Yeh kahani os waqat ki hai jab mai 8th jamat mai parhata tha aur mai lahore mai rehta tha jo ke Pakistan ka ek bohat bara sehar hai aur wahin ke ek school mai parhata tha jese ke tution parhana ek fashon hogia hai to mere ghar waloo ne bhi muje tution parhane ka faisala kia Phir Kuch Serch...
ارے یہ تم دلہن بن کر کہاں کی تیاری کر رہی ہو؟ کہی یہاں سے بھا گنے کا ارادہ تو نہی کر لیا ؟
اپنے ایسے نصیب کہاں ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے مقدر میں تو اس کو ٹھے کی چار دیواری لکھی گئی ہے جس سے میں چاہوں بھی تو دور نہی بھاگ سکتی۔
بھاگ کر جاوگی بھی کہاں روشنی ؟
وہ اپنے لیے گھنے سیاہ بال کندھے سے کمر پے جھٹکتی...
Yeh meri dusri story hai. I hope u all will like it interested women/girls can mail me back. I'm 25 yrs old.
Meri samne bali bhabhi ka naam rashmi hai.unki umar 27 hai.woh gori moti gand wali aurat hain.unki height karib 5.4 hai.mere bhaiya hamesha kaam mein busy rehtain hain.woh bhabhi per...
Hi dosto, mera name Ajay hai. Mai Haryana ka rehne wala hu. Mujhe unsatisfied girls ko satisfaction dena bahut pasand hai. Mai 20 saal ka hu aur mera lund bahut mota aur lamba hai. Mere lund ko jo bhi leta hai, usko bahut maza aata hai.mera aik aunty ka sath 2 saal se relation hai . mujhe asal...
پورے گاؤں میں ایک عجیب سوگ کی کیفیت تھی گاؤں کے سردار شیر دل کی بیٹی کی لاش کو زیادتی کے بعد بڑی نہر کے کنارے پھینک دیا گیا تھا سردار شیر دل نے جب اپنی اکلوتی بیٹی کی برہنہ لاش دیکھی تو سارا گاؤں ان کے غم وغصے کا شکار ہوا تھا تفتیش پر معلوم ہوا کہ گاؤں کے رہائشی خاور کو عابی کے ساتھ واقعہ سے...
میرے جڑواں بھائی، شعیب اور محب، ہو بہو ایک جیسی صورت کے تھے۔ والدہ نے بڑی دقتوں سے انہیں پروان چڑھایا تھا۔ انہوں نے ایک ہی کالج سے بی کام کیا تھا۔ دونوں جب بائیس سال کے ہوئے، تو والد صاحب نے انہیں اپنے کاروبار میں شریک کر لیا۔ بیٹے کس کو پیارے نہیں ہوتے! یہ دونوں والدین کی جان تھے، جنہیں وہ چاند...
ابھی میں بچپن کی دہلیز پر ہی کھڑی تھی کہ والدین ایک حادثے کی نذر ہو گئے اور میں تنہا رہ گئی۔ میری پرورش کا ذمہ چچا جان نے اٹھا لیا۔ ان دنوں ہم گائوں میں رہا کرتے تھے۔ تایا ابو چاہتے تھے کہ میری منگنی ان کے بیٹے ناصر سے ہو جائے۔ میں نے سنا تھا کہ وہ بہت خوب صورت ہے، مگر مجھے اس کی صورت یاد نہ تھی...
یہ جاتی سردیوں کی ایک دلربا سی شام تھی۔ موسم قدرے خشک مگر خوشگوار تھا کہ اسی اثنا میں ایک بائیک سوار میرے قریب سے نہایت آہستگی کے ساتھ گزر گیا۔ جونہی میری نظر اس پر پڑی، آنکھوں میں روشنی سی بھر گئی۔ میری دھڑکنیں سانسوں کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں اور آگے جانا دشوار لگ رہا تھا، سو میں نے پلٹ جانے...
شاہد میرے چچازاد ہیں اور جیون ساتھی بھی۔ یہ کہانی میں اُنہی کی زبانی لکھ رہی ہوں کیونکہ میں شاہد کی زندگی کے وہ واقعات بھی جانتی ہوں، جو انہوں نے کبھی کسی کو نہیں بتائے۔
یہ آج سے چھبیس سال پہلے کی بات ہے کہ وہ سعودی عرب جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ شاہد کا کہنا تھا کہ ایئر پورٹ پر کاغذات وغیرہ چیک...
میرا تعلق صوبہ سرحد کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔ ہمارے خاندان میں تعلیم کو اہم نہیں سمجھا جاتا، اس لیے میں صرف چوتھی جماعت تک ہی اسکول جا سکی اور اس کے بعد گھر بیٹھ گئی۔ میری خالہ (جو رشتے میں میری پھوپھی بھی لگتی تھیں) کے شوہر کا انتقال ہوا، تو ان پر چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کی پرورش کی ذمہ داری...
فلسطین کے شہر میں دو سگے بھائی رہتے تھے۔ایک کا نام یہودا تھا اور دوسرے کا نام قطروس۔دونوں نے ایک ہی ماں کا دودھ پیا تھااور دونوں ایک ہی باپ کی شفقت کے سائے میں جوان ہوئے تھے۔اس طرح کہنے کو تو وہ ماں اور باپ دونوں کی نسبت سے سگے بھائی تھے۔لیکن دونوں کے مزاج اور عادتوں میں زمین اورآسمان کا فرق...
انسان بے بس کب محسوس کرتا ہے۔۔
جب اسکے اپنے اسکے ساتھ برا کر رہے ہو اور وولا کھ چاہنے کے باوجود بھی خود کے لئے کچھ نہ کر پائے اور نہ ہی اس میں کچھ کرنے کی بہت ہو وہ تب بے بس محسوس کرتا ہے
اس وقت آئنے کے سامنے دلہن بنی کھڑی حفصہ ابراہیم خان کچھ ایساہی محسوس کر رہی تھی اس وقت اسکا دل ہی نہیں...
حاتم خان ہمارے علاقے کا امیر آدمی تھا۔ اس نے دو شادیاں کیں؛ پہلی بیوی سے دو بیٹے ہاشم اور قاسم، اور دوسری بیوی سے اکلوتی دختر دل گوشہ نے جنم لیا۔ حاتم خان نے اپنی بیویوں کو عیش و آرام سے رکھا ہوا تھا۔ ان کو برابر کے حقوق حاصل تھے، تاہم بڑی بیگم کو بیٹوں کی ماں ہونے کی وجہ سے چھوٹی بیگم پر فوقیت...
یہ آج سے بارہ برس قبل کی بات ہے، جب میری بہن کی پہلی شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی جس کی بیوی مر چکی تھی اور ایک بیٹا بھی تھا، جس کا نام عامر تھا۔ ان دنوں عامر کی عمر نو سال اور میری عمر سات برس تھی۔ میں اکثر اپنی بہن شاہدہ کے گھر آتی جاتی تھی۔ بہنوئی مجھے اپنی اولاد کی طرح پیار کرتے تھے اور میرا...
ہم چاروں سہیلیاں ایک ہی محلے میں رہتی تھیں اور اسکول بھی اکٹھے جاتیں۔ عفت کا گھر تو ہمارے بالکل سامنے تھا۔ وہ مجھ سے زیادہ قریب تھی؛ صاف گو اور اچھی عادات کی مالک۔ میں اکثر اس کے گھر جاتی، لیکن وہ بہت کم ہمارے ہاں آتی کیونکہ وہ اپنے والد سے ڈرتی تھی۔ عفت کے والد کو سب ‘ملک صاحب’ کہہ کر بلاتے...
سردی اپنے پورے شباب پر تھی۔ عموم زندگی کی جوانیاں شام ہوتے ہی ختم ہو جاتی ہیں لیکن امراء طبقہ کی اصل زندگی شام سے ہی شروع ہوتی ہے۔ اس لیے شہر کے تمام بڑے بڑے ہو ٹلوں،رقص گاہوں، جوئے خانوں اور عیاشی کے خفیہ اڈوں میں شام ہوتے ہی چہل پہل شروع ہو جاتی ہے اور پھر صبح تک رنگ و نور کا ایک سیلاب ہر طرف...
ہمارا اور چچا جان کا مکان ساتھ ساتھ تھا اور دونوں گھروں کے درمیان ایک مشترکہ دروازہ تھا۔ چچا جان زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے، ان کی شادی گاؤں کی ایک خاتون سے ہوئی تھی۔ ان کی آپس میں نہ بن سکی اور چچا شادی کے بعد پریشان رہنے لگے، مگر بچوں کی خاطر دونوں نباہ کرنے پر مجبور تھے۔ اس تلخ اور کشیدہ ماحول...