- Moderator
- #1
ڈاکٹر رحمان انصاری کے کلینک میں ایک شخص ایک بچے کو اٹھائے اندر داخل ہوا اور دوسرے مریضوں کی پروا کیے بغیر ڈاکٹر تک جاپہنچا۔
”ڈاکٹر صاحب ! پہلے اسے دیکھیے۔“
”میں مریضوں کو باری کے مطابق دیکھتا ہوں، آپ سے پہلے بھی بہت سے مریض یہاں موجود ہیں، تشریف رکھیے اور اپنی باری کا انتظار کیجیے۔“
ڈاکٹر رحمان انصاری نے اس آدمی کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ وہ اس وقت ایک بوڑھے آدمی کا معائنہ کررہا تھا جو دمے کا مریض تھا۔ اس کے ہاں ہمیشہ مریضوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔ شہر کا مشہور ڈاکٹر تھا، لیکن بہت مہنگا تھا۔ غریب آدمی اس سے علاج کرانے کے بارے میں سو چ بھی نہیں سکتے تھے۔
”لیکن یہ مررہا ہے ڈاکٹر پہلے اسے دیکھیے، اس کا سانس اُکھڑ رہا ہے۔ اُف میرا بچہ۔“ آدمی نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔
اب ڈاکٹر نے نظر اُٹھا کر بچے کو دیکھا اور پھر چونک اٹھا۔ اس کا رنگ ہلدی کے مانند زرد ہورہا تھا اور وہ لمبے لمبے سانس لے رہا تھا، جیسے سانس لینے میں بہت تکلیف ہورہی ہو۔
”اسے کیا ہوا؟“ ڈاکٹر انصاری بوڑھے کو چھوڑ کر اس کی طرف مڑا۔
”خدا جانے اسے کیا ہوا، کس کی نظر لگ گئی، دو دن پہلے تو بالکل ٹھیک تھا۔ بھاگتا دوڑتا کودتا پھرتا تھا۔“ باپ نے کہا۔
”اسے لٹادیں، میں دیکھتا ہوں۔“
باپ نے بچے کو مریضوں کے لیے بچھائے اسٹریچر پر لٹادیا۔
ڈاکٹر انصاری اس پر جھک گیا۔ چند منٹ تک وہ مختلف طریقوں سے اس کا جائزہ لیتا رہا، پھر سیدھا ہوتا ہوا بولا:
”اس کے جسم میں تو خون بالکل نہیں ہے؟“
”لیکن دو دن پہلے تو یہ بالکل ٹھیک تھا، اسے کوئی چوٹ بھی تو نہیں لگی۔“
”اوہ! تو پھر خون کہاں گیا؟“ ڈاکٹر انصاری کے منہ سے نکلا۔
”جج جی…. میں کیا بتا سکتا ہوں۔“
”کل اس کی کیا حالت تھی؟“ ڈاکٹر نے پوچھا۔
”کل صبح یہ سو کر اُٹھا تو اس کا رنگ زرد ہورہا تھا، ہم دیکھ کر حیران رہ گئے۔ محلے کے ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے طاقت کی دوائیں لکھ دیں اور بتایا کہ بچے کو کوئی بیماری نہیں ہے، بس خون کی کمی ہے، ہم بہت حیران ہوئے کہ یکا یک خون کیسے کم ہوگیا۔ خیر دوائیں شروع کردیں ۔ آج یہ اٹھا تو رنگ بالکل ہی زرد تھا۔ ہم بری طرح گھبراگئے اور میں بچے کو آپ کے پاس لے آیا۔ “ وہ بتاتا چلا گیا۔
ڈاکٹر انصاری چند لمحے کے لیے سوچ میں ڈوب گیا۔ اس کی پیشانی پر فکر کی لکیریں اُبھر آئیں۔ آخر اس نے کہا:
”عجیب بات ہے، اس طرح یکا یک خون کا غائب ہونا کچھ سمجھ میں نہیں آتا، بہر حال سب سے پہلے میری فیس جمع کرادیں، اس کے بعد میں اس کا تفصیل سے معائنہ کروں گا، خون کا گروپ معلوم کروں گا اور اگر اس گروپ کا خون مل گیا، تو بچے کو دیا جائے گا، مجھے اُمید ہے کہ بچہ خون ملتے ہی تندرست ہوجائے گا۔“
”بہت بہتر !آپ کی فیس کتنی ہے۔“
”دو سو روپے، باقی خرچ کی تفصیل بعد میں بتائی جائے گی۔“
”بہت بہتر!“ یہ کہہ کر باپ بچے کو وہیں چھوڑ کر باہر نکل گیا۔ وہاں ڈاکٹر کا کلرک بیٹھا تھا، اس نے بچے کا نام پتا لکھا اور دو سو روپے وصول کرکے ایک چٹ اسے تھمادی۔یہ چٹ ا س نے اندر لے جاکر ڈاکٹر کو دی جو اب پھر دمے کے مریض بوڑھے کو دیکھ رہا تھا۔ آخر اس سے فارغ ہوکر وہ پھر بچے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا:
”آ پ کا نام غلام جیلانی ہے۔“
”جی ہاں۔“ باپ نے کہا۔
”آ پ تو شہر کے بہت مشہور آدمی ہیں، اخبارات میں عام طور پر آپ کا نام شائع ہوتا رہتا ہے۔“
”جی ہاں! میں شہر میں اُون کا سب سے بڑا تاجر ہوں۔“
”او ر بچے کا نام کیا ہے؟“ ڈاکٹر نے پوچھا۔
”طاہر جیلانی۔“ غلام جیلانی نے کہا۔
”ہوں! اب میں اس کا معائنہ کرنے لگا ہوں، آپ تھوڑی دیر کے لیے باہر چلے جائیے۔“
”جی، وہ کیوں؟“ غلام جیلانی کے لہجے میں حیرت تھی۔
”ہم بچے کا خون لیں گے، ریڑھ کی ہڈی میں سے چند قطرے لیں گے اور یہ کافی تکلیف دہ طریقہ ہے، آپ باپ ہیں، آپ یہاں موجود رہیں گے تو آپ کو بھی تکلیف ہوگی۔“
”اوہ! اچھا میں باہر چلا جاتا ہوں۔“
غلام جیلانی نے کہا اور اس کمرے میں آکر بیٹھ گیا جس میں مریض بیٹھے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔ اس کا دل دھک دھک کررہا تھا، بچے کے لیے بری طرح تڑپ رہا تھا۔ شہر کا سب سے بڑا تاجر، کروڑوں روپے میں کھیلنے والا، لیکن بچہ صرف ایک ہی تھا، اب اگر وہ بھی جل بستا تو اس کے لیے دنیا میں کیا رہ جاتا۔
ایک ایک منٹ ایک ایک سال بن کر گزرا، آخر پندرہ منٹ بعد ڈاکٹر کے اسسٹنٹ نے دروازے میں سر باہر نکال کر کہا:
”غلام جیلانی صاحب، اندر تشریف لے آئیں۔“
وہ اُٹھ کر ڈاکٹر کے پاس پہنچا، تو اس کا رنگ سفید ہورہا، آنکھوں میں خوف تھا، ہاتھ اور پیروں میں کپکپی تھی۔
”کیا ہوا ڈاکٹر صاحب! خیر تو ہے؟“
”جو کچھ میں نے اندازہ لگایا ہے، وہ اس قدر بھیانک اور لرزہ خیز ہے کہ میں بتانے کی ہمت نہیں کر پارہا ہوں۔“ ڈاکٹر انصاری نے تھر تھر کانپتی آواز میں کہا۔
”یا اللہ رحم! آخر بات کیا ہے۔“ غلام جیلانی کے منہ سے ڈرے ڈرے لہجے میں نکلا۔
”بات تو میں بعد میں بتاﺅں گا، پہلا مسئلہ تو بچے کو خون دینے کا ہے، اگر اسے چند منٹ کے اندر اندر خون نہ دیا گیا تو یہ چل بسے گا، اس کے خون کا گروپ او ہے، اس وقت میرے پاس اس گروپ کا خون نہیں ہے۔ یہاں ایک خون کا پرائیویٹ بنک ہے، اگر آپ کہیں تو میں فون پر ان سے بات کروں ، وہ فوراً خون یہاں پہنچادیں گے۔“
”ضرور کریں، اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے؟“ غلام جیلانی نے کہا۔
ڈاکٹر نے اس کے سامنے کوئی نمبر گھمایا اور گروپ کے خون کے بارے میں بات کی پھر ریسیور پر ہاتھ رکھ کر غلام جیلانی سے بولا:
”دس ہزار روپے ایک بوتل کے مانگے ہیں اور آپ کے بیٹے کو کم از کم پانچ بوتل خون کی ضرورت ہے۔“
”جلدی کیجیے۔ میں دس لاکھ روپے کا خون بھی خریدنے کے لیے تیار ہوں۔“
”بہت بہتر۔“ یہ کہہ کر اس نے خون کے لیے ہدایت دی اور ریسیور رکھ دیا گیا۔ اس کا اسسٹنٹ بچے کے جسم میں خون داخل کرنے کے لیے سٹینڈ وغیرہ لگانے لگا۔ ابھی دس منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے کہ خون کی پانچ بوتلیں اٹھائے وہ آدمی اندر داخل ہوئے۔ غلام جیلانی نے انہیں اس وقت پچاس ہزار روپے کا چیک کاٹ دیا۔ وہ چیک لے کر چلے گئے۔ کراس میچنگ ہوگئی تو تھوڑی دیر بعد خون قطرہ قطرہ کرکے طاہر جیلانی کے جسم میں داخل ہونے لگا، ڈاکٹر انصاری نے اب دوسرے مریضوں کو دیکھنا شروع کردیا تھا۔
اس طرح دو گھنٹے گزرگئے۔ طاہر کے منہ کی رونق واپس آنے لگی، اس کا سانس درست ہو گیا۔ باپ کی بے قراری دور ہوگئی۔ کلینک سے باہر اس کے گھر کے دوسرے افراد بھی بے چین تھے۔ اس نے انہیں جاکر بتایا کہ اب طاہر کی حالت بہتر ہے۔ آپ لوگ بے فکر ہو جائیں۔ یہ سن کر سب لوگ قدرے مطمئن ہوگئے۔ غلام جیلانی ڈاکٹر انصاری کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ مگر مریض تھے کہ بڑھتے ہی جارہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر انصاری خود ہی طاہر جیلانی کو دیکھنے چلے آئے۔ غلام جیلانی نے موقع غنیمت جانا اور ڈاکٹر انصاری سے اس مرض کے حوالے سے پوچھنے لگا۔ ڈاکٹر انصاری نے مختصر سا جواب دیا کہ ”فی الحال میں اسے خون لگانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔“
” اس سلسلے میں جتنی بھی کتابیں میرے پاس ہیں، میں آج رات سونے سے پہلے ان کا مطالعہ کروں گا اور غور کروں گا خدا جانے کیا چکر ہے۔ دیکھیے نا…. آخر بچے کا خون اس طرح یکا یک کہاں چلا گیا، جب کہ اس کے جسم پر کوئی چوٹ نہیں لگی، خون نہیں بہا۔ جسم سے خون اسی وقت نکلتا ہے جب اس کے چوٹ لگے، کٹ جائے ورنہ خون نہیں نکل سکتا۔“ ڈاکٹر بولا۔
”اب میں کیا کروں؟ سوال تو یہ ہے۔“ غلام جیلانی نے کہا۔
”رات کو اپنے گھر کے تمام دروازے بند کرکے سویئے، کھڑکیوں میں اگر لوہے کی سلاخیں نہیں ہیں تو فوراً سلاخیں لگوالیں، کیونکہ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ ڈریکولا قسم کے لوگوں میں طاقت بہت ہوتی ہے، گولی انہیں زخمی تو کرسکتی ہے، لیکن ختم نہیں کرسکتی، جس کا یہ خون پی لیتے ہیں وہ مرجاتا ہے، تو وہ بھی انہی کی طرح ڈریکولا بن کر دوبارہ زندہ ہوجاتا ہے اور لوگوں کا خون چوسنے لگتا ہے۔ اس طرح اور لوگوں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔“
”آپ تو مجھے ڈرا رہے ہیں ڈاکٹر صاحب! مجھے چل کر فوراً دروازوں اور کھڑکیوںکا بندوبست کرنا چاہیے۔“
”ہاں اور رات کو دیر تک جاگتے رہیں، اس بچے کے پا س موجود رہیں، مکان کی بتیاں نہ بجھائیں بلکہ کچھ اور بلب لگالیں، کیوں کہ ایسے لوگ روشنی سے گھبراتے ہیں۔ “ ڈاکٹر نے اسے ہدایت دی۔
”بہت اچھا! میں چلتا ہوں۔“
غلام جیلانی گھر پہنچا ، تو اندر کسی کے زور زور سے باتیں کرنے کی آواز آئی۔ وہ فوراً ڈرائنگ روم کی طرف بڑھا اور پھر اس کے منہ سے نکلا۔
”ارے خان رحمان تم۔“
”ہاں میں! بھائی نے مجھے سب کچھ بتادیا ہے، انہوں نے مجھے فون کیا تھا۔ میں فوراً چلا آیا۔ ڈاکٹر کیا کہتا ہے؟“ خان رحمان جلدی جلدی بولے، وہ اس کے دوست تھے۔
غلام جیلانی نے انہیں سب باتیں بتادیں جو ڈاکٹر نے بتائی تھیں۔ خان رحمان کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ کافی دیر بعد انہوں نے سراُوپر اٹھایا اور بولے:
”ان حالات میں کوئی ڈاکٹر ہماری شاید ہی مدد کرسکے۔ صرف ایک شخص ایسا ہے ، جو اس مسئلے کا حل تلا ش کرسکتا ہے۔“
”لیکن اب تو طاہر ٹھیک ہوچکا ہے، اب ہمیں کسی کی مددکی کیا ضرورت؟“ غلام جیلانی نے حیران ہوکر کہا۔
”یہ سوچنا غلط ہے۔ صرف اپنے بچے کے بارے میں نہ سوچو، اگر شہر میں واقعی کوئی ڈریکولا قسم کا آدمی موجود ہے، تو وہ اور لوگوں کے لیے بھی تو خطرہ ہے۔ میرا اشارہ اس طرف تھا، لہٰذا مجھے اس شخص کو فون کرکے یہاں بلانا ہی ہوگا۔“
انہوں نے کہا۔
”اوروہ کون ہے؟“
”اس کا نام انسپکٹر جمشید ہے۔“
خان رحمان نے کہا اور فون پر جھک گئے۔
٭….٭….٭
خون کا پیغام
تینوں اپنی تجربہ گاہ میں تھے ۔فارغ ہوتے تو یہاں آکر بیٹھ جاتے اور اِدھر اُدھر کی آوازیں سنا کرتے تھے۔ اس وقت بھی اسی شغل میںمصروف تھے۔
”ہمیں یہ کام بغیر کسی وجہ کے نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح ہم لوگوں کی باتیں سن لیتے ہیں۔“ محمود کہہ رہا تھا۔
”لیکن ہم ان کے چہرے تو نہیں دیکھتے،ہمیں کیا ، کہنے والا اور سننے والا کون ہے۔“ فرزانہ نے جواب دیا۔
”ہم تو دن رات ایسے ہی کام کرتے رہتے ہیں، اس طرح تو ہمیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر صرف اپنی تعلیم کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ بے چاری تعلیم بھی ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہوگی کہ ہم اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے جب کہ دوسرے طالب علم دن رات کتابوں سے چمٹے رہتے ہیں۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔
”فکر نہ کرو، تعلیم ہم سے بہت خوش ہے، جو طالب علم دن رات کتابیں پڑھتے ہیں، ہم ہر سال ان سے زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں پھر بھلا تعلیم کیوں کچھ سوچے گی؟ ویسے بھی سوچ بچار کرنا جان داروں کا کام ہے، نہ کہ بے جان چیزوں کا۔“ فرزانہ نے جل کر کہا۔
”ہائیں! تو کیا تعلیم بے جان ہے؟ پھر اسے حاصل کرنے کا کیا فائدہ۔“ فاروق نے منہ بنایا۔
”اس کا مطلب ہے، تم صرف جان دار چیزیں حاصل کرتے رہتے ہو۔“ محمود کے لہجے میں حیرت تھی۔
”ہاں ! میں ذرا شکاری قسم کا آدمی ہوں۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔
”شکاری قسم کے ہو، شکاری تو نہیں ہونا اور پھر شکاری تو پرندوں اور جانوروں کو مارتے ہیں، زندہ کب پکڑتے ہیں۔“ فرزانہ نے کہا۔
”بہادر شکاری اپنے شکار کو زندہ پکڑتا ہے اور ا س کے بعد حلال کرتا ہے، ایک بار میری ملا قات ایک شیر سے ہوگئی تھی۔ کہنے لگا…. “ فارو ق کہہ رہا تھا کہ محمودنے اسے ٹوک دیا۔
”ٹھہرو! پہلے اتنا بتادو کہ یہ کب کی بات ہے۔“
”عجیب احمق ہو، یہ میں ڈائری دیکھ کر ہی بتا سکتا ہوں اور ڈائری اس وقت میرے پاس نہیں ہے۔“
”وہ کس کے پاس ہے۔“ فرزانہ شوخ انداز میں مسکرائی۔
”کانے دیو کے پاس، اس کے دو بڑے نوکیلے دانت ہیں، لیکن مصیبت یہ ہے کہ ڈائری اس نے اپنے پا س بھی نہیں رکھی، شاید اسے خطرہ تھا کہ میں اس سے حاصل کرنے کے لیے اس کے سر پر پہنچ جاﺅں گا۔ اگرچہ اس کا سربہت چکنا ہے اور پھسلنے کا خطرہ ہے، پھر بھی میں یہ خطرہ ضرور مول لیتا، جانتے ہی ہو، ہم خطرات مول لینے میں کس قدر تیز ہیں، ہاں تو میں کہہ رہا تھا، دیو نے ڈائری اپنے پا س رکھنے کے بجائے نیلے طوطے کی چونچ میں دے رکھی ہے اور اس نیلے طوطے تک پہنچنا اور اسے ہلاک کرنا بہت مشکل ہے۔“
”کیوں! ابھی تو تم شیر کے شکار کی بات کررہے تھے اور طوطے کا شکار نہیں کرسکتے؟“
”اس لیے کہ وہ طوطا، عام طوطا نہیں ہے، اسے مارنا اسی لیے بہت مشکل ہے کہ اس کی جان اس کانے دیو میں ہے۔“ فاروق کہتا چلا گیا۔
”یہ کیا بات ہوئی۔ آج تک تو جنوں اور دیوﺅں کی کہانیوں میں یہ پڑھا ہے کہ جنوں اور دیوﺅں کی جان کسی جانور یا پرندے میں ہوتی ہے اور تم اُلٹ بات کہہ رہے ہو۔“ محمود نے کہا۔
”ثابت ہوا، تم جنوں ، دیوﺅںا ور بھوتوں کی کہانیاں پڑھتے ہو، لاحول ولاقوة، کیسا شوق ہے تمہارا۔“ فاروق نے برا سا منہ بنایا۔
”غلط سمجھے! میں نے ایسی کہانیاں کبھی نہیں پڑھیں، لیکن جب ہم بہت چھوٹے تھے اور دادی جان زندہ تھیں، تو اس وقت وہ رات کو سونے سے پہلے ایسی کہانیاں ضرور سنایا کرتی تھیں۔“ محمود نے کہا۔
”ارے ہاں! یاد آیا۔ دادی اماں کتنی اچھی تھیں۔“ فاروق نے درد بھر ے لہجے میں کہا۔
”لو! ڈائری سے دادی اماں تک پہنچ گئے۔“ فرزانہ جھلا اُٹھی۔
”ڈائری سے نہیں، شیر کے شکار سے دادی اماں تک ۔“ فاروق مسکرایا۔ ”میں نے بات شیر کے شکار کی شروع کی تھی۔ درمیان میں ڈائری ٹپک پڑی۔“
”ٹپکی کہاں بے چاری! وہ تو طوطے کے منہ میں ہے۔“ فرزانہ مسکرائی۔
”بہت دیر سے تمہاری اوٹ پٹانگ باتیں جاری ہیں، شام کے کھانے کا وقت ہوگیا اور تمہارے ابا جان آنے والے ہیں، اس لیے اب یہاں سے اُٹھ کر میز پر پہنچ جاﺅ، آج میں نے بیگم شیرازی کو بھی چائے کی دعوت دے رکھی ہے۔“اچانک بیگم جمشید نے دروازے پر آکر کہا۔ وہ چونک اُٹھے۔
”بہت اچھا امی جان ! ہم پہنچ رہے ہیں۔“
بیگم جمشید مسکراتے ہوئے چلی گئیں۔ وہ اُٹھے ہی تھے کہ ٹرانسمیٹر پر ایک آواز سنائی دی۔ ساتھ ہی سبز رنگ کا ننھا سا بلب جلنے بجھنے لگا۔
”ہیلو…. میں پہنچ رہا ہوں، خون کا بندوبست ہوگیا ہے۔“
اس جملے کے بعد خاموشی چھا گئی۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھااور پھر تینوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلا:
”خون کا بندوبست۔“
پھر وہ کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں اٹھے اور کھانے کی میز پر آئے۔ یہاں بیگم شیرازی موجود تھیں۔ انہیں دیکھتے ہی وہ حیرت زدہ ہوگئے۔ بیگم شیرازی کا رنگ زرد تھا اور وہ برسوں کی بیمار نظر آرہی تھیں۔ اسی وقت دروازے کی گھنٹی بجی۔ انداز انسپکٹر جمشید کا تھا۔ فرزانہ نے جلدی سے دروازہ کھولا۔جونہی انسپکٹر جمشید کی نظر بیگم شیرازی پر پڑی وہ چونک اُٹھے۔
”ارے! آپ کو کیا ہوا؟“ ان کے منہ سے نکلا۔
٭….٭….٭
سب کی نظریں بیگم شیرازی پر جم گئیں۔ ان کا رنگ ہلدی کی مانند زرد نظر آرہا تھا۔ حالانکہ وہ بہت صحت مند تھیں اور سرخ رنگ کی تھیں۔ ابھی چند روز پہلے ہی تو انہوں نے پانچوں کو شام کے کھانے پر بلایا تھا۔ اس وقت بھی بالکل ٹھیک ٹھاک تھیں۔
”میں خود حیران ہوں کہ یکا یک مجھے کیا ہوگیا ہے۔ کل میں اٹھی تو زبردست کمزوری محسوس کی، بلکہ اُٹھتے وقت مجھے چکر بھی آگیا۔ میں نے آئینے میں خود کو دیکھا تو زرد رنگ دیکھ کر حیران رہ گئی۔ آج ڈاکٹر کے پاس گئی تھی۔ اسے بھی بہت حیرت ہوئی وہ میری بیماری کو سمجھ نہیں سکا، تاہم اس نے طاقت کی دوائیں لکھ دی ہیں، میں نے وہ دوائیں شروع کردی ہیں۔“ انہوں نے بتایا۔
”اگر بیماری اس کی سمجھ میں نہیں آئی تو پھر آپ کو کسی اور ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے تھا۔“ انسپکٹر جمشید نے فکر مند لہجے میں کہا۔
”میں بھی یہی سوچ رہی ہوں، صبح ڈاکٹر انصاری کو جاکر ملوں گی ۔ سنا ہے ، وہ شہر کا سب سے مشہور ڈاکٹر ہے۔“ انہوں نے کہا۔
”ہاں! مشہور بھی اور مہنگا بھی، آ پ اس کے پاس ضرور جائیں، لیکن بات ہے بہت عجیب۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”خیر دیکھا جائے گا، آیئے چائے پئیں۔‘ ‘ بیگم شیرازی بولیں۔
اور وہ چائے کی طرف متوجہ ہوگئے، لیکن ابھی چائے شروع کی ہی تھی کہ فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ انسپکٹر جمشید نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے فون کا ریسیور اُٹھایا اور بولے:
”ہیلو! جمشید بول رہاہوں۔“
”جمشید فوراً یہاں پہنچ جاﺅ۔“ انہیں خان رحمان کی آواز سنائی دی۔
”ارے رحمان تم؟ کیا بات ہے، خیر تو ہے، مجھے کہاں بلا رہے ہو۔“ انسپکٹر جمشید جلدی سے بولے، کیونکہ خان رحمان کی آواز میں گھبراہٹ شامل تھی۔
”میں غلام جیلانی کے گھر سے بول رہاہوں، تم انہیں جانتے ہی ہوگے۔ اُون کے سب سے بڑے تاجر ہیں اور میرے دوست ہیں۔ یہاں تمہاری خاص ضرورت ہے، بہت اہم معاملہ ہے، ا س لیے فوراً آجاﺅ۔“ وہ کہتے چلے گئے۔
”اچھی بات ہے، میں پہنچ رہا ہوں۔“ انہوں نے کہا۔ دوسری طرف سے ریسیور رکھ دیا گیا۔ وہ ان کی طرف مڑتے ہوئے بولے:
”خان رحمان نے مجھے ایک جگہ بلایا ہے، کوئی اہم معاملہ ہے، تم لوگ چائے پیو۔“
”نہیں ابا جان ! ہم بھی چلیں گے، ورنہ ہم الجھن میں رہیں گے۔“
”اچھا چلو، بیگم تم بیگم شیرازی کو جانے نہ دینا، یہ رات کا کھانا بھی ہمارے ساتھ کھائیں گی، ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، کہاں پکاتی پھریں گی۔“ انہوںنے اٹھتے ہوئے کہا۔
”ارے ارے بھائی جان ! اس کی ضرورت نہیں۔“ بیگم شیرازی جلدی سے بولیں۔
”اس کی ضرورت ہے۔“ انہوں نے کہا اور محمود، فاروق اور فرزانہ کو ساتھ لے کر باہر نکل گئے۔
محکمے نے چند روز پہلے انہیں جیپ دے دی تھی۔ اگرچہ وہ انکار کرتے رہے تھے، لیکن آئی جی نہیں مانے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل ان کے لیے ناکافی ہے، اکثر ان چاروں کو اچانک کسی مہم پر جانا پڑجاتا ہے تو مشکل پیش آتی ہے۔ اس طرح انسپکٹر جمشید کو ان کی بات ماننا پڑی، لیکن اس کے باوجود انسپکٹر جمشید کو جب تنہا کہیں جانا پڑتا تو اپنی موٹر سائیکل ہی استعمال کرتے تھے، جیپ میں بیٹھ کر وہ غلا م جیلانی کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ انہیں حیرت تھی کہ خان رحمان وہاں کیا کررہے ہیں اور انہیں کیا پریشانی آپڑی ہے۔ پندرہ منٹ کے بعد غلام جیلانی کی شاندار کوٹھی کے سامنے پہنچ گئے۔ گھنٹی بجانے پر ان کے ملازم نے دروازہ کھولا اور انہیں اندر لے گیا۔ ڈرائنگ روم میں انہیں خان رحمان کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر آدمی ایک عورت اور دو ملازم نظر آئے۔
”السلام علیکم ۔“ چاروں نے اندر داخل ہوتے ہوئے ایک ساتھ کہا۔
”وعلیکم السلام، آﺅ آﺅ جمشید ، ہم تمہارا بے تابی سے انتظار کررہے تھے۔“
”خیر تو ہے۔“ انسپکٹر جمشید کے منہ سے نکلا۔
”خیریت ہی تو نہیں ہے۔“ خان رحمان نے جلدی سے کہا ، پھر انہیں ساری بات بتادی۔ ڈاکٹر انصاری کا جو خیال تھا، وہ بھی سنادیا، وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ سب سے پہلے انسپکٹر جمشید نے طاہر جیلانی کا معائنہ کیا۔ خاص طور پر اس کے گلے کو عد سے کی مدد سے دیکھا ، وہاں دوبار یک سے نشان موجود تھے، ایسے نشان جیسے کسی چیونٹی کے کاٹنے سے بن جاتے ہیں یا انجکشن کی سوئی چھوڑ دیتی ہے۔ محمود، فاروق اور فرزانہ نے بھی ان نشانوں کو دیکھا، پھر وہ کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ کمرے میں مو ت کی سی خاموشی تھی، پھر اس خاموشی میں انسپکٹر جمشید کی آواز اُبھری:
”میں نے اس موضوع پر بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔ ان واقعات کا تعلق فرانس کی سرزمین سے بتایا جاتا ہے، لیکن ابھی تک یہ بات ثابت نہیں ہوسکی کہ ان واقعات میں حقیقت بھی ہے یا نہیں۔ میں آپ کو مختصر طور پر بتاتا ہوں۔ ڈاکٹر ڈریکولا روحانیت کا ماہر تھا، اس نے مرتے ہوئے اپنی روح ایک مردہ جسم میں داخل کرلی تاکہ ہمیشہ زندہ رہ سکے، لیکن اس جسم کی خوراک صرف خون تھی۔ اب وہ خون پی کر زندہ رہ سکتا تھا۔ اس نے سب سے پہلے ایک لڑکی کو اپنا شکار بنایا، وہ اس کے گھر میں رات کے وقت داخل ہوا اور اس نے اپنے نوکیلے دانت ا س کے گلے میں گاڑ دیے۔ لڑکی کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے دیکھا، ایک خوف ناک سا آدمی اس کے اوپر جھکا ہوا ہے، اس کا لباس سیاہ ہے، چہرے پر بھیانک مسکراہٹ ہے، بازوﺅں پر اس کا لباس اس طرح لٹک رہا ہے جیسے وہ لباس نہ ہو، اس کے بازوﺅں کے پر ہوں، وہ اسے کوئی بہت بڑی چمگادڑ لگا، لیکن اس پر تو بے ہوشی سی طاری تھی، وہ جاگ بھی رہی تھی اور نیند کے عالم میں بھی تھی، کافی دیر تک وہ خوفناک آدمی اس کے گلے سے چمٹا رہا، پھر الگ ہٹ گیا۔ ا س کے ہونٹ خون سے ترتھے، اس کے ساتھ ہی لڑکی کو نیند آگئی۔
دوسری رات کو وہ پھر لڑکی کے کمرے میں آگیا۔ اس نے پھر اس کا خون پیا اور چلا گیا۔ جاتے وقت وہ کھڑکی میں سے کو دکر گیا، حالانکہ کمرا دوسری منزل پر تھا۔ ساتھ ہی لڑکی نے پروں کے پھڑپھڑانے کی آوازیں بھی سنی تھیں، یہ آواز اس نے اس وقت بھی سنی تھی۔ جب وہ اندر آیا تھا۔ اسے ایسا معلوم ہوا جیسے وہ شخص اڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف لڑکی کے گھر والے پریشان تھے، ڈاکٹر بھی حیران تھے، ابھی وہ اس بیماری کو سمجھ بھی نہ پائے تھے کہ لڑکی مرگئی۔ اسے دفن کردیا گیا، لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ مری نہیں، اب وہ ڈریکولا کی ایک ساتھی بن کر اُٹھے گی۔ پھر وہ اپنی قبر سے نکل آئی اور ڈریکولا کی طرح لوگوں کا خون پینے لگی۔ اس طرح وہ بھی ڈریکولا کی ساتھی بن گئی۔ ان کے ساتھیوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہونے لگا، پھر انہوں نے اپنا ایک محل بنالیا اور اس میں رہنے لگے۔
”یہ تو ہے وہ کہانی جو بار بار شائع ہوئی اور لوگوں نے پڑھی، اس کے بعد جو واقعات بیان کیے جاتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ ڈ ریکولا اور اس کے ساتھیوں کو مارنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا، مگر وہ کسی طرح بھی نہ مرتے تھے، گولی سے زخمی ضرور ہوجاتے تھے، لیکن ہوا میں اُڑتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہوجاتے تھے کسی کو ان کے ٹھکانے کا پتا نہیں تھا۔ آخر ان کا علاج ڈھونڈ لیا گیا اور اب یہ کہا جاتا ہے کہ ایسے آدمی کے عین دل میں اگر لکڑی کی سیخ ٹھونک دی جائے تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے اور وہ پھر کبھی نہیں اٹھ سکتا، لیکن اب ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہوگئی ہے کہ فرانس کو ان کی سرزمین کہا جانے لگا ہے۔“ یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید خاموش ہوگئے۔
”آپ کا یہ کہانی سنانے سے کیا مطلب ہے؟ کیا آ پ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے شہر میں ڈریکولا کا کوئی ساتھی آگیا ہے۔“ محمود نے سوال کیا۔
”میں ابھی کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ صرف یہ بتایا ہے کہ ڈریکولا کی کہانیاں کیا ہیں۔ انہوں نے کہا۔
”پھر اب تمہارا کیا پروگرام ہے، تم طاہر جیلانی کے لیے کیا کروگے؟“خان رحمان نے پوچھا۔
”طاہر جیلانی کی حفاظت کے لیے تو کچھ نہ کچھ کر ہی لیا جائے گا، مجھے تو فکر ان بچوں کی ہے جن کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں اور وہ ڈریکولا کا شکار بننے والے ہوں گے۔“ انہوں نے کہا۔
”اوہ! ان سب کے منہ سے نکلا، سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔
”ارے!“ اچانک انسپکٹر جمشید کے منہ سے نکلا اور وہ انہیں گھورنے لگے۔ ان کا چہرہ ایک دم زرد پڑ گیا تھا۔ پھر ان کا کپکپاتا ہوا ہاتھ فون کی طرف بڑھا ، انہوں نے نمبر گھمائے اور بولے:
”ہیلو،کون …. ہاں …. بیگم یہ میں ہوں…. دیکھو…. بیگم شیرازی کو ان کے گھر ہر گز نہ جانے دینا، ان کی بیماری کا مجھے پتا چل گیا ہے، میں ابھی واپس آرہا ہوں۔ وہ اپنے گھر ہر گز نہ جانے پائیں۔“
ان کے الفاظ نے محمود ، فاروق اور فرزانہ کو بری طرح چونکا دیا۔ وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انسپکٹر جمشید کو دیکھنے لگے۔ ان کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی طاری تھی۔
٭….٭….٭
کانچ کا ٹکڑا
”اُف اللہ ! تو کیا آپ کے خیال میں بیگم شیرازی بھی کسی ڈریکولا کا شکار ہوئی ہیں۔“ فرزانہ نے بوکھلا کر پوچھا۔
”اس کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے، جب کہ ڈاکٹر کو ان کی بیماری بھی سمجھ میں نہیں آئی۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”یہ ہم کن حالات کا شکار ہوگئے؟“ محمود کے منہ سے نکلا۔
”حالات تو ہمیں ہمیشہ ہی شکار کرتے رہتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، ادھر آنٹی کا سلسلہ ہے اور ادھر طاہر جیلانی صاحب کا۔“
فاروق نے کہا۔
”ہم دو پارٹیوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں، میں اور فرزانہ واپس جائیں گے اور بیگم شیرازی کی حفاظت کریں گے، تم دونوں اپنے انکل کے ساتھ یہاں رہو گے اور طاہر جیلانی کو نظروں میں رکھوگے۔“ انسپکٹر جمشید نے تجویز پیش کی۔
”لیکن ابا جان ! اس طرح تو یہ تین ہوجائیں گے اور ہم دو ہی رہ جائیں گے۔“ فرزانہ نے اعتراض کیا۔
”اور امی جان کہاں گئیں۔“ محمود مسکرایا۔
”اوہ ہاں! بالکل ٹھیک۔ تو پھر چلیے امی اور آنٹی پریشان ہوں گی۔“
”ہاں، بس چلتے ہیں، میں ان تینوں کو کچھ ہدایات دے دوں۔“
یہ کہہ کر وہ محمود، فاروق اور خان رحمان کو الگ ایک کونے میں لے گئے اور دبی آواز میں انہیں کچھ کہنے لگے۔ آخر میں انہوں نے کہا۔
”رحمان ! تمہارے پاس پستول تو ہوگا؟“
”نہیں! میں یہاں اپنے دوست کے بیٹے کی بیماری کی خبر سن کر آیا تھا، پستول کیسے ساتھ لاتا۔“ انہوں نے جواب دیا۔
”میرا مطلب تھا، گھر میں تو ہوگا۔“
”ہاں بھلا گھر میں کیوں نہ ہوگا۔“ وہ بولے۔
”تو جاکر وہ پستول لے آﺅ یا ظہور کے ذریعے منگالو۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”وہ تو پستول کو ہاتھ لگاتے ہوئے بھی کانپتا ہے۔“ خان رحمان مسکرائے۔
”ارے ! وہ کیوں؟“
”کہیں پستول چل نہ جائے، خیر…. تم فکر نہ کرو، میں ابھی جاکر پستول لے آتا ہوں۔ ابھی تو سورج بھی غروب نہیں ہوا، یہ ڈریکولا قسم کی چیزیں ، جہاں تک میرا خیال ہے، دن کی روشنی میں حملہ آور نہیں ہوتیں۔
”ہاں ! دن کے وقت انہیں دکھائی نہیں دیتا۔“
بس تو پھر ، فکر کی کیا بات ہے، میں ابھی جاکر لے آﺅں گا۔“
”ٹھیک ہے، میں تمہیں سمجھا چکا ہوں کہ کیا کرنا ہے۔اچھا۔“
اب ہم چلتے ہیں، ہمیں ادھر جاکر بھی کچھ انتظامات کرنے ہیں۔“
”ٹھیک ہے۔ آپ فکر نہ کریں ، آج رات ڈریکولا طاہر گیلانی کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔“ محمود نے کہا۔
انسپکٹر جمشید اور فرزانہ اُن سے رخصت ہوکر گھرپہنچے تو بیگم جمشید اور بیگم شیرازی کے رنگ واقعی اُڑے ہوئے تھے۔
”آپ نے وہ فون کیوں کیا تھا۔“ بیگم جمشید نے جلدی سے پوچھا۔
”ان کا تنہا رہنا ٹھیک نہیں، فکر کی کوئی بات نہیں ، آپ ہمارے ساتھ نہایت سکون سے رہیں گی، بیگم آج تم انہیں اپنے ساتھ سلا لینا، میں فرزانہ کے ساتھ ان کے کمرے میں سوجاﺅں گا۔“ انہوں نے کہا۔
”آخر بات کیا ہے۔ آپ نے فون پر کہا تھا ، میری بیماری سمجھ گئے ہیں۔“ بیگم شیرازی نے کہا۔
”ہاں اور آپ کے علاج کی تیاری کررہا ہوں، اسی لیے آپ کو گھر نہیں جانے دیا۔“ انہوں نے مسکرا کر کہا اور پھر فرزانہ سے بولے۔
”آﺅ فرزانہ ہم تمہاری آنٹی کے گھر کے سب دروازے بند کر آئیں۔“
”جی بہتر۔“ فرزانہ ان کا مطلب سمجھ کر بولی۔
دونوں بیگم شیرازی کے گھر میں داخل ہوئے، سب سے پہلے انہوں نے تمام کھڑکیاں اور دروازے اندر سے بندکیے اور پھر بیگم شیرازی کے سونے کے کمرے کا معائنہ کرنے لگے۔ انہوں نے ایک ایک انچ دیکھ ڈالا، لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔
”اس نے اپنا کوئی نشان نہیں چھوڑا، کہیں وہ سچ مچ ڈریکولا ہی تو نہیں ہے۔“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔
”اگر وہ ڈریکولا ہے تو پھر اسے سراغ چھوڑنے اور نہ چھوڑنے کی کیا پروا ہوسکتی ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”اس کا مطلب ہے،ا گر ہمیں کوئی سراغ مل جاتا ہے کہ وہ واقعی ڈریکو لا ہے۔“ فرزانہ کے لہجے میں حیرت تھی۔
”ابھی یہ بھی نہیں کہا جاسکتا ، حالات غیریقینی ہیں اور ہم جب تک خود اسے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں، کچھ نہیں کہہ سکتے، آﺅ ہم برآمدے اور صحن کا جائزہ لیں۔“
وہ کمرے سے باہر نکلے اور برآمدے کا جائزہ لینے لگے، اچانک کوئی چیز چمکتی نظر آئی۔ انسپکٹر جمشید نے جھک کر دیکھا برآمدے میں بلب روشن تھا، اس کی روشنی میں انہوں نے دیکھا ، وہاں کانچ کا ایک ننھا سا ٹکڑا پڑا تھا اور اس ٹکڑے پر خون لگا تھا۔
٭….٭….٭
رات سرد اور تاریک تھی۔ چاند کی آخری تاریخیں تھیں اور آسمان پر اَبر تھا، اس لیے تارے بھی نہیں نکلے تھے، سونے پر سہاگا یہ کہ ہلکی ہلکی بارش بھی شروع ہوگئی ، ایسے میں فاروق کے دانت بج اٹھے تو یہ کوئی عجیب بات نہیںتھی، لیکن محمود کو اس پر غصہ آگیا تھا۔
”اگر تمہارے دانتوں کی آواز ڈریکولا کے کانوں تک پہنچ گئی ، تو وہ ڈر کر بھاگ جائے گا۔“
”ہائیں! میرے دانت بجنے کی آواز اس قدر خوفناک ہے، پھر تو اسے ٹیپ کرالینا چاہیے اور جہاں کہیں بھی ڈریکولا کے آنے کا خطرہ ہو، وہ ٹیپ چلا دینا چاہیے، ویسے کیا تم یقین سے کہہ سکتے ہو کہ ڈریکولا کے کان بھی ہوتے ہیں۔“ فاروق شوخ لہجے میں کہتا چلا گیا۔
”کیوں ڈریکولا کے کان کیا کسی عورت نے کھا لیے تھے۔“ محمود کے لہجے میں حیرت تھی۔
”بھوت تو ڈریکولا سے ویسے ہی ڈر جائے، یار کیا خیال ہے، اگر ان دونوں کی کشتی کرادی جائے۔“ فاروق نے کہا اور خان رحمان بے ساختہ مسکرادیے۔
تینوں طاہر جیلانی کے کمرے میں موجود تھے۔ انہوں نے غلام جیلانی ، اس کی بیگم اور گھر کے دوسرے افراد کو آرام سے سونے کی ہدایت کی تھی اور خود طاہر کے کمرے میں رات بھر جاگتے رہنے کا پروگرام بنایا تھا۔ طاہر نیند کے انجکشن کے زیر اثر گہری نیند سو رہا تھا۔
”لو! کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔“ محمود نے براسا منہ بنایا۔
”جہاں تم کہو پہنچ جاتا ہوں۔“ فاروق بولا۔
”فی الحال تو اسی کمرے میں موجود ہو۔“
”اچھی بات ہے، ہاں تو تم میرے دانتوں کی آواز کی بات کررہے تھے۔ اوّل تو ڈریکولا کے کان اتنے تیز نہیں ہوسکتے، دوسرے ابھی ہم یہ بھی نہیں جانتے ، وہ ڈریکولا ہے بھی یا نہیں۔“ فاروق بولا۔
”اگروہ ڈریکولا نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟“ خان رحمان نے سوال کیا۔
”ہوسکتا ہے ڈریکولاکا بھوت ہو۔“ فاروق کے منہ سے سوچے سمجھے بغیر نکل گیا۔
”ڈریکولا کا بھوت۔“ دونوں کے منہ سے ایک ساتھ حیرت زدہ انداز میں نکلا۔
”ہاں!ڈریکولا کا بھوت!“
”بھئی واہ! یہ نئی بات ہوئی ، ایک ڈریکولا ہی کیا کم تھا کہ تم نے اس کے ساتھ بھوت کا بھی اضافہ کردیا۔“ خان رحمان مسکرائے۔
”ویسے خیال ہے خوب۔“ محمود مسکرایا۔
”میں مذاق نہیں کررہا، ہمارے ملک میں بھلاڈریکولا کہاں سے آسکتا ہے، یہ ضرور ا س کا کوئی بھوت ہے جو فرانس سے بھٹکتا ہوا یہاں تک پہنچ گیا ہے۔“
”اگر وہ ڈریکولا کا بھوت ہے تو پھر تو اس کا مقابلہ کرنا اور بھی مشکل ہوگا۔“ خان رحمان گھبراکر بولے۔
”فکر نہ کریں انکل، ہم نے بڑے بڑے بھوتو ں کو دیکھ رکھا ہے۔“ فاروق نے مذاق اڑانے والے لہجے میں کہا۔
”لیکن ڈریکولا کے بھوت کو نہیں دیکھا ہوگا۔“ محمود نے کہا۔
”ہم تمام دروازے اور کھڑکیاں بند کرچکے ہیں جن کھڑکیوں میں سلاخیں نہیں تھیں ، ان میں لکڑیاں پھنسا چکے ہیں ، دوسرے یہ کہ اس کمرے میں ہم خود موجود ہیں، ان حالات میںڈ ریکولا یا اس کے بھوت کی کیا دال گلے گی۔“ فاروق نے کہا۔
”ہائیں ! وہ دال کھاتا ہے۔“ محمو دکے منہ سے نکلا۔
”میں نے محاورہ استعمال کیا ہے۔“ فاروق نے جھلا کرکہا۔
”تو کاٹ کھانے کو کیوں دوڑ رہے ہو۔“ محمود تڑسے بولا۔
”لو اور سنو! انکل میں کوئی دوڑ رہا ہوں۔“ فاروق خان رحمان کی طرف مڑا۔
”نہیں تو…. تم تو چل بھی نہیں رہے، ہمارے پا س بیٹھے ہو۔“ خان رحمان گھبرا کر بولے۔
”تو پھر اسے سمجھادیں ،جھوٹ نہ بولا کرے۔‘ ‘ فاروق مسکرایا۔
”جھوٹ بولنا تو واقعی بہت بری بات ہے۔“ خان رحمان بولے۔
”انکل آپ بھی اس کی باتوں میں آگئے، میں نے بھی تو مذاق میں محاورہ بولا تھا۔“
”ارے ہائیں! تم نے پہلے کیوںنہیں بتایا۔“ فاروق کے لہجے میں حیرت تھی۔
”بنو نہیں! میں جانتا ہوں، تم محاوروں کو اچھی طرح سمجھتے ہو۔“ محمود نے براسا منہ بنایا۔
”تو ہم میں سے محاوروں کو بری طرح کون سمجھتا ہے، ذرا یہ بھی بتاتے چلو، کیونکہ میں محاوروں کی بے عزتی برداشت نہیں کرسکتا، انکل آپ کرسکتے ہیں؟“ فاروق کہتے کہتے خان رحمان کی طر ف متوجہ ہوگیا۔
”ہر گز نہیں، محاوروں کی بے عزتی بھی بری بات ہے۔“ انہوں نے مسکراکر کہا۔
”انکل! آپ اس کی اُوٹ پٹانگ باتوں میں اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔“ محمود کے لہجے میں حیرت تھی۔
”اور کیاکروں۔اگر خاموش بیٹھ گئے تو رات کس طرح گزرے گی؟ یہ پہاڑ جیسی رات۔“ خان رحمان نے چھت کی طرف دیکھ کر ٹھنڈا سانس بھرا۔
”آج تک یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ رات پہاڑ جیسی کس طرح ہوسکتی ہے؟ رات کالے دیو کی طرح تو ہوسکتی ہے، پہاڑ جیسی ہر گز نہیں ہوسکتی۔“ فاروق نے کہا۔
”یہ بھی محاورہ ہے۔“محمو دمسکرایا۔
”کہیں ہم پر محاوروں کا بھوت تو سوار نہیں ہوگیا۔“فاروق کے منہ سے نکلا۔
”نہیں تو…. ہم پر تو ڈریکولا کا بھوت سوار ہے۔“ محمود نے ہنس کر کہا۔
”ارے باپ رے۔“ فاروق نے بوکھلا کر اپنے سر پر ہاتھ پھیرا پھر فوراً پرسکون ہوکر بولا:
”یار کیوں مذاق کرتے ہو، میرے سر پر تو میرے بالوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔“
”ویسے تم دونوںکا خیال ہے، آج یہاں وہ ڈریکولا کا بچہ آئے گا۔“خان رحمان نے پوچھا۔
”کچھ کہا نہیں جاسکتا ، سننے میں تو یہی آیا ہے کہ ڈریکولا اپنے شکار کا خون اس وقت تک پیتا رہتا ہے جب تک وہ مر نہیں جاتااور قبر میں نہیں پہنچ جاتا، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ قبر میں جانے کے بعد جب وہ اس میں سے اُٹھے گا تو اس کا ساتھی بن چکا ہوگا۔“
”پھر تو وہ یہاں ضرور آئے گا۔“خان رحمان بولے۔
”جی ہاں! اسی لیے تو ہم یہاں موجود ہیں۔“ محمود بولا۔
”رات کے گیارہ بج چکے ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ وہ گیارہ اور بارہ کے درمیان آتا ہے۔ ا س لیے اب ہمیں ابا جان کی ہدایات پر عمل شروع کردینا چاہیے۔“ فاروق بولا۔
”ٹھیک ہے، انکل آپ یہیں ٹھہریں۔ ہم اپنا کام ختم کرکے آتے ہیں۔ “
خان رحمن پھٹی پھٹی آنکھوں سے دائیں بائیں دیکھنے لگے۔ ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔ انہیں محمود اور فاروق شدت سے یاد آئے جن کی باتوں سے کم از کم خوف کا احساس تو جاتا رہتا تھا۔ خان رحمن ابھی یہی سوچ رہے تھے کہ کسی چیز کے کھٹکے کی آواز سے چونکے۔
دراصل محمود اور فاروق اپنا کام نمٹا آئے تھے جو آنے والے حالات کے پیش نظر انہوں نے پلاننگ کی ہوئی تھی۔ ان دونوں کو دیکھ کر خان رحمن مسکرا دیے۔ اب تینوں نے سر جوڑ کر پلان کے نقشے پر نظریں جما دیں۔
٭….٭….٭
کھنڈرات کی آواز
”یہ تو کانچ کا ٹکڑا ہے۔“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔
”ہاں ہم جانتے ہیں، بیگم شیرازی بہت صفائی پسند ہیں، ان کے گھر میں صفائی کرنے والی ہر روز آتی ہے اور گھر کے ایک ایک انچ کو صاف کرتی ہے، پھر یہ ٹکڑا یہاں کہاں سے آگیا؟ اور اس پر خون بھی لگا ہوا ہے۔“
”ہوسکتا ہے، یہ اسی صفائی کرنے والی کا خون ہو۔“ فرزانہ بولی۔
”برآمدے میں کوئی نہ کوئی اور دھبا کہیں نظر نہیں آرہا۔یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ صرف اس ٹکڑے پر خون لگا ہوا ہے۔ خیر ہم اس ٹکڑے کو محفوظ رکھ لیتے ہیں ۔ اس پر بعد میں غور کریں گے۔ میرا خیال ہے، یہاں کوئی اور کام کی چیز نہیں ہے،اس لیے واپس چلتے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”ڈریکو لا اگر یہاں آیا ، تو آنٹی کو نہ پاکر کس قدر مایوس ہوگا، کیا وہ واپس چلا جائے گا؟“ فرزانہ نے سوال کیا۔
”واپس جانے کے سوا وہ اور کر بھی کیا سکتا ہے، لیکن نہیں، وہ یہاں سے ہوکر سیدھا ہمارے گھر آئے گا۔“ انہوں نے چونک کر کہا۔
”یہ آ پ کس طرح کہہ سکتے ہیں، اسے کس طرح معلوم ہوجائے گا کہ آنٹی ہمارے ہاں ہیں۔“
”خون کی بو سے ،یہ لوگ اپنے شکار کی بو بہت دور سے محسوس کرلیتے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”آپ تو اس انداز سے کہہ رہے ہیں جیسے ڈریکولا کا سچ مچ وجود ہے جب کہ میں اسے محض کہانیاں خیال کرتی ہوں۔“
”یہ ہوسکتا ہے کہ دنیا میں ڈریکولا کاکوئی وجود نہ ہو اور یہ صرف کہانیاں ہوں، لیکن ہمارے سامنے جو حالات پیش آئے ہیں، ان کی روشنی میں دعوے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ دیکھو نا، آخر طاہر جیلانی کے جسم کا خون کہاں چلا گیا؟ بیگم شیرازی کیوں زرد نظر آرہی ہیں؟ ڈاکٹروں کی سمجھ میں ان لوگوں کی بیماری کیوں نہیں آئی؟ انسانی جسم سے خون صرف چوٹ لگنے یا کٹنے کی صورت میں نکلتا ہے، طاہر جیلانی کے جسم پر زخم کا کوئی نشان نہیں ملا، البتہ اس کی گردن پر ضرور انجکشن کی سوئیوں جیسے دو نشان موجود ہیں۔“ انسپکٹر جمشید کہتے چلے گئے۔
”اور ہم آنٹی کے گلے کو دیکھنا بالکل ہی بھول گئے۔“ فرزانہ مسکرائی۔
”اوہ ہاں! آﺅ چلیں پہلے ان کے گلے کا معائنہ کریں۔ پھر ان کی حفاظت کے سلسلے میں ضروری اقدامات کریں گے۔“
یہ کہہ کر وہ بیگم شیرازی کے گھر سے باہر نکل آئے۔ دروازے کو انہوں نے تالا لگا دیا تاکہ ڈریکولا تالا دیکھ کر ہی سمجھ جائے کہ اندر کوئی نہیں ہے۔ اپنے گھر میں داخل ہونے کے بعدانہوں نے دروازے اور کھڑکیاں اندر سے بند کرلیں اور اندرونی کمرے میں آئے یہاں بیگم جمشید او ربیگم شیرازی بستروں میں دُبکی باتیں کررہی تھیں۔
”میں آپ کی گردن کا معائنہ کرنا چاہتا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید نے بیگم شیرازی کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
”کیامطلب…. کیا مجھے گلے کی کوئی بیماری ہے اور یہ آپ ڈاکٹر کب سے ہوگئے؟“ بیگم شیرازی کے لہجے میں حیرت تھی۔
”ایسی کوئی بات نہیں، میں ایک خیال کے تحت آپ کی گردن دیکھنا چاہتا ہوں۔“ انہوں نے کہا۔
بیگم شیرازی نے گردن کے گرد سے دوپٹا ہٹالیا اور چہرہ اوپر کرلیا۔ انسپکٹر جمشید نے جیب سے عدسہ نکالا اور ان کی گرد ن پر جھک گئے۔ پھر انہوں نے عدسہ فرزانہ کے حوالے کردیا۔ اس نے عدسہ میں سے آنٹی کی گردن دیکھی اور پھر زور سے چونکی۔ انجکشن جیسے نشان ان کی گردن پر بھی موجود تھے۔ دونوں سکتے ہیں آگئے، انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ،جیسے کہہ رہے ہوں، یہ تو سچ مچ کسی ڈریکولا کا کام معلوم ہوتا ہے۔ وہ اصل بات ان دونوں کو بتا کر خوف زدہ نہیں کرنا چاہتے تھے، تا ہم بیگم جمشید نے بھانپ لیا کہ کوئی گڑبڑ ہے۔ انہوں نے پریشان ہوکر کہا:
”خیر تو ہے ، آپ ان کی گردن پر کیا دیکھ رہے ہیں۔“
”کچھ نہیں، یونہی ایک خیال آیا تھا، لیکن فکر والی کوئی بات نہیں، رات کافی گزرچکی ہے، اب آپ دونوں سونے کی کوشش کریں۔ کمرے کا دروازہ اندر سے بند کرلیں۔“
”کیا کوئی خطرہ ہے؟“ بیگم شیرازی نے پریشان ہوکر پوچھا۔
”نہیں !ہمارے ہوتے ہوئے خطرے کی کیا بات ہوسکتی ہے۔“ یہ کہتے ہی انسپکٹر جمشید باہر نکل آئے تاکہ وہ کوئی اور سوال نہ کر بیٹھیں۔
ساتھ ہی انہوں نے دروازے کی چٹخنی لگنے کی آواز سنی۔
”تمہاری امی کو شک ہوگیا ہے، وہ جان گئی ہیں کہ خطرہ ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے سرگوشی کی۔
”یہ تو اور اچھی بات ہے، اب وہ بھی ہوشیار رہیں گی۔“ فرزانہ بولی۔
”لیکن ان کے ہوشیارہونے سے کچھ فائدہ نہیں، اگر ڈریکولا ان کے سامنے آگیا تو وہ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہیں گی۔“
”خیر دیکھا جائے گا۔ اب ہمیں کیا کرنا ہے؟“ فرزانہ بولی۔
”بس دیکھتی جاﺅ۔“
یہ کہہ کر انہوں نے جیب سے کوئی چیز نکالی اور برآمدے کے فرش پر جھک گئے۔ عین اسی وقت انہوںنے کسی شیشے کے ٹوٹنے کی آواز سنی۔
ان کے کان کھڑے ہوئے، وہ چونک کر سیدھے ہوگئے اور پھر بے ساختہ بیرونی دروازے کی طرف لپکے۔ بیرونی دروازے میں لگا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا، اس کی کرچیاں اندر کی طرف بکھر گئی تھیں۔ انسپکٹر جمشید بلا کی تیزی سے دروازے تک پہنچے۔ چٹخنی بھی گری ہوئی تھی، لیکن اندر تو کوئی بھی نہیں تھا۔ کیا شیشہ توڑ کر دروازہ کھولنے والا باہر ہی رہ گیاتھا، لیکن یہ کیسے ہوسکتا تھا۔ ان کے ذہن تیزی سے گردش کرنے لگے۔
”ابا جان ! کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ ہمارے یہاں آنے سے پہلے ہی اندر داخل ہوچکا ہو؟“ فرزانہ بولی۔
”ہم برآمدے میں سے آرہے ہیں۔ اگر اس نے ہمارے قدموں کی آواز سن لی تھی اور وہ اندر بھی داخل ہوچکا تھا تو پھر دو ہی باتیں ہوسکتی ہیں۔ یا وہ باہر نکل گیا یا وہ تمہارے کمرے میں چھپ گیا ہے۔ تمہارے کمرے میں ہونے کی صورت میں بھی وہ جب چاہے پائیں باغ والی کھڑکی کے راستے فرار ہوسکتا ہے، اس لیے تم فوراً پائیں باغ میں پہنچو، میں ادھر سے تمہارے کمرے میں داخل ہوتا ہوں۔“
”بہت بہتر!“ فرزانہ نے کہا اور دوڑتی ہوئی باہر نکل گئی۔ اس کا دل دھک دھک کررہا تھا۔ پائیں باغ میں پہنچ کر اس نے دیکھا، کھڑکی بند تھی۔ وہ اس کے نیچے چلی آئی اور کان اندر سے آنے والی کسی آواز کی طرف لگادیے، لیکن اندر تو گہری خاموشی طاری تھی ، اس نے سوچا ،کیا ابھی تک ابا جان اندر داخل نہیں ہوئے، شاید وہ اسے کھڑکی کے نیچے پہنچنے کی مہلت دینے کے لیے صحن میں ہی رُک گئے ہیں۔ اسی وقت اس کے کان کھڑے ہوگئے، جسم میں سنسنی کی لہر بجلی کی طرح سرایت کرگئی۔ اس نے ایک عجیب خوفناک قسم کی آواز سنی تھی۔
ایسی آواز اس نے اپنی زندگی میںپہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ یہ آواز نہ تو کسی انسان کے حلق سے نکلی تھی او رنہ کسی درندے کے، فرزانہ اندا ز ہ نہ لگا سکی کہ آوا ز کس جان دار کی تھی۔
اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوتے چلے گئے۔ عین اسی وقت ایک فائر کی آواز گونجی۔
٭….٭….٭
ان کے سامنے زندگی کا سب سے حیران کن ترین منظر تھا خان رحمان کمرے کے فرش پر اُوندھے منہ بے ہوش پڑے تھے۔ ان کا پستول ان کے سر سے تھوڑی دور پڑا تھا۔ طاہر جیلانی بستر پر دراز تھا اور اس پر ایک عجیب خوف ناک آدمی جھکا ہوا تھا۔ اس کے جسم پر سیاہ لباس تھا اور شاید سر سے پیر تک ایک ہی کپڑا تھا۔ دونوں بازوﺅں میں بھی کپڑا لٹک رہا تھا جیسے چمگادڑکے پر ہوں۔ ابھی وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکے تھے، کیونکہ چہرہ تو طاہر جیلانی پر جھکا ہوا تھا۔خدا جانے وہ اس کے چہرے پر جھکا کیا کررہا تھا۔ محمود اور فاروق کے اوسان خطا ہوچکے تھے۔ یہ بات ان کی سمجھ سے باہر تھی کہ ایک منٹ کے اندر کیا ہوگیا تھا۔ خان رحمان جیسے دلیر آدمی کس طرح بے ہوش ہوگئے تھے، کیا انہیں پستول چلانے کاموقع نہیں ملا تھا۔ اچانک محمود چونک اُٹھا، اس نے اپنے سر کو جھٹکا دیا اور پھر لپک کر پستول اُٹھالیا۔ اس کے ساتھ ہی فاروق بھی جیسے ہوش میں آگیا۔ اس نے چلا کرکہا۔
”خبردار! گولی ماردیں گے، سیدھے کھڑے ہوجاﺅ۔“
اس عجیب مخلوق نے کوئی گھبراہٹ ظاہرنہیں کی،نہایت سکون سے اسی طرح جھکے جھکے گردن ان کی طرف گھمائی اور وہ لرز اُٹھے۔
ان کے سامنے ایک خوفناک مخلوق موجود تھی۔ اس کے سامنے والے دانت ہونٹوں سے باہر نکلے ہوئے تھے جن سے خون ٹپک رہاتھا۔ آنکھوں میں ایک ایسی خوفناک چمک تھی، جو دوسروں کو بے ہو ش کردینے کے لیے کافی تھی۔ چہرے پر موت کی زردی پھیلی ہوئی تھی، دانتوں کے ساتھ ہونٹ بھی خون سے تر تھے۔ اس کی ناک لمبی تھی۔ جبڑوں کی ہڈیاں اُبھری ہوئی اور قد بہت لمبا تھا۔ یہ بالکل وہی حلیہ تھا جو ڈریکولا کی کہانیوں میں بیان کیا جاتا ہے۔
ان کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر وہ سیدھا کھڑا ہوگیا اور پھر ایک ایک قدم ان کی طرف بڑھنے لگا۔
”محمود! فائر کرو۔“ فاروق نے تیز آواز میں کہا۔
محمود نے اس کے سینے کا نشانہ لے کرٹریگر دبادیا۔ گولی چلنے کو دھماکا ہوا، ڈریکولا بدستور ان کی طرف بڑھتا رہا۔ گولی نے اس کا بال بھی بیکا نہیں کیا تھا۔ دونوں کے جسموں میں سرد لہریں دوڑ گئیں۔ اچانک محمود کو کوئی خیال آیا، اس نے اس کے بازو کا نشانہ لیا اور فائر کردیا۔
دوسرا لمحہ چونکا دینے والا تھا، ڈریکو لا کے منہ سے ایک ہولناک چیخ نکلی اور اس کے اُٹھتے قدم رُک گئے۔ چند سیکنڈ کے لیے وہ انہیں گھورتا رہا، پھر کھڑکی کی طرف مڑا اور گویا ہوا میں اڑتا ہوا اس تک جا پہنچا۔ انہیں یہی معلوم ہوا تھا جیسے وہ ہوا میں اُڑتا ہوا کھڑکی تک پہنچا ہو۔ اس نے ایک جھٹکے سے کھڑکی کے پٹ کھول ڈالے مگر کھڑکی میں تو سلاخیں لگ چکی تھیں۔ اس نے سلاخوں پر ایک زور دار ہاتھ رسید کیا،کھڑکی کی چوکھٹ اُکھڑ گئی اور دوسری طرف جا گری۔ یہ دیکھ کر محمود اور فاروق کی سٹی گم ہوگئی۔ اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ ڈریکولا بلا کی طاقت رکھتا ہے اور پھر انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے زیادہ عجیب منظر دیکھا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ڈریکولا نے کھڑکی میں سے چھلانگ لگادی۔
دونوں بے تحاشا دوڑتے ہوئے کھڑکی تک آئے۔ انہوں نے دیکھا، ڈریکولا تیرکی طرح نیچے جارہاتھا۔ جیسے کوئی پرندہ ہوا میں غوطہ لگاتاہے۔ پھر ا س کے قدم زمین سے ٹکرائے، وہ اچھلا جیسے کوئی گیند اچھلتی ہے اور پھر جونہی دوبارہ قدم زمین سے لگے۔ اس نے دوڑنا شروع کردیا۔
”فاروق جلدی کرو ،کہیں وہ نکل نہ جائے۔“ محمود نے گھبرا کر کہا۔
وہ پوری رفتار سے دوڑتے ہوئے زینے تک آئے اور سیڑھیاں اُترنے لگے۔ انہوں نے اپنے پیچھے دوڑتے قدموں کی آوازیں بھی سنیں، شاید گھر کے لوگ بیدا ر ہوگئے تھے۔ گھر سے باہر نکلتے ہی وہ اس سڑک پر دوڑنے لگے جس پر ڈریکولا کو دوڑتے دیکھا تھا۔ دور بہت دور وہ گویا ہوا میں اڑا جارہا تھا۔ اس کے قدم زمین پر لگتے بھی دکھائی دیتے تھے اور پھر وہ اس طرح اُچھلتا جیسے سڑک اسے اُوپر اچھال رہی ہو۔ ان چھلانگوں نے اس کی رفتار کو بہت زیادہ کردیا تھا اور ان دونوں کے بس کی بات نہیں تھی کہ دوڑتے ہوئے اس تک جاپہنچیں، تاہم انہوں نے ہمت نہ ہاری اور دوڑتے رہے۔
وہ دوڑتے چلے گئے ، اگرچہ اب ڈریکولا انہیں نظر بھی نہیں آرہا تھا۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا، اس وقت تک دوڑتے رہیں گے جب تک کہ ا س کے ٹھکانے پر نہیں پہنچ جاتے۔ انہیں یہ بات معلوم تھی، جس سڑک پر وہ چلے جارہے ہیں، وہ شہر سے باہر ویرانوں میں لے جاتی ہے۔ ان ویرانوں میں بے تحاشا کھنڈر بھی تھے اور ان کھنڈروں میں کسی حد تک قابل استعمال عمارات بھی تھیں۔ یہ اس قدر بوسیدہ اور پرانی تھیں کہ کوئی ان کی طرف رُخ کرنا پسند نہیں کرتا تھا اور کچھ عرصے سے تو شہر میں یہ بات مشہور ہوچکی تھی کہ ان کھنڈروں میں کوئی بد روح رہتی ہے جو راتوں کو عجیب و غریب آوازیں نکالتی ہے۔ پاس سے گزرنے والے اگر ان آوازوں کو سن لیتے ہیں تو بے ہوش ہوکر گرجاتے ہیں۔ اس لیے لوگوں نے رات کے وقت تو کیا، دن کے اوقات میں بھی ان کھنڈروں کی طرف سے گزرنا چھوڑ دیا تھا۔
محمود اور فاروق بے تحاشا دوڑے ہوئے اب انہی کھنڈروں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ محمود کے دائیں ہاتھ میں ابھی تک پستول دبا ہوا تھا۔ ڈریکولا اب ان کی نظروں سے اوجھل ہوچکا تھا۔ آدھ گھنٹے تک دوڑتے رہنے کے بعد وہ شہری حدود سے باہر نکل آئے اور اب وہ ویرانہ شروع ہوگیا۔
یہاں ہولناکی کا راج تھا، ایک عجیب اور خوفناک سا سنسان پن طاری تھی۔ اب انہوں نے دوڑنا بند کردیا اور آہستہ آہستہ کھنڈروں کی طرف بڑھنے لگے، وہ سمجھ گئے، انہی میں سے کسی ایک کھنڈر میں ڈریکولا رہتا ہے اور اسی کھنڈر کو تلاش کرنا تھا۔
ایک ایک کھنڈر کا احتیاط سے جائزہ لیتے ہوئے وہ آگے بڑھنے لگے۔ اچانک ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اسی وقت وہ آواز کھنڈروں کا سینہ چیرتی ان کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔
آواز کان کے پردے پھاڑ دینے والی تھی اور عجیب ترین بات یہ تھی کہ ہر کھنڈر سے اُٹھتی محسوس ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ اس وقت وہ جس کھنڈر میں کھڑے تھے، آوازیں اس میں سے بھی گونجتی محسوس ہوئی تھیں۔
وہ کپکپا اُٹھے۔
٭….٭….٭
تعاقب میں
انسپکٹر جمشید نے کمرے میں قدم رکھا تو فوراً ہی انہیں احساس ہوگیا کہ وہاں کوئی موجود ہے۔ گہری تاریکی کی وجہ سے وہ اسے دیکھ نہ سکے۔ کمرے کا بلب بجھادیا گیا تھا اور برآمدے کا بلب وہ خود بجھا کر آئے تھے۔ دروازہ انہیں کھلاملا تھا۔
کسی کے زور زور سے سانس لینے کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ سمجھ گئے کہ وہ جو کوئی بھی ہے، کسی کونے میں موجود ہے، تاریکی میں اس پر حملہ کرنا خطرناک ہوسکتا تھا، کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے، مقابلہ کس سے ہے اور وہ کس قسم کے ہتھیاروں سے لیس ہے، چنانچہ اندر داخل ہونے کے بعد وہ فوراً فرش پر لیٹ گئے اور دم سادھ لیا۔ ان کا ہاتھ جیب میں رینگ گیا۔ دوسرے ہی لمحے پستول ان کے ہاتھ میں تھا، انہوں نے سانسوں کی آواز کے ذریعے نشانہ لیا اور گولی چلانے ہی والے تھے کہ کمرے میں ایک عجیب و غریب آواز گونجی۔ انہوں نے ایسی آواز پہلے کبھی نہیں سنی تھی، وہ دھک سے رہ گئے۔ انہوں نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ، آواز کی سمت فائر کردیا۔گولی کی آواز پورے کمرے میں گونج اُٹھی، لیکن جواب میں کوئی چیخ سنائی نہ دی۔ شاید گولی اس کے نہیں لگی تھی۔ اسی وقت انہوں نے محسوس کیا،کوئی ہوا میں اُڑتا ہوا کمرے کے دروازے سے نکلتا چلاگیا ہے۔ وہ فوراً کمرے سے باہر نکلے اور صدر دروازے کی طرف دوڑے ، دروازہ فرزانہ کی وجہ سے اندر سے بند نہیں کیا تھا۔ انہوں نے باہر نکل کر دیکھا ، لیکن کوئی بھی نظر نہ آیا۔ انہوں نے سوچا، کہیں وہ باہر جانے کی بجائے اندر نہ چلا گیا ہو۔ فوراً ہی وہ مڑے اور بیگم کے کمرے کی طرف لپکے۔ انہوں نے ہدایت کی تھی کہ دروازہ اندر سے بند رکھا جائے، لیکن یہ دیکھ کر ان کی سٹی گم ہوگئی کہ دروازہ چوپٹ تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی ان کے ہوش اڑگئے۔
ڈریکولا قسم کاایک آدمی بیگم شیرازی پر جھکا ہوا تھا اور بیگم جمشید ایک طرف بے ہوش پڑی تھیں۔
”خبردار ! سیدھے کھڑے ہوجاﺅ۔“
ڈریکولا نے پلٹ کر دیکھا اور ان کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر چونک اُٹھا۔ دوسری طرف انسپکٹر جمشید حیرت زدہ تھے۔ ان کے سامنے واقعی ایک عدد ڈریکولا کھڑا تھا جب کہ وہ اب تک یہ سمجھتے رہے تھے کہ یہ سب شرارت کوئی چالاک آدمی کررہا ہے، لیکن اس شخص کی شکل صورت اس حلیے کے عین مطابق تھی جو فلموں میں ڈریکولا کا دکھایا جاتا رہا تھا یا کتابوںمیں لکھا گیا تھا۔ ایک پل کے لیے انہوں نے سوچا…. تو کیا وا قعی کوئی ڈریکولا ہمارے ملک میں آگیا ہے، لوگوں کا خون پینے کے لیے اور اپنے ساتھیوں کی تعداد میںا ضافہ کرنے کے لیے، دوسرے ہی لمحے وہ چونکے۔ انہوں نے اس کے دل کا نشانہ لے کر فائر کردیا، لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔ انہوں نے کچھ سوچ کر اس کے بازو کانشانہ لے کر فائر کیا۔ اس مرتبہ ڈریکولا کے منہ سے بھیانک چیخ نکل گئی اور وہ گویا ہوا میں اُڑتا ہوا کمرے کی دروازے کی طرف چلا۔ یہ دیکھ کر انسپکٹر جمشید نے ایک ساتھ کئی فائر کرڈالے، اس کے باوجود وہ ان کے سر کے اُوپر سے گزرتا ہوا برآمدے میں جا پہنچا اور وہاں سے بیرونی دروازے تک پہنچ گیا۔ انسپکٹر جمشید جتنی دیر میں بیرونی دروازے تک پہنچتے، وہ باہر نکل چکا تھا۔ باہر نکلتے ہی انہو ں نے ڈریکولا کو ٹھوکر کھا کر اُوندھے منہ گرتے دیکھا۔ یہ کام فرزانہ نے دکھایا تھا، اس نے اپنی ٹانگ آگے کردی تھی۔ ڈریکولااس کی طرف سے بے خبر تھا، اس لیے دھڑام سے گرا۔ انسپکٹر جمشید نے یہ دیکھ کر فوراً اس پر چھلانگ لگائی، انہیں یوں لگا جیسے وہ کسی لوہے کے بنے ہوئے آدمی پر گرے ہوں جسم کے مختلف حصوں پر سخت چوٹیں آئیں مگر انہوں نے پروانہ کی اور ڈریکو لا کو گلے سے دبوچ لیا، لیکن پھر کئی فٹ اُونچا اچھلے اور زمین پر آرہے۔ ڈریکو لا میں خوفناک طاقت تھی، اس نے اپنی طاقت سے کام لے کر انہیں ہلکے پھلکے کھلونے کی طرح اچھال دیا تھا۔ دوسرے ہی لمحے وہ ایک بار پھراُڑا چلا جارہا تھا، اس کے قدم مشکل سے ہی زمین پر لگتے نظر آتے تھے۔ جب تک وہ دونوں سنبھلے، وہ بہت دور جاچکا تھا۔
”آﺅ فرزانہ جلدی کرو، کہیں وہ نکل نہ جائے۔“ انسپکٹر جمشید چلائے اور جیپ کی طرف دوڑ پڑے۔ فرزانہ بھی فوراً جیپ پر سوار ہوگئی۔ انسپکٹر جمشید نے جیپ کوپوری رفتار پر چھوڑ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ بہت جلد اس تک پہنچ جائیں گے، لیکن ان کا یہ خیال غلط نکلا، کیونکہ دو منٹ تک جیپ دوڑتے رہنے کے باوجود انہیں ڈریکولاکہیں نظر نہیں آیا۔
”حیرت ہے۔ وہ اتنا تیز کس طرح دوڑ سکتا ہے؟“ انسپکٹر جمشید بڑبڑائے۔
”یوں لگتاہے جیسے وہ اُڑنے کی طاقت رکھتا ہے اور اگر یہی بات ہے تو ہم جیپ پوری رفتار پر چھوڑ کر بھی اسے نہیں پکڑ سکتے ۔“ فرزانہ بولی۔
”لیکن ایک انسان کس طرح اڑ سکتا ہے؟ آج تک ایسا نہیں ہوا۔“ انہوں نے کہا۔
”ڈریکولا کے بارے میں تو یہی سنا ہے، وہ تقریباً ہوا میں اُڑسکتا ہے۔“
”یہ سب قصے کہانیاں ہیں، حقیقت میں ایسا نہیں ہوسکتا۔“ انہوں نے کہا۔
”لیکن اب تو ہم آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔“ فرزانہ بولی۔
”ہوسکتا ہے، وہ جیپ کو آتے دیکھ کر ادھر ادھر کہیں چھپ گیا ہو اور ہم اس سے آگے نکل آئے ہوں۔“ انہوں نے خیال ظاہر کیا۔
”ہاں! یہ بھی ہوسکتا ہے، پھر کیا ہم واپس چلیں۔“ فرزانہ بولی۔
”نہیں! واپس جاکر بھی ہم اسے نہیں پاسکیں گے۔“ انہوں نے کہا۔
”کہیں وہ واپس آنٹی تک نہ پہنچ جائے۔“ فرزانہ نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔
”کم از کم آج رات وہ دوبارہ ان تک نہیں پہنچ سکتا۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”وہ کیوں؟“ فرزانہ نے پوچھا۔
”اس لیے کہ وہ زخمی ہوچکا ہے اور زخمی حالت میں اسے خون پینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس لیے وہ اپنے ٹھکانے پر جاکر خون روکنے کا بندوبست کرے گا اور آرام کرے گا،کل ہوسکتا ہے ، وہ پھرآئے۔“انہوں نے کہا۔
”آخر یہ ڈریکولا ہمارے شہر میں کہاں سے آگیا؟“ فرزانہ نے پریشان ہوکر کہا۔
”آگیا نہیں، آگئے، میرا خیال ہے ، یہ ایک سے زائد ہیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”اوہ ! آ پ یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں؟“
”اس طرح کہ ادھر تو بیگم شیرازی پر حملہ کیاگیا ہے، ادھر طاہر جیلانی کے ساتھ بھی ایسا ہی واقع پیش آیاہوگا۔ اس کا مطلب ہے ، یہ ایک سے زیادہ ہیں۔“
”لیکن ابھی یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اُ دھر بھی ڈریکولا پہنچا ہوگا، ہوسکتا ہے، اسی کو بعد میں ادھر جانا ہو، یا یہ وہاں سے ہوکر آیا ہو۔‘ ‘فرزانہ نے اعتراض کیا۔ اس بات کو سن کر انسپکٹر جمشید عجیب سے انداز میں مسکرائے ، پھر بولے:
”مجھے پہلے ہی اس بات کا خیال تھا اور میں نے محمود اور فاروق کو ہدایت کی تھی کہ اگر ڈریکولا آئے تو گھڑی پر ضرور نظر ڈال لیں۔ میں بھی وقت نوٹ کوچکا ہوں، اس طرح ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ ڈریکولا ایک ہی ہے یا ایک سے زائد۔“
”لیکن ابا جان ! اس میں اتنی طاقت کیوں ہے۔“
”انسانی جسم میں اصل طاقت خون کی بدولت ہے او روہ خون پیتا ہے۔ نہ جانے اس وقت تک کتنے انسانوں کا خون پی چکا ہوگا، تو پھر اس میں طاقت کیوں نہ ہوگی۔“ انہوں نے جواب دیا۔
”آپ کی بات سن کر میںمحمود اور فاروق کے لیے پریشان ہوگئی ہوں۔“
”فکر نہ کرو، شاید وہ بھی ہمیں اسی سڑک پر کہیں مل جائیں، اسی لیے تو میں واپس نہیں مڑاا ور آگے چلاآیا ہوں۔“ انہوں نے کہا۔
”اوہ۔“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔
”عین اسی وقت انسپکٹر جمشید نے بریک لگائے۔ وہ شہری حدود سے باہر نکل کر ویرانوں کی حدود میں آگئے تھے۔ فرزانہ نے سنا ،ا نسپکٹر جمشید اس طرح بڑبڑائے تھے جیسے خواب میں بولے ہوں۔
”اوہو…. ان کھنڈروں کے بارے میں تو میں بہت کچھ سن چکا ہوں۔ آﺅ فرزانہ ذرا ان پر ایک نظر ڈال لیں۔“
یہ کہہ کر وہ جیپ سے اُتر آئے۔ فرزانہ نے بھی نیچے چھلانگ لگادی۔ دونوں آگے بڑھے اور پھر پہلے کھنڈر میں ٹارچ کی روشنی ڈالتے ہی وہ زور سے اُچھلے۔
٭….٭….٭
”یار یہ آواز کیسی تھی ؟“ محمود کے منہ سے نکلا۔
”یہ شاید کسی روح کی آواز تھی، کیونکہ انسانوں اور درندوں کی آوازیں تو ہم پہچانتے ہیں۔“
”اس کا مطلب ہے، تم نے پہلے کبھی کسی روح کی آواز نہیں سنی۔“ محمود بولا۔
”نہیں!“ فاروق کے منہ سے نکلا۔
”پھر تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ یہ کسی روح کی آواز تھی؟“ محمود بولا۔
”اگر یہ روح کی آواز نہیں تھی تو بتاﺅ ، کس کی تھی۔“
”ڈریکولا کی۔“ محمود بولا۔
”ابھی ہم نے اسے ڈریکولا تسلیم نہیں کیا۔“ فاروق نے جواب میں کہا۔
”آﺅ اس کھنڈر سے باہر نکل کر دیکھیں ، شاید ہمیں کوئی سراغ مل جائے۔“
”کیوں ڈریکولا کے ہتھے چڑھنا چاہتے ہو، وہ ہمارا خون پی جائے گا۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔
”اب یہاں تک آئے ہیں تو اس کا ٹھکانہ دیکھ کر ہی واپس جائیں گے۔“ محمود نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
”ٹھکانہ مل جانے کے بعد تم کہو گے، اب ٹھکانہ مل گیا ہے تو ڈریکولا سے کشتی لڑکر ہی جائیں گے، لیکن میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ مجھے اس سے کشتی لڑنے کا کوئی شوق نہیں، تم ضرور اس سے دو دو ہاتھ کرلینا۔“
”گویا تم دور کھڑے تماشا دیکھتے رہوگے؟“ محمو دنے جل کر کہا۔
”ہاں! اسی طرح ہم ڈریکولا کو شکست دے سکتے ہیں۔“ فاروق مسکرایا۔
”وہ کیسے، ذرا میں بھی تو سنوں۔“ محمود نے حیران ہوکر کہا۔
”جب تم اس کا تنہا مقابلہ کروگے اور میں درمیان میں دخل نہیں دوں گا تو ڈریکولا بہت متاثر ہوگا اور خیال کرے گا کہ ہم کتنے بااصول ہیں کہ ایک کے مقابلے میں صرف ایک آیا ہے، دوسرا اس کی مدد نہیں کررہا، تو وہ خود اپنی ہار کا اعلان کردے گا اور اس طرح ہم فتح پائیں گے۔“ فاروق کہتا چلا گیا۔
”شاید تمہارا دماغ چل گیا ہے، ڈریکولا جیسے لوگ کسی اصول کو نہیں مانتے۔“ محمود نے انکار میں سرہلایا۔
”اگر تم سچ مچ اس کا مقابلہ کرنا چاہتے ہو تو اس کے لیے میری ایک تجویز ہے، اگر سننا پسند کرو۔“
”چلو بتاﺅ، کیونکہ اس وقت فرزانہ ہمارے ساتھ نہیں ہے۔“
”تجویز یہ ہے کہ ہم ڈریکولا کا ٹھکانہ دیکھ کر یہاں سے واپس چلتے ہیں اور ابا جان اور فرزانہ کو ساتھ لے کر آتے ہیں، بلکہ انکل رحمان کو بھی ساتھ لے آئیں گے اور پھر مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔“ فاروق نے کہا۔
”ایک دشمن کے مقابلے میں اتنے آدمی ساتھ لاﺅگے، ابھی تو اصول پرستی کی بات کررہے تھے؟“
”تم نے خود ہی تومیری وہ بات نہیں مانی تھی۔“
”اچھا بھائی یونہی سہی۔ آﺅ پہلے اس کا ٹھکانہ تو ڈھونڈلیں۔“ محمود نے تنگ آکر کہا۔
”لیکن آواز تو اس کھنڈر سے بھی آئی تھی۔ آخر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ تمام کھنڈروں سے آواز آئے۔“ فاروق بولا۔
”ڈریکولا سے پوچھ کر بتاﺅں گا۔“ محمود نے منہ بنایا۔
”تو ذرا جلدی پوچھو، میں انتظار کرنے کا عادی نہیں۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔
”یار تنگ نہ کرو، اچھا آﺅ ، پہلے اسی کھنڈ رکو ٹھوک بجاکر دیکھ لیتے ہیں۔“ محمود نے کہا۔
”میرے پاس ٹھوک بجا کر دیکھنے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے پہلے کیوں نہیں بتایا، گھر سے کوئی ہاکی یا کرکٹ کا بلاہی لے آتے۔“ فاروق نے کہا۔
”ہم ہاتھوں سے کام لیں گے اور اگر تم ہاتھ پیر ہلانے کے لیے بالکل تیار نہیں ہو تو ایک طرف کھڑے رہو۔“
یہ کہہ کر محمود نے واقعی کھنڈر کی دیواروں کو ٹھوکنا، بجانا شروع کردیا۔ فاروق سے رہا نہ گیا ، وہ بھی اس کا ساتھ دینے لگا۔ یہ دیکھ کر محمودمسکرایا۔
”آخر تم خود کو کام چور ثابت کرنے کے چکر میں کیوں رہتے ہو جب کہ ہو نہیں۔“
”اس طرح میں شیخی بگھارنے سے بچ جاتا ہوں۔“ فاروق نے کہا۔
اچانک انہوں نے اپنے پیچھے کھٹکے کی آواز سنی۔ دونوں چونک کر مڑے، لیکن دیر ہوچکی تھی، سروں پر پڑنے والی لکڑیاں ان کی آنکھوں میں تارے نچاگئیں، پھر یہ تارے بھی ڈوب گئے اور ان کے ذہن اندھیروں میں ڈوب گئے۔
٭….٭….٭
”ڈاکٹر صاحب ! پہلے اسے دیکھیے۔“
”میں مریضوں کو باری کے مطابق دیکھتا ہوں، آپ سے پہلے بھی بہت سے مریض یہاں موجود ہیں، تشریف رکھیے اور اپنی باری کا انتظار کیجیے۔“
ڈاکٹر رحمان انصاری نے اس آدمی کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ وہ اس وقت ایک بوڑھے آدمی کا معائنہ کررہا تھا جو دمے کا مریض تھا۔ اس کے ہاں ہمیشہ مریضوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔ شہر کا مشہور ڈاکٹر تھا، لیکن بہت مہنگا تھا۔ غریب آدمی اس سے علاج کرانے کے بارے میں سو چ بھی نہیں سکتے تھے۔
”لیکن یہ مررہا ہے ڈاکٹر پہلے اسے دیکھیے، اس کا سانس اُکھڑ رہا ہے۔ اُف میرا بچہ۔“ آدمی نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔
اب ڈاکٹر نے نظر اُٹھا کر بچے کو دیکھا اور پھر چونک اٹھا۔ اس کا رنگ ہلدی کے مانند زرد ہورہا تھا اور وہ لمبے لمبے سانس لے رہا تھا، جیسے سانس لینے میں بہت تکلیف ہورہی ہو۔
”اسے کیا ہوا؟“ ڈاکٹر انصاری بوڑھے کو چھوڑ کر اس کی طرف مڑا۔
”خدا جانے اسے کیا ہوا، کس کی نظر لگ گئی، دو دن پہلے تو بالکل ٹھیک تھا۔ بھاگتا دوڑتا کودتا پھرتا تھا۔“ باپ نے کہا۔
”اسے لٹادیں، میں دیکھتا ہوں۔“
باپ نے بچے کو مریضوں کے لیے بچھائے اسٹریچر پر لٹادیا۔
ڈاکٹر انصاری اس پر جھک گیا۔ چند منٹ تک وہ مختلف طریقوں سے اس کا جائزہ لیتا رہا، پھر سیدھا ہوتا ہوا بولا:
”اس کے جسم میں تو خون بالکل نہیں ہے؟“
”لیکن دو دن پہلے تو یہ بالکل ٹھیک تھا، اسے کوئی چوٹ بھی تو نہیں لگی۔“
”اوہ! تو پھر خون کہاں گیا؟“ ڈاکٹر انصاری کے منہ سے نکلا۔
”جج جی…. میں کیا بتا سکتا ہوں۔“
”کل اس کی کیا حالت تھی؟“ ڈاکٹر نے پوچھا۔
”کل صبح یہ سو کر اُٹھا تو اس کا رنگ زرد ہورہا تھا، ہم دیکھ کر حیران رہ گئے۔ محلے کے ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے طاقت کی دوائیں لکھ دیں اور بتایا کہ بچے کو کوئی بیماری نہیں ہے، بس خون کی کمی ہے، ہم بہت حیران ہوئے کہ یکا یک خون کیسے کم ہوگیا۔ خیر دوائیں شروع کردیں ۔ آج یہ اٹھا تو رنگ بالکل ہی زرد تھا۔ ہم بری طرح گھبراگئے اور میں بچے کو آپ کے پاس لے آیا۔ “ وہ بتاتا چلا گیا۔
ڈاکٹر انصاری چند لمحے کے لیے سوچ میں ڈوب گیا۔ اس کی پیشانی پر فکر کی لکیریں اُبھر آئیں۔ آخر اس نے کہا:
”عجیب بات ہے، اس طرح یکا یک خون کا غائب ہونا کچھ سمجھ میں نہیں آتا، بہر حال سب سے پہلے میری فیس جمع کرادیں، اس کے بعد میں اس کا تفصیل سے معائنہ کروں گا، خون کا گروپ معلوم کروں گا اور اگر اس گروپ کا خون مل گیا، تو بچے کو دیا جائے گا، مجھے اُمید ہے کہ بچہ خون ملتے ہی تندرست ہوجائے گا۔“
”بہت بہتر !آپ کی فیس کتنی ہے۔“
”دو سو روپے، باقی خرچ کی تفصیل بعد میں بتائی جائے گی۔“
”بہت بہتر!“ یہ کہہ کر باپ بچے کو وہیں چھوڑ کر باہر نکل گیا۔ وہاں ڈاکٹر کا کلرک بیٹھا تھا، اس نے بچے کا نام پتا لکھا اور دو سو روپے وصول کرکے ایک چٹ اسے تھمادی۔یہ چٹ ا س نے اندر لے جاکر ڈاکٹر کو دی جو اب پھر دمے کے مریض بوڑھے کو دیکھ رہا تھا۔ آخر اس سے فارغ ہوکر وہ پھر بچے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا:
”آ پ کا نام غلام جیلانی ہے۔“
”جی ہاں۔“ باپ نے کہا۔
”آ پ تو شہر کے بہت مشہور آدمی ہیں، اخبارات میں عام طور پر آپ کا نام شائع ہوتا رہتا ہے۔“
”جی ہاں! میں شہر میں اُون کا سب سے بڑا تاجر ہوں۔“
”او ر بچے کا نام کیا ہے؟“ ڈاکٹر نے پوچھا۔
”طاہر جیلانی۔“ غلام جیلانی نے کہا۔
”ہوں! اب میں اس کا معائنہ کرنے لگا ہوں، آپ تھوڑی دیر کے لیے باہر چلے جائیے۔“
”جی، وہ کیوں؟“ غلام جیلانی کے لہجے میں حیرت تھی۔
”ہم بچے کا خون لیں گے، ریڑھ کی ہڈی میں سے چند قطرے لیں گے اور یہ کافی تکلیف دہ طریقہ ہے، آپ باپ ہیں، آپ یہاں موجود رہیں گے تو آپ کو بھی تکلیف ہوگی۔“
”اوہ! اچھا میں باہر چلا جاتا ہوں۔“
غلام جیلانی نے کہا اور اس کمرے میں آکر بیٹھ گیا جس میں مریض بیٹھے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔ اس کا دل دھک دھک کررہا تھا، بچے کے لیے بری طرح تڑپ رہا تھا۔ شہر کا سب سے بڑا تاجر، کروڑوں روپے میں کھیلنے والا، لیکن بچہ صرف ایک ہی تھا، اب اگر وہ بھی جل بستا تو اس کے لیے دنیا میں کیا رہ جاتا۔
ایک ایک منٹ ایک ایک سال بن کر گزرا، آخر پندرہ منٹ بعد ڈاکٹر کے اسسٹنٹ نے دروازے میں سر باہر نکال کر کہا:
”غلام جیلانی صاحب، اندر تشریف لے آئیں۔“
وہ اُٹھ کر ڈاکٹر کے پاس پہنچا، تو اس کا رنگ سفید ہورہا، آنکھوں میں خوف تھا، ہاتھ اور پیروں میں کپکپی تھی۔
”کیا ہوا ڈاکٹر صاحب! خیر تو ہے؟“
”جو کچھ میں نے اندازہ لگایا ہے، وہ اس قدر بھیانک اور لرزہ خیز ہے کہ میں بتانے کی ہمت نہیں کر پارہا ہوں۔“ ڈاکٹر انصاری نے تھر تھر کانپتی آواز میں کہا۔
”یا اللہ رحم! آخر بات کیا ہے۔“ غلام جیلانی کے منہ سے ڈرے ڈرے لہجے میں نکلا۔
”بات تو میں بعد میں بتاﺅں گا، پہلا مسئلہ تو بچے کو خون دینے کا ہے، اگر اسے چند منٹ کے اندر اندر خون نہ دیا گیا تو یہ چل بسے گا، اس کے خون کا گروپ او ہے، اس وقت میرے پاس اس گروپ کا خون نہیں ہے۔ یہاں ایک خون کا پرائیویٹ بنک ہے، اگر آپ کہیں تو میں فون پر ان سے بات کروں ، وہ فوراً خون یہاں پہنچادیں گے۔“
”ضرور کریں، اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے؟“ غلام جیلانی نے کہا۔
ڈاکٹر نے اس کے سامنے کوئی نمبر گھمایا اور گروپ کے خون کے بارے میں بات کی پھر ریسیور پر ہاتھ رکھ کر غلام جیلانی سے بولا:
”دس ہزار روپے ایک بوتل کے مانگے ہیں اور آپ کے بیٹے کو کم از کم پانچ بوتل خون کی ضرورت ہے۔“
”جلدی کیجیے۔ میں دس لاکھ روپے کا خون بھی خریدنے کے لیے تیار ہوں۔“
”بہت بہتر۔“ یہ کہہ کر اس نے خون کے لیے ہدایت دی اور ریسیور رکھ دیا گیا۔ اس کا اسسٹنٹ بچے کے جسم میں خون داخل کرنے کے لیے سٹینڈ وغیرہ لگانے لگا۔ ابھی دس منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے کہ خون کی پانچ بوتلیں اٹھائے وہ آدمی اندر داخل ہوئے۔ غلام جیلانی نے انہیں اس وقت پچاس ہزار روپے کا چیک کاٹ دیا۔ وہ چیک لے کر چلے گئے۔ کراس میچنگ ہوگئی تو تھوڑی دیر بعد خون قطرہ قطرہ کرکے طاہر جیلانی کے جسم میں داخل ہونے لگا، ڈاکٹر انصاری نے اب دوسرے مریضوں کو دیکھنا شروع کردیا تھا۔
اس طرح دو گھنٹے گزرگئے۔ طاہر کے منہ کی رونق واپس آنے لگی، اس کا سانس درست ہو گیا۔ باپ کی بے قراری دور ہوگئی۔ کلینک سے باہر اس کے گھر کے دوسرے افراد بھی بے چین تھے۔ اس نے انہیں جاکر بتایا کہ اب طاہر کی حالت بہتر ہے۔ آپ لوگ بے فکر ہو جائیں۔ یہ سن کر سب لوگ قدرے مطمئن ہوگئے۔ غلام جیلانی ڈاکٹر انصاری کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ مگر مریض تھے کہ بڑھتے ہی جارہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر انصاری خود ہی طاہر جیلانی کو دیکھنے چلے آئے۔ غلام جیلانی نے موقع غنیمت جانا اور ڈاکٹر انصاری سے اس مرض کے حوالے سے پوچھنے لگا۔ ڈاکٹر انصاری نے مختصر سا جواب دیا کہ ”فی الحال میں اسے خون لگانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔“
” اس سلسلے میں جتنی بھی کتابیں میرے پاس ہیں، میں آج رات سونے سے پہلے ان کا مطالعہ کروں گا اور غور کروں گا خدا جانے کیا چکر ہے۔ دیکھیے نا…. آخر بچے کا خون اس طرح یکا یک کہاں چلا گیا، جب کہ اس کے جسم پر کوئی چوٹ نہیں لگی، خون نہیں بہا۔ جسم سے خون اسی وقت نکلتا ہے جب اس کے چوٹ لگے، کٹ جائے ورنہ خون نہیں نکل سکتا۔“ ڈاکٹر بولا۔
”اب میں کیا کروں؟ سوال تو یہ ہے۔“ غلام جیلانی نے کہا۔
”رات کو اپنے گھر کے تمام دروازے بند کرکے سویئے، کھڑکیوں میں اگر لوہے کی سلاخیں نہیں ہیں تو فوراً سلاخیں لگوالیں، کیونکہ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ ڈریکولا قسم کے لوگوں میں طاقت بہت ہوتی ہے، گولی انہیں زخمی تو کرسکتی ہے، لیکن ختم نہیں کرسکتی، جس کا یہ خون پی لیتے ہیں وہ مرجاتا ہے، تو وہ بھی انہی کی طرح ڈریکولا بن کر دوبارہ زندہ ہوجاتا ہے اور لوگوں کا خون چوسنے لگتا ہے۔ اس طرح اور لوگوں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔“
”آپ تو مجھے ڈرا رہے ہیں ڈاکٹر صاحب! مجھے چل کر فوراً دروازوں اور کھڑکیوںکا بندوبست کرنا چاہیے۔“
”ہاں اور رات کو دیر تک جاگتے رہیں، اس بچے کے پا س موجود رہیں، مکان کی بتیاں نہ بجھائیں بلکہ کچھ اور بلب لگالیں، کیوں کہ ایسے لوگ روشنی سے گھبراتے ہیں۔ “ ڈاکٹر نے اسے ہدایت دی۔
”بہت اچھا! میں چلتا ہوں۔“
غلام جیلانی گھر پہنچا ، تو اندر کسی کے زور زور سے باتیں کرنے کی آواز آئی۔ وہ فوراً ڈرائنگ روم کی طرف بڑھا اور پھر اس کے منہ سے نکلا۔
”ارے خان رحمان تم۔“
”ہاں میں! بھائی نے مجھے سب کچھ بتادیا ہے، انہوں نے مجھے فون کیا تھا۔ میں فوراً چلا آیا۔ ڈاکٹر کیا کہتا ہے؟“ خان رحمان جلدی جلدی بولے، وہ اس کے دوست تھے۔
غلام جیلانی نے انہیں سب باتیں بتادیں جو ڈاکٹر نے بتائی تھیں۔ خان رحمان کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ کافی دیر بعد انہوں نے سراُوپر اٹھایا اور بولے:
”ان حالات میں کوئی ڈاکٹر ہماری شاید ہی مدد کرسکے۔ صرف ایک شخص ایسا ہے ، جو اس مسئلے کا حل تلا ش کرسکتا ہے۔“
”لیکن اب تو طاہر ٹھیک ہوچکا ہے، اب ہمیں کسی کی مددکی کیا ضرورت؟“ غلام جیلانی نے حیران ہوکر کہا۔
”یہ سوچنا غلط ہے۔ صرف اپنے بچے کے بارے میں نہ سوچو، اگر شہر میں واقعی کوئی ڈریکولا قسم کا آدمی موجود ہے، تو وہ اور لوگوں کے لیے بھی تو خطرہ ہے۔ میرا اشارہ اس طرف تھا، لہٰذا مجھے اس شخص کو فون کرکے یہاں بلانا ہی ہوگا۔“
انہوں نے کہا۔
”اوروہ کون ہے؟“
”اس کا نام انسپکٹر جمشید ہے۔“
خان رحمان نے کہا اور فون پر جھک گئے۔
٭….٭….٭
خون کا پیغام
تینوں اپنی تجربہ گاہ میں تھے ۔فارغ ہوتے تو یہاں آکر بیٹھ جاتے اور اِدھر اُدھر کی آوازیں سنا کرتے تھے۔ اس وقت بھی اسی شغل میںمصروف تھے۔
”ہمیں یہ کام بغیر کسی وجہ کے نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح ہم لوگوں کی باتیں سن لیتے ہیں۔“ محمود کہہ رہا تھا۔
”لیکن ہم ان کے چہرے تو نہیں دیکھتے،ہمیں کیا ، کہنے والا اور سننے والا کون ہے۔“ فرزانہ نے جواب دیا۔
”ہم تو دن رات ایسے ہی کام کرتے رہتے ہیں، اس طرح تو ہمیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر صرف اپنی تعلیم کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ بے چاری تعلیم بھی ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہوگی کہ ہم اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے جب کہ دوسرے طالب علم دن رات کتابوں سے چمٹے رہتے ہیں۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔
”فکر نہ کرو، تعلیم ہم سے بہت خوش ہے، جو طالب علم دن رات کتابیں پڑھتے ہیں، ہم ہر سال ان سے زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں پھر بھلا تعلیم کیوں کچھ سوچے گی؟ ویسے بھی سوچ بچار کرنا جان داروں کا کام ہے، نہ کہ بے جان چیزوں کا۔“ فرزانہ نے جل کر کہا۔
”ہائیں! تو کیا تعلیم بے جان ہے؟ پھر اسے حاصل کرنے کا کیا فائدہ۔“ فاروق نے منہ بنایا۔
”اس کا مطلب ہے، تم صرف جان دار چیزیں حاصل کرتے رہتے ہو۔“ محمود کے لہجے میں حیرت تھی۔
”ہاں ! میں ذرا شکاری قسم کا آدمی ہوں۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔
”شکاری قسم کے ہو، شکاری تو نہیں ہونا اور پھر شکاری تو پرندوں اور جانوروں کو مارتے ہیں، زندہ کب پکڑتے ہیں۔“ فرزانہ نے کہا۔
”بہادر شکاری اپنے شکار کو زندہ پکڑتا ہے اور ا س کے بعد حلال کرتا ہے، ایک بار میری ملا قات ایک شیر سے ہوگئی تھی۔ کہنے لگا…. “ فارو ق کہہ رہا تھا کہ محمودنے اسے ٹوک دیا۔
”ٹھہرو! پہلے اتنا بتادو کہ یہ کب کی بات ہے۔“
”عجیب احمق ہو، یہ میں ڈائری دیکھ کر ہی بتا سکتا ہوں اور ڈائری اس وقت میرے پاس نہیں ہے۔“
”وہ کس کے پاس ہے۔“ فرزانہ شوخ انداز میں مسکرائی۔
”کانے دیو کے پاس، اس کے دو بڑے نوکیلے دانت ہیں، لیکن مصیبت یہ ہے کہ ڈائری اس نے اپنے پا س بھی نہیں رکھی، شاید اسے خطرہ تھا کہ میں اس سے حاصل کرنے کے لیے اس کے سر پر پہنچ جاﺅں گا۔ اگرچہ اس کا سربہت چکنا ہے اور پھسلنے کا خطرہ ہے، پھر بھی میں یہ خطرہ ضرور مول لیتا، جانتے ہی ہو، ہم خطرات مول لینے میں کس قدر تیز ہیں، ہاں تو میں کہہ رہا تھا، دیو نے ڈائری اپنے پا س رکھنے کے بجائے نیلے طوطے کی چونچ میں دے رکھی ہے اور اس نیلے طوطے تک پہنچنا اور اسے ہلاک کرنا بہت مشکل ہے۔“
”کیوں! ابھی تو تم شیر کے شکار کی بات کررہے تھے اور طوطے کا شکار نہیں کرسکتے؟“
”اس لیے کہ وہ طوطا، عام طوطا نہیں ہے، اسے مارنا اسی لیے بہت مشکل ہے کہ اس کی جان اس کانے دیو میں ہے۔“ فاروق کہتا چلا گیا۔
”یہ کیا بات ہوئی۔ آج تک تو جنوں اور دیوﺅں کی کہانیوں میں یہ پڑھا ہے کہ جنوں اور دیوﺅں کی جان کسی جانور یا پرندے میں ہوتی ہے اور تم اُلٹ بات کہہ رہے ہو۔“ محمود نے کہا۔
”ثابت ہوا، تم جنوں ، دیوﺅںا ور بھوتوں کی کہانیاں پڑھتے ہو، لاحول ولاقوة، کیسا شوق ہے تمہارا۔“ فاروق نے برا سا منہ بنایا۔
”غلط سمجھے! میں نے ایسی کہانیاں کبھی نہیں پڑھیں، لیکن جب ہم بہت چھوٹے تھے اور دادی جان زندہ تھیں، تو اس وقت وہ رات کو سونے سے پہلے ایسی کہانیاں ضرور سنایا کرتی تھیں۔“ محمود نے کہا۔
”ارے ہاں! یاد آیا۔ دادی اماں کتنی اچھی تھیں۔“ فاروق نے درد بھر ے لہجے میں کہا۔
”لو! ڈائری سے دادی اماں تک پہنچ گئے۔“ فرزانہ جھلا اُٹھی۔
”ڈائری سے نہیں، شیر کے شکار سے دادی اماں تک ۔“ فاروق مسکرایا۔ ”میں نے بات شیر کے شکار کی شروع کی تھی۔ درمیان میں ڈائری ٹپک پڑی۔“
”ٹپکی کہاں بے چاری! وہ تو طوطے کے منہ میں ہے۔“ فرزانہ مسکرائی۔
”بہت دیر سے تمہاری اوٹ پٹانگ باتیں جاری ہیں، شام کے کھانے کا وقت ہوگیا اور تمہارے ابا جان آنے والے ہیں، اس لیے اب یہاں سے اُٹھ کر میز پر پہنچ جاﺅ، آج میں نے بیگم شیرازی کو بھی چائے کی دعوت دے رکھی ہے۔“اچانک بیگم جمشید نے دروازے پر آکر کہا۔ وہ چونک اُٹھے۔
”بہت اچھا امی جان ! ہم پہنچ رہے ہیں۔“
بیگم جمشید مسکراتے ہوئے چلی گئیں۔ وہ اُٹھے ہی تھے کہ ٹرانسمیٹر پر ایک آواز سنائی دی۔ ساتھ ہی سبز رنگ کا ننھا سا بلب جلنے بجھنے لگا۔
”ہیلو…. میں پہنچ رہا ہوں، خون کا بندوبست ہوگیا ہے۔“
اس جملے کے بعد خاموشی چھا گئی۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھااور پھر تینوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلا:
”خون کا بندوبست۔“
پھر وہ کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں اٹھے اور کھانے کی میز پر آئے۔ یہاں بیگم شیرازی موجود تھیں۔ انہیں دیکھتے ہی وہ حیرت زدہ ہوگئے۔ بیگم شیرازی کا رنگ زرد تھا اور وہ برسوں کی بیمار نظر آرہی تھیں۔ اسی وقت دروازے کی گھنٹی بجی۔ انداز انسپکٹر جمشید کا تھا۔ فرزانہ نے جلدی سے دروازہ کھولا۔جونہی انسپکٹر جمشید کی نظر بیگم شیرازی پر پڑی وہ چونک اُٹھے۔
”ارے! آپ کو کیا ہوا؟“ ان کے منہ سے نکلا۔
٭….٭….٭
سب کی نظریں بیگم شیرازی پر جم گئیں۔ ان کا رنگ ہلدی کی مانند زرد نظر آرہا تھا۔ حالانکہ وہ بہت صحت مند تھیں اور سرخ رنگ کی تھیں۔ ابھی چند روز پہلے ہی تو انہوں نے پانچوں کو شام کے کھانے پر بلایا تھا۔ اس وقت بھی بالکل ٹھیک ٹھاک تھیں۔
”میں خود حیران ہوں کہ یکا یک مجھے کیا ہوگیا ہے۔ کل میں اٹھی تو زبردست کمزوری محسوس کی، بلکہ اُٹھتے وقت مجھے چکر بھی آگیا۔ میں نے آئینے میں خود کو دیکھا تو زرد رنگ دیکھ کر حیران رہ گئی۔ آج ڈاکٹر کے پاس گئی تھی۔ اسے بھی بہت حیرت ہوئی وہ میری بیماری کو سمجھ نہیں سکا، تاہم اس نے طاقت کی دوائیں لکھ دی ہیں، میں نے وہ دوائیں شروع کردی ہیں۔“ انہوں نے بتایا۔
”اگر بیماری اس کی سمجھ میں نہیں آئی تو پھر آپ کو کسی اور ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے تھا۔“ انسپکٹر جمشید نے فکر مند لہجے میں کہا۔
”میں بھی یہی سوچ رہی ہوں، صبح ڈاکٹر انصاری کو جاکر ملوں گی ۔ سنا ہے ، وہ شہر کا سب سے مشہور ڈاکٹر ہے۔“ انہوں نے کہا۔
”ہاں! مشہور بھی اور مہنگا بھی، آ پ اس کے پاس ضرور جائیں، لیکن بات ہے بہت عجیب۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”خیر دیکھا جائے گا، آیئے چائے پئیں۔‘ ‘ بیگم شیرازی بولیں۔
اور وہ چائے کی طرف متوجہ ہوگئے، لیکن ابھی چائے شروع کی ہی تھی کہ فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ انسپکٹر جمشید نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے فون کا ریسیور اُٹھایا اور بولے:
”ہیلو! جمشید بول رہاہوں۔“
”جمشید فوراً یہاں پہنچ جاﺅ۔“ انہیں خان رحمان کی آواز سنائی دی۔
”ارے رحمان تم؟ کیا بات ہے، خیر تو ہے، مجھے کہاں بلا رہے ہو۔“ انسپکٹر جمشید جلدی سے بولے، کیونکہ خان رحمان کی آواز میں گھبراہٹ شامل تھی۔
”میں غلام جیلانی کے گھر سے بول رہاہوں، تم انہیں جانتے ہی ہوگے۔ اُون کے سب سے بڑے تاجر ہیں اور میرے دوست ہیں۔ یہاں تمہاری خاص ضرورت ہے، بہت اہم معاملہ ہے، ا س لیے فوراً آجاﺅ۔“ وہ کہتے چلے گئے۔
”اچھی بات ہے، میں پہنچ رہا ہوں۔“ انہوں نے کہا۔ دوسری طرف سے ریسیور رکھ دیا گیا۔ وہ ان کی طرف مڑتے ہوئے بولے:
”خان رحمان نے مجھے ایک جگہ بلایا ہے، کوئی اہم معاملہ ہے، تم لوگ چائے پیو۔“
”نہیں ابا جان ! ہم بھی چلیں گے، ورنہ ہم الجھن میں رہیں گے۔“
”اچھا چلو، بیگم تم بیگم شیرازی کو جانے نہ دینا، یہ رات کا کھانا بھی ہمارے ساتھ کھائیں گی، ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، کہاں پکاتی پھریں گی۔“ انہوںنے اٹھتے ہوئے کہا۔
”ارے ارے بھائی جان ! اس کی ضرورت نہیں۔“ بیگم شیرازی جلدی سے بولیں۔
”اس کی ضرورت ہے۔“ انہوں نے کہا اور محمود، فاروق اور فرزانہ کو ساتھ لے کر باہر نکل گئے۔
محکمے نے چند روز پہلے انہیں جیپ دے دی تھی۔ اگرچہ وہ انکار کرتے رہے تھے، لیکن آئی جی نہیں مانے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل ان کے لیے ناکافی ہے، اکثر ان چاروں کو اچانک کسی مہم پر جانا پڑجاتا ہے تو مشکل پیش آتی ہے۔ اس طرح انسپکٹر جمشید کو ان کی بات ماننا پڑی، لیکن اس کے باوجود انسپکٹر جمشید کو جب تنہا کہیں جانا پڑتا تو اپنی موٹر سائیکل ہی استعمال کرتے تھے، جیپ میں بیٹھ کر وہ غلا م جیلانی کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ انہیں حیرت تھی کہ خان رحمان وہاں کیا کررہے ہیں اور انہیں کیا پریشانی آپڑی ہے۔ پندرہ منٹ کے بعد غلام جیلانی کی شاندار کوٹھی کے سامنے پہنچ گئے۔ گھنٹی بجانے پر ان کے ملازم نے دروازہ کھولا اور انہیں اندر لے گیا۔ ڈرائنگ روم میں انہیں خان رحمان کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر آدمی ایک عورت اور دو ملازم نظر آئے۔
”السلام علیکم ۔“ چاروں نے اندر داخل ہوتے ہوئے ایک ساتھ کہا۔
”وعلیکم السلام، آﺅ آﺅ جمشید ، ہم تمہارا بے تابی سے انتظار کررہے تھے۔“
”خیر تو ہے۔“ انسپکٹر جمشید کے منہ سے نکلا۔
”خیریت ہی تو نہیں ہے۔“ خان رحمان نے جلدی سے کہا ، پھر انہیں ساری بات بتادی۔ ڈاکٹر انصاری کا جو خیال تھا، وہ بھی سنادیا، وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ سب سے پہلے انسپکٹر جمشید نے طاہر جیلانی کا معائنہ کیا۔ خاص طور پر اس کے گلے کو عد سے کی مدد سے دیکھا ، وہاں دوبار یک سے نشان موجود تھے، ایسے نشان جیسے کسی چیونٹی کے کاٹنے سے بن جاتے ہیں یا انجکشن کی سوئی چھوڑ دیتی ہے۔ محمود، فاروق اور فرزانہ نے بھی ان نشانوں کو دیکھا، پھر وہ کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ کمرے میں مو ت کی سی خاموشی تھی، پھر اس خاموشی میں انسپکٹر جمشید کی آواز اُبھری:
”میں نے اس موضوع پر بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔ ان واقعات کا تعلق فرانس کی سرزمین سے بتایا جاتا ہے، لیکن ابھی تک یہ بات ثابت نہیں ہوسکی کہ ان واقعات میں حقیقت بھی ہے یا نہیں۔ میں آپ کو مختصر طور پر بتاتا ہوں۔ ڈاکٹر ڈریکولا روحانیت کا ماہر تھا، اس نے مرتے ہوئے اپنی روح ایک مردہ جسم میں داخل کرلی تاکہ ہمیشہ زندہ رہ سکے، لیکن اس جسم کی خوراک صرف خون تھی۔ اب وہ خون پی کر زندہ رہ سکتا تھا۔ اس نے سب سے پہلے ایک لڑکی کو اپنا شکار بنایا، وہ اس کے گھر میں رات کے وقت داخل ہوا اور اس نے اپنے نوکیلے دانت ا س کے گلے میں گاڑ دیے۔ لڑکی کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے دیکھا، ایک خوف ناک سا آدمی اس کے اوپر جھکا ہوا ہے، اس کا لباس سیاہ ہے، چہرے پر بھیانک مسکراہٹ ہے، بازوﺅں پر اس کا لباس اس طرح لٹک رہا ہے جیسے وہ لباس نہ ہو، اس کے بازوﺅں کے پر ہوں، وہ اسے کوئی بہت بڑی چمگادڑ لگا، لیکن اس پر تو بے ہوشی سی طاری تھی، وہ جاگ بھی رہی تھی اور نیند کے عالم میں بھی تھی، کافی دیر تک وہ خوفناک آدمی اس کے گلے سے چمٹا رہا، پھر الگ ہٹ گیا۔ ا س کے ہونٹ خون سے ترتھے، اس کے ساتھ ہی لڑکی کو نیند آگئی۔
دوسری رات کو وہ پھر لڑکی کے کمرے میں آگیا۔ اس نے پھر اس کا خون پیا اور چلا گیا۔ جاتے وقت وہ کھڑکی میں سے کو دکر گیا، حالانکہ کمرا دوسری منزل پر تھا۔ ساتھ ہی لڑکی نے پروں کے پھڑپھڑانے کی آوازیں بھی سنی تھیں، یہ آواز اس نے اس وقت بھی سنی تھی۔ جب وہ اندر آیا تھا۔ اسے ایسا معلوم ہوا جیسے وہ شخص اڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف لڑکی کے گھر والے پریشان تھے، ڈاکٹر بھی حیران تھے، ابھی وہ اس بیماری کو سمجھ بھی نہ پائے تھے کہ لڑکی مرگئی۔ اسے دفن کردیا گیا، لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ مری نہیں، اب وہ ڈریکولا کی ایک ساتھی بن کر اُٹھے گی۔ پھر وہ اپنی قبر سے نکل آئی اور ڈریکولا کی طرح لوگوں کا خون پینے لگی۔ اس طرح وہ بھی ڈریکولا کی ساتھی بن گئی۔ ان کے ساتھیوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہونے لگا، پھر انہوں نے اپنا ایک محل بنالیا اور اس میں رہنے لگے۔
”یہ تو ہے وہ کہانی جو بار بار شائع ہوئی اور لوگوں نے پڑھی، اس کے بعد جو واقعات بیان کیے جاتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ ڈ ریکولا اور اس کے ساتھیوں کو مارنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا، مگر وہ کسی طرح بھی نہ مرتے تھے، گولی سے زخمی ضرور ہوجاتے تھے، لیکن ہوا میں اُڑتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہوجاتے تھے کسی کو ان کے ٹھکانے کا پتا نہیں تھا۔ آخر ان کا علاج ڈھونڈ لیا گیا اور اب یہ کہا جاتا ہے کہ ایسے آدمی کے عین دل میں اگر لکڑی کی سیخ ٹھونک دی جائے تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے اور وہ پھر کبھی نہیں اٹھ سکتا، لیکن اب ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہوگئی ہے کہ فرانس کو ان کی سرزمین کہا جانے لگا ہے۔“ یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید خاموش ہوگئے۔
”آپ کا یہ کہانی سنانے سے کیا مطلب ہے؟ کیا آ پ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے شہر میں ڈریکولا کا کوئی ساتھی آگیا ہے۔“ محمود نے سوال کیا۔
”میں ابھی کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ صرف یہ بتایا ہے کہ ڈریکولا کی کہانیاں کیا ہیں۔ انہوں نے کہا۔
”پھر اب تمہارا کیا پروگرام ہے، تم طاہر جیلانی کے لیے کیا کروگے؟“خان رحمان نے پوچھا۔
”طاہر جیلانی کی حفاظت کے لیے تو کچھ نہ کچھ کر ہی لیا جائے گا، مجھے تو فکر ان بچوں کی ہے جن کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں اور وہ ڈریکولا کا شکار بننے والے ہوں گے۔“ انہوں نے کہا۔
”اوہ! ان سب کے منہ سے نکلا، سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔
”ارے!“ اچانک انسپکٹر جمشید کے منہ سے نکلا اور وہ انہیں گھورنے لگے۔ ان کا چہرہ ایک دم زرد پڑ گیا تھا۔ پھر ان کا کپکپاتا ہوا ہاتھ فون کی طرف بڑھا ، انہوں نے نمبر گھمائے اور بولے:
”ہیلو،کون …. ہاں …. بیگم یہ میں ہوں…. دیکھو…. بیگم شیرازی کو ان کے گھر ہر گز نہ جانے دینا، ان کی بیماری کا مجھے پتا چل گیا ہے، میں ابھی واپس آرہا ہوں۔ وہ اپنے گھر ہر گز نہ جانے پائیں۔“
ان کے الفاظ نے محمود ، فاروق اور فرزانہ کو بری طرح چونکا دیا۔ وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انسپکٹر جمشید کو دیکھنے لگے۔ ان کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی طاری تھی۔
٭….٭….٭
کانچ کا ٹکڑا
”اُف اللہ ! تو کیا آپ کے خیال میں بیگم شیرازی بھی کسی ڈریکولا کا شکار ہوئی ہیں۔“ فرزانہ نے بوکھلا کر پوچھا۔
”اس کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے، جب کہ ڈاکٹر کو ان کی بیماری بھی سمجھ میں نہیں آئی۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”یہ ہم کن حالات کا شکار ہوگئے؟“ محمود کے منہ سے نکلا۔
”حالات تو ہمیں ہمیشہ ہی شکار کرتے رہتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، ادھر آنٹی کا سلسلہ ہے اور ادھر طاہر جیلانی صاحب کا۔“
فاروق نے کہا۔
”ہم دو پارٹیوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں، میں اور فرزانہ واپس جائیں گے اور بیگم شیرازی کی حفاظت کریں گے، تم دونوں اپنے انکل کے ساتھ یہاں رہو گے اور طاہر جیلانی کو نظروں میں رکھوگے۔“ انسپکٹر جمشید نے تجویز پیش کی۔
”لیکن ابا جان ! اس طرح تو یہ تین ہوجائیں گے اور ہم دو ہی رہ جائیں گے۔“ فرزانہ نے اعتراض کیا۔
”اور امی جان کہاں گئیں۔“ محمود مسکرایا۔
”اوہ ہاں! بالکل ٹھیک۔ تو پھر چلیے امی اور آنٹی پریشان ہوں گی۔“
”ہاں، بس چلتے ہیں، میں ان تینوں کو کچھ ہدایات دے دوں۔“
یہ کہہ کر وہ محمود، فاروق اور خان رحمان کو الگ ایک کونے میں لے گئے اور دبی آواز میں انہیں کچھ کہنے لگے۔ آخر میں انہوں نے کہا۔
”رحمان ! تمہارے پاس پستول تو ہوگا؟“
”نہیں! میں یہاں اپنے دوست کے بیٹے کی بیماری کی خبر سن کر آیا تھا، پستول کیسے ساتھ لاتا۔“ انہوں نے جواب دیا۔
”میرا مطلب تھا، گھر میں تو ہوگا۔“
”ہاں بھلا گھر میں کیوں نہ ہوگا۔“ وہ بولے۔
”تو جاکر وہ پستول لے آﺅ یا ظہور کے ذریعے منگالو۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”وہ تو پستول کو ہاتھ لگاتے ہوئے بھی کانپتا ہے۔“ خان رحمان مسکرائے۔
”ارے ! وہ کیوں؟“
”کہیں پستول چل نہ جائے، خیر…. تم فکر نہ کرو، میں ابھی جاکر پستول لے آتا ہوں۔ ابھی تو سورج بھی غروب نہیں ہوا، یہ ڈریکولا قسم کی چیزیں ، جہاں تک میرا خیال ہے، دن کی روشنی میں حملہ آور نہیں ہوتیں۔
”ہاں ! دن کے وقت انہیں دکھائی نہیں دیتا۔“
بس تو پھر ، فکر کی کیا بات ہے، میں ابھی جاکر لے آﺅں گا۔“
”ٹھیک ہے، میں تمہیں سمجھا چکا ہوں کہ کیا کرنا ہے۔اچھا۔“
اب ہم چلتے ہیں، ہمیں ادھر جاکر بھی کچھ انتظامات کرنے ہیں۔“
”ٹھیک ہے۔ آپ فکر نہ کریں ، آج رات ڈریکولا طاہر گیلانی کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔“ محمود نے کہا۔
انسپکٹر جمشید اور فرزانہ اُن سے رخصت ہوکر گھرپہنچے تو بیگم جمشید اور بیگم شیرازی کے رنگ واقعی اُڑے ہوئے تھے۔
”آپ نے وہ فون کیوں کیا تھا۔“ بیگم جمشید نے جلدی سے پوچھا۔
”ان کا تنہا رہنا ٹھیک نہیں، فکر کی کوئی بات نہیں ، آپ ہمارے ساتھ نہایت سکون سے رہیں گی، بیگم آج تم انہیں اپنے ساتھ سلا لینا، میں فرزانہ کے ساتھ ان کے کمرے میں سوجاﺅں گا۔“ انہوں نے کہا۔
”آخر بات کیا ہے۔ آپ نے فون پر کہا تھا ، میری بیماری سمجھ گئے ہیں۔“ بیگم شیرازی نے کہا۔
”ہاں اور آپ کے علاج کی تیاری کررہا ہوں، اسی لیے آپ کو گھر نہیں جانے دیا۔“ انہوں نے مسکرا کر کہا اور پھر فرزانہ سے بولے۔
”آﺅ فرزانہ ہم تمہاری آنٹی کے گھر کے سب دروازے بند کر آئیں۔“
”جی بہتر۔“ فرزانہ ان کا مطلب سمجھ کر بولی۔
دونوں بیگم شیرازی کے گھر میں داخل ہوئے، سب سے پہلے انہوں نے تمام کھڑکیاں اور دروازے اندر سے بندکیے اور پھر بیگم شیرازی کے سونے کے کمرے کا معائنہ کرنے لگے۔ انہوں نے ایک ایک انچ دیکھ ڈالا، لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔
”اس نے اپنا کوئی نشان نہیں چھوڑا، کہیں وہ سچ مچ ڈریکولا ہی تو نہیں ہے۔“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔
”اگر وہ ڈریکولا ہے تو پھر اسے سراغ چھوڑنے اور نہ چھوڑنے کی کیا پروا ہوسکتی ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”اس کا مطلب ہے،ا گر ہمیں کوئی سراغ مل جاتا ہے کہ وہ واقعی ڈریکو لا ہے۔“ فرزانہ کے لہجے میں حیرت تھی۔
”ابھی یہ بھی نہیں کہا جاسکتا ، حالات غیریقینی ہیں اور ہم جب تک خود اسے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں، کچھ نہیں کہہ سکتے، آﺅ ہم برآمدے اور صحن کا جائزہ لیں۔“
وہ کمرے سے باہر نکلے اور برآمدے کا جائزہ لینے لگے، اچانک کوئی چیز چمکتی نظر آئی۔ انسپکٹر جمشید نے جھک کر دیکھا برآمدے میں بلب روشن تھا، اس کی روشنی میں انہوں نے دیکھا ، وہاں کانچ کا ایک ننھا سا ٹکڑا پڑا تھا اور اس ٹکڑے پر خون لگا تھا۔
٭….٭….٭
رات سرد اور تاریک تھی۔ چاند کی آخری تاریخیں تھیں اور آسمان پر اَبر تھا، اس لیے تارے بھی نہیں نکلے تھے، سونے پر سہاگا یہ کہ ہلکی ہلکی بارش بھی شروع ہوگئی ، ایسے میں فاروق کے دانت بج اٹھے تو یہ کوئی عجیب بات نہیںتھی، لیکن محمود کو اس پر غصہ آگیا تھا۔
”اگر تمہارے دانتوں کی آواز ڈریکولا کے کانوں تک پہنچ گئی ، تو وہ ڈر کر بھاگ جائے گا۔“
”ہائیں! میرے دانت بجنے کی آواز اس قدر خوفناک ہے، پھر تو اسے ٹیپ کرالینا چاہیے اور جہاں کہیں بھی ڈریکولا کے آنے کا خطرہ ہو، وہ ٹیپ چلا دینا چاہیے، ویسے کیا تم یقین سے کہہ سکتے ہو کہ ڈریکولا کے کان بھی ہوتے ہیں۔“ فاروق شوخ لہجے میں کہتا چلا گیا۔
”کیوں ڈریکولا کے کان کیا کسی عورت نے کھا لیے تھے۔“ محمود کے لہجے میں حیرت تھی۔
”بھوت تو ڈریکولا سے ویسے ہی ڈر جائے، یار کیا خیال ہے، اگر ان دونوں کی کشتی کرادی جائے۔“ فاروق نے کہا اور خان رحمان بے ساختہ مسکرادیے۔
تینوں طاہر جیلانی کے کمرے میں موجود تھے۔ انہوں نے غلام جیلانی ، اس کی بیگم اور گھر کے دوسرے افراد کو آرام سے سونے کی ہدایت کی تھی اور خود طاہر کے کمرے میں رات بھر جاگتے رہنے کا پروگرام بنایا تھا۔ طاہر نیند کے انجکشن کے زیر اثر گہری نیند سو رہا تھا۔
”لو! کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔“ محمود نے براسا منہ بنایا۔
”جہاں تم کہو پہنچ جاتا ہوں۔“ فاروق بولا۔
”فی الحال تو اسی کمرے میں موجود ہو۔“
”اچھی بات ہے، ہاں تو تم میرے دانتوں کی آواز کی بات کررہے تھے۔ اوّل تو ڈریکولا کے کان اتنے تیز نہیں ہوسکتے، دوسرے ابھی ہم یہ بھی نہیں جانتے ، وہ ڈریکولا ہے بھی یا نہیں۔“ فاروق بولا۔
”اگروہ ڈریکولا نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟“ خان رحمان نے سوال کیا۔
”ہوسکتا ہے ڈریکولاکا بھوت ہو۔“ فاروق کے منہ سے سوچے سمجھے بغیر نکل گیا۔
”ڈریکولا کا بھوت۔“ دونوں کے منہ سے ایک ساتھ حیرت زدہ انداز میں نکلا۔
”ہاں!ڈریکولا کا بھوت!“
”بھئی واہ! یہ نئی بات ہوئی ، ایک ڈریکولا ہی کیا کم تھا کہ تم نے اس کے ساتھ بھوت کا بھی اضافہ کردیا۔“ خان رحمان مسکرائے۔
”ویسے خیال ہے خوب۔“ محمود مسکرایا۔
”میں مذاق نہیں کررہا، ہمارے ملک میں بھلاڈریکولا کہاں سے آسکتا ہے، یہ ضرور ا س کا کوئی بھوت ہے جو فرانس سے بھٹکتا ہوا یہاں تک پہنچ گیا ہے۔“
”اگر وہ ڈریکولا کا بھوت ہے تو پھر تو اس کا مقابلہ کرنا اور بھی مشکل ہوگا۔“ خان رحمان گھبراکر بولے۔
”فکر نہ کریں انکل، ہم نے بڑے بڑے بھوتو ں کو دیکھ رکھا ہے۔“ فاروق نے مذاق اڑانے والے لہجے میں کہا۔
”لیکن ڈریکولا کے بھوت کو نہیں دیکھا ہوگا۔“ محمود نے کہا۔
”ہم تمام دروازے اور کھڑکیاں بند کرچکے ہیں جن کھڑکیوں میں سلاخیں نہیں تھیں ، ان میں لکڑیاں پھنسا چکے ہیں ، دوسرے یہ کہ اس کمرے میں ہم خود موجود ہیں، ان حالات میںڈ ریکولا یا اس کے بھوت کی کیا دال گلے گی۔“ فاروق نے کہا۔
”ہائیں ! وہ دال کھاتا ہے۔“ محمو دکے منہ سے نکلا۔
”میں نے محاورہ استعمال کیا ہے۔“ فاروق نے جھلا کرکہا۔
”تو کاٹ کھانے کو کیوں دوڑ رہے ہو۔“ محمود تڑسے بولا۔
”لو اور سنو! انکل میں کوئی دوڑ رہا ہوں۔“ فاروق خان رحمان کی طرف مڑا۔
”نہیں تو…. تم تو چل بھی نہیں رہے، ہمارے پا س بیٹھے ہو۔“ خان رحمان گھبرا کر بولے۔
”تو پھر اسے سمجھادیں ،جھوٹ نہ بولا کرے۔‘ ‘ فاروق مسکرایا۔
”جھوٹ بولنا تو واقعی بہت بری بات ہے۔“ خان رحمان بولے۔
”انکل آپ بھی اس کی باتوں میں آگئے، میں نے بھی تو مذاق میں محاورہ بولا تھا۔“
”ارے ہائیں! تم نے پہلے کیوںنہیں بتایا۔“ فاروق کے لہجے میں حیرت تھی۔
”بنو نہیں! میں جانتا ہوں، تم محاوروں کو اچھی طرح سمجھتے ہو۔“ محمود نے براسا منہ بنایا۔
”تو ہم میں سے محاوروں کو بری طرح کون سمجھتا ہے، ذرا یہ بھی بتاتے چلو، کیونکہ میں محاوروں کی بے عزتی برداشت نہیں کرسکتا، انکل آپ کرسکتے ہیں؟“ فاروق کہتے کہتے خان رحمان کی طر ف متوجہ ہوگیا۔
”ہر گز نہیں، محاوروں کی بے عزتی بھی بری بات ہے۔“ انہوں نے مسکراکر کہا۔
”انکل! آپ اس کی اُوٹ پٹانگ باتوں میں اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔“ محمود کے لہجے میں حیرت تھی۔
”اور کیاکروں۔اگر خاموش بیٹھ گئے تو رات کس طرح گزرے گی؟ یہ پہاڑ جیسی رات۔“ خان رحمان نے چھت کی طرف دیکھ کر ٹھنڈا سانس بھرا۔
”آج تک یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ رات پہاڑ جیسی کس طرح ہوسکتی ہے؟ رات کالے دیو کی طرح تو ہوسکتی ہے، پہاڑ جیسی ہر گز نہیں ہوسکتی۔“ فاروق نے کہا۔
”یہ بھی محاورہ ہے۔“محمو دمسکرایا۔
”کہیں ہم پر محاوروں کا بھوت تو سوار نہیں ہوگیا۔“فاروق کے منہ سے نکلا۔
”نہیں تو…. ہم پر تو ڈریکولا کا بھوت سوار ہے۔“ محمود نے ہنس کر کہا۔
”ارے باپ رے۔“ فاروق نے بوکھلا کر اپنے سر پر ہاتھ پھیرا پھر فوراً پرسکون ہوکر بولا:
”یار کیوں مذاق کرتے ہو، میرے سر پر تو میرے بالوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔“
”ویسے تم دونوںکا خیال ہے، آج یہاں وہ ڈریکولا کا بچہ آئے گا۔“خان رحمان نے پوچھا۔
”کچھ کہا نہیں جاسکتا ، سننے میں تو یہی آیا ہے کہ ڈریکولا اپنے شکار کا خون اس وقت تک پیتا رہتا ہے جب تک وہ مر نہیں جاتااور قبر میں نہیں پہنچ جاتا، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ قبر میں جانے کے بعد جب وہ اس میں سے اُٹھے گا تو اس کا ساتھی بن چکا ہوگا۔“
”پھر تو وہ یہاں ضرور آئے گا۔“خان رحمان بولے۔
”جی ہاں! اسی لیے تو ہم یہاں موجود ہیں۔“ محمود بولا۔
”رات کے گیارہ بج چکے ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ وہ گیارہ اور بارہ کے درمیان آتا ہے۔ ا س لیے اب ہمیں ابا جان کی ہدایات پر عمل شروع کردینا چاہیے۔“ فاروق بولا۔
”ٹھیک ہے، انکل آپ یہیں ٹھہریں۔ ہم اپنا کام ختم کرکے آتے ہیں۔ “
خان رحمن پھٹی پھٹی آنکھوں سے دائیں بائیں دیکھنے لگے۔ ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔ انہیں محمود اور فاروق شدت سے یاد آئے جن کی باتوں سے کم از کم خوف کا احساس تو جاتا رہتا تھا۔ خان رحمن ابھی یہی سوچ رہے تھے کہ کسی چیز کے کھٹکے کی آواز سے چونکے۔
دراصل محمود اور فاروق اپنا کام نمٹا آئے تھے جو آنے والے حالات کے پیش نظر انہوں نے پلاننگ کی ہوئی تھی۔ ان دونوں کو دیکھ کر خان رحمن مسکرا دیے۔ اب تینوں نے سر جوڑ کر پلان کے نقشے پر نظریں جما دیں۔
٭….٭….٭
کھنڈرات کی آواز
”یہ تو کانچ کا ٹکڑا ہے۔“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔
”ہاں ہم جانتے ہیں، بیگم شیرازی بہت صفائی پسند ہیں، ان کے گھر میں صفائی کرنے والی ہر روز آتی ہے اور گھر کے ایک ایک انچ کو صاف کرتی ہے، پھر یہ ٹکڑا یہاں کہاں سے آگیا؟ اور اس پر خون بھی لگا ہوا ہے۔“
”ہوسکتا ہے، یہ اسی صفائی کرنے والی کا خون ہو۔“ فرزانہ بولی۔
”برآمدے میں کوئی نہ کوئی اور دھبا کہیں نظر نہیں آرہا۔یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ صرف اس ٹکڑے پر خون لگا ہوا ہے۔ خیر ہم اس ٹکڑے کو محفوظ رکھ لیتے ہیں ۔ اس پر بعد میں غور کریں گے۔ میرا خیال ہے، یہاں کوئی اور کام کی چیز نہیں ہے،اس لیے واپس چلتے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”ڈریکو لا اگر یہاں آیا ، تو آنٹی کو نہ پاکر کس قدر مایوس ہوگا، کیا وہ واپس چلا جائے گا؟“ فرزانہ نے سوال کیا۔
”واپس جانے کے سوا وہ اور کر بھی کیا سکتا ہے، لیکن نہیں، وہ یہاں سے ہوکر سیدھا ہمارے گھر آئے گا۔“ انہوں نے چونک کر کہا۔
”یہ آ پ کس طرح کہہ سکتے ہیں، اسے کس طرح معلوم ہوجائے گا کہ آنٹی ہمارے ہاں ہیں۔“
”خون کی بو سے ،یہ لوگ اپنے شکار کی بو بہت دور سے محسوس کرلیتے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”آپ تو اس انداز سے کہہ رہے ہیں جیسے ڈریکولا کا سچ مچ وجود ہے جب کہ میں اسے محض کہانیاں خیال کرتی ہوں۔“
”یہ ہوسکتا ہے کہ دنیا میں ڈریکولا کاکوئی وجود نہ ہو اور یہ صرف کہانیاں ہوں، لیکن ہمارے سامنے جو حالات پیش آئے ہیں، ان کی روشنی میں دعوے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ دیکھو نا، آخر طاہر جیلانی کے جسم کا خون کہاں چلا گیا؟ بیگم شیرازی کیوں زرد نظر آرہی ہیں؟ ڈاکٹروں کی سمجھ میں ان لوگوں کی بیماری کیوں نہیں آئی؟ انسانی جسم سے خون صرف چوٹ لگنے یا کٹنے کی صورت میں نکلتا ہے، طاہر جیلانی کے جسم پر زخم کا کوئی نشان نہیں ملا، البتہ اس کی گردن پر ضرور انجکشن کی سوئیوں جیسے دو نشان موجود ہیں۔“ انسپکٹر جمشید کہتے چلے گئے۔
”اور ہم آنٹی کے گلے کو دیکھنا بالکل ہی بھول گئے۔“ فرزانہ مسکرائی۔
”اوہ ہاں! آﺅ چلیں پہلے ان کے گلے کا معائنہ کریں۔ پھر ان کی حفاظت کے سلسلے میں ضروری اقدامات کریں گے۔“
یہ کہہ کر وہ بیگم شیرازی کے گھر سے باہر نکل آئے۔ دروازے کو انہوں نے تالا لگا دیا تاکہ ڈریکولا تالا دیکھ کر ہی سمجھ جائے کہ اندر کوئی نہیں ہے۔ اپنے گھر میں داخل ہونے کے بعدانہوں نے دروازے اور کھڑکیاں اندر سے بند کرلیں اور اندرونی کمرے میں آئے یہاں بیگم جمشید او ربیگم شیرازی بستروں میں دُبکی باتیں کررہی تھیں۔
”میں آپ کی گردن کا معائنہ کرنا چاہتا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید نے بیگم شیرازی کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
”کیامطلب…. کیا مجھے گلے کی کوئی بیماری ہے اور یہ آپ ڈاکٹر کب سے ہوگئے؟“ بیگم شیرازی کے لہجے میں حیرت تھی۔
”ایسی کوئی بات نہیں، میں ایک خیال کے تحت آپ کی گردن دیکھنا چاہتا ہوں۔“ انہوں نے کہا۔
بیگم شیرازی نے گردن کے گرد سے دوپٹا ہٹالیا اور چہرہ اوپر کرلیا۔ انسپکٹر جمشید نے جیب سے عدسہ نکالا اور ان کی گرد ن پر جھک گئے۔ پھر انہوں نے عدسہ فرزانہ کے حوالے کردیا۔ اس نے عدسہ میں سے آنٹی کی گردن دیکھی اور پھر زور سے چونکی۔ انجکشن جیسے نشان ان کی گردن پر بھی موجود تھے۔ دونوں سکتے ہیں آگئے، انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ،جیسے کہہ رہے ہوں، یہ تو سچ مچ کسی ڈریکولا کا کام معلوم ہوتا ہے۔ وہ اصل بات ان دونوں کو بتا کر خوف زدہ نہیں کرنا چاہتے تھے، تا ہم بیگم جمشید نے بھانپ لیا کہ کوئی گڑبڑ ہے۔ انہوں نے پریشان ہوکر کہا:
”خیر تو ہے ، آپ ان کی گردن پر کیا دیکھ رہے ہیں۔“
”کچھ نہیں، یونہی ایک خیال آیا تھا، لیکن فکر والی کوئی بات نہیں، رات کافی گزرچکی ہے، اب آپ دونوں سونے کی کوشش کریں۔ کمرے کا دروازہ اندر سے بند کرلیں۔“
”کیا کوئی خطرہ ہے؟“ بیگم شیرازی نے پریشان ہوکر پوچھا۔
”نہیں !ہمارے ہوتے ہوئے خطرے کی کیا بات ہوسکتی ہے۔“ یہ کہتے ہی انسپکٹر جمشید باہر نکل آئے تاکہ وہ کوئی اور سوال نہ کر بیٹھیں۔
ساتھ ہی انہوں نے دروازے کی چٹخنی لگنے کی آواز سنی۔
”تمہاری امی کو شک ہوگیا ہے، وہ جان گئی ہیں کہ خطرہ ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے سرگوشی کی۔
”یہ تو اور اچھی بات ہے، اب وہ بھی ہوشیار رہیں گی۔“ فرزانہ بولی۔
”لیکن ان کے ہوشیارہونے سے کچھ فائدہ نہیں، اگر ڈریکولا ان کے سامنے آگیا تو وہ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہیں گی۔“
”خیر دیکھا جائے گا۔ اب ہمیں کیا کرنا ہے؟“ فرزانہ بولی۔
”بس دیکھتی جاﺅ۔“
یہ کہہ کر انہوں نے جیب سے کوئی چیز نکالی اور برآمدے کے فرش پر جھک گئے۔ عین اسی وقت انہوںنے کسی شیشے کے ٹوٹنے کی آواز سنی۔
ان کے کان کھڑے ہوئے، وہ چونک کر سیدھے ہوگئے اور پھر بے ساختہ بیرونی دروازے کی طرف لپکے۔ بیرونی دروازے میں لگا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا، اس کی کرچیاں اندر کی طرف بکھر گئی تھیں۔ انسپکٹر جمشید بلا کی تیزی سے دروازے تک پہنچے۔ چٹخنی بھی گری ہوئی تھی، لیکن اندر تو کوئی بھی نہیں تھا۔ کیا شیشہ توڑ کر دروازہ کھولنے والا باہر ہی رہ گیاتھا، لیکن یہ کیسے ہوسکتا تھا۔ ان کے ذہن تیزی سے گردش کرنے لگے۔
”ابا جان ! کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ ہمارے یہاں آنے سے پہلے ہی اندر داخل ہوچکا ہو؟“ فرزانہ بولی۔
”ہم برآمدے میں سے آرہے ہیں۔ اگر اس نے ہمارے قدموں کی آواز سن لی تھی اور وہ اندر بھی داخل ہوچکا تھا تو پھر دو ہی باتیں ہوسکتی ہیں۔ یا وہ باہر نکل گیا یا وہ تمہارے کمرے میں چھپ گیا ہے۔ تمہارے کمرے میں ہونے کی صورت میں بھی وہ جب چاہے پائیں باغ والی کھڑکی کے راستے فرار ہوسکتا ہے، اس لیے تم فوراً پائیں باغ میں پہنچو، میں ادھر سے تمہارے کمرے میں داخل ہوتا ہوں۔“
”بہت بہتر!“ فرزانہ نے کہا اور دوڑتی ہوئی باہر نکل گئی۔ اس کا دل دھک دھک کررہا تھا۔ پائیں باغ میں پہنچ کر اس نے دیکھا، کھڑکی بند تھی۔ وہ اس کے نیچے چلی آئی اور کان اندر سے آنے والی کسی آواز کی طرف لگادیے، لیکن اندر تو گہری خاموشی طاری تھی ، اس نے سوچا ،کیا ابھی تک ابا جان اندر داخل نہیں ہوئے، شاید وہ اسے کھڑکی کے نیچے پہنچنے کی مہلت دینے کے لیے صحن میں ہی رُک گئے ہیں۔ اسی وقت اس کے کان کھڑے ہوگئے، جسم میں سنسنی کی لہر بجلی کی طرح سرایت کرگئی۔ اس نے ایک عجیب خوفناک قسم کی آواز سنی تھی۔
ایسی آواز اس نے اپنی زندگی میںپہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ یہ آواز نہ تو کسی انسان کے حلق سے نکلی تھی او رنہ کسی درندے کے، فرزانہ اندا ز ہ نہ لگا سکی کہ آوا ز کس جان دار کی تھی۔
اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوتے چلے گئے۔ عین اسی وقت ایک فائر کی آواز گونجی۔
٭….٭….٭
ان کے سامنے زندگی کا سب سے حیران کن ترین منظر تھا خان رحمان کمرے کے فرش پر اُوندھے منہ بے ہوش پڑے تھے۔ ان کا پستول ان کے سر سے تھوڑی دور پڑا تھا۔ طاہر جیلانی بستر پر دراز تھا اور اس پر ایک عجیب خوف ناک آدمی جھکا ہوا تھا۔ اس کے جسم پر سیاہ لباس تھا اور شاید سر سے پیر تک ایک ہی کپڑا تھا۔ دونوں بازوﺅں میں بھی کپڑا لٹک رہا تھا جیسے چمگادڑکے پر ہوں۔ ابھی وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکے تھے، کیونکہ چہرہ تو طاہر جیلانی پر جھکا ہوا تھا۔خدا جانے وہ اس کے چہرے پر جھکا کیا کررہا تھا۔ محمود اور فاروق کے اوسان خطا ہوچکے تھے۔ یہ بات ان کی سمجھ سے باہر تھی کہ ایک منٹ کے اندر کیا ہوگیا تھا۔ خان رحمان جیسے دلیر آدمی کس طرح بے ہوش ہوگئے تھے، کیا انہیں پستول چلانے کاموقع نہیں ملا تھا۔ اچانک محمود چونک اُٹھا، اس نے اپنے سر کو جھٹکا دیا اور پھر لپک کر پستول اُٹھالیا۔ اس کے ساتھ ہی فاروق بھی جیسے ہوش میں آگیا۔ اس نے چلا کرکہا۔
”خبردار! گولی ماردیں گے، سیدھے کھڑے ہوجاﺅ۔“
اس عجیب مخلوق نے کوئی گھبراہٹ ظاہرنہیں کی،نہایت سکون سے اسی طرح جھکے جھکے گردن ان کی طرف گھمائی اور وہ لرز اُٹھے۔
ان کے سامنے ایک خوفناک مخلوق موجود تھی۔ اس کے سامنے والے دانت ہونٹوں سے باہر نکلے ہوئے تھے جن سے خون ٹپک رہاتھا۔ آنکھوں میں ایک ایسی خوفناک چمک تھی، جو دوسروں کو بے ہو ش کردینے کے لیے کافی تھی۔ چہرے پر موت کی زردی پھیلی ہوئی تھی، دانتوں کے ساتھ ہونٹ بھی خون سے تر تھے۔ اس کی ناک لمبی تھی۔ جبڑوں کی ہڈیاں اُبھری ہوئی اور قد بہت لمبا تھا۔ یہ بالکل وہی حلیہ تھا جو ڈریکولا کی کہانیوں میں بیان کیا جاتا ہے۔
ان کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر وہ سیدھا کھڑا ہوگیا اور پھر ایک ایک قدم ان کی طرف بڑھنے لگا۔
”محمود! فائر کرو۔“ فاروق نے تیز آواز میں کہا۔
محمود نے اس کے سینے کا نشانہ لے کرٹریگر دبادیا۔ گولی چلنے کو دھماکا ہوا، ڈریکولا بدستور ان کی طرف بڑھتا رہا۔ گولی نے اس کا بال بھی بیکا نہیں کیا تھا۔ دونوں کے جسموں میں سرد لہریں دوڑ گئیں۔ اچانک محمود کو کوئی خیال آیا، اس نے اس کے بازو کا نشانہ لیا اور فائر کردیا۔
دوسرا لمحہ چونکا دینے والا تھا، ڈریکو لا کے منہ سے ایک ہولناک چیخ نکلی اور اس کے اُٹھتے قدم رُک گئے۔ چند سیکنڈ کے لیے وہ انہیں گھورتا رہا، پھر کھڑکی کی طرف مڑا اور گویا ہوا میں اڑتا ہوا اس تک جا پہنچا۔ انہیں یہی معلوم ہوا تھا جیسے وہ ہوا میں اُڑتا ہوا کھڑکی تک پہنچا ہو۔ اس نے ایک جھٹکے سے کھڑکی کے پٹ کھول ڈالے مگر کھڑکی میں تو سلاخیں لگ چکی تھیں۔ اس نے سلاخوں پر ایک زور دار ہاتھ رسید کیا،کھڑکی کی چوکھٹ اُکھڑ گئی اور دوسری طرف جا گری۔ یہ دیکھ کر محمود اور فاروق کی سٹی گم ہوگئی۔ اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ ڈریکولا بلا کی طاقت رکھتا ہے اور پھر انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے زیادہ عجیب منظر دیکھا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ڈریکولا نے کھڑکی میں سے چھلانگ لگادی۔
دونوں بے تحاشا دوڑتے ہوئے کھڑکی تک آئے۔ انہوں نے دیکھا، ڈریکولا تیرکی طرح نیچے جارہاتھا۔ جیسے کوئی پرندہ ہوا میں غوطہ لگاتاہے۔ پھر ا س کے قدم زمین سے ٹکرائے، وہ اچھلا جیسے کوئی گیند اچھلتی ہے اور پھر جونہی دوبارہ قدم زمین سے لگے۔ اس نے دوڑنا شروع کردیا۔
”فاروق جلدی کرو ،کہیں وہ نکل نہ جائے۔“ محمود نے گھبرا کر کہا۔
وہ پوری رفتار سے دوڑتے ہوئے زینے تک آئے اور سیڑھیاں اُترنے لگے۔ انہوں نے اپنے پیچھے دوڑتے قدموں کی آوازیں بھی سنیں، شاید گھر کے لوگ بیدا ر ہوگئے تھے۔ گھر سے باہر نکلتے ہی وہ اس سڑک پر دوڑنے لگے جس پر ڈریکولا کو دوڑتے دیکھا تھا۔ دور بہت دور وہ گویا ہوا میں اڑا جارہا تھا۔ اس کے قدم زمین پر لگتے بھی دکھائی دیتے تھے اور پھر وہ اس طرح اُچھلتا جیسے سڑک اسے اُوپر اچھال رہی ہو۔ ان چھلانگوں نے اس کی رفتار کو بہت زیادہ کردیا تھا اور ان دونوں کے بس کی بات نہیں تھی کہ دوڑتے ہوئے اس تک جاپہنچیں، تاہم انہوں نے ہمت نہ ہاری اور دوڑتے رہے۔
وہ دوڑتے چلے گئے ، اگرچہ اب ڈریکولا انہیں نظر بھی نہیں آرہا تھا۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا، اس وقت تک دوڑتے رہیں گے جب تک کہ ا س کے ٹھکانے پر نہیں پہنچ جاتے۔ انہیں یہ بات معلوم تھی، جس سڑک پر وہ چلے جارہے ہیں، وہ شہر سے باہر ویرانوں میں لے جاتی ہے۔ ان ویرانوں میں بے تحاشا کھنڈر بھی تھے اور ان کھنڈروں میں کسی حد تک قابل استعمال عمارات بھی تھیں۔ یہ اس قدر بوسیدہ اور پرانی تھیں کہ کوئی ان کی طرف رُخ کرنا پسند نہیں کرتا تھا اور کچھ عرصے سے تو شہر میں یہ بات مشہور ہوچکی تھی کہ ان کھنڈروں میں کوئی بد روح رہتی ہے جو راتوں کو عجیب و غریب آوازیں نکالتی ہے۔ پاس سے گزرنے والے اگر ان آوازوں کو سن لیتے ہیں تو بے ہوش ہوکر گرجاتے ہیں۔ اس لیے لوگوں نے رات کے وقت تو کیا، دن کے اوقات میں بھی ان کھنڈروں کی طرف سے گزرنا چھوڑ دیا تھا۔
محمود اور فاروق بے تحاشا دوڑے ہوئے اب انہی کھنڈروں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ محمود کے دائیں ہاتھ میں ابھی تک پستول دبا ہوا تھا۔ ڈریکولا اب ان کی نظروں سے اوجھل ہوچکا تھا۔ آدھ گھنٹے تک دوڑتے رہنے کے بعد وہ شہری حدود سے باہر نکل آئے اور اب وہ ویرانہ شروع ہوگیا۔
یہاں ہولناکی کا راج تھا، ایک عجیب اور خوفناک سا سنسان پن طاری تھی۔ اب انہوں نے دوڑنا بند کردیا اور آہستہ آہستہ کھنڈروں کی طرف بڑھنے لگے، وہ سمجھ گئے، انہی میں سے کسی ایک کھنڈر میں ڈریکولا رہتا ہے اور اسی کھنڈر کو تلاش کرنا تھا۔
ایک ایک کھنڈر کا احتیاط سے جائزہ لیتے ہوئے وہ آگے بڑھنے لگے۔ اچانک ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اسی وقت وہ آواز کھنڈروں کا سینہ چیرتی ان کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔
آواز کان کے پردے پھاڑ دینے والی تھی اور عجیب ترین بات یہ تھی کہ ہر کھنڈر سے اُٹھتی محسوس ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ اس وقت وہ جس کھنڈر میں کھڑے تھے، آوازیں اس میں سے بھی گونجتی محسوس ہوئی تھیں۔
وہ کپکپا اُٹھے۔
٭….٭….٭
تعاقب میں
انسپکٹر جمشید نے کمرے میں قدم رکھا تو فوراً ہی انہیں احساس ہوگیا کہ وہاں کوئی موجود ہے۔ گہری تاریکی کی وجہ سے وہ اسے دیکھ نہ سکے۔ کمرے کا بلب بجھادیا گیا تھا اور برآمدے کا بلب وہ خود بجھا کر آئے تھے۔ دروازہ انہیں کھلاملا تھا۔
کسی کے زور زور سے سانس لینے کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ سمجھ گئے کہ وہ جو کوئی بھی ہے، کسی کونے میں موجود ہے، تاریکی میں اس پر حملہ کرنا خطرناک ہوسکتا تھا، کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے، مقابلہ کس سے ہے اور وہ کس قسم کے ہتھیاروں سے لیس ہے، چنانچہ اندر داخل ہونے کے بعد وہ فوراً فرش پر لیٹ گئے اور دم سادھ لیا۔ ان کا ہاتھ جیب میں رینگ گیا۔ دوسرے ہی لمحے پستول ان کے ہاتھ میں تھا، انہوں نے سانسوں کی آواز کے ذریعے نشانہ لیا اور گولی چلانے ہی والے تھے کہ کمرے میں ایک عجیب و غریب آواز گونجی۔ انہوں نے ایسی آواز پہلے کبھی نہیں سنی تھی، وہ دھک سے رہ گئے۔ انہوں نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ، آواز کی سمت فائر کردیا۔گولی کی آواز پورے کمرے میں گونج اُٹھی، لیکن جواب میں کوئی چیخ سنائی نہ دی۔ شاید گولی اس کے نہیں لگی تھی۔ اسی وقت انہوں نے محسوس کیا،کوئی ہوا میں اُڑتا ہوا کمرے کے دروازے سے نکلتا چلاگیا ہے۔ وہ فوراً کمرے سے باہر نکلے اور صدر دروازے کی طرف دوڑے ، دروازہ فرزانہ کی وجہ سے اندر سے بند نہیں کیا تھا۔ انہوں نے باہر نکل کر دیکھا ، لیکن کوئی بھی نظر نہ آیا۔ انہوں نے سوچا، کہیں وہ باہر جانے کی بجائے اندر نہ چلا گیا ہو۔ فوراً ہی وہ مڑے اور بیگم کے کمرے کی طرف لپکے۔ انہوں نے ہدایت کی تھی کہ دروازہ اندر سے بند رکھا جائے، لیکن یہ دیکھ کر ان کی سٹی گم ہوگئی کہ دروازہ چوپٹ تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی ان کے ہوش اڑگئے۔
ڈریکولا قسم کاایک آدمی بیگم شیرازی پر جھکا ہوا تھا اور بیگم جمشید ایک طرف بے ہوش پڑی تھیں۔
”خبردار ! سیدھے کھڑے ہوجاﺅ۔“
ڈریکولا نے پلٹ کر دیکھا اور ان کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر چونک اُٹھا۔ دوسری طرف انسپکٹر جمشید حیرت زدہ تھے۔ ان کے سامنے واقعی ایک عدد ڈریکولا کھڑا تھا جب کہ وہ اب تک یہ سمجھتے رہے تھے کہ یہ سب شرارت کوئی چالاک آدمی کررہا ہے، لیکن اس شخص کی شکل صورت اس حلیے کے عین مطابق تھی جو فلموں میں ڈریکولا کا دکھایا جاتا رہا تھا یا کتابوںمیں لکھا گیا تھا۔ ایک پل کے لیے انہوں نے سوچا…. تو کیا وا قعی کوئی ڈریکولا ہمارے ملک میں آگیا ہے، لوگوں کا خون پینے کے لیے اور اپنے ساتھیوں کی تعداد میںا ضافہ کرنے کے لیے، دوسرے ہی لمحے وہ چونکے۔ انہوں نے اس کے دل کا نشانہ لے کر فائر کردیا، لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔ انہوں نے کچھ سوچ کر اس کے بازو کانشانہ لے کر فائر کیا۔ اس مرتبہ ڈریکولا کے منہ سے بھیانک چیخ نکل گئی اور وہ گویا ہوا میں اُڑتا ہوا کمرے کی دروازے کی طرف چلا۔ یہ دیکھ کر انسپکٹر جمشید نے ایک ساتھ کئی فائر کرڈالے، اس کے باوجود وہ ان کے سر کے اُوپر سے گزرتا ہوا برآمدے میں جا پہنچا اور وہاں سے بیرونی دروازے تک پہنچ گیا۔ انسپکٹر جمشید جتنی دیر میں بیرونی دروازے تک پہنچتے، وہ باہر نکل چکا تھا۔ باہر نکلتے ہی انہو ں نے ڈریکولا کو ٹھوکر کھا کر اُوندھے منہ گرتے دیکھا۔ یہ کام فرزانہ نے دکھایا تھا، اس نے اپنی ٹانگ آگے کردی تھی۔ ڈریکولااس کی طرف سے بے خبر تھا، اس لیے دھڑام سے گرا۔ انسپکٹر جمشید نے یہ دیکھ کر فوراً اس پر چھلانگ لگائی، انہیں یوں لگا جیسے وہ کسی لوہے کے بنے ہوئے آدمی پر گرے ہوں جسم کے مختلف حصوں پر سخت چوٹیں آئیں مگر انہوں نے پروانہ کی اور ڈریکو لا کو گلے سے دبوچ لیا، لیکن پھر کئی فٹ اُونچا اچھلے اور زمین پر آرہے۔ ڈریکو لا میں خوفناک طاقت تھی، اس نے اپنی طاقت سے کام لے کر انہیں ہلکے پھلکے کھلونے کی طرح اچھال دیا تھا۔ دوسرے ہی لمحے وہ ایک بار پھراُڑا چلا جارہا تھا، اس کے قدم مشکل سے ہی زمین پر لگتے نظر آتے تھے۔ جب تک وہ دونوں سنبھلے، وہ بہت دور جاچکا تھا۔
”آﺅ فرزانہ جلدی کرو، کہیں وہ نکل نہ جائے۔“ انسپکٹر جمشید چلائے اور جیپ کی طرف دوڑ پڑے۔ فرزانہ بھی فوراً جیپ پر سوار ہوگئی۔ انسپکٹر جمشید نے جیپ کوپوری رفتار پر چھوڑ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ بہت جلد اس تک پہنچ جائیں گے، لیکن ان کا یہ خیال غلط نکلا، کیونکہ دو منٹ تک جیپ دوڑتے رہنے کے باوجود انہیں ڈریکولاکہیں نظر نہیں آیا۔
”حیرت ہے۔ وہ اتنا تیز کس طرح دوڑ سکتا ہے؟“ انسپکٹر جمشید بڑبڑائے۔
”یوں لگتاہے جیسے وہ اُڑنے کی طاقت رکھتا ہے اور اگر یہی بات ہے تو ہم جیپ پوری رفتار پر چھوڑ کر بھی اسے نہیں پکڑ سکتے ۔“ فرزانہ بولی۔
”لیکن ایک انسان کس طرح اڑ سکتا ہے؟ آج تک ایسا نہیں ہوا۔“ انہوں نے کہا۔
”ڈریکولا کے بارے میں تو یہی سنا ہے، وہ تقریباً ہوا میں اُڑسکتا ہے۔“
”یہ سب قصے کہانیاں ہیں، حقیقت میں ایسا نہیں ہوسکتا۔“ انہوں نے کہا۔
”لیکن اب تو ہم آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔“ فرزانہ بولی۔
”ہوسکتا ہے، وہ جیپ کو آتے دیکھ کر ادھر ادھر کہیں چھپ گیا ہو اور ہم اس سے آگے نکل آئے ہوں۔“ انہوں نے خیال ظاہر کیا۔
”ہاں! یہ بھی ہوسکتا ہے، پھر کیا ہم واپس چلیں۔“ فرزانہ بولی۔
”نہیں! واپس جاکر بھی ہم اسے نہیں پاسکیں گے۔“ انہوں نے کہا۔
”کہیں وہ واپس آنٹی تک نہ پہنچ جائے۔“ فرزانہ نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔
”کم از کم آج رات وہ دوبارہ ان تک نہیں پہنچ سکتا۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”وہ کیوں؟“ فرزانہ نے پوچھا۔
”اس لیے کہ وہ زخمی ہوچکا ہے اور زخمی حالت میں اسے خون پینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس لیے وہ اپنے ٹھکانے پر جاکر خون روکنے کا بندوبست کرے گا اور آرام کرے گا،کل ہوسکتا ہے ، وہ پھرآئے۔“انہوں نے کہا۔
”آخر یہ ڈریکولا ہمارے شہر میں کہاں سے آگیا؟“ فرزانہ نے پریشان ہوکر کہا۔
”آگیا نہیں، آگئے، میرا خیال ہے ، یہ ایک سے زائد ہیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”اوہ ! آ پ یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں؟“
”اس طرح کہ ادھر تو بیگم شیرازی پر حملہ کیاگیا ہے، ادھر طاہر جیلانی کے ساتھ بھی ایسا ہی واقع پیش آیاہوگا۔ اس کا مطلب ہے ، یہ ایک سے زیادہ ہیں۔“
”لیکن ابھی یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اُ دھر بھی ڈریکولا پہنچا ہوگا، ہوسکتا ہے، اسی کو بعد میں ادھر جانا ہو، یا یہ وہاں سے ہوکر آیا ہو۔‘ ‘فرزانہ نے اعتراض کیا۔ اس بات کو سن کر انسپکٹر جمشید عجیب سے انداز میں مسکرائے ، پھر بولے:
”مجھے پہلے ہی اس بات کا خیال تھا اور میں نے محمود اور فاروق کو ہدایت کی تھی کہ اگر ڈریکولا آئے تو گھڑی پر ضرور نظر ڈال لیں۔ میں بھی وقت نوٹ کوچکا ہوں، اس طرح ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ ڈریکولا ایک ہی ہے یا ایک سے زائد۔“
”لیکن ابا جان ! اس میں اتنی طاقت کیوں ہے۔“
”انسانی جسم میں اصل طاقت خون کی بدولت ہے او روہ خون پیتا ہے۔ نہ جانے اس وقت تک کتنے انسانوں کا خون پی چکا ہوگا، تو پھر اس میں طاقت کیوں نہ ہوگی۔“ انہوں نے جواب دیا۔
”آپ کی بات سن کر میںمحمود اور فاروق کے لیے پریشان ہوگئی ہوں۔“
”فکر نہ کرو، شاید وہ بھی ہمیں اسی سڑک پر کہیں مل جائیں، اسی لیے تو میں واپس نہیں مڑاا ور آگے چلاآیا ہوں۔“ انہوں نے کہا۔
”اوہ۔“ فرزانہ کے منہ سے نکلا۔
”عین اسی وقت انسپکٹر جمشید نے بریک لگائے۔ وہ شہری حدود سے باہر نکل کر ویرانوں کی حدود میں آگئے تھے۔ فرزانہ نے سنا ،ا نسپکٹر جمشید اس طرح بڑبڑائے تھے جیسے خواب میں بولے ہوں۔
”اوہو…. ان کھنڈروں کے بارے میں تو میں بہت کچھ سن چکا ہوں۔ آﺅ فرزانہ ذرا ان پر ایک نظر ڈال لیں۔“
یہ کہہ کر وہ جیپ سے اُتر آئے۔ فرزانہ نے بھی نیچے چھلانگ لگادی۔ دونوں آگے بڑھے اور پھر پہلے کھنڈر میں ٹارچ کی روشنی ڈالتے ہی وہ زور سے اُچھلے۔
٭….٭….٭
”یار یہ آواز کیسی تھی ؟“ محمود کے منہ سے نکلا۔
”یہ شاید کسی روح کی آواز تھی، کیونکہ انسانوں اور درندوں کی آوازیں تو ہم پہچانتے ہیں۔“
”اس کا مطلب ہے، تم نے پہلے کبھی کسی روح کی آواز نہیں سنی۔“ محمود بولا۔
”نہیں!“ فاروق کے منہ سے نکلا۔
”پھر تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ یہ کسی روح کی آواز تھی؟“ محمود بولا۔
”اگر یہ روح کی آواز نہیں تھی تو بتاﺅ ، کس کی تھی۔“
”ڈریکولا کی۔“ محمود بولا۔
”ابھی ہم نے اسے ڈریکولا تسلیم نہیں کیا۔“ فاروق نے جواب میں کہا۔
”آﺅ اس کھنڈر سے باہر نکل کر دیکھیں ، شاید ہمیں کوئی سراغ مل جائے۔“
”کیوں ڈریکولا کے ہتھے چڑھنا چاہتے ہو، وہ ہمارا خون پی جائے گا۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔
”اب یہاں تک آئے ہیں تو اس کا ٹھکانہ دیکھ کر ہی واپس جائیں گے۔“ محمود نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
”ٹھکانہ مل جانے کے بعد تم کہو گے، اب ٹھکانہ مل گیا ہے تو ڈریکولا سے کشتی لڑکر ہی جائیں گے، لیکن میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ مجھے اس سے کشتی لڑنے کا کوئی شوق نہیں، تم ضرور اس سے دو دو ہاتھ کرلینا۔“
”گویا تم دور کھڑے تماشا دیکھتے رہوگے؟“ محمو دنے جل کر کہا۔
”ہاں! اسی طرح ہم ڈریکولا کو شکست دے سکتے ہیں۔“ فاروق مسکرایا۔
”وہ کیسے، ذرا میں بھی تو سنوں۔“ محمود نے حیران ہوکر کہا۔
”جب تم اس کا تنہا مقابلہ کروگے اور میں درمیان میں دخل نہیں دوں گا تو ڈریکولا بہت متاثر ہوگا اور خیال کرے گا کہ ہم کتنے بااصول ہیں کہ ایک کے مقابلے میں صرف ایک آیا ہے، دوسرا اس کی مدد نہیں کررہا، تو وہ خود اپنی ہار کا اعلان کردے گا اور اس طرح ہم فتح پائیں گے۔“ فاروق کہتا چلا گیا۔
”شاید تمہارا دماغ چل گیا ہے، ڈریکولا جیسے لوگ کسی اصول کو نہیں مانتے۔“ محمود نے انکار میں سرہلایا۔
”اگر تم سچ مچ اس کا مقابلہ کرنا چاہتے ہو تو اس کے لیے میری ایک تجویز ہے، اگر سننا پسند کرو۔“
”چلو بتاﺅ، کیونکہ اس وقت فرزانہ ہمارے ساتھ نہیں ہے۔“
”تجویز یہ ہے کہ ہم ڈریکولا کا ٹھکانہ دیکھ کر یہاں سے واپس چلتے ہیں اور ابا جان اور فرزانہ کو ساتھ لے کر آتے ہیں، بلکہ انکل رحمان کو بھی ساتھ لے آئیں گے اور پھر مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔“ فاروق نے کہا۔
”ایک دشمن کے مقابلے میں اتنے آدمی ساتھ لاﺅگے، ابھی تو اصول پرستی کی بات کررہے تھے؟“
”تم نے خود ہی تومیری وہ بات نہیں مانی تھی۔“
”اچھا بھائی یونہی سہی۔ آﺅ پہلے اس کا ٹھکانہ تو ڈھونڈلیں۔“ محمود نے تنگ آکر کہا۔
”لیکن آواز تو اس کھنڈر سے بھی آئی تھی۔ آخر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ تمام کھنڈروں سے آواز آئے۔“ فاروق بولا۔
”ڈریکولا سے پوچھ کر بتاﺅں گا۔“ محمود نے منہ بنایا۔
”تو ذرا جلدی پوچھو، میں انتظار کرنے کا عادی نہیں۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔
”یار تنگ نہ کرو، اچھا آﺅ ، پہلے اسی کھنڈ رکو ٹھوک بجاکر دیکھ لیتے ہیں۔“ محمود نے کہا۔
”میرے پاس ٹھوک بجا کر دیکھنے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے پہلے کیوں نہیں بتایا، گھر سے کوئی ہاکی یا کرکٹ کا بلاہی لے آتے۔“ فاروق نے کہا۔
”ہم ہاتھوں سے کام لیں گے اور اگر تم ہاتھ پیر ہلانے کے لیے بالکل تیار نہیں ہو تو ایک طرف کھڑے رہو۔“
یہ کہہ کر محمود نے واقعی کھنڈر کی دیواروں کو ٹھوکنا، بجانا شروع کردیا۔ فاروق سے رہا نہ گیا ، وہ بھی اس کا ساتھ دینے لگا۔ یہ دیکھ کر محمودمسکرایا۔
”آخر تم خود کو کام چور ثابت کرنے کے چکر میں کیوں رہتے ہو جب کہ ہو نہیں۔“
”اس طرح میں شیخی بگھارنے سے بچ جاتا ہوں۔“ فاروق نے کہا۔
اچانک انہوں نے اپنے پیچھے کھٹکے کی آواز سنی۔ دونوں چونک کر مڑے، لیکن دیر ہوچکی تھی، سروں پر پڑنے والی لکڑیاں ان کی آنکھوں میں تارے نچاگئیں، پھر یہ تارے بھی ڈوب گئے اور ان کے ذہن اندھیروں میں ڈوب گئے۔
٭….٭….٭