عمران کی سرخ رنگ کی کار سر سلطان کی وسیع و عریض کو ٹھی کے پورچ میں جا کر رک گئی۔ عمران دروازہ کھولتے ہی تیزی سے نیچے اترا۔ اس بار اس کے جسم پر سلیقے کے کپڑے تھے اور چہرے پر حماقت کی تہیں باکل غائب تھیں ایسا محسوس ہو تا تھا کہ یہ عمران کی بجائے کوئی اور ہے۔ وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہواسر سلطان کے ڈرائنگ روم میں داخل ہو گیا۔ سر سلطان اپنے ڈرائنگ روم میں بڑی پریشانی سے ٹہل رہے تھے ان کی پریشانی پر غور و فکر کی گہری لکیریں نمایاں تھیں۔ عمران کو دیکھتے ہی ان کے چلتے قدم رک گئے عمران نے سلام کیا۔ سر سلطان نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود بھی ایک صوفے پر بیٹھ گئے۔ سر سلطان عمران کو اس روپ میں دیکھ کر اور بھی سنجیدہ ہو گئے۔ دو منٹ تک تو کوئی بھی نہ بولا پھر سر سلطان نے
سکوت توڑا۔
عمران بیٹے حالات کا تو تمہیں علم ہے۔
جی ہاں بخوبی۔ عمران نے جواب دیا۔
میں تو سوچتے سوچتے تھک گیا ہوں کچھ بھی سمجھ نہیں آتا اُدھر عوام حکومت کے خلاف بغاوت پر تلے کھڑے ہیں اور ادھر حکومت بے بس نظر آتی ہے کہ وہ کس طرح اس مصیبت کا مقابلہ کرے۔ سر سلطان نے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو تھپکی دیتے ہوئے کہا۔
جی کچھ نہ کچھ تو ہو جائے گا میں اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہا ہوں۔ بیٹا اب سب کی نظریں تمہاری طرف ہی لگی ہوئی ہیں اور ہاں ملنڈن کا پتہ چلا کہ وہ یہاں کس لیے آیا تھا۔
بلیک زیرو نے اس کے متعلق تحقیق کی ہے اس رپورٹ کے مطابق وہ بھی اسی “ماکاز و نگا” کے چکر میں یہاں آیا تھا لیکن کسی سے رابطہ قائم کرنے سے پہلے ہی ہوٹل میں قتل کر دیا گیا۔ ہوں ” سر سلطان نے سوچتے
ہوئے کہا۔
کیا جرمن حکومت کو اس کی ہلاکت کی خبر پہنچادی ہے؟ ہاں۔ ہماری حکومت نے اسے مطلع کر دیا ہے۔ اچھا مجھے اجازت دیجئیے میں نے بہت سے کام کرنے ہیں۔ عمران نے اٹھتے ہوئے کہا۔ اچھا اللہ تمہیں کامیاب کرے سر سلطان نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا اور عمران تیزی سے باہر نکل گیا۔اس نے بڑی تیزی سے کار کو ٹھی سے باہر نکالی۔ اس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی اور دراصل بات ہی کچھ ایسی تھی دارالحکومت میں اس دفعہ ایسی تباہی آئی تھی کہ اس سے پہلے اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا اور دارالحکومت غیر ملکی جاسوسوں کی آماجگاہ بنی ہوئی تھی۔ ان حالات میں عمران اور اس کی ٹیم کے سر پر بھی تمام ذمہ داریاں آ
گئی تھیں۔ عمران کی کار بڑی تیزی سے جھرنا جھیل کی طرف جارہی تھی۔اس کی آنکھیں چاروں طرف گردش کر رہی تھیں وہ بے انتہا چوکنا تھا جھرنا جھیل کے قریب جا کر اس نے کارروک دی اور پھر وہ آہستہ سے کار کادروازہ کھول کر نیچے اتر آیا۔ اس کا دایاں ہاتھ اس کے کوٹ کی جیب میں تھا آہستہ آہستہ وہ ہاتھ کوٹ کی جیب سے باہر آیا اس میں کارڈ تھا جس پر “ماکازونگا لکھا ہوا تھا اس نے وہ کارڈ نکال کر غور سے دیکھا اور پھر اسے جیب سے لائٹر نکال کر جلایا اور اس کارڈ کو اس کی لو پر رکھ دیا آہستہ آہستہ اس کارڈ پر ایک عمارت ابھرتی ہوئی نظر آئی اس نے غور سے اس عمارت کی طرف دیکھا اور پھر کارڈ کو جیب میں ڈال دیا اب وہ آہستہ آہستہ درختوں کی قطاروں کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جارہا تھا۔ تھوڑی دور چل کر اسے یہ عمارت نظر آگئی جس کی تصویر اس پر اسرار کارڈ پر تھی۔ عمارت انتہائی خستہ اور پرانی تھی۔ کسی زمانے میں یہ عمارت واقعی فن تعمیر کا شاندار نمونہ تھی لیکن اب بے رحم زمانے کے ہاتھوں اس کی تمام دلکشی اور خوبصورتی مٹ چکی اب تو وہ شکستہ اینٹوں اور گرد و غبار کا ایک ڈھیر تھی لیکن اس کے باوجود کھنڈر بتارہے ہیں کہ عمارت عظیم تھی۔ عمران نے ایک نظر اس پر ڈالی کچھ دیر سوچتا رہا پھر واپس اپنی کار کی طرف چل پڑا اب اس کے قدم تیز تیز بڑھ رہے تھے اس نے کار کا سٹیر نگ سنبھالا اور اسے سڑک کے ایک طرف لمبی لمبی گھاس میں اگی ہوئی خود ر د جھاڑیوں کے گھنے جھنڈ میں اس طرح چھپادیا کہ وہ بالکل نظر نہ آتی تھی اور خود وہ دوبارہ اس عمارت کی طرف چل پڑا جب
وہ اس جگہ پہنچا جہاں سے وہ واپس مڑا تھا۔ تو اس نے ایک بار پھر غور سے عمارت کو دیکھا لیکن عمارت کا ارد گرد کاماحول بالکل خاموش تھا ایک بار اس کے دل میں خیال آیا کہ وہ اس عمارت کو رات کی تاریکی میں چیک کرے لیکن پھر وہ آہستہ آہستہ اس عمارت کی طرف چل پڑا اسے یہ تو یقین تھا کہ کسی نہ کسی واسطے سے یہ عمارت “ماکاز و نگا سے تعلق رکھتی ہے اس لیے وہ انتہائی محتاط تھاوہ لمبی لمبی گھاس کی آڑلے کر آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ جب وہ عمارت کے نزدیک پہنچا تو کچھ دیر اس گھاس میں دبک کر بیٹھا رہا پھر وہ آہستہ سے اٹھا اور عمارت میں داخل ہو گیا۔ عمارت تمام تر سنسان تھی کوئی بھی ایسا کمرہ نہ تھا جو شکستہ نہ ہو۔ ہر طرف مکڑی کے جالے تنے ہوئے تھے۔ وہ سخت پریشان ہو گیا۔ کہ اس ویران عمارت کا ماکاز و نگا سے کس طرح تعلق ہو سکتا
ہے۔ اس عمارت کو دیکھ کر تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہاں کوئی نہیں آیا ہر چیز گرد و غبار سے اٹی ہوئی تھی۔ اس کی باریک بین نظریں چاروں طرف گردش کر رہی تھیں اچانک وہ چونکا اسے ایک چھوٹا سا بیج پڑا ہوا نظر آیا جو عموماً کوٹ کے کالر پر لگایا جاتا ہے اس پر ایم زیڈ کے الفاظ کندہ تھے اور اس پر ایک بل کھاتا ہوا اثر دہا ابھرا ہوا تھا جس کی سرخ زبان باہر کو نکلی ہوئی تھی اس نے وہ بیج اٹھا کر جیب میں ڈال دیا۔ اب وہ انتہائی احتیاط سے ادھر اُدھر نظریں ڈال رہا تھا۔ ایک جگہ اسے گرد و غبار ذرا کم نظر آیا۔ اس نے بغور دیکھا تو کسی کے جوتوں کے ہلکے ہلکے نشان نظر آنے لگے وہ کچھ سوچ کر مسکرایا اب اس کا ازلی احمق پن اس کے چہرے پر دوبارہ نظر آنے لگا اس نے ایک بار پھر چاروں طرف دیکھا پھر منہ لٹکالیا اور مایوسی سے گردن جھٹک کر واپس مر گیا وہ
آہستہ آہستہ چلتا ہوا باہر آیا اور پھر تھوڑی دور چل کر ایک اونچے درخت پر چڑھ کر بیٹھ گیا ابھی اسے بیٹھے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک اس عمارت سے دو آدمی نکلے ان کے ہاتھوں میں سٹین گنیں تھیں۔انہوں نے۔۔۔۔۔۔ چاروں طرف دیکھا اور پھر کسی کو نہ پا کر واپس چلے گئے عمران کے چہرے پر اطمینان پھیل گیا اور وہ وہاں سے اتر کر واپس کار کی طرف آیا اور تھوڑی ہی دیر بعد اس کی کار شہر کی طرف دوڑنے لگی اب اس کے ہاتھ سراغ کی ایک کڑی آگئی تھی۔ اسے معلوم ہو گیا کہ کم از کم یہ ان کا کوئی اہم اڈہ ہے جس میں یقیناً تہہ خانوں کا ایک جال بچھا ہوا ہو گا۔(جاری ہے)
☆☆☆