- Thread Author
- #1
ہم چاروں سہیلیاں ایک ہی محلے میں رہتی تھیں اور اسکول بھی اکٹھے جاتیں۔ عفت کا گھر تو ہمارے بالکل سامنے تھا۔ وہ مجھ سے زیادہ قریب تھی؛ صاف گو اور اچھی عادات کی مالک۔ میں اکثر اس کے گھر جاتی، لیکن وہ بہت کم ہمارے ہاں آتی کیونکہ وہ اپنے والد سے ڈرتی تھی۔ عفت کے والد کو سب ‘ملک صاحب’ کہہ کر بلاتے تھے۔ نہایت نیک اور شریف آدمی تھے، لیکن مزاج کے ذرا سخت تھے۔ عفت کو اسکول کے علاوہ کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ جب اسکول کی طرف سے پکنک پر جانا ہوتا تو اس کو اجازت نہ ملتی۔ کسی سہیلی کے گھر سالگرہ، party یا کوئی اور تقریب ہوتی تو ہم تینوں جاتیں، مگر عفت ہم میں شامل نہ ہو پاتی۔ یوں محرومی کے احساس سے اس کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہو گئے۔ وہ ہر وقت پریشان اور کھوئی کھوئی رہنے لگی، پڑھائی میں بھی روز بروز کمزور ہوتی گئی اور صحت بھی تیزی سے گرنے لگی، جیسے کوئی گھن اندر ہی اندر اس کو کھا رہا ہو۔ ماں اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئی تو ڈاکٹر نے کہا، “اس کو کوئی بیماری نہیں ہے، لڑکی کو خوشی کی ضرورت ہے، اس کو خوش رکھا جائے اور سیر و تفریح پر لے جایا جائے تو یہ ٹھیک ہو جائے گی۔”
ملک صاحب کے پاس روپے پیسے کی کمی نہ تھی اور عفت ان کی اکلوتی بیٹی تھی۔ بیٹی سے ان کو پیار بہت تھا، بس وہ اپنی پرانی روایات سے مجبور تھے۔ جب ڈاکٹر نے سمجھایا کہ لڑکی کو خوش رکھنا ضروری ہے، تو وہ پریشان ہو گئے کہ بیٹی کو کیسے خوش رکھیں۔ انہوں نے اپنی بیوی سے پوچھا، “کیا واقعی ہماری بیٹی ناخوش رہتی ہے؟” انہوں نے جواب دیا، “ہاں، کیونکہ وہ گھر میں تنہائی محسوس کرتی ہے، دوسرا کوئی بہن بھائی نہیں ہے جس کے ساتھ وہ بول سکے۔ سہیلیوں کے ہاں جانے کی اجازت آپ دیتے نہیں، تو وہ ناخوش نہیں رہے گی تو اور کیا ہو گا؟” ملک صاحب نے بیٹی سے پوچھا، “عفت میری بچی! تم کس طرح خوش رہ سکتی ہو؟ جو فرمائش کرو گی، پوری کروں گا، بس تم خوش رہا کرو۔” پہلی بار باپ نے اتنے پیار سے بات کی تھی، اس لیے وہ حیران رہ گئی۔ باپ نے دوبارہ اصرار کیا، تو اس نے کہا، “ابا جان! مجھے گاڑی چلانے کا شوق ہے، اگر آپ میرا یہ شوق پورا کر دیں تو میں بہت خوش رہوں گی۔”
بیٹی کی انوکھی فرمائش سن کر ملک صاحب سُن ہو گئے۔ عفت نے بات ہی ایسی کہی تھی۔ جس لڑکی کو چار دیواری سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہ تھی، وہ گاڑی مانگ رہی تھی۔ ظاہر تھا کہ جب وہ گاڑی چلانا سیکھ لے گی تو گھر سے باہر نکلے گی، اور جب اس کے پر لگ جائیں گے تو وہ اڑان بھی بھرے گی۔ ملک صاحب کہنے لگے، “بیٹی! یہ کیسے ممکن ہے کہ تم اکیلی گھر سے نکل جاؤ اور گاڑی چلاؤ؟” اس نے کہا، “میں امی جان کو ساتھ لے جایا کروں گی۔” بیٹی کے اس معصوم جواب پر وہ مسکرا کر رہ گئے۔ انہی دنوں انگلینڈ سے ملک صاحب کے بھائی، بھابھی اور ان کے بچے آ گئے۔ چچا کی بیٹی دردانہ اس کی ہم عمر تھی، مگر وہ عفت سے بہت مختلف تھی؛ بولڈ قسم کی اور اعتماد سے بھرپور شخصیت کی مالک، جو مردانہ کپڑے زیب تن کرتی تھی اور گاڑی بھی چلاتی تھی۔ دردانہ کے آنے سے گھر میں انقلاب آ گیا۔ چچا نے بھی عفت کی حمایت کی، تو ملک صاحب نے اس کو گاڑی چلانے کی اجازت دے دی۔ اب وہ روز دردانہ سے گاڑی چلانا سیکھ رہی تھی اور اس نے بہت جلد گاڑی چلانا سیکھ بھی لی۔ اس طرح مصروف ہو جانے کی وجہ سے اس کی صحت پر بہت اچھا اثر پڑا۔ دردانہ مہمان تھی، اس لیے ملک صاحب اس کو کچھ نہیں کہتے تھے اور وہ عفت کو اپنے ساتھ لے جاتی تھی۔ دونوں خوب سیر کرتیں اور گھومتیں پھرتیں؛ ان دنوں عفت بے حد خوش رہا کرتی تھی۔
میٹرک کا نتیجہ آ چکا تھا۔ ہم تینوں سہیلیوں نے کالج میں داخلہ لے لیا تھا، لیکن عفت کا معاملہ ابھی تک کھٹائی میں پڑا ہوا تھا۔ اس کی والدہ تو راضی تھیں، لیکن والد راضی نہیں ہو رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ لڑکی کی آخر شادی ہی ہونی ہے، تو پھر زیادہ پڑھ کر کیا کرنا ہے۔ دردانہ چار دن کی بہار دکھا کر واپس لندن چلی گئی۔ اس کے جاتے ہی عفت کے گھر دوبارہ اداسی چھا گئی اور اس نے تنہائی کو اور زیادہ محسوس کیا۔ ان دنوں میں دو تین بار اس کے گھر گئی۔ میں جاننا چاہتی تھی کہ وہ کالج میں ہمارے ساتھ داخلہ لے رہی ہے یا نہیں؟ اس نے رو کر کہا، “میں تو کالج جانا چاہتی ہوں لیکن ابا جان نہیں مانتے، گھر میں تو میرا دم گھٹ جائے گا اور اب دردانہ بھی چلی گئی ہے۔” داخلے کا وقت گزر گیا اور عفت کو کالج میں داخلے کی اجازت اس کے والد نے نہ دی۔ ہم سب کو اس کا بہت دکھ تھا اور ڈر تھا کہ اب وہ یقیناً دوبارہ بیمار پڑ جائے گی۔
اتفاق سے انہی دنوں، جب اس کے والد بیرونِ ملک گئے ہوئے تھے، سامنے والے گھر میں نئے لوگ آ گئے۔ ان کا ایک نوجوان لڑکا تھا، زاہد، جو بڑا ہی خوبصورت تھا اور لاہور میں پڑھتا تھا، مگر ان دنوں چھٹیوں میں گھر آیا ہوا تھا۔ جب اس نے عفت کو دیکھا، تو یہ کھوئی کھوئی سی معصوم صورت لڑکی زاہد کو بہت اچھی لگی۔ اس نے دل میں طے کر لیا کہ اپنی تعلیم مکمل کر کے وہ اپنی ماں سے کہے گا کہ اس لڑکی سے میری شادی کروا دیں۔ عفت کا کمرہ اوپر کی منزل پر تھا۔ ملک صاحب جب شہر سے باہر ہوتے، تو وہ اپنے کمرے کی کھڑکی میں بیٹھ جاتی اور باہر کا نظارہ کرتی رہتی؛ اس کا زیادہ تر وقت اسی طرح گزرتا تھا کیونکہ بوریت دور کرنے کا بس یہی ایک راستہ تھا۔ زاہد نے عفت کو اس وقت دیکھا جب وہ کھڑکی میں بیٹھی گلی میں کھیلتے بچوں کو دیکھنے میں محو تھی۔ جب عفت کی نظر زاہد پر پڑی، تو وہ اس کو اپنی طرف محویت سے دیکھتے پا کر مسکرا دی۔ یہی وہ مسکراہٹ تھی جو زاہد کے دل میں بس گئی تھی۔ چند دن گھر میں چھٹیاں گزار کر وہ واپس لاہور چلا گیا۔
عفت اس موہنی صورت کو گلی میں نہ پا کر، کھڑکی میں بیٹھ کر وقت گزارنے کے بجائے ماں سے کہتی، “مجھے گاڑی کی چابی دیں، میں نے ڈرائیو کرنا ہے۔” جب اس نے بہت ضد کی تو ماں نے چابی دے دی اور کہا، “زیادہ دور مت جانا اور جلدی واپس آنا۔” عفت اس روز میرے گھر آئی اور کہنے لگی، “فوزی چلو، میں تمہیں سیر کراتی ہوں، میں نے گاڑی چلانا سیکھ لی ہے۔” میں نے کہا، “نہ بابا! مجھے اپنی جان نہیں گنوانی، خدا جانے تم کیسی گاڑی چلاتی ہو!” وہ بولی، “بہت عمدہ! میں پکی ڈرائیور بن گئی ہوں، تم چل کر خود دیکھ لو۔” اس کو مدت بعد خوش دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ گھر کے قریب ہی ایک بڑا سا گراؤنڈ تھا، اس نے وہاں گاڑی چلا کر دکھائی۔ وہ واقعی اچھی گاڑی چلانا سیکھ گئی تھی۔ کہنے لگی، “ابا جان اپنے بزنس کے سلسلے میں امریکہ گئے ہیں، ان دنوں میں آزاد ہوں۔” پھر تین چار ماہ تک میں اس سے نہیں ملی اور اپنی پڑھائی میں مشغول رہی۔
ایک روز اس کی امی میری ماں سے ملنے آئیں۔ باتوں باتوں میں عفت کا ذکر چلا تو انہوں نے بتایا کہ اس کے ابا اس کی شادی اپنی بہن کے بیٹے سے کرنا چاہتے ہیں۔ وہ زمیندار لوگ ہیں اور گاؤں میں رہتے ہیں، جبکہ عفت گاؤں میں رہنا نہیں چاہتی۔ وہ اس شادی پر رضامند نہیں ہے، اس لیے بار بار ناراض ہو جاتی ہے اور گاڑی لے کر گھر سے نکل جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک صاحب کو حوصلے سے کام لینا چاہیے کیونکہ ان کا غصہ بہت برا ہے، خدا جانے کسی دن کیا ہو جائے۔ عفت اب بااعتماد ہی نہیں، بلکہ گھر سے باغی ہو چکی تھی اور غصے میں بہت تیز گاڑی چلاتی تھی۔ اسی تیزی نے آخر کار اس کی جان لے لی۔ جس روز اس کے والد فیصل آباد گئے ہوئے تھے، اس نے گاڑی نکالی، ماں کے منع کرنے کی بھی پروا نہ کی اور گاڑی کو سپر ہائی وے پر لے گئی۔ لمبی ڈرائیونگ کرتے ہوئے اس کی گاڑی سامنے سے آنے والے ایک ٹرک سے ٹکرا گئی اور وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی۔ اس وقت اس کی عمر انیس برس تھی۔
والدین کے لیے یہ صدمہ جاں لیوا تھا۔ بیٹی کی لاش دیکھ کر وہ نہ جیتے تھے نہ مرتے تھے؛ خاص طور پر خالہ (عفت کی ماں) تو صدمے سے پاگل ہو گئی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کو صبر آنے لگا، لیکن ملک صاحب اب پچھتاتے تھے۔ اب ساری روایات اور مال و دولت ہر شے بے کار تھی۔ جس کے لیے سب کچھ تھا، جب وہی نہ رہی تو ان چیزوں کی حفاظت کر کے وہ کیا کرتے۔ ملک صاحب پہلے ہی گھر میں کم رہتے تھے، اب اور زیادہ وقت باہر گزارنے لگے۔ وہ گھر آتے تو اپنے کمرے میں بند ہو جاتے؛ عفت کے کمرے کا دروازہ کھلا دیکھ کر وہ رہ نہیں پاتے تھے اور وہاں جا کر رونے لگتے۔ خالہ ملازمہ کو لے کر کمرے کی صفائی کے لیے جاتیں تو بیٹی کی چیزوں کو دیکھ کر روتیں اور اس کی تصویروں کو چومتیں۔
کچھ عرصے یہی سلسلہ چلتا رہا، پھر ملازمہ نے اوپر کی منزل پر جانا ہی چھوڑ دیا۔ اب وہ کمرے کی صفائی نہیں کرتی تھی، اس لیے کمرہ بند رہنے کی وجہ سے وہاں مٹی جم گئی اور ہر طرف جالے لگ گئے۔ ان کے گھر کے سامنے جو پلاٹ خالی پڑا تھا، زاہد کے والد نے اسے خرید کر اس پر مکان تعمیر کیا تھا۔ وہ لوگ کچھ عرصہ یہاں رہے تھے (ان دنوں عفت ابھی زندہ تھی)، پھر وہ واپس اپنے پرانے مکان میں چلے گئے اور نیا مکان کرائے پر دے دیا۔ دو سال بعد جب زاہد نے تعلیم مکمل کر لی اور اس کی ملازمت بھی ہو گئی، تو انہوں نے اپنا مکان کرائے داروں سے خالی کروا لیا اور اپنے اس نئے گھر میں آ کر رہنے لگے۔ زاہد کافی عرصہ اس جگہ سے دور رہا تھا، مگر وہ عفت کی ایک جھلک بھی نہیں بھولا تھا۔ جب وہ اپنے گھر آیا، تو سب سے پہلے اس نے ملک صاحب کے گھر کی کھڑکی کی طرف دیکھا۔ عفت وہاں بدستور مسکراتی نظر آئی، جیسے وہ کبھی وہاں سے اٹھی ہی نہ ہو اور کھڑکی میں ہی موجود ہو۔ تب سے زاہد کا یہ معمول بن گیا کہ صبح شام گلی میں سے گزرتے ہوئے ملک صاحب کے گھر کی بالائی منزل پر نظر ڈالتا؛ عفت مسکرا کر اس کو دیکھتی تو اس کا دل باغ باغ ہو جاتا۔
یہ سلسلہ دو تین ماہ تک چلتا رہا۔ زاہد کو یقین ہو گیا کہ عفت بھی اسے پسند کرنے لگی ہے، اس لیے اس نے ایک دن اپنی ماں سے کہا کہ وہ سامنے والے گھر میں جا کر رشتے کی بات کریں، کیونکہ وہ ملک صاحب کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ زاہد کی ماں ملک صاحب کے گھر گئیں، مگر ان کو لڑکی کہیں نظر نہ آئی parrot۔ انہوں نے ادھر ادھر کی باتوں کے بعد پوچھا، “کیا آپ کی بیٹی کا کمرہ اوپر ہے؟” خالہ سمجھیں کہ پڑوسن نے عفت کی وفات کا سن لیا ہے اور اب تعزیت کے لیے آئی ہیں، مگر ان کو بڑی حیرت ہوئی جب اس خاتون نے تعزیت کرنے کے بجائے پوچھا، “کیا آپ کی بیٹی اوپر ہی رہتی ہے؟ اسے ذرا نیچے تو بلوائیے۔” خالہ نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا، “اوپر ہی رہتی ہے، مگر میں اسے نیچے نہیں بلوا سکتی، وہ میری پہنچ سے بہت دور جا چکی ہے۔” وہ بولیں، “بہن! میں سمجھی نہیں۔” خالہ نے بتایا، “عفت ایک کار کے حادثے میں ہلاک ہو گئی تھی اور اس بات کو دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ کیا آپ کو محلے والوں نے نہیں بتایا؟” انہوں نے جواب دیا، “جب سے ہم اس گھر میں لوٹ کر آئے ہیں، مجھے گھر سے نکلنے کی فرصت ہی نہیں ملی، آج پہلی بار آئی ہوں تو آپ ہی کے گھر کا رخ کیا ہے۔ بہرحال بہن! بہت افسوس ہوا کہ آپ کی بیٹی فوت ہو گئی۔ تو پھر وہ کون ہے جو اوپر کمرے کی کھڑکی میں سے جھانکتی ہے؟ کیا آپ کی دوسری بیٹی ہے؟” خالہ نے کہا، “کوئی بھی نہیں! شاید کسی وقت ملازمہ نے جھانکا ہو گا، کبھی کبھی وہ صفائی کے لیے کمرہ کھولتی ہے۔ میرا تو کلیجہ منہ کو آتا ہے جب اس کی چیزیں اور کمرے کو دیکھتی ہوں، اس لیے میں نے بھی وہاں جانا چھوڑ دیا ہے اور ملک صاحب بھی اب اوپر نہیں جاتے۔” زاہد کی ماں یہ سن کر خاموش ہو گئیں اور گھر آ کر بیٹے سے ساری روداد کہہ سنائی۔
زاہد نے ماں کو یقین دلایا کہ وہ اب بھی روز ملک صاحب کی بیٹی کو اوپر کمرے کی کھڑکی میں بیٹھا دیکھتا ہے، اور وہ کھڑکی میں سے صرف جھانکتی ہی نہیں بلکہ مسکراتی بھی ہے۔ اس نے سوچا کہ اس کا مطلب ہے انہوں نے ہمیں ٹال دیا ہے اور انکار کا یہ اچھا طریقہ ڈھونڈا ہے۔ اس نے کہا، “بہرحال! تمہاری خوشی کے لیے ایک بار پھر ان سے کہیں گے۔” اس بار زاہد کے والد، ملک صاحب کے پاس گئے اور رشتے کے لیے استدعا کی۔ ملک صاحب نے کہا، “خان صاحب! میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا؟” انہوں نے جواب دیا، “کیا آپ کی بیگم صاحبہ نے کچھ نہیں بتایا؟ میری بیوی پہلے بھی آ چکی ہے، آپ کی بیٹی سے اپنے بیٹے کے رشتے کی خاطر۔” ملک صاحب نے رنجیدہ ہو کر کہا، “کون سی بیٹی؟ میری تو اب کوئی بیٹی نہیں، اس کو یہ جہان چھوڑے بھی دو سال گزر چکے ہیں۔” خان صاحب نے حیرت سے پوچھا، “تو پھر اوپر کون رہتا ہے؟” ملک صاحب نے کہا، “آئیے اوپر۔” انہوں نے ملازمہ سے چابی منگوائی اور خان صاحب کو لے کر اوپر کی منزل پر پہنچے۔ اپنے ہاتھوں سے عفت کے کمرے کا تالا کھولا اور کہنے لگے، “یہ ہے میری مرحومہ بیٹی کا کمرہ، اب یہ بند ہی رہتا ہے۔” کمرے میں ہر چیز پر مٹی پڑی تھی اور جابجا جالے لگے ہوئے تھے؛ عرصے سے اس کی صفائی بھی نہ ہوئی تھی، یہاں تک کہ عفت کی تصویر پر بھی مٹی کی تہہ جمی تھی، البتہ کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔
خان صاحب نے پوچھا، “آپ کی کوئی اور بیٹی نہیں؟” ملک صاحب نے کہا، “جی نہیں۔” تو پھر کھڑکی میں سے… یہ کہتے کہتے خان صاحب خاموش ہو گئے۔ انہوں نے باہر دیکھ کر کہا، “زاہد سامنے گلی میں کھڑا ہے، دیکھیے، یہی میرا بیٹا ہے جس کے رشتے کے لیے میں آیا ہوں۔ اگر آپ اجازت دیں، تو میں اس کو اوپر بلا لوں؟” ملک صاحب نے کہا، “کیوں نہیں، بلا لیجیے، مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔” جوں ہی وہ بیٹے کو آواز دینے کے لیے کھڑکی کی طرف بڑھے، کھڑکی خود بخود بند ہو گئی۔ خان صاحب کی چھٹی حس نے انہیں بیدار کر دیا کہ بات معمولی نہیں ہے۔ کھڑکی میں جو لڑکی زاہد کو نظر آتی ہے، حقیقت میں وہ اس کی روح ہو سکتی ہے، پھر بھی انہوں نے خود کو یہ سوچ کر تسلی دی کہ ممکن ہے وہ گھر کی ملازمہ یا ملازمہ کی لڑکی کا چہرہ ہو، جسے زاہد عفت سمجھتا ہو۔
انہوں نے ملک صاحب سے کہا، “کیا آپ اپنی ملازمہ سے ملوا سکتے ہیں تاکہ میرے بیٹے کا شک دور ہو جائے؟” ملک صاحب نے زاہد کو بھی اوپر بلوا لیا اور ملازمہ کو بھی۔ زاہد نے ملازمہ کو دیکھ کر کہا، “یہ چہرہ تو میں نے کبھی کھڑکی میں نہیں دیکھا۔” اور ملازمہ کی تو کوئی بیٹی بھی نہیں تھی۔ دونوں باپ بیٹا مایوس ہو کر ملک صاحب کے گھر سے واپس آ گئے۔ اس کے بعد زاہد نے کبھی گلی میں نکل کر ملک صاحب کے گھر کی اس کھڑکی کی طرف نہیں دیکھا جہاں اسے عفت نظر آتی تھی، البتہ کئی بار خان صاحب نے خود دیکھا، مگر اب وہاں کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی اور کھڑکی ہمیشہ بند ہی ملتی تھی۔ زاہد اب زیادہ تر گھر میں رہنے لگا تھا؛ وہ بجھا بجھا نظر آتا، جیسے اسے بھی کسی غیر معمولی بات کا احساس ہو گیا ہو، لیکن وہ کسی سے اس بارے میں ذکر کرنے سے گھبراتا تھا۔
اس کی بہن ندرت کبھی کبھی میرے پاس آ جاتی تھی۔ وہ ہماری ہی ہم عمر تھی، لیکن کالج نہیں جاتی تھی کیونکہ اس نے میٹرک کے بعد تعلیم کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ ان دنوں وہ اپنے بھائی کی وجہ سے بڑی پریشان تھی؛ کہتی تھی، “خدا جانے میرے بھائی کو کیا ہو گیا ہے؟ پہلے تو وہ ایسا نہ تھا، اب ہر وقت کھویا کھویا اور خیالوں میں گم رہنے لگا ہے، ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھاتا اور اس کی صحت گرتی جا رہی ہے۔ اس نے مجھ سے بھی ہنسنا بولنا چھوڑ دیا ہے، جب اس کے دوست آتے ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ ان سے کہہ دو زاہد گھر پر نہیں ہے۔” اس کی امی بھی بہت پریشان تھیں اور رات دن زاہد کے لیے روتی رہتی تھیں۔ ندرت نے ایک روز بتایا کہ زاہد بیمار ہے، لیکن ڈاکٹر کہتے ہیں کہ کوئی بیماری نہیں اور سب رپورٹس ٹھیک ہیں۔ عالم صاحب کو بھی دکھایا ہے، وہ اس پر دم درود کر رہے ہیں۔ اس نے کہا، “دعا کریں میرا بھائی اچھا ہو جائے، اب تو وہ بالکل نہیں بولتا، جیسے گونگا ہو گیا ہو، بس ہر وقت خلا میں گھورتا رہتا ہے۔”
اب زاہد چوبیس گھنٹے گھر میں قید رہنے لگا اور اس بات کو محلے والوں نے بھی محسوس کیا۔ پاس پڑوس کے لوگ زاہد کی عیادت کرنے جانے لگے، مگر زاہد عیادت کرنے والوں سے تنگ آ گیا تھا۔ کوئی اس کی طبیعت پوچھنے آتا تو وہ دوڑ کر غسل خانے میں چھپ جاتا اور اس وقت تک نہ نکلتا جب تک وہ چلا نہ جاتا۔ اس صورتِ حال پر لوگوں نے یہ مشہور کر دیا کہ خان صاحب کا بیٹا پاگل ہو گیا ہے۔ یوں بھی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان، جس کی کمانے کی عمر ہو، وہ لوگوں کو دیکھ کر ڈرنے اور چھپنے لگے تو لوگ اسے پاگل ہی کہیں گے۔ خان صاحب نے زاہد کو ماہرِ نفسیات کو دکھایا تو اس نے کہا، “یہ ذہنی مریض ہے اور مرض آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے، اس کا علاج ہونا چاہیے۔” دواؤں میں زیادہ تر نشہ آور گولیاں تھیں؛ زاہد کو کھلاتے تو وہ گھنٹوں سویا رہتا۔ اس علاج سے بھی وہ اچھا نہ ہوا، بلکہ اس کی یادداشت پر برا اثر پڑا۔ اب وہ بعض اوقات اپنی ماں تک کو پہچاننے میں ناکام رہتا۔ مجبور ہو کر والدین نے اس طریقہ علاج کو بھی ترک کر دیا۔ اس عالم میں، کچھ عرصے بعد زاہد کا انتقال ہو گیا۔ ندرت بہت روتی تھی اور کہتی تھی، “اصل مرض تو صرف ہمیں پتا ہے، اس کو عفت کی روح نظر آتی تھی، وہی میرے بھائی کو اپنے ساتھ لے گئی ہے۔” اب میں سوچتی ہوں کہ اگر یہ بات جھوٹی ہوتی، تو بھلا زاہد کو عفت اپنی موت کے دو سال بعد بھی کھڑکی میں بیٹھی کیوں نظر آتی؟ اگر یہ زاہد کا وہم بھی تھا، تب بھی کچھ نہ کچھ غیر معمولی احساس ضرور تھا، تبھی تو زاہد کو یقین تھا کہ عفت زندہ ہے۔ ممکن ہے دونوں ایک دوسرے سے سچی محبت کرتے ہوں؛ خدا کے بھید خدا ہی جانے!
ملک صاحب کے پاس روپے پیسے کی کمی نہ تھی اور عفت ان کی اکلوتی بیٹی تھی۔ بیٹی سے ان کو پیار بہت تھا، بس وہ اپنی پرانی روایات سے مجبور تھے۔ جب ڈاکٹر نے سمجھایا کہ لڑکی کو خوش رکھنا ضروری ہے، تو وہ پریشان ہو گئے کہ بیٹی کو کیسے خوش رکھیں۔ انہوں نے اپنی بیوی سے پوچھا، “کیا واقعی ہماری بیٹی ناخوش رہتی ہے؟” انہوں نے جواب دیا، “ہاں، کیونکہ وہ گھر میں تنہائی محسوس کرتی ہے، دوسرا کوئی بہن بھائی نہیں ہے جس کے ساتھ وہ بول سکے۔ سہیلیوں کے ہاں جانے کی اجازت آپ دیتے نہیں، تو وہ ناخوش نہیں رہے گی تو اور کیا ہو گا؟” ملک صاحب نے بیٹی سے پوچھا، “عفت میری بچی! تم کس طرح خوش رہ سکتی ہو؟ جو فرمائش کرو گی، پوری کروں گا، بس تم خوش رہا کرو۔” پہلی بار باپ نے اتنے پیار سے بات کی تھی، اس لیے وہ حیران رہ گئی۔ باپ نے دوبارہ اصرار کیا، تو اس نے کہا، “ابا جان! مجھے گاڑی چلانے کا شوق ہے، اگر آپ میرا یہ شوق پورا کر دیں تو میں بہت خوش رہوں گی۔”
بیٹی کی انوکھی فرمائش سن کر ملک صاحب سُن ہو گئے۔ عفت نے بات ہی ایسی کہی تھی۔ جس لڑکی کو چار دیواری سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہ تھی، وہ گاڑی مانگ رہی تھی۔ ظاہر تھا کہ جب وہ گاڑی چلانا سیکھ لے گی تو گھر سے باہر نکلے گی، اور جب اس کے پر لگ جائیں گے تو وہ اڑان بھی بھرے گی۔ ملک صاحب کہنے لگے، “بیٹی! یہ کیسے ممکن ہے کہ تم اکیلی گھر سے نکل جاؤ اور گاڑی چلاؤ؟” اس نے کہا، “میں امی جان کو ساتھ لے جایا کروں گی۔” بیٹی کے اس معصوم جواب پر وہ مسکرا کر رہ گئے۔ انہی دنوں انگلینڈ سے ملک صاحب کے بھائی، بھابھی اور ان کے بچے آ گئے۔ چچا کی بیٹی دردانہ اس کی ہم عمر تھی، مگر وہ عفت سے بہت مختلف تھی؛ بولڈ قسم کی اور اعتماد سے بھرپور شخصیت کی مالک، جو مردانہ کپڑے زیب تن کرتی تھی اور گاڑی بھی چلاتی تھی۔ دردانہ کے آنے سے گھر میں انقلاب آ گیا۔ چچا نے بھی عفت کی حمایت کی، تو ملک صاحب نے اس کو گاڑی چلانے کی اجازت دے دی۔ اب وہ روز دردانہ سے گاڑی چلانا سیکھ رہی تھی اور اس نے بہت جلد گاڑی چلانا سیکھ بھی لی۔ اس طرح مصروف ہو جانے کی وجہ سے اس کی صحت پر بہت اچھا اثر پڑا۔ دردانہ مہمان تھی، اس لیے ملک صاحب اس کو کچھ نہیں کہتے تھے اور وہ عفت کو اپنے ساتھ لے جاتی تھی۔ دونوں خوب سیر کرتیں اور گھومتیں پھرتیں؛ ان دنوں عفت بے حد خوش رہا کرتی تھی۔
میٹرک کا نتیجہ آ چکا تھا۔ ہم تینوں سہیلیوں نے کالج میں داخلہ لے لیا تھا، لیکن عفت کا معاملہ ابھی تک کھٹائی میں پڑا ہوا تھا۔ اس کی والدہ تو راضی تھیں، لیکن والد راضی نہیں ہو رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ لڑکی کی آخر شادی ہی ہونی ہے، تو پھر زیادہ پڑھ کر کیا کرنا ہے۔ دردانہ چار دن کی بہار دکھا کر واپس لندن چلی گئی۔ اس کے جاتے ہی عفت کے گھر دوبارہ اداسی چھا گئی اور اس نے تنہائی کو اور زیادہ محسوس کیا۔ ان دنوں میں دو تین بار اس کے گھر گئی۔ میں جاننا چاہتی تھی کہ وہ کالج میں ہمارے ساتھ داخلہ لے رہی ہے یا نہیں؟ اس نے رو کر کہا، “میں تو کالج جانا چاہتی ہوں لیکن ابا جان نہیں مانتے، گھر میں تو میرا دم گھٹ جائے گا اور اب دردانہ بھی چلی گئی ہے۔” داخلے کا وقت گزر گیا اور عفت کو کالج میں داخلے کی اجازت اس کے والد نے نہ دی۔ ہم سب کو اس کا بہت دکھ تھا اور ڈر تھا کہ اب وہ یقیناً دوبارہ بیمار پڑ جائے گی۔
اتفاق سے انہی دنوں، جب اس کے والد بیرونِ ملک گئے ہوئے تھے، سامنے والے گھر میں نئے لوگ آ گئے۔ ان کا ایک نوجوان لڑکا تھا، زاہد، جو بڑا ہی خوبصورت تھا اور لاہور میں پڑھتا تھا، مگر ان دنوں چھٹیوں میں گھر آیا ہوا تھا۔ جب اس نے عفت کو دیکھا، تو یہ کھوئی کھوئی سی معصوم صورت لڑکی زاہد کو بہت اچھی لگی۔ اس نے دل میں طے کر لیا کہ اپنی تعلیم مکمل کر کے وہ اپنی ماں سے کہے گا کہ اس لڑکی سے میری شادی کروا دیں۔ عفت کا کمرہ اوپر کی منزل پر تھا۔ ملک صاحب جب شہر سے باہر ہوتے، تو وہ اپنے کمرے کی کھڑکی میں بیٹھ جاتی اور باہر کا نظارہ کرتی رہتی؛ اس کا زیادہ تر وقت اسی طرح گزرتا تھا کیونکہ بوریت دور کرنے کا بس یہی ایک راستہ تھا۔ زاہد نے عفت کو اس وقت دیکھا جب وہ کھڑکی میں بیٹھی گلی میں کھیلتے بچوں کو دیکھنے میں محو تھی۔ جب عفت کی نظر زاہد پر پڑی، تو وہ اس کو اپنی طرف محویت سے دیکھتے پا کر مسکرا دی۔ یہی وہ مسکراہٹ تھی جو زاہد کے دل میں بس گئی تھی۔ چند دن گھر میں چھٹیاں گزار کر وہ واپس لاہور چلا گیا۔
عفت اس موہنی صورت کو گلی میں نہ پا کر، کھڑکی میں بیٹھ کر وقت گزارنے کے بجائے ماں سے کہتی، “مجھے گاڑی کی چابی دیں، میں نے ڈرائیو کرنا ہے۔” جب اس نے بہت ضد کی تو ماں نے چابی دے دی اور کہا، “زیادہ دور مت جانا اور جلدی واپس آنا۔” عفت اس روز میرے گھر آئی اور کہنے لگی، “فوزی چلو، میں تمہیں سیر کراتی ہوں، میں نے گاڑی چلانا سیکھ لی ہے۔” میں نے کہا، “نہ بابا! مجھے اپنی جان نہیں گنوانی، خدا جانے تم کیسی گاڑی چلاتی ہو!” وہ بولی، “بہت عمدہ! میں پکی ڈرائیور بن گئی ہوں، تم چل کر خود دیکھ لو۔” اس کو مدت بعد خوش دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ گھر کے قریب ہی ایک بڑا سا گراؤنڈ تھا، اس نے وہاں گاڑی چلا کر دکھائی۔ وہ واقعی اچھی گاڑی چلانا سیکھ گئی تھی۔ کہنے لگی، “ابا جان اپنے بزنس کے سلسلے میں امریکہ گئے ہیں، ان دنوں میں آزاد ہوں۔” پھر تین چار ماہ تک میں اس سے نہیں ملی اور اپنی پڑھائی میں مشغول رہی۔
ایک روز اس کی امی میری ماں سے ملنے آئیں۔ باتوں باتوں میں عفت کا ذکر چلا تو انہوں نے بتایا کہ اس کے ابا اس کی شادی اپنی بہن کے بیٹے سے کرنا چاہتے ہیں۔ وہ زمیندار لوگ ہیں اور گاؤں میں رہتے ہیں، جبکہ عفت گاؤں میں رہنا نہیں چاہتی۔ وہ اس شادی پر رضامند نہیں ہے، اس لیے بار بار ناراض ہو جاتی ہے اور گاڑی لے کر گھر سے نکل جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک صاحب کو حوصلے سے کام لینا چاہیے کیونکہ ان کا غصہ بہت برا ہے، خدا جانے کسی دن کیا ہو جائے۔ عفت اب بااعتماد ہی نہیں، بلکہ گھر سے باغی ہو چکی تھی اور غصے میں بہت تیز گاڑی چلاتی تھی۔ اسی تیزی نے آخر کار اس کی جان لے لی۔ جس روز اس کے والد فیصل آباد گئے ہوئے تھے، اس نے گاڑی نکالی، ماں کے منع کرنے کی بھی پروا نہ کی اور گاڑی کو سپر ہائی وے پر لے گئی۔ لمبی ڈرائیونگ کرتے ہوئے اس کی گاڑی سامنے سے آنے والے ایک ٹرک سے ٹکرا گئی اور وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی۔ اس وقت اس کی عمر انیس برس تھی۔
والدین کے لیے یہ صدمہ جاں لیوا تھا۔ بیٹی کی لاش دیکھ کر وہ نہ جیتے تھے نہ مرتے تھے؛ خاص طور پر خالہ (عفت کی ماں) تو صدمے سے پاگل ہو گئی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کو صبر آنے لگا، لیکن ملک صاحب اب پچھتاتے تھے۔ اب ساری روایات اور مال و دولت ہر شے بے کار تھی۔ جس کے لیے سب کچھ تھا، جب وہی نہ رہی تو ان چیزوں کی حفاظت کر کے وہ کیا کرتے۔ ملک صاحب پہلے ہی گھر میں کم رہتے تھے، اب اور زیادہ وقت باہر گزارنے لگے۔ وہ گھر آتے تو اپنے کمرے میں بند ہو جاتے؛ عفت کے کمرے کا دروازہ کھلا دیکھ کر وہ رہ نہیں پاتے تھے اور وہاں جا کر رونے لگتے۔ خالہ ملازمہ کو لے کر کمرے کی صفائی کے لیے جاتیں تو بیٹی کی چیزوں کو دیکھ کر روتیں اور اس کی تصویروں کو چومتیں۔
کچھ عرصے یہی سلسلہ چلتا رہا، پھر ملازمہ نے اوپر کی منزل پر جانا ہی چھوڑ دیا۔ اب وہ کمرے کی صفائی نہیں کرتی تھی، اس لیے کمرہ بند رہنے کی وجہ سے وہاں مٹی جم گئی اور ہر طرف جالے لگ گئے۔ ان کے گھر کے سامنے جو پلاٹ خالی پڑا تھا، زاہد کے والد نے اسے خرید کر اس پر مکان تعمیر کیا تھا۔ وہ لوگ کچھ عرصہ یہاں رہے تھے (ان دنوں عفت ابھی زندہ تھی)، پھر وہ واپس اپنے پرانے مکان میں چلے گئے اور نیا مکان کرائے پر دے دیا۔ دو سال بعد جب زاہد نے تعلیم مکمل کر لی اور اس کی ملازمت بھی ہو گئی، تو انہوں نے اپنا مکان کرائے داروں سے خالی کروا لیا اور اپنے اس نئے گھر میں آ کر رہنے لگے۔ زاہد کافی عرصہ اس جگہ سے دور رہا تھا، مگر وہ عفت کی ایک جھلک بھی نہیں بھولا تھا۔ جب وہ اپنے گھر آیا، تو سب سے پہلے اس نے ملک صاحب کے گھر کی کھڑکی کی طرف دیکھا۔ عفت وہاں بدستور مسکراتی نظر آئی، جیسے وہ کبھی وہاں سے اٹھی ہی نہ ہو اور کھڑکی میں ہی موجود ہو۔ تب سے زاہد کا یہ معمول بن گیا کہ صبح شام گلی میں سے گزرتے ہوئے ملک صاحب کے گھر کی بالائی منزل پر نظر ڈالتا؛ عفت مسکرا کر اس کو دیکھتی تو اس کا دل باغ باغ ہو جاتا۔
یہ سلسلہ دو تین ماہ تک چلتا رہا۔ زاہد کو یقین ہو گیا کہ عفت بھی اسے پسند کرنے لگی ہے، اس لیے اس نے ایک دن اپنی ماں سے کہا کہ وہ سامنے والے گھر میں جا کر رشتے کی بات کریں، کیونکہ وہ ملک صاحب کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ زاہد کی ماں ملک صاحب کے گھر گئیں، مگر ان کو لڑکی کہیں نظر نہ آئی parrot۔ انہوں نے ادھر ادھر کی باتوں کے بعد پوچھا، “کیا آپ کی بیٹی کا کمرہ اوپر ہے؟” خالہ سمجھیں کہ پڑوسن نے عفت کی وفات کا سن لیا ہے اور اب تعزیت کے لیے آئی ہیں، مگر ان کو بڑی حیرت ہوئی جب اس خاتون نے تعزیت کرنے کے بجائے پوچھا، “کیا آپ کی بیٹی اوپر ہی رہتی ہے؟ اسے ذرا نیچے تو بلوائیے۔” خالہ نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا، “اوپر ہی رہتی ہے، مگر میں اسے نیچے نہیں بلوا سکتی، وہ میری پہنچ سے بہت دور جا چکی ہے۔” وہ بولیں، “بہن! میں سمجھی نہیں۔” خالہ نے بتایا، “عفت ایک کار کے حادثے میں ہلاک ہو گئی تھی اور اس بات کو دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ کیا آپ کو محلے والوں نے نہیں بتایا؟” انہوں نے جواب دیا، “جب سے ہم اس گھر میں لوٹ کر آئے ہیں، مجھے گھر سے نکلنے کی فرصت ہی نہیں ملی، آج پہلی بار آئی ہوں تو آپ ہی کے گھر کا رخ کیا ہے۔ بہرحال بہن! بہت افسوس ہوا کہ آپ کی بیٹی فوت ہو گئی۔ تو پھر وہ کون ہے جو اوپر کمرے کی کھڑکی میں سے جھانکتی ہے؟ کیا آپ کی دوسری بیٹی ہے؟” خالہ نے کہا، “کوئی بھی نہیں! شاید کسی وقت ملازمہ نے جھانکا ہو گا، کبھی کبھی وہ صفائی کے لیے کمرہ کھولتی ہے۔ میرا تو کلیجہ منہ کو آتا ہے جب اس کی چیزیں اور کمرے کو دیکھتی ہوں، اس لیے میں نے بھی وہاں جانا چھوڑ دیا ہے اور ملک صاحب بھی اب اوپر نہیں جاتے۔” زاہد کی ماں یہ سن کر خاموش ہو گئیں اور گھر آ کر بیٹے سے ساری روداد کہہ سنائی۔
زاہد نے ماں کو یقین دلایا کہ وہ اب بھی روز ملک صاحب کی بیٹی کو اوپر کمرے کی کھڑکی میں بیٹھا دیکھتا ہے، اور وہ کھڑکی میں سے صرف جھانکتی ہی نہیں بلکہ مسکراتی بھی ہے۔ اس نے سوچا کہ اس کا مطلب ہے انہوں نے ہمیں ٹال دیا ہے اور انکار کا یہ اچھا طریقہ ڈھونڈا ہے۔ اس نے کہا، “بہرحال! تمہاری خوشی کے لیے ایک بار پھر ان سے کہیں گے۔” اس بار زاہد کے والد، ملک صاحب کے پاس گئے اور رشتے کے لیے استدعا کی۔ ملک صاحب نے کہا، “خان صاحب! میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا؟” انہوں نے جواب دیا، “کیا آپ کی بیگم صاحبہ نے کچھ نہیں بتایا؟ میری بیوی پہلے بھی آ چکی ہے، آپ کی بیٹی سے اپنے بیٹے کے رشتے کی خاطر۔” ملک صاحب نے رنجیدہ ہو کر کہا، “کون سی بیٹی؟ میری تو اب کوئی بیٹی نہیں، اس کو یہ جہان چھوڑے بھی دو سال گزر چکے ہیں۔” خان صاحب نے حیرت سے پوچھا، “تو پھر اوپر کون رہتا ہے؟” ملک صاحب نے کہا، “آئیے اوپر۔” انہوں نے ملازمہ سے چابی منگوائی اور خان صاحب کو لے کر اوپر کی منزل پر پہنچے۔ اپنے ہاتھوں سے عفت کے کمرے کا تالا کھولا اور کہنے لگے، “یہ ہے میری مرحومہ بیٹی کا کمرہ، اب یہ بند ہی رہتا ہے۔” کمرے میں ہر چیز پر مٹی پڑی تھی اور جابجا جالے لگے ہوئے تھے؛ عرصے سے اس کی صفائی بھی نہ ہوئی تھی، یہاں تک کہ عفت کی تصویر پر بھی مٹی کی تہہ جمی تھی، البتہ کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔
خان صاحب نے پوچھا، “آپ کی کوئی اور بیٹی نہیں؟” ملک صاحب نے کہا، “جی نہیں۔” تو پھر کھڑکی میں سے… یہ کہتے کہتے خان صاحب خاموش ہو گئے۔ انہوں نے باہر دیکھ کر کہا، “زاہد سامنے گلی میں کھڑا ہے، دیکھیے، یہی میرا بیٹا ہے جس کے رشتے کے لیے میں آیا ہوں۔ اگر آپ اجازت دیں، تو میں اس کو اوپر بلا لوں؟” ملک صاحب نے کہا، “کیوں نہیں، بلا لیجیے، مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔” جوں ہی وہ بیٹے کو آواز دینے کے لیے کھڑکی کی طرف بڑھے، کھڑکی خود بخود بند ہو گئی۔ خان صاحب کی چھٹی حس نے انہیں بیدار کر دیا کہ بات معمولی نہیں ہے۔ کھڑکی میں جو لڑکی زاہد کو نظر آتی ہے، حقیقت میں وہ اس کی روح ہو سکتی ہے، پھر بھی انہوں نے خود کو یہ سوچ کر تسلی دی کہ ممکن ہے وہ گھر کی ملازمہ یا ملازمہ کی لڑکی کا چہرہ ہو، جسے زاہد عفت سمجھتا ہو۔
انہوں نے ملک صاحب سے کہا، “کیا آپ اپنی ملازمہ سے ملوا سکتے ہیں تاکہ میرے بیٹے کا شک دور ہو جائے؟” ملک صاحب نے زاہد کو بھی اوپر بلوا لیا اور ملازمہ کو بھی۔ زاہد نے ملازمہ کو دیکھ کر کہا، “یہ چہرہ تو میں نے کبھی کھڑکی میں نہیں دیکھا۔” اور ملازمہ کی تو کوئی بیٹی بھی نہیں تھی۔ دونوں باپ بیٹا مایوس ہو کر ملک صاحب کے گھر سے واپس آ گئے۔ اس کے بعد زاہد نے کبھی گلی میں نکل کر ملک صاحب کے گھر کی اس کھڑکی کی طرف نہیں دیکھا جہاں اسے عفت نظر آتی تھی، البتہ کئی بار خان صاحب نے خود دیکھا، مگر اب وہاں کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی اور کھڑکی ہمیشہ بند ہی ملتی تھی۔ زاہد اب زیادہ تر گھر میں رہنے لگا تھا؛ وہ بجھا بجھا نظر آتا، جیسے اسے بھی کسی غیر معمولی بات کا احساس ہو گیا ہو، لیکن وہ کسی سے اس بارے میں ذکر کرنے سے گھبراتا تھا۔
اس کی بہن ندرت کبھی کبھی میرے پاس آ جاتی تھی۔ وہ ہماری ہی ہم عمر تھی، لیکن کالج نہیں جاتی تھی کیونکہ اس نے میٹرک کے بعد تعلیم کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ ان دنوں وہ اپنے بھائی کی وجہ سے بڑی پریشان تھی؛ کہتی تھی، “خدا جانے میرے بھائی کو کیا ہو گیا ہے؟ پہلے تو وہ ایسا نہ تھا، اب ہر وقت کھویا کھویا اور خیالوں میں گم رہنے لگا ہے، ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھاتا اور اس کی صحت گرتی جا رہی ہے۔ اس نے مجھ سے بھی ہنسنا بولنا چھوڑ دیا ہے، جب اس کے دوست آتے ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ ان سے کہہ دو زاہد گھر پر نہیں ہے۔” اس کی امی بھی بہت پریشان تھیں اور رات دن زاہد کے لیے روتی رہتی تھیں۔ ندرت نے ایک روز بتایا کہ زاہد بیمار ہے، لیکن ڈاکٹر کہتے ہیں کہ کوئی بیماری نہیں اور سب رپورٹس ٹھیک ہیں۔ عالم صاحب کو بھی دکھایا ہے، وہ اس پر دم درود کر رہے ہیں۔ اس نے کہا، “دعا کریں میرا بھائی اچھا ہو جائے، اب تو وہ بالکل نہیں بولتا، جیسے گونگا ہو گیا ہو، بس ہر وقت خلا میں گھورتا رہتا ہے۔”
اب زاہد چوبیس گھنٹے گھر میں قید رہنے لگا اور اس بات کو محلے والوں نے بھی محسوس کیا۔ پاس پڑوس کے لوگ زاہد کی عیادت کرنے جانے لگے، مگر زاہد عیادت کرنے والوں سے تنگ آ گیا تھا۔ کوئی اس کی طبیعت پوچھنے آتا تو وہ دوڑ کر غسل خانے میں چھپ جاتا اور اس وقت تک نہ نکلتا جب تک وہ چلا نہ جاتا۔ اس صورتِ حال پر لوگوں نے یہ مشہور کر دیا کہ خان صاحب کا بیٹا پاگل ہو گیا ہے۔ یوں بھی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان، جس کی کمانے کی عمر ہو، وہ لوگوں کو دیکھ کر ڈرنے اور چھپنے لگے تو لوگ اسے پاگل ہی کہیں گے۔ خان صاحب نے زاہد کو ماہرِ نفسیات کو دکھایا تو اس نے کہا، “یہ ذہنی مریض ہے اور مرض آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے، اس کا علاج ہونا چاہیے۔” دواؤں میں زیادہ تر نشہ آور گولیاں تھیں؛ زاہد کو کھلاتے تو وہ گھنٹوں سویا رہتا۔ اس علاج سے بھی وہ اچھا نہ ہوا، بلکہ اس کی یادداشت پر برا اثر پڑا۔ اب وہ بعض اوقات اپنی ماں تک کو پہچاننے میں ناکام رہتا۔ مجبور ہو کر والدین نے اس طریقہ علاج کو بھی ترک کر دیا۔ اس عالم میں، کچھ عرصے بعد زاہد کا انتقال ہو گیا۔ ندرت بہت روتی تھی اور کہتی تھی، “اصل مرض تو صرف ہمیں پتا ہے، اس کو عفت کی روح نظر آتی تھی، وہی میرے بھائی کو اپنے ساتھ لے گئی ہے۔” اب میں سوچتی ہوں کہ اگر یہ بات جھوٹی ہوتی، تو بھلا زاہد کو عفت اپنی موت کے دو سال بعد بھی کھڑکی میں بیٹھی کیوں نظر آتی؟ اگر یہ زاہد کا وہم بھی تھا، تب بھی کچھ نہ کچھ غیر معمولی احساس ضرور تھا، تبھی تو زاہد کو یقین تھا کہ عفت زندہ ہے۔ ممکن ہے دونوں ایک دوسرے سے سچی محبت کرتے ہوں؛ خدا کے بھید خدا ہی جانے!