Background image: Header

خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller ماکازونگا۔۔۔۔عمران سیریز ۔۔۔

عمران کی سرخ رنگ کی کار سر سلطان کی وسیع و عریض کو ٹھی کے پورچ میں جا کر رک گئی۔ عمران دروازہ کھولتے ہی تیزی سے نیچے اترا۔ اس بار اس کے جسم پر سلیقے کے کپڑے تھے اور چہرے پر حماقت کی تہیں باکل غائب تھیں ایسا محسوس ہو تا تھا کہ یہ عمران کی بجائے کوئی اور ہے۔ وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہواسر سلطان کے ڈرائنگ روم میں داخل ہو گیا۔ سر سلطان اپنے ڈرائنگ روم میں بڑی پریشانی سے ٹہل رہے تھے ان کی پریشانی پر غور و فکر کی گہری لکیریں نمایاں تھیں۔ عمران کو دیکھتے ہی ان کے چلتے قدم رک گئے عمران نے سلام کیا۔ سر سلطان نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود بھی ایک صوفے پر بیٹھ گئے۔ سر سلطان عمران کو اس روپ میں دیکھ کر اور بھی سنجیدہ ہو گئے۔ دو منٹ تک تو کوئی بھی نہ بولا پھر سر سلطان نے
سکوت توڑا۔
عمران بیٹے حالات کا تو تمہیں علم ہے۔
جی ہاں بخوبی۔ عمران نے جواب دیا۔
میں تو سوچتے سوچتے تھک گیا ہوں کچھ بھی سمجھ نہیں آتا اُدھر عوام حکومت کے خلاف بغاوت پر تلے کھڑے ہیں اور ادھر حکومت بے بس نظر آتی ہے کہ وہ کس طرح اس مصیبت کا مقابلہ کرے۔ سر سلطان نے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو تھپکی دیتے ہوئے کہا۔


جی کچھ نہ کچھ تو ہو جائے گا میں اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہا ہوں۔ بیٹا اب سب کی نظریں تمہاری طرف ہی لگی ہوئی ہیں اور ہاں ملنڈن کا پتہ چلا کہ وہ یہاں کس لیے آیا تھا۔
بلیک زیرو نے اس کے متعلق تحقیق کی ہے اس رپورٹ کے مطابق وہ بھی اسی “ماکاز و نگا” کے چکر میں یہاں آیا تھا لیکن کسی سے رابطہ قائم کرنے سے پہلے ہی ہوٹل میں قتل کر دیا گیا۔ ہوں ” سر سلطان نے سوچتے
ہوئے کہا۔
کیا جرمن حکومت کو اس کی ہلاکت کی خبر پہنچادی ہے؟ ہاں۔ ہماری حکومت نے اسے مطلع کر دیا ہے۔ اچھا مجھے اجازت دیجئیے میں نے بہت سے کام کرنے ہیں۔ عمران نے اٹھتے ہوئے کہا۔ اچھا اللہ تمہیں کامیاب کرے سر سلطان نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا اور عمران تیزی سے باہر نکل گیا۔اس نے بڑی تیزی سے کار کو ٹھی سے باہر نکالی۔ اس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی اور دراصل بات ہی کچھ ایسی تھی دارالحکومت میں اس دفعہ ایسی تباہی آئی تھی کہ اس سے پہلے اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا اور دارالحکومت غیر ملکی جاسوسوں کی آماجگاہ بنی ہوئی تھی۔ ان حالات میں عمران اور اس کی ٹیم کے سر پر بھی تمام ذمہ داریاں آ
گئی تھیں۔ عمران کی کار بڑی تیزی سے جھرنا جھیل کی طرف جارہی تھی۔اس کی آنکھیں چاروں طرف گردش کر رہی تھیں وہ بے انتہا چوکنا تھا جھرنا جھیل کے قریب جا کر اس نے کارروک دی اور پھر وہ آہستہ سے کار کادروازہ کھول کر نیچے اتر آیا۔ اس کا دایاں ہاتھ اس کے کوٹ کی جیب میں تھا آہستہ آہستہ وہ ہاتھ کوٹ کی جیب سے باہر آیا اس میں کارڈ تھا جس پر “ماکازونگا لکھا ہوا تھا اس نے وہ کارڈ نکال کر غور سے دیکھا اور پھر اسے جیب سے لائٹر نکال کر جلایا اور اس کارڈ کو اس کی لو پر رکھ دیا آہستہ آہستہ اس کارڈ پر ایک عمارت ابھرتی ہوئی نظر آئی اس نے غور سے اس عمارت کی طرف دیکھا اور پھر کارڈ کو جیب میں ڈال دیا اب وہ آہستہ آہستہ درختوں کی قطاروں کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جارہا تھا۔ تھوڑی دور چل کر اسے یہ عمارت نظر آگئی جس کی تصویر اس پر اسرار کارڈ پر تھی۔ عمارت انتہائی خستہ اور پرانی تھی۔ کسی زمانے میں یہ عمارت واقعی فن تعمیر کا شاندار نمونہ تھی لیکن اب بے رحم زمانے کے ہاتھوں اس کی تمام دلکشی اور خوبصورتی مٹ چکی اب تو وہ شکستہ اینٹوں اور گرد و غبار کا ایک ڈھیر تھی لیکن اس کے باوجود کھنڈر بتارہے ہیں کہ عمارت عظیم تھی۔ عمران نے ایک نظر اس پر ڈالی کچھ دیر سوچتا رہا پھر واپس اپنی کار کی طرف چل پڑا اب اس کے قدم تیز تیز بڑھ رہے تھے اس نے کار کا سٹیر نگ سنبھالا اور اسے سڑک کے ایک طرف لمبی لمبی گھاس میں اگی ہوئی خود ر د جھاڑیوں کے گھنے جھنڈ میں اس طرح چھپادیا کہ وہ بالکل نظر نہ آتی تھی اور خود وہ دوبارہ اس عمارت کی طرف چل پڑا جب
وہ اس جگہ پہنچا جہاں سے وہ واپس مڑا تھا۔ تو اس نے ایک بار پھر غور سے عمارت کو دیکھا لیکن عمارت کا ارد گرد کاماحول بالکل خاموش تھا ایک بار اس کے دل میں خیال آیا کہ وہ اس عمارت کو رات کی تاریکی میں چیک کرے لیکن پھر وہ آہستہ آہستہ اس عمارت کی طرف چل پڑا اسے یہ تو یقین تھا کہ کسی نہ کسی واسطے سے یہ عمارت “ماکاز و نگا سے تعلق رکھتی ہے اس لیے وہ انتہائی محتاط تھاوہ لمبی لمبی گھاس کی آڑلے کر آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ جب وہ عمارت کے نزدیک پہنچا تو کچھ دیر اس گھاس میں دبک کر بیٹھا رہا پھر وہ آہستہ سے اٹھا اور عمارت میں داخل ہو گیا۔ عمارت تمام تر سنسان تھی کوئی بھی ایسا کمرہ نہ تھا جو شکستہ نہ ہو۔ ہر طرف مکڑی کے جالے تنے ہوئے تھے۔ وہ سخت پریشان ہو گیا۔ کہ اس ویران عمارت کا ماکاز و نگا سے کس طرح تعلق ہو سکتا
ہے۔ اس عمارت کو دیکھ کر تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہاں کوئی نہیں آیا ہر چیز گرد و غبار سے اٹی ہوئی تھی۔ اس کی باریک بین نظریں چاروں طرف گردش کر رہی تھیں اچانک وہ چونکا اسے ایک چھوٹا سا بیج پڑا ہوا نظر آیا جو عموماً کوٹ کے کالر پر لگایا جاتا ہے اس پر ایم زیڈ کے الفاظ کندہ تھے اور اس پر ایک بل کھاتا ہوا اثر دہا ابھرا ہوا تھا جس کی سرخ زبان باہر کو نکلی ہوئی تھی اس نے وہ بیج اٹھا کر جیب میں ڈال دیا۔ اب وہ انتہائی احتیاط سے ادھر اُدھر نظریں ڈال رہا تھا۔ ایک جگہ اسے گرد و غبار ذرا کم نظر آیا۔ اس نے بغور دیکھا تو کسی کے جوتوں کے ہلکے ہلکے نشان نظر آنے لگے وہ کچھ سوچ کر مسکرایا اب اس کا ازلی احمق پن اس کے چہرے پر دوبارہ نظر آنے لگا اس نے ایک بار پھر چاروں طرف دیکھا پھر منہ لٹکالیا اور مایوسی سے گردن جھٹک کر واپس مر گیا وہ
آہستہ آہستہ چلتا ہوا باہر آیا اور پھر تھوڑی دور چل کر ایک اونچے درخت پر چڑھ کر بیٹھ گیا ابھی اسے بیٹھے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک اس عمارت سے دو آدمی نکلے ان کے ہاتھوں میں سٹین گنیں تھیں۔انہوں نے۔۔۔۔۔۔ چاروں طرف دیکھا اور پھر کسی کو نہ پا کر واپس چلے گئے عمران کے چہرے پر اطمینان پھیل گیا اور وہ وہاں سے اتر کر واپس کار کی طرف آیا اور تھوڑی ہی دیر بعد اس کی کار شہر کی طرف دوڑنے لگی اب اس کے ہاتھ سراغ کی ایک کڑی آگئی تھی۔ اسے معلوم ہو گیا کہ کم از کم یہ ان کا کوئی اہم اڈہ ہے جس میں یقیناً تہہ خانوں کا ایک جال بچھا ہوا ہو گا۔(جاری ہے)
☆☆☆
 
جو لیا جھلائی ہوئی ایک بس اسٹینڈ پر کھڑی تھی۔ نجانے آج کیا بات تھی کہ اس کے اشارے پر کوئی ٹیکسی بھی نہیں رکھتی تھی۔ وہ اپنے فلیٹ میں آرام سے لیٹی ہوئی تھی کہ ایکسٹو کا فون آیا کہ فوراوانش منزل پہنچو اور وہ اس وقت سے ٹیکسی کے انتظار میں کھڑی سوکھ رہی تھی۔ آخر تنگ آکر وہ بس سٹاپ پر آگئی لیکن بس تھی کہ آنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی کہ اچانک ایک کار اس کے پاس آکر ر کی اس میں سے عمران اپنی تمام حماقت مابیوں سمیت تشریف فرما تھے۔ جوزف کار ڈرائیو کر رہا تھا۔ عمران نے اسے دیکھتے ہی آنکھیں جھپکنی شروع کر
دیں۔
میں نے کہا کہ محترمہ اندر تشریف لائیے دھوپ میں رنگ کالا ہو جائے گا۔ نہیں مجھے دانش منزل جانا ہے جو لیا نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔


تو میں تمہیں کون سا تمہارے میکے لے جارہا ہوں۔ عمران نے آنکھیں جھپکا کر کہا۔ میں بھی تمہارے سسرال ہی جارہا ہوں۔ عمران نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔
بکو اس مت کرو میں ٹیکسی میں آجاؤں گی۔ جولیا نے بھرتے ہوئے لہجے میں کہا مگر عمران اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچنے لگا۔
کیا یہ بد تمیزی ہے ؟ جولیا نے بازو چھڑواتے ہوئے کہا۔ اسے اغوا بالخیر کہتے ہیں۔ اور پھر جوزف کو مخاطب ہو
کر کہا چلو۔ جوزف نے کار چلادی۔
جو زف انتہائی تیز رفتاری سے کار چلارہا تھا کار کاسٹیر نگ اس کے ہاتھوں میں کھلونے کی طرح معلوم ہو رہا تھا جسے وہ انتہائی تیزی سے ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر گھمارہا تھا۔ کار اب بھری سڑکوں سے گزر کر ویران
سڑکوں پر چلنے لگی۔ جولیا نے عمران سے پوچھا یہ کہاں چلے دانش منزل چلو۔


کیوں کیا میر اگھر تمہیں پسند نہیں۔ عمران نے آنکھیں بند کر کے کہا۔ میں کہتی ہوں بکواس بند کرو۔ جوزف کار رو کو۔ میں نیچے اتروں گی لیکن جوزف کے کان پر جوں بھی نہ رینگی بلکہ اس نے کار کی رفتار تیز کر دی جولیا نے جھنجلا کر کار کے دروازے پر ہاتھ رکھا تو ایک سر د سی آواز آئی پاگل نہ بنو۔ جو لیا ہمارا تعاقب ہو رہا ہے یہ
عمران تھا جولیا نے اچانک پیچھے مڑ کر دیکھا تو کافی دور اسے ایک نیلے رنگ کی شیورلیٹ آتی ہوئی نظر آئی۔ عمران نے جوزف کو مخاطب ہو کر کہا جوزف گاڑی کی رفتار آہستہ کرو تا کہ میں پیچھے آنے والوں کا آملیٹ بنا کر سر کنڈوں پر منڈلانے والی روح کو ڈنر کھلا سکوں۔
جوزف نے فورا گاڑی کی رفتار آہستہ کر دی اور بولا۔ باس جمعرات کے دن سرکنڈوں کی روح کا نام مت لیا کرو ورنہ ہمیشہ شکست کا منہ دیکھنا پڑے گا۔


ابے تیرا دماغ خراب ہے۔ آج کوئی دن ہے آج تو جمعرات ہے یعنی جمعہ کی رات کیوں جو لیا۔
مجھے معلوم نہیں مجھے بور مت کرو۔ جو لیا آہستہ سے بولی۔
اتنے میں نیلے رنگ کی شیورلیٹ بالکل نزدیک آگئی اور پھر وہ آہستہ سے پاس سے گزرنے لگی تو عمران کی آواز آئی۔ ہوشیار اور سب نے اپنا سر نیچے کر لیا اسی لمحے گولیوں کی بوچھاڑ ہوئی لیکن کچھ نہ ہوا۔ اب نیلے رنگ کی شیورلیٹ آگے نکل گئی۔ جوزف نے اپنی بساط سے بڑھ کر عقل مندی کا مظاہرہ کیا کہ کار کی رفتار نہ صرف
بالکل آہستہ کر لی بلکہ اچانک سڑک سے نیچے کھیتوں میں اتاری جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ٹامی گن سے آنے والی گولیوں کی بوچھاڑ کار کی دائیں طرف گئی ورنہ سامنے سے پڑنے والی گولیاں یقیناً ان میں سے ایک آدھ کو ضرور چاٹ جاتی۔ اب نیلے رنگ کی شیورلیٹ کار کا فاصلہ عمران کی کار سے اتنازیادہ ہو گیا تھا کہ عمران کی کار گولی کی رینج سے باہر تھی۔ جوزف کار کو پھرتی سے واپس موڑ لو عمران نے تحکمانہ لہجے میں کہا اور جوزف ڈرائیونگ کا
انتہائی حیرت انگیز کمال دکھاتے ہوئے تقریباً پچاس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے جاتی ہوئی کار کا ایک دم سٹیر نگ موڑ لیا اور کار صرف دو پہیوں کے بل ایک چکر کھاتی ہوئی بیک ہو گئی جو لیا کی تو چیخ نکل گئی لیکن عمران کے چہرے پر تحسین کے تاثرات نمایاں تھے۔ تھوڑی دیر بعد کار کی رفتار خود بخود آہستہ ہونے لگی۔
کیا ہوا جوزف ! عمران نے چونک کر پوچھا۔
باس شاید پٹرول ختم ہو گیا ہے۔ پٹرول ختم ہو گیا گدھے جب چلا تھا تو پٹرول چیک نہیں کیا تھا۔ باس غلطی ہو گئی۔ اب پھر غلطی کا خمیازہ بھگت
چل باہر نکل اور پانچ سو ڈنڈ نکال۔
باس مر جاؤں گا۔
مر جاؤ فاتحہ میں دلوادوں گا اور وعدہ کرتا ہوں تیر امزار بھی بناؤں گا اور ان پر جنگل کے جنگل اگواؤں گا۔ کیا


تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے جو لیا عمران پر برس پڑی۔ جوزف میں نے کیا کہا ہے۔ عمران نے جو لیا کا کوئی نوٹس نہ لیتے ہوئے کہا اور پھر جوزف کو نیچے اتر ناپڑا اور پھر وہ کار کے پیچھے ڈنڈ نکالنے کے لیے گیا لیکن عمران نے اسے بیچ سڑک میں جانے کا حکم دیا جولیا کو اس وقت شدید غصہ آگیا بھلا یہ بھی کوئی مزاق کا وقت ہے اس نے عمران کو جھنجوڑ ڈالا لیکن عمران مزے سے چیونگم
چبا تار ہا اور جوزف غریب سڑک کے درمیان کھڑاڈنڈ نکالتا رہا اس کا چہرہ پسینے سے تر ہو گیا۔
اچانک وہ کھڑا ہو گیا۔
باس اس بار معاف کر دو آئندہ غلطی نہیں ہو گی۔
تم کھڑے کیوں ہو گئے ہو میرے حکم کی عدم تعمیل پر سوڈنڈ اور جرمانہ جلادی کرو ورنہ سواور ۔
اور جوزف جلدی سے دوبارہ ڈنڈ نکالنے لگا۔
جولیا کا غصے سے برا حال تھا اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ کیا کرے۔ اچانک اس نے عمران کے بالوں میں ہاتھ ڈال دیا اور اس کے بال مٹھی میں پکڑ کر جھنجوڑنے لگی اور عمران ارے ارے کرتا ہوا اپنے بال چھڑانے لگا۔ میں کہتی ہوں بند کرو یہ ناٹک نہیں تو میں تمہارا سر توڑ دوں گی اور عمران کو مجبور جوزف کو منع کرناپڑ انگر
جوزف نے ڈنڈ پیلنے بند کرنے سے انکار کر دیا۔
اس نے رک کر صرف یہ کہا۔ باس میں عورت کا حکم نہیں مان سکتا۔
ارے گدھے کیا میں عورت ہوں۔
بہر حال حکم دلانے والی تو عورت ہی ہے جوزف نے بدستور ڈنڈ نکالتے ہوئے کہا اور جو لیا کا دل چاہا کہ وہ خود کشی کر لے۔اس نے جھنجلا ہٹ میں کار کا دروازہ اور باہر نکل کر ایک طرف تیزی سے چل دی۔


اتنے میں ایک کار سامنے سے آتی ہوئی نظر آئی وہ جو زف کے نزدیک آکر رک گئی مگر جوزف اپنی دھن میں
ڈنڈ پیلتا رہا۔
اس کار میں دو مر د تھے وہ نیچے اتر آئے اور اتنی حیرانی سے جوزف کو دیکھنے لگے جیسے وہ کسی چڑیاگھر میں پہنچ گئے
ہوں۔
جو زف اب بند کرو۔ اورجوزف یک لخت رک گیا۔ جیسے کسی مشین کو بریک لگا یا گیا ہو اس کا سارا جسم پسینے سے شرابور تھاوہ دونوں اب عمران کے پاس آئے اور پوچھنے لگے۔
جناب یہ کیا قصہ ہے ؟
ہیر امن طوطے کا ہے میں نے نانی اماں سے سنا تھا۔ کیا مطلب حیرت سے ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
مطلب تو مجھے بھی نہیں آتا بہر حال کیا آپ کے پاس کچھ فالتو پٹرول ہو گا؟
” پٹرول”
جی ہاں پٹرول۔ جسے انگلش میں پٹرول کہتے ہیں اور اردو میں بھی پٹرول کہتے ہیں۔ یار یہ اردو بھی کیسی زبان ہے کوئی لفظ بھی تو اس کا اپنا نہیں اب بتاؤ بھلا بول اردور ہے ہیں اور لفظ انگریزی یہ کیا دھاندلی ہے۔ پٹرول کا اردو ترجمہ ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں اس کا اردو ترجمہ مشمک تیل ہونا چاہیے عمران پوری روانی سے بول
رہا تھا۔
مشک تیل کیا ؟ ان میں سے ایک نے دیا ہی سے پوچھا۔
شائد انہوں نے عمران کو پاگل سمجھ لیا تھا۔ ارے مشمک تیل نہیں جانتے یعنی صاف شدہ مٹی کا تیل ان کے پہلے کے لیے ان کے پہلے کے لئے یعنی صاف


سے ص شدہ سے ش مٹی سے م اور کار سے ک یہ بن گیا مشمک اور تیل ساتھ ملالیا یہ بن گیا مشمک تیل۔ لیکن تیل کو پورا کہنے کی کیا ضرورت ہے تیل کات بھی ساتھ ملالو ایک نے بحث کرتے ہوئے کہا۔
نہیں تیل در اصل بنیادی چیز ہے تیل چاہے مٹی کا ہو یاسر سوں کا ہو تیل ہی ہوتا ہے۔
باس پٹرول جوزف نے دخل اندازی کرتے ہوئے کہا۔اب اس کا سانس ٹھیک ہو گیا تھا۔ ہاں جناب کیا آپ کے پاس پٹرول ہے ؟ عمران نے پھر پوچھا۔
جی ہاں۔ ان میں سے ایک نے اپنی کار کی ڈگی کھول کر پٹرول کا ایک کین اسے لاد یا غنیمت تھا کہ یہ سڑک اکثر سنسان رہتی تھی ورنہ اب تک تو یہاں ٹریفک کا اثر دہام ہو جاتا جوزف نے وہ پٹرول اپنی کار میں ڈالا اور عمران الناسے کچھ کہے بغیر کار میں بیٹھ گیا جو لیا ایک درخت کے بچے کھٹری اپنے ہونٹ چبار ہی تھی وہ بھی کار میں آ
کر بیٹھ گئی اور جوزف نے کار سٹارٹ کر دی۔اب اس کارخ دانش منزل کی طرف تھا۔
☆☆☆
 
دانش منزل کے ساؤنڈ پروف کمرے میں عمران بلیک زیر و اور گرے سوٹ والا جسے کیپٹن شکیل لے آیا تھا موجود تھا۔ وہ گرے سوٹ والا انتہائی خوفزدہ معلوم ہوتا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے پر اس
قسم کے تاثرات تھے جیسے وہ اپنی رہائی کے بارے میں ناامید نہ ہو۔ دیکھوا گر تم نے میرے سوالوں کے صحیح صحیح جواب دیئے تو تمہارے لیے بہتر ہو گا۔ عمران نے اسے مخاطب
ہوتے ہوئے کہا۔ مجھے کچھ نہیں معلوم گرے سوٹ والے نے جواب دیا اب اس کا چہرہ قدرے پر سکون ہو گیا تھا۔ میں کہتا ہوں مجھے تشدد پر مجبور نہ کرو ورنہ تم تو تم تمہارے فرشتے بھی سب کچھ بتادیں گے۔ تم سے جو کچھ ہو سکتا ہے کر لو اگر تم میری زبان کھلوا سکو تو تم سے زیادہ مجھے خوشی ہو گی۔


ہوں تو یہ بات ہے اچھا اپنا نام تو بتاؤ۔
ہاں نام بتانے میں کوئی حرج نہیں ہے میر ا نام جیکل ہے۔
جیکل کیا تم امریکی ہو ؟
لیکن جیکل نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ چپکے سے صوفے پر بیٹھ گیا۔ عمران نے طویل سانس لی اور پھر بلیک زیرو کی طرف مخاطب ہو کر بولا میرے خیال میں ترکیب نمبر 13 مناسب رہے گی۔
بلیک زیرو یہ سن کر دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ جب واپس تو اس کے ہاتھ میں ایک شیشی تھی جو اس نے عمران کو دے دی عمران نے بلیک زیر و کو اشارہ کیا اور اس نے جلدی سے جیکل کو دونوں ہاتھوں کی طرف سے کس لیا۔ جیکل تلملانے لگا لیکن عمران نے ایک بھورے رنگ کا سفوف نکال کر جیکل کی نتھنوں میں ڈال دیا اور پھر ایک ہاتھ سے اس کا منہ سختی سے بند کر دیا۔ جیکل تلملا کر زور سے سانس لی اور بلیک زیر و اور عمران دونوں اسے چھوڑ کر ایک طرف ہٹ گئے اچانک جیکل ایک زور دار چھینک آئی اور پھر تو چھینکوں کا ایک تانتا بندھ گیا جیکل سارے کمرے میں ناچتا پھر رہا تھا۔ اس کے ناک منہ اور آنکھوں سے پانی نکل رہا تھا۔ آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں سارے جسم کا خون چہرے پر سمٹ آیا تھا اور وہ پاگلوں کی طرح کمرے میں ہر طرف چھینکتا پھر رہا تھا۔
دیکھو میں کہتا ہوں اب بھی سب کچھ بتادوور نہ چھینکتے چھنکتے دم نکل جائے گا۔ اب جیکل کی بری حالت تھی چھینکیں تھیں کہ رکنے کا نام ہی نہ لیتی تھیں شائد اسے انتہائی طاقتور قسم کی نسوار
دی گئی تھی۔ یہ مجرموں کا منہ کھولنے کا ایک نرالا طریقہ تھا جو یقیناً عمران ہی نے ایجاد کیا تھا۔ اب جیکل اور چھینکنے کی تاب نہ رہی اس کی حالت غیر ہو رہی تھی اس نے عمران کی طرف ہاتھ بڑھائے اور اشارہ کیا کہ وہ سب کچھ بتانے کے لیے تیار ہے۔ عمران نے بلیک زیر و کو اشارہ کیا اس آگے بڑھ کے الماری


سے ہلول نکالا اور جیکل کی نتھنوں میں دو دو قطرے ٹپکا دیئے اور جیکل کی چھینکیں بند ہو گئیں۔ مگر اس کا سانس دہو نکنی کی طرح چل رہا تھا اور وہ بے دم ہو کر فرش پر پڑا ہانپ رہا تھا کچھ دیر بعد اس کی حالت اعتدال پر آئی اور وہ کچھ بتانے کے قابل ہوا۔ بلیک زیرو نے اسے برانڈی کا ایک گلاس دیا جس کے بعد اس کے اعصاب معمول
پر آگئے۔
تمہارا صحیح نام کیا ہے ؟
اب عمران نے اس سے دوبارہ پوچھا۔
صحیح نام۔ میں نے بتایا تو ہے میر انام جیکل ہے اس نے جواب دیا۔
کیا اب تک تمہارا دماغ ٹھکانے نہیں آیا۔ کیا ایک ڈوز کی ابھی ضرورت ہے عمران غرایا۔
بلیک زیرو نے پھر شیشی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
نہیں نہیں میں سب کچھ بتاتا ہوں مجھے کچھ نہ کہو۔
عمران نے اشارے سے بلیک زیر و کو منع کر دیا۔ اور اس سے کہا بتاؤ۔
آپ سوالات پوچھتے جائیں میں جوابات دیتا جاؤں گا۔
لیکن دیکھو اب میں غلط جواب ہر گز نہیں سنوں گا۔ عمران نے کہا اور پھر پوچھا۔
تمہارا نام ؟
کارل بر گر۔
قومیت۔
نیدر لینڈ۔
پاسپورٹ کس ملک کا ہے ؟


غیر قانونی طریقے سے آیا ہوں۔
آنے کی وجہ ؟
تخریب پسندانہ حربے استعمال کر کے آپ کے ملک کو نقصان پہنچانا۔ یہاں کس پارٹی کے تحت کام کر رہے ہو ؟
ماکارونگا کے تحت۔
اس کا ہیڈ کوراٹر کہاں ہے ؟
مجھے نہیں معلوم گروپ میں مجھے ابھی اتنی اہمیت نہیں ہے کہ مجھے ہیڈ کوارٹر کے متعلق پتہ چل سکے۔
تمہاری پوزیشن کیا ہے؟
میرا کام پیغام پہنچانا ہے۔
کیا مطلب؟
کبھی کبھی ایک شخص سے دوسرے شخص تک پیغام پہنچانا۔
پیغام کون دیتا ہے ؟
پیغام مجھے ہمیشہ فون پر ملتا ہے۔ اور جس شخص کو پہنچانا ہوتا ہے اس کا پتہ بھی۔
پھر تم اسے پہنچاتے کیسے ہو ؟
اس کے دستانوں سے۔
دستانوں سے۔
جس شخص کو پیغام پہنچانا ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ سفید رنگ کے دستانے پہنے ہوتا ہے۔
احکامات کیا ہوتے ہیں۔ عمران نے پوچھا۔


بالکل مختصر مثلا پانی چڑھ گیا بارش ہو گئی ہے اس قسم کے فقرے۔ لیکن صرف پیغام پہنچانے کے لیے تمہیں دوسرے ملک سے بلایا گیا ہے۔ کیا اس کے لیے کوئی مقامی شخص نہیں مل سکتا تھا۔ مجھے معلوم نہیں۔ تمہارے سر پر سینگ کیوں نہیں ہیں ؟ عمران یک لخت پوچھا۔ جی۔ اور کارل آنکھیں پھاڑ کر رہ گیا۔
میں کہتا ہوں تمہارے سر پر سینگ کیوں نہیں ہیں۔ عمران غرایا۔ سینگ اور پھر وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے عمران کو دیکھنے لگا۔
گدھے۔ اس سے میر امطلب یہ ہے کہ تم نے یہ سب کچھ اتنی تفصیل سے کیوں بتایا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم گدھے ہو لیکن تمہارے سر پر سینگ نہیں ہیں اس لیے تم گدھے نہیں بیل ہو۔
اور کارل بے تحاشہ ہنسنے لگا پھر بولا۔ جناب یہ سب کچھ میں نے اس لئیے بتادیا ہے کہ اب مجھ میں مزید چھینکنے کی طاقت نہیں تھی۔ اور سچ سچ اس لئیے بتادیا ہے کہ یہ سب کچھ بتا کر میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ تنظیم مجھے ہر حالت مجھے مار ڈالے گی اس لئیے کیا فائدہ مرنے سے پہلے جھوٹ بولوں۔
عمران نے اس کا شکر یہ ادا کیا اور بلیک زیر و کولے کر اس ساؤنڈ پروف کمرے سے باہر نکل آیا۔
 
ابھی رات کے صرف دس بجے تھے لیکن جو لیا بے حد بور ہو چکی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب وقت کیسے گزارے۔ ایکسٹو نے آج صبح ہی اسے کہا تھا کہ وہ اس کی طرف سے جب تک دوبارہ اطلاع نہ ملے سیکرٹ سروس کا کوئی ممبر اپنے فلیٹ سے باہر نہ نکلے۔ صبح دس بجے یہ اطلاع ملی اور اب رات کے دس بج چکے


تھے۔ بارہ گھنٹے سے ایکسٹو نے کوئی اطلاع نہ دی تھی۔ اب انہیں کمروں میں بند ہوئے بارہ گھنٹے گزر چکے تھے کئی بار صفدر، تنویر ، چوہان، اور نعمانی جولیا کو فون پر بوریت کی شکائیت کر چکے تھے لیکن جو لیا کیا کر سکتی تھی
جولیا حیران تھی کہ کیپٹن شکیل نے اسے اب تک فون نہیں کیا تھا پھر جو لیا کا ذہن کیپٹن شکیل کے متعلق سوچنے لگا۔ جب سے کیپٹن سروس میں آیا تھا صفدر اور جولیا کے درمیان کئی بار اس سلسلے میں بحث ہو چکی تھی کہ آیا کیپٹن شکیل ہی ایکسٹو ہے شک کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ کیپٹن شکیل کا چہرہ ہر وقت سپاٹ رہتا تھا نہ خوشی نہ غمی نہ فکر نہ غصہ کے تاثرات غرضیکہ کسی چیز کا بھی تاثر اس کے چہرے پر نہیں ابھرتا تھا اس سے جولیا یہ نتیجہ نکالتی تھی کہ وہ پلاسٹک میک اپ میں ہے اور سوائے ایکسٹو کے اور کس کو ضرورت ہے کہ وہ سروس میں میک اپ میں آئے۔ لیکن صفدر کا دوسرا خیال تھا اس کا خیال تھا اس کا کہنا تھا کہ اگر ایکسٹو نے ضرور میک اپ کر کے ہمارے ساتھ شامل ہونا تھا تو پھر اتنا بھونڈا میک اپ کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ جسے
ہم لوگ بھی پہچان جائیں۔ بھونڈا تو خیر تم یہ نہیں کہ سکتے ہم نے کتنی بار بغور اس کا چہرہ دیکھا تھا لیکن کسی صورت میں بھی میک اپ معلوم نہیں ہو تا صرف اس کے چہرے کا سپاٹپس دیکھ کر شک ہوتا ہے کہ ضرور کا میک اپ ہو گا لیکن پھر کیپٹن شکیل کی موجودگی میں ایکسٹو کی آواز کا کیا بنے گا اسے کس خانے میں فٹ کیا جائے گا لیکن صفد ر اسے کوئی اہمیت نہ دیتا تھا کیوں کہ اس کا خیال تھا ہو سکتا ہے کہ ایکسٹو نے ایک آدمی ایسا رکھا ہوا ہے جو اس کی آواز کی نقل کر کے اس کے لکھے ہوئے الفاظ اس کے سامنے بول دے معاملہ شک وشبہ ہی میں تھا آخر کار صفدر اور جولیا نے یہ طے کیا تھا کہ کسی طرح کیپٹن شکیل کا منہ امونیا سے دھویا جائے تا کہ معلوم ہو کہ میک اپ ہے یا نہیں۔ لیکن اس کا موقع کب آئے گا اچانک جولیا کے ذہن میں ایک خیال بجلی کی مانند کوندا کہ کیپٹن تکمیل کو فون کر کے دیکھا جائے کہ آیا وہ فلیٹ میں ہے یا نہیں۔ اس نے تیزی سے نمبر گھمائے اور بے تابی سے ریسیور کو کانوں سے لگالیا۔ چند لمحوں کے بعد دوسری طرف سے ریسور اٹھانے کی۔۔۔


آواز آئی اور جو لیا کے اعصاب ڈھیلے پڑنے لگے۔ اوپر سے ایک غیر مانوس آواز آئی کون بول رہا ہے۔ آپ کیپٹن شکیل بول رہے ہیں۔ جولیا نے پوچھا حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ یہ کیپٹن شکیل کی آواز
نہیں۔ نہیں جناب میں ان کا ملازم جمیل بول رہا ہوں فرمائیے۔
شکیل صاحب کہاں ہیں ؟
وہ دوسرے کمرے میں کتاب پڑھ رہے ہیں۔ انہیں بلواؤا نہیں کہو جو لیا کا فون ہے۔
چند ہی لمحوں بعد جولیا کے کانوں میں ایک بھاری مگر مانوس آواز آئی۔
ہیلو جولیاباؤ آریو۔ اوکے۔
کس سلسلے میں فون کیا۔
کچھ نہیں ویسے سارادن کمرے میں بند پڑے پڑے بور ہو گئی تھی تقریبا سب کے فون میرے پاس آئے۔ سب ہی بوریت کی شکائیت کر رہے تھے۔ ایک تمہارا فون نہیں آیا تھا میں نے سوچا خود ہی فون کر کے حال معلوم کروں۔
جولیا دراصل میری طبیعت کچھ عجیب و غریب واقع ہوئی ہے۔ آج سارادن میں کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ مجھے مطالعہ کا بے حد شوق ہے میرے پاس دس ہزار نایاب کتابوں کا ذخیرہ ہے مجھے جب بھی زراسی
فرصت ملتی ہے میں کتابوں میں گم ہو جاتا ہوں اس لیے بوریت کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
ہوں اچھا شغل ہے کبھی مجھے بھی کوئی کتاب دینا۔


اچھا کبھی میرے پاس آجانا جو کتاب اچھی لگی لے جانا۔
او کے پھر اجازت دو خدا حافظ۔
خدا حافظ اور جولیا کو رسیور رکھنے کی آواز آئی۔
جولیا نے ایک طویل سانس لے کر رسیور رکھ دیا ابھی رسیور رکھے ہوئے ایک ہی منٹ ہوا تھا کہ فون کی گھنٹی زور سے بجی اس نے سوچا شائد ایکسٹو کا فون ہو اس لئے بڑی پھرتی سے اس نے رسیور اٹھا کر کانوں سے لگایا اور
بولی ہیلو جولیا سپیکنگ۔
جولیا نہیں۔ جو لیا تے فٹرز واٹر بولو عمران کی آواز آئی۔ عمران تم ہو۔ جو لیا ذراسی مسکرائی۔
جی ہاں میں ہی ہوں وہ حقیر فقیر پر تقصیر بیچ مدان بندہ نادان بسمی علی عمران نوکر جس کا سلمان کھارہاہوں آپ
کے کان۔
جو لیا ہنسنے لگی خوب تو آج شاعری کا دورہ پڑا ہے۔
شاعری کون چغد کر رہا ہے میں تو اپنی شان میں مرثیہ پڑھ رہا ہوں۔
کیوں کیا ہوا؟
ہائے ظالم دل کو جلا کر راکھ کر دیا جگر میرا خاک کر دیا۔ اور اب پو چھتی ہو کیوں کیا ہوا۔ یہ کیا بکواس لگارکھی ہے کیا میں رسیور رکھ دوں۔ جولیا نے جھنجلا کر جواب دیا۔
نہیں جو لیا خدا کے لیے رسیور نہ رکھناور نہ میں مارے بوریت کے آج خود کشی کرلوں گا۔ غضب خدا کا اب تمہارا یہ چوہا مجھ پر بھی رعب ڈالنے لگا آج صبح فون کیا کہ جب تک میں نہ کہوں فلیٹ نہ چھوڑنا بھلا بتاؤ یہ بھی


کوئی تک ہے بھلا میں اس کے باپ کا نوکر ہوں کہ اس کے حکم کی پابندی کروں۔
پھر تم نے فلیٹ کیوں چھوڑا جولیا نے پوچھا۔
کیسے چھوڑتا اب اس نے کہ تو دیا تھا۔
اور پھر جولیا کے حلق سے ایک طویل قہقہ نکلا اور پھر وہ لگاتار ہنستی ہی چلی گئی۔
ہائیں ہائیں یہ تمہیں کیا ہوا خدا کے لیے چپ ہو جاؤ ورنہ میرے کانوں کے پر دے پھٹ جائیں گے۔ ارے تمہیں کیا ہو گیا؟ آخر جھنجلا کر عمران نے رسیور رکھ دیا جو لیا کا ہنستے ہنستے برا حال ہو گیا تھا اسے جنسی اس خوشی میں آرہی تھی کہ ایکسٹو نے عمران پر اپنی برتری منوالی۔ عمران اسے کچھ نہیں سمجھتا تھا اور اکثر ممبران کے سامنے ڈینگیں مارتا تھا کہ وہ ایکسٹو سے نہیں دیتا۔ آج وہی عمران ایکسٹو کی پابندی کے احکام کے سامنے بے بس ہو گیا ہے حالانکہ اگر غریب جولیا کو یہ معلوم ہو جاتا کہ عمران ہی ایکسٹو ہے تو معلوم نہیں اس کا کیا حشر ہو تا ابھی تک جو لیا اپنی جنسی پر پوری طرح قابونہ پاچکی تھی کہ فون کی گھنٹی پھر بجنے لگی۔ اس نے فوراگر سیور اٹھایا اور پھر غراہٹ آمیز آواز جو یقین ایکسٹو کی تھی سن کر اسے جنسی کا گلا گھونٹنا پڑا۔
میں سر ہنسی کو دبانے کی وجہ سے اس کی آواز عجیب ہو گئی۔ کیا ہو رہا ہے۔ تم شائد فون اٹھانے سے پہلے ہنس رہی
تھی۔
آواز حد درجہ سرد تھی۔
لیس سر عمران نے فون کیا تھا اس کی باتوں پر ہنس رہی تھی۔
جولیا نے خوشگوار موڈ میں جواب دیا تھا۔ جو لیا۔ ایکسٹو کی غراہٹ تیز ہو گئی اور سردی کی ایک شدید لہر جولیا کے جسم میں سرائیت کر گئی۔


میں سر جولیا نے پژمردہ سا جواب دیا۔
میں نے تمہیں ہزار بار کہا ہے کہ فون کو ز یاد و انگیج نہ کیا کرو۔
ہو سکتا ہے کسی انتہائی ضروری کال کے لئیے تم کو فوراً احکام دینے ہوں۔
ایکسٹو کا لہجہ انتہائی سر د تھا۔
معافی چاہتی ہوں باس۔ شدت جزبات سے جولیا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
سنو کیپٹن شکیل کو فورا اطلاع دو کہ وہ جھرنا جھیل کے پاس والی قدیم عمارت کے پاس عمران کو ملے۔ او کے سر اور جولیا نے رسیور رکھنے کی آواز سُن کر رسیور رکھ دیا۔ اسے ایکسٹو پر بُری طرح سے غصہ آرہا تھا اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ کیا کرے اور وہ بیچاری کر بھی کیا سکتی تھی۔ ایکسٹو تو ایک پتھر تھا جزبات کا شیشہ تو اس سے جتنی بار بھی ٹکر آتا ٹوٹ جاتا۔ بہر حال اس نے کیپٹن شکیل کو ایکسٹو کے احکام پہنچا دیئے اور خود نڈھال ہو کر پلنگ پر گر گئی۔
☆☆☆
 
پورے ماحول میں ایک پراسرار خاموشی چھائی تھی اور گھور تاریکی کی وجہ سے اس پراسراریت میں کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا۔ جھاڑیوں اور درختوں میں چھپی ہوئی وہ شکستہ سی عمارت تاریکی میں ایک ہیولہ محسوس ہو رہی تھی۔ اس پراسراریت میں اس عمارت کی شکستگی بھی کردار ادا کر رہی تھی۔ عمران ایک شکستہ سے کھنڈر میں دبکا ہوا تھا۔ اس نے چست سیاہ لباس پہنا ہوا تھا اور منہ پر نقاب اوڑھ رکھی تھی۔ وہ اس سیاہ لباس میں تاریکی ہی کا ایک حصہ معلوم ہو رہا تھا۔

اچانک اس تاریکی کو ایک کار کی مدھم سی روشنی نے چیر ڈالا۔ یہ روشنی صرف چند سیکنڈ کے لیے چمکی تھی اور پھر تاریکی میں مدغم ہو گئی۔ وہ کار ایک سیاہ کشتی کی طرح آہستہ آہستہ اس عمارت کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس کی تمام لائٹیں بند تھیں، اندر کی لائٹیں بھی بند تھیں؛ اس لیے کچھ محسوس تک نہیں ہوتا تھا کہ کار میں کتنے آدمی ہیں اور کون کون ہیں۔ کار آہستہ آہستہ عمارت کے بالکل قریب پہنچ گئی۔

اچانک عمارت میں سے ایک روشنی کا سگنل ہوا، دور سے بالکل ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی جگنو چمکا ہو۔ اس روشنی کے ہوتے ہی کار کا دروازہ آہستہ سے کھلا اور پھر اس میں سے دو آدمی نکلے اور عمارت کی طرف بڑھے اور پھر وہ تاریکی میں جذب ہو گئے۔ ایک بار پھر اس پراسرار تاریکی نے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تھوڑی دیر بعد اسی طرح ایک کار اور آئی اور اس میں سے تین آدمی نکل کر اندر چلے گئے۔ آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا اور کاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اب عمران بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا۔

اچانک فضا میں الو کی کرخت آواز گونجی، یہ کیپٹن شکیل کا سگنل تھا کہ میدان صاف ہے۔ چنانچہ ادھر سے عمران نے بھی اسی آواز میں سگنل دیا اور پھر وہ آہستہ آہستہ اس کھنڈر سے نکل کر عمارت کی طرف بڑھنے لگا۔ عمارت کے نزدیک آکر وہ دونوں مل گئے اور پھر رینگتے رینگتے اس عمارت کی طرف بڑھنے لگے۔

اب وہ ایک شکستہ کمرے میں موجود تھے۔ وہ وہاں دم سادھے پڑے تھے کہ اچانک اس کمرے کی دیوار ایک طرف سرکتی چلی گئی اور ایک شخص اس میں سے باہر نکلا، اور پھر وہ کمرے میں سے ہوتا ہوا باہر چلا گیا۔ دیوار پھر سے مل رہی تھی کہ اچانک عمران نے چھلانگ لگائی اور اس ملتی ہوئی دیوار کے اندر چلا گیا۔ بس چند سیکنڈ کا فرق تھا؛ اگر ایک سیکنڈ بھی وہ دیر سے چھلانگ لگاتا تو آج اس کی ہڈیاں دیواروں کے درمیان پھنسی ہوئی ہوتیں۔

کیپٹن شکیل ابھی تک باہر پڑا تھا۔ عمران کی یہ چھلانگ اتنی خطرناک تھی کہ کیپٹن شکیل جیسے آدمی کے اعصاب جھنجلا اٹھے اور وہ عمران کی بے جگری کا دل سے قائل ہو گیا۔ اب مسئلہ تھا کہ وہ اندر کیسے داخل ہو؟ اس کے لیے انتظار کرنا پڑا کہ وہ شخص جو ابھی اندر سے باہر آیا ہے، جب وہ دوبارہ اندر جائے گا تو اس وقت کوشش کی جائے گی۔ چنانچہ وہ دم سادھے ایک کونے میں کھڑا رہا۔ اب وہ تاریکی میں آسانی سے دیکھ سکتا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ عمران نے اندر جا کر کیا کیا ہو گا؟

قدموں کی مدھم چاپ دور سے ابھری اور کیپٹن شکیل مستعد ہو گیا۔ وہی شخص اندر آ رہا تھا۔ وہ تیزی سے کمرے میں آیا، اس نے شکستہ دیوار کے ایک سوراخ میں انگلی گھمائی اور دیوار ایک بار پھر سے سرکنے لگی اور وہ اندر داخل ہو گیا۔ دیوار ایک بار پھر تیزی سے مل گئی۔ چند لمحے ٹھہر کر کیپٹن شکیل اس سوراخ کی طرف بڑھا، اس نے اس سوراخ میں انگلی ڈالی تو اسے ایک جگہ ابھری ہوئی محسوس ہوئی۔ اس نے اسے دبایا اور دیوار ایک بار پھر کھل گئی اور وہ تیزی سے اندر داخل ہو گیا۔ اندر بھی ایک کمرہ سا تھا، جیسے ہی اس نے قدم اندر رکھا، دیوار ایک بار پھر تیزی سے مل گئی۔ وہ چند لمحے کمرے کے ایک کونے میں کھڑا رہا، پھر وہ کونے میں بنے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔ اس نے دروازے سے سر باہر نکال کر دیکھا تو اسے ایک لمبی سی گیلری نظر آئی جس کے دونوں طرف کمرے بنے ہوئے تھے اور گیلری میں ایک طاقتور بلب لگا ہوا تھا، جس سے گیلری روزِ روشن کی طرح چمک رہی تھی۔

کیپٹن شکیل اس گیلری میں داخل ہوا اور دیوار کے ساتھ چپک کر آگے بڑھنے لگا۔ جب پہلے کمرے کا دروازہ آیا تو اس نے اپنے کان دروازے کے ساتھ لگا دیے لیکن کوئی آواز نہ آئی۔ شکر ہے کہ گیلری بالکل سنسان تھی۔ وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتا گیا۔ ایک دروازے میں اسے کچھ روشنی نظر آئی، اس نے 'کی ہول' (Keyhole) میں سے نظر اندر ڈالی تو اسے ایک شخص عجیب سی مشین کے سامنے بیٹھا نظر آیا۔ ابھی وہ اسے اچھی طرح دیکھ بھی نہ سکا تھا کہ گیلری میں بھاری قدموں کی آواز ابھری۔ وہ فوراً ایک طرف جھکا مگر وہاں چھپنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ اس نے دیوار کے ساتھ چپکنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش بے سود تھی۔ سامنے سے آنے والے دو اشخاص تھے جن کے ہاتھوں میں ٹامی گنیں تھیں۔

جیسے ہی انہوں نے کیپٹن شکیل کو دیکھا، وہ ایک لمحے کو ٹھٹکے مگر دوسرے ہی لمحے ان کی ٹامی گنیں اس کی طرف تن گئیں۔ کیپٹن شکیل کے ہاتھوں کو جنبش ہوئی اور گیلری میں جلنے والا بلب ایک دھماکے سے بجھ گیا۔ کیپٹن شکیل نے انتہائی پھرتی سے چھلانگ لگائی اور دوسری طرف زمین پر لیٹ گیا۔ دونوں ٹامی گنوں سے گولیوں کی بوچھاڑ ہوئی اور اب وہ اندھا دھند گولیاں چلا رہے تھے۔ کیپٹن شکیل انتہائی تیز رفتاری سے زمین پر رینگ رہا تھا، اس کی جان سخت خطرے میں تھی۔ گولیاں اس کے ارد گرد پڑ رہی تھیں۔ اچانک اس نے فائر کیا اور ایک بھیانک چیخ ابھری اور ایک ٹامی گن خاموش ہو گئی، پھر دوسری چیخ ابھری اور دوسری ٹامی گن بھی خاموش ہو گئی۔

اچانک کمروں کے دروازے دھڑا دھڑ کھلنے لگے۔ پھر پوری گیلری فلش لائٹ سے چمک اٹھی۔ اب کیپٹن شکیل کو سوائے ہاتھ اٹھانے کے اور کوئی چارہ نہ تھا۔ اس کے ارد گرد ٹامی گنوں سے لیس نقاب پوش کھڑے تھے۔ انہوں نے کیپٹن شکیل کو ایک طرف چلنے کا اشارہ کیا اور کیپٹن شکیل ہاتھ اٹھائے ہوئے ان نقاب پوشوں کی رہنمائی میں چلنے لگا۔ وہ گیلری کی سیدھی سمت جا رہے تھے لیکن کیپٹن شکیل سوچ رہا تھا کہ عمران کہاں ہو گا؟ ابھی تک عمران کہیں نظر نہیں پڑا تھا اور نہ ہی اس سے پہلے اسے کوئی گڑبڑ ہوتی نظر آئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عمران کسی مخصوص جگہ بحفاظت پہنچنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔

پھر وہ یہاں آنے کے مقصد پر غور کرنے لگا۔ آج صبح جولیا نے اس عمارت کے پاس پہنچنے کے لیے 'ایکس ٹو' کا حکم سنایا تھا، پھر یہاں اسے عمران ملا اور اس نے اسے بتایا کہ اس عمارت میں شاید "ماکازونگا" کی مقامی برانچ کا ہیڈ کوارٹر موجود ہے، اس لیے آج رات تم اور میں اس عمارت میں گھسیں گے، شاید کوئی سراغ مل جائے۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں وہ اس وقت یہاں موجود تھا۔

اچانک اس کی سوچ میں خلل پڑ گیا کیونکہ اسے دائیں طرف مڑنے کا حکم دیا گیا۔ وہ دائیں طرف مڑ گیا۔ یہاں گیلری کا اختتام تھا اور سامنے ایک بڑا دروازہ نظر آ رہا تھا جو بند تھا اور جس پر پیتل کی دو تلواریں جڑی ہوئی تھیں۔ اس دروازے کے سامنے ایک نقاب پوش ٹامی گن ہاتھ میں لیے ٹہل رہا تھا۔ انہیں دیکھتے ہی وہ رک گیا، اس نے شکیل کی طرف گن سیدھی کر لی۔ شکیل ایک لمحے کے لیے رک گیا لیکن پیچھے سے دھکا ملتے ہی پھر آگے بڑھنے لگا۔ جب وہ اس محافظ کے پاس پہنچا تو پیچھے آنے والے نقاب پوشوں میں سے ایک نے دروازے کے محافظ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

"ماکا عظیم ہے۔"

دروازے پر ٹہلنے والے محافظ نے جواب دیا:

"زونگا عظیم ترین ہے۔"

اس کے بعد دروازے والے محافظ نے اپنی ٹامی گن نیچے کر لی۔ اس نے شکیل کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ: "یہ کون ہے اور اس جگہ کیسے آیا؟"

"معلوم نہیں کیسے آیا ہے، ویسے مجھے تو کوئی مقامی جاسوس معلوم ہوتا ہے"، پیچھے سے آواز آئی۔ کیپٹن شکیل ہاتھ اٹھائے خاموشی سے یہ مکالمے سنتا رہا۔

دروازے پر ٹہلنے والے محافظ نے ایک تلوار کے دستے پر بنے ہوئے کسی بٹن کو دبایا، پھر دوسری تلوار کے دستے پر زور دیا، پھر ان دونوں کی نوکوں کو کھینچا اور پھر ان تلواروں کے نیچے بنے ہوئے ہینڈل کو گھمایا۔ اب دروازہ ایک زور دار چڑچڑاہٹ سے کھل گیا۔ اندر ایک بہت بڑا ہال نظر آیا جس میں چاروں طرف قسم قسم کی مشینیں چل رہی تھیں۔ ان میں سے ہر ایک مشین کے سامنے ایک ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ چند مشینوں میں اسکرین بھی تھے جن پر مختلف اشارے نظر آ رہے تھے۔ ہر شخص اپنے اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔ چند نقاب پوش یہاں بھی ٹامی گنیں لیے ٹہل رہے تھے۔ کیپٹن غور سے مشینوں کو دیکھتا ہوا ان کے درمیان سے گزرتا چلا گیا۔

ہال کے ایک طرف، پہلے دروازے کی طرح بڑا دروازہ تھا جس کے پار ایک اور گیلری نظر آ رہی تھی۔ کیپٹن شکیل اس ٹوٹی پھوٹی عمارت کے نیچے اس قدر عظیم الشان اور پراسرار انتظامات دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اب وہ گیلری میں سے گزر رہے تھے۔ ایک دروازے پر جا کر وہ رک گئے، اس کے باہر ایک سرخ بلب جل رہا تھا۔ ایک نقاب پوش نے کونے میں لگا ہوا بٹن دبایا اور پھر دروازے کی طرف منہ کر کے اٹینشن کھڑا ہو گیا۔ دوسرے نقاب پوش بھی مؤدب کھڑے تھے۔ اچانک دروازے کے سامنے لگا ہوا بلب سرخ سے سبز رنگ میں تبدیل ہو گیا اور دروازہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔ نقاب پوشوں نے کیپٹن شکیل کو اندر چلنے کا اشارہ کیا اور کیپٹن شکیل آہستہ آہستہ اندر داخل ہو گیا۔ نقاب پوش بھی اندر داخل ہو گئے۔

اندر ایک تاریک سا کمرہ تھا۔ سامنے ایک بڑی مشین نظر آ رہی تھی جس پر مختلف قسم کے بٹن لگے تھے اور سینکڑوں کی تعداد میں ڈائل تھے۔ اس مشین کے ایک کونے میں اسکرین بھی تھا، رنگ برنگے بلب بڑی تیزی سے اسپارک (Spark) کر رہے تھے جس پر سرخ رنگ کی بہتات تھی۔ اس پورے کمرے میں کوئی بھی شخص نہ تھا۔ شکیل حیران تھا کہ اب کیا ہو گا کہ اچانک بلب تیزی سے اسپارک کرنے لگا اور پھر اسکرین روشن ہو گئی، جس میں ایک سایہ سا کرسی پر بیٹھا نظر آ رہا تھا۔ اس سائے کو دیکھتے ہی تمام نقاب پوشوں نے بیک وقت بلند آواز میں کہا:

"ماکا عظیم ہے، زونگا عظیم ترین ہے۔ ہم ماکازونگا کو سلام کرتے ہیں۔"

اچانک اس سائے کے ہونٹ ہلے اور پھر مشین پر لگی ہوئی ایک جالی میں سے آواز آئی: "ماکازونگا کے غلاموں میں یہ کون ہے؟"

"یہ شخص گیلری نمبر ایک میں پھر رہا تھا۔"

یہ آواز اتنی غضب ناک تھی کہ مشین کی جالی بھی تھرتھرا اٹھی اور کیپٹن شکیل کے کانوں میں جیسے لوہے کی گرم سلاخ اترتی چلی گئی، اور وہ نقاب پوش جھک گئے۔

"کیا کسی نے غداری کی ہے جو اس شخص نے یہاں داخل ہونے کا راستہ پا لیا؟"

نقاب پوش خاموش رہے۔

"اچھا اسے چھوڑ کر باہر چلے جاؤ اور گیلری نمبر ایک کے آپریٹر کو فوراً حاضر کرو۔" آواز میں غراہٹ بدستور موجود تھی۔

چاروں نقاب پوش باہر نکل گئے اور دروازہ ایک بار پھر بند ہو گیا۔ اب کیپٹن شکیل اس مشین کے سامنے اکیلا کھڑا تھا۔

"تم کون ہو؟ منہ سے نقاب اتارو!" جالی سے آواز آئی، لیکن کیپٹن شکیل چپکا کھڑا رہا۔

"کیا تم نے سنا نہیں؟" اس بار آواز میں شدید غراہٹ تھی، لیکن کیپٹن شکیل گم صم کھڑا تھا، اس نے کوئی حرکت نہ کی۔

اچانک بلب انتہائی تیزی سے اسپارک کرنے لگے اور پھر ایک باریک شعاع تیزی سے کیپٹن شکیل پر پڑی۔ اس شعاع کا پڑنا تھا کہ کیپٹن شکیل کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کے دماغ میں آندھیاں چل رہی ہوں اور کوئی شخص اسے منہ پر سے نقاب اتارنے کا حکم دے رہا ہو۔ اچانک کیپٹن شکیل کا ہاتھ اٹھا اور اس نے اپنے منہ پر سے نقاب اتار لی۔ دماغ میں سکون ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی مشین میں بلبوں کی اسپارکنگ بھی کم ہو گئی۔ کیپٹن شکیل حیران رہ گیا۔ جالی میں سے ایک قہقہہ بلند ہوا۔

اتنے میں دروازہ کھلا اور وہ چاروں نقاب پوش ایک آدمی کو لے کر آ گئے جس کا رنگ زرد پڑ چکا تھا۔ وہ مشین کے سامنے سر جھکا کر کھڑا ہو گیا۔

"گیلری نمبر ایک پر تم تھے؟" آواز آئی۔

"جی سر!" اس نوجوان نے بدستور سر جھکائے جواب دیا۔

"پھر یہ نوجوان کیسے پہنچ گیا؟" آواز انتہائی غضب ناک ہو گئی۔ لیکن نوجوان بدستور سر جھکائے کھڑا رہا، اس نے کوئی جواب نہ دیا۔

"ہوں! تم اپنی غلطی تسلیم کرتے ہو۔" اتنا کہتے ہی ایک سبز سی شعاع اس مشین سے نکلی اور اس نوجوان پر پڑی۔ نوجوان کی ایک بھیانک چیخ نکلی اور ایک لمحے کے بعد اس کی لاش وہاں پڑی تھی— بالکل جلی ہوئی لاش، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے اسے روسٹ (Roast) کر دیا ہو۔

نقاب پوش فوراً جھکے اور "ماکازونگا زندہ باد" کا نعرہ لگانے لگے۔ اس کے بعد جالی سے پھر آواز آئی: "اب تم بتاؤ تم کون ہو؟ دیکھو سچ سچ بتاؤ ورنہ تمہارا حشر بھی یہی ہو سکتا ہے۔"

"م... میں سی آئی ڈی انسپکٹر ہوں۔"

"ہوں، تم غلط بیانی کر رہے ہو۔"

"میں سچ بول رہا ہوں"، کیپٹن شکیل نے زور دے کر کہا behavior۔

"اچھا، تم یہاں کیسے آئے؟"

"میں راہ بھٹک کر ادھر آ گیا، لیکن یہاں سے اچانک دیوار کھلی دیکھ کر نیچے اتر آیا۔"

"بکواس! تم جھوٹ بول رہے ہو۔ دیکھو اپنی جان کے گاہک نہ بنو، سب کچھ بتا دو ورنہ یہاں لوگ موت کو ترستے ہیں اور موت نہیں آتی۔"

"میں نے سب کچھ بتا دیا ہے"، کیپٹن شکیل نے کہا۔

"ماکازونگا کے غلاموں! تم باہر جاؤ اور چند منٹ کے بعد اس کی لاش لے جانا۔" اور نقاب پوش دروازہ کھول کر باہر نکل گئے۔

ابھی دروازہ پوری طرح بند نہیں ہوا تھا کہ کیپٹن شکیل نے پھرتی سے ریوالور نکال لیا اور پھر اس نے مشین پر لگاتار فائر کرنے شروع کر دیے۔ پہلا فائر ہوا اور ایک بہت بڑا بلب، جو مسلسل اسپارک کر رہا تھا، ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد دوسرا فائر ہوا اور اسکرین تاریک ہو گئی، اس کے ساتھ ہی مشین سے ایک عجیب سی شعاع نکلی اور کیپٹن شکیل کی طرف بڑھی لیکن کیپٹن شکیل پھرتی سے ایک طرف ہٹ گیا۔ شعاع سیدھی سامنے کے دروازے پر پڑی اور دروازہ پگھل گیا جیسے موم پگھلتا ہے۔ کیپٹن شکیل نے ایک اور فائر کیا، ایک اور ڈائل ٹوٹا مگر اس کے بعد کیپٹن شکیل کے دماغ پر دھند چھا گئی اور اس کے تمام احساسات یکدم سو گئے۔ اسے اتنا یاد تھا کہ وہ بری طرح ہاتھ پیر مارتا ہوا نیچے گر رہا ہے، اس کے بعد مکمل تاریکی تھی۔

عمران جیسے ہی چھلانگ مار کر اندر آیا، وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں تھا۔ عمران چند لمحے اس کمرے میں کھڑا رہا، پھر ہاتھ میں پستول لے کر دروازے سے باہر نکل آیا۔ سامنے ایک لمبی سی گیلری تھی جس میں ایک بہت بڑا تیز بلب جل رہا تھا اور گیلری کے دونوں طرف کمروں کے دروازے تھے اور سامنے سے دو ٹامی گنوں والے راؤنڈ لگا کر واپس جا رہے تھے۔ عمران آہستہ آہستہ ان کے پیچھے چل دیا۔ اچانک وہ آخری سرے پر جا کر مڑنے لگے۔ اب عمران کے پاس چھپنے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ عمران ایک لمحے کے لیے ٹھٹکا لیکن پھر بجلی کی تیزی سے ساتھ والے دروازے کی طرف بڑھا۔ اس نے دروازے پر زور دیا اور اتفاق سے وہ دروازہ کھلا تھا۔ عمران پلک جھپکتے ہی اندر داخل ہو گیا اور آہستہ سے دروازہ بند کر دیا۔ راؤنڈ لگانے والوں کے قدموں کی آواز ویسے ہی نپی تلی اور پرسکون تھی، اس لیے عمران کو اطمینان ہو گیا کہ انہوں نے اسے نہیں دیکھا۔

اب عمران کمرے کے اندر کی طرف متوجہ ہوا۔ کمرہ خالی تھا لیکن اس میں ایک میز اور کرسی رکھی ہوئی تھی۔ ایک طرف ایک بہت بڑی الماری رکھی ہوئی تھی، اس کا ایک پٹ کھلا ہوا تھا جس میں قسم قسم کے کپڑے دکھائی دے رہے تھے۔ میز پر ایک گلاس رکھا تھا جس میں ابھی تک شراب تھی۔ عمران گلاس کے پاس آیا اور اسے غور سے دیکھنے لگا۔ اسے محسوس ہوا جیسے گلاس میں شراب کی سطح تھرتھرا رہی تھی۔ وہ فوراً وارڈروب (Wardrobe) کے پیچھے چھپ گیا۔

ایک لمحے کے بعد سامنے کی دیوار میں ایک شگاف ہوا اور ایک لمبا تڑنگا شخص نمودار ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی اور وہ جیسے ہی اس شگاف سے باہر آیا، شگاف دوبارہ بند ہو گیا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا کرسی پر آ بیٹھا اور گلاس میں رکھی ہوئی باقی ماندہ شراب اٹھا کر حلق میں انڈیل لی۔ فائل کھول کر اسے پڑھنے لگا، عمران کی طرف اس کی پشت تھی۔

عمران آہستہ سے الماری کے پیچھے سے نکلا اور قدم پر قدم رکھتا ہوا اس کی طرف بڑھا۔ ویسے بھی قالین پر ربڑ سول جوتے آواز نہیں دیتے تھے۔ اس نے اپنی جیب سے رومال نکالا اور عمران نے ایک ہاتھ اس شخص کے گلے میں ڈالا اور رومال اس کی ناک پر رکھ دیا۔ ایک لمحے کے لیے وہ تڑپا، لیکن شاید رومال میں کلوروفارم کی مقدار کافی سے زیادہ تھی کیونکہ دوسرے ہی لمحے وہ عمران کے ہاتھوں میں جھول گیا۔ عمران نے اسے پکڑ کر زمین پر لٹا دیا اور اس کی نبض دیکھ کر اندازہ لگایا، پھر مطمئن ہو کر فائل کی طرف متوجہ ہو گیا۔

فائل پر نظر ڈالتے ہی وہ بری طرح چونکا۔ اس نے جھپٹ کر وہ فائل اٹھائی اور پھر جیسے جیسے وہ اسے پڑھتا گیا، اس کی حالت متغیر ہوتی گئی۔ پھر اس نے وہ فائل موڑ توڑ کر اپنے کوٹ کی اندر والی جیب میں رکھ دی۔ اب وہ الماری دیکھ رہا تھا جس میں کپڑے ٹنگے ہوئے تھے۔ اس نے کپڑوں کے پیچھے ہاتھ بڑھا کر دیکھا تو اسے ایک اور خانہ محسوس ہوا۔ اس نے اسے کھولا، اس میں مختلف کاغذات تھے جو تمام کے تمام کوڈ ورڈز (Code words) میں لکھے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ عمران نے یہ سب نکال کر اپنی جیبوں میں ٹھونس لیے۔

یکدم وہ اچھل پڑا کیونکہ گیلری میں ٹامی گنیں چلنے کی آوازیں آنے لگیں۔ ایک فائر ہوا اور پھر ایک چیخ نکلی۔ عمران نے جلدی سے اس شخص کے کپڑے اتارے، خود پہنے، اپنے کپڑے اسے پہنائے، کاغذات نکال کر اپنی جیبوں میں رکھے اور الماری میں رکھا ہوا ایک نقاب—جس پر 'ایم زیڈ' (MZ) کے الفاظ لکھے ہوئے تھے—اپنے منہ پر چڑھا لیا۔ اب گیلری میں شور مچ گیا تھا۔ وہ دروازے کے پاس آیا، اس نے ذرا سا دروازہ کھول کر دیکھا تو کیپٹن شکیل ٹامی گنوں کے درمیان کھڑا تھا۔ اس نے طویل سانس لی اور دروازہ بند کر دیا۔

اب وہ اس خفیہ دروازے کو کھولنے کا طریقہ معلوم کرنا چاہتا تھا۔ اس نے تمام دیواروں کو ہلکا ہلکا ٹھونکا مگر بے سود۔ آخر اس نے آتشدان پر رکھی ہوئی تصویر کو ہلایا مگر وہ اپنی جگہ سے نہ ہلی۔ اچانک اسے تصویر کے کونے سے ایک سرخ رنگ کا نقطہ نظر آیا۔ اس نے اس پر انگلی رکھ کر اسے دبایا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی تھا۔ اس نے کوٹ کے کالر سے پن نکالا اور اس کے سرے سے اس سرخ نقطے کو دبایا تو دیوار کھٹ سے کھل گئی۔ عمران کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔ وہ جلدی سے اس شگاف کی طرف بڑھا، نیچے سیڑھیاں جا رہی تھیں، وہ ایک ایک کر کے نیچے اترتا گیا۔ دوسری سیڑھی پر اس کا قدم پڑتے ہی دیوار پھر برابر ہو گئی۔

اب وہ انتہائی چوکنا ہو کر نیچے اتر رہا تھا۔ دسویں سیڑھی کے بعد وہ ایک کمرے میں پہنچ گیا جس میں ایک بہت بڑی میز تھی۔ میز پر ایک بہت بڑی مشین تھی جو اس وقت بند پڑی تھی۔ عمران نے اسے غور سے دیکھا لیکن وہ کچھ نہ سمجھ سکا۔ اس نے کمرے میں ادھر ادھر نظریں گھمائیں تو اسے ایک کونے میں ایک دروازہ نظر آیا۔ اس نے وہ دروازہ ذرا سا کھولا اور دوسری طرف دیکھنے لگا۔ ایک بہت بڑا ہال تھا جس میں بہت سی مشینیں چل رہی تھیں اور آپریٹر ان کے سامنے بیٹھے انہیں کنٹرول کر رہے تھے۔ وہ اندر داخل ہو گیا۔

جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا، تمام ٹامی گن والے جو وہاں ٹہل رہے تھے، اٹینشن ہو گئے۔ وہ سر ہلاتا ہوا ایک سرے سے دوسرے سرے کی طرف بڑھا۔ وہ سمجھ گیا کہ جس کا اس نے لباس پہنا ہوا ہے، وہ شاید یہاں کا انچارج ہو یا کوئی اچھی پوزیشن رکھتا ہو۔ وہ باری باری ایک ایک مشین کے پاس رکتا اور پھر اسے غور سے دیکھنے لگتا۔ ایک مشین کی اسکرین پر اسے صدرِ مملکت اپنے آفس میں کام کرتے دکھائی دیے۔ پھر صدرِ مملکت نے میز کی دراز میں سے ایک فائل نکالی اور اس کا مطالعہ کرنے لگے۔ آپریٹر نے اب وہ فائل ایک زاویے سے دکھائی، پھر آپریٹر نے ایک اور بٹن دبایا تو مشین نے اس فائل کے فوٹو اتارنے شروع کر دیے۔ عمران یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ اسی طرح ہر مشین کسی نہ کسی اہم شخصیت کی نگرانی کر رہی تھی۔ نگرانی کا یہ طریقہ دیکھ کر عقل جواب دے گئی۔ اتنی ترقی یافتہ اور بڑی تنظیم کے متعلق تو اس نے سوچا ہی نہ تھا اور نہ ہی اس عمارت میں گھستے وقت اسے خیال آیا تھا کہ وہ اتنی بڑی تنظیم کے ہیڈ کوارٹر میں جا رہا ہے۔

خیر، وہ آہستہ سے ہال کے سامنے کے دروازے میں چلا گیا۔ سامنے ایک گیلری نظر آ رہی تھی، اس کے دونوں طرف بھی دروازے تھے۔ اس نے ایک دروازے پر دباؤ ڈالا تو وہ کھل گیا۔ عمران اندر گھسا، دروازہ پیچھے سے بند ہو گیا۔ کمرے میں ایک میز اور کرسی پر ایک نوجوان—جس کی آنکھوں میں غیر معمولی چمک معلوم ہو رہی تھی—بیٹھا شراب پی رہا تھا۔ اس نے عمران کو کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پھر بولا: "آج ایک مقامی جاسوس پکڑا گیا ہے، اس نے مشین گن نمبر ایک پر فائرنگ کر دی ہے، اب وہ مشین ٹھیک ہو رہی ہے۔ میں نے اسے ہلاک اس لیے نہیں کیا کہ اتنی جرات کرنے والا یقیناً کوئی معمولی شخص نہ ہو گا۔ اب میں اس سے تمام راز اگلواؤں گا، مگر تم بولتے کیوں نہیں ہو؟"

اچانک عمران نے اچھل کر اس کی ناک پر ٹکر دے ماری اور وہ ڈکراتا ہوا کرسی سے نیچے جا گرا، لیکن پھر سنبھل کر کھڑا ہو گیا۔ عمران کے کوٹ کی جیب میں سے فائر ہوا اور گولی اس شخص کی کھوپڑی میں سوراخ کرتی ہوئی نکل گئی۔ کمرہ چونکہ ساؤنڈ پروف (Soundproof) معلوم ہوتا تھا، اس لیے آواز باہر جانے کا خطرہ نہ تھا۔ ایسا کرنا عمران کے لیے ضروری ہو گیا تھا کیونکہ عمران بول نہیں سکتا تھا اور نہ ہی کوئی ایسی حرکت کر سکتا تھا؛ اس نے جس کا لباس پہنا ہوا تھا اس کی آواز ہی نہیں سنی تھی اور وہ کوڈ ورڈ بھی نہیں جانتا تھا۔ اس نے دوبارہ اپنے کپڑے اتارے اور دوسرے کے کپڑے اتار کر خود پہنے، اس کا نقاب منہ پر لگایا اور اسے اٹھا کر الماری میں ٹھونس دیا اور خود کمرے کا معائنہ کرنے لگا۔

پھر بغلی دروازے سے وہ دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ سامنے ایک کمرہ نما مشین رکھی ہوئی تھی جس پر مختلف بٹن لگے ہوئے تھے۔ ایک کونے میں اسکرین تھی، اس نے میز پر بیٹھ کر ایک سبز رنگ کا بٹن دبایا تو اچانک ساری مشین کے ڈائل جلنے لگے، بلب اسپارک کرنے لگے اور پھر اسکرین پر ایک کمرے کا عکس ابھرنے لگا جس کا دروازہ بند تھا اور کمرہ خالی تھا۔ وہ پریشان ہو گیا۔ اچانک کمرے کے دروازے کے اندر لگا ہوا سرخ بلب جلنے بجھنے لگا۔ عمران نے کچھ سوچتے ہوئے مشین کا پیلے رنگ کا بٹن دبایا۔ یہ ٹھیک تھا کہ وہ اس طرح ایک بہت بڑا خطرہ مول لے رہا ہے کیونکہ اسے بالکل معلوم نہیں تھا کہ ان بٹنوں کے دبانے سے کیا ہو گا، کہیں ان کا ردِعمل خطرناک نہ ہو؛ لیکن وہ عمران تھا، اس کے دل میں جو خیال آ جاتا پھر دنیا کا کوئی خوف اس کو اس خیال پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا تھا۔

بہر حال، زرد رنگ کا بٹن دبانے سے کوئی خاص ردِعمل نہ ہوا بلکہ دروازے کے اندر کا بلب بند ہو گیا اور عمران نے دیکھا کہ دروازہ آہستہ آہستہ کھل رہا ہے۔ پھر دروازے سے ایک نقاب پوش اندر داخل ہوا جس نے ٹامی گن اٹھائی ہوئی تھی۔ اس نے اندر داخل ہو کر سر جھکایا اور پھر عمران کے سامنے کی مشین سے آواز سنائی دی۔ وہ نقاب پوش سر جھکائے "ماکا عظیم ہے، زونگا عظیم ہے" کے نعرے لگا رہا تھا۔ عمران نے بغیر سوچے سرخ رنگ کا بٹن دبا دیا۔ اب مشین کے بلب تیزی سے جلنے بجھنے لگے۔ اچانک عمران نے دیکھا کہ مشین میں سے سرخ رنگ کی شعاع نکلی اور اس نقاب پوش پر پڑی جو سر جھکائے کھڑا تھا۔ نقاب پوش کے منہ سے ایک بھیانک چیخ نکلی اور ایک منٹ کے بعد اس نقاب پوش کی جلی ہوئی لاش وہاں پڑی ہوئی تھی۔ عمران یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا۔

اب صرف ایک بٹن تھا جو نیلے رنگ کا تھا، اس نے وہ دبا دیا۔ تھوڑی دیر بعد اسے اسکرین پر وہ ہال نظر آیا جس میں تمام آپریٹر کام کر رہے تھے۔ اسکرین کے نیچے ایک چھوٹا سا ہینڈل لگا ہوا تھا، اس نے اسے گھمایا، اس کے ساتھ ساتھ منظر بھی تبدیل ہونے لگا۔ اسے اسکرین پر ہر کمرہ باری باری نظر آنے لگا؛ کہیں پر جدید اسلحے کے ڈھیر لگے ہوئے تھے، کسی کمرے میں شراب کی بوتلیں کے انبار تھے، ایک چھوٹے سے کمرے میں کرنسی نوٹ بنانے کی مشین تھی، اس طرح وہ باری باری ہر کمرہ دیکھتا گیا۔ اس کی آنکھ میں شدید حیرت تھی۔ اتنی بڑی اور مکمل تنظیم اس کی آنکھوں کے سامنے تھی، وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ اتنے انتظامات ہوئے اور اسے آج تک خبر نہ تھی۔

بہر حال، ایک کمرے کو دیکھ کر وہ چونک پڑا کیونکہ اس میں کیپٹن شکیل ایک کرسی پر بندھا ہوا تھا۔ اب اس کے سامنے دو مسئلے تھے: ایک تو کیپٹن شکیل کو آزاد کرنا اور دوسرا ان تمام مشینوں پر یا تو حکومت کا قبضہ کرانا یا انہیں تباہ کرنا۔ اسے اطمینان تھا کہ اس نے ہیڈ کوارٹر کے انچارج کو ختم کر دیا ہے۔ یہ بھی ایک اتفاق تھا ورنہ نہ جانے انچارج تک پہنچنے کے لیے عمران کو کتنے ہاتھ پیر مارنے پڑتے، لیکن اس کے باوجود جو لمحہ بھی گزر رہا تھا، اس کے لیے خطرہ بڑھ رہا تھا۔

آخر کار اس نے ایک فیصلہ کن قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا اور پھر کچھ سوچ کر انچارج کا لباس پہنے وہ کمرے سے باہر نکل کر گیلری میں آ گیا۔ یہ ایک انتہائی خطرناک اقدام تھا کیونکہ عمران کو بالکل معلوم نہیں تھا کہ آیا انچارج کبھی راؤنڈ بھی لگاتا تھا یا نہیں، اگر لگاتا تھا تو باقی لوگوں سے اس کا رویہ کیسا تھا؟ بہر حال، "جو ہو سو ہو" کے مصداق اس نے فیصلہ کن قدم اٹھایا، اب وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بھی تو نہیں بیٹھ سکتا تھا۔

بہر حال، جیسے ہی اس نے گیلری میں قدم رکھا، ایسا معلوم ہوا جیسے پورے ماحول میں ایک عجیب قسم کی بے چینی، سنسنی اور پراسراریت سی پھیل گئی، جسے عمران نے بھی بخوبی محسوس کر لیا۔ اس سے اسے معلوم ہوا کہ انچارج اول تو کبھی باہر نہیں نکلتا تھا، دوسرا اس کا رویہ دیگر لوگوں سے انتہائی سخت رہا ہو گا، ورنہ اسے دیکھتے ہی پورے ماحول میں ایک بے چینی اور عدم اطمینان کی لہر نہ دوڑ جاتی۔ جیسے ہی عمران آہستہ آہستہ گیلری میں نکلا، سامنے پہرہ دینے والے نقاب پوشوں کے گروہ نے "ماکا عظیم ہے، زونگا عظیم ترین ہے" کے نعروں سے اس کا استقبال کیا، لیکن عمران آہستہ آہستہ ان کے پاس سے گزر گیا۔ اس نے صرف ایک ہاتھ—جس پر سیاہ رنگ کے دستانے پہنے ہوئے تھے—اٹھانے پر اکتفا کیا۔

وہ ہال میں داخل ہو گیا۔ اسے دیکھتے ہی تمام آپریٹر اپنے کاموں میں اور بھی زیادہ تندہی سے مصروف ہو گئے، کسی نے ایک نظر بھی اٹھا کر اوپر نہ دیکھا۔ عمران ان کے درمیان میں سے گزرتا ہوا دوسری گیلری میں نکل آیا۔ دو نقاب پوش ٹامی گن لیے اس کے پیچھے پیچھے بطور باڈی گارڈ آ رہے تھے۔ عمران ایک دروازہ کھول کر ایک کمرے میں داخل ہو گیا، پھر اس کے عقبی دروازے سے داخل ہو کر وہ بڑے ہال میں داخل ہو گیا۔ یہاں ایک بہت بڑا پلانٹ کسی بہت بڑے مقصد کے لیے نصب تھا، عجیب و غریب مشینیں تھیں۔ عمران سمجھ گیا کہ یہ پلانٹ کسی بہت بڑے مقصد کے لیے یہاں نصب ہے۔

بہر حال، وہ اس کے آپریٹر کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور اس پلانٹ کا مقصد سمجھنے کے لیے اسے غور سے دیکھنے لگا۔ اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے اسے اٹھا کر ہواؤں میں اچھال دیا ہو، لیکن یہ صرف اس کی ذہنی کیفیت تھی کیونکہ اب اس پلانٹ کا مقصد وہ کسی حد تک سمجھ گیا تھا؛ یہ پلانٹ زمین سے پانی باہر نکالنے کے لیے نصب تھا، جس کا مظاہرہ پچھلے دنوں ماکازونگا بطورِ سزا کر چکا تھا۔ اب عمران کے لیے یہ لازمی ہو گیا کہ وہ ہر قیمت پر اس پلانٹ کو تباہ کر دے۔

وہ فوراً مڑا اور اس کمرے کی طرف چل دیا جس میں کیپٹن شکیل بند تھا۔ کمرے کا نمبر اسکریننگ مشین سے وہ دیکھ چکا تھا، وہ کمرے کے سامنے رکا۔ اس کے باہر تالا لگا ہوا تھا اور ایک نقاب پوش ٹامی گن اٹھائے باہر پہرہ دے رہا تھا۔ عمران نے اسے تالا کھولنے کا اشارہ کیا، اس نے جھٹ تالا کھول دیا اور دروازہ کھول کر عمران اور اس کے ساتھ دو باڈی گارڈ اندر داخل ہوئے۔

کیپٹن شکیل کرسی پر بندھا ہوا تھا لیکن اس کا چہرہ انتہائی سپاٹ تھا۔ عمران اسے دیکھ کر دل ہی دل میں مسکرایا، پھر اس نے انچارج کے لہجے میں پکارا: "تمہارا دماغ ٹھکانے لگا یا نہیں؟" لیکن کیپٹن شکیل نے کوئی جواب نہ دیا۔

عمران نے دوسرے نقاب پوشوں کو اسے کھولنے کا حکم دیا اور اسے اپنے کمرے میں پہنچانے کے لیے کہا۔ انہوں نے جھٹ کیپٹن شکیل کو کھول دیا اور پھر اسے لے کر انچارج کے کمرے کی طرف بڑھے۔ عمران ان سے پہلے ہی وہاں پہنچ چکا تھا، وہ لوگ کیپٹن شکیل کو چھوڑ کر خود باہر چلے گئے۔ کیپٹن شکیل کے ہاتھ ابھی تک بندھے ہوئے تھے۔ عمران نے ہر طرف سے اطمینان کر کے اپنا نقاب اتار دیا اور کیپٹن شکیل اسے دیکھ کر حیران رہ گیا، لیکن حیرت صرف اس کی آنکھوں سے ٹپک رہی تھی، چہرے سے نہیں۔

عمران نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ کھول دیے اور آہستہ سے اسے تمام حالات بتا دیے۔ اب دونوں نے مل کر اس ہیڈ کوارٹر کو تباہ کرنا تھا۔ عمران نے اس کے لیے ڈائنامائٹ (Dynamite) تجویز کیا لیکن سوال یہ تھا کہ ڈائنامائٹ لایا کہاں سے جائے اور اسے آپریٹ کہاں سے کیا جائے؟ کیپٹن شکیل نے ٹائم بم کا مشورہ دیا لیکن یہاں مسئلہ ان کی فوری فراہمی کا تھا۔

اچانک عمران کو ایک تجویز سوجھی۔ اس نے نقاب چہرے پر ڈالا اور خود اٹھ کر اس مشین پر جا بیٹھا۔ اس نے سبز رنگ کا بٹن دبایا اور مشین کو اسٹارٹ کر دیا۔ اسکرین پر کمرے کا عکس ابھرا تو اس نے فوراً نیلے رنگ کا بٹن دبا دیا۔ اب کسی حد تک وہ اس مشین کو سمجھ چکا تھا، اس لیے آسانی سے اسے آپریٹ کر رہا تھا۔ اسکرین پر ہال کا عکس ابھرا لیکن وہ ہینڈل گھماتا رہا اور ایک کمرے میں ایک نقاب پوش کرسی پر بیٹھا شراب پیتا نظر آیا، اس کے سینے پر نمبر 3 لکھا ہوا تھا۔ عمران نے ہینڈل کو وہیں روک دیا اور پھر اس نے زرد رنگ کا بٹن دبایا، اور پھر اس نے اسکرین پر اس شخص کو چونکتے دیکھا اور پھر وہ شخص تیزی سے اٹھا اور چہرے پر نقاب ٹھیک کرتا ہوا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ اب عمران نے ہینڈل کو دوبارہ گھمایا اور جب اس کمرے کا عکس نظر آیا جو پہلے نظر آتا تھا تو اس نے ہینڈل کو چھوڑ دیا۔

اچانک اسے کمرے کے اندر لگا ہوا بلب جلتا بجھتا نظر آیا، اس نے زرد رنگ کے بٹن کو ایک بار پھر دبایا۔ بلب بجھنے سے رک گیا اور دروازہ آہستہ سے کھلا اور وہی نقاب پوش نمبر 3 اندر داخل ہوا۔ اس نے اندر داخل ہو کر مخصوص نعرہ لگایا اور پھر سر جھکائے کھڑا ہو گیا۔ عمران نے مائیک کا بٹن دبایا اور پھر سرسراتی ہوئی آواز میں بولا:

"نمبر 3!"

"جی سر!" نمبر 3 نے سر اٹھا کر کہا۔

"ہمارے اسٹاک میں کتنے ٹائم بم موجود ہیں؟" عمران (انچارج کی آواز میں) بولا۔

"جناب! ہمارے اسٹاک میں دس ہزار ٹائم بم موجود ہیں"، نمبر 3 نے ادب سے جواب دیا۔

"ہوں! اچھا ابھی جاؤ اور ان میں سے پانچ سو میگا پاور کے دس ٹائم بم لے آؤ۔"

"بہت بہتر"، اس نے کہا اور پھر تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔

عمران نے پھر ہینڈل کو گھمایا تو اسکرین پر وہ نقاب پوش ایک گیلری میں تیزی سے جاتا نظر آیا۔ عمران اسکرین پر اسے فالو (Follow) کر رہا تھا۔ نقاب پوش چلتا ہوا ایک دروازے پر رک گیا، اس نے دروازے پر مخصوص دستک دی، دروازہ کھل گیا اور وہ اندر داخل ہو گیا۔ اندر ایک بہت بڑا اسلحہ خانہ تھا، عمران اس اسلحے کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ اسے اس اسلحہ خانے کا علم نہیں تھا۔ اس نے دیکھا کہ نقاب پوش وہاں بیٹھے ایک نقاب پوش سے دس ٹائم بم لے رہا تھا۔

عمران اب شکیل کی طرف متوجہ ہوا، اس نے اسے ساری اسکیم بتائی کہ: "جیسے ہی نمبر تین بموں کا ڈبہ لے کر اندر داخل ہو گا، میں اس کی جگہ لے لوں گا۔ تم اس مشین پر بیٹھ جانا۔" عمران نے اسے آپریٹ کرنے کا طریقہ بتلا دیا اور کہا: "میں یہ بم مختلف کمروں میں رکھوں گا، تم اس مشین کے ذریعے مجھے فالو کرنا۔ جہاں کچھ خطرہ معلوم ہو، یہ سرخ رنگ کا بٹن دبا دینا؛ فوکس (Focus) میں جتنے لوگ ہوں گے وہ جل جائیں گے، لیکن یہ اس وقت کرنا جب اس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔"

یہ کہہ کر اس نے اپنا انچارج والا لبادہ اتار کر شکیل کو پہنا دیا اور شکیل وہ مخصوص نقاب لگا کر مشین پر بیٹھ گیا۔ اتنے میں نمبر تین بموں کا ڈبہ لے کر مخصوص کمرے کے دروازے تک پہنچ گیا۔ کیپٹن شکیل نے اسے اندر آنے کی اجازت دی اور پھر اسے ہدایت کی کہ وہ اسے کمرہ نمبر ایک میں پہنچا دے۔ کمرہ نمبر ایک انچارج کا ذاتی کمرہ تھا۔

نمبر تین وہ ڈبہ لے کر کمرہ ایک کی طرف بڑھ گیا جہاں عمران اس کی تاک میں تھا۔ جیسے ہی نمبر تین اندر داخل ہوا، عمران نے اسے دبوچ لیا۔ چونکہ یہ افتاد اس کے لیے اچانک پڑی تھی، اس لیے وہ بے خبری میں مار کھا گیا، چنانچہ چند ہی لمحوں بعد وہ عمران کے ہاتھوں میں جھول رہا تھا۔ عمران نے پھرتی سے اس کے کپڑے اتارے اور اپنے کپڑوں کے اوپر پہن لیے، پھر اس نے بموں کو نکال کر اپنے لبادے میں مختلف جگہوں پر چھپانا شروع کر دیا اور پھر دروازہ کھول کر باہر نکل گیا...
 
عمران کمرے سے باہر تیزی سے گیلری میں چلنے لگا اس نے تمام ہم نکالے اور پندرہ منٹ کا ٹائم سیٹ کیا اور پھر ایک بم گیلری میں لگی ہوئی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ عمران کے خیال میں یہ اس ٹوکری کا بہترین مصرف تھا بہر حال وہ آگے بڑھا۔ اور ہال میں داخل ہو گیا وہ آہستہ سے چلتا ہوا ایک کونے میں گیا اور ایک مشین کے پاس کھڑا ہو گیا۔ آپریٹر نے اسے دیکھا اور پھر اپنے کام میں لگ گیا۔ عمران نے ہاتھ میں وہ چھوٹا سا مگر انتہائی طاقتور ہم لیا اور پھر آہستہ سے اس کی مشین اور پچھلی دیوار کے درمیان ڈال دو یا پھر وہ خاموشی سے
باہر نکلا اسلحہ خانے کا انچارج اس کے استقبال کے لیے کھڑا ہو گیا اس نے اس سے رجسٹر مانگا اور پھر اس رجسٹر کو دیکھنے لگا پھر اچانک وہ زور سے چونکا اور غور سے دوسرے کمرے کی طرف دھیان کر کے سننے لگا۔اسلحہ خانے کا انچارج بھی نقاب لگائے ہوئے پریشان ہو گیا اس نے نمبر تین کی طرف حیرانگی سے دیکھا عمران نے اس کے کان میں یہ کہا کہ دوسرے کمرے سے کوئی آواز آرہی ہے جا کر دیکھو کون ہے۔ وہ تیزی سے اس کمرے کی طرف بڑھا اور عمران نے پھرتی سے اسلحہ کے ڈھیر کے درمیان وہ بم چھپا کر رکھ دیا وہ انچارج واپس آیا تو اس نے بتایا کہ وہاں کوئی نہیں ہے عمران نے اپنا وہم جان کر مطمئن کر دیا اور پھر وہ واپس مڑ گیا۔ اب اس نے گیلری میں بنے ہوئے مختلف خالی کمروں میں ہم چھپا دیئے اب وہ اس پلانٹ کی طرف جارہا تھا جس نے
پچھلے دنوں پورے دار الحکومت میں بھیانک تباہی پھیلا دی وہ اس کمرے میں داخل ہو اوہاں صرف ایک آپر یٹر ڈیوٹی پر موجود تھا۔ پلانٹ مکمل طور پر بند تھا آپر میٹر نے اسے دیکھتے ہی سلوٹ کیا اس نے سلوٹ کا جواب
دیا اور پھر اسے اشارے سے اپنی طرف بلایا وہ اس کی طرف بڑھا عمران نے اس کی گردن پکڑ لی وہ بھی خاصہ طاقتور تھا لیکن عمران کے سامنے اس کی کچھ پیش نہ چلی اور چند لمحوں بعد اس کی آنکھیں باہر نکل آئیں اور وہ دم توڑ چکا تھا۔ عمران نے اس کی لاش گھسیٹ کر ایک طرف ڈالی اور خود سکریو ڈرائیور لے کر اس پلانٹ کی ایک سائڈ کھولی اس میں سے اس نے بم رکھ کر اسے دوبارہ کس دیا اب اسے اطمینان ہو گیا کہ اگر کسی نے آپریٹر کی
لاش دیکھ لی تو وہ پلانٹ کو نہ بچا سکیں گے۔ یہاں سے فارغ ہو کر وہ اطمینان سے باہر نکلا لیکن باہر نکلتے ہی وہ ٹھٹھیک گیا کیوں کہ سارے ہال میں ہلچل مچ رہی تھی اس کی سمجھ میں اس سب کہ وجہ نہ آسکی۔ لیکن اچانک اسے خیال آیا کہ کہیں کیپٹن شکیل کار از تو نہیں کھل گیا کیوں کہ اس نے بہت سے نقاب پوش ٹامی گن اٹھائے کمرہ نمبر ایک کی طرف بھاگتے دیکھے ٹائم بم پھٹنے میں صرف دس منٹ باقی رہ گئے تھے اب ان دس منٹوں میں اسے بھی اور کیپٹن شکیل کو بھی اس عمارت سے باہر نکل جانا تھا لیکن یہ اچانک افتاد اور آپڑی تھی لیکن بھاگتے
بھاگتے ایک نقاب پوش سے ٹامی گن لینا نہ بھولا اس پہرے دار نے اسے اپنا آفیسر سمجھتے ہوئے اپنی ٹامی گن اسے پکڑادی وہ تیزی سے کمرہ نمبر ایک کی طرف بڑھا دروازہ کھلا ہوا تھا اور بہیں بچھپیں نقاب پوش اند رٹامی گئیں اٹھائے کھڑے تھے وہ نمبر تین کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے لیکن وہ اسے پہچان نہ سکے کیوں کہ یہاں تمام لوگ منہ پر نقاب ڈالے پھرتے تھے اس لیے وہ کچھ نہ سمجھ سکے عمران نے دیکھا کہ کیپٹن شکیل ایک شیشے
کے بہت بڑے جار میں بند ہے عمران کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیپٹن شکیل یکدم یہاں کیسے بند ہو گیا لیکن اب وقت سوچنے کا نہ تھا مکمل تباہی میں اب صرف سات منٹ باقی رہ گئے تھے عمران نے نامی گن سیدھی کی اور پھر کمرہ ٹامی گن کی ریٹ سے گونج اٹھا ایک ہی وار میں تمام نقاب پوش فرش پر تڑپ رہے تھے عمران نے ٹریگر پر بدستور دباؤ ڈالے رکھا سینکڑوں گولیاں ان کے جسموں سے پار ہو گئیں اور چند لمحوں بعد وہاں فرش
پر خون ہی خون تھا اور لاشیں پڑی ہوئی تھیں عمران بھاگ کر کیپٹن تشکیل کی طرف بڑھا اس نے چاروں
طرف دیکھا کہ اس جار میں کہیں بھی دروازو نہ تھا اس نے کیپٹن شکیل کو آواز دی لیکن بے سود اور کیپٹن شکیل کے ہونٹ ہلے لیکن عمران کو کوئی لفظ نہ سنائی دیاب عمران نے کیپٹن تکمیل کو ایک طرف ہلنے کا اشارہ کیا اور گولیوں کی باڑ اس شیشے پر ڈالی لیکن اس پر کوئی اثر نہ پڑا۔ اب عمران گبھرا گیا کیوں کہ بم پھٹنے میں صرف پانچ منٹ باقی رہ گئے اور انہی پانچ منٹوں میں اسے سب کچھ کرنا تھا بہر حال اس نے ہمت نہ ہاری فوری طور پر اسے ایک ہی خیال آیا اس نے جیب سے آخری ٹائم بم نکالا اور کیپٹن شکیل کو اشارہ کیا کہ وہ فرش پر لیٹ جائے اب جو کچھ ہوا سو ہوتا اگر رہائی کی صورت نکل آئی تو خیر ورنہ موت تو سامنے ہی تھی کیپٹن شکیل اشارہ پاتے ہی فور از مین پر لیٹ گیا عمران نے ہم پر دو سیکنڈ کا ٹائم لگایا اور ہم شیشے کی دیوار کے پاس رکھ کر خود بھی پھرتی سے
زمین پر لیٹ گیا پلک جھپکتے ہی دو سیکنڈ گزر گئے اور پھر ایک زبردست دھماکہ ہوا اور اس شیشے کے جار کے پرزے اڑ گئے اس کے ساتھ ہی وہ کمرہ بھی تباہ ہو گیا ایک بھاری شہتیر عمران کے بالکل پاس آگرا اس شہتیر کی
وجہ سے کیپٹن شکیل اور عمران بچ گئے کیوں کہ تمام ملبہ اس شہتیر نے روک لیا اب دونوں وہاں سے اٹھے اور باہر کی طرف بھاگنے لگے ہم پھلنے میں صرف تین منٹ باقی رہ گئے تھے وہ تیزی سے ایک گیلری میں بھاگے اس دھماکے کی وجہ سے تمام اڈوں میں دوڑ مچی ہوئی تھی گھنٹیاں بج رہی تھیں سرخ اور سبز بلب جل رہے تھے
وہ دونوں تیزی سے ایک طرف بھاگے اس گیلری کی طرف ایک ٹنل سی بنی ہوئی تھی وہ دونوں تیزی سے اس میں دوڑنے لگے یہ پانی کا بہت بڑا پائپ تھا وہ بے تحاشہ بھاگ رہے تھے اچانک عمران کا پاؤں پھسلا اور وہ تیزی سے اس ٹنل میں پھسلتا چلا گیا دوسرے لمحے وہ ٹنل کے دوسرے سرے سے باہر ہوا میں اڑتا چلا جار ہا تھا شنل زمین سے کافی اونچائی پر بنی ہوئی تھی۔ اس لیے وہ تقریباً ہوا میں اڑتا ہو از مین پر جا گرا کیپٹن شکیل اس سے پہلے زمین پر پڑا تھا۔
چند لمحوں تک اسے کچھ محسوس نہ ہوا لیکن پھر اچانک کان پھاڑ کر دھماکہ ہوا اور اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی آتش فشاں پہاڑ گرج رہا ہو پے در پے دھما کے ہو رہے تھے عمران اور شکیل کے نیچے کی زمین ہل رہی تھی پھر ایک زبردست دھماکہ ہوا اور ایسا محسوس ہوا جیسے عمران اور شکیل کے اعصاب جواب دے گئے ہیں اور ان کی
قوت سماعت ختم ہو گئی ہو۔
☆☆☆
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Background image: Footer
Back
Top