اندر سے بند کر کے میں بیگ سے ایس آر ون اور سنائپنگ کا دوسرا سامان باہر نکال کر بیگ کی تلاشی لینے لگا،جلد ہی اندرونی خانے سے ایک چھوٹا سا آلہ برآمد ہوا،میں فوراََ ہی اصل کہانی تک پہنچ گیا تھا۔شری ناتھ یادیو کو ٹھکانے لگانے کے بعد جب میں ایس آر ون کا بیگ وہیں چھوڑ کر بھاگا تھا،تب یہ بیگ انھیں مل گیا تھا۔اب یہ معلوم نہیں تھا کہ ایس آر ون کا بیگ سب سے پہلے کسے ملا تھا۔البتہ بیگ کو پاکر انھیں اتنا اندازہ ضرور ہو گیا ہوگا کہ میں بیگ کو واپس لینے ضرور آﺅ ں گا،اس علاقے کی مسلسل نگرانی کے بجائے انھوں نے آسان حل یہ ڈھونڈا کہ بیگ میں ایسا آلہ رکھ دیا جو میری جگہ کی نشاندہی کرسکتاتھااور اس کے بعد دو جمع دو چار کی طرح سب کچھ واضح تھا۔میں جس جگہ پہنچتا انھیں میری جگہ کے بارے معلوم ہو جاتا ۔پھر مجھے نشانہ بنانا کون سا مشکل تھا۔اب انھیں اسی غلط فہمی میں مبتلا رکھ کر میں جوابی وار کر سکتا تھا۔
٭٭٭٭٭
بلاشبہ انسان کی زندگی بلبلے کی حیثیت رکھتی ہے ۔پاسکل نے اپنی برتری کے زعم میں مجھے مہلت نہ دی ہوتی تو شاید آج میں اپنی کہانی سنانے کو زندہ نہ ہوتا،مگر برا ہو فخر و بڑائی کا کہ انسان کو کسی قابل نہیں رہنے دیتی۔انھوں نے میری لا علمی سے کافی فائدہ اٹھایا تھا۔اب میری باری تھی۔ جب دشمن کی چال سمجھ میں آجائے تو اس کے خلاف منصوبہ بنانے میں آسانی رہتی ہے۔شطرنج کی بساط پر بکھرے مہروں کو چلانے والے دماغ ہمیشہ دشمن کی اگلی چال کو سمجھنے کو اپنی ساری توانائیاں خرچ کر دیتے ہیں اور دشمن کے اگلے قدم کے بارے معلوم ہوتے ہی انھیں اپنی جیت کا یقین ہو جاتا ہے۔تاش کے کھلاڑی اگر مخالف کھلاڑی کے پتے دیکھ لیں تو بازی آسانی سے جیت لیتے ہیں اور یہی کلیہ سنائپروں کی لڑائی پر منطبق ہوتا ہے۔اگر ایک سنائپر کو دوسرے سنائپر کی کمین گاہ معلوم ہو جائے تو وہ اسے آسانی سے بے بس کر سکتا ہے۔سنائپر کو عرف عام میں اندھیرے کا تیر کہتے ہیں ،سنائپر کا پہلا سبق ہی پوشیدگی سے متعلق ہوتا ہے۔اگر وہ چھپاﺅ و تلبیس میں ماہر نہیں تو ایک ناکام سنائپر ہے۔میرے سامان میں نشاندہی کرنے والا آلہ رکھ کر پاسکل نے میری پوشیدگی کی صلاحیت ہی پر تو ڈاکا ڈالا تھا۔مجھے معلوم ہی نہ تھا کہ میری ہر حرکت اس کے مشاہدے میں تھی اور یہی وجہ تھی کہ وہ میرے ساتھ چوہے بلی والا کھیل کھیلتا رہا۔ بلی چوہے پر قابو پانے کے بعد اسے آسانی سے آزاد کر دیتی ہے،لیکن یہ آزادی اسے احساس بے بسی دلانے کو ہوتی ہے نہ کہ گھر جانے کی اجازت دینے کے لیے۔
تھوڑی دیر سوچنے کے بعد ایک نتیجے پر پہنچتے ہوئے میں نے موبائل فون نکالا اور ایک نمبر ملانے لگا۔
پہلی ہی گھنٹی اٹھا لی گئی تھی۔”ہیلو!“اس کے لہجے میں استفسار تھا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ میں نے نئے نمبر سے گھنٹی کی تھی۔
میں نے تعارف کرایا۔”راجا بات کر رہا ہوں۔“
”شاید تمھارا کام ختم ہو گیا ہے اور اب جانے کی تیاریوں میں ہو۔“ بغیر کسی تمہید اور رسمی علیک سلیک کے بملاکور براہ راست مطلب کی گفتگو پر آئی۔
میں نے اتفاق کرتے ہوئے کہا۔”تمھارا اندازہ درست ہے مگر ایک اور کام نکل آیا ہے۔“
لمبی ....”ہونہہ!“کرتے ہوئے اس نے ایک اور اندازہ لگایا۔”اور اس کے لیے تمھیں میری ضرورت پڑ گئی ہے۔“
”ہاں ۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”تو میری معذرت قبول فرمائیں۔“
میں ہنسا۔”تمھارا تیسرا اندازہ بھی درست ہے۔“
وہ متعجب ہوئی۔”کیا مطلب؟“
”یہی کہ اس کام میں ننانوے فیصد موت کا خطرہ ہے۔“
وہ بے نیازی سے بولی۔”شاید تم سوچ رہے ہو یوں میں تیار ہو جاﺅں گی۔“
میں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔”یہ معلوم نہیں ،البتہ خطرے کے بارے جھوٹ نہیں بولا،تین بار مرتے مرتے بچا ہوں۔ دو خطرناک سنائپر پیچھے پڑے ہیں ایک انڈین سنائپر بھی ان کا ساتھی ہے،اگر اپنی برتری جتانے کو وہ مجھے چنوتی نہ دیتے تو بے خبری میں مار کھا گیا ہوتا۔“
اس نے پوچھا۔”تم اس وقت کہا ں ہو؟“
”راجھستان کے سرحدی شہر باڑ میر میں، ہوٹل مہاویرکے کمرہ نمبر پچیس میں ٹھہرا ہوں۔“
وہ رکھائی سے بولی۔”بہ ہرحال میں جواب دے چکی ہوں ۔“
میں نے پوچھا۔”شاید اپنے بڑوں سے اجازت نہ ملنے کا سوچ کر تم صاف جواب دے رہی ہو۔“
وہ بے پروائی سے بولی۔”تمھیں جواب سے غرض ہونا چاہیے۔“
میں نے تصدیق چاہی۔”تو یہ تمھارا آخری فیصلہ ہے۔“
وہ اپنا خفیہ نام استعمال کرتے ہوئے بولی۔”پشپا کو فیصلے بدلنے کی عادت نہیں ہے۔“
”اجازت چاہوں گا۔“مزید تکرار کیے بغیر میں نے رابطہ منقطع کر دیاتھا۔
جاری ہے

 
شوٹر(سنائپر 3)
قسط نمبر39
ریاض عاقب کوہلر
بملا کے انکار کے بعد مجھے لائحہ عمل میں تبدیلی کرنا تھی۔دنیش رام نے بھی خود سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی،میں بملا کے متبادل پر غور کرنے لگا۔وشواس سنگھ بھی مدد کر سکتا تھا،نجو بھی کافی کارآمد تھا،مگر مسئلہ یہ تھا کہ نہ تو نجو سنائپر تھا اور نہ وشواس سنگھ کے پاس کوئی پیشہ ور سنائپر موجود تھا۔ اگر وہ دائیں بائیں سے سنائپر کا بندوبست کرتا تو وقت بھی ضائع ہوتا اور ضروری نہیں تھا کوئی مخلص شخص ہی میسر ہوتا۔کوئی ایسا بھی ہو سکتا تھا جو مجھے” کھڈے لائن“ لگوا دیتا۔
تھوڑی دیر ٹھہر کر میں استقبالین کے پاس پہنچا۔”میری ایک دوست آرہی ہے تو مجھے ایک اور کمرہ چاہیے ہو گا۔“
وہ معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے بولا۔”آپ کا کمرہ چھوٹا تو نہیں ہے مہاراج۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں یار! وہ مذہبی قسم کی لڑکی ہے ،اس لیے مجبوری کو سمجھا کرو۔“
وہ رجسٹر کو دیکھتے ہوئے بولا۔”آپ کے کمرے کے قریب کوئی خالی کمرہ نہیں ہے۔“
میں بے پروائی سے بولا۔”فرق نہیں پڑتا فرشی منزل پر ہویاکسی اور منزل پر،مجھے بس کمرہ چاہیے۔“
ایک خانے میں اندراج کرکے اس نے چابی میری طرف بڑھائی۔”تیسری منزل کمرہ نمبر انچاس۔“
”دھنے واد۔“کہہ کر میں نے چابی پکڑی ،کمرے کا پیشگی کرایہ ادا کیااور لفٹ کی طرف بڑھ گیا۔دوسرا کمرہ میں نے حفاظتی اقدام کے لیے لیا تھا۔کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھا آلہ نشاندہی کوپاس رکھوں ۔اس مخصوص آلے کو ایک لفافے میں ڈال کر میں نے کمرہ نمبر انچاس میں رکھ دیا،تاکہ کسی بھی قسم کی گڑبڑ کی صورت میں میں محفوظ رہوں ۔دشمنوں کی نظر یقینا اسی آلے پرہونا تھی اور پاسکل جیسے سنائپر سے بچنے کو میں جتنی حفاظتی تدابیر اختیار کر لیتا بہتر تھا۔پے در پے حملے کر کے اس نے مجھے دماغی طور پر الجھا دیا تھا۔اگر آلہ نشاندہی کا راز نہ کھلتا تو شاید میں ہار مان چکا ہوتا،مگر جب مجھے پسپائی کا خیال آیا تب اللہ پاک نے غائب سے مدد فرمائی اور مجھے اپنی وہ غلطی مل گئی جس کی وجہ سے میں شکست کھا رہا تھا۔ اب مجھ پر دشمن کی صلاحیت کی اصل وجہ کھل گئی تھی اس لیے میں مقابلے کے میدان میں اتر سکتا تھا۔
گواس جنگ سے بچنے کا ایک طریقہ تو یہ بھی ہو سکتا تھا کہ میں آلے کو وہیں چھوڑ کر خود فرار ہوجاتا۔دشمن سمجھتا میں ہوٹل میں چھپا ہوں اور میں آرام سے مہیش بابو کے ساتھی شیام کی مدد سے سرحد پار کر جاتا۔لیکن محسوس یہی ہورہا تھا کہ یوں بھی جنگ ختم نہ ہوتی،ممکن تھا مجھے مارنے کی خاطر پاسکل اور اس کا ساتھی پاکستان کی سرحد بھی عبور کر لیتے۔اب اس خطرے کا سدباب کیے بغیر مجھے سرحد پار کرنا مناسب نہ ہوتا۔
واپس اپنے کمرے میں آکر میں نے رات کاکھانامنگوایا کہ دن کا کھانا تو ہنگامے کی نذر ہو گیا تھا۔کھانا کھاکر میں بستر میں گھس گیا۔دماغ کوئی مناسب تدبیر سوچنے میں مصروف تھا۔منصوبہ بناتے بناتے میں نیند کی گہری وادیوں میں کھو گیاتھا۔
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا جب دروازے کی گھنٹی بجی۔ایک دم جاگتے ہوئے میں نے پستول پکڑا اور چوکنے انداز میں بستر سے اترتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔
اسی دوران میں گھنٹی دوبارہ بجائی گئی۔میں پنجوں کے بل چلتا ہوا دروازے کے قریب پہنچا، چابی کے سوراخ سے جھانکنے پر کالے کوٹ کی جھلک دکھائی دی تھی،کوئی دروازے کے اتنا قریب کھڑا تھا کہ اس کا چہرہ اور باقی جسم دیکھنا ممکن نہیں تھا۔ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر میں نے ایک جھٹکے سے دروازے کا پٹ کھولا،ساتھ ہی میرے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے تھے۔
”بندے کواتنا ڈرپوک بھی نہیں ہونا چاہیے۔“مجھے ایک طرف دھکیل کر بملا دندناتے ہوئے اندر داخل ہوئی اور بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھتے ہوئے بوٹ کے تسمے کھولنے لگی۔
دروازہ بند کر کے میں نے صوفے پر تشریف ٹکائی۔”تم نے تو انکار کر دیا تھا۔“میرے انداز میں شکوے کا عنصر نمایاں تھا۔
”اور تمھیں سچ میں یہی لگا کہ میں نہیں آﺅں گی۔“بوٹ اتار کر وہ کمبل میں گھس گئی تھی۔
میں نے حیرانی کا مظاہرہ کیا۔”ناں کا مطلب تو میرے خیال میں ناں ہی ہوتا ہے۔“
وہ شرارتی انداز میں مسکرائی۔”بھولے بادشاہ !لڑکیوں کی ناں کا مطلب ہمیشہ ناں نہیں ہوتا۔“
میں جھلاکر بولا۔”کیوں ؟لڑکیوں کوصاف انداز میں بات کرنے سے طبیب نے منع کیا ہے ؟“
وہ مجھے چڑاتے ہوئے مسکرائی۔”میں بھی کیسی احمق ہوں جوتم جیسے اجڈ و گنوار کو لڑکیوں کی نفسیات سکھانے کی کوشش کر رہی ہوں۔“
میں فوراََ بولا۔”تمھاری بات کے پہلے حصے سے متفق ہوں۔“
”سخت تھکی ہوئی ہوں ،کیوں کہ جب تمھاری کال وصول ہوئی تب اجمیر میں آرام فرمارہی تھی۔ اتنی لمبی ڈرائیو کے بعد اس بیڈ پر فقط میرا ہی حق بنتا ہے۔تمھیں صوفے پر نیند نہ آئے تو دوسرے کمرے کا بندوبست کر لینا۔“ اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے وہ کمبل میں روپوش ہو گئی تھی۔
میں الماری سے اضافی کمبل نکال کر صوفے پرلمبا پڑ گیاتھا۔
صبح طلوع آفتاب کے بعد ناشتا کرتے ہوئے میں اسے تفصیل بتا چکا تھا۔
کیتلی سے دوسری پیالی بھرتے ہوئے اس نے منہ بنایا۔”گویا میں چارہ ہوں۔“
میں نے اثبات میں سرہلانے پر اکتفا کیا تھا۔
وہ اچنبھے سے بولی۔”اس کے لیے تم کسی بھی شخص کو ساتھ لے جا سکتے تھے،مجھے ہی کیوں؟“
میں نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”وجوہات کی تلاش چھوڑو،وہ میرا سر درد ہے۔“
اس نے اندازہ ظاہر کیا۔”شاید میری کوئی بات بری لگی ہے اور تمھیں بدلہ لینے کا یہی طریقہ آسان لگ رہا ہے۔“
میں متبسم ہوا۔”یہ بھی ممکن ہے۔“
اس نے شرط پیش کی۔”میں اجمیرمیں ایک کام ادھورا چھوڑ آئی ہوں،کامیابی ملنے کے بعد میرے ساتھ جانا ہوگا۔“
میں نے سنجیدہ ہوتے ہوئے پوچھا۔”کام بتاﺅ۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”پہلے تمھارا کام ختم ہوجائے پھر بات کریں گے۔“
”منظور ہے۔“میں نے بغیر سوچے اثبات میں سرہلادیاتھا۔
اس نے لائحہ عمل جاننے میں دلچسپی ظاہر کی۔”تو کیا کرنا ہوگا؟“
”پہلے ایسی جگہ کی تلاش کریں گے جہاں انھیں گھیرا جاسکے۔“
اس نے تعجب سے پوچھا۔”جب تمھارے حرکت میں آتے ہی انھیں معلوم ہو جاتا ہے تو ہمارے جانے کی بابت انھیں پتا نہیں چلے گا؟“
میں نے وضاحت کی۔”میں چہرہ بدل کر نکلوں گا اور وہ مخصوص آلہ یہیں چھوڑ کر جائیں گے،تو انھیں کیسے پتا چلے گا۔“
”تو تھوبڑا تبدیل کرو تاکہ کام شروع کر سکیں۔“
میں نے کہا۔”پہلے تمھیں بازار سے کچھ ضروری سامان لانا ہوگا۔“
٭٭٭٭٭
بملا کو روانہ کر کے میں نے پاسکل کا نمبر ملا لیا، تیسری گھنٹی اٹھا لی گئی تھی۔
”ہیلو!“وہ پاسکل کی آواز نہیں تھی۔مجھے شک گزرا کہ وہ شری کانت تھا۔میں نے ہوا میں تیر پھینکا....
”ابے شری کانت کے بچے! تجھے مرنے کا زیادہ شوق تھا جو ایس ایس کے تعاقب کی غلطی کر بیٹھے۔“
وہ چونکتے ہوئے بولا۔”اوہ....تو یہ تم ہوبزدل مسلے!“
میں نے فوراََ دھمکایا۔” اگر میں کہوں کہ تم میرے نشانے پر ہو تو ....“
”تم جیسے ........“وہ گھٹیا گالی بکتے ہوئے بولا۔”صرف دھمکی دے سکتے ہیں۔“
میں نے اسے اکسایا۔”جلد ہی تمھارے بھیجے میں گولی نہ اتاری تو ایس ایس نہ کہنا۔“
”اور میں نے تمھاری ........“نیچ ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے حسب عادت گالی بکی۔”میں گولی اتارنا ہے۔“
”گالی بکے بغیر بھی تمھاری نیچ نسل کی شناخت ہو جاتی ہے اس لیے گٹر نما منہ کا ڈھکن سوچ کر کھولا کرو۔“
اچانک میری سماعتوں میں پاسکل کی آواز گونجی۔”امید نہیں تھی تمھاری آواز سننے کو ملے گی،میں نے تو سوچا کہیں بھاگ گئے ہو۔“
”اور تم نے بالکل غلط سوچا ہے،میں بھاگنے والوں میں سے نہیں بھگانے والوں میں سے ہوں البتہ یہ سچ ہے کہ اس وقت باڑمیر میں موجود نہیں ہوں۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولا۔”تو بتاﺅ کہاں موجود ہو ہم وہیں آجاتے ہیں۔“
میں نے سنجیدہ ہوکر کہا۔”ایک مشورہ دوں۔“
اس نے بے نیازی ظاہر کی۔”ضرورت محسوس نہیں کرتا۔“
”پھر بھی سن لو۔“میں زور دیتے ہوئے بولا۔”میری تم سے کوئی دشمنی نہیں ہے،تو کیا بہتر نہیں ہوگا تم جہاں سے آئے تھے وہیں لوٹ جاﺅ۔“
وہ نخوت سے بولا۔”بتایا تو ہے بیٹا!....میرے پاس آکر زندگی کی بھیک مانگوشاید مجھے ترس آ جائے۔“
میں گہرا سانس لیتے ہوئے بولا۔”تو تم نے طے کر لیا ہے کہ میری ہی گولی سے مرنا ہے۔“
اس کی اطمینان بھری آواز گونجی۔”تمھارے پاس کل کا دن ہے پرسوں تمھیں گھسیٹ کربل سے باہر نکالوں گا۔“
میں نے اسے مطعون کیا۔”جانتا ہوں انڈین سرکار کے کندھوں پر چڑھ کر تم خود کو پھنے خان سمجھ رہے ہو۔“
”اگر انڈین سرکار میرے ساتھ ہوتی تو کب کا تمھیں گرفتار کیا جا چکا ہوتااور تمھیں مارنا مقصد ہوتا تب بھی کم از کم تین مرتبہ مجھے ایسا موقع ملا کہ تمھاری کھوپڑی میں گولی اتار سکتاتھا،مگر میں نے ڈھیل دے کر تمھیں معافی مانگنے کا موقع دیتا رہا۔“
”کیا صرف اپنی برتری جتانے کو تم اسرائیل سے انڈیا پہنچ گئے۔“میں نے اسے کریدنے کو حیرانی کا اظہار ضروری سمجھا تھا۔
”نہیں ایک انڈین دوست نے درخواست کی تھی،اس کا تم پرکچھ قرض بقایاہے اس کی وصولی کو مجھے بلا بھیجا۔ شایدمیں نہ آتامگر کافی عرصے پہلے تمھارا نام ایسے انداز میں مجھ تک پہنچ چکا تھا کہ میرے نہ آنے سے انڈین دوست سمجھتا تم سے ڈر گیا ہوں۔“
میں نے منہ بنایا۔”صاف کہو ناں شری کانت کے کہنے پر آئے ہو۔“
” جب میرے پاس آﺅ گے تب بتاﺅں گا۔“
”بہ ہرحال آخری بار متنبہ کر رہا ہوں،اب اگر تم نے ایس ایس کا راستہ کاٹنے کی کوشش کی تو اپنی گردن کٹا بیٹھو گے۔“اسے دھمکی دیتے ہوئے میں نے رابطہ منقطع کر دیاتھا۔
اس سے بات کرنے کا مقصد ایک تو اس تک اپنا نمبر پہنچانا تھا کہ یہ میرے منصوبے کا حصہ تھا۔ دوسرا اس سے کوئی کام کی بات نکلوانا تھا ،جس میں مجھے خاص تونہیں جزوی کامیابی ضرورملی تھی۔
٭٭٭٭٭
بملا نے بازار میں گھنٹے سوا گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں لگایا تھا۔بہروپ کازیادہ تر سامان اسے مل گیا تھا۔جو ایک دو چیزیں یہاں میسر نہیں تھیں ان کے بغیر بھی کام چل جاسکتاتھا۔
سوانگ بھر کر ہم ہوٹل سے نکل آئے تھے۔
شہر سے نکلتے ہی بملا کے سوال شروع ہو گئے تھے۔”ایک بات میری سمجھ میں نہیں آرہی۔“
میں مسکرایا۔”تم اپنی محدود عقل پر زور دیتی ہی کس لیے ہو۔“
وہ چڑ کر بولی۔”اگر کسی وجہ سے عزت کرتی ہوں تو ہضم کرنے کی کوشش کرو راجا صاحب!“
میں نے قہقہ لگایا۔”تمھیں یہ غلط فہمی کیوں ہے کہ میری عزت کرتی ہو۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے غصہ ضبط کیااور مطلب کی گفتگو پر آئی۔”تمھارا ٹھکانہ معلوم ہونے کے بعد وہ تمھیں پکڑ کیوں نہیں لیتے ۔“
میں نے کہا۔”کیوں کہ پاسکل وغیرہ کے پیچھے انڈین سرکار نہیں ہے،ایسا ہوتا تو وہ پہلے ہی دن مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کرتے۔“
وہ معترض ہوئی۔”تمھارا دشمن شری کانت تو انڈین فوجی تھا نا؟“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”ایسا ہی ہے،لیکن امریکہ میں سنائپر کورس کے دوران میں وہ میرے دوست کی گولی سے زخمی ہوا تھا، جس کے بعد امریکن سرکار نے اسے کافی رقم دی تھی،تب اس نے نوکری کو خیر باد کہہ دیا تھا۔“
اس نے ایک اور حیرانی اچھالی۔”اور تمھارے ساتھ اتنی زیادہ دشمنی کس لیے کہ اسرائیل سے سنائپر منگوا لیے۔“
”وہی ہندو مسلم کی ازلی دشمنی جو قیامِ پاکستان کے بعد دونوں قوموں کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔“
اس کی حیرانی برقرار رہی ۔”یہ کوئی ایسی وجہ نہیں جو اسے اتنی تگ و دو پر مائل کرسکے ۔“
میں نے انکشاف کیا۔”اس سے بات چیت کے دوران میں پتا چلا ہے کہ اس کی یہاں آمد کا مقصد شری کانت نہیں کوئی اور ہے۔“
”کون اور؟“
” میں نہیں جانتا۔“
اس نے حیرت کا اظہار جاری رکھا۔”میرا پہلا سوال بھی ہنوز جواب طلب ہے،بے شک انڈین سرکار ان کے پیچھے نہ ہو ،لیکن مخبری کر کے تمھیں گرفتار کرانا کوئی مشکل تو نہیں ہے۔“
میں ہنسا۔”فقیر کو فقیر اچھا نہیں لگتا۔“
”کیا مطلب؟“اس نے تعجب ظاہر کیا۔
میں نے وضاحت کی۔” اصول دنیا ہے کہ کسی بھی فن کے ماہر کو دوسرا ماہر اچھا نہیں لگتا۔بہ طور سنائپر میرا نام کچھ زیادہ مشہور ہو گیا ہے،اس میں میری مہارت سے زیادہ حالات کا دخل ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاسکل نے مجھے نشانہ بنانے کے بجائے ڈھیل دیے رکھی ۔وہ مجھے ذہنی طور پر اتنا مرعوب اور مفلوج کرنا چاہتا ہے کہ میں اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دوں ۔باقی نشان دہی کرنے والے آلے کی وجہ سے اسے یہ یقین تو ہے کہ جب چاہے مجھے تلاش کر کے ٹھکانے لگا سکتا ہے۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”حالاں کہ اسے چاہیے تھا پہلی بار تمھیں آگاہ کرتے ہی تمھاری کھوپڑی میں گولی ٹھونک کر اپنی جان چھڑا لیتا ،انڈین سرکار کی اور میری بھی۔“
میں نے ڈانٹا۔”یہ کہتے ہوئے شرم آنا چاہیے،تمھارا استاد ہوں۔“
وہ اطمینان سے بولی۔” گولی تونہیں مار رہی ،بس اپنی خواہش بتا رہی ہوں۔“
میں فلسفیانہ انداز میں بولا۔”جانتی ہو،جب اللہ پا ک کی منشا نہ ہوتوموت کی نوید دینے والے سارے اسباب زندگی کی بشارت دینے لگتے ہیں۔آگ کا کام جلانا ہے لیکن ابراہیم علیہ السلام کے لیے گلزار بن گئی،سمندر کا کام ڈبونا ہے،لیکن موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لیے راستے بن گئے،چھری کا کام کاٹنا ہے لیکن اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر نہ چلی،مچھلی کا معدہ یونس علیہ السلام کی رہائش بن گیا۔اور جب رب کی مرضی اس کے خلاف ہو توزندگی و عزت کے سارے اسباب الٹ نتائج دینے لگتے ہیں:نمرودکو تخت پر بیٹھا کر جوتے پڑوائے اور وجہ ایک ننھا سا مچھر بنا،فرعون اپنی قوم کے ساتھ اسی پانی میں غرق ہوا جس پانی میں بنی اسرائیل کے لیے راستے بنے تھے،شداد تمام اختیار رکھنے کے باوجود اپنی بنائی ہوئی جنت نہ دیکھ سکا؛قارون،ہامان،ابوجہل کی دولت،اختیارات اور عہدے انھیں ذلیل و خوار ہونے سے نہ بچا سکے۔ “
”تم نے جتنی بھی مثالیں دیں ان میں سے ایک بھی میری سمجھ میں نہیں آئی۔“
میں بے نیازی سے بولا۔”تو مختصر یہ سمجھ لو بی بی! کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”تو پہلے ہی کہہ دیتے اتنا لمبا بھاشن دینے کی کیا ضرورت تھی۔“
میں نے طعنہ کسا۔”کسی کوڑھ مغز کو سمجھانے کومغز کھپانا پڑتا ہے بی بی!“
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔”تم سے بڑا کوڑھ مغز کون ہوگا،جب دشمن کی کارنظروں میں آجائے تو اس کے آئل ٹینک میں گولی مار کر انھیں زندہ جلا دو....اتنا کھٹ راگ پھیلانے کی کیا ضرورت ہے؟“
”پہلی وجہ یہ ہے کہ دشمن نے مجھے مارنے کے بجائے گھیر کر نیچا دکھانے کی کوشش کی اس لیے انھیں مارنے سے پہلے یہ باور کرانا ضروری ہے کہ وہ کس کے ہاتھوں ہلاک ہو رہے ہیں۔ دوسرا تم جو فلمی منظر آزمانا چاہتی ہو ،ایسا صرف فلموں ہی میں ممکن ہے۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولی۔”تمھارا مطلب ہے آئل ٹینک میں گولی لگنے کے بعد جب گاڑی دھماکے سے پھٹ جاتی ہے ایسا نہیں ہو سکتا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”بالکل میں یہی کہہ رہا ہوں۔“
اس نے اشتیاق سے پوچھا۔”وضاحت کرسکتے ہو۔“
”چھوٹے ہتھیاروں کے ایمونیشن میں عام طور پر بال راﺅنڈ مستعمل ہیں،یہ نرم سیسے کی بنی گولیاں ہوتی ہیں جن پر تانبا چڑھا ہوتا ہے اور آدمیوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہیں۔دوسرا بکتر دوز راونڈہوتے ہیں جو سخت فولاد کی بنی گولیاں ہوتی ہیں اور گاڑیوں ، بکتر بند گاڑیوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہیں۔تیسراٹریسر راونڈہوتے ہیں کہ گولی کے نچلے حصے میں ایک مادہ بھرا ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ گولی اپنی پرواز کے دوران میں نظر آتی ہے۔چوتھا آتش گیر راونڈہوتے ہیںان گولیوں میں فاسفورس کی طرح مادہ بھرا ہوتاہے اوریہ گولیاں ہدف پر لگنے کے بعد آگ لگا دیتی ہیں۔پانچویںبکتر دوز آتشگیر راونڈ ہوتے ہیں ،یہ گولیاں نرم چادر کے اندر گھس کرآگ لگا دیتی ہیں۔صاف مطلب یہ کہ ہم عام طور پر جتنا بھی ایمونیشن استعمال کرتے ہیں تمام بال راﺅنڈ ہوتے ہیں۔ میرے پاس بھی ایس آر ون کے ایمونیشن میں فقط بال راﺅنڈ ہی ہیں۔یہ جب گاڑی کے آئل ٹینک میں لگیں گے تو ٹینک میں سوراخ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوگااور گاڑی کانقصان اتنا ہو گا کہ تیل بہہ کر ضائع ہو جائے گا اور بس۔ اگر آئل ٹینک میں آگ لگانا ہو تو اس کے لیے آتش گیرگولیوں کا بندوبست کرنا پڑے گاجنھیں کوئی اسلحہ سازکمپنی ہی بنا سکتی ہے اور ہمارے پاس اتنی مہلت ہے نہ ہمیں ان کی ضرورت ہے تورہنے دیتے ہیں۔“
وہ معترض ہوئی۔”جب ہر قسم کی گولیاں بازار میں دستیاب ہیں توایس آر ون کی آتش گیرگولیاں کیوں نہیں مل سکتیں۔“
میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے غصہ ضبط کیا۔”محترمہ !ہر رائفل کے اندر وہی گولی استعمال ہو سکتی ہے کہ گولی کا قطربیرل کے برابر اور کھوکے (کیس)کی لمبائی و موٹائی رائفل کے چیمبر کے مطابق ہوایک ذرا سے فرق سے بھی گولی فائر نہیں کی جا سکے گی ۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”واگرو کی سوں،کچھ بھی پلے نہیں پڑا۔“
میں وضاحت کرتے ہوئے بولا۔”پاک آرمی میں استعمال ہونے والی مشہور اسالٹ رائفل جی تھری میںسات اعشاریہ چھے دوضرب پانچ ایک ( 7.62mmx51mm)کی گولی استعمال ہوتی ہے اور اسی قطر کی گولی سات اعشاریہ چھے دو ضرب پانچ ایک (7.62mmx51mm)ایل ایم جی میں بھی استعمال ہوتی ہے۔اوربعینہ اسی حجم کی گولی سٹائر سنائپر رائفل میں بھی استعمال ہوتی ہے۔اس وجہ سے تینوں ہتھیاروںمیں ایک دوسرے کی گولی استعمال ہو سکتی ہے۔جبکہ کلاشن کوف میں بھی سات اعشاریہ چھے دو (7.62mm)قطر ہی کی گولی پڑتی ہے،مگروہ سات اعشاریہ چھے دو ضرب تین نو( 7.62mmx39mm)کی گولی ہوتی ہے اس لیے کلاشن کوف کی گولی جی تھری وغیرہ پر استعمال نہیں کی جا سکتی اورنہ جی تھری وغیرہ کی گولی کلاشن کوف پر چلائی جا سکتی ہے۔رینج ماسٹر میں بارہ اعشاریہ سات ضرب نو نو( 12.7mmx99mm)کی گولی استعمال ہوتی ہے،جبکہ مشہور اک اک گن 12.7mmکی گولی بارہ اعشاریہ سات ضرب ایک صفر سات ( 12.7mmx107mm)ہوتی ہے اس لیے مذکورہ دونوں ہتھیاروں کی گولیاں ایک دوسرے میں استعمال نہیں کی جاسکتیں۔ایس آر ون کی گولی آٹھ اعشاریہ چھے پانچ ضرب سات نو (8.65mmx79mm)ہوتی ہے تو بتاﺅ ذرا اس قطر کی گولی کہاں سے ملے گی۔ “
وہ نادم ہوئی ۔”معذرت میں اسلحے کے بارے اتنی جان کاری نہیں رکھتی۔“
یونھی گپ شپ کرتے ہم علاقہ چھانتے رہے،اس دوران دو تین مقامات ایسے آئے جوہمارے کام آسکتے تھے ،لیکن کسی بہتر جگہ کی تلاش نے مجھے واپس نہ مڑنے دیا۔سورج غروب ہونے والا تھا جب ایسا مقام نظر آگیا جہاں میں دشمن کے لیے پھندا تیار کر سکتا تھا۔مطلوبہ جگہ کے قریب پہنچ کر ہم نے ملگجے اندھیرے میں کمین گاہ تیار کی،اس مقصد کو فولڈنگ بیلچہ ہمارے پاس موجود تھا۔ریت کی وجہ سے کھدائی اتنی بھی مشکل ثابت نہیں ہوئی تھی۔ایک مناسب گڑھا کھود کر ہم نے اسے سرکنڈوں وغیرہ سے اس انداز میں ڈھانپا تھا کہ گڑھا چھپ گیا تھا۔بملا کو میں نے دوبارہ اچھی طرح سمجھادیاتھا کہ اس نے کیا کرنا تھا۔
ضروری کارروائیوں کے بعد ہم واپس چل پڑے۔ہماری رفتار کافی تیز تھی،کیوں کہ پہلے تو جگہ کی تلاش میں پھر رہے تھے اور ہماری مخصوص منزل نہیں تھی اب تو بس ہوٹل تک جانا تھا۔ بڑی سڑک تک پہنچنے کو ہم نے دوسرا راستا استعمال کیا تھاتاکہ وہاں پہنچنے کے ایک سے زیادہ راستے ہمیں معلوم ہوں۔
جاری ہے

 
شوٹر(سنائپر 3)
قسط نمبر40
ریاض عاقب کوہلر
اگلے روز ناشتے کے بعد ہم جانے کو تیار تھے۔میں نے بملا کی کار میں جانا تھا۔اس کے لیے کرائے کی جیپ کا بندوبست کیاہوا تھا۔اس نے اپنا حلیہ بالکل مردوں والا بنایا تھا؛کندھوں کو چھوتے سنہری بالوں کو چھپانے کو کنٹوپ اوڑھ لیا تھا،چہرہ چھپانے کو مفلر کام آیا تھا؛مردانہ جینز اور اس پر چمڑے کی جیکٹ پہن کر وہ مردہی لگ رہی تھی۔میں نے کچھ فاصلہ رکھ کر اس کے عقب میں چلنا تھا۔
میرا اندازہ تھادشمن نے تین چار کلومیٹر کا فاصلہ رکھ کر میرا تعاقب کرنا تھااور نشان دہی والا آلہ چونکہ بملا کے پاس تھا اس لیے میرے دھوکے میں وہ اسی کا تعاقب کرتے رہتے۔
بملا کے پارکنگ سے نکلتے ہی میں بھی کار میں بیٹھ کر اس کے پیچھے چل پڑا۔البتہ شہر سے نکلتے ہی میں نے کار آہستہ کر لی تھی، امید تھی انھوں نے تھوڑا فاصلہ رکھ کر پیچھے آنا تھا۔بملا کے ساتھ میں وائرلیس سیٹ پر مربوط تھا۔وائرلیس سیٹ میرے کوٹ کی جیب میں تھا۔وائرلیس سیٹ کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس کی آواز کافی بلند ہوتی ہے اور تیس چالیس میٹر کے دائرے میں آسانی سے سنائی دیتی ہے۔اس کا سدباب کرنے کو ہم نے وائرلیس سیٹ کے ساتھ ہینڈ فری لگا دی تھی،جس کے باعث اونچی آواز کا شور ہماری سماعتوں تک محدود ہو گیا تھا۔
کلو میٹر بھر چلنے کے بعد سڑک کنارے بنا چائے کا ہوٹل دیکھ کر میں نے کار ایک جانب روکی اور نیچے اتر آیا۔وائرلیس سیٹ کے چھپانے کو میں نے گرم چادر اوڑھ لی تھی۔
ایک کم عمر لڑکالوگوں کو چائے پیش کر رہا تھا۔اسے چائے لانے کا کہہ کر میں سڑک کی طرف متوجہ ہو گیا،ساتھ ہی بملا کو بتا دیا۔
” ایک ہوٹل پررک گیا ہوں،جب تک وہ نظر نہیں آتے میں یہیں بیٹھا ہوں اوور....“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”صاف کہو ناں چائے پینے رکے ہواوور....“
میں دھیمے مگر استہزائی لہجے میں بولا۔”کہنے کی ضرورت ہی کیا ہے،تم خود سے ہی سب کچھ فرض جو کر لیتی ہواوور....“
وہ فضول بحث شروع کرتے ہوئے بولی۔”کیا غلط کرتی ہوں،رکنے کو ہوٹل ضروری تو نہیں تھااوور....“
”فضول باتیں نہیں کیپ لسننگ آﺅٹ۔“میں نے اسے ہلکے سے ڈانٹا۔
اسی دوران میں لڑکا چائے کی پیالی لے آیا تھا۔بملا کی کھڑکھڑاتی ہوئی ہلکی سی آواز ابھری جو واضح نہیں تھی،سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا کہنا چاہتی ہے۔فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے صحیح ملاپ نہیں ہوپا رہاتھا۔یہ عام وائرلیس سیٹ تھے جن کا ملاپ تین چار کلومیٹر کے دائرے ہی میں صحیح ہوتا ہے۔ بملا جیپ میں بیٹھی مسلسل آگے بڑھ رہی تھی اس وجہ سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔خیر یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا کہ پریشان ہونے کی ضرورت ہوتی۔مجھے بملا کی جگہ کے بارے اچھی طرح معلوم تھا۔
چائے کی پیالی آدھی ہی پی تھی کہ ایک ڈبل کیبن وہاں سے گزرکر آگے بڑھ گئی۔ایک نظر ڈال کر ہی معلوم ہو گیا تھا کہ میرے مطلوبہ بندے تھے۔ڈرائیونگ سیٹ پر شری کانت بیٹھا تھا۔اتنے عرصے بعد بھی میں نے اس کاآدھا چہرہ دیکھ کر پہچان لیا تھا۔ گاڑی میں دو افراد نظر آرہے تھے۔دوسرے پر میں سرسری نظر بھی نہیں ڈال سکا تھا کہ میری توجہ شری کانت کی صورت نے کھینچ لی تھی۔
ویسے میرے اندازے میں تو دو سے زیادہ افراد کوہونا چاہیے تھا،کیوں کہ اب تک میں یہی سمجھ رہا تھا کہ شری کانت کے علاوہ دو سنائپر تھے۔مگر یہ میری غلط فہمی تھی ،کیوں کہ پہلے دن دو سنائپرز نے گلاس کو نشانہ بنایا تھااور میں سمجھ بیٹھا تھا کہ وہ شری کانت کے علاوہ دو ہیں۔حالاں کہ شری کانت خود بھی تو سنائپر تھااور جہاں سے اس نے فائر کیا تھا وہ پانچ چھے سو میٹر کا فاصلہ تھا ،ایک بہترین سنائپر رائفل سے ایک درمیانی درجے کے سنائپر کا گلاس کو نشانہ بنا لینا اتنا بھی انوکھا نہیں تھا۔یہ بھی ممکن تھا مسلسل مشق سے اس کا نشانہ پہلے سے بہتر ہو گیا ہو۔
میں نے اس کے بعد گزرنے والی ایک دو کاروں کو مشکوک نظروں سے دیکھا مگر وہ عام سے لوگ لگ رہے تھے۔پیالی کے نیچے پچاس کا نوٹ رکھ کر میں کار کی طرف بڑھ گیاتھا۔
کلومیٹر بھر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد مجھے سفید رنگ کی ڈبل کیبن نظر آنے لگی تھی۔راستے میں دو تین ملاپی سڑکیں(لنک روڈ) آئیں مگر وہ سیدھے چلتے رہے ۔جس کا صاف مطلب یہی تھا کہ وہ بملاکے تعاقب ہی میں جا رہے تھے۔مزید دو تین کلومیٹر فاصلہ طے کرتے ہی بملا سے رابطہ بحال ہو گیا تھا۔
میں نے آگاہ کیا۔”چوکنا رہو محترمہ!سفید ڈبل کیبن میں دو افراد ہیں اوور۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”میری ہوشیاری کسی کام آنے والی نہیں،البتہ تمھیں چوکس رہنے کی ضرورت ہے کہ اب سارا دارو مدار تم پر ہے اوور....“
میں ہنسا۔”بے فائدہ امیدیں پال رہی ہو اتنا اچھا ہوتاتو تمھیں نہ بلاتااوور....“
اس نے طعنہ دیا۔ ”تو آگے تم لگتے ناں اوور....“
میں نے قہقہ لگایا۔”خود ہی تو کہتی ہو’ لیڈیز فرسٹ....“
وہ جلدی سے بولی۔”اس نعرے کی حدود آسانی و سہولت کے حصول تک ہیں۔اوور....“
”اور مرد بھی بے وقوف نہیں ہوتے جو کسی سنائپرکا ہدف بننے کی حماقت کریں گے۔ اوور....“
”شرم تو نہیں آتی اوور....“مجھے لگا اس نے بڑی مشکل سے ہنسی روکی تھی۔
میں نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔”اچھا کام پر توجہ دو....اور اب بلا ضرورت نہ پکارنا۔ کیپ لسننگ آﺅٹ....“وہ خاموش ہوگئی تھی۔
پون گھنٹے بعد ہم اس علاقے میں پہنچ گئے تھے جہاں مجھے سڑک سے اترنا تھا۔میں نے کار دائیں جانب موڑ لی۔بملا مجھ سے دو کلومیٹر آگے تھی۔اس کی آواز آئی ....
”میں بڑی سڑک سے اتر گئی ہوں اوور....“
میں فوراََ بولا۔”میں بھی اوور....“
سڑک سے اتر کر بملا نے چار پانچ کلومیٹر مغرب کی جانب بڑھنا تھا۔ وہاں ایک ریت کا ٹیلا تھا،جس سے پانچ چھے سو میٹر آگے یعنی غربی جانب ایک اور بڑی سڑک گزر رہی تھی جوآگے جا کر اس سڑک سے مل جاتی تھی جس پر چل کر ہم وہاں تک آئے تھے۔البتہ وہ سڑک سیدھی سرحد کی طرف چلی گئی تھی۔ اس جگہ بملا کو دیکھ کر وہ یہی سمجھتے کہ میں کسی کی گھات میں وہاں لیٹا ہوں ۔اس ٹیلے سے چھے سات سو گز پہلے شرقی جانب ایک اور ٹیلا تھا جہاں میرے اندازے میں پاسکل نے مورچہ بنانا تھا،کیوں کہ اس جگہ سے بملا والے ٹیلے کی شرقی جانب لیٹے کسی بھی شخص کو آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا تھااور میں نے اپنے لیے جو جگہ منتخب کی تھی وہ قریباََ بملا والے ٹیلے سے اڑھائی کلومیٹر دورشرقی جانب واقع تھی ۔
ٹیلا کافی بلند تھا اس کے ساتھ وہاں سے میں بملا کور والے ٹیلے تک کے درمیانی علاقے میں جتنے ٹیلے آتے تھے ان کی شرقی جانب موجود کسی بھی شخص کو نشانہ بنا سکتا تھا۔میں ان دونوں ٹولیوں سے پہلے اپنی جگہ پہنچ گیا تھا۔کار کو شرقی جانب ٹیلے کی جڑ میں کھڑا کر کے میں نے ایس آر ون کا بیگ اٹھایااور تیزی سے اوپر چڑھنے لگا۔ اگلے پانچ دس منٹوں میں میں رائفل کو سیدھا کر کے اس کے عقب میں لیٹ گیا تھا۔اسی دوران میں بملا کی آواز سنائی دی۔
”جگہ پر پہنچ گئی ہوںاوور....“
میں نے اس کی ڈھارس بندھائی۔”میں تیارلیٹا ہوں۔ اوور....“
”دوستوں کی کوئی خبراوور....“
”اب تک نہیں پہنچے....اوور....“یہ کہتے ہوئے میں نے سڑک کی جانب دیکھاسفید رنگ کی کار ہلکا سا چکر کاٹ کر اس ٹیلے کی جانب آرہی تھی جس پر میں لیٹا تھا۔میرا ماتھا ٹھنکااور فوراََ ہی مایوس کن سوچ میرے دماغ میں ابھری۔”کیا انھیں اس بلندی پر شک ہو گیا ہے۔“
میں فوراََ زمین سے چپک گیا تھا۔ وہ ٹیلے سے پانچ چھے سو میٹر آگے آکر مڑ گئے تھے، تب میں نے اندازہ لگایا کہ وہ اپنے تیئں میری نظر میں آنے سے بچنا چاہتے تھے۔اس لیے ٹیلوں کے عقب میں ڈبل کیبن لے آئے تھے۔
میں نے بملا کو ہوشیار کیا۔”وہ پہنچ گئے ہیں اوور۔“
اس کی اندیشہ بھری آواز ابھری۔”سنبھال لینا۔ اوور....“
میں نے فوراََ تسلی دی۔”اے!گھبرانا نہیں ہے،کچھ بھی نہیں ہوگا اوور....“
وہ سنجیدگی سے بولی۔”ہم فقط دشمن کے مزاج کا اندازہ لگا سکتے ہیں ،اسے اپنی سوچ کے مطابق عمل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے اوور اینڈ آل۔“
مجھے سو فیصد یقین تھا کہ دشمن فوراََ گولی نہیں چلائیں گے کیوں کہ اپنی عادت کے مطابق اس نے گولی چلانے سے پہلے مجھے مخاطب ضرور کرنا تھااور یہی وجہ تھی کہ میں نے ان تک اپنا نمبر بھی پہنچادیا تھا ۔
میں نے پوری توجہ دشمنوں پر مرکوز کر دی تھی۔آہستہ روی سے آگے بڑھتے ہوئے وہ اسی ٹیلے کے پاس پہنچ کر رک گئے جہاں میرے خیال میں انھیں مورچا بنانا چاہیے تھا۔ان کی جگہ میں ہوتا تو ایسا ہی کرتا۔تھوڑی دیر بعد وہ ٹیلے کی بلند ی پر چڑھ رہے تھے۔شری کانت نے ایک بڑا سا بیگ اٹھا رکھا تھا جو یقینا کسی عمدہ سنائپر رائفل کا تھا۔
میں نے سرعت سے فاصلہ وغیرہ ناپا،دوسری ضروری کارروائیاں پوری کیں اور شست سادھ لی۔ وہ چودہ سو اسی میٹر کی دوری پر موجود تھے اور یہ فاصلہ ایس آر ون کے لیے کوئی حیثیت رکھتا تھانہ ایس ایس کے لیے۔
دشمن بھی تیاری کی کارروائیوں میں مصروف تھا۔اچانک میرے سامنے رکھے موبائل فون کی گھنٹی بجنے لگی،اسکرین پر شری کانت کا نمبر ظاہر ہو رہا تھا۔
میں نے بملا کو کہا۔
”پشپا!اپنا موبائل فون اس طرح کان سے لگا لو گویا کسی سے بات کر رہی ہواوور....“
فوراََ جواب آیا۔”راجر۔“(مطلب سمجھ گئی ہوں)
اس کا جواب سنتے ہی میں نے گھنٹی وصول کرنے کا بٹن دبا دیا۔
”ابے بھڑوے!کیا کہا تھا تیری........میں گولی میں ہی اتاروں گا۔“شری کانت کی منحوس آواز میری سماعتوں میں گونجی۔ میں نے موبائل فون کو اسپیکر پرڈال دیا تھا۔پاسکل کی آسانی کی خاطر شری کانت بھی انگریزی ہی میں بات کر رہا تھا۔
میں ہنسا۔”گٹر سے ڈھکن اٹھانے اور تمھارے ہونٹ ہلانے سے ایک جیسا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔“
اسی وقت پاسکل کی اطمینان بھری آواز ابھری۔”شاید معلوم نہیں کہ تم میرے نشانے پر ہو۔“
میں ہنستے ہوئے بولا۔”تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ میں اس وقت کہاں موجود ہوں۔“
اسی وقت مجھے لگا رائفل کے عقب میں لیٹے شخص نے گولی چلائی ہے۔
تبھی بملا کی بوکھلائی ہوئی آواز آئی۔”بیڑا غرق راجے!میری سنائپر رائفل کی ٹیلی اسکوپ سائیٹ میں گولی لگی ہے اوور....“
میں نے موبائل فون کا رابطہ منقطع کرتے ہوئے بملا سے کہا۔”گڑھے میں کود جاﺅ۔“ بملا کو آڑ مہیا کرنے کے لیے ہم نے گزشتہ روز ہی اتنا گہرا گڑھا کھود لیا تھا جہاں بملا عارضی طور پر چھپ سکتی تھی۔ اس گڑھے پر ہم نے گھاس پھونس ایسے انداز میں پھیلا دی تھی کہ دور سے نظر نہیں آسکتا تھا۔
اس کی طنزیہ آواز ابھری۔”جیسے ہی ٹیلی اسکوپ نشانہ بنی میں گڑھے میں کود گئی تھی جناب!“
اسی وقت موبائل فون کی گھنٹی دوبارہ بجی،میں نے فوراََ بٹن دبا کر کال وصول کی۔
پاسکل کا قہقہ ابھرا۔”بر خوردار! فیصلہ کن مرحلہ آگیا ہے اور تمھاری مہلت ختم ہو چکی ہے۔“
”کیا چاہتے ہو؟“میں نے بے بسی کا اظہار مناسب سمجھا تھا۔
وہ اطمینان سے بولا۔”تمھیں شرط بتا چکا ہوں۔“
میں نے کھلکھلاتے ہوئے صاف انکار کیا۔”یہ ناممکن ہے۔“
”تو پھر مرنے کے لیے تیار ہوجاﺅ۔“
میں گنگنایا۔”مرنا آسان ہے لیکن مجھے آتا ہی نہیں۔“ساتھ اس کا انگریزی میں ترجمہ بھی کر دیاتھا۔
شری کانت نے منحوس آوازمیں کفر بکا۔”شاید سوچتے ہوکہ یہ گڑھا تمھیں بچا لے گا، مگر اب ایسے پھنسے ہو کہ تمھارا اللہ بھی تمھیں نہیں بچا سکتا۔“
میں نے پوچھا۔”مسٹر پاسکل!کیا تمھیں بھی ایسا ہی لگتا ہے۔“
وہ سنجیدگی سے بولا۔”مسٹر ایس ایس!تمھیں قتل تو اب بھی نہیں کروں گا کیوں کہ جس شخص نے مجھے بلایا ہے اس نے تاکید کی ہے کہ تمھیں اس تک صحیح سلامت پہنچاﺅں۔ وہ تمھیں من چاہی سزا دینا چاہتا ہے۔“یہ بات کرتے ہوئے ایسا لگا تھا وہ کچھ پی بھی رہاہے۔بلاشبہ اپنے تیئں اس نے مجھے گھیر لیا تھااور اتنا یقین تو اسے تھا کہ کوئی سنائپر آڑ چھوڑنے کی حماقت کسی صورت نہیں کر سکتا۔میں بہ ظاہر گڑھے میں چھپا تھااور گڑھے سے نکلنے کا مطلب جان سے جانا تھا،اس لیے ایسی غلطی میں کبھی نہ کرتا۔
”تو سچ میں وہ شری کانت کے علاوہ کوئی اور ہے؟“میں نے سچ اگلوانے کو حیرت کا اظہار ضروری سمجھاتھا۔
شری کانت غلاظت اگلتے ہوئے بولا۔”وہ مہاراج کرن چاولہ ہیں بھڑوے....اور وہ نہیں چاہتے کہ تم انڈین ایجنسیوں کے ہاتھ چڑھو،تمھارا حساب کتاب وہ خود چکتا کرنا چاہتے ہیں۔ممکن ہے اپنی رکھیل ،یعنی جسے تم لوگوں کے سامنے دیدی بولتے ہو،اس طوائف دیدی کا پتا بتا نے سے تمھاری جان بھی بچ جائے۔“
”شاید تمھیں زندہ چھوڑ دیتا ،مگر میری دیدی کانام اپنی گندی زبان سے لے کر تم نے دردناک موت مقدرکر لی ہے۔“
”تم جیسے کتے ........“اس نے بکواس شرو ع ہی کی تھی کہ میں نے اس کی کمرکے نیچے کولہوں کے بیچ شست سادھتے ہوئے لبلبی دبا دی۔گولی کو نشانہ ڈھونڈنے میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آئی تھی۔ اس کی بلند بانگ چیخ نے اعلان کیا کہ اسے بھونکنے کی سزا مل گئی تھی۔اس کے ہمراہ لیٹا پاسکل اچھل کر سیدھا ہوا۔
میری اطمینان بھری آواز ابھری۔”اگر ذرا بھی حرکت کی تو تمھیں ان سب افسانوں کے ثبوت مہیا کر دوں گا جو تم ایس ایس کے متعلق سنتے رہے ہو۔“
”تم کہاں ہو....؟“اس کی نظریں اسی ٹیلے کی جانب اٹھی تھیں جہاں میں موجود تھا۔
”تم اسی طرف دیکھ رہو ہو برخوردار!....کیا خیال ہے ایک چھوٹے سے آلے کے سہارے ہمیشہ مجھے الو بنائے رکھو گے۔دیکھ لو تمھیں اسی آلے کے سہارے گھیرا ہے۔اسے کہتے ہیں جیسا منہ ویسی چپیڑ....“
اس نے شکست خوردا انداز میں لمبا سانس کھینچا۔”تو تمھیں پتا چل گیا تھا۔“
”ہاں ....اور یہ بائیں ہاتھ میں کیا پکڑا ہے؟“
وہ گڑبڑا کر بولا۔”برانڈی کی بوتل ہے۔“عادی شرابی معلوم ہوتا تھا کہ ایسے مشن پر بھی شراب کی بوتل لانا نہیں بھولا تھا۔
میں ہنسا۔”فتح کے حصول سے پہلے جشن منانا شروع کر دیایہ تو ٹھیک نہیں ہے دوست!“
اس نے صفائی دی۔”جشن نہیں منا رہا۔“
”ایسا ہے توبوتل کی گردن سے پکڑ کرہاتھ کو سر سے اوپر اٹھالو....“
”مم....مگر....“وہ بوکھلا گیا تھا۔
میں پرسکون انداز میں بولا۔”اپنے سر اور بوتل میں سے ایک کا انتخاب کر لوپیارے۔“
اس نے احتجاج کیا۔”مگرتم ڈیڑھ کلو میٹر سے زیادہ فاصلے پر ہو۔“
میں ہنسا۔”تمھیں ایس ایس کا نشانہ بھی دکھانا ہے اور یقین دلانا ہے کہ ایس ایس کی گولیاں غلطی سے ہدف پر نہیں لگتیں۔“
وہ جلدی سے بولا۔”مجھے یقین ہے۔“
میں شاکی انداز میں بولا۔”اگر یقین ہوتا تو اب تک تم نے اپنا ہاتھ اوپر اٹھا لیا ہوتا۔“
وہ معترض ہوا۔”میں بھی سنائپر ہوں اور جانتا ہوں کہ کتنے فاصلے پراتنی چھوٹی چیز پر نشانہ سادھا جا سکتا ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”وہ میرا درد سر ہے۔“
”مگر نشانہ میں نے بننا ہے اوور........“
میں قطع کلامی کرتے ہوئے تیقن سے بولا۔” تین گنتے ہی گولی چلا دوں گا اگر بوتل والا ہاتھ نہ اٹھا تو نشانہ کوئی بھی عضو بن سکتا ہے اور تم چاہو یا نہ چاہو اپنا نشانہ تو تمھیں دکھاﺅں گا۔ایک....“
اس نے فوراََبایاں ہاتھ اوپر اٹھا دیا تھا،میں نے لمحہ ضائع کیے بغیر بوتل کے پیندے پر شست سادھی اور لبلی دبا دی۔چھناکے کی آواز مجھے موبائل فون کے اسپیکر سے بھی سنائی دی تھی۔
میں نے قہقہ لگایا۔”کہا تھا ناں تمھیں کچھ نہیں ہوگا،اپنے دوستوں کے بارے میں بہت حساس ہوں۔“
اس نے تھکے تھکے لہجے میں اجازت مانگی۔” کانٹ کو سنبھال سکتا ہوں۔“
میں نے انکار کرتے ہوئے کہا۔”اسے میں سنبھال لیتا ہوں۔“
پاسکل شکست خوردہ لہجے میں بولا۔”میرے خیال میں اسے کافی سزا مل گئی ہے۔“
”ایک سانپ کو زندہ چھوڑا تو اس نے تمھیں بلا لیا،اس نے کسی اور کو بلا لینا ہے تو رہنے دو یار! کیا سنبھالتے رہو گے میں تمھاری مشکل آسان کر دیتا ہوں۔“میں نے ماہی بے آب کی طرح تڑپتے شری کانت کے سر پر نشانہ سادھا۔
”پپ....پلیز....“شری کانت کی گھگیائی ہوئی آواز بلند ہوئی،اس نے تڑپ کر سیدھا ہونا چاہا ،مگر میں اپنی بات ختم ہونے سے پہلے ہی لبلبی دبا چکا تھا۔پلیز کے آگے وہ کچھ نہیں بول سکا تھا۔ اس جیسے کینہ پرور موذی کو چھوٹ دینا اور مستقل ایک اور دشمن پالنے کا متحمل میں نہیں ہو سکتا تھا۔
لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد پاسکل کی جھجکتی ہوئی آواز ابھری۔”مجھے بھی قتل کرو گے۔“
میں دھیرے سے بولا۔”نہیں....ایک موقع دے سکتا ہوں۔“
وہ جلدی سے بولا۔”قسم کھاتا ہوں ،میں واپس لوٹ جاﺅں گا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”اس کی بھی ضرورت نہیں،تمھیں ہر دو صورت زندہ چھوڑ دوں گا، بس یہ واضح کر دو کہ میں مقابلہ کرنے کے لیے رک جاﺅں یا پاکستان لوٹ جاﺅں۔البتہ اگلی بار معافی تلافی کا موقع نہیں ملے گا۔“
وہ سنجیدگی سے بولا۔”میں مقابلے سے دستبردار ہو تا ہوں۔“
”جاﺅ....“
اس نے حیرانی سے پوچھا۔”سچ میں جا سکتا ہوں۔“
”ہاں ....البتہ رائفل یہیں چھوڑ کر جانا ہو گی،تم نے میری دوست کی رائفل کی ٹیلی اسکوپ سائیٹ برباد کر دی ہے،جرمانہ تو ادا کرنا ہوگا۔“
”تو میں جاسکتا ہوں۔“اسے اب تک یقین نہیں ہورہا تھا۔
”ہاں اور شری کانت کی لاش بھی لے جا سکتے ہو۔“
”شکریہ۔“کہتے ہوئے اس نے جھک کر شری کانت کی لاش کو کندھے پر اٹھایا اور ٹیلے سے نیچے اترنے لگا۔سنائپر رائفل اس نے وہیں چھوڑ دی تھی۔
اس سے گفتگو کرتے وقت میں نے کان سے وائرلیس کی ہینڈ فری نکال دی تھی،جونھی بات چیت ختم ہوئی میں نے ہینڈ فری دوبارہ لگاتے ہوئے بملا کو پکارا۔”ہیلو۔“
وہ تو جیسے بھری بیٹھی تھی،فوراََ ہی اس کاواویلا شروع ہو گیا۔”بیڑا غرق راجے!کب سے گلا پھاڑ رہی ہوں ....جان سولی پر اٹکی ہوئی ہے اور تم ہو کہ گھوڑے بیچ کر سو رہے ہو۔“وائرلیس کے طریقہ کار کے مطابق اسے اوور وغیرہ کہنا بھی بھول گیا تھا۔
میں خفیف ہوا۔”معذرت،دشمن سے سودے بازی کے دوران میں تمھاراخیال ہی نہیں رہا اوور۔“
اس نے برہمی ظاہر کی۔”اچھا اب مجھے بقیہ زندگی اسی گڑھے میں گزارنا پڑے گی یا تم نے دشمن کے پاﺅں کو ہاتھ لگا کر معافی وغیرہ مانگ لی ہے۔“
میں ہنسا۔”معافی تلافی ہو گئی ہے،تم باہر آجاﺅ۔“
اس نے سنجیدہ انداز میں شگوفہ چھوڑا۔”اچھا ایک بات غور سے سن لو اگر دوبارہ میں اس طرح کی کسی تجویز پر اثبات میں سر ہلاﺅں تو میرے منہ پرزور کا تھپڑ مارنا۔“
میں نے بے ساختہ ابل پڑنے والے قہقے کو دباتے ہوئے اسے ڈرایا۔”اچھا تم نے رینگتے ہوئے ٹیلے سے نیچے اترنا ہے اوور....“
اس کی اندیشہ بھری آواز ابھری۔”رینگتے ہوئے کیوں؟اوور....“
میں گہری سنجیدگی سے بولا۔”غربی جانب بھی دشمنوں کا ایک سنائپر موجود ہے،اس سے رابطہ نہیں ہو پا رہاتو تمھیں ایسے ہی کرنا ہوگا،جیسا میں کہہ رہا ہوں اوور۔“
وہ جھلاتے ہوئے بولی۔ ”میرا دماغ خراب تھا جو تمھاری مدد کرنے دوڑی چلی آئی، اب خود تو آرام سے لیٹے ہو اور دشمن پورے صحرا میں مجھے گھسیٹ رہے ہیں۔“
میں ہنسا۔”مدد کرنے آئی ہو تو برداشت بھی پیدا کرواوور....“
اس نے موضوع تبدیل کیا۔”رائفل یہیں چھوڑ دوں ؟اوور....“
میں ہنسی دباتے ہوئے بولا۔”تمھاری اپنی چیز ہے،میں کیا مشورہ دے سکتا ہوں، البتہ نشاندہی کرنے والے آلے کو وہیں پھینک دینا۔ اوور۔“ اس دوران میں میری نظریں پاسکل پر گڑی تھیں جو گاڑی میں بیٹھ کر سڑک کی طرف روانہ ہوگیا تھا۔
جاری ہے

 

قسط نمبر41
ریاض عاقب کوہلر
اس نے احمقانہ انداز میں پوچھا۔”کیا نئی ٹیلی سکوپ سائیٹ مل جائے گی؟اوور....“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”میں نے کبھی اس سے زیادہ احمقانہ سوال نہیں سنا،ایک سنائپر ہوتے ہوئے تمھیں اتنا نہیں معلوم اوور۔“
وہ ترشی سے بولی۔” اسلحے کی بیوپاری نہیں ہوں سمجھے....یہ رائفل بھی کسی نے تحفے میں دی تھی ،جو تمھاری وجہ سے کسی کام کی نہیں رہی اور اب اس کی بھرپائی تم نے ہی کرنا ہے۔اوور....“
پاسکل کی گاڑی سڑک کی طرف روانہ ہو گئی تھی ،میں نے شست بملا کی طرف موڑی جو رینگتے ہوئے ریت کے ٹیلے سے نیچے اتر رہی تھی۔”اچھا اب کھڑی ہو جاﺅاور اپنی جیپ میں دشمنوں والے ٹیلے کے پاس پہنچواوور....“
وہ درشت لہجے میں غرائی۔”تم نے جھوٹ کہا تھا ناں کہ غربی جانب بھی دشمن موجود ہیں۔ اوور....“ یہ کہتے ہوئے وہ کھڑی ہو گئی تھی۔
میں نے قہقہ لگانے پر اکتفا کیا تھا۔
وہ جلے کٹے لہجے میں بولی۔”اگر دشمنوں کی کمین گاہ کی طرف جانے کی ہدایت بھی کسی مذاق کا حصہ ہے تو کرپیامجھے معاف کر دیں۔اوور....“
”ایسا کچھ نہیں ہے۔اوور....“میں نے مسکراتے ہوئے اسے تسلی دی تھی۔
اس نے چپ سادھ لی۔میں وہیں لیٹا اطراف کا جائزہ لیتا رہا۔سہ پہر ہو چکی تھی،سردیوں کا دن ڈھلنے کو پر تول رہا تھا،لیکن میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
بملا چکر کاٹ کر ٹیلے کے شرقی جانب پہنچی۔اس دوران میں پاسکل کی گاڑی سڑک کے پاس پہنچ کر نظروں سے اوجھل ہو گئی تھی۔ٹیلے کے دامن میں جیپ روکتے ہوئے بملا نے وہ سوال پوچھا جو اسے بہت پہلے پوچھنا چاہیے تھا۔”دشمنوں کا کیا ہوا؟اوور....“
میں نے کہا۔”بتایا تو تھا،ان سے مذاکرات ہو گئے ہیں ، اب تک تو کافی دور جا چکے ہوں گے اوور....“
وہ حیرانی سے چلائی۔”اور تم نے انھیں جانے دیا؟اوور....“
میں نے وضاحت دی۔”کیا کرتا،تم ان کے نشانے پر جو تھیں اوور....“
”یہ واہیات منصوبہ تم نے ہی بنایا تھا ناں ۔“چڑچڑے انداز میں کہتے ہوئے وہ کار سے باہر نکلی۔”اب کیا کروں؟اوور....“
میں نے ہدایت دی۔”ٹیلے کے اوپر چڑھ جاﺅاوور۔“
وہ استہزائیہ انداز میں بولی۔”کوئی خطرہ ہے تو پہلے سے بتا دوتاکہ مرنے میں آسانی ہو۔“
میں ہنسی دباتے ہوئے بہ ظاہر سنجیدہ لہجے میں بولا۔”بہتر تو یہی ہوگا کہ رینگ کر اوپر پہنچو اوور....“
وہ برہمی سے بولی۔”راجے !سدھر جاﺅ۔“
”اچھا جلدی سے اوپر پہنچو،تمھارے لیے تحفہ وہاں رکھا ہے۔اوور....“
وہ طعنہ زن ہوئی۔”مثل مشہور ہے کہ ماسی!تمھاری خیرات سے توبہ مجھے اپنے کتوں سے بچاﺅ۔“
میں نے جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔اوپر پہنچتے ہی اس کی حیرانی بھری آواز سنائی دی۔”راجے !دشمن اپنی سنائپر رائفل اور دوسرا سامان یہیں چھوڑ گئے ہیں....اور یہاں کافی خون بھی بکھرا پڑا ہے۔اوور....“
رائفل اٹھاﺅ،سامان سمیٹو اور نیچے پہنچو۔اوور....“میں نے تفصیل بتانے سے گریز کیا تھا۔
اس نے سامان سمیٹ کر رائفل کے بیگ میں ڈالا ،رائفل کو کندھے پر رکھا،بیگ کو ہاتھ میں لٹکایا اور قریباََ دوڑتے ہوئے جیپ کی طرف جانے لگی۔
”ہم بڑی سڑک پر باڑ میر کی طرف نہیں جائیں گے ،بلکہ چھوٹی سڑکوں کا استعمال کر کے وہاں پہنچیں گے،اس لیے تم اپنی جیپ میرے پاس لے آﺅ۔اوور....“
”ٹھیک ہے۔اوور....“اس نے سامان جیپ میں رکھا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر میری طرف آنے لگی۔ جب تک وہ ٹیلے کے دامن میں نہیں پہنچی میں اوپر لیٹا رہا۔جونھی اس نے کار کے پہلو میں جیپ روکی،میں دائیں بائیں آخری نظر دوڑا کر نیچے اترنے لگا۔
بملا بھی جیپ سے باہر آگئی تھی۔اس کے قریب پہنچتے ہی میں نے سب سے پہلے رائفل کے بارے پوچھا۔
”ذرا رائفل دکھاﺅ۔“
”میری خیریت پوچھنے کے بجائے تمھیں رائفل دیکھنے کا شوق چرایا ہے۔“منہ بناتے ہوئے وہ جیپ سے رائفل نکالنے لگی۔وہ چیٹیک ایم ۰۰۲انٹروینشن تھی۔
(Cheytac M200 Intervention)اعشاریہ چارسو آٹھ قطر کی امریکن ساختہ سنائپر رائفل جس کی کارگر رینج قریباََدو کلومیٹر ہے۔میگزین میں سات گولیاں پڑتی ہیں۔ بولٹ ایکشن اور درستی میں رینج ماسٹر اور بیرٹ ون او سیون سے بھی آگے ۔
میں گہری سنجیدگی سے بولا۔”بہت عمدہ رائفل ہے،امید ہے تم اس کا اچھے سے خیال رکھ پاﺅ گی۔“
اس نے اشتیاق سے پوچھا۔”دو تین لاکھ کی تو ہو گی۔“
میں نے انکشاف کیا۔”تیرہ چودہ ہزار امریکن ڈالر کی ہے،انڈین کرنسی کا اندازہ خود ہی لگا لو۔“
”اتنی مہنگی....؟“اس کی موٹی آنکھیں مزید پھیل گئی تھیں۔
”دنیا کی پہلی پانچ بہترین سنائپر رائفلوں میں اس کا شمار ہوتا ہے،بلکہ زیادہ تر سنائپر اسے پہلا نمبر دیتے ہیں۔“یہ کہتے ہوئے میں رائفل کو کھول کر بیگ میں ڈالنے لگا۔
وہ جلدی سی بولی۔”تو مجھے اس کااستعمال بھی سکھا دو۔“
”پہلے واپس چلنے کی تیاری پکڑو۔“کار کی ڈگی میں تینوں سنائپر رائفلیں منتقل کر کے میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیاتھا۔
تھوڑی دیر بعد ہم آگے پیچھے چلتے ہوئے آگے چل پڑے تھے۔واپسی کے سفر میں ہمیں سیدھی سڑک کے مقابلے میں قدرے زیاد ہ فاصلہ طے کرنا پڑا تھا۔رات کے نو بجنے کو تھے جب ہم باڑمیر میں داخل ہوئے۔ایک نئے ہوٹل کا انتخاب کر کے میں ہوٹل میں کمرہ لینے ٹھہر گیا جبکہ بملا جیپ واپس کرنے چلی گئی۔میں ایس آر ون اور چیٹیک ایم ۰۰۲کے بیگوں کو کمرے میں لے آیا تھا۔
بملا کی واپسی پر پہلے ہم نے کھانا کھایااس دوران میںمیں اسے تفصیل بتا چکا تھا۔
”جس وقت میری رائفل کی ٹیلی اسکوپ سائیٹ پر گولی لگی،میں تو سچ میں بہت ڈر گئی تھی اور حفاظتی گڑھے میں کودنے کو میں نے ایک سیکنڈ بھی نہیں لگایا تھا۔یہ خوف بھی کھائے جا رہا تھا کہ جانے تم حالات کو قابو میں کر لو گے یا مجھے مشکل میں چھوڑ کر بھاگ جاﺅ گے۔“
میں شاکی ہوا۔”اتنی بے اعتباری تھی تو مدد کرنے کیوں آئیں۔“
اس نے منہ بنایا۔”عقل گھاس چرنے گئی تھی،اس لیے چلی آئی۔خاک جانتی تھی کہ اتنی مشکل میں پھنس جاﺅں گی۔“
میں نے دکھ کا اظہار کیا۔”تمھاری بدگمانی پر افسوس ہوا۔“
وہ جلے کٹے انداز میں بولی۔”ایک تو مدد کو آئی ہوں اوپر سے مطعون بھی مجھے کیا جا رہا ہے۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”اچھا تم کوئی کام ادھورا چھوڑ کر آئی تھیں۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”مذاق کیا تھا۔“
میں سنجیدگی سے بولا۔”اب میرے لائق کوئی خدمت۔“
وہ جلدی سے بولی۔”مجھے اس رائفل کے بارے جاننا ہے۔“
اور میں اسے چیٹیک ایم ۰۰۲ کے بارے بنیادی باتیں بتانے لگا۔میں نے اسے صرف ایک بار استعمال کیا تھااور میرے لیے اتنا کافی تھا۔یوں بھی سنائپر رائفلوں میں زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ان میں سب سے اہم ٹیلی اسکوپ سائیٹ ہے۔کیوں کہ اسی پر رینج لگتی ہے،اسی سے دائیں بائیں کا فرق نکالا جاتاہے،اسی کے ذریعے ہدف کو نزدیک دیکھنا ممکن ہوتا ہے،اگر ایل آر ایف(لیزر رینج فائینڈر .... فاصلہ ناپنے والا آلہ )نہ ہو تو ٹیلی اسکوپ سائیٹ کے اندرونی منظر سے فاصلہ بھی ناپا جا سکتا ہے۔ اندھیرے میں فائر کرنے کو اس کا اندرونی منظر روشن بھی کیا جاسکتا ہے، ہوا کی رفتار ونڈ میٹر سے ناپی جاتی ہے ،لیکن ہوا کا جو گولی پر اثر پڑتا ہے اس کا حق ٹیلی اسکوپ سائیٹ ہی پر رکھا جا سکتا ہے۔مختصر یہ کہ سنائپر رائفل سے ٹیلی اسکوپ سائیٹ اتار دی جائے تو سنائپر رائفل اور اسالٹ رائفل میں کوئی فرق نہیں رہے گا،بلکہ سنائپر رائفل کارکردگی کے لحاظ سے اسالٹ رائفل سے بھی کم نتائج دے گی۔
تین چار گھنٹے تک میں اسے مختلف چیزوں کے بارے سکھاتا رہا،گو بہت ساری چیزیں ایسی تھیں جنھیں عملی طور پر دکھا کر ہی سمجھایا جا سکتا تھا،لیکن وہ بھی کوئی عام لڑکی نہیں تھی،سنائپنگ کے بارے کافی کچھ جانتی تھی۔
وہ لجاجت سے بولی۔”کیا ایسا نہیں ہو سکتا تم ہفتے کے لیے واپسی موّ خر کردو۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”پلوشے خفا ہو جائے گی۔“
”میں سمجھی نہیں۔“وہ حیران رہ گئی تھی۔
میں نے سنجیدگی سے پوچھا۔”کبھی کسی سے محبت کی ہے؟“
مجھے گہری نظر سے دیکھتے ہوئے اس نے نفی میں سرہلادیا تھا۔
میں اطمینان سے بولا۔”توپھر میرا فلسفہ تمھاری سمجھ میں نہیں آئے گا۔“
”تو کیا ارادہ ہے؟“اس نے اصرار نہیں کیا تھا۔
”ایک ٹولی سے میرے ساتھیوں کی بات ہوئی تھی،ان کے چار پانچ آدمی تو پاسکل کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے ہیں بچ جانے والوں سے بات کرتا ہوں امید ہے سرحد پار کرنے میں مدد دیں گے۔“
اس نے پوچھا۔”تمھیں یقین ہے پاسکل واپس لوٹ جائے گا؟“
میں نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”کچھ کہہ نہیںسکتا،البتہ اس کے انداز سے ظاہر ہو رہا تھا کہ فی الحال کوئی شرارت نہیں کرے گا۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”اگر ایسا ہوتا تو تم اتنی دیر رائفل کے عقب میں لیٹے اس کی نگرانی نہ کرتے ،جب تک سڑک پر چڑھ کراس کی گاڑی نظروں سے اوجھل نہ ہوگئی تم نے اپنی جگہ سے ہٹنے کی ہمت نہ کی۔“
میں نے صاف گوئی سے اگلا۔”دشمن سے معاہدہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ قابل اعتبار ہو گیا۔معاہدے کی پابندی میں خود تو کر سکتا ہوں دشمن کو مجبور نہیں کر سکتا۔“
اس نے موضوع تبدیل کیا۔”کیا میری مزید مدد چاہیے ہو گی۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”فی الحال تو بالکل نہیں ،البتہ دوبارہ انڈیا آنا ہواتو ضرور رابطہ کروں گا۔“
اس نے گہری سنجیدگی سے پوچھا۔”تم پہلے بھی کئی مرتبہ انڈیا آچکے ہواور ہر بار کسی نہ کسی کے سامنے بعینہ یہی الفاظ دہرائے ہوں گے،تو پوچھنا یہ تھاکبھی اپنی بات پر عمل کرنے کا موقع بھی ملایا رات گئی بات گئی کے آسان مقولے پر عمل کرنا زیادہ پسند کرتے ہو۔“
میں نے انکشاف کیا۔۔”بھول گیا ہے،جب تمھاری پسلیوں کی سختی کا اندازہ کیا تھا تب میں کسی ایسے ہی سے مل کر آرہا تھاجس کے ساتھ دوبارہ انڈیا آمد پر ملنے کا وعدہ تھااور اس کے علاوہ بھی چند اور تھے جن سے ملاقات کر کے ہی واپسی ہو رہی ہے۔“
اس کے ہونٹوں پر مدھر تبسم نمودار ہوا۔”ایسا ہے کیا؟“
میں نے اعتماد سے کہا۔”زندگی رہی تو دیکھ لو گی۔“
وہ ذومعنی لہجے میں بولی۔”ہاں دیکھنا تو ضرور چاہوںگی۔“
میں نے مشورہ دیا۔”رات کافی ہو گئی ہے،میرا خیال ہے آرام کرتے ہیں۔“
اور وہ اثبات میں سرہلاتے ہوئے چیٹیک ایم ۰۰۲ انٹر وینشن کو بیگ میں بند کرنے لگی۔
٭٭٭٭٭
اگلی صبح ہم نے اکٹھے ناشتاکیا اور پھر وہ الودا ع ہو کر چلی گئی۔اس کے جانے کے تھوڑی دیر بعد میں ہوٹل سے نکل آیاتھا۔سب سے پہلے میں نے مسلمانوں کے قبرستان جا کر ایک پختہ قبر کی بنیاد میں ایس آر ون کو بیگ سمیت دفن کر دیا ۔اس کے پرزوں کو رائفل کے تیل میں اچھی طرح بھگو کر میں نے مومی لفافے میں لپیٹ کر بیگ میں رکھا تھا۔اس پر اب تک بیس پچیس گولیاں فائر ہوچکی تھیں اور اتنی ہی مزید ہو سکتی تھیں۔انڈیا دوبارہ آمد پر میں اس رائفل کو استعمال کر سکتاتھااس لیے میں نے اسے بملا کے حوالے نہیں کیا تھا۔ موہن بھیمانی سے ملنے والاوالتھر پی نائینٹی نائین بھی میں نے بیگ کے ہمراہ دفن کر دیا تھا۔البتہ گلاک اور روگر ایل سی پی اڑتیس بورمیں نے پاس رکھے تھے۔روگر تو میں نے پنڈلی کے ساتھ باندھا ہوا تھا اور کسی خاص موقع ہی پر کام آسکتا تھا ،جبکہ گلاک بائیں بغل کے نیچے ہولسٹر میں موجود تھااور سیکنڈ کے دسویں حصے میں میرے قبضے میں آ سکتا تھا۔
قبرستان سے میں ویگن اڈے پہنچا اور اڑکا جانے والی ویگن میں بیٹھ گیا۔نامعلوم مہیش بابو کے ساتھیوں نے میرے کام آنا تھا یا نہیں ۔
ویگن نے مجھے اڑکا سٹاپ پر اتارا اور آگے بڑھ گئی۔مہیش بابو کا ٹھکانہ مجھے معلوم تھا اس لیے بغیر کسی سے رہنمائی لیے اس جانب بڑھ گیا۔عمارت کے دروازے پر نیا چوکیدار نظر آرہا تھا جو خاصا چوکنا لگ رہا تھا۔
”جی مہاراج !؟“مجھے دروازے کے سامنے رکتا دیکھ کر اس نے بہ ظاہر نرم لہجے میں پوچھا۔اس دوران میں اس کا ایک ہاتھ خود کار رائفل کے ”پسٹل گِرپ “پر یوں جما تھا کہ ذرا سا خطرہ محسوس کرتے ہی وہ سرعت سے رائفل استعمال کر سکتا تھا۔
میں نے اطمینان بھرے انداز میں مہیش بابو کے بچ جانے والے ساتھی کا نام لیا ۔”شیام راﺅ کو ملنا ہے۔“
”شیام راﺅ۔“وہ چونکا اور پھر سنبھلتے ہوئے بولا۔”ایک منٹ معلوم کر لوں۔“
اس نے انٹرکام اٹھا کر کان کو لگا لیا۔چھوٹے سے وقفے کے بعد بولا۔”شیام راﺅ کو ملنے ایک صاحب آئے ہیں۔“لمحہ بھر خاموش رہ کر اس نے ہدایات سنیں اور پھر جھجکتا ہوا بولا۔
”جج....جی .... جی ....ٹھیک ہے مہاراج!“اس دوران میں اس کی آنکھیں مجھ پر جمی تھیں اور ساتھ ہی اس نے رائفل کے پسٹل گرپ پر اپنے داہنے ہاتھ کی گرفت مضبوط کر لی تھی۔
میری چھٹی حس نے خطرے کی گھنٹی بجائی،نامعلوم کیوں مجھے گڑبڑ لگ رہی تھی۔لیکن اسی لمحے مجھے تین چار روز پہلے ہونے والا واقعہ یاد آیا جب وہاں مہیش بابو اور اس کے ساتھیوں کا قتل ہوا تھا۔ اتنی جلدی وہ اتنا بڑا حادثہ کیسے بھول سکتے تھے،یقینا مہیش بابو کا قائم مقام چوکیدار کو سخت ہدایات دے رہا تھا۔
”مگر یہ ہدایات تو اسے پہلے سے دینا چاہئیں تھیں۔“میرے دماغ میں ایک اور سوچ ابھری۔اسی وقت چوکیدار نے رسیور رکھتے ہوئے دروازہ کھول دیا۔”آجائیں مہاراج!“
ایک لمحے کو میں نے واپس جانے کا سوچا مگر پھر قدم اندر رکھ دیے۔
چوکیدارنے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا۔”اسی روش پر سیدھا چلتے جائیں آگے بندے موجود ہیں۔“
میں نے گہری نظر سے چوکیدار کو دیکھا جو کن اکھیوں سے مجھ پر نظر رکھے ہوئے تھا۔
کوئی گڑبڑ تھی یا وہ چوکیدار احمق تھا ۔لمحہ بھر سوچ کر میں کندھے جھٹکتا ہوا پختہ روش پرآگے بڑھ گیا۔انھی لمحات میں اندرونی عمارت سے چار بندے نمودار ہوئے،ان کے ہاتھوں میں ہتھیار دیکھ کر میرا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔مگر تب واپس مڑنا کسی طرح مناسب نہ تھا۔ میں بااعتماد انداز میں ان کی طرف بڑھ گیا۔
”ہاتھ اوپر۔“ان سے چند قدم دور ہی تھا جب سخت لہجے میں حکم دیا گیا تھا۔
”میں دوست ہوں۔“خوشگوار لہجے میں کہتے ہوئے میں نے دوستانہ فضا پیدا کرنا چاہی۔
پہلے والا شخص کرخت لہجے میں بولا۔”دوبارہ کہہ رہا ہوں ہاتھ اوپر.... تیسری بار نہیں کہوں گا۔“
ہاتھ اوپر کرتے ہوئے میں نے صفائی دینا چاہی۔”تمھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے دوست!“
مجھے نشانے پر رکھتے ہوئے وہ اپنے ایک ساتھی سے بولا۔”بالے !تلاشی لو۔“
”جی استاد جی!“لمبے قد اور چھریرے بدن والے ایک سیاہ رو شخص جس کی عمر تیس سال کے لگ بھگ ہو گی اپنا پستول جیب میں ڈالتے ہوئے میری طرف بڑھا۔ان لمحات میں میں ہاتھ پاﺅں مار سکتا تھا،مگر میرے خیال میں انھیں کوئی غلط فہمی ہوئی تھی یا وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کر رہے تھے اور میرے مزاحمت کرنے پر خواہ مخواہ جھگڑا کھڑا ہوسکتا تھا۔یہ سوچ کر میں شرافت سے کھڑا رہا۔
بالے نے قریب ہو کر ماہرانہ انداز میں تلاشی لی،گلاک اور روگر قبضے میں کر کے اس نے میرے ہاتھ پشت کی طرف کر کے پلاسٹک کی ہتھکڑی پہنا دی۔
میں استہزائی انداز میں بولا۔”آپ کے ہاں مہمانوں سے ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔“
”چلو۔“بالے نے مجھے پیٹھ پر ٹہوکا دیا،کسی نے میری بات کا جواب دینے کی زحمت نہیں کی تھی۔
میں نے کوشش جاری رکھی۔”تمھارا باس کون ہے،مجھے اس سے بات کرنا ہے۔“
”ابے !خاموش ورنہ باس کیا کسی سے بھی بات کے قابل نہیں رہے گا۔“بالے کا زور دار تھپڑ میری گُدی پر لگا تھا۔
گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے غصے کو قابو کیااور وقتی طور پر چپ سادھ لی۔
چوڑی راہداری سے گزر کر وہ ایک نشست گاہ میں داخل ہوئے جہاں صوفوں پر تین مرد اور ایک جواں سال لڑکی بیٹھے دروازے کی طرف متوجہ تھے۔مجھے ساتھ لانے والوں نے فوراََ نشستیں سنبھال لی تھیں۔ بالے نے مجھے کسرتی جسم رکھنے والے جوان شخص کے سامنے کھڑا کیا اور خود بھی نشست سنبھال لی۔اس کا رنگ ہلکا سانولا اور نقوش جاذب نظر تھے۔وہاں موجود اکلوتی لڑکی اس کے پہلو میں بیٹھی تھی ۔لڑکی بھی اچھی خاصی خوب صورت تھی ۔سرخ و سفید رنگ ،بھورے بال ، شوخ ، شرارتی اور پرکشش آنکھیں، باریک یاقوتی ہونٹ جنھیں سرخی سے یوں لیپا گیا تھا گویا کسی کا خون پی کر بیٹھی ہو۔بھرابھرا بدن جوچست پاجامے سے سنبھالا نہیں جا رہا تھا۔
چست جامے میں وہ کچھ ایسے نظر آتے ہیں
جس طرح پھولے ہوئے پاﺅں جرابوں میں ملیں
بالائی بدن پر ہلکے بھورے رنگ کی جرسی تھی جو قدرے کھلی تھی۔بال پونی میں قید تھے۔ گلے میں جرسی کے ہم رنگ مفلر تھا۔ہاتھوں میں چوڑی اسکرین کاموبائل تھامے وہ ایسی نظروں سے مجھے گھور رہی تھی جیسے تخت پر متمکن رانی کسی ادنیٰ غلام کو گھورتی ہے۔
ایک سرسری نگاہ لڑکی پر ڈال کر میں باس کی طرف متوجہ ہوا۔”آپ کے آدمیوں کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے دوست!میں دشمن نہیں ہوں۔“
وہ زہر خند ہوا۔”اس متعلق ہر شخص ذاتی رائے رکھتاہے تمھیں ہمارے دوستوں، دشمنوں کی کیا خبر؟“
میں اعتماد سے بولا۔”دشمنی یک طرفہ تو نہیں ہوتی۔“
” کسی کے بھائی کو قتل کر کے میں دوستی کے کتنے ہی دعوے کیوں نہ کروں مقتول کے بھائی کو تسلیم نہیں ہوگا۔“
میں گہری سنجیدگی سے بولا۔”بجھارتیں ڈالنے کے بجائے مدعے پر آﺅ دوست!“
وہ غیظ و غضب بھرے لہجے میں بولا۔”تمھاری وجہ سے میرا بھائی مہیش بابو قتل ہواہے اور تم وضاحتیں مانگ رہے ہو۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”میری وجہ سے کیسے؟“
وہ زہر خند ہوا۔”شیام راﺅ نے تمھارا حلیہ بڑی تفصیل سے بتا دیا تھااور ابھی تمھاری ہی تلاش کا منصوبہ بنا رہے تھے،شکریہ تم نے ہمیں زحمت سے بچا لیا۔“
میں اعتماد سے بولا۔”شیام راﺅ سے فقط حلیہ ہی پوچھا ہے،ساتھ تھوڑی تفصیل بھی پوچھ لیتے۔“
اس نے میرے سر میں ڈنڈا رسید کیا۔”وہ سالا تو جھوٹ ہی بکے گا ناں ،مجھے شک ہے اس نے میرے بھائی کو قتل کرایا ہے اور تم اس سازش میں شامل تھے۔“
میں نے وضاحت کی۔”ایسی بات نہیں ہے دوست !حملہ آور ایک سنائپر تھا اور اس نے دور سے نشانہ لگا کر فائرنگ کی تھی۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولا۔”اور اس حملے میں فقط شیام اور تمھی جان بچائے ۔واہ کیا خوب صورت اتفاق ہے....“
میں اعتماد سے بولا۔”بالکل ایسا ہی ہوا ہے۔“
”اگر تمھاری کہانی تسلیم کریں تب بھی ، دشمن سنائپر کو تم اپنے پیچھے لگا کر لائے تھے اوروہ تمھارا دشمن ہوتا تو میرے بھائی کے بجائے تم پر گولی چلاتا،صاف ظاہر ہے تم اس کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔“
جاری ہے
 

قسط نمبر42
ریاض عاقب کوہلر
میں نے صفائی دیتے ہوئے کہا۔”میں یہاں سرحد پار کرنے آیا تھا،اس مقصد کو مہیش بابو کو ادائی ہو چکی تھی۔اب کوئی دشمن مہیش بابو کی رہائش پر حملہ آور ہوتا ہے تو اس میں میرا کیا قصور؟میں نہ اس کے دشمنوں کاساتھی ہوں نہ اس کی حفاظت میری ذمہ داری تھی۔باقی مہیش بابو کوئی غیر معروف یا گمنام شخص نہیں تھا کہ کسی کو میری رہنمائی کی ضرورت پڑتی اور ویسے بھی دشمن نے دور سے گولیاں چلائی ہیں اور مہیش بابو پہلے سے کھلے میں بیٹھا تھا،اس متعلق نہ میں نے ترغیب دی تھی اور نہ وہ میری وجہ سے سبزہ زار میں بیٹھاہواتھا۔میری آمد کا مقصد سرحد عبور کرنا تھااور معاوضے کی وصولی کے بعد اس کی ذمہ داری تھی کہ میری حفاظت بھی کرتا اور مجھے سرحد پار بھی کراتا،اگر وہ باقی نہیں رہا تو اس کا وارث ہونے کے ناطے تمھاری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کا قرض چکاﺅ۔“
میری بات ختم ہوتے ہی وہ اپنے آدمیوں کو مخاطب ہوا۔”سانگھڑ .... بالے!اسے ذرا گفتگو کے آداب سکھاﺅ۔“
بالے کے ہمرا ہ ٹھگنے قد ،مضبوط جسم اور لمبے بالوں والا ایک اور آدمی بھی کھڑا ہو گیا۔یہ وہی تھا جسے بالے نے استاد کہا تھا۔نشست چھوڑتے ہی وہ چیل کی طرح جھپٹے ،بالے نے مجھے گریبان سے پکڑ کر گھما کر زمین پر دے مارا اور پھر دونوں نے مجھے ٹھوکروں پر رکھ لیا تھا۔”سالے !رمیش بابو کے سامنے اکڑ دکھاتا ہے۔“دونوں مجھے روئی کی طرح دُھنکنے لگے ۔ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ سے میں اپنادفاع تو کیا بچاﺅ بھی نہیں کر سکتا تھا۔بے غیرتوں نے چند منٹ میں میرا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔
ان کے پیچھے ہٹنے پر میں بہ مشکل سیدھا ہوا اور صوفے کے پائے سے پشت ٹیک کر بیٹھ گیا۔ میرے ہونٹ اندر سے پھٹ گئے تھے۔خون کا نمکین ذائقہ چکھتے ہوئے میں نے صوفے کے نیچے تھوکا اور رمیش بابو کی طرف متوجہ ہوا۔”انھیں اچھا راتب ڈالا کروتاکہ کسی ایسے کے ساتھ بھی لڑ سکیں جس کے ہاتھ کھلے ہوں۔“
لڑکی کا مترنم قہقہ بلند ہوا وہ بالے اور سانگھڑ کو مخاطب ہوئی۔”سن لیا۔“
”تیری تو....“سانگھڑ مرکھنے سانڈ کی طرح جھپٹا۔
”ٹھہرو....“رمیش کا سخت لہجہ سن کر سانگھڑ یک دم ساکت ہو گیا تھا۔
میں استہزائیہ انداز میں بولا۔”میرے ہاتھ کھلے ہوتے تو ضرور تالی بجا کر رمیش بابو کی مہارت کی داد دیتا ،بے شک اچھی طرح سدھایا ہوا ہے انھیں۔“
لڑکی نے حیرانی بھرے انداز میں پوچھا۔ ”تمھیں ڈر نہیں لگتا؟“
میں نے پرسکون انداز میں کہا۔
مجھ کو سولی پہ چڑھا کر بھی دُکھی ہے دنیا
وہ میری موت نہیں آنکھوں میں ڈر مانگتی ہے
رمیش بیزاری بھرے لہجے میں بولا۔”سن بے!اپنی تکالیف کو بڑھانے کے بجائے میرے چند سوالوں کے جواب دے تاکہ تمھیں چھوڑنے یا مارنے کا فیصلہ کیا جا سکے۔“
میں نے پر اعتماد لہجے میں دھمکی اگلی۔”غلط جگہ ہاتھ ڈال رہے ہو....کیا لگتا ہے مجھے مار کر خود بھی زندہ بچ جاﺅ گے؟“
”ہاں۔“رمیش بابو متکبرانہ انداز میں بولا۔”کسی میں اتنی جرات نہیں کہ رمیش بابو کے خلاف کچھ کرنے کا سوچ بھی سکے۔“
میں کھل کھلا کر ہنسا۔”بعینہ ایسے ہی الفاظ تمھارے بھائی کے منہ سے بھی نکلے تھے جب میں نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے اسے چبوترے کے ساتھ آڑ لینے کا کہا تھا۔“
”تمھارا نام۔“رمیش بابو نے میری نصیحت کو ہوا میں اڑا دیا تھا۔
میں شرافت سے بولا۔”آکاش چڈا؟“
اس نے منہ بنایا۔”میں نے اصل نام پوچھا ہے۔“
میں مصر ہوا۔”شناختی کارڈ دیکھ سکتے ہو،یہی میرا اصل نام ہے۔“
وہ گھٹیا انداز میں بولا۔”ابے بھوتنی کے !کیوں اپنی کھال اتروانے پر تُلا ہے،کیا لگتا ہے میں ناک سے روٹی کھاتا ہوں ....آکاش چڈا تیری بہن کایار تو ہو سکتا ہے تم خود نہیں ۔“
میں نے غصہ ضبط کرتے ہوئے پھیکے لہجے میں کہا۔”میرا نام سلیم شاہ ہے۔“
”میرے بھائی کو کس نے قتل کیا تھا؟“
”ایک ہندو سنائپر شری کانت نے۔“
وہ اکھڑ لہجے میں بولا۔”شیام راﺅ کے مطابق تو کوئی پاسکل نامی شخص تھا۔“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”ہاں پاسکل نامی اسرائیلی سنائپر بھی اس کا ساتھی تھا،اب یہ واضح نہیں کہ تمھارے بھائی پر گولی چلانے والا کون تھا۔“
اس نے اگلا سوال پوچھا۔”وہ تمھارے پیچھے کیوں پڑے تھے۔“
میں نے کہا۔”شری کانت کے ساتھ میری پرانی ان بن ہے،البتہ پاسکل کو میں نہیں جانتا۔ شاید شری کانت نے اپنی مدد کو اسے اسرائیل سے بلایا ہے۔دونوں میں پرانی دوستی تھی اسی ناتے وہ اس کی مدد کرنے چلا آیا۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولا۔”تم میں ایسی کیاخاص بات ہے کہ کوئی تمھیں مارنے کو اسرائیل سے سنائپر منگوائے گا۔“
میرے لبوں پر تبسم نمودار ہوا۔”یہ سوال تمھیں شری کانت سے کرنا چاہیے تھا،لیکن افسوس وہ باقی نہیں رہا۔“
اس نے استہزائی قہقہ بلند کیا۔”گویا تم نے اسے قتل کر دیاہے۔“باقیوں نے بھی اس کا ساتھ دیاتھا۔
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”نہیں اسے جب پتا چلا کہ اس نے غلطی سے رمیش بابو کے بھائی کی ہتیا کردی ہے تو اس نے ڈر کر آتما ہتیا کر لی۔“
وہ میرے استہزائی انداز کو نظر انداز کرتے ہوئے فخریہ لہجے میں بولا۔”شاید اس نے میری وجہ سے خودکشی نہ کی ہو،مگروہ کسی سے بھی پوچھتا تو اسے یہی مشورہ ملتااوراگر تم میں بھی عقل ہوتی تو ایسا ہی کرتے۔“
میں بے نیازی سے بولا۔”سچ کہا،مگر ....
سوچتا ہوں کہ موت آنے تک
زندہ رہنے میں کیا قباحت ہے
وہ تلملاتے ہوئے بولا۔”ابے کسی گھٹیا شاعر کی ناجائز اولاد سیدھے طریقے سے بکو۔“
میں اطمینان سے بولا۔”تمھاری ڈینگیں سن کر اس کے علاوہ کیا کہہ سکتا ہوں۔“
اس نے پوچھا۔”شیام راﺅ نے بتایا ہے تم بھی سنائپر ہو۔“
میں نے اثبات میں سرہلا دیاتھا۔
”اس کا مطلب ہے تمھارا تعلق پاکستان آرمی سے ہے اور شری کانت کا تعلق انڈین آرمی سے تھا،درست؟“اس نے تصدیق چاہی۔
میں نے دوبارہ اوپر نیچے سر ہلا دیاتھا۔
اس نے معنی خیز انداز میں پوچھا۔”پھر سرکاری دشمنی ذاتی رنجش میں کیسے بدلی؟“
میں رسان سے بولا۔”ہزیمت اٹھانے پر گاہے گاہے کوئی کم ظرف اسے ذاتی جنگ بنالیتا ہے۔“
”باس یہ دیکھیں۔“رمیش کے پہلو میں بیٹھی قتالہ نے موبائل فون اس کے سامنے پکڑا۔ رمیش کی نظریں موبائل فون کی اسکرین پرچپک گئی تھیں۔مجھے دکھائی تو کچھ نہ دیا البتہ سماعتوں میں آواز آنے لگی تھی۔یہ تجزیہ میں پہلے بھی سن چکا تھا، جوشری ناتھ کی موت پر ایک غیر معروف سے ٹی وی چینل نے پیش کیا تھا ۔اس میں اینکر نے شری ناتھ کی موت کی وجہ مجھے ٹھہرایا تھا اور وضاحت یہ کی تھی کہ شری ناتھ اپنی تقاریر کے ذریعے انڈین سرکار پر زور دے رہا تھا کہ پاکستان پر حملہ کرے۔اس اینکر نے اس قتل کے ڈانڈے وگنیش شکلا اور اس کے باپ دھریندر شکلا کی ہتیا سے بھی جوڑے تھے۔اس دوران میں اسکرین پر میری مختلف تصاویر دکھائی جاتی رہی تھیں۔اور اتفاق یہ تھا کہ اس وقت میں اصل حلیے میں تھا۔
”توتم ایس ایس ہو ، تمھارااصل نام راجا ذیشان حیدر ہے اور تم وہی سنائپر ہوجس نے گزشتہ دنوں وگنیش شکلا کو قتل کیا اور اس سے پہلے اس کے باپ رندھیر شکلا کی ہتیا کی اور اب شری ناتھ بھی تمھارا نشانہ بنا....کیا ایسا ہی ہے؟“نشست چھوڑ کر وہ قریب ہوا اوراکڑوں بیٹھتے ہوئے میری ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر سر کو یوں اونچا کیا جیسے ڈاکٹر مریض کا گلا دیکھنے کو اس کا سر اوپر کرتا ہے۔
میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے اطمینان سے کہا۔”کیا یہ ایسا راز ہے کہ مطلع ہونے پر تمھیں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔“
وہ زہریلے لہجے میں بولا۔”فائدہ تو کافی ملنے والا ہے برخوردار!سنا ہے وگنیش شکلا کی بیوہ سنتوکھی شکلانے تجھے مارنے والے کے لیے کافی بڑی رقم کا اعلان کر رکھا ہے۔اور یہ خبر زیر زمین حلقوں میں کافی مشہور ہو چکی ہے۔“
میرے ہونٹوں پر استہزائی ہنسی نمودار ہوئی۔” زندہ اس کے حوالے کر دو تو شاید زیادہ انعام مل جائے۔“
وہ چٹخارہ لیتے ہوئے بولا۔”صحیح کہا،مگر تمھیں مارنے میں الگ ہی مزہ آئے گا۔“
میں طعنہ زن ہوا۔”امید تو یہی ہے جب تم ایک بندھے ہوئے شخص کو گولی مار کر اپنی بہادری کا اعلان کر و گے تو ہرکوئی تھو.... تھو کر کے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے گا۔“
اس نے قہقہ بلند کیا۔”بندھے ہونے سے پہلے تم آزاد تھے بچے۔“
”بالکل ایسا ہی ہے اور اب یہ بتا ﺅمیں یہاں آیا کیوں تھا....؟“ وہ خاموش رہا۔میں نے فقرہ مکمل کیا۔”مہیش بابو کے ساتھیوں کو ملنے کیوں کہ ان کے ساتھ میرا معاہدہ ہو چکا تھا اور تمھارے آدمیوں نے مجھے دھوکے سے گرفتار کر لیا۔“
وہ سرد لہجے میں بولا۔” چاہوں توہاتھ کھول کر ایک منٹ میں تمھاری اکڑ خانی نکال سکتا ہوں،بلکہ یہاں موجود ہر شخص تنہا اور خالی ہاتھوں تمھارا بھرکس نکالنے کی شکتی رکھتا ہے،بشمول ٹینا بے بی کے۔ لیکن فضول اچھل کود اپنا وتیرہ نہیں ہے، اس لیے آرام کرو جب تک تمھیں سنتوکھی شکلا کے حوالے نہیں کر دیتا۔“
میں نے سنجیدہ لہجے میں پیش کش کی۔”میرے ساتھ سودا کر لو،جتنی رقم مسز شکلا دے گی میں اس سے زیادہ دینے کو تیار ہوں۔“
وہ بالے کی طرف متوجہ ہوا۔”اس کی جیبیں خالی کرو۔“
وہ سر ہلاتے ہوئے قریب ہوا اور میری جیبوں کا صفایا کر دیا۔ پہلے بھی اس نے تلاشی لی تھی اور ہتھیار کے علاوہ کسی چیز کوہاتھ نہیں لگایا تھا،مگر اب تو اس نے کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا۔
رمیش میرے سامان کو دیکھتے ہوئے زہر خند ہوا۔”سونے کی ایک زنجیر،تین لاکھ روپے اور دو پستول لے کر تمھیں چھوڑ دوں کہ میرے سالے لگتے ہو۔“
میرے ہونٹوں سے بے ساختہ نکلا۔”تو بہنوئی سمجھ کر مہربانی کر دو۔“
ایسا جلد بازی اور نادانستگی میں ہوا تھا،مگر کمان سے نکلا تیر اور ہونٹوں سے نکلے الفاظ واپس نہیں ہو سکتے۔میرے الفاظ نے بھی جلتی پر تیل چھڑکنے کی طرح اثر کیا تھا۔”تیری تو........“ مغلظات بکتے ہوئے اس نے مجھے ٹھوکروں پر رکھ لیا تھا۔اس کے چیلے بھی چیل کی طرح جھپٹتے ہوئے خوشامدکو پہنچے ،بے ہوش ہونے سے پہلے مجھے ان گنت چوٹیں سہنا پڑی تھیں ، پھر میرا دماغ اندھیروں میں ڈوب گیااور درد و تکلیف کا احساس جاتا رہا۔
٭٭٭٭٭
میں نے ہوش میں آنے پر خود کو ایک کمرے میں پایا تھا۔کمرہ ہر قسم کے سامان سے عاری تھا، فرش پر چٹائی تک موجود نہیں تھی۔میرا کوٹ وغیرہ بھی انھوں نے اتار دیا تھا۔سادہ لباس میں ننگے فرش پر لیٹے ہوئے اچھی خاصی ٹھنڈ ک محسوس ہو رہی تھی ۔البتہ سردی اتنی زیادہ نہیں تھی جو میری برداشت سے باہر ہوتی۔
میں ٹہلنے لگا۔خواہ مخواہ کا کھٹ راگ کھڑا ہو گیا تھا،میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہو جائے گا۔مہیش بابو کی ہلاکت میں میرا ہاتھ تھا نہ میری کسی غلطی کے باعث اس کی ہتیا ہوئی تھی،پھر مجھے مورد الزام ٹھہرانا کسی طور مناسب نہ تھاالبتہ شناخت ہونے کے بعد رمیش بابوکا مجھے سنتوکھی شکلا کے حوالے کرنا سمجھ میں آتا تھا۔ایک غنڈہ پیسے کمانے کا کوئی موقع کیسے ہاتھ سے جانے دے سکتا تھا۔
اگر سنتوکھی شکلا نے زیر زمین حلقوں میں میری گرفتاری پر انعام کا اعلان کر رکھا تھا تویقینا میرے پکڑے جانے کی شہرت بھی ہونا تھی ، ایسی صورت میں کرن چاولہ تک بھی یہ خبر پہنچ جاتی اور پھر اس نے بھی بدلہ لینے کو میدان میں اتر آنا تھا۔وہ میری وجہ سے معذورہوا تھااور یقینا اس کی کوشش یہی ہونا تھی کہ من چاہا بدلہ لے سکے۔
مجھے ہوش میں آئے قریباََگھنٹا ڈیڑھ ہوا تھا جب کمرے کے دروازے پر آہٹ ہوئی ،میں اس طرف متوجہ ہوا،کنڈی کھلنے کی آواز آئی اور پھر ایک کواڑ کو دھکیلتے ہوئے بالا اندرآیا،اس کے عقب میں سانگھڑ داخل ہوا۔انھوں دروازہ اندر سے کنڈی کر دیاتھا۔
دروازہ کھلنے کی وجہ سے تیز ہونے والی روشنی دوبارہ ملگجے اجالے میں تبدیل ہو گئی تھی۔
مجھ سے قدم بھر کے فاصلے پر رکتے ہوئے بالے نے دانت پیستے ہوئے کہا۔”اب بکوباس کو کیا مشورہ دے رہے تھے؟“
میں متبسم ہوا۔”تم نے میرے الفاظ نہیں سنے تھے تو کانوں کااور سمجھے نہیں تھے تو دماغ کاعلاج کراﺅ۔“
وہ زہر خند ہوا۔”سنے بھی تھے اور اچھی طرح سمجھے بھی تھے تبھی تو جواب دینے آئے ہیں ناں۔“
میں ذہنی طور پر مقابلے کو تیار ہو گیاتھا،لیکن بہ ظاہر بے پروائی سے کندھے اچکتے ہوئے بولا۔ ”اکیلے ڈر لگتا تھا تبھی دوسرے راتب خور کو بھی لیتے آئے ۔“
”تیری تو........“گھٹیا گالی بکتے ہوئے بالے نے ہاتھ گھمایا،مگر ان کی بے وقوفی کہ مجھے اپنے ارادوں سے با خبر کر چکے تھے،ایک دم نیچے جھکتے ہوئے میں نے بالے کا وار خطا کیاساتھ ہی میرا بایاں مکا اس کی بائیں پسلیوں میں پوری قوت سے لگاتھا۔باکسنگ کی اصطلاح میں اسے ”انڈر کٹ“ کہتے ہیں اوریہ عموماََ کھبّے(بائیں ہاتھ والے)باکسروں کا خصوصی ہتھیار ہوتا ہے،البتہ دائیں ہاتھ والے بھی اچھی تربیت اور بہترین مشق کے بعد خاطر خواہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔
”ڈھب“کی زور دار آواز کے ساتھ بالے کی بھیانک ”اففف....“بھی میری سماعتوں میں پہنچی تھی۔ باکسنگ مقابلے میں اگر مخالف باکسرکو ایسی ضرب لگ جائے تو اسی لمحے ریفری کے ہونٹوں سے زور دار ۔”سٹاپ“ برآمد ہوتی ہے جس کے بعد ضارب(چوٹ لگانے والے) کو فوراََ حملہ روک کر کونے کا رخ کرنا ہوتا ہے۔اور اس کے بعد ریفری گنتی شروع کر دیتا ہے،اگر مضروب دس گننے تک کھڑا ہو جائے تو مقابلے میں واپس آسکتا ہے دوسری صورت میں وہ ”ناک آﺅٹ “ گردانا جاتا ہے۔مگر اس وقت ریفری موجود نہیں تھا،نہ بالے کاوقتی طور پر ناکارہ ہو نا مجھے اس کے خطرے سے بے فکر کر سکتا تھا،اس لیے میں نے انڈرکٹ لگانے کے بعد اپنی حرکت نہیں روکی تھی ،اسی ردھم میں میرادایاں گھٹنا بجلی کی سی سرعت سے اٹھا اوربپھرے مینڈھے کی زور دار ٹکر کی کی طرح بالے کے ماتھے پر لگا۔
گو میں نے کوشش تو اس کے جبڑے پر وار کرنے کی کی تھی، مگر میری آدھی توجہ اپنے دوسرے دشمن پر مبذول تھی اس لیے وار اچٹ گیا تھا۔وہ ڈکراتا ہوا پیچھے کو الٹ گیا ۔
اسی لمحے سانگھڑمرکھنے سانڈ کی طرح اچھلا اور اس کی زوردار ٹکر میری چھاتی کی طرف لپکی۔ میں نے بروقت کہنیوں کو دفاعی انداز میں سامنے پکڑا،اگر وہ ٹکر میرے سینے میں لگ جاتی تو ایک ادھ پسلی کے ٹوٹنے کا باعث بن سکتی تھی۔مجھے بے ساختہ تین چار قدم پیچھے ہٹنا پڑا۔
وہ ایک ہی وار پر قانع نہیں رہ سکتا تھا،فوراََ ہی دائیں پنجے پر گھومتے ہوئے اس کی بائیں ایڑی میری گردن کی طرف بڑھی،میں نے ہلکا سا اچھل کر پیچھے کو قدم بھرا،اس کا دوسرا وار بھی خطا گیاتھا، البتہ اس نے کوشش جاری رکھی اور بایاں پاﺅں زمین پر لگتے ہی وہ اسی پاﺅں پر پھرکی کی طرح گھوما اور اس کا دایاں پیر ہتھوڑے کی طرح میری چھاتی سے ٹکرایا،میں پشت کے بل نیچے گر گیا تھا۔
اس نے چھلانگ لگا کر میری چھاتی پر سوار ہونے کی کوشش کی،مگر میں نے فوراََاس کے بازوﺅں میں ہاتھ ڈال دیئے۔ دونوں میں ایک دوسری کو زیر کرنے کے لیے زور آزمائی شروع ہو گئی تھی، اسی لمحے مجھے اپنے پاﺅں پر ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا،یقینا وہ بالا تھا جو میری ٹانگوں کو قابو کر کے مجھے بے بس کرنا چاہ رہا تھا۔اس کا ہاتھ میری دائیں پنڈلی پر پڑا تھا۔میں نے ایک لمحے کے بیسویں حصے میں بائیں ٹانگ کو پوری قوت سے جھٹکا دیا۔میری اندازے سے لگائی ہوئی بھرپور ٹھوکراس کے چہرے پر لگی تھی، وہ بھیانک انداز میں ڈکراتے ہوئے پیچھے جا گرا تھا۔
میں نے فوراََ ٹانگیں سمیٹتے ہوئے سانگھڑ کی چھاتی میں ٹیکیں اور اسے پیچھے اچھال دیا۔اس کے ساتھ ہی میں اچھل کر کھڑا ہو گیاتھا۔بالا سر جھٹکتے ہوئے سنبھلنے کی کوشش کر رہا تھا،ایسی لڑائیوں میں ایک اکیلا اور دو گیارہ ہو جاتے ہیں۔اور زیادہ آدمیوں سے ٹاکرے کی صورت لڑائی کا اہم اصول یہی ہوتا ہے کہ اپنے مخالفین کی تعداد کو کم کرو تاکہ کسی بھی اچھے مدمقابل سے یکسو ہو کر لڑ سکو۔اور یہ اصول مجھے از بر تھا۔ میں نے سانگھڑ کو سنبھلنے کا موقع دیتے ہوئے بالے کی طرف زقند بھری ،میراگھٹنا پوری قوت سے اس کی ٹھوڑی سے ٹکرایا تھا۔
”افف....“ کی زوردار آواز نکالتے ہوئے وہ اوندھے منہ لمبا پڑ گیا تھا۔میں پیچھے مڑا، سانگھڑ زمین سے اٹھ کر کینہ توز نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔
”نجانے تمھیں بالے نے سانڈ استاد کہا تھا کہ سنڈاس (بیت الخلا)استاد،یہ میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتاالبتہ تمھارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ تم زندگی کی بھیانک غلطی کر بیٹھے ہو۔“استہزائی انداز اپنا کر میں نے جان بوجھ کر اسے غصہ دلایا تھا۔
غصہ لڑائی کی بنیاد ہے اور طیش میں آکر ہی ایک انسان دوسرے پر حملہ آور ہوتا ہے۔میرے لڑائی کے استاد صوبیدار مراد کہا کرتے تھے کہ....” دوران ِلڑائی خود کو ٹھنڈا رکھنا اور دشمن کو غصہ دلانے سے لڑائی جیتنے میں مدد ملتی ہے۔بہت اچھے لڑاکے طیش میں آکر دفاع سے غافل ہو جاتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جس حملے کو دفاع کی مدد میسر نہ ہو، ناکامی کا مزہ چکھنا اس کا مقدر بن جاتا ہے۔“
میرے پھبتی کسنے پر سانگھر غصے میں جھاگ اڑاتا ہوامجھ پر ٹوٹ پڑاتھا۔میں الٹے قدموں پیچھے ہٹتے ہوئے فقط دفاع کرنے لگا۔اس دوران میں میں اس کے کمزور پہلو کا متلاشی رہا۔ اس کی کسی غلطی ہی کو بنیاد بنا کرمیں کاری وار لگا سکتا تھا۔جلد ہی اس نے یہ موقع فراہم کر دیا تھا۔مجھ پر پے درپے لاتوں اور گھونسوں کی بارش کرنے کے بعد جب اس کا ایک وار کہنیوں پر روکنے کے بجائے میں گھٹنوں میں خم دیتے ہوئے قدرے نیچے جھکا تو اس کی ٹانگ میرے سر کے اوپر سے گزر گئی تھی،زور دار وار خطا جانے پر وہ ہلکا سا لڑکھڑا یا اور اسی لمحے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے دایاں قدم آگے رکھا ، میری بائیں ٹانگ دہری ہوئی اور گھٹنااس کی بائیں پسلیوں کے نیچے اس زور سے لگا کہ سانگھر اذیت سے چیخ اٹھا تھا۔اور میں دعوے سے کہہ سکتا تھا کہ اب اس کے جسم میں پسلیوں کی تعداد عورتوں کے برابر ہو گئی تھی۔(کہتے ہیں نا عورتوں میں مردوں سے ایک پسلی زیادہ ہوتی ہے)
وہ کولہوں کے بل نیچے گرا اور دہرا ہو گیا۔میں نے نیچے جھکتے ہوئے اس کی کنپٹی پر نپی تلی ضرب لگائی اور اس نے ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیے تھے۔
دل تو چاہا کہ انھیں ختم کر دوں ،مگر پھر اس خوف سے رک گیا کہ وہاں نامعلوم ان کے کتنے لوگ موجود تھے،چوکیدار شامل نو افراد تو میں خود گن چکا تھااوراگر میں دوبارہ ان کے ہاتھ آجاتا تو وہ مجھے قتل کرنے میں ایک لمحہ بھی نہ لگاتے۔ البتہ ان کے ساتھیوں کو ہلاک نہ کرتا تو بچت ہو سکتی تھی۔ اس لیے جب تک میں حالات کو اپنے قابو میں نہ کر لیتا انھیں ہلاک کرنا مناسب نہیں تھا۔
ان کی شلواروں سے آزار بند نکال کر میں نے دونوں کے ہاتھ پشت پر جکڑے اور ان کے بوٹوں کے تسمے آپس میں باندھ کر بے دست و پا کر دیا۔
دونوں کی تلاشی لینے پر کوئی ہتھیار نہیں ملا تھا۔یقینا انھیں خود پر کچھ زیادہ ہی بھروسا تھا جبھی تو یہ حماقت کر گزرے تھے۔
میں نے محتاط انداز میں دروازہ کھول کر باہر جھانکا،ایک راہداری نظر آئی جس میں دونوں اطراف کمروں کے دروازے تھے۔جس کمرے میں میں قید تھا اس کے علاوہ تین کمرے اور تھے اور تینوں کے دروازے باہر سے کنڈی ہوئے تھے۔اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ وہ کمرے خالی تھے یا وہاں ان کے دشمن بند تھے۔
دائیں جانب بند دیوار تھی جو میرا رستہ متعین کرنے میں مدد گار ثابت ہوئی تھی۔میں محتاط انداز میں بائیں طرف بڑھ گیا۔میرے پاس ہتھیار وغیرہ موجود نہیں تھا جو مجھے مزید احتیاط کا مشورہ دے رہا تھا۔راہداری دائیں جانب مڑ رہی تھی ،موڑ کے قریب رک کر میں نے سر ذرا سا آگے نکالا، وہاں بھی چوڑی راہداری ہی تھی۔جس کے جوانب ایک ایک کمرے کا دروازہ نظر آرہا تھا،البتہ وہ کمرے باہر سے بند نہیں تھے۔
میں دبے قدم آگے بڑھ گیا۔راہداری کا اختتام نشست گاہ میں ہو رہا تھا،جو خالی پڑی تھی۔کسی اور جانب جانے سے پہلے میں نے ان دو کمروں میں جھانکنا ضروری سمجھا کہ وہاں سے کوئی ہتھیار وغیرہ مل سکتا تھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر43
ریاض عاقب کوہلر
پہلے دائیں جانب والے کمرے کے دروازے پر ہلکا سا زور دیااور جونھی محسوس ہوا دروازہ اندر سے قفل یا کنڈی نہیں ہے میں نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا اور فوراََ اندر داخل ہوگیا۔وہ بیڈ کراﺅن سے ٹیک لگائے موبائل فون پر کوئی گیم کھیل رہا تھا۔دروازہ کھلنے کی آواز پرمتوجہ ہوا اور مجھے دیکھتے ہی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا تھا۔
”تت....تم۔“اس نے کھڑا ہونے میں دیر نہیں لگائی تھی، ساتھ ہی اس کا ہاتھ تکیے کی طرف بڑھا،لیکن میں وہاں گپ شپ کرنے نہیں گیاتھا کہ اس کی حرکات و سکنات کو جانچتا رہتا۔اندر گھستے ہی میں برقی کوندے کی طرح لپکااور جونھی اس نے تکیے کے نیچے ہاتھ ڈالامیں پانی میں چھلانگ لگانے کے انداز میں اڑتا ہوااس سے ٹکرا گیاتھا۔میرے سر کی بھرپور ٹکر اس کے پہلو میں لگی تھی۔
اس کا سر زوردار انداز میں بیڈ کراﺅن سے ٹکرایا ،ساتھ اس کا ہاتھ تکیے کے نیچے سے پستول لیے برآمد ہوا۔میں نے دایاں ہاتھ اس کے پستول والے ہاتھ کی کلائی میں ڈالااور بایاں مکا اس کی ٹھوڑی پر جڑ دیا۔
کسی کو بھی وقتی طور پر ناکارہ کرنے کو یہ تیر بہ ہدف مکا ہے۔اگر ٹھوڑی کے نچلے حصے میں اچٹتا ہوا مکا مارا جائے تو جبڑا فوراََ ہی جوڑ سے نکل جاتا ہے اور مضروب چند لمحوں کو ہوش کھو بیٹھتا ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے انسان کو زور کا چکر آئے اور وہ لڑکھڑا کر زمین پر بیٹھ جائے۔ایک بار دوستانہ مقابلے میں اپنے ساتھی کا ایک ایسا ہی مکا کھا کر میں ہار کا مزا چکھ چکا تھا۔تب تجربہ ہوا تھا کہ بہ ظاہر عام سی نظر آنے والی یہ ضرب کیسی تباہی ڈھاتی ہے۔
میرے مخالف نے اس وقت ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیے تھے۔پستول پر قبضہ جماتے ہوئے میں نے اس کا سر پستول کے دستے سے بجایا اور لمحاتی بے ہوشی کو طویل آرام میں تبدیل کر دیا۔
اس کے پاس تیس بور پستول تھا۔میں نے فوراََ میگزین اتارکر گولیوں کی موجودی کا یقین کیا اور پستول کاک کر کے چیمبر میں گولی کر لی۔ہتھیار ہاتھ میں آتے ہی میرا اعتماد بڑھ گیا تھا۔
اس نے جینز پہنی ہوئی تھی اور اس پر بیلٹ بھی نہیں باندھا تھا،کہ میں کھول کر اس کی مشکیں کس سکتا ۔گو امید یہی تھی کہ اگلے ادھ پون گھنٹے میں اس نے ہوش میں نہیں آنا تھا۔اس کے باوجود میں خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔میز پرسیبوں کی بھری ہوئی پلیٹ کے ساتھ پھل کاٹنے والی چھری پڑی تھی۔اس کی مدد سے میں نے بستر کی چادر سے لمبی پٹی پھاڑی اور اس کے ہاتھ پاﺅں باندھ دیے۔ ساتھ ہی اسے کمبل سے ڈھانپ کر محتاط قدموں سے چلتا ہوا باہر نکل آیا۔
دوسرے دروازے کی طرف جانے سے پہلے میں نے ایک نظر نشست گاہ میں جھانکنا ضروری سمجھااور اس کی وجہ یہ تھی کہ میری سماعتوں میں ٹی وی چلنے کی آواز آئی تھی۔
صوفے پر مجھے ایک کے بجائے دوکھوپڑیاں نظر آئی تھیں اور میری خوش قسمتی کہ دونوں کی میرے جانب پیٹھ تھی۔وہ لمحہ بھر پہلے ہی وہاں پہنچے تھے،کیوں کہ ایک آدمی اب تک ریموٹ ہاتھ میں پکڑے ٹی وی کے چینل تبدیل کر رہا تھا۔
میں دائیں بائیں نظریں گھما کر کسی اور ذی روح کی غیر موجودی کی تصدیق کرتے ہوئے دبے قدم ان کی طرف بڑھا۔
اسی دم بغیر ریموٹ والاچلایا۔”بس یہی ٹھیک ہے۔“ٹی وی اسکرین پر فٹ بال میچ چلتا ہوا نظر آرہا تھا۔
ریموٹ والا بولا۔”آج نیوزی لینڈ کے ساتھ اپنی ٹیم کا کرکٹ میچ ہے یار!“
دوسرا بیزاری سے بولا۔”نرگ میں ڈالو کرکٹ کو ،فضول کھیل ہے۔“
اس دوران میں ان کی بحث کو منطقی انجام تک پہنچانے میں ان کے سر پر پہنچ گیا تھا۔پستول کو نال سے پکڑتے ہوئے میں نے بغیر ریموٹ والے کا سربجایا۔وہ جھٹکے سے آگے ہوا اور صوفے سے لڑھک کر فرش پر لمبا پڑ گیا۔ریموٹ والا بدک کر کھڑا ہو گیا تھا۔
”اس نے کرکٹ کے خلاف بات کر کے میرا دل دکھایا ہے،اس لیے مجبوراََ مجھے ایسا کرنا پڑا۔“احمقانہ انداز میں کہتے ہوئے میں نے پستول کو درست طریقے سے تھامااور نال کا رخ ریموٹ والے کی طرف موڑ دیا ۔
اس نے گڑبڑاتے ہوئے پوچھا۔”تت....تم ....تم....باہر کیسے نکلے....؟“
میں ہنسا۔”شکر ہے تم نے پہچا ن لیا،ورنہ تعارف پوچھ لیتے تو مجھے شرمندہ ہونا پڑتا۔“
وہ سنبھل کر بولا۔”تم بچ نہیں سکتے۔“اس کے ساتھ ہی اس کا ہاتھ کوٹ کی اندرونی جیب کی طرف بڑھا۔
”بے وقوف انسان !ہتھیار بردار شخص کو دیکھتے ہی ہاتھ سر سے بلند کر لینا چاہئیں۔“صوفے پر قدم رکھتے ہوئے میں دوسری جانب اترنے لگا۔اسی دم اس نے اچانک ہی مجھ پر ہلہ بولتے ہوئے میرے پستول والے ہاتھ پر لات رسید کرنا چاہی۔
اس کا وار خطا کرتے ہوئے میرا دایاں ہاتھ پستول کے ہمراہ اس کے جبڑے پر لگااور وہ درد ناک انداز میں کراہتے ہوئے اوندھے منہ گرگیاتھا۔
احتیاطی تدبیر کے طور پر میں نے اس کے سر پر زوردار چوٹ رسید کر کے اسے بھی گہری نیند سلا دیا۔دونوں وہی تھے جو بالے اور سانگھڑ کے ہمرا ہ میرے استقبال کو آئے تھے۔
تلاشی لینے پرایک کی جیب سے اڑتیس بوراور دوسرے کی جیب سے تیس بور پستول برآمد ہوا تھا۔دونوں کے پستول اپنے قبضے میں کرتے ہوئے میں نے جیبوں میں رکھ لیے ۔پھر دائیں بائیں کا جائزہ لے کر ایک کو اٹھا کر کندھے پر لادا اور دوسرے کی ٹانگ پکڑ کر گھسیٹتا ہوا اس کمرے کی طرف بڑھا جہاں میں نے ان کے ایک ساتھی کو پہلے سے بے ہوش کر کے باندھا ہوا تھا۔
مگر جیسے ہی دروازے کے قریب پہنچا،اچانک ہی مخالف کمرے کے دروازے پر آہٹ ہوئی،یوں جیسے کوئی دروازہ کھول کر باہر نکلنے لگا ہو۔میں نے کاندھے پر لادے شخص کو بے دردی سے نیچے پھینکا،جس سے اچھی خاصی آواز پیدا ہوئی تھی۔
”اوے! کیا ہو گیا ہے؟“دروازہ کھولنے والے نے تادیبی انداز میں پوچھااور جونھی کواڑ کھلا میں نے ایک دم اس کی چھاتی پر پستول کی نال رکھ دی تھی۔
”حرکت کرنے سے پہلے سوچ لینا وہ تمھاری زندگی کی آخری حرکت بھی ہو سکتی ہے۔“ میرے سرد لہجے نے اسے منجمد کر دیا تھا۔
اس کی چھاتی پر پستول کی نال کا دباﺅ بڑھاتے ہوئے میں نے اسے پیچھے دھکیلا اور خود بھی کمرے میں داخل ہو گیا۔
وہ غیظ بھرے انداز میں غرایا۔”تم جانتے نہیں کیا غلطی کر رہے ہو،رمیش بابو تمھیں زمین کی ساتویں تہہ سے بھی برآمد کر لے گا۔“
میں پرسکون انداز میں بولا۔”اگر میرے ہاتھوں سے زندہ بچ گیا تو اسے ایسی کسی بھی کوشش سے منع نہیں کروں گا۔“
”تت....تم نے اسے قتل کر دیاہے۔“وہ ہکلا گیا تھا۔
”ہاتھ سر سے اوپر کر کے الٹے گھوم جاﺅ۔“میں نے جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
وہ مجھے کینہ توز نظروں سے گھورتے ہوئے کھڑا رہا۔
”سنا نہیں ۔“میں نے پستول کی نال لہرا کر اسے ڈانٹا۔
”تم ہمارا کچھ بھی بگاڑ سکتے،نہ میں تم ........“مگر اس کا فقرہ پورا ہونے سے پہلے میرا ہاتھ پستول کے ساتھ ہی گھوم گیا۔میری گرفت میں پھنسے پستول کا دستہ پوری قوت سے اس کے جبڑے پر لگا تھا۔
”اوغ ۔“کی دردناک آواز نکالتے ہوئے وہ رکوع کے بل جھک گیا تھا۔اگلے ہی لمحے میر ا گھٹنا پوری قوت سے اوپر اٹھااور وہ ناک تڑواتے ہوئے پشت کے بل ڈھیر ہو گیا،مگر کافی ڈھیٹ تھا اس لیے ناک پر ہاتھ رکھتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی اور تبھی پستول جیب میں ڈال کر میں نے ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی اوردوسرا سر پر رکھتے ہوئے مخصوص جھٹکا دیا۔”کٹاک۔“کی آوازکے ساتھ وہ ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا۔
میں نے سرعت سے اس کی تلاشی لی،تبھی گوہر مقصود ہاتھ لگا۔میراسائیلنسر لگا گلاک اس کی جیب میں تھا۔اور ایسی جگہ پر خاموشی کی مجھے بہت زیادہ ضرورت تھی کیوں کہ فائر کی آواز پروہاں موجود تمام دشمن چوکنا ہوجاتے،چوکیدار بھی ہوشیار ہو جاتااور اس کے بعد میری مشکلات میں کئی گنااضافہ ہو جاتا۔
میں باہر نکلا اس کے دونوںساتھیوں کی بے ہوشی کو بھی ایک ایک جھٹکے سے مستقل آرام میں تبدیل کردیا....وہ بھی ناپسندیدگی کے اظہار میں ہاتھ پاﺅں مارنے لگے تھے۔
ان کی حرکت رکنے کا انتظار کیے بغیر میں نے باری باری دونوں کو ٹانگ سے گھسیٹ کر کمرے میں اچھالااور دروازہ بند کر دیا۔اب میری گنتی کے مطابق چوکیدار کے علاوہ رمیش بابواور اس کی داشتہ باقی رہ گئے تھے۔البتہ ان کے علاوہ کوئی اور شخص موجود تھایا نہیں اس بارے اندازہ لگانا مشکل تھا۔
میں محتاط انداز میں نشست گاہ میں داخل ہوا،دائیں طرف باورچی خانہ اور اس سے ملحق کھانے کا کمرہ تھا،پھر نشست گاہ کا وسیع ہال تھا،جہاں سامنے کی دیوار پر بڑے اسکرین کی ایل ای ڈی نصب تھی،اس کے کافی بائیں ایک راہداری تھی جو نشست گاہ کے بیرونی دروازے کی طرف جاتی تھی۔ مزید بائیں اور پیچھے کی طرف کر کے ایک کمرے کا دروازہ نظر آرہا تھااور میرے اندازے میں وہی رمیش بابو کا کمرہ تھا۔کیوں کہ وہ آخری کمرہ تھا۔پہلے تو میں نے راہداری میں گھس کر داخلی دروازہ اندر سے کنڈی کیا،تاکہ کوئی دشمن میری بے خبری میں میرے سر پر نہ پہنچ جائے اور پھر آخری کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
دروازے کے پاس پہنچتے ہی کانوں میں ایسی آوازیں گونجیں کہ بغیر دیکھے کمرے کا منظر روشن ہو گیا تھا۔مرد و عورت کی ملی جلی حیوانی جذبوں سے لبریز آوازیں سن کر کوئی بھی بالغ درست اندازہ لگا سکتاتھا۔چھوٹے بچوں کو دل پسند مٹھائی ہاتھ لگے تو کھاتے وقت ان کی ناک سے بھی ایسی ہی غنغناہٹ نکلتی ہے۔
میرے پاس اتنی مہلت نہیں تھی کہ ان کے رنگ میں بھنگ نہ ڈالتا۔ یونھی باہر کھڑے ہو کرمیں ان کے بے حیائی کے میچ کی روداد(کمنٹری )نہیں سن سکتا تھا۔
دروازہ دھکیلنے پر بند ملا،میں نے سائیلنسر لگے پستول کی نال چابی کے سوراخ پر رکھ کر لبلبی دبائی۔” ٹھک “کی آواز کے ساتھ قفل ٹوٹنے کی آواز بھی شامل تھی۔
کواڑکو دھکا دیتے ہوئے میں برقی کوندے کی طرح اندر گھسا۔وہ جس حالت میں تھے ایسے میں عموماََ ہوش و حواس کام نہیں آیا کرتے،لیکن قفل ٹوٹنے اور دروازہ کھلنے کی آواز اتنی اونچی ضرور تھی کہ وہ چونک کر ادھر متوجہ ہو گئے تھے۔
پہلی چیخ ٹینا کے ہونٹوں سے نکلی تھی۔رمیش سے دور ہوتے ہوئے اس نے کمبل لپیٹ لیا تھا۔ البتہ رمیش نے برہنہ وجود کوڈھانپنے کی زحمت نہیں کی تھی۔مجھے پستول بکف دیکھ کر اس کے چہرے پر تشویش بھری حیرانی پھیل گئی تھی۔
میں بے وقوفانہ انداز میں بولا۔”معذرت مجھے مخل ہونا پڑا،بس پوچھنا یہ تھا کہ یہاں تمھارے کتنے پالتو موجود ہیں۔“
وہ خود کو بے خوف ظاہر کرتا ہوا بولا۔”تمھارے اندازے سے زیادہ آدمی ہیں۔“
میں انگلیوں پر گنتے ہوئے بولا۔”میں نے تو ....دواور ایک تین اور دو پانچ اور ایک چھے ....ہاں چھے کتوں کا کام تمام کر دیا ہے۔ایک چوکیدار اور تم باقی ہو ....یہ مجموعی طور پر ہوئے نو....کیا اس کے علاوہ بھی کوئی ہے۔“
اس کی آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں لہرائیں اور وہ خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولا۔ ”ہم سودا کر سکتے ہیں۔“
میں پرسکون انداز میں بولا۔”اسے ماضی کا حصہ رہنے دو،یعنی ہم سودا کر سکتے تھے،اب تو وہ سہولت نہیں مل سکتی۔“
اس نے جلدی سے پیش کش کی۔”تمھیں سرحد پار کرانے کے علاوہ منہ مانگا معاوضا بھی دے سکتا ہوں۔“
میں نے اشتیاق سے پوچھا۔”اور تمھارے قتل ہونے والے آدمیوں کا کیاہوگا؟“
اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”معاہدہ ہونے کے بعد لڑائی میں ہونے والی اموات کی گنتی نہیں کی جاتی۔“
میں متبسم ہوا۔”سنتوکھی شکلا سے کیا کہو گے ،جسے میری گرفتاری کی خوش خبری سنا چکے ہو۔“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”وہ میرا درد سر ہے۔“
میں نے بہ ظاہر سنجیدہ لہجے میں کہا۔”مجھے تمھاری محبوبہ بھی چاہیے۔“
اس نے گھٹیا سخاوت کا مظاہرہ کیا۔”جب تک سرحد پار کرنے کا بندوبست نہیں ہو جاتا تم اسے اپنے پاس رکھ سکتے ہو۔“
ٹینا کے چہرے پر بھی مجھے غصہ،شرم یا بیزاری وغیرہ نظر نہیں آئی تھی۔
میں مدعے پر آیا۔”کس کس کو میری گرفتاری کی اطلاع دے چکے ہو؟“
وہ اپنے لباس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا۔”کہا ناں یہ میرا درد سر ہے۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے چپ سادھ لی تھی ۔گو اسے کپڑوں کو ہاتھ لگانے سے منع کر سکتا تھا،لیکن کچھ نہ بولا کہ اس کی نیت دیکھنا چاہتا تھا۔ صاف نظر آرہا تھا کہ وہ مہلت کے حصول کو ہر شرط مان رہا تھا۔
اس نے شرافت سے زیریں لباس پہن کر بنیان پہنی اور پھر کوٹ اٹھا کر ذرا سا رخ موڑا، اس دوران میں میں بہ ظاہر کمرے کا جائزہ لینے لگا تھا....اور پھر جیسے بجلی چمکتی ہے کوٹ کی اندرونی جیب سے پستول نکالتے ہوئے اس نے سیدھا کرنے کی کوشش کی ،مگر وہ اس کوشش میں کامیاب ہو جاتا تومیری مہارت کے دعوے، نرے دعوے ہی کہلا ئے جاتے۔ کوئی عام شخص ایک پیشہ ور سنائپر سے گولی چلانے میں سبقت لے جائے تو اس سنائپر کو خودکشی کر لینا چاہیے۔
اس کا میری طرف رخ موڑنا اور میرا لبلبی دبانا ایک لے میں ہوا تھا۔اتنی تیزی سے گولی چلانے پر بھی گولی اس کے پستول والے ہاتھ ہی پر لگی تھی۔
بلند آواز میں کراہتے ہوئے اس نے دایاں ہاتھ ،اپنے دوسرے ہاتھ سے پکڑ لیا تھا۔ وہ میرے سامنے ترچھا کھڑا تھا اس لیے پستول اس کے ہاتھ سے نکل کر ٹینا کے سامنے جا گرا۔
ٹینا کے لبوں پر دلآویز تبسم رقصاں تھا،مگر جونھی گولی چلی وہ سہم گئی تھی۔سامنے پڑے پستول کو کن اکھیوں سے دیکھ کر وہ جلدی سے میری طرف متوجہ ہو گئی تھی۔
میں نے مسکراتے ہوئے دعوت دی۔ ”تم بھی کوشش کر سکتی ہو۔“
وہ نفی میں سرہلا کر رہ گئی تھی۔میں چند قدم لے کر رمیش کے نزدیک ہوااورپستول کی سائیلنسر لگی نال اس کی ٹھوڑی میں چبھوتے ہوئے ترش لہجے میں بولا۔”بر خوردار!کہا تھا غلط جگہ ہاتھ ڈال رہے ہو اور اس حماقت کو پنگا لینا کہتے ہیں۔“
اس نے ہانپتے ہوئے دھمکی اگلی۔”تت....تم پچھتاﺅ گے۔“
”غلط فہمی ہے تمھاری....تم جیسے سڑک چھاپ راستے میں آکر کسی کا قیمتی وقت ضائع کر سکتے ہیں اور بس....اس کے علاوہ تم سے کوئی توقع کرنا سانڈ کو گابھن سمجھنے کے مترادف ہے۔“یہ کہتے ہی میں نے پستول کی نال اس کی ران سے لگا کر لبلبی دبا دی۔
”افف....“زوردار انداز میں کراہتے ہوئے وہ بیڈ پر ڈھے گیا تھا۔
اس کی اذیت کی پروا کیے بغیر میں نے اطمینان بھرے انداز میں پوچھا۔”تو سنتوکھی شکلا سے کیا بات ہوئی تھی....؟“
”تت....تم بچو گے نہیں ....تت ....تم ....تم ........“اذیت بھرے انداز میں ہکلاتے ہوئے وہ دھمکی اگلنے لگا۔
میں نے اس کی بات پوری ہونے سے پہلے دوسری ران کی طرف نال کرتے ہوئے ایک بار پھر لبلبی دبادی۔
”ہائے....“اس کے ہونٹوں سے درد بھری چیخ نکلی تھی۔
میں پستول کی نال اس کے بازو کی طرف تانتے ہوئے مستفسر ہوا۔”کچھ پوچھا ہے ۔“
وہ گویا گڑگڑاتے ہوئے منمنایا۔”مم....میں نے بس اتنا بتایا ہے کہ ایس ایس نامی سنائپر میرے قبضے میں ہے ۔“
میں نے اطمینان بھرے انداز میں پوچھا۔”کسے....؟ سنتوکھی شکلا کو....؟“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”زیر زمین حلقوں میں کچھ خاص بروکر ہوتے ہیں جو ایسی خبروں کی تشہیر کرتے ہیں،ایک ایسے ہی بروکر کو یہ پیغام دیا ہے ۔“
میں نے پوچھا۔”کیا اسے معلوم تھا کہ سنتوکھی شکلا نے میری سپاری دے رکھی ہے۔“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔”ہاں اور اس سے مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ سنتوکھی شکلا کے علاوہ را کا بدنام زمانہ ایجنٹ کرن چاولہ بھی تمھیں زندہ گرفتار کرنے والے کو منہ مانگی رقم دینے کو تیار ہے۔“
”اورتم نے کتنی رقم مانگی ہے؟“
وہ بہ مشکل اذیت برداشت کرتے ہوئے کراہا۔ ”پچاس کروڑ۔“
وقت گزرنے کے ساتھ نہ صرف اس کی تکلیف میں اضافہ ہو رہا تھا بلکہ خون بہنے سے کمزوری و نقاہت بھی بڑھتی جا رہی تھی۔اور اگر اسی رفتار سے اس کے جسم سے خون بہتا رہتا تو و ہ جلد ہی اپنے مرنے والے ساتھیوں کے پاس پہنچ جاتااور میں نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اس لیے فقط سوالات پوچھنے پر دھیان رکھا۔
”کیا انھیں ،تمھارے ٹھکانے کا علم ہے؟“
اس نے نفی میں سرہلادیا۔
میں نے اگلا سوال پوچھا۔”بروکر سے اپنے موبائل فون نمبر سے رابطہ کیا تھا؟“
”ہاں۔“اس کے ہونٹوں سے بہ مشکل نکلا تھا۔
اسی وقت ٹینا نے جھجکتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا۔”اگر اسی رفتار سے اس کاخون بہتا رہا تو یہ مر جائے گا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔“
وہ لجاجت سے بولی۔”اگر اجازت ہو تو میں اس کے زخموں پر پٹی باندھ دوں۔“
”کیوں نہیں۔“ میں نے رمیش پر آخری گولی ضائع کی جو اس کے ماتھے پر لگی تھی۔زور دار جھٹکے سے وہ پشت کے بل پیچھے گرا اور تڑپتے ہوئے بیڈ سے نیچے لڑھک گیاتھا۔”کر لو پٹی۔“
ٹینا کے چہرے پر خوف ،گھبراہٹ اور وحشت نے ایک ساتھ ہلہ بولا تھا۔”پپ....پلیز مجھے نہ مارنا میں مکمل تعاون کروں گی۔“یہ کہہ کر اس نے بدن سے کمبل ہٹاتے ہوئے رشوت میں پیش کرنے والے سامان کی نمائش کی۔کسی بھی بد کردار کے لیے وہ تگڑی پیش کش تھی ،مگر میں اس راہ کا مسافر نہیں تھا۔
”جلدی سے کپڑے پہنو۔“اس کی واہیات حرکت پر تبصرہ کیے بغیر میں نے پستول کی نال ہلا کر اشارہ کیا۔میرے لہجے اور آنکھوں میں اسے میری نیت کی جھلک نظر آگئی تھی۔
”جج....جی جی....ڈالتی ہوں۔“گھبراتے ہوئے اس نے بیڈ پر بکھرے کپڑے اٹھائے اور عجلت میں پہننے لگی، اس دوران میں میں نے اپنی نظریں اس پر گاڑے رکھیںکہ بعید نہ تھااپنے کپڑوں میں چھپا کوئی ہتھیار نکال کر وہ الٹی سیدھی حرکت کا سوچتی ۔
میں نے درشت لہجے میں کہا۔”اپنا ہتھیار ادھر پھینکو۔“
وہ ہکلائی۔ ”آ....آپ تلاشی لے سکتے ہیں ،میرے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے۔“
میں نے ماہرانہ انداز میں اس کی تلاشی بھی لے لی کہ میں خطرہ مول لینے کے حق میں بالکل نہیں تھا۔
اس نے جھوٹ نہیں بولا تھاواقعی میں اس کے پاس ہتھیار نہیں تھا۔البتہ اس نے گلے میں سونے کی زنجیر پہنی ہوئی تھی جو میں نے موہن بھیمانی کے گلے سے اتاری تھی اور انھوں نے مجھ سے چھینی تھی۔
”یہ واپس کرو۔“میں نے زنجیر کا مطالبہ کیا،جو اس نے شرافت سے اتار کر میری طرف بڑھا دی۔
رمیش کی بیلٹ اٹھا کر اس کے ہاتھ پشت پر باندھتے ہوئے میں نے اپنے پیسوں کا تقاضا کیا۔”رقم کہاں ہے؟“
اس نے تپائی پر پڑے ہوئے پرس کی طرف اشارہ کیا ۔”میرے پرس میں ہے۔“
پرس کھول کر پیسے اپنی جیبوں میں منتقل کرتے ہوئے پوچھا۔”تمھاری تعداد کتنی تھی؟“یہ کہتے ہوئے میں نے پستول کو مخصوص انداز میں لہرایا تھا۔
سائیلنسر لگے گلاک کی خوفناک شکل پر نظر پڑتے ہی وہ لرز گئی تھی۔تھوک نگلتے ہوئے بولی۔ ”رمیش اور میرے علاوہ چھے اور ہیں۔“
میں نے پوچھا۔”چوکیدار تمھارا آدمی نہیں ہے۔“
نفی میں سرہلاتے ہوئے اس نے وضاحت کی۔”چوکیدار ،مہیش بابو کا آدمی ہے۔“
”اس کے باقی کارندے کہاں ہیں۔“
”تین خاص آدمی قید میں ہیں،رمیش بابو کو شک تھا کہ وہ اس کے بھائی کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔“
میں نے چند اور سوال پوچھنے کے بعد کمرے کی سرسری تلاشی لی ،رمیش کے کوٹ کی جیب سے اڑتیس بورپستول برآمد ہوااور سرھانے کے نیچے سے میرے والا روگر مل گیاتھا۔رمیش کا موبائل فون میں نے بند کر کے اپنے پاس رکھ لیا تھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر44
ریاض عاقب کوہلر
ٹینا کو وہیں بند کر کے میں باہر نکل آیا۔سب سے پہلے میں ان کمروں کے پاس پہنچا جہاں ٹینا کے بہ قول مہیش کے پرانے ساتھی قید تھے۔یہ میرے قید خانے کے دائیں بائیں موجود تین کمرے تھے۔انھوں نے سب کو علاحدہ علاحدہ کمرے میں بند کیا ہوا تھا۔
پہلے کمرے ہی میں میرا سامنا شیام راﺅ سے ہوگیا تھا۔رمیش لوگوں نے اسے اچھاخاصا تشدد کا نشانہ بنایا تھااوراس وقت بھی وہ صرف لنگوٹ (انڈرویئر) میں ملبوس کمرے کے ننگے فرش پر سکڑا سمٹا بیٹھا تھا۔مجھ پر نظر پڑتے ہی وہ حیرت سے اچھل پڑا تھا۔
”تم....؟“متعجب انداز میں کہتے ہوئے اس نے میرے عقب میں نظریں دوڑائیں اور کسی کو موجود نہ پا کر فوراََ سرگوشانہ لہجے میں بولا۔
”تمھیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا،وہ پاجی تمھیں قتل کر دے گا۔“
میں متبسم ہوا۔”ہاں، ہم دونوں نے کوشش کی مگر کامیابی مجھے ملی۔“
”کک....کیا مطلب؟“وہ ہکلا گیا تھا۔
میں نے سرسری تفصیل بتائی۔”سرحد پار کرنے کے لیے تمھیں ملنے آیا تھا،آگے سے رمیش بابو کا ٹولہ ٹکرا گیا اورمجھے مار پیٹ کر کمرے میں بند کر دیا،پس مجھے بھی جواب دینا پڑا۔چار قتل ہو چکے ہیں اور ایک لڑکی سمیت چار کو باندھ کر کمروں میں بند کر دیا ہے۔“
وہ دانت پیستے ہوئے بولا۔”اگر سانگھڑ نامی راکشش زندہ ہے تو اس کا گلا میں اپنے ہاتھوں سے کاٹنا چاہوں گا ۔“
میں نے اسے خوش خبری سناتے ہوئے پوچھا۔”تمھاری یہ تمنا تو پوری ہوئی،لیکن یہ بتاﺅ چوکیدار کا کیا کریں گے جو اب تک صحیح سلامت موجود ہے۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”وہ قابل اعتبار نہیں ہے،البتہ اپنی مرضی سے داخلی دروازہ نہیں چھوڑے گااس لیے اس سے بعد میں نمٹنا مشکل نہ ہوگا۔“
”توچلو کپڑے پہنو اور تفصیل بھی بتاﺅ کہ ہوا کیا تھا؟“یہ کہتے ہوئے میں نے تیس بور پستول اس کی جانب بڑھا دیا تھا۔
ہم باہر نکلے اور دوسرے کمروں کے دروازے کھول کر شیام کے دو ساتھیوں کوبھی آزادکردیا۔ ان کی درگت بھی شیام جیسی بنائی گئی تھی۔وہ مجھے نہیں پہچانتے تھے۔ شیام کے تعارف کرانے پر حیرانی و ممنونیت بھری نظروں سے مجھے دیکھنے لگے۔راہداری میں مڑکر ہم اس کمرے میں داخل ہوئے جہاں میں نے ایک آدمی کو باندھ کر بستر میں لٹایا تھا۔
وہ شیام ہی کا کمرہ تھا۔ وہ الماری سے کپڑے نکال کر پہننے لگا۔اس کے ساتھیوں نے بھی عارضی طور پر اسی کے کپڑے پہن لیے تھے۔میں نے دونوں کے حوالے ایک ایک پستول کیا،انھیں ضروری تفصیلات بتائیں اور چند اہم ہدایات دے کرچوکیدار کا بندوبست کرنے بھیج دیا۔
شیام میرا بندہ بے دام نظر آرہا تھا۔اس سے جو تفصیلات معلوم ہوئیں ان کا لب لباب یہ تھا کہ رمیش بابو اپنے بھائی کے کریا کرم کوٹینا کے ہمراہ ممبئی سے وہاں پہنچا تھا۔شیام راﺅ نے اسے مہیش بابو کے قتل کی تفصیلات بتائیں تو اسے شک ہوا کہ مہیش کے قتل میں شیام راﺅ کا ہاتھ ہے اور مجھے اس نے کرائے کا قاتل تصور کیاتھا۔پس اس نے بغیر کسی تاخیر کے ممبئی سے اپنے خاص آدمیوں کو بلایا، شیام راﺅ اور اس کے دو ساتھیوں کو مہیش کے قتل کی سازش میں ملوث قرار دے کر اچھی طرح زدو کوب کیا اور پھر انھیں قید کر دیا۔ اب وہ میری تلاش میں نکلنے والے تھے ،میری یا رمیش بابو کی بدقسمتی کہ میں خودبہ خود وہاں پہنچ گیاتھا۔
اسی وقت فائر کی ہلکی سی آواز ابھری،گولی پستو ل سے چلائی گئی تھی۔
میں نے اندازہ ظاہر کیا۔”شاید چوکیدار باقی نہیں رہا ۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”اسے زندہ چھوڑ کر ہم خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔“
میں نے خاموش رہتے ہوئے اس کی رائے پر صاد کیا تھا۔
”اب کیا کریں گے؟“شیام نے میری رائے جاننا چاہی۔
میں بے نیازی سے بولا۔”اس سارے معاملے سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے،مجھے سرحد پار جانا ہے ،باقی تم جانو اور تمھاراکام۔“
وہ تفصیل بتاتے ہوئے بولا۔”مہیش بھائی کی موت کے بعد مہاراج منجیت مترا کی گھنٹی آئی تھی،آپ کے بارے پوچھ رہے تھے کہ سر حد پار کر لی ہے یا نہیں۔میں نے حادثے کے بارے اطلاع دیتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ اب ہفتے ادھ کے بعد ہی روانگی ہو سکے گی۔دوبارہ ان کی گھنٹی نہیں آئی۔“
”انھی نے مہیش بابو کو معاوضے کی ادائی کی تھی ناں۔“میں نے اندازہ لگایا کہ منجیت مترا اصل میں دنیش رام یا اس کا قریبی ساتھی ہے۔
شیام راﺅ نے کہا۔”ہاں معاوضا ادا ہو چکا ہے ،مہیش بابو کی ہتیا کی وجہ سے گزشتہ ہفتے سرحد پار جانے والے پارسل نہیں جا سکے،میں کل جا کربندوبست کرتا ہوں،آپ کے علاوہ اور پارسل بھی ہیں۔“
”پارسل؟“میں نے حیرانی سے دہرایا۔
اس نے اثبات میں سرہلایا۔” جنھیں ہم سرحد پارکراتے ہیں انھیں کوڈ میں پارسل کہتے ہیں۔“
میں نے پوچھا۔”قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کرو گے۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”وہی جو ان کے ساتھیوں کے ساتھ آپ نے کیا ہے۔“
”ایک مسئلہ اور بھی ہے ؟“میں اس کے ہمراہ نشست گاہ میں بیٹھ گیا تھا۔اسی دوران میں اس کے دونوں ساتھی چوکیدار کی لاش کو اٹھائے وہاں پہنچ گئے تھے۔
شیام نے ناگواری سے کہا۔”اس پاپی کی لاش کو اند رکیوں لارہے ہو۔“
ایک بولا۔”باقی لاشوں کے ساتھ چھپا دیتے ہیں۔“
شیام نے ہدایت دی۔” لاشوں کو کمروں میں چھپانے سے تو رہے،اسے عقبی جانب پھینک کرڈھانپ دو۔“شیام راﺅ کے انداز سے لگ رہا تھا اب وہی ان کا بڑا تھا۔دونوں اثبات میں سرہلاتے ہوئے باہر نکل گئے تھے۔
میں نے بات دہرائی۔”میں تمھاری توجہ ایک اور مسئلے کی طرف کرنا چاہ رہا تھا۔“
وہ عقیدت سے بولا۔”مجھے لگتا ہے آپ کی موجودی میں ہمیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہو گا۔“
میں ہنسا۔”بھیا!میں سرحد پار کرنے کو تم لوگوں کا محتاج ہوں تو اور کیا تیر مار لوں گا۔“
اس نے منہ بنایا۔”یہ اتنابڑا مسئلہ نہیں ہے ،ویسے بھی یہاں سرحد پار کرنے کوطاقت یا مہارت کی نہیں تعلقات کی ضرورت پڑتی ہے۔“
میں مدعے پر آیا۔”اچھا مذاق چھوڑو اور غور سے سنو۔“
وہ میری طرف متوجہ ہوگیا، میں نے پوچھا ۔”کیا تم پر اعتماد کر سکتا ہوں؟“
وہ لمحہ بھر مجھے گھورتا رہا،پھر آنکھیں بند کرتے ہوئے اس نے سراوپر نیچے سرہلادیا۔”آپ ہمارے محسن ہیں اور احسان کرنے والوں کو ڈرنا نہیں چاہیے،اگر آپ کی مدد نہ بھی کر سکے کم از کم دشمنی نہیں کریں گے۔“
میں نے انکشاف کیا۔”مجھے بھی یہی امید تھی،بہ ہرحال مسئلہ یہ ہے کہ رمیش نے مرنے سے پہلے ایسے افراد تک میری گرفتاری کی خبر پہنچادی تھی جس کی زیر زمین حلقوں میں بہت اوپر تک پہنچ ہے اور جو میرے خون کے پیاسے ہیں۔رمیش نے میرے بدلے پچاس کروڑ کی مانگ کی ہے،مجھے شک ہے وہ رقم دینے کے بجائے رمیش پر حملہ کریں گے ۔“
شیام نے اندازہ لگایا۔”انھیں رمیش نے اپنے ٹھکانے کے متعلق تو نہیں بتایا ہوگا ناں؟“
میں نے کہا۔”رمیش کے موبائل فون سے اسے تلاشنا اتنا بھی مشکل نہ ہوگا۔“
اس نے پوچھا۔”اگر اس کا موبائل فون بند کر دیں۔“
میں نے اندیشہ ظاہر کیا۔”بند کر دیا ہے،لیکن وہ اس سے پہلے ہی جگہ معلوم کر چکے ہوئے تو کیا کریں گے؟“
وہ ممنونیت سے بولا۔”یہ بھی آپ کی مہربانی ہے کہ ہمیں باخبر کر دیا،ورنہ آپ چپکے سے کہیں چلے جاتے تو انھوں نے ہمیں بے خبری میں آلینا تھا۔“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”ایسا تب ممکن ہوتا جب مجھے تم سے کوئی کام نہ ہوتا،اب تو سرحد پار کرنے کو تمھارا محتاج ہوں ۔“اسی دوران میں اس کے دونوں ساتھی بھی اندر آکر خاموشی سے بیٹھ گئے تھے۔
شیام نے مشورہ دیا۔”ہم کہیں اور چلے جاتے ہیں۔“
میں نے حقیقت سے پردہ اٹھایا۔”تم علاقے میں کافی مشہور ہوکب تک چھپو گے ،وہ تمھیں ڈھونڈ لیں گے اور چھپنے کی کوشش کرنے کا مطلب یہی سمجھیں گے کہ تم اس سب میں شامل ہو۔“
اس کے چہرے پر خوف ابھرااوراس نے گھبراتے ہوئے پوچھا۔”تو کیا کریں ؟“
میں نے لمحہ بھر سوچ کر لائحہ عمل بتایا۔”اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر بغیر وقت ضائع کیے تمام کی لاشوں کو گہرا گڑھا کھود کر دبا دو،یہاں ان کی موجودی کا کوئی نشان باقی نہ رہے۔میں شہر لوٹ جاتا ہوں جب تک میرے جانے کا بندوبست نہیں ہو جاتاوہیں رہوں گا۔اس دوران میں کوئی رمیش کی تلاش میں آگیا تو بتا دیناوہ اپنے بھائی کے کریا کرم کے بعد ایک دو روز یہیں رہا اور پھر کہیں چلا گیا۔“
اس نے صاف گوئی سے اگلا۔”مجھے آپ کی غیر موجودی میں ڈر لگے گا۔“
میں اسے تسلی دیتے ہوئے بولا۔” ضروری نہیں کہ جو ہم سوچ رہے ہیں ایسا ہی ہو،کیوں کہ ہمیں یہ معلوم نہیں رمیش نے جس بروکر سے بات کی ہے وہ اس کے ساتھ کتنا مخلص ہے ۔“
شیام تفکر سے بولا۔”جب تک سرحد پار نہیں جاتے آپ یہیں رہیں گے،ہمیں آپ کی رہنمائی درکار ہو گی۔“
میں نے تکرار ختم کرتے ہوئے ترتیب بتائی۔”میں تمھاری جیپ لے جا رہا ہوں،تاکہ شہر سے اپنی رائفل لے آﺅں،اگر دشمن کا سامنا ہی کرنا ہے تو ہمارے پاس مقابلے کے لیے ہتھیار تو پورے ہونے چاہئیں۔اس دوران میں تم لاشیں اور ان کا دوسرا سامان چھپا دو،اگر تمھارے اور ساتھی بھی ہیں تو انھیں بھی بلا لو۔“
شیام نے تشویش بھرے انداز میں پوچھا۔”آپ کب تک لوٹیں گے؟“
میں اطمینان سے بولا۔”امید تو ہے تمھارے لاشوں سے جان چھڑانے تک آجاﺅں گا۔“
٭٭٭٭٭
جب میں شیام راﺅ کے ٹھکانے سے باہر نکلاتوشام کا ملگجا اندھیرا چھا چکا تھا ۔وہاں رمیش گروہ کی دو کاریں موجود تھیں ،مگر میں شیام کو ہدایت دے آیا تھا کہ ان کاروں کو ٹھکانے لگادے تاکہ وہاں رمیش ٹولے کی موجود ی کا کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔
صبح ناشتے کے بعد میرے حلق سے کچھ نہیں اترا تھا۔اس لیے باڑمیر پہنچتے ہی میں نے سب سے پہلے تو ایک ہوٹل میں جا کر پیٹ کے واویلے کا سد باب کیا پھر سیدھا قبرستان پہنچا اور ایس آر ون کو باہر نکال لیا۔
دفن ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی وہ باہر نکل آئی تھی۔گو سنائپر رائفل لڑائی کے ہر مرحلے میں کام نہیں آتی ،مگر ایک سنائپر ہمیشہ سنائپر رائفل کے بغیر خود کو ادھورا محسوس کرتا ہے۔دوران ِتربیت،مشق اور پھر زندگی کے عملی میدان میں میراواسطہ کئی قسم کے ہتھیاروں سے پڑ چکا ہے ,جن میں بیسیوں اقسام کے پستول،گنیں ،اسالٹ رائفلیں اور اسنائپر رائفلیں شامل ہیں۔لیکن فائر کرنے کا جو مزہ سنائپر رائفل سے آتا ہے وہ کسی اور ہتھیار میں نہیں ہے۔
سنائپر رائفل مجھے ہمیشہ اپنی ہم راز،ساتھی، ہم جولی اور مخلص دوست دکھائی دیتی ہے۔مجھ سے یوں مخاطب ہوتی ہے جیسے زبان رکھتی ہو،یوں باتیں کرتی ہے جیسے زندہ ہو،یوں وضاحت کرتی ہے جیسے شعور رکھتی ہو؛جب میں ایلی ویشن ،ڈیفلیکشن ناب گھماتا ہوں تو ’ٹک ٹک‘ کی زبانی مجھے فاصلہ بتاتی ہے، میگنفیکیشن سلیو کی مدد سے ریٹیکل کو چھوٹا بڑا کرتا ہوں تووضاحت کرتی ہے کتنا زوم کرنا ٹھیک ہوگا، پیرالکس اڈاپٹر کے ذریعے منظر کو صاف کرتا ہوں تو آگاہ کرتی ہے ناب کوکب گھمانا بند کرنا ہے۔ دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت جب لبلبی دبانے لگتی ہے توٹریگر کا” پل آف سرفس“انگلی کوخبر دیتا ہے کہ اب کھینچنا ٹھیک ہو گا؛ دایاں گال جب بٹ کا لمس چکھتاہے تو شفاف و ٹھنڈا بٹ کانوں میں سرگوشیاں کرتا ہے۔ بٹ پلیٹ کاپیار بھرا دھکا کندھے کو بڑھاوا دیتی تھپکی محسوس ہوتا ہے۔دائیں آنکھ جب آئی گلاس سے گزر کر آبجیکٹ لینز کی حد عبور کرتے ہوئے ہدف کی متلاشی ہوتی ہے تو جمع کاشستی نشان نظر کی رہنمائی کرتا ہوا ہدف تک لے جاتا ہے ۔سماعتیں جب سائلنسر لگی بیرل کی ”ٹھک “سنتی ہیں اورجب کھوکے کے پختہ فرش پر گرنے کی کھنکھناہٹ سے محظوظ ہوتی ہیں، تب لگتا ہے رائفل خوشی سے چہک رہی ہو۔یہ مجھے ہدایات دیتی ہے کہ کہاں شست سادھنا ہے،کب سانس روکنا ہے اورکب لبلبی دبانا ہے۔ جب گولی ہدف کو شکار کر لیتی ہے تب میرے اطمینان بھرے سانس پر وہ وارفتگی بھرے اندازمیں مجھے لپٹ جاتی ہے۔ عام لوگوں کی نظر میں کاکنگ ہینڈل کھینچنے کی آواز ہوتی ہے،مگرمجھے گزشتہ گولی پر مبارک باد دینے کی سرگوشی لگتی ہے۔گولی کے چیمبر میں گھسنے کی ”کلک“ مجھے اگلے نشانے پرنیک خواہشات کا اظہار کرتی نظر آتی ہے۔اور یقینا ہر پیشہ ور سنائپر کو یونھی لگتا ہوگا۔ کسی سنائپر سے اس موضوع پر بات تو نہیں ہوئی البتہ اپنے استادوں سے ان کی زندگی کے تجربات و مشاہدات سنتے ہوئے بارہا لگا کہ سنائپر رائفل کے متعلق ان کے بھی کچھ ایسے ہی جذبات ہیں۔
ایس آر ون رائفل کے ہمراہ میں آٹھ نو بجے تک شیام راﺅ کے ٹھکانے پر لوٹ آیاتھا۔وہ شدت سے منتظر تھے،مجھے دیکھ کر انھیں اطمینان محسوس ہوا تھا۔انھوں نے اب تک کھانا نہیں کھایا تھا۔
”میں نے کھانا کھا لیا ہے۔“کہہ کر میں ایس آر ون کے پرزوں کی صفائی کرنے لگا،جن پر میں نے اچھی طرح تیل لگایا ہوا تھا۔
میرے رائفل کے صاف کرنے تک انھوں نے کھانا کھا لیا تھا۔
کھانا کھانے کے بعد شیام راﺅ نے میری طرف چائے کی پیالی بڑھاتے ہوئے پوچھا۔ ”اب کیا کریں گے؟“
میں نے مشورہ دیا۔”سب سے پہلے تو اپنے ٹھکانے تک آنے والے راستے پر کوئی پہرے دار مقرر کرو جو دشمن کی بروقت آمد کی اطلاع دے سکے اور اس کے لیے باڑمیر کا وہ ہوٹل بہترین رہے گا جہاں سے سڑک اڑکا کی طرف مڑتی ہے۔“
اس نے عقل مندی کا مظاہرہ کیا۔”اور ہماراآدمی دشمن کو پہچانے گا کیسے؟“
میں نے وضاحت کی۔”دشمن کوئی چور اچکا یا سڑک چھاپ غنڈہ نہیں ہے کہ عوامی ذریعہ نقل و حرکت (پبلک ٹرانسپورٹ)استعمال کرے گا۔وہ اپنی گاڑیوں میں آئیں گے اور اکیلی گاڑی میں نہیں ہوں گے کم از کم دو گاڑیا ں ہوں گی،زیادہ کا کچھ نہیں کہہ سکتااور اس سڑک پر اکثر صرف مقامی گاڑیاں چلتی ہیں،ویگن ،بس ،موٹرسائیکل، ٹریکٹر ٹرالی، رکشے وغیرہ ....گاہے گاہے کوئی کار وغیرہ بھی نظر آجاتی ہے،لیکن اس کی پہچان بالکل مشکل نہ ہو گی۔“
اس نے ایک اور نکتہ پیش کیا۔”ہو سکتا ہے سودا بازی کو ایک دو بندے ہی آئیں ۔“
”تب ہمیں حفاظتی تدابیر پر عمل کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔تم انھیں بتا دینا کہ رمیش یہاں سے چلا گیا ہے اور وہ تلاشی لے سکتے ہیں۔“
وہ معترض ہوا۔”یہی بات میں زیادہ افراد کو بھی کہہ سکتا ہوں۔“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”بالکل کہہ سکتے ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ تمھاری بات مان جائیں ،لیکن خدشہ یہی ہے وہ زیادہ تعداد میں آئے تو تمھاری کوئی بات نہیں سنیں گے اور تم سے رمیش بابو کا ٹھکانہ اگلوانے کی کوشش کریں گے۔“
اس نے پوچھا ۔”اچھا بالفرض وہ واقعی حملہ کرنے آتے ہیں اور ہمیں پہلے سے معلوم ہو جاتا ہے تو ہم کیا حفاظتی اقدامات کریں گے؟“
”یاد ہے اس دن ایک سنائپر نے تمھارے سارے ساتھیوں کا صفایا کر دیا تھا۔میں بالکل وہی کام کروں گا،کیوں کہ میں بھی سنائپر ہوں۔“
”سمجھ گیا....“اس نے اثبات میں سرہلادیا تھا۔
میں نے کہا۔”تمھارا کوئی اور ساتھی ہے جو باڑ میر جا کر مخبر کی ذمہ داری نبھا سکے۔“
وہ پرسکون انداز میں بولا۔”بے فکر رہیں ،میں دو آدمیوں کو مقرر کر دیتا ہوں جو باڑمیر ہی کے رہائشی ہیں۔ وہ باری باری پہرہ دے لیں گے۔“
”اب ایک اور کام رہ گیا ہے۔“
وہ بجھے ہوئے لہجے میں بولا۔”اچھا،میں نے تو سوچا منصوبہ مکمل ہو گیا ہے۔“
میں مسکرایا۔”ہر منصوبے میں بہتری کی گنجائش رہتی ہے بھائی!“
”صحیح کہا۔“اس نے اتفاق کرتے ہوئے پوچھا۔” بتائیں اور کیا کرنا ہوگا؟“
”تمھیں مزید آدمیوں کی ضرورت پڑے گی،اگر اپنے آدمی دستیاب ہیں تو بہترہے، دوسری صورت میں کسی جاننے والے غنڈے وغیرہ کو معاوضے کی پیشکش کر کے منگوا لو۔اپنے باس مہیش بابو کے قتل کا حوالہ دے کر خطرے کا اظہار کرنااوریہ ایک لاکھ انھیں معاوضے کے طور پر دے دینا۔“ میں نے بیگ سے ایک لاکھ کی رقم نکال کر اس کی طرف بڑھا دی۔
وہ شاکی ہوا۔”آپ شرمندہ کر رہے ہیں۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”اس جنگ میں ہم دونوں کا مفاد پوشیدہ ہے اور میں اتنا خرچ برداشت کر سکتا ہوں اس لیے ہچکچانے کی ضرورت نہیں ہے۔“
اس نے عقیدت بھرے لہجے میں پیش کش کی۔”آپ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہ جائیں ہم مہیش بابو کی جگہ آپ کو اپنا باس بنا لیتے ہیں۔“
میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔”تمھارا کیا اندازہ ہے، میں کون ہو سکتا ہوں؟“
”ہمارا واسطہ عموماََ چار قسم کے لوگوں سے پڑتا ہے،جن میں مجرم ،اسمگلر ،عام لوگ اور جاسوس ہوتے ہیں،مگر ہم نے کبھی کسی سے اس کا پیشہ دریافت نہیں کیا ۔“
میں نے کہا۔”حالاں کہ تمھیں معلوم تو ہونا چاہیے۔“
وہ کام کی ترتیب وضاحت سے بتانے لگا۔”ہمارا کام بس پارسل کو سرحد عبور کرانا ہوتا ہے۔اطراف کے پہرے داروں سے ہمارے خفیہ روابط ہوتے ہیں۔سارے بی ایس ایف والے یا پاکستانی رینجرز بکاﺅ نہیں ہوتے، ہم تبھی پارسل کو سرحد پار کراتے ہیں جب جوانب میں پہرے داری پر ہمارے خاص افراد متعین ہوں اور اس کی منصوبہ بندی ہم پہلے سے کرتے ہیں۔“
میں نے منہ بنایا۔” طریقہ کار نہیں پوچھا اپنے بارے اندازہ لگانے کا کہا ہے۔“
وہ تیقن سے بولا۔”مجھے یقین ہے آپ پاک آرمی کے کمانڈو ہیں۔“
میں ہنسا۔”اور اس یقین کی وجہ؟“
وہ اعتماد سے بولا۔”کارکردگی۔“
”تو تمھیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ایک کمانڈو کی جگہ یہاں نہیں بنتی۔“
اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”میں نے تمنا ظاہر کی ہے،آپ منع کر دیتے، گھما پھرا کر انکار کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔“
میں نے فضول تکرار ختم کرتے ہوئے کہا۔”اب گپ شپ میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کام پر لگیں۔“
”ٹھیک ہے باس!“وہ مزاحیہ انداز میں کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔اس کے دونوں ساتھی جو اس دوران میں خاموشی سے ہماری گفتگو سن رہے تھے انھوں نے بھی نشست چھوڑ دی تھی۔
داخلی دروازے پر رکتے ہوئے وہ پیچھے مڑا۔ ”لڑکی کا کیا کرنا ہے؟“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”وہ اب تک زندہ ہے۔“
شیام راﺅ نے بے شرمی سے دانت نکالے۔”وہ زندہ رہنے کی ہر قیمت ادا کر نے پر تیار ہے اور سچ کہوں تو اتنی خوب صورت لڑکی کی ہتیا کرنا حماقت ہو گی۔“
میں نے لا تعلقی سے پوچھا۔”تمھارے پاس کوئی ایسی جگہ ہے جہاں اسے عارضی طور پر قید رکھ سکو۔“
وہ فخریہ انداز میں بولا۔”یہاں تہہ خانہ موجود ہے اور آپ کے کہنے سے پہلے اسے وہاں بند کر دیا ہے۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”اگر تہہ خانہ موجود ہے تو رمیش کے آدمیو ں نے تمھیں کمروں میں کیوں قید کیا ہوا تھا؟“
”کیوں کہ انھیں معلوم ہی نہیں تھا یہا ں کوئی تہہ خانہ بھی موجود ہے۔“
میں نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”بہ ہرحال یہ تمھارا ذاتی معاملہ ہے،میری بلا سے اسے قتل کرتے ہویا شادی کرتے ہو۔“
اس نے مشورہ چاہا۔”آپ کی کیا رائے ہے، اسے زندہ چھوڑنے میں کوئی قباحت تو نہیں ہو گی؟“
میں نے تجزیہ کیا۔”وہ فقط رمیش کے دل بہلانے کا کھلونا تھی،اسے رمیش سے کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی اور یہی کردار وہ یہاں بھی نبھالے گی۔ اسے بس اپنی سہولیات اور عیش و آرام سے غرض ہے، پورا کرنے والا ، رمیش بابو ہو یا شیام راﺅاسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
”میرا بھی یہی اندازہ تھا۔شکریہ باس!“وہ دانتوں کی نمائش کرتا ہوا باہر نکل گیا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر45
ریاض عاقب کوہلر
میں ایک کمرے میں جا کر بستر میں گھس گیا۔دماغ مختلف خیالات کی آماجگا بنا ہوا تھا۔مجھے دنیش رام پر حیرانی ہو رہی تھی کہ اتنے سخت حالات میں بھی اس نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا تھا۔ شاید اسے مجھ پر ضرورت سے زیادہ اعتماد تھایا ممکن ہے اسے میرے حالات ہی معلوم نہ ہوتے۔شیام راﺅ کے بہ قول تو اس نے میرے بارے دریافت کیا تھا،لیکن مجھ سے پوچھنے کے بجائے تیسرے آدمی سے دریافت کرنا تھوڑا حیران کن تھا۔خیر یہ اتنا انوکھا اور عجیب بھی نہیں تھا کہ میں زیادہ دماغ کھپاتا،فی الحال تو نئی جنگ سے نبرد آزما ہونے کا لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔شیام راﺅ اور اس کے ساتھیوں سے مجھے دلی لگاﺅ تھا نہ ان کی حفاظت میرے لیے کوئی معنی رکھتی تھی البتہ ان سے میرا مفاد وابسطہ تھا اور اس کے ساتھ میں یہ بھی چاہتا تھاکہ کرن چاولہ کو اچھا سبق سکھا کر یہاں سے رخصت لوں۔گو اس کا ایک طریقہ تو یہ تھا کہ میں ممبئی کا رخ کرتااور اس کے کریا کرم کا بندوبست کر کے لوٹتا،مگراس کی جگہ کے بارے مجھے کوئی اندازہ نہیں تھانجانے وہ کہاں چھپا تھاالبتہ یہ بات مجھے اس کے چیلوں سے معلوم ہو سکتی تھی،تو ممبئی میں ٹامک ٹوئیاں مارنے سے بہتر تھا کہ میں یہاں ان کی آمد کا انتظار کرتا۔
مختلف تجاویز سوچتے ہوئے میں گہری نیند سو گیا تھا۔
صبح اٹھ کر میں نے نماز پڑھی کہ شیام راﺅ کے ساتھی میرے مسلمان ہونے کی حقیقت اچھے سے جانتے تھے۔نماز پڑھ کر میں نے ناشتا کیا،اس دوران میں شیام راﺅ نے آگاہی دی کہ اس نے میری ہدایات پر من و عن عمل کیا تھااور اب رات ہی کو پانچ محافظ وہاں پہنچ گئے تھے جنھوں نے پانچ دنوں تک اس عمارت کی حفاظت کرنا تھی اس اثناءمیں کوئی بھی شخص عمارت پر حملہ آور ہوتا تو وہ حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی کرتے۔ان کا سرغنہ شیام راﺅ کا پرانا دوست تھا اوراسے ان پر اعتماد تھا۔
ناشتے کے بعد میں شیام راﺅ کے ہمراہ اس ٹیلے کا جائزہ لینے پہنچا جہاں پاسکل نے کمین گاہ بنا کر مہیش راﺅ اور اس کے ساتھیوں کا قتل کیا تھا۔وہاں جا کر دیکھا توپاسکل نے جلدی کی کمین گاہ بنائی تھی۔ ( سنائپر کی کمین گاہوں کی مختلف اقسام ہیں اورہر سنائپر علاقے کی مناسبت سے اپنے لیے کمین گاہ بناتا ہے،اس میں جلدی کی کمین گاہ،بیلی ہائڈ، فوکس ہول،سیمی پرمانینٹ /پرمانینٹ اور مچان شامل ہیں۔ہر کمین گاہ کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں جس کے انتخاب کا انحصار سنائپر کی اپنی صواب دید پر ہے)
ٹیلے کے اطراف میں کافی جھاڑیاں اور سرکنڈے موجود تھے ،البتہ سامنے کی جھاڑیاں ٹیلے کی بلندی سے فائر کرنے پر نظر میں رکاوٹ نہیں ڈالتی تھیں۔اپنے لیے جگہ کا انتخاب کر کے ہم واپس لوٹ آئے ۔شیام راﺅ نے اپنے ایک آدمی کو چاے بنانے کا کہا ،مگر چاے تیار ہونے سے پہلے تین مشکوک کاروں کے اڑکا سڑک پر مڑنے کی خبر ملی،بغیر لمحہ ضائع کیے میں شیام راﺅ کے ہمراہ جیپ میں بیٹھا اورکمین گاہ کی طرف بڑھ گیا۔مجھے وہاں اتار کر شیام راﺅ واپس لوٹ گیا تھا۔میں بجلی کی سی سرعت سے ٹیلے پر پہنچا اور رائفل کو بیگ سے نکال کر جوڑ دیا۔بورسائیٹنگ کے ذریعہ رائفل کو صفر میں پہلے سے کر چکا تھا۔
ایک بات قارئین یاد رکھیں کہ کسی بھی ہتھیار سے جو پہلی گولی چلائی جاتی ہے وہ بیرل ٹھنڈی ہونے کی وجہ سے ہدف سے نیچے لگتی ہے اس لیے پہلا فائر کرتے وقت پرانے سنائپر اپنے تجربے اور اندازے سے شست تھوڑا اوپر لیتے ہیں تاکہ گولی ان کے من چاہے نشانے پر لگے۔نشانہ بازی کے مقابلوں میں بھی ایک مقابلہ ایسا ہوتا ہے جس میں سنائپر کو ٹھنڈی نال سے (کولڈ بور) فائر کرنا پڑتا ہے۔اور یہ بات تو بارہا دہرا چکا ہوں کہ کسی ماہر فن اور عام شخص کے اندازے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
میں بہ مشکل سیدھا ہو پایا تھا کہ تین گاڑیاں سڑک پر نمودار ہوئیں۔باڑمیر وہاں سے شمال مشرق کی جانب پڑتا تھا۔اڑکا کی آبادی سڑک کے غربی جانب واقع تھی۔سڑک آگے جنوب مغرب کی طرف چلی جاتی تھی۔شیام راﺅ کا ٹھکانہ اڑکا کی آبادی سے فرلانگ بھر شمال کی جانب واقع تھا۔عمارت کا داخلی دروازہ مغرب کی سمت تھا اور جس ٹیلے پر میں نے کمین گاہ بنائی تھی وہ شیام راﺅ کے ٹھکانے سے کلومیٹر بھر مغرب کی سمت واقع تھا۔اس ٹیلے تک آنے کو سڑک پر سیدھا آگے جانا پڑتا وہاں سے ملاپی سڑک ”الٹا حرف دال “زمین پر نقش کرتی ہوئی واپس مڑکر شمال مشرق ہی کی جانب واپس جاتی تھی اور اڑکا کی آبادی اول الذکر سڑک کے غربی جانب جبکہ موخر الذکر سڑک کے شرقی جانب پڑتی تھی۔اور موخر الذکر سڑک ہی پر کلومیٹر بھر چل کراور پھر کچے راستے پر اتر کر اس ٹیلے تک پہنچا جا سکتا تھا جہاں میری کمین گاہ تھی۔وہاں تک آنے کا ایک ٹوٹا پھوٹا رستہ شیام راﺅ کی رہائش سے بھی نکلتا تھا۔دشمنوں کی تینوں گاڑیاں پہلے تو اڑکا کی آبادی کے متوازی رک گئی تھیں ،پھر دو گاڑیاں وہیں رکی رہیں جبکہ تیسری گاڑی سڑک پر آگے بڑھ گئی تھی۔پہلے تو میں نے سوچا شاید وہ شیام راﺅ کے ٹھکانے کو گھیرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور گاڑی تھوڑا آگے جا کر سڑک سے اترے گی۔ گو وہاں انھیں گاڑی کھڑی کر کے پیدل ہی آگے بڑھنا پڑتا،مگر یہ اتنا مشکل نہ تھا۔لیکن گاڑی اس جگہ نہ رکی جہاں سے وہ شیام راﺅ کے ٹھکانے کو گھیر سکتے تھے بلکہ آگے بڑھ گئی ۔
میرا ماتھا ٹھنکا،یقینا وہ گاڑی میری کمین گاہ کی طرف آرہی تھی اور اس کی دو وجوہات ہو سکتی تھیں ۔یا تو انھیں معلوم ہو گیا تھا کہ میں وہاں موجود ہوں اور وہ مجھے پکڑنے آرہے تھے اور یہ احتمال سو میں صرف ایک فیصد ہی ممکن تھا۔دوسرا گمان یہ تھا کہ ان کے ہمراہ کوئی سنائپر موجود تھا جو وہاں کمین گاہ بنانے آرہا تھا یہ قرین قیاس تھااور اگر واقعی ایسا ہی تھا تووہ سنائپر پاسکل کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی کو اس کمین گاہ کا علم تھا کوئی نیا سنائپر اتنی جلدی کمین گاہ نہیں چن سکتا تھا۔اس کے لیے علاقے کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے اور انھوں نے تو ٹھکانے تک پہنچے بغیر اس ٹیلے کی طرف حرکت شروع کر دی تھی جیسے انھوں نے جگہ کا انتخاب پہلے سے کر رکھا ہو۔اور اس سے ایک ہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا تھا کہ یا تو وہ خود پاسکل تھا یا انھیں پاسکل نے سمجھایا تھا۔
یہ یقین ہوتے ہی کہ وہ ٹیلے ہی کی جانب آرہے تھے میں نے لیٹے لیٹے سامان سمیٹااور ٹیلے کے شمال مغربی جانب نیچے کھسکنے لگا۔ریتیلے ٹیلے نے میری حرکت کو آسان بنا دیا تھا۔تھوڑا سا نیچے آتے ہی مجھے اتنی آڑ میسر ہو گئی کہ کھڑا ہو سکتاتھا۔میں نے اٹھتے ہوئے ایس آر ون کو کندھے پر رکھا اور بیگ کو ہاتھ میں لٹکائے تیزی سے نیچے اترا۔ٹیلے کی بنیاد میں جھاڑیاں اور سرکنڈے بکھرے تھے۔میں لمحوں میں ایک جھاڑی کا حصہ بن چکا تھا۔اس کے ساتھ ہی سائیلنسر لگے پستول پر میں نے اپنی گرفت مضبوط کرلی تھی۔
دو اڑھائی منٹ بعد انجن کی آواز میری سماعتوں میں پہنچی،ساتھ ہی دروازہ کھلنے اور زور سے بند ہونے کی آواز آئی۔اس کے ساتھ ہی گاڑی کی آواز دور جانے لگی۔میں بے حس و حرکت لیٹا رہا کہ ذرا سی حرکت کرنے پر جھاڑی کی شاخیں ہل کر میری موجودی کا راز افشا کر سکتی تھیں۔
مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا،وہ جلد ہی بیگ اٹھائے میرے سامنے سے گزرا،وہ پاسکل ہی تھا۔ٹیلے کے درمیان میں پہنچتے ہی وہ اوپر چڑھنے لگا۔یہ بعینہ وہی جگہ تھی جہاں اس نے پچھلی بار کمین گاہ بنائی تھی۔
میں اپنا سامان وہیں چھوڑ کر صرف پستول پر گرفت جمائے جھاڑی سے باہر رینگااور محتاط انداز میں آگے بڑھنے لگا۔ میری ساری توجہ پاسکل پر لگی تھی جو بیگ کھول کر رائفل کو جوڑ رہا تھا۔اسی دوران میں میری سماعتوں میں وائرلیس سیٹ کی کھڑکھڑاتی آوازپڑی۔
”کیا تم تیار ہو نمبر ون؟“
پاسکل کی پر اعتمادآواز ابھری ۔”مجھے دو منٹ لگیں گے،تم لوگ دھیمی رفتار سے آگے بڑھو....“
اس نے جلدی سے رائفل تیار کی اور لیٹنے سے پہلے منہ سے بوتل لگا کر حلق تر کرنے لگا۔ وہ عادی شرابی تھا،پچھلی بار بھی مجھے اس کے ہاتھ میں بوتل نظر آئی تھی۔ایسے عادی شرابیوں کی کارکردگی شراب پی کر بڑھ جاتی ہے۔اسے مکمل تیار پا کر میں جلدی سے آگے بڑھاریت کے ٹیلے کی بلندی تیس پینتیس فٹ کے بہ قدر تو لازمی ہوگی۔ڈھلوان بھی بالکل کھڑی نہیں تھی،میں بے آواز قدم لیتا ہوا بلندی چڑھنے لگا،اگر اسے چاپ سنائی دے بھی جاتی تب بھی وہ بچ نہیں سکتا تھا کہ گلاک فائر کرنے کو تیار تھا۔
پانچ چھے قدم کے فاصلے پر پہنچتے ہوئے میں اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔ ”تم نے مجھے دھوکا دیاہے۔“
میرا نرم اور دھیما لہجہ بھی اس کے لیے بم دھماکے سے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوا تھا۔وہ اچھل کر سیدھا ہوااورہاتھ کوٹ کی جیب کی طرف بڑھا....
”اگر تمھیں یقین ہے کہ گولی سے زیادہ تیزی سے حرکت کر سکتے ہوئے تو تمھیں غلط حرکت سے منع نہیں کروں گااور اگر تمھیں میرا پستول کا نشانہ دیکھنا ہے ،تب بھی ہتھیار نکالنے کی کوشش کر سکتے ہو، لیکن یاد رکھنا مجھے صرف گولی چلانا آتا ہے اور گولی مخالف کا جو نقصان کرتی ہے اس کی بھرپائی میرے لیے ناممکن ہے۔“
اس کا ہاتھ جیب میں ساکن ہو گیا تھا۔بایاں ہاتھ اوپر اٹھا کر وہ دایاں ہاتھ دھیرے دھیرے باہر نکالنے لگا تھا کہ میں نے حکم دیا۔
”اپنا پستول میری طرف پھینکو۔“
اس کے ہاتھ کی حرکت رکی ، اس نے دوبارہ پستول پر گرفت جمائی اور ہاتھ دھیرے دھیرے باہر لانے لگا۔میں چوکنا ہو گیا تھا، وہ ایک پیشہ ور سنائپر تھا اور ناممکن تھا وہ آسانی سے اپنے ہتھیار سے دست بردار ہو جاتااوروہی ہوا،جونھی پستول اس کی جیب سے باہر آیا،برقی کوندے کی طرح اس نے پستول والا ہاتھ سیدھا کرنا چاہا ،مگر اسے میرے بارے کوئی غلط فہمی تھی یا خود پر کچھ زیادہ اعتماد تھا،جبھی اس نے قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا تھا۔
اس کا ہاتھ بہ مشکل سیدھا ہی ہو پایا تھا کہ میں لبلبی دبا چکا تھا۔پستول کی بیرل پر چھوٹی سی فرنٹ سائیٹ ٹپ اور رئیرسائیٹ وی بنی ہوتی ہے اور اندھیرے میں نشانہ سادھنے کوان پر ریڈیم بھی لگا ہوتا ہے ،مگر اس پر مبتدی نشانہ سادھتے ہیں۔ ہم جیسے پرانے پاپیوں کو ویسے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ کہاں شست سادھنا ہے۔کوئی بھی سنائپر چھوٹے ہتھیاروں کو بہترین طریقے سے چلا سکتا ہے ،مگر اسے دسترس سنائپر رائفل اور پستول کے فائر پر ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی دو ہتھیار ایسے ہیں جن کے ساتھ اس کا سب سے زیادہ پالا پڑتا ہے۔
گولی اس کے دائیں ہاتھ کی پشت کو چھیدتی ہوئی پستول کے دستے سے ٹکرائی تھی۔”ٹھک“ کی آواز میں اس کی چیخ بھی شامل تھی۔دائیں ہاتھ کو بائیں بغل میں دیتے ہوئے اس نے ہونٹ بھینچ لیے تھے۔
میں مسکرایا۔”کچھ ڈھیٹ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کانوں سنی بات کو ماننے کے بجائے آنکھوں دیکھی درگت پر زیادہ یقین کرتے ہیں۔“
وہ ہونٹ بھینچے خاموش رہا۔
میں نے حکم دیا۔”ہاتھ سر کے پیچھے باندھ کر رخ موڑ لو۔“
وہ تکلیف سے کراہتا ہوا بولا۔”خون بہہ رہا ہے۔“
میں پرسکون انداز میں بولا۔”گندے خون کے بہنے ہی میں بھلائی ہوتی ہے،اگر اس خون میں ابال نہ اٹھتا تو اسے بہنا بھی نہ پڑتا۔سادہ الفاظ میں کہوں تو پنگا نہ لیتے تو تکلیف سہنے سے بھی بچ جاتے۔“
اچانک وائرلیس جاگ اٹھا تھا،انگریزی میں کہا گیا۔”نمبر ون !ہم اندر گھس رہے ہیں ۔“
میں نے کہا۔”انھیں بتا دو تم تیار ہو۔“
پیچھے مڑ کر اس نے جھکتے ہوئے بائیں ہاتھ سے وائرلیس سیٹ اٹھایا اور ہونٹوں کے سامنے پکڑتے ہوئے بولا۔”میں تیار ہوں۔“
میری نظریں شیام راﺅ کے ٹھکانے کی طرف اٹھیں تینوں گاڑیاں داخلی دروزے پر پہنچ گئی تھیں۔
میں نے پوچھا۔”کیا تم نے ایلی ویشن لگا دی ہے۔“
اس نے اثبات میں سرہلا دیا تھا۔
میں مسکنت سے بولا۔”دیکھ بھائی!بے عزت نہ کرادینا، تمھیں تو کوئی جانتا نہیں اور ایس ایس کا بڑا نام ہے۔“
وہ ناک سے گہرا سانس لیتے ہوئے ہونٹ بھینچ کر رہ گیا تھا۔میں نے مزید تکرار کے بجائے پستول کے دستے سے اس کی کھوپڑی بجانا مناسب سمجھا کہ ضائع کرنے کو ایک منٹ بھی نہیں تھا۔
ہونٹوں سے درد بھری کراہ نکالتے ہوئے وہ اوندھے منہ ڈھیر ہو گیا تھا۔میرے پاس رسی موجود تھی مگر نیچے بیگ میں پڑی تھی اور اتنا وقت نہیں تھا کہ رسی اٹھا کر لا سکتا۔اس نے زیریں بدن پرموٹا پاجامہ اور پاﺅں میں فوجی طرز کے لمبے بوٹ پہنے ہوئے تھے۔میں نے پھرتی سے پاجامے سے تسمہ نکال کر اس کے ہاتھ پشت پر جکڑ دیے اوربوٹوں کے تسمے آپس میں باندھ کر اس کے پاﺅں کا بھی سد باب کر دیا تھا۔اس نے پنڈلی سے باریک دھار والا خنجر باندھا ہوا تھا،میں نے کوٹ کی زنجیر کھول کر نیچے موجود بنیان پھاڑی اور اس کے ہاتھ پر پٹی لپیٹ دی ،کیوں کہ خون کا بہاﺅ نہ روکا جاتا تو اس نے مرجانا تھا۔
اس سے فارغ ہو کر میں ہتھیاروں کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کے پاس سائیلنسر لگا بریٹا اور چیٹیک ایم ۰۰۲انٹروینشن تھی۔(Cheytac M200 Intervention)ایک رائفل چھننے کے بعد اس نے دوبارہ وہی رائفل خرید لی تھی،یقینا یہ اس کی پسندیدہ رائفل تھی۔اور اتنی قیمتی رائفل دوبارہ خریدنے کا صاف مطلب یہی تھا کہ میری سرکوبی کو کرن چاولہ اپنی حرام کی کمائی سخاوت سے اڑا رہا تھا۔
اس نے فائرنگ ٹیبل،ونڈ میٹر، ایل آر ایف ،ریڈیو سیٹ(وائرلیس)موبائل فون وغیرہ ترتیب سے نیچے رکھ دیئے تھے۔ایک میگزین رائفل پر لگائی ہوئی تھی اور دوسری بھر کر قریب رکھ دی تھی۔اس رائفل کی ایک میگزین میں سات گولیاں پڑتی ہیں اس حساب سے چودہ گولیاں میں بغیر وقت ضائع کیے فائر کر سکتا تھااوراس کے بعد دوبارہ میگزین بھرنا پڑتی۔وہاں گولیوں کا ایک ڈبابھی رکھا ہوا تھا۔
میں جلدی سے رائفل کے عقب میں لیٹ گیا۔اسی وقت کانوں میں نہایت مدہم آواز گونجی، توجہ کی تو ایک” ہینڈ فری “نما آلہ نظر آیا ،یقینا وہ پاسکل کے کان سے نکل کر گرا تھا۔ اس کے ساتھ تار لگی ہوئی نہیں تھی۔ وہ میں نے اٹھا کر کان میں ٹھونسا دشمنوں کی آواز میری سماعتوں میں گونجنے لگی تھی۔یقینا وہ ایسا آلہ تھاجس کی مدد سے پاسکل اپنے ساتھیوں کی آواز سن سکتا تھا۔پہلے تو سوچا شاید موبائل فون پر ملاپ کیا ہوا ہے،مگر پاسکل کے موبائل فون کا جائزہ لیاتووہ بند ملا۔اس آلے کی سہولت کے باوجود وائرلیس سیٹ کا استعمال قدرے انوکھا لگا تھا،پھر خیال آیا کہ اس آلہ کے ذریعے پاسکل اپنی آواز ان تک نہیں پہنچا سکتا تھااور یقینا ایسا ہی تھا ورنہ انھیں پاسکل کی بے بسی کا معلوم ہو گیا ہوتا۔
اسی وقت شیام راﺅ کی گھنٹی موصول ہوئی میں نے موبائل فون کو اسپیکر پر ڈال کر سامنے رکھ لیاتھا۔مگر اس سے زیادہ واضح آواز دشمنوں کے ڈیوائس سے مل رہی تھی۔سائنس نے بھی نجانے کتنی ترقی کر لی ہے کہ عجیب و غریب آلات ایجاد ہو چکے ہیں۔ایسے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ڈاکٹر وحید الدین خان فرماتے ہیں جب ہینڈ پمپ ایجاد ہوا تھا اور ایک عورت نے اس کے ذریعے زمین سے پانی برآمد ہوتا دیکھا تو بے ساختہ کہا تھا۔کہ انسان بس موت پر قابو نہیں پا سکا باقی اس نے ہر شیئے کو اپنے بس میں کر لیا ہے۔نت نئی ایجادات اور انسانی ترقی کی رفتار کو دیکھیں تو لگتا ہے خروج دجال کا وقت قریب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے قیامت کی جو علامات بیان فرمائی ہیں ان میں بس علامات کبریٰ کاظہور باقی ہے ۔خیر یہ ایک طویل موضوع ہے جس پر یہاں گفتگو کرنا ممکن نہیں۔
میں نے ٹیلی سکوپ کے آئی گلاس سے آنکھ لگائی کلومیٹر بھر کا فاصلہ سمٹ کر آنکھوں کے سامنے آگیا تھا۔میں دشمنوں کو گننے لگا۔ان کی تعداد دس تھی ۔دو چوکیدار کے ساتھ داخلی دروازے پر رک گئے تھے،آٹھ پختہ روش پر چلتے ہوئے سبزہ زار کے قریب پہنچنے والے تھے۔ایک آدمی مسلسل ہدایات دیتا جا رہا تھا۔اور یہ ان کی ناقص منصوبہ بندی کی علامت تھا۔کسی بھی منصوبے کی تکمیل کو کارروائی کی ترتیب پہلے سے بیان کر دی جاتی ہے،ہر ممکنہ مسئلہ اور اس کے حل کی بابت پہلے سے وضاحت کر دی جاتی ہے۔اور یہی تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ افراد میں فرق ہوتا ہے۔ایسے حملے میں سنائپر کا استعمال، حملہ آوروں کا ایک اچھا اقدام تھا یوں وہ ہدف کو زیادہ آسانی سے قابو کر سکتے تھے۔لیکن ہدف کے قریب جا کر بھی ان کی ہدایات کا جاری رہنا مجھے پسند نہیں آیا تھا۔
شیام راﺅ اپنے دوستوں کے ہمراہ سبزہ زار پر موجود تھا۔ان سے چند قدم دور رک کرایک قدرے بگڑے ہوئے لہجے میں مخاطب ہوا۔”رمیش بابو کو کہواَبھے دادابلا رہا ہے۔“انھوں نے رسمی کلمات یا تمہیدی جملے ادا کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی،بلا شبہ ان کے دماغ میں اپنی برتری کا خنّاس سمایا ہوا تھا۔
شیام راﺅ نے کہا۔”دو دن ہوئے رمیش بابو تو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کہیں چلا گیا ہے۔“
اس نے چونکتے ہوئے پوچھا۔”کہاں چلا گیا؟“
شیام راﺅ نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”اس نے بتانے کی زحمت نہیں کی اور ہم نے پوچھنا گوارا نہ کیا۔“
ایک نئی آواز بھری ۔”آرام سے اس کاپتا اگل دینا مناسب رہے گا۔“ انداز سے لگ رہا تھا وہی اَبھے دادا ہے۔
شیام نے نرم لہجے میں وضاحت دینے کی کوشش کی۔”ہماری تم سے دشمنی ہے اور نہ رمیش بابو سے کوئی واسطہ۔وہ اپنے بھائی کا کریا کرم کرنے آیا تھا،فارغ ہونے کے بعد اس کے یہاں رہنے کی کوئی وجہ باقی نہیں بچتی۔“
ابھے دادا نخوت سے بولا۔”میرے تین تک گننے تک اگر تم نے رمیش بابوکا پتا نہ اگلا تو تمھارا ایک شخص باقی نہیں رہے گااور اس کے بعدمیراہر وہ استفسارجسے مطلوبہ جواب نہ ملا تمھاری گنتی میں ایک شخص کی کمی کرتا جائے گا۔“
شیام کی پراسرار ہنسی ابھری۔”مجھے نہیں لگتا کہ تم تین تک گنتی پوری کر پاﺅ گے۔“
”میرے تین کہنے پر پہلی گولی اسی شخص کو مارنا جو مجھے مخاطب ہے۔“ انگریزی میں پاسکل کو ہدایت دیتے ہوئے اس نے گنتی شروع کی۔”ایک....“
اس نے شیام راﺅ کی ہنسی کو اہمیت نہیں دی تھی کیوں کہ اس کے تیئں تو میں رمیش کی قید میں تھا۔میں بھی معاملے کو ڈھیل نہیں دینا چاہتا تھا،وہ ایسے بد بخت نہیں تھے جو سمجھانے سے مان جاتے۔ اس کے دو کہتے ہی میں نے اس کے سر پر شست سادھتے ہوئے لبلبی دبا دی۔پہلی گولی فائر کرتے وقت میں نے نال کے ٹھنڈا ہونے کا تو لحاظ رکھا تھا اس کے باوجود دل میں کھد بد تھی کیوں کہ رائفل پاسکل نے صفر کی تھی اور عموماََ دوسرے آدمی کی صفر کی ہوئی رائفل قابل اعتبار نہیں ہوتی۔اس کی وجہ صلاحیتوں کے فرق کے بجائے طبیعتوں کا اختلاف ہے۔ہر شخص کی شستی آنکھ(ماسٹر آئی) دوسرے سے مختلف ہوتی ہے اور ہمارے استاد وں کی ہدایات اس بارے بہت سخت تھیں۔لیکن وقت کی کمی نے مجھے استادوں کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا۔
لبلبی دبانے کے دو اڑھائی سیکنڈ بعد نتیجہ سامنے آگیا تھا۔ابھَے دادا کے سر میں لگنے والی گولی نے جہاں پاسکل کی صفرنگ کے درست ہونے کی نوید سنائی تھی وہیں چیٹیک ایم ۰۰۲ کی درستی پر بھی مہر تصدیق ثبت کی تھی۔میں نے سب سے پہلی گولی اَبھے دادا پر اس کے سرغنہ ہونے کی وجہ سے چلائی تھی اورکسی بھی سطح کی سپاہ کو شکست دینے کا آسان طریقہ یہی ہے کہ سب سے پہلے اس کے قائد کا خاتمہ کرو۔جب کوئی بروقت فیصلہ کرنے والا ہی باقی نہیں رہے گا تو وہ درست لائحہ عمل ہی نہیں سوچ سکیں گے۔
ان میں سے ایک وحشت انگیز انداز میں چلایا۔”اوہ! ....نشئی بھڑوے نے ابھے دادا ہی کو لڑھکا دیاہے۔“یقینا اس نے سمجھا تھا پاسکل نے غلطی سے اپنے ساتھی کو گولی ماری ہے۔
میں نے رائفل کاک کرتے ہوئے دوسری گولی چیمبر میں کی اور اس مرتبہ زیادہ اعتماد سے لبلبی دبا دی....نشانہ وہی تھا جس نے ابھے کی موت پر تبصرہ کیا تھا۔محاورا۔” جو بولے،وہی کنڈی کھولے۔“کے مصداق میں نے بھی منہ کھولنے والے کو تاکا تھا۔
پہلی لاش گرتے ہی شیام راﺅ اور اس کا محافظ دستہ بوکھلائے ہوئے انداز میں اندرونی عمارت کی طرف بھاگااور یہ بوکھلاہٹ ظاہر کرنا فقط دشمن کو بے وقوف بنانے کو تھا۔
دوسری لاش گرنے پر دشمن بھی بوکھلا گیا تھا۔ایک آدمی وائرلیس سیٹ پر پاسکل کو گالیاں بکتے ہوئے اس دیوانگی کی وجہ پوچھنے لگا۔تیسری گولی اسی پر چلا کر میں نے مسکت جواب دیا تھا۔اور اس کے بعد وہ بھی اندرونی عمارت کی طرف بھاگے مگر تب تک شیام راﺅ اور اس کے ساتھی آڑ میں پہنچ گئے تھے۔ نشست گاہ کا دروازہ اندر سے کنڈی کر کے انھوں نے دائیں بائیں کی کھڑکیوں کے دروازے کھولے اور بے دردی سے فائر کرنے لگے۔
میں نے شست چوکیدار کے قریب کھڑے ہوئے دو آدمیوں کی طرف موڑی،انھوں نے چوکیدار پر ہتھیار تان لیے تھے۔میں نے ایک کے سر پر نشانہ سادھتے ہوئے گولی چلا دی،گو اس دوران میں دوسرا شخص چوکیدار کو نشانہ بنا سکتا تھا،مگر امید یہی تھی کہ وہ ایسا نہ کرتا۔اور وہی ہوا تھا۔اس نے پستو ل نیچے پھینکتے ہوئے اپنے ہاتھ سر سے بلند کر لیے تھے ۔
اور ایسا کرنے والے کوعارضی طور پر زندہ چھوڑا جا سکتا تھا۔چوکیدار کو بھی پہلے سے مطلع کیا ہوا تھا اس وجہ سے اس نے دشمن پر کلاشن کوف تان لی تھی۔
اسی اثناءمیں میری سماعتوں میں پاسکل کے کراہنے کی آواز پہنچی،لیکن میں اس کا خاطر خواہ بندوبست کر چکا تھا اس لیے اس کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت محسوس نہ کی اور شست دوبارہ اصل معرکے کی طرف موڑی وہاں تین دشمن اب تک زندہ تھے ۔شیام لوگوں کے فائر سے ان کے فقط دو آدمی ہلاک ہوئے تھے ،باقیوں نے بھاگ کر چبوترے کی غربی جانب پناہ لے لی تھی۔وہ اتنے بوکھلائے ہوئے تھے کہ چند لمحے پہلے میرے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ساتھیوں کاقتل بھول چکے تھے۔ شیام راﺅ کو میں پہلے سے ہدایت دے چکا تھا کہ آڑ سے باہر نکلنے کا خطرہ مول نہ لے تبھی وہ نشست گاہ کی کھڑکیوں سے اکا دکا فائر کر رہے تھے۔
میں نے اب تک چار افراد کو نشانہ بنایا تھا اس لحاظ سے میگزین میں تین گولیاں بقایا تھیں اور دشمن بھی تین ہی باقی تھے۔اب وہ مجھے وائرلیس سیٹ پر بھی نہیں پکار رہے تھے، مخصوص آلے سے مدہم آوازیں آرہی تھیں،مگر الفاظ سمجھ میں نہیں آرہے تھے۔وہ تینوں قریب قریب لیٹے وقفے وقفے سے فائر کیے جا رہے تھے۔میں نے دائیں طرف سے ابتداءکی چیٹیک ایم ۰۰۲ کی گولی اس کی گدی میں گھس کر ماتھے سے باہر نکلی تھی۔اس کے قریب لیٹے ساتھی وحشت بھرے انداز میں اچھل پڑے تھے ،بے ساختہ گردنیں موڑ کر انھوں نے اس ٹیلے کی طرف دیکھا جہاں ان کے خیال فاسد میں ان کا اپنا سنائپر موجود تھا۔ یقینا وہ پاسکل کو غلیظ اور واہیات گالیوں سے یاد کر ررہے تھے۔بے چاروں کے سوچنے کی صلاحیت ہی سلب ہو چکی تھی کہ معاملہ ان کی سمجھ میں آنے والا نہ تھا۔بندہ شکار کرنے آئے ،جب کھیل شروع ہو اور اسے پتا چلے وہ خود ہی شکار ہے تب کیا گزرتی ہے،وہی حال ان کا بھی ہو رہا تھا۔
بیرل کو ذرا سا موڑ کر میں نے درمیان والے پر شست سادھی اور لبلبی دبا دی،وہ زور دار جھٹکے سے چبوترے کی دیوارسے ٹکرایا اور جان کنی کے عالم میں تڑپنے لگا۔
آخری بچ جانے والا چبوترا چھوڑ کر گیراج کی طرف بھاگا تھا،مگر بہ مشکل تین ہی قدم لیے ہوں گے کہ میں نے لبلبی دبا دی۔ اس کی میرے جانب پشت تھی اس لیے لیڈ لینے کی ضرورت نہیں پڑی تھی ۔گولی نے اڑان بھری ،تیرہ چودہ سو میٹر کا فاصلہ طے کرنے میں اڑھائی تین سیکنڈ تو لگنا ہی تھے،اس اثناءمیں اس نے چند قدم مزید لے لیے تھے۔گولی اس کی پشت میں لگی اور چھاتی پھاڑتے ہوئے نکل گئی تھی۔ گولی لگنے کے بعد بھی اس نے دو تین قدم لیے اور پھر اوندھے منہ گر کر اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا۔
”کتنے رہ گئے ہیں۔“پاسکل کی جذبات سے عاری آواز میرے کانوں میں پڑی۔
میں پر سکون انداز میں بولا۔”ایک نے ہتھیار ڈال کر گرفتاری دینا مناسب سمجھاہے۔“
اس نے عام انداز میں تبصرہ کیا۔”تم بہت تیز رفتاری سے فائر کرتے ہو۔“
میں مسکرایا۔”تبھی تو لوگ ایس ایس کہتے ہیں۔“
جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top